Politics Plus
2.13K subscribers
2.26K photos
1.27K videos
22 files
2.35K links
‏ملکی و بین الاقوامی سیاست، معیشت اور تنازعات کے متعلق تبصرے و تجزئیے ۔
https://x.com/Polplusorg
واٹس ایپ چینل
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7Bqt3LCoWyJ9OYVB1Y
Download Telegram
دہم العاموش: غزہ قتل عام کے بارے میں پوسٹ کرنے پر قید کیا جانے والا اردنی انجینئر شہید

غزہ قتل عام پر آن لائن پوسٹ کرنے کے جرم میں اردنی انجینئر دہم العاموش کو 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، مہینوں کے تشدد اور بھوک ہڑتال کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔
اہلخانہ کے مطابق اس کے موقف کی وجہ سے اسے بہت شدید مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہسپتال نے لواحقین کو میڈیکل رپورٹ دینے سے انکار کر دیا۔ اور حکومت نے خاندان کو بیرون ملک علاج کی اجازت دینے سے بھی انکار کیا۔ گزشتہ روز ان کا انتقال ہوگیا۔ دہم العاموش کی حراست کے بعد انکی بیٹی پیدا ہوئی جس نے اپنے والد کو ابھی تک دیکھا نہیں تھا۔
ان کے ساتھی احمد الابراہیم بھی گزشتہ سال غزہ کے بارے میں پوسٹ کرنے پر اردن کی ایک جیل میں انتقال کر گئے تھے۔
😢1
آج کے دور میں خواتین کا نوکری کرنا کسی فتنے سے کم نہیں۔
------------
روزنامہ جنگ کی یہ خبر پڑھیے
خاتون رابعہ زینب نے بتایا کہ لاہور کے رہائشی ایجنٹ شاہین نے اسے بیوٹی پارلر میں ملازمت اور ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا جھانسہ دے کر سعودی عرب بھجوایا، تاہم وہاں پہنچنے کے بعد وہ مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث ہوگئی۔اسی طرح دیگر دو خواتین سونیا اور سدرا بی بی نے بیان دیا کہ انہوں نے ایک ایجنٹ رشید کے ذریعے سعودی عرب جانے کا انتظام کیا تھا جہاں انہیں ایک لاکھ 20 ہزار روپے ماہانہ ملازمت کا وعدہ کیا گیا،
تاہم بعد میں وہ بھی مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث ہوگئیں، سعودی پولیس کے چھاپے میں گرفتار ہونے کے بعد دونوں خواتین کو سزا پوری ہونے پر پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔ایف آئی اے امیگریشن نے تینوں خواتین کو مزید کارروائی اور ایجنٹوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کردیا
https://jang.com.pk/news/1565125
1
#بریکنگ | افغان حکومت کے نائب ترجمان کے مطابق دارالحکومت کابل کے ایک ہسپتال پر پاکستانی فورسز کے حملے میں 400 افراد شہید اور 250 زخمی
الجزیرہ
https://x.com/i/status/2033666728417263853
Forwarded from Twitter (𝕏) Media Downloader دانلود از ایکس و توییتر
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مقتل 400 وإصابة المئات.. الحكومة الأفغانية تتهم باكستان بشن غارات على مركز لعلاج الإدمان في كابل | #تقرير: حميد محمد شاه
#الأخبار

🔗 قناة الجزيرة (@AJArabic)

📲 @twittervid_bot
‏بچوں پر بم گرانا ، سکول ہوسپٹلز پر بم گرانا صحافیوں کو قتل کرنا
لوگوں کو اٹھا لینا تشدد کرنا
لگتا ہے پاکستان آرمی کا کنٹرول اسرائیل کے ہاتھ میں ہے
کیونکہ یہ سب تو وہ کرتے ہیں ۔
💯2
‌‎یہ آپکی بھول اور غلط فہمی ہے کہ اس فوج کو آپ قانون اور سویلین اداروں کے ماتحت لے آئیں گے ۔ اچھی طرح سے سمجھ لیں یہ ناقابل اصلاح فوج امریکہ اور عالمی طاقتوں کی پاکستان میں نمائندہ فوج ہےاس سے لڑ کر اور انکا خاتمہ کرکے ہی آپ اس ملک کو آزاد کرواسکتے ہیں اسکے سوا اور کوئی راستہ نہیں
https://x.com/i/status/2033748460378157529
1
Forwarded from Twitter (𝕏) Media Downloader دانلود از ایکس و توییتر
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جنگ چاہے قبائل کی سرزمین پر ہو یا پڑوس میں قائم اسلامی نظام کے خلاف،
"ایمان، تقویٰ اور جہاد سے عاری" یہ فوج ہمیشہ مظلوم و معصوم مسلمانوں کو ہی نشانہ بناتی رہی ہے۔
#کابل: نشے کے عادی مریضوں کے ہسپتال پر پاکستانی فضائی حملہ، 400 سے زائد مریض شہید ہوئے!
انا للہ وانا الیہ راجعون

🔗 عفان مرابط (@Affan_murabet)

📲 @twittervid_bot
Forwarded from Twitter (𝕏) Media Downloader دانلود از ایکس و توییتر
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نائن الیون کے بعد پاکستانی فوج کا جرنیل جب ایک فون کال پر ڈھیر ہوکر مسلمانوں کے خلاف جنگ میں اترا یہ رینٹل آرمی اسی وقت ایکسپوز ہوگئی تھی ۔ یہ دلوں کا وہن تھا جو سچ چھپانےپرمجبور کرتا ہے ۔
ظلم کو ظلم کہنےکی بھی سکت نہیں ان میں
#شهداءلیلةالقدر

🔗 Politics plus (@Polplusorg)

📲 @twittervid_bot
👍2
Forwarded from Twitter (𝕏) Media Downloader دانلود از ایکس و توییتر
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پاکستانی فوج نے منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو نشانہ اسلئے بنایا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ پاکستانی قوم کو سمجھ نہ آ جائے کہ منشیات کا خاتمہ ممکن ہے اور وہ افغانستان کو دیکھ کر پاکستان میں بھی منشیات کے خاتمے کا مطالبہ کریں اور یہ بھی+
#شهداءلیلةالقدر

🔗 Politics plus (@Polplusorg)

📲 @twittervid_bot
😢1🍌1
Politics Plus
پاکستانی فوج نے منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو نشانہ اسلئے بنایا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ پاکستانی قوم کو سمجھ نہ آ جائے کہ منشیات کا خاتمہ ممکن ہے اور وہ افغانستان کو دیکھ کر پاکستان میں بھی منشیات کے خاتمے کا مطالبہ کریں اور یہ بھی+ #شهداءلیلةالقدر…
۔۔۔۔
حقیقت نہ جان لیں کہ پاکستان میں منشیات کے سب سے بڑے سرغنہ خود پاکستانی فوج ہے جو کاشت سے لے کر سپلائی ہر جگہ کماتی ہے حتی کہ سمگلرز کو ججز پر دباؤ ڈال کر رہا کروانے میں کروڑوں اربوں سالانہ کمارہے ہیں

یہ جو منشیات فروشی ہے
اسکے پیچھے وردی ہے
اسکے پیچھے ناپاک فوج ہے
💯1
Forwarded from صدائے حق میڈیا
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اتحاد المجاہدین پاکستان کی جانب سے ضلع بنوں میں بنوں میرانشاہ روڈ پر غلام فوج کے ایک کانوائے پر گھات حملے کے مناظر

معیار: کمزور کوالٹی

https://x.com/imp_media1
@IMPmedia_1
@IMP_Media7_bot
1
Forwarded from Almirsaad Urdu
گزشتہ شب ایک بار پھر پاکستانی فوجی رجیم کی سیاہ سیاست کابل کے آسمان پر بارود کے دھوئیں میں ظاہر ہوئی۔ بموں کی وہ گونج جس نے شہر کو لرزا دیا، محض ایک حملے کی علامت نہ تھی؛ بلکہ یہ اس رجیم کی چیخ تھی جو اپنی بقا دوسروں کے خون میں تلاش کرتا ہے۔ نشہ کے عادی افراد کے علاج کے مرکز پر بمباری کوئی جنگی کارروائی نہ تھی، بلکہ انسانیت کے خلاف ایک کھلا جرم تھا۔ وہاں نہ کوئی مورچہ تھا، نہ فوج، اور نہ کوئی معرکہ برپا تھا۔ وہاں بے بس انسان پڑے تھے جو اپنی زندگی بچانے کے لیے علاج کروا رہے تھے، مگر پاکستان کے فوجی رجیم کے اندھے بموں نے انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیا۔

یہ درندگی محض ایک رات کا واقعہ نہیں، بلکہ اس خونچکاں سیاست کا تسلسل ہے جسے پاکستان کے فوجی رجیم کا ایک متکبر اور بے رحم حلقہ آگے بڑھا رہا ہے۔ اسی سیاست کے سرِخیل عاصم منیر اور اس رجیم کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف ہیں؛ ایسی شخصیات جو اپنے اقتدار کی بقا کے لیے جنگ کی آگ کو ہوا دیتی ہیں اور خطے میں عدم استحکام کے دوام کو اپنی حکمتِ عملی سمجھتی ہیں۔ ان کی سیاست امن کی زبان سے ناواقف ہے؛ ان کی زبان بارود ہے اور ان کی منطق بمباری...


🔗مکمل تحرير
https://almirsadur.com/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac%db%8c-%d8%b1%d8%ac%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%af%d8%b1%d9%86%d8%af%da%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/
بات کڑوی ہے

پاکستان میں سیکولرزم و الحاد کے پھیلاؤ میں پاکستان کےمذہبی طبقات کابھرپور حصہ ہے
وہ اسطرح کہ
مذہبی طبقہ بالخصوص معروف شخصیات پاکستانی فوج وحکمرانوں کےظلم پرمکمل سکوت اختیار کرتی ہیں جیسےکسی اور دنیا میں ہوں بلکہ ایک قدم بڑھ کرچاپلوسی خوشامد اور اہم مواقع پر کچھ فیس سیونگ کےساتھ سپورٹ فراہم کرتی ہیں۔ اب جب عام عوام دیکھتی ہے کہ مذہبی شخصیات ظالموں کےہمرکاب ہیں انکا دفاع کرتے ہیں مثلا لاپتہ افراد کا معاملہ دیکھ لیں اور دوسری جانب اس پر سیکولر شخصیات مظلوموں کےلیے آواز اٹھاتی ہیں تو عام عوام لامحالہ اس سیکولر طبقے کی طرف مائل ہونگے ‏وار آن ٹیرر اور افغانستان کے معاملے پر یہ عذر دے سکتے ہیں کہ اگر کچھ کہیں تو دہشت گردی کا الزام لگا کر مقدمات بنادیں گےیا انکاؤنٹر کردیں گے (اگرچہ اس معاملے میں بھی توکل تو اللہ ہر ہی ہونا چاہئیے کہ سب کچھ اسی کے ہاتھ میں ہے پھر بھی)
یہاں فرض کریں ہم انکا عذر قبول کرلیں تب بھی ‏فوج اور اسکے کٹھ پتلی حکمرانوں ، بیوروکریسی ، میڈیا نے ہر شعبے میں جو ظلم مچا رکھا ہے کیا انہیں سمجھ نہیں کہ یہ سب کچھ کس خبیث گروہ کی سرپرستی میں ہورہا ہے ان ایشو سے بھی مکمل لاتعلق ہیں . آخر کیوں ؟ عوام اسے مذہبی طبقے کی بے حسی نہیں سمجھے گی تو کیا سمجھے گی ؟
‏یہ بات عجیب نہیں کہ غیر مذہبی جماعتوں اور نظریات کے لیے لوگ قربانیاں دینے تکلیفیں اٹھانے حتی کہ جانیں دینے کو تیار ہیں لیکن مذہبی طبقہ جو محکومی غلامی اور ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے وہ قربانی سے تکلیف سے بھاگ رہا ہے ‏اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی فوج کے ظلم کو ظلم کہنا موت کو دعوت دینے اور تکلیفوں اور مصائب مانگنے کے مترادف ہے تو کیا اس کا حل یہی ہے جو آج مذہبی طبقے نے اختیار کر رکھا ہے؟ کیا ہجرت سے بھی آپ سب معذور ہیں ؟
https://x.com/i/status/2034060032481103955
Politics Plus
بات کڑوی ہے پاکستان میں سیکولرزم و الحاد کے پھیلاؤ میں پاکستان کےمذہبی طبقات کابھرپور حصہ ہے وہ اسطرح کہ مذہبی طبقہ بالخصوص معروف شخصیات پاکستانی فوج وحکمرانوں کےظلم پرمکمل سکوت اختیار کرتی ہیں جیسےکسی اور دنیا میں ہوں بلکہ ایک قدم بڑھ کرچاپلوسی خوشامد…
‏پاکستانی فوج نے جسطرح اس ملک کے وسائل کو لوٹا ہے کہ ملک کے چپے چپے پر لوگ خودکشیوں پر حتی کہ جسم فروشی پر مجبور ہیں۔ فوج کی اس معاشی دہشت گردی پر مذہبی طبقہ ایک لفظ نہیں کہتا ۔ اللہ کی قسم روز قیامت آپ لوگ اس ظالم ناپاک فوج کے شریک جرم ٹھہرائیں جائیں گے

خفیہ ادارے منشیات کے دھندے کی طرح نہ صرف ان قحبہ خانوں اور ان سے منسلک گینگز کو سپورٹ اور استعمال کرتے ہیں بلکہ وقتا فوقتاً گرفتار کرواکے لوگوں کو بلیک میل کرکے بھاری رقوم لوٹی جاتی ہیں
https://juraat.com/18/03/2026/162000/
اسوقت کراچی میں چکلوں اور شراب کی فیکٹریوں پہ اندھا دھند چھاپے اور تابڑ توڑ گرفتاریاں جاری ہیں چکلہ و شراب کی صنعت سے وابستہ پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ عید سر پہ ہے پولیس و ایکسائز والوں کا خیال کریں آخر انکے بچوں بیگمات بھائیوں بہنوں اور والدین نے بھی سفید کپڑے واسکٹ کیساتھ پہن کر نماز پڑھنے جانا ہے رشتہ داروں سے ملنا ہے ، عیدی نہ ملنے تک چکلوں کیخلاف آپریشن جاری رہے گا
اعلان ختم ہوا

فیض اللہ خان
2
‏بعض لوگ زیارتِ روضۂ اطہر پر ایک شبہ کرتے ہیں کہ اب تو قبر کی بھی زیارت نہیں ہوتی، کیونکہ قبرِ شریف نظر نہیں آتی، اس کے گرد پتھر کی دیوار قائم ہے جس کا دروازہ بھی نہیں۔ یہ عجیب اشکال ہے۔‏میں کہتا ہوں کہ اگر زیارتِ قبر کے لیے قبر کا دیکھنا ضروری ہے تو حضور ﷺ کی زیارت کے لیے بھی یہ شرط ہوگی کہ حضور ﷺ کو دیکھا جائے، حالانکہ بعض صحابہؓ نابینا تھے۔ حضرت عبداللہ ابنِ مکتومؓ صحابی ہیں یا نہیں؟ مستورات کے بارے میں کیا کہو گے؟ ‏جس طرح صحابیت کے لیے حکمِ زیارت کافی مانی گئی ہے، اسی طرح زیارتِ قبرِ شریف میں بھی حکمِ زیارت کو کیوں نہ کافی مانا جائے گا؟

حکیم الامت حضرت تھانوی صاحبؒ
(اشرف الجواب، ص 181)

https://whatsapp.com/channel/0029VbCEfA96xCSGb61imr0y
3👍1
‏پاکستان صرف اشرافیہ اور ان کے بچوں کے لیے ہے!

امتیاز احمد DW Urdu Germany

کہتے ہیں کہ بندے کے اپنے حالات بہتر ہوں تو وہ معاشرتی مسائل سے بیگانہ ہونے لگتا ہے۔ میرے ساتھ بھی شاید ایسا ہی ہوا ہے، جب سے معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں تو دوسروں کا درد، دکھ اور ان کی تکالیف کا احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔

یا ہو سکتا ہے کہ میری نفسیات کے پیچھے یہ بھی ہو کہ انہی غموں، فکروں اور مسائل سے بھاگ کر تو جرمنی آئے تھے۔ شاید لاشعوری طور پر میرے ذہن میں تھا کہ ان مسائل سے جان چھڑانی ہے۔

ایسی ہی سوچ کئی برس پہلے ایک مرتبہ بس کے ساتھ لٹکے ہوئے آئی تھی۔ نوشہرہ ورکاں سے گوجرانوالہ جانا تھا، پیسے کم تھے تو بطور اسٹوڈنٹ یہی سوچا کہ بس سے لٹک کر جاتے ہیں، دو چار روپے کرایے میں گوجرانوالہ پہنچ جاؤں گا۔ اُس وقت ابھی ایک روز پہلے ہی میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ بلاول بھٹو تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن چلے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی پڑھا تھا کہ بلاول مستقبل کے لیڈر ہیں اور ایک دن ملک کی قیادت کریں گے۔

ہم روایتی طور پر مسلم لیگ نون کے ووٹر تھے تو اس وقت مسائل کی جڑ ہم پیپلز پارٹی کو ہی سمجھتے تھے۔ شاید یہ بھی ایک وجہ تھی کہ تعصب بہت زیادہ تھا۔

لیکن اس دن بس سے لٹکے لٹکے، جو سوچ آئی تھی، وہ یہ تھی کہ بلاول کو کیسے پتا چلے گا میرے مسائل کیا ہیں، ایک غریب طالب علم کے مسائل کیا ہیں، گرمیوں میں صبح سویرے ناشتے کے بغیر گاؤں سے نکلنا اور تپتی دوپہر میں بسوں کے اڈوں پر کھڑے ہونا، پینتالیس سینٹی گریڈ میں تارکول کی سڑکوں پر گردو غبار اور دھواں پھانکنا اور ہر آتی جاتی بس یا ٹیوٹے کو ہاتھ دے کر روکنا کس قدر اذیت ناک ہے؟

اس وقت سوچ محدود تھی، ٹھنڈے پانی کے حصول، ایک آئس کریم کھانے، لکھنے کے لیے ایک ڈائری خریدنے اور اس کے لیے پیسے جوڑنے تک ہی محدود تھی۔ بس کی چھت پر بیٹھے بیٹھے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ امیر لوگ، جو اسمبلیوں میں جاتے ہیں، جو ہماری قسمت کے فیصلے کرتے ہیں، جنہوں نے ہمارے دکھوں کا مداوا کرنا ہے، یہ میرے مسائل اور میرے غموں کی شدت کو کیسے سمجھ پائیں گے؟

سوچیں محدود تھیں، میں کافی دیر سوچتا رہا تھا کہ اچھا پین خریدنے کی خوشی، کتابوں کے لیے پیسے، تھک کے گھر آنے اور پھر پڑھائی نہ کر سکنے کی سکت کا مسئلہ میرے مستقبل کے لیڈر بلاول کو کیسے سمجھ آئے گا؟

جو بندہ اچھے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھا ہو، جس کی کتابیں نوکر بازار سے خرید کر لاتے ہوں، جو اے سی والے گھر سے نکلے، اے اسی والی گاڑی میں سوار ہو، اے سی والے اسکول میں جاتا ہو، اسے ایک پرائمری اسکول سے نکلنے والے، بس یا ٹیوٹے پر دھکے کھاتے ہوئے طالب علم کے مسائل کیسے سمجھ آئیں گے؟

آج میں شکر کرتا ہوں کہ اچھے وقت پر پاکستان سے نکل آیا ورنہ آج تک کسی بس سے لٹک کر سفر کر رہا ہوتا۔ یہ سوچیں ہی تھیں، جنہوں نے ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔ یہ ملک کے حالات ہی تھے، جن کے وجہ سے میرے جیسا بندہ اپنے ماں باپ، خاندان اور بہن بھائیوں کو چھوڑ کر دور کسی دیس میں جا بستا ہے۔

میں اب یہ “اقرار جرم” کرتا ہوں کہ مجھے اب پاکستان میں اپنے خاندان کے علاوہ کسی کے مسئلے سے کوئی خاص ہمدردی نہیں رہی۔ میں شرمندہ بھی ہوں کہ یہ خود غرضی ہے کہ آپ کسی کے غم کو اپنا غم نہ سمجھیں۔ یا کم از کم ایک دیہات کے رہنے والے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ساتھیوں کے غم درد کو محسوس ہی نہ کر سکے۔

ستمبر 2020 میں پاکستان میں آل پارٹیز کانفرنس ہوئی تھی، جس میں محترمہ مریم نواز اور جناب بلاول بھٹو بھی شریک ہوئے تھے۔

تب میں نے سوچا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں یہ دونوں ہی اچھے لیڈر ثابت ہوں۔ ہو سکتا ہے یہ دونوں ہی پاکستانی جمہوریت کو دوام بخشیں، پاکستان کی روایتی سیاست کو بدل دیں، صحرا میں بارش کا ایک قطرہ ثابت ہوں، مرتے ہوئے پرندوں کے لیے ہوا کا ایک تازہ جھونکا ثابت ہوں۔

لیکن یہ میرا ایک وہم تھا، ایک خیال تھا، ایک خواب تھا، جو چند برسوں میں ہی ٹوٹ گیا ہے۔

ملک میں نئی سیاست کے نمائندہ یہ دونوں سیاستدان بھی روایتی خاندانی سیاست کے ہی امین نکلے ہیں، صرف اپنے ہی سیاسی قبیلے کے لوگوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، پھر سے ملک کے وسیع تر مفاد میں اسٹیبلشمنٹ کے ہم قدم بن چکے ہیں، فقط یہ دیکھ رہے ہیں کہ بارش کے بعد کس سڑک پر کتنا پانی کھڑا ہے؟

ایران جنگ کی وجہ سے پہلے سے ہی بلکتے عوام کے لیے تیل مزید مہنگا ہو چکا ہے۔ تیل مہنگا ہونے کا مطلب ہے کہ ہر چیز مہنگی ہونے جا رہی ہے۔ غریبوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ عید کے لیے راشن خریدیں یا روتے ہوئے بچوں کو کپڑے اور جوتے لے کر دیں!

ایسے میں ایک خبر آتی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے لیے گیارہ ارب روپے کا ایک لگژری جہاز خریدا گیا ہے۔ ایسی ہی ایک خبر آرمی چیف کے نئے جہاز کے بارے میں بھی ہے۔
1
‏میں اس وقت سے سوچ رہا ہوں، جس ملک کا تقریبا پینتالیس فیصد بجٹ پہلے سے لیے گئے قرض اتارنے کے لیے استعمال ہو رہا ہو، وہ ملک ایسی شاہ خرچیاں کیسے کر سکتا ہے؟

پھر سوچتا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ اس جہاز کے بغیر ملک کا نظام نہ چل رہا ہو، ہو سکتا ہے پنجاب کے مسائل حل نہ پا رہے ہوں، ممکن ہے جہاز میں بیٹھ کر کرپشن کے خاتمے کے اچھے خیالات آتے ہوں ؟ ممکن ہے کہ گیارہ ارب کا جہاز خریدنے سے ادویات سستی ہو جاتی ہوں، ممکن ہے یہ جہاز غریبوں کے گھروں میں راشن پھینکتا ہو، ہو سکتا ہے حکمرانوں نے ایسا ہی کچھ سوچا ہو؟

ابھی یہ سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ اب یہ جہاز ویانا میں ہے اور محترمہ مریم نواز کے بیٹے وہاں ہنی مون منانے کے لیے اس جہاز کا استعمال کر رہے ہیں۔
حکومت نے اس کی تردید کی ہے لیکن کوئی واضح ثبوت ابھی تک نہیں دیا کہ ایسا نہیں تھا۔

میں سوچتا ہوں یہ کیسا ملک ہے، جہاں کوٹھیوں اور محلات والوں کو رعایتیں دی جا رہی ہیں اور جھونپڑیوں والوں پر ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔
اور انہی غریبوں کے ٹیکسوں کو حکمرانوں کی اولادیں اپنی عیاشیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

عوام کے لیے بجلی کے یونٹ مہنگے ہوئے ہیں لیکن سیاستدانوں، اعلی فوجی افسران اور بیوروکریٹس کی بجلی مفت ہے۔ گیس، گاڑی، پٹرول، گھر، سفر اور علاج عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں اور یہی بنیادی سہولیات حکمرانوں، فوجی افسران، عدلیہ کے اعلیٰ ججوں اور بیوروکریٹس کے لیے مفت ہیں۔

میری سوچ وہی پرانی سوچ ہے، ہینگر سے لٹکے پرانے کوٹ کی طرح وہیں معلق ہے، آج نئی سیاست کے نمائندوں بلاول صاحب اور محترمہ مریم نواز کو دیکھ کر وہی کئی برس پرانی سوچ دوبارہ ابھرتی ہے۔ ان کو غریب کے مسائل کا کوئی رتی برابر بھی اندازہ ہے ؟

کچھ برس پہلے مریم نواز خصوصی طور پر لندن میں جنید صفدر کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے گئی تھیں۔ وہ اچھے خوبصورت تھری پیس ولایتی سوٹ میں تھے، ثروت آنکھوں سے جھلک رہی تھی۔ دل میں تب بھی خیال آیا کہ رب کی تقسیم ہے، انسان کو خوش ہونا چاہیے، ہو سکتا ہے آج سے بیس برس بعد وہ بھی سیاست میں قدم رکھیں اور اس ملک کی “جمہوریت کو مزید مضبوط” بنائیں۔

لیکن میرا سوال وہی بیس برس پرانے والا ہے کہ یہ اعلیٰ طقبے سے تعلق رکھنے والے حکمران ایک غریب طالب علم کے مسائل کو کیسے سمجھیں گے؟

انہتائی مہنگے اور نفیس قسم کے نجی طیاروں پر سفر کرنے والے بس پر لٹک کر اسکول یا کالج جانے والے کا دکھ کیسے سمجھیں گے؟

ہماری تمام تر جمہوریت ملک کے تقریباً چار سو خاندانوں سے کیوں جُڑ کر رہ گئی ہے؟

آج جرمنی میں بیٹھا میں سوچ رہا ہوں کہ شاید کوئی امتیاز احمد آج بھی نوشہرہ ورکاں کی بس سے لٹک کر گوجرانوالہ گیا ہو اور یہ سوچ رہا ہو کہ کیوں بسوں پر لٹکنے والے بچے پارلیمان تک نہیں پہنچ پاتے؟

کیوں ایک کسان، ایک موچی، ایک حجام کا بیٹا پارلیمان میں نہیں پہنچ پاتا۔ کیوں ہماری قسمت کے فیصلے، ان بڑے لوگوں کے بیرون ملک پڑھنے والے بچوں نے ہی کرنے ہیں؟

سیاستدانوں، فوجیوں اور بیوروکریٹس کے بچوں کی بیرون ملک تعلیم بری چیز نہیں لیکن بہتر تعلیم کی سہولتیں چوبیس کروڑ عوام کے بچوں کے لیے کیوں نہیں ہیں؟

یہ جمہوریت دن رات محنت کرنے والے بچوں کے لیے کیوں نہیں ہے؟ جو بچے اسٹال لگا کر، محنت مزدوری کر کے، اتنا پڑھ لکھ رہے ہیں، وہ میٹرک پاس ایم پی ایز اور ایم این ایز کے سامنے کیوں ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہونے پر مجبور ہیں؟

یہ بڑے بڑے ٹھیکے، رقبوں کی تقسیم، کاروبار اور وسائل کی بندر بانٹ فوج اور جاگیردار سیاستدانوں کے ہی درمیان کیوں ہو رہی ہے؟

ٹیکس غریبوں پر ہی کیوں؟ یہ پاکستان کی اشرافیہ کب تک اپنی جنگ میں غریب عوام کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتے رہیں گے، کب تک؟

پتا نہیں مجھے کیوں لگتا ہے کہ پاکستان میں، جو غریب طلبہ آج بھی ایسا سوچ رہے ہیں، شاید وہ بھی چند برس بعد کسی یورپی ملک میں بیٹھے، خود غرضی کا لبادہ اوڑھے، یہی سوچ رہے ہوں کہ شکر ہے پاکستان سے نکل آئے تھے۔
1