🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
،متکلم اورتکلم میں احتمال بلادلیل بھی باقی نہ رہے۔جس میں احتمال بلا دلیل بھی نہ ہو،اسی کو قطعی بالمعنی الاخص کہا جاتا ہے۔

کفرکلامی کے فتویٰ کوجانچنے کے لیے دیگر متکلمین بھی انہی امور پر غور کرتے ہیں،جن امورکی تحقیق مفتی اول کو کرنی ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ مفتی اول کی تحقیق میں اگر کوئی شرط مفقود ہوگی تو وہ کفر کا فتویٰ نہیں دے گا اور فتویٰ جاری ہونے کے بعددیگرعلماکو کسی شرط کے وجود میں کوئی شک ہوا تو مفتی اول سے رجوع کرنا ہے۔اگر وہ نہ ہوتو دیگر اہل علم سے رجوع کرے جو حقائق پر مطلع ہوں۔

دیگر علما کو اگر تحقیق سے یہ معلوم ہوگیا کہ مفتی اول نے تحقیق میں خطا کی ہے،تب اسے انکار کا حق ہوگا،کیوں کہ تحقیق اول میں خطا کے سبب تکفیر کلامی کا وہ مسئلہ ضروریات دین میں شامل ہی نہ ہوسکا،پھراس میں اختلاف کو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ضروری دینی میں اختلاف ہوا ہے،جیسے حضرت شیخ اکبر قدس سرہ العزیز کی تکفیر میں احتمال فی التکلم موجود ہے،کیوں کہ کتاب کے مطبوعہ نسخہ میں تحریف کا امکان ہے۔

ہاں،اگر مفتی اول کا فتویٰ صحیح تھا تو تکفیر کلامی کا وہ مسئلہ ضروریات دین میں شامل ہوگیا۔اب بعد کے کسی مفتی کواپنی تحقیق کی بنیاد پر اختلاف کا حق حاصل نہیں،کیوں کہ ضروری دینی میں اجتہاد کے ذریعہ نئی راہ اختیار کرنے والا مر تدہے۔

کفرکلامی میں ساری محتمل جہات قطعی بالمعنی الاخص ہوجاتی ہیں۔قطعی بالمعنی الاخص میں عوام وخواص کسی کا اختلاف نہیں ہوتا۔اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ قطعی بالمعنی الاخص کااحتمال بالدلیل اوراحتمال بلادلیل سے پاک ہونا عوام کے لیے بھی واضح ہوتا ہے۔

جب قطعی بالمعنی الاخص کی قطعیت اس قد ر روشن ہوتی ہے تو پھر کفرکلامی کی صحت وعدم صحت بھی سب کے لیے یقینا قابل فہم ہو گی۔ماننا اور نہ ماننا الگ بات ہے۔فرقہ سوفسطائیہ اور فرقہ لاادریہ موجود چیزوں کابھی انکارکرتے ہیں۔ایسے انکار کا کوئی اعتبار نہیں۔ اہل علم کا قطعی بالمعنی الاعم میں بھی اختلاف نہیں ہوتا اور قطعی بالمعنی الاخص میں توعوام وخواص کسی کا اختلاف نہیں ہوتا۔

طارق انور مصباحی
رکن :روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:12:نومبر 2020

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/807985843105269/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟
#قسط_سوم

جب مفتی اول نے تحقیق وتنقیح کے بعدکفر کلامی کا صحیح فتویٰ جاری فرمادیا تومجر م کوکافر کلامی ماننا ضروریات دین کا ایک مسئلہ ہوگیا۔

اب جو حکم ضروریات دین کا ہے،وہی حکم اس مسئلے کا ہوگا،جیسے ضروریات دین کے علم قطعی کے بعد اس کی تصدیق فرض قطعی اور اس کا انکار کفر کلامی ہے۔اسی طر ح علم قطعی کے بعد اس کفر کلامی کی تصدیق فرض قطعی اوراس کا انکار کفرکلامی ہوگا۔

ضروریات دین کا قطعی علم عالم کو ہویاجاہل کو،دونوں کے لیے اس کی تصدیق فرض قطعی ہے۔اسی طرح کفر کلامی کا علم قطعی عالم کوہویا جاہل کو۔علم قطعی کے بعد دونوں کواس کی تصدیق فرض قطعی ہے۔

فرقہ بجنوریہ قادیانی کو مرتد مانتا ہے،اور اشخاص اربعہ کے کفر کے انکار کے لیے حیلے تلاش کر تا ہے۔ بعض لو گ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ اشخاص اربعہ کوکافرماننا ضروری دینی کیسے ہوگیا۔ان لوگوں سے سوال ہے کہ قادیانی کو کافر ماننا ضروری دینی ماننا کب سے ثابت ہوا؟ قادیانی نہ عہد رسالت میں تھا،نہ ہی قرآن وحدیث یا اجماع متصل میں اس کی تکفیر کا ذکر ہے؟ قادیانی کے کافر ہونے کے لیے جو قانون ہوگا،وہی قانون اشخاص اربعہ کے لیے ہوگا۔

اگر قادیانی کو کافر ماننا ضروریات دین میں سے ہے تو اشخاص اربعہ کو کافرماننا بھی ضروریات دین میں سے ہوگا۔

جو سوالات اشخاص اربعہ کی تکفیر پر اٹھائے جاتے ہیں،وہی تمام سوالات قادیانی کی تکفیر پر ہوں گے،لیکن فرقہ بجنوریہ قادیانی کی تکفیر کوضروری دینی مانتا ہے،اور اشخاص اربعہ کی تکفیرکوغلط قرار دیتا ہے۔

علم الٰہی قدیم ہے۔علم خداوندی میں ضروری دینی اورغیرضروری دینی کا ثبوت ازل سے ہے۔ بندوں کے لیے اس کا ثبوت وقت کے ساتھ مقید ہے۔

جب ہمارے رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام معراج میں تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے پچا س نمازیں فرض فرمائیں تو پچاس نمازوں کی فرضیت ضروری دینی ہوگئی،پھر آخرکار پانچ نماز باقی رہی۔

جب پہلی بار دس نماز کی تخفیف ہوئی تو صرف چالیس کی فرضیت ضروری دینی رہی،پھر دوسری بار میں تیس کی، تیسری بار میں بیس کی،چوتھی بار میں دس کی اور پانچویں بار میں پانچ کی فرضیت ضروری دینی رہی،اورچوں کہ چھٹی بار تخفیف کی طلب کے واسطے بارگاہ الٰہی میں واپسی نہ ہوئی توان پانچ کی فرضیت مستحکم ہوگئی۔ایک ہی شب میں کبھی پچاس نمازوں کی فرضیت ضروری دینی قرارپائی،پھر کچھ وقت بعد چالیس کی فرضیت،پھر تیس کی فرضیت،پھربیس کی فرضیت،پھر دس کی فرضیت،پھر پانچ کی فرضیت ضروری دینی قرار پائی۔
نماز کی فرضیت کا ثبوت بندوں کے لیے کسی وقت میں ہورہا ہے۔

حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علم میں کبھی پچاس کی فرضیت تھی،کبھی چالیس کی،کبھی تیس،کبھی بیس اور کبھی دس کی،پھر انجام کار پانچ کی فرضیت باقی رہی۔جب پچاس کی فرضیت علم نبوی میں تھی تواس وقت پینتالیس نمازوں کوالگ کر کے محض پانچ کی فرضیت کاعلم نہیں،کیوں کہ محض پانچ فرض ہی نہیں تو محض پانچ کی فرضیت کا علم کیسے ہوگا۔یہ توخلاف حقیقت بات ہوگی۔

اگرحضوراقدس عالم ما کان ومایکون صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوعطائے خداوندی سے علم غیب کے طورپر یہ معلوم بھی ہوکہ انجام کار صرف پانچ کی فرضیت باقی رہے گی تو جب تک کچھ تخفیف نہیں ہوئی،اس وقت تک پچاس کی فرضیت کا اعتقاد رکھنا ہے اور پچاس کی فرضیت اس وقت ضروری دینی ہے۔

الحاصل ایک وقت آیاکہ محض پانچ کی فرضیت ثابت رہی اورمحض پانچ کی فرضیت کا علم جس وقت حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہوا، اسی وقت سے باقی کوالگ کرکے محض پانچ کی فرضیت ضروری دینی باقی رہی،پھر جس صحابی کو جس وقت زبان نبوی سے یا خبرمتواتر کے ذریعہ نماز کی فرضیت کا علم ہوا،اسی وقت نمازکی فرضیت ان صحابی کے حق میں ضروری دینی ہوگئی۔

جس وقت روزہ کی فرضیت کی آیت نازل ہوئی،اسی وقت سے روزہ کی فرضیت ضروری دینی ہوگئی،پھر جس صحابی کو جس وقت زبان نبوی سے یا خبرمتواتر سے روزہ کی فرضیت کا علم ہوا،اسی وقت روزہ کی فرضیت ان صحابی کے حق میں ضروری دینی ہوگئی۔

الحاصل بندوں کے حق میں ضروری دینی کے ثبوت مطلق کا تعلق بھی وقت سے ہے اور خاص کر فلاں مومن کے حق میں کسی ضروری دینی کی ضرورت کا ثبوت بھی علم یقینی کے وقت سے مقید ہے،یعنی جب اس مومن کو اس امر کا یقینی علم ہوگا،اس وقت وہ اس کے حق میں ضروری دینی ہو گا۔

علم الٰہی میں کوئی امر وقت سے مقید نہیں،بلکہ علم الٰہی قدیم ہے۔قدیم کا وقت سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ علم الٰہی میں کسی ضروری دینی کا ضروری دینی ہوناوقت سے مقید نہیں ہوگا۔

بندوں کے حق میں ضروری دینی کا ثبوت وقت سے مقید ہے،مثلاً جب روزہ کی فرضیت کی آیت نازل ہوئی،تو روزہ کی فرضیت ضروریات دین میں سے ہو گئی۔اب ہرخاص مومن کے حق میں اس کا ضروری دینی ہونا اس وقت ثابت ہوگا،جب اس کو یقینی طورپر اس کا علم ہوجائے۔اگراس کا علم ہے،لیکن ظنی علم ہے تو ابھی یہ امر اس کے حق میں ضروری دینی نہیں۔جب یقینی علم ہوگا,تب وہ اس کے حق میں ض
روری دینی ہوگا۔

اشخاص اربعہ کا کافر کلامی ہونا جس وقت مفتی کی نظر میں صحیح طورپرثابت ہوگیا،اسی وقت مفتی کے لیے اشخاص اربعہ کی تکفیر ضروری دینی ہوگئی۔

اب دوسروں کے حق میں تکفیر اس وقت ضروری دینی ہوگی،جب ان کوقطعی طورپر اس کا علم ہوگا۔

یہ بھی واضح رہے کہ ضروری دینی کا ثبوت الگ ہے،اور کسی قاعدہ کلیہ ضروریہ کے موضوع کے افراد کا تعین الگ ہے۔

تکفیر میں کسی جدید ضروری دینی کا اثبات نہیں ہوتا ہے،بلکہ ضروری دینی کے موضوع کے افراد وجزئیات کا تعین ہوتاہے۔

ہرگستاخ رسول کافر ہے۔ یہ قاعدہ کلیہ ضروریات دین میں سے ہے۔ جب مفتی کی نظر میں تحقیق کامل کے بعد زیدکا گستاخ رسول ہونا قطعی بالمعنی الاخص ہوجائے اورجانب مخالف کا احتمال بعید بھی نہ ہوتو زیداس ضروری دینی قاعدہ کلیہ کے موضوع کاایک فردہوگیا اورجب حکم سے کوئی مانع نہ ہوتو اس قاعدہ کلیہ کے موضوع کے لیے جوحکم ثابت ہے،وہ زید کے لیے ثابت ہوگیا اورزید کا کافر ہونا ضروریات دین میں سے ہوگیا۔

اسی طرح ”ہرمنکر ختم نبوت کافر ہے“۔یہ بھی قاعدہ کلیہ اور ضروریات دین سے ہے۔

خالدکامنکرختم نبوت ہونا قطعی بالمعنی الاخص طورپر ثابت ہوگیا اور جب حکم سے کوئی مانع نہ ہوتو اس قاعدہ کلیہ کے موضوع کا جوحکم ہے،وہ حکم خالد کے لیے ثابت ہوگا۔اشخاص اربعہ کی کفری عبارتیں کفری معنی میں متعین اور مفسر ہیں۔

ان عبارتوں سے متعلق دیوبندیوں کی تاویل،تاویل باطل ہے۔ ماقبل کے متعددمضامین میں اس کی وضاحت رقم کردی گئی ہے۔

اعتقادیات میں اجتہاد کاحکم
اعتقادیات اگرضروریات دین میں سے ہیں توان میں اجتہاد کے ذریعہ نئی راہ اختیار کرنے والا کافر ہوگا، اور وہ اعتقادیات اگر ضروریات اہل سنت میں سے ہے تو اجتہاد کے ذریعہ نئی راہ اختیار کرنے والا گمراہ قرار پائے گا۔

اس امر میں مجتہد وغیر مجتہد اورعالم وجاہل کا کوئی فرق نہیں۔کافر کلامی کو کافرکلامی ماننا بھی ضروریات دین میں سے ہے۔اب ثابت شدہ کفر کلامی میں اپنی تحقیق کے ذریعہ نئی راہ اختیار کرنے والایقینا مرتد ہے۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ ہر ایک مفتی کوتحقیق کرنا ہے اور اپنی تحقیق پر عمل کر نا ہے،وہ کوئی صریح جزئیہ پیش کریں۔ہمارے دلائل درج ذیل ہیں۔

(۱)قال التفتازانی:(لان المخطئ فی الاصول والعقائد یعاقب،بل یُضَلَّلُ اَو یُکَفَّرُ-لان الحق فیہا واحد اجماعًا-والمطلوب ہو الیقین الحاصل بالادلۃ القطعیۃ-اذ لایعقل حدوث العالم وقدمہ وجواز رویۃ الصانع وعدمہ-فالمخطئ فیہا مخطئ ابتداءً وانتہاءً) (التلویح جلددوم ص121)

(۲)قال الملااحمد جیون:((وہذا الاختلاف فی النقلیات دون العقلیات)ای فی الاحکام الفقہیۃ دون العقائد الدینیۃ-فان المخطئ فیہا کافرکالیہود والنصارٰی اومُضَلَّلٌ کالروافض والخوارج والمعتزلۃ ونحوہم) (نورالانوارص247)

توضیح:مذکورہ بالاعبارت میں عقلیات سے مراد اعتقادیات ہیں۔اعتقادیات کوعقلیات کہا جاتا ہے۔ان میں اجتہاد جائز نہیں۔

طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:08:نومبر2020
٭٭٭٭٭

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/807986446438542/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟
#قسط_دوم

قسط اول میں تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا گیا کہ مسئلہ تکفیر میں عوام الناس کو تحقیق کی اجازت نہیں اور کفر کلامی کے مسئلہ میں غیر متکلم فقہا کو تحقیق کی اجازت نہیں۔دوسری بات یہ کہ جب ایک متکلم نے کفر کلامی کا صحیح فتویٰ جاری کیا تو دیگر متکلمین کو تحقیق کی اجازت حاصل ہے،لیکن تحقیق فرض نہیں۔ہاں، فتویٰ صحیح ہونے کی صورت میں ہر متکلم،ہرفقیہ اورہر عام مومن پر اس فتویٰ کی تصدیق فرض ہے۔

تحقیق اس متکلم ومفتی پرفرض ہے جو کفر کا فتویٰ جاری کرے۔جب کفر کا صحیح فتویٰ جاری ہوگیا تو اب وہ مسئلہ مثلاً زید کا کافر ہوناباب اعتقادیات کا ایک مسئلہ ہوگیا۔

ان شاء اللہ تعالیٰ باب اعتقادیات کے تحقیقی اور تقلیدی ہونے کا مفہوم لکھا جائے گا۔مسئلہ تکفیر کے تحقیقی ہونے کا مفہوم درج ذیل ہے۔

مسئلہ تکفیر کے تحقیقی ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ جو عالم ومفتی فتویٰ کفرجاری کرے،وہ شرعی اصول وقوانین کو موجودہ کفریہ قول وفعل پرمنطبق کر ے،پھر اگر اس قسم کی جزئیات یا اس کے نظائر موجود ہیں توان پرغور وفکرکرے، جہات محتملہ کی تحقیق کرے کہ وہ یقینی درجہ میں ہیں یا محض ظنی ہیں؟ تمام شرائط کی تحقیق کے بعدفتویٰ کفر جاری کرے۔

غیراہل کوتحقیق کی اجازت نہیں ہے،بلکہ علمائے محققین کے فیصلے کوتسلیم کرنا اسے لازم ہے۔

خلیل بجنوری نے مسئلہ تکفیرکے تحقیقی ہونے کی غلط تشریح کی،اور یہ بتایا کہ ہرایک کو ذاتی تحقیق کی بنا پر کسی کو کافر ماننا ہے۔فرقہ بجنوریہ اس سوال کا جواب دے کہ اگر مسئلہ تکفیرمیں ہرایک پر تحقیق واستدلال فرض ہے تو عہد صدیقی کے مدعیان نبوت کو بلا تحقیق محض تقلیدی طورپر علمائے سلف وخلف مرتد کیسے مانتے ہیں؟

کفر کلامی کے صحیح فتویٰ میں اختلاف کی اجازت نہیں۔

اگر کسی پر کفر کلامی کا صحیح فتویٰ جاری ہوجائے تو عالم وغیر عالم کسی کو بھی اختلاف کی اجازت نہیں۔کافر کلامی کو کافر ماننا ضروریات دین میں سے ہے اور ضروریات دین میں اختلاف،انکار یا توقف کی اجازت نہیں۔

مندرجہ ذیل عبارتوں میں عالم وغیر عالم کی تفریق کے بغیر یہ حکم بیان کیا گیا ہے کہ کافر کلامی کے کفر کا جوانکار کرے،وہ کافر ہے۔

ہاں،اگر کفر کلامی کا فتویٰ ہی غلط تھا تووہاں کفر کلامی میں اختلاف نہ ہوگا،بلکہ غلط فتویٰ میں اختلاف ہوگا۔کوئی فرد کافر کلامی اسی وقت قرار پائے گا،جب کفر کلامی کا صحیح حکم اس پر وارد ہو،ورنہ وہ کافر کلامی نہیں۔

کافرکلامی کے کفرکا انکار اوراس میں شک کرنے والابھی کافر کلامی ہے، پھر جو اس منکرکو کافر نہ مانے،وہ بھی کافر کلامی ہوگا۔کافر کلامی کوکافر ماننا ضروریات دین سے ہے۔ جس کسی نے کافر کلامی کومومن بتایا،اس نےضروری دینی کے انکار کو ایمان بتایا۔ضروری دینی کی تصدیق ایمان ہے،نہ کہ انکار۔اس سے متعلق علمائے اسلام کی عبارات درج ذیل ہیں۔

قال القاضی بعد ذکر الاقوال الکفریۃ:(فَلَا شَکَّ فی کفر ہؤلاء الطوائف کلہا قطعًا اجماعًا وَسَمعًا- کذلک وقع الاجماع علٰی تکفیر کل مَن دَافَعَ نَصَّ الکتاب اَو خصَّ حدیثًا مجمعًا علٰی نقلہ مقطوعًا بہ مجمعًا علٰی حملہ علٰی ظاہرہ کتکفیر الخوارج بابطال الرجم-

ولہٰذا نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل اَو وَقَفَ فیہم او شَکَّ اَو صَحَّحَ مَذہَبَہ وان اظہر مع ذلک الاسلام واعتقدہ-واعتقد ابطال کل مذہب سواہ فہو کافرٌ باظہارہ مَا اَظہَرَ من خلاف ذلک)

(الشفاء جلددوم ص286-دارالکتب العلمیہ بیروت)

قال الخفاجی:((قطعا)ای جزما من غیر تردد فیہ(اجماعا)ای بالاجماع(وسمعًا)من اللہ ورسولہ وکتابہ وسنتہ)
(نسیم الریاض جلد ششم ص 358-دارالکتب العلمیہ بیروت)

قال القاری:((قطعا)ای بلاشبہۃ(اجماعا)بلا مخالفۃ(وسمعا)ای وسماعا من الکتاب والسنۃ مایدل علی کفرہم بلامریۃ)
(شرح الشفاء للقاری جلد دوم ص520-دارالکتب العلمیہ بیروت)

توضیح:مذکورہ بالا اقتباسات سے واضح ہوگیا کہ ضروریات دین کے منکر کا کافر ہونا قرآن وحدیث اور اجماع متصل سے ثابت ہے۔ تکفیرقطعی کے شرائط واحکام قیاس واجتہادسے ثابت نہیں ہیں۔قطعی کا ثبوت دلیل قطعی سے ہوتا ہے۔ اجتہاد سے ثابت ہونے والاامر ظنی ہوتا ہے۔

قال القاضی عیاض:(وقال نحو ہٰذا القول الجاحظ وثُمَامَۃُ فی ان کثیرًا من العامۃ والنساء والبُلہ وَمُقَلَّدَۃِ النَّصَارٰی والیہود وغیرہم لَا حُجَّۃَ لِلّٰہ علیہم اِذ لَم تَکُن لہم طباع یمکن معہا الاستدلال…… ……
وقائل ہٰذا کلہ کافرٌ بالاجماع علٰی کُفرِمَن لَم یُکَفِّر اَحَدًا من النصارٰی والیہود وکل من فارق دین المسلمین اَو وَقَفَ فی تکفیرہم او شَکَّ- قال القاضی ابو بکر: لان التوقیفَ والاجماعَ اِتَّفَقَا عَلٰی کُفرِہم-فمن وَقَفَ فی ذلک فَقَد کَذَّبَ النَّصَّ والتوقیفَ،اَو شَکَّ فیہ وَالتَّکذِیبُ اَوِ الشَّکُّ فیہ لا یقع الامن من کافر)

(کتاب الشفاء جلددوم ص281)

قال القاری:((قال القاضی ابوبکر)الباقلانی(لان التوقیف)ای بالسماع من اللّٰہ ورسولہ (والاجماع ا
د ومعاونت کرتا رہوں گا،جب تک کہ اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)کی جانب سے توفیق وعطا جاری رہے۔

کافر کلامی کوکافرکلامی ماننا ضروری دینی کیسے؟

(۱)کافر کلامی کوکافر کلامی ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔یہ اجماع متصل اورقرآن وسنت سے ثابت ہے۔

(۲)متکلمین صرف ضروری دینی کے انکار پر حکم کفر عائد کرتے ہیں اور متکلمین کافر کلامی کے کفر کے انکار پر حکم کفر عائد کرتے ہیں۔ اس کا صریح مفہوم یہ ہوا کہ کافر کلامی کوکافرکلامی ماننا ضروریات دین میں سے ہے،ورنہ متکلمین منکر تکفیرپر حکم کفر عائد نہیں فرماتے۔فتویٰ کفر کلامی میں ”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر“کا یہی مفہوم ہے۔

طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:06:نومبر2020

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/807986979771822/
تفقا علٰی کفرہم-فمن وقف فی ذلک فقد کذب النص)ای نص الکتاب (والتوقیف)بہ من السنۃ علی الصواب(او شک فیہ-والتکذیب او الشک فیہ)ای فی کفر ہم(لایقع)کل منہما(الا من کافر))

(شرح الشفا للقاری جلددوم ص514-دارالکتب العلمیہ بیروت)

توضیح:تو قیف سے قرآن وحدیث میں کسی امر کا وراد ہونا مراد ہوتا ہے،جیسے کہا جاتا ہے کہ اسمائے الٰہیہ توقیفی ہیں،یعنی قرآن وحدیث میں جواسمائے طیبہ وارد ہیں،انہیں کا اطلاق ذات باری تعالیٰ پر ہوگا۔

قاضی ابو بکر باقلانی کی عبارت میں توقیف سے یہی مفہوم مراد ہے،یعنی قرآن وحدیث میں کسی امر کا مذکور ہونا۔ضروریات دین میں اجماع سے اجماع متصل مراد ہوتا ہے۔ اسی طرح انکار ضروریات کے باب میں بھی اجماع سے اجماع متصل مراد ہوتا ہے۔قاضی باقلانی کی عبارت اور ماقبل کی عبارت میں اجماع سے اجماع متصل مراد ہے،یعنی ایسے لوگوں کا کافر ہونا قرآن وحدیث سے بھی ثابت ہے اور اجماع متصل سے بھی ثابت ہے۔

قال الخفاجی:((ولہذا)ای للقول بکفر من خالف ظاہر النصوص والمجمع علیہ(نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الاسلام)ای اتخذہ دینا(من)اہل(الملل)جمع ملۃ وہی الدین وبینہما فرق بحسب المفہوم(او وقف فیہم)ای توقف وتردد فی تکفیرہم(اوشک)فی کفرہم(اوصحح مذہبہم)ای اعتقد صحتہ کما تقدم عن بعضہم ان الایمان انما ہو عدم جحد وحدانیۃ اللّٰہ وقد تقدم بیانہ وابطالہ-والفرق بین التوقف والشک ان التوقف ان لا یمیل الی شئ من الطرفین-والشک مع التر جیح للمخالف(وان اظہر الاسلام)باعتقادہ والتزام احکامہ(واعتقدہ)بقلبہ(واعتقد ابطال کل مذہب سواہ)ای غیر الاسلام بان یقول انہ منسوخ باطل فی الواقع غیر مقبول عند اللّٰہ ولکن یزعم ان من اقر بالالوہیۃ والتوحید غیر کافر،کما تقدم من مذہب الجاحظ)

(نسیم الریاض جلدششم ص359)

قال الخفاجی:((وقائل ہذا کلہ کافر بالاجماع علی کفر)متعلق بالاجماع (من لم یکفر احدا من النصاری والیہود) کما ذکرہ الجاحظ(و)لم یکفر(کل من فارق دین المسلمین)کارباب الملل من المجوس وغیرہم ومفارقتہ مخالفتہ لہم قولاوفعلا(او وقف فی تکفیرہم)ای احجم عنہ وترکہ نفیا واثباتا(او شک)فیہ فیجوز وجودہ وعدمہ وفی نسخۃ: توقف،وقیل:الوقوف والتوقف کالتردد بحیث لا یرجح احد الجانبین و الشک ان یجوزہ تجویزا مرجوحا وکلاہما کفر لانہ یقتضی التردد فی دین الاسلام وہو کفر بلا شک)

(نسیم الریاض جلدششم ص342-دار الکتب العلمیہ بیروت)

قال الشیخ مرعی بن یوسف الحنبلی:(من اعتقد قدم العالم اوحدوث الصانع اوسخربوعد اللّٰہ او وعیدہ-اَو لَم یُکَفِّرمَن دَانَ بِغَیرِالاِسلَامِ اَو شَکَّ فِی کُفرِہٖ-اوقال قَولًا یتوصل بہ الٰی تضلیل الامۃ-او کَفَّرَ الصَّحَابَۃَ فَہُوَ کافر)

(غایۃ المنتہی جلدسوم ص 338 -المؤسسۃ السعدیہ ریاض)

توضیح:مذکورہ بالا عبارتوں سے واضح ہوگیا کہ کافر کلامی کو مومن ماننے والا کافر ہے۔ ان عبارتوں میں یہ تفریق نہیں کہ عالم ومفتی اپنی تحقیق کی روشنی میں کسی کافر کلامی کے کفر کا انکار کرے اور اس کومومن مانے تو اس کے لیے یہ جائز ہے اور غیر عالم ومفتی ایسے کافر کومومن مانے توکافر ہوجائے گا،بلکہ یہ حکم مطلق ہے کہ جو کافر کلامی کو مومن مانے، یا اس کے کفر میں شک کرے،وہ کافر ہے۔عالم وغیر عالم کا کوئی فرق نہیں۔

کافر کلامی کے کفر میں شک کرنا بھی کفر کلامی

قال النووی والہیتمی:(وَاَنَّ مَن لَم یُکَفِّر مَن دَانَ بِغَیرِ الاِسلَامِ کَالنَّصَارٰی اَو شَکَّ فِی تَکفِیرِہِم اَو صَحَّحَ مَذہَبَہُم فَہُو کَافِرٌ وَاِن اَظہَرَ مَعَ ذٰلِکَ الاِسلَامَ وَاِعتَقَدَہ)

(روضۃ الطالبین جلد ہفتم ص290-الاعلام بقواطع الاسلام ص378)

توضیح:کافرکلامی کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہے۔ کافرکلامی کوکافرمانناضروریات دین میں سے ہے اور جب کسی کو ضروری دینی کا قطعی علم ہوجائے تو اسے ماننا فرض قطعی ہے،پس جب عالم ومفتی کو کسی کے کفر کلامی کا علم قطعی ہوگیا تو اس پر اس کافرکلامی کوکافر ماننا فرض قطعی ہے،نہ کہ ہرمتکلم پر تحقیق فرض ہے۔

مفتی اول پر تحقیق فرض ہے،اور جب فتویٰ صحیح ہے تو دوسروں پر تصدیق فرض ہے۔

اگر کسی کو کوئی شبہہ ہوتو مفتی اول سے دریافت کرے،جیسے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مانعین زکات سے جہاد سے متعلق حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا تھا۔مفتی اول نہ ہوعلمائے معتمدین سے دریافت کرے۔یہ کہاں لکھاہے کہ ہر متکلم پر فتویٰ کفر کی تحقیق فرض ہے؟

فرقہ بجنوریہ سے سوال ہے کہ آج اگر کسی متکلم کومسیلمہ کذاب کے کفر کی تحقیق میں کلام،متکلم یا تکلم میں احتمال پیدا ہوگیا تو وہ مسیلمہ کذاب کو مومن مانے گا یاکافر؟

واضح رہے کہ کفر کلامی کے صحیح فتویٰ میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔ کفر فقہی قطعی التزامی میں فقہا ومتکلمین کا لفظی اختلاف ہوتا ہے،اور کفر فقہی لزومی ظنی میں فقہا کابھی باہمی اختلاف ہوتا ہے۔تفصیل ”البرکات“میں ہے۔

فرقہ بجنوریہ کو کفر فقہی اور کفر کلامی کی تقسیم پر بھی اعتراض ہے۔ان شاء اللہ تعالیٰ اہل حق کی تائی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟
#قسط_اول

خلیل بجنوری کے بعد فرقہ بجنوریہ اس مدعا کو بڑے زور وشور سے اٹھا رہا ہے کہ مسئلہ تکفیر تقلیدی نہیں تحقیقی ہے تو انہیں یہ بھی واضح کرنا چاہئے کہ یہ کس کے لیے تحقیقی ہے اور کس کے واسطے تقلیدی؟

نیز تحقیقی ہونے کا مطلب کیا ہے؟
مسئلہ تکفیر ہرایک کے واسطے تحقیقی نہیں ہوسکتا۔

عوام الناس کو مسئلہ تکفیر میں تحقیق کی اجازت نہیں،بلکہ عوام مسلمین کو کفرکلامی وکفرفقہی دونوں میں فتویٰ کفرکی تصدیق لازم ہے،کیوں کہ شرعی حکم مانناعام وخاص ہرایک کو لازم ہے۔

اسی طرح اگر کفر کلامی کامسئلہ ہے تو غیرمتکلم فقہا کو متکلمین کا اتباع کرنا ہے اور اس فتویٰ کی تصدیق کرنی ہے۔ فقیہ اگرمتکلم نہ ہوتوان کو کفرکلامی کے باب میں تحقیق کاحکم نہیں،بلکہ تصدیق کا حکم ہے۔

اگر کسی متکلم نے کفرکلامی کا صحیح فتویٰ دیا ہے تو دیگر متکلمین پربھی تصدیق فرض ہے،ورنہ کافر کو مومن قرار دینا لازم آئے گا۔اب سوال صرف یہ رہا کہ دیگر متکلمین کو تصدیق کے ساتھ تحقیق بھی فرض ہے یانہیں؟

جواب یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد خلافت کے مدعیان نبوت کو مرتد قرار دیا اور ان کے متبعین کو بھی مرتد قرار دیااور ان لوگوں سے جنگ فرمائی۔یہ کفر کلامی کا فتویٰ تھا۔عہد صدیقی سے آج تک تمام فقہا ومتکلمین وجملہ مومنین ان مدعیان نبوت کو(باستثنائے تائبین) مرتد مانتے ہیں، لیکن کتنے متکلمین نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فتویٰ کفر کی تحقیق کی ہے؟عہد حاضر کے ہی متکلمین سے دریافت کرلیں۔

اگر متکلمین بلاتحقیق محض ان مدعیان نبوت کی تکفیر کی روایت کے سبب ان کو کافر مانتے ہیں توبلاتحقیق ان متکلمین نے ان مرتدین کومرتد کیسے مان لیا؟

پس علما ئے اسلام کے اعتقادوعمل سے ظاہر ہوگیا کہ ہرایک پر تحقیق فرض نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ ان مدعیان نبوت کے جھوٹے دعوے تواتر کے ساتھ منقول ہوکرہم تک آئے یا نہیں؟ اگر وہ دعوے تواتر کے ساتھ منقول ہوکر آئے ہیں تو وہ کن کتابوں میں منقول ہیں؟ان کے کلام میں احتمال بالدلیل یا بلا دلیل ہے یانہیں؟قائلین یعنی مدعیان نبوت کی طرف ان اقوال کی نسبت متواتر ہے یانہیں؟متکلم نے وہ بات ہوش وحواس میں قصداًکہی تھی یانہیں؟یعنی کلام،متکلم وتکلم تینوں جہات سے احتمال بلا دلیل بھی معدوم ہے یانہیں؟

فرقہ بجنوریہ کے پرجوش مبلغین ان سب سوالوں کے
جواب لکھیں،کیوں کہ کفرکلامی کی تحقیق کے لیے مذکورہ بالا امور کی ضرورت ہے۔ اگر ان کے جھوٹے دعوے تواتر کے ساتھ منقول نہ ہوسکے،صرف ان مدعیان نبوت سے متعلق حکم کفر تواتر کے ساتھ منقول ہواہے توپھر ان کے کفر کلامی کی تحقیق کیسے ہوگی؟

تحقیق کے وقت دیکھنا ہوگا کہ کفریہ کلام میں کوئی احتمال ہے یانہیں؟اسی طرح اس کلام کی نسبت قائل کی طرف یقینی ہے یانہیں؟اور قائل نے ہوش وحواس میں بلاجبر واکراہ اپنے قصد وارادہ ورضامندی سے وہ کلام کہا یا نہیں؟بعد میں توبہ ورجوع کیا یا نہیں؟ان تما م امور کی تحقیق ہوتی ہے۔جب ان مدعیان نبوت کا کفریہ کلام ہی منقول نہیں توتحقیق کیسے ہوگی؟

دراصل یہ لوگ تحقیقی ہونے کا غلط مفہوم بتاتے ہیں،اوریہ بھی غلط ہے کہ مسئلہ تکفیر ہرایک کے لیے تحقیقی ہے۔

بجنوری مبلغین مسئلہ تکفیرکے تحقیقی ہونے کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ کسی مفتی نے کسی کو کافر قرار دیا تو اس بارے میں ہرایک مفتی کو اپنی تحقیق کی روشنی میں اختلاف کا حق حاصل ہے،یعنی تحقیق کا مطلب یہ ہے کہ ہرایک کو اختلاف کا حق حاصل ہے،حالاں کہ کفر کلامی کے صحیح فتویٰ میں کسی کو بھی اختلاف کا حق نہیں،حتی کہ خوداس مفتی کو بھی رجوع کا حق حاصل نہیں۔

دیگر متکلمین کو تحقیق کا حق حاصل ہے،اس کا محض مفہوم یہ ہے کہ وہ تکفیر کے دلائل میں غوروفکر کرسکتا ہے،لیکن فتویٰ صحیح ہونے کی صورت میں اختلاف کا حق نہیں۔ اگر وہ فتویٰ ہی غلط ہے تووہاں کفر کلامی موجود ہی نہیں تو کفر کلامی میں اختلاف نہیں ہوا،بلکہ ایک غلط فتویٰ میں اختلاف ہوا۔ ضروری تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

مسئلہ تکفیر میں عوام کوتحقیق کی اجازت نہیں

امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا:”جاہل کو احکام شرع خصوصًا کفرواسلام میں جرأت سخت حرام،اشد حرام ہے۔کوئی ہو، کسے باشد۔ واللہ تعالیٰ اعلم“۔

(فتاویٰ رضویہ ج6ص209-رضا اکیڈمی ممبئ)

توضیح:منقولہ بالا اقتباس سے واضح ہوگیا کہ عوام کومسئلہ تکفیر یا دیگر مسائل میں تحقیق کی اجازت نہیں۔

مسئلہ تکفیر کلامی میں غیرمتکلم فقہا کوتحقیق کی اجازت نہیں

امام غزالی (۰۵۴؁ھ-۵۰۵؁ھ)نے تحریر فرمایاکہ کفرکلامی کافتویٰ صرف متکلمین جاری کریں گے،اور فقہا کو ان کی تقلید لازم ہے۔غیر متکلم فقہا ئے کرام کوکفرکلامی کا فتویٰ جاری کرنے کی اجازت نہیں۔

فرقہ بجنوریہ مسئلہ تکفیر میں امام غزالی کو اپنا آئیڈیل مانتا ہے،اس لیے امام غزالی قدس سرہ العزیز کی عبارتیں حوالہ میں نقل کی جاتی ہیں۔

(الف)قال الغزالی:(فاذا فَہِمتَ اَنَّ النَّظرَ فی التکفیر موقوف
کا حق ہے،حالاں کہ یہ نظریہ غلط ہے۔ اگر دیگر متکلمین کو بلا سبب انکار کا حق حاصل ہوجائے تو ”من شک فی کفرہ فقد کفر“کا مفہوم ہی باطل ہوجائے گا۔

شریعت،عقل کے خلاف نہیں ہوسکتی۔اگر دیگر متکلمین کوحق انکار حاصل ہوجائے تو ایک ہی ملزم کسی کے یہاں قطعی کافر ہوگا اورکسی کے یہاں مومن ہوگا اور ایمان وکفر دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور مذکورہ صورت میں ایک ہی جگہ ایمان وکفر کا قطعی طورپر پایا جانا لازم آتا ہے، اوریہ اجتماع ضدین ہے،نیزباب اعتقادیات میں دوقول حق نہیں ہوسکتے،پس یقینی طورپر ایک باطل ہوگا۔

ہاں،فقہ کے اجتہادی مسائل میں ایسے متضاد اقوال کو حق تسلیم کیا جاتا ہے،کیوں کہ وہ ظنی امورہیں اور وہاں دونوں قول کوظنی طورپر حق تسلیم کیا جاتا ہے۔

ان شاء اللہ تعالیٰ قسط دوم میں مزید وضاحت رقم کی جائے گی۔

وماتوفیقی الا باللہ العلی العظیم::والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم::والہ العظیم

طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:06:نومبر2020

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/807987473105106/
ٌ علٰی جمیع ہذہ المقالات التی لایَستَقِلُّ بِاٰحَادِہَا الا المبرزون-عَلِمتَ اَنَّ المُبَادِرَ اِلٰی تَکفِیرِِ مَن یُُخَالِفُ الاشعریَّ اَو غَیرَ ہ جَاہِلٌ مُجَازِفٌ-وَکَیفَ یَستَقِلُّ الفَقِیہُ بمجرد الفقہ بہٰذا الخطب العظیم-وَاَیُّ رُبعٍ من ارباع الفقہ یُصَادِفُ ہذہ العلوم-فاذا رَأَیتَ الفَقِیہَ الذی بضاعتُہ مجردُ الفقہ،یخوضُ فی التکفیر والتضلیل-فَاعرِض عنہ وَلَاتَشتَغِل بہ قَلبَکَ وَلِسَانَکَ-فَاِنَّ التَّحَدِّیَ بالعلوم غَرِیزَۃٌ فی الطبع-لَا یَصبِرَعَنہَا الجُہال-وَلِاَجَلِہ کَثُرَ الخلافُ بین الناس وَلَوسَکَتَ مَن لَایَدرِی-لََََََََقَلَّ الخِلَافُ بَینَ الخَلقِ)

(فیصل التفرقۃ بین الاسلام والزندقۃ ص74)

توضیح:تکفیر کلامی میں فقہا کو متکلمین کی تقلید لازم
تکفیرکلامی میں جہات محتملہ کا قطعی بالمعنی الاخص ہونا ضروری ہے،اس لیے اس کا سمجھنا آسان ہے،کیوں کہ وہاں احتمال بلادلیل بھی نہیں ہوتا۔

بالفرض اگر سمجھ میں نہ آئے تو بھی فقہا کو متکلمین کا فتویٰ تکفیر ماننا لازم ہے۔

مذہب شافعی میں اجماع شرعی میں غیر کافر بدعتی کا لحاظ ہوگا،کافربدعتی کا نہیں۔اگر فقہا کوکسی کافر بدعتی کے کفر کا علم نہ ہوسکااور فقہا نے اس کافر بدعتی کے اختلاف کے سبب اجماع کو غیرمنعقد سمجھا تو اس صورت کا حکم بیان کرتے ہوئے امام غزالی نے تحریر فرمایا کہ اگر فقہا کو اس بدعتی کے کفریہ قول کا علم تھا تو فقہا پر لازم تھا کہ متکلمین سے دریافت کرتے،اورپھر متکلمین کا فتویٰ ماننا ان پر لازم ہوتا۔اگر فقہاکواس بدعتی کے غلط قول کی اطلاع ہی نہیں تھی توفقہا عدم علم کے سبب اجماع کوغیر منعقد قرار دینے میں معذور ہوں گے۔
(ب)قال الغزالی:(فان قیل:فَلَو تَرَکَ بَعضُ الفقہاء الاجماعَ بِخِلَافِ المبتَدِعِ المُکَفَّرِ اِذَا لَم یَعلَم اَنَّ بدعتہ تُوجِبُ الکُفرَ-وَظَنَّ اَنَّ الاجماع لاینعقد دونہ-فَہَل یُعذَرُ من حیث اَنَّ الفقہاء لایطلعون عَلٰی مَعرفَۃِ مَا یُکَفَّرُ بِہ من التاویلات؟قلنا لِلمَسءَلَۃِ صُورَتَانِ۔
(۱)اِحدَاہُمَا اَن یَقُولَ الفقہاء:نحن لَا نَدرِی اَنَّ بدعتہ توجب الکفرَ اَم لَا؟ففی ہذہ الصورۃ لاَ یُعذَرُونَ فِیہِ اِذ یَلزَمُہُم مُرَاجَعَۃُ علماء الاصول،ویجب علی العلماء تعریفُہم،فاذا اَفتوہُم بکُفرِہ فعلیہم التقلید-فَاِن لَم یَقنَعہُمُ التَّقلید-فَعَلَیہِمُ السُّوَالُ عن الدلیل،حَتّٰی اذا ذُکِرَ لہم د لیلُہ،فَہِمُوہُ لَامَحَالَۃَ-لِاَنَّ دَلِیلَہٗ قَاطِعٌ،فَاِن لَم یُدرِکہُ فَلَا یَکُونُ مَعذُورًا،کَمَن لَایُدرِکُ دَلِیلَ صدق الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم فانہ لَاعُذرَ مَعَ نَصبِ اللّٰہِ تَعَالٰی الاَدِلَّۃَ القَاطِعَۃَ۔
(۲)الصورۃ الثانیۃ اَن لَایکونَ بَلَغَتہُ بِدعَتُہ وَعَقِیدَتُہ فَتَرَکَ الاِجمَاعَ لِمُخَالَفَتِہ فَہُوَ مَعذُورٌ فِی خَطَأِہٖ وَغَیرُ مُوَاخَذٍ بِِہٖ)(المستصفٰی من علم الاصول جلداول ص184)

توضیح:جب متکلمین کفرکلامی کافتویٰ صادر کردیں تو فقہاکوان کی تقلید لازم ہے۔فقہا مسئلہ سمجھنے کے واسطے متکلمین سے دلائل دریافت کر سکتے ہیں۔لیکن انکار کا حق نہیں,خواہ فقہا کو متکلمین کے دلائل سمجھ میں ائیں یا نہ ائیں۔

جب کفر کلامی پر اجماع ہوجائے تو حکم کفر مزید مؤکد ہوجاتاہے,لیکن اگرایک ہی متکلم نے کفر کلامی کا صحیح فتویٰ جاری کیا،اورابھی کفر کلامی کے فتویٰ پر اجماع نہیں ہوا توبھی متکلم دیگر کواختلاف کی اجازت نہیں۔

اگر کفر کلامی کا وہ فتویٰ صحیح ہے تو آخر اختلاف کس بنیاد پر؟ اگربلاوجہ انکار کرتا ہے تو ”من شک فی کفرہ فقدکفر“کا حکم جاری ہوگا۔

اگر کوئی شبہ واحتمال ہے تواصل مفتی سے دریافت کرے۔

اعتراض ہونے پرامام احمدرضاقادری نے بھی ”تمہید ایمان“ میں رفع احتمالات کی وضاحت فرمائی۔ الحاصل دیگر متکلمین کو تحقیق کی اجازت ہے،لیکن فتویٰ صحیح ہونے کی صورت میں اختلاف کا حق حاصل نہیں اور تحقیق کا فائدہ محض حقائق ودلائل کا ادراک ہے،جیسے فقہی امور میں مقلد کو اپنے امام مجتہدکے دلائل کے ادراک کا حق حاصل ہے،لیکن مقلد کواپنے امام مجتہدسے اختلاف کاحق نہیں۔اسی طرح کفرکلامی کا فتویٰ صحیح ہے تو کسی کواختلاف کا حق نہیں۔

تکفیرکلامی میں دیگر متکلمین کو تحقیق کی اجازت،لیکن تحقیق فرض نہیں

سوال:اگر کسی متکلم نے کسی پر کفر کلامی کا حکم جاری کیا تو دیگر متکلمین آنکھ بند کرکے تسلیم کرلیں یا تحقیق کا حق انہیں حاصل ہے؟

جواب: دیگر متکلمین کوتحقیق کا حق حاصل ہے،لیکن فتویٰ صحیح ہونے کی شکل میں انکار کا حق حاصل نہیں۔

کوئی احتمال سمجھ میں آئے تو خود اسی مفتی سے سوال کرنا ہوگا،جس نے کفرکا فتویٰ جاری کیا ہے،جیسے مانعین زکات سے حکم جہاد جاری کرنے پر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت فرمایاتھا۔

مذکورہ مفتی نہ ہوں تودیگراہل علم سے دریافت کرے۔

خلیل بجنوری نے تحقیق کو انکار کا مراد ف قرار دیا،اورجابجا لکھاکہ ہرایک کو تحقیق کا حق ہے،یعنی انکار
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*خطباتِ جمعہ کے موضوعات و عناوین کے لیے عام مشاورت*

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے کہ آپ تمام ذی وقار علمائے کرام بخیر وعافیت ہوں گے۔

آپ حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ
*"روشن مستقبل دہلی"*
کی جانب سے عوامی ذہن سازی، صالح لٹریچر کی ترسیل اور قوم کی اصلاح و فلاح کے لیے مختلف عناوین پر *"خطبات جمعہ"* کی اشاعت کی جاتی ہے۔ جو ملک وبیرون ملک کے ائمۂ مساجد اور خطبا تک پہنچتے ہیں.
ان خطبات سے ہمارا ایک مقصد تقریروں کو خرافات, من گھڑت روایات, اور ناشائستہ اسالیب سے محفوظ رکھنا ہے. علاوہ ازیں امت مسلمہ کو درپیش حالات اور چیلینجز سے باخبر رکھنا اور حسبِ موقع درست پیغامات پیش کرنا ہے.
ابھی تک ہماری ٹیم نے عناوین و موضوعات کا انتخاب اپنی صواب دید کے مطابق کیا۔ جسے آپ سب نے قبول کیا اور پسند بھی کیا۔
لاک ڈاؤن کے سبب خطبات جمعہ کا سلسلہ ایک طویل عرصے تک موقوف رہا. اب جمعہ و جماعت کے حسبِ معمول دوبارہ قائم ہوجانے کے بعد ایک بار پھر خطبات کا یہ سلسلہ شروع کیا جارہا ہے. آپسی مشاورت سے ہم نے یہ طے کیا کہ دیگر اہل علم سے بھی عناوین و موضوعات کی تعیین کے لیے ان کی راے طلب کی جائے تاکہ مشاورت کی برکات بھی ملیں اور موضوعات میں وسعت اور نکھار بھی آئے.
*اس لیے ہم آپ سبھی علمائے کرام سے آئندہ سال کے خطبات کے عناوین پر مشورہ چاہتے ہیں. آپ سے گزارش ہے کہ علاقائی وقومی ضروریات کے مطابق موضوعات و عناوین کی نشان دہی فرمائیں.*

اللہ رب العزت آپ تمام علمائے کرام کو دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور فرمائے۔ آمین۔

واٹس ایپ رابطہ نمبر :
+919039778692

*اپیل کنندہ: ٹیم خطبات جمعہ*
*(روشن مستقبل، دہلی)*

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/809026163001237/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تنظیم و تحریک ـ چند بنیادی اصول
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
خصوصی خطاب :
خالد ایوب مصباحی شیرانی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــ بتاریخ : ١٥/ نومبر ۲۰۲۰
ــــ تلخیص : فیضان سرور مصباحی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ـــــــ رفاہی کاموں پر فوکس کریں۔ اور ان کاموں کو آگے کریں جو عوام کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں ۔ مثلاً : علاقائی سطح پر میڈیکل کیمپ کا انتظام، حسبِ ضرورت حاجت مندوں کے لیے بلڈ بینک کیمپ ۔ وغیرہ وغیرہ
ورنہ خالص مذہبی کاموں سے آغاز کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کا دائرہ فقط چند مذہبی لوگوں تک ہی محدود ہوکر رہ جائے گا۔
رفاہی کام؛ علاقائی ضرورتوں کے پیش نظر خوب غوروفکر کے بعد طے کرلیے جائیں ۔ اور پھر تسلسل کے ساتھ ان خطوط پر کام جاری رہے ۔

ـــــــ تنظیم و تحریک سے وابستہ ممبران کو مختلف میدانوں سے متعلق موٹی موٹی معلومات رکھنی چاہئیں۔ ان سے زمانی اتار چڑھاؤ کو سمجھنا آسان سے آسان تر ہوجاتا ہے ۔
چنانچہ حالیہ سیاسی مد وزجر ، علاقائی و جغرافیائی کشیدگیاں، وغیرہ وغیرہ پر نظر رہنی چاہیے ۔

ـــــــ شروع میں خود تنظیمی افراد کی باہمی تربیت پر توجہ کی جائے ۔ اس کے لیے صرف خلوص کافی نہیں، بلکہ تنظیمی لاجک و سائنس بھی سامنے رکھنی چاہیے ۔ تنظیم کے ارکان اگر تربیت یافتہ ہوتے ہیں، اصول ومقاصد کے پسِ پردہ اہم فوائد سے آشنا ہوتے ہیں تو پھر باہمی کشیدگی کے حادثات اور آپسی رکاوٹیں کھڑی ہونے کے معاملات دیکھنے کو کم ملتے ہیں ۔ اور پھر تنظیم بہت تیزی سے آگے بڑھتی ہے ۔

ـــــــ تنظیم کے ارکان کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ عالمی سطح کی سیاست کن مسائل پر گردش کرتی ہے ۔ یوں ہی عالمی سطح پر مسلمانوں کے خاص مسائل کیا کیا ہیں۔ میڈیا والے کن مسائل کو زیادہ تر اچھالتے ہیں ۔ اور ان کے معقول جوابات کس انداز میں دیئے جاسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
مثلاً : مسئلۂ فلسطین، کشمیر قضیہ، مسلم تعلیمی پس ماندگی وغیرہ یہ مسائل ایسے ہیں کہ آئے دن ان پر کچھ نہ کچھ سیاسی جماعتیں بیان دیتی رہتی ہیں، ملکی وعالمی میڈیا پر بھی یہ باتیں چرچے میں ہوتی ہیں ۔ تنظیمی افراد اگر ان کے پسِ منظر پر نظر رکھیں گے تو بہت سے ایشوز کے حل، یا ذاتی نقطۂ نظر خود بخود نکال لیں گے ۔

ـــــــ تنظیم اگرچہ علاقائی سطح کی ہو ۔ مگر تنظیمی افراد وسیع پیمانے پر سوچنے والے ہونے چاہئیں ، تنظیمی مائنڈ سیٹ مضبوط سے مضبوط تر ہوگا تو پھر تنظیمی ترقی کے بہت دروازے کھلے ملتے ہیں ۔

جب کہ محدود سوچ رکھنے والے افراد کے ہاتھوں میں بنی بنائی ایک ترقی یافتہ بڑی تنظیم کی باگ ڈور بھی تھمادی جائے، تو اسے ایک کاغذی تنظیم بننے میں زیادہ برسوں کی حاجت نہ ہوگی ۔

ـــــــ ارکان کو موجودہ میڈیا میں سے پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، اور سوشل میڈیا کے بارے میں بھی بنیادی معلومات رکھنی چاہیے۔ اور موقع بموقع حسبِ ضرورت حصہ لیتے رہنا چاہیے ۔
مثلاً : ٹیوٹر ٹرینڈ اس زمانے میں دھرنے کا بہترین متبادل کے طور پر سامنے آیا ہے ۔ ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے اپنی دو چار انگلیوں کے ذریعے پوری دنیا میں دھمال مچا سکتے ہیں، عالمی طور پر کسی قسم کے مسائل اٹھاسکتے ہیں، اسلام مخالف پروپیگنڈے کا جواب دے سکتے ہیں ۔
اسی طرح یوٹیوب کا مثبت اور صحیح استعمال بھی کرتے رہنا ایک بہترین اسٹیج کا کردار ادا کرسکتا ہے ۔

ـــــــ زمینی سطح پر کام کرنے کے لیے پہلے دائرۂ کار متعین کرلینا چاہیے ۔ جو بس میں ہو؛ وہی کریں، تمام تر کاموں کا بوجھ خود اپنے سر نہ ڈال لیں ۔ دنیا میں الگ الگ مقاصد کے لیے مستقل تحریک وتنظیمیں کام کررہی ہیں، انھیں دیکھ سکتے ہیں ۔
اس سلسلے میں جذباتی بننے کے بجائے بڑی دانشوری کے ساتھ اپنے اہداف واغراض کا تعیین کرنا چاہیے ۔

ـــــــ لوگ دنیا کے سیاسی نظام کے تابع ہوتے ہیں ۔ اس سے ایک لیڈر اور متحرک کارکن کو حالیہ عالمی وملکی سیاست سے باخبر رہنا چاہیے ۔ ایک زمانے تک بابری مسجد کا ایشو سیاست میں اہم پوائنٹ بنارہا ۔ اسی پر کتنی حکومتیں، بنیں اور تخت سے اتریں ۔ ایک زمانے تک مسلم سیاست بھی اسی کے اردگرد گردش میں رہیں، لہٰذا سیاسی بیانوں کے مزاج اور تیور کو سمجھنے کے یہ پہلو بالکل سامنے ہونا چاہیے ۔

[زوم آئیڈی کے ذریعے خصوصی میٹنگ میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ جس میں حضرت استاذ خالد ایوب مصباحی کا بیان ہوا ۔ چند باتیں جنھیں نوٹ کرسکا، یا سمجھ سکا ۔ خلاصہ پیش کردیا ہے۔ فیضان سرور مصباحی ]

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/810331872870666/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟
#قسط_پنجم

کفرکلامی کے صحیح فتویٰ میں اختلاف کی گنجائش نہیں

متعدد صورتوں کے ذریعہ اس مسئلہ کی تفہیم کی کوشش ہوگی،تاکہ جس کو جوصورت سمجھ میں آجائے،وہی اس کے حق میں دلیل ہوگی۔

ہرایک انسان کی نہ فطرت یکساں ہے،نہ ہی سب کی عقل وخرد مساوی ہے۔

(الف)کفر کلامی میں فقہا کو اختلاف کی اجازت نہیں::

امام غزالی نے فر مایا کہ کفرکلامی کی دلیل قطعی ہوتی ہے تو فقہا اسے سمجھ سکتے ہیں۔بالفرض اگر سمجھ میں نہ آئے تو بھی فقہا کو متکلمین کا فتویٰ تکفیر ماننا فرض ہے،جیسے کسی کو صدق نبوت کی دلیل سمجھ میں نہ آئے توبھی نبی کونبی ماننا فرض ہے۔

فقہا کو فتوی تکفیر سمجھ میں نہ آئے توبھی ماننا فرض ہے۔اسی طرح عوام کو بھی ماننا فرض ہے,خواہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔

مذہب شافعی میں اجماع شرعی میں غیر کافر بدعتی کا لحاظ ہوتا ہے،کافربدعتی کا نہیں۔

اگر فقہائے شوافع کوکسی کافر بدعتی کے کفر کا علم نہ ہو سکا اور فقہا نے اس کافر بدعتی کے اختلاف کے سبب اجماع کو غیرمنعقد سمجھا تو اس صورت کا حکم بیان کرتے ہوئے امام غزالی نے تحریر فرمایا کہ اگر فقہا کو اس بدعتی کے کفریہ قول کا علم تھا تو فقہا پر لازم تھا کہ اس کا حکم متکلمین سے دریافت کرتے،اورپھر متکلمین کا فتویٰ ماننا ان پر لازم ہوتا۔

اگر فقہاکواس بدعتی کے غلط قول کی اطلاع ہی نہیں تھی توفقہا عدم علم کے سبب اجماع کوغیر منعقد قرار دینے میں معذور ہوں گے۔

قال الغزالی:(فان قیل:فَلَو تَرَکَ بَعضُ الفقہاء الاجماعَ بِخِلَافِ المبتَدِعِ المُکَفَّرِ اِذَا لَم یَعلَم اَنَّ بدعتہ تُوجِبُ الکُفرَ-وَظَنَّ اَنَّ الاجماع لاینعقد دونہ-فَہَل یُعذَرُ من حیث اَنَّ الفقہاء لایطلعون عَلٰی مَعرفَۃِ مَا یُکَفَّرُ بِہ من التاویلات؟قلنا لِلمَسءَلَۃِ صُورَتَانِ۔
(1)اِحدَاہُمَا اَن یَقُولَ الفقہاء:نحن لَا نَدرِی اَنَّ بدعتہ توجب الکفرَ اَم لَا؟ففی ہذہ الصورۃ لاَ یُعذَرُونَ فِیہِ اِذ یَلزَمُہُم مُرَاجَعَۃُ علماء الاصول،ویجب علی العلماء تعریفُہم،فاذا اَفتوہُم بکُفرِہ فعلیہم التقلید-فَاِن لَم یَقنَعہُمُ التَّقلید-فَعَلَیہِمُ السُّوَالُ عن الدلیل،حَتّٰی اذا ذُکِرَ لہم د لیلُہ،فَہِمُوہُ لَامَحَالَۃَ-لِاَنَّ دَلِیلَہٗ قَاطِعٌ،فَاِن لَم یُدرِکہُ فَلَا یَکُونُ مَعذُورًا،کَمَن لَایُدرِکُ دَلِیلَ صدق الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم فانہ لَاعُذرَ مَعَ نَصبِ اللّٰہِ تَعَالٰی الاَدِلَّۃَ القَاطِعَۃَ۔
(2)الصورۃ الثانیۃ اَن لَا یکونَ بَلَغَتہُ بِدعَتُہ وَعَقِیدَتُہ فَتَرَکَ الاِجمَاعَ لِمُخَالَفَتِہ فَہُوَ مَعذُورٌ فِی خَطَأِہٖ وَغَیرُ مُوَاخَذٍ بِِہٖ)

(المستصفٰی من علم الاصول جلد اول ص184)

توضیح:جب متکلمین کفرکلامی کافتویٰ صادر کردیں تو فقہاکو تقلید لازم ہے۔اگر فقہا اس کی دلیل دریافت کریں تو متکلمین دلیل بیان کریں گے،اور فقہا یقینی طورپراس دلیل کوسمجھ لیں گے،کیوں کہ تکفیرکلامی کی دلیل قطعی بالمعنی الاخص ہوتی ہے۔اس میں کوئی احتمال نہیں ہوتا۔اگر فقہا کو دلیل تکفیرسمجھ میں نہ آئے تو بھی انہیں فتویٰ تکفیر ماننا لازم ہے۔

امام غزالی قدس سرالقوی کے قول (فَاِن لَم یُدرِکہُ فَلَا یَکُونُ مَعذُورًا)سے بالکل واضح ہو گیا کہ جو کافرکلامی کے کافرکلامی ہونے کے دلائل کونہ سمجھ سکے،وہ معذور نہیں ہے،بلکہ اس کوحکم شرعی ماننا ہوگا۔

جیسے کسی کو نبی کی صداقت کی دلیل سمجھ میں نہ آئے تووہ معذور نہیں ہوگا،بلکہ نبی کونہ ماننے کے سبب کافر ہوگا،کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے دلائل قائم فرمادئیے،یعنی نبی کی نبوت کوثابت کرنے کے واسطے معجزہ ظاہر فرمادیا۔

(ب)کفر کلامی میں متکلمین کو اختلاف کی اجازت نہیں::

خلیفہ چہارم شیرخداحضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں عبد اللہ بن سبا کے غلط اثرات سے متاثر ہوکر بعض لوگوں نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خدا ہونے کا دعویٰ کیا۔اس دعویٰ کے سبب حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں مرتد قرار دے کر جلادیا۔

اسی طرح بعض دیگر خلفا نے دعویداران نبوت کو مرتد ہونے کے سبب قتل کردیا۔ان زمانوں کے علمائے کرام نے بھی اس عمل پر اتفاق ظاہرکیا اور ان مرتدین کو مرتد ہی سمجھا،اور ایسے مرتدین کے کفروارتداد کی مخالفت کرنے والوں کوبھی کافر قرار دیا۔

منکرین تکفیر کے کافرہونے کا حکم مطلق ہے۔ ایسا نہیں کہ کسی عالم کواپنی ذاتی تحقیق میں جہات ثلاثہ یعنی کلام ومتکلم وتکلم میں کوئی احتمال نظر آئے تو اسے انکار کا حق ہے اور غیر عالم کو انکار کا حق نہیں،بلکہ عالم وغیر عالم کسی کو انکار کا حق نہیں۔

جہات ثلاثہ اور دیگر شرائط مفتی اول کی نظر میں ثابت ہونے چاہئے,نہ کہ تمام عوام وخواص کی نظر میں۔

قال القاضی:(وَقَد اَحرَقَ علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ مَن اِدَّعٰی لَہُ الاِلٰہِیَّۃَ-وقد قتل عبد الملک بن مروان الحارث المتنبی وَصَلَبَہ-وَفَعَلَ ذلکَ غیر واحدٍ من الخلفاء والملوک باشباہہ
م-وَاَجمَعَ علماء وقتہم علٰی صواب فعلہم-وَالمُخَالِفُ فِی ذٰلِکَ مِن کُفرِہِم کَافِرٌ)
(کتاب الشفاء جلددوم ص297)

قال الخفاجی:((واجمع علماء وقتہم علٰی صواب فعلہم)ای تصویبہ اَو ہو من اضافۃ الصفۃ للموصوف -وذلک لکذبہم عَلَی اللّٰہ بِاَنَّہ نَبَّأہُم و تکذیب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی-انہ خاتم الرسل-وَاَنَّہ لَا نبی بعدہ(و) اَجمَعُوا اَیضًا عَلٰی(اَنَّ المُخَالِفَ فِی ذٰ لِکَ)اَی تَکفِیرِہِم بِمَا إدَّعُوہُ(مِن کُفرِہِم)ہومفعول المخالفِ اَی مَن خَالَفَ مَذہَبَہُم فی تکفیرہم فَقَالَ:لَا یُکَفَّرُونَ(کَافِرٌ)لانہ رضی بِکُفرِہِم وَتَکذِیبِہِم لِلّٰہِ وَرَسُولِہ)

(نسیم الریاض جلد چہارم ص536-دارالکتاب العربی بیروت)

قال الملا علی القاری:((والمخالف فی ذلک)الفعل(مِن کُفرِہِم)اَی مِن جہتہ (کَافِرٌ) لِجَحدِہ کُفرَہُم)

(شرح الشفاء للقاری جلدچہارم ص536-دارالکتاب العربی بیروت)

قال المحشی علی محمد البجاوی المصری:(من خالف مکفرہم فی تکفیرہم،فقال: لا یکفرون،ہذا المخالف کافر،لانہ رضی بکفرہم وتکذیبہم للّٰہ ورسولہ)

(حاشیۃ الشفا: ص1091-دارالکتاب العربی بیروت)

توضیح:منقولہ بالا عبارات میں یہ بتایاگیا کہ اگر کسی پر کفرکلامی کاحکم عائدہوچکا تو اس کی تکفیر کا منکر کافر ہے۔

یہاں عالم وغیر عالم کی تفریق نہیں،بلکہ عدم اختلاف کا حکم سب کے لیے ہے۔

ضروری تحقیق کے بعد ہی کفر کلامی کا حکم نافذکیا جاتا ہے،پھر اس سے انکار کیوں کر کیا جا سکتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ کفر کلامی کے فتویٰ میں علمائے حق کا اتفاق ہی ہوتا ہے۔کتاب الشفا کی منقولہ عبارت (وَاَجمَعَ علماء وقتہم علٰی صواب فعلہم)سے مراد یہ ہے کہ علمائے حق نے اپنے اتفاق کا اظہار بھی کیا۔

اگر اتفاق ظاہر نہ بھی کریں تو بھی ہرایک کوکافرکلامی کے کافرہونے کااعتقادرکھنا ضروری ہے۔

آج لوگ حسام الحرمین کی تصدیق پر اعتراض کرتے ہیں۔مذکورہ عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ اظہار اتفاق سے کسی حکم کی تقویت وتائید ہوتی ہے،ورنہ کفر کلامی کا صحیح حکم ایک مفتی نے بھی جاری کیا ہوتو بھی اس کا انکار کفر ہی ہے۔

(ج)صرف مفتی اول کے لیے احتمالات کا خاتمہ لازم::

اگر کلام متعین فی الکفر بھی ہوتو علمائے مابعد کو اپنی تحقیق کے وقت احتمال فی المتکلم اور احتمال فی التکلم کی صورت درپیش ہوسکتی ہے،مثلاًآج سے پانچ سوسال قبل کسی نے صریح ومتعین(مفسر) لفظوں کے ساتھ اپنی نبوت کادعویٰ کیا- اس کلام ودعویٰ نبوت میں کسی قسم کے احتمال کی گنجائش نہ تھی۔

مفتی کے پاس اس مدعی نبوت نے اپنے دعوی نبوت کو دہرایا اور اقرار کیا۔مفتی نے آزمائش کر کے دیکھ لیا کہ یہ آدمی ہوش وحواس کے ساتھ بلاجبر واکراہ،اپنے قصدو رضامندی کے ساتھ تمام معانی ومطالب کوسمجھ لینے کے بعد محض اپنی شقاوت قلبی کے سبب دعوی نبوت کررہا ہے۔

اب کلام، متکلم و تکلم میں سے کسی جہت میں بھی کسی قسم کا احتمال باقی نہ رہا،اس لیے اس مفتی نے کفر کلامی کافتویٰ جاری کیا۔اس عہد کے تمام اہل حق علما نے اس فتویٰ پراتفاق کرلیا۔ بادشاہ اسلام نے دعوی نبوت کے سبب اس مجرم کو قتل بھی کردیا۔

اب بعد والوں کو وہ فتوی ماننا فرض ہے,کیوں کہ مفتی اول کے لئے تمام جہات محتملہ یقینی تھیں۔اس صورت میں وہ فتوی صحیح تھا اور کفر کلامی کے صحیح فتوی کو ماننا فرض اور انکار کفر ہے۔

سوال: پانچ سوسال بعد ہمیں مذکورہ بالا مدعی نبوت کا صرف دعویٰ اورقول ملا،اورعلمائے کرام کے فتویٰ کفر کی تفصیل معلوم ہوئی، لیکن اس مدعی کے دیگر احوال ہم سے پوشیدہ ہیں، اس لیے جہت متکلم وجہت تکلم میں احتمال ہوگیا،اب کس طرح جہت متکلم وجہت تکلم میں پایا جانے وہ احتمال دور کیا جائے؟

یہاں کوئی صورت موجود نہیں کہ اس احتمال کا خاتمہ کیا جاسکے،ایسی صورت میں ہم اسے مومن تسلیم کریں یاکافر؟

جواب:ہمیں اس مدعی نبوت کوکافر ماننا ہوگا،کیوں کہ جب کفر کلامی کا فتویٰ دیا گیا تھا تو سارے احتمالات ختم تھے۔اب دوبارہ احتمالات کیسے پیدا ہوگئے؟

احتمالات کا خاتمہ مفتی اول کے لیے ہونا ضروری ہے,جس کو فتوی جاری کرنا ہے۔

اس فتویٰ کو تسلیم کرنے والے سارے لوگوں کے لیے احتمالات کا خاتمہ ضروری نہیں ہے،بلکہ اس فتویٰ پرمطلع ہونا ضروری ہے۔

جس کواس فتویٰ کا علم ہی نہیں،نہ قطعی علم ہے،نہ ظنی علم ہے تواس پر شخص مذکور کوکافر ماننے کا حکم نہیں۔

مسیلمہ کذاب،ودیگر مدعیان نبوت کو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے مر تد قرار دیا۔ان مرتدین کوہم مرتد مانتے ہیں،جوان مدعیان نبوت کومرتد نہ مانے،وہ بھی مرتد ہوگا،حالاں کہ ان مدعیان نبوت میں سے کسی سے متعلق جہت تکلم وجہت متکلم کا تیقن آج کے عہد میں نہیں ہوسکے گا،بلکہ ان میں سے ہرایک کے کفریہ کلمات بھی منقول نہیں،لیکن ان تمام کومرتد ماننا ہوگا۔ ان کے کفر کا انکار کرنے والا کافر ہو گا۔

سوال:کیا جس عہد میں کفرکلامی کا فتویٰ دیاگیا،اس عہد میں کسی متکلم وعالم کو اس فتویٰ کے انکار کا حق حاصل ہے؟

جواب:کفر کلامی قطعی ہوتا ہے،یعنی ہرمحتمل جہ
ت سے ہر قسم کااحتمال ختم ہو جاتا ہے اور کفر آفتاب کی طرح روشن ہوجاتا ہے،تب کفر کلامی کا فتویٰ جاری ہوتا ہے۔

ایسی صورت میں عہدفتویٰ میں کسی محقق کا انکار اس کی قطعیت کو ختم نہ کرسکے گا۔

ہاں،اگر وہ ہٹ دھر می و تعنت کے سبب انکار کرتا ہے تو وہ خود اسلام سے منقطع ہوجائے گا۔

اگر اس محقق کو کسی جہت میں کوئی احتمال نظر آتا ہے تو حکم جاری کرنے والے مفتی کے پاس اپنا احتمال پیش کرے،تاکہ مفتی وہ احتمال دور کردے،اور جس طرح ہرجہت اس مفتی کے پاس قطعی ویقینی ہے،اسی طرح اس محقق کی نظر میں بھی قطعی ویقینی ہو جائے۔

جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے مانعین زکات سے جہاد کا حکم فرمایا توحضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا شبہہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان فرمایا تھا،پھر وہ جواب سے مطمئن ہوکر اس حکم جہاد کے قائل ہوگئے۔

اسی طرح شبہہ ہونے پر اصل مفتی کی طرف رجوع کرنا ہے,یا جو جواب کے اہل ہوں,ان سے دریافت کرنا ہے:واللہ الہادی الی سبیل الحق

طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:15:نومبر2020

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/810375662866287/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM