Parent Guide
129 subscribers
26 photos
17 videos
56 links
بچوں کی تعلیم، تربیت، اور حفاظتی تدابیر پر مبنی مواد والدین کی رہنمائی کے لیے

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore
ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
واٹس ایپ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88UmR5Ui2eQdx2mk3B
Download Telegram
والدین کے مابین ناچاقی، بدکلامی یا مار پیٹ بچوں کی شخصیت پر ایسے زخم چھوڑ جاتے ہیں جو اس میں اعتماد کی کمی پیدا کرتے ہیں
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
باپ مر رہا ہے اور اعلی تعلیم یافتہ بیٹے باپ سے دستاویزات پر انگوٹھے کے لیے پرہشان ہیں ۔
مہنگے سکولوں کے لیے خود کو جتنا ہلکان کرلیں وہ سکول کالج روپے پیسوں نوکری کی مشین بنا کر دیں گے ، اخلاقیات ، حلال ، حرام ، کردار سازی کے متعلق ہمارا نظام تعلیم کچھ نہیں کرتا ۔
اسکے لیے آپ کو خود کرنا ہے اور بچپن سے بچوں کی کردار سازی پر دھیان دینا ہے
#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
اس چینل نے اس ویڈیو میں اچھی معلومات دی ہے البتہ یہ کہنا خطرہ باہر نہیں سو فیصد غلط ہے ۔ خطرہ باہر تو ہے ہی البتہ گھر میں بچے موبائل اور کمپیوٹر پر کیا دیکھ رہے اسے مانیٹر کرنا بھی ضروری ہے
https://www.facebook.com/share/v/1FGdY95bdD/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیلفیز کے جنون اور شوق نے بڑوں کی یہ حالت کردی ہے پھر وہ نسل جو ابھی بولنا اور چلنا شروع نہیں کرتی اور انکے ہاتھ میں موبائل تھمادیا جاتا ہے اور پھر چار پانچ سال کی عمر تک انہیں ایسی لت لگ جاتی ہے کہ موبائل کے بغیر ایک منٹ نہیں گزرتا وہ کیا کچھ کریں گے جوان ہوکر ؟
ذرا سوچیے ۔۔!!!!!

#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
*لاہور میں رانا بلال کے ہاتھوں اپنے ہی گھر والوں کے قتل کی وجہ پب جی یا آئس کا نشہ؟
*
بات ان کے گھر سے شروع ہوئی۔ انھوں نے پہلے اپنے سگے بڑے بھائی پر گولی چلائی اور پھر پستول کا رخ اپنی بھابی کی طرف موڑ دیا۔ ان دونوں کو بچانے کی خاطر جب ان کی والدہ اور بہن نے بیچ میں آنے کی کوشش کی تو رانا بلال نے ان پر بھی فائرنگ کر دی۔

اس کے بعد ان کی توجہ اپنے ملازم زید طارق کی طرف مبذول ہوئی جو اس دوران ان کو اپنے گھر والوں پر فائرنگ کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب رانا بلال نے پستول کا رخ ان کی طرف کیا تو زید نے بچنے کے لیے دوڑ لگا دی۔

جان بچانے کے لیے زید دوڑتے ہوئے ہمسائے کے گھر میں گھسے اور دوسری منزل پر ایک غسل خانے میں جا کر چھپ گئے۔ رانا بلال نے اطمینان کے ساتھ ان کا پیچھا کیا اور پستول ہاتھ میں تھامے ہمسائیوں کے گھر میں داخل ہو گئے۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ دوسری منزل پر غسل خانے کے سامنے تھے۔

لاہور کے اس علاقے نواں کوٹ کی سکندریہ کالونی میں گلیاں تنگ اور گھر زیادہ کشادہ نہیں ہیں۔ اس تمام کارروائی میں چند منٹ سے زیادہ کا وقت نہیں گزرا ہو گا۔
رانا بلال نے اپنے ملازم اور دوست زید طارق پر تین فائر کیے۔ پولیس کے مطابق ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ اس کے بعد کے لمحات کی ایک ویڈیو پولیس کے ہاتھ لگی جو کہ نیچے گلی میں نصب ایک سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہو گئی تھی۔

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جامنی رنگ کی ایک مغربی طرز کی ویسٹ کوٹ پہنے اور سر پر اسی رنگ کا ہیٹ لیے ایک شخص گلی میں نمودار ہوتا ہے۔ یہ رانا بلال تھے جو بظاہر کسی ویڈیو گیم کے کردار کی طرح لباس پہنے ہوئے تھے۔

انھوں نے انتہائی اطمینان سے مگر فلمی سے انداز میں پستول کو لوڈ کرنے کے ساتھ ہی اسے لہراتے ہوئے گلی کے سرے پر موجود لوگوں کی طرف رخ کر کے فائر کیا۔ اس کے بعد انھوں نے پستول سے گرنے والے کھوکھوں کو اٹھا کر جیب میں رکھا اور دوسری طرف چل پڑے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایس پی اقبال ٹاؤن اویس شفیق نے بتایا کہ ’ملزم کو پولیس نے مقامی افراد کی مدد سے قابو کیا اور تھانے منتقل کیا۔‘
رانا بلال کی بھابی اور بہن کی موقع پر موت ہو گئی تھی جبکہ ان کے بھائی اور والدہ کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے بھائی علی کامران بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ ان کے بھائی اور بہن دونوں کے دو دو بچے تھے۔

محلے والوں نے پولیس کو اطلاع دی تو قریب ہی واقع نواں کوٹ پولیس سٹیشن سے چند پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ اقبال ٹاؤن پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے رانا اقبال سے پستول چھینا اور اُنھیں قابو میں کیا۔

پولیس کے مطابق جب ملزم اپنے ملازم کو قتل کرنے کے بعد نیچے پہنچا اور فائرنگ کی تو اس کے پستول میں گولیاں ختم ہو گئیں۔ ’اس نے جسم پر ایک پٹہ پہن رکھا تھا جس میں سے وہ مزید گولیاں پستول میں بھرنے کی کوشش کر رہا تھا تو موقع پا کر پولیس نے اسے دبوچ لیا۔‘

تاہم اس کے فوراً بعد ہی وہاں موجود محلے داروں کے ہجوم نے رانا بلال کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ ان کے منھ سے خون آنا شروع ہو گیا اور ناک پر بھی ایک گہری چوٹ لگی جس سے خون بہنے لگا۔

’میں دنیا کا سپر سٹار تھا‘

پولیس نے انھیں ہجوم سے بچایا اور تھانے منتقل کیا۔ موقع پر رانا بلال سے پولیس نے جو سوال جواب کیے ان کی بھی ایک ویڈیو سامنے آئی۔ ایک پولیس اہلکار نے ان سے دریافت کیا کہ انھوں نے کیوں گولیاں چلائیں۔

رانا بلال نے جواب دیا کہ ’میں دنیا کا سپر سٹار تھا۔ میرے اکاؤنٹ میں کروڑوں پڑے تھے۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ میرے اکاؤنٹ کو مت چھیڑو لیکن انھوں نے میری بات نہیں مانی اور اسے بیچ دیا۔‘ وہ مشہور آن لائن گیم ’پب جی‘ کے حوالے سے بات کر رہے تھے جو وہ کچھ عرصے سے کھیل رہے تھے۔

پولیس کے مطابق انھوں نے کپڑے بھی اسی طرز کے پہن رکھے تھے جس طرح گیم کے اندر ان کا کردار پہنتا تھا۔ ان کے فائرنگ کرنے کے انداز سے بھی یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ جیسے وہ گیم کے اندر اپنے کردار کی نقل اتار رہے ہوں۔

پولیس اہلکار نے پھر ان سے پوچھا، ’تمہیں پتہ ہے تم نے کتنے لوگوں پر گولی چلائی ہے؟‘ ملزم نے زخمی حالت میں بھی انتہائی اطمینان کے ساتھ ایسے گننا شروع کیا جیسے ذہن پر زور دے کر یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ’ایک۔ دو۔ تین۔۔۔ چار لوگوں پر۔‘

اپنے گھر والوں پر گولیاں کیسے چلا لیں؟

پولیس کی تحویل میں ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے بتایا کہ وہ آئس کا نشہ کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ اس وقت بھی نشے کے زیرِ اثر تھا جب اس نے فائرنگ کر کے اپنے ہی گھر والوں کو قتل کیا۔
1
تفتیش کے دوران رانا بلال نے پولیس کو بتایا کہ حال ہی میں اُن کی بیوی نے ان سے طلاق لے لی تھی۔ انھیں لگتا تھا کہ ان کے گھر والوں نے ان کی اہلیہ کو ان کے خلاف اکسایا تھا۔ انھیں یہ بھی لگتا تھا کہ ان کے گھر والے ان کے ’پب جی‘ گیم کھیلنے کے بھی مخالف تھے اور انھیں کھیلنے سے روکتے تھے۔

اقبال ٹاؤن پولیس کے ترجمان کے مطابق ملزم آئس کا نشہ بھی اس لیے کرتا تھا کہ زیادہ دیر جاگ سکے اور پب جی زیادہ سے زیادہ کھیل سکے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے جو نشہ لے رکھا تھا اس کا اثر بعض اوقات چند گھنٹے تو بعض دفعہ ایک دو روز تک رہتا ہے۔
ملزم کون تھا؟

جس پستول سے رانا بلال نے فائرنگ کی تھی اس کا لائسنس بظاہر اُن کے پاس موجود تھا تاہم پولیس یہ جانچ پڑتال کر رہی ہے کہ کیا یہ لائسنس اصل ہے۔ رانا بلال کے پاس تین عدد مہنگے سمارٹ فون بھی موجود تھے۔ پولیس کے مطابق ان کا پہلے سے کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق ملزم ایک پارکنگ سٹینڈ پر پرچیاں بیچتا تھا جہاں اُس نے زید طارق کو ملازم رکھا ہوا تھا۔ نواں کوٹ تھانے میں درج مقدمے کی رپورٹ کے مطابق زید طارق اس روز رانا بلال سے پارکنگ کی پرچیاں لینے کے لیے ان کے گھر پہنچے تھے۔

بعد ازاں پولیس نے تفتیش کے دوران رانا بلال سے پوچھا کہ کیا اُنھیں معلوم ہے کہ اُنھوں نے اپنا گھر اجاڑ دیا ہے۔ ’تم نے اپنے بھائی، بھابھی اور بہن کو قتل کر دیا ہے۔‘ تو پولیس کے مطابق ملزم کا کہنا تھا کہ ’نہیں وہ سارے ٹھیک ہیں۔ انھیں کچھ نہیں ہوا۔‘

تو کیا واقعی پب جی گیم ملزم کے ذہن پر اثر انداز ہوا؟

لاہور میں یہ پہلا واقعہ نہیں جس میں قتل کی واردات کرنے والے افراد ’پب جی‘ گیم کے عادی پائے گئے، لیکن پب جی میں ایسا کیا ہوتا ہے جو کسی شخص کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ وہ اپنے ہی گھر والوں کو قتل کر دے؟

کیا یہ گیم کھلاڑیوں کی دماغی حالت کو اس حد تک متاثر کرسکتا ہے یا پھر یہ بھی دوسری ویڈیو گیمز کی طرح ایک لت یا عادت بن جاتا ہے؟ اگر صرف ایسا ہے تو کھیلنے والا قتل کرنے جیسی تحریک کہاں سے لیتا ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر رافعہ رفیق جامعہ پنجاب کے شعبہ اپلائیڈ سائیکالوجی کی ڈائریکٹر ہیں۔ اس واقعے کے حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ ان کے خیال میں یہ پب جی گیم سے زیادہ ’ڈرگ انڈیوسڈ سائیکوسس‘ کا معاملہ تھا جو ایک ایسی ذہنی حالت ہے جو نشے کے زیرِ اثر کسی شخص پر طاری ہوتی ہے۔

ڈرگ انڈیوسڈ سائیکوسس میں کسی نشہ آور شے کے بے حد استعمال کی وجہ سے مذکورہ شخص کو اپنے اردگرد موجود چیزیں اور حالات ایسے دکھائی دینے لگتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

’یہ شخص آئس نشہ لے رہا تھا اور یہ نشہ سائیکوسس جیسی حالت پیدا کرتا ہے۔ آئس لینے والے تقریباً ایک تہائی افراد اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

انھیں آوازیں آتی ہیں، چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں‘

ڈاکٹر رافعہ رفیق کے مطابق سائیکوسس کے شکار لوگ دوسرے لوگوں پر انتہائی درجے کا شک کرنا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ رانا بلال اپنے گھر والوں کے بارے میں کر رہے تھے کہ ان کے گھر والوں نے ان کی اہلیہ کو خلع لینے پر اکسایا ہے یا ان کے گیم سے اُن کے کوائن چوری کر لیے ہیں۔

’کئی چیزوں کے بارے میں ان کے خیالات اس نوعیت کے ہو جاتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اُنھیں وہ آوازیں آنی شروع ہو جاتی ہیں یا وہ چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں جو حقیقت میں وجود نہیں رکھتیں۔‘

ڈاکٹر رافعہ نے بتایا کہ آئس انسان کے جسم میں موجود ڈوپامائن ہارمون کی سطح کو ہزار گُنا بڑھا دیتا ہے۔ ڈوپامائن وہ مادہ ہے جو جسم پیدا کرتا ہے اور دماغ اسے جسم کے مختلف حصوں کو پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

’اسے شک ہو گیا، اس نے سب کو ختم کر دیا‘

جب ڈوپامائن کی سطح اس قدر بڑھ جائے تو اس شخص کا دماغ ضرورت سے کہیں زیادہ الرٹ ہو جاتا ہے۔ آئس کا اثر دو سے تین گھنٹے تک رہتا ہے تاہم اس کی علامات کئی روز تک رہ سکتی ہیں۔ جو لوگ پہلے ہی سے شیزوفرینیا جیسی کسی بیماری کے شکار ہوں تو اُن میں اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر رافعہ کے مطابق ’یہ واضح طور پر ڈرگ انڈیوسڈ سائیکوسس کا کیس ہے جس میں وہ اپنے گھر والوں کے حوالے سے مشکوک ہو گئے اور پھر اُنھوں نے سب کو ختم کر دیا۔‘

تو پھر ملزم رانا بلال نے اپنا حلیہ گیم کے کردار کی طرح کیوں بنا رکھا تھا اور وہ اسی قسم کی حرکات کیوں کر رہے تھے جو اُن کے گیم کا کردار کرتا ہو گا؟

’فرضی دنیا میں وہ خود کو گیم کا کردار سمجھ رہےتھے‘

ڈاکٹر رافعہ اس کی وضاحت کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ آئس کے نشے کے زیرِ اثر سائیکوسس کا شکار ہونے والا شخص حقیقی دنیا سے کٹ جاتا ہے اور ایک فرضی دنیا میں رہ رہا ہوتا ہے۔
’ایسی حالت میں وہ خود کو اسی گیم کا کردار سمجھ رہا ہوتا ہے کیونکہ اس کا حقیقی دنیا سے تعلق ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ فریب جیسی اس حالت میں وہ خود کو اس کردار میں اس قدر ڈھال لیتا ہے کہ ویسی ہی حرکات کرنی شروع کر دیتا ہے۔‘

یہی وجہ تھی کہ ملزم نے پستول اٹھا کر لوگوں پر گولیاں چلانی شروع کر دیں، بالکل ویسے ہی جیسے گیم کے اندر ان کا کردار کرتا ہو گا۔ ڈاکٹر رافعہ رفیق کے مطابق جزوی طور پر گیم بھی دماغ کے ان حصوں کو تحریک دیتا ہے جو ویسے نشے سے متحرک ہوتے ہیں۔

’اس میں کئی پہلو کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک تو گیمنگ از خود ایک نشہ ہے اور اس کے اوپر سے آئس کا نشہ صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیتا ہے۔‘

کیا سائیکوسس کی طرف مائل شخص علامات ظاہر کرتا ہے؟

ڈاکٹر رافعہ رفیق کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو فوری طور پر علاج اور ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلے اُنھیں دوسروں سے الگ کر کے ان کی نشے کی لٹ کو چھڑوانا ضروری ہوتا ہے اور ساتھ ہی ان کی دماغی حالت کا علاج بھی کرنا پڑتا ہے۔

’ایسے لوگ دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنے لیے بھی خطرہ ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار وہ اپنی جان بھی لے سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر رافعہ کے مطابق جب کوئی شخص اس قسم کے سائیکوسس کی طرف جا رہا ہو تو اس کی چند نشانیاں نظر آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ گھر والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی روز مرّہ کی زندگی پر نظر رکھیں اور ہوشیار رہیں کہ وہ نشے کی طرف تو نہیں جا رہے۔

’اگر وہ دیکھیں کہ ان کا بچہ گھر والوں اور دوستوں سے تعلق کھو رہا ہے، جب وہ اپنی خیالی یا فرضی دنیا میں رہنا شروع کر دے (تو اُنھیں خبردار ہوجانا چاہیے)۔ ایسے افراد کے سونے اور جاگنے کے اوقات میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ اسی طرح ان کی خوراک میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں اور روز مرّہ زندگی میں ان کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔‘

ایسے افراد کی مدد کب اور کیسے کی جا سکتی ہے؟

ڈاکٹر رافعہ کا کہنا تھا کہ ایسی علامات جس شخص میں نظر آئیں تو اسے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ انھیں قید میں رکھ کر جلد از جلد ان کو مدد فراہم کی جائے جس کا انتظام کسی ہسپتال کے سائیکیٹری وارڈ میں بھی کیا جا سکتا ہے یا کسی مخصوص ہسپتال میں بھی انھیں بھیجا جا سکتا ہے۔

’ایسے افراد کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اُنھیں مخصوص ہسپتال یا وارڈ میں داخل کر کے فوری طور پر سائیکوسس کا علاج شروع کیا جائے۔ انھیں ادویات دی جاتی ہیں اور تب تک اُنھیں قید میں رکھا جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر رافعہ رفیق کے مطابق ایسا کرنا اس لیے بھی جلد ضروری ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد خود کو یا کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔

https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بچوں کو سبزیاں اگانا ضرور سکھائیں اور اس قابلیت کو ڈگری کی طرح اہمیت دیں
Economic Future of our children
#ERDC #SalmanAsifSiddiqui
#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
1
جب توجہ ملتی ہے تو راستے کھلتے ہیں:

ایک مخلص معلم کے احساس کی کہانی :

آپ نے بارشوں کے موسم میں ضرور یہ منظر دیکھا ہوگا کہ کسی سڑک، کسی پل یا چوراہے پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔ وہاں سے گزرنے والے سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے پانی کا بہاؤ رُک گیا ہے۔

پھر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی صفائی کرنے والا، یا کوئی دردِ دل رکھنے والا انسان آتا ہے۔ وہ اس پانی کے قریب جا کر کچھ دیر ٹھہرتا ہے، غور کرتا ہے، اور پانی کی نکاسی کا راستہ تلاش کرتا ہے۔ جب وہ راستہ ملتا ہے، تو وہاں جمع کچرا ہٹا دیتا ہے۔ اور پھر وہی پانی جو رُکا ہوا تھا، آہستہ آہستہ بہنا شروع ہوجاتا ہے، اور سڑک صاف ہو جاتی ہے۔

یہی مثال ہمیں اپنے تعلیمی اداروں، بالخصوص حفظ کی کلاسوں میں بھی نظر آتی ہے۔

کبھی کبھار ایک طالب علم بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔
نہ سبق سناتا ہے، نہ منزل یاد ہوتی ہے۔
کئی دن، بلکہ مہینے گزرتے ہیں اور اس کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آتی۔
یہاں تک کہ سالوں بیت جاتے ہیں، اور حفظ مکمل نہیں ہو پاتا۔

لیکن اگر اسی موقع پر کوئی مخلص معلم، درد دل رکھنے والا استاد، تھوڑی سی توجہ دے، ذرا سا وقت نکالے، غور و فکر کرے، کسی تجربہ کار استاد سے مشورہ کرے، اس طالب علم کی ہمت بندھائے، اس کے لیے سبق اور منزل کی مقدار کم کرے، سبق کو چھوٹے حصوں میں سنے، اور نماز کے بعد اس کا نام لے کر دعا کرے...

تو ان شاءاللہ وہی طالب علم جو برسوں سے رُکا ہوا تھا، آہستہ آہستہ رواں ہو جاتا ہے۔
یقیناً اللہ کی مدد شامل ہو تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

اکثر صرف ایک چھوٹا سا مسئلہ ہوتا ہے، جسے نہ ہم دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، نہ سمجھنے کی، اور نہ ہی کسی سے مشورہ لیتے ہیں۔
اور یہی غفلت کئی طلبہ کو سالوں تک منزل سے دور رکھ دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایک حساس، سمجھدار اور مخلص معلم بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔

ابو عکراش
معیاری قرآنی تعلیم و تربیت
#توجہ #مخلص #کمزور #حفظ #استاذ

#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
1
Parent Guide
Photo
آج کے دور میں بچے اپنے فارغ وقت کا بڑا حصہ موبائل فون اور ٹیبلٹ کی اسکرین پر گزارتے ہیں۔ جو ویڈیوز، گانے، ڈرامے یا و لاگز وہ دیکھتے ہیں، وہی ان کی سوچ اور عادات کو تشکیل دیتے ہیں۔ بچپن میں سیکھی اور دیکھی ہوئی باتیں دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہیں، اس لیے اگر ایک بچہ مثبت اور تعلیمی مواد دیکھے گا تو اس کی دلچسپی علم اور اخلاقیات کی طرف بڑھے گی، لیکن اگر کانٹنٹ فضول مزاح یا منفی رویوں پر مبنی ہو تو بچہ انہی عادات کو اپنا لے گا۔ بچے اپنے پسندیدہ یوٹیوبرز یا ہیروز کی نقل کرتے ہیں، ان کا لہجہ، زبان اور رویہ سیکھتے ہیں، اور بڑے ہو کر وہی ان کے کردار کا حصہ بن جاتا ہے۔ صرف بچے ہی نہیں بلکہ والدین جو کانٹنٹ دیکھتے ہیں اس کا اثر بھی بچوں پر پڑتا ہے، کیونکہ بچے والدین کے طرزِ گفتگو، دلچسپیوں اور رویوں کی نقل کرتے ہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف بچوں کے دیکھنے والے مواد پر نظر رکھیں بلکہ اپنے لیے بھی مثبت اور تعلیمی کانٹنٹ کو ترجیح دیں، تاکہ بچے ایک صحت مند ماحول میں پرورش پائیں۔ بچوں کی آج کی اسکرین ہی ان کی کل کی شخصیت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بہتر انسان اور باشعور شہری بنیں تو ہمیں آج ہی اپنے اور ان کے سوشل میڈیا کانٹنٹ کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ کَفَرُوۡا كَمَثَلِ الَّذِىۡ يَنۡعِقُ بِمَا لَا يَسۡمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّنِدَآءً ؕ صُمٌّۢ بُكۡمٌ عُمۡـىٌ فَهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:
اور جن لوگوں نے کفر کو اپنا لیا ہے ان (کو حق کی دعوت دینے) کی مثال کچھ ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان (جانوروں) کو زور زور سے بلائے جو ہانک پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے۔ یہ بہرے، گونگے اندھے ہیں، لہذا کچھ نہیں سمجھتے۔

The example of (calling) those who disbelieve is such as someone is shouting at an animal that hears nothing but a call and cry. They are deaf, dumb and blind, so they do not understand

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 171
کراچی کے علاقے لانڈھی میں 6 روز سے لاپتا 7 سالہ سعد کی لاش کچرا کنڈی سے مل گئی، پولیس نے 2 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا، پولیس سرجن کے مطابق پوسٹ مارٹم میں زیادتی کے شواہد ملے ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق لانڈھی کا رہائشی 7 سالہ سعد علی 18 ستمبر کو گھر سے چیز لینے کے لیے نکلا تھا اور اس کے بعد واپس نہیں آیا، اہل خانہ نے بچے کو بہت تلاش کیا، اور گمشدگی کا مقدمہ بھی درج کرایا۔
https://www.dawnnews.tv/news/1269860

یہ اکا دکا واقعات نہیں ہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں ہیں اور تسلسل سے ہورہے ہیں اسکے باوجود والدین کی جانب سے لاپرواہی ؟
شاید اسلیے بھی کہ ہم سب اپنے اطراف سے بےخبر اپنی زندگیوں میں مگن ہیں۔

#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
⁉️ اکثر اوقات والدین سوالات پوچھتے ہیں کہ ہمارا بچہ بالکل پڑھنے والا نہیں اور جب بھی اسکول سے آتا ہے تو بیگ پھینک دیتا ہے اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل کود یا کمپیوٹر گیمز میں مگن ہو جاتا ہے حتی اسے ہوم ورک بھی بار بار کہنے کے بعد پاس بٹھا کر کروانا پڑتا ہے۔ کیا آپ اس مشکل کے حل کے لیے راہنمائی کر سکتے ہیں؟

📷 بچوں کو مطالعے کا عادی بنانے کے یہ 7 راہ حل مفید ہو سکتے ہیں۔

1️⃣ آہستہ آہستہ عادی بنائیے
ہر روز مثلا سونے سے پہلے اپنے بچے کے لیے کسی کہانی وغیرہ کی کتاب پڑھیں تاکہ اس کا ذہن آہستہ آہستہ کتاب پڑھنے کی طرف مائل ہو۔

2️⃣ لائبریری یا بک ڈپو پر لے جائیے
بچوں کا ایسی جگہ جانا جہاں بہت زیادہ لوگ کتاب کے مطالعہ میں مگن ہوں یا کتاب خریدنے میں مصروف ہوں، یہ کام ان میں کتاب پڑھنے کے شوق میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

3️⃣ مطالعہ کا ماحول بنائیں
گھر میں ایسا ماحول بنایا جائے جس میں بچہ آرام و سکون سے مطالعہ کر سکے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب والدین گھر کا ایک حصہ مطالعے کے لیے مخصوص کر دیں یا کوئی وقت مخصوص کریں جس میں گھر کے اکثر افراد مطالعہ میں مصروف ہوں اور کسی نہ کسی موضوع پر تبادلہ خیال کریں۔

4️⃣ بچوں کے سامنے پڑھیں
والدین محترم! ایسی جگہ کا انتخاب کریں جس میں بچے آپ کو دیکھ رہے ہوں کیونکہ بچے بہت سی چیزیں والدین کو دیکھ کر انجام دیکھتے ہیں۔ اسی لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ اگر پڑھ رہے ہوں تو چھوٹا بچہ خود ہی اپنا بیگ اٹھا کر آپ کے پاس آ جاتاہے اور ڈرائنگ یا ہوم ورک کرنے میں لگ جاتا ہے۔

5️⃣ بچوں کو انتخاب کا موقع دیں
بچوں کو موقع دیں کہ وہ خود بک ڈپو سے کتاب خریدیں یا لائبریری میں جائیں اور کتابیں دیکھیں۔ ایسا اس لیے کہ بچے جو کتاب خود خریدتے ہیں پھر وہ اسے شوق سے پڑھتے بھی ہیں۔ جیسے اپنی پسند کی پینٹ یا شرٹ لیں تو وہ بار بار اسی کو پہننے کا اسرار کرتے ہیں۔ کتاب خوانی میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے۔

6️⃣ پسندیدہ کتب کا دوبارہ مطالعہ کیجیے
ممکن ہے بار بار ایک کہانی کی کتاب کا پڑھنا آپ کے لیے تھکاوٹ اور بورنگ کا باعث بنے لیکن بچوں کے لیے ایسا نہیں ہے۔ بچے چاہتے ہیں کہ جو کہانی ان کو پسند آئی تھی اس کو بار بار سنیں، پڑھیں اور اس کی تصاویر کو دیکھیں۔

7️⃣ مطالعے کی مہارت سیکھیں
آپ ایک استاد نہیں لیکن اپنے بچوں کے آپ پہلے استاد ہیں کیونکہ بچہ بہت سی چیزیں والدین سے سیکھتا ہے لہذا کتاب کو کیسے پڑھا جائے اس کے مفاہیم کیسے بچوں میں باآسانی منتقل کیے جائیں، آپ کا یہ کام بچوں میں مزید شوق پیدا کرے گا اور وہ بھی چاہیں گے زیادہ سے زیادہ زندگی میں مطالعہ کریں اور ایک معاشرے میں کامیاب انسان کی حثییت سے پہچانے جائیں۔

✍🏻 بشکریہ : تہذیب زندگی

#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
بچوں کا موازنہ ، دوسرے بچوں اور خاندان کے دوسرے افراد کی موجودگی میں موازنہ کرنا ۔۔۔۔ بچوں کی شخصیت کے لیے برا ہے انکی عزت نفس مجروح ہوتی ہے
https://www.facebook.com/share/r/1Ajme6DhTC/
"اپنی اولاد کی پرستش نہ کریں"

کینیڈا کے معروف ماہر نفسیات پروفیسر جارڈن پیٹرسن کا کہنا ہے:
“اپنی اولاد کی پرستش نہ کریں، بلکہ ان کی پرورش ایک ذمہ دار اور متوازن شخصیت کے طور پر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کا حد سے زیادہ لاڈ پیار انہیں نرگسیت (Narcissism) کا شکار بنا دے۔”

بچوں کی تربیت میں والدین کی ذمہ داریاں
بچہ جب غلطی کرے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ غلط رویے پر ٹوکنا اور اصلاح کرنا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
صرف محبت اور تعریفیں ہی دینا کافی نہیں، بلکہ حدود اور اصول بھی سکھانا لازمی ہے۔
ایک کامیاب پرورش وہی ہے جہاں بچہ نہ تو خوف کا شکار ہو اور نہ ہی حد سے زیادہ بگڑ جائے۔
کیوں ضروری ہے متوازن تربیت؟

پروفیسر پیٹرسن کے مطابق:
اگر والدین بچے کو صرف مرکزِ کائنات بنا دیں، تو بچہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر چیز اس کی خواہش کے مطابق ہونی چاہیے۔
یہ رویہ آگے چل کر خود غرضی، بدتمیزی اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کی عادت پیدا کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس، ایک متوازن تربیت بچے کو نہ صرف ذمہ دار انسان بناتی ہے بلکہ وہ معاشرے کا مثبت فرد بھی بنتا ہے۔

عملی نکات والدین کے لیے:
1. بچے کو محبت دیں مگر اصولوں کے ساتھ۔
2. غلطی پر پیار سے سمجھائیں اور ضرورت پڑے تو سختی بھی کریں۔
3. بچے کو دوسروں کی عزت کرنا سکھائیں۔
4. محنت اور صبر کی اہمیت بتائیں، تاکہ وہ حقیقی دنیا میں کامیاب ہو سکے۔

💡 یاد رکھیں:
بچے کو نکھارنا صرف اس کی خوشی کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کی بھلائی کے لیے بھی ضروری ہے۔ ایک ذمہ دار اور متوازن بچہ کل کو ایک اچھا شہری، والدین، اور لیڈر بن سکتا ہے۔

#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
جنھوں نے اپنے والد کومشکلات کا سامنا دلیری سے کرتے دیکھا ہو،وہ لوگ کبھی طوفانوں سے گھبراتے نہیں ہیں۔

#ParentGuide
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ریٹنگ اور ویوز کے لیے کچھ بھی ؟

#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
Parent Guide
ریٹنگ اور ویوز کے لیے کچھ بھی ؟ #ParentGuide ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q فیسبک پیج https://www.facebook.com/parentguidenmore ٹیلی گرام https://t.me/parentguide
ٹی وی پر یہ دل چیر دینے والا منظر لاکھوں نے دیکھا۔ پیسہ ، ریٹنگ ، شہرت کس قدر مکروہ لگتی ہیں جب یہ کسی کے دکھ کرید کر حاصل کی جائیں ،, اور یہ کام اس بچے کے والدین اور ARY کے اینکرز کر رہے ہیں ، وجہ ؟ پیسہ ، شہرت !
ہمارے ہاں جب کوئی مرگ ہو جائے ، کسی بچے کا باپ ، ماں یا بہن بھائی چلا جائے تو کوشش کی جاتی ہے جانے والے کا بچے کے سامنے ذکر نہ ہو ، اس کا دھیان بٹا رہے کہ بچے کا مزاج اور طبیعت ایسی ہے کہ وہ کھیل کود میں مصروف ہو جائے تو غم بھول جاتا ہے ۔ لیکن ان گدھ نما ہوسٹس اور چینل کا کیا کیجے جو نفسیات سے کھیلتے ہیں ۔
اے آر وائے کی سلور جوبلی پر احمد شاہ کو اسٹیج پر بلا کر ہچکیوں سے رلایا گیا ، والدین نے اجازت کیوں دی ؟ ڈیڑھ سال پہلے ان کی بچی فوت پوئی جو محض تین ماہ کی پروگرام میں لائی گئی ، پھر عمر چلا گیا مگر ٹی وی پر بچے لانے کا شوق اب بھی برقرار ہے ، ماموں سارے کام دھندے چھوڑ کے بچوں کو میڈیا سٹار بنانے پر جتا ہوا ہے ۔
سوچیے یہ بچہ کس ٹراما سے گزرا ہوگا جب مائیک سامنے کرکے پوچھا گیا ,, بھائی یاد آتا ہے ؟ ،،
فہد مصطفیٰ ، وسیم بادامی اور سلمان اقبال چاہیں گے کہ ان کے بچوں کو قریبی رشتے کے بچھڑنے پر اسٹیج پر بلا کر پوچھا جائے ,, کیا فیل کر رہے ہو ، کچھ کہنا چاہو گے ؟؟ ،،
اور میں اس پوسٹ کے توسط سے احمد اور ابوبکر کے والدین سے کہنا چاہوں گی خدا کے لیے اب تو ان بچوں کو میڈیا کی چکا چوند سے دور کردیں ۔ ان کی پڑھائی ، مستقبل ، تربیت اور حفاظت پر توجہ دیں ۔ یہ جیتے جاگتے معصوم بچے ہیں ۔۔۔لوگوں کی انٹرٹینمنٹ نہیں ۔

Asifa Ambreen Qazi


#ParentGuide

ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide
نہیں وہ بس ڈرامہ دیکھ رہی ہے۔۔۔۔۔
بچے گیم ہی تو کھیل رہے ہیں۔۔۔
ارے وہ اپنا اسائنمنٹ کر رہی یے۔۔۔۔
پورا دن ہوگیا ہے دیکھنے دیں بچے ہیں وہ نہیں دیکھیں گے مووی تو کیا ہم دیکھیں گے۔۔۔۔۔

کچھ اسی طرح کے جملے سننے کو ملتے ہیں جب کوئی گھر میں موجود بچوں کو موبائل یا کمپیوٹر کے بےجا استعمال پر ٹوکتا ہے۔۔۔۔
منع کرنے والا، سمجھانے والا برا بن جاتا یے۔
بچوں کو کھیل کود یا انٹرٹینمنٹ کے لیے موبائل یا لیپ ٹاپ دے دینا اب ایک معمولی سے بات یے۔ اکثر کے پاس پڑھائی کا بہانہ بھی یے۔۔۔۔
ارے بھئی وہ کام کر رہی ہے یا وہ گیم کھیل رہا ہے۔۔۔۔ اس جملے کا مزہ اس وقت آتا یے جب بچے اچانک بڑے ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں۔۔۔۔
اور یہ اچانک اچانک نہیں آتا یہ آہستہ آہستہ ہوتا یے۔۔۔
بچوں اور بچیوں کے رویوں میں تبدیلیاں آرہی ہوتی ہیں مگر نظر انداز کر دی جاتی ہیں کیوں کہ امی جان کو لگتا ہے کہ یہ سب تو سب کرتے ہیں، جب سب کے بچوں کے پاس ہے فون یا علیحدہ علیحدہ کمپیوٹر تو میرے بچے کے پاس کیوں نہیں؟؟
اور کیا اب میں اپنے بچوں پر شک کروں؟۔۔۔۔
بچوں پر شک کریں یا نہ کریں مگر اپنے دماغی توازن پر ضرور شک کریں۔۔۔۔
کیوں کہ انسان اگر جان بوجھ کر آگ کا شعلہ اپنے بچے کے ہاتھ پر رکھ دے تو لوگ اسے کیا کہیں گے؟
پاگل یا ظالم ؟
جب والد بچوں کو اکیلے بیٹھ کر فلمیں ڈرامیں دیکھنے سے منع کریں جب والد منع کریں کہ سوشل میڈیا پر آئی ڈی نہ بناو، جب والد منع کریں کہ بچوں کو اکیلے بیٹھ کر موبائل نہ دیکھنے دو تو بچوں کے والد کی بات مان لیا کریں۔۔۔۔
گھر میں جب کوئی ٹوکتا ہے خواتین فورا defensive ہوجاتی ہیں کہ میرے ہی بچے کو کیوں کہتے ہیں۔۔۔
جو آپ کے بچے سے محبت کرے گا وہ اسے ضرور روکے گا شکر ادا کریں کہ کوئی منع کرنے والا موجود ہے۔۔۔۔
یہ تنہائی کی unsupervised دنیا آپ کے بچے کو کسی اور دیس کا باسی بنا دیں گی اور آپ ہاتھ ملتی رہے جائیں گی۔۔۔۔
سمجھدار بنیں۔۔۔
شعور و فہم سے سوچیں۔۔۔
نسلیں آپ کے رحم و کرم پر ہیں ۔۔۔۔

فیض عالم

#ParentGuide
#mobile #unsupervised #KnowledgeWithBarakah #tarbiyah #socialmedia #mindset


ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q

فیسبک پیج
https://www.facebook.com/parentguidenmore

ٹیلی گرام
https://t.me/parentguide