[19/03, 13:52] Pari๛⋆: دنیا کا سب سے آزاد اور بہادر شخص وہ ہے
جو بے بنیاد روایات اور فرسودہ رسموں کو چھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہو
[19/03, 13:52] Pari๛⋆: وہ جو سچائی کو اپنانے کے لیے دنیا کی مخالفت مول لے سکتا ہو،
جو رواجوں کے نام پر باندھی گئی زنجیروں کو توڑنے کی جُرات رکھتا ہو،
جو اپنی سوچ کو محض اس لیے قید نہ کرے کہ "یہ ہمیشہ سے ایسے ہی ہوتا آیا ہے۔"
آزاد وہی ہوتا ہے جو خوف کے بغیر سوچ سکتا ہے،
جو رسموں کی دیواروں سے ٹکرا کر بھی اپنے راستے خود بنا سکتا ہے،
جو بھیڑ کے ساتھ چلنے کے بجائے سچائی کے پیچھے دوڑنے کی ہمت رکھتا ہو۔
یہ دنیا بہادری کی نہیں، سمجھوتوں کی عادی ہے۔
یہاں جو سوال کرتا ہے، وہ باغی کہلاتا ہے،
جو سوچتا ہے، وہ نافرمان کہلاتا ہے،
جو بدلنے کی کوشش کرتا ہے، وہ دشمن ٹھہرتا ہے۔
جو رسموں کی زنجیروں کو توڑتا ہے، وہی تاریخ رقم کرتا ہے۔
جو اندھی تقلید سے انکار کرتا ہے، وہی نئی راہیں دکھاتا ہے۔
اور جو سچائی کے لیے کھڑا ہوتا ہے، وقت اُسی کے قدموں میں جھکتا ہے۔
جو بے بنیاد روایات اور فرسودہ رسموں کو چھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہو
[19/03, 13:52] Pari๛⋆: وہ جو سچائی کو اپنانے کے لیے دنیا کی مخالفت مول لے سکتا ہو،
جو رواجوں کے نام پر باندھی گئی زنجیروں کو توڑنے کی جُرات رکھتا ہو،
جو اپنی سوچ کو محض اس لیے قید نہ کرے کہ "یہ ہمیشہ سے ایسے ہی ہوتا آیا ہے۔"
آزاد وہی ہوتا ہے جو خوف کے بغیر سوچ سکتا ہے،
جو رسموں کی دیواروں سے ٹکرا کر بھی اپنے راستے خود بنا سکتا ہے،
جو بھیڑ کے ساتھ چلنے کے بجائے سچائی کے پیچھے دوڑنے کی ہمت رکھتا ہو۔
یہ دنیا بہادری کی نہیں، سمجھوتوں کی عادی ہے۔
یہاں جو سوال کرتا ہے، وہ باغی کہلاتا ہے،
جو سوچتا ہے، وہ نافرمان کہلاتا ہے،
جو بدلنے کی کوشش کرتا ہے، وہ دشمن ٹھہرتا ہے۔
جو رسموں کی زنجیروں کو توڑتا ہے، وہی تاریخ رقم کرتا ہے۔
جو اندھی تقلید سے انکار کرتا ہے، وہی نئی راہیں دکھاتا ہے۔
اور جو سچائی کے لیے کھڑا ہوتا ہے، وقت اُسی کے قدموں میں جھکتا ہے۔
ادب
ادب کا درجہِ تمام تر چیزوں سے بڑا ہے
اسکا دروازہ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنے والے کو اپنا سر جھکانا پڑھتا ہے _
ادب کے بغیر علم کا حصول ایسا ہی ہے جیسے بنجر زمین میں ہریالی کا سوچنا اور اسکی کاوشیں کرنا _
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ "خوشبو" آ نہیں سکتی "کاغز" کے پھولوں سے
بغیر علم کے آپ خود کو کبھی نہیں جان سکتے
اور خود کو جانے بغیر دوسروں کو نہیں پہچان سکتے
نتیجتاً ہم غلط لوگوں کا انتخاب اپنی زندگی کے ساتھی کے روپ میں کر بیٹھتے ہیں ،
اب وہ ساتھی ہمارے دوست کی صورت میں ہو یا کسی رشتہ دار کی صورت میں ،
ہم اسکی صحبت میں رہ کر اسکے جیسے ہی بن جاتے ہیں _
مولا علی کا قول مبارک ہے :
انسان کی پہچان اسکے دوست سے ہوتی ہے
با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب ،یہ کہاوت ہم سب سنتے آئیے ہیں ،
وجہ وہ ہی ہے جو شروع میں بیان کی کہ ہر چیز کی ابتدا ادب سے ہے _
ادب ہوگا تو کچھ سیکھینگے ورنہ بد نصیبوں کی طرح لاعلم رہینگے _
اور لاعلمی محرومی ہے _
تکبر وہ ہی کرتا ہے جو لاعلم ہوتا ہے ،
حسد وہ ہی کرتا ہے جو لاعلم ہوتا ہے ،
بغض وہ ہی رکھتا ہے جو لاعلم ہوتا ہے ،
نیز تمام دل کی بیماریوں میں مبتلا لوگوں میں جو چیز کامن ہے وہ ایک ہی ہے : لاعلمی
اللہ پاک ہمیں سیدھا راستہ دکھائیے
انکا راستہ جن پر اسکا انعام ہوا
کیونکہ ایک وہ ہی لوگ ہیں جو لاعلم نہیں ہیں ،باعلم ہیں ،بد نصیب نہیں خوشنصیب ہیں ، تکبر کرنے والے نہیں بلکہ عاجز ہیں اور عاجزی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کو بھی سب سے زیادہ انسان میں عاجزی پسند آتی ہے _
ادب کا درجہِ تمام تر چیزوں سے بڑا ہے
اسکا دروازہ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنے والے کو اپنا سر جھکانا پڑھتا ہے _
ادب کے بغیر علم کا حصول ایسا ہی ہے جیسے بنجر زمین میں ہریالی کا سوچنا اور اسکی کاوشیں کرنا _
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ "خوشبو" آ نہیں سکتی "کاغز" کے پھولوں سے
بغیر علم کے آپ خود کو کبھی نہیں جان سکتے
اور خود کو جانے بغیر دوسروں کو نہیں پہچان سکتے
نتیجتاً ہم غلط لوگوں کا انتخاب اپنی زندگی کے ساتھی کے روپ میں کر بیٹھتے ہیں ،
اب وہ ساتھی ہمارے دوست کی صورت میں ہو یا کسی رشتہ دار کی صورت میں ،
ہم اسکی صحبت میں رہ کر اسکے جیسے ہی بن جاتے ہیں _
مولا علی کا قول مبارک ہے :
انسان کی پہچان اسکے دوست سے ہوتی ہے
با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب ،یہ کہاوت ہم سب سنتے آئیے ہیں ،
وجہ وہ ہی ہے جو شروع میں بیان کی کہ ہر چیز کی ابتدا ادب سے ہے _
ادب ہوگا تو کچھ سیکھینگے ورنہ بد نصیبوں کی طرح لاعلم رہینگے _
اور لاعلمی محرومی ہے _
تکبر وہ ہی کرتا ہے جو لاعلم ہوتا ہے ،
حسد وہ ہی کرتا ہے جو لاعلم ہوتا ہے ،
بغض وہ ہی رکھتا ہے جو لاعلم ہوتا ہے ،
نیز تمام دل کی بیماریوں میں مبتلا لوگوں میں جو چیز کامن ہے وہ ایک ہی ہے : لاعلمی
اللہ پاک ہمیں سیدھا راستہ دکھائیے
انکا راستہ جن پر اسکا انعام ہوا
کیونکہ ایک وہ ہی لوگ ہیں جو لاعلم نہیں ہیں ،باعلم ہیں ،بد نصیب نہیں خوشنصیب ہیں ، تکبر کرنے والے نہیں بلکہ عاجز ہیں اور عاجزی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کو بھی سب سے زیادہ انسان میں عاجزی پسند آتی ہے _
1. عقلیت پسندی اور مضبوط اعصاب
جہاں انسان خاموشی کو بوجھ نہیں، بلکہ ادراک سمجھتا ہے۔
وہ شخص خود کو زخمی ہونے سے بچا لیتا ہے۔
نہ جذبات میں بہتا ہے، نہ کسی کے چہرے پر لگی پرتوں سے دھوکہ کھاتا ہے۔
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہہ سکتے ہیں:
"میں سمجھ گیا ہوں، اس لیے کچھ کہنا ضروری نہیں رہا۔"
2. حساس دل کا زخم اور دوسرا چہرہ
یہ وہ روحیں ہیں جو صرف باتیں نہیں، لہجے بھی محسوس کرتی ہیں۔
جن کے لیے "سچ" ایک زلزلہ بن جاتا ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ "محسوس کر کے" جیتے ہیں، "سمجھ کر" نہیں۔
یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جنھیں خاموشی مار نہیں دیتی، مگر کھا جاتی ہے۔
(میں اور میرا عکس🍁)
جہاں انسان خاموشی کو بوجھ نہیں، بلکہ ادراک سمجھتا ہے۔
وہ شخص خود کو زخمی ہونے سے بچا لیتا ہے۔
نہ جذبات میں بہتا ہے، نہ کسی کے چہرے پر لگی پرتوں سے دھوکہ کھاتا ہے۔
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہہ سکتے ہیں:
"میں سمجھ گیا ہوں، اس لیے کچھ کہنا ضروری نہیں رہا۔"
2. حساس دل کا زخم اور دوسرا چہرہ
یہ وہ روحیں ہیں جو صرف باتیں نہیں، لہجے بھی محسوس کرتی ہیں۔
جن کے لیے "سچ" ایک زلزلہ بن جاتا ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ "محسوس کر کے" جیتے ہیں، "سمجھ کر" نہیں۔
یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جنھیں خاموشی مار نہیں دیتی، مگر کھا جاتی ہے۔
(میں اور میرا عکس🍁)
کبھی کبھی دل میں کچھ خیالات جنم لیتے ہیں ناتمام، بکھرے ہوئے، خام…
انہیں جب لفظ ملتے ہیں، تو وہ "تمثال" بن جاتے ہیں۔۔۔ نہ مکمل، نہ ادھورے، بس محسوس ہونے والے۔
یہ جگہ انہیں ہی لفظوں میں قید کرنے کی ایک کوشش ہے ۔۔۔ جہاں خامشی خود سے بات کرے، اور خیال اپنا چہرہ دکھائے۔
خوش آمدید...
تمثالِ خامِ خیال کی دنیا میں۔
(میں اور میرا عکس🍁)
انہیں جب لفظ ملتے ہیں، تو وہ "تمثال" بن جاتے ہیں۔۔۔ نہ مکمل، نہ ادھورے، بس محسوس ہونے والے۔
یہ جگہ انہیں ہی لفظوں میں قید کرنے کی ایک کوشش ہے ۔۔۔ جہاں خامشی خود سے بات کرے، اور خیال اپنا چہرہ دکھائے۔
خوش آمدید...
تمثالِ خامِ خیال کی دنیا میں۔
(میں اور میرا عکس🍁)
تنہائی میں لپٹی وہ لڑکی خاموشی سے آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔
کمرے کی خالی دیواریں، بالوں سے ٹپکتا پانی، اور بوسیدہ خیالوں کی پرچھائیاں اس کے اردگرد ناچتی تھیں۔
اچانک، اسے محسوس ہوا جیسے آئینہ صرف اس کا عکس نہیں دکھا رہا... بلکہ اسے دیکھ رہا ہے۔
آئینے میں کھڑی وہ دوسری "وہ" بالکل ویسی ہی آنکھیں، وہی چہرہ، وہی ساکت لب مگر کچھ الگ تھا۔
اس عکس کی آنکھوں میں سکون تھا، جیسے وہ الجھنوں کو پی چکی ہو۔
لڑکی نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا،
"کیا تم بھی میری طرح الجھی ہوئی ہو؟"
عکس خاموش رہا… مگر اس خاموشی میں ایک مکمل جواب تھا۔
شاید آئینہ ہمیں صرف دکھاتا ہے، سمجھاتا نہیں۔
کبھی کبھی انسان اپنے اندر ہی وہ عکس تلاش کرتا ہے جو وہ بننا چاہتا ہے — مگر آئینہ صرف چہرہ دکھاتا ہے، حقیقت نہیں۔
(میں اور میرا عکس🍁)
کمرے کی خالی دیواریں، بالوں سے ٹپکتا پانی، اور بوسیدہ خیالوں کی پرچھائیاں اس کے اردگرد ناچتی تھیں۔
اچانک، اسے محسوس ہوا جیسے آئینہ صرف اس کا عکس نہیں دکھا رہا... بلکہ اسے دیکھ رہا ہے۔
آئینے میں کھڑی وہ دوسری "وہ" بالکل ویسی ہی آنکھیں، وہی چہرہ، وہی ساکت لب مگر کچھ الگ تھا۔
اس عکس کی آنکھوں میں سکون تھا، جیسے وہ الجھنوں کو پی چکی ہو۔
لڑکی نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا،
"کیا تم بھی میری طرح الجھی ہوئی ہو؟"
عکس خاموش رہا… مگر اس خاموشی میں ایک مکمل جواب تھا۔
شاید آئینہ ہمیں صرف دکھاتا ہے، سمجھاتا نہیں۔
کبھی کبھی انسان اپنے اندر ہی وہ عکس تلاش کرتا ہے جو وہ بننا چاہتا ہے — مگر آئینہ صرف چہرہ دکھاتا ہے، حقیقت نہیں۔
(میں اور میرا عکس🍁)
میں نے وہی فیصلہ لیا
جو میرے مقابل کھڑے شخص کی آنکھوں میں پہلے ہی لکھا جا چکا تھا۔
نہ سوال کیا، نہ شکوہ،
بس وقت کی آواز کو اپنے دل کی دھڑکن پر رکھ کر
خاموشی سے سُن لیا۔
اور اُس لمحے،
جب دونوں طرف ایک جیسے لفظ گونجے
نہ کوئی چیخ، نہ کوئی تھپڑ
صرف ایک فیصلہ،
تو میرا وجود وہیں رُک گیا...
جہاں شاید کچھ باقی رہنا چاہیے تھا۔
کرب تھا، مگر شور نہیں تھا،
دکھ تھا، مگر کسی کا قصور نہیں۔
بس وہ لمحہ تھا جو
میری بقا کو مجھ سے کاٹ کر لے گیا۔
اب میں ہوں...
اور میرا عکس
جو میرے مقابل کھڑے شخص کی آنکھوں میں پہلے ہی لکھا جا چکا تھا۔
نہ سوال کیا، نہ شکوہ،
بس وقت کی آواز کو اپنے دل کی دھڑکن پر رکھ کر
خاموشی سے سُن لیا۔
اور اُس لمحے،
جب دونوں طرف ایک جیسے لفظ گونجے
نہ کوئی چیخ، نہ کوئی تھپڑ
صرف ایک فیصلہ،
تو میرا وجود وہیں رُک گیا...
جہاں شاید کچھ باقی رہنا چاہیے تھا۔
کرب تھا، مگر شور نہیں تھا،
دکھ تھا، مگر کسی کا قصور نہیں۔
بس وہ لمحہ تھا جو
میری بقا کو مجھ سے کاٹ کر لے گیا۔
اب میں ہوں...
اور میرا عکس
زندگی کی طاق میں رکھی کھلی کتاب کی مانند — دونوں ایک دوسرے کے سامنے مگر بہت فاصلے پر ایک دوسرے سے خامشی کے عالم میں گفتار رہے۔۔۔
بکھرے بالوں اور غنودگی سے بھری آنکھیں لیے وہ اس کی کال ریسیو کیے جاگا — دونوں کے چہروں پر جیسے مسرتوں کی بارش نمودار ہونے لگی۔ وقت کی کمی تھی، اسے اپنے دفتر کے لیے روانہ ہونے کیلئے تیاری بھی کرنا تھی مگر ان لمحوں سے محظوظ کہاں دونوں کو اس بات کی پرواہ تھی ۔۔۔۔۔
میں — تیار ہو لوں ۔۔۔ ہن جی! بہت کم وقت رہ گیا یے!
کچھ دیر گزر جانے کے بعد عقیدت ایک بار پھر سر اٹھانے لگی، اپارٹمنٹ سے نکلنے کے کچھ لمحوں کے بعد اس نے دوبارہ رابطہ بحال کیا ۔۔۔ اب بکھرے بالوں والا وہ لڑکا ایک رسمی انداز میں سامنے تھا۔ بے جوڑ لباس اب فارملز میں بدل چکا تھا۔ غنودگی میں ڈوبی آنکھیں اب صاف شفاف مگر چشموں کے پیچھے چھپ چکی تھیں
صبح کا وقت ان کے لیے ہمیشہ سے — ہمیشہ سے۔۔۔ نہیں نہیں!! پچھلے کچھ سالوں(3 سال) سے ہی بہت خوبصورت لمحات سے بھرا ہوا کرتا تھا مگر اب فرق تھا۔۔۔۔۔ یہ سال 3 سال کے اختتام پر ہی بدل چکا تھا، مانوسیت الگ طرز میں تھی اب!
کیا تھا — وہ فرق؟!
ایک نئے سفر کا آغاز۔۔۔
(میں اور میرا عکس🍁)
بکھرے بالوں اور غنودگی سے بھری آنکھیں لیے وہ اس کی کال ریسیو کیے جاگا — دونوں کے چہروں پر جیسے مسرتوں کی بارش نمودار ہونے لگی۔ وقت کی کمی تھی، اسے اپنے دفتر کے لیے روانہ ہونے کیلئے تیاری بھی کرنا تھی مگر ان لمحوں سے محظوظ کہاں دونوں کو اس بات کی پرواہ تھی ۔۔۔۔۔
میں — تیار ہو لوں ۔۔۔ ہن جی! بہت کم وقت رہ گیا یے!
کچھ دیر گزر جانے کے بعد عقیدت ایک بار پھر سر اٹھانے لگی، اپارٹمنٹ سے نکلنے کے کچھ لمحوں کے بعد اس نے دوبارہ رابطہ بحال کیا ۔۔۔ اب بکھرے بالوں والا وہ لڑکا ایک رسمی انداز میں سامنے تھا۔ بے جوڑ لباس اب فارملز میں بدل چکا تھا۔ غنودگی میں ڈوبی آنکھیں اب صاف شفاف مگر چشموں کے پیچھے چھپ چکی تھیں
صبح کا وقت ان کے لیے ہمیشہ سے — ہمیشہ سے۔۔۔ نہیں نہیں!! پچھلے کچھ سالوں(3 سال) سے ہی بہت خوبصورت لمحات سے بھرا ہوا کرتا تھا مگر اب فرق تھا۔۔۔۔۔ یہ سال 3 سال کے اختتام پر ہی بدل چکا تھا، مانوسیت الگ طرز میں تھی اب!
کیا تھا — وہ فرق؟!
ایک نئے سفر کا آغاز۔۔۔
(میں اور میرا عکس🍁)
غلط راستہ چھوڑ کر جب آپ صحیح راہ پر آتے ہیں،
تو اس کا اثر گہرا ہوتا ہے — دعاؤں میں قبولیت کا رنگ الگ ہی شدت اختیار کر لیتا ہے۔
مگر جب آپ صحیح راستے سے بھٹک کر واپس پلٹنے کی کوشش کرتے ہیں، تو سب کچھ نئے سرے سے شروع کرنا پڑتا ہے — جہاں پہلے دل نرم ہوتا تھا، اب ضدی پن سے بھی لڑنا پڑتا ہے۔
تأثیر میں فرق آ جاتا ہے
اور یہی فرق ہم اپنی زندگی کی بہت سی سرگرمیوں پر لاگو ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔
(میں اور میرا عکس🍁)
تو اس کا اثر گہرا ہوتا ہے — دعاؤں میں قبولیت کا رنگ الگ ہی شدت اختیار کر لیتا ہے۔
مگر جب آپ صحیح راستے سے بھٹک کر واپس پلٹنے کی کوشش کرتے ہیں، تو سب کچھ نئے سرے سے شروع کرنا پڑتا ہے — جہاں پہلے دل نرم ہوتا تھا، اب ضدی پن سے بھی لڑنا پڑتا ہے۔
تأثیر میں فرق آ جاتا ہے
اور یہی فرق ہم اپنی زندگی کی بہت سی سرگرمیوں پر لاگو ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔
(میں اور میرا عکس🍁)