Politics Plus
2.16K subscribers
2.23K photos
1.26K videos
22 files
2.33K links
‏ملکی و بین الاقوامی سیاست، معیشت اور تنازعات کے متعلق تبصرے و تجزئیے ۔
https://x.com/Polplusorg
واٹس ایپ چینل
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Bqt3LCoWyJ9OYVB1Y
Download Telegram
پنجاب کے ایک ڈویژن میں منشیات کے مقدمات میں گرفتار 186 ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں، لاہور ہائیکورٹ۔
کیا ریاست اتنی desperate ہے منشیات کے خاتمے کے لیے کہ یہ طریقہ نکالا ہے ؟
نہیں ۔۔۔
ریاستی ادارے تو اس سے کہیں زیادہ desperate ہیں منشیات سے زیادہ زیادہ کمائی کے لیے ۔ اور ملوث ہیں پوری طرح ۔
گرفتار ڈرائیور تو بس ایندھن ہیں اس انڈسٹری کا ۔۔ جسطرح نشعے کے عادی افراد ایندھن بن رہے
https://pakistan24.tv/2026/04/06/64873/
Forwarded from Parent Guide
بچوں کو بگاڑنے اور خراب کرنے کا سب سے بڑا سبب اور بری صحبت اور بدکردار ساتھی ہوتے ہیں

#ParentGuide #parentingtips

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui
Forwarded from Conflict Monitor
Mohammad Dawud was just riding his bicycle.

#GazaGenocide
1
فَفِرو سب پڑھیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
یہ چاہت ہے لڑیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے

جو دستہ دین کے غلبے کی کوشش میں ہے سرگرداں
وہ دستے سے جُڑیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے

وہن کے مرض کو حکمت پسندی نام دیتے ہیں
یہ عادت سے مُڑیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے

دفاعِ دین سنت ہے یہ سنت کو ادا کرنے
عقیدت سے بڑھیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے

پرندے بن کے دیوانے کسی دن آتشِ نمرود
بُجھانے کو اُڑیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے

مسلماں سب حقیقت میں فنا فی اللہ کی ہُدہُد
پہاڑی پر چڑھیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے

ہدہد الہ آبادی
4
امت کے سامنے شریعت کی عمارت کی تعمیر سے پہلے عقیدے کا مکمل ڈھانچہ تعمیر کرنا ۔

قرآن نے مکہ میں نازل ہوتے ہوئے تیرہ سال لگا دئیے۔ اس پورے عرصے میں وہ فقط کلمہ "لا الہ الا اللہ محمد ر سول اللہ" کی تشریح کرتا رہا۔ وہ عقیدے کی تشریح اسلئے کرتا رہا تاکہ یہ دلوں کے اندر خوب اچھی طرح جڑ پکڑ لے کیونکہ یہ سارا دین اسکی ساری تفاصیل اسکے لیے سارے احکامات الوہیت اس کے اکیلے قاعدے پر ہی قائم ہیں کہ "اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں"
یہ دین ایک ایسے درخت کی مانند ہے جسکی جڑیں زمین کے اندر دور تک چلی گئی ہیں اور جسکی شاخیں پھیلتی ہوئی آسمان تک جاپہنچی ہیں۔ اگر ہریالی کا مجموعہ زیادہ ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ جڑیں لازما گہری ہوں گی۔ ورنہ اس درخت کا تنا بہت سا بوجھ کیوں کر سہار سکے۔ اسی طرح اس دین کی (یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ) کی جڑیں بھی بہت گہری ہونی چاہئیں۔ دل میں ایمان گہرا ہوگا تو دین کے شجر ثمر بار کا بوجھ سہار سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلام کی اقتصادی تشریح کرکے یا معاشرتی محاسن گنوا کر یا نظام سیاست کی خوبیاں بتاکر یا اسکے اخلاقی نظام کے گیت گا کر لوگوں کے دلوں میں دین کی محبت قائم کی جاسکتی ہے وہ غلطی پر ہیں وہ اس دین کے مزاج کو نہیں سمجھتے اور اسکے اصل پروگرام کی اساس کا ادراک نہیں رکھتے

برادران کرام !
اگر صورت حال ایسی ہی ہے تو ہم پر لازم ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے ۔۔۔ فروعات کی پسندیدگی کی بنیاد پر نہیں (بلکہ) لوگوں کے دلوں میں عقیدے کی جڑیں گہری اتارنے سے اپنی دعوت کا آغاز کریں دلوں میں عقیدہ جڑ پکڑ جائے تو وہ ہماری ہر بات کی پیروی کرسکتے ہیں لیکن اگر ہم نے ان کو محض نماز کا حکم بتلایا، وضو کے فائدے بتلائے،عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں اسلام کی فراخدلی ثابت کرنے پر زور صرف کیا، حکمران کے فرائض گنوائے اور انصاف کی اہمیت جتائی تو یہ سلسلہ لمبا ہی ہوتا چلا جائے گا وہ ہر روز آپ کے سامنے ایک نیا شبہہ ایک نیا سوال پیدا کرکے رکھ دیں گے تاکہ آپ اسکا جواب دیں۔ دین اس طریقے سے نہیں شروع ہوا۔ جو لوگ اسلام کے اقتصادی نظام کا تعارف کرواکر یا معاشرتی نظام کے گن گا کر لوگوں کو اسلام میں داخل کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے معانی کو دل میں بٹھانے کی اہمیت س ضرورت نہیں سمجھتے وہ اپنے بیج زمین میں نہیں ہوا میں بو رہے ہیں انہیں ہوا میں درخت اگنے کا انتظار ہے ۔ افسوس یہ انتظار کبھی ختم نہ ہوسکے گا۔

شیـ.ـخ عبداللہ عـ.ـزام رحمہ اللہ
مـ۔جـ.ـاہـ.ـد کا زاد راہ
جاہلیت سے مراد صرف بعثت نبوی کے قبل کے عرب کی زندگی ہی نہیں ہے بلکہ ہر وہ غیر اسلامی زندگی اور نظام ہے جس کا ماخذ وحی و نبوت اور کتاب الہی و سنت انبیاء نہ ہو اور جو اسلام کے مسائل اور احکام زندگی سے مطابقت نہ رکھتا ہو خواہ وہ عرب کی جاہلیت ہو، ایران کی مزوکیت یا ہندوستان کی برہمنیت یا مصر کی فرعونیت یا ترکوں کی طورانیت، یا موجودہ مغربی تمدن، یا مسلمان قوم کی غیر شرعی زندگی اور ان کے مخالف شریعت رسوم و عادات، اخلاق و آداب اور میلانات و جذبات خواہ وہ جدید ہوں یا قدیم ، ماضی ہوں یا حال۔

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ
دین حق اور علمائے ربانی شرک و بدعت کے خلاف کیوں ، ص 27
مغرب نے امت مسلمہ کو اس کے دین سے کاٹنے اور اپنا غلام بنانے کے لیے جن ذرائع کو استعمال کیا ہے ان میں سے ایک اساسی ذریعہ یہ ہے کہ امت کو اسکی اصل روشن و سنہری تاریخ سے کاٹ دیا جائے اور اسلامی تاریخ کا ایک متبادل مسخ شدہ تصور اسکے سامنے پیش کیا جائے تاکہ مسلمان اپنی تاریخ کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھنے لگیں، اپنے اسلاف کے ذکر سے شرمانے لگیں اور ایک ایسی کشتی کی مانند ہو جائیں جسکا کوئی لنگر نہ ہو اور جسے مغرب کی ہوائیں جس سمت بھی چلانا چاہیں وہ بلامزاحمت اسی سمت چلتی جائے دوسری طرف مغرب نے اس امر کا بھی پورا اہتمام کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی علمی دیانت کو پس پشت ڈال کر اپنی اصل تاریخ پر پردے ڈالے، اس کے بھیانک حقائق کو دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رکھے ، اپنی جہالت ، ظلم و بربریت اور فساد فی الارض کو چھپائے، خود کو دنیا کی سب سے مہذب ، علم دوست اور متمدن ترین قوم کے طور پر پیش کرے اور یوں انسانیت پر اپنی جھوٹی دھاک بٹھائے۔ افسوس کہ مسلم دنیا پر استعماری طاقتوں کے قبضے کے بعد سے ہمارے نصاب تعلیم میں (سکول سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک) تاریخ کا یہی مسخ شدہ نسخہ ہی پڑھایا جاتا رہا ہے اور آج تک پڑھایا جارہا ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے گھروں میں ایسی نسل تیار ہورہی ہے جو اپنی تاریخ سے ، اپنے اسلاف سے ، اپنی روایات سے، حتی کہ اپنے دین کی محکم تعلیمات تک سے لاعلم ہے اور اگر اسے اپنے بارے میں کسی چیز کا علم ہے تو وہ بھی ان غلط معلومات پر مبنی جو اسکے ذہنوں میں انڈیل دی گئی ہے۔ دوسری جانب اسی نسل کو مغرب کی تاریخ، اسکے عقائد و نظریات ، اسکے نظام، اسکی اقدار کا ایک ایسا حسین و جمیل غیر حقیقت پسندانہ تعارف کروایا گیا ہے کہ وہ مغرب سے آنے والے ہر تصور کو نقد سے بالا، خطاء سے پاک اور من و عن واجب الاتباع سمجھنے لگی ہے تبھی معاشرے کی کیفیت ایسی ہوگئی ہے کہ اب کائنات کے نازل کردہ ناقابلِ تغیر احکامات کو فرسودہ اور ناقابلِ عمل قرار دینے والوں کی عقلوں پر کوئی ماتم نہیں کرتا لیکن جمہوریت ، وطنی ریاست، وطنی افواج ، اقوام متحدہ کے چارٹر ، انسانی حقوق کے تصورات پر کوئی سوال اٹھا دے تو سب اسے حیرت سے تکنے لگے ہیں اور اسکی 'جہالت' پر افسوس کرتے ہیں. !
اسی لیے آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس مسخ شدہ تاریخ کی جگہ ایک بار پھر امت کے سامنے اس کی اور مغرب کی اصل تاریخ منظم اور سہل انداز میں پیش کی جائے۔ تاریخ کو ٹھیک سمجھ لینے سے خود بخود بہت سی گتھیاں سلجھتی جاتی ہیں بہت سی الجھنیں دور ہوتی جاتی ہیں اور بہت سے حقائق منکشف ہوجاتے ہیں۔

عصر حاضر کے جـ.ـہـ.ـاد کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں
مصنف ہدایت اللہ مہمند
👍3
‏غزہ سے ایک صحافی کا سوال
عاصم منیر ایرانی وفد کا فوجی یونیفارم میں استقبال کررہا ہے اور امریکی وفد کا استقبال بغیر وردی ۔۔۔
کیا اس میں کوئی پیغام ہے ؟
https://t.me/ConflictM/2584
1
آبنائے تائیوان میں چین کی تازہ ترین ایٹمی ریسپانس ڈرل بتارہی ہیں کہ تائیوان کا تنازعہ ایشیا میں ایک محدود لیکن خطرناک حد تک بے قابو ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ایشیا ٹائمز
https://asiatimes.com/2026/04/china-drills-for-us-nuclear-attack-in-a-taiwan-war/
‏مذہبی جماعتوں کی قیادت ڈاکٹر عافیہ کے لیے اسطرح بھیک مانگنے کے بجائے اسے بیچنے والوں اور رہائی میں رکاوٹ ڈالنے والے فوجی جرنیلوں کا گریبان پکڑنے کی جرات کرے تو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ممکن یے
https://x.com/i/status/2043161778402529695
1
انقلاب کا مفہوم کیا ہے؟

انقلاب سے وہ سطحی سیاسی اور عسکری اقدامات مراد نہیں جنہیں لوگ جماعتوں کی تشکیل، حکومتوں کے تختے الٹنے، مظاہروں کے انعقاد، ’’مردہ باد‘‘ اور ’’زندہ باد‘‘ کے نعرے لگانے یا بیرونی نظریات کی بنیاد پر فاشسٹ اور پولیس ریاستیں قائم کرنے کے کلچر میں دیکھتے ہیں۔

بلکہ انقلاب سے مراد یہ ہے کہ علمائے دین اپنے اندر وہ علمی، فکری، سیاسی، سماجی، نفسیاتی اور عسکری صلاحیتیں پیدا کریں جن کی مدد سے وہ معاشرے کو فکری، دینی، اخلاقی، سیاسی، قانون سازی کے اور تہذیبی بگاڑ سے نجات دلا سکیں، اور دین داری، آزادی، انصاف، خوش حالی اور ہر طرح کی بھلائی کی طرف اس کی رہنمائی کر سکیں۔

علمائے دین کو چاہیے کہ اس مثبت اور حقیقی انقلاب کے ذریعے اپنی قوم کو قدیم و جدید جاہلیت، ظلم، تاریکی، غربت، داخلی اختلافات، محکومی، دین سے بے پرواہی اور سامراجی قوتوں اور ان کے مقامی ہرکاروں کے تسلط سے باہر نکالیں۔ انہیں ایسا فکری اور عملی نظام قائم کرنا چاہیے جو ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو نیز وہ نظام یہ بھی یقینی بنائے کہ نہ معاشرے اور ریاست کو بیرونی قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور نہ ہی خود علماء سیاسی، سماجی اور فکری تنہائی کا شکار ہونے پائیں۔


افغانستان سے تعلق رکھنے والے عالم، داعی اور فکری جنگ پر دقیق نظر رکھنے والے مفکر فضیلۃ الشیخ مولوی عبد الہادی مجـ.ـاہـ.ـد (دامت برکاتہم)کی پشتو تصنیف ’مدرسہ او مبارزہ‘ کے اردو ترجمے "مدارس اور دینی جدوجہد کی تحریک" سے اقتباس
1
‏امریکی صحافی ان حالات میں بھی امریکی عوام کے ٹیکس اور پیسوں کے بے جا استعمال پر فکرمند نظر آتے ہیں، جبکہ یہاں اکثر شودے پاکستانی صحافی گلاب جامن اور کھانوں میں مصروف رہ کر ملک اور عوام کے مفادات سے بے خبر صرف سیلفیاں لینے اور گورے صحافیوں کی تعریف میں ویڈیوز اور تصاویر بنانے میں لگے رہتے ہیں
https://t.me/ConflictM/2587
1
‏ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو (عوام سے وصول کیے ٹیکس استعمال کرکے) بذریعہ اشتہار پروموٹ کروانے کی سر توڑ کوششیں کرنے میں آئی ایس پی آر کے علاؤہ اگر کوئی اور پلئیر ہے تو سامنے آنے کی جرات کرے ۔
https://x.com/i/status/2043320787680039260
😁1
کل سے پاکستانی صحافیوں سے تنقید ہورہی ہے وہ روٹی بریانی میٹھے کی تفصیلات بتا رہے تھے اور لوگ الجزیرہ و سی این این وغیرہ سے مذاکرات کے بارے میں خبریں حاصل کر رہے تھے اسی طرح ایک خاتون صحافی کے لباس پہ بھی تنقید ہوتی رہی ارے بھئی افغانستان میں اٹھارہ انیس سال تک دنیا کے چالیس ممالک کی افواج جنگ کرتی رہیں وزیرستان سمیت سابقہ قبائلی علاقے میں آپریشنز عالمی و مقامی کالعدم تنظیموں کی موجودگی انکی قیادت کا وہاں ہونا ڈرونز میں نشانہ بننا وغیرہ جاری رہا ، ہمیں دو دھائی تک جاری جنگ سے امن تک کے دوران کے سارے عمل کی خبریں سی این این بی بی سی الجزیرہ سے ملتی رہیں ،
جب پڑوس میں اٹھارہ برس تک جاری رھنے والی جنگ اور مذاکرات کا ان بیچاروں کو ککھ پتہ نہیں چلا تو اکیس گھنٹوں تک ہونے والی بات چیت کی کیا خبر ہوتی ؟ ہاں مذاکرات اکیس برس لگاتار اسلام آباد میں ہوتے رہیں پھر شاید کچھ بتا بھی پاتے

فیض اللہ خان
👍4
Forwarded from Twitter (𝕏) Media Downloader دانلود از توییتر (ایکس)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رعد المریدی اپنے بچوں کے لیے خوراک ڈھونڈنے نکلا لیکن قابض صـ.ـیہـ.ـونی فوج نے اس کے سر میں گولی مار دی۔ اب مکمل طور پر فالج زدہ اور بولنے سے محروم ہے۔
#israelisareTERRORISTS

🔗 Politics plus (@Polplusorg)

📲 @twittervid_bot
Please open Telegram to view this post
VIEW IN TELEGRAM
😢2
Forwarded from Twitter (𝕏) Media Downloader دانلود از توییتر (ایکس)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ورلڈ بینک کے فنڈز سے دبئی میں جائیدادیں خریدنے کا ہوشربا سکینڈل سامنے اۤگیا۔۔۔

اسداللہ خان کے مطابق:
سندھ سولر انرجی پروگرام میں غریب لوگوں کے گھروں میں سولر پینلز/لائٹس لگانے کا ایک چینی کمپنی کو ٹھیکہ دیکر اسے کھیل میں شامل کیا جاتا ہے۔۔۔۔پھر جعلی اِمپورٹ ڈاکومنٹس بنتے ہیں۔۔پراڈکٹس مقامی مارکیٹ سے خریدی جاتی ہیں اور پوری بھی نہیں خریدی جاتیں۔۔ورلڈ بینک کو ڈاکومنٹس دیئے جاتے ہیں کہ فلاں چینی کمپنی سے ہم نے یہ خریدے ہیں۔۔ورلڈ بینک ان ڈاکومنٹس کو دیکھتے ہوئے چینی کمپنی کو ادائیگی کر دیتا ہے۔۔چینی کمپنی معاہدے کے مطابق اس میں سے "بڑا حصہ" دبئی شفٹ کر دیتی ہے، جہاں پر پراپرٹیز خریدی گئی ہیں۔۔یوں ورلڈ بینک کے پیسے گھوم پھر کر دبئی پہنچ جاتے ہیں۔۔یہ وہ اسٹوری ہے جو نیب کے ہاتھ لگی ہے
@AUKhanOfficial1

🔗 Kismat Khan (@KismatZimri)

📲 @twittervid_bot
Please open Telegram to view this post
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Twitter (𝕏) Media Downloader دانلود از توییتر (ایکس)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
روز قیامت جب ان فلسطینی بچوں کے ہاتھ میں ہمارے گریبان ہونگے تو ہم کیا عذر پیش کریں گے ؟
کتنی کوشش کی ؟
کتنی تیاری کی؟
کیا نیت بھی تھی ان کی مدد کے لیے کسی عملی اقدام کی ؟
یا جلسے ریلیوں کی نعرے بازی کا احسان جھاڑیں گے؟

🔗 Politics plus (@Polplusorg)

📲 @twittervid_bot
Please open Telegram to view this post
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Twitter (𝕏) Media Downloader دانلود از توییتر (ایکس)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ مقبوضہ فلسطین یا کشمیر نہیں بلکہ اسلام آباد سے کچھ فاصلے پر غریبوں کی بستیاں ہتھیانے کےلیے میدان جنگ سجا ہے جہاں وہ دہائیوں سے آباد تھے یکدم غیر قانونی ہوگئیں۔ یہی کام ہندوتوا سرکار بھارت میں مسلمانوں کےخلاف کررہی ہے اور یہاں ؟؟؟؟؟

🔗 Politics plus (@Polplusorg)

📲 @twittervid_bot
Please open Telegram to view this post
VIEW IN TELEGRAM
علمائے دین کب انقلابی بن سکتے ہیں؟

علمائے دین میں مذکورہ بالا انقلابی روح اُس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب اس کے لیے دو بنیادی امور سر انجام دیے جائیں:

علمائے دین کو ایک مضبوط علمی، فکری اور انقلابی نصاب و نظریے سے لیس کیا جائے، اور ان کے اندر اپنے عقائد، اصولوں اور اقدار پر ایسا پختہ یقین پیدا کیا جائے کہ کوئی بھی لالچ، منصب یا دنیاوی وفائدہ ان کے اس یقین کو متزلزل نہ کرسکے، نہ ہی وہ ان کے نفاذ اور پاسداری کے راستے میں کسی دھمکی سے خوف کھائیں اور نہ ہی ان پر عمل کرنے میں کبھی تھکاوٹ یا تذبذب محسوس کریں۔

علمائے دین عملی انقلابی جدوجہد میں شامل ہوں، تاکہ وہ اپنے عقائد، منصوبوں اور اقدار کو عملی میدان میں نافذ کر کے اس کے حقیقی نتائج دیکھ سکیں اور یہ اصول محض نظری بحث یا خیالی فلسفہ بن کر نہ رہ جائیں۔

انقلابی تعلیمی نصاب کی تاثیر اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب طلباء کو انقلابی ماحول اور عملی میدان سے جوڑ دیا جائے۔ اس حقیقت کو ذیل کی عملی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے:

آج کے دور میں بہت سے مدارس، بڑے بڑے علماء، اسلامی تحریکیں اور فکری ادارے دینِ اسلام کے لیے سرگرم ہیں اور لوگوں کی تربیت کرتے ہیں، لیکن ان سب کی محنت اور تربیت کے وہ اثرات پیدا نہ ہو سکے جو مرحوم ملا محمد عمر مجاہد کے طرزِ عمل کے نتیجے میں ظاہر ہوئے۔ ان کے طرز پر ایک نظام قائم ہوا، شر و فساد کا راستہ بند ہوا، دنیا کی بڑی طاقتوں کا مقابلہ کیا گیا، علماء بیدار اور انقلابی بنے، اور دینِ اسلام کے بہت سے مفاہیم اپنے شرعی معنوں میں دوبارہ زندہ ہوئے۔

یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ اُن کی بات محض بات نہ تھی، بلکہ اس کے پیچھے ایک عملی لائحہ عمل موجود تھا۔ انہوں نے علماء کے لیے ایسا انقلابی ماحول قائم کیا جس میں وہ اسلامی شریعت، فکر اور ثقافت کو عملی میدان میں نافذ کر سکیں۔ ملا محمد عمر مجاہد کا طرزِ عمل کسی جذباتی یا غیر مرتب حکمتِ عملی پر مبنی نہ تھا جس کی بنیاد ذاتی ذوق ہو، بلکہ وہ ہر معاملے میں علمائے اسلام سے رجوع کرتے تھے اور ساتھ یہ بھی فرماتے تھے کہ:

’’اگر میں کوئی غلط قدم اٹھاؤں اور آپ مجھے نہ روکیں، تو قیامت کے دن میرا ہاتھ ہو گا اور آپ کا گریبان۔‘‘

اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ جب فکری تربیت اور تعلیمی جدوجہد کے ساتھ عملی میدان بھی موجود ہو، تو علماء میں حقیقی معنی میں انقلابی مزاج پیدا ہوتا ہے۔

مولوی عبد الہادی مجـ.ـاہـ.ـد (دامت برکاتہم)کی پشتو تصنیف ’مدرسہ او مبارزہ‘ کے اردو ترجمے "مدارس اور دینی جدوجہد کی تحریک" سے اقتباس
Forwarded from Twitter (𝕏) Media Downloader دانلود از توییتر (ایکس)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں بہترین کام کررہے ہیں مگر پاکستان میں چونکہ غدار ابلیس جرنیلوں کی ضرورت کرپٹ بےضمیر شہبازمریم و بلاول جیسے سیاستدان ہیں جنکی سرپرستی چلائے جانےوالے نظام میں ہر شعبہ اسی طرح تباہی سےدوچار ہوگاجیسے صحت کا نظام آج تباہی سےدوچار ہے

🔗 Politics plus (@Polplusorg)

📲 @twittervid_bot
Please open Telegram to view this post
VIEW IN TELEGRAM