This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2011 میں جس دن ایک اسرائیلی فوجی گلعاد شالیط کی رہائی کے بدلے 1027 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا گیا، تو جب ان کی بسیں فلسطینی کراسنگ پر پہنچیں، تو ابو محمد الجباری جو سرایا القدس کے کمانڈر تھے اور اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے عسکری ونگ ، اور انکو حماس تحریک کا چیف آف اسٹاف کہا جاتا تھا اور 2011 کے معاہدے میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت تھے، اللہ ان پر رحم کرے، ان کے ایک ساتھی نے قیدی کے رہائی کے دن کہا: "اللہ آپ کو لمبی عمر عطا فرمائے، ابو محمد، اور آپ کی آنکھیں وفا الاحرار 2 کے معاہدوں سے خوش ہوں۔"
ایک معاہدہ تو انھوں دیکھ لیا تھا اور 2012 میں شہید ہوگئے لیکن دوسرا معاہدہ انکے لوگوں نے پورا کردیا جو وہ چھوڑ گئے قسامی بھائیوں نے اسے پورا کیا۔
(الحمدللہ)
#وفا_الاحرار
*(بنت العسكري)*
ایک معاہدہ تو انھوں دیکھ لیا تھا اور 2012 میں شہید ہوگئے لیکن دوسرا معاہدہ انکے لوگوں نے پورا کردیا جو وہ چھوڑ گئے قسامی بھائیوں نے اسے پورا کیا۔
(الحمدللہ)
#وفا_الاحرار
*(بنت العسكري)*
❤1
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
خدا کی قسم ظلم کی شام چاہے کتنی ہی لمبی ہو جائے اور کتنی ہی اندھیری ہو جائے۔
چاہے ہمارے درد اور زخم کتنے ہی تکلیف دہ ہوں،
اور اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ تم ہم پر کتنے ہی وار کرو۔۔۔۔
نہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ تم ہم میں سے کتنوں کو مار ڈالو ۔۔۔
پر نئی صبح طلوع ہوگی... اور ہم اپنے قرض کا بدلہ لیں گے۔
اور ہمارا رب ہماری مدد کرے گا...کیونکہ اس نے ہم سے فتح کا وعدہ کیا ہے۔۔۔۔
ہمارے انتقام کی آگ انہیں جلا دے گی...
ہمارے بعد نسلیں ابھریں گی...اور جو ہم نے شروع کیا اسے ختم کریں گے۔
جہاں ہم سجدہ ریز ہونے کیلئے کٹتے رہے وہی پر ہماری آنے والی نسلیں سجدہ ریز ہونگی۔۔۔
*(بنت العسكري)*
چاہے ہمارے درد اور زخم کتنے ہی تکلیف دہ ہوں،
اور اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ تم ہم پر کتنے ہی وار کرو۔۔۔۔
نہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ تم ہم میں سے کتنوں کو مار ڈالو ۔۔۔
پر نئی صبح طلوع ہوگی... اور ہم اپنے قرض کا بدلہ لیں گے۔
اور ہمارا رب ہماری مدد کرے گا...کیونکہ اس نے ہم سے فتح کا وعدہ کیا ہے۔۔۔۔
ہمارے انتقام کی آگ انہیں جلا دے گی...
ہمارے بعد نسلیں ابھریں گی...اور جو ہم نے شروع کیا اسے ختم کریں گے۔
جہاں ہم سجدہ ریز ہونے کیلئے کٹتے رہے وہی پر ہماری آنے والی نسلیں سجدہ ریز ہونگی۔۔۔
*(بنت العسكري)*
قابض فوج نے جبالیہ کیمپ کے وسط میں ابو رشید پول کے قریب اپنے فوجیوں کا ایک ویڈیو کلپ شائع کی ہے۔
جس میں کہا گیا ہے ہماری بہادر فوج نے مزاحمت (حم°اس) کا سامنا کیا اور ان کو شکست دی.
میرا سوال یہ ہے کہ بقول قابض فوج کے یہ ایک بہادرانہ کاروائی تھی تو اس مقابلے میں مزاحمتی جنگجو کہاں ہیں؟ ان کے شہید ہونے والے افراد کے لاشے کہاں ہیں؟
*اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ قابض فوج کو ایسی لایعنی ویڈیو بنانے کی ضرورت کیا تھی؟ اس کا قابض فوج کو کیا فائدہ ہوا*
تو ہم آپ کو ابتداء سے بتا رہے ہیں یہ زمینی جنگ کے ساتھ ساتھ میڈیا وار بھی ہے
قابض فوج کی جانب سے جنگ کی ابتداء سے ہی ایسے ویڈیوز اور تصاویر شیئر ہورہی ہیں.
پہلے وہ تصاویر اور ویڈیوز شیئر ہوتی تھی جو مزاحمت (حم°اس) کے حملے کی تھی
جس کو یہ بتا کر پھیلایا گیا کہ مزاحمت (حم°اس) نے شہری آبادی پہ حملہ کیا ہے جب کے یہ حملہ قابض فوج کے بیس کیمپ اور ان کے اڈوں پہ ہوا تھا.خود کو مظلوم ظاہر کرکے ہر طرح کی عالمی ہمدردی سمیٹی اس دوران قابض نے غزہ کے نہتے شہریوں پہ کیا کیا وہ سب پس پردہ چلا گیا 🙂
*جس کا نتیجہ یہ نکلا بڑے چھوٹے، اپنے پراۓ ہر ایک نے یہ کہنا شروع کردیا کہ مزاحمت (حم°اس) کی یہ کارروائی غلط تھی یہ ہمیشہ ایسے کرتے ہیں اور اس کا نقصان فلسطین کو ہوتا بیشتر کا تو اب بھی یہی کہنا ہے جب کہ جنگ بندی کے دوران آپ لوگوں سے وہ ویڈیوز بھی شیئر کی گئ جو فلسطین کے مختلف علاقوں کی تھیں جہاں قابض کی کارروائیاں ویسے ہی جاری تھی*
پھر اس کے بعد طریقہ بدلا جب لوگوں نے غزہ میں ہونے والے ظلم و ستم کی ویڈیوز اور تصاویر دنیا کو دکھانا شروع کی اب یہ ایسے جھوٹے مقابلے کی ویڈیوز شیئر کرکے نفسیاتی حربے آزما رہے کہ مسلمان اور خصوصاً غزہ کے بہادر لوگ جو سب کچھ کٹا اور لٹا کے بھی مجاہدین کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کروا رہے ان کےاور بقیہ اہل اسلام جو غزہ کا دکھ محسوس کررہے جو غزہ کے لیے آواز اٹھا رہے ان کے حوصلے پست کیے جائیں.....
یہ ان تمام لوگوں کے سوال کا جواب ہے جو کہتے سوشل میڈیا کا کیا فائدہ ہمارے لکھنے بولنے سے غزہ والوں کی کیا مدد ہونی....
کم سے کم اپنے بزدل دشمن سے ہی وار کرنا سیکھ لیں کہ اگر اس میڈیا پلیٹ فارم کی حیثیت ثانوی ہوتی تو
▫️یہ لوگ غزہ میں نیٹ کنیکشن کیوں بند کرتے؟
▫️ایسی ویڈیوز بنا کے اتنا اسلحہ اس تماشے کے لیے بھلا کیوں ضائع کرتے؟
▫️واٹس ایپ، فیس بک پہ ہم جیسے عام لوگوں جن کے پاس بظاہر کوئ قوت نہیں ان کے سوشل اکاؤنٹ جو فلسطین اور غزہ کے لیے آواز بلند کررہے تھے کیوں بین ہوتے؟
تھوڑا نہیں مکمل سوچیے گا
قلم
مال
اور جو اس راہ میں چل رہے ان کے لیے دعاؤں کی صورت اپنا ساتھ یقینی بنائیے گا
القدس لنا
والأرض لنا
والله بقوته معنا
✍🏻 *اُخت و بنت شہــــد🇵🇰🇵🇸*
جس میں کہا گیا ہے ہماری بہادر فوج نے مزاحمت (حم°اس) کا سامنا کیا اور ان کو شکست دی.
میرا سوال یہ ہے کہ بقول قابض فوج کے یہ ایک بہادرانہ کاروائی تھی تو اس مقابلے میں مزاحمتی جنگجو کہاں ہیں؟ ان کے شہید ہونے والے افراد کے لاشے کہاں ہیں؟
*اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ قابض فوج کو ایسی لایعنی ویڈیو بنانے کی ضرورت کیا تھی؟ اس کا قابض فوج کو کیا فائدہ ہوا*
تو ہم آپ کو ابتداء سے بتا رہے ہیں یہ زمینی جنگ کے ساتھ ساتھ میڈیا وار بھی ہے
قابض فوج کی جانب سے جنگ کی ابتداء سے ہی ایسے ویڈیوز اور تصاویر شیئر ہورہی ہیں.
پہلے وہ تصاویر اور ویڈیوز شیئر ہوتی تھی جو مزاحمت (حم°اس) کے حملے کی تھی
جس کو یہ بتا کر پھیلایا گیا کہ مزاحمت (حم°اس) نے شہری آبادی پہ حملہ کیا ہے جب کے یہ حملہ قابض فوج کے بیس کیمپ اور ان کے اڈوں پہ ہوا تھا.خود کو مظلوم ظاہر کرکے ہر طرح کی عالمی ہمدردی سمیٹی اس دوران قابض نے غزہ کے نہتے شہریوں پہ کیا کیا وہ سب پس پردہ چلا گیا 🙂
*جس کا نتیجہ یہ نکلا بڑے چھوٹے، اپنے پراۓ ہر ایک نے یہ کہنا شروع کردیا کہ مزاحمت (حم°اس) کی یہ کارروائی غلط تھی یہ ہمیشہ ایسے کرتے ہیں اور اس کا نقصان فلسطین کو ہوتا بیشتر کا تو اب بھی یہی کہنا ہے جب کہ جنگ بندی کے دوران آپ لوگوں سے وہ ویڈیوز بھی شیئر کی گئ جو فلسطین کے مختلف علاقوں کی تھیں جہاں قابض کی کارروائیاں ویسے ہی جاری تھی*
پھر اس کے بعد طریقہ بدلا جب لوگوں نے غزہ میں ہونے والے ظلم و ستم کی ویڈیوز اور تصاویر دنیا کو دکھانا شروع کی اب یہ ایسے جھوٹے مقابلے کی ویڈیوز شیئر کرکے نفسیاتی حربے آزما رہے کہ مسلمان اور خصوصاً غزہ کے بہادر لوگ جو سب کچھ کٹا اور لٹا کے بھی مجاہدین کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کروا رہے ان کےاور بقیہ اہل اسلام جو غزہ کا دکھ محسوس کررہے جو غزہ کے لیے آواز اٹھا رہے ان کے حوصلے پست کیے جائیں.....
یہ ان تمام لوگوں کے سوال کا جواب ہے جو کہتے سوشل میڈیا کا کیا فائدہ ہمارے لکھنے بولنے سے غزہ والوں کی کیا مدد ہونی....
کم سے کم اپنے بزدل دشمن سے ہی وار کرنا سیکھ لیں کہ اگر اس میڈیا پلیٹ فارم کی حیثیت ثانوی ہوتی تو
▫️یہ لوگ غزہ میں نیٹ کنیکشن کیوں بند کرتے؟
▫️ایسی ویڈیوز بنا کے اتنا اسلحہ اس تماشے کے لیے بھلا کیوں ضائع کرتے؟
▫️واٹس ایپ، فیس بک پہ ہم جیسے عام لوگوں جن کے پاس بظاہر کوئ قوت نہیں ان کے سوشل اکاؤنٹ جو فلسطین اور غزہ کے لیے آواز بلند کررہے تھے کیوں بین ہوتے؟
تھوڑا نہیں مکمل سوچیے گا
قلم
مال
اور جو اس راہ میں چل رہے ان کے لیے دعاؤں کی صورت اپنا ساتھ یقینی بنائیے گا
القدس لنا
والأرض لنا
والله بقوته معنا
✍🏻 *اُخت و بنت شہــــد🇵🇰🇵🇸*
❤1👍1
غزہ کے لوگوں نے صبح کے آغاز کے ساتھ اپنے شہداء کے ایک نئے گروپ کو الوداع کیا جو خان یونس پر جاری قبضے کے حملوں میں شہید ہوئے ہیں
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
غزہ کی پٹی میں قابض فوج کے حملوں سے پہلے یہ بچے پرسکون نیند سورہے تھے اپنے گھروں میں لیکن قابض جنگی طیاروں کے میزائلوں نے انکو ہمیشہ کی نیند سلا دیا 💔
14 جنوری یوم شہادت ریم صالح الریاشی
ریم صالح الریاشی 1981 ء میں غز°ہ شہر میں پیدا ہوئیں، ابتدائی تعلیم انھوں نے غز•ہ سے ہی حاصل کی تھی
ریم الریاشی کی خاندانی زندگی فلسطی°نی عوام کے عظیم مقصد سے الگ نہیں تھی، اس نے یہ شرط رکھ کر شادی کی کہ جب وہ شادی کرے گی تو اس کے شوہر کو جہا°د کے لیے نکلنے پر اعتراض نہیں ہوگا، اسکے شوق اور جذبے کو دیکھتے ہوئے اسکے شوہر نے خوشی سے رضامندی ظاہر کی۔
ریم الریاشی آٹھویں فلسطین°ی خودکش خاتون بمبار تھی ریم الریاشی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہودیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہونا تیرہ سال کی عمر سے اس کا خواب تھا۔ میری ہمیشہ سے یہ خواہش تھی میں شہیدی کاروائی کرنے والی پہلی خاتون بنوں۔
جس وقت ریم الریاشی شہید ہوئے اس وقت اسکے دو بچے تھے ایک بیٹا عبیدہ جو ڈھائی سال کا تھا اور دوسری بیٹی ضحیٰ جو ابھی صرف اٹھارہ ماہ کی تھی
ریم الریاشی نے تحریک حما°س کی قیادت پر اصرار کیا کہ وہ شہادت کی کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے اپنا نام درج کروانا چاہتی ہیں، شوہر کی اجازت کے بعد وہ ان پہلی خواتین جنگجوؤں میں سے ایک تھیں جنہوں نے آپریشنز میں جانے کے لیے اپنا نام درج کرایا، اور پھر ریم کو پہلی فدائی کارروائی انجام دینے کی منظوری ملی۔
الریاشی 14جنوری 2004 میں بیت حنون چوکی پر ایک جرات مندانہ آپریشن میں شہید ہوئی تھی
۔ ریم نے خود کو ایک دھماکہ خیز بیلٹ سے مسلح کیا جسے اس نے اپنی ٹانگ اور کمر کے گرد لپیٹ لیا، بیساکھیوں پر چلتی ہوئی اپنے ہدف کی طرف بڑھنے لگی
باقی خواتین کی طرح ریم بھی اپنے راستے پر چلنے لگی جو کہ بہت سے صہیونی حفاظتی اقدامات میں گھری ہوئی تھی جیسے ہی اس نے الیکٹرانک چیکنگ ڈیوائس پاس کی، اس نے یہ اشارہ دیا کہ فائٹر ریم کے ساتھ دھاتی چیزیں موجود ہیں، اور یہاں، ریم کی اعلیٰ جرأت اور ہمت جو حد سے بڑھ گئی تھی نمودار ہوئی اور اس نے فوجیوں کو اعتماد کے ساتھ اور کسی الجھن کے بغیر کہا کہ اس کی ٹانگ میں پلاٹینم کا ایک ٹکڑا لگا ہوا ہے جو الیکٹرانک سگنل کا سبب بنتا ہے چاہیں تو تسلی کرلیں۔ فوجی اسے ایک خصوصی معائنہ کے کمرے میں لے گئے۔ اس کے لیے خصوصی سیکیورٹی چیک کرنے کے لیے، جہاں وہ کسی بھی قسم کی مداخلت کے بغیر چیکنگ کرسکتے تھے،ریم کو اپنے ارد گرد صہیونی فوجیوں کی کثرت بھی نظر آرہی تھی، اور اس نے سوچا کہ یہ اپنے مشن کو پورا کرنے کا موقع ہے۔ تو اس نے ٹرگر دبایا، دھماکہ خیز بیلٹ ایک دم سے پھٹا اور الریاشی کے جسم کو بکھیرتے ہوئے کئی ٹکڑوں میں تبدیل کر گیا اور صہیونیوں کی زندگی کو جہنم بنا گیا
اس آپریشن میں چار صہونی مارے گئے اور لاتعداد زخمی ہوئے
اس آپریشن کو فدائی کاروائیوں کی سب سے مضبوط کارروائیوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا جس نے (اسرائ°یل) کی سیکورٹی اور افواج کو شدید دھچکا پہنچایا تھا)۔
دو بچوں کی ماں الریاشی کی شہادت نے بڑے پیمانے پر عوامی تنازعہ کو جنم دیا، جس کی وجہ سے فلسطین کی ایک بڑی تعداد خواتین نے اپنی شہادتوں کی درخواستیں جمع کروانا شروع کی
ریم الریاشی کی شہادت نے فلسطین°ی خواتین میں خولہ اور صفیہ کی روایتیں اجاگر کرنے کا جذبہ اور شوق بڑھا دیا اور اسکے بعد کئی فریڈم فی میل فائٹرز ریم الریاشی کے نقش قدم پر چل نکلی
18 سال بیت جانے کے بعد بھی شہیدِ غز°ہ کے نام سے جاننے جانے والی ریم الریاشی اسرائی°ل کو دہشت زدہ کردیتی ہے ۔
✍️#حدیفہ_رضاء
ریم صالح الریاشی 1981 ء میں غز°ہ شہر میں پیدا ہوئیں، ابتدائی تعلیم انھوں نے غز•ہ سے ہی حاصل کی تھی
ریم الریاشی کی خاندانی زندگی فلسطی°نی عوام کے عظیم مقصد سے الگ نہیں تھی، اس نے یہ شرط رکھ کر شادی کی کہ جب وہ شادی کرے گی تو اس کے شوہر کو جہا°د کے لیے نکلنے پر اعتراض نہیں ہوگا، اسکے شوق اور جذبے کو دیکھتے ہوئے اسکے شوہر نے خوشی سے رضامندی ظاہر کی۔
ریم الریاشی آٹھویں فلسطین°ی خودکش خاتون بمبار تھی ریم الریاشی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہودیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہونا تیرہ سال کی عمر سے اس کا خواب تھا۔ میری ہمیشہ سے یہ خواہش تھی میں شہیدی کاروائی کرنے والی پہلی خاتون بنوں۔
جس وقت ریم الریاشی شہید ہوئے اس وقت اسکے دو بچے تھے ایک بیٹا عبیدہ جو ڈھائی سال کا تھا اور دوسری بیٹی ضحیٰ جو ابھی صرف اٹھارہ ماہ کی تھی
ریم الریاشی نے تحریک حما°س کی قیادت پر اصرار کیا کہ وہ شہادت کی کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے اپنا نام درج کروانا چاہتی ہیں، شوہر کی اجازت کے بعد وہ ان پہلی خواتین جنگجوؤں میں سے ایک تھیں جنہوں نے آپریشنز میں جانے کے لیے اپنا نام درج کرایا، اور پھر ریم کو پہلی فدائی کارروائی انجام دینے کی منظوری ملی۔
الریاشی 14جنوری 2004 میں بیت حنون چوکی پر ایک جرات مندانہ آپریشن میں شہید ہوئی تھی
۔ ریم نے خود کو ایک دھماکہ خیز بیلٹ سے مسلح کیا جسے اس نے اپنی ٹانگ اور کمر کے گرد لپیٹ لیا، بیساکھیوں پر چلتی ہوئی اپنے ہدف کی طرف بڑھنے لگی
باقی خواتین کی طرح ریم بھی اپنے راستے پر چلنے لگی جو کہ بہت سے صہیونی حفاظتی اقدامات میں گھری ہوئی تھی جیسے ہی اس نے الیکٹرانک چیکنگ ڈیوائس پاس کی، اس نے یہ اشارہ دیا کہ فائٹر ریم کے ساتھ دھاتی چیزیں موجود ہیں، اور یہاں، ریم کی اعلیٰ جرأت اور ہمت جو حد سے بڑھ گئی تھی نمودار ہوئی اور اس نے فوجیوں کو اعتماد کے ساتھ اور کسی الجھن کے بغیر کہا کہ اس کی ٹانگ میں پلاٹینم کا ایک ٹکڑا لگا ہوا ہے جو الیکٹرانک سگنل کا سبب بنتا ہے چاہیں تو تسلی کرلیں۔ فوجی اسے ایک خصوصی معائنہ کے کمرے میں لے گئے۔ اس کے لیے خصوصی سیکیورٹی چیک کرنے کے لیے، جہاں وہ کسی بھی قسم کی مداخلت کے بغیر چیکنگ کرسکتے تھے،ریم کو اپنے ارد گرد صہیونی فوجیوں کی کثرت بھی نظر آرہی تھی، اور اس نے سوچا کہ یہ اپنے مشن کو پورا کرنے کا موقع ہے۔ تو اس نے ٹرگر دبایا، دھماکہ خیز بیلٹ ایک دم سے پھٹا اور الریاشی کے جسم کو بکھیرتے ہوئے کئی ٹکڑوں میں تبدیل کر گیا اور صہیونیوں کی زندگی کو جہنم بنا گیا
اس آپریشن میں چار صہونی مارے گئے اور لاتعداد زخمی ہوئے
اس آپریشن کو فدائی کاروائیوں کی سب سے مضبوط کارروائیوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا جس نے (اسرائ°یل) کی سیکورٹی اور افواج کو شدید دھچکا پہنچایا تھا)۔
دو بچوں کی ماں الریاشی کی شہادت نے بڑے پیمانے پر عوامی تنازعہ کو جنم دیا، جس کی وجہ سے فلسطین کی ایک بڑی تعداد خواتین نے اپنی شہادتوں کی درخواستیں جمع کروانا شروع کی
ریم الریاشی کی شہادت نے فلسطین°ی خواتین میں خولہ اور صفیہ کی روایتیں اجاگر کرنے کا جذبہ اور شوق بڑھا دیا اور اسکے بعد کئی فریڈم فی میل فائٹرز ریم الریاشی کے نقش قدم پر چل نکلی
18 سال بیت جانے کے بعد بھی شہیدِ غز°ہ کے نام سے جاننے جانے والی ریم الریاشی اسرائی°ل کو دہشت زدہ کردیتی ہے ۔
✍️#حدیفہ_رضاء
❤1
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
*اے اللہ ہمارے لیے بارش کو آسان فرما،اے اللہ ہم ڈوب رہے ہیں۔۔۔*
غزہ کے لوگوں کیلئے آزمائشیں بڑھتی جارہی ہیں اپنوں کی شہادتیں،بے گھری،زخمی، آگ برساتا آسمان اور قبضے کے ظلم کی انتہا میں غزہ کے لوگوں کیلئے بارش کی آمد جو انکے لئے ایک نئی مشکل لیکر آئی ایک سال سے استعمال ہونے والے خیمے جن میں اہل غزہ نے سرد موسم بھی گزارا اور گرم اور اب پھر سے سردیوں کی آمد ہے یہ خیمے اب بوسیدہ ہوچکیں ہیں اور اہل غزہ کو چھت فراہم کرنے سے قاصر ہیں ایسے میں بارش نے انکے مصائب میں مزید اضافہ کردیا ۔۔💔
Follow the مرابطون الاقصیٰ/صدائے اقصیٰ channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VaiElRjGZND044MTIe0G
غزہ کے لوگوں کیلئے آزمائشیں بڑھتی جارہی ہیں اپنوں کی شہادتیں،بے گھری،زخمی، آگ برساتا آسمان اور قبضے کے ظلم کی انتہا میں غزہ کے لوگوں کیلئے بارش کی آمد جو انکے لئے ایک نئی مشکل لیکر آئی ایک سال سے استعمال ہونے والے خیمے جن میں اہل غزہ نے سرد موسم بھی گزارا اور گرم اور اب پھر سے سردیوں کی آمد ہے یہ خیمے اب بوسیدہ ہوچکیں ہیں اور اہل غزہ کو چھت فراہم کرنے سے قاصر ہیں ایسے میں بارش نے انکے مصائب میں مزید اضافہ کردیا ۔۔💔
Follow the مرابطون الاقصیٰ/صدائے اقصیٰ channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VaiElRjGZND044MTIe0G
غزہ ڈوب رہا ہے،خیمے ڈوب رہے ہیں۔۔۔
Whatsapp Channel:
https://whatsapp.com/channel/0029VaiElRjGZND044MTIe0G
Telegram Channel:
https://t.me/murabitonalaqsa
Whatsapp Channel:
https://whatsapp.com/channel/0029VaiElRjGZND044MTIe0G
Telegram Channel:
https://t.me/murabitonalaqsa
😭1
24 سال قبل آج کے دن محمد الدرہ نامی بچے کی شہادت، غزہ کی پٹی میں 30 ستمبر 2000 کو جو الاقصی انتقاضہ کا دوسرے دن تھا ، اس مظاہرے کے درمیان جو فلسطینی علاقوں میں وسیع پیمانے پر پھیل گئے ۔ فرانس 2 کے نامہ نگار، فرانسیسی فوٹوگرافر چارلس اینڈرلن کے کیمروں نے جمال الدرہ اور اس کے بارہ سالہ بیٹے محمد کا منظر کھینچا ، جب وہ سیمنٹ کے بیرل کے پیچھے پناہ لئے ہوئے تھے۔
اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ۔ ایک منٹ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی اس شاٹ میں باپ اور بیٹے کے ایک دوسرے کو چھپانے کا منظر دکھایا گیا، لڑکے کی چیخیں، اور باپ کی جانب سے فائرنگ کرنے والوں کو رکنے کا اشارہ، آگ اور گرد و غبار کے درمیان، اسرائیلی گولیاں بیٹے کو لگی اور وہ شہید ہو کر اپنے باپ کی ٹانگوں پر گر گیا۔۔۔۔
اس ازیت ناک منظر کو 24 سال گزر گئے پر اس تکلیف سے اس غم سے اس منظر سے آج بھی غزہ کا ہر باپ گزرتا ہے جب وہ قبضے کے ہاتھوں شہید ہوئے جوان بچوں کو مٹی کے سپرد کرتا ہے۔۔۔۔💔
اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ۔ ایک منٹ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی اس شاٹ میں باپ اور بیٹے کے ایک دوسرے کو چھپانے کا منظر دکھایا گیا، لڑکے کی چیخیں، اور باپ کی جانب سے فائرنگ کرنے والوں کو رکنے کا اشارہ، آگ اور گرد و غبار کے درمیان، اسرائیلی گولیاں بیٹے کو لگی اور وہ شہید ہو کر اپنے باپ کی ٹانگوں پر گر گیا۔۔۔۔
اس ازیت ناک منظر کو 24 سال گزر گئے پر اس تکلیف سے اس غم سے اس منظر سے آج بھی غزہ کا ہر باپ گزرتا ہے جب وہ قبضے کے ہاتھوں شہید ہوئے جوان بچوں کو مٹی کے سپرد کرتا ہے۔۔۔۔💔