This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں مقرر رمضان المبارک کے مہینے میں کی جانے والی بہترین عبادات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ وہ ان عبادات کو پانچ اہم نکات میں بیان کرتے ہیں۔ پہلا کام روزے رکھنا ہے۔ دوسرا سب سے بہترین عمل قیام اللیل ہے۔ وہ ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ جو شخص رمضان کی راتوں میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے گا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
تیسرا اہم ترین عمل قرآن پاک کی تلاوت ہے۔ چوتھے نمبر پر، وہ صدقہ اور زکوٰۃ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے 'موطا' میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کا ذکر کیا جس میں انہوں نے صحابہ کرام کو اس بابرکت مہینے میں اپنے قرض ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے کی تلقین کی، اگرچہ کسی براہ راست نص سے اس مہینے میں زکوٰۃ کی ادائیگی ثابت نہیں ہے۔ پانچویں اور آخری بہترین عبادت مسجد میں کثرت سے وقت گزارنا (یعنی اعتکاف یا مسجد میں بیٹھنا) ہے۔
مختصر یہ کہ یہ ویڈیو رمضان میں روزہ، نماز، قرآن کی تلاوت، صدقہ و زکوٰۃ اور مسجد میں وقت گزار کر اپنے روحانی درجات اور اجر کو بلند کرنے پر زور دیتی ہے۔
تیسرا اہم ترین عمل قرآن پاک کی تلاوت ہے۔ چوتھے نمبر پر، وہ صدقہ اور زکوٰۃ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے 'موطا' میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کا ذکر کیا جس میں انہوں نے صحابہ کرام کو اس بابرکت مہینے میں اپنے قرض ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے کی تلقین کی، اگرچہ کسی براہ راست نص سے اس مہینے میں زکوٰۃ کی ادائیگی ثابت نہیں ہے۔ پانچویں اور آخری بہترین عبادت مسجد میں کثرت سے وقت گزارنا (یعنی اعتکاف یا مسجد میں بیٹھنا) ہے۔
مختصر یہ کہ یہ ویڈیو رمضان میں روزہ، نماز، قرآن کی تلاوت، صدقہ و زکوٰۃ اور مسجد میں وقت گزار کر اپنے روحانی درجات اور اجر کو بلند کرنے پر زور دیتی ہے۔
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں ایک اسلامی اسکالر مسلسل اپنا مال گننے کے نقصانات کے حوالے سے ایک حدیث بیان کر رہے ہیں۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک واقعہ پیش کرتے ہیں جس میں انہوں نے فرمایا کہ ان کے پاس کچھ کھانا تھا جس میں بہت برکت تھی اور وہ طویل عرصے تک چلتا رہا۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے اسے ناپنا اور گننا شروع کیا کہ کتنا باقی رہ گیا ہے، تو وہ کھانا بہت جلد ختم ہو گیا۔
اسکالر اس واقعے سے یہ سبق اخذ کرتے ہیں کہ کبھی کبھار مال کو اسی کے حال پر چھوڑ دینے میں ہی برکت ہوتی ہے۔ جو لوگ اپنے پیسوں کو کم ہونے کے ڈر سے روزانہ یا ہر دوسرے دن گنتے رہتے ہیں، ان کے مال سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ البتہ، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مال گننے کا مقصد زکوٰۃ ادا کرنا یا اپنے قرضے چکانا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن محض اس خوف سے گننا کہ مال کہیں کم نہ ہو جائے، درحقیقت برکت کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے ہمیں مال کو غیر ضروری طور پر گننے کی عادت سے بچنا چاہیے۔
اسکالر اس واقعے سے یہ سبق اخذ کرتے ہیں کہ کبھی کبھار مال کو اسی کے حال پر چھوڑ دینے میں ہی برکت ہوتی ہے۔ جو لوگ اپنے پیسوں کو کم ہونے کے ڈر سے روزانہ یا ہر دوسرے دن گنتے رہتے ہیں، ان کے مال سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ البتہ، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مال گننے کا مقصد زکوٰۃ ادا کرنا یا اپنے قرضے چکانا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن محض اس خوف سے گننا کہ مال کہیں کم نہ ہو جائے، درحقیقت برکت کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے ہمیں مال کو غیر ضروری طور پر گننے کی عادت سے بچنا چاہیے۔
🤔1🕊1
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں رمضان کے آخری 10 دنوں، خاص طور پر لیلۃ القدر میں کرنے والے تین اہم کاموں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ چونکہ لیلۃ القدر کی عبادت 84 سال کی عبادت کے برابر ہے، اس لیے ان اعمال کی فضیلت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے:
* صدقہ: آخری دس دنوں میں روزانہ کم از کم ایک درہم صدقہ کریں۔ اگر یہ لیلۃ القدر کی رات ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے آپ نے 84 سال تک روزانہ صدقہ کیا ہو۔
* سورہ اخلاص کی تلاوت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق یہ سورہ قرآن کے ایک تہائی حصے کے برابر ہے۔ اسے تین بار پڑھنے کا مطلب مکمل قرآن پڑھنا ہے۔ لیلۃ القدر میں اسے پڑھنا 84 سال تک روزانہ قرآن ختم کرنے کے برابر ثواب رکھتا ہے۔
* قیام اللیل (رات کی نماز): آخری دس راتوں میں کم از کم ایک رکعت تہجد ضرور پڑھیں۔ اگر یہ لیلۃ القدر میں ادا کی جائے، تو یہ 84 سال تک روزانہ قیام اللیل کرنے کے برابر ہے۔
آخر میں اسپیکر مشورہ دیتے ہیں کہ یہ نیک اعمال اپنے بچوں کو بھی سکھائیں تاکہ اگر آپ بھول جائیں تو وہ ان پر عمل کر سکیں، اور آپ کو بھی اس کا مکمل ثواب ملتا رہے۔
* صدقہ: آخری دس دنوں میں روزانہ کم از کم ایک درہم صدقہ کریں۔ اگر یہ لیلۃ القدر کی رات ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے آپ نے 84 سال تک روزانہ صدقہ کیا ہو۔
* سورہ اخلاص کی تلاوت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق یہ سورہ قرآن کے ایک تہائی حصے کے برابر ہے۔ اسے تین بار پڑھنے کا مطلب مکمل قرآن پڑھنا ہے۔ لیلۃ القدر میں اسے پڑھنا 84 سال تک روزانہ قرآن ختم کرنے کے برابر ثواب رکھتا ہے۔
* قیام اللیل (رات کی نماز): آخری دس راتوں میں کم از کم ایک رکعت تہجد ضرور پڑھیں۔ اگر یہ لیلۃ القدر میں ادا کی جائے، تو یہ 84 سال تک روزانہ قیام اللیل کرنے کے برابر ہے۔
آخر میں اسپیکر مشورہ دیتے ہیں کہ یہ نیک اعمال اپنے بچوں کو بھی سکھائیں تاکہ اگر آپ بھول جائیں تو وہ ان پر عمل کر سکیں، اور آپ کو بھی اس کا مکمل ثواب ملتا رہے۔
❤2🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مقرر قرآن مجید کی تلاوت اور اس سے مستقل وابستگی کے عظیم فوائد اور اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اسے حفظ کرتا ہے، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کبھی بدبخت یا مایوس نہیں ہو سکتا۔ قرآن کو انسان کا سچا ساتھی ہونا چاہیے جو اس کے دل و دماغ میں بسا ہو۔
مقرر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قرآن کو محض پڑھنا کافی نہیں بلکہ اسے اپنی زندگی کا رہنما اور ہر معاملے میں مرجع بنانا نہایت ضروری ہے۔ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو اسے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اور قرآن سے شفا طلب کرنی چاہیے۔ قرآن سے شفا حاصل نہ کرنا دراصل قرآن کو چھوڑ دینے (ہجرانِ قرآن) ہی کی ایک قسم تصور کی جاتی ہے۔
وہ قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پڑھنے، اسے یاد کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کے ذریعے دوسروں کو نصیحت کرنے والا کبھی دلی پریشانی کا شکار نہیں ہوتا۔ قرآن سے کسی بھی قسم کا تعلق انسان کو بدبختی سے بچاتا ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس امت کے لیے ایک بہت بڑا اور انمول تحفہ ہے۔
مقرر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قرآن کو محض پڑھنا کافی نہیں بلکہ اسے اپنی زندگی کا رہنما اور ہر معاملے میں مرجع بنانا نہایت ضروری ہے۔ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو اسے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اور قرآن سے شفا طلب کرنی چاہیے۔ قرآن سے شفا حاصل نہ کرنا دراصل قرآن کو چھوڑ دینے (ہجرانِ قرآن) ہی کی ایک قسم تصور کی جاتی ہے۔
وہ قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پڑھنے، اسے یاد کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کے ذریعے دوسروں کو نصیحت کرنے والا کبھی دلی پریشانی کا شکار نہیں ہوتا۔ قرآن سے کسی بھی قسم کا تعلق انسان کو بدبختی سے بچاتا ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس امت کے لیے ایک بہت بڑا اور انمول تحفہ ہے۔
❤2🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس مختصر ویڈیو میں شیخ عبدالسلام الشویعی رمضان المبارک میں قیام اللیل اور نوافل کی اہمیت بیان کر رہے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان دنوں میں رات کی عبادت کا خاص اہتمام کرنا چاہیے، جس میں وتر اور باجماعت تراویح شامل ہیں۔
تاہم، شیخ ایک عام غلطی کی نشاندہی کرتے ہیں: بہت سے لوگ عشاء کی نماز کے بعد کی دو رکعت سنتِ مؤکدہ (راتبہ) پڑھنے میں سستی کرتے ہیں اور براہ راست تراویح شروع کر دیتے ہیں۔ علمائے کرام کے مطابق، نفلی نمازوں میں سب سے زیادہ فضیلت وتر کی ہے، اس کے بعد رواتب (فرض نمازوں کے ساتھ پڑھی جانے والی باقاعدہ سنتیں) اور پھر تراویح کا درجہ آتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ عشاء کے فوراً بعد پڑھی جانے والی دو رکعت سنتِ مؤکدہ کا ثواب دراصل تراویح کی دو رکعتوں سے زیادہ افضل ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ تراویح کے شوق میں ان اہم سنتوں کو نظر انداز نہ کرے اور ان کی پابندی کو سختی سے یقینی بنائے۔
تاہم، شیخ ایک عام غلطی کی نشاندہی کرتے ہیں: بہت سے لوگ عشاء کی نماز کے بعد کی دو رکعت سنتِ مؤکدہ (راتبہ) پڑھنے میں سستی کرتے ہیں اور براہ راست تراویح شروع کر دیتے ہیں۔ علمائے کرام کے مطابق، نفلی نمازوں میں سب سے زیادہ فضیلت وتر کی ہے، اس کے بعد رواتب (فرض نمازوں کے ساتھ پڑھی جانے والی باقاعدہ سنتیں) اور پھر تراویح کا درجہ آتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ عشاء کے فوراً بعد پڑھی جانے والی دو رکعت سنتِ مؤکدہ کا ثواب دراصل تراویح کی دو رکعتوں سے زیادہ افضل ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ تراویح کے شوق میں ان اہم سنتوں کو نظر انداز نہ کرے اور ان کی پابندی کو سختی سے یقینی بنائے۔
❤1🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں شیخ عبدالرزاق البدر ان لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو صرف رمضان کے مہینے میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ رمضان میں فجر کی نماز کے وقت مسجدیں بھری ہوتی ہیں اور چار پانچ صفیں مکمل ہوتی ہیں، لیکن رمضان کے بعد پہلی صف بھی بمشکل بھرتی ہے۔ شیخ سوال کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہاں چلے جاتے ہیں؟ کیا وہ کہیں اور منتقل ہو جاتے ہیں یا اسی محلے میں موجود رہتے ہیں؟
انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کیونکہ اصل عبرت اس بات میں ہے کہ رمضان گزرنے کے بعد انسان کے اعمال کیسے رہتے ہیں۔ سلف صالحین ایسے لوگوں کی مذمت کرتے تھے جن کا یہ حال ہوتا تھا۔ انہی میں سے کسی کا قول ہے کہ "وہ لوگ بہت برے ہیں جو اللہ کو صرف رمضان میں پہچانتے ہیں"۔ ایک اور قول ہے کہ "بیشک جو رمضان کا رب ہے، وہی تمام مہینوں کا رب ہے، اور سب مہینوں کا رب ایک ہی ہے"۔
آخر میں، شیخ نصیحت کرتے ہیں کہ اے وہ شخص جس نے رمضان میں اللہ کی بہترین عبادت کی، تجھے چاہیے کہ باقی تمام مہینوں میں بھی اللہ کی عبادت پر استقامت اختیار کرے۔
کیا آپ اس ویڈیو کے کسی خاص حصے کی مزید تفصیل جاننا چاہتے ہیں؟
انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کیونکہ اصل عبرت اس بات میں ہے کہ رمضان گزرنے کے بعد انسان کے اعمال کیسے رہتے ہیں۔ سلف صالحین ایسے لوگوں کی مذمت کرتے تھے جن کا یہ حال ہوتا تھا۔ انہی میں سے کسی کا قول ہے کہ "وہ لوگ بہت برے ہیں جو اللہ کو صرف رمضان میں پہچانتے ہیں"۔ ایک اور قول ہے کہ "بیشک جو رمضان کا رب ہے، وہی تمام مہینوں کا رب ہے، اور سب مہینوں کا رب ایک ہی ہے"۔
آخر میں، شیخ نصیحت کرتے ہیں کہ اے وہ شخص جس نے رمضان میں اللہ کی بہترین عبادت کی، تجھے چاہیے کہ باقی تمام مہینوں میں بھی اللہ کی عبادت پر استقامت اختیار کرے۔
کیا آپ اس ویڈیو کے کسی خاص حصے کی مزید تفصیل جاننا چاہتے ہیں؟
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ ویڈیو ماہِ رمضان کے تیزی سے گزر جانے اور اس کے اختتام پر گہرے دکھ اور جذباتی کیفیات کا خلاصہ پیش کرتی ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ رمضان ایک مہمان کی طرح ہمارے پاس آیا، اور ابھی ہم اس کی روحانیت اور برکات سے پوری طرح لطف اندوز ہونا شروع ہی ہوئے تھے کہ اس نے اپنا سامان باندھنا شروع کر دیا اور ہم سے رخصت ہونے لگا۔ اس مبارک مہینے کی جدائی بے حد تکلیف دہ اور کڑوی محسوس ہوتی ہے۔
مقرر اس بات پر گہری فکر کا اظہار کرتا ہے کہ کاش ہمیں یہ معلوم ہو سکے کہ اس مہینے میں ہم میں سے کون کامیاب ہوا اور کون خسارے میں رہا؟ کس کی عبادات اور نیکیاں اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوئیں اور کسے خالی ہاتھ لوٹا دیا گیا؟
ویڈیو میں اللہ تعالیٰ سے رحم کی دعائیں مانگی گئی ہیں اور التجا کی گئی ہے کہ رمضان کے جانے سے دلوں میں جو اداسی اور دکھ پیدا ہوا ہے، اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی لوگ رمضان کا چاند تلاش کر رہے تھے، اور آج ہم اس کے اختتام کا چاند دیکھنے کے بالکل قریب آ چکے ہیں۔ یہ مبارک دن اور راتیں بہت تیزی سے گزر گئیں۔
مقرر اس بات پر گہری فکر کا اظہار کرتا ہے کہ کاش ہمیں یہ معلوم ہو سکے کہ اس مہینے میں ہم میں سے کون کامیاب ہوا اور کون خسارے میں رہا؟ کس کی عبادات اور نیکیاں اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوئیں اور کسے خالی ہاتھ لوٹا دیا گیا؟
ویڈیو میں اللہ تعالیٰ سے رحم کی دعائیں مانگی گئی ہیں اور التجا کی گئی ہے کہ رمضان کے جانے سے دلوں میں جو اداسی اور دکھ پیدا ہوا ہے، اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی لوگ رمضان کا چاند تلاش کر رہے تھے، اور آج ہم اس کے اختتام کا چاند دیکھنے کے بالکل قریب آ چکے ہیں۔ یہ مبارک دن اور راتیں بہت تیزی سے گزر گئیں۔
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اے اللہ، ہمارے لیے ماہِ رمضان کا اختتام اپنی مغفرت کے ساتھ فرما، اور اپنی آگ سے آزادی کے ساتھ۔ اے اللہ، ہم پر رمضان کو کئی سالوں، اور طویل زمانوں تک، ایک خوشحال زندگی میں دوبارہ لوٹا۔
❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Eid Mubarak!
“Do not be like those who only worship Allah in Ramadan, for Allah is the Lord of Ramadan and all the months.” — Ibn Rajab al-Hanbali
Ramadan is a training ground, not a finish line. The one who truly benefits is the one whose obedience continues after it ends. Prayers, Qur’an, and remembrance should not disappear with the moon of Shawwal. Rather, they should remain part of daily life. Wretched is the person who knows Allah only in Ramadan and abandons Him afterward. True sincerity is shown by consistency. Stay firm upon worship, for Allah deserves to be remembered, obeyed, and loved every single day of the year.
“Do not be like those who only worship Allah in Ramadan, for Allah is the Lord of Ramadan and all the months.” — Ibn Rajab al-Hanbali
Ramadan is a training ground, not a finish line. The one who truly benefits is the one whose obedience continues after it ends. Prayers, Qur’an, and remembrance should not disappear with the moon of Shawwal. Rather, they should remain part of daily life. Wretched is the person who knows Allah only in Ramadan and abandons Him afterward. True sincerity is shown by consistency. Stay firm upon worship, for Allah deserves to be remembered, obeyed, and loved every single day of the year.
❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Surah Al Ahzāb 35
بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مرد اور مومن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، اور سچے مرد اور سچی عورتیں، اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں— اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مرد اور مومن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، اور سچے مرد اور سچی عورتیں، اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں— اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
❤3
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو کا خلاصہ یہ ہے کہ مقرر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلام میں "مذہبی پیشوا" یا "مذہبی آدمی" کا کوئی خاص طبقہ نہیں ہے جیسا کہ دیگر مذاہب میں پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، روئے زمین پر موجود ہر مسلمان مرد اور عورت بنیادی طور پر دین دار ہیں۔ فرق صرف ان کے ایمان کی مضبوطی اور دین پر عمل کی سطح میں ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کا دین زیادہ مضبوط ہوتا ہے، جبکہ کچھ کا کمزور ہوتا ہے۔
اس بات کی مزید وضاحت کے لیے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مشہور حدیث کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس حدیث کے مطابق، ایمان کی ستر (یا ایک اور روایت کے مطابق ساٹھ) سے زائد شاخیں ہیں۔ ان تمام شاخوں میں سب سے اعلیٰ اور افضل درجہ اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ "there is no deity worthy of worship except Allah"۔ اور ایمان کا سب سے نچلا درجہ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے۔ اس کے علاوہ، حیا کو بھی ایمان کا ایک اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
مختصر یہ کہ اسلام میں ہر مسلمان دین کا حصہ ہے اور اس کی دین داری اس کے ذاتی اعمال اور ایمان سے ظاہر ہوتی ہے۔
اس بات کی مزید وضاحت کے لیے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مشہور حدیث کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس حدیث کے مطابق، ایمان کی ستر (یا ایک اور روایت کے مطابق ساٹھ) سے زائد شاخیں ہیں۔ ان تمام شاخوں میں سب سے اعلیٰ اور افضل درجہ اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ "there is no deity worthy of worship except Allah"۔ اور ایمان کا سب سے نچلا درجہ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے۔ اس کے علاوہ، حیا کو بھی ایمان کا ایک اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
مختصر یہ کہ اسلام میں ہر مسلمان دین کا حصہ ہے اور اس کی دین داری اس کے ذاتی اعمال اور ایمان سے ظاہر ہوتی ہے۔
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آیۃ الکرسی (ترجمہ)
اللہ (وہ معبودِ برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ زندہ ہے اور سب کو تھامنے والا ہے۔
نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔
جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اسی کا ہے۔
کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس سفارش کر سکے؟
جو کچھ لوگوں کے سامنے ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ہو چکا) ہے، وہ سب کو جانتا ہے۔
اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے، مگر جتنا وہ خود چاہے۔
اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اور اسے ان دونوں کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں گزتی۔
اور وہ بہت بلند رتبہ اور بڑی عظمت والا ہے۔
اللہ (وہ معبودِ برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ زندہ ہے اور سب کو تھامنے والا ہے۔
نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔
جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اسی کا ہے۔
کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس سفارش کر سکے؟
جو کچھ لوگوں کے سامنے ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ہو چکا) ہے، وہ سب کو جانتا ہے۔
اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے، مگر جتنا وہ خود چاہے۔
اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اور اسے ان دونوں کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں گزتی۔
اور وہ بہت بلند رتبہ اور بڑی عظمت والا ہے۔
❤3
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سخت دل کا علاج
۱. کثرت سے قرآن کی تلاوت اور اس میں تدبر:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "پس تباہی ہے ان کے لیے جن کے دل اللہ کے ذکر سے سخت ہو گئے ہیں۔" ابن عبد القوی رحمہ اللہ نے فرمایا: "قرآن کے سبق کی پابندی کرو، کیونکہ یہ پتھر جیسے سخت دل کو بھی نرم کر دیتا ہے۔"
۲. سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ:
مثلاً سیرت ابن ہشام، البدایہ والنہایہ، اور زاد المعاد۔ سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ انسان کے ایمان میں اضافہ کرتا ہے، دل میں خشوع پیدا کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی محبت بڑھاتا ہے۔
۳. سلف صالحین کا راستہ اختیار کرنا:
وہ لوگ جنہیں زہد، تقویٰ اور آخرت کی رغبت کا علم دیا گیا۔ جب انسان ان کے بارے میں پڑھتا ہے تو وہ ضرور ان سے متاثر ہوتا ہے۔
۴. دنیا کے تعلق سے دوری:
دنیا دل کو مشغول کر دیتی ہے، اور اگر دل اس سے جڑ جائے تو وہ مر جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہیں۔" اگر آپ دل کو مال کی محبت اور دنیا کے تعلق سے بھر دیں گے، تو وہ اللہ کے ذکر اور اس کی خشیت سے خالی ہو جائے گا۔
Sirf 2000 rs/month me easily Arabic seekhein!
Abhi join karein
Nusriacademy.com
۱. کثرت سے قرآن کی تلاوت اور اس میں تدبر:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "پس تباہی ہے ان کے لیے جن کے دل اللہ کے ذکر سے سخت ہو گئے ہیں۔" ابن عبد القوی رحمہ اللہ نے فرمایا: "قرآن کے سبق کی پابندی کرو، کیونکہ یہ پتھر جیسے سخت دل کو بھی نرم کر دیتا ہے۔"
۲. سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ:
مثلاً سیرت ابن ہشام، البدایہ والنہایہ، اور زاد المعاد۔ سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ انسان کے ایمان میں اضافہ کرتا ہے، دل میں خشوع پیدا کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی محبت بڑھاتا ہے۔
۳. سلف صالحین کا راستہ اختیار کرنا:
وہ لوگ جنہیں زہد، تقویٰ اور آخرت کی رغبت کا علم دیا گیا۔ جب انسان ان کے بارے میں پڑھتا ہے تو وہ ضرور ان سے متاثر ہوتا ہے۔
۴. دنیا کے تعلق سے دوری:
دنیا دل کو مشغول کر دیتی ہے، اور اگر دل اس سے جڑ جائے تو وہ مر جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہیں۔" اگر آپ دل کو مال کی محبت اور دنیا کے تعلق سے بھر دیں گے، تو وہ اللہ کے ذکر اور اس کی خشیت سے خالی ہو جائے گا۔
Sirf 2000 rs/month me easily Arabic seekhein!
Abhi join karein
Nusriacademy.com
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں شیخ عبدالرزاق البدر بچوں کو ایک انتہائی اہم حدیث سکھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ والدین، اساتذہ اور مربیوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو اس حدیث کی تعلیم دیں اور اس کے عظیم معانی و رہنمائی سے روشناس کرائیں۔ وہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ بہت سے لوگ اس سے ناواقف ہیں۔
اس کے بعد وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی مشہور حدیث بیان کرتے ہیں، جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اے لڑکے! میں تمہیں چند کلمات سکھاتا ہوں: اللہ کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا۔ اللہ کی حفاظت کرو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب تم کچھ مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، اور جب مدد طلب کرو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو۔ جان لو کہ اگر پوری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کوئی نفع پہنچانا چاہے، تو وہ تمہیں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ اور اگر وہ سب مل کر تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہیں، تو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔"
🌷🌷
Nusriacademy.com
Join now!
اس کے بعد وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی مشہور حدیث بیان کرتے ہیں، جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اے لڑکے! میں تمہیں چند کلمات سکھاتا ہوں: اللہ کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا۔ اللہ کی حفاظت کرو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب تم کچھ مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، اور جب مدد طلب کرو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو۔ جان لو کہ اگر پوری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کوئی نفع پہنچانا چاہے، تو وہ تمہیں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ اور اگر وہ سب مل کر تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہیں، تو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔"
🌷🌷
Nusriacademy.com
Join now!
❤3🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آپ کہہ دیجیے کہ میں اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، مگر جتنا اللہ چاہے۔ ہر قوم کے لیے ایک وقت (مقرر) ہے، جب ان کا وہ وقت آجاتا ہے تو نہ وہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
❤4
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں شیخ بدر الترکی انتہائی جذباتی انداز میں اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان تعلق کی حقیقت کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ اس بنیادی بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ رب العزت کی ذات بے نیاز ہے؛ اسے نہ تو ہماری ضرورت ہے اور نہ ہی ہمارے اعمال کی۔ اس کے برعکس، حقیقت یہ ہے کہ ہم انسان ہر لمحہ اور ہر حال میں اپنے پروردگار کے شدید محتاج ہیں۔
اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے شیخ نے قرآن مجید کی ایک آیت کا مفہوم بیان کیا ہے، جس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اپنے اسلام لانے کو اللہ پر احسان تصور کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغام دیا کہ اپنے اسلام لانے کا احسان نہ جتاؤ، بلکہ یہ اللہ کا تم پر بہت بڑا احسان اور فضل ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی راہ دکھائی، بشرطیکہ تم سچے ہو۔
مزید برآں، شیخ فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں خلوص اور بھلائی دیکھے گا، تو وہ ہمیں بہترین صلہ عطا فرمائے گا۔ ویڈیو کے اختتام پر وہ مسلمانوں کو ایک انتہائی اہم نصیحت کرتے ہیں کہ اپنے رب کے ساتھ پوری طرح مخلص ہو جائیں، دنیا کے عارضی مقاصد کے بجائے صرف اللہ کی رضا کو اپنا اصل ہدف بنائیں، اور جنت کو اپنی آخری منزل سمجھ کر تیاری کریں۔
اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے شیخ نے قرآن مجید کی ایک آیت کا مفہوم بیان کیا ہے، جس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اپنے اسلام لانے کو اللہ پر احسان تصور کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغام دیا کہ اپنے اسلام لانے کا احسان نہ جتاؤ، بلکہ یہ اللہ کا تم پر بہت بڑا احسان اور فضل ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی راہ دکھائی، بشرطیکہ تم سچے ہو۔
مزید برآں، شیخ فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں خلوص اور بھلائی دیکھے گا، تو وہ ہمیں بہترین صلہ عطا فرمائے گا۔ ویڈیو کے اختتام پر وہ مسلمانوں کو ایک انتہائی اہم نصیحت کرتے ہیں کہ اپنے رب کے ساتھ پوری طرح مخلص ہو جائیں، دنیا کے عارضی مقاصد کے بجائے صرف اللہ کی رضا کو اپنا اصل ہدف بنائیں، اور جنت کو اپنی آخری منزل سمجھ کر تیاری کریں۔
❤2🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Whoever says these words, Allaah will open doors for him!
"اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَبَرَّأُ مِنْ حَوْلِي وَقُوَّتِي، وَأَلْتَجِئُ إِلَى حَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، اللَّهُمَّ أَعِنِّي وَلا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي"
"اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَبَرَّأُ مِنْ حَوْلِي وَقُوَّتِي، وَأَلْتَجِئُ إِلَى حَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، اللَّهُمَّ أَعِنِّي وَلا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي"
❤1🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شیخ عبدالسلام الشويعر نماز کے دوران رکوع سے اٹھنے کے بعد پڑھی جانے والی دعاؤں کے شرعی احکام پر تفصیلی روشنی ڈال رہے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق، نماز کی امامت کرنے والے (امام) اور اکیلے نماز پڑھنے والے شخص (منفرد) کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ دونوں کلمات ادا کریں: یعنی رکوع سے اٹھتے وقت "سمع الله لمن حمده" (تسمیع) اور مکمل سیدھا کھڑا ہونے کے بعد "ربنا ولك الحمد" (تحمید) کہیں۔
دوسری جانب، جو شخص امام کے پیچھے باجماعت نماز ادا کر رہا ہو (مقتدی)، اس کے لیے صرف "ربنا ولك الحمد" کہنا ہی مشروع ہے۔ اس کی مضبوط دلیل نبی اکرم ﷺ کی وہ واضح حدیث ہے جس میں آپ نے ہدایت فرمائی کہ جب امام "سمع الله لمن حمده" کہے، تو تم جواب میں "ربنا ولك الحمد" کہو۔
مقتدی کے درمیان اس عمل میں دو بنیادی فرق بیان کیے ہیں:
امام تسمیع اور تحمید دونوں کلمات ادا کرتا ہے، جبکہ مقتدی صرف تحمید پڑھتا ہے۔
امام حالتِ انتقال (یعنی رکوع سے اٹھنے کی حرکت) کے دوران تسمیع کہتا ہے اور سیدھا کھڑے ہونے پر تحمید پڑھتا ہے۔ جبکہ مقتدی، امام کے برعکس، حرکت کے دوران ہی "ربنا ولك الحمد" کہہ لیتا ہے، جو اس کے لیے تکبیرِ انتقال کا متبادل بن جاتا ہے۔
دوسری جانب، جو شخص امام کے پیچھے باجماعت نماز ادا کر رہا ہو (مقتدی)، اس کے لیے صرف "ربنا ولك الحمد" کہنا ہی مشروع ہے۔ اس کی مضبوط دلیل نبی اکرم ﷺ کی وہ واضح حدیث ہے جس میں آپ نے ہدایت فرمائی کہ جب امام "سمع الله لمن حمده" کہے، تو تم جواب میں "ربنا ولك الحمد" کہو۔
مقتدی کے درمیان اس عمل میں دو بنیادی فرق بیان کیے ہیں:
امام تسمیع اور تحمید دونوں کلمات ادا کرتا ہے، جبکہ مقتدی صرف تحمید پڑھتا ہے۔
امام حالتِ انتقال (یعنی رکوع سے اٹھنے کی حرکت) کے دوران تسمیع کہتا ہے اور سیدھا کھڑے ہونے پر تحمید پڑھتا ہے۔ جبکہ مقتدی، امام کے برعکس، حرکت کے دوران ہی "ربنا ولك الحمد" کہہ لیتا ہے، جو اس کے لیے تکبیرِ انتقال کا متبادل بن جاتا ہے۔
🕊1