Forwarded from ایـغــور اخبــار 🔻
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🏳️ 🇨🇳 جب امت برے سے برے حال میں بھی نماز عید ادا کر رہی تھی، تب ایغور مسلمانوں کو جمع کیا گیا اور زبردستی یہ گانا گانے پر مجبور کیا گیا:
“کمیونسٹ پارٹی نہ ہوتی تو نیا چین نہ ہوتا”
@UyghursGenocide
“کمیونسٹ پارٹی نہ ہوتی تو نیا چین نہ ہوتا”
@UyghursGenocide
😢5❤1
پاکستان میں 135 روپے پٹرول بڑھانا حکمرانوں کا عوام پر اعلان جنگ یے۔ جب سے ایران پر امریکی و اسرائیلی شروع ہوئی یے، ہندوستان میں تیل کی قیمت نہیں بڑھی، سری لنکا میں 22 فیصد بڑھی یے لیکن پاکستان میں اب تک 192 فیصد بڑھ چکی ہے۔ ایمرجنسی حالات میں ایڈجسٹمنٹ ضروری ہوتی ہے لیکن ایسا کیوں ہے کہ پاکستان میں ہر مشکل وقت میں عوام کے اوپر ہی بوجھ ڈالا جاتا ہے؟
مثال کے طور پر، 2022 سے 2023 کے مالی بحران کے دوران کمرشل بینکوں نے 65 ارب روپے کمائے جس میں بدعنوانی کے عنصر کو خود پارلیمانی کمیٹی نے فاش کیا۔ پچھلے سال تیل کی کمپنیوں نے 113 ارب روپے کے منافعے کمائے۔ عسکری ادارے کی کمپنیوں کی مالیت 40 سے 60 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح آئی پی پیز نے سالانہ اربوں روپے کمائے جبکہ صرف 2024 میں 1 ٹریلین روپے سے زائد کا منافع کمایا۔ 2019 کی ایک یو ین ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اشرافیہ کو سالانہ طور پر 2700 روپے مراعات مل رہی ہیں۔
اس سب کے باوجود پاکستانی حکومت ٹیکس جمع کرنے میں ناکام ہیں۔ تیل کی قیمت صرف عالمی حالات کی وجہ سے نہیں بڑھائی گی بلکہ پاکستان کے اقتصادی خسارے کو پورا کرنے کے لئے بڑھائی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ خسارہ وہ قوتیں کیوں پورا نہیں کررہی ہیں جو اس ملک سے اربوں کھربوں روپے کمارہی ہیں؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ انہی قوتوں نے ریاست پر قبضہ کررکھا ہے اور وہ اس ریاست کو اپنے اور اپنی فیملیز کے لیے فلاحی ریاست کے طور پر چلارہی ہیں۔ یہ طبقہ اس ملک کے وسائل اور لوگوں کی محنت کو لوٹ کر پیسہ کماتا ہے اور جب قربانی دینے کی باری آتی ہے تو پورا بوجھ عوام پر ڈال دیتا ہے۔
پاکستان کے خسارہ کو اس وقت وہ باپ پورا کررہا ہے جو دو نوکریاں کرکے اپنے بچوں کو تعلیم دلوا رہا ہے یا وہ ماں پورا کررہی ہے جو لوگوں کے گھروں میں ملازمت کرکے اپنے گھر والوں کی بنیادی ضروریات پوری کررہی ہے۔ یا پھر وہ نواجون جو ڈگری کے ساتھ ساتھ گھر چلانے کے لئے In Drive چلا رہا یے۔ ان کی تنخواہوں میں سے ایک بڑا حصہ کاٹ کر اشرافیہ کی عیاشیوں کو پورا کیا جارہا یے۔ یعنی غریب کے بچوں کو ایک چھوٹے طبقے کی عیاشیوں کے لئے مسلسل قربان کیا جارہا یے۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Bqt3LCoWyJ9OYVB1Y
مثال کے طور پر، 2022 سے 2023 کے مالی بحران کے دوران کمرشل بینکوں نے 65 ارب روپے کمائے جس میں بدعنوانی کے عنصر کو خود پارلیمانی کمیٹی نے فاش کیا۔ پچھلے سال تیل کی کمپنیوں نے 113 ارب روپے کے منافعے کمائے۔ عسکری ادارے کی کمپنیوں کی مالیت 40 سے 60 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح آئی پی پیز نے سالانہ اربوں روپے کمائے جبکہ صرف 2024 میں 1 ٹریلین روپے سے زائد کا منافع کمایا۔ 2019 کی ایک یو ین ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اشرافیہ کو سالانہ طور پر 2700 روپے مراعات مل رہی ہیں۔
اس سب کے باوجود پاکستانی حکومت ٹیکس جمع کرنے میں ناکام ہیں۔ تیل کی قیمت صرف عالمی حالات کی وجہ سے نہیں بڑھائی گی بلکہ پاکستان کے اقتصادی خسارے کو پورا کرنے کے لئے بڑھائی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ خسارہ وہ قوتیں کیوں پورا نہیں کررہی ہیں جو اس ملک سے اربوں کھربوں روپے کمارہی ہیں؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ انہی قوتوں نے ریاست پر قبضہ کررکھا ہے اور وہ اس ریاست کو اپنے اور اپنی فیملیز کے لیے فلاحی ریاست کے طور پر چلارہی ہیں۔ یہ طبقہ اس ملک کے وسائل اور لوگوں کی محنت کو لوٹ کر پیسہ کماتا ہے اور جب قربانی دینے کی باری آتی ہے تو پورا بوجھ عوام پر ڈال دیتا ہے۔
پاکستان کے خسارہ کو اس وقت وہ باپ پورا کررہا ہے جو دو نوکریاں کرکے اپنے بچوں کو تعلیم دلوا رہا ہے یا وہ ماں پورا کررہی ہے جو لوگوں کے گھروں میں ملازمت کرکے اپنے گھر والوں کی بنیادی ضروریات پوری کررہی ہے۔ یا پھر وہ نواجون جو ڈگری کے ساتھ ساتھ گھر چلانے کے لئے In Drive چلا رہا یے۔ ان کی تنخواہوں میں سے ایک بڑا حصہ کاٹ کر اشرافیہ کی عیاشیوں کو پورا کیا جارہا یے۔ یعنی غریب کے بچوں کو ایک چھوٹے طبقے کی عیاشیوں کے لئے مسلسل قربان کیا جارہا یے۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Bqt3LCoWyJ9OYVB1Y
🔥2😢2
ایک لمحے کو فرض کریں یہ ویڈیو اگر کسی اسلامی ملک کی ہوتی ؟
https://t.me/ConflictM/2580
https://t.me/ConflictM/2580
Telegram
Conflict Monitor
If this had happened in an Islamic country, the Western and Christian media would have accused Islam of oppressing women, but when it happens in a Christian country, no one speaks up or accuses Christianity of oppressing women.
🔗 Sami sinan Mohammed (@samooooosh1)…
🔗 Sami sinan Mohammed (@samooooosh1)…
🤯2😨1
ٹیکس صرف غریبوں پر
اور
استثنی جرنیلوں سیاستدانوں ، بیوروکریٹس اور اس نظام کو چلانے والوں کےلیے
جب ریاست ہو ڈائن 👹 کے جیسی https://www.geonewsurdu.tv/latest/431209-
اور
استثنی جرنیلوں سیاستدانوں ، بیوروکریٹس اور اس نظام کو چلانے والوں کےلیے
جب ریاست ہو ڈائن 👹 کے جیسی https://www.geonewsurdu.tv/latest/431209-
www.geonewsurdu.tv
گزشتہ 2 مالی برسوں میں 49کھرب 75 ارب کا ٹیکس استثنیٰ دیے جانے کا انکشاف
انکم ٹیکس کی مد میں 10 کھرب 22 ارب روپے اور بڑے سرمایہ داروں کو 2757ارب سیلز ٹیکس میں استثنیٰ ملا
🔥1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مورخ یہ الفاظ دکھ اور کرب کے ساتھ لکھے گا کہ جس وقت امام سیاست مولانا فضل الرحمن حفظہ اللہ مقدس جمہوریت کی بحالی و پاسبانی کے لیے علماء وکارکنان کی جانوں کے نذرانے پیش کررہےتھے ایک بریلوی مولوی نے اٹھ کر جمہوریت کی شان میں ایسے کریہہ الفاظ کہے جن کو سن کرروح تک کانپ گئی ہے😭
X(Twitter)
Whatsapp
Telegram
X(Twitter)
Telegram
👍2
Forwarded from |--| @rd T@|k جــــ.ـلــــ.ـی کـــ.ـٹـــ.ـی
#سوريا
اختیار آپ کا ہے، کیا منتخب کرنا ہے!
🚧
ایک مطالبہ اقصیٰ اور اہلِ غزہ کا ہے،
اور یہ وہ مطالبہ ہے جو ابو عبیدہ الثانی نے کل اپنے بیان میں اہلِ شام کے سامنے رکھا ہے۔
یہی اللہ کے دین اور محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا مطالبہ ہے۔
دوسرا مطالبہ ٹرمپ اور مغرب کا ہے،
اور یہ دین و امت اور مقدسات کی فکر چھوڑ کر نام نہاد ترقی و خوشحالی کے پیچھے بھاگنے اور شرعی اصولوں کی قربانی کا مطالبہ ہے۔
پہلے مطالبے کے بدلے مقدسات کی آزادی، امت کی آزادی اور دینِ اسلام کے غلبے کا وعدہ ہے۔
جبکہ دوسرے مطالبے کے بدلے امریکہ و مغرب دنیاوی جنت کا وعدہ کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ جنت ہے، جوجنت نہیں آگ ہے، تباہی ہے، یہ اہلِ شام کی بربادی ہے، کیوں کہ اللہ کا غضب وخذلان ہی اس کا نتیجہ ہوگا۔
شام ایمان و جہاد کی زمین ہے۔
ہمیں امید ہے کہ اس زمین پر بسنے والے اہلِ ایمان صہیونی سازش و جال کا شکار نہیں ہوں گے، بلکہ اُس اللہ کی پکار پر لبیک کہیں گے جس نے ان کے کندھوں پر قدس کی آزادی اور امت کی بیداری کی ذمہ داری ڈالی ہوئی ہے۔
اہلِ شام کو ایک بہت بڑے امتحان کا سامنا ہے
اور یہی اس امت کے ہر فرد کا بھی امتحان ہے۔
انہیں وقت کے دجال کی جنت کا انتخاب کرنا ہے،
جو حقیقت میں آگ ہے،
یا اس دجال کی آگ کو چننا ہے جو دراصل اللہ کی جنت ہے، ترقی اور ہمیشہ ہمیشہ کی خوشحالی ہے،
اختیار آپ کا ہے،کیا منتخب کرنا ہے!
https://x.com/i/status/2039723407244210250
اختیار آپ کا ہے، کیا منتخب کرنا ہے!
🚧
ایک مطالبہ اقصیٰ اور اہلِ غزہ کا ہے،
اور یہ وہ مطالبہ ہے جو ابو عبیدہ الثانی نے کل اپنے بیان میں اہلِ شام کے سامنے رکھا ہے۔
یہی اللہ کے دین اور محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا مطالبہ ہے۔
دوسرا مطالبہ ٹرمپ اور مغرب کا ہے،
اور یہ دین و امت اور مقدسات کی فکر چھوڑ کر نام نہاد ترقی و خوشحالی کے پیچھے بھاگنے اور شرعی اصولوں کی قربانی کا مطالبہ ہے۔
پہلے مطالبے کے بدلے مقدسات کی آزادی، امت کی آزادی اور دینِ اسلام کے غلبے کا وعدہ ہے۔
جبکہ دوسرے مطالبے کے بدلے امریکہ و مغرب دنیاوی جنت کا وعدہ کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ جنت ہے، جوجنت نہیں آگ ہے، تباہی ہے، یہ اہلِ شام کی بربادی ہے، کیوں کہ اللہ کا غضب وخذلان ہی اس کا نتیجہ ہوگا۔
شام ایمان و جہاد کی زمین ہے۔
ہمیں امید ہے کہ اس زمین پر بسنے والے اہلِ ایمان صہیونی سازش و جال کا شکار نہیں ہوں گے، بلکہ اُس اللہ کی پکار پر لبیک کہیں گے جس نے ان کے کندھوں پر قدس کی آزادی اور امت کی بیداری کی ذمہ داری ڈالی ہوئی ہے۔
اہلِ شام کو ایک بہت بڑے امتحان کا سامنا ہے
اور یہی اس امت کے ہر فرد کا بھی امتحان ہے۔
انہیں وقت کے دجال کی جنت کا انتخاب کرنا ہے،
جو حقیقت میں آگ ہے،
یا اس دجال کی آگ کو چننا ہے جو دراصل اللہ کی جنت ہے، ترقی اور ہمیشہ ہمیشہ کی خوشحالی ہے،
اختیار آپ کا ہے،کیا منتخب کرنا ہے!
https://x.com/i/status/2039723407244210250
X (formerly Twitter)
قلب ونظر (@abo1_abm) on X
#سوريا
اختیار آپ کا ہے، کیا منتخب کرنا ہے!
🚧
ایک مطالبہ اقصیٰ اور اہلِ غزہ کا ہے،
اور یہ وہ مطالبہ ہے جو ابو عبیدہ الثانی نے کل اپنے بیان میں اہلِ شام کے سامنے رکھا ہے۔
یہی اللہ کے دین اور محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا مطالبہ ہے۔
1+
اختیار آپ کا ہے، کیا منتخب کرنا ہے!
🚧
ایک مطالبہ اقصیٰ اور اہلِ غزہ کا ہے،
اور یہ وہ مطالبہ ہے جو ابو عبیدہ الثانی نے کل اپنے بیان میں اہلِ شام کے سامنے رکھا ہے۔
یہی اللہ کے دین اور محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا مطالبہ ہے۔
1+
اسٹیبلشمنٹ کی چاپلوسی اور انہیں خوش رکھنےکا ایک طریقہ یہ بھی ہےکہ اسٹیبلشمنٹ جن سے تنگ ہےجن کے خلاف ہے تم بھی ان سے دشمنی کے راستے نکال لو، ان پر تنقید کرو اسطرح یہ منافق اینٹی اسٹیبلشمنٹ شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور بدلے میں فوائد سمیٹتےہیں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Bqt3LCoWyJ9OYVB1Y
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Bqt3LCoWyJ9OYVB1Y
Forwarded from Pakistan Times International
2009 میں جب میں نے سیلن کی وجہ سے اپنا اقبال ٹاؤن والا گھر بیچا تو کچھ عرصہ مجھے کینٹ میں نچلے پورشن میں کرائے دار کی حثیت سے رہنا پڑا ،
بڑے تلخ تجربات ہوئے ، مالک مکان بڑی فیملی ہونے کے باعث پانچ اے سی چلاتے مگر اُن کا بل مُجھ سے پانچ گُنا کم آتا ، ایک بار میں نے شکایت کی تو انھوں نے اگلے دن ایک بندے سے متعارف کرایا جو واپڈا کی نوکری سے استعفی دے کر یہ خدمتِ خلق کر رہا تھا . کہا گیا اگر میں اُسے ایک بار ایک لاکھ دے دوں تو میرا بل بھی ماہانہ دو تین ہزار آیا کرے گا ،اُس نے جو تفصیل بتائی بہت خطرناک تھی .
میں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے یونٹوں کا بل کوئی اور کیوں بھرے ،اور اگر وہ کسی بیوہ کے بل میں چلے گئے تو میں کیا کروں گی ،
مالک مکان کا فرسٹ ائیر کا طالبعلم بیٹا دو تین سیاستدانوں کے نام لے کر بولا وہ بھی تو فلاں فلاں لُوٹ مار کر رھے ہیں ، میں اُس کے جواز پر حیران رہ گئی ،
آج اتنے سالوں بعد بھی غریب ہی مفت خوروں اور بجلی چوروں کے ہرجانے بھر رہا ھے . ریاست کی کمزور ترین رِٹ ، بدنیتی اور سُستی کے باعث
ڈاکٹر صغری صدف
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
بڑے تلخ تجربات ہوئے ، مالک مکان بڑی فیملی ہونے کے باعث پانچ اے سی چلاتے مگر اُن کا بل مُجھ سے پانچ گُنا کم آتا ، ایک بار میں نے شکایت کی تو انھوں نے اگلے دن ایک بندے سے متعارف کرایا جو واپڈا کی نوکری سے استعفی دے کر یہ خدمتِ خلق کر رہا تھا . کہا گیا اگر میں اُسے ایک بار ایک لاکھ دے دوں تو میرا بل بھی ماہانہ دو تین ہزار آیا کرے گا ،اُس نے جو تفصیل بتائی بہت خطرناک تھی .
میں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے یونٹوں کا بل کوئی اور کیوں بھرے ،اور اگر وہ کسی بیوہ کے بل میں چلے گئے تو میں کیا کروں گی ،
مالک مکان کا فرسٹ ائیر کا طالبعلم بیٹا دو تین سیاستدانوں کے نام لے کر بولا وہ بھی تو فلاں فلاں لُوٹ مار کر رھے ہیں ، میں اُس کے جواز پر حیران رہ گئی ،
آج اتنے سالوں بعد بھی غریب ہی مفت خوروں اور بجلی چوروں کے ہرجانے بھر رہا ھے . ریاست کی کمزور ترین رِٹ ، بدنیتی اور سُستی کے باعث
ڈاکٹر صغری صدف
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
❤2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دنیا کی محبت اور موت کا خوف دل میں آگیا تو اب آپ اللہ کے دین لیے قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہونگے اور اللہ کی نصرت comfort zone سے باہر نکلنے پر آتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کو ہند وپاک میں لوگوں کے دلوں سے دنیا کی محبت اور موت کا خوف کھرچ ڈالنے کا ذریعہ بنادے آمین
اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کو ہند وپاک میں لوگوں کے دلوں سے دنیا کی محبت اور موت کا خوف کھرچ ڈالنے کا ذریعہ بنادے آمین
❤8
پنجاب کے ایک ڈویژن میں منشیات کے مقدمات میں گرفتار 186 ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں، لاہور ہائیکورٹ۔
کیا ریاست اتنی desperate ہے منشیات کے خاتمے کے لیے کہ یہ طریقہ نکالا ہے ؟
نہیں ۔۔۔
ریاستی ادارے تو اس سے کہیں زیادہ desperate ہیں منشیات سے زیادہ زیادہ کمائی کے لیے ۔ اور ملوث ہیں پوری طرح ۔
گرفتار ڈرائیور تو بس ایندھن ہیں اس انڈسٹری کا ۔۔ جسطرح نشعے کے عادی افراد ایندھن بن رہے
https://pakistan24.tv/2026/04/06/64873/
کیا ریاست اتنی desperate ہے منشیات کے خاتمے کے لیے کہ یہ طریقہ نکالا ہے ؟
نہیں ۔۔۔
ریاستی ادارے تو اس سے کہیں زیادہ desperate ہیں منشیات سے زیادہ زیادہ کمائی کے لیے ۔ اور ملوث ہیں پوری طرح ۔
گرفتار ڈرائیور تو بس ایندھن ہیں اس انڈسٹری کا ۔۔ جسطرح نشعے کے عادی افراد ایندھن بن رہے
https://pakistan24.tv/2026/04/06/64873/
Pakistan24
پنجاب کے ایک ڈویژن میں منشیات کے مقدمات میں گرفتار 186 ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں، لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ نے منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات پر گوجرانوالہ کے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) خرم شہزاد کی سرزنش کی ہے- پیر کو آر پی او خرم شہزاد عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس علی ضیاء باجوہ نے اُن سے کہا کہ پر گوجرنوالہ ڈویژن…
Forwarded from Parent Guide
بچوں کو بگاڑنے اور خراب کرنے کا سب سے بڑا سبب اور بری صحبت اور بدکردار ساتھی ہوتے ہیں
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui
#ParentGuide #parentingtips
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui
Forwarded from 🌹کلام ہدہد 🌹
فَفِرو سب پڑھیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
یہ چاہت ہے لڑیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
جو دستہ دین کے غلبے کی کوشش میں ہے سرگرداں
وہ دستے سے جُڑیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
وہن کے مرض کو حکمت پسندی نام دیتے ہیں
یہ عادت سے مُڑیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
دفاعِ دین سنت ہے یہ سنت کو ادا کرنے
عقیدت سے بڑھیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
پرندے بن کے دیوانے کسی دن آتشِ نمرود
بُجھانے کو اُڑیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
مسلماں سب حقیقت میں فنا فی اللہ کی ہُدہُد
پہاڑی پر چڑھیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
ہدہد الہ آبادی
یہ چاہت ہے لڑیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
جو دستہ دین کے غلبے کی کوشش میں ہے سرگرداں
وہ دستے سے جُڑیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
وہن کے مرض کو حکمت پسندی نام دیتے ہیں
یہ عادت سے مُڑیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
دفاعِ دین سنت ہے یہ سنت کو ادا کرنے
عقیدت سے بڑھیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
پرندے بن کے دیوانے کسی دن آتشِ نمرود
بُجھانے کو اُڑیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
مسلماں سب حقیقت میں فنا فی اللہ کی ہُدہُد
پہاڑی پر چڑھیں لیکن سبھی کو جان پیاری ہے
ہدہد الہ آبادی
❤4
پاکستانی فورسز افغان مہاجرین کو ایسے زخموں کے ساتھ واپس بھیج رہی ہے جنہیں بھرنے میں شاید عرصہ لگے
https://t.me/ConflictM/2582
https://t.me/ConflictM/2582
Telegram
Conflict Monitor
😥
Afghan refugees in Pakistan are being subjected to inhumane treatment by Pakistani forces, the scars of which will remain in the hearts of the Afghan nation for centuries.
🔗 نقطةNUQTA (@NUQTA31)
📲 @twittervid_bot
Afghan refugees in Pakistan are being subjected to inhumane treatment by Pakistani forces, the scars of which will remain in the hearts of the Afghan nation for centuries.
🔗 نقطةNUQTA (@NUQTA31)
📲 @twittervid_bot
Forwarded from |--| @rd T@|k جــــ.ـلــــ.ـی کـــ.ـٹـــ.ـی
امت کے سامنے شریعت کی عمارت کی تعمیر سے پہلے عقیدے کا مکمل ڈھانچہ تعمیر کرنا ۔
قرآن نے مکہ میں نازل ہوتے ہوئے تیرہ سال لگا دئیے۔ اس پورے عرصے میں وہ فقط کلمہ "لا الہ الا اللہ محمد ر سول اللہ" کی تشریح کرتا رہا۔ وہ عقیدے کی تشریح اسلئے کرتا رہا تاکہ یہ دلوں کے اندر خوب اچھی طرح جڑ پکڑ لے کیونکہ یہ سارا دین اسکی ساری تفاصیل اسکے لیے سارے احکامات الوہیت اس کے اکیلے قاعدے پر ہی قائم ہیں کہ "اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں"
یہ دین ایک ایسے درخت کی مانند ہے جسکی جڑیں زمین کے اندر دور تک چلی گئی ہیں اور جسکی شاخیں پھیلتی ہوئی آسمان تک جاپہنچی ہیں۔ اگر ہریالی کا مجموعہ زیادہ ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ جڑیں لازما گہری ہوں گی۔ ورنہ اس درخت کا تنا بہت سا بوجھ کیوں کر سہار سکے۔ اسی طرح اس دین کی (یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ) کی جڑیں بھی بہت گہری ہونی چاہئیں۔ دل میں ایمان گہرا ہوگا تو دین کے شجر ثمر بار کا بوجھ سہار سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلام کی اقتصادی تشریح کرکے یا معاشرتی محاسن گنوا کر یا نظام سیاست کی خوبیاں بتاکر یا اسکے اخلاقی نظام کے گیت گا کر لوگوں کے دلوں میں دین کی محبت قائم کی جاسکتی ہے وہ غلطی پر ہیں وہ اس دین کے مزاج کو نہیں سمجھتے اور اسکے اصل پروگرام کی اساس کا ادراک نہیں رکھتے
برادران کرام !
اگر صورت حال ایسی ہی ہے تو ہم پر لازم ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے ۔۔۔ فروعات کی پسندیدگی کی بنیاد پر نہیں (بلکہ) لوگوں کے دلوں میں عقیدے کی جڑیں گہری اتارنے سے اپنی دعوت کا آغاز کریں دلوں میں عقیدہ جڑ پکڑ جائے تو وہ ہماری ہر بات کی پیروی کرسکتے ہیں لیکن اگر ہم نے ان کو محض نماز کا حکم بتلایا، وضو کے فائدے بتلائے،عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں اسلام کی فراخدلی ثابت کرنے پر زور صرف کیا، حکمران کے فرائض گنوائے اور انصاف کی اہمیت جتائی تو یہ سلسلہ لمبا ہی ہوتا چلا جائے گا وہ ہر روز آپ کے سامنے ایک نیا شبہہ ایک نیا سوال پیدا کرکے رکھ دیں گے تاکہ آپ اسکا جواب دیں۔ دین اس طریقے سے نہیں شروع ہوا۔ جو لوگ اسلام کے اقتصادی نظام کا تعارف کرواکر یا معاشرتی نظام کے گن گا کر لوگوں کو اسلام میں داخل کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے معانی کو دل میں بٹھانے کی اہمیت س ضرورت نہیں سمجھتے وہ اپنے بیج زمین میں نہیں ہوا میں بو رہے ہیں انہیں ہوا میں درخت اگنے کا انتظار ہے ۔ افسوس یہ انتظار کبھی ختم نہ ہوسکے گا۔
شیـ.ـخ عبداللہ عـ.ـزام رحمہ اللہ
مـ۔جـ.ـاہـ.ـد کا زاد راہ
قرآن نے مکہ میں نازل ہوتے ہوئے تیرہ سال لگا دئیے۔ اس پورے عرصے میں وہ فقط کلمہ "لا الہ الا اللہ محمد ر سول اللہ" کی تشریح کرتا رہا۔ وہ عقیدے کی تشریح اسلئے کرتا رہا تاکہ یہ دلوں کے اندر خوب اچھی طرح جڑ پکڑ لے کیونکہ یہ سارا دین اسکی ساری تفاصیل اسکے لیے سارے احکامات الوہیت اس کے اکیلے قاعدے پر ہی قائم ہیں کہ "اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں"
یہ دین ایک ایسے درخت کی مانند ہے جسکی جڑیں زمین کے اندر دور تک چلی گئی ہیں اور جسکی شاخیں پھیلتی ہوئی آسمان تک جاپہنچی ہیں۔ اگر ہریالی کا مجموعہ زیادہ ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ جڑیں لازما گہری ہوں گی۔ ورنہ اس درخت کا تنا بہت سا بوجھ کیوں کر سہار سکے۔ اسی طرح اس دین کی (یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ) کی جڑیں بھی بہت گہری ہونی چاہئیں۔ دل میں ایمان گہرا ہوگا تو دین کے شجر ثمر بار کا بوجھ سہار سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلام کی اقتصادی تشریح کرکے یا معاشرتی محاسن گنوا کر یا نظام سیاست کی خوبیاں بتاکر یا اسکے اخلاقی نظام کے گیت گا کر لوگوں کے دلوں میں دین کی محبت قائم کی جاسکتی ہے وہ غلطی پر ہیں وہ اس دین کے مزاج کو نہیں سمجھتے اور اسکے اصل پروگرام کی اساس کا ادراک نہیں رکھتے
برادران کرام !
اگر صورت حال ایسی ہی ہے تو ہم پر لازم ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے ۔۔۔ فروعات کی پسندیدگی کی بنیاد پر نہیں (بلکہ) لوگوں کے دلوں میں عقیدے کی جڑیں گہری اتارنے سے اپنی دعوت کا آغاز کریں دلوں میں عقیدہ جڑ پکڑ جائے تو وہ ہماری ہر بات کی پیروی کرسکتے ہیں لیکن اگر ہم نے ان کو محض نماز کا حکم بتلایا، وضو کے فائدے بتلائے،عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں اسلام کی فراخدلی ثابت کرنے پر زور صرف کیا، حکمران کے فرائض گنوائے اور انصاف کی اہمیت جتائی تو یہ سلسلہ لمبا ہی ہوتا چلا جائے گا وہ ہر روز آپ کے سامنے ایک نیا شبہہ ایک نیا سوال پیدا کرکے رکھ دیں گے تاکہ آپ اسکا جواب دیں۔ دین اس طریقے سے نہیں شروع ہوا۔ جو لوگ اسلام کے اقتصادی نظام کا تعارف کرواکر یا معاشرتی نظام کے گن گا کر لوگوں کو اسلام میں داخل کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے معانی کو دل میں بٹھانے کی اہمیت س ضرورت نہیں سمجھتے وہ اپنے بیج زمین میں نہیں ہوا میں بو رہے ہیں انہیں ہوا میں درخت اگنے کا انتظار ہے ۔ افسوس یہ انتظار کبھی ختم نہ ہوسکے گا۔
شیـ.ـخ عبداللہ عـ.ـزام رحمہ اللہ
مـ۔جـ.ـاہـ.ـد کا زاد راہ
Forwarded from |--| @rd T@|k جــــ.ـلــــ.ـی کـــ.ـٹـــ.ـی
جاہلیت سے مراد صرف بعثت نبوی کے قبل کے عرب کی زندگی ہی نہیں ہے بلکہ ہر وہ غیر اسلامی زندگی اور نظام ہے جس کا ماخذ وحی و نبوت اور کتاب الہی و سنت انبیاء نہ ہو اور جو اسلام کے مسائل اور احکام زندگی سے مطابقت نہ رکھتا ہو خواہ وہ عرب کی جاہلیت ہو، ایران کی مزوکیت یا ہندوستان کی برہمنیت یا مصر کی فرعونیت یا ترکوں کی طورانیت، یا موجودہ مغربی تمدن، یا مسلمان قوم کی غیر شرعی زندگی اور ان کے مخالف شریعت رسوم و عادات، اخلاق و آداب اور میلانات و جذبات خواہ وہ جدید ہوں یا قدیم ، ماضی ہوں یا حال۔
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ
دین حق اور علمائے ربانی شرک و بدعت کے خلاف کیوں ، ص 27
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ
دین حق اور علمائے ربانی شرک و بدعت کے خلاف کیوں ، ص 27
Forwarded from |--| @rd T@|k جــــ.ـلــــ.ـی کـــ.ـٹـــ.ـی
مغرب نے امت مسلمہ کو اس کے دین سے کاٹنے اور اپنا غلام بنانے کے لیے جن ذرائع کو استعمال کیا ہے ان میں سے ایک اساسی ذریعہ یہ ہے کہ امت کو اسکی اصل روشن و سنہری تاریخ سے کاٹ دیا جائے اور اسلامی تاریخ کا ایک متبادل مسخ شدہ تصور اسکے سامنے پیش کیا جائے تاکہ مسلمان اپنی تاریخ کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھنے لگیں، اپنے اسلاف کے ذکر سے شرمانے لگیں اور ایک ایسی کشتی کی مانند ہو جائیں جسکا کوئی لنگر نہ ہو اور جسے مغرب کی ہوائیں جس سمت بھی چلانا چاہیں وہ بلامزاحمت اسی سمت چلتی جائے دوسری طرف مغرب نے اس امر کا بھی پورا اہتمام کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی علمی دیانت کو پس پشت ڈال کر اپنی اصل تاریخ پر پردے ڈالے، اس کے بھیانک حقائق کو دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رکھے ، اپنی جہالت ، ظلم و بربریت اور فساد فی الارض کو چھپائے، خود کو دنیا کی سب سے مہذب ، علم دوست اور متمدن ترین قوم کے طور پر پیش کرے اور یوں انسانیت پر اپنی جھوٹی دھاک بٹھائے۔ افسوس کہ مسلم دنیا پر استعماری طاقتوں کے قبضے کے بعد سے ہمارے نصاب تعلیم میں (سکول سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک) تاریخ کا یہی مسخ شدہ نسخہ ہی پڑھایا جاتا رہا ہے اور آج تک پڑھایا جارہا ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے گھروں میں ایسی نسل تیار ہورہی ہے جو اپنی تاریخ سے ، اپنے اسلاف سے ، اپنی روایات سے، حتی کہ اپنے دین کی محکم تعلیمات تک سے لاعلم ہے اور اگر اسے اپنے بارے میں کسی چیز کا علم ہے تو وہ بھی ان غلط معلومات پر مبنی جو اسکے ذہنوں میں انڈیل دی گئی ہے۔ دوسری جانب اسی نسل کو مغرب کی تاریخ، اسکے عقائد و نظریات ، اسکے نظام، اسکی اقدار کا ایک ایسا حسین و جمیل غیر حقیقت پسندانہ تعارف کروایا گیا ہے کہ وہ مغرب سے آنے والے ہر تصور کو نقد سے بالا، خطاء سے پاک اور من و عن واجب الاتباع سمجھنے لگی ہے تبھی معاشرے کی کیفیت ایسی ہوگئی ہے کہ اب کائنات کے نازل کردہ ناقابلِ تغیر احکامات کو فرسودہ اور ناقابلِ عمل قرار دینے والوں کی عقلوں پر کوئی ماتم نہیں کرتا لیکن جمہوریت ، وطنی ریاست، وطنی افواج ، اقوام متحدہ کے چارٹر ، انسانی حقوق کے تصورات پر کوئی سوال اٹھا دے تو سب اسے حیرت سے تکنے لگے ہیں اور اسکی 'جہالت' پر افسوس کرتے ہیں. !
اسی لیے آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس مسخ شدہ تاریخ کی جگہ ایک بار پھر امت کے سامنے اس کی اور مغرب کی اصل تاریخ منظم اور سہل انداز میں پیش کی جائے۔ تاریخ کو ٹھیک سمجھ لینے سے خود بخود بہت سی گتھیاں سلجھتی جاتی ہیں بہت سی الجھنیں دور ہوتی جاتی ہیں اور بہت سے حقائق منکشف ہوجاتے ہیں۔
عصر حاضر کے جـ.ـہـ.ـاد کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں
مصنف ہدایت اللہ مہمند
اسی لیے آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس مسخ شدہ تاریخ کی جگہ ایک بار پھر امت کے سامنے اس کی اور مغرب کی اصل تاریخ منظم اور سہل انداز میں پیش کی جائے۔ تاریخ کو ٹھیک سمجھ لینے سے خود بخود بہت سی گتھیاں سلجھتی جاتی ہیں بہت سی الجھنیں دور ہوتی جاتی ہیں اور بہت سے حقائق منکشف ہوجاتے ہیں۔
عصر حاضر کے جـ.ـہـ.ـاد کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں
مصنف ہدایت اللہ مہمند
👍3
غزہ سے ایک صحافی کا سوال
عاصم منیر ایرانی وفد کا فوجی یونیفارم میں استقبال کررہا ہے اور امریکی وفد کا استقبال بغیر وردی ۔۔۔
کیا اس میں کوئی پیغام ہے ؟
https://t.me/ConflictM/2584
عاصم منیر ایرانی وفد کا فوجی یونیفارم میں استقبال کررہا ہے اور امریکی وفد کا استقبال بغیر وردی ۔۔۔
کیا اس میں کوئی پیغام ہے ؟
https://t.me/ConflictM/2584
Telegram
Conflict Monitor
Why?! Is there a message?!
Chief of staff of Pakistani army Asem Moneer received Iranian delegation wearing military uniform while American delegation wearing civilian uniform..
https://x.com/i/status/2042877302808211737
Chief of staff of Pakistani army Asem Moneer received Iranian delegation wearing military uniform while American delegation wearing civilian uniform..
https://x.com/i/status/2042877302808211737
❤1
آبنائے تائیوان میں چین کی تازہ ترین ایٹمی ریسپانس ڈرل بتارہی ہیں کہ تائیوان کا تنازعہ ایشیا میں ایک محدود لیکن خطرناک حد تک بے قابو ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ایشیا ٹائمز
https://asiatimes.com/2026/04/china-drills-for-us-nuclear-attack-in-a-taiwan-war/
ایشیا ٹائمز
https://asiatimes.com/2026/04/china-drills-for-us-nuclear-attack-in-a-taiwan-war/
Asia Times
China drills for US nuclear attack in a Taiwan war - Asia Times
China's latest nuclear-response drills in the Taiwan Strait suggest a Taiwan conflict could escalate into a limited but dangerously uncontrollable nuclear
مذہبی جماعتوں کی قیادت ڈاکٹر عافیہ کے لیے اسطرح بھیک مانگنے کے بجائے اسے بیچنے والوں اور رہائی میں رکاوٹ ڈالنے والے فوجی جرنیلوں کا گریبان پکڑنے کی جرات کرے تو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ممکن یے
https://x.com/i/status/2043161778402529695
https://x.com/i/status/2043161778402529695
❤1
Forwarded from |--| @rd T@|k جــــ.ـلــــ.ـی کـــ.ـٹـــ.ـی
انقلاب کا مفہوم کیا ہے؟
انقلاب سے وہ سطحی سیاسی اور عسکری اقدامات مراد نہیں جنہیں لوگ جماعتوں کی تشکیل، حکومتوں کے تختے الٹنے، مظاہروں کے انعقاد، ’’مردہ باد‘‘ اور ’’زندہ باد‘‘ کے نعرے لگانے یا بیرونی نظریات کی بنیاد پر فاشسٹ اور پولیس ریاستیں قائم کرنے کے کلچر میں دیکھتے ہیں۔
بلکہ انقلاب سے مراد یہ ہے کہ علمائے دین اپنے اندر وہ علمی، فکری، سیاسی، سماجی، نفسیاتی اور عسکری صلاحیتیں پیدا کریں جن کی مدد سے وہ معاشرے کو فکری، دینی، اخلاقی، سیاسی، قانون سازی کے اور تہذیبی بگاڑ سے نجات دلا سکیں، اور دین داری، آزادی، انصاف، خوش حالی اور ہر طرح کی بھلائی کی طرف اس کی رہنمائی کر سکیں۔
علمائے دین کو چاہیے کہ اس مثبت اور حقیقی انقلاب کے ذریعے اپنی قوم کو قدیم و جدید جاہلیت، ظلم، تاریکی، غربت، داخلی اختلافات، محکومی، دین سے بے پرواہی اور سامراجی قوتوں اور ان کے مقامی ہرکاروں کے تسلط سے باہر نکالیں۔ انہیں ایسا فکری اور عملی نظام قائم کرنا چاہیے جو ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو نیز وہ نظام یہ بھی یقینی بنائے کہ نہ معاشرے اور ریاست کو بیرونی قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور نہ ہی خود علماء سیاسی، سماجی اور فکری تنہائی کا شکار ہونے پائیں۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والے عالم، داعی اور فکری جنگ پر دقیق نظر رکھنے والے مفکر فضیلۃ الشیخ مولوی عبد الہادی مجـ.ـاہـ.ـد (دامت برکاتہم)کی پشتو تصنیف ’مدرسہ او مبارزہ‘ کے اردو ترجمے "مدارس اور دینی جدوجہد کی تحریک" سے اقتباس
انقلاب سے وہ سطحی سیاسی اور عسکری اقدامات مراد نہیں جنہیں لوگ جماعتوں کی تشکیل، حکومتوں کے تختے الٹنے، مظاہروں کے انعقاد، ’’مردہ باد‘‘ اور ’’زندہ باد‘‘ کے نعرے لگانے یا بیرونی نظریات کی بنیاد پر فاشسٹ اور پولیس ریاستیں قائم کرنے کے کلچر میں دیکھتے ہیں۔
بلکہ انقلاب سے مراد یہ ہے کہ علمائے دین اپنے اندر وہ علمی، فکری، سیاسی، سماجی، نفسیاتی اور عسکری صلاحیتیں پیدا کریں جن کی مدد سے وہ معاشرے کو فکری، دینی، اخلاقی، سیاسی، قانون سازی کے اور تہذیبی بگاڑ سے نجات دلا سکیں، اور دین داری، آزادی، انصاف، خوش حالی اور ہر طرح کی بھلائی کی طرف اس کی رہنمائی کر سکیں۔
علمائے دین کو چاہیے کہ اس مثبت اور حقیقی انقلاب کے ذریعے اپنی قوم کو قدیم و جدید جاہلیت، ظلم، تاریکی، غربت، داخلی اختلافات، محکومی، دین سے بے پرواہی اور سامراجی قوتوں اور ان کے مقامی ہرکاروں کے تسلط سے باہر نکالیں۔ انہیں ایسا فکری اور عملی نظام قائم کرنا چاہیے جو ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو نیز وہ نظام یہ بھی یقینی بنائے کہ نہ معاشرے اور ریاست کو بیرونی قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور نہ ہی خود علماء سیاسی، سماجی اور فکری تنہائی کا شکار ہونے پائیں۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والے عالم، داعی اور فکری جنگ پر دقیق نظر رکھنے والے مفکر فضیلۃ الشیخ مولوی عبد الہادی مجـ.ـاہـ.ـد (دامت برکاتہم)کی پشتو تصنیف ’مدرسہ او مبارزہ‘ کے اردو ترجمے "مدارس اور دینی جدوجہد کی تحریک" سے اقتباس
❤1