This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں شیخ ایک انتہائی اہم روحانی نکتہ بیان کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی انسان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے، تو اسے چاہیے کہ فوراً اس کے بعد صدقہ کرے، چاہے وہ معمولی مقدار میں ہی کیوں نہ ہو۔
اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نشان پڑ جاتا ہے۔ اس گناہ کا ایک برا اثر (نحوست) یہ ہوتا ہے کہ یہ انسان کو نیکی اور اطاعت کے کاموں سے سست یا دور کر دیتا ہے اور انسان خیر کے راستے سے بھٹکنے لگتا ہے۔
لیکن جب آپ گناہ کے بعد صدقہ کرتے ہیں، تو یہ صدقہ اس گناہ کی نحوست کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کی دلیل میں وہ نبی کریم ﷺ کی حدیث پیش کرتے ہیں: "صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔" یعنی صدقہ گناہ کے برے اثرات کو مٹا دیتا ہے، جبکہ سچی توبہ گناہ کو سرے سے ختم کر دیتی ہے۔
اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نشان پڑ جاتا ہے۔ اس گناہ کا ایک برا اثر (نحوست) یہ ہوتا ہے کہ یہ انسان کو نیکی اور اطاعت کے کاموں سے سست یا دور کر دیتا ہے اور انسان خیر کے راستے سے بھٹکنے لگتا ہے۔
لیکن جب آپ گناہ کے بعد صدقہ کرتے ہیں، تو یہ صدقہ اس گناہ کی نحوست کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کی دلیل میں وہ نبی کریم ﷺ کی حدیث پیش کرتے ہیں: "صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔" یعنی صدقہ گناہ کے برے اثرات کو مٹا دیتا ہے، جبکہ سچی توبہ گناہ کو سرے سے ختم کر دیتی ہے۔
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں شیخ اعتدال اور میانہ روی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ کار صحابہ کرام کی تربیت میں ہمیشہ متوازن رہا۔ جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ لوگ دنیا کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور آخرت کو بھول رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے انہیں سختی سے منع فرمایا اور ڈرایا۔ اس سلسلے میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی روایت کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب بحرین سے مالِ غنیمت آیا اور لوگ اس پر ٹوٹ پڑے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تمہارے بارے میں غربت کا ڈر نہیں بلکہ اس بات کا خوف ہے کہ دنیا تم پر کھول دی جائے گی اور تم ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہلاک ہو جاؤ گے۔
دوسری طرف، جب لوگ دین میں غلو، سختی اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہوئے، تب بھی آپ ﷺ نے انہیں اعتدال کی طرف واپس موڑا۔ شیخ نے اس کی مثال مشہور حدیث سے دی کہ "دین آسان ہے اور جو بھی دین میں سختی کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا"۔ خلاصہ یہ کہ نبی کریم ﷺ کا مشن امت کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھنا تھا، جو کہ افراط و تفریط کے درمیان ایک معتدل راستہ ہے۔
دوسری طرف، جب لوگ دین میں غلو، سختی اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہوئے، تب بھی آپ ﷺ نے انہیں اعتدال کی طرف واپس موڑا۔ شیخ نے اس کی مثال مشہور حدیث سے دی کہ "دین آسان ہے اور جو بھی دین میں سختی کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا"۔ خلاصہ یہ کہ نبی کریم ﷺ کا مشن امت کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھنا تھا، جو کہ افراط و تفریط کے درمیان ایک معتدل راستہ ہے۔
❤4🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں شیخ ابو زکریا ازدواجی حقوق اور خاص طور پر بیوی پر خرچ کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ صدقہ اور خیرات کی سب سے زیادہ مستحق آپ کی اپنی بیوی ہے۔ بہت سے شوہر اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ بیوی کے اخراجات پورے کرنا والدین پر خرچ کرنے سے بھی زیادہ مقدم اور واجب ہے۔
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ فقہاء کی کتب میں نفقہ (اخراجات) کے باب میں سب سے مضبوط پہلو بیوی کے حقوق کا ہے، کیونکہ شرعی نصوص میں اس پر بہت زور دیا گیا ہے۔ بیوی ایک امانت ہے اور اس کی ضروریات پوری کرنا شوہر کی اولین ذمہ داری ہے۔
آخر میں وہ ایک معاشرتی مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کچھ لوگ "نفسیاتی مسائل" کا شکار ہوتے ہیں؛ وہ گھر سے باہر تو بہت سخی اور ہمدرد بنتے ہیں لیکن اپنے گھر والوں اور بیوی کے معاملے میں نہایت کنجوسی اور سختی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شیخ اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے مردوں کو اپنی ترجیحات درست کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ فقہاء کی کتب میں نفقہ (اخراجات) کے باب میں سب سے مضبوط پہلو بیوی کے حقوق کا ہے، کیونکہ شرعی نصوص میں اس پر بہت زور دیا گیا ہے۔ بیوی ایک امانت ہے اور اس کی ضروریات پوری کرنا شوہر کی اولین ذمہ داری ہے۔
آخر میں وہ ایک معاشرتی مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کچھ لوگ "نفسیاتی مسائل" کا شکار ہوتے ہیں؛ وہ گھر سے باہر تو بہت سخی اور ہمدرد بنتے ہیں لیکن اپنے گھر والوں اور بیوی کے معاملے میں نہایت کنجوسی اور سختی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شیخ اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے مردوں کو اپنی ترجیحات درست کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔
❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں نماز کے بعد کے پہلے ذکر اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ویڈیو کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز مکمل فرماتے تو سلام پھیرنے کے فوراً بعد تین مرتبہ "استغفر اللہ" کہتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: "اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام"۔
اس کے بعد ویڈیو میں ایک اہم سوال اٹھایا گیا ہے کہ انسان نماز تو اللہ کی عبادت کے لیے پڑھتا ہے، پھر اسے نماز کے فوراً بعد "استغفار" (توبہ) کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ انسان چاہے جتنی بھی توجہ سے نماز پڑھے، اس کے دوران اکثر لاپرواہی یا خیالات کی بھٹکن کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے نماز میں کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے۔ لہذا، یہ استغفار اس کمی کو پورا کرنے اور نماز میں ہونے والی کوتاہیوں کی معافی کے لیے ہے۔ مزید برآں، یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم اللہ کی چاہے جتنی بھی عبادت کر لیں، اس کا شکر اور حق مکمل طور پر ادا کرنا ہمارے بس میں نہیں۔
اس کے بعد ویڈیو میں ایک اہم سوال اٹھایا گیا ہے کہ انسان نماز تو اللہ کی عبادت کے لیے پڑھتا ہے، پھر اسے نماز کے فوراً بعد "استغفار" (توبہ) کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ انسان چاہے جتنی بھی توجہ سے نماز پڑھے، اس کے دوران اکثر لاپرواہی یا خیالات کی بھٹکن کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے نماز میں کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے۔ لہذا، یہ استغفار اس کمی کو پورا کرنے اور نماز میں ہونے والی کوتاہیوں کی معافی کے لیے ہے۔ مزید برآں، یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم اللہ کی چاہے جتنی بھی عبادت کر لیں، اس کا شکر اور حق مکمل طور پر ادا کرنا ہمارے بس میں نہیں۔
❤2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جس نے اپنی نماز کو بہتر بنایا، اللہ اس کی زندگی کو بہتر بنا دے گا۔ جس نے اللہ کے حضور اپنے قیام (کھڑے ہونے) کو بہتر بنایا، اللہ دنیا اور آخرت میں اس کے مقام کو بلند کر دے گا۔ جس نے اللہ کے حقوق ادا کیے، اللہ اس کی طرف سے (لوگوں کے) حقوق ادا فرما دے گا۔
آپ جب بھی نماز کو ترجیح دیں گے، اللہ آپ کی تمناؤں کو ترجیح دے گا۔ اللہ آپ کی کامیابیوں، آپ کی شادی، گھر اور گاڑی کی خریداری اور آپ کے دنیا و آخرت کے تمام معاملات میں آسانی اور بہتری پیدا فرما دے گا۔
۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث میں ہے: جب بھی کوئی بندہ نماز کے لیے مسجد جاتا یا وہاں سے واپس آتا ہے، اور یہاں تک کہ عورت بھی جب اپنے گھر میں نماز کے لیے تیار ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں "نزل" (مہمان نوازی) تیار فرماتا ہے۔
"نزل" وہ ضیافت اور مہمانی ہے جو اللہ تعالیٰ اس نمازی کے لیے تیار کرتا ہے۔ یہ ایسی مہمانی ہے جس کی تفصیل آپ نہیں جانتے، لیکن ذرا سوچیں کہ اس کا انتظام کون کر رہا ہے؟ خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کی مہمانی کی نگرانی فرما رہا ہے کیونکہ آپ نماز ادا کرنے گئے تھے۔
آپ جب بھی نماز کو ترجیح دیں گے، اللہ آپ کی تمناؤں کو ترجیح دے گا۔ اللہ آپ کی کامیابیوں، آپ کی شادی، گھر اور گاڑی کی خریداری اور آپ کے دنیا و آخرت کے تمام معاملات میں آسانی اور بہتری پیدا فرما دے گا۔
۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث میں ہے: جب بھی کوئی بندہ نماز کے لیے مسجد جاتا یا وہاں سے واپس آتا ہے، اور یہاں تک کہ عورت بھی جب اپنے گھر میں نماز کے لیے تیار ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں "نزل" (مہمان نوازی) تیار فرماتا ہے۔
"نزل" وہ ضیافت اور مہمانی ہے جو اللہ تعالیٰ اس نمازی کے لیے تیار کرتا ہے۔ یہ ایسی مہمانی ہے جس کی تفصیل آپ نہیں جانتے، لیکن ذرا سوچیں کہ اس کا انتظام کون کر رہا ہے؟ خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کی مہمانی کی نگرانی فرما رہا ہے کیونکہ آپ نماز ادا کرنے گئے تھے۔
❤1🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں والدین کے ساتھ "خاموش نافرمانی" (Silent Disobedience) کے تصور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اکثر لوگ نافرمانی کو صرف بدتمیزی یا تلخ کلامی تک محدود سمجھتے ہیں، لیکن یہاں ایک گہری اور خاموش قسم کی نافرمانی کا ذکر کیا گیا ہے جسے شیخ نے "عقوق مخملی" (Velvet Disobedience) کا نام دیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اولاد ظاہری طور پر تو کوئی بڑا جھگڑا نہیں کرتی، لیکن ان کا رویہ والدین کے لیے دکھ کا باعث بنتا ہے۔ اس کی اہم مثالیں درج ذیل ہیں:
والدین کی موجودگی میں موبائل اور دیگر برقی آلات میں مگن رہنا۔
ان کے پاس بیٹھنے اور بات چیت کرنے سے گریز کرنا یا انہیں نظر انداز کرنا۔
ضد اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنا جس سے والدین کے دل میں اداسی پیدا ہو۔
ویڈیو میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگرچہ والدین ایسی صورتحال میں خاموش رہتے ہیں، لیکن اولاد کا یہ رویہ بھی نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ والدین کے دل کو دکھ پہنچانا، چاہے وہ خاموشی سے ہی کیوں نہ ہو، ایک سنگین معاملہ ہے۔ آخر میں دعا کی گئی ہے کہ اللہ ہمیں اس طرح کی نافرمانی سے بچائے اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی توفیق عطا فرمائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اولاد ظاہری طور پر تو کوئی بڑا جھگڑا نہیں کرتی، لیکن ان کا رویہ والدین کے لیے دکھ کا باعث بنتا ہے۔ اس کی اہم مثالیں درج ذیل ہیں:
والدین کی موجودگی میں موبائل اور دیگر برقی آلات میں مگن رہنا۔
ان کے پاس بیٹھنے اور بات چیت کرنے سے گریز کرنا یا انہیں نظر انداز کرنا۔
ضد اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنا جس سے والدین کے دل میں اداسی پیدا ہو۔
ویڈیو میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگرچہ والدین ایسی صورتحال میں خاموش رہتے ہیں، لیکن اولاد کا یہ رویہ بھی نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ والدین کے دل کو دکھ پہنچانا، چاہے وہ خاموشی سے ہی کیوں نہ ہو، ایک سنگین معاملہ ہے۔ آخر میں دعا کی گئی ہے کہ اللہ ہمیں اس طرح کی نافرمانی سے بچائے اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی توفیق عطا فرمائے۔
👍3❤2🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں ایک خوبصورت واقعے کا ذکر کیا گیا ہے جو صحابیِ رسول حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا۔ وہ ایک مرتبہ نفل نماز ادا کر رہے تھے کہ انہوں نے اپنے پیچھے سے کسی کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا:
"اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تمام بادشاہی تیری ہی ہے، تمام خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور تمام معاملات تیری ہی طرف لوٹتے ہیں۔ تو ہی تعریف کے لائق ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! میرے تمام پچھلے گناہ معاف فرما دے، میری باقی ماندہ زندگی میں میری حفاظت فرما اور مجھے ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما جن سے تو مجھ سے راضی ہو جائے۔"
جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو پیچھے مڑ کر دیکھا، لیکن وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ انہوں نے جب نبی کریم ﷺ کو یہ واقعہ سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایک فرشتہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے انہیں اللہ کی حمد و ثناء سکھانے کے لیے بھیجا تھا۔
ویڈیو کے اختتام پر اس دعا کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے کہ ہر مسلمان کو یہ جامع دعا یاد کرنی چاہیے اور اسے صبح و شام، سوتے وقت اور جاگتے ہوئے کثرت سے پڑھنا چاہیے۔
"اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تمام بادشاہی تیری ہی ہے، تمام خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور تمام معاملات تیری ہی طرف لوٹتے ہیں۔ تو ہی تعریف کے لائق ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! میرے تمام پچھلے گناہ معاف فرما دے، میری باقی ماندہ زندگی میں میری حفاظت فرما اور مجھے ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما جن سے تو مجھ سے راضی ہو جائے۔"
جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو پیچھے مڑ کر دیکھا، لیکن وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ انہوں نے جب نبی کریم ﷺ کو یہ واقعہ سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایک فرشتہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے انہیں اللہ کی حمد و ثناء سکھانے کے لیے بھیجا تھا۔
ویڈیو کے اختتام پر اس دعا کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے کہ ہر مسلمان کو یہ جامع دعا یاد کرنی چاہیے اور اسے صبح و شام، سوتے وقت اور جاگتے ہوئے کثرت سے پڑھنا چاہیے۔
❤1🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں ایک بہت ہی خوبصورت اور گہری بات سمجھائی گئی ہے کہ جو شخص حقیقی خوشی کی تلاش میں ہے، اسے اپنی زندگی اللہ کی خاطر گزارنی چاہیے۔ مقرر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ گزاری گئی زندگی سے بڑھ کر کوئی چیز خوبصورت اور پرسکون نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنے ذاتی تجربے اور پختہ یقین کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ اگرچہ ظاہری طور پر ایسی زندگی میں کچھ مشکلات یا آزمائشیں نظر آ سکتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ مشکلات ہی انسان کو سچی خوشی فراہم کرتی ہیں۔
یہ چیلنجز انسان کو اندرونی طور پر مضبوط بناتے ہیں اور اسے دنیا کی ہر مشکل اور آزمائش کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ مزید یہ کہ، یہ تمام سختیاں دراصل آخرت میں دائمی جنت کی تعمیر کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ویڈیو کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دنیاوی تکالیف کو بوجھ سمجھنے کے بجائے انہیں اللہ کی رضا اور اپنی روحانی ترقی کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ جب انسان اپنی زندگی اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، تو اسے وہ سکون اور خوشی ملتی ہے جو کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ سبحان اللہ، یہ ایک ایسی زندگی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت دیتی ہے۔
یہ چیلنجز انسان کو اندرونی طور پر مضبوط بناتے ہیں اور اسے دنیا کی ہر مشکل اور آزمائش کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ مزید یہ کہ، یہ تمام سختیاں دراصل آخرت میں دائمی جنت کی تعمیر کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ویڈیو کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دنیاوی تکالیف کو بوجھ سمجھنے کے بجائے انہیں اللہ کی رضا اور اپنی روحانی ترقی کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ جب انسان اپنی زندگی اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، تو اسے وہ سکون اور خوشی ملتی ہے جو کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ سبحان اللہ، یہ ایک ایسی زندگی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت دیتی ہے۔
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں شیخ نماز کی اہمیت اور اس کی روحانی برکات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک انسان کائنات کے مالک اور منتظم، اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے لیکن پھر بھی وہ جلد از جلد وہاں سے جانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ دنیا کے کسی ایسے کام کو حاصل کر سکے جو خود اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔ یہ ایک تضاد ہے کہ انسان اللہ سے دور بھاگ کر کامیابی کی امید رکھتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ:
کامیابی کا راز: وہ شخص سب سے زیادہ خوش نصیب ہے جو اپنی زندگی میں نماز کی حفاظت کرتا ہے، اور وہ سب سے زیادہ بدبخت ہے جس کی زندگی سے نماز نکل جائے۔
نماز کی حقیقت: نماز محض ایک فرض نہیں بلکہ یہ دل کا سکون اور اطمینان ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔
نماز کے فوائد: نماز غموں کو دور کرتی ہے، پریشانیوں سے نجات دلاتی ہے، رزق میں وسعت پیدا کرتی ہے اور مشکل وقت میں انسان کے قدم جمائے رکھتی ہے۔
آخر میں وہ قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں کہ اللہ سے صبر اور نماز کے ذریعے مدد مانگو۔ بے شک نماز ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور دنیاوی و اخروی کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ:
کامیابی کا راز: وہ شخص سب سے زیادہ خوش نصیب ہے جو اپنی زندگی میں نماز کی حفاظت کرتا ہے، اور وہ سب سے زیادہ بدبخت ہے جس کی زندگی سے نماز نکل جائے۔
نماز کی حقیقت: نماز محض ایک فرض نہیں بلکہ یہ دل کا سکون اور اطمینان ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔
نماز کے فوائد: نماز غموں کو دور کرتی ہے، پریشانیوں سے نجات دلاتی ہے، رزق میں وسعت پیدا کرتی ہے اور مشکل وقت میں انسان کے قدم جمائے رکھتی ہے۔
آخر میں وہ قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں کہ اللہ سے صبر اور نماز کے ذریعے مدد مانگو۔ بے شک نماز ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور دنیاوی و اخروی کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں شیخ سجدہ شکر کی اہمیت اور اس کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب بھی کسی انسان کو کوئی نئی نعمت حاصل ہو یا کوئی بڑی مصیبت اور بلا اس سے ٹل جائے، تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ کرنا سنتِ نبوی ہے۔
شیخ اس کی وضاحت کے لیے روزمرہ زندگی کی مثالیں دیتے ہیں، جیسے کہ اگر کوئی شخص نئی گاڑی خریدے یا اسے تحفے میں ملے، یا پھر کسی نئے گھر میں منتقل ہونے کی خوشخبری ملے، تو اسے فوراً اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جانا چاہیے۔
سب سے اہم بات جو شیخ نے واضح کی وہ یہ ہے کہ سجدہ شکر کے لیے وضو ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہاں تک کہ خواتین کے لیے بھی یہ لازم نہیں کہ وہ سجدہ شکر کے وقت نماز والے مخصوص کپڑے یا حجاب پہنیں؛ وہ جس حال میں ہوں، خوشی کی خبر ملتے ہی سجدہ کر سکتی ہیں۔ اللہ کی طرف سے کسی حادثے، بیماری یا پریشانی سے نجات ملنے پر بھی یہ سجدہ ایک بہترین عمل ہے۔
شیخ اس کی وضاحت کے لیے روزمرہ زندگی کی مثالیں دیتے ہیں، جیسے کہ اگر کوئی شخص نئی گاڑی خریدے یا اسے تحفے میں ملے، یا پھر کسی نئے گھر میں منتقل ہونے کی خوشخبری ملے، تو اسے فوراً اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جانا چاہیے۔
سب سے اہم بات جو شیخ نے واضح کی وہ یہ ہے کہ سجدہ شکر کے لیے وضو ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہاں تک کہ خواتین کے لیے بھی یہ لازم نہیں کہ وہ سجدہ شکر کے وقت نماز والے مخصوص کپڑے یا حجاب پہنیں؛ وہ جس حال میں ہوں، خوشی کی خبر ملتے ہی سجدہ کر سکتی ہیں۔ اللہ کی طرف سے کسی حادثے، بیماری یا پریشانی سے نجات ملنے پر بھی یہ سجدہ ایک بہترین عمل ہے۔
❤1🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نماز کی اہمیت اور وقت کی قدر
اس ویڈیو میں مبلغ نماز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس بات پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک مسلمان نماز کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، نماز وہ آخری چیز ہے جو انسان کے پاس باقی رہنی چاہیے، اور اس کے بغیر زندگی گزارنا ناقابلِ فہم ہے۔
اہم نکات:
وقت کا موازنہ: ایک دن میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں۔ اگر پانچوں نمازوں کا وقت نکالا جائے تو یہ تقریباً 50 منٹ بنتے ہیں۔ مبلغ کہتے ہیں کہ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ انسان کے پاس اپنے لیے 23 گھنٹے سے زیادہ وقت ہے، لیکن وہ Allah کے لیے صرف 50 منٹ نکالنے کو تیار نہیں۔
ایک سخت انتخاب: وہ اس رویے پر تنقید کرتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کو معمولی وقت دینے کے بجائے جہنم میں جانے کو ترجیح دیتا ہے۔
ایمان اور کفر کا فرق: ویڈیو کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث بیان کی گئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ "ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان عہد نماز ہے، پس جس نے اسے چھوڑا اس نے کفر کیا۔"
یہ ویڈیو ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ نماز محض ایک عبادت نہیں بلکہ مومن کی پہچان اور اللہ سے تعلق کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔
اس ویڈیو میں مبلغ نماز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس بات پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک مسلمان نماز کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، نماز وہ آخری چیز ہے جو انسان کے پاس باقی رہنی چاہیے، اور اس کے بغیر زندگی گزارنا ناقابلِ فہم ہے۔
اہم نکات:
وقت کا موازنہ: ایک دن میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں۔ اگر پانچوں نمازوں کا وقت نکالا جائے تو یہ تقریباً 50 منٹ بنتے ہیں۔ مبلغ کہتے ہیں کہ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ انسان کے پاس اپنے لیے 23 گھنٹے سے زیادہ وقت ہے، لیکن وہ Allah کے لیے صرف 50 منٹ نکالنے کو تیار نہیں۔
ایک سخت انتخاب: وہ اس رویے پر تنقید کرتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کو معمولی وقت دینے کے بجائے جہنم میں جانے کو ترجیح دیتا ہے۔
ایمان اور کفر کا فرق: ویڈیو کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث بیان کی گئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ "ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان عہد نماز ہے، پس جس نے اسے چھوڑا اس نے کفر کیا۔"
یہ ویڈیو ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ نماز محض ایک عبادت نہیں بلکہ مومن کی پہچان اور اللہ سے تعلق کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔
❤1🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شيخ موبائل فون کے استعمال اور روزِ قیامت اس کے جوابدہ ہونے کے بارے میں ایک نہایت اہم اور فکر انگیز پیغام دے رہے ہیں۔ وہ سامعین سے سوال کرتے ہیں کہ قیامت کے دن، جب اعمال تولے جائیں گے، تو آپ کا یہ موبائل فون نیکیوں کے پلڑے میں رکھا جائے گا یا برائیوں کے؟ یا پھر یہ کسی بھی پلڑے میں نہیں ہوگا؟
وہ واضح کرتے ہیں کہ ہر نوجوان، چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی، اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور الله عزوجل ان تمام باتوں سے بخوبی واقف ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں۔ یہ فونز قیامت کے دن کہاں ہوں گے؟ کیا یہ آپ کی نیکیوں کے پلڑے کو بھاری کریں گے؟
کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ فون پر قرآن پاک سنتے ہیں، احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں، مفید علمی بیانات دیکھتے ہیں اور اس کے ذریعے علم حاصل کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ یقیناً نیکی ہے۔ لیکن، اگر یہی فون صرف گیمز کھیلنے، لہو و لعب، عمر اور وقت کو ضائع کرنے، اور فضول کاموں میں زندگی گزارنے کا ذریعہ ہے، تو الله کی قسم یہ گناہوں کے پلڑے میں شمار ہوگا۔ آخر میں وہ نصیحت کرتے ہیں کہ جس طرح تم اپنے دنیاوی امتحانات کے لیے سخت تیاری کرتے ہو، اسی طرح اس سوال کا جواب دینے کے لیے بھی خود کو تیار کرو۔
وہ واضح کرتے ہیں کہ ہر نوجوان، چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی، اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور الله عزوجل ان تمام باتوں سے بخوبی واقف ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں۔ یہ فونز قیامت کے دن کہاں ہوں گے؟ کیا یہ آپ کی نیکیوں کے پلڑے کو بھاری کریں گے؟
کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ فون پر قرآن پاک سنتے ہیں، احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں، مفید علمی بیانات دیکھتے ہیں اور اس کے ذریعے علم حاصل کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ یقیناً نیکی ہے۔ لیکن، اگر یہی فون صرف گیمز کھیلنے، لہو و لعب، عمر اور وقت کو ضائع کرنے، اور فضول کاموں میں زندگی گزارنے کا ذریعہ ہے، تو الله کی قسم یہ گناہوں کے پلڑے میں شمار ہوگا۔ آخر میں وہ نصیحت کرتے ہیں کہ جس طرح تم اپنے دنیاوی امتحانات کے لیے سخت تیاری کرتے ہو، اسی طرح اس سوال کا جواب دینے کے لیے بھی خود کو تیار کرو۔
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں قرآنِ کریم کی اس اہم آیت کی تلاوت کی گئی ہے جس میں ماہِ رمضان کی عظمت اور اس کے روزوں کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی واضح نشانیاں رکھتا ہے۔
آیت میں روزے کے حوالے سے اللہ کی رحمت اور آسانی کا پہلو نمایاں ہے:
جو شخص اس مہینے کو پائے، اس پر روزہ رکھنا فرض ہے۔
بیمار یا مسافر کے لیے یہ رعایت دی گئی ہے کہ وہ ان دنوں میں روزہ چھوڑ سکتا ہے اور بعد میں دوسرے دنوں میں اپنی گنتی پوری کر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا منشا اپنے بندوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے، تنگی نہیں۔ اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ بندے روزوں کی تعداد مکمل کریں، ہدایت پانے پر اللہ کی کبریائی بیان کریں اور اس کا شکر ادا کریں۔ یہ ویڈیو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رمضان محض بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ قرآن سے تعلق مضبوط کرنے، اللہ کی نعمتوں کا اعتراف کرنے اور شکر گزاری کی کیفیت پیدا کرنے کا مہینہ ہے۔
آیت میں روزے کے حوالے سے اللہ کی رحمت اور آسانی کا پہلو نمایاں ہے:
جو شخص اس مہینے کو پائے، اس پر روزہ رکھنا فرض ہے۔
بیمار یا مسافر کے لیے یہ رعایت دی گئی ہے کہ وہ ان دنوں میں روزہ چھوڑ سکتا ہے اور بعد میں دوسرے دنوں میں اپنی گنتی پوری کر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا منشا اپنے بندوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے، تنگی نہیں۔ اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ بندے روزوں کی تعداد مکمل کریں، ہدایت پانے پر اللہ کی کبریائی بیان کریں اور اس کا شکر ادا کریں۔ یہ ویڈیو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رمضان محض بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ قرآن سے تعلق مضبوط کرنے، اللہ کی نعمتوں کا اعتراف کرنے اور شکر گزاری کی کیفیت پیدا کرنے کا مہینہ ہے۔
❤2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں شیخ موجودہ دور کے ایک اہم مسئلے، یعنی موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال پر تنبیہ کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ آج کل یہ نصیحت عام ہو گئی ہے کہ "اپنا اسکرین ٹائم کم کریں"۔ لوگ گھنٹوں اپنے فون میں گم رہتے ہیں، یہاں تک کہ کچھ فونز اب یہ بھی بتاتے ہیں کہ صارف نے دن میں کتنے گھنٹے اسکرین پر گزارے، جو اکثر پانچ گھنٹے یا اس سے زائد بنتے ہیں۔ یہ انسان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ (دن کا چوتھائی یا پانچواں حصہ) ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
شیخ نے دینی اصول "لا یعنی (بے مقصد) چیزوں سے اجتناب" پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر رمضان اور حج جیسے بابرکت مہینوں میں انسان کو اللہ سے ایک عہد کرنا چاہیے۔ وہ فرماتے ہیں کہ روزے، تراویح اور تلاوت قرآن کا اہتمام تو ہم کرتے ہی ہیں، لیکن ان دنوں میں سب سے ضروری چیز ان کاموں کو کم کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں، اور آج کے دور میں سوشل میڈیا اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خبروں کی فکر نہ کریں، ضروری خبر آپ تک پہنچ ہی جائے گی۔ لہٰذا، سوائے دفتری کام یا اشد ضرورت کے، سوشل میڈیا کا استعمال ترک کر دیں یا کم سے کم کر دیں تاکہ قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔
شیخ نے دینی اصول "لا یعنی (بے مقصد) چیزوں سے اجتناب" پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر رمضان اور حج جیسے بابرکت مہینوں میں انسان کو اللہ سے ایک عہد کرنا چاہیے۔ وہ فرماتے ہیں کہ روزے، تراویح اور تلاوت قرآن کا اہتمام تو ہم کرتے ہی ہیں، لیکن ان دنوں میں سب سے ضروری چیز ان کاموں کو کم کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں، اور آج کے دور میں سوشل میڈیا اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خبروں کی فکر نہ کریں، ضروری خبر آپ تک پہنچ ہی جائے گی۔ لہٰذا، سوائے دفتری کام یا اشد ضرورت کے، سوشل میڈیا کا استعمال ترک کر دیں یا کم سے کم کر دیں تاکہ قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔
❤1👍1🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ایک مسلمان کے لیے اپنے نفس کی تربیت، تزکیہ اور نظم و ضبط قائم کرنے کا ایک بہترین طریقہ اپنی زبان کی حفاظت کرنا ہے۔ ویڈیو میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جو شخص رمضان کے پورے مہینے میں اپنی زبان پر قابو پانا سیکھ لیتا ہے، تو اللہ کے حکم سے رمضان کے بعد بھی اس کے لیے یہ عمل آسان ہو جاتا ہے۔
اس تربیتی عمل میں زبان کو درج ذیل برائیوں سے بچانا شامل ہے:
غیبت (Backbiting)
چغلی (Tale-carrying)
گالی گلوچ اور بدکلامی
یہ تمام افعال ہر وقت حرام ہیں، لیکن رمضان میں ان کی ممانعت اور بھی سخت ہو جاتی ہے۔ بعض تابعین کے نزدیک ان اعمال سے روزہ باطل ہو جاتا تھا اور وہ تادیبی طور پر قضا کا حکم دیتے تھے، کیونکہ اگر ان گناہوں سے بچا نہ جائے تو روزے کی روح متاثر ہوتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب روزہ رکھتے تھے تو وہ مساجد میں قیام کرتے تھے تاکہ اپنی زبانوں کی حفاظت کر سکیں۔ وہ کسی کی برائی کرنے یا اپنے گھر والوں اور بچوں کو برا بھلا کہنے سے بچنے کے لیے گوشہ نشینی اختیار کرتے تھے
اس تربیتی عمل میں زبان کو درج ذیل برائیوں سے بچانا شامل ہے:
غیبت (Backbiting)
چغلی (Tale-carrying)
گالی گلوچ اور بدکلامی
یہ تمام افعال ہر وقت حرام ہیں، لیکن رمضان میں ان کی ممانعت اور بھی سخت ہو جاتی ہے۔ بعض تابعین کے نزدیک ان اعمال سے روزہ باطل ہو جاتا تھا اور وہ تادیبی طور پر قضا کا حکم دیتے تھے، کیونکہ اگر ان گناہوں سے بچا نہ جائے تو روزے کی روح متاثر ہوتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب روزہ رکھتے تھے تو وہ مساجد میں قیام کرتے تھے تاکہ اپنی زبانوں کی حفاظت کر سکیں۔ وہ کسی کی برائی کرنے یا اپنے گھر والوں اور بچوں کو برا بھلا کہنے سے بچنے کے لیے گوشہ نشینی اختیار کرتے تھے
❤3🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رمضان میں وقت کی حفاظت:
مباح کاموں میں کمی (تخفف): شیخ کے مطابق وقت بچانے کا پہلا اصول یہ ہے کہ انسان جائز اور مباح کاموں میں جتنی ہو سکے کمی کرے۔ اگر کوئی تعلیمی درس یا سفر ملتوی کرنا ممکن ہو تو اسے رمضان کے بعد تک ٹال دینا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت کے لیے میسر ہو۔
سلف صالحین کی مثال: آپ نے امام دار الہجرہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ کی مثال دی کہ وہ رمضان المبارک کی آمد پر حدیث کی تعلیم دینا (یعنی پڑھانا) بھی بند کر دیتے تھے تاکہ اپنا پورا وقت اس سے بہتر کام (تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الہی) میں صرف کر سکیں۔
سوشل میڈیا اور وقت کا ضیاع: شیخ نے موجودہ دور میں وقت کے سب سے بڑے ضیاع یعنی سوشل میڈیا کی طرف اشارہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے دن اور رات کا ایک بہت بڑا حصہ ان آلات کی نذر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اوسطاً نوجوان روزانہ 5 سے 6 گھنٹے سوشل میڈیا ایپس پر صرف کر رہے ہیں۔
عملی مشورہ: شیخ نصیحت فرماتے ہیں کہ اس مبارک مہینے کی آمد سے پہلے ہی سوشل میڈیا کے استعمال میں کمی لانے کی عادت ڈالنی چاہیے، تاکہ رمضان میں انسان کا وقت فضول چیزوں کے بجائے اللہ کی رضا کے کاموں میں گزر سکے۔
مباح کاموں میں کمی (تخفف): شیخ کے مطابق وقت بچانے کا پہلا اصول یہ ہے کہ انسان جائز اور مباح کاموں میں جتنی ہو سکے کمی کرے۔ اگر کوئی تعلیمی درس یا سفر ملتوی کرنا ممکن ہو تو اسے رمضان کے بعد تک ٹال دینا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت کے لیے میسر ہو۔
سلف صالحین کی مثال: آپ نے امام دار الہجرہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ کی مثال دی کہ وہ رمضان المبارک کی آمد پر حدیث کی تعلیم دینا (یعنی پڑھانا) بھی بند کر دیتے تھے تاکہ اپنا پورا وقت اس سے بہتر کام (تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الہی) میں صرف کر سکیں۔
سوشل میڈیا اور وقت کا ضیاع: شیخ نے موجودہ دور میں وقت کے سب سے بڑے ضیاع یعنی سوشل میڈیا کی طرف اشارہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے دن اور رات کا ایک بہت بڑا حصہ ان آلات کی نذر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اوسطاً نوجوان روزانہ 5 سے 6 گھنٹے سوشل میڈیا ایپس پر صرف کر رہے ہیں۔
عملی مشورہ: شیخ نصیحت فرماتے ہیں کہ اس مبارک مہینے کی آمد سے پہلے ہی سوشل میڈیا کے استعمال میں کمی لانے کی عادت ڈالنی چاہیے، تاکہ رمضان میں انسان کا وقت فضول چیزوں کے بجائے اللہ کی رضا کے کاموں میں گزر سکے۔
🕊2❤1
She is the first to wake up for suhoor, preparing breakfast and setting the table while everyone else is still asleep. She is the last to leave the kitchen, only after everything is clean and put away.
Hours before iftar, she is back in the kitchen again, cooking and preparing all kinds of dishes.
Brother, she is fasting too. She is tired too.
If you expect (or demand) her to prepare a banquet every day, it takes away from her time and energy to focus on what truly matters.
Be helpful. Be content with simple meals.
Ramadan is a chance for both of you to grow.
📝 Bint Al-Magribi
Hours before iftar, she is back in the kitchen again, cooking and preparing all kinds of dishes.
Brother, she is fasting too. She is tired too.
If you expect (or demand) her to prepare a banquet every day, it takes away from her time and energy to focus on what truly matters.
Be helpful. Be content with simple meals.
Ramadan is a chance for both of you to grow.
📝 Bint Al-Magribi
🕊2❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں والدین کے لیے ایک بہترین تحفے کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ قیامت کے دن انہیں خوبصورت لباس پہنایا جانا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث کے مطابق، جو شخص قرآن پڑھے، اسے سیکھے اور اس پر عمل کرے، اسے قیامت کے دن نور کا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی مانند ہوگی۔ اس کے علاوہ، اس کے والدین کو دو ایسے قیمتی لباس پہنائے جائیں گے جن کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ جب وہ حیرت سے پوچھیں گے کہ انہیں یہ اعزاز کس بنیاد پر دیا گیا ہے، تو بتایا جائے گا کہ یہ ان کی اولاد کے قرآن کو تھامنے اور اس پر عمل کرنے کا صلہ ہے۔
ویڈیو میں اس بات پر خاص زور دیا گیا ہے کہ قرآن کا مقصد صرف اسے حفظ کرنا نہیں بلکہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنا بھی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اسی لیے نازل فرمایا تاکہ اس کی آیات پر غور و فکر کیا جائے اور نصیحت حاصل کی جائے۔ آخر میں یہ دعا کی گئی ہے کہ اللہ ہمیں 'اہلِ قرآن' بنائے اور اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے، چاہے وہ حیات ہوں یا اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں۔ والدین کے لیے اس سے بڑا کوئی تحفہ نہیں ہو سکتا کہ ان کی اولاد قرآن کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے۔
ویڈیو میں اس بات پر خاص زور دیا گیا ہے کہ قرآن کا مقصد صرف اسے حفظ کرنا نہیں بلکہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنا بھی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اسی لیے نازل فرمایا تاکہ اس کی آیات پر غور و فکر کیا جائے اور نصیحت حاصل کی جائے۔ آخر میں یہ دعا کی گئی ہے کہ اللہ ہمیں 'اہلِ قرآن' بنائے اور اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے، چاہے وہ حیات ہوں یا اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں۔ والدین کے لیے اس سے بڑا کوئی تحفہ نہیں ہو سکتا کہ ان کی اولاد قرآن کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے۔
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حقیقی خوشی کا راز
یہ ویڈیو ایک نہایت ہی ایمان افروز اور روحانی پیغام پر مبنی ہے، جس میں دنیا کی اصل خوشی اور دلی اطمینان کے حقیقی سرچشمے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مقرر کے مطابق، اس دنیا میں سب سے زیادہ خوش و خرم اور پرسکون انسان وہی ہے جو اللہ تعالیٰ سے سچی محبت کرتا ہے اور جسے بدلے میں اللہ کی محبت حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ وہ مقامِ بندگی ہے جہاں انسان کو دنیاوی فکروں سے آزادی اور حقیقی قلبی مسرت نصیب ہوتی ہے۔
اس تعلق کی گہرائی کو بیان کرنے کے لیے مقرر نے نبی کریم ﷺ کی ایک جامع دعا کا ذکر کیا ہے۔ آپ ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے:
"اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں، اور ان لوگوں کی محبت کا جو تجھ سے محبت کرتے ہیں، اور ایسے اعمال کی محبت کا جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دیں۔"
ویڈیو کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اللہ کی محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے حصول کے لیے نیک اعمال اور صالحین کی صحبت بھی ضروری ہے۔ جب بندہ اللہ کی رضا میں اپنی خوشی تلاش کرنے لگتا ہے اور اللہ اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے، تو یہ وہ عظیم الشان نعمت ہے جس سے بڑھ کر کائنات میں کوئی دوسری خوشی یا ابدی راحت موجود نہیں۔
یہ ویڈیو ایک نہایت ہی ایمان افروز اور روحانی پیغام پر مبنی ہے، جس میں دنیا کی اصل خوشی اور دلی اطمینان کے حقیقی سرچشمے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مقرر کے مطابق، اس دنیا میں سب سے زیادہ خوش و خرم اور پرسکون انسان وہی ہے جو اللہ تعالیٰ سے سچی محبت کرتا ہے اور جسے بدلے میں اللہ کی محبت حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ وہ مقامِ بندگی ہے جہاں انسان کو دنیاوی فکروں سے آزادی اور حقیقی قلبی مسرت نصیب ہوتی ہے۔
اس تعلق کی گہرائی کو بیان کرنے کے لیے مقرر نے نبی کریم ﷺ کی ایک جامع دعا کا ذکر کیا ہے۔ آپ ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے:
"اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں، اور ان لوگوں کی محبت کا جو تجھ سے محبت کرتے ہیں، اور ایسے اعمال کی محبت کا جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دیں۔"
ویڈیو کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اللہ کی محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے حصول کے لیے نیک اعمال اور صالحین کی صحبت بھی ضروری ہے۔ جب بندہ اللہ کی رضا میں اپنی خوشی تلاش کرنے لگتا ہے اور اللہ اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے، تو یہ وہ عظیم الشان نعمت ہے جس سے بڑھ کر کائنات میں کوئی دوسری خوشی یا ابدی راحت موجود نہیں۔
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں مقرر رمضان المبارک کے مہینے میں کی جانے والی بہترین عبادات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ وہ ان عبادات کو پانچ اہم نکات میں بیان کرتے ہیں۔ پہلا کام روزے رکھنا ہے۔ دوسرا سب سے بہترین عمل قیام اللیل ہے۔ وہ ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ جو شخص رمضان کی راتوں میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے گا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
تیسرا اہم ترین عمل قرآن پاک کی تلاوت ہے۔ چوتھے نمبر پر، وہ صدقہ اور زکوٰۃ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے 'موطا' میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کا ذکر کیا جس میں انہوں نے صحابہ کرام کو اس بابرکت مہینے میں اپنے قرض ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے کی تلقین کی، اگرچہ کسی براہ راست نص سے اس مہینے میں زکوٰۃ کی ادائیگی ثابت نہیں ہے۔ پانچویں اور آخری بہترین عبادت مسجد میں کثرت سے وقت گزارنا (یعنی اعتکاف یا مسجد میں بیٹھنا) ہے۔
مختصر یہ کہ یہ ویڈیو رمضان میں روزہ، نماز، قرآن کی تلاوت، صدقہ و زکوٰۃ اور مسجد میں وقت گزار کر اپنے روحانی درجات اور اجر کو بلند کرنے پر زور دیتی ہے۔
تیسرا اہم ترین عمل قرآن پاک کی تلاوت ہے۔ چوتھے نمبر پر، وہ صدقہ اور زکوٰۃ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے 'موطا' میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کا ذکر کیا جس میں انہوں نے صحابہ کرام کو اس بابرکت مہینے میں اپنے قرض ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے کی تلقین کی، اگرچہ کسی براہ راست نص سے اس مہینے میں زکوٰۃ کی ادائیگی ثابت نہیں ہے۔ پانچویں اور آخری بہترین عبادت مسجد میں کثرت سے وقت گزارنا (یعنی اعتکاف یا مسجد میں بیٹھنا) ہے۔
مختصر یہ کہ یہ ویڈیو رمضان میں روزہ، نماز، قرآن کی تلاوت، صدقہ و زکوٰۃ اور مسجد میں وقت گزار کر اپنے روحانی درجات اور اجر کو بلند کرنے پر زور دیتی ہے۔
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں ایک اسلامی اسکالر مسلسل اپنا مال گننے کے نقصانات کے حوالے سے ایک حدیث بیان کر رہے ہیں۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک واقعہ پیش کرتے ہیں جس میں انہوں نے فرمایا کہ ان کے پاس کچھ کھانا تھا جس میں بہت برکت تھی اور وہ طویل عرصے تک چلتا رہا۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے اسے ناپنا اور گننا شروع کیا کہ کتنا باقی رہ گیا ہے، تو وہ کھانا بہت جلد ختم ہو گیا۔
اسکالر اس واقعے سے یہ سبق اخذ کرتے ہیں کہ کبھی کبھار مال کو اسی کے حال پر چھوڑ دینے میں ہی برکت ہوتی ہے۔ جو لوگ اپنے پیسوں کو کم ہونے کے ڈر سے روزانہ یا ہر دوسرے دن گنتے رہتے ہیں، ان کے مال سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ البتہ، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مال گننے کا مقصد زکوٰۃ ادا کرنا یا اپنے قرضے چکانا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن محض اس خوف سے گننا کہ مال کہیں کم نہ ہو جائے، درحقیقت برکت کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے ہمیں مال کو غیر ضروری طور پر گننے کی عادت سے بچنا چاہیے۔
اسکالر اس واقعے سے یہ سبق اخذ کرتے ہیں کہ کبھی کبھار مال کو اسی کے حال پر چھوڑ دینے میں ہی برکت ہوتی ہے۔ جو لوگ اپنے پیسوں کو کم ہونے کے ڈر سے روزانہ یا ہر دوسرے دن گنتے رہتے ہیں، ان کے مال سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ البتہ، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مال گننے کا مقصد زکوٰۃ ادا کرنا یا اپنے قرضے چکانا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن محض اس خوف سے گننا کہ مال کہیں کم نہ ہو جائے، درحقیقت برکت کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے ہمیں مال کو غیر ضروری طور پر گننے کی عادت سے بچنا چاہیے۔
🤔1🕊1