🌙 Aalami Ruyat-e-hilal ki twareekh par amal Quran wa sunnat se saabit hai. (رؤیت وحدت کے دلائل)
32 subscribers
18 photos
1 video
5 files
31 links
Har mahiney ki maqsoos farz wa sunnat ibadaat ka daromadar Royiyet-e-wahida ki manazil-e-qamar par hi hai. Q:02:189
Download Telegram
*یَسۡئَلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَہِلَّۃِ ؕ قُلۡ ہِیَ مَوَاقِیۡتُ لِلنَّاسِ وَ الۡحَجِّ ؕ (قرآن 189:02)*
👆🏼 یہ اللہ تعالٰی کا حکم ہے، پوری دنیا کو کہ "اھلہ" پر ہی ہر مہینوں کی فرض و سنت عبادات ہے۔
اھلہ:- ہلال دکھنے کے روز سے شروع اور ہلال دکھنے کے روز پر ختم۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر 1909)

ہلال، چاہے وہ مشرق میں دکھے یا مغرب میں۔

دنیا کے مشرق میں ہلال دکھنے والا روز وہی ہے، اور دنیا کے مغرب میں بھی ہلال دکھنے والا روز وہی ہوتا ہے۔
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1653)
دنیا کے مغرب میں جس روز مغرب کے وقت ہلال دکھے گا، اس وقت مشرق میں دوسرے روز کا عصر کا وقت ہوتا ہے۔

*یعنی روئیت ہلال، عالمی/ گلوبلی/ یونیورسل ہے۔*

دانش نہ رکھنے والے اس عمل میں اختلاف کرتے ہیں۔
اختلاف مطالع کے نام پر روز/دن بدل دیتے ہیں۔
*جبکہ مشرق سے مغرب تک کے اختلاف مطالع سے روز/ دن نہیں بدلتا، بلکہ مشرق سے مغرب تک کے اشخاص کو مہینہ پانے میں وقت کی تاخیر ہوتی رہتی ہے۔ (قرآن سورۃ البقرا آیت نمبر 185)*

اختلاف مطالع کے قائلین دانش رکھیں، گزرے دؤر استطاعت نہ ہونے پر کے طریقے کی تقلید کے بجائے کتاب و سنت کی اتباع کریں۔

✍🏼 مسعود خان محمود خان، انجینئر۔
دھرم آباد/ نظام آباد (انڈیا)
📞 +919423625998
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ ۔


جس طرح رجب مہینے کا ہلال 22 جنوری کو انڈیا میں مغرب وقت 9-10 ڈگری نکلا ہوا ہونے کی وجہ نظر نہیں آیا، اور اسی روز سعودی عرب اور آفریقہ میں 12 ڈگری نکلا ہوا ہونے پر نظر آ گیا۔
قرآن و سنت کے مطابق جس روز ہلال دیکھا جائے اور اسکی گواہی معلومات/ علم وقت پر، ہلال اس روز نہ دیکھے گئے اشخاص کو ہونے پر اسی روز سے مہینے کی شروعات و اختتام کرنا ہے، جس دن میں ہلال نظر آیا۔ (قرآن سورۃ البقرا آیت نمبر 189)

دنیا کے جن اشخاص کو جس روز ہلال نہیں دکھا وہ اشخاص اختلاف مطالع کی بنیاد پر دوسرے دن ہلال سمجھ کر دیکھنے والے اصل میں وہ اھلہ یعنی دوسرے دن کے چاند کو دیکھتے ہیں اور مہینہ شروع و ختم کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے رجب مہینے کا ان اختلاف والوں کا پہلا اور دنیا کا دوسرا چاند انھیں مغرب کے وقت سے 1 گھنٹہ 10-15 منٹ نظر آیا۔

جبکہ 1 تاریخ کا ہلال اگر انڈیا میں نظر آئے تو مغرب کے وقت سے زیادہ سے زیادہ 20 منٹ تک ہی نظر آتا ہے۔
اس 20 منٹ سے 25 بھی نظر آ جائے تو وہ 2 تاریخ/ دوسری منزل کا چاند ہوتا ہے۔ (قرآن سورۃ یونس آیت نمبر 5)۔
*اختلاف مطالع کی بنیاد پر دن/ یوم بدل کر مہینہ شروع و ختم کرنے والے قائلین اپنی اصلاح قرآن و سنت کے مطابق کرلیں۔* ورنہ
رمضان المبارک کا ہلال دنیا میں جو 22 مارچ کو دکھے گا، لیکن انڈیا میں 11 ڈگری نکلا ہوا ہونے کی وجہ انڈیا میں نظر نہیں آئے گا، اگر انڈیا کی روئیت ہلال کمیٹی ہلال دیکھنے کا اہتمام کیرلا میں آلات سے دیکھنے کی کوشش کرے تو دکھ سکتا ہے۔
*ورنہ رجب کے چاند کی طرح جو 1 گھنٹہ 10-15 منٹ دکھا تھا، اسی طرح یہ رمضان المبارک کا چاند بھی 1 گھنٹہ 20 منٹ تک دیکھ کر مہینہ شروع کریں گے۔*
جس سے اللہ تعالٰی کا دنیا کے اشخاص کے لئے حکم کہ ہلال کے روز سے دوبارہ ہلال کے روز تک کی اھلہ پر عبادات و حج کے ایام ہے، کہنے کے باوجود دنیا میں ہلال ہونے کے روز کی گواہی/ معلومات/ علم کے بعد بھی اختلاف مطالع کے قائلین اپنی من مانی "اھلہ" پر روزے و عیدین کر کے کتاب و سنت کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
اور اس اختلاف مطالع کے عمل سے 1 روزہ چھوٹے گا، آخری روزہ دنیا میں عید کی وجہ سے حرام ہوگا، ایام بیض کے روزے اور عاشوراء کے روزے صحیح اھلہ پر نہیں ہونگے، یوم عرفہ کا عید کی وجہ سے حرام ہوگا۔ مسلمانوں کے دو عید یعنی اللہ تعالٰی کی طرف سے انعام کے دو دن ہے، ان دو دن کے اللہ کے بلاوے کو ٹھکرا رہے ہیں۔

✍🏼 مسعود خان محمود خان، انجینئر۔
دھرم آباد/ نظام آباد (انڈیا)
📞 +919423625998
✍🏻 تحریر 1:-حافظ ابو عبدالحسیب عبدالرحیم

السلام علیکم

👈اختلاف رؤیت والوں کے ایک شبہ کا ازالہ:-

اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا
اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں(فاطر:۲۸)

اختلاف رؤیت والے کہتے ہیں کہ رؤیت وحدۃ کی بات کرنے والے لوگ اس مسئلے میں علماء کی توہین کرتے ہیں..

آئیے دیکھتے ہیں کیا حقیقت میں ایسا ہے.؟؟

شریعت کا جو بھی مسئلہ ہو اللہ نے ہم کو اور اسکی نبی علیہ السلام نے انسانوں کو قرآن وسنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کا حکم دیا.

اب اگر رؤیت ہلال کا مسئلہ قرآن و سنت سے ثابت ہو اور ہم یہ کہہ کر ٹال دے کہ نہیں یہ اختلافی مسئلہ ہے تو یہ بڑی ناانصافی کی بات ہے.

اللہ نے قرآن میں کہا:-

لَا تَلۡبِسُوا الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَ تَکۡتُمُوا الۡحَقَّ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۲﴾

اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ ، تمہیں تو خود اس کا علم ہے ۔ (البقرہ)

اب اگر اس آیت کی روشنی میں روئت وحدہ والے یہ کہے کہ بھائ آپ پہلے قرآن وسنت کو دیکھے تو اختلاف رؤیت والے کہتے ہیں کہ نہیں ہمارے جمہور علماء اختلاف رؤیت کا مؤقف رکھتے ہیں.

جب ان سے پوچھا جاتا ہیکہ بھائ آپ جمہور علماء سے کس کو مراد لیتے ہیں تو دورحاضر کے علماء کا نام لیتے ہیں.

تو ہم کہتے ہیں بھائ ان علماء سے پہلے بھی بڑے بڑے جمہور ائمہ کا رؤیت وحدہ کا مؤقف ر ہا ہے جیسے:-

امام حسن بصری تابعی
امام ابوحنیفہ
امام مامالک
امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ
اجمعین...

یہ تو صدیوں پرانے ہمارے جمہور اسلاف ہیں

ان کے بعد کے بھی اسلاف ایک ہی رؤیت کے قائل رہے ہیں جیسے

علامہ شوکانی
علامہ البانی
نواب صدیق حسن خاں رحمہم اللہ...

اب آپ بتائیے کیا یہ بڑے بڑے علماء ومحدث نہیں ہیں؟؟

آپ خود فیصلہ کرے...

حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اھلحدیثوں کا یہ اصول ہیکہ جہاں قرآن وسنت کی بات آجائے وہاں کسی عالم کیا کسی صحابی کی بھی بات نہ مانی جائگی. اور الحمد للہ یہ اصول ہونا بھی چاہیے لیکن اختلاف رؤیت والے اس اصول پر کتنا عمل کررہے ہیں ذرا غور کرلیں.

واللہ اعلم، وباللہ التوفیق....

تحریر 2:- ابو عبدالحسیب عبدالرحیم

............السلام علیکم...........

👈اختلاف رؤیت والوں کے ایک شبہ کا ازالہ:-

اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۫ ۖوَّ اَنَا رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۹۲﴾

ترجمہ:- یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم
میری ہی عبادت کرو ۔ (سورۃ الانبیاء:92)

اختلاف رؤیت والے کہتے ہیں کہ ہم اپنے علاقے یا ملک کے لوگوں کے ساتھ ہی روزہ رکھیں گے اور عیدین منائیں گے چاہے دنیا میں ایک دن پہلے ہی عید کیوں نہ ہو۔

آئیے جانتے ہیں اس بات کی کیا حقیقت ہے؟؟؟

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ نے چاند کے نظام کو پوری دنیا کیلیے بنایا اور اللہ نے چاند کی منزلوں کا بھی ذکر کلام اللہ میں کیا ہے۔(سورہ یونس:5)

اور اللہ نے چاند کا نظام کسی خاص علاقے یا خاص خطے،یا کسی ایک ملک کے لیے نہیں بنایا بلکہ پوری دنیا کیلیے بنایا۔

اب اگر اتحاد رؤیت والے اللہ کے اس فرمان کے مطابق عمل کرے اور یہ کہہ کہ دنیا کے سارے لوگ ایک ہی دن میں رمضان و عیدین شروع کر سکتے ہیں تو ایسا کہنا بالکل صحیح ہے۔

کیونکہ آپ دیکھیں اللہ نے پوری دنیا کو ایک امت کہا (انبیاء:98)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی مصداق پوری امت ہے۔(سورہ حشر:7)

اللہ نے کسی خاص علاقے یا خطے یا کسی ایک ملک کو امت نہیں کہا۔

اور آج اختلاف رؤیت والے چاند دیکھے جانے کے باوجود بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ نہیں ہم اپنے علاقے یا اپنے ملک کے لوگوں کے اتحاد کے ساتھ ہی روزہ رکھیں گے اور عیدین بھی منائیں گے۔

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک رؤیت کی بات کرنے والے امت سے الگ ہو کر اپنے مرضی کے مطابق عمل کررہے ہیں۔

میں نے آپ کو پہلے ہی بتایا کہ امت کسی ایک ملک کو نہیں کہا جاتا بلکہ پوری دنیا اس میں شامل ہیں۔

اور آج آپ دیکھیں کہ دنیا کے تقریباً ٪99 ممالک

مثلاً:-
سعودی عربیہ،شام،یمن، عراق، ایران، امریکہ، انڈونیشیا، ملائیشیا، جاپان، اور بیشتر ممالک
ایک ہی دن میں رمضان کا آغاز کررہے ہیں۔

اگر آپ کو یقین نہیں آئے تو آپ اس ویب سائٹ کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

www.moonsighting.com

اب یہ ایک چاند کو نہ ماننے والے اپنے ملک کو ہی پوری امت سمجھ رہے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔

بلکہ یہ لوگ ہی امت کو بانٹ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنے ملک کے لوگوں کے اتحاد کے ساتھ ہی رہیں گے۔

اور یہ خود اپنے ملک میں بھی اتحاد نہیں کر پا رہے ہیں۔

اور اگر آپ قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو یہ بات کہیں نہیں ملے گی کہ آپ اپنے علاقے یا ملک کے لوگوں کے ساتھ رمضان کا آغاز کریں یا عیدین منائیں۔
لہذا ہم کو چاہیے کہ ہم پوری دنیا ایک امت ہو کر ایک ہی دن میں رمضان و عیدین کا آغاز کریں اور یہ ہو سکتا ہے لیکن ہم کرنے کو تیار نہیں۔

اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

واللہ اعلم، وباللہ التوفیق۔۔۔

تحریر 3:- ابو عبدالحسیب عبدالرحیم

............السلام علیکم...........

👈اختلاف رؤیت والوں کے ایک شبہ کا ازالہ:-

اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ (بنی اسرائیل:78)

ترجمہ:- نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک۔

اختلاف رؤیت والے کہتے ہیں کہ رؤیت وحدہ کی بات کرنے والے لوگ جب دنیا میں کہیں سے بھی چاند کی خبر پر عمل کرتے ہیں تو وہاں کے حساب سے ہی نمازیں بھی کیوں نہیں پڑھ لیتے؟

آئیے جانتے ہیں جواب۔۔۔۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری امت کو یہ حکم دیا کہ تم سب چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو (بخاری)

اس حدیث میں نبی اکرم نے پوری امت مسلمہ کو حکم دیا کہ وہ چاند کو دیکھ کر روزہ رکھیں۔

گویا کہ اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ جس نے بھی چاند دیکھ لیا اور اسکی گواہی لوگوں تک بروقت پہنچ گئی تو اس پر عمل کرنا لازم ہے۔

اب یہ گواہی نزدیک کی ہو یا دور کی شریعت نے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی(البقرہ:185)

اب آتے ہیں نماز کی طرف...

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں بھی ایسا نہیں کہا کہ لوگ جس جگہ کے چاند کی گواہی پر عمل کررہے ہیں وہیں کے وقت کے حساب سے نماز پڑہیں۔

بلکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری جگہ کی گواہی پر عمل کیا لیکن یہ نہیں کہا کہ ہم لوگ وہاں کے وقت کے حساب سے نماز پڑھیں گے(ابن ماجہ)

اور خود اللہ نے فرمایا کہ تم لوگ سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک نماز کو پڑھو۔(بنی اسرائیل:78)

اب اگر اختلاف رؤیت والے یہ منطق لے کر کہہ کہ بھائی جہاں کے چاند پر عمل کررہے ہووہاں کے حساب سے ہی نمازیں بھی کیوں نہیں پڑھ لیتے تو انکی یہ بات بےبنیاد اور بے اصل ہوگی۔

کیونکہ خود یہ لوگ اس بات پر عمل نہیں کرتے اور نہ ہی کرسکیں گے

آپ دیکھیں اگر ہندوستان میں کلکتہ میں اگر اختلاف رؤیت والے دہلی سے جب چاند کی گواہی لیتے ہیں تو کیا وہ دہلی کے حساب سے ہی نمازیں بھی پڑھ تے ہیں؟

وہ کہیں گے نہیں!

جبکہ کلکتہ اور دہلی میں تقریباً 1 یا ڈیڑھ گھنٹے کا فرق ہے

تو اختلاف رؤیت والے بھائیوں کا ایسا کہنا بالکل بے بنیاد اوربےاصل ہے۔

واللہ اعلم،وباللہ التوفیق۔۔۔۔

تحریر 4:- ابو عبدالحسیب عبدالرحیم

موضوع:- رؤیت ہلال

اگر روایت کریب پر ہی عمل کرنا تھا امت کو
تو بڑے بڑے اسلاف، علماء، آئمہ و محدثین نے ایک رؤیت کے بارے میں کیوں کہا ؟

ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ ساتویں صدی ہجری کے امام رہے

انہوں نے کہا جو شخص رؤیت کو مسافت کے تابع کرتا ہے گویا ایسے شخص کی بات عقل کے بھی خلاف ہے اور شریعت کے بھی( مجموع الفتاوی )

حسن بصری تابعی
امام ابو حنیفہ
امام مالک
امام احمد بن حنبل
امام ابن تیمیہ
ابن قدامہ المقدسی
علامہ ابنِ باز
علامہ ناصر الدین البانی
علامہ شوکانی
نواب صدیق حسن خان بھوپالی

رحمہم اللہ

کیا ان سب کو روایت کریب سمجھ میں نہیں آئی ؟؟؟

یہ سب تو اسلام کے بڑے بڑے آئمہ، علماء و محدثین رہے ہیں۔

احادیث رسول کو چھوڑ کر روایت کریب سے لوگوں نے الگ الگ استدلال لیے جسکی وجہ سے اس روایت سے کئ جماعتیں بنی

دور ابنِ عباس ترقی یافتہ دور نہیں تھا کہ وقت پر ہی چاند کی گواہی مل جائے۔

روایت کریب ان لوگوں کے لیے ہیں جن کو شروع وقت میں گواہی نہ ملی اور اخیر رمضان میں ان کو پتہ چلا کہ رؤیت ایک دن پہلے ہوئ ہے۔۔ ( علامہ شوکانی )

اگر ایسا معاملہ ہے تو پھر روایت کریب پر عمل ہوگا۔

لیکن اختلاف رؤیت والوں کا تو معاملہ بالکل الگ ہے شروع وقت میں گواہی ملنے پر روایت کریب پیش کرتے ہیں جو کہ سراسر غلط استدلال ہے۔

جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہی ملی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا۔۔( ابو داؤد )

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شوال کے چاند کی دن کے آخری حصے میں گواہی ملی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ تڑوایا اور اگلے دن عید پڑھنے کا حکم دیا۔ ( مسند احمد )

لیکن اس ترقی یافتہ دور میں تو سب جانتے بوجھتے مہینوں کو آگے پیچھے کیا جارہاہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حسب استطاعت عمل کیا

فاتقو اللہ ماستطعتم۔۔۔

یہاں پر تو سب شروع وقت میں معلوم ہونے پر انکار کیا جارہا ہے۔

واللہ اعلم ،وباللہ التوفیق۔۔۔

تحریر 5 :- ابو عبدالحسیب عبدالرحیم

............السلام علیکم...........

👈اختلاف رؤیت والوں کے ایک شبہ کا ازالہ:-

وِ ہٰذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِیۡنِ ۙ﴿۳﴾
اور اس امن والے شہر(مکہ) کی قسم ۔ (التین:۳)

اختلاف رؤیت والے کہتے ہیں کہ رؤیت وحدۃ کی بات کرنے والے گواہی کے بارے میں مکہ کو کیوں مقدم کرتے ہیں؟

آئیے جانتے ہیں جواب...
چاند کی گواہی کے بارے میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے دوسری جگہ کی گواہی کو قبول کیا ہے.(ترمذی،ابوداؤد)

اب اس دور میں چاند کی گواہی جب ہم کو معتبر طریقے سے پہنچتی ہے تو ہم کو قبول کرنا چاہیے چاہے وہ نزدیک کی خبر ہو یا دور کی ،شریعت نے نزدیک کی دور کی کوئ حد نہیں لگائ ہے.(البقرہ:۱۸۵)

دنیا میں بہت ساری جگہ سے رؤیت چاند کی گواہی ہم تک پہنچتی ہین لیکن ایک آدمی کے لیے یہ مشکل ہوجاتا ہیکہ وہ کس کی گواہی کو معتبر مانیں؟

ایسے میں اگر ہم مکہ کو مرکز بنا کر گواہی کو قبول کرلے تو ہمارے لیے آسانی ہوجاتی ہیں.

مکہ کی گواہی کو لینا یہ کوئ گناہ نہیں بلکہ آج کے دور میں اسکی اشد ضرورت ہے.

مکہ کی بات ہم اسلیے کرتے ہیکہ

۱- اسلامی ملک ہے.

۲.خاص طور شہر مکہ میں اسلامی قوانین نافذ ہیں.

۳.محدثین، علماء،ائمہ ومؤحدین کی جماعت بھی ہیں.

۴.اللہ نے مکہ کی قسم کھائ.(التین:۳)

۵.پوری دنیا میں مکہ افضل ہیں.

۶.مکہ مرکز اسلام ہیں.

۷.اور رؤیت کے معاملے میں مکہ کی کمیٹی نہایت ہی شفاف ہے اسلیے کہ یہ لوگ رؤیت کے بارے میں بہت اچھے طریقے سے فصیلہ کرتے ہیں.

۸.اور جب ان کے پاس چاند نہیں دکھتا تو وہ خود بھی دوسرے جگہ کی گواہی کو لیتے ہیں.

۹. اور باضابطہ مکہ والے خبر کی مکمل تصدیق کر کر ہی فیصلہ لیتے ہیں.

۱۰.اور آج الحمد للہ کئ ایک ممالک رؤیت کے معاملہ میں مکہ کو تسلیم کر چکے ہیں سوائے چند لوگوں کے.

اب اتنی خصوصیات کے باوجود بھی ہم چاند کی گواہی کو نہ مانیں تو ہم بڑے بدنصیب ہے کہ ہم کو ایسے با مقدس شہر پر بھی اعتبار نہیں.

واللہ اعلم، وبااللہ التوفیق.....

تحریر 6 :- ابو عبدالحسیب عبدالرحیم

اختلاف مطالع الگ الگ چاند کے قائل لوگوں سے ایک سوال:-

رب العالمین نے کلام پاک میں چاند کی منزلوں کا ذکر کیا ہے

کہا :-
ہم نے چاند کی منزلوں کو مقرر کیا ہے ( سورہ یونس:-05 )

کیا الله سبحانہ وتعالیٰ کے نزدیک ایک تاریخ کے چاند کی دو منزلیں ہو سکتی ہے ؟؟؟

اگر نہیں ہو سکتی تو ہم الگ الگ عید و رمضان کا آغاز کیوں کررہے ہیں ؟؟؟

اور کیوں کہہ رہے ہیں کہ یہاں وہاں الگ الگ تاریخ ہے !...

سونچیے اہل دانش۔۔۔۔۔۔

تحریر 7:- ابو عبدالحسیب عبدالرحیم

اختلاف مطالع
الگ الگ عید کرنے والے کہتے ہیں

چاند کی تاریخ اپنے اپنے ملک کی مانی جائی گی

کہتے ہیں کہ سعودی سے ہم ایک دن پیچھے ہیں

یا یوں کہتے ہیں کہ سعودی میں الگ تاریخ ہے اور ہمارے یہاں الگ تاریخ ہیں

ایسے لوگوں سے عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ اس سوال کا جواب دیں

سوال:-

کیا الله سبحانہ وتعالیٰ کے نزدیک رؤیت ہوجانےکےبعد کہیں رمضان شروع اور کہیں شعبان باقی رہتا ہے؟

کیا ایسا ہو سکتا ہے ؟؟؟؟

اسی طرح خود کے ملک ہندوستان میں دو دو تاریخ کہیں رمضان باقی ہے اور کہیں شوال شروع

کیا ایسا ہو سکتا ہے؟؟؟

اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو اللہ کے لیے اپنی اصلاح کرلیں۔۔۔

تحریر 8:- ابو عبدالحسیب عبدالرحیم

اختلاف روئیت والوں سے ایک سوال:-

. کوئ ایک دلیل دے دیں

👈 قرآن کی کوئ ایک آیت بتادے
جسمیں کہا گیا ہو گواہی دور کی مت مانو الگ الگ عید کرو

👈 یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ

الگ الگ عید کرو۔ گواہی دوسرے ملک کی مت مانو

👈 یا کسی صحابی کا قول بتادو کہ

صحابی نے کہا ہو کہ ہم گواہی کو نہیں مانیں گے بروقت ملنے پر۔

👈 خود ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہ سے بھی کوئ ایک جملہ بتادو جسمیں انہوں نے کہا ہو کریب سے کہ

ہمارا مطلع الگ ہے۔ تمہارا مطلع الگ ہے۔ اور کہا ہو کہ وقت پر گواہی ملنے پر ہم کلومیٹر سے موازنہ کریں گے۔ ؟؟؟

ذرا سوچیں
آپ لوگ کہاں لے کر جارہے ہو امت کو۔
بس الجھنوں میں الجھاکر رکھ دیا ہے۔

اللّٰہ ہم سب کی اصلاح کریں۔ آمین۔۔۔

،✍🏻تحریر:-9 ابو عبدالحسیب عبدالرحیم

*موضوع، رؤیت ھلال میں اختلاف مطلع کی بحث*

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:
اے ایمان والو ! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ ( الصف:2)

محترم قارئین!
رؤیت ہلال کے موضوع پر جب بھی بات شروع ہوتی ہے تو ہم کو چاروں طرف سے الگ الگ اختلافات دیکھنے کو ملتے ہیں اور طرح طرح کی مباحث شروع ہوجاتی ہے،انہیں میں سے ایک نکتہ اختلاف مطلع کا ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ رؤیت کے معاملے میں اللہ اس کے رسول نے ہم کو کیا حکم دیا اس پر غور کریں گے تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اختلاف مطلع کا ثبوت قرآن و سنت میں ہے یا نہیں۔

رؤیت کے معاملے میں پہلا اصول یہی بتایا گیا ہے کہ

آنکھوں سے چاند دیکھو (بخاری)

دوسرا اصول نظر نہ آئے تو گواہی کو لو( ابو داؤد)

تیسرا اصول گواہی نہ ملے تو تیس دن مکمل کرو (مسلم)

بس یہی تین اصول آپ کو قرآن و سنت میں ملیں گے۔

اب آتے ہیں اختلاف مطلع کی طرف۔۔۔

رؤیت کے باب میں اختلاف مطلع کو بنیاد بنانا اور یہ کہنا کہ مطلع کے حساب سے روزہ و عیدین کا آغاز کیا جائے گا یا مہینوں کی شروعات کی جائے گی۔
تو میں آپ کو بتادوں یہ بات نہ قرآن و سنت میں موجود ہے نہ آپ کو اسکا ثبوت قرونِ اولیٰ میں ملے گا اور نہ ہی تابعین کے دور میں
بلکہ یہ اختلاف مطلع کی بحث بعد کی ایجاد ہے۔

اور یہ بحث ایسی ہے کہ کوئ بھی شخص اس اختلاف مطلع کی بحث میں جائے گا تو کبھی بھی اپنے آپ کو مطمئن نہیں پائے گا۔

بلکہ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مطلع مطلع کی رٹ لگانے والے مطلع کی ابھی تک ایسی حد بندی کیوں نہیں کی گئی جس پر کامل یقین کیا جا سکے؟

محترم قارئین ایسی کوئی حد بندی نہیں کی بس جتنے منہ اتنی باتیں

بلکہ خود یہ لوگ مطلع کہنے والے اپنی ہی ایجاد اختلاف مطلع پر عمل نہیں کرتے جب ان سے پوچھا گیا کہ مطلع کہاں تک ایک ہوتا ہے تو کسی نے کہا سارے ملک کا ایک مطلع ہوتا ہے

تو کسی نے کہا 500 کلومیٹر تک ایک مطلع ہوتا ہے

محترم قارئین آپ سمجھیے یہ کیسی بلا دلیل باتیں ہیں

گویا کہ اختلاف مطلع کا صرف ڈھونگ رچا جارہاہے یہ لوگ خود کہنے والے اس پر عمل نہیں کرتے اگر ہندوستان کا مطلع ایک ہے تو ہندوستان میں ہی کیرلا اور کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں چاند کی رؤیت ہوتی ہے جب ان کا یہ قول کہاں چلا جاتا ہے اور وہ اس پر کتنا عمل کرتے ہیں

ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ نے کہا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:
اے ایمان والو ! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ ( الصف:2)

اور کئی تمام چیزیں ہیں جن سے اختلاف مطلع والوں نے لوگوں کو بے چین کر کر رکھ دیا ہے باتیں تو بہت ساری ہے لیکن بیان نہیں کی جاسکتی

بس اخیر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ آپ اپنے دماغ کو حرکت دے صرف اندھی تقلید کو نہ اپنائیں جو قرآن و سنت سے ثابت ہو اسی پر عمل کریں نہ کہ اپنی ایجاد کی ہوئی چیزوں پر۔

واللہ اعلم، وبااللہ التوفیق۔