#ماہ_رجب
#دعائے_ماہ_رجب
🔴 عن محمّد السجاد في حديث طويل، قال: قلت لأبي عبد اللّه عليه السلام: جعلت فداك هذا رجب علّمني فيه دعاء ينفعني اللّه به، قال: فقال لي أبو عبد اللّه عليه السلام: اكتب بسم اللّه الرّحمن الرّحيم، و قل في كلّ يوم من رجب صباحاً و مساء و في أعقاب صلواتك في يومك و ليلتك:
يا مَنْ أَرْجُوهُ لِكُلِ خَيْرٍ، وَ آمَنُ سَخَطَهُ عِنْدَ كُلِّ شَرٍّ، يا مَنْ يُعْطِي الْكَثِيرَ بِالْقَلِيلِ، يا مَنْ يُعْطِي مَنْ سَأَلَهُ، يا مَنْ يُعْطِي مَنْ لَمْ يَسْأَلْهُ وَ مَنْ لَمْ يَعْرِفْهُ تَحَنُّناً مِنْهُ وَ رَحْمَةً، أَعْطِنِي بِمَسْأَلَتِي إِيَّاكَ جَمِيعَ خَيْرِ الدُّنْيا وَ جَمِيعَ خَيْرِ الاخِرَةِ، وَ اصْرِفْ عَنِّي بِمَسْأَلَتِي إِيَّاكَ جَمِيعَ شَرِّ الدُّنْيا وَ شَرِّ الاخِرَةِ، فَإِنَّهُ غَيْرُ مَنْقُوصٍ ما أَعْطَيْتَ، وَ زِدْنِي مِنْ فَضْلِكَ يا كَرِيمُ.
قال: ثمّ مدّ أبو عبد اللّه عليه السلام يده اليسرى فقبض على لحيته و دعا بهذا الدّعاء و هو يلوذ بسبّابته اليمنى، ثمّ قال بعد ذلك:
يا ذَا الْجَلالِ وَ الإِكْرامِ يا ذَا النَّعْماءِ وَ الْجُودِ، يا ذَا الْمَنِّ وَ الطَّوْلِ، حَرِّمْ شَيْبَتِي عَلَى النّار
🔵 محمد سجاد سے روایت ہے کہ: میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: آپ پر قربان جاؤں، یہ ماہ رجب ہے، مجھے کوئی دعا تعلیم دیجئے جس کے ذریعہ خدا مجھے منفعت بخشے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: لکھو اور رجب کے مہینے میں ہر صبح و شام اور ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھو: بسم اللّه الرّحمن الرّحيم
اے وہ جس سے ہر بھلائی کی امید رکھتا ہوں، اور ہر برائی کے وقت اس کے غضب سے امان چاہتا ہوں، اے وہ جو تھوڑے سے عمل پر زیادہ اجر دیتا ہے، اے وہ جو ہر سوال کرنے والے کو دیتا ہے، اے وہ جو اپنے رحم و کرم سے اسے بھی دیتا ہے جو سوال نہیں کرتا اور اسے بھی دیتا ہے جو اسے نہیں پہچانتا، تو مجھے بھی میرے سوال پر دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اور نیکیاں عطا فرمادےِ اور میری طلبگاری پر دنیا و آخرت کی تمام تکلیفیں اور مشکلیں دور کرکے مجھے محفوظ فرمادے، کیونکہ تو جتنا عطا کرے تیرے ہاں کمی نہیں پڑتی، تو اے کریم! مجھ پر اپنے فضل میں اضافہ فرما۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنی ریش مبارک بائیں مٹھی میں لی اور اپنی انگشت شہادت کو ہلاتے ہوئے یہ دعا پڑھی۔
يا ذَا الْجَلالِ وَ الإِكْرامِ ۔۔۔ اے صاحب جلالت و بزرگی، اے نعمتوں اور بخشش کے مالک، اے صاحب احسان و عطا، میرے سفید بالوں کو آگ پر حرام فرمادے۔
📚 الإقبال بالأعمال الحسنة (ط - الحديثة)، ج۳، ص۲۱۱، فيما نذكره من الدعوات في أول يوم من رجب و في كل يوم منه
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
#دعائے_ماہ_رجب
🔴 عن محمّد السجاد في حديث طويل، قال: قلت لأبي عبد اللّه عليه السلام: جعلت فداك هذا رجب علّمني فيه دعاء ينفعني اللّه به، قال: فقال لي أبو عبد اللّه عليه السلام: اكتب بسم اللّه الرّحمن الرّحيم، و قل في كلّ يوم من رجب صباحاً و مساء و في أعقاب صلواتك في يومك و ليلتك:
يا مَنْ أَرْجُوهُ لِكُلِ خَيْرٍ، وَ آمَنُ سَخَطَهُ عِنْدَ كُلِّ شَرٍّ، يا مَنْ يُعْطِي الْكَثِيرَ بِالْقَلِيلِ، يا مَنْ يُعْطِي مَنْ سَأَلَهُ، يا مَنْ يُعْطِي مَنْ لَمْ يَسْأَلْهُ وَ مَنْ لَمْ يَعْرِفْهُ تَحَنُّناً مِنْهُ وَ رَحْمَةً، أَعْطِنِي بِمَسْأَلَتِي إِيَّاكَ جَمِيعَ خَيْرِ الدُّنْيا وَ جَمِيعَ خَيْرِ الاخِرَةِ، وَ اصْرِفْ عَنِّي بِمَسْأَلَتِي إِيَّاكَ جَمِيعَ شَرِّ الدُّنْيا وَ شَرِّ الاخِرَةِ، فَإِنَّهُ غَيْرُ مَنْقُوصٍ ما أَعْطَيْتَ، وَ زِدْنِي مِنْ فَضْلِكَ يا كَرِيمُ.
قال: ثمّ مدّ أبو عبد اللّه عليه السلام يده اليسرى فقبض على لحيته و دعا بهذا الدّعاء و هو يلوذ بسبّابته اليمنى، ثمّ قال بعد ذلك:
يا ذَا الْجَلالِ وَ الإِكْرامِ يا ذَا النَّعْماءِ وَ الْجُودِ، يا ذَا الْمَنِّ وَ الطَّوْلِ، حَرِّمْ شَيْبَتِي عَلَى النّار
🔵 محمد سجاد سے روایت ہے کہ: میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: آپ پر قربان جاؤں، یہ ماہ رجب ہے، مجھے کوئی دعا تعلیم دیجئے جس کے ذریعہ خدا مجھے منفعت بخشے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: لکھو اور رجب کے مہینے میں ہر صبح و شام اور ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھو: بسم اللّه الرّحمن الرّحيم
اے وہ جس سے ہر بھلائی کی امید رکھتا ہوں، اور ہر برائی کے وقت اس کے غضب سے امان چاہتا ہوں، اے وہ جو تھوڑے سے عمل پر زیادہ اجر دیتا ہے، اے وہ جو ہر سوال کرنے والے کو دیتا ہے، اے وہ جو اپنے رحم و کرم سے اسے بھی دیتا ہے جو سوال نہیں کرتا اور اسے بھی دیتا ہے جو اسے نہیں پہچانتا، تو مجھے بھی میرے سوال پر دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اور نیکیاں عطا فرمادےِ اور میری طلبگاری پر دنیا و آخرت کی تمام تکلیفیں اور مشکلیں دور کرکے مجھے محفوظ فرمادے، کیونکہ تو جتنا عطا کرے تیرے ہاں کمی نہیں پڑتی، تو اے کریم! مجھ پر اپنے فضل میں اضافہ فرما۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنی ریش مبارک بائیں مٹھی میں لی اور اپنی انگشت شہادت کو ہلاتے ہوئے یہ دعا پڑھی۔
يا ذَا الْجَلالِ وَ الإِكْرامِ ۔۔۔ اے صاحب جلالت و بزرگی، اے نعمتوں اور بخشش کے مالک، اے صاحب احسان و عطا، میرے سفید بالوں کو آگ پر حرام فرمادے۔
📚 الإقبال بالأعمال الحسنة (ط - الحديثة)، ج۳، ص۲۱۱، فيما نذكره من الدعوات في أول يوم من رجب و في كل يوم منه
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
Telegram
💫کلام نور💫
✅علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔
💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس:
https://www.facebook.com/klmnoor
http://klmnoor.blogspot.com
https://t.me/klmnoor
📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے:
@Klmnoor_admin
💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس:
https://www.facebook.com/klmnoor
http://klmnoor.blogspot.com
https://t.me/klmnoor
📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے:
@Klmnoor_admin
۳/ رجب المرجب
#شہادت_امام_ہادی_علیہ_السلام
حضرت امام ابوالحسن علی نقی الہادی علیہ السلام کی غمناک شہادت سنہ ۲۵۴ھ بنابر مشہور ۴۱ سال کی عمر میں ہوئی ہے۔
[ توضیح المقاصد، ۱۶؛ مسارالشیعہ، ص۳۴؛ مصباح المتھجد، ص۷۴۱؛ بحار الانوار، ج۵۰، ص۱۱۳، ۱۱۷، ۱۹۲؛ ج۹۹، ص۷۹؛ مناقب آل ابی طالب ع، ج۴، ص۴۳۳؛ مصباح کفعمی، ج۲، ص۵۹۹]
مرحوم کلینی رح آپ علیہ السلام کی شہادت کو ۲۶/ جمادی الاخر میں تحریر فرماتے ہیں۔
[الکافی، ج۱، ص۳۹۷، مناقب آل ابی طالب ع، ج۴، ص۴۳۳]
آپ علیہ السلام کی شہادت کے سلسلہ میں ۲۵/ جمادی الاخر کی تاریخ بھی ذکر ہوئی ہے۔
[تاریخ الائمہ، ص۱۳؛ کشف الغمۃ، ج۲، ص۳۷۵]
مشہور روایات کے مطابق آپ علیہ السلام ۶ یا ۸ سال اور ۵ ماہ کے تھے جب والد بزرگوار حضرت جواد الائمہ علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی۔ اور آپ علیہ السلام امامت و خلافت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ آپ علیہ السلام کی مدت امامت 33 سال ہے۔
[ الارشاد، ج۲، ص۲۹۷]
حضرت امام ہادی علیہ السلام کا دور مامون، متعتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین اور معتز کی حکومت کے زمانے میں گزرا اور آخر الامر معتز نے آپ علیہ السلام کو زہر سے شہید کردیا۔
امام علیہ السلام کی عمر مبارک ۴۱ سال چند ماہ تھی، آپ علیہ السلام ۱۳ سال تک مدینہ میں رہے اور بقیہ ایّام امامت میں متوکل کے جبر کی بنا پر سامرا میں رہے۔
حاکم مدینہ نے متوکل کو لکھ بھیجا کہ اگر آپ مکہ و مدینہ کو چاہتے ہیں تو علی بن محمد علیہما السلام کو اس علاقہ سے باہر نکالیں کہ انہوں نے سب کو اپنا مطیع بنا لیا ہے۔
متوکل کے حکم سے مدینہ میں آپ علیہ السلام پر آزار و اذیت میں اضافہ کردیا گیا، یہاں تک کہ امام علیہ السلام کو سامرا لے جایا گیا، مختلف طرح سے ستایا گیا، اور آخر کار معتز نے زہر سے شہید کردیا۔
حضرت امام عسکری علیہ السلام نے غسل و کفن کا انتظام کیا اور نماز جنازہ پڑھی۔ اس کے بعد ظاہری طور پر یہ امور دوسروں کے ذریعہ بھی انجام پائے اور آپ علیہ السلام کو جس مکان میں قیام پذیر تھے اسی مقام پر موجودہ حرم مطہّر میں دفن کیا گیا۔
[الارشاد، ج۲، ص۲۹۷، ۳۰۹؛ مناقب آل ابی طالب ع، ج۴، ص۴۳۳؛ بحارالانوار، ج۵۰، ص۱۱۴، ۱۱۷، ۲۰۰، ۲۰۶، ۲۵۹]
📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۳/ رجب، ص۱۸۶
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
#شہادت_امام_ہادی_علیہ_السلام
حضرت امام ابوالحسن علی نقی الہادی علیہ السلام کی غمناک شہادت سنہ ۲۵۴ھ بنابر مشہور ۴۱ سال کی عمر میں ہوئی ہے۔
[ توضیح المقاصد، ۱۶؛ مسارالشیعہ، ص۳۴؛ مصباح المتھجد، ص۷۴۱؛ بحار الانوار، ج۵۰، ص۱۱۳، ۱۱۷، ۱۹۲؛ ج۹۹، ص۷۹؛ مناقب آل ابی طالب ع، ج۴، ص۴۳۳؛ مصباح کفعمی، ج۲، ص۵۹۹]
مرحوم کلینی رح آپ علیہ السلام کی شہادت کو ۲۶/ جمادی الاخر میں تحریر فرماتے ہیں۔
[الکافی، ج۱، ص۳۹۷، مناقب آل ابی طالب ع، ج۴، ص۴۳۳]
آپ علیہ السلام کی شہادت کے سلسلہ میں ۲۵/ جمادی الاخر کی تاریخ بھی ذکر ہوئی ہے۔
[تاریخ الائمہ، ص۱۳؛ کشف الغمۃ، ج۲، ص۳۷۵]
مشہور روایات کے مطابق آپ علیہ السلام ۶ یا ۸ سال اور ۵ ماہ کے تھے جب والد بزرگوار حضرت جواد الائمہ علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی۔ اور آپ علیہ السلام امامت و خلافت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ آپ علیہ السلام کی مدت امامت 33 سال ہے۔
[ الارشاد، ج۲، ص۲۹۷]
حضرت امام ہادی علیہ السلام کا دور مامون، متعتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین اور معتز کی حکومت کے زمانے میں گزرا اور آخر الامر معتز نے آپ علیہ السلام کو زہر سے شہید کردیا۔
امام علیہ السلام کی عمر مبارک ۴۱ سال چند ماہ تھی، آپ علیہ السلام ۱۳ سال تک مدینہ میں رہے اور بقیہ ایّام امامت میں متوکل کے جبر کی بنا پر سامرا میں رہے۔
حاکم مدینہ نے متوکل کو لکھ بھیجا کہ اگر آپ مکہ و مدینہ کو چاہتے ہیں تو علی بن محمد علیہما السلام کو اس علاقہ سے باہر نکالیں کہ انہوں نے سب کو اپنا مطیع بنا لیا ہے۔
متوکل کے حکم سے مدینہ میں آپ علیہ السلام پر آزار و اذیت میں اضافہ کردیا گیا، یہاں تک کہ امام علیہ السلام کو سامرا لے جایا گیا، مختلف طرح سے ستایا گیا، اور آخر کار معتز نے زہر سے شہید کردیا۔
حضرت امام عسکری علیہ السلام نے غسل و کفن کا انتظام کیا اور نماز جنازہ پڑھی۔ اس کے بعد ظاہری طور پر یہ امور دوسروں کے ذریعہ بھی انجام پائے اور آپ علیہ السلام کو جس مکان میں قیام پذیر تھے اسی مقام پر موجودہ حرم مطہّر میں دفن کیا گیا۔
[الارشاد، ج۲، ص۲۹۷، ۳۰۹؛ مناقب آل ابی طالب ع، ج۴، ص۴۳۳؛ بحارالانوار، ج۵۰، ص۱۱۴، ۱۱۷، ۲۰۰، ۲۰۶، ۲۵۹]
📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۳/ رجب، ص۱۸۶
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
Telegram
💫کلام نور💫
✅علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔
💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس:
https://www.facebook.com/klmnoor
http://klmnoor.blogspot.com
https://t.me/klmnoor
📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے:
@Klmnoor_admin
💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس:
https://www.facebook.com/klmnoor
http://klmnoor.blogspot.com
https://t.me/klmnoor
📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے:
@Klmnoor_admin
😢1
#بے_نیازی
🌹🌹حضرت امام علی نقی علیہ السلام:
🟤
🔵 بے نیازی یہ ہے کہ تمہاری خواہشیں کم ہوں اور جو تمہارے لئے کافی ہے اس پر خوش رہو، اور مفلسی یعنی نفس کا بہت زیادہ حریص ہونا اور شدید مایوسی۔
📚 نزهة الناظر و تنبيه الخاطر، ص۱۳۸، ح۷، لمع من كلام الإمام أبي الحسن على بن محمد بن على الرضا عليهم السلام
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
🌹🌹حضرت امام علی نقی علیہ السلام:
🟤
الْغِنَى قِلَّةُ تَمَنِّيكَ، وَ الرِّضَا بِمَا يَكْفِيكَ، وَ الْفَقْرُ شَرَهُ النَّفْسِ وَ شِدَّةُ الْقُنُوطِ۔🔵 بے نیازی یہ ہے کہ تمہاری خواہشیں کم ہوں اور جو تمہارے لئے کافی ہے اس پر خوش رہو، اور مفلسی یعنی نفس کا بہت زیادہ حریص ہونا اور شدید مایوسی۔
📚 نزهة الناظر و تنبيه الخاطر، ص۱۳۸، ح۷، لمع من كلام الإمام أبي الحسن على بن محمد بن على الرضا عليهم السلام
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
۵/ رجب المرجب
#ولادت_با_سعادت_امام_علی_نقی_علیہ_السلام
ماہ رجب ۲۱۴ھ کی پانچویں تاریخ تھی جب امام محمد تقی علیہ السلام کے بیت الشرف میں ایک اور نور الٰہی جلوہ گر ہوا اور قدرت نے سلسلۂ امامت کے دسویں وارث پیغمبر کو بھیج دیا
آپ کی والدہ ماجدہ جناب سمانہ مغربیہ تھیں
اسم گرامی علی تھا اور القاب میں نجیب، مرتضیٰ، عالم، فقیہ، ناصح، امین، موتمن، طیب، نقی اور ہادی وغیرہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ سامرہ کے محلہ عسکر میں قیام کی بنا پر عسکری بھی کہا جاتا ہے، آپ کے فرزند ارجمند کو بھی اسی لقب سے یاد کیا جاتا ہے بلکہ ان کا مشہورترین لقب عسکری ہی ہے۔
ولادت کی جگہ مدینہ سے کچھ دور صریا کے مقام پر ہے جہاں امام تقی ع اکثر قیام فرمایا کرتے تھے۔
کنیت ابوالحسن الثالث تھی، اس لئے کہ اس سے پہلے امام کاظم و امام رضا علیہماالسلام کو بھی اسی کنیت سے یاد کیا جاتا تھا اور بعض روایات میں ابوالحسن الماضی بھی کہا گیا ہے۔
شاہانِ وقت میں سب سے پہلا نام مامون رشید کا ہے جس کے دور حکومت میں ۲۱۴ھ میں آپ کی ولادت با سعادت ہوئی ہے۔ اس کے بعد ۲۱۸ھ میں معتصم، ۲۲۷ھ میں واثق، ۲۳۲ھ میں متوکل، ۲۴۷ھ میں منتصر، ۲۴۸ھ میں مستعین اور ۲۵۲ھ میں معتز تخت حکومت پر آیا۔
آپ کے انتہائی بچپنے کا زمانہ تھا جب ۲۱۹ھ میں معتصم نے آپ کے پدر بزرگوار کو مدینہ سے بغداد طلب کرلیا اور آپ اپنے پدر بزرگوار سے جدا ہوگئے جس کے بعد پھر دوبارہ ملاقات کی نوبت نہ آئی۔
باپ کے زیر سایہ تعلیم و تربیت نہ پانے کی بنا پر بعض افراد کو ہمدردی کا خیال پیدا ہوا۔ عمر بن فرح نے عبید اللہ جنیدی کو آپ کا معلم قرار دے دیا لیکن چند دنوں کے بعد جب جنیدی سے بچہ کی رفتارِ تعلیم کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ میں اسے تعلیم دیتا ہوں۔ خدا کی قسم میں اس سے علم حاصل کرتا ہوں اور اس کا علم و فضل مجھ سے کہیں زیادہ ہے۔ واللہ ھذا خیر اھل الارض (اثبات الوصیۃ، دمعۃ ساکبہ)
علم و کمالات:
ثقۃ الاسلام کلینی رح ناقل ہیں کہ امام نقی ع نے نوفلی سے فرمایا کہ خدا کے ۷۳ اسماء اعظم ہیں جس میں ایک آصف برخیا کو عنایت ہوا جس کے طفیل میں چشم زدن میں تخت بلقیس کو ملک سبا سے حضرت سلیمان کی خدمت میں پہونچا دیا اور ہمیں ان میں سے ۷۲ اسماء عطا کیے گئے ہیں۔ لہذا ہمارے عجائب و غرائب کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا ہے۔
۲۲۷ھ میں جب آپ کی عمر مبارک ۱۲۔۱۳ سال کی تھی تو آپ ابو ہاشم کے ساتھ سر راہ کھڑے تھے اور ادھر سے ترکوں کی فوج کا گذر ہوگیا تو آپ نے ایک سپاہی سے اس کی زبان میں گفتگو شروع کردی۔ وہ حیران ہوکر قدموں پر گرپڑا اور بتایا کہ آپ نے جس نام سے پکارا ہے اس کا علم میرے باپ کے علاوہ کسی کو نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ آپ کوئی ولی خدا ہیں۔
ابوہاشم ہی کی روایت ہے کہ آپ نے ایک دن ہندی زبان میں گفتگو شروع کی تو میں نے عرض کیا کہ مولا! میں اس زبان سے بالکل واقف نہیں ہوں۔ آپ نے ایک کنکری اٹھا کر اس می لعاب دہن لگاکر میرے حوالہ کردیا اور میں نے اسے زبان پر رکھا تو ۷۰ زبانوں کا ماہر ہوگیا۔
کرامات
متوکل نے ایک جادوگر کے ذریعہ امام کو رسوا کرنا چاہا اور دسترخوان پر اس کے ساتھ بٹھا دیا، جیسے ہی امام نے روٹی کو ہاتھ لگانا چاہا اس نے جادو سے روٹی کو اڑا دیا۔ اہل دربار میں قہقہہ لگ گیا۔ دوبارہ پھر ایسا ہوا، تین مرتبہ موقع دینے کے بعد شیرِ قالین کو اشارہ کیا اور اس نے مجسم ہوکر جادوگر کو ہڑپ لیا۔ دربار میں ہلچل مچ گئی۔ متوکل بدحواس ہوگیا، حضرت سے مطالبہ کیا کہ شیر قالین سے جادوگر کو واپس کرادیں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا موسی کے عصا نے جادوگروں کو واپس کیا تھا! اور یہ کہہ کر دربار سے باہر تشریف لے گئے۔ (شواہد النبوہ)
📚 نقوش عصمت، علامہ جوادی رح، ص۶۹۶ سے ماخوذ.
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
#ولادت_با_سعادت_امام_علی_نقی_علیہ_السلام
ماہ رجب ۲۱۴ھ کی پانچویں تاریخ تھی جب امام محمد تقی علیہ السلام کے بیت الشرف میں ایک اور نور الٰہی جلوہ گر ہوا اور قدرت نے سلسلۂ امامت کے دسویں وارث پیغمبر کو بھیج دیا
آپ کی والدہ ماجدہ جناب سمانہ مغربیہ تھیں
اسم گرامی علی تھا اور القاب میں نجیب، مرتضیٰ، عالم، فقیہ، ناصح، امین، موتمن، طیب، نقی اور ہادی وغیرہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ سامرہ کے محلہ عسکر میں قیام کی بنا پر عسکری بھی کہا جاتا ہے، آپ کے فرزند ارجمند کو بھی اسی لقب سے یاد کیا جاتا ہے بلکہ ان کا مشہورترین لقب عسکری ہی ہے۔
ولادت کی جگہ مدینہ سے کچھ دور صریا کے مقام پر ہے جہاں امام تقی ع اکثر قیام فرمایا کرتے تھے۔
کنیت ابوالحسن الثالث تھی، اس لئے کہ اس سے پہلے امام کاظم و امام رضا علیہماالسلام کو بھی اسی کنیت سے یاد کیا جاتا تھا اور بعض روایات میں ابوالحسن الماضی بھی کہا گیا ہے۔
شاہانِ وقت میں سب سے پہلا نام مامون رشید کا ہے جس کے دور حکومت میں ۲۱۴ھ میں آپ کی ولادت با سعادت ہوئی ہے۔ اس کے بعد ۲۱۸ھ میں معتصم، ۲۲۷ھ میں واثق، ۲۳۲ھ میں متوکل، ۲۴۷ھ میں منتصر، ۲۴۸ھ میں مستعین اور ۲۵۲ھ میں معتز تخت حکومت پر آیا۔
آپ کے انتہائی بچپنے کا زمانہ تھا جب ۲۱۹ھ میں معتصم نے آپ کے پدر بزرگوار کو مدینہ سے بغداد طلب کرلیا اور آپ اپنے پدر بزرگوار سے جدا ہوگئے جس کے بعد پھر دوبارہ ملاقات کی نوبت نہ آئی۔
باپ کے زیر سایہ تعلیم و تربیت نہ پانے کی بنا پر بعض افراد کو ہمدردی کا خیال پیدا ہوا۔ عمر بن فرح نے عبید اللہ جنیدی کو آپ کا معلم قرار دے دیا لیکن چند دنوں کے بعد جب جنیدی سے بچہ کی رفتارِ تعلیم کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ میں اسے تعلیم دیتا ہوں۔ خدا کی قسم میں اس سے علم حاصل کرتا ہوں اور اس کا علم و فضل مجھ سے کہیں زیادہ ہے۔ واللہ ھذا خیر اھل الارض (اثبات الوصیۃ، دمعۃ ساکبہ)
علم و کمالات:
ثقۃ الاسلام کلینی رح ناقل ہیں کہ امام نقی ع نے نوفلی سے فرمایا کہ خدا کے ۷۳ اسماء اعظم ہیں جس میں ایک آصف برخیا کو عنایت ہوا جس کے طفیل میں چشم زدن میں تخت بلقیس کو ملک سبا سے حضرت سلیمان کی خدمت میں پہونچا دیا اور ہمیں ان میں سے ۷۲ اسماء عطا کیے گئے ہیں۔ لہذا ہمارے عجائب و غرائب کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا ہے۔
۲۲۷ھ میں جب آپ کی عمر مبارک ۱۲۔۱۳ سال کی تھی تو آپ ابو ہاشم کے ساتھ سر راہ کھڑے تھے اور ادھر سے ترکوں کی فوج کا گذر ہوگیا تو آپ نے ایک سپاہی سے اس کی زبان میں گفتگو شروع کردی۔ وہ حیران ہوکر قدموں پر گرپڑا اور بتایا کہ آپ نے جس نام سے پکارا ہے اس کا علم میرے باپ کے علاوہ کسی کو نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ آپ کوئی ولی خدا ہیں۔
ابوہاشم ہی کی روایت ہے کہ آپ نے ایک دن ہندی زبان میں گفتگو شروع کی تو میں نے عرض کیا کہ مولا! میں اس زبان سے بالکل واقف نہیں ہوں۔ آپ نے ایک کنکری اٹھا کر اس می لعاب دہن لگاکر میرے حوالہ کردیا اور میں نے اسے زبان پر رکھا تو ۷۰ زبانوں کا ماہر ہوگیا۔
کرامات
متوکل نے ایک جادوگر کے ذریعہ امام کو رسوا کرنا چاہا اور دسترخوان پر اس کے ساتھ بٹھا دیا، جیسے ہی امام نے روٹی کو ہاتھ لگانا چاہا اس نے جادو سے روٹی کو اڑا دیا۔ اہل دربار میں قہقہہ لگ گیا۔ دوبارہ پھر ایسا ہوا، تین مرتبہ موقع دینے کے بعد شیرِ قالین کو اشارہ کیا اور اس نے مجسم ہوکر جادوگر کو ہڑپ لیا۔ دربار میں ہلچل مچ گئی۔ متوکل بدحواس ہوگیا، حضرت سے مطالبہ کیا کہ شیر قالین سے جادوگر کو واپس کرادیں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا موسی کے عصا نے جادوگروں کو واپس کیا تھا! اور یہ کہہ کر دربار سے باہر تشریف لے گئے۔ (شواہد النبوہ)
📚 نقوش عصمت، علامہ جوادی رح، ص۶۹۶ سے ماخوذ.
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
Telegram
💫کلام نور💫
✅علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔
💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس:
https://www.facebook.com/klmnoor
http://klmnoor.blogspot.com
https://t.me/klmnoor
📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے:
@Klmnoor_admin
💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس:
https://www.facebook.com/klmnoor
http://klmnoor.blogspot.com
https://t.me/klmnoor
📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے:
@Klmnoor_admin
❤1
#حضرت_امیر_المومنین_علیہ_السلام
#ہمیشہ_علی_ع_کے_ساتھ
🌷🌷حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ:
🔴
🔵 اے عمّار! اگر تم دیکھو کہ علی (ع) ایک راستے پر جا رہے ہیں اور باقی لوگ دوسرے راستے پر جا رہے ہیں تو علی (ع) کا راستہ اختیار کرنا،
کیونکہ وہ تمہیں کبھی ہلاکت کی طرف نہیں لے جائیں گے اور نہ ہدایت کے راستے سے نکالیں گے۔
📚 الطرائف في معرفة مذاهب الطوائف، ج۱، ص۱۰۴، ح ۱۵۳، في أنه ع مع الحق و الحق معه
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
#ہمیشہ_علی_ع_کے_ساتھ
🌷🌷حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ:
🔴
يَا عَمَّارُ! إِنْ رَأَيْتَ عَلِيّاً سَلَكَ وَادِياً وَ سَلَكَ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَادِياً فَاسْلُكْ مَعَ عَلِيٍّ فَإِنَّهُ لَنْ يُدْلِيَكَ فِي رَدًى وَ لَنْ يُخْرِجَكَ مِنْ هُدًى۔🔵 اے عمّار! اگر تم دیکھو کہ علی (ع) ایک راستے پر جا رہے ہیں اور باقی لوگ دوسرے راستے پر جا رہے ہیں تو علی (ع) کا راستہ اختیار کرنا،
کیونکہ وہ تمہیں کبھی ہلاکت کی طرف نہیں لے جائیں گے اور نہ ہدایت کے راستے سے نکالیں گے۔
📚 الطرائف في معرفة مذاهب الطوائف، ج۱، ص۱۰۴، ح ۱۵۳، في أنه ع مع الحق و الحق معه
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
❤4
#حضرت_امیر_المومنین_علیہ_السلام
#حق_ہمیشہ_علی_ع_کے_ساتھ
🌹🌹 حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم:
🟤
🔵 علی (ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق علی (ع) کے ساتھ ہے، حق ان کے ساتھ ادھر ہی جائے گا جدھر وہ جائیں گے۔
📚 الفصول المختارة، ص۱۳۵، فصل مناظرة مع معتزلي حول الفقه الإمامي
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
#حق_ہمیشہ_علی_ع_کے_ساتھ
🌹🌹 حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم:
🟤
عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ يَدُورُ مَعَهُ حَيْثُمَا دَارَ.🔵 علی (ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق علی (ع) کے ساتھ ہے، حق ان کے ساتھ ادھر ہی جائے گا جدھر وہ جائیں گے۔
📚 الفصول المختارة، ص۱۳۵، فصل مناظرة مع معتزلي حول الفقه الإمامي
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
❤4👍1
۱۰/ رجب المرجب
۱ - #ولادت_حضرت_امام_جواد_علیہ_السلام
✍🏻 ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻮﺍﺩ ﺍﻟﺎئمہ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ ﺑﻨﺎﺑﺮ مشہور ماہ رجب کی دسویں تاریخ سنہ ۱۹۵ھ میں دنیا میں تشریف لائے۔
[اعلام الوریٰ، ج۲، ص۹۱؛ مناقب آل ابی طالب ع، ج۴، ص۴۱۱؛ زاد المعاد، ص ۲۰؛ فیض العلام، ص۲۹۹؛ مصباح کفعمی، ج۲، ص۵۹۹؛ مصباح المتہجد، ص۷۴۱؛ بحارالانوار، ج۵۰، ص۷، ۱۴؛ تاج الموالید، ص۵۲؛ تقویم المحسنین، ص۱۷]
آپ علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے سلسلہ میں دیگر اقوال اس طرح سے ہیں:
۱۵/ ﺭﻣﻀﺎﻥ، [مسارالشیعہ، ص۷، تاج الموالید، ص۵۲؛ مناقب آل ابی طالب ع، ج۴؛ ص۴۱۱]
۱۷/ ﺭﻣﻀﺎﻥ، [مناقب آل ابی طالب ع، ج۴، ص۴۱۱؛ تاج الموالید، ص۵۲]
ﺁﺧﺮ ﺫﻯ ﺍﻟﻘﻌﺪہ، ۱۳/ﺭﺟﺐ۔ [زاد المعاد، ص۲۱؛ مصباح المتہجد، ص۷۵۴]
← آپ علیہ السلام کے ﭘﺪﺭ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ، اﻭر ﻣﺎﺩﺭ گرامی ﺟﻨﺎﺏ سبیکہ ﻳﺎ ﺩُﺭّہ ہیں جنہیں ﺣﻀﺮﺕ امام ﺭﺿﺎ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ «ﺧﻴﺰﺭﺍﻥ» نام سے پکارتے تھے۔
[اعلام الوریٰ، ج۲، ص۹۱؛ بحارالانوار، ج۵۰، ص۷]
← آپ علیہ السلام کا اسم شریف ﻣﺤﻤّﺪ، ﻭ کنیت ﺍﺑﻮ ﺟﻌﻔﺮ ہے اﻭر آپ علیہ السلام کے مشہور ترین ﺍﻟﻘﺎﺏ ﺗﻘﻰ اﻭر ﺟﻮﺍﺩ ہیں۔
ﺣﻀﺮﺕ امام ﺭﺿﺎ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ ﺁپ علیہ السلام کو کنیت سے یاد فرماتے تھے، اﻭر کہتے تھے: «ﺍﺑﻮ ﺟﻌﻔﺮ نے مجھے خط لکھا ہے».
اﻭر وہ خطوط جو آپ علیہ السلام کی جانب سے لکھے جاتے تھے بہت ہی دیدہ زیب اور با عظمت ہوا کرتے تھے، اور جب ﺍﻣﺎﻡ رضا علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ ﺍﻣﺎﻡ ﺟﻮﺍﺩ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ کے لئے خط لکھنا چاہتے تھے تو آپ علیہ السلام کو بڑے ہی ادب و احترام سے خطاب کرتے تھے اور فرماتے تھے:
«ابو جعفر میرے اہل بیت میں میرے بعد میرے وصیّ و جانشین ہیں».
[عیون اخبار الرضا ع، ج۱، ص۲۶۶؛ بحار الانوار، ج۵۰، ص۱۸؛ مدینۃ المعاجز، ج۷، ص۲۸۴]
← حضرت امام جواد علیہ السلام کے بچپن کے ایّام میں ایک دن آپ علیہ السلام کو والد ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ حضرت ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ کی خدمت میں لایا گیا، امام علیہ السلام نے فرمایا:
«یہ ایسا مولود ہے کہ شیعوں کے لئے اس سے زیادہ مبارک کوئی اس دنیا میں نہیں آیا ہے»
[کافی، ج۱، ص۳۲۱؛ انوار البہیہ، ص۲۵۲؛ ارشاد، ج۲، ص۲۷۹؛ روضۃ الواعظین، ص۲۳۷]
کیونکہ حضرت ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ چالیس برس اور کچھ ماہ کے ہوگئے تھے لیکن ابھی تک آپ علیہ السلام کی کوئی اولاد نہیں تھی، اﻭر بعض شیعہ حضرات امر امامت کے سلسلہ میں تشویش کا شکار ہونے لگے تھے؛ جس وقت خدا نے ہمارے آقا ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺿﺎ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ کو حضرتﺟﻮﺍﺩ ﺍﻟﺎﺋﻤﻪ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ سے نوازا، تو ان کے شکوک و شبہات بھی برطرف ہوگئے۔
۲ - #ولادت_حضرت_علی_اصغر_علیہ_السلام
✍🏻 ﺣﻀﺮﺕ ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺤﻮﺍﺋﺞ ﻋﻠﻰ ﺍﺻﻐﺮ علیہﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ کی ولادت با سعادت اسی روز واقع ہوئی ہے۔
[تقویم الائمہ، ص۷۳، ۷۸؛ سحاب رحمت، ص۵۳۵]
اس اعتبار سے کہ حضرت علی اصغر علیہ السلام نے چھ ماہ کی عمر میں عاشور کے دن کربلا میں شہادت پائی ہے، [کلمات الامام الحسین ع، ص ۴۷۸؛ معالی السبطین، ج۱، ص۲۵۹] آپ علیہ السلام کی ولادت کی تاریخ ۱۰/ رجب ہوتی ہے۔
البتہ بعض نے آپ علیہ السلام کی ولادت کی تاریخ ۸ یا ۹ رجب المرجب بھی تحریر کیا ہے۔
← آپ علیہ السلام کا نام ﻋﺒﺪاللہ ہے، اور ﻋﻠﻰ ﺍﺻﻐﺮ علیہ السلام کے نام سے معروف ہیں۔ آپ علیہ السلام کے القاب ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺤﻮﺍﺋﺞ، ﺭﺿﻴﻊ، ﻣﺬﺑﻮﺡٌ ﻣﻦ ﺍلأﺫﻥ إﻟﻰ ﺍلأﺫﻥ ہیں۔ آپ علیہ السلام کے والد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السلام اور مادر گرامی ﺣﻀﺮﺕ ﺭُﺑﺎﺏ بنت إﻣﺮﺀ ﺍﻟﻘﻴﺲ ﻛﻠﺒﻰ ہیں۔
← آپ علیہ السلام کا ﻗﺎﺗﻞ، حرملہ ﺑﻦ ﻛﺎہل أﺳﺪﻯ ﻣﻠﻌﻮﻥ ہے جس نے ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻴﻦ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ، اہل ﺑﻴﺖ ﻭ ﺷﻴﻌﻴﺎﻥ اہل بیت ع کے قلوب، بلکہ اس مصیبت کے ہر سننے والے کو تڑپایا ہے۔
📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۱۰/ رجب المرجب، ص۱۸۹
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
۱ - #ولادت_حضرت_امام_جواد_علیہ_السلام
✍🏻 ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻮﺍﺩ ﺍﻟﺎئمہ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ ﺑﻨﺎﺑﺮ مشہور ماہ رجب کی دسویں تاریخ سنہ ۱۹۵ھ میں دنیا میں تشریف لائے۔
[اعلام الوریٰ، ج۲، ص۹۱؛ مناقب آل ابی طالب ع، ج۴، ص۴۱۱؛ زاد المعاد، ص ۲۰؛ فیض العلام، ص۲۹۹؛ مصباح کفعمی، ج۲، ص۵۹۹؛ مصباح المتہجد، ص۷۴۱؛ بحارالانوار، ج۵۰، ص۷، ۱۴؛ تاج الموالید، ص۵۲؛ تقویم المحسنین، ص۱۷]
آپ علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے سلسلہ میں دیگر اقوال اس طرح سے ہیں:
۱۵/ ﺭﻣﻀﺎﻥ، [مسارالشیعہ، ص۷، تاج الموالید، ص۵۲؛ مناقب آل ابی طالب ع، ج۴؛ ص۴۱۱]
۱۷/ ﺭﻣﻀﺎﻥ، [مناقب آل ابی طالب ع، ج۴، ص۴۱۱؛ تاج الموالید، ص۵۲]
ﺁﺧﺮ ﺫﻯ ﺍﻟﻘﻌﺪہ، ۱۳/ﺭﺟﺐ۔ [زاد المعاد، ص۲۱؛ مصباح المتہجد، ص۷۵۴]
← آپ علیہ السلام کے ﭘﺪﺭ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ، اﻭر ﻣﺎﺩﺭ گرامی ﺟﻨﺎﺏ سبیکہ ﻳﺎ ﺩُﺭّہ ہیں جنہیں ﺣﻀﺮﺕ امام ﺭﺿﺎ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ «ﺧﻴﺰﺭﺍﻥ» نام سے پکارتے تھے۔
[اعلام الوریٰ، ج۲، ص۹۱؛ بحارالانوار، ج۵۰، ص۷]
← آپ علیہ السلام کا اسم شریف ﻣﺤﻤّﺪ، ﻭ کنیت ﺍﺑﻮ ﺟﻌﻔﺮ ہے اﻭر آپ علیہ السلام کے مشہور ترین ﺍﻟﻘﺎﺏ ﺗﻘﻰ اﻭر ﺟﻮﺍﺩ ہیں۔
ﺣﻀﺮﺕ امام ﺭﺿﺎ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ ﺁپ علیہ السلام کو کنیت سے یاد فرماتے تھے، اﻭر کہتے تھے: «ﺍﺑﻮ ﺟﻌﻔﺮ نے مجھے خط لکھا ہے».
اﻭر وہ خطوط جو آپ علیہ السلام کی جانب سے لکھے جاتے تھے بہت ہی دیدہ زیب اور با عظمت ہوا کرتے تھے، اور جب ﺍﻣﺎﻡ رضا علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ ﺍﻣﺎﻡ ﺟﻮﺍﺩ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ کے لئے خط لکھنا چاہتے تھے تو آپ علیہ السلام کو بڑے ہی ادب و احترام سے خطاب کرتے تھے اور فرماتے تھے:
«ابو جعفر میرے اہل بیت میں میرے بعد میرے وصیّ و جانشین ہیں».
[عیون اخبار الرضا ع، ج۱، ص۲۶۶؛ بحار الانوار، ج۵۰، ص۱۸؛ مدینۃ المعاجز، ج۷، ص۲۸۴]
← حضرت امام جواد علیہ السلام کے بچپن کے ایّام میں ایک دن آپ علیہ السلام کو والد ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ حضرت ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ کی خدمت میں لایا گیا، امام علیہ السلام نے فرمایا:
«یہ ایسا مولود ہے کہ شیعوں کے لئے اس سے زیادہ مبارک کوئی اس دنیا میں نہیں آیا ہے»
[کافی، ج۱، ص۳۲۱؛ انوار البہیہ، ص۲۵۲؛ ارشاد، ج۲، ص۲۷۹؛ روضۃ الواعظین، ص۲۳۷]
کیونکہ حضرت ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ چالیس برس اور کچھ ماہ کے ہوگئے تھے لیکن ابھی تک آپ علیہ السلام کی کوئی اولاد نہیں تھی، اﻭر بعض شیعہ حضرات امر امامت کے سلسلہ میں تشویش کا شکار ہونے لگے تھے؛ جس وقت خدا نے ہمارے آقا ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺿﺎ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ کو حضرتﺟﻮﺍﺩ ﺍﻟﺎﺋﻤﻪ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ سے نوازا، تو ان کے شکوک و شبہات بھی برطرف ہوگئے۔
۲ - #ولادت_حضرت_علی_اصغر_علیہ_السلام
✍🏻 ﺣﻀﺮﺕ ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺤﻮﺍﺋﺞ ﻋﻠﻰ ﺍﺻﻐﺮ علیہﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ کی ولادت با سعادت اسی روز واقع ہوئی ہے۔
[تقویم الائمہ، ص۷۳، ۷۸؛ سحاب رحمت، ص۵۳۵]
اس اعتبار سے کہ حضرت علی اصغر علیہ السلام نے چھ ماہ کی عمر میں عاشور کے دن کربلا میں شہادت پائی ہے، [کلمات الامام الحسین ع، ص ۴۷۸؛ معالی السبطین، ج۱، ص۲۵۹] آپ علیہ السلام کی ولادت کی تاریخ ۱۰/ رجب ہوتی ہے۔
البتہ بعض نے آپ علیہ السلام کی ولادت کی تاریخ ۸ یا ۹ رجب المرجب بھی تحریر کیا ہے۔
← آپ علیہ السلام کا نام ﻋﺒﺪاللہ ہے، اور ﻋﻠﻰ ﺍﺻﻐﺮ علیہ السلام کے نام سے معروف ہیں۔ آپ علیہ السلام کے القاب ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺤﻮﺍﺋﺞ، ﺭﺿﻴﻊ، ﻣﺬﺑﻮﺡٌ ﻣﻦ ﺍلأﺫﻥ إﻟﻰ ﺍلأﺫﻥ ہیں۔ آپ علیہ السلام کے والد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السلام اور مادر گرامی ﺣﻀﺮﺕ ﺭُﺑﺎﺏ بنت إﻣﺮﺀ ﺍﻟﻘﻴﺲ ﻛﻠﺒﻰ ہیں۔
← آپ علیہ السلام کا ﻗﺎﺗﻞ، حرملہ ﺑﻦ ﻛﺎہل أﺳﺪﻯ ﻣﻠﻌﻮﻥ ہے جس نے ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻴﻦ علیہ ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ، اہل ﺑﻴﺖ ﻭ ﺷﻴﻌﻴﺎﻥ اہل بیت ع کے قلوب، بلکہ اس مصیبت کے ہر سننے والے کو تڑپایا ہے۔
📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۱۰/ رجب المرجب، ص۱۸۹
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
Telegram
💫کلام نور💫
✅علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔
💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس:
https://www.facebook.com/klmnoor
http://klmnoor.blogspot.com
https://t.me/klmnoor
📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے:
@Klmnoor_admin
💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس:
https://www.facebook.com/klmnoor
http://klmnoor.blogspot.com
https://t.me/klmnoor
📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے:
@Klmnoor_admin
#حضرت_امیر_المومنین_علیہ_السلام
#عنوان_صحیفہ_مومن
🌹🌹حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ:
🟤
🔵 مومن کے نامۂ اعمال کا آغاز و عنوان علی ابن ابی طالب [علیہ السلام] کی محبت ہے۔
📚 بشارة المصطفى لشيعة المرتضى (ط - القديمة)، ص۱۵۴، عنوان صحيفة المؤمن حب علي«ع».
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
#عنوان_صحیفہ_مومن
🌹🌹حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ:
🟤
عُنْوَانُ صَحِيفَةِ الْمُؤْمِنِ حُبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ع.🔵 مومن کے نامۂ اعمال کا آغاز و عنوان علی ابن ابی طالب [علیہ السلام] کی محبت ہے۔
📚 بشارة المصطفى لشيعة المرتضى (ط - القديمة)، ص۱۵۴، عنوان صحيفة المؤمن حب علي«ع».
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
۱۳/ رجب
#ولادت_امیر_المومنین_علیہ_السلام
پہلے امامِ مؤمنین و خلیفۃ اللہ بلا فصل بعد رسول اللہ خاتم النَّبیین صلّی اللہ علیہ و آلہ، برادر، وزیر و داماد سیّد المرسلین؛ سیّد الوصِّیین، امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام بروز جمعہ ۱۳/رجب المرجب کو بیت اللہ الحرام میں، کعبہ معظّمہ کے اندر دنیا میں تشریف لائے، آپ علیہ السلام سے پہلے اور بعد میں نہ کوئی مولود اس جگہ پیدا ہوا ہے اور نہ ہوگا۔[۱]
← امیر المؤمنین علیہ السّلام کے القاب
آپ ع کا اسم شریف علی ہے۔ صاحب کتاب الأنوار کہتے ہیں: کتاب خدا میں علی بن ابی طالب ع کے ۳۰۰ اسم ہیں۔ آپ علیہ السلام کا مشہور ترین لقب امیر المؤمنین ہے جو صرف آپ ع سے مخصوص ہے؛ ابن شہر آشوب نے آپ ع کے ۸۵۰ سے زیادہ القاب ذکر فرمائے ہیں۔[۲]
آپ علیہ السلام کی مشہور ترین کنیت ابو الحسن ع ہے۔ ان ناموں اور القابات کے علاوہ جو مختلف زبانوں میں، مختلف آسمانی کتابوں میں موجود ہیں... اہل آسمان کے نزدیک آپ علیہ السلام "شمساطیل" کے نام سے معروف ہیں، اور زمیں پر"جمحائیل"، لوح پر "قنسوم"، قلم میں "منصوم"، عرش پر "معین"، رضوان کے نزدیک "امین"، حور العین کے نزدیک "اصب"ہیں، صحف ابراہیم ع میں"حزبیل"، عبرانی میں "بلقیاطیس" سریانی میں "شروحیل"، تورات میں "ایلیا"، زبور میں "آریا" انجیل میں "بریا"، اور صحف میں "حجر عین" اور قرآن میں"علی" ہے۔ [۳]
← آپ علیہ السلام کے دیگر القاب:
ابو الأئمة، خلیل النبوة، المخصوصو بالاخوة، یعسوب الایمان، یعسوب الدین، میزان الأعمال، سیف ذی الجلال، صالح المؤمنین، وارث علم النّبیین، الحاکم فی یوم الدین، شجرة التّقوی، حجّة الله البالغة، نعمة الله السابقة، الصراط الواضح، الامام الناصح، الوصیّ، البر، التقی، النبأ العظیم، الصدّیق الرّشید، الزکی، نور الله التّام، سیّد الوصیّین، کلمة الرحمن، الباقر علوم الأدیان، التالی سور القرآن، الثاقب لحجاب الشیطان، الجامع لأحکام القرآن، الذاکر ربه فی السّر و الإعلان، الربیع الباکر، اللازم لأوامر الرحمن، امام الأتقیاء، سیّد النّجباء، هادی الأولیاء، قبلة الرحماء، امیر الأمراء، قدوة الأوصیاء، افصح کل ذی شفتین، مفقه الفقهاء، اقضی ذوی القضاء، ابصر ذی عینین، اَسمع ذی اُذنین، ولی الله، الشهید، ابو الشّهداء، زوج فاطمة الزّهرا علیها السلام، معز الأولیاء، مذلّ الأعداء، العروة الوثقی، مفتاح الهدی، الحجّة العظمی، الحسان، الآیة، القصر المشید، القاضی، امیر النحل، الامام الأوّل، نور الله الجلیل، هارون، الزیتون، کشاف الکرب، الهاشمی الأمّ و الأب، مفتوح الباب إلی المحراب عند سدّ ابواب سائر الأصحاب، السابق بالخیرات، القبلة للسادات، عین الحیاة، العالم الزاهد، الحسنة، الحمید، الحق، خیر البشر، المحمود، الذکر، الذاکر، ذو القربی، ذو المحن، الامام الطاهر، الصدّیق الأکبر، الشفیع فی المحشر، بدر الأکبر، ساقی و مراد الکوثر یوم الحشر و من اعطی رسول الله صلّی الله علیه و آله بنسله الکوثر، صاحب ذی الفقار، الکرّار غیر فرّار، ابن عمّ النّبی المختار، ثمرة بیعة الشجرة، السفینة، السابق، کلیم الشمس، الثانی من الخمس، المعصوم، الحنیف، الدلیل، المیزان بالقسط، السیّد الاورع، ابو شبیر المسمّی بحیدر و ما ادراک ما حیدر، صاحب برائة و غدیر خم و رایة خیبر، النجم اللائح، خیر البریة.
← امیر المؤمنین علیہ السلام کے والدین:
آپ علیہ السلام کے والد ماجد، سید بطحاء حضرت ابو طالب ع [۴]، اور مادر گرامی فاطمہ بنت أسد بن ہاشم بن عبد مناف ہیں، کہ سب سے پہلے اسی خزانۂ عصمت و حیا و عفّت سے انوار امامت و ولایت متجلّی ہوا اور وہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جن سے ایسا اختر تابناک ظاہر ہوا۔
جناب فاطمہ بنت اسد صرف مادر امیر المؤمنین ع ہی نہیں تھیں، بلکہ وفات عبد المطّلب ع کے بعد۔ جبکہ پیغمبر اکرم ص چھ یا آٹھ برس کے تھے اور ابو طالب ع کی سرپرستی میں تھے ـ آپ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کے سلسلہ میں ماں کا کردار پیش کیا اور ہمیشہ ان کو اپنے فرزندوں پر ترجیح دی اور مسلسل آپ صلی اللہ علیہ و آلہ سے علامات نبوت کا مشاہدہ کرتی رہیں، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ آپ کو ماں کہہ کر خطاب فرماتے تھے۔ [۵]
اسی طرح حضرت خدیجہ کبری ع کی وفات پر، پیغمبر ص نے فاطمہ زہرا ع کو فاطمہ بنت أسد ع کے سپرد کیا۔ آپ نے ان کے سلسلہ میں بھی ماں کا کردار پیش کیا اور جب تک زندہ رہیں خاتون دوجہاں کو جان و دل سے اپنی عزت آفریں آغوش میں پرورش فرماتی رہیں۔ [۶]
فاطمہ بند اسد ع نے چوتھی ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی، اور بقیع میں مدفون ہوئیں۔ جس وقت امیر المؤمنین ع نے اپنی والدہ کی خبرِ وفات پیغمبر ص تک پہونچائی آپ ص نے فرمایا:
#ولادت_امیر_المومنین_علیہ_السلام
پہلے امامِ مؤمنین و خلیفۃ اللہ بلا فصل بعد رسول اللہ خاتم النَّبیین صلّی اللہ علیہ و آلہ، برادر، وزیر و داماد سیّد المرسلین؛ سیّد الوصِّیین، امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام بروز جمعہ ۱۳/رجب المرجب کو بیت اللہ الحرام میں، کعبہ معظّمہ کے اندر دنیا میں تشریف لائے، آپ علیہ السلام سے پہلے اور بعد میں نہ کوئی مولود اس جگہ پیدا ہوا ہے اور نہ ہوگا۔[۱]
← امیر المؤمنین علیہ السّلام کے القاب
آپ ع کا اسم شریف علی ہے۔ صاحب کتاب الأنوار کہتے ہیں: کتاب خدا میں علی بن ابی طالب ع کے ۳۰۰ اسم ہیں۔ آپ علیہ السلام کا مشہور ترین لقب امیر المؤمنین ہے جو صرف آپ ع سے مخصوص ہے؛ ابن شہر آشوب نے آپ ع کے ۸۵۰ سے زیادہ القاب ذکر فرمائے ہیں۔[۲]
آپ علیہ السلام کی مشہور ترین کنیت ابو الحسن ع ہے۔ ان ناموں اور القابات کے علاوہ جو مختلف زبانوں میں، مختلف آسمانی کتابوں میں موجود ہیں... اہل آسمان کے نزدیک آپ علیہ السلام "شمساطیل" کے نام سے معروف ہیں، اور زمیں پر"جمحائیل"، لوح پر "قنسوم"، قلم میں "منصوم"، عرش پر "معین"، رضوان کے نزدیک "امین"، حور العین کے نزدیک "اصب"ہیں، صحف ابراہیم ع میں"حزبیل"، عبرانی میں "بلقیاطیس" سریانی میں "شروحیل"، تورات میں "ایلیا"، زبور میں "آریا" انجیل میں "بریا"، اور صحف میں "حجر عین" اور قرآن میں"علی" ہے۔ [۳]
← آپ علیہ السلام کے دیگر القاب:
ابو الأئمة، خلیل النبوة، المخصوصو بالاخوة، یعسوب الایمان، یعسوب الدین، میزان الأعمال، سیف ذی الجلال، صالح المؤمنین، وارث علم النّبیین، الحاکم فی یوم الدین، شجرة التّقوی، حجّة الله البالغة، نعمة الله السابقة، الصراط الواضح، الامام الناصح، الوصیّ، البر، التقی، النبأ العظیم، الصدّیق الرّشید، الزکی، نور الله التّام، سیّد الوصیّین، کلمة الرحمن، الباقر علوم الأدیان، التالی سور القرآن، الثاقب لحجاب الشیطان، الجامع لأحکام القرآن، الذاکر ربه فی السّر و الإعلان، الربیع الباکر، اللازم لأوامر الرحمن، امام الأتقیاء، سیّد النّجباء، هادی الأولیاء، قبلة الرحماء، امیر الأمراء، قدوة الأوصیاء، افصح کل ذی شفتین، مفقه الفقهاء، اقضی ذوی القضاء، ابصر ذی عینین، اَسمع ذی اُذنین، ولی الله، الشهید، ابو الشّهداء، زوج فاطمة الزّهرا علیها السلام، معز الأولیاء، مذلّ الأعداء، العروة الوثقی، مفتاح الهدی، الحجّة العظمی، الحسان، الآیة، القصر المشید، القاضی، امیر النحل، الامام الأوّل، نور الله الجلیل، هارون، الزیتون، کشاف الکرب، الهاشمی الأمّ و الأب، مفتوح الباب إلی المحراب عند سدّ ابواب سائر الأصحاب، السابق بالخیرات، القبلة للسادات، عین الحیاة، العالم الزاهد، الحسنة، الحمید، الحق، خیر البشر، المحمود، الذکر، الذاکر، ذو القربی، ذو المحن، الامام الطاهر، الصدّیق الأکبر، الشفیع فی المحشر، بدر الأکبر، ساقی و مراد الکوثر یوم الحشر و من اعطی رسول الله صلّی الله علیه و آله بنسله الکوثر، صاحب ذی الفقار، الکرّار غیر فرّار، ابن عمّ النّبی المختار، ثمرة بیعة الشجرة، السفینة، السابق، کلیم الشمس، الثانی من الخمس، المعصوم، الحنیف، الدلیل، المیزان بالقسط، السیّد الاورع، ابو شبیر المسمّی بحیدر و ما ادراک ما حیدر، صاحب برائة و غدیر خم و رایة خیبر، النجم اللائح، خیر البریة.
← امیر المؤمنین علیہ السلام کے والدین:
آپ علیہ السلام کے والد ماجد، سید بطحاء حضرت ابو طالب ع [۴]، اور مادر گرامی فاطمہ بنت أسد بن ہاشم بن عبد مناف ہیں، کہ سب سے پہلے اسی خزانۂ عصمت و حیا و عفّت سے انوار امامت و ولایت متجلّی ہوا اور وہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جن سے ایسا اختر تابناک ظاہر ہوا۔
جناب فاطمہ بنت اسد صرف مادر امیر المؤمنین ع ہی نہیں تھیں، بلکہ وفات عبد المطّلب ع کے بعد۔ جبکہ پیغمبر اکرم ص چھ یا آٹھ برس کے تھے اور ابو طالب ع کی سرپرستی میں تھے ـ آپ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کے سلسلہ میں ماں کا کردار پیش کیا اور ہمیشہ ان کو اپنے فرزندوں پر ترجیح دی اور مسلسل آپ صلی اللہ علیہ و آلہ سے علامات نبوت کا مشاہدہ کرتی رہیں، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ آپ کو ماں کہہ کر خطاب فرماتے تھے۔ [۵]
اسی طرح حضرت خدیجہ کبری ع کی وفات پر، پیغمبر ص نے فاطمہ زہرا ع کو فاطمہ بنت أسد ع کے سپرد کیا۔ آپ نے ان کے سلسلہ میں بھی ماں کا کردار پیش کیا اور جب تک زندہ رہیں خاتون دوجہاں کو جان و دل سے اپنی عزت آفریں آغوش میں پرورش فرماتی رہیں۔ [۶]
فاطمہ بند اسد ع نے چوتھی ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی، اور بقیع میں مدفون ہوئیں۔ جس وقت امیر المؤمنین ع نے اپنی والدہ کی خبرِ وفات پیغمبر ص تک پہونچائی آپ ص نے فرمایا:
«وہ میرں ماں تھیں».
اس کے بعد انہیں اپنا عمامہ اور لباس دیا تاکہ فاطمہ ع کو ان کپڑوں میں کفن دیں اور خود آنحضرت ص نے نماز جنازہ پڑھی اور چالیس تکبیریں کہیں اور فرمایا:
«چونکہ ملائکہ کی چالیس صفیں نماز پڑھ رہی تھیں میں نے چالیس تکبیریں کہی ہیں»۔
اس کے بعد قبر میں اتر کر لیٹے اور دفن کے وقت تلقین پڑھی اور ان کے لئے دعا کی۔[۷]
ولادت امیر المؤمنین ع کی حدیث بھی فاطمه بنت اسد ع کی صلابت ایمانی پر دلالت کررہی ہے۔[۸]
← امیر المؤمنین علیہ السلام کا نور اصلاب میں:
وہ نور جو عرش الٰہی سے چلا تھا، یکے بعد دیگرے أنبیاء و أوصیاء میں منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ جناب عبد المطّلب ع تک پہونچا اور اس کے بعد وہ نور دو حصّوں میں تقسیم ہوا؛ ایک نور عبد اللہ ع کی پیشانی مبارک میں جو بعد میں جناب آمنہ ع کی پیشانی مبارک میں آیا اور پھر خاتم الأنبیاء ص کے چہرے میں منتقل ہوا۔
نور کا دوسرا حصّہ ابو طالب ع کی پیشانی مبارک میں مستقر ہوا۔
خدا نے جناب ابو طالب ع کو کئی بیٹے دئے: عقیل، طالب، جعفر، فاختہ یا أمّ ہانی، جُمانہ اور امیر المؤمنین علی ع۔
جس وقت خدا نے ابو طالب و فاطمہ بنت أسد ع کو علی ع سے نوازا، وہ نور فاطمہ بنت أسد ع کے چہرے پر تجلّیاں بکھیر رہا تھا۔
← امیر المؤمنین علیہ السلام کی جائے ولادت:
امیر المؤمنین ع کی جائے ولادت اشرف البقاع یعنی حرم ہے. حرم کی بہترین جگہ مسجد ہے، اور مسجد کی عظیم ترین جگہ کعبه ہے۔ اس جگہ پر آپ ع کے سوا کوئی مولود نہیں آیا ہے، اور یہ ولادت سیّد الایّام یعنی روز جمعه، ماه حرام اور بیت الحرام میں واقع ہوئی۔ [۹]
امیر المؤمنین ع نے تین دن تک آنکھیں نہیں کھولیں یہاں تک کہ پیغمبر ص کی خدمت میں لایا گیا، اس وقت آپ ع نے آنکھیں کھولیں۔ آنحضرت ص فرمایا:
«اس نے اپنی نظر کے لئے مجھے انتخاب کیا اور میں نے اپنے علم کے لئے اسے منتخب کیا». [۱۰]
اس کے بعد آنحضرت ص نے آغوش میں لیا اور ابوطالب ع کے گھر لیکر گئے۔ [۱۱]
← امیر المؤمنین علیہ السلام کی ولادت کے سلسلہ میں پیشینگوئی:
جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں:
«مثرم بن رعیب» نامی ایک راہب جس نے ۱۹۰ برس تک عبادت کی تھی، لیکن اس نے خدا سے کچھ چاہا نہ تھا۔ ایک دن اس نے خدا سے دعا کی کہ اپنے کسی ولی کا دیدار کرادے۔ خداوند متعال نے جناب ابو طالب ع کو اس کے پاس بھیجا اور جب راہب نے جان لیا کہ یہ کون سی شخصیت ہے، تو بشارت دی کہ اے ابوطالب خدا آپ کو ایک فرزند عطا کرنے والا ہے جو اللہ کا ولی ہوگا اور اس کا اسم شریف علی ہوگا۔
جب ان سے ملاقات ہو تو میرا سلام پہونچائیے گا اور کہیئے گا کہ مثرم خدا کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے اور آپ کی ولایت کی گواہی دیتا ہے۔
جناب ابو طالب علیہ السلام نے بہشتی انار، خرما اور انگور کو تناول فرمایا اور گھر تشریف لائے۔ فاطمہ بنت أسد ع نے بھی وہ خرما نوش فرمایا جو پیغمبر اکرم ص نے انہیں دیا تھا اور ابو طالب ع کو بھی دیا اور انھوں نے بھی اس میں سے کھایا۔
پیغمبر اکرم ص نے فرمایا تھا: یہ کھجور وہ تناول کرے گا جو اللہ کی وحدانیت و میری نبوت کا اقرار کرنے والا ہوگا۔
والدین نے اس بہشتی پھل کو نوش فرمایا اور وجود حضرت مولی الموحدین علی بن ابی طالب ع ظہور پذیر ہوا۔ جس وقت فاطمہ بنت أسد ع حاملہ ہوئیں، تو آپ کی نورانیت اور حسن میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔
← امیر المؤمنین علیہ السلام بطن مادر میں:
جس وقت آپ ع بطن فاطمہ بنت أسد ع میں مستقر ہوئے، مکّہ میں زلزلہ آیا اور قریش اپنے بتوں کو کوہ ابوقبیس پر لے گئے لیکن زلزلہ شدید ہوا اور بت منھ کے بل زمین پر گرپڑے۔
وہ ابو طالب ع کی پناہ میں پہونچے، اور آپ بالائے کوہ تشریف لے گئے اور کہا: «اے لوگو! اس رات ایک اہم واقعہ پیش آیا ہے۔ خدا نے ایسی شخصیت کو خلق کیا ہے کہ اگر اس کی اطاعت نہیں کروگے اور اس کی ولایت کا اقرار نہیں کروگے اور امامت کی گواہی نہیں دوگے تو یہ زلزلہ نہیں رکنے والا ہے۔ لہذا اس کی امامت و ولایت کا اقرار کرو»۔
پھر اشک افشانی کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور فرمایا: «بارالٰہا، تجھے محمدیت محمودہ، علویت الاعلی، فاطمۃ البیضاء کا واسطہ سرزمین تہامہ پر اپنی مہربانی اور رحمت کے ذریعہ لطف فرما»۔ دوسروں نے آمین کہا۔ دعا تمام ہوتے ہی زلزلہ ختم ہوگیا۔ عرب کے لوگ زمانۂ جاہلیّت میں جب بھی مصیبت میں مبتلا ہوتے تو یہی دعا پڑھا کرتے تھے اور مصیبت ٹل جاتی تھی۔
آپ ع نے بطن مادر ہی سے جعفر بن ابی طالب ع سے گفتگو کی تو وہ بیہوش ہوگئے۔ اسی طرح فاطمہ بنت أسد ع طواف کی غرض سے خانۂ خدا جاتی تھیں، لیکن اچانک آپ ع نے بطن سے اپنے دونوں قدموں سے شدّت کے ساتھ مارنا شروع کردیا اور انہیں ایسی جگہ پر نہیں جانے دیا جہاں پر بت نصب ہوں، جبکہ آپ علیہ السلام کی والدہ خدا کی عبادت کے لئے طواف کیا کرتی تھیں۔
اس کے بعد انہیں اپنا عمامہ اور لباس دیا تاکہ فاطمہ ع کو ان کپڑوں میں کفن دیں اور خود آنحضرت ص نے نماز جنازہ پڑھی اور چالیس تکبیریں کہیں اور فرمایا:
«چونکہ ملائکہ کی چالیس صفیں نماز پڑھ رہی تھیں میں نے چالیس تکبیریں کہی ہیں»۔
اس کے بعد قبر میں اتر کر لیٹے اور دفن کے وقت تلقین پڑھی اور ان کے لئے دعا کی۔[۷]
ولادت امیر المؤمنین ع کی حدیث بھی فاطمه بنت اسد ع کی صلابت ایمانی پر دلالت کررہی ہے۔[۸]
← امیر المؤمنین علیہ السلام کا نور اصلاب میں:
وہ نور جو عرش الٰہی سے چلا تھا، یکے بعد دیگرے أنبیاء و أوصیاء میں منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ جناب عبد المطّلب ع تک پہونچا اور اس کے بعد وہ نور دو حصّوں میں تقسیم ہوا؛ ایک نور عبد اللہ ع کی پیشانی مبارک میں جو بعد میں جناب آمنہ ع کی پیشانی مبارک میں آیا اور پھر خاتم الأنبیاء ص کے چہرے میں منتقل ہوا۔
نور کا دوسرا حصّہ ابو طالب ع کی پیشانی مبارک میں مستقر ہوا۔
خدا نے جناب ابو طالب ع کو کئی بیٹے دئے: عقیل، طالب، جعفر، فاختہ یا أمّ ہانی، جُمانہ اور امیر المؤمنین علی ع۔
جس وقت خدا نے ابو طالب و فاطمہ بنت أسد ع کو علی ع سے نوازا، وہ نور فاطمہ بنت أسد ع کے چہرے پر تجلّیاں بکھیر رہا تھا۔
← امیر المؤمنین علیہ السلام کی جائے ولادت:
امیر المؤمنین ع کی جائے ولادت اشرف البقاع یعنی حرم ہے. حرم کی بہترین جگہ مسجد ہے، اور مسجد کی عظیم ترین جگہ کعبه ہے۔ اس جگہ پر آپ ع کے سوا کوئی مولود نہیں آیا ہے، اور یہ ولادت سیّد الایّام یعنی روز جمعه، ماه حرام اور بیت الحرام میں واقع ہوئی۔ [۹]
امیر المؤمنین ع نے تین دن تک آنکھیں نہیں کھولیں یہاں تک کہ پیغمبر ص کی خدمت میں لایا گیا، اس وقت آپ ع نے آنکھیں کھولیں۔ آنحضرت ص فرمایا:
«اس نے اپنی نظر کے لئے مجھے انتخاب کیا اور میں نے اپنے علم کے لئے اسے منتخب کیا». [۱۰]
اس کے بعد آنحضرت ص نے آغوش میں لیا اور ابوطالب ع کے گھر لیکر گئے۔ [۱۱]
← امیر المؤمنین علیہ السلام کی ولادت کے سلسلہ میں پیشینگوئی:
جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں:
«مثرم بن رعیب» نامی ایک راہب جس نے ۱۹۰ برس تک عبادت کی تھی، لیکن اس نے خدا سے کچھ چاہا نہ تھا۔ ایک دن اس نے خدا سے دعا کی کہ اپنے کسی ولی کا دیدار کرادے۔ خداوند متعال نے جناب ابو طالب ع کو اس کے پاس بھیجا اور جب راہب نے جان لیا کہ یہ کون سی شخصیت ہے، تو بشارت دی کہ اے ابوطالب خدا آپ کو ایک فرزند عطا کرنے والا ہے جو اللہ کا ولی ہوگا اور اس کا اسم شریف علی ہوگا۔
جب ان سے ملاقات ہو تو میرا سلام پہونچائیے گا اور کہیئے گا کہ مثرم خدا کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے اور آپ کی ولایت کی گواہی دیتا ہے۔
جناب ابو طالب علیہ السلام نے بہشتی انار، خرما اور انگور کو تناول فرمایا اور گھر تشریف لائے۔ فاطمہ بنت أسد ع نے بھی وہ خرما نوش فرمایا جو پیغمبر اکرم ص نے انہیں دیا تھا اور ابو طالب ع کو بھی دیا اور انھوں نے بھی اس میں سے کھایا۔
پیغمبر اکرم ص نے فرمایا تھا: یہ کھجور وہ تناول کرے گا جو اللہ کی وحدانیت و میری نبوت کا اقرار کرنے والا ہوگا۔
والدین نے اس بہشتی پھل کو نوش فرمایا اور وجود حضرت مولی الموحدین علی بن ابی طالب ع ظہور پذیر ہوا۔ جس وقت فاطمہ بنت أسد ع حاملہ ہوئیں، تو آپ کی نورانیت اور حسن میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔
← امیر المؤمنین علیہ السلام بطن مادر میں:
جس وقت آپ ع بطن فاطمہ بنت أسد ع میں مستقر ہوئے، مکّہ میں زلزلہ آیا اور قریش اپنے بتوں کو کوہ ابوقبیس پر لے گئے لیکن زلزلہ شدید ہوا اور بت منھ کے بل زمین پر گرپڑے۔
وہ ابو طالب ع کی پناہ میں پہونچے، اور آپ بالائے کوہ تشریف لے گئے اور کہا: «اے لوگو! اس رات ایک اہم واقعہ پیش آیا ہے۔ خدا نے ایسی شخصیت کو خلق کیا ہے کہ اگر اس کی اطاعت نہیں کروگے اور اس کی ولایت کا اقرار نہیں کروگے اور امامت کی گواہی نہیں دوگے تو یہ زلزلہ نہیں رکنے والا ہے۔ لہذا اس کی امامت و ولایت کا اقرار کرو»۔
پھر اشک افشانی کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور فرمایا: «بارالٰہا، تجھے محمدیت محمودہ، علویت الاعلی، فاطمۃ البیضاء کا واسطہ سرزمین تہامہ پر اپنی مہربانی اور رحمت کے ذریعہ لطف فرما»۔ دوسروں نے آمین کہا۔ دعا تمام ہوتے ہی زلزلہ ختم ہوگیا۔ عرب کے لوگ زمانۂ جاہلیّت میں جب بھی مصیبت میں مبتلا ہوتے تو یہی دعا پڑھا کرتے تھے اور مصیبت ٹل جاتی تھی۔
آپ ع نے بطن مادر ہی سے جعفر بن ابی طالب ع سے گفتگو کی تو وہ بیہوش ہوگئے۔ اسی طرح فاطمہ بنت أسد ع طواف کی غرض سے خانۂ خدا جاتی تھیں، لیکن اچانک آپ ع نے بطن سے اپنے دونوں قدموں سے شدّت کے ساتھ مارنا شروع کردیا اور انہیں ایسی جگہ پر نہیں جانے دیا جہاں پر بت نصب ہوں، جبکہ آپ علیہ السلام کی والدہ خدا کی عبادت کے لئے طواف کیا کرتی تھیں۔
ایک دوسرے زمانے میں، نومولود کی آمد پر یہ بت چہرے کے بل زمیں پر گر پڑے۔ طائف کے شیر درندہ نے ابو طالب ع کی تعظیم کی۔ جب اس کے سلسلہ میں سوال کیا تو شیر نے کہا: «آپ پدرِ أسد اللہ و حامیِ محمّد پیغمبر خدا ص و مربّیِ شیر خدا ہیں۔
← مادر امیر المؤمنین علیہ السلام کعبہ میں:
شب جمعہ تیرہویں رجب ہمسر ابو طالب ع نے درد کا احساس کیا، لیکن ایک مخصوص نام کی قرائت سے قرار آگیا۔ جب جناب ابو طالب ع نے چاہا کہ قریش کی کچھ خواتین کو فاطمہ بنت اسد کی مدد کے لئے لے آئیں تو گھر کے ایک کونے سے آواز آئی: «اے ابوطالب، صبر کرو کیونکہ ولیّ خدا کو کوئی نجس ہاتھ نہیں لگا سکتا».
صبح کے وقت فاطمہ بنت أسد ع نے ایک آواز سنی: «اے فاطمہ ہمارے گھر آ جاؤ»۔
ابو طالب ع اور پیغمبر ص آپ کو مسجد الحرام لائے۔ عبّاس بن عبد المطّلب کچھ لوگوں کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے، دیکھا کہ فاطمہ ع مسجد الحرام میں وارد ہوئیں اور کعبہ کے پاس کھڑی ہوئیں، آسمان کی جانب دیکھا اور فرمایا: «پروردگارا، میں تجھ پر اور تیرے بھیجے ہوئے پیغمبروں اور کتابوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ میں اپنے جدّ ابراہیم خلیل کی تصدیق کرتی ہوں جنھوں نے اس حرم کو تعمیر کیا ہے۔ تجھے قسم دیتی ہوں اور تجھ سے چاہتی ہوں اس کے واسطے سے جس نے اس گھر کو بنایا، اور اس فرزند کے واسطے جو میرے بطن میں ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور مجھ سے کلام کے ذریعہ انس پاتا ہے، مجھے یقین ہے کہ وہ تیری آیات اور نشانیوں میں سے ہے، اس ولادت کو مجھ پر آسان فرما»۔
ناگہاں مسجد الحرام میں موجود لوگوں نے دیکھا کہ دیوار کعبہ شگافتہ ہوئی اور فاطمہ بنت أسد ع اس میں وارد ہوگئیں۔ لاکھ چاہنے پر در کعبہ کا قفل نہ کھل سکا، جس سے معلوم ہوا کہ اس میں خدا کی کوئی حکمت ہے۔[۱۲]
فاطمه بنت أسد ع فرماتی ہیں: «جب کعبہ میں داخل ہوئی دیکھا کہ حوّا، ساره، آسیہ، مادر موسی اور مریم تشریف لائیں، انہوں نے سلام کیا: «السّلام علیک یا ولیّة الله» اور ہمارے پاس بیٹھ گئیں»۔
انھوں نے جو خدمت خاتم الأنبیاء ص کی ولادت کے وقت پر انجام دی تھی، ولادت علی بن ابی طالب ع کے وقت بھی انجام دی۔ فاطمہ بنت أسد ع پیغمبر اکرم ص کی ولادت کے وقت موجود تھیں اور انھوں نے جناب ابوطالب کو اس ماجرا کی خبر دی تھی۔
حضرت ابو طالب ع نے پہلے ہی آپ سے فرمایا تھا: «30 سال صبر کرو کہ خدا تمہیں ایک مولود عطا کرے گا جو مثل خاتم الأنبیاء ص ہوگا سوائے نبوّت میں کہ وہ ان کا وصیّ اور وزیر ہوگا». [۱۳]
← امیر المؤمنین علیہ السلام کا یوم ولادت:
جمعه کے دن علی بن ابی طالب ع سنگ سرخ پر خورشید کی مانند کعبہ کے داہنے گوشہ کی سمت سے نمودار ہوئے۔ جیسے ہی زمین کعبہ پر قدم رکھا، سجدے میں گئے اور ہاتھوں کو آسمان کی جانب بلند کرکے فرمایا:
«أشهَدُ أن لا إلهَ إلاّ الله، وَ أنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ الله وَ أشهَدُ أنَّ عَلیاً وَلیُّ مُحَمَّدٍ رَسُولُ الله، بِمَحُمَّدٍ یختمُ اللهُ النُّبُوَّةَ وَ بِی یختم الوَصِیَّةَ وَ أنا امیرُ المُؤمِنین» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمّد ص رسول خدا ہیں اور علی وصیّ محمّد رسول الله ص ہیں۔ محمّد ص پر نبوّت ختم ہے اور مجھ پر وصایت تمام ہوگی اور میں امیر المؤمنین ہوں»۔ [۱۴]
پھر فرمایا: «جاءَ الحَقُّ وَ زَهَقَ الباطِلُ » : «حق آگیا اور باطل چلا گیا».
آپ کا وجود مبارک جب دنیائے خاکی پر آیا، بت منھ کے بل زمیں پر گر پڑے، آسماں پر نور چھا گیا اور شیطان نے فریاد کی: «اس فرزند سے بت اور بت پرستوں کی خیر نہیں» ! [۱۵]
← ولادت کے بعد امیر المؤمنین علیہ السلام کا خطاب:
اس کے بعد بہشتی خواتین کو سلام کیا اور خیریت دریافت کی۔ بہشتی خواتیں نے اپنی آغوش میں لیا اور آپ ع نے ان سے کلام کیا اور جب حضرت حوا ع نے آپ ع کو آغوش میں لیا، آپ ع نے فرمایا: «سلام ہو آپ پر اے مادر گرامی، حوا»!
جناب حوا ع نے جواب دیا: سلام ہو میرے بیٹے پر! علی بن ابی طالب ع نے حضرت آدم ع کے حالات دریافت کئے۔ جناب حوا ع نے جواب دیا: نعمت خداوندی میں مستغرق اور جوار پروردگار میں مُتَنَعِّم ہیں۔
جس وقت آپ ع کعبہ کے اندر تھے ابو طالب ع کوچه و بازار می آواز دے رہے تھے: بشارت ہو کہ ولی خدا ظاہر ہوا، جس کے ذریعہ وصایت تمام ہوگی۔ [۱۶]
بہشتی خواتین کے جانے کے بعد، پیغمبران الهی حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسی، حضرت عیسی علیہم السلام تشریف لائے؛ امیر المؤمنین ع نے انہیں دیکھ کر تبسّم فرمایا اور انہوں نے آپ ع کو سلام کیا: «اے ولی خدا اور خلیفہ رسول خدا ص آپ پر سلام»۔
آپ ع نے جواب دیا: «علیکم السلام و رحمة الله و برکاته»۔ سب نے باری باری آپ ع کو آغوش میں لیا بوسہ لیا اور تعریف کی اور چلے گئے۔
← مادر امیر المؤمنین علیہ السلام کعبہ میں:
شب جمعہ تیرہویں رجب ہمسر ابو طالب ع نے درد کا احساس کیا، لیکن ایک مخصوص نام کی قرائت سے قرار آگیا۔ جب جناب ابو طالب ع نے چاہا کہ قریش کی کچھ خواتین کو فاطمہ بنت اسد کی مدد کے لئے لے آئیں تو گھر کے ایک کونے سے آواز آئی: «اے ابوطالب، صبر کرو کیونکہ ولیّ خدا کو کوئی نجس ہاتھ نہیں لگا سکتا».
صبح کے وقت فاطمہ بنت أسد ع نے ایک آواز سنی: «اے فاطمہ ہمارے گھر آ جاؤ»۔
ابو طالب ع اور پیغمبر ص آپ کو مسجد الحرام لائے۔ عبّاس بن عبد المطّلب کچھ لوگوں کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے، دیکھا کہ فاطمہ ع مسجد الحرام میں وارد ہوئیں اور کعبہ کے پاس کھڑی ہوئیں، آسمان کی جانب دیکھا اور فرمایا: «پروردگارا، میں تجھ پر اور تیرے بھیجے ہوئے پیغمبروں اور کتابوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ میں اپنے جدّ ابراہیم خلیل کی تصدیق کرتی ہوں جنھوں نے اس حرم کو تعمیر کیا ہے۔ تجھے قسم دیتی ہوں اور تجھ سے چاہتی ہوں اس کے واسطے سے جس نے اس گھر کو بنایا، اور اس فرزند کے واسطے جو میرے بطن میں ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور مجھ سے کلام کے ذریعہ انس پاتا ہے، مجھے یقین ہے کہ وہ تیری آیات اور نشانیوں میں سے ہے، اس ولادت کو مجھ پر آسان فرما»۔
ناگہاں مسجد الحرام میں موجود لوگوں نے دیکھا کہ دیوار کعبہ شگافتہ ہوئی اور فاطمہ بنت أسد ع اس میں وارد ہوگئیں۔ لاکھ چاہنے پر در کعبہ کا قفل نہ کھل سکا، جس سے معلوم ہوا کہ اس میں خدا کی کوئی حکمت ہے۔[۱۲]
فاطمه بنت أسد ع فرماتی ہیں: «جب کعبہ میں داخل ہوئی دیکھا کہ حوّا، ساره، آسیہ، مادر موسی اور مریم تشریف لائیں، انہوں نے سلام کیا: «السّلام علیک یا ولیّة الله» اور ہمارے پاس بیٹھ گئیں»۔
انھوں نے جو خدمت خاتم الأنبیاء ص کی ولادت کے وقت پر انجام دی تھی، ولادت علی بن ابی طالب ع کے وقت بھی انجام دی۔ فاطمہ بنت أسد ع پیغمبر اکرم ص کی ولادت کے وقت موجود تھیں اور انھوں نے جناب ابوطالب کو اس ماجرا کی خبر دی تھی۔
حضرت ابو طالب ع نے پہلے ہی آپ سے فرمایا تھا: «30 سال صبر کرو کہ خدا تمہیں ایک مولود عطا کرے گا جو مثل خاتم الأنبیاء ص ہوگا سوائے نبوّت میں کہ وہ ان کا وصیّ اور وزیر ہوگا». [۱۳]
← امیر المؤمنین علیہ السلام کا یوم ولادت:
جمعه کے دن علی بن ابی طالب ع سنگ سرخ پر خورشید کی مانند کعبہ کے داہنے گوشہ کی سمت سے نمودار ہوئے۔ جیسے ہی زمین کعبہ پر قدم رکھا، سجدے میں گئے اور ہاتھوں کو آسمان کی جانب بلند کرکے فرمایا:
«أشهَدُ أن لا إلهَ إلاّ الله، وَ أنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ الله وَ أشهَدُ أنَّ عَلیاً وَلیُّ مُحَمَّدٍ رَسُولُ الله، بِمَحُمَّدٍ یختمُ اللهُ النُّبُوَّةَ وَ بِی یختم الوَصِیَّةَ وَ أنا امیرُ المُؤمِنین» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمّد ص رسول خدا ہیں اور علی وصیّ محمّد رسول الله ص ہیں۔ محمّد ص پر نبوّت ختم ہے اور مجھ پر وصایت تمام ہوگی اور میں امیر المؤمنین ہوں»۔ [۱۴]
پھر فرمایا: «جاءَ الحَقُّ وَ زَهَقَ الباطِلُ » : «حق آگیا اور باطل چلا گیا».
آپ کا وجود مبارک جب دنیائے خاکی پر آیا، بت منھ کے بل زمیں پر گر پڑے، آسماں پر نور چھا گیا اور شیطان نے فریاد کی: «اس فرزند سے بت اور بت پرستوں کی خیر نہیں» ! [۱۵]
← ولادت کے بعد امیر المؤمنین علیہ السلام کا خطاب:
اس کے بعد بہشتی خواتین کو سلام کیا اور خیریت دریافت کی۔ بہشتی خواتیں نے اپنی آغوش میں لیا اور آپ ع نے ان سے کلام کیا اور جب حضرت حوا ع نے آپ ع کو آغوش میں لیا، آپ ع نے فرمایا: «سلام ہو آپ پر اے مادر گرامی، حوا»!
جناب حوا ع نے جواب دیا: سلام ہو میرے بیٹے پر! علی بن ابی طالب ع نے حضرت آدم ع کے حالات دریافت کئے۔ جناب حوا ع نے جواب دیا: نعمت خداوندی میں مستغرق اور جوار پروردگار میں مُتَنَعِّم ہیں۔
جس وقت آپ ع کعبہ کے اندر تھے ابو طالب ع کوچه و بازار می آواز دے رہے تھے: بشارت ہو کہ ولی خدا ظاہر ہوا، جس کے ذریعہ وصایت تمام ہوگی۔ [۱۶]
بہشتی خواتین کے جانے کے بعد، پیغمبران الهی حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسی، حضرت عیسی علیہم السلام تشریف لائے؛ امیر المؤمنین ع نے انہیں دیکھ کر تبسّم فرمایا اور انہوں نے آپ ع کو سلام کیا: «اے ولی خدا اور خلیفہ رسول خدا ص آپ پر سلام»۔
آپ ع نے جواب دیا: «علیکم السلام و رحمة الله و برکاته»۔ سب نے باری باری آپ ع کو آغوش میں لیا بوسہ لیا اور تعریف کی اور چلے گئے۔
اس کے بعد ملائکه نازل ہوئے اور آپ ع کو آسمانوں پر لے گئے اور واپس لائے اور بر بار آپ کے فضائل ومناقب میں مخصوص کلمات کہے۔
فاطمه بنت أسد ع کہتی ہیں: «دوسری بار میں آپ ع کو اس حالت میں لے کر آئے کہ جنّت کے سفید حریر میں لپیٹا ہوا تھا اور مجھ سے کہا: «اس کو دوسروں کی نظروں سے بچا کر رکھنا کہ وہ ولیّ رب العالمین ہے۔ جان لو کہ کوئی بھی وارد بہشت نہیں ہوسکتا سوائے جس نے اس کی ولایت کو قبول کیا ہو اور اس کی امامت و ولایت کی تصدیق کی ہو۔ بابرکت ہے وہ جو اس کا تابع ہو اور وائے ہو اس پر جو اس سے روگردانی اختیار کرے۔ اس کی مثال کشتی نوح جیسی ہے جو اس سے متوسل ہوگا نجات پائے گا اور جو اس دور ہوگا غرق اور گمراہ ہوجائے گا۔ اس کے بعد اس کے کان میں کچھ کہا جو میں نہیں سمجھ سکی، اس کے بعد بوسہ لیا، اٹھے اور چلے گئے میں نہیں سمجھی کہ وہ کہاں سے باہر گئے»۔ [۱۷]
← تین دن کعبہ میں:
فاطمه بنت أسد ع تین دن تک خدا کے گھر مہمان رہنے کے بعد اپنے فرزند مبارک کو آغوش میں لے کر کعبہ سے باہر نکلنے کے لئے تیار ہوئیں، تبھی ہاتف غیبی نے آواز دی: «اے فاطمہ، اس مولود کا نام علی رکھنا، کیوں کہ میں خدائے علی أعلی ہوں، اس کا نام میں نے اپنے نام سے اخذ کیا ہے، اور ادب سکھایا ہے اور اپنے امر کو اس کے سپرد کیا ہے، اور اسے اپنے علم سے آگاہی بخشی ہے، وہ میرے گھر میں دنیا میں آیا ہے۔ وہ پہلا شخص ہوگا جو خانہ کعبہ سے اذان کہے گا، بتوں کو توڑے گا، اور انہیں کعبہ سے منھ کے بل گرائے گا۔ بابرکت ہے وہ جو اسے دوست رکھے اور اس کی اطاعت کرے اور اس کی مدد کرے۔ بد بخت ہے وہ جو اس سے بغض رکھے اور سرپیچی کرے، اسے نیچا دکھائے اور اس کے حق کا انکار کرے» [۱۸]
ان تین دنوں میں اس مولود کی تاریخی اور مبارک ولادت کی خبر ہر بزم کی زینت بنی ہوئی تھی، خاص کر در کعبہ کے قفل کے نہ کھلنے، جدار کعبہ کے شق ہونے، کفّار کے ذریعہ اس منظر کے دیکھے جانے کی بات عام موضوع بن گئی تھی۔
← آغوش پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ میں طلوع نور:
چوتھے دن کی صبح منتظر نگاہوں کے سامنے ناگہاں دیوار کعبه اسی پہلی جگہ سے اس قدر شگافتہ ہوئی فاطمہ بنت اسد ع اپنے فرزند کے ساتھ وہاں سے باہر نکل آئیں، سبھی لوگ دیکھ رہے تھے اور لوگوں کے سوال کرنے سے پہلے ہی فاطمہ بنت أسد ع نے انہیں کچھ واقعات سے باخبر کیا اور مولود کی عظمت، بہشتی غذائیں اور یہ کہ ندائے آسمانی سے اس کا نام علی ہے۔
ابو طالب ع و پیغمبر ص آگے بڑھے، اور فاطمہ بنت أسد ع مولود کے ساتھ آگے بڑھیں۔ حضرت مولی الموالی علی ع نے فرمایا: «السَّلامُ عَلَیکَ یا أبَه وَ رَحمَةُ اللهِ وَ بَرَکاتُه».
ابو طالب ع نے فرمایا: «وَ عَلَیکَ السَّلامُ یا بُنَیَّ وَ رَحمَةُ اللهِ وَ بَرَکاتُه»، اور آپ ع کو آغوش میں لے لیا۔[۱۹]
امیر المؤمنین ع نے پیغمبر اکرم ص کے سامنے اپنی آنکھیں کھولیں، متبسّم ہوئے اور فرمایا: السَّلامُ عَلَیکَ وَ رَحمَةُ الله وَ بَرَکاتُه، مجھے اپنی آغوش میں لیں»
پیغمبر اکرم ص نے جواب سلام دیا اور آغوش میں لیکر بوسہ لیا اور ہاتھ میں ہاتھ دیا۔ اس وقت امیر المؤمنین ع نے داہنے ہاتھ کو کان پر رکھ کر اذان و اقامت کہی اور خدا کی وحدانیت اور پیغمبر کی نبوت کی شہادت دی۔ اور پیغمبر اسلام ص سے آسمانی کتب کی تلاوت کی اجازت چاہی، اجازت ملنے پر صُحُف حضرت آدم و نوح و ابراہیم و موسی و عیسی علیہم السلام میں جو تھا سب کی تلاوت کی۔ [۲۰]
پھر قرآن کی تلاوت شروع کی جس کا نزول ابھی نہیں ہوا تھا، آپ ع نے سوره مبارکہ مؤمنون کی تلاوت سے آغاز کیا: قَد أفلَحَ المُؤمِنُون ... .
اسکے بعد رسول خدا ص آپ ع کو آغوش میں لئے ہوئے جناب ابو طالب ع کے گھر واپس آئے۔
فاطمہ بنت أسد ع فرماتی ہیں: «جب میں کعبہ سے نکلی اور اپنے فرزند کو پیغبر اکرم ص کے حوالہ کیا، حضور ص نے اپنی زبان مبارک سے علی ع کے دہن کو کھولا اور آب دہن سے تحنیک کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور فرمایا: «یہ وہ مولود ہے جو فطرت پر دنیا میں آیا ہے»۔
ولادت کے تیسرے دن یا کعبہ سے باہر آنے کے تیسرے دن یا بعض قول کے مطابق دسویں ذی الحجہ کو حضرت ابو طالب ع نے ولیمہ دیا اور کہا: «علی ابن ابی طالب کے ولیمہ میں تشریف لائیں، اس سے پہلے سات بار کعبہ کا طواف کریں اور پھر میرے بیٹے علی کو سلام کریں»۔ [۲۱]
← پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ کے ہمراہ عہد طفولیت میں:
امیر المؤمنین ع اپنے بچپنے کی زندگی اور پیغمبر اکرم ص کی ہمراہی کے بارے میں فرماتے ہیں: «بچپن کے زمانے میں، پیغمبر اکرم ص مجھے اپنی آغوش میں لیتے تھے، اور سینے سے لگاتے تھے۔ اور کھانے کو نرم بناکر میرے دہن میں رکھتے تھے۔ اور اپنی بوئے معطّر سے میرے جسم و جان کو معطّر فرماتے تھے۔ انہوں نے میری گفتار میں جھوٹ اور کردار میں غلطی اور نادانی نہ پائی۔
فاطمه بنت أسد ع کہتی ہیں: «دوسری بار میں آپ ع کو اس حالت میں لے کر آئے کہ جنّت کے سفید حریر میں لپیٹا ہوا تھا اور مجھ سے کہا: «اس کو دوسروں کی نظروں سے بچا کر رکھنا کہ وہ ولیّ رب العالمین ہے۔ جان لو کہ کوئی بھی وارد بہشت نہیں ہوسکتا سوائے جس نے اس کی ولایت کو قبول کیا ہو اور اس کی امامت و ولایت کی تصدیق کی ہو۔ بابرکت ہے وہ جو اس کا تابع ہو اور وائے ہو اس پر جو اس سے روگردانی اختیار کرے۔ اس کی مثال کشتی نوح جیسی ہے جو اس سے متوسل ہوگا نجات پائے گا اور جو اس دور ہوگا غرق اور گمراہ ہوجائے گا۔ اس کے بعد اس کے کان میں کچھ کہا جو میں نہیں سمجھ سکی، اس کے بعد بوسہ لیا، اٹھے اور چلے گئے میں نہیں سمجھی کہ وہ کہاں سے باہر گئے»۔ [۱۷]
← تین دن کعبہ میں:
فاطمه بنت أسد ع تین دن تک خدا کے گھر مہمان رہنے کے بعد اپنے فرزند مبارک کو آغوش میں لے کر کعبہ سے باہر نکلنے کے لئے تیار ہوئیں، تبھی ہاتف غیبی نے آواز دی: «اے فاطمہ، اس مولود کا نام علی رکھنا، کیوں کہ میں خدائے علی أعلی ہوں، اس کا نام میں نے اپنے نام سے اخذ کیا ہے، اور ادب سکھایا ہے اور اپنے امر کو اس کے سپرد کیا ہے، اور اسے اپنے علم سے آگاہی بخشی ہے، وہ میرے گھر میں دنیا میں آیا ہے۔ وہ پہلا شخص ہوگا جو خانہ کعبہ سے اذان کہے گا، بتوں کو توڑے گا، اور انہیں کعبہ سے منھ کے بل گرائے گا۔ بابرکت ہے وہ جو اسے دوست رکھے اور اس کی اطاعت کرے اور اس کی مدد کرے۔ بد بخت ہے وہ جو اس سے بغض رکھے اور سرپیچی کرے، اسے نیچا دکھائے اور اس کے حق کا انکار کرے» [۱۸]
ان تین دنوں میں اس مولود کی تاریخی اور مبارک ولادت کی خبر ہر بزم کی زینت بنی ہوئی تھی، خاص کر در کعبہ کے قفل کے نہ کھلنے، جدار کعبہ کے شق ہونے، کفّار کے ذریعہ اس منظر کے دیکھے جانے کی بات عام موضوع بن گئی تھی۔
← آغوش پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ میں طلوع نور:
چوتھے دن کی صبح منتظر نگاہوں کے سامنے ناگہاں دیوار کعبه اسی پہلی جگہ سے اس قدر شگافتہ ہوئی فاطمہ بنت اسد ع اپنے فرزند کے ساتھ وہاں سے باہر نکل آئیں، سبھی لوگ دیکھ رہے تھے اور لوگوں کے سوال کرنے سے پہلے ہی فاطمہ بنت أسد ع نے انہیں کچھ واقعات سے باخبر کیا اور مولود کی عظمت، بہشتی غذائیں اور یہ کہ ندائے آسمانی سے اس کا نام علی ہے۔
ابو طالب ع و پیغمبر ص آگے بڑھے، اور فاطمہ بنت أسد ع مولود کے ساتھ آگے بڑھیں۔ حضرت مولی الموالی علی ع نے فرمایا: «السَّلامُ عَلَیکَ یا أبَه وَ رَحمَةُ اللهِ وَ بَرَکاتُه».
ابو طالب ع نے فرمایا: «وَ عَلَیکَ السَّلامُ یا بُنَیَّ وَ رَحمَةُ اللهِ وَ بَرَکاتُه»، اور آپ ع کو آغوش میں لے لیا۔[۱۹]
امیر المؤمنین ع نے پیغمبر اکرم ص کے سامنے اپنی آنکھیں کھولیں، متبسّم ہوئے اور فرمایا: السَّلامُ عَلَیکَ وَ رَحمَةُ الله وَ بَرَکاتُه، مجھے اپنی آغوش میں لیں»
پیغمبر اکرم ص نے جواب سلام دیا اور آغوش میں لیکر بوسہ لیا اور ہاتھ میں ہاتھ دیا۔ اس وقت امیر المؤمنین ع نے داہنے ہاتھ کو کان پر رکھ کر اذان و اقامت کہی اور خدا کی وحدانیت اور پیغمبر کی نبوت کی شہادت دی۔ اور پیغمبر اسلام ص سے آسمانی کتب کی تلاوت کی اجازت چاہی، اجازت ملنے پر صُحُف حضرت آدم و نوح و ابراہیم و موسی و عیسی علیہم السلام میں جو تھا سب کی تلاوت کی۔ [۲۰]
پھر قرآن کی تلاوت شروع کی جس کا نزول ابھی نہیں ہوا تھا، آپ ع نے سوره مبارکہ مؤمنون کی تلاوت سے آغاز کیا: قَد أفلَحَ المُؤمِنُون ... .
اسکے بعد رسول خدا ص آپ ع کو آغوش میں لئے ہوئے جناب ابو طالب ع کے گھر واپس آئے۔
فاطمہ بنت أسد ع فرماتی ہیں: «جب میں کعبہ سے نکلی اور اپنے فرزند کو پیغبر اکرم ص کے حوالہ کیا، حضور ص نے اپنی زبان مبارک سے علی ع کے دہن کو کھولا اور آب دہن سے تحنیک کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور فرمایا: «یہ وہ مولود ہے جو فطرت پر دنیا میں آیا ہے»۔
ولادت کے تیسرے دن یا کعبہ سے باہر آنے کے تیسرے دن یا بعض قول کے مطابق دسویں ذی الحجہ کو حضرت ابو طالب ع نے ولیمہ دیا اور کہا: «علی ابن ابی طالب کے ولیمہ میں تشریف لائیں، اس سے پہلے سات بار کعبہ کا طواف کریں اور پھر میرے بیٹے علی کو سلام کریں»۔ [۲۱]
← پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ کے ہمراہ عہد طفولیت میں:
امیر المؤمنین ع اپنے بچپنے کی زندگی اور پیغمبر اکرم ص کی ہمراہی کے بارے میں فرماتے ہیں: «بچپن کے زمانے میں، پیغمبر اکرم ص مجھے اپنی آغوش میں لیتے تھے، اور سینے سے لگاتے تھے۔ اور کھانے کو نرم بناکر میرے دہن میں رکھتے تھے۔ اور اپنی بوئے معطّر سے میرے جسم و جان کو معطّر فرماتے تھے۔ انہوں نے میری گفتار میں جھوٹ اور کردار میں غلطی اور نادانی نہ پائی۔
خدا نے پیغمبر اکرم ص کی شیر خوارگی کے وقت سے ان کے پاس ایک عظیم ترین فرشتہ بھیجا تھا، تاکہ وہ کرامت، بزرگواری اور نیکیوں کی راہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ کی ہمراہی کرے؛ میں بھی پیغمبر اکرم ص کی اس طرح پیروی کیا کرتا تھا، جیسے ایک شیر خوار بچہ اپنی ماں کی فرماں برداری میں ہوتا ہے اور اس کے کردار سے خود کو ہماہنگ کرتا ہے۔ وہ ہر سال کوه حَرا پر جایا کرتے تھے، اور اس وقت میرے سوا کوئی بھی ان کو نہیں دیکھتا تھا۔ [۲۲]
📚حوالہ جات:
۱. ارشاد : ج۱، ص۵؛ اعلام الوریٰ، ج۱، ص۳۰۶؛ مستدرک حاکم، ج۳، ص۴۸۳ و ... .
۲. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام : ج۳، ص۳۲۱ ـ ۳۱۹.
۳. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام : ج۳، ص۳۱۹. و ... .
۴. شرح احوال حضرت ابو طالب علیہ السلام : ۲۶ رجب میں ذکر ہونگے.
۵. کافی : ج۱، ص۴۵۳. منتخب التواریخ : ص۱۱۴ ـ ۱۱۳.
۶. تلخیص از ریاحین الشریعۃ : ج۳، ۶ ـ ۳.
۷. کافی : ج۱، ص۴۵۳. اعلام الوریٰ، ج۱، ص۳۰۶و ... .
۸. ریاحین الشریعۃ : ج۳، ص۷ ـ ۶.
۹. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام : ج۲، ص۲۰۰؛ بحار الانوار، ج۳۵، ص۱۹، و ... .
۱۰. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام : ج۲، ص۲۰۵. بحار الانوار، ج۳۸، ص۲۹۴، و ... .
۱۱. کشف الغمّة : ج ۱، ص۵۹. و ... .
۱۲. مناقب آل ابی طالب علیهم السلام : ج۲، ص۵۳، ۱۹۹ ـ ۱۹۲. و ... .
۱۳. الکافی : ج۱، ص ۴۵۲، ۴۵۴. و ... .
۱۴. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام : ج۲، ص۱۹۸.
۱۵. علی علیه السلام ولید الکعبہ : ص ۴۱.
۱۶. الفضائل (شاذان بن جبرئیل قمی) : ص۵۶، روضۃ الواعظین، ۷۹۔۷۸؛ و ... .
۱۷. علی علیه السلام ولید الکعبه : ص۳۲. نور الأبصار فی موالید الأئمّة الأطهار علیہم السلام : ص۳۱.
۱۸. امالی صدوق : ص۱۹۶. و ... .
۱۹. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام : ج۲، ص۱۹۸. و ... .
۲۰. الہدایة الکبری : ص۱۰۰. نور الابصار فی موالید الاطھار، ص۳۳ و ... .
۲۱. بحار الأنوار : ج۳۵، ص۱۸. و ... .
۲۲. نہج البلاغة : خطبه قاصعہ (۱۹۲). و ...
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
📚حوالہ جات:
۱. ارشاد : ج۱، ص۵؛ اعلام الوریٰ، ج۱، ص۳۰۶؛ مستدرک حاکم، ج۳، ص۴۸۳ و ... .
۲. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام : ج۳، ص۳۲۱ ـ ۳۱۹.
۳. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام : ج۳، ص۳۱۹. و ... .
۴. شرح احوال حضرت ابو طالب علیہ السلام : ۲۶ رجب میں ذکر ہونگے.
۵. کافی : ج۱، ص۴۵۳. منتخب التواریخ : ص۱۱۴ ـ ۱۱۳.
۶. تلخیص از ریاحین الشریعۃ : ج۳، ۶ ـ ۳.
۷. کافی : ج۱، ص۴۵۳. اعلام الوریٰ، ج۱، ص۳۰۶و ... .
۸. ریاحین الشریعۃ : ج۳، ص۷ ـ ۶.
۹. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام : ج۲، ص۲۰۰؛ بحار الانوار، ج۳۵، ص۱۹، و ... .
۱۰. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام : ج۲، ص۲۰۵. بحار الانوار، ج۳۸، ص۲۹۴، و ... .
۱۱. کشف الغمّة : ج ۱، ص۵۹. و ... .
۱۲. مناقب آل ابی طالب علیهم السلام : ج۲، ص۵۳، ۱۹۹ ـ ۱۹۲. و ... .
۱۳. الکافی : ج۱، ص ۴۵۲، ۴۵۴. و ... .
۱۴. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام : ج۲، ص۱۹۸.
۱۵. علی علیه السلام ولید الکعبہ : ص ۴۱.
۱۶. الفضائل (شاذان بن جبرئیل قمی) : ص۵۶، روضۃ الواعظین، ۷۹۔۷۸؛ و ... .
۱۷. علی علیه السلام ولید الکعبه : ص۳۲. نور الأبصار فی موالید الأئمّة الأطهار علیہم السلام : ص۳۱.
۱۸. امالی صدوق : ص۱۹۶. و ... .
۱۹. مناقب آل ابی طالب علیہم السلام : ج۲، ص۱۹۸. و ... .
۲۰. الہدایة الکبری : ص۱۰۰. نور الابصار فی موالید الاطھار، ص۳۳ و ... .
۲۱. بحار الأنوار : ج۳۵، ص۱۸. و ... .
۲۲. نہج البلاغة : خطبه قاصعہ (۱۹۲). و ...
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
Telegram
💫کلام نور💫
✅علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔
💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس:
https://www.facebook.com/klmnoor
http://klmnoor.blogspot.com
https://t.me/klmnoor
📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے:
@Klmnoor_admin
💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس:
https://www.facebook.com/klmnoor
http://klmnoor.blogspot.com
https://t.me/klmnoor
📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے:
@Klmnoor_admin
۱۵/ رجب
#وفات_حضرت_زینب_سلام_اللہ_علیہا
امّ المصائب حضرت فاطمہ صغریٰ عقیلہ بنی ہاشم زینب کبری سلام اللہ علیہا کی مظلومانہ اور غریبانہ ﻭﻓﺎﺕ ﺷﺐ یکشنبہ ۱۵/ ﺭﺟﺐ سنہ ۶۲ ھ میں واقع ہوئی ہے۔
[زینب الکبری عليها السلام (نقدی)، ص۱۱۴؛ معالی السبطین، ج۲، ص۲۲۵؛ السیدة زینب الکبری عليها السلام من المهد الی اللحد، ص۹۶، وفیات الائمة عليها السلام، ص۴۷۰-۴۶۸، قلائد النحور، ج رجب، ص۱۴۵؛ العقیلة عليها السلام و الفواطم علیهن السلام، ص۶۸]
واقعۂ کربلا کے بعد آپ سلام اللہ علیہا کی ایک سال اور کچھ ماہ کے عرصہ کی زندگی آہ و اشک، اسیری اور کربلا کے واقعات کی یاد کے ساتھ گزری؛
آپ سلام اللہ علیہا کی عظمت میں یہی کافی ہوگا کہ آپ سلام اللہ علیہا کو امام حسین علیہ السلام کی خاص نیابت حاصل تھی، اور جب تک حضرت امام زین العابدین علیہ السلام صحتیاب نہ ہوئے یہ نیابت جاری رہی۔
[کمال الدین، ص۵۰۱، ۵۰۷؛ بحارالانوار، ج۵۱، ص۳۶۴؛ الهدایة الکبری، ص۳۶۶؛ الغیبة (شیخ طوسی)، ص۲۳۰]
← آپ سلام اللہ علیہا کا ﻧﺎﻡ:
جس وقت آپ سلام اللہ علیہا کی ولادت ہوئی تو ﺟﺒﺮﺋﻴﻞ خداوند متعال کی جانب سے پیغمبر ﺻﻠّﻰ اللہ علیہ و آلہ پر نازل ہوئے اور عرض کیا:
«ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اللہ، اس بیٹی کا نام زینب رکھیں».
اس کے بعد جبرئیل نے گریہ کیا۔ پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ نے سوال کیا:
اس گریہ کا سبب کیا ہے؟
عرض کیا:
یہ بیٹی اس سرائے فانی میں اپنی زندگی کے آغاز سے انجام تک رنج و درد و مصیبت کے ساتھ رہے گی۔ کبھی یا رسول اللہ آپ کی مصیبت میں ہوگی، تو کبھی اپنی ماں کے ماتم میں، کبھی اپنے بابا کی مصیبت میں تو کبھی اپنے بھائی حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے فراق کے درد میں مبتلا ہوگی۔
اور سب سے بڑھ کر ﻣﺼﺎﺋﺐِ ﻛﺮﺑﻠﺎ اﻭر ﻧﻮﺍﺋﺐِ ﺩﺷﺖ ﻧﻴﻨﻮﺍ میں ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ہوگی اس طرح کہ سر کے بال سفید ہوجائیں گے اور کمر خمیدہ ہوگی۔
جب یہ خبر ﺍہل ﺑﻴﺖ علیہم ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ نے سنی تو پریشاں اور گریہ کناں ہوئے۔ پیغمبر اکرم ﺻﻠّﻰ اللہ علیہ و آلہ نے اپنے رخسار کو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے رخسار پر رکھا اور گریہ فرمایا۔ حضرت صدیقۂ طاہرہ فرماتی ہیں:
اے بابا، یہ گریہ کس بنا پر ہے؟ خدا آپ کی آنکھوں کو پریشانی نہ دے۔
فرمایا:
ﺍے فاطمہ، میرے اور تمھارے بعد یہ بیٹی رنج و مصیبت میں گرفتار ہوگی۔
ﺣﻀﺮﺕ صدیقۂ طاہرہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
جو میری بیٹی زینب سلام اللہ علیہا کے غم میں شریک ہوگا اس کا کیا اجر ہوگا؟
آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:
«اے میری لخت جگر، میری نور عین، جو اس کی مصیبت پر گریہ کرے گا اس کا اجر اسی کے مانند ہوگا جو ثواب اس کے بھائی امام حسن و امام حسین علیہما السلام پر گریہ کا ہوگا»۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ نے اس بیٹی کا نام «ﺯﻳﻨﺐ» رکھا۔
[الطراز المذهب، ص۲۲؛ وفیات الائمة، ص۴۳۱؛ العقیلة عليهم السلام و الفواطم علیهن السلام، ص۱۱؛ ریاحین الشریعة، ج۳، ص۳۹-۳۸]
آپ سلام اللہ علیہا واقعۂ کربلا کے ایک سال اور کچھ ماہ کے بعد مصائب کربلا کے غموں کا بار گراں سنبھالے ہوئے اپنے گھر میں رحلت فرماگئیں اور وہیں پر دفن ہوئیں۔ بعض مورّخین نے آپ سلام اللہ علیہا کی وفات کو ماہ رمضان کی دسویں تاریخ میں بھی ذکر کیا ہے۔
[الوقایع و الحوادث، ج۱، ص۱۱۳؛ وقائع الشهور، ص۱۶۶]
📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انشتارات دلیل ما، ص۲۰۷
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
#وفات_حضرت_زینب_سلام_اللہ_علیہا
امّ المصائب حضرت فاطمہ صغریٰ عقیلہ بنی ہاشم زینب کبری سلام اللہ علیہا کی مظلومانہ اور غریبانہ ﻭﻓﺎﺕ ﺷﺐ یکشنبہ ۱۵/ ﺭﺟﺐ سنہ ۶۲ ھ میں واقع ہوئی ہے۔
[زینب الکبری عليها السلام (نقدی)، ص۱۱۴؛ معالی السبطین، ج۲، ص۲۲۵؛ السیدة زینب الکبری عليها السلام من المهد الی اللحد، ص۹۶، وفیات الائمة عليها السلام، ص۴۷۰-۴۶۸، قلائد النحور، ج رجب، ص۱۴۵؛ العقیلة عليها السلام و الفواطم علیهن السلام، ص۶۸]
واقعۂ کربلا کے بعد آپ سلام اللہ علیہا کی ایک سال اور کچھ ماہ کے عرصہ کی زندگی آہ و اشک، اسیری اور کربلا کے واقعات کی یاد کے ساتھ گزری؛
آپ سلام اللہ علیہا کی عظمت میں یہی کافی ہوگا کہ آپ سلام اللہ علیہا کو امام حسین علیہ السلام کی خاص نیابت حاصل تھی، اور جب تک حضرت امام زین العابدین علیہ السلام صحتیاب نہ ہوئے یہ نیابت جاری رہی۔
[کمال الدین، ص۵۰۱، ۵۰۷؛ بحارالانوار، ج۵۱، ص۳۶۴؛ الهدایة الکبری، ص۳۶۶؛ الغیبة (شیخ طوسی)، ص۲۳۰]
← آپ سلام اللہ علیہا کا ﻧﺎﻡ:
جس وقت آپ سلام اللہ علیہا کی ولادت ہوئی تو ﺟﺒﺮﺋﻴﻞ خداوند متعال کی جانب سے پیغمبر ﺻﻠّﻰ اللہ علیہ و آلہ پر نازل ہوئے اور عرض کیا:
«ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اللہ، اس بیٹی کا نام زینب رکھیں».
اس کے بعد جبرئیل نے گریہ کیا۔ پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ نے سوال کیا:
اس گریہ کا سبب کیا ہے؟
عرض کیا:
یہ بیٹی اس سرائے فانی میں اپنی زندگی کے آغاز سے انجام تک رنج و درد و مصیبت کے ساتھ رہے گی۔ کبھی یا رسول اللہ آپ کی مصیبت میں ہوگی، تو کبھی اپنی ماں کے ماتم میں، کبھی اپنے بابا کی مصیبت میں تو کبھی اپنے بھائی حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے فراق کے درد میں مبتلا ہوگی۔
اور سب سے بڑھ کر ﻣﺼﺎﺋﺐِ ﻛﺮﺑﻠﺎ اﻭر ﻧﻮﺍﺋﺐِ ﺩﺷﺖ ﻧﻴﻨﻮﺍ میں ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ہوگی اس طرح کہ سر کے بال سفید ہوجائیں گے اور کمر خمیدہ ہوگی۔
جب یہ خبر ﺍہل ﺑﻴﺖ علیہم ﺍﻟﺴّﻠﺎﻡ نے سنی تو پریشاں اور گریہ کناں ہوئے۔ پیغمبر اکرم ﺻﻠّﻰ اللہ علیہ و آلہ نے اپنے رخسار کو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے رخسار پر رکھا اور گریہ فرمایا۔ حضرت صدیقۂ طاہرہ فرماتی ہیں:
اے بابا، یہ گریہ کس بنا پر ہے؟ خدا آپ کی آنکھوں کو پریشانی نہ دے۔
فرمایا:
ﺍے فاطمہ، میرے اور تمھارے بعد یہ بیٹی رنج و مصیبت میں گرفتار ہوگی۔
ﺣﻀﺮﺕ صدیقۂ طاہرہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
جو میری بیٹی زینب سلام اللہ علیہا کے غم میں شریک ہوگا اس کا کیا اجر ہوگا؟
آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:
«اے میری لخت جگر، میری نور عین، جو اس کی مصیبت پر گریہ کرے گا اس کا اجر اسی کے مانند ہوگا جو ثواب اس کے بھائی امام حسن و امام حسین علیہما السلام پر گریہ کا ہوگا»۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ نے اس بیٹی کا نام «ﺯﻳﻨﺐ» رکھا۔
[الطراز المذهب، ص۲۲؛ وفیات الائمة، ص۴۳۱؛ العقیلة عليهم السلام و الفواطم علیهن السلام، ص۱۱؛ ریاحین الشریعة، ج۳، ص۳۹-۳۸]
آپ سلام اللہ علیہا واقعۂ کربلا کے ایک سال اور کچھ ماہ کے بعد مصائب کربلا کے غموں کا بار گراں سنبھالے ہوئے اپنے گھر میں رحلت فرماگئیں اور وہیں پر دفن ہوئیں۔ بعض مورّخین نے آپ سلام اللہ علیہا کی وفات کو ماہ رمضان کی دسویں تاریخ میں بھی ذکر کیا ہے۔
[الوقایع و الحوادث، ج۱، ص۱۱۳؛ وقائع الشهور، ص۱۶۶]
📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انشتارات دلیل ما، ص۲۰۷
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
Telegram
💫کلام نور💫
✅علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔
💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس:
https://www.facebook.com/klmnoor
http://klmnoor.blogspot.com
https://t.me/klmnoor
📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے:
@Klmnoor_admin
💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس:
https://www.facebook.com/klmnoor
http://klmnoor.blogspot.com
https://t.me/klmnoor
📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے:
@Klmnoor_admin