Forwarded from Pakistan Times International
غریب کے بچے ہوتے تو ذلیل کر کر کے ویڈیوز بنواتی پولیس ، بات اشرافیہ پہ آئی تو اشرافیہ فوری مدد کو پہنچ گئی
فیض اللہ خان
فیض اللہ خان
Forwarded from |--| @rd T@|k جــــ.ـلــــ.ـی کـــ.ـٹـــ.ـی
شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمتہ اللہ علیہ
اقتباس کفار کے ساتھ تعلق کی شرعی حیثیت
اقتباس کفار کے ساتھ تعلق کی شرعی حیثیت
میری فریاد کی گرمی کو عشق کا سرمایہ بنادے
میرے وجود کی وادی سینا کے ذرے ذرے کو بھڑکتا شعلہ بنادے
جب مروں میری مٹی سے گل لالہ کا چراغ بنا
میرا داغ پھر سے تازہ کر ۔ میرے صحرا میں جلتا ہوا
#IqbalPoetry
#PoliticsPlus
میرے وجود کی وادی سینا کے ذرے ذرے کو بھڑکتا شعلہ بنادے
جب مروں میری مٹی سے گل لالہ کا چراغ بنا
میرا داغ پھر سے تازہ کر ۔ میرے صحرا میں جلتا ہوا
#IqbalPoetry
#PoliticsPlus
Forwarded from |--| @rd T@|k جــــ.ـلــــ.ـی کـــ.ـٹـــ.ـی
ٹوٹ برسا جب آخر وہ ابرِ کرم
فصلِ ایمان مہکی، ہوئے سر قلم
تیری راہوں میں کٹنا تھی اپنی خوشی
بس یہ خوشیاں منانے چلے آئے ہم
ہم جو پُرنور راہوں میں مارے گئے
احسن عزیز شہیدؒ
(تمہارا مجھ سے وعدہ تھا)
https://x.com/i/status/2058128436426686511
فصلِ ایمان مہکی، ہوئے سر قلم
تیری راہوں میں کٹنا تھی اپنی خوشی
بس یہ خوشیاں منانے چلے آئے ہم
ہم جو پُرنور راہوں میں مارے گئے
احسن عزیز شہیدؒ
(تمہارا مجھ سے وعدہ تھا)
https://x.com/i/status/2058128436426686511
X (formerly Twitter)
Ahsan Aziz - احسن عزیز (@AhsanAziz_) on X
ٹوٹ برسا جب آخر وہ ابرِ کرم
فصلِ ایمان مہکی، ہوئے سر قلم
تیری راہوں میں کٹنا تھی اپنی خوشی
بس یہ خوشیاں منانے چلے آئے ہم
ہم جو پُرنور راہوں میں مارے گئے
احسن عزیز شہیدؒ
(تمہارا مجھ سے وعدہ تھا)
فصلِ ایمان مہکی، ہوئے سر قلم
تیری راہوں میں کٹنا تھی اپنی خوشی
بس یہ خوشیاں منانے چلے آئے ہم
ہم جو پُرنور راہوں میں مارے گئے
احسن عزیز شہیدؒ
(تمہارا مجھ سے وعدہ تھا)
موبائل نیٹورک کمپنیوں کے مہنگے اشتہار دیکھو اور سروس کا حال دیکھو۔۔۔۔۔
ان کمپنیوں کے حرامخور "مالکان اور انکی مینجمنٹ" کے خلاف بددعا کی کیمپین چلانی چاہئیے اگر مینجمنٹ میں موجود افراد میں رتی برابر ایمان ہوا تو یقینا کچھ اثر ہوگا۔ اور تو کوئی راستہ نہیں بچا۔
https://x.com/i/status/2060693550208299077
ان کمپنیوں کے حرامخور "مالکان اور انکی مینجمنٹ" کے خلاف بددعا کی کیمپین چلانی چاہئیے اگر مینجمنٹ میں موجود افراد میں رتی برابر ایمان ہوا تو یقینا کچھ اثر ہوگا۔ اور تو کوئی راستہ نہیں بچا۔
https://x.com/i/status/2060693550208299077
X (formerly Twitter)
Politics plus (@Polplusorg) on X
موبائل نیٹورک کمپنیوں کے مہنگے اشتہار دیکھو اور سروس کا حال دیکھو۔۔۔۔۔
ان کمپنیوں کے حرامخور "مالکان اور انکی مینجمنٹ" کے خلاف بددعا کی کیمپین چلانی چاہئیے اگر مینجمنٹ میں موجود افراد میں رتی برابر ایمان ہوا تو یقینا کچھ اثر ہوگا۔ اور تو کوئی راستہ نہیں بچا۔…
ان کمپنیوں کے حرامخور "مالکان اور انکی مینجمنٹ" کے خلاف بددعا کی کیمپین چلانی چاہئیے اگر مینجمنٹ میں موجود افراد میں رتی برابر ایمان ہوا تو یقینا کچھ اثر ہوگا۔ اور تو کوئی راستہ نہیں بچا۔…
Forwarded from Twitter (𝕏) Media Downloader دانلود از توییتر (ایکس)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہر پچیس کلومیٹر پر کینٹ کا ایریا
اور کینٹ کی دنیا الگ ہی دنیا ہے جہاں جرنیلوں کا شاہانہ لائف سٹائل ۔۔۔
یہ سب عوام کا خون نچوڑ کر پورا کیا جارہا ہے۔ اسکے باوجود فوج کا کوئی دفاع کرے تو یہ بنیادی حقائق سامنے رکھ کر اس خبیث کو چھوڑیں نہیں جب تک باز نہ آئے
https://t.co/llrol33KGf
🔗 Politics plus (@Polplusorg)
📲 @twittervid_bot
اور کینٹ کی دنیا الگ ہی دنیا ہے جہاں جرنیلوں کا شاہانہ لائف سٹائل ۔۔۔
یہ سب عوام کا خون نچوڑ کر پورا کیا جارہا ہے۔ اسکے باوجود فوج کا کوئی دفاع کرے تو یہ بنیادی حقائق سامنے رکھ کر اس خبیث کو چھوڑیں نہیں جب تک باز نہ آئے
https://t.co/llrol33KGf
Please open Telegram to view this post
VIEW IN TELEGRAM
❤2
میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا۔ لیسکو کے ایک پرانے مہربان ceo کو فون کیا کے کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں ۔ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا اور 80000روپے لیے اور مرمت کردیا۔ گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو ادا کردیا۔ رسید کسی نے نہیں دی۔ باقی آپ اندازہ لگا سکتے ھیں ۔ یہ حال ھے کہ ایک سابق بجلی کا وزیر سفارشی ھو اور موجودہ کابینہ کا رکن بھی ھو اسکی سفارش پہ بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا۔ عام صارف کا کیا حال ھو گا۔ رقم کی باقاعدہ ادائیگی ھوئ ھے ۔ لیسکو رسید سے انکاری ھے
وزیر دفاع خواجہ ایم آصف
وزیر دفاع خواجہ ایم آصف
Forwarded from |--| @rd T@|k جــــ.ـلــــ.ـی کـــ.ـٹـــ.ـی
|--| @rd T@|k جــــ.ـلــــ.ـی کـــ.ـٹـــ.ـی
Photo
یہ کس کی بات ہو رہی ہے؟
اردگرد دیکھئے،
کیا یہ آج بھی موجود نہیں؟!
🖊️
جب افغانستان میں برطانوی فوج پر حملوں میں شدت آئی تو برطانوی فوج نے ایک شخص کی خدمات حاصل کیں جس کا نام حافظ عاصم تھا۔ وہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھا، جو فوجی رینک رکھتا تھا۔ اسلامی لباس میں مساجد اور بازاروں میں گھومتا پھرتا تھا۔ اس کا مقصد بالکل واضح تھا؛
لوگوں کو جہاد سے روکنا اور انہیں یہ قائل کرنا کہ نیٹو افواج سے لڑنا "فتنہ ہے جس میں کوئی خیر نہیں"،
یہ "ہلاکت کا راستہ" اور "خوارج کا طریقہ" ہے۔ وہ کہتا تھا کہ لوگوں کو "ولی امر حامد کرزئی" کی اطاعت کرنی چاہیے جسے امریکہ وبرطانیہ نے مقرر کیا ہے، اور اسکے خلاف بغاوت گمراہی ہے۔
جو اسکے مقابلے میں مارا جائے وہ "جہنم کے کتوں" میں سے ہے۔ اس خطاب کے ذریعے وہ قبائلی بزرگوں پر اثر انداز ہوا، کئی کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا، بلکہ بعض کو مغربی حمایت یافتہ حکومت میں شامل ہونے پر بھی راضی کر لیا۔
وہ انہیں نہ تو قبضے کے خلاف مزاحمت کی دعوت دیتا تھا اور نہ ہی اپنے ملک کے استقلال کی حفاظت کی۔ الٹا انہیں "شرعی علم حاصل کرنے، "عقیدہ درست کرنے" اور "توحید" میں مشغول رہنے" کی ترغیب دیتا تھا، لڑائی کے میدانوں کی بجائے۔ یہ دعوت دراصل لوگوں کو قبضے کے خلاف مزاحمت سے غافل کرنے کا ذریعہ تھی۔
حافظ عاصم کا عقیدہ جو وہ لوگوں کو اپنانے کی ترغیب دیتا تھا، وہ صرف انفرادی دینداری، حکمران کی اطاعت، اور غیر ملکی فوج کے خلاف مسلح کارروائی کی مکمل مخالفت پر مبنی تھا۔ وہ مسلمانوں کو برطانوی امریکی فوج میں بھرتی ہونے کی ترغیب دیتا اور کہتا کہ لڑائی تو "خوارج " کے خلاف ہونی چاہیے۔ فوجی چھاؤنیوں میں وہ مذہبی رہنما کے طور پر کام کرتا تھا۔ برطانوی فوج کے مسلمان فوجیوں کو روحانی مدد فراہم کرنا، ان کی نمازیں، عیدیں، حلال کھانا ترتیب دینا، اور برطانوی کمانڈروں کو افغان ثقافت و اسلام سمجھانے میں مشورے دینا اس کی ذمہ داری تھی۔
وہ برطانوی ریاست کے ساتھ ولاء ووفا کے عقیدہ کا حامی تھا اور کہتا تھا کہ برطانیہ مسلمانوں کا شرعی ولی امر ہے۔ وہ یہ بیانیہ پیش کرتا تھا کہ وطن سے مطلق وفاداری اسلام سے متصادم نہیں۔ دوسری طرف وہ ریاست یا اس کی فوج کے خلاف کوئی بھی مخالفت یا مزاحمت کو " extremism" قرار دیتا اور حرام ٹھہراتا تھا۔
2012 میں کابل کے آس پاس برطانوی فوج پر حملوں میں 64 فیصد سے زیادہ کمی آئی، جو برطانوی دعوے کے مطابق حافظ عاصم کی کاوشوں سے ممکن ہوا۔اس پر برطانوی حکومت نے اسے صليب الشجاعة (Cross of Courage) کا اعزاز دیا۔
جنوری 2014 میں ملکہ الزبتھ دوم نے برطانیہ کی خدمت پر اسے
OBE (Order of the British Empire)
کا خطاب عطا کیا، ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا ایک مشہور ویڈیو کلپ موجود ہے جس میں
وہ ایک افغان نوجوان کو موسیقی سننے پر ڈانٹ رہا ہے
اور اسے داڑھی بڑھانے کا مشورہ دے رہا ہے،
جبکہ خود وہ صلیبی قبضہ آور کے ساتھ تعاون اور برطانیہ سے وفاداری و اس کی اطاعت کو نظر انداز کر رہا تھا
— جو ملت سے خارج کرنے والے نواقض میں سے ہے۔
https://x.com/i/status/2060420575508460023
اردو ترجمہ (قلب و نظر)
https://x.com/i/status/2060785308590088573
اردگرد دیکھئے،
کیا یہ آج بھی موجود نہیں؟!
🖊️
جب افغانستان میں برطانوی فوج پر حملوں میں شدت آئی تو برطانوی فوج نے ایک شخص کی خدمات حاصل کیں جس کا نام حافظ عاصم تھا۔ وہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھا، جو فوجی رینک رکھتا تھا۔ اسلامی لباس میں مساجد اور بازاروں میں گھومتا پھرتا تھا۔ اس کا مقصد بالکل واضح تھا؛
لوگوں کو جہاد سے روکنا اور انہیں یہ قائل کرنا کہ نیٹو افواج سے لڑنا "فتنہ ہے جس میں کوئی خیر نہیں"،
یہ "ہلاکت کا راستہ" اور "خوارج کا طریقہ" ہے۔ وہ کہتا تھا کہ لوگوں کو "ولی امر حامد کرزئی" کی اطاعت کرنی چاہیے جسے امریکہ وبرطانیہ نے مقرر کیا ہے، اور اسکے خلاف بغاوت گمراہی ہے۔
جو اسکے مقابلے میں مارا جائے وہ "جہنم کے کتوں" میں سے ہے۔ اس خطاب کے ذریعے وہ قبائلی بزرگوں پر اثر انداز ہوا، کئی کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا، بلکہ بعض کو مغربی حمایت یافتہ حکومت میں شامل ہونے پر بھی راضی کر لیا۔
وہ انہیں نہ تو قبضے کے خلاف مزاحمت کی دعوت دیتا تھا اور نہ ہی اپنے ملک کے استقلال کی حفاظت کی۔ الٹا انہیں "شرعی علم حاصل کرنے، "عقیدہ درست کرنے" اور "توحید" میں مشغول رہنے" کی ترغیب دیتا تھا، لڑائی کے میدانوں کی بجائے۔ یہ دعوت دراصل لوگوں کو قبضے کے خلاف مزاحمت سے غافل کرنے کا ذریعہ تھی۔
حافظ عاصم کا عقیدہ جو وہ لوگوں کو اپنانے کی ترغیب دیتا تھا، وہ صرف انفرادی دینداری، حکمران کی اطاعت، اور غیر ملکی فوج کے خلاف مسلح کارروائی کی مکمل مخالفت پر مبنی تھا۔ وہ مسلمانوں کو برطانوی امریکی فوج میں بھرتی ہونے کی ترغیب دیتا اور کہتا کہ لڑائی تو "خوارج " کے خلاف ہونی چاہیے۔ فوجی چھاؤنیوں میں وہ مذہبی رہنما کے طور پر کام کرتا تھا۔ برطانوی فوج کے مسلمان فوجیوں کو روحانی مدد فراہم کرنا، ان کی نمازیں، عیدیں، حلال کھانا ترتیب دینا، اور برطانوی کمانڈروں کو افغان ثقافت و اسلام سمجھانے میں مشورے دینا اس کی ذمہ داری تھی۔
وہ برطانوی ریاست کے ساتھ ولاء ووفا کے عقیدہ کا حامی تھا اور کہتا تھا کہ برطانیہ مسلمانوں کا شرعی ولی امر ہے۔ وہ یہ بیانیہ پیش کرتا تھا کہ وطن سے مطلق وفاداری اسلام سے متصادم نہیں۔ دوسری طرف وہ ریاست یا اس کی فوج کے خلاف کوئی بھی مخالفت یا مزاحمت کو " extremism" قرار دیتا اور حرام ٹھہراتا تھا۔
2012 میں کابل کے آس پاس برطانوی فوج پر حملوں میں 64 فیصد سے زیادہ کمی آئی، جو برطانوی دعوے کے مطابق حافظ عاصم کی کاوشوں سے ممکن ہوا۔اس پر برطانوی حکومت نے اسے صليب الشجاعة (Cross of Courage) کا اعزاز دیا۔
جنوری 2014 میں ملکہ الزبتھ دوم نے برطانیہ کی خدمت پر اسے
OBE (Order of the British Empire)
کا خطاب عطا کیا، ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا ایک مشہور ویڈیو کلپ موجود ہے جس میں
وہ ایک افغان نوجوان کو موسیقی سننے پر ڈانٹ رہا ہے
اور اسے داڑھی بڑھانے کا مشورہ دے رہا ہے،
جبکہ خود وہ صلیبی قبضہ آور کے ساتھ تعاون اور برطانیہ سے وفاداری و اس کی اطاعت کو نظر انداز کر رہا تھا
— جو ملت سے خارج کرنے والے نواقض میں سے ہے۔
https://x.com/i/status/2060420575508460023
اردو ترجمہ (قلب و نظر)
https://x.com/i/status/2060785308590088573
X (formerly Twitter)
PIC | صـور من التـاريخ (@inpic0) on X
عندما تصاعدت الهجمات على القوات البريطانية في أفغانستان استعان الجيش البريطاني برجل يُدعى عاصم حافظ، أو الإمام Asim Hafiz
وهو بريطاني من أصول باكستانية كان يحمل رتبة عسكرية، ويتنقّل بلباسه الإسلامي، متوجّهًا إلى المساجد والأسواق.
كان هدفه واضحًا:
صرف الناس…
وهو بريطاني من أصول باكستانية كان يحمل رتبة عسكرية، ويتنقّل بلباسه الإسلامي، متوجّهًا إلى المساجد والأسواق.
كان هدفه واضحًا:
صرف الناس…
"میرے کزن کے بیٹے سراج ولد حاصل سکنہ پسنی کو لاپتہ کرنے کے بعد اس کی لاش پھینک کر مجھے بطور سیاسی کارکن واضح پیغام دیا گیا۔ کزن کے بیٹے کی تدفین کے دوران دوسرے کزن کے بیٹے جلال کریم بخش کو بھی اٹھا لیا گیا۔ آخر سیکیورٹی ادارے مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ ظلم جبر سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ نفرت میں اضافہ ہوتا ہے۔"
ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، سربراہ حق دو تحریک گوادر
ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، سربراہ حق دو تحریک گوادر
Forwarded from |--| @rd T@|k جــــ.ـلــــ.ـی کـــ.ـٹـــ.ـی
تنظیمیں ، جماعتیں اور امراء کبھی بھی وہ چیزیں نہیں ہوا کرتیں جن کی خاطر قتـــال کیا جاۓ ؛ بلکہ یہ تو مقصد کو حاصل کرنے کے ذرائع ہیں۔
اور مقصد کیا ہے ؟
مقصد ہے مسلمانوں کا اتحاد اور تقویت ! تاکہ وہ اپنے دین کو قائم کرسکیں اور دشمنــوں کے مقابلے میں اپنے دین کا اور اپنا دفاع کرسکیں۔ جب کبھی بھی یہ نام اور مذکورہ عناصر خود اپنی ذات میں مقصد کا درجہ اختیار کرلیں اور ہم دوراندیشی سے کام لینا اور امت کے عظیم تر مفاد کے لئے سوچنا چھوڑ دیں تو یہ وہی وقت ہوتا ہے جب ہمیں ناکامیوں، شکست اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شیـ.ـخ آدم یـ.ـحیـ.ـی غـ.ـدن (عـ.ـزام امـ.ـریـ.ـکی ) شہـ.ـید رحمہ اللہ
https://x.com/i/status/2061038306129821721
اور مقصد کیا ہے ؟
مقصد ہے مسلمانوں کا اتحاد اور تقویت ! تاکہ وہ اپنے دین کو قائم کرسکیں اور دشمنــوں کے مقابلے میں اپنے دین کا اور اپنا دفاع کرسکیں۔ جب کبھی بھی یہ نام اور مذکورہ عناصر خود اپنی ذات میں مقصد کا درجہ اختیار کرلیں اور ہم دوراندیشی سے کام لینا اور امت کے عظیم تر مفاد کے لئے سوچنا چھوڑ دیں تو یہ وہی وقت ہوتا ہے جب ہمیں ناکامیوں، شکست اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شیـ.ـخ آدم یـ.ـحیـ.ـی غـ.ـدن (عـ.ـزام امـ.ـریـ.ـکی ) شہـ.ـید رحمہ اللہ
https://x.com/i/status/2061038306129821721
X (formerly Twitter)
As_Salam السلام (@as_salam2026) on X
تنظیمیں ، جماعتیں اور امراء کبھی بھی وہ چیزیں نہیں ہوا کرتیں جن کی خاطر قتـــال کیا جاۓ ؛ بلکہ یہ تو مقصد کو حاصل کرنے کے ذرائع ہیں۔
اور مقصد کیا ہے ؟
مقصد ہے مسلمانوں کا اتحاد اور تقویت ! تاکہ وہ اپنے دین کو قائم کرسکیں اور دشمنــوں کے مقابلے میں......1/2
اور مقصد کیا ہے ؟
مقصد ہے مسلمانوں کا اتحاد اور تقویت ! تاکہ وہ اپنے دین کو قائم کرسکیں اور دشمنــوں کے مقابلے میں......1/2
Forwarded from Twitter (𝕏) Media Downloader دانلود از توییتر (ایکس)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بے رحم پاکستانی فوج کی خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے کی نفسیات کی حقیقت جاننی ہے تو سندھ کی مائی جندو کی کہانی سن لیں۔ اس ظالم متکبر فوج کا علاج مغرب کے بتائے طریقے میں کیونکر ہوگا جو اس فوج کی خالق اور سرپرست ہے
انکا علاج فقط جـ.ـہـ.ـاد ہے
https://t.co/A1Gd1uheKZ
🔗 Politics plus (@Polplusorg)
📲 @twittervid_bot
انکا علاج فقط جـ.ـہـ.ـاد ہے
https://t.co/A1Gd1uheKZ
Please open Telegram to view this post
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
Forwarded from |--| @rd T@|k جــــ.ـلــــ.ـی کـــ.ـٹـــ.ـی
تعصب کا سبب محبت ہو یا نفرت،
دونوں صورتوں میں
یہ انسان کو اندھا بہرا کر دیتا ہے۔
یہ اسے تجزیہ کرنے کی طاقت،
اسباق حاصل کرنے کی اہلیت،
اور دعوت و عمل کے لیے مطلوبہ راستہ
اپنانے کی صلاحیت سے محروم کر دیتا ہے۔
https://x.com/i/status/2061106281599967528
دونوں صورتوں میں
یہ انسان کو اندھا بہرا کر دیتا ہے۔
یہ اسے تجزیہ کرنے کی طاقت،
اسباق حاصل کرنے کی اہلیت،
اور دعوت و عمل کے لیے مطلوبہ راستہ
اپنانے کی صلاحیت سے محروم کر دیتا ہے۔
https://x.com/i/status/2061106281599967528
Forwarded from Conflict Monitor
I will never forget the teacher who negotiated to be gang-raped instead of her daughter.
Hala Alkarib ...
https://www.theguardian.com/global-development/2026/jun/02/sudan-rape-torture-rsf-saf-war-crimes-against-women
Hala Alkarib ...
https://www.theguardian.com/global-development/2026/jun/02/sudan-rape-torture-rsf-saf-war-crimes-against-women
the Guardian
I will never forget the teacher who negotiated to be gang-raped instead of her daughter. These war crimes against women must be…
Since April 2023, Sudan’s women and girls have been subjected to systematic rape and sexual torture. Specialised support and justice for them is key to the country’s recovery and future
Forwarded from Twitter (𝕏) Media Downloader دانلود از توییتر (ایکس)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جنوبی لبنان ، بچوں کے سکول پر اسـ.ـرائیـ.ـلی حمـ.ـلـے کے مناظر
https://t.co/jwJW4JCwc0
🔗 Politics plus (@Polplusorg)
📲 @twittervid_bot
https://t.co/jwJW4JCwc0
Please open Telegram to view this post
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from |--| @rd T@|k جــــ.ـلــــ.ـی کـــ.ـٹـــ.ـی
استعماری تسلسل اور نظریاتی بیوفائی
مسلم ممالک پر مسلط افواج کہنے کو تو آزاد ممالک کی ہیں، لیکن ان کا ڈھانچہ، تربیت، اور سوچنے کا انداز آج بھی اسی نوآبادیاتی (Colonial) دور کا تسلسل ہے جو انگریز یا فرانسیسی چھوڑ کر گئے تھے۔
ان کا مقصد امتِ مسلمہ کا تحفظ نہیں، بلکہ اس لبرل ورلڈ آرڈر کی بقا ہے جس کی ڈوریاں واشنگٹن اور مغربی دارالحکومتوں سے ہلائی جاتی ہیں۔ یہ جرنیل اپنے ہی ملک کے مسلمانوں کو مغرب کی خوشنودی کے لیے "دہشت گرد" اور "شدت پسند" قرار دے کر ان پر بمباری کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
https://x.com/i/status/2061771547258327169
مسلم ممالک پر مسلط افواج کہنے کو تو آزاد ممالک کی ہیں، لیکن ان کا ڈھانچہ، تربیت، اور سوچنے کا انداز آج بھی اسی نوآبادیاتی (Colonial) دور کا تسلسل ہے جو انگریز یا فرانسیسی چھوڑ کر گئے تھے۔
ان کا مقصد امتِ مسلمہ کا تحفظ نہیں، بلکہ اس لبرل ورلڈ آرڈر کی بقا ہے جس کی ڈوریاں واشنگٹن اور مغربی دارالحکومتوں سے ہلائی جاتی ہیں۔ یہ جرنیل اپنے ہی ملک کے مسلمانوں کو مغرب کی خوشنودی کے لیے "دہشت گرد" اور "شدت پسند" قرار دے کر ان پر بمباری کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
https://x.com/i/status/2061771547258327169