Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟
#قسط_پنجم
کفرکلامی کے صحیح فتویٰ میں اختلاف کی گنجائش نہیں
متعدد صورتوں کے ذریعہ اس مسئلہ کی تفہیم کی کوشش ہوگی،تاکہ جس کو جوصورت سمجھ میں آجائے،وہی اس کے حق میں دلیل ہوگی۔
ہرایک انسان کی نہ فطرت یکساں ہے،نہ ہی سب کی عقل وخرد مساوی ہے۔
(الف)کفر کلامی میں فقہا کو اختلاف کی اجازت نہیں::
امام غزالی نے فر مایا کہ کفرکلامی کی دلیل قطعی ہوتی ہے تو فقہا اسے سمجھ سکتے ہیں۔بالفرض اگر سمجھ میں نہ آئے تو بھی فقہا کو متکلمین کا فتویٰ تکفیر ماننا فرض ہے،جیسے کسی کو صدق نبوت کی دلیل سمجھ میں نہ آئے توبھی نبی کونبی ماننا فرض ہے۔
فقہا کو فتوی تکفیر سمجھ میں نہ آئے توبھی ماننا فرض ہے۔اسی طرح عوام کو بھی ماننا فرض ہے,خواہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔
مذہب شافعی میں اجماع شرعی میں غیر کافر بدعتی کا لحاظ ہوتا ہے،کافربدعتی کا نہیں۔
اگر فقہائے شوافع کوکسی کافر بدعتی کے کفر کا علم نہ ہو سکا اور فقہا نے اس کافر بدعتی کے اختلاف کے سبب اجماع کو غیرمنعقد سمجھا تو اس صورت کا حکم بیان کرتے ہوئے امام غزالی نے تحریر فرمایا کہ اگر فقہا کو اس بدعتی کے کفریہ قول کا علم تھا تو فقہا پر لازم تھا کہ اس کا حکم متکلمین سے دریافت کرتے،اورپھر متکلمین کا فتویٰ ماننا ان پر لازم ہوتا۔
اگر فقہاکواس بدعتی کے غلط قول کی اطلاع ہی نہیں تھی توفقہا عدم علم کے سبب اجماع کوغیر منعقد قرار دینے میں معذور ہوں گے۔
قال الغزالی:(فان قیل:فَلَو تَرَکَ بَعضُ الفقہاء الاجماعَ بِخِلَافِ المبتَدِعِ المُکَفَّرِ اِذَا لَم یَعلَم اَنَّ بدعتہ تُوجِبُ الکُفرَ-وَظَنَّ اَنَّ الاجماع لاینعقد دونہ-فَہَل یُعذَرُ من حیث اَنَّ الفقہاء لایطلعون عَلٰی مَعرفَۃِ مَا یُکَفَّرُ بِہ من التاویلات؟قلنا لِلمَسءَلَۃِ صُورَتَانِ۔
(1)اِحدَاہُمَا اَن یَقُولَ الفقہاء:نحن لَا نَدرِی اَنَّ بدعتہ توجب الکفرَ اَم لَا؟ففی ہذہ الصورۃ لاَ یُعذَرُونَ فِیہِ اِذ یَلزَمُہُم مُرَاجَعَۃُ علماء الاصول،ویجب علی العلماء تعریفُہم،فاذا اَفتوہُم بکُفرِہ فعلیہم التقلید-فَاِن لَم یَقنَعہُمُ التَّقلید-فَعَلَیہِمُ السُّوَالُ عن الدلیل،حَتّٰی اذا ذُکِرَ لہم د لیلُہ،فَہِمُوہُ لَامَحَالَۃَ-لِاَنَّ دَلِیلَہٗ قَاطِعٌ،فَاِن لَم یُدرِکہُ فَلَا یَکُونُ مَعذُورًا،کَمَن لَایُدرِکُ دَلِیلَ صدق الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم فانہ لَاعُذرَ مَعَ نَصبِ اللّٰہِ تَعَالٰی الاَدِلَّۃَ القَاطِعَۃَ۔
(2)الصورۃ الثانیۃ اَن لَا یکونَ بَلَغَتہُ بِدعَتُہ وَعَقِیدَتُہ فَتَرَکَ الاِجمَاعَ لِمُخَالَفَتِہ فَہُوَ مَعذُورٌ فِی خَطَأِہٖ وَغَیرُ مُوَاخَذٍ بِِہٖ)
(المستصفٰی من علم الاصول جلد اول ص184)
توضیح:جب متکلمین کفرکلامی کافتویٰ صادر کردیں تو فقہاکو تقلید لازم ہے۔اگر فقہا اس کی دلیل دریافت کریں تو متکلمین دلیل بیان کریں گے،اور فقہا یقینی طورپراس دلیل کوسمجھ لیں گے،کیوں کہ تکفیرکلامی کی دلیل قطعی بالمعنی الاخص ہوتی ہے۔اس میں کوئی احتمال نہیں ہوتا۔اگر فقہا کو دلیل تکفیرسمجھ میں نہ آئے تو بھی انہیں فتویٰ تکفیر ماننا لازم ہے۔
امام غزالی قدس سرالقوی کے قول (فَاِن لَم یُدرِکہُ فَلَا یَکُونُ مَعذُورًا)سے بالکل واضح ہو گیا کہ جو کافرکلامی کے کافرکلامی ہونے کے دلائل کونہ سمجھ سکے،وہ معذور نہیں ہے،بلکہ اس کوحکم شرعی ماننا ہوگا۔
جیسے کسی کو نبی کی صداقت کی دلیل سمجھ میں نہ آئے تووہ معذور نہیں ہوگا،بلکہ نبی کونہ ماننے کے سبب کافر ہوگا،کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے دلائل قائم فرمادئیے،یعنی نبی کی نبوت کوثابت کرنے کے واسطے معجزہ ظاہر فرمادیا۔
(ب)کفر کلامی میں متکلمین کو اختلاف کی اجازت نہیں::
خلیفہ چہارم شیرخداحضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں عبد اللہ بن سبا کے غلط اثرات سے متاثر ہوکر بعض لوگوں نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خدا ہونے کا دعویٰ کیا۔اس دعویٰ کے سبب حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں مرتد قرار دے کر جلادیا۔
اسی طرح بعض دیگر خلفا نے دعویداران نبوت کو مرتد ہونے کے سبب قتل کردیا۔ان زمانوں کے علمائے کرام نے بھی اس عمل پر اتفاق ظاہرکیا اور ان مرتدین کو مرتد ہی سمجھا،اور ایسے مرتدین کے کفروارتداد کی مخالفت کرنے والوں کوبھی کافر قرار دیا۔
منکرین تکفیر کے کافرہونے کا حکم مطلق ہے۔ ایسا نہیں کہ کسی عالم کواپنی ذاتی تحقیق میں جہات ثلاثہ یعنی کلام ومتکلم وتکلم میں کوئی احتمال نظر آئے تو اسے انکار کا حق ہے اور غیر عالم کو انکار کا حق نہیں،بلکہ عالم وغیر عالم کسی کو انکار کا حق نہیں۔
جہات ثلاثہ اور دیگر شرائط مفتی اول کی نظر میں ثابت ہونے چاہئے,نہ کہ تمام عوام وخواص کی نظر میں۔
قال القاضی:(وَقَد اَحرَقَ علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ مَن اِدَّعٰی لَہُ الاِلٰہِیَّۃَ-وقد قتل عبد الملک بن مروان الحارث المتنبی وَصَلَبَہ-وَفَعَلَ ذلکَ غیر واحدٍ من الخلفاء والملوک باشباہہ
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟
#قسط_پنجم
کفرکلامی کے صحیح فتویٰ میں اختلاف کی گنجائش نہیں
متعدد صورتوں کے ذریعہ اس مسئلہ کی تفہیم کی کوشش ہوگی،تاکہ جس کو جوصورت سمجھ میں آجائے،وہی اس کے حق میں دلیل ہوگی۔
ہرایک انسان کی نہ فطرت یکساں ہے،نہ ہی سب کی عقل وخرد مساوی ہے۔
(الف)کفر کلامی میں فقہا کو اختلاف کی اجازت نہیں::
امام غزالی نے فر مایا کہ کفرکلامی کی دلیل قطعی ہوتی ہے تو فقہا اسے سمجھ سکتے ہیں۔بالفرض اگر سمجھ میں نہ آئے تو بھی فقہا کو متکلمین کا فتویٰ تکفیر ماننا فرض ہے،جیسے کسی کو صدق نبوت کی دلیل سمجھ میں نہ آئے توبھی نبی کونبی ماننا فرض ہے۔
فقہا کو فتوی تکفیر سمجھ میں نہ آئے توبھی ماننا فرض ہے۔اسی طرح عوام کو بھی ماننا فرض ہے,خواہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔
مذہب شافعی میں اجماع شرعی میں غیر کافر بدعتی کا لحاظ ہوتا ہے،کافربدعتی کا نہیں۔
اگر فقہائے شوافع کوکسی کافر بدعتی کے کفر کا علم نہ ہو سکا اور فقہا نے اس کافر بدعتی کے اختلاف کے سبب اجماع کو غیرمنعقد سمجھا تو اس صورت کا حکم بیان کرتے ہوئے امام غزالی نے تحریر فرمایا کہ اگر فقہا کو اس بدعتی کے کفریہ قول کا علم تھا تو فقہا پر لازم تھا کہ اس کا حکم متکلمین سے دریافت کرتے،اورپھر متکلمین کا فتویٰ ماننا ان پر لازم ہوتا۔
اگر فقہاکواس بدعتی کے غلط قول کی اطلاع ہی نہیں تھی توفقہا عدم علم کے سبب اجماع کوغیر منعقد قرار دینے میں معذور ہوں گے۔
قال الغزالی:(فان قیل:فَلَو تَرَکَ بَعضُ الفقہاء الاجماعَ بِخِلَافِ المبتَدِعِ المُکَفَّرِ اِذَا لَم یَعلَم اَنَّ بدعتہ تُوجِبُ الکُفرَ-وَظَنَّ اَنَّ الاجماع لاینعقد دونہ-فَہَل یُعذَرُ من حیث اَنَّ الفقہاء لایطلعون عَلٰی مَعرفَۃِ مَا یُکَفَّرُ بِہ من التاویلات؟قلنا لِلمَسءَلَۃِ صُورَتَانِ۔
(1)اِحدَاہُمَا اَن یَقُولَ الفقہاء:نحن لَا نَدرِی اَنَّ بدعتہ توجب الکفرَ اَم لَا؟ففی ہذہ الصورۃ لاَ یُعذَرُونَ فِیہِ اِذ یَلزَمُہُم مُرَاجَعَۃُ علماء الاصول،ویجب علی العلماء تعریفُہم،فاذا اَفتوہُم بکُفرِہ فعلیہم التقلید-فَاِن لَم یَقنَعہُمُ التَّقلید-فَعَلَیہِمُ السُّوَالُ عن الدلیل،حَتّٰی اذا ذُکِرَ لہم د لیلُہ،فَہِمُوہُ لَامَحَالَۃَ-لِاَنَّ دَلِیلَہٗ قَاطِعٌ،فَاِن لَم یُدرِکہُ فَلَا یَکُونُ مَعذُورًا،کَمَن لَایُدرِکُ دَلِیلَ صدق الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم فانہ لَاعُذرَ مَعَ نَصبِ اللّٰہِ تَعَالٰی الاَدِلَّۃَ القَاطِعَۃَ۔
(2)الصورۃ الثانیۃ اَن لَا یکونَ بَلَغَتہُ بِدعَتُہ وَعَقِیدَتُہ فَتَرَکَ الاِجمَاعَ لِمُخَالَفَتِہ فَہُوَ مَعذُورٌ فِی خَطَأِہٖ وَغَیرُ مُوَاخَذٍ بِِہٖ)
(المستصفٰی من علم الاصول جلد اول ص184)
توضیح:جب متکلمین کفرکلامی کافتویٰ صادر کردیں تو فقہاکو تقلید لازم ہے۔اگر فقہا اس کی دلیل دریافت کریں تو متکلمین دلیل بیان کریں گے،اور فقہا یقینی طورپراس دلیل کوسمجھ لیں گے،کیوں کہ تکفیرکلامی کی دلیل قطعی بالمعنی الاخص ہوتی ہے۔اس میں کوئی احتمال نہیں ہوتا۔اگر فقہا کو دلیل تکفیرسمجھ میں نہ آئے تو بھی انہیں فتویٰ تکفیر ماننا لازم ہے۔
امام غزالی قدس سرالقوی کے قول (فَاِن لَم یُدرِکہُ فَلَا یَکُونُ مَعذُورًا)سے بالکل واضح ہو گیا کہ جو کافرکلامی کے کافرکلامی ہونے کے دلائل کونہ سمجھ سکے،وہ معذور نہیں ہے،بلکہ اس کوحکم شرعی ماننا ہوگا۔
جیسے کسی کو نبی کی صداقت کی دلیل سمجھ میں نہ آئے تووہ معذور نہیں ہوگا،بلکہ نبی کونہ ماننے کے سبب کافر ہوگا،کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے دلائل قائم فرمادئیے،یعنی نبی کی نبوت کوثابت کرنے کے واسطے معجزہ ظاہر فرمادیا۔
(ب)کفر کلامی میں متکلمین کو اختلاف کی اجازت نہیں::
خلیفہ چہارم شیرخداحضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں عبد اللہ بن سبا کے غلط اثرات سے متاثر ہوکر بعض لوگوں نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خدا ہونے کا دعویٰ کیا۔اس دعویٰ کے سبب حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں مرتد قرار دے کر جلادیا۔
اسی طرح بعض دیگر خلفا نے دعویداران نبوت کو مرتد ہونے کے سبب قتل کردیا۔ان زمانوں کے علمائے کرام نے بھی اس عمل پر اتفاق ظاہرکیا اور ان مرتدین کو مرتد ہی سمجھا،اور ایسے مرتدین کے کفروارتداد کی مخالفت کرنے والوں کوبھی کافر قرار دیا۔
منکرین تکفیر کے کافرہونے کا حکم مطلق ہے۔ ایسا نہیں کہ کسی عالم کواپنی ذاتی تحقیق میں جہات ثلاثہ یعنی کلام ومتکلم وتکلم میں کوئی احتمال نظر آئے تو اسے انکار کا حق ہے اور غیر عالم کو انکار کا حق نہیں،بلکہ عالم وغیر عالم کسی کو انکار کا حق نہیں۔
جہات ثلاثہ اور دیگر شرائط مفتی اول کی نظر میں ثابت ہونے چاہئے,نہ کہ تمام عوام وخواص کی نظر میں۔
قال القاضی:(وَقَد اَحرَقَ علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ مَن اِدَّعٰی لَہُ الاِلٰہِیَّۃَ-وقد قتل عبد الملک بن مروان الحارث المتنبی وَصَلَبَہ-وَفَعَلَ ذلکَ غیر واحدٍ من الخلفاء والملوک باشباہہ
م-وَاَجمَعَ علماء وقتہم علٰی صواب فعلہم-وَالمُخَالِفُ فِی ذٰلِکَ مِن کُفرِہِم کَافِرٌ)
(کتاب الشفاء جلددوم ص297)
قال الخفاجی:((واجمع علماء وقتہم علٰی صواب فعلہم)ای تصویبہ اَو ہو من اضافۃ الصفۃ للموصوف -وذلک لکذبہم عَلَی اللّٰہ بِاَنَّہ نَبَّأہُم و تکذیب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی-انہ خاتم الرسل-وَاَنَّہ لَا نبی بعدہ(و) اَجمَعُوا اَیضًا عَلٰی(اَنَّ المُخَالِفَ فِی ذٰ لِکَ)اَی تَکفِیرِہِم بِمَا إدَّعُوہُ(مِن کُفرِہِم)ہومفعول المخالفِ اَی مَن خَالَفَ مَذہَبَہُم فی تکفیرہم فَقَالَ:لَا یُکَفَّرُونَ(کَافِرٌ)لانہ رضی بِکُفرِہِم وَتَکذِیبِہِم لِلّٰہِ وَرَسُولِہ)
(نسیم الریاض جلد چہارم ص536-دارالکتاب العربی بیروت)
قال الملا علی القاری:((والمخالف فی ذلک)الفعل(مِن کُفرِہِم)اَی مِن جہتہ (کَافِرٌ) لِجَحدِہ کُفرَہُم)
(شرح الشفاء للقاری جلدچہارم ص536-دارالکتاب العربی بیروت)
قال المحشی علی محمد البجاوی المصری:(من خالف مکفرہم فی تکفیرہم،فقال: لا یکفرون،ہذا المخالف کافر،لانہ رضی بکفرہم وتکذیبہم للّٰہ ورسولہ)
(حاشیۃ الشفا: ص1091-دارالکتاب العربی بیروت)
توضیح:منقولہ بالا عبارات میں یہ بتایاگیا کہ اگر کسی پر کفرکلامی کاحکم عائدہوچکا تو اس کی تکفیر کا منکر کافر ہے۔
یہاں عالم وغیر عالم کی تفریق نہیں،بلکہ عدم اختلاف کا حکم سب کے لیے ہے۔
ضروری تحقیق کے بعد ہی کفر کلامی کا حکم نافذکیا جاتا ہے،پھر اس سے انکار کیوں کر کیا جا سکتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ کفر کلامی کے فتویٰ میں علمائے حق کا اتفاق ہی ہوتا ہے۔کتاب الشفا کی منقولہ عبارت (وَاَجمَعَ علماء وقتہم علٰی صواب فعلہم)سے مراد یہ ہے کہ علمائے حق نے اپنے اتفاق کا اظہار بھی کیا۔
اگر اتفاق ظاہر نہ بھی کریں تو بھی ہرایک کوکافرکلامی کے کافرہونے کااعتقادرکھنا ضروری ہے۔
آج لوگ حسام الحرمین کی تصدیق پر اعتراض کرتے ہیں۔مذکورہ عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ اظہار اتفاق سے کسی حکم کی تقویت وتائید ہوتی ہے،ورنہ کفر کلامی کا صحیح حکم ایک مفتی نے بھی جاری کیا ہوتو بھی اس کا انکار کفر ہی ہے۔
(ج)صرف مفتی اول کے لیے احتمالات کا خاتمہ لازم::
اگر کلام متعین فی الکفر بھی ہوتو علمائے مابعد کو اپنی تحقیق کے وقت احتمال فی المتکلم اور احتمال فی التکلم کی صورت درپیش ہوسکتی ہے،مثلاًآج سے پانچ سوسال قبل کسی نے صریح ومتعین(مفسر) لفظوں کے ساتھ اپنی نبوت کادعویٰ کیا- اس کلام ودعویٰ نبوت میں کسی قسم کے احتمال کی گنجائش نہ تھی۔
مفتی کے پاس اس مدعی نبوت نے اپنے دعوی نبوت کو دہرایا اور اقرار کیا۔مفتی نے آزمائش کر کے دیکھ لیا کہ یہ آدمی ہوش وحواس کے ساتھ بلاجبر واکراہ،اپنے قصدو رضامندی کے ساتھ تمام معانی ومطالب کوسمجھ لینے کے بعد محض اپنی شقاوت قلبی کے سبب دعوی نبوت کررہا ہے۔
اب کلام، متکلم و تکلم میں سے کسی جہت میں بھی کسی قسم کا احتمال باقی نہ رہا،اس لیے اس مفتی نے کفر کلامی کافتویٰ جاری کیا۔اس عہد کے تمام اہل حق علما نے اس فتویٰ پراتفاق کرلیا۔ بادشاہ اسلام نے دعوی نبوت کے سبب اس مجرم کو قتل بھی کردیا۔
اب بعد والوں کو وہ فتوی ماننا فرض ہے,کیوں کہ مفتی اول کے لئے تمام جہات محتملہ یقینی تھیں۔اس صورت میں وہ فتوی صحیح تھا اور کفر کلامی کے صحیح فتوی کو ماننا فرض اور انکار کفر ہے۔
سوال: پانچ سوسال بعد ہمیں مذکورہ بالا مدعی نبوت کا صرف دعویٰ اورقول ملا،اورعلمائے کرام کے فتویٰ کفر کی تفصیل معلوم ہوئی، لیکن اس مدعی کے دیگر احوال ہم سے پوشیدہ ہیں، اس لیے جہت متکلم وجہت تکلم میں احتمال ہوگیا،اب کس طرح جہت متکلم وجہت تکلم میں پایا جانے وہ احتمال دور کیا جائے؟
یہاں کوئی صورت موجود نہیں کہ اس احتمال کا خاتمہ کیا جاسکے،ایسی صورت میں ہم اسے مومن تسلیم کریں یاکافر؟
جواب:ہمیں اس مدعی نبوت کوکافر ماننا ہوگا،کیوں کہ جب کفر کلامی کا فتویٰ دیا گیا تھا تو سارے احتمالات ختم تھے۔اب دوبارہ احتمالات کیسے پیدا ہوگئے؟
احتمالات کا خاتمہ مفتی اول کے لیے ہونا ضروری ہے,جس کو فتوی جاری کرنا ہے۔
اس فتویٰ کو تسلیم کرنے والے سارے لوگوں کے لیے احتمالات کا خاتمہ ضروری نہیں ہے،بلکہ اس فتویٰ پرمطلع ہونا ضروری ہے۔
جس کواس فتویٰ کا علم ہی نہیں،نہ قطعی علم ہے،نہ ظنی علم ہے تواس پر شخص مذکور کوکافر ماننے کا حکم نہیں۔
مسیلمہ کذاب،ودیگر مدعیان نبوت کو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے مر تد قرار دیا۔ان مرتدین کوہم مرتد مانتے ہیں،جوان مدعیان نبوت کومرتد نہ مانے،وہ بھی مرتد ہوگا،حالاں کہ ان مدعیان نبوت میں سے کسی سے متعلق جہت تکلم وجہت متکلم کا تیقن آج کے عہد میں نہیں ہوسکے گا،بلکہ ان میں سے ہرایک کے کفریہ کلمات بھی منقول نہیں،لیکن ان تمام کومرتد ماننا ہوگا۔ ان کے کفر کا انکار کرنے والا کافر ہو گا۔
سوال:کیا جس عہد میں کفرکلامی کا فتویٰ دیاگیا،اس عہد میں کسی متکلم وعالم کو اس فتویٰ کے انکار کا حق حاصل ہے؟
جواب:کفر کلامی قطعی ہوتا ہے،یعنی ہرمحتمل جہ
(کتاب الشفاء جلددوم ص297)
قال الخفاجی:((واجمع علماء وقتہم علٰی صواب فعلہم)ای تصویبہ اَو ہو من اضافۃ الصفۃ للموصوف -وذلک لکذبہم عَلَی اللّٰہ بِاَنَّہ نَبَّأہُم و تکذیب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی-انہ خاتم الرسل-وَاَنَّہ لَا نبی بعدہ(و) اَجمَعُوا اَیضًا عَلٰی(اَنَّ المُخَالِفَ فِی ذٰ لِکَ)اَی تَکفِیرِہِم بِمَا إدَّعُوہُ(مِن کُفرِہِم)ہومفعول المخالفِ اَی مَن خَالَفَ مَذہَبَہُم فی تکفیرہم فَقَالَ:لَا یُکَفَّرُونَ(کَافِرٌ)لانہ رضی بِکُفرِہِم وَتَکذِیبِہِم لِلّٰہِ وَرَسُولِہ)
(نسیم الریاض جلد چہارم ص536-دارالکتاب العربی بیروت)
قال الملا علی القاری:((والمخالف فی ذلک)الفعل(مِن کُفرِہِم)اَی مِن جہتہ (کَافِرٌ) لِجَحدِہ کُفرَہُم)
(شرح الشفاء للقاری جلدچہارم ص536-دارالکتاب العربی بیروت)
قال المحشی علی محمد البجاوی المصری:(من خالف مکفرہم فی تکفیرہم،فقال: لا یکفرون،ہذا المخالف کافر،لانہ رضی بکفرہم وتکذیبہم للّٰہ ورسولہ)
(حاشیۃ الشفا: ص1091-دارالکتاب العربی بیروت)
توضیح:منقولہ بالا عبارات میں یہ بتایاگیا کہ اگر کسی پر کفرکلامی کاحکم عائدہوچکا تو اس کی تکفیر کا منکر کافر ہے۔
یہاں عالم وغیر عالم کی تفریق نہیں،بلکہ عدم اختلاف کا حکم سب کے لیے ہے۔
ضروری تحقیق کے بعد ہی کفر کلامی کا حکم نافذکیا جاتا ہے،پھر اس سے انکار کیوں کر کیا جا سکتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ کفر کلامی کے فتویٰ میں علمائے حق کا اتفاق ہی ہوتا ہے۔کتاب الشفا کی منقولہ عبارت (وَاَجمَعَ علماء وقتہم علٰی صواب فعلہم)سے مراد یہ ہے کہ علمائے حق نے اپنے اتفاق کا اظہار بھی کیا۔
اگر اتفاق ظاہر نہ بھی کریں تو بھی ہرایک کوکافرکلامی کے کافرہونے کااعتقادرکھنا ضروری ہے۔
آج لوگ حسام الحرمین کی تصدیق پر اعتراض کرتے ہیں۔مذکورہ عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ اظہار اتفاق سے کسی حکم کی تقویت وتائید ہوتی ہے،ورنہ کفر کلامی کا صحیح حکم ایک مفتی نے بھی جاری کیا ہوتو بھی اس کا انکار کفر ہی ہے۔
(ج)صرف مفتی اول کے لیے احتمالات کا خاتمہ لازم::
اگر کلام متعین فی الکفر بھی ہوتو علمائے مابعد کو اپنی تحقیق کے وقت احتمال فی المتکلم اور احتمال فی التکلم کی صورت درپیش ہوسکتی ہے،مثلاًآج سے پانچ سوسال قبل کسی نے صریح ومتعین(مفسر) لفظوں کے ساتھ اپنی نبوت کادعویٰ کیا- اس کلام ودعویٰ نبوت میں کسی قسم کے احتمال کی گنجائش نہ تھی۔
مفتی کے پاس اس مدعی نبوت نے اپنے دعوی نبوت کو دہرایا اور اقرار کیا۔مفتی نے آزمائش کر کے دیکھ لیا کہ یہ آدمی ہوش وحواس کے ساتھ بلاجبر واکراہ،اپنے قصدو رضامندی کے ساتھ تمام معانی ومطالب کوسمجھ لینے کے بعد محض اپنی شقاوت قلبی کے سبب دعوی نبوت کررہا ہے۔
اب کلام، متکلم و تکلم میں سے کسی جہت میں بھی کسی قسم کا احتمال باقی نہ رہا،اس لیے اس مفتی نے کفر کلامی کافتویٰ جاری کیا۔اس عہد کے تمام اہل حق علما نے اس فتویٰ پراتفاق کرلیا۔ بادشاہ اسلام نے دعوی نبوت کے سبب اس مجرم کو قتل بھی کردیا۔
اب بعد والوں کو وہ فتوی ماننا فرض ہے,کیوں کہ مفتی اول کے لئے تمام جہات محتملہ یقینی تھیں۔اس صورت میں وہ فتوی صحیح تھا اور کفر کلامی کے صحیح فتوی کو ماننا فرض اور انکار کفر ہے۔
سوال: پانچ سوسال بعد ہمیں مذکورہ بالا مدعی نبوت کا صرف دعویٰ اورقول ملا،اورعلمائے کرام کے فتویٰ کفر کی تفصیل معلوم ہوئی، لیکن اس مدعی کے دیگر احوال ہم سے پوشیدہ ہیں، اس لیے جہت متکلم وجہت تکلم میں احتمال ہوگیا،اب کس طرح جہت متکلم وجہت تکلم میں پایا جانے وہ احتمال دور کیا جائے؟
یہاں کوئی صورت موجود نہیں کہ اس احتمال کا خاتمہ کیا جاسکے،ایسی صورت میں ہم اسے مومن تسلیم کریں یاکافر؟
جواب:ہمیں اس مدعی نبوت کوکافر ماننا ہوگا،کیوں کہ جب کفر کلامی کا فتویٰ دیا گیا تھا تو سارے احتمالات ختم تھے۔اب دوبارہ احتمالات کیسے پیدا ہوگئے؟
احتمالات کا خاتمہ مفتی اول کے لیے ہونا ضروری ہے,جس کو فتوی جاری کرنا ہے۔
اس فتویٰ کو تسلیم کرنے والے سارے لوگوں کے لیے احتمالات کا خاتمہ ضروری نہیں ہے،بلکہ اس فتویٰ پرمطلع ہونا ضروری ہے۔
جس کواس فتویٰ کا علم ہی نہیں،نہ قطعی علم ہے،نہ ظنی علم ہے تواس پر شخص مذکور کوکافر ماننے کا حکم نہیں۔
مسیلمہ کذاب،ودیگر مدعیان نبوت کو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے مر تد قرار دیا۔ان مرتدین کوہم مرتد مانتے ہیں،جوان مدعیان نبوت کومرتد نہ مانے،وہ بھی مرتد ہوگا،حالاں کہ ان مدعیان نبوت میں سے کسی سے متعلق جہت تکلم وجہت متکلم کا تیقن آج کے عہد میں نہیں ہوسکے گا،بلکہ ان میں سے ہرایک کے کفریہ کلمات بھی منقول نہیں،لیکن ان تمام کومرتد ماننا ہوگا۔ ان کے کفر کا انکار کرنے والا کافر ہو گا۔
سوال:کیا جس عہد میں کفرکلامی کا فتویٰ دیاگیا،اس عہد میں کسی متکلم وعالم کو اس فتویٰ کے انکار کا حق حاصل ہے؟
جواب:کفر کلامی قطعی ہوتا ہے،یعنی ہرمحتمل جہ
ت سے ہر قسم کااحتمال ختم ہو جاتا ہے اور کفر آفتاب کی طرح روشن ہوجاتا ہے،تب کفر کلامی کا فتویٰ جاری ہوتا ہے۔
ایسی صورت میں عہدفتویٰ میں کسی محقق کا انکار اس کی قطعیت کو ختم نہ کرسکے گا۔
ہاں،اگر وہ ہٹ دھر می و تعنت کے سبب انکار کرتا ہے تو وہ خود اسلام سے منقطع ہوجائے گا۔
اگر اس محقق کو کسی جہت میں کوئی احتمال نظر آتا ہے تو حکم جاری کرنے والے مفتی کے پاس اپنا احتمال پیش کرے،تاکہ مفتی وہ احتمال دور کردے،اور جس طرح ہرجہت اس مفتی کے پاس قطعی ویقینی ہے،اسی طرح اس محقق کی نظر میں بھی قطعی ویقینی ہو جائے۔
جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے مانعین زکات سے جہاد کا حکم فرمایا توحضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا شبہہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان فرمایا تھا،پھر وہ جواب سے مطمئن ہوکر اس حکم جہاد کے قائل ہوگئے۔
اسی طرح شبہہ ہونے پر اصل مفتی کی طرف رجوع کرنا ہے,یا جو جواب کے اہل ہوں,ان سے دریافت کرنا ہے:واللہ الہادی الی سبیل الحق
طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:15:نومبر2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/810375662866287/
ایسی صورت میں عہدفتویٰ میں کسی محقق کا انکار اس کی قطعیت کو ختم نہ کرسکے گا۔
ہاں،اگر وہ ہٹ دھر می و تعنت کے سبب انکار کرتا ہے تو وہ خود اسلام سے منقطع ہوجائے گا۔
اگر اس محقق کو کسی جہت میں کوئی احتمال نظر آتا ہے تو حکم جاری کرنے والے مفتی کے پاس اپنا احتمال پیش کرے،تاکہ مفتی وہ احتمال دور کردے،اور جس طرح ہرجہت اس مفتی کے پاس قطعی ویقینی ہے،اسی طرح اس محقق کی نظر میں بھی قطعی ویقینی ہو جائے۔
جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے مانعین زکات سے جہاد کا حکم فرمایا توحضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا شبہہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان فرمایا تھا،پھر وہ جواب سے مطمئن ہوکر اس حکم جہاد کے قائل ہوگئے۔
اسی طرح شبہہ ہونے پر اصل مفتی کی طرف رجوع کرنا ہے,یا جو جواب کے اہل ہوں,ان سے دریافت کرنا ہے:واللہ الہادی الی سبیل الحق
طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:15:نومبر2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/810375662866287/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مسلمانوں کی بیداری اور میڈیا کی بوکھلاہٹ
بہار اسمبلی الیکشن:2020 میں صرف پانچ فی صد مسلمانوں نے این ڈی اے کو ووٹ دیا اور مسلمانوں کا چھہتر فی صد ووٹ مہا گٹھ بندھن کو ملا۔
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ عام مسلمانوں میں شعور بیدار ہو چکا ہے۔وہ صحیح اور غلط کو سمجھنے لگے ہیں۔
یادو برادری نے مہا گٹھ بندھن کو تراسی فی صد ووٹ دیا,لیکن مہا گٹھ بندھن کے مسلم امید وار جہاں تھے,وہاں این ڈی اے کو ووٹ دیا,تاکہ مسلم امید وار ہار جائیں۔
نتیجہ بھی یہی نکلا کہ دس مسلم امیدوار یادو کمیونٹی کی عصبیت کے سبب ہار گئے۔اگر یہ دس امیدوار جیت جاتے تو بہت آسانی کے ساتھ بہار میں یادو کمیونٹی کا چیف منسٹر ہوتا۔
ان سب حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہارڈ ہندتو کا جادو یادو کمیونٹی کے سر پر چڑھ کر بول رہا ہے۔انہیں یہ بھی ہوش نہیں رہا کہ اگر مہا گٹھ بندھن کے امیدوار ہار گئے تو یادو برادری کی حکومت کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔
یہی سب کچھ ہوا بھی کہ لالو پرساد یادو کے ہونہار لال, راجکمار تیجسوی یادو کو راج پاٹ نہیں مل سکا۔
اب ان راج کماروں کو چاہئے کہ اپنی برادریوں کو ہندتو کی راہ سے ہٹا کر انصاف و انسانیت کا سبق پڑھائیں۔راج پریورتن یاترا کی جگہ سماج پریورتن یاترا نکالیں۔
یہ یادو برادری کی حماقت اور بے وقوفی ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر لیا۔یہ تو پادو کمیونٹی کے عوام ہیں جنہوں نے یہ غلطی کی ہے۔
جب کہ مسلم سیاسی پارٹیاں اپنے وجود کے وقت ہی اپنا کفن تیار کر لیتی ہیں۔وہ روز اول سے ہی اپنا دائرہ مسلمانوں تک محدود رکھتی ہیں اور پھر فنا ہو جاتی ہیں یا ایک خاص دائرہ تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔
بھارت میں برادریانہ پارٹیاں سیکولرزم کا نعرہ لگا کر سب کا ووٹ بٹور لیتی ہیں اور مسلم پارٹیاں زیادہ تر مسلم ووٹروں پر محنت کرتی ہیں,اس میں محنت زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اکثر مسلم پارٹیوں کے نام ہی سے اس کی دائرہ بندی ظاہر ہوتی ہے۔مسلمانوں کو بھی سیکولر سیاست یا بہوجن سیاست کا نعرہ بلند کرنا چاہئے,نہ کہ مسلم سیاست کا۔اپنی پارٹیوں کے نام بھی ایسے رکھیں کہ سب کو محیط ہو۔
بھارتی میڈیا اور دانشوروں سے یہ سوال ہے کہ حالیہ بہار اسمبلی الیکشن میں اویسی نے مایاوتی اور کشواہا کی پارٹی کو اپنے الائنس میں رکھا۔یہ سیکولر سیاست ہے۔اس کو سیکولرزم کہا جائے گا۔
اویسی پر کمیونلزم کا الزام کس طرح ثابت ہو گا؟ اصولوں کی روشنی میں میڈیا اور دانشوران وضاحت پیش کریں۔
مختلف ریاستوں میں مجلس غیر مسلم امیدوار نامزد کرتی رہی ہے۔یہ سیکولرزم ہے۔مجلس کی سیاست کو کمیونلزم کہنا دراصل میڈیا کی خیانت اور بددیانتی ہے۔
اہل بھارت سے عرض ہے کہ میڈیا کی پھیلائی ہوئی غلط باتوں سے متاثر نہ ہوں,بلکہ میڈیا اور دانشوروں سے سیکولرزم اور کمیونلزم کی وضاحت طلب کریں۔
طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:16:نومبر2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/810557006181486/
مسلمانوں کی بیداری اور میڈیا کی بوکھلاہٹ
بہار اسمبلی الیکشن:2020 میں صرف پانچ فی صد مسلمانوں نے این ڈی اے کو ووٹ دیا اور مسلمانوں کا چھہتر فی صد ووٹ مہا گٹھ بندھن کو ملا۔
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ عام مسلمانوں میں شعور بیدار ہو چکا ہے۔وہ صحیح اور غلط کو سمجھنے لگے ہیں۔
یادو برادری نے مہا گٹھ بندھن کو تراسی فی صد ووٹ دیا,لیکن مہا گٹھ بندھن کے مسلم امید وار جہاں تھے,وہاں این ڈی اے کو ووٹ دیا,تاکہ مسلم امید وار ہار جائیں۔
نتیجہ بھی یہی نکلا کہ دس مسلم امیدوار یادو کمیونٹی کی عصبیت کے سبب ہار گئے۔اگر یہ دس امیدوار جیت جاتے تو بہت آسانی کے ساتھ بہار میں یادو کمیونٹی کا چیف منسٹر ہوتا۔
ان سب حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہارڈ ہندتو کا جادو یادو کمیونٹی کے سر پر چڑھ کر بول رہا ہے۔انہیں یہ بھی ہوش نہیں رہا کہ اگر مہا گٹھ بندھن کے امیدوار ہار گئے تو یادو برادری کی حکومت کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔
یہی سب کچھ ہوا بھی کہ لالو پرساد یادو کے ہونہار لال, راجکمار تیجسوی یادو کو راج پاٹ نہیں مل سکا۔
اب ان راج کماروں کو چاہئے کہ اپنی برادریوں کو ہندتو کی راہ سے ہٹا کر انصاف و انسانیت کا سبق پڑھائیں۔راج پریورتن یاترا کی جگہ سماج پریورتن یاترا نکالیں۔
یہ یادو برادری کی حماقت اور بے وقوفی ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر لیا۔یہ تو پادو کمیونٹی کے عوام ہیں جنہوں نے یہ غلطی کی ہے۔
جب کہ مسلم سیاسی پارٹیاں اپنے وجود کے وقت ہی اپنا کفن تیار کر لیتی ہیں۔وہ روز اول سے ہی اپنا دائرہ مسلمانوں تک محدود رکھتی ہیں اور پھر فنا ہو جاتی ہیں یا ایک خاص دائرہ تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔
بھارت میں برادریانہ پارٹیاں سیکولرزم کا نعرہ لگا کر سب کا ووٹ بٹور لیتی ہیں اور مسلم پارٹیاں زیادہ تر مسلم ووٹروں پر محنت کرتی ہیں,اس میں محنت زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اکثر مسلم پارٹیوں کے نام ہی سے اس کی دائرہ بندی ظاہر ہوتی ہے۔مسلمانوں کو بھی سیکولر سیاست یا بہوجن سیاست کا نعرہ بلند کرنا چاہئے,نہ کہ مسلم سیاست کا۔اپنی پارٹیوں کے نام بھی ایسے رکھیں کہ سب کو محیط ہو۔
بھارتی میڈیا اور دانشوروں سے یہ سوال ہے کہ حالیہ بہار اسمبلی الیکشن میں اویسی نے مایاوتی اور کشواہا کی پارٹی کو اپنے الائنس میں رکھا۔یہ سیکولر سیاست ہے۔اس کو سیکولرزم کہا جائے گا۔
اویسی پر کمیونلزم کا الزام کس طرح ثابت ہو گا؟ اصولوں کی روشنی میں میڈیا اور دانشوران وضاحت پیش کریں۔
مختلف ریاستوں میں مجلس غیر مسلم امیدوار نامزد کرتی رہی ہے۔یہ سیکولرزم ہے۔مجلس کی سیاست کو کمیونلزم کہنا دراصل میڈیا کی خیانت اور بددیانتی ہے۔
اہل بھارت سے عرض ہے کہ میڈیا کی پھیلائی ہوئی غلط باتوں سے متاثر نہ ہوں,بلکہ میڈیا اور دانشوروں سے سیکولرزم اور کمیونلزم کی وضاحت طلب کریں۔
طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:16:نومبر2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/810557006181486/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#شعار_کی_اہمیت_سازشیں_اور_ہماری_ذمہ_داری
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
نشانیاں منزل تو نہیں ہوتیں لیکن منزل تک پہنچنے کا سب سے اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔آپ کو جامع مسجد سے بَلّی مَارَان جانا ہو تو پہلے کسی شناسا سے راستہ معلوم کریں گے۔راستے میں بھٹک نہ جائیں اس لیے راستوں کی کچھ نشانیاں بھی یاد رکھیں گے تاکہ بھٹکنے کا امکان ختم ہوجائے اور آپ خیر وعافیت سے اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔کائنات ہستی کے ہر شعبے میں یہ اصول نافذ ہے کہ اصل چیز کے ساتھ اس کی نشانی وعلامت بھی اہم تسلیم کی جاتی ہے تاکہ اصل کی شناخت وتعارف میں دشواری نہ آئے۔
عربی میں نشانی کو شعار اور انگریزی میں سِمبل (symbol) کہا جاتا ہے۔شعار کی بنیادی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:
الشعار هو عبارةٌ عن صورةٍ أو رسمةٍ بصريةٍ إيضاحيةٍ، وهو الوجه المحدد الذي يتمّ من خلاله التعرف على شخصٍ ما أو مؤسسةٍ أو شركة أو منتج محدد، أو حتّى دولة۔
"شعار(نشانی) ایک شبیہہ یا نظر آنے اور واضح کرنے والی چیز کا نام ہے۔ اور یہ وہ مخصوص چیز ہے جس کے ذریعہ کسی فرد، ادارے، کمپنی یا مخصوص سامان کی شناخت کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ملک کی بھی۔"
یعنی نشانی اصل چیزوں کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔اسی لیے دنیا کے ہر شعبے اور زندگی کے ہر حصے میں نشانیوں کا اہم رول ہوتا ہے۔جن کے سہارے دنیا اور زندگی کا قافلہ رواں دواں رہتا ہے۔نشانیوں کا استعمال مذہبی، ملکی، علاقائی اور خاندانی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں مختلف مقامات پر نشانیوں کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے:
قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ
"عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی، اور تیری طرف سے نشانی۔"
یعنی جنتی خوان کا آنا امت عیسیٰ کے لیے رضائے الہی کی نشانی بن جائے۔
اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ۔(سورہ آل عمران:49)
"میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے۔"
یعنی بے جان چیز کو زندگی دینا نبوت کی نشانی ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں کے حصول اور یقین کے لیے بعض چیزوں کو بطور نشانی ذکر فرما کر نشانی کی اہمیت کو ظاہر فرمادیا ہے۔
_______معاشرتی طور مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے مختلف نشانیاں اختیار کر رکھی ہیں۔جن کی بنا پر ان کے مذہب کی پہچان بآسانی ہوجاتی ہے۔سر پر چوٹی رکھنا،ماتھے پر تِلک لگانا اور زُنّار پہننا ہندوؤں کی نشانی مانا جاتا ہے۔سر پر پگڑی، ہاتھ میں میں کڑا پہننا سِکھوں اور گلے میں صلیب لٹکانا عیسائیوں کی نشانی وشعار مانا جاتا ہے۔ایک عام انسان بھی مذکورہ چیزوں سے ان کے مذہب کی پہچان کرلیتا ہے۔حالانکہ یہ چیزیں مذہب نہیں ہیں مگر مذہب کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہیں۔بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو براہ راست مذہب سے منقول ہوتی ہیں اور بعض نشانیاں علاقائی تقاضوں یا مقامی تہذیب کی بنا پر کسی خاص مذہب کی نشانیاں بن جاتی ہیں۔حالانکہ علاقائی نشانیاں محدود اور منقول نشانیاں وسیع معنی کو محیط ہوتی ہیں۔بطور مثال یوں سمجھ لیں کہ ظاہراً کسی مسلمان کی پہچان داڑھی/ٹوپی/عمامہ سے ہوجاتی ہے۔یہ پہچان مذہبی تعلیمات نے ہی متعین کی ہے۔اس کے علاوہ بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو اگرچہ مذہبی نوعیت کی نہ ہوں مگر تہذیبی اعتبار سے کسی خاص مذہب کی نشانی بن جاتی ہیں جیسے عربی جبہ ورومال اور برقع کا استعمال مسلمانوں کی شناخت وپہچان مانا جاتا ہے۔
مذہبی نشانیوں کی آڑ میں اسلام پر نشانہ
ان دنوں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا دور چل رہا ہے۔مختلف جہات سے ہندوانہ تہذیب کو مسلط کرنے کی جان توڑ کوششیں کی جارہی ہیں۔سنیما اور میڈیا کے توسط سے ہندوانہ شعار کو festival culture کے نام پر رائج کیا جارہا ہے۔اس مہم میں جہاں شدت پسند ٹولے سرگرم عمل ہیں، وہیں لبرل طبقہ بھی soft انداز میں کفریہ مراسم کی تخم ریزی کرنے اور اس کی پرورش میں مصروف ہے۔اسی سازش کے تحت مسلم لڑکے لڑکیوں میں کَرْوَا چَوتھ ، راکھی، دیوالی اور ہولی جیسی رسموں کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔نوجوان طبقہ بڑی تیزی کے ساتھ ان رسموں میں گرفتار ہوتا جارہا ہے۔گذشتہ کچھ وقت سے مسلم لڑکیوں میں کروا چوتھ کا وِرَت رکھنے کا رجحان بہت تیزی سے بڑھا ہے۔تنبیہ کی جائے تو مسلم لڑکیوں کا سیدھا جواب ہوتا ہے کہ شوہر کی لمبی عمر کے لیے وِرَت(ہندوانہ روزہ) رکھنا اور چاند نکلنے کے بعد چھلنی کی اوٹ سے شوہر کو دیکھ کر وِرَت کھولنے میں کیا
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
نشانیاں منزل تو نہیں ہوتیں لیکن منزل تک پہنچنے کا سب سے اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔آپ کو جامع مسجد سے بَلّی مَارَان جانا ہو تو پہلے کسی شناسا سے راستہ معلوم کریں گے۔راستے میں بھٹک نہ جائیں اس لیے راستوں کی کچھ نشانیاں بھی یاد رکھیں گے تاکہ بھٹکنے کا امکان ختم ہوجائے اور آپ خیر وعافیت سے اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔کائنات ہستی کے ہر شعبے میں یہ اصول نافذ ہے کہ اصل چیز کے ساتھ اس کی نشانی وعلامت بھی اہم تسلیم کی جاتی ہے تاکہ اصل کی شناخت وتعارف میں دشواری نہ آئے۔
عربی میں نشانی کو شعار اور انگریزی میں سِمبل (symbol) کہا جاتا ہے۔شعار کی بنیادی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:
الشعار هو عبارةٌ عن صورةٍ أو رسمةٍ بصريةٍ إيضاحيةٍ، وهو الوجه المحدد الذي يتمّ من خلاله التعرف على شخصٍ ما أو مؤسسةٍ أو شركة أو منتج محدد، أو حتّى دولة۔
"شعار(نشانی) ایک شبیہہ یا نظر آنے اور واضح کرنے والی چیز کا نام ہے۔ اور یہ وہ مخصوص چیز ہے جس کے ذریعہ کسی فرد، ادارے، کمپنی یا مخصوص سامان کی شناخت کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ملک کی بھی۔"
یعنی نشانی اصل چیزوں کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔اسی لیے دنیا کے ہر شعبے اور زندگی کے ہر حصے میں نشانیوں کا اہم رول ہوتا ہے۔جن کے سہارے دنیا اور زندگی کا قافلہ رواں دواں رہتا ہے۔نشانیوں کا استعمال مذہبی، ملکی، علاقائی اور خاندانی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں مختلف مقامات پر نشانیوں کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے:
قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ
"عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی، اور تیری طرف سے نشانی۔"
یعنی جنتی خوان کا آنا امت عیسیٰ کے لیے رضائے الہی کی نشانی بن جائے۔
اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ۔(سورہ آل عمران:49)
"میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے۔"
یعنی بے جان چیز کو زندگی دینا نبوت کی نشانی ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں کے حصول اور یقین کے لیے بعض چیزوں کو بطور نشانی ذکر فرما کر نشانی کی اہمیت کو ظاہر فرمادیا ہے۔
_______معاشرتی طور مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے مختلف نشانیاں اختیار کر رکھی ہیں۔جن کی بنا پر ان کے مذہب کی پہچان بآسانی ہوجاتی ہے۔سر پر چوٹی رکھنا،ماتھے پر تِلک لگانا اور زُنّار پہننا ہندوؤں کی نشانی مانا جاتا ہے۔سر پر پگڑی، ہاتھ میں میں کڑا پہننا سِکھوں اور گلے میں صلیب لٹکانا عیسائیوں کی نشانی وشعار مانا جاتا ہے۔ایک عام انسان بھی مذکورہ چیزوں سے ان کے مذہب کی پہچان کرلیتا ہے۔حالانکہ یہ چیزیں مذہب نہیں ہیں مگر مذہب کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہیں۔بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو براہ راست مذہب سے منقول ہوتی ہیں اور بعض نشانیاں علاقائی تقاضوں یا مقامی تہذیب کی بنا پر کسی خاص مذہب کی نشانیاں بن جاتی ہیں۔حالانکہ علاقائی نشانیاں محدود اور منقول نشانیاں وسیع معنی کو محیط ہوتی ہیں۔بطور مثال یوں سمجھ لیں کہ ظاہراً کسی مسلمان کی پہچان داڑھی/ٹوپی/عمامہ سے ہوجاتی ہے۔یہ پہچان مذہبی تعلیمات نے ہی متعین کی ہے۔اس کے علاوہ بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو اگرچہ مذہبی نوعیت کی نہ ہوں مگر تہذیبی اعتبار سے کسی خاص مذہب کی نشانی بن جاتی ہیں جیسے عربی جبہ ورومال اور برقع کا استعمال مسلمانوں کی شناخت وپہچان مانا جاتا ہے۔
مذہبی نشانیوں کی آڑ میں اسلام پر نشانہ
ان دنوں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا دور چل رہا ہے۔مختلف جہات سے ہندوانہ تہذیب کو مسلط کرنے کی جان توڑ کوششیں کی جارہی ہیں۔سنیما اور میڈیا کے توسط سے ہندوانہ شعار کو festival culture کے نام پر رائج کیا جارہا ہے۔اس مہم میں جہاں شدت پسند ٹولے سرگرم عمل ہیں، وہیں لبرل طبقہ بھی soft انداز میں کفریہ مراسم کی تخم ریزی کرنے اور اس کی پرورش میں مصروف ہے۔اسی سازش کے تحت مسلم لڑکے لڑکیوں میں کَرْوَا چَوتھ ، راکھی، دیوالی اور ہولی جیسی رسموں کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔نوجوان طبقہ بڑی تیزی کے ساتھ ان رسموں میں گرفتار ہوتا جارہا ہے۔گذشتہ کچھ وقت سے مسلم لڑکیوں میں کروا چوتھ کا وِرَت رکھنے کا رجحان بہت تیزی سے بڑھا ہے۔تنبیہ کی جائے تو مسلم لڑکیوں کا سیدھا جواب ہوتا ہے کہ شوہر کی لمبی عمر کے لیے وِرَت(ہندوانہ روزہ) رکھنا اور چاند نکلنے کے بعد چھلنی کی اوٹ سے شوہر کو دیکھ کر وِرَت کھولنے میں کیا
برائی ہے؟
راکھی کی رسم یہ کہہ کر اپنائی جارہی ہے کہ یہ رسم تو بھائی بہن جیسے مقدس رشتے کی اپنائیت دکھانے کے لیے نبھائی جاتی ہے بھلا اس میں کون سی شرعی خرابی ہے؟
دیوالی کو روشنی اور ہولی کو رنگوں کی رسم کہہ کر بڑی سادگی سے پوچھتے ہیں کہ
یہ تو محض خوش طبعی اور اپنائیت کے اظہار کا موقع ہیں۔ روشنی اور رنگوں میں کون سا شرک اور کیسا کفر؟
دنیوی نشے میں چُور ان نوجوانوں کو نہایت حکمت سے یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بعض رسمیں بھلے ہی خود میں کفر وشرک نہ ہوں، لیکن بالآخر یہ رسمیں ہندو دھرم کی نشانی وشعار ہیں۔شعار غیر کو اپنانا نفسیاتی طور پر ان کی تہذیب سے مغلوب ہونا اور مستقبل میں دیگر تہذیبی نشانیوں کو ماننے کی جانب قدم بڑھانا ہے۔اس باب میں حضور سید عالم ﷺ کا طرز عمل ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ ادائے نماز کے لیے نشانی مقرر کرنے میں آپ نے یہود ونصاری کی نشانیوں کو یکسر مسترد فرما دیا:
أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ، يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ۔(صحیح بخاری رقم الحدیث 604)
"جب مسلمان مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کرکے نماز کے لیے آتے تھے۔اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نَرْسِنگا (بگل بنا لو، اس کو پھونک دیا کرو) لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے آواز لگا دیا کرے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے (اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے) فرمایا کہ بلال! اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو۔"
غور فرمائیں کہ گھنٹہ وباجے کا استعمال اپنے آپ میں کفر وشرک کا پہلو نہیں رکھتا۔ورنہ صحابہ ان کو ہرگز پیش نہ فرماتے مگر آپ ﷺ کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ جو چیز غیروں کی نشانی مانی جاتی ہے اسے اہل اسلام اختیار کریں۔ایسا کرنا خود کو ان کے مقابلے میں عاجز اور ان کا فکری غلبہ تسلیم کرنا تھا۔پھر یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ نفس پر پابندی نہ لگائی جائے تو یہ کسی ایک شعار پر نہیں رکے گا بلکہ ایک نشانی سے دوسری نشانی پر چلتے ہوئے آخری سرے تک پہنچ جائے گا۔ہندوانہ رسموں کا آخری سِرا کفر وشرک سے جاکر ملتا ہے۔ہمارے درمیان ایسے کتنے ہی افراد ہیں جنہوں نے ہولی دیوالی جیسی رسموں کو عام سی رسم سمجھ کر اختیار کیا نتیجتاً آہستہ آہستہ پوجا وآرتی بھی کرنے لگے اور اپنے دین وایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
افسوس ناک پہلو !!
ایک طرف مخالفین تہذیب اسلامی پر حملہ آور ہیں تو دوسری جانب بعض مفاد پرست خانقاہی اور مجاورین بھی دشمنوں کا آلہ کار بن کر ہندوانہ تہذیب کے برانڈ ایمبیسڈر بنے ہوئے ہیں۔ارباب حکومت کو راضی کرنے کی خاطر اولیاے کرام کی خانقاہوں میں ہولی، دیوالی کا اہتمام بڑی فراخ دلی سے کیا جارہا ہے۔یہ لوگ دنیوی شہرت کی خاطر دشمنوں کے منصوبوں کو کھاد پانی فراہم کرنے میں مددگار بنے ہوئے ہیں۔
حالانکہ بزرگان دین کی ذات اس قسم کے ہندوانہ رسم ورواج سے بالکل بری ہے۔ان حضرات کی مکمل زندگی قرآن وسنت کی آئینہ دار تھی۔نور نبوت سے فیض یافتہ یہ جماعت کسی بھی کفریہ رسم کو قبول کرنے کی متحمل ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ان کی غیرت ایمانی بھلا شرکیہ نشانیوں کو کس طرح برداشت کر سکتی تھی؟
وہ تو خود انسانوں کو کفر و شرک کی گندگی سے بچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے۔اگر وہ ان رسموں کے ماننے والے ہوتے تو دیار کفر میں دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کی ضرورت ہی کیا تھی؟
اسلام دین خالص ہے۔کسی طرح کی ملاوٹ پسند نہیں کرتا۔صوفیاے کرام تاحیات اسلامی افکار و نظریات کے ہی داعی ومبلغ رہے۔یہ ان کی تبلیغ کا ہی اثر تھا کہ سرزمین ہند پر اسلامی تہذیب وتمدن کا گلشن آباد ہوا۔بسنت منانا ہو یا ہولی دیوالی، ہندی بزرگوں کی سوانح اس طرح کی لغویات سے پاک وصاف ہیں۔کسی مذہب کے شعار کو اپنانا اور اسے بہتر جاننا اپنے ایمان کو داؤ پر لگانا ہے۔اس لیے دنیا پرست مجاورین کی کرتوت دیکھ کر بزرگان دین سے بدگمان نہ ہوں۔ایسے مجاورین اور آزاد خیالوں کا کھل کر بائکاٹ کریں تاکہ ہمارا تہذیب وتمدن کفر وشرک کی آلودگی سے محفوظ رہے۔
خوب یاد رہے!
مذہب اسلام کی کچھ حدود و قیود ہیں جو انھیں تسلیم کرے گا وہی مومن ہے۔جو لوگ خانقاہ وتصوف کے نام پر کفریہ رسموں کو پرموٹ کر رہے ہیں وہ لوگ ایک نیا دین گڑھ رہے ہیں۔ایسے دین ومشرب کو بھلے ہی کچھ بھی نام دیا جائے لیکن وہ "اسلام اور تصوف" ہرگز نہیں ہوسکتا۔
3 ربیع الثانی 1
راکھی کی رسم یہ کہہ کر اپنائی جارہی ہے کہ یہ رسم تو بھائی بہن جیسے مقدس رشتے کی اپنائیت دکھانے کے لیے نبھائی جاتی ہے بھلا اس میں کون سی شرعی خرابی ہے؟
دیوالی کو روشنی اور ہولی کو رنگوں کی رسم کہہ کر بڑی سادگی سے پوچھتے ہیں کہ
یہ تو محض خوش طبعی اور اپنائیت کے اظہار کا موقع ہیں۔ روشنی اور رنگوں میں کون سا شرک اور کیسا کفر؟
دنیوی نشے میں چُور ان نوجوانوں کو نہایت حکمت سے یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بعض رسمیں بھلے ہی خود میں کفر وشرک نہ ہوں، لیکن بالآخر یہ رسمیں ہندو دھرم کی نشانی وشعار ہیں۔شعار غیر کو اپنانا نفسیاتی طور پر ان کی تہذیب سے مغلوب ہونا اور مستقبل میں دیگر تہذیبی نشانیوں کو ماننے کی جانب قدم بڑھانا ہے۔اس باب میں حضور سید عالم ﷺ کا طرز عمل ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ ادائے نماز کے لیے نشانی مقرر کرنے میں آپ نے یہود ونصاری کی نشانیوں کو یکسر مسترد فرما دیا:
أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ، يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ۔(صحیح بخاری رقم الحدیث 604)
"جب مسلمان مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کرکے نماز کے لیے آتے تھے۔اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نَرْسِنگا (بگل بنا لو، اس کو پھونک دیا کرو) لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے آواز لگا دیا کرے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے (اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے) فرمایا کہ بلال! اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو۔"
غور فرمائیں کہ گھنٹہ وباجے کا استعمال اپنے آپ میں کفر وشرک کا پہلو نہیں رکھتا۔ورنہ صحابہ ان کو ہرگز پیش نہ فرماتے مگر آپ ﷺ کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ جو چیز غیروں کی نشانی مانی جاتی ہے اسے اہل اسلام اختیار کریں۔ایسا کرنا خود کو ان کے مقابلے میں عاجز اور ان کا فکری غلبہ تسلیم کرنا تھا۔پھر یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ نفس پر پابندی نہ لگائی جائے تو یہ کسی ایک شعار پر نہیں رکے گا بلکہ ایک نشانی سے دوسری نشانی پر چلتے ہوئے آخری سرے تک پہنچ جائے گا۔ہندوانہ رسموں کا آخری سِرا کفر وشرک سے جاکر ملتا ہے۔ہمارے درمیان ایسے کتنے ہی افراد ہیں جنہوں نے ہولی دیوالی جیسی رسموں کو عام سی رسم سمجھ کر اختیار کیا نتیجتاً آہستہ آہستہ پوجا وآرتی بھی کرنے لگے اور اپنے دین وایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
افسوس ناک پہلو !!
ایک طرف مخالفین تہذیب اسلامی پر حملہ آور ہیں تو دوسری جانب بعض مفاد پرست خانقاہی اور مجاورین بھی دشمنوں کا آلہ کار بن کر ہندوانہ تہذیب کے برانڈ ایمبیسڈر بنے ہوئے ہیں۔ارباب حکومت کو راضی کرنے کی خاطر اولیاے کرام کی خانقاہوں میں ہولی، دیوالی کا اہتمام بڑی فراخ دلی سے کیا جارہا ہے۔یہ لوگ دنیوی شہرت کی خاطر دشمنوں کے منصوبوں کو کھاد پانی فراہم کرنے میں مددگار بنے ہوئے ہیں۔
حالانکہ بزرگان دین کی ذات اس قسم کے ہندوانہ رسم ورواج سے بالکل بری ہے۔ان حضرات کی مکمل زندگی قرآن وسنت کی آئینہ دار تھی۔نور نبوت سے فیض یافتہ یہ جماعت کسی بھی کفریہ رسم کو قبول کرنے کی متحمل ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ان کی غیرت ایمانی بھلا شرکیہ نشانیوں کو کس طرح برداشت کر سکتی تھی؟
وہ تو خود انسانوں کو کفر و شرک کی گندگی سے بچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے۔اگر وہ ان رسموں کے ماننے والے ہوتے تو دیار کفر میں دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کی ضرورت ہی کیا تھی؟
اسلام دین خالص ہے۔کسی طرح کی ملاوٹ پسند نہیں کرتا۔صوفیاے کرام تاحیات اسلامی افکار و نظریات کے ہی داعی ومبلغ رہے۔یہ ان کی تبلیغ کا ہی اثر تھا کہ سرزمین ہند پر اسلامی تہذیب وتمدن کا گلشن آباد ہوا۔بسنت منانا ہو یا ہولی دیوالی، ہندی بزرگوں کی سوانح اس طرح کی لغویات سے پاک وصاف ہیں۔کسی مذہب کے شعار کو اپنانا اور اسے بہتر جاننا اپنے ایمان کو داؤ پر لگانا ہے۔اس لیے دنیا پرست مجاورین کی کرتوت دیکھ کر بزرگان دین سے بدگمان نہ ہوں۔ایسے مجاورین اور آزاد خیالوں کا کھل کر بائکاٹ کریں تاکہ ہمارا تہذیب وتمدن کفر وشرک کی آلودگی سے محفوظ رہے۔
خوب یاد رہے!
مذہب اسلام کی کچھ حدود و قیود ہیں جو انھیں تسلیم کرے گا وہی مومن ہے۔جو لوگ خانقاہ وتصوف کے نام پر کفریہ رسموں کو پرموٹ کر رہے ہیں وہ لوگ ایک نیا دین گڑھ رہے ہیں۔ایسے دین ومشرب کو بھلے ہی کچھ بھی نام دیا جائے لیکن وہ "اسلام اور تصوف" ہرگز نہیں ہوسکتا۔
3 ربیع الثانی 1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*حضرت محمد سراج الدین دامانی نقشبندی: حیات و افکار*
حضرت خواجہ محمد سراج الدین دامانی نقشبندی علیہ الرحمہ کے یوم وصال 26 ربیع الاول پر علمی خراجِ عقیدت... واضح ہو کہ حضرت مولانا سید محمدبرکت علی شاہ نقشبندی (بانی خانقاہِ برکتیہ اسلام پورہ مالیگاؤں/ سنی جامع مسجد سٹانہ، مدفون کلکتہ ) آپ ہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ حضرت مولانا محمد برکت علی شاہ نقشبندی کے خلیفہ مولانا محمد اسحاق نقشبندی علیہ الرحمہ کا مزارِ اقدس مالیگاؤں بڑا قبرستان میں مرجع خلائق ہے... اس لحاظ سے مالیگاؤں آپ کے فیضان روحانی سے باریاب ہے... فائل ڈاؤن لوڈ کیجئے اور بزمِ مطالعہ سجا لیجیے....
نوٹ: پی ڈی ایف فائل کیلئے احقر سے واٹس ایپ رابطہ کیجئے
+919325028586
13 نومبر 2020ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3517640421650978&id=100002151654486
حضرت خواجہ محمد سراج الدین دامانی نقشبندی علیہ الرحمہ کے یوم وصال 26 ربیع الاول پر علمی خراجِ عقیدت... واضح ہو کہ حضرت مولانا سید محمدبرکت علی شاہ نقشبندی (بانی خانقاہِ برکتیہ اسلام پورہ مالیگاؤں/ سنی جامع مسجد سٹانہ، مدفون کلکتہ ) آپ ہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ حضرت مولانا محمد برکت علی شاہ نقشبندی کے خلیفہ مولانا محمد اسحاق نقشبندی علیہ الرحمہ کا مزارِ اقدس مالیگاؤں بڑا قبرستان میں مرجع خلائق ہے... اس لحاظ سے مالیگاؤں آپ کے فیضان روحانی سے باریاب ہے... فائل ڈاؤن لوڈ کیجئے اور بزمِ مطالعہ سجا لیجیے....
نوٹ: پی ڈی ایف فائل کیلئے احقر سے واٹس ایپ رابطہ کیجئے
+919325028586
13 نومبر 2020ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3517640421650978&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سازشیں اور قومی تقاضے*
_دشمنانِ اسلام کی سازشوں سے بیدار رہ کر مشرکین کے رسم و رواج سے احتیاط میں عافیت_
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
’’عزیزانِ وطن! پاک مذہب اسلام جس کی ساری تعلیمات کا جوہر توحید و خدا پرستی ہے اُس کا دشمن تم صرف انگریزوں کو کیوں قرار دیتے ہو؛ ہر وہ مذہبِ باطل جو دُنیا میں موجود ہے؛ یا کسی وقت اختراع کیا جا سکتا ہے، وہ اس دین قویم اور صراطِ مستقیم کا دشمن جانی ہے؛ کفر و اسلام میں جب کہ تضاد ذاتی ہے؛ پس یہ محالِ عقلی ہے کہ کوئی مذہبِ کفر ٹھنڈی آنکھوں سے اسلام کو دیکھنا گوارا کرے؛ ہاں! مجبوری معذوری کی اور بات ہے، قرآن کریم نے سیکڑوں جگہ اسی کی خبر دی ہے، پس مسلمانوں کو خود اپنے آپ میں قوت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔نہ کہ غیر قوم میں جذب و مدغم ہونا۔یہی شریعت کا فتویٰ ہے اور یہی عقلِ سلیم کا حکم۔‘‘[النور،ص۲۰۹، مطبوعہ ۱۹۲۱ء]
مذکورہ تمہیدی اقتباس ایک صدی پیش تر مفکر اسلام پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری (خلیفۂ اعلیٰ حضرت و سابق صدر شعبۂ دینیات مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ)نے ارشاد فرمائے، جنھوں نے اسی زمانے میں ہندوؤں کی اسلام دشمنی کو بھانپ لیا تھا، اور ہندو مسلم اتحاد کی اس وجہ سے مخالفت کی تھی کہ اس سے اسلامی شعائر رفتہ رفتہ زد میں لائے جا رہے تھے۔ اسلامی تشخص مٹانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔
اسلام سب سے بڑی سچائی ہے۔ تمام مذاہبِ باطل؛ اسلام کے دشمن ہیں۔ اسلام کے مقابل انگریز نے سازشوں کے جال بنے۔ مسلمان! انگریز کے خلاف تھے لیکن ہندوؤں سے اشتراک و اتحاد کر لیا جس کا مقصدِ ظاہری ملک کو انگریزی استبداد سے آزاد کرانا تھا۔ جب کہ انگریز بھی دشمن تھے اور ہنود بھی۔ پھر ہنود سے اتحاد کی مہم جو ایک صدی قبل چلائی گئی اس کے منفی اثرات اسی زمانے میں ظاہر ہونے شروع ہوئے۔
*نتائج:*
[۱] آزادی کے وقت حکومت بجائے مسلمانوں کو لوٹانے کے مشرک لیڈران کو دی گئی تا کہ مسلمان دوبارہ اقتدار نہ پا سکیں۔جب کہ انگریز نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی۔
[۲] ادغام و اشتراک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوؤں کے کئی مراسم مسلم معاشرے میں اپنے پنجے گاڑنے میں کامیاب ہوئے، مذہبی روح اس سے متاثر ہوئی۔ جن مراسم سے نفرت کرنی تھی؛ ان سے انسیت بڑھی؛ آج جو بعض افراد ہولی، دیوالی، گنپتی جیسے شرکیہ معاملات میں شامل ہو جاتے ہیں یہ اسی ادغام و اشتراک کا نتیجہ ہے۔
[۳] حالات کے زیر اثر جہاں جہاں مسلمانوں نے مشرکین سے مل کر تحریکیں چلائیں وہیں ہماری ترقی کا گراف زوال پذیر ہوا۔ نان کو آپریشن کے نتیجے میں مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ ، مدرسہ عالیہ کلکتہ اور اسلامیہ کالج لاہور تعلیمی دھارے میں پیچھے رہ گئے۔ اس خلا کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
[۴] موجودہ حالات میں تحریکیں بے اثر ہو کر رہ گئیں، کہیں کوئی اثر مسلمانوں کے نہیں ظاہر ہو رہے جس کا سبب یہی ہے کہ ادغام و اشتراک نے مسلمانوں کی کمزوری ظاہر کی ہے جس کا فائدہ فرقہ پرست قوتیں پورا اٹھا رہی ہیں۔ کہیں کہیں قیادت در پردہ مشرکین سے متحد ہے یا کم از کم مرعوبیت کا شکار ہے-
[۵] انگریز کو ہم نے دشمن جانا، مشرکین سے کو دوست سمجھا، جب کہ دونوں ہی دشمن ہیں، آج یہی وجہ ہے کہ فرقہ پرست قیادت کہیں اسرائیل سے معاہدے کر رہی، کہیں امریکہ سے دفاعی اشیا کے سودے کر رہی، ان کے اتحاد کا میدان تمام دشمنانِ اسلام ہیں۔ پھر کیوں یہ ہمارے ہمدرد ہو سکتے ہیں؟
[٦] جب کہ ان مسلم مخالف طاقتوں سے اشتراک کا ہی نتیجہ ہے کہ آج بعض مسلم مراکز کی حکومتیں اسرائیل و امریکہ کے آگے جھکی ہوئی ہیں؛ لیکن اپنوں سے ملنے کا شعور نہیں آ رہا ہے...
*ہماری ذمہ داری:* ہمیں جو تکالیف پہنچ رہی ہیں وہ ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں۔ ہماری ہی غفلت کے سبب وارد ہوئی ہیں، قرآن پاک کا ارشاد ہے:
وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ۔ (سورۂ شوریٰ: ۴۲؍۳۰) ’’اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایااور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘ (کنزالایمان)
جو مصائب و آلام ہیں یہ ایک صدی پیش تر غلط قیادت یا قیادت کے غلط فیصلوں کے تسلیم و قبول کے نتائج ہیں۔ مشرکین سے مذہبی بنیادوں پر محبت کی جو کوششیں ہوئیں ان سے مسلمان اپنے اسلامی فیصلوں سے دور جا پڑے، اپنے ہی ہاتھوں مشرکین کو مسلط کرنے میں مدد دی، اپنے ہی ہاتھوں اپنے شعائر سے دوری بنائی، ذبح، معمولات، حرمتِ منبر کو تج دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی دور میں چاہے آزادی سے قبل کا دور ہو یا بعد کا مشرکین نے کوئی رو رعایت نہیں کی۔ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔ اور مسلمان اس امید پر کہ اتحاد نہ ٹوٹے؛ سب برداشت کیا۔ جس کے خوف ناک اثرات آج جھیل رہے ہیں۔ ہم نے مشرکین کو مسلط کیا اب وہ جو غالب آئے اس پر چیخ رہے ہیں۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ:
[۱]ہم احکامِ الٰہی و قوانین اسلام کے پابند ہو جائیں۔ مشرکین سے اتحاد سے بچی
_دشمنانِ اسلام کی سازشوں سے بیدار رہ کر مشرکین کے رسم و رواج سے احتیاط میں عافیت_
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
’’عزیزانِ وطن! پاک مذہب اسلام جس کی ساری تعلیمات کا جوہر توحید و خدا پرستی ہے اُس کا دشمن تم صرف انگریزوں کو کیوں قرار دیتے ہو؛ ہر وہ مذہبِ باطل جو دُنیا میں موجود ہے؛ یا کسی وقت اختراع کیا جا سکتا ہے، وہ اس دین قویم اور صراطِ مستقیم کا دشمن جانی ہے؛ کفر و اسلام میں جب کہ تضاد ذاتی ہے؛ پس یہ محالِ عقلی ہے کہ کوئی مذہبِ کفر ٹھنڈی آنکھوں سے اسلام کو دیکھنا گوارا کرے؛ ہاں! مجبوری معذوری کی اور بات ہے، قرآن کریم نے سیکڑوں جگہ اسی کی خبر دی ہے، پس مسلمانوں کو خود اپنے آپ میں قوت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔نہ کہ غیر قوم میں جذب و مدغم ہونا۔یہی شریعت کا فتویٰ ہے اور یہی عقلِ سلیم کا حکم۔‘‘[النور،ص۲۰۹، مطبوعہ ۱۹۲۱ء]
مذکورہ تمہیدی اقتباس ایک صدی پیش تر مفکر اسلام پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری (خلیفۂ اعلیٰ حضرت و سابق صدر شعبۂ دینیات مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ)نے ارشاد فرمائے، جنھوں نے اسی زمانے میں ہندوؤں کی اسلام دشمنی کو بھانپ لیا تھا، اور ہندو مسلم اتحاد کی اس وجہ سے مخالفت کی تھی کہ اس سے اسلامی شعائر رفتہ رفتہ زد میں لائے جا رہے تھے۔ اسلامی تشخص مٹانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔
اسلام سب سے بڑی سچائی ہے۔ تمام مذاہبِ باطل؛ اسلام کے دشمن ہیں۔ اسلام کے مقابل انگریز نے سازشوں کے جال بنے۔ مسلمان! انگریز کے خلاف تھے لیکن ہندوؤں سے اشتراک و اتحاد کر لیا جس کا مقصدِ ظاہری ملک کو انگریزی استبداد سے آزاد کرانا تھا۔ جب کہ انگریز بھی دشمن تھے اور ہنود بھی۔ پھر ہنود سے اتحاد کی مہم جو ایک صدی قبل چلائی گئی اس کے منفی اثرات اسی زمانے میں ظاہر ہونے شروع ہوئے۔
*نتائج:*
[۱] آزادی کے وقت حکومت بجائے مسلمانوں کو لوٹانے کے مشرک لیڈران کو دی گئی تا کہ مسلمان دوبارہ اقتدار نہ پا سکیں۔جب کہ انگریز نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی۔
[۲] ادغام و اشتراک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوؤں کے کئی مراسم مسلم معاشرے میں اپنے پنجے گاڑنے میں کامیاب ہوئے، مذہبی روح اس سے متاثر ہوئی۔ جن مراسم سے نفرت کرنی تھی؛ ان سے انسیت بڑھی؛ آج جو بعض افراد ہولی، دیوالی، گنپتی جیسے شرکیہ معاملات میں شامل ہو جاتے ہیں یہ اسی ادغام و اشتراک کا نتیجہ ہے۔
[۳] حالات کے زیر اثر جہاں جہاں مسلمانوں نے مشرکین سے مل کر تحریکیں چلائیں وہیں ہماری ترقی کا گراف زوال پذیر ہوا۔ نان کو آپریشن کے نتیجے میں مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ ، مدرسہ عالیہ کلکتہ اور اسلامیہ کالج لاہور تعلیمی دھارے میں پیچھے رہ گئے۔ اس خلا کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
[۴] موجودہ حالات میں تحریکیں بے اثر ہو کر رہ گئیں، کہیں کوئی اثر مسلمانوں کے نہیں ظاہر ہو رہے جس کا سبب یہی ہے کہ ادغام و اشتراک نے مسلمانوں کی کمزوری ظاہر کی ہے جس کا فائدہ فرقہ پرست قوتیں پورا اٹھا رہی ہیں۔ کہیں کہیں قیادت در پردہ مشرکین سے متحد ہے یا کم از کم مرعوبیت کا شکار ہے-
[۵] انگریز کو ہم نے دشمن جانا، مشرکین سے کو دوست سمجھا، جب کہ دونوں ہی دشمن ہیں، آج یہی وجہ ہے کہ فرقہ پرست قیادت کہیں اسرائیل سے معاہدے کر رہی، کہیں امریکہ سے دفاعی اشیا کے سودے کر رہی، ان کے اتحاد کا میدان تمام دشمنانِ اسلام ہیں۔ پھر کیوں یہ ہمارے ہمدرد ہو سکتے ہیں؟
[٦] جب کہ ان مسلم مخالف طاقتوں سے اشتراک کا ہی نتیجہ ہے کہ آج بعض مسلم مراکز کی حکومتیں اسرائیل و امریکہ کے آگے جھکی ہوئی ہیں؛ لیکن اپنوں سے ملنے کا شعور نہیں آ رہا ہے...
*ہماری ذمہ داری:* ہمیں جو تکالیف پہنچ رہی ہیں وہ ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں۔ ہماری ہی غفلت کے سبب وارد ہوئی ہیں، قرآن پاک کا ارشاد ہے:
وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ۔ (سورۂ شوریٰ: ۴۲؍۳۰) ’’اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایااور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘ (کنزالایمان)
جو مصائب و آلام ہیں یہ ایک صدی پیش تر غلط قیادت یا قیادت کے غلط فیصلوں کے تسلیم و قبول کے نتائج ہیں۔ مشرکین سے مذہبی بنیادوں پر محبت کی جو کوششیں ہوئیں ان سے مسلمان اپنے اسلامی فیصلوں سے دور جا پڑے، اپنے ہی ہاتھوں مشرکین کو مسلط کرنے میں مدد دی، اپنے ہی ہاتھوں اپنے شعائر سے دوری بنائی، ذبح، معمولات، حرمتِ منبر کو تج دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی دور میں چاہے آزادی سے قبل کا دور ہو یا بعد کا مشرکین نے کوئی رو رعایت نہیں کی۔ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔ اور مسلمان اس امید پر کہ اتحاد نہ ٹوٹے؛ سب برداشت کیا۔ جس کے خوف ناک اثرات آج جھیل رہے ہیں۔ ہم نے مشرکین کو مسلط کیا اب وہ جو غالب آئے اس پر چیخ رہے ہیں۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ:
[۱]ہم احکامِ الٰہی و قوانین اسلام کے پابند ہو جائیں۔ مشرکین سے اتحاد سے بچی
ں جس سے مذہبی امور میں مداخلت کا اندیشہ ہو۔
[۲] شرعی فیصلوں کی پابندی کریں تو کسی خلافِ شرع قانون کی حیثیت باقی نہیں رہ سکے گی۔
[۳] غیر شرعی کورٹوں میں اپنے مقدمات نہ لے جائیں بلکہ شرعی اصولوں کی پیروی کریں۔
[۴] طلاق سے گریز کریں، نوبت آجائے تو شریعت کی پاس داری لازم جانیں۔
[۵] اپنے شعائر کی پابندی کریں۔
[٦] دینی تعلیم سے رغبت پیدا کریں۔ بچوں میں دین داری کو رواج دیں۔ پھر دنیوی تعلیم کے منفی اثرات سے بچ سکیں گے۔
[۷] ملک سے وفاداری کریں لیکن شرکیہ مراسم کو ہرگز قبول نہ کریں بلکہ ان سے نفرت کریں، بچوں کو مراسم شرک سے نفرت دلائیں۔
[۸] مشرکین یا مذاہبِ باطل کے تہواروں میں شرکت سے بچیں اور بچائیں۔
[۹] علم دین سیکھنے سکھانے میں مدد دیں۔ مدارسِ اسلامیہ سے رشتے بحال کریں۔
[۱۰] ایسی قیادت سے گریز کریں جو مشرک قائدین سے اتحاد برتے، اور مشرکین کی تکریم کر کے مسلمانوں کو غلط روی کی دعوت دے۔
اسلام پر استقامت اختیار کریں۔ یاد رکھیں! اللہ کی رحمتوں کا نزول اللہ و رسول کی رضا میں ہے۔ جو مشرکین کو خوش کرنے کو کوشاں ہیں ان سے ہمیں کوئی عزت نہیں مل سکتی۔ ہمیں سرخروئی احکام الٰہی و قوانین اسلام کی اطاعت و پیروی میں ملنی ہے۔ اس لیے اپنے مذہبی تشخص کی سلامتی کے لیے بیدار رہ کر جئیں۔
٭٭٭
شذرہ: یہ تحریر کچھ عرصہ قبل لکھی گئی... حال کے شامیانے میں جزوی ترمیم کے ساتھ پیشِ مطالعہ ہے...
١٤ نومبر ٢٠٢٠ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3523225237759163&id=100002151654486
[۲] شرعی فیصلوں کی پابندی کریں تو کسی خلافِ شرع قانون کی حیثیت باقی نہیں رہ سکے گی۔
[۳] غیر شرعی کورٹوں میں اپنے مقدمات نہ لے جائیں بلکہ شرعی اصولوں کی پیروی کریں۔
[۴] طلاق سے گریز کریں، نوبت آجائے تو شریعت کی پاس داری لازم جانیں۔
[۵] اپنے شعائر کی پابندی کریں۔
[٦] دینی تعلیم سے رغبت پیدا کریں۔ بچوں میں دین داری کو رواج دیں۔ پھر دنیوی تعلیم کے منفی اثرات سے بچ سکیں گے۔
[۷] ملک سے وفاداری کریں لیکن شرکیہ مراسم کو ہرگز قبول نہ کریں بلکہ ان سے نفرت کریں، بچوں کو مراسم شرک سے نفرت دلائیں۔
[۸] مشرکین یا مذاہبِ باطل کے تہواروں میں شرکت سے بچیں اور بچائیں۔
[۹] علم دین سیکھنے سکھانے میں مدد دیں۔ مدارسِ اسلامیہ سے رشتے بحال کریں۔
[۱۰] ایسی قیادت سے گریز کریں جو مشرک قائدین سے اتحاد برتے، اور مشرکین کی تکریم کر کے مسلمانوں کو غلط روی کی دعوت دے۔
اسلام پر استقامت اختیار کریں۔ یاد رکھیں! اللہ کی رحمتوں کا نزول اللہ و رسول کی رضا میں ہے۔ جو مشرکین کو خوش کرنے کو کوشاں ہیں ان سے ہمیں کوئی عزت نہیں مل سکتی۔ ہمیں سرخروئی احکام الٰہی و قوانین اسلام کی اطاعت و پیروی میں ملنی ہے۔ اس لیے اپنے مذہبی تشخص کی سلامتی کے لیے بیدار رہ کر جئیں۔
٭٭٭
شذرہ: یہ تحریر کچھ عرصہ قبل لکھی گئی... حال کے شامیانے میں جزوی ترمیم کے ساتھ پیشِ مطالعہ ہے...
١٤ نومبر ٢٠٢٠ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3523225237759163&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعتراض کا شوقین______
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﻋﺎﺑﺪﯾﻦ ﺣﻨﻔﯽ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :-
*وَالْوَلُوعُ بِالِاعْتِرَاضِ يَمْنَعُ الِاهْتِدَاءَ إلَى طَرِيقِ الصَّوَابِ فَافْهَمْ*
ﺍﻋﺘﺮﺍﺿﺎﺕ ﮐﺎ شوقین ہدایت ﮐﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺳﮯ ہدایت ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ۔ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺏ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ_
•[رد المحتار(فتاوی شامی) ج.6 ص.544 کتاب الوقف،دار الکتب علمیہ]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3456716997779040&id=100003223204679
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﻋﺎﺑﺪﯾﻦ ﺣﻨﻔﯽ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :-
*وَالْوَلُوعُ بِالِاعْتِرَاضِ يَمْنَعُ الِاهْتِدَاءَ إلَى طَرِيقِ الصَّوَابِ فَافْهَمْ*
ﺍﻋﺘﺮﺍﺿﺎﺕ ﮐﺎ شوقین ہدایت ﮐﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺳﮯ ہدایت ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ۔ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺏ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ_
•[رد المحتار(فتاوی شامی) ج.6 ص.544 کتاب الوقف،دار الکتب علمیہ]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3456716997779040&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#شعار_کی_اہمیت_سازشیں_اور_ہماری_ذمہ_داری
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
نشانیاں منزل تو نہیں ہوتیں لیکن منزل تک پہنچنے کا سب سے اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔آپ کو جامع مسجد سے بَلّی مَارَان جانا ہو تو پہلے کسی شناسا سے راستہ معلوم کریں گے۔راستے میں بھٹک نہ جائیں اس لیے راستوں کی کچھ نشانیاں بھی یاد رکھیں گے تاکہ بھٹکنے کا امکان ختم ہوجائے اور آپ خیر وعافیت سے اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔کائنات ہستی کے ہر شعبے میں یہ اصول نافذ ہے کہ اصل چیز کے ساتھ اس کی نشانی وعلامت بھی اہم تسلیم کی جاتی ہے تاکہ اصل کی شناخت وتعارف میں دشواری نہ آئے۔
عربی میں نشانی کو شعار اور انگریزی میں سِمبل (symbol) کہا جاتا ہے۔شعار کی بنیادی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:
الشعار هو عبارةٌ عن صورةٍ أو رسمةٍ بصريةٍ إيضاحيةٍ، وهو الوجه المحدد الذي يتمّ من خلاله التعرف على شخصٍ ما أو مؤسسةٍ أو شركة أو منتج محدد، أو حتّى دولة۔
"شعار(نشانی) ایک شبیہہ یا نظر آنے اور واضح کرنے والی چیز کا نام ہے۔ اور یہ وہ مخصوص چیز ہے جس کے ذریعہ کسی فرد، ادارے، کمپنی یا مخصوص سامان کی شناخت کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ملک کی بھی۔"
یعنی نشانی اصل چیزوں کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔اسی لیے دنیا کے ہر شعبے اور زندگی کے ہر حصے میں نشانیوں کا اہم رول ہوتا ہے۔جن کے سہارے دنیا اور زندگی کا قافلہ رواں دواں رہتا ہے۔نشانیوں کا استعمال مذہبی، ملکی، علاقائی اور خاندانی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں مختلف مقامات پر نشانیوں کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے:
قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ
"عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی، اور تیری طرف سے نشانی۔"
یعنی جنتی خوان کا آنا امت عیسیٰ کے لیے رضائے الہی کی نشانی بن جائے۔
اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ۔(سورہ آل عمران:49)
"میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے۔"
یعنی بے جان چیز کو زندگی دینا نبوت کی نشانی ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں کے حصول اور یقین کے لیے بعض چیزوں کو بطور نشانی ذکر فرما کر نشانی کی اہمیت کو ظاہر فرمادیا ہے۔
_______معاشرتی طور مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے مختلف نشانیاں اختیار کر رکھی ہیں۔جن کی بنا پر ان کے مذہب کی پہچان بآسانی ہوجاتی ہے۔سر پر چوٹی رکھنا،ماتھے پر تِلک لگانا اور زُنّار پہننا ہندوؤں کی نشانی مانا جاتا ہے۔سر پر پگڑی، ہاتھ میں میں کڑا پہننا سِکھوں اور گلے میں صلیب لٹکانا عیسائیوں کی نشانی وشعار مانا جاتا ہے۔ایک عام انسان بھی مذکورہ چیزوں سے ان کے مذہب کی پہچان کرلیتا ہے۔حالانکہ یہ چیزیں مذہب نہیں ہیں مگر مذہب کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہیں۔بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو براہ راست مذہب سے منقول ہوتی ہیں اور بعض نشانیاں علاقائی تقاضوں یا مقامی تہذیب کی بنا پر کسی خاص مذہب کی نشانیاں بن جاتی ہیں۔حالانکہ علاقائی نشانیاں محدود اور منقول نشانیاں وسیع معنی کو محیط ہوتی ہیں۔بطور مثال یوں سمجھ لیں کہ ظاہراً کسی مسلمان کی پہچان داڑھی/ٹوپی/عمامہ سے ہوجاتی ہے۔یہ پہچان مذہبی تعلیمات نے ہی متعین کی ہے۔اس کے علاوہ بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو اگرچہ مذہبی نوعیت کی نہ ہوں مگر تہذیبی اعتبار سے کسی خاص مذہب کی نشانی بن جاتی ہیں جیسے عربی جبہ ورومال اور برقع کا استعمال مسلمانوں کی شناخت وپہچان مانا جاتا ہے۔
مذہبی نشانیوں کی آڑ میں اسلام پر نشانہ
ان دنوں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا دور چل رہا ہے۔مختلف جہات سے ہندوانہ تہذیب کو مسلط کرنے کی جان توڑ کوششیں کی جارہی ہیں۔سنیما اور میڈیا کے توسط سے ہندوانہ شعار کو festival culture کے نام پر رائج کیا جارہا ہے۔اس مہم میں جہاں شدت پسند ٹولے سرگرم عمل ہیں، وہیں لبرل طبقہ بھی soft انداز میں کفریہ مراسم کی تخم ریزی کرنے اور اس کی پرورش میں مصروف ہے۔اسی سازش کے تحت مسلم لڑکے لڑکیوں میں کَرْوَا چَوتھ ، راکھی، دیوالی اور ہولی جیسی رسموں کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔نوجوان طبقہ بڑی تیزی کے ساتھ ان رسموں میں گرفتار ہوتا جارہا ہے۔گذشتہ کچھ وقت سے مسلم لڑکیوں میں کروا چوتھ کا وِرَت رکھنے کا رجحان بہت تیزی سے بڑھا ہے۔تنبیہ کی جائے تو مسلم لڑکیوں کا سیدھا جواب ہوتا ہے کہ شوہر کی لمبی عمر کے لیے وِرَت(ہندوانہ روزہ) رکھنا اور چاند نکلنے کے بعد چھلنی کی اوٹ سے شوہر کو دیکھ کر وِرَت کھولنے میں کیا
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
نشانیاں منزل تو نہیں ہوتیں لیکن منزل تک پہنچنے کا سب سے اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔آپ کو جامع مسجد سے بَلّی مَارَان جانا ہو تو پہلے کسی شناسا سے راستہ معلوم کریں گے۔راستے میں بھٹک نہ جائیں اس لیے راستوں کی کچھ نشانیاں بھی یاد رکھیں گے تاکہ بھٹکنے کا امکان ختم ہوجائے اور آپ خیر وعافیت سے اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔کائنات ہستی کے ہر شعبے میں یہ اصول نافذ ہے کہ اصل چیز کے ساتھ اس کی نشانی وعلامت بھی اہم تسلیم کی جاتی ہے تاکہ اصل کی شناخت وتعارف میں دشواری نہ آئے۔
عربی میں نشانی کو شعار اور انگریزی میں سِمبل (symbol) کہا جاتا ہے۔شعار کی بنیادی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:
الشعار هو عبارةٌ عن صورةٍ أو رسمةٍ بصريةٍ إيضاحيةٍ، وهو الوجه المحدد الذي يتمّ من خلاله التعرف على شخصٍ ما أو مؤسسةٍ أو شركة أو منتج محدد، أو حتّى دولة۔
"شعار(نشانی) ایک شبیہہ یا نظر آنے اور واضح کرنے والی چیز کا نام ہے۔ اور یہ وہ مخصوص چیز ہے جس کے ذریعہ کسی فرد، ادارے، کمپنی یا مخصوص سامان کی شناخت کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ملک کی بھی۔"
یعنی نشانی اصل چیزوں کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔اسی لیے دنیا کے ہر شعبے اور زندگی کے ہر حصے میں نشانیوں کا اہم رول ہوتا ہے۔جن کے سہارے دنیا اور زندگی کا قافلہ رواں دواں رہتا ہے۔نشانیوں کا استعمال مذہبی، ملکی، علاقائی اور خاندانی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں مختلف مقامات پر نشانیوں کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے:
قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ
"عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی، اور تیری طرف سے نشانی۔"
یعنی جنتی خوان کا آنا امت عیسیٰ کے لیے رضائے الہی کی نشانی بن جائے۔
اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ۔(سورہ آل عمران:49)
"میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے۔"
یعنی بے جان چیز کو زندگی دینا نبوت کی نشانی ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں کے حصول اور یقین کے لیے بعض چیزوں کو بطور نشانی ذکر فرما کر نشانی کی اہمیت کو ظاہر فرمادیا ہے۔
_______معاشرتی طور مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے مختلف نشانیاں اختیار کر رکھی ہیں۔جن کی بنا پر ان کے مذہب کی پہچان بآسانی ہوجاتی ہے۔سر پر چوٹی رکھنا،ماتھے پر تِلک لگانا اور زُنّار پہننا ہندوؤں کی نشانی مانا جاتا ہے۔سر پر پگڑی، ہاتھ میں میں کڑا پہننا سِکھوں اور گلے میں صلیب لٹکانا عیسائیوں کی نشانی وشعار مانا جاتا ہے۔ایک عام انسان بھی مذکورہ چیزوں سے ان کے مذہب کی پہچان کرلیتا ہے۔حالانکہ یہ چیزیں مذہب نہیں ہیں مگر مذہب کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہیں۔بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو براہ راست مذہب سے منقول ہوتی ہیں اور بعض نشانیاں علاقائی تقاضوں یا مقامی تہذیب کی بنا پر کسی خاص مذہب کی نشانیاں بن جاتی ہیں۔حالانکہ علاقائی نشانیاں محدود اور منقول نشانیاں وسیع معنی کو محیط ہوتی ہیں۔بطور مثال یوں سمجھ لیں کہ ظاہراً کسی مسلمان کی پہچان داڑھی/ٹوپی/عمامہ سے ہوجاتی ہے۔یہ پہچان مذہبی تعلیمات نے ہی متعین کی ہے۔اس کے علاوہ بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو اگرچہ مذہبی نوعیت کی نہ ہوں مگر تہذیبی اعتبار سے کسی خاص مذہب کی نشانی بن جاتی ہیں جیسے عربی جبہ ورومال اور برقع کا استعمال مسلمانوں کی شناخت وپہچان مانا جاتا ہے۔
مذہبی نشانیوں کی آڑ میں اسلام پر نشانہ
ان دنوں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا دور چل رہا ہے۔مختلف جہات سے ہندوانہ تہذیب کو مسلط کرنے کی جان توڑ کوششیں کی جارہی ہیں۔سنیما اور میڈیا کے توسط سے ہندوانہ شعار کو festival culture کے نام پر رائج کیا جارہا ہے۔اس مہم میں جہاں شدت پسند ٹولے سرگرم عمل ہیں، وہیں لبرل طبقہ بھی soft انداز میں کفریہ مراسم کی تخم ریزی کرنے اور اس کی پرورش میں مصروف ہے۔اسی سازش کے تحت مسلم لڑکے لڑکیوں میں کَرْوَا چَوتھ ، راکھی، دیوالی اور ہولی جیسی رسموں کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔نوجوان طبقہ بڑی تیزی کے ساتھ ان رسموں میں گرفتار ہوتا جارہا ہے۔گذشتہ کچھ وقت سے مسلم لڑکیوں میں کروا چوتھ کا وِرَت رکھنے کا رجحان بہت تیزی سے بڑھا ہے۔تنبیہ کی جائے تو مسلم لڑکیوں کا سیدھا جواب ہوتا ہے کہ شوہر کی لمبی عمر کے لیے وِرَت(ہندوانہ روزہ) رکھنا اور چاند نکلنے کے بعد چھلنی کی اوٹ سے شوہر کو دیکھ کر وِرَت کھولنے میں کیا
442ھ
19 نومبر 2020 بروز جمعرات
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3462690573848349&id=100003223204679
19 نومبر 2020 بروز جمعرات
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3462690573848349&id=100003223204679
برائی ہے؟
راکھی کی رسم یہ کہہ کر اپنائی جارہی ہے کہ یہ رسم تو بھائی بہن جیسے مقدس رشتے کی اپنائیت دکھانے کے لیے نبھائی جاتی ہے بھلا اس میں کون سی شرعی خرابی ہے؟
دیوالی کو روشنی اور ہولی کو رنگوں کی رسم کہہ کر بڑی سادگی سے پوچھتے ہیں کہ
یہ تو محض خوش طبعی اور اپنائیت کے اظہار کا موقع ہیں۔ روشنی اور رنگوں میں کون سا شرک اور کیسا کفر؟
دنیوی نشے میں چُور ان نوجوانوں کو نہایت حکمت سے یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بعض رسمیں بھلے ہی خود میں کفر وشرک نہ ہوں، لیکن بالآخر یہ رسمیں ہندو دھرم کی نشانی وشعار ہیں۔شعار غیر کو اپنانا نفسیاتی طور پر ان کی تہذیب سے مغلوب ہونا اور مستقبل میں دیگر تہذیبی نشانیوں کو ماننے کی جانب قدم بڑھانا ہے۔اس باب میں حضور سید عالم ﷺ کا طرز عمل ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ ادائے نماز کے لیے نشانی مقرر کرنے میں آپ نے یہود ونصاری کی نشانیوں کو یکسر مسترد فرما دیا:
أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ، يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ۔(صحیح بخاری رقم الحدیث 604)
"جب مسلمان مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کرکے نماز کے لیے آتے تھے۔اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نَرْسِنگا (بگل بنا لو، اس کو پھونک دیا کرو) لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے آواز لگا دیا کرے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے (اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے) فرمایا کہ بلال! اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو۔"
غور فرمائیں کہ گھنٹہ وباجے کا استعمال اپنے آپ میں کفر وشرک کا پہلو نہیں رکھتا۔ورنہ صحابہ ان کو ہرگز پیش نہ فرماتے مگر آپ ﷺ کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ جو چیز غیروں کی نشانی مانی جاتی ہے اسے اہل اسلام اختیار کریں۔ایسا کرنا خود کو ان کے مقابلے میں عاجز اور ان کا فکری غلبہ تسلیم کرنا تھا۔پھر یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ نفس پر پابندی نہ لگائی جائے تو یہ کسی ایک شعار پر نہیں رکے گا بلکہ ایک نشانی سے دوسری نشانی پر چلتے ہوئے آخری سرے تک پہنچ جائے گا۔ہندوانہ رسموں کا آخری سِرا کفر وشرک سے جاکر ملتا ہے۔ہمارے درمیان ایسے کتنے ہی افراد ہیں جنہوں نے ہولی دیوالی جیسی رسموں کو عام سی رسم سمجھ کر اختیار کیا نتیجتاً آہستہ آہستہ پوجا وآرتی بھی کرنے لگے اور اپنے دین وایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
افسوس ناک پہلو !!
ایک طرف مخالفین تہذیب اسلامی پر حملہ آور ہیں تو دوسری جانب بعض مفاد پرست خانقاہی اور مجاورین بھی دشمنوں کا آلہ کار بن کر ہندوانہ تہذیب کے برانڈ ایمبیسڈر بنے ہوئے ہیں۔ارباب حکومت کو راضی کرنے کی خاطر اولیاے کرام کی خانقاہوں میں ہولی، دیوالی کا اہتمام بڑی فراخ دلی سے کیا جارہا ہے۔یہ لوگ دنیوی شہرت کی خاطر دشمنوں کے منصوبوں کو کھاد پانی فراہم کرنے میں مددگار بنے ہوئے ہیں۔
حالانکہ بزرگان دین کی ذات اس قسم کے ہندوانہ رسم ورواج سے بالکل بری ہے۔ان حضرات کی مکمل زندگی قرآن وسنت کی آئینہ دار تھی۔نور نبوت سے فیض یافتہ یہ جماعت کسی بھی کفریہ رسم کو قبول کرنے کی متحمل ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ان کی غیرت ایمانی بھلا شرکیہ نشانیوں کو کس طرح برداشت کر سکتی تھی؟
وہ تو خود انسانوں کو کفر و شرک کی گندگی سے بچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے۔اگر وہ ان رسموں کے ماننے والے ہوتے تو دیار کفر میں دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کی ضرورت ہی کیا تھی؟
اسلام دین خالص ہے۔کسی طرح کی ملاوٹ پسند نہیں کرتا۔صوفیاے کرام تاحیات اسلامی افکار و نظریات کے ہی داعی ومبلغ رہے۔یہ ان کی تبلیغ کا ہی اثر تھا کہ سرزمین ہند پر اسلامی تہذیب وتمدن کا گلشن آباد ہوا۔بسنت منانا ہو یا ہولی دیوالی، ہندی بزرگوں کی سوانح اس طرح کی لغویات سے پاک وصاف ہیں۔کسی مذہب کے شعار کو اپنانا اور اسے بہتر جاننا اپنے ایمان کو داؤ پر لگانا ہے۔اس لیے دنیا پرست مجاورین کی کرتوت دیکھ کر بزرگان دین سے بدگمان نہ ہوں۔ایسے مجاورین اور آزاد خیالوں کا کھل کر بائکاٹ کریں تاکہ ہمارا تہذیب وتمدن کفر وشرک کی آلودگی سے محفوظ رہے۔
خوب یاد رہے!
مذہب اسلام کی کچھ حدود و قیود ہیں جو انھیں تسلیم کرے گا وہی مومن ہے۔جو لوگ خانقاہ وتصوف کے نام پر کفریہ رسموں کو پرموٹ کر رہے ہیں وہ لوگ ایک نیا دین گڑھ رہے ہیں۔ایسے دین ومشرب کو بھلے ہی کچھ بھی نام دیا جائے لیکن وہ "اسلام اور تصوف" ہرگز نہیں ہوسکتا۔
3 ربیع الثانی 1
راکھی کی رسم یہ کہہ کر اپنائی جارہی ہے کہ یہ رسم تو بھائی بہن جیسے مقدس رشتے کی اپنائیت دکھانے کے لیے نبھائی جاتی ہے بھلا اس میں کون سی شرعی خرابی ہے؟
دیوالی کو روشنی اور ہولی کو رنگوں کی رسم کہہ کر بڑی سادگی سے پوچھتے ہیں کہ
یہ تو محض خوش طبعی اور اپنائیت کے اظہار کا موقع ہیں۔ روشنی اور رنگوں میں کون سا شرک اور کیسا کفر؟
دنیوی نشے میں چُور ان نوجوانوں کو نہایت حکمت سے یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بعض رسمیں بھلے ہی خود میں کفر وشرک نہ ہوں، لیکن بالآخر یہ رسمیں ہندو دھرم کی نشانی وشعار ہیں۔شعار غیر کو اپنانا نفسیاتی طور پر ان کی تہذیب سے مغلوب ہونا اور مستقبل میں دیگر تہذیبی نشانیوں کو ماننے کی جانب قدم بڑھانا ہے۔اس باب میں حضور سید عالم ﷺ کا طرز عمل ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ ادائے نماز کے لیے نشانی مقرر کرنے میں آپ نے یہود ونصاری کی نشانیوں کو یکسر مسترد فرما دیا:
أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ، يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ۔(صحیح بخاری رقم الحدیث 604)
"جب مسلمان مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کرکے نماز کے لیے آتے تھے۔اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نَرْسِنگا (بگل بنا لو، اس کو پھونک دیا کرو) لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے آواز لگا دیا کرے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے (اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے) فرمایا کہ بلال! اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو۔"
غور فرمائیں کہ گھنٹہ وباجے کا استعمال اپنے آپ میں کفر وشرک کا پہلو نہیں رکھتا۔ورنہ صحابہ ان کو ہرگز پیش نہ فرماتے مگر آپ ﷺ کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ جو چیز غیروں کی نشانی مانی جاتی ہے اسے اہل اسلام اختیار کریں۔ایسا کرنا خود کو ان کے مقابلے میں عاجز اور ان کا فکری غلبہ تسلیم کرنا تھا۔پھر یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ نفس پر پابندی نہ لگائی جائے تو یہ کسی ایک شعار پر نہیں رکے گا بلکہ ایک نشانی سے دوسری نشانی پر چلتے ہوئے آخری سرے تک پہنچ جائے گا۔ہندوانہ رسموں کا آخری سِرا کفر وشرک سے جاکر ملتا ہے۔ہمارے درمیان ایسے کتنے ہی افراد ہیں جنہوں نے ہولی دیوالی جیسی رسموں کو عام سی رسم سمجھ کر اختیار کیا نتیجتاً آہستہ آہستہ پوجا وآرتی بھی کرنے لگے اور اپنے دین وایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
افسوس ناک پہلو !!
ایک طرف مخالفین تہذیب اسلامی پر حملہ آور ہیں تو دوسری جانب بعض مفاد پرست خانقاہی اور مجاورین بھی دشمنوں کا آلہ کار بن کر ہندوانہ تہذیب کے برانڈ ایمبیسڈر بنے ہوئے ہیں۔ارباب حکومت کو راضی کرنے کی خاطر اولیاے کرام کی خانقاہوں میں ہولی، دیوالی کا اہتمام بڑی فراخ دلی سے کیا جارہا ہے۔یہ لوگ دنیوی شہرت کی خاطر دشمنوں کے منصوبوں کو کھاد پانی فراہم کرنے میں مددگار بنے ہوئے ہیں۔
حالانکہ بزرگان دین کی ذات اس قسم کے ہندوانہ رسم ورواج سے بالکل بری ہے۔ان حضرات کی مکمل زندگی قرآن وسنت کی آئینہ دار تھی۔نور نبوت سے فیض یافتہ یہ جماعت کسی بھی کفریہ رسم کو قبول کرنے کی متحمل ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ان کی غیرت ایمانی بھلا شرکیہ نشانیوں کو کس طرح برداشت کر سکتی تھی؟
وہ تو خود انسانوں کو کفر و شرک کی گندگی سے بچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے۔اگر وہ ان رسموں کے ماننے والے ہوتے تو دیار کفر میں دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کی ضرورت ہی کیا تھی؟
اسلام دین خالص ہے۔کسی طرح کی ملاوٹ پسند نہیں کرتا۔صوفیاے کرام تاحیات اسلامی افکار و نظریات کے ہی داعی ومبلغ رہے۔یہ ان کی تبلیغ کا ہی اثر تھا کہ سرزمین ہند پر اسلامی تہذیب وتمدن کا گلشن آباد ہوا۔بسنت منانا ہو یا ہولی دیوالی، ہندی بزرگوں کی سوانح اس طرح کی لغویات سے پاک وصاف ہیں۔کسی مذہب کے شعار کو اپنانا اور اسے بہتر جاننا اپنے ایمان کو داؤ پر لگانا ہے۔اس لیے دنیا پرست مجاورین کی کرتوت دیکھ کر بزرگان دین سے بدگمان نہ ہوں۔ایسے مجاورین اور آزاد خیالوں کا کھل کر بائکاٹ کریں تاکہ ہمارا تہذیب وتمدن کفر وشرک کی آلودگی سے محفوظ رہے۔
خوب یاد رہے!
مذہب اسلام کی کچھ حدود و قیود ہیں جو انھیں تسلیم کرے گا وہی مومن ہے۔جو لوگ خانقاہ وتصوف کے نام پر کفریہ رسموں کو پرموٹ کر رہے ہیں وہ لوگ ایک نیا دین گڑھ رہے ہیں۔ایسے دین ومشرب کو بھلے ہی کچھ بھی نام دیا جائے لیکن وہ "اسلام اور تصوف" ہرگز نہیں ہوسکتا۔
3 ربیع الثانی 1