📌 *وحدت الوجود — مشائخ چشت کا منظورِ نظریہ (قسط اول)*
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
وحدت الوجود ایک ایسی اصطلاح ہے جو صوفیانہ حلقوں میں بہت مشہور ہے اور اسے اکثر غلط فہمیوں کا شکار بھی بنایا جاتا ہے۔ مشائخ چشت رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس نظریے کو اپنے خاص انداز میں بیان کیا ہے جو شریعت کے بالکل موافق اور قرآن و سنت کی روشنی میں ہے۔
وحدت الوجود کا مطلب یہ نہیں کہ خالق اور مخلوق ایک ہیں بلکہ یہ ہے کہ وجود کی حقیقت میں اللہ تعالیٰ واحد ہے اور باقی تمام چیزیں اس کی طرف سے ظاہر ہونے والے تجلیات اور آثار ہیں۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی، حضرت خواجہ معین الدین چشتی، حضرت نظام الدین اولیاء اور دیگر مشائخ چشت نے اسے ایسی شکل میں بیان کیا کہ اس میں شرک کی کوئی بو نہ آئے بلکہ توحید کی گہرائی اور اللہ کی وحدانیت پر زور دیا جائے۔
یہ نظریہ محض فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ روحانی تجربہ ہے جو سالک اللہ کی معرفت اور اس کی طرف کامل توجہ سے حاصل کرتا ہے۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Wahdat-ul-Wujood---Mashaikh-e-Chisht-ka-Manzoor-e-Nazriya-Qist-Awwal.html?m=1
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
وحدت الوجود ایک ایسی اصطلاح ہے جو صوفیانہ حلقوں میں بہت مشہور ہے اور اسے اکثر غلط فہمیوں کا شکار بھی بنایا جاتا ہے۔ مشائخ چشت رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس نظریے کو اپنے خاص انداز میں بیان کیا ہے جو شریعت کے بالکل موافق اور قرآن و سنت کی روشنی میں ہے۔
وحدت الوجود کا مطلب یہ نہیں کہ خالق اور مخلوق ایک ہیں بلکہ یہ ہے کہ وجود کی حقیقت میں اللہ تعالیٰ واحد ہے اور باقی تمام چیزیں اس کی طرف سے ظاہر ہونے والے تجلیات اور آثار ہیں۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی، حضرت خواجہ معین الدین چشتی، حضرت نظام الدین اولیاء اور دیگر مشائخ چشت نے اسے ایسی شکل میں بیان کیا کہ اس میں شرک کی کوئی بو نہ آئے بلکہ توحید کی گہرائی اور اللہ کی وحدانیت پر زور دیا جائے۔
یہ نظریہ محض فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ روحانی تجربہ ہے جو سالک اللہ کی معرفت اور اس کی طرف کامل توجہ سے حاصل کرتا ہے۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Wahdat-ul-Wujood---Mashaikh-e-Chisht-ka-Manzoor-e-Nazriya-Qist-Awwal.html?m=1
لباب | مستند مضامین و مقالات
وحدت الوجود — مشائخِ چشت کا منظورِ نظریہ (قسط: اول)
وحدت الوجود ایک خالص عرفانی مسئلہ ہے جسے سید الکاشفین، شیخِ اکبر محمد بن علی بن محمد حاتمی طائی معروف بہ محی الدین ابنِ عربی قدس سرہٗ
📌 *کامیاب طالب علم کے لیے احتیاطی تدابیر!*
✍️ *مضمون نگار: محمد سلمان العطاری*
1. وقت کی پابندی
کامیاب طالب علم ہمیشہ اپنے وقت کی قدر کرتا ہے۔ مطالعہ، آرام، کھیل اور عبادت کے لیے الگ الگ وقت مقرر کرتا ہے۔ فضول سرگرمیوں میں وقت ضائع نہیں کرتا۔ امتحانات کے دنوں میں خاص طور پر وقت کا درست استعمال کرتا ہے۔
2. نظم و ضبط
نظم و ضبط زندگی کا بنیادی اصول ہے اور ایک کامیاب طالب علم ہمیشہ اپنی زندگی میں اس اصول کو اپناتا ہے۔
3. اچھا مطالعہ اور تکرار
روزانہ کا سبق باقاعدگی سے دہرایا جائے تاکہ امتحان کے وقت مشکل نہ ہو۔ مطالعہ کے لیے پرسکون ماحول کا انتخاب کیا جائے۔ اہم نکات کو نوٹ بک میں تحریر کر کے بار بار دیکھا جائے۔
4. استاد کا احترام اور رہنمائی
استاد کے ساتھ ادب و احترام کا رویہ رکھنا کامیابی کی کنجی ہے۔ مشکل موضوعات پر استاد سے سوال کرنا شرمندگی کی بات نہیں، بلکہ سمجھ بوجھ بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/blog-post_26.html?m=1
✍️ *مضمون نگار: محمد سلمان العطاری*
1. وقت کی پابندی
کامیاب طالب علم ہمیشہ اپنے وقت کی قدر کرتا ہے۔ مطالعہ، آرام، کھیل اور عبادت کے لیے الگ الگ وقت مقرر کرتا ہے۔ فضول سرگرمیوں میں وقت ضائع نہیں کرتا۔ امتحانات کے دنوں میں خاص طور پر وقت کا درست استعمال کرتا ہے۔
2. نظم و ضبط
نظم و ضبط زندگی کا بنیادی اصول ہے اور ایک کامیاب طالب علم ہمیشہ اپنی زندگی میں اس اصول کو اپناتا ہے۔
3. اچھا مطالعہ اور تکرار
روزانہ کا سبق باقاعدگی سے دہرایا جائے تاکہ امتحان کے وقت مشکل نہ ہو۔ مطالعہ کے لیے پرسکون ماحول کا انتخاب کیا جائے۔ اہم نکات کو نوٹ بک میں تحریر کر کے بار بار دیکھا جائے۔
4. استاد کا احترام اور رہنمائی
استاد کے ساتھ ادب و احترام کا رویہ رکھنا کامیابی کی کنجی ہے۔ مشکل موضوعات پر استاد سے سوال کرنا شرمندگی کی بات نہیں، بلکہ سمجھ بوجھ بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/blog-post_26.html?m=1
لباب | مستند مضامین و مقالات
کامیاب طالب علم کے لیے احتیاطی تدابیر!
کامیاب طالب علم ہمیشہ اپنے وقت کی قدر کرتا ہے
📌 *سورۂ فاتحہ کے فضائل (قسط: چہارم)*
✍️ *مضمون نگار: شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ*
”الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“
یہ دونوں اسماء اللہ تعالیٰ کے سب سے مشہور اور جامع اسماء میں سے ہیں۔ ”الرحمٰن“ عام رحمت کا نام ہے جو تمام مخلوقات پر مشتمل ہے، چاہے وہ مومن ہو یا کافر، نیک ہو یا بدکار۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ”وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ“ یعنی میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے۔
جبکہ ”الرحیم“ خاص رحمت کا نام ہے جو صرف مومنوں کے لیے ہے، آخرت میں بخشش، مغفرت اور جنت کی شکل میں ظاہر ہو گی۔ اسی لیے بعض علماء نے فرمایا کہ ”الرحمٰن“ دنیا کی رحمت ہے اور ”الرحیم“ آخرت کی رحمت۔
یہ دونوں اسماء سورۂ فاتحہ میں اس لیے لائے گئے کہ بندہ اپنے رب کی وسیع اور خاص رحمت کا طلبگار ہو، اور اپنی دعا کو اس رحمت کے سائے میں پیش کرے۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Surah-e-Fatiha-ke-Fazail-Qist-Chahaarum.html?m=1
✍️ *مضمون نگار: شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ*
”الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“
یہ دونوں اسماء اللہ تعالیٰ کے سب سے مشہور اور جامع اسماء میں سے ہیں۔ ”الرحمٰن“ عام رحمت کا نام ہے جو تمام مخلوقات پر مشتمل ہے، چاہے وہ مومن ہو یا کافر، نیک ہو یا بدکار۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ”وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ“ یعنی میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے۔
جبکہ ”الرحیم“ خاص رحمت کا نام ہے جو صرف مومنوں کے لیے ہے، آخرت میں بخشش، مغفرت اور جنت کی شکل میں ظاہر ہو گی۔ اسی لیے بعض علماء نے فرمایا کہ ”الرحمٰن“ دنیا کی رحمت ہے اور ”الرحیم“ آخرت کی رحمت۔
یہ دونوں اسماء سورۂ فاتحہ میں اس لیے لائے گئے کہ بندہ اپنے رب کی وسیع اور خاص رحمت کا طلبگار ہو، اور اپنی دعا کو اس رحمت کے سائے میں پیش کرے۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Surah-e-Fatiha-ke-Fazail-Qist-Chahaarum.html?m=1
لباب | مستند مضامین و مقالات
سورۂ فاتحہ کے فضائل (قسط: چہارم)
سابقہ آیت میں اس کا بیان تھا کہ اللہ عزوجل تمام صفاتِ کمالیہ کا جامع ہے، اور سارے عالم کو اس دنیا میں بھی ان گنت نعمتیں عطا فرمانے والا ہے اور یومِ
📌 *علامہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ — ایک عظیم شخصیت (قسط اول)*
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
علامہ فضل رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ اہل سنت والجماعت کے عظیم علماء، محدثین اور مجتہدین میں سے ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ آپ کا شمار ان اکابرین میں ہوتا ہے جنہوں نے برصغیر پاک و ہند میں اہل سنت کے عقائد کی حفاظت، بدعات اور گمراہیوں کے رد، اور فقہ حنفی کی ترویج میں ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔
آپ کی ولادت 1213 ہجری میں بدایوں (اتر پردیش، ہندوستان) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد اور مقامی علماء سے حاصل کی، پھر دہلی اور دیگر مراکز علم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آپ نے حدیث، فقہ، اصول، کلام، تفسیر اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم کی تدریس، تصنیف اور فتویٰ نویسی میں گزارا۔
آپ کی سب سے مشہور تصنیف "المعتمد" ہے جو عقائد اہل سنت کے دفاع میں لکھی گئی اور اس میں وہابیوں، دیوبندیوں اور دیگر گروہوں کے عقائد کا تفصیلی رد موجود ہے۔ اس کتاب نے اہل سنت کے حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کی۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Allama-Fazl-Rasool-Badayuni-Alaihir-Rahmah---Ek-Azeem-Shakhsiyat-Qist-Awwal.html?m=1
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
علامہ فضل رسول بدایونی رحمۃ اللہ علیہ اہل سنت والجماعت کے عظیم علماء، محدثین اور مجتہدین میں سے ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ آپ کا شمار ان اکابرین میں ہوتا ہے جنہوں نے برصغیر پاک و ہند میں اہل سنت کے عقائد کی حفاظت، بدعات اور گمراہیوں کے رد، اور فقہ حنفی کی ترویج میں ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔
آپ کی ولادت 1213 ہجری میں بدایوں (اتر پردیش، ہندوستان) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد اور مقامی علماء سے حاصل کی، پھر دہلی اور دیگر مراکز علم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آپ نے حدیث، فقہ، اصول، کلام، تفسیر اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم کی تدریس، تصنیف اور فتویٰ نویسی میں گزارا۔
آپ کی سب سے مشہور تصنیف "المعتمد" ہے جو عقائد اہل سنت کے دفاع میں لکھی گئی اور اس میں وہابیوں، دیوبندیوں اور دیگر گروہوں کے عقائد کا تفصیلی رد موجود ہے۔ اس کتاب نے اہل سنت کے حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کی۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Allama-Fazl-Rasool-Badayuni-Alaihir-Rahmah---Ek-Azeem-Shakhsiyat-Qist-Awwal.html?m=1
لباب | مستند مضامین و مقالات
علامہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ — ایک عظیم شخصیت
آپ کا اسمِ گرامی **فضل رسول** ہے۔ آپ کے القابات میں امام العلماء المحققین، مقدام الفضلاء المدققین، زبدۃ المفسرین، عمدۃ المحدثین، کشّاف حقائق المعقول
📌 *وحدت الوجود — مشائخ چشت کا منظورِ نظریہ (قسط سوم)*
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
وحدت الوجود کے نظریے کو مشائخ چشت نے شریعت کے دائرے میں رکھ کر بیان کیا ہے۔ وہ اسے کبھی بھی وحدت الموجود (یعنی خالق اور مخلوق کا ایک ہونا) کے معنی میں نہیں لیتے بلکہ اسے وجود کی حقیقت میں اللہ کی وحدانیت اور اس کی ذات کی بے نیازگی کے اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سالک جب فناء فی اللہ کے مقام پر پہنچتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ سوائے اللہ کے کوئی وجود نہیں، مگر یہ محض روحانی کیفیت ہے، عقیدتی طور پر خالق اور مخلوق میں فرق قائم رہتا ہے۔ یہ فناء کی حالت ہے جس میں بندہ اپنے نفس کو مٹا دیتا ہے اور اللہ کی ذات میں گم ہو جاتا ہے، لیکن یہ کبھی بھی ذاتی اتحاد کا دعویٰ نہیں۔
مشائخ چشت نے اس نظریے کو بیان کرتے ہوئے ہمیشہ احتیاط کی اور اسے عوام الناس کے لیے بیان کرنے سے گریز کیا تاکہ غلط فہمی نہ پیدا ہو۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ ایک ذوقی اور روحانی مقام ہے جو صرف خاص سالکین کو نصیب ہوتا ہے، اور عام لوگوں کو اس کی بحث میں پڑنے سے بہتر ہے کہ وہ شریعت کے ظاہری احکام پر عمل کریں۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Wahdat-ul-Wujood---Mashaikh-e-Chisht-ka-Manzoor-e-Nazriya-Qist-Soom.html?m=1
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
وحدت الوجود کے نظریے کو مشائخ چشت نے شریعت کے دائرے میں رکھ کر بیان کیا ہے۔ وہ اسے کبھی بھی وحدت الموجود (یعنی خالق اور مخلوق کا ایک ہونا) کے معنی میں نہیں لیتے بلکہ اسے وجود کی حقیقت میں اللہ کی وحدانیت اور اس کی ذات کی بے نیازگی کے اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سالک جب فناء فی اللہ کے مقام پر پہنچتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ سوائے اللہ کے کوئی وجود نہیں، مگر یہ محض روحانی کیفیت ہے، عقیدتی طور پر خالق اور مخلوق میں فرق قائم رہتا ہے۔ یہ فناء کی حالت ہے جس میں بندہ اپنے نفس کو مٹا دیتا ہے اور اللہ کی ذات میں گم ہو جاتا ہے، لیکن یہ کبھی بھی ذاتی اتحاد کا دعویٰ نہیں۔
مشائخ چشت نے اس نظریے کو بیان کرتے ہوئے ہمیشہ احتیاط کی اور اسے عوام الناس کے لیے بیان کرنے سے گریز کیا تاکہ غلط فہمی نہ پیدا ہو۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ ایک ذوقی اور روحانی مقام ہے جو صرف خاص سالکین کو نصیب ہوتا ہے، اور عام لوگوں کو اس کی بحث میں پڑنے سے بہتر ہے کہ وہ شریعت کے ظاہری احکام پر عمل کریں۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Wahdat-ul-Wujood---Mashaikh-e-Chisht-ka-Manzoor-e-Nazriya-Qist-Soom.html?m=1
لباب | مستند مضامین و مقالات
وحدت الوجود — مشائخِ چشت کا منظورِ نظریہ (قسط: سوم)
”وجود سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وجود اس کی حقیقت کا عین ہے۔ اور یہ وجود، مصدری وجود نہیں کیونکہ مصدری وجود ایک انتزاعی امر ہے جس کا معنی ’ہونا‘
📌 *مصیبت میں صبر کیجیے*
✍️ *مضمون نگار: محمد الیاس عطاری مدنی*
مصیبت اور پریشانی ہر انسان کی زندگی کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا: ”ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف سے، بھوک سے، مال اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔“ (سورۃ البقرہ: 155)۔
مصیبت میں صبر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم اور جنت کی بشارت ملتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”عجیب ہے مومن کا معاملہ، اس کا ہر معاملہ خیر ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے تو یہ اس کے لیے خیر ہے، اور اگر مصیبت آئے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔“
صبر کی تین قسمیں ہیں: مصیبت پر صبر، طاعت پر صبر، اور گناہ سے روکنے پر صبر۔ مصیبت میں سب سے بڑا صبر یہ ہے کہ بندہ زبان سے کوئی ناگوار بات نہ نکلے، دل میں اللہ کی رضا پر راضی رہے اور یہ یقین رکھے کہ یہ آزمائش اللہ کی طرف سے ہے جو اس کے لیے خیر کا سبب بنے گی۔
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Museebat-mein-Sabr-Kijiye.html?m=1
✍️ *مضمون نگار: محمد الیاس عطاری مدنی*
مصیبت اور پریشانی ہر انسان کی زندگی کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا: ”ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف سے، بھوک سے، مال اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔“ (سورۃ البقرہ: 155)۔
مصیبت میں صبر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم اور جنت کی بشارت ملتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”عجیب ہے مومن کا معاملہ، اس کا ہر معاملہ خیر ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے تو یہ اس کے لیے خیر ہے، اور اگر مصیبت آئے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔“
صبر کی تین قسمیں ہیں: مصیبت پر صبر، طاعت پر صبر، اور گناہ سے روکنے پر صبر۔ مصیبت میں سب سے بڑا صبر یہ ہے کہ بندہ زبان سے کوئی ناگوار بات نہ نکلے، دل میں اللہ کی رضا پر راضی رہے اور یہ یقین رکھے کہ یہ آزمائش اللہ کی طرف سے ہے جو اس کے لیے خیر کا سبب بنے گی۔
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Museebat-mein-Sabr-Kijiye.html?m=1
لباب | مستند مضامین و مقالات
مصیبت میں صبر کیجیے!
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو اپنی بہترین مخلوق بنایا، اسے حسن و جمال سے نوازا اور بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں۔
📌 *اسٹیج یا القابات کی دکان*
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
آج کل بعض محافل و مجالس میں اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ اصل مجلس کا مقصد ہی نظر انداز ہو جاتا ہے۔ ایک شخص تقریر کر رہا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ دس پندرہ لوگ اسٹیج پر بیٹھے ہوتے ہیں، جن میں سے اکثر کا کوئی خاص کام نہیں ہوتا۔ یہ سب القابات کی دکان لگے ہوئے ہوتے ہیں: فلان صاحب، مولانا صاحب، حافظ صاحب، قاری صاحب، شیخ صاحب، علامہ صاحب، مفتی صاحب، اور کبھی کبھی تو "جنابِ عالی"، "حضرتِ والا"، "مفتی اعظم" جیسے القابات بھی سننے کو ملتے ہیں۔
یہ سب دیکھ کر دل کرتا ہے کہ پوچھا جائے: کیا یہ اسٹیج ہے یا القابات کی دکان؟ کیا اللہ کی رضا کے لیے جمع ہوئے ہیں یا اپنے القابات اور عہدوں کی نمائش کے لیے؟ اصل میں تو مجلس کا مقصد ذکرِ الٰہی، نعت خوانی، وعظ و نصیحت اور دین کی بات ہوتا ہے، مگر جب اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی تعداد بڑھ جائے تو اصل بات پس منظر میں چلی جاتی ہے اور لوگوں کی توجہ القابات اور نشست و برخاست پر چلی جاتی ہے۔
ایسے موقع پر یاد آتا ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان کہ "جو شخص اللہ کے لیے تواضع کرے گا اللہ اسے بلند کرے گا۔" تواضع اور سادگی ہی اصل شان ہے، القابات کی دکان لگانا نہیں۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Stage-ya-Alqabaat-ki-Dukaan.html?m=1
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
آج کل بعض محافل و مجالس میں اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ اصل مجلس کا مقصد ہی نظر انداز ہو جاتا ہے۔ ایک شخص تقریر کر رہا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ دس پندرہ لوگ اسٹیج پر بیٹھے ہوتے ہیں، جن میں سے اکثر کا کوئی خاص کام نہیں ہوتا۔ یہ سب القابات کی دکان لگے ہوئے ہوتے ہیں: فلان صاحب، مولانا صاحب، حافظ صاحب، قاری صاحب، شیخ صاحب، علامہ صاحب، مفتی صاحب، اور کبھی کبھی تو "جنابِ عالی"، "حضرتِ والا"، "مفتی اعظم" جیسے القابات بھی سننے کو ملتے ہیں۔
یہ سب دیکھ کر دل کرتا ہے کہ پوچھا جائے: کیا یہ اسٹیج ہے یا القابات کی دکان؟ کیا اللہ کی رضا کے لیے جمع ہوئے ہیں یا اپنے القابات اور عہدوں کی نمائش کے لیے؟ اصل میں تو مجلس کا مقصد ذکرِ الٰہی، نعت خوانی، وعظ و نصیحت اور دین کی بات ہوتا ہے، مگر جب اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی تعداد بڑھ جائے تو اصل بات پس منظر میں چلی جاتی ہے اور لوگوں کی توجہ القابات اور نشست و برخاست پر چلی جاتی ہے۔
ایسے موقع پر یاد آتا ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان کہ "جو شخص اللہ کے لیے تواضع کرے گا اللہ اسے بلند کرے گا۔" تواضع اور سادگی ہی اصل شان ہے، القابات کی دکان لگانا نہیں۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Stage-ya-Alqabaat-ki-Dukaan.html?m=1
لباب | مستند مضامین و مقالات
اسٹیج یا القابات کی دکان
آج کا دور بے حد نازک اور فتنوں سے بھرپور ہے۔ ایسے حالات میں انسان کے لیے ضروری ہے کہ ہر قدم سنبھل کر رکھے، ہر لفظ سوچ کر ادا کرے، اور ہر بیان پوری
📌📌آئیے! خاموش فکر کو گویائی عطا کریں۔۔۔۔۔۔!
#نہایت ہی منفرد، معیاری اور جامع انداز میں۔۔۔۔۔
#معزز علمائے کرام کی زیر نگرانی۔۔۔۔۔
#مرد و خواتین دونوں کے لیے۔۔۔۔۔۔
لباب اکیڈمی کے زیرِ اہتمام "مضمون نویسی کورس" آپ کے نہاں خانہِ دل میں چھپے خیالات کو زبانِ قلم بخشنے کا ایک نادر موقع ہے۔
ہمارا مقصد آپ کو محض سند و سرٹیفیکٹ سے نوازنا نہیں بلکہ آپ کے قلم میں وہ قوت اور الفاظ میں وہ سحر بیانی پیدا کرنا ہے جو آپ کو میدانِ صحافت و ادب کا شہسوار بنائے۔
تحریر کی اس دنیا میں قدم رکھیے، یہاں معیار ہی سب سے بڑی سند ہے!
لباب اکیڈمی کے ساتھ جڑیے اور اپنی تحریری صلاحیتوں کو ایک نئی معراج عطا کیجیے۔
#یقین جانیں یہ کورس آپ کے لیے بیش بہا خزانہ ثابت ہوگا۔ان شاء اللہ
📌رجسٹریشن کے لیے اس لنک پر جا کر فارم پُر کریں
https://services.siraatpublications.com/lubaab-academy.html
9278347534
👆🏻اس نمبر پر رابطہ کریں آپ کو ساری تفصیلات سے مطلع کر دیا جائے گا۔
#نہایت ہی منفرد، معیاری اور جامع انداز میں۔۔۔۔۔
#معزز علمائے کرام کی زیر نگرانی۔۔۔۔۔
#مرد و خواتین دونوں کے لیے۔۔۔۔۔۔
لباب اکیڈمی کے زیرِ اہتمام "مضمون نویسی کورس" آپ کے نہاں خانہِ دل میں چھپے خیالات کو زبانِ قلم بخشنے کا ایک نادر موقع ہے۔
ہمارا مقصد آپ کو محض سند و سرٹیفیکٹ سے نوازنا نہیں بلکہ آپ کے قلم میں وہ قوت اور الفاظ میں وہ سحر بیانی پیدا کرنا ہے جو آپ کو میدانِ صحافت و ادب کا شہسوار بنائے۔
تحریر کی اس دنیا میں قدم رکھیے، یہاں معیار ہی سب سے بڑی سند ہے!
لباب اکیڈمی کے ساتھ جڑیے اور اپنی تحریری صلاحیتوں کو ایک نئی معراج عطا کیجیے۔
#یقین جانیں یہ کورس آپ کے لیے بیش بہا خزانہ ثابت ہوگا۔ان شاء اللہ
📌رجسٹریشن کے لیے اس لنک پر جا کر فارم پُر کریں
https://services.siraatpublications.com/lubaab-academy.html
9278347534
👆🏻اس نمبر پر رابطہ کریں آپ کو ساری تفصیلات سے مطلع کر دیا جائے گا۔
📌📌آئیے! خاموش فکر کو گویائی عطا کریں۔۔۔۔۔۔!
#نہایت ہی منفرد، معیاری اور جامع انداز میں۔۔۔۔۔
#معزز علمائے کرام کی زیر نگرانی۔۔۔۔۔
#مرد و خواتین دونوں کے لیے۔۔۔۔۔۔
لباب اکیڈمی کے زیرِ اہتمام "مضمون نویسی کورس" آپ کے نہاں خانہِ دل میں چھپے خیالات کو زبانِ قلم بخشنے کا ایک نادر موقع ہے۔
ہمارا مقصد آپ کو محض سند و سرٹیفیکٹ سے نوازنا نہیں بلکہ آپ کے قلم میں وہ قوت اور الفاظ میں وہ سحر بیانی پیدا کرنا ہے جو آپ کو میدانِ صحافت و ادب کا شہسوار بنائے۔
تحریر کی اس دنیا میں قدم رکھیے، یہاں معیار ہی سب سے بڑی سند ہے!
لباب اکیڈمی کے ساتھ جڑیے اور اپنی تحریری صلاحیتوں کو ایک نئی معراج عطا کیجیے۔
#یقین جانیں یہ کورس آپ کے لیے بیش بہا خزانہ ثابت ہوگا۔ان شاء اللہ
📌رجسٹریشن کے لیے اس لنک پر جا کر فارم پُر کریں
www.lubaab.com
9278347534
👆🏻اس نمبر پر رابطہ کریں آپ کو ساری تفصیلات سے مطلع کر دیا جائے گا۔
https://www.instagram.com/reel/DVaTvL8gQFo/?igsh=amRicDVhYm14a2Q4
#نہایت ہی منفرد، معیاری اور جامع انداز میں۔۔۔۔۔
#معزز علمائے کرام کی زیر نگرانی۔۔۔۔۔
#مرد و خواتین دونوں کے لیے۔۔۔۔۔۔
لباب اکیڈمی کے زیرِ اہتمام "مضمون نویسی کورس" آپ کے نہاں خانہِ دل میں چھپے خیالات کو زبانِ قلم بخشنے کا ایک نادر موقع ہے۔
ہمارا مقصد آپ کو محض سند و سرٹیفیکٹ سے نوازنا نہیں بلکہ آپ کے قلم میں وہ قوت اور الفاظ میں وہ سحر بیانی پیدا کرنا ہے جو آپ کو میدانِ صحافت و ادب کا شہسوار بنائے۔
تحریر کی اس دنیا میں قدم رکھیے، یہاں معیار ہی سب سے بڑی سند ہے!
لباب اکیڈمی کے ساتھ جڑیے اور اپنی تحریری صلاحیتوں کو ایک نئی معراج عطا کیجیے۔
#یقین جانیں یہ کورس آپ کے لیے بیش بہا خزانہ ثابت ہوگا۔ان شاء اللہ
📌رجسٹریشن کے لیے اس لنک پر جا کر فارم پُر کریں
www.lubaab.com
9278347534
👆🏻اس نمبر پر رابطہ کریں آپ کو ساری تفصیلات سے مطلع کر دیا جائے گا۔
https://www.instagram.com/reel/DVaTvL8gQFo/?igsh=amRicDVhYm14a2Q4
📌 *اسٹیج یا القابات کی دکان*
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
آج کل بعض محافل و مجالس میں اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ اصل مجلس کا مقصد ہی نظر انداز ہو جاتا ہے۔ ایک شخص تقریر کر رہا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ دس پندرہ لوگ اسٹیج پر بیٹھے ہوتے ہیں، جن میں سے اکثر کا کوئی خاص کام نہیں ہوتا۔ یہ سب القابات کی دکان لگے ہوئے ہوتے ہیں: فلان صاحب، مولانا صاحب، حافظ صاحب، قاری صاحب، شیخ صاحب، علامہ صاحب، مفتی صاحب، اور کبھی کبھی تو "جنابِ عالی"، "حضرتِ والا"، "مفتی اعظم" جیسے القابات بھی سننے کو ملتے ہیں۔
یہ سب دیکھ کر دل کرتا ہے کہ پوچھا جائے: کیا یہ اسٹیج ہے یا القابات کی دکان؟ کیا اللہ کی رضا کے لیے جمع ہوئے ہیں یا اپنے القابات اور عہدوں کی نمائش کے لیے؟ اصل میں تو مجلس کا مقصد ذکرِ الٰہی، نعت خوانی، وعظ و نصیحت اور دین کی بات ہوتا ہے، مگر جب اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی تعداد بڑھ جائے تو اصل بات پس منظر میں چلی جاتی ہے اور لوگوں کی توجہ القابات اور نشست و برخاست پر چلی جاتی ہے۔
ایسے موقع پر یاد آتا ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان کہ "جو شخص اللہ کے لیے تواضع کرے گا اللہ اسے بلند کرے گا۔" تواضع اور سادگی ہی اصل شان ہے، القابات کی دکان لگانا نہیں۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Stage-ya-Alqabaat-ki-Dukaan.html?m=1
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
آج کل بعض محافل و مجالس میں اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ اصل مجلس کا مقصد ہی نظر انداز ہو جاتا ہے۔ ایک شخص تقریر کر رہا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ دس پندرہ لوگ اسٹیج پر بیٹھے ہوتے ہیں، جن میں سے اکثر کا کوئی خاص کام نہیں ہوتا۔ یہ سب القابات کی دکان لگے ہوئے ہوتے ہیں: فلان صاحب، مولانا صاحب، حافظ صاحب، قاری صاحب، شیخ صاحب، علامہ صاحب، مفتی صاحب، اور کبھی کبھی تو "جنابِ عالی"، "حضرتِ والا"، "مفتی اعظم" جیسے القابات بھی سننے کو ملتے ہیں۔
یہ سب دیکھ کر دل کرتا ہے کہ پوچھا جائے: کیا یہ اسٹیج ہے یا القابات کی دکان؟ کیا اللہ کی رضا کے لیے جمع ہوئے ہیں یا اپنے القابات اور عہدوں کی نمائش کے لیے؟ اصل میں تو مجلس کا مقصد ذکرِ الٰہی، نعت خوانی، وعظ و نصیحت اور دین کی بات ہوتا ہے، مگر جب اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی تعداد بڑھ جائے تو اصل بات پس منظر میں چلی جاتی ہے اور لوگوں کی توجہ القابات اور نشست و برخاست پر چلی جاتی ہے۔
ایسے موقع پر یاد آتا ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان کہ "جو شخص اللہ کے لیے تواضع کرے گا اللہ اسے بلند کرے گا۔" تواضع اور سادگی ہی اصل شان ہے، القابات کی دکان لگانا نہیں۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Stage-ya-Alqabaat-ki-Dukaan.html?m=1
لباب | مستند مضامین و مقالات
اسٹیج یا القابات کی دکان
آج کا دور بے حد نازک اور فتنوں سے بھرپور ہے۔ ایسے حالات میں انسان کے لیے ضروری ہے کہ ہر قدم سنبھل کر رکھے، ہر لفظ سوچ کر ادا کرے، اور ہر بیان پوری
📌 *نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جبین (پیشانی) پُرنور*
✍️ *مضمون نگار: محمد سلمان العطاری*
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشانی چوڑی تھی اور اس پر نور کی ایسی چمک تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کسی جگہ تشریف لاتے تو وہ جگہ روشن ہو جاتی۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا، آپ کی پیشانی چمک رہی تھی جیسے چاند کی روشنی ہو۔“
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جبینِ مبارکہ ہموار، چمکدار اور انتہائی خوبصورت تھی۔ اس پر نور کی ایسی جھلک تھی کہ صحابہ کرام جب آپ کو دیکھتے تو دل میں ایک عجیب روحانی کیفیت طاری ہو جاتی۔ یہ نور صرف ظاہری نہیں تھا بلکہ آپ کی ذاتِ گرامی کی نبوت اور اللہ کی طرف سے عطا کردہ کمال کی علامت تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسکراتے تو یہ نور اور بھی بڑھ جاتا اور سامنے والوں کے چہروں پر اس کی جھلک پڑتی۔
یہ نور آپ کی رحمت، ہدایت اور اللہ کی طرف سے خاص کرم کی نشانی تھا جو دیکھنے والوں کو فوراً متاثر کر دیتا تھا اور لوگوں کے دل اسلام کی طرف راغب ہوتے تھے۔
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Nabi-Kareem-Sallallahu-Alaihi-Wa-Aalihi-Wasallam-ki-Jabeen-Peshani-Purnoor.html?m=1
✍️ *مضمون نگار: محمد سلمان العطاری*
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشانی چوڑی تھی اور اس پر نور کی ایسی چمک تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کسی جگہ تشریف لاتے تو وہ جگہ روشن ہو جاتی۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا، آپ کی پیشانی چمک رہی تھی جیسے چاند کی روشنی ہو۔“
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جبینِ مبارکہ ہموار، چمکدار اور انتہائی خوبصورت تھی۔ اس پر نور کی ایسی جھلک تھی کہ صحابہ کرام جب آپ کو دیکھتے تو دل میں ایک عجیب روحانی کیفیت طاری ہو جاتی۔ یہ نور صرف ظاہری نہیں تھا بلکہ آپ کی ذاتِ گرامی کی نبوت اور اللہ کی طرف سے عطا کردہ کمال کی علامت تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسکراتے تو یہ نور اور بھی بڑھ جاتا اور سامنے والوں کے چہروں پر اس کی جھلک پڑتی۔
یہ نور آپ کی رحمت، ہدایت اور اللہ کی طرف سے خاص کرم کی نشانی تھا جو دیکھنے والوں کو فوراً متاثر کر دیتا تھا اور لوگوں کے دل اسلام کی طرف راغب ہوتے تھے۔
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/02/Nabi-Kareem-Sallallahu-Alaihi-Wa-Aalihi-Wasallam-ki-Jabeen-Peshani-Purnoor.html?m=1
لباب | مستند مضامین و مقالات
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جبینِ (پیشانی) پُرنور
کائناتِ رنگ و بو میں اگر کوئی ہستی ایسی ہے جسے خالقِ کائنات نے اپنی خاص تجلیات سے مزین فرمایا، تو وہ صرف اور صرف حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ
📌 *رمضان المبارک سے متعلق چند اہم کتب*
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے امت مسلمہ کے لیے ایک خاص تحفہ ہے۔ اس مبارک ماہ کی فضیلت، احکام، آداب، فضائل اور برکات کو سمجھنے اور عمل میں لانے کے لیے علماء کرام نے متعدد قیمتی تصانیف تحریر فرمائی ہیں۔ ان میں سے چند اہم اور مستند کتب کا تذکرہ یہاں پیش ہے جو ہر طالب علم اور رمضان کی تیاری کرنے والے کے لیے نہایت مفید ہیں:
1. فضائلِ رمضان — مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ
(احادیث کی روشنی میں رمضان کے فضائل، تراویح، تہجد، لیلۃ القدر وغیرہ پر جامع کتاب)
2. رمضان کے روزے — مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
(روزوں کے احکام، آداب، مستحبات اور مکروہات کی تفصیل)
3. فیض الرحمن فی فضائل رمضان — مولانا عبد الرحمن رحیمی
(رمضان کی برکات اور اعمال کی تفصیل)
4. بہارِ رمضان — مولانا محمد الیاس عطاری مدنی دامت برکاتہم
(عام فہم انداز میں رمضان کے احکام اور فضائل)
5. رمضان المبارک — مفتی محمد شفیع دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ
(مختصر مگر جامع کتاب جو رمضان کے تمام اہم مسائل کو احاطہ کرتی ہے)
یہ کتب پڑھ کر رمضان کی تیاری کرنا اور اس ماہ کی برکات سے مکمل فائدہ اٹھانا ممکن ہے۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/03/Ramzan-ul-Mubarak-se-Mutaliq-Chand-Aham-Kutub.html?m=1
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے امت مسلمہ کے لیے ایک خاص تحفہ ہے۔ اس مبارک ماہ کی فضیلت، احکام، آداب، فضائل اور برکات کو سمجھنے اور عمل میں لانے کے لیے علماء کرام نے متعدد قیمتی تصانیف تحریر فرمائی ہیں۔ ان میں سے چند اہم اور مستند کتب کا تذکرہ یہاں پیش ہے جو ہر طالب علم اور رمضان کی تیاری کرنے والے کے لیے نہایت مفید ہیں:
1. فضائلِ رمضان — مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ
(احادیث کی روشنی میں رمضان کے فضائل، تراویح، تہجد، لیلۃ القدر وغیرہ پر جامع کتاب)
2. رمضان کے روزے — مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
(روزوں کے احکام، آداب، مستحبات اور مکروہات کی تفصیل)
3. فیض الرحمن فی فضائل رمضان — مولانا عبد الرحمن رحیمی
(رمضان کی برکات اور اعمال کی تفصیل)
4. بہارِ رمضان — مولانا محمد الیاس عطاری مدنی دامت برکاتہم
(عام فہم انداز میں رمضان کے احکام اور فضائل)
5. رمضان المبارک — مفتی محمد شفیع دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ
(مختصر مگر جامع کتاب جو رمضان کے تمام اہم مسائل کو احاطہ کرتی ہے)
یہ کتب پڑھ کر رمضان کی تیاری کرنا اور اس ماہ کی برکات سے مکمل فائدہ اٹھانا ممکن ہے۔ .......
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/03/Ramzan-ul-Mubarak-se-Mutaliq-Chand-Aham-Kutub.html?m=1
لباب | مستند مضامین و مقالات
رمضان المبارک سے متعلق چند اہم کتب
رمضان المبارک کا رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہمارے درمیان اپنے جلوے بکھیر رہا ہے۔
📌📌آئیے! خاموش فکر کو گویائی عطا کریں۔۔۔۔۔۔!
#نہایت ہی منفرد، معیاری اور جامع انداز میں۔۔۔۔۔
#معزز علمائے کرام کی زیر نگرانی۔۔۔۔۔
#مرد و خواتین دونوں کے لیے۔۔۔۔۔۔
لباب اکیڈمی کے زیرِ اہتمام "مضمون نویسی کورس" آپ کے نہاں خانہِ دل میں چھپے خیالات کو زبانِ قلم بخشنے کا ایک نادر موقع ہے۔
ہمارا مقصد آپ کو محض سند و سرٹیفیکٹ سے نوازنا نہیں بلکہ آپ کے قلم میں وہ قوت اور الفاظ میں وہ سحر بیانی پیدا کرنا ہے جو آپ کو میدانِ صحافت و ادب کا شہسوار بنائے۔
تحریر کی اس دنیا میں قدم رکھیے، یہاں معیار ہی سب سے بڑی سند ہے!
لباب اکیڈمی کے ساتھ جڑیے اور اپنی تحریری صلاحیتوں کو ایک نئی معراج عطا کیجیے۔
#یقین جانیں یہ کورس آپ کے لیے بیش بہا خزانہ ثابت ہوگا۔ان شاء اللہ
📌رجسٹریشن کے لیے اس لنک پر جا کر فارم پُر کریں۔
9278347534
👆🏻اس نمبر پر رابطہ کریں آپ کو ساری تفصیلات سے مطلع کر دیا جائے گا۔
#lubaab
https://www.instagram.com/reel/DVbG61GgerG/?igsh=M3Rvc2VzY2c5bm9q
#نہایت ہی منفرد، معیاری اور جامع انداز میں۔۔۔۔۔
#معزز علمائے کرام کی زیر نگرانی۔۔۔۔۔
#مرد و خواتین دونوں کے لیے۔۔۔۔۔۔
لباب اکیڈمی کے زیرِ اہتمام "مضمون نویسی کورس" آپ کے نہاں خانہِ دل میں چھپے خیالات کو زبانِ قلم بخشنے کا ایک نادر موقع ہے۔
ہمارا مقصد آپ کو محض سند و سرٹیفیکٹ سے نوازنا نہیں بلکہ آپ کے قلم میں وہ قوت اور الفاظ میں وہ سحر بیانی پیدا کرنا ہے جو آپ کو میدانِ صحافت و ادب کا شہسوار بنائے۔
تحریر کی اس دنیا میں قدم رکھیے، یہاں معیار ہی سب سے بڑی سند ہے!
لباب اکیڈمی کے ساتھ جڑیے اور اپنی تحریری صلاحیتوں کو ایک نئی معراج عطا کیجیے۔
#یقین جانیں یہ کورس آپ کے لیے بیش بہا خزانہ ثابت ہوگا۔ان شاء اللہ
📌رجسٹریشن کے لیے اس لنک پر جا کر فارم پُر کریں۔
9278347534
👆🏻اس نمبر پر رابطہ کریں آپ کو ساری تفصیلات سے مطلع کر دیا جائے گا۔
#lubaab
https://www.instagram.com/reel/DVbG61GgerG/?igsh=M3Rvc2VzY2c5bm9q
📌 *رونا کیوں نہیں آتا؟ قساوتِ قلب کے تین بڑے اسباب*
✍️ *مضمون نگار: محمد الیاس عطاری مدنی*
دل کی سختی اور قساوتِ قلب ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو اللہ کی یاد، خوفِ الٰہی اور گناہوں پر ندامت سے محروم کر دیتی ہے۔ جب دل سخت ہو جاتا ہے تو آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے، توبہ نہیں ہوتی اور ذکرِ الٰہی میں لذت نہیں ملتی۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”کیا ان لوگوں کے دل سخت نہیں ہو گئے جو ایمان لائے؟“ (سورۃ الحدید: 16)۔
قساوتِ قلب کی تین بڑی وجوہات ہیں:
1. گناہوں کی کثرت
بار بار گناہ کرنے سے دل پر ایک سیاہ پردہ پڑ جاتا ہے جو اللہ کی یاد کو داخل ہونے سے روک دیتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ پڑ جاتا ہے۔“
2. دنیا کی محبت اور لالچ
دنیا کی ہوس اور مال و متاع کی محبت دل کو سخت کر دیتی ہے۔ جب انسان دنیا کو سب سے بڑا مقصد بنا لیتا ہے تو آخرت کی فکر کم ہو جاتی ہے اور دل میں خشوع و خضوع ختم ہو جاتا ہے۔
3. ذکرِ الٰہی اور تلاوتِ قرآن سے دوری
دل کی زندگی قرآن اور ذکرِ الٰہی میں ہے۔ جب انسان ان سے دور ہو جاتا ہے تو دل مردہ اور سخت ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جو لوگ اللہ کو بہت یاد کرتے ہیں ان کے دل زندہ ہوتے ہیں۔“
ان اسباب سے بچنے کے لیے توبہ، استغفار، قرآن کی تلاوت اور اللہ کی یاد کو اپنا معمول بنائیں تاکہ دل نرم ہو اور آنکھوں سے آنسو نکل سکیں۔
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/03/Rona-Kyun-Nahin-Aata-Qaswat-e-Qalb-ke-Teen-Bade-Asbaab.html?m=1
✍️ *مضمون نگار: محمد الیاس عطاری مدنی*
دل کی سختی اور قساوتِ قلب ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو اللہ کی یاد، خوفِ الٰہی اور گناہوں پر ندامت سے محروم کر دیتی ہے۔ جب دل سخت ہو جاتا ہے تو آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے، توبہ نہیں ہوتی اور ذکرِ الٰہی میں لذت نہیں ملتی۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”کیا ان لوگوں کے دل سخت نہیں ہو گئے جو ایمان لائے؟“ (سورۃ الحدید: 16)۔
قساوتِ قلب کی تین بڑی وجوہات ہیں:
1. گناہوں کی کثرت
بار بار گناہ کرنے سے دل پر ایک سیاہ پردہ پڑ جاتا ہے جو اللہ کی یاد کو داخل ہونے سے روک دیتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ پڑ جاتا ہے۔“
2. دنیا کی محبت اور لالچ
دنیا کی ہوس اور مال و متاع کی محبت دل کو سخت کر دیتی ہے۔ جب انسان دنیا کو سب سے بڑا مقصد بنا لیتا ہے تو آخرت کی فکر کم ہو جاتی ہے اور دل میں خشوع و خضوع ختم ہو جاتا ہے۔
3. ذکرِ الٰہی اور تلاوتِ قرآن سے دوری
دل کی زندگی قرآن اور ذکرِ الٰہی میں ہے۔ جب انسان ان سے دور ہو جاتا ہے تو دل مردہ اور سخت ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جو لوگ اللہ کو بہت یاد کرتے ہیں ان کے دل زندہ ہوتے ہیں۔“
ان اسباب سے بچنے کے لیے توبہ، استغفار، قرآن کی تلاوت اور اللہ کی یاد کو اپنا معمول بنائیں تاکہ دل نرم ہو اور آنکھوں سے آنسو نکل سکیں۔
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/03/Rona-Kyun-Nahin-Aata-Qaswat-e-Qalb-ke-Teen-Bade-Asbaab.html?m=1
لباب | مستند مضامین و مقالات
رونا کیوں نہیں آتا؟ قسوتِ قلب کے تین بڑے اسباب
فی زمانہ ایسے لوگوں کو کثرت سے دیکھا جاتا ہے جو اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ کتنی بھی کوشش کر لیں، مگر انہیں دعاؤں میں یا نعتِ مصطفیٰ ﷺ
📌 *اسلامی شخصیات کی فلمیں*
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
اسلامی تاریخ میں بہت سی عظیم شخصیات ایسی گزری ہیں جن کی زندگیاں ہر مسلمان کے لیے نمونہ عمل ہیں۔ آج کے دور میں جب ویڈیو اور فلمیں بہت اثر انداز ہوتی ہیں تو اسلامی شخصیات کی زندگیوں پر مبنی فلمیں اور ڈرامے دیکھنا ایک اچھا ذریعہ ہو سکتا ہے کہ لوگ ان کی سیرت، قربانیوں اور کردار سے متاثر ہوں۔
مگر یہ بات انتہائی اہم ہے کہ جو فلمیں یا سیریل دیکھیں وہ شرعی حدود کے اندر ہوں، جھوٹ، واہیات مناظر، موسیقی، تصاویرِ انبیاء و صحابہ کی بناوٹ یا کسی بھی طرح کی توہین سے پاک ہوں۔ بدقسمتی سے زیادہ تر "اسلامی فلمیں" جو مارکیٹ میں دستیاب ہیں ان میں شرعی مسائل پائے جاتے ہیں جیسے موسیقی کا استعمال، غیر شرعی لباس، جھوٹی کہانیاں شامل کرنا یا انبیاء و صحابہ کی تصاویر بنانا جو شریعت میں ممنوع ہے۔
کچھ معتبر اور مفید آپشنز جو اسلامی شخصیات کی زندگی کو اچھے انداز میں پیش کرتے ہیں (بغیر تصاویرِ انبیاء کے اور موسیقی سے گریز کے):
- حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت پر مبنی دستاویزی فلمیں (بغیر آپ کی تصویر کے)
- صحابہ کرام کی زندگیوں پر مختصر ویڈیوز (جیسے حضرت بلال، حضرت عمر، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کی سوانح)
- اسلامی تاریخ کی دستاویزی سیریز (جیسے "اسلام کی تاریخ" یا "خلفائے راشدین" کی فلمیں جو شرعی اصولوں پر مبنی ہوں)
بہتر ہے کہ ایسی فلمیں دیکھیں جو مستند علماء کی نگرانی میں بنی ہوں اور جن میں کوئی شرعی خلاف ورزی نہ ہو۔ اگر کوئی فلم دیکھنے سے پہلے شک ہو تو کسی معتبر عالم سے رجوع کریں۔
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/03/Islami-Shakhsiyat-ki-Filmein.html?m=1
✍️ *مضمون نگار: محمد شفیع احمد عطاری رضوی*
اسلامی تاریخ میں بہت سی عظیم شخصیات ایسی گزری ہیں جن کی زندگیاں ہر مسلمان کے لیے نمونہ عمل ہیں۔ آج کے دور میں جب ویڈیو اور فلمیں بہت اثر انداز ہوتی ہیں تو اسلامی شخصیات کی زندگیوں پر مبنی فلمیں اور ڈرامے دیکھنا ایک اچھا ذریعہ ہو سکتا ہے کہ لوگ ان کی سیرت، قربانیوں اور کردار سے متاثر ہوں۔
مگر یہ بات انتہائی اہم ہے کہ جو فلمیں یا سیریل دیکھیں وہ شرعی حدود کے اندر ہوں، جھوٹ، واہیات مناظر، موسیقی، تصاویرِ انبیاء و صحابہ کی بناوٹ یا کسی بھی طرح کی توہین سے پاک ہوں۔ بدقسمتی سے زیادہ تر "اسلامی فلمیں" جو مارکیٹ میں دستیاب ہیں ان میں شرعی مسائل پائے جاتے ہیں جیسے موسیقی کا استعمال، غیر شرعی لباس، جھوٹی کہانیاں شامل کرنا یا انبیاء و صحابہ کی تصاویر بنانا جو شریعت میں ممنوع ہے۔
کچھ معتبر اور مفید آپشنز جو اسلامی شخصیات کی زندگی کو اچھے انداز میں پیش کرتے ہیں (بغیر تصاویرِ انبیاء کے اور موسیقی سے گریز کے):
- حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت پر مبنی دستاویزی فلمیں (بغیر آپ کی تصویر کے)
- صحابہ کرام کی زندگیوں پر مختصر ویڈیوز (جیسے حضرت بلال، حضرت عمر، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کی سوانح)
- اسلامی تاریخ کی دستاویزی سیریز (جیسے "اسلام کی تاریخ" یا "خلفائے راشدین" کی فلمیں جو شرعی اصولوں پر مبنی ہوں)
بہتر ہے کہ ایسی فلمیں دیکھیں جو مستند علماء کی نگرانی میں بنی ہوں اور جن میں کوئی شرعی خلاف ورزی نہ ہو۔ اگر کوئی فلم دیکھنے سے پہلے شک ہو تو کسی معتبر عالم سے رجوع کریں۔
*علم دین حاصل کرنے کی نیت سے ایک بار اس لنک سے مکمل مضمون ضرور پڑھیں* 👇
https://www.lubaab.com/2026/03/Islami-Shakhsiyat-ki-Filmein.html?m=1
لباب | مستند مضامین و مقالات
اسلامی شخصیات کی فلمیں
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے دنیا میں بھیجا ہے۔ انسانوں میں کوئی کافر ہے تو کوئی مسلمان، اور جو حق پر ہیں وہ دینِ