This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اے آئی ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کرنا اب محفوظ نہیں رہا۔ والدین نے یہ خود بھی سمجھنا اور بچوں کو بھی شعور دینا ہے کہ ائندہ آنے والے وقتوں میں یہ کسی کے لیے بھی کتنے مسائل ، پریشانیوں اور مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q
❤2
کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی اسکینڈل، شربت فروش کا 100 بچیوں سے زیادتی کا انکشاف
ملزم نے بچوں کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بھی بنائیں، ڈائری میں انکے نام بھی لکھتا تھا، پولیس
شاہزیب حسین
کراچی کے علاقے قیوم آباد میں بچیوں سے زیادتی کے کیس میں ملزم نے دوران تفتیش انکشافات کیے ہیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں کم عمر بچوں سے مبینہ زیادتی کیس میں پولیس نے ملزم سے تفتیش سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی، ملزم کے خلاف درج مقدمے میں چائلڈ پورنوگرافی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس نے بچیوں اور بچوں سے زیادتی کرنے والے سفاک ملزم کی انٹیروگیشن رپورٹ سامنے آگئی۔ ملزم کے قبضے سے بچوں سے زیادتی کی دوسو سے زائد وڈیوز بھی برآمد کرلی گئیں۔
پولیس کےمطابق ایبٹ آباد کے رہائشی گرفتار ملزم شبیر نے زیادتی کا نشانہ بنانے والے 5 سے 12 سال کے بچوں اور بچیوں کے ناموں کی لسٹ بنا کر رکھی تھی۔
پولیس کی تفتیش کےمطابق ملزم دوہزار گیارہ میں کراچی آیا اور قیوم آباد میں پرچون کی دکان کھولی جہاں پر اسٹیشنری کا سامان رکھا اکثر چھوٹی بچیاں دکان پر آتیں جنہیں وہ رقم کا جھانسہ دے کر گھر لے جاتا
رپورٹ کے مطابق ملزم 2016 میں قیوم آباد منتقل ہوگیا اور شربت کا ٹھیلا لگا لیا،ملزم پانچ سے بارہ سال کے کم عمر بچوں سے بدفعلی بھی کرتا رہا اور ٹھیلے پر آنے والے بچوں کو انعام کا لالچ دے کر بدفعلی کا نشانہ بناتا رہا۔
رپورٹ کے مطابق ملزم نے ڈائری میں بچے اور بچیوں کی تفصیل لکھ رکھی تھی، موبائل سے 100 یو ایس بی سے 200 سے زائد ویڈیوز ملیں، ایک بچی ملزم کی یو ایس بی موبائل شاپ پر لے گئی جس کے بعد ملزم کا بھانڈا پھوٹ گیا۔
عدالت نے ملزم شبیر احمد کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
https://www.aaj.tv/news/30482000/
ملزم نے بچوں کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بھی بنائیں، ڈائری میں انکے نام بھی لکھتا تھا، پولیس
شاہزیب حسین
کراچی کے علاقے قیوم آباد میں بچیوں سے زیادتی کے کیس میں ملزم نے دوران تفتیش انکشافات کیے ہیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں کم عمر بچوں سے مبینہ زیادتی کیس میں پولیس نے ملزم سے تفتیش سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی، ملزم کے خلاف درج مقدمے میں چائلڈ پورنوگرافی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس نے بچیوں اور بچوں سے زیادتی کرنے والے سفاک ملزم کی انٹیروگیشن رپورٹ سامنے آگئی۔ ملزم کے قبضے سے بچوں سے زیادتی کی دوسو سے زائد وڈیوز بھی برآمد کرلی گئیں۔
پولیس کےمطابق ایبٹ آباد کے رہائشی گرفتار ملزم شبیر نے زیادتی کا نشانہ بنانے والے 5 سے 12 سال کے بچوں اور بچیوں کے ناموں کی لسٹ بنا کر رکھی تھی۔
پولیس کی تفتیش کےمطابق ملزم دوہزار گیارہ میں کراچی آیا اور قیوم آباد میں پرچون کی دکان کھولی جہاں پر اسٹیشنری کا سامان رکھا اکثر چھوٹی بچیاں دکان پر آتیں جنہیں وہ رقم کا جھانسہ دے کر گھر لے جاتا
رپورٹ کے مطابق ملزم 2016 میں قیوم آباد منتقل ہوگیا اور شربت کا ٹھیلا لگا لیا،ملزم پانچ سے بارہ سال کے کم عمر بچوں سے بدفعلی بھی کرتا رہا اور ٹھیلے پر آنے والے بچوں کو انعام کا لالچ دے کر بدفعلی کا نشانہ بناتا رہا۔
رپورٹ کے مطابق ملزم نے ڈائری میں بچے اور بچیوں کی تفصیل لکھ رکھی تھی، موبائل سے 100 یو ایس بی سے 200 سے زائد ویڈیوز ملیں، ایک بچی ملزم کی یو ایس بی موبائل شاپ پر لے گئی جس کے بعد ملزم کا بھانڈا پھوٹ گیا۔
عدالت نے ملزم شبیر احمد کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
https://www.aaj.tv/news/30482000/
Aaj TV
کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی اسکینڈل، شربت فروش کا 100 بچیوں سے زیادتی کا انکشاف
ملزم نے بچوں کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بھی بنائیں، ڈائری میں انکے نام بھی لکھتا تھا، پولیس
بچوں کی اصلاح کا سہل طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے بچے کی پورے طور پر تربیت کر دی جائے , پھر سارے بچے اس جیسے اٹھیں گے ۔ جیسے کام کرتا ہوا اسکو دیکھیں گے ، اگلے بچے (یعنی اسکے چھوٹے بہن بھائی) بھی وہی کام کریں گے اور اسکی عادتیں اور خصلتیں سیکھ لیں گے ۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ماں کی گود بچے کے لئے پہلی درسگاہ ہے بچے کی ابتدائی تربیت کی ذمہ داری ماں پر عائد ہوتی ہے ماں کو چاہئے کہ وہ بچے کے حافظے میں حلال و حرام او جائز و ناجائز کے الفاظ راسخ کر دے اور اس کا ذہنی رابطہ اسلامی تاریخ کے ساتھ جوڑ دے ۔
ماں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو دیو ‘ بھوت‘ پریوں‘ جنات‘ ٹارزن اور کتے بلیوں کی کہانیوں کے بجائے انبیاء کرام علیھم السلام ‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ‘ اولیا کرام اور اسلامی تاریخ کے مجاہدوں‘ غازیوں اور شہیدوں کے واقعات سنائے۔
انہیں حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کی قربانی کے متعلق بتائیے‘ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ سنائیے‘ حضرت بلالرضی اللہ عنہ کی مظلومیت کا احوال بیان کیجئے‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عدالت کا تذکرہ کیجئے ‘ بدر واحد اور خندق و حنین کی تفصیلات سے انہیں آگاہ کیجئے‘ ان کے سامنے فتح مکہ کا نظارہ پیش کیجئے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’ہم اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے غزوات اور جنگیں اسی طرح یاد کراتے تھے جس طرح انہیں قرآن کریم کی سورتیں یاد کراتے تھے۔‘‘
ممکن ہے کہ یہ تاریخی واقعات ایک دوبار سنا نے سے ان کو ذہن نشین نہ ہوں لیکن بار بار دہرانے سے ان واقعات کی کچھ نہ کچھ جزئیات ضرور ان کے ذہنوں میں بیٹھ جائیں گی اور کچھ نہیں تو کم از کم ان عظیم شخصیات کے نام تو ان کو یاد ہو ہی جائیں گے۔
ہمارے لئے انتہائی غیرت کا مقام ہے کہ مسلمان گھرانوں میں پرورش پانے والے بچوں کو فلمی ایکٹروں اور ایکٹرسوں اورگلو کاروں کے نام تو یاد ہیں لیکن انہیں صحابہ اور صحابیات‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات‘ اسلامی تاریخ کے مجاہدوں‘ جانثاروں اور ہمارے حقیقی محسنوں کے نام یاد نہیں‘ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو فلموں کے ڈائیلاگ ڈراموں کے مکالمے اور پوری پوری کہانیاں ازبر ہیں لیکن اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات سے انہیں دور کی آشنائی بھی نہیں ہے۔
اقتباس ؛ اولاد کی تربیت کیسے کریں؟
تالیف: محمد ریاض جمیل
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کرنا نہ بھولیں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q
ماں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو دیو ‘ بھوت‘ پریوں‘ جنات‘ ٹارزن اور کتے بلیوں کی کہانیوں کے بجائے انبیاء کرام علیھم السلام ‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ‘ اولیا کرام اور اسلامی تاریخ کے مجاہدوں‘ غازیوں اور شہیدوں کے واقعات سنائے۔
انہیں حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کی قربانی کے متعلق بتائیے‘ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ سنائیے‘ حضرت بلالرضی اللہ عنہ کی مظلومیت کا احوال بیان کیجئے‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عدالت کا تذکرہ کیجئے ‘ بدر واحد اور خندق و حنین کی تفصیلات سے انہیں آگاہ کیجئے‘ ان کے سامنے فتح مکہ کا نظارہ پیش کیجئے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’ہم اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے غزوات اور جنگیں اسی طرح یاد کراتے تھے جس طرح انہیں قرآن کریم کی سورتیں یاد کراتے تھے۔‘‘
ممکن ہے کہ یہ تاریخی واقعات ایک دوبار سنا نے سے ان کو ذہن نشین نہ ہوں لیکن بار بار دہرانے سے ان واقعات کی کچھ نہ کچھ جزئیات ضرور ان کے ذہنوں میں بیٹھ جائیں گی اور کچھ نہیں تو کم از کم ان عظیم شخصیات کے نام تو ان کو یاد ہو ہی جائیں گے۔
ہمارے لئے انتہائی غیرت کا مقام ہے کہ مسلمان گھرانوں میں پرورش پانے والے بچوں کو فلمی ایکٹروں اور ایکٹرسوں اورگلو کاروں کے نام تو یاد ہیں لیکن انہیں صحابہ اور صحابیات‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات‘ اسلامی تاریخ کے مجاہدوں‘ جانثاروں اور ہمارے حقیقی محسنوں کے نام یاد نہیں‘ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو فلموں کے ڈائیلاگ ڈراموں کے مکالمے اور پوری پوری کہانیاں ازبر ہیں لیکن اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات سے انہیں دور کی آشنائی بھی نہیں ہے۔
اقتباس ؛ اولاد کی تربیت کیسے کریں؟
تالیف: محمد ریاض جمیل
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کرنا نہ بھولیں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q
WhatsApp.com
Parents Guide | WhatsApp Channel
Parents Guide WhatsApp Channel. بچوں کی تعلیم، تربیت، اور حفاظتی تدابیر پر مبنی مواد والدین کی رہنمائی کے لیے
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL
ٹیلی گرام…
https://whatsapp.com/channel/0029Vb73UNACnA7sY9fGLb1q
فیسبک پیج
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579821277198&mibextid=ZbWKwL
ٹیلی گرام…
