صحافی اسماعیل غول شہید کی زوجہ محترمہ رقم طراز ہے:
"اے میری آنکھوں کی روشنی! میرا دل تیری جدائی میں آگ کی طرح دہک رہا ہے۔ تم ہمارے درمیان نہیں ہو اور یہ دکھ ہر پل ہمیں اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ تمہارا خواب تھا کہ ہمیں، یعنی مجھے اور زینہ کو دیکھو۔
مگر تم چلے گئے اور کہہ رہے تھے کہ میں تھکا ہوا ہوں۔
تمہارے بغیر جینا مشکل ہے۔ ہم نے دس مہینے تمہارے بغیر حسرت اور قہر کے ساتھ گزارے اور کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ہمیں اس طرح کی خبر ملے گی، کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی بتائے گا کہ اسماعیل شہید ہو گیا ہے۔ میں تو جنگ کے خاتمے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ تمہیں دیکھ سکوں، تمہاری جنازے کی تصویر کا انتظار نہ تھا۔
زینہ تم سے بے پناہ محبت کرتی تھی، ہر بار جب فون بجتا، وہ کہتی، 'بابا، کہاں ہو؟
اپنی بیٹی کو جواب دو!
آج بھی میں تمہارے فون کا انتظار کر رہی ہوں، تمہیں کہنا چاہتی ہوں کہ ہم سب تمہیں یاد کرتے ہیں، جنگ ختم ہو گئی، اب ہمیں جلدی ملنے کی آرزو ہے۔ تم بہت جلد چلے گئے، بہت جلدی، ابھی تک ہم تمہاری قربت کا پورا لطف نہیں اٹھا سکے۔ زینہ ابھی بھی اپنے باپ کی تلاش میں ہے، آپ کی آغوش کی کمی محسوس کر رہی ہے۔
جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ نئے سرے سے آغاز کیا ہے۔
تم ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ شہدا کی بیویوں کو دیکھ کر تمہارا دل دکھتا ہے۔ اور تم نے مجھے کہا تھا کہ تمہارے بعد رونا نہیں، مضبوط رہنا ہے مجھے۔ تم جانتے تھے کہ میں تم پر کتنا بھروسہ کرتی ہوں اور تمہیں ہر بات بتاتی ہوں، پھر بھی تم ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔
یا اللہ، ہمارے دلوں کو سکون عطا فرما اور ہمیں صبر دے۔ حتیٰ کہ موت کی حالت میں بھی۔
تمہیں ہماری بہت فکر تھی۔ شہادت سے قبل ایک لمحے کے لیے ہم نے تم سے بات کی تھی!
تم نے کہا تھا: فکر نہ کرو، میں ٹھیک ہوں۔
کاش زندگی اس لمحے پر رک جاتی۔
ہماری زندگی تمہارے بعد رک گئی ہے، اسماعیل💔💔💔۔
ہم تم پر اور جنگ کے دوران کی گئی ہر خدمت پر فخر کرتے ہیں۔ تم ہمارے لیے ایک ہیرو تھے، پیارے💔😢۔
حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔
یا رب، ہمارے خون، شوہروں اور بچوں کا بدلہ لے اور انصاف عطا فرما۔"
ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی
"اے میری آنکھوں کی روشنی! میرا دل تیری جدائی میں آگ کی طرح دہک رہا ہے۔ تم ہمارے درمیان نہیں ہو اور یہ دکھ ہر پل ہمیں اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ تمہارا خواب تھا کہ ہمیں، یعنی مجھے اور زینہ کو دیکھو۔
مگر تم چلے گئے اور کہہ رہے تھے کہ میں تھکا ہوا ہوں۔
تمہارے بغیر جینا مشکل ہے۔ ہم نے دس مہینے تمہارے بغیر حسرت اور قہر کے ساتھ گزارے اور کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ہمیں اس طرح کی خبر ملے گی، کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی بتائے گا کہ اسماعیل شہید ہو گیا ہے۔ میں تو جنگ کے خاتمے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ تمہیں دیکھ سکوں، تمہاری جنازے کی تصویر کا انتظار نہ تھا۔
زینہ تم سے بے پناہ محبت کرتی تھی، ہر بار جب فون بجتا، وہ کہتی، 'بابا، کہاں ہو؟
اپنی بیٹی کو جواب دو!
آج بھی میں تمہارے فون کا انتظار کر رہی ہوں، تمہیں کہنا چاہتی ہوں کہ ہم سب تمہیں یاد کرتے ہیں، جنگ ختم ہو گئی، اب ہمیں جلدی ملنے کی آرزو ہے۔ تم بہت جلد چلے گئے، بہت جلدی، ابھی تک ہم تمہاری قربت کا پورا لطف نہیں اٹھا سکے۔ زینہ ابھی بھی اپنے باپ کی تلاش میں ہے، آپ کی آغوش کی کمی محسوس کر رہی ہے۔
جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ نئے سرے سے آغاز کیا ہے۔
تم ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ شہدا کی بیویوں کو دیکھ کر تمہارا دل دکھتا ہے۔ اور تم نے مجھے کہا تھا کہ تمہارے بعد رونا نہیں، مضبوط رہنا ہے مجھے۔ تم جانتے تھے کہ میں تم پر کتنا بھروسہ کرتی ہوں اور تمہیں ہر بات بتاتی ہوں، پھر بھی تم ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔
یا اللہ، ہمارے دلوں کو سکون عطا فرما اور ہمیں صبر دے۔ حتیٰ کہ موت کی حالت میں بھی۔
تمہیں ہماری بہت فکر تھی۔ شہادت سے قبل ایک لمحے کے لیے ہم نے تم سے بات کی تھی!
تم نے کہا تھا: فکر نہ کرو، میں ٹھیک ہوں۔
کاش زندگی اس لمحے پر رک جاتی۔
ہماری زندگی تمہارے بعد رک گئی ہے، اسماعیل💔💔💔۔
ہم تم پر اور جنگ کے دوران کی گئی ہر خدمت پر فخر کرتے ہیں۔ تم ہمارے لیے ایک ہیرو تھے، پیارے💔😢۔
حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔
یا رب، ہمارے خون، شوہروں اور بچوں کا بدلہ لے اور انصاف عطا فرما۔"
ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی
😭1
خوشخبری خوشخبری!
الحمدللہ ادارہ تعلیمات دینیہ کی طرف سے نئے کورس کا اعلان کردیا گیا ہے ۔
آپ سے گذارش ہے کہ اس فارم پر اپنے کوائف درج کر کے ابھی اپنا داخلہ کروائیں۔
https://docs.google.com/forms/d/1WqKU5gyD0QR6Zrly3brd_VAdnHVOIZoFbvOm-oqDMEI/edit
*دوست احباب کو بھی مطلع کریں جزاکم اللہ خیراً*
الحمدللہ ادارہ تعلیمات دینیہ کی طرف سے نئے کورس کا اعلان کردیا گیا ہے ۔
آپ سے گذارش ہے کہ اس فارم پر اپنے کوائف درج کر کے ابھی اپنا داخلہ کروائیں۔
https://docs.google.com/forms/d/1WqKU5gyD0QR6Zrly3brd_VAdnHVOIZoFbvOm-oqDMEI/edit
*دوست احباب کو بھی مطلع کریں جزاکم اللہ خیراً*
💠 *اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق افراد*💠
1. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
- اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا۔
- اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جو زمین کی حدود تبدیل کر دئے۔
- اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اندھے کو راستے سے بھٹکا دیا۔
- اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والدین کو گالی دی۔
- اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے قوم لوط کا عمل کیا۔
2. حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں یہ لفظ زائد ہیں اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی چوپائے سے بدکاری کی۔
- *ترتیب و پیشکش:ایڈمن (گوشۂ اسلام-Islamic Corner)*
> لعن الله من ذبح لغير الله ، لعن الله من غير تخوم الارض، لعن الله من كمه الاعمى عن السبيل ، لعن الله من سب والديه ، لعن الله من عمل قوم لوط . 📚التخريج : أخرجه أحمد (2816)، وابن حبان (4417)، والحاكم (8052) واللفظ له۔
1. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
- اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا۔
- اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جو زمین کی حدود تبدیل کر دئے۔
- اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اندھے کو راستے سے بھٹکا دیا۔
- اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والدین کو گالی دی۔
- اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے قوم لوط کا عمل کیا۔
2. حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں یہ لفظ زائد ہیں اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی چوپائے سے بدکاری کی۔
- *ترتیب و پیشکش:ایڈمن (گوشۂ اسلام-Islamic Corner)*
> لعن الله من ذبح لغير الله ، لعن الله من غير تخوم الارض، لعن الله من كمه الاعمى عن السبيل ، لعن الله من سب والديه ، لعن الله من عمل قوم لوط . 📚التخريج : أخرجه أحمد (2816)، وابن حبان (4417)، والحاكم (8052) واللفظ له۔
*💠اللہ کے پسندیدہ کام💠*
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک انتہائی پسندیدہ اعمال میں سے تین اعمال ہیں۔
1. قدرت کے باوجود معاف کر دینا۔
2. تیزی اور شدت کے وقت غصہ کو قابو میں رکھنا۔
3. اور اللہ کے بندوں کے ساتھ نرمی اختیار کرنا۔
📚شعب الایمان: 318/3
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک انتہائی پسندیدہ اعمال میں سے تین اعمال ہیں۔
1. قدرت کے باوجود معاف کر دینا۔
2. تیزی اور شدت کے وقت غصہ کو قابو میں رکھنا۔
3. اور اللہ کے بندوں کے ساتھ نرمی اختیار کرنا۔
📚شعب الایمان: 318/3
*💠زنا سے بچنے کی ایک عمدہ تدبیر💠*
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک نوجوان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ !
کیا آپ مجھے زنا کی اجازت دے سکتے ہیں؟
اس کی یہ جسارت دیکھ کر مجلس میں بیٹھے لوگ شور مچانے لگے اور کہنے لگے کہ اسے اٹھاؤ اسے اٹھاؤ (یہ کیا بک رہا ہے) مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اسے بیٹھے رہنے دو اور مجھ سے قریب کرو۔
جب وہ قریب ہو گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا یہ کام تم اپنی ماں کے ساتھ اچھا سمجھتے ہو؟
تو اس نے کہا نہیں، میں آپ پر قربان ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس طرح لوگ بھی اپنی ماں کے ساتھ اسے اچھا نہیں سمجھتے۔
پھر آپ نے پوچھا کہ اگر کوئی تمہاری بیٹی کے ساتھ ایسا کرے تو کیا تمہیں اچھا لگے گا؟
تو اس نے کہا ہرگز نہیں یا رسول اللہ!
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اسی طرح لوگ اپنی بیٹی کے ساتھ اسے اچھا نہیں سمجھتے۔
پھر آپ نے اس کی بہن، پھر بھی، اور خالہ وغیرہ کا ذکر کر کے اسی طرح سمجھایا تو اس کی سمجھ میں آگیا۔
اور اس نے عرض کیا :
یا رسول اللہ ﷺ میرے لیے دعا فرمائیے:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر یہ دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے:
> *اللّٰهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ وَطَهِّرُ قَلْبَهُ وَحَصِّنْ فَرْجَهْ.*
- *اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کا دل پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔*
راوی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اس نو جوان کا یہ حال ہو گیا تھا کہ اس کی نگاہ کسی بد عملی کی طرف اٹھتی ہی نہ تھی۔
> 📚شعب الایمان ۳۶۲/۴
- اس واقعہ میں پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بدکاری سے بچنے کی ایک ایسی عمدہ تدبیر اُمت کو بتلائی ہے کہ جو بھی بُرائی کرنے والا ایک لمحہ کے لیے بھی اس بارے میں سوچ لے تو وہ اپنے غلط ارادے سے باز آ سکتا ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ جس عورت سے بدکاری کا ارادہ ہو گا وہ کسی کی بہن، بیٹی یا ماں ضرور ہوگی اور جس طرح آدمی خود اپنی ماں بہنوں کے ساتھ یہ جرم گوارا نہیں کرتا اسے سوچنا چاہیے کہ دوسرے لوگ اسے کیونکر گوارہ کریں گے؟
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک نوجوان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ !
کیا آپ مجھے زنا کی اجازت دے سکتے ہیں؟
اس کی یہ جسارت دیکھ کر مجلس میں بیٹھے لوگ شور مچانے لگے اور کہنے لگے کہ اسے اٹھاؤ اسے اٹھاؤ (یہ کیا بک رہا ہے) مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اسے بیٹھے رہنے دو اور مجھ سے قریب کرو۔
جب وہ قریب ہو گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا یہ کام تم اپنی ماں کے ساتھ اچھا سمجھتے ہو؟
تو اس نے کہا نہیں، میں آپ پر قربان ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس طرح لوگ بھی اپنی ماں کے ساتھ اسے اچھا نہیں سمجھتے۔
پھر آپ نے پوچھا کہ اگر کوئی تمہاری بیٹی کے ساتھ ایسا کرے تو کیا تمہیں اچھا لگے گا؟
تو اس نے کہا ہرگز نہیں یا رسول اللہ!
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اسی طرح لوگ اپنی بیٹی کے ساتھ اسے اچھا نہیں سمجھتے۔
پھر آپ نے اس کی بہن، پھر بھی، اور خالہ وغیرہ کا ذکر کر کے اسی طرح سمجھایا تو اس کی سمجھ میں آگیا۔
اور اس نے عرض کیا :
یا رسول اللہ ﷺ میرے لیے دعا فرمائیے:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر یہ دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے:
> *اللّٰهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ وَطَهِّرُ قَلْبَهُ وَحَصِّنْ فَرْجَهْ.*
- *اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کا دل پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔*
راوی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اس نو جوان کا یہ حال ہو گیا تھا کہ اس کی نگاہ کسی بد عملی کی طرف اٹھتی ہی نہ تھی۔
> 📚شعب الایمان ۳۶۲/۴
- اس واقعہ میں پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بدکاری سے بچنے کی ایک ایسی عمدہ تدبیر اُمت کو بتلائی ہے کہ جو بھی بُرائی کرنے والا ایک لمحہ کے لیے بھی اس بارے میں سوچ لے تو وہ اپنے غلط ارادے سے باز آ سکتا ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ جس عورت سے بدکاری کا ارادہ ہو گا وہ کسی کی بہن، بیٹی یا ماں ضرور ہوگی اور جس طرح آدمی خود اپنی ماں بہنوں کے ساتھ یہ جرم گوارا نہیں کرتا اسے سوچنا چاہیے کہ دوسرے لوگ اسے کیونکر گوارہ کریں گے؟
*💠چھ باتوں کے بدلے جنت کی ضمانت 💠*
ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا: کہ جو شخص مجھ سے چھ باتوں کی ضمانت لے لے، میں اس کے لیے جنت کی ضمانت لیتا ہوں، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ چھ باتیں کیا ہیں ؟
- تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
> *"من إذا حدث صدق، وإذا وعد أنجز، وإذا اؤتمن أدى، ومن غض بصره، وحفظ فرجه، وكف يده- أو قال نفسه".📚شعب الايمان (۳۷۵/۴)*
١. جو جب باتیں کرے تو سچ کہے.
۲. جب وعدہ کرے تو پورا کرے
٣. جب امانت لے تو ادا کرے.
۴. جو اپنی نگاہ نیچی رکھے.
۵. جو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے.
٦. اور جو اپنے ہاتھ یا اپنی ذات کو ( دوسروں کو اذیت دینے سے) روکے رکھے۔
- *
ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا: کہ جو شخص مجھ سے چھ باتوں کی ضمانت لے لے، میں اس کے لیے جنت کی ضمانت لیتا ہوں، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ چھ باتیں کیا ہیں ؟
- تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
> *"من إذا حدث صدق، وإذا وعد أنجز، وإذا اؤتمن أدى، ومن غض بصره، وحفظ فرجه، وكف يده- أو قال نفسه".📚شعب الايمان (۳۷۵/۴)*
١. جو جب باتیں کرے تو سچ کہے.
۲. جب وعدہ کرے تو پورا کرے
٣. جب امانت لے تو ادا کرے.
۴. جو اپنی نگاہ نیچی رکھے.
۵. جو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے.
٦. اور جو اپنے ہاتھ یا اپنی ذات کو ( دوسروں کو اذیت دینے سے) روکے رکھے۔
- *
ترتیب و پیشکش:ایڈمن (گوشۂ اسلام-Islamic Corner)**💠زبان کی حفاظت پرجنت💠*
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
> *مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةِ 📚شعب الايمان (٣٦٠/٣)*
- جو شخص اس چیز کو محفوظ کرلے جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے (یعنی زبان) اور اس چیز کو محفوظ کرے جو دو پیروں کے درمیان ہے (یعنی شرمگاہ) وہ جنت میں داخل ہو گیا۔
-
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
> *مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةِ 📚شعب الايمان (٣٦٠/٣)*
- جو شخص اس چیز کو محفوظ کرلے جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے (یعنی زبان) اور اس چیز کو محفوظ کرے جو دو پیروں کے درمیان ہے (یعنی شرمگاہ) وہ جنت میں داخل ہو گیا۔
-
ترتیب و پیشکش:ایڈمن (گوشۂ اسلام-Islamic Corner)💠 *فجر کی نماز جنت کی ضمان ہے!* 💠
جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازیں یعنی فجر اورعصر پڑھتا ہے، وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہوگا۔
فجر کی نماز جنت کی ضمان ہے۔
حدیث مبارکہ:
> *عَنِ ابْنِ أَبِی خَالِدٍ ، وَمِسْعَرٍ، وَالْبَخْتَرِيِّ بْنِ الْمُخْتَارِ سَمِعُوهُ، مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا " يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ.📚صحيح مسلم ،كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ، بَابٌ : فَضْلُ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا: حدیث نمبر: 634*
- *
جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازیں یعنی فجر اورعصر پڑھتا ہے، وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہوگا۔
فجر کی نماز جنت کی ضمان ہے۔
حدیث مبارکہ:
> *عَنِ ابْنِ أَبِی خَالِدٍ ، وَمِسْعَرٍ، وَالْبَخْتَرِيِّ بْنِ الْمُخْتَارِ سَمِعُوهُ، مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا " يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ.📚صحيح مسلم ،كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ، بَابٌ : فَضْلُ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا: حدیث نمبر: 634*
- *
ترتیب و پیشکش:ایڈمن (گوشۂ اسلام-Islamic Corner)**💠 درود شریف کے متعلق حکایات 💠*
حضرت امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کی ایک اور حکایت ہے کہ ان کو بعد انتقال کے کسی نے خواب میں دیکھا اور مغفرت کی وجہ پوچھی ، انھوں نے فرمایا:
*
1. *اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ۔*
2. *وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ بِعَدَدٍ مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ۔*
3. *وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا أَمَرْتَ بِالصَّلاَةِ عَلَيْهِ۔*
4. *وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا تُحِبُّ أَنْ يُصَلَّى عَلَيْهِ۔*
5. *وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا یَنْبَغِي الصَّلاَةُ عَلَيْهِ.*
اس درود کو درود خمسہ کہتے ہیں۔(فض)
- ترتیب و پیشکش:ایڈمن (گوشۂ اسلام-Islamic Corner)
> 📚 فضائلِ اعمال جلد#1 فضائلِ درود شریف ص#737، تالیف:شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب نور اللہ مرقدہ
حضرت امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کی ایک اور حکایت ہے کہ ان کو بعد انتقال کے کسی نے خواب میں دیکھا اور مغفرت کی وجہ پوچھی ، انھوں نے فرمایا:
*
یہ پانچ درودشریف جمعہ کی رات کو میں پڑھا کرتا تھا۔*1. *اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ۔*
2. *وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ بِعَدَدٍ مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ۔*
3. *وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا أَمَرْتَ بِالصَّلاَةِ عَلَيْهِ۔*
4. *وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا تُحِبُّ أَنْ يُصَلَّى عَلَيْهِ۔*
5. *وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا یَنْبَغِي الصَّلاَةُ عَلَيْهِ.*
اس درود کو درود خمسہ کہتے ہیں۔(فض)
- ترتیب و پیشکش:ایڈمن (گوشۂ اسلام-Islamic Corner)
> 📚 فضائلِ اعمال جلد#1 فضائلِ درود شریف ص#737، تالیف:شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب نور اللہ مرقدہ
*حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں!*
📚المجالستہ وجواھر العلم : 1591
ہر نعمت عارضی ہے، سوائے اہل جنت کی نعمت کے، اور ہر غم دور ہو جائے گا، سوائے جہنمیوں کے غم کے! 🥀
📚المجالستہ وجواھر العلم : 1591
💠 فضائل سورۃ الدخان💠
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص سورۃ دخان کو شب جمعہ میں یا جمعۃ المبارک والے دن تلاوت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک محل بناتے ہیں۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ حم الدُّخَانَ فِي لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ أَوْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ۔
📚مجمع الزوائد، باب ما یقرا لیلۃ الجمعۃ و یوم الجمعۃ، حدیث نمبر 3017
ترتیب و پیشکش:ایڈمن (گوشۂ اسلام-Islamic Corner)
فائدہ: حدیث پاک کا تقاضا ہے کہ اس سورۃ کو شب جمعہ میں بھی اور جمعۃ المبارک والے دن بھی تلاوت کیا جائے۔
سورۃ حمٓ دخان قرآن کریم کے 25 ویں پارہ میں 44 ویں نمبر کی سورۃ ہے اس کی کل 59آیات ہیں، مکی سورۃ ہے۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص سورۃ دخان کو شب جمعہ میں یا جمعۃ المبارک والے دن تلاوت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک محل بناتے ہیں۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ حم الدُّخَانَ فِي لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ أَوْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ۔
📚مجمع الزوائد، باب ما یقرا لیلۃ الجمعۃ و یوم الجمعۃ، حدیث نمبر 3017
ترتیب و پیشکش:ایڈمن (گوشۂ اسلام-Islamic Corner)
فائدہ: حدیث پاک کا تقاضا ہے کہ اس سورۃ کو شب جمعہ میں بھی اور جمعۃ المبارک والے دن بھی تلاوت کیا جائے۔
سورۃ حمٓ دخان قرآن کریم کے 25 ویں پارہ میں 44 ویں نمبر کی سورۃ ہے اس کی کل 59آیات ہیں، مکی سورۃ ہے۔
👍2