#منکووووووول
327 subscribers
39 photos
3 links
طنز و مزاح سے بھرپور پیغام، باشعور ذہنوں کے نام
Download Telegram
اس دنیا میں ایسے بھی بندے ہیں جو اپنے والدین پر مقدمہ ٹھونک دیتے ہیں کہ انہوں نے اس کی اجازت کے بغیر اسے کیوں پیدا کیا۔

😊😊😊

#منکووووووول
دنیا بھر کے لوگ مشورے ہم سے طلب کرتے ہیں اور گھر والے ہم سے کہتے ہیں کہ کسی سے مشورہ کر لو "کون سی ٹرین سے ٹکٹ بنوانا ہے۔"

😊😊😊

#منکووووووول
جلسے سے واپس آکر لفافہ کھولتے ہوئے خطیب اپنی بیوی سے ایک بار ضرور کہتا ہوگا کہ "تمھیں کیا معلوم گھر کا خرچ کس طرح چلاتا ہوں۔"

🤣🤣🤣

#منکووووووول
کوئی بندہ چاپلوسی نہیں کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چاپلوس نہیں، بس اسے موقع نہیں مل رہا ہے۔

😊😊😊

#منکووووووول
استاذ دوران تعلیم طلبہ پر سختی کرے تو نقد گالی کھاتا ہے اور اگر سستی کرے تو ادھار گالی کھاتا ہے اور میرا اپنا خیال ہے کہ نقد گالی کھا لینا ہی بہتر ہے ۔

😊😊😊

#منکووووووول
جب مارکیٹ ڈاؤن ہو تو فطری طور پر آپ کا شیئر بھی ڈاؤن ہوگا، اور جب مارکیٹ اوپر ہو تب بھی آپ کا شیئر ڈاؤن ہوگا کیوں کہ اسے آپ نے خریدا ہے۔

🤣🤣🤣

#منکووووووول
یہ جو اسٹیج پر جھوم جھوم کے تقریر کرتے ہیں اگر انہیں پتہ چل جائے کہ پیمنٹ نہیں ملے گی تو سیدھے ہو کر فوراً وما علینا الاالبلاغ بول دیں گے

#منکووووووول
دل کے خمیر میں ضرور پیسے کا کچھ نہ کچھ حصہ شامل ہے جیب میں پیسہ رہتا ہے تو دل پر سکون رہتا ہے جیب خالی ہو تو دل عجیب طرح سے بے چین رہتا ہے

#منکووووووول
دودھ شریک بھائی تک ٹھیک ہے مگر یہ جو گٹکھا شریک ماوا شریک کھینی شریک بھائی ملتے ہیں ان سے جان جلتی ہے

#منکووووووول
گونڈوی میں ایک موبائل شاپ والے سے پوچھا کہ دانت والا ڈاکٹر کہاں ہے، جواب دیا کہ گوونڈی میں سارے ڈاکٹر دانت والے ہیں بغیر دانت کا کوئی نہیں ہے۔

🤣🤣🤣

#منکووووووول
نوجوان جس توجہ سے سڑک کے کنارے سانڈے کے تیل کا پرچار پرسار سنتے ہیں اتنی توجہ اگر تعلیم پر دیتے تو تیل والا خود ان کے گھر پر تیل پہنچا دیتا

🤣🤣🤣

#منکووووووول
آپ سے پہلے کوئی اپنا بندہ ہوٹل سے نکل رہا ہو تو کہہ دیں کہ بِل مت دینا میں دے دوں گا، پھر بِل جمع کرتے وقت آپ کو ضرور سرپرائز ملے گا۔

🤣🤣🤣

#منکووووووول
خطیب انتہائی مایوس گھر پر بیٹھا جھلا رہا تھا کہ اچانک ایک کنوینر کا فون آیا اور فرطِ مسرت میں بیوی کو کاندھے پر اٹھا لیا۔

🤣🤣🤣

#منکووووووول
بعض خطیب اسٹیج پر بیٹھ کر مسکراتے رہتے ہیں، جیسے ملنے والے لفافے کے پیسوں کو تصور میں گن رہے ہوں۔

🤣🤣🤣

#منکووووووول
کچھ خطیب سٹیج پر بہت شانت بیٹھے رہتے ہیں مگر جب ہاتھ میں مائیک آتا ہے تو ان کے اوپر جن سوار ہوجاتا ہے!
🤣🤣🤣

#منکووووووول
بعض خطیب دوران تقریر لوگوں کو معاملات اور لین دین پہ جھاڑنے لگتے ہیں کیونکہ اسے اچانک لفافے کا ہلکا پن یاد آ جاتا ہے

#منکووووووول
{ مولوی صاحب اور جراح }

جانے کیا وبا چل پڑی ہے کہ ہمارے دوستوں کو ٹانگ کے عوارض پیش آنے لگ گئے۔
ابھی پچھلے دنوں ہی ہمارے ممدوح فیضان کتوں سے مدبھیڑ میں شکست کھا کر ٹانگ گنوا بیٹھے۔

اب دیکھیے مولوی صاحب گھٹنا آزمائی کرتے ہوئے زینے سے گرے اور پنڈلی کا گوشت زخمی کر بیٹھے۔

ہمارے مولوی صاحب بھی ان میں سے ہیں جنہیں اپنی بیماریاں، عوارض اور تکالیف دیگر انسانوں سے مختلف معلوم ہوتی ہیں۔
قبض تک ہوجائے تو بواسیری واویلا کرنے لگ جاتے ہیں۔

یہاں ان کی پنڈلی کا گوشت پھٹا،وہاں ہماری شامت آگئی۔ چلنا پھرنا ترک کریا، کرسی پر دھرے ہوتے اور پاؤں سامنے والی کی گود میں قیلولہ کرتے نظر آتے۔
کہتے: خدشہ ہے کہ طبیب پنڈلی نہ کاٹ دیں میری؟ جیسی تکلیف اور اذیت مجھ کو محسوس ہو رہی ہے کاش کسی درد زہ والی کو ہوتی تو علم ہوتا پھٹا ہوا پنڈلی کا گوشت کیسی اذیت سے دوچار کرتا ہے۔!

ہم نے تسلی دی کہ مولوی صاحب! پنڈلی کا گوشت ہے، چند دنوں میں اپنی جگہ پر آجائے گا، صحتمند بھی تو ہیں آپ۔ یہ اسی کا اثر ہے کہ تکلیف بھی دو چند ہوئی ہے۔ پنڈولم کی طرح لڑھکے ہونگے، صبر کریں۔ شفا یاب ہو جائینگے ۔

نقاہت کا بھوت خود پر چڑھایا اور بولے: شفا یابی کی دعا مت دو مجھ کو۔ کہا سنا معاف کرنا، کوئی زیادتی زندگی کے کسی موڑ پر کی ہو تو معافی چاہتا ہوں، حشر میں تاب نہیں کہ سامنا کر سکوں، پوٹلی میں ایسی کوئی نیکی بھی نہیں پاتا کہ امید بھر آئے۔ جانے کی دن قریب آچکے ہیں، یہ پنڈلی کا گوشت بس ناسور بننے ہی والا ہے اب تو۔!

معمول بنا لیا تھا انہوں نے۔ صبح ہوتے ہی یاروں، دوستوں کو چھٹیاں لکھتے, جس میں روزانہ کی بنیاد پر پنڈلی کے گوشت کا قصہ درج ہوتا اور ساتھ یہ آہ و بکا کہ بس گھڑی دو گھڑی کے مہمان ہیں۔ نیز آخر میں دعائے مغفرت کی پر زور اپیل ہوتی۔

سوات میں موجود اپنے ایک شاگرد کو درد ناک خط لکھا۔ جس کا متن ایسا مرگ آلود تھا کہ پڑھ کر کر سناتے ہوئے اپنی ہی مرگ پر آنکھیں جھلملا گئیں ان کی۔

لکھا تھا:
"عزیز تلمیذ رشید احسان اللہ سواتی
تمھاری خیریت کی خبر پہنچتی رہتی ہے۔آج دل اداس اور دن راحتوں کا ترسیدہ ہے۔ مدتیں ہوگئیں آرام کیے ہوئے (محض تیسرا دن تک پنڈلی کے گوشت کا ) اب تو وہ زمانے یاد آتے ہیں تو کلیجہ بھر آتا ہے۔ کہا وہ دن کہ حب کی پہاڑیوں پر دوڑتا پھرتا تھا اور کہاں یہ لمحے کہ بستر مرگ پر ملک الموت کی دستک کا انتظار ہے۔
پنڈلی کا گوشت سڑ چکا ہے، ناسور بننے میں ابھی کچھ دن ہیں۔ جلد ہی پنڈلی نیلی پڑنے والی ہے اور پھر سیاہ۔
چارہ سازوں نے ہاتھ کھینچ لیا، غم گسار جانے کہاں چلے گئے۔ درد کا مداوا کرنے والے ہجرت کرگئے اور قرب کا پاس دلانے والے بھاگ نکلے۔
اپنے حجرے میں تنہا ہوں، وقت ضرورت اگر اٹھنا پڑے تو جیسے بار گراں اٹھائے اٹھنا پڑے۔
شائد یہ خط پہنچتے پہنچتے روح قفس عنصری سے آزاد ہوچکی ہو اور قبر کی مٹی تک سوکھ چکی ہو۔!
دعاؤں میں ہر دم یا رکھیے گا، زمانہ طالب علمی میں اگر سزا استحقاق سے بڑھ کر ملی ہو تو عفو و درگزر کرنا کہ اسی کا سبق ملا ہے۔
چلتا ہوں، پنڈلی میں ٹھیسیں اٹھنے لگی ہیں اور زخم باہر آنے کو معلوم ہوتا ہے۔

والسلام"

خط سنایا تو مولوی صاحب کی آنکھیں بھر آئیں۔
کہا: مولوی صاحب! اس قدر جھوٹ لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
اور دوستوں کی بھری محفل میں یہ کیا کہ خود کو لاچار و مجبور لکھا؟
مانا کہ مرگ ناگہاں آپ کو مرغوب ہے لیکن جاتے جاتے ہماری غیبت کی تشہیر کیوں کر رہے ہیں۔؟

مولوی صاحب کہنے لگے: دیکھو باؤلے! ایک تو خط جب وہاں جائے گا تو کھلبلی سی مچ جائیگی ہمارے متعلق اور اوہام بڑھنے لگیں گے۔جس سے ہمارے مرض کی سنگینی دو چند ہو جائیگی اور عیادت والوں کی فہرست بڑھنے لگے گی۔ اطراف عالم میں ہماری بیماری کا چرچا ہوگا اور فی سبیل اللہ کی دعائیں پوٹلی میں بھرنے لگیں گی۔
دوسری بات، وہ ہمارے شاگرد ہیں، تمھاری طرح نہیں جو رابعہ فیل ہوکر رشتہ داروں کو وفاق المدرس کی جعلی اسناد دکھاتے پھریں۔!

مولوی صاحب کا دماغی خلل اب بڑھنے تھا، قبل اس کے کہ وہ کوئی احمقانہ اقدام اٹھاتے، ہم نے ایک جراح کا پتہ لگایا جو ایسے خبیث چوٹوں کے ماہر جانے جاتے جن کا اثر دماغ کو جاتا ہو محسوس ہوتا۔!

"ماموں بھانجے پٹی والے" کے نام سے موسوم یہ شفا خانہ لانڈھی کے قدیم پوش ایریا میں واقع تھا۔
مولوی صاحب کو کہا اٹھ کر چلیے، آپ کو جراح کے ہاں لے جانا ہے۔
بولے: مردود اٹھ کر چل سکتے تو یہ گز بھر لمبے خط کاہے لکھتے رہے؟
کسی رکشے والے کو آواز دو، صحتیابی کی امید تو مجھ کو نہیں لیکن علاج سنت ہے، روگردانی نہیں کی جا سکتی۔
ایک رکشہ والے سے بات کی اور مولوی صاحب کو بازوؤں سے تھام کر رکشے میں بھرا۔
سارے رستے رکشہ ڈرائیور کو کوستے رہے کہ کمینہ جان بوجھ کر جس طرف کھڈے ہوں گاڑی وہیں گراتا ہے۔ پھر اسے ہماری سازش قرار دیتے۔
پنڈلی اٹھا کر اپنے گود میں رکھ دی تھی کسی شیر خوار بچے کی طرح اور ساتھ ساتھ پشتو زبان میں ایک لوری بھی سنا رہے تھے پنڈلی کو۔
جراح کے ہاں اترنے لگے تو رکشے والے سے معافی تلافی کی، کہا سنا معاف کرنے کو کہا اور پنج وقتہ نمازوں کی تلقین کا بھی کہا۔!

جراح کا شفا خانہ سامنے ہی تھا۔ یہ دو کمروں پر مشتمل مکان تھا، جس میں ایک جانب خواتین اور دوسری جانب مرد حضرات ٹوٹے ہاتھ، نکلی کہنیاں اور پھوٹے گھٹنے لے کر بیٹھے ہوئے تھے۔
درمیان میں ایک لکڑی کا کیبن تھا جہاں چولہے پر مرہم چڑھا تھا اور آگ جلتی رہتی۔
اندر آہ و زاریاں چل رہی تھیں۔ بڑے بوڑھے سبھی کراہ رہے تھے۔ کسی نے کمر پکڑی ہے، تو کوئی ہاتھ لیے بیٹھا ہے۔ کسی نے پاؤں اٹھا کر سامنے والے کے کندھوں پر رکھا ہے تو کوئی لیٹ ہی گیا وہاں۔

اس درمیان دو بندے ثابت و سالم گھوم رہے تھے اور ایک ایک بندے کو پکڑتے، جہاں درد ہوتا، وہاں دباتے اور چیخیں نکلوا کر اگلے بندے کی طرف متوجہ ہوجاتے۔
ایک ادھیڑ عمر کا تھا جبکہ دوسرا نوجوان سا۔ معلوم ہوا ادھیڑ عمر صاحب ماموں پٹی والے ہیں جبکہ نوجوان بھانجا پٹی والا۔
دونوں کے اشتراک سے شفاخانہ کا نام ماموں بھانجے پٹی والے رکھا گیا تھا۔
ایک عدد کارندہ بھی تھا جو چولہے کے قریب مرہم پکانے میں لگاتا تھا، اس کا ایک کان پیدائشی غائب تھا اور ہاتھوں کی انگلیاں غیر معمولی طور پر مڑی ہوئیں تھیں۔ سماعت بھی قدرے متاثر تھی، نام اس کا یعقوب تھا اور جب بھی اسے جراح بلاتے تو چیخ کر بلاتے۔!
عجیب سا حلیہ تھا، قمیض بدن سے غائب تھی اور بنیان پر جا بجا مرہم کے گہرے زرد داغ لگے تھے۔ آنکھیں ابلی ہوئیں اور جسم سخت جان تھا وہی مریضوں کو الٹتا پلٹتا اور مرہم لگا کر پٹی باندھ کر اجرت وصول کرتا۔

مولوی صاحب کو اندر بٹھایا تو ماحول دیکھ کر سہم سے گئے۔ اپنی پنڈلی انہیں صحتیاب لگنے لگی تھی۔
ایک بھائی کا ہاتھ ایسا سوجا ہوا تھا جیسے پانچواں مہینہ چل رہا ہوں۔
ایک بزرگ جن کی پسلیاں بدن سے باہر تھیں کا کندھا اترا ہوا تھا اور آہ و زاریوں میں بیگم کو گالیاں دے رہے رھے۔ ان کی بیگم ہٹی کٹی، پچاس کے پیٹے میں اور گہری رنگت والی، چہرہ سپاٹ اور جذبات سے عاری۔ ہر گالی پر وہ میاں کو غصیلی نگاہوں سے دیکھتیں اور پھر پان چبانے لگتیں۔!
اتنے میں ماموں پٹی والے نے چیخ کر یعقوب سے کہا: یعقوب! بچی کے ہاتھ پر مرہم رکھو اور نورالاسلام کے کندھے پر۔
یعقوب کسی سپاہی کی طرح کیبن سے نکلا، بچی کے کندھے اور نورالاسلام کے ہاتھ پر مرہم رکھ کر ایک طرف ہوگیا۔
اتنے میں دو لڑکے کراہتے ہوئے اندر آئے، ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے اور دہائیاں دینے لگے کوئی ہمیں بھی دیکھ لو؟
ساتھ والے کیبن سے ایک خاتون کی آواز آئی کہ ہم کیا جراح سے شب باشی کرنے آئی ہیں؟
یہ سننا تھا کہ ماموں پٹی والے ادھر کو بھاگے، بھانجے نے مشکلوں سے انہیں روکا اور خود اس طرف نکل گئے۔
نور الاسلام یعقوب کو گالیاں دے رہا تھا، بچی کے ابا ماموں کو کوس رہے تھے۔
دونوں لڑکے جو سہارا دے کر اندر آئے تھے الگ چیخ رہے تھے
مولوی صاحب ایک کونے میں سہم کر یہ سب دیکھ رہے تھے۔
پاس والے کیبن سے عورتوں کی الگ چیخیں آرہی تھیں۔ یعقوب مجرموں کی طرح کھڑا نور الاسلام کی گالیاں سن رہا تھا۔ وہ فارغ ہوا تو ماموں نے گالیاں بکنی شروع کیں۔!
مولوی صاحب نے ہمیں کہا: اس پاگل خانہ سے جنتا جلدی ہوسکے باہر نکلو !
کہا: آپ چل نہیں سکتے کیسے جائینگے۔؟
بولے: بھاڑ میں جائے پنڈلی، یہاں کچھ دیر رہے تو دماغ سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے
اتنے میں ماموں مولوی صاحب کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: ہٹے کٹے! تمھارا کیا مسئلہ ہے اور یہاں کیوں آئے ہو۔؟
جلدی جلدی انہیں پنڈلی کا قصہ سنایا تو بولے: شلوار اتارنی پڑے گی۔
شلوار؟؟ مولوی صاحب حیرت سے ماموں کو دیکھنے لگے۔
ظاہر ہے۔ مولوی صاحب کی پنڈلی اتنی صحتمند تھی کہ پائنچہ اوپر اٹھنے میں نہیں آرہا تھا
یعقوب استرا لے کر سر پر پہنچ گیا۔ سلائی اکھیڑی اور مولوی صاحب کی برہنہ پنڈلی پر مرہم رکھنے لگا۔
مرہم رکھ کر کچھ دیر بیٹھے رہے اور پھر مولوی صاحب اپنی مدد آپ کے تحت کھڑے ہوگئے۔!
یعقوب نے پیسے نوچے اور باہر کا رستہ دکھایا۔!
باہر نکلے، شکر ادا کیا، ایک سکون سا ملا۔!

مولوی صاحب نے رات بھر آرام کیا۔ صبح ان کے ہاں جانا ہوا تو گلی میں بچوں کے ساتھ فٹبال کھیل رہے تھے۔ فٹبال ایک عدد بچہ نا ہوا تھا۔
معلوم ہوا کہ جن دنوں پنڈلی میں تکلیف تھی تو یہ بچہ کھڑے کھڑے مولوی صاحب کو گالیاں دے جاتا اور وہ کچھ بگاڑ نہیں پاتے۔
آج پنڈلی سلامت تھی اور بچہ کی شامت آئی ہوئی تھی۔!