Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت ایک شخص اپنے آپکو سید کہتا ہے اور کہتا ہے اگر سر سید احمد کو کوئی مسلمان نہیں سمجھتا تو میں اس کو مسلمان نہیں سمجھتا اور یہ سرسیداحمد کون تھا
Forwarded from ندیم ابن علیم المصبور العینی
وعلیکم السلام ورحمة الله تعالى وبركاته
احمد خان (انگریزی ایجنٹ) کافر تھا جو اس کے کفر میں شک کرے اسی کی طرح ہے اور کافر سید نہیں ہوتا. جیسا کہ امام ابن حجر ہیثمی نے فرمایا کہ انبیاء کرام سے ان کا نسب منقطع ہوجاتا ہے. اور اللهﷻ نوح علیہ السلام کے بیٹے کنعان کے بارے میں فرماتا ہے: یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ. اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ (اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں). والله تعالی اعلم
احمد خان (انگریزی ایجنٹ) کافر تھا جو اس کے کفر میں شک کرے اسی کی طرح ہے اور کافر سید نہیں ہوتا. جیسا کہ امام ابن حجر ہیثمی نے فرمایا کہ انبیاء کرام سے ان کا نسب منقطع ہوجاتا ہے. اور اللهﷻ نوح علیہ السلام کے بیٹے کنعان کے بارے میں فرماتا ہے: یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ. اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ (اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں). والله تعالی اعلم
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ندیم ابن علیم المصبور العینی
یہ حدیث مجھے اب تک نہیں ملی.
ان شاء الله ملتے ہی بھیجتا ہوں.
اگر کوئی سید کافر ہوجائے تو وہ سید نہیں ہوتا بلکہ اس کا نسب رسول سے منقطع ہوتا ہے یا ہوجاتا ہے.
جس طرح کافر کا نسب آدم علیہ السلام سے منقطع ہوجاتا ہے
امام اہل سنت فرماتے ہیں:
سادات کرام کی تعظیم ہمیشہ جب تک ان کی بد مذہبی حد کفر کو نہ پہنچے کہ اس کے بعدوہ سید ہی نہیں نسب منقطع ہے.
قال الله تعالي: قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّهٗ لَیۡسَ مِنۡ اَھۡلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ. (سورۃ هود، ٤٦)
اللہ تعالی نے فرمایا: اے نوح! وہ (کنعان) تیرے (اہل) گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں.
جیسے نیچری، قادیانی، وہابی غیر مقلد، دیوبندی اگرچہ سید مشہور ہوں نہ سید ہیں نہ ان کی تعظیم حلال بلکہ توہین وتکفیر فرض. (فتاوی رضویہ، ٤٢٠/٢٢)
ان شاء الله ملتے ہی بھیجتا ہوں.
اگر کوئی سید کافر ہوجائے تو وہ سید نہیں ہوتا بلکہ اس کا نسب رسول سے منقطع ہوتا ہے یا ہوجاتا ہے.
جس طرح کافر کا نسب آدم علیہ السلام سے منقطع ہوجاتا ہے
امام اہل سنت فرماتے ہیں:
سادات کرام کی تعظیم ہمیشہ جب تک ان کی بد مذہبی حد کفر کو نہ پہنچے کہ اس کے بعدوہ سید ہی نہیں نسب منقطع ہے.
قال الله تعالي: قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّهٗ لَیۡسَ مِنۡ اَھۡلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ. (سورۃ هود، ٤٦)
اللہ تعالی نے فرمایا: اے نوح! وہ (کنعان) تیرے (اہل) گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں.
جیسے نیچری، قادیانی، وہابی غیر مقلد، دیوبندی اگرچہ سید مشہور ہوں نہ سید ہیں نہ ان کی تعظیم حلال بلکہ توہین وتکفیر فرض. (فتاوی رضویہ، ٤٢٠/٢٢)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
आ़लमे इस्लाम को ई़दे ग़ौसिया मुबारक
ग़ौस पाक की ¹¹ आ़दतें अपना लीजिये
जो शख़्स़ एक बालिश्त ज़मीन ज़ुल्म से
ग़ौसुल आ़ज़म की साबित क़दमी
ग़ौस पाक मुस़ीबत दूर फ़रमा देते हैं!
आप की नज़र हमेशा लौह़े मह़फ़ूज़ पर
आप की करामत तवातुर से गुज़री हैं!
आप से बढ़ कर स़ाह़िबे करामत .....
आप की आवाज़ 70 हज़ार लोगों तक
आप का क़दम मुबारक हर वली के ...
ग़ौस पाक की ¹¹ आ़दतें अपना लीजिये
जो शख़्स़ एक बालिश्त ज़मीन ज़ुल्म से
ग़ौसुल आ़ज़म की साबित क़दमी
ग़ौस पाक मुस़ीबत दूर फ़रमा देते हैं!
आप की नज़र हमेशा लौह़े मह़फ़ूज़ पर
आप की करामत तवातुर से गुज़री हैं!
आप से बढ़ कर स़ाह़िबे करामत .....
आप की आवाज़ 70 हज़ार लोगों तक
आप का क़दम मुबारक हर वली के ...
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟
#قسط_چہارم
کفرکلامی کے صحیح فتویٰ میں اختلاف کی گنجائش نہیں
مسئلہ تکفیر تحقیقی ہوتاہے،لیکن تحقیق صحیح کے بعد تکفیر کلامی کامسئلہ ضروریات دین میں شامل ہوجاتا ہے۔اس کے بعد اس کے اقرار وانکارکا وہی حکم ہوگا جوضروریات دین کے اقراروانکارکاحکم ہے۔
جب مفتی اول نے مسئلہ تکفیر کلامی کی صحیح تحقیق کرلی اوروہ ہر اعتبارسے مطمئن ہوگیا تو تحقیق مکمل ہوتے ہی مجرم کو کافرماننا خود مفتی اول پر فرض اورضروریات دین میں سے ہوگیا۔
جب مفتی اول نے اپنی تحقیق سے دوسروں کومطلع کردیا،مثلاً کفر کلامی کا صحیح فتویٰ جاری کردیا تو اب دیگر مومنین کے لیے بھی مجرم کو کافر کلامی ماننا ضروریات دین میں سے ہوگیا۔اب جو ضروریات دین کے احکام ہیں،وہی احکام یہاں نافذہوں گے،یعنی اس تکفیر کلامی کے علم یقینی واطلاع قطعی کے بعداس میں شک،توقف،انکار،تاویل ودیگرمنافی تصدیق امور کا ارتکاب کفر ہوگا۔
مسئلہ تکفیر دائمی طورپر تحقیقی نہیں رہتا ہے۔کفرکلامی کا صحیح فتویٰ جاری ہونے کے بعد دیگرمتکلمین صرف یہ تحقیق کر سکتے ہیں کہ مفتی اول کے لیے تمام جہات محتملہ کس طرح قطعی اور یقینی ہوئی تھیں،اور کافرکلامی کوبہر حال کافر کلامی ماننا فرض ہوگا۔
صرف مفتی اول کو تحقیق وتفتیش کی مدت میں یہ اجمالی عقیدہ رکھنا ہے کہ ملزم عند اللہ جیسا ہے،ہمارے اعتقاد میں بھی ویسا ہی ہے۔ جب اس کے لیے دلائل وشواہد کی روشنی میں مومن یا کافر ہونا یقینی ہوجائے تو جوثابت ہوا، اسی کا اعتقاد رکھے۔ اگر تکفیر کا وہ فتویٰ غلط ہے توعلم ہونے پر مفتی اول کورجوع کرنا اور دیگر علماپر اس کی تردید وتغلیط لازم ہے۔
سوال:دیگر متکلمین کو کیسے معلوم ہوگا کہ تکفیر کلامی کا یہ فتویٰ صحیح ہے یاغلط؟
جواب:تکفیر شخصی یا تکفیر عمومی خواہ تکفیرکلامی ہویا تکفیر فقہی،ہرقسم کے فتویٰ میں مفتی اول وہ تمام تحقیقات ودلائل درج کر تا ہے،تکفیر کے لیے جن دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پرایسے فتاویٰ جاری کیے جانے سے قبل اہل علم سے استصواب رائے بھی کیا جاتا ہے۔دیگر متکلمین وفقہامفتی اول کے دلائل وتحقیقات کی روشنی میں فتویٰ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
جب دیگر قابل اعتماد متکلمین ومفتیان کرام نے بھی اس فتویٰ کو صحیح قرار دیا ہوتو اب اس کی صحت کو جانچنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
کوئی مفتی اپنی تحقیق کے ذریعہ ثابت شدہ کفر کلامی کاانکار نہیں کرسکتا،جیسے آج عہد صدیقی کے مدعیان نبوت کی تکفیر کا منکر کافر قرار پائے گا۔ایسا نہیں قیامت تک ہرمفتی کو اپنی تحقیق پر عمل کرنا ہے۔
اگرکفر کلامی کے صحیح فتویٰ کے بعد کسی کوکچھ شک پیداہوا،اور اسے مجرم کی تکفیر کلامی کا یقینی علم ہے تومحض اپنا شک دور کرنے کے لیے تحقیق کرے،اورتحقیق کی مدت میں بھی کافر کلامی کوکافر کلامی اعتقاد کرے۔تحقیق کے نام پر کفرکلامی کے صحیح فتویٰ سے اختلاف یا توقف کی اجازت نہیں،کیوں کہ اس کو کفرکا علم یقینی ہے۔
ایک صورت یہ ہے کہ کسی کومجرم مثلاًتھانوی کی تکفیر کی خبرغیر قطعی وغیرظنی صورت میں ملی،مثلاً تکفیر وعدم تکفیر کی متضاد روایتیں موصول ہوئیں،یہا ں تک کہ تھانوی کی تکفیر اس کے لیے مشکوک ہوگئی تو وہ فی الحال یہ عقیدہ رکھے کہ عند اللہ وہ جیسا تھا،ہمارے اعتقاد میں بھی ویسا ہی ہے اور بلاتاخیر حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرے۔
اگرکوئی اپنا شک دورکرنے کے واسطے تحقیق وتفتیش نہ کرے، بلکہ یہ اجمالی عقید ہ بنالے کہ وہ عند اللہ جیساہے،وہ ہماری نظر میں بھی ویسا ہی ہے تو یہ توقف ہے،اورضروریات دین میں توقف کفر ہے،اور ضروریات اہل سنت میں توقف ضلالت وگمرہی ہے۔
ظنی وفقہی یعنی اجتہاد ی امور میں عدم ظہور حقیقت کے وقت توقف کی اجازت ہے۔ حضرات ائمہ مجتہدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا بعض امور اجتہادیہ میں ”لا ادری“فرمانا اسی قبیل سے ہے۔حضرت اما م اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کفر یزید سے توقف بھی اسی قبیل سے ہے۔ تعارض روایات کے سبب کفر یزید،ایمان ابوطالب،ایمان ابوین کر یمین اجتہادیات میں داخل ہیں،اسی لیے علما کا اختلاف ہے۔کفرابن تیمیہ، کفرابن عبد الوہاب نجدی وکفر اسماعیل دہلوی کفر فقہی ہے،کفر کلامی نہیں۔ کفرفقہی میں فقہا ومتکلمین کا لفظی اختلاف ہوتاہے۔تکفیر کلامی کے علاوہ تکفیر کی متعدد صورتیں ہیں،جن میں اختلاف ہوتا ہے۔ تفصیلی بیان ”البرکات النبویہ“رسالہ دہم میں ہے۔
سوال: دیگرمتکلمین کفرکلامی کی صحت وعدم صحت کا فیصلہ کیسے کرتے ہیں؟
جواب:علمائے متکلمین کوکفر کلامی کا حکم جاری کرنے کی اجازت ہے۔اس سے بالکل واضح ہے کہ کفر کلامی کے صحیح وغیر صحیح ہونے کا علم ممکن ہے،محال نہیں۔اگرکفرکلامی کی صحت وعدم صحت کا علم محال ہوتا تو متکلمین کو بھی کفر کلامی کے فتویٰ سے منع کردیا جاتا جیسے غیر متکلم فقہا کو کفر کلامی کے فتویٰ کی اجازت نہیں دی گئی۔
کفر کلامی کا حکم اس وقت جاری ہوتا ہے جب کسی ضروری دینی کا انکار ہو،اورتمام جہات محتملہ مثلاً کلام
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟
#قسط_چہارم
کفرکلامی کے صحیح فتویٰ میں اختلاف کی گنجائش نہیں
مسئلہ تکفیر تحقیقی ہوتاہے،لیکن تحقیق صحیح کے بعد تکفیر کلامی کامسئلہ ضروریات دین میں شامل ہوجاتا ہے۔اس کے بعد اس کے اقرار وانکارکا وہی حکم ہوگا جوضروریات دین کے اقراروانکارکاحکم ہے۔
جب مفتی اول نے مسئلہ تکفیر کلامی کی صحیح تحقیق کرلی اوروہ ہر اعتبارسے مطمئن ہوگیا تو تحقیق مکمل ہوتے ہی مجرم کو کافرماننا خود مفتی اول پر فرض اورضروریات دین میں سے ہوگیا۔
جب مفتی اول نے اپنی تحقیق سے دوسروں کومطلع کردیا،مثلاً کفر کلامی کا صحیح فتویٰ جاری کردیا تو اب دیگر مومنین کے لیے بھی مجرم کو کافر کلامی ماننا ضروریات دین میں سے ہوگیا۔اب جو ضروریات دین کے احکام ہیں،وہی احکام یہاں نافذہوں گے،یعنی اس تکفیر کلامی کے علم یقینی واطلاع قطعی کے بعداس میں شک،توقف،انکار،تاویل ودیگرمنافی تصدیق امور کا ارتکاب کفر ہوگا۔
مسئلہ تکفیر دائمی طورپر تحقیقی نہیں رہتا ہے۔کفرکلامی کا صحیح فتویٰ جاری ہونے کے بعد دیگرمتکلمین صرف یہ تحقیق کر سکتے ہیں کہ مفتی اول کے لیے تمام جہات محتملہ کس طرح قطعی اور یقینی ہوئی تھیں،اور کافرکلامی کوبہر حال کافر کلامی ماننا فرض ہوگا۔
صرف مفتی اول کو تحقیق وتفتیش کی مدت میں یہ اجمالی عقیدہ رکھنا ہے کہ ملزم عند اللہ جیسا ہے،ہمارے اعتقاد میں بھی ویسا ہی ہے۔ جب اس کے لیے دلائل وشواہد کی روشنی میں مومن یا کافر ہونا یقینی ہوجائے تو جوثابت ہوا، اسی کا اعتقاد رکھے۔ اگر تکفیر کا وہ فتویٰ غلط ہے توعلم ہونے پر مفتی اول کورجوع کرنا اور دیگر علماپر اس کی تردید وتغلیط لازم ہے۔
سوال:دیگر متکلمین کو کیسے معلوم ہوگا کہ تکفیر کلامی کا یہ فتویٰ صحیح ہے یاغلط؟
جواب:تکفیر شخصی یا تکفیر عمومی خواہ تکفیرکلامی ہویا تکفیر فقہی،ہرقسم کے فتویٰ میں مفتی اول وہ تمام تحقیقات ودلائل درج کر تا ہے،تکفیر کے لیے جن دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پرایسے فتاویٰ جاری کیے جانے سے قبل اہل علم سے استصواب رائے بھی کیا جاتا ہے۔دیگر متکلمین وفقہامفتی اول کے دلائل وتحقیقات کی روشنی میں فتویٰ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
جب دیگر قابل اعتماد متکلمین ومفتیان کرام نے بھی اس فتویٰ کو صحیح قرار دیا ہوتو اب اس کی صحت کو جانچنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
کوئی مفتی اپنی تحقیق کے ذریعہ ثابت شدہ کفر کلامی کاانکار نہیں کرسکتا،جیسے آج عہد صدیقی کے مدعیان نبوت کی تکفیر کا منکر کافر قرار پائے گا۔ایسا نہیں قیامت تک ہرمفتی کو اپنی تحقیق پر عمل کرنا ہے۔
اگرکفر کلامی کے صحیح فتویٰ کے بعد کسی کوکچھ شک پیداہوا،اور اسے مجرم کی تکفیر کلامی کا یقینی علم ہے تومحض اپنا شک دور کرنے کے لیے تحقیق کرے،اورتحقیق کی مدت میں بھی کافر کلامی کوکافر کلامی اعتقاد کرے۔تحقیق کے نام پر کفرکلامی کے صحیح فتویٰ سے اختلاف یا توقف کی اجازت نہیں،کیوں کہ اس کو کفرکا علم یقینی ہے۔
ایک صورت یہ ہے کہ کسی کومجرم مثلاًتھانوی کی تکفیر کی خبرغیر قطعی وغیرظنی صورت میں ملی،مثلاً تکفیر وعدم تکفیر کی متضاد روایتیں موصول ہوئیں،یہا ں تک کہ تھانوی کی تکفیر اس کے لیے مشکوک ہوگئی تو وہ فی الحال یہ عقیدہ رکھے کہ عند اللہ وہ جیسا تھا،ہمارے اعتقاد میں بھی ویسا ہی ہے اور بلاتاخیر حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرے۔
اگرکوئی اپنا شک دورکرنے کے واسطے تحقیق وتفتیش نہ کرے، بلکہ یہ اجمالی عقید ہ بنالے کہ وہ عند اللہ جیساہے،وہ ہماری نظر میں بھی ویسا ہی ہے تو یہ توقف ہے،اورضروریات دین میں توقف کفر ہے،اور ضروریات اہل سنت میں توقف ضلالت وگمرہی ہے۔
ظنی وفقہی یعنی اجتہاد ی امور میں عدم ظہور حقیقت کے وقت توقف کی اجازت ہے۔ حضرات ائمہ مجتہدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا بعض امور اجتہادیہ میں ”لا ادری“فرمانا اسی قبیل سے ہے۔حضرت اما م اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کفر یزید سے توقف بھی اسی قبیل سے ہے۔ تعارض روایات کے سبب کفر یزید،ایمان ابوطالب،ایمان ابوین کر یمین اجتہادیات میں داخل ہیں،اسی لیے علما کا اختلاف ہے۔کفرابن تیمیہ، کفرابن عبد الوہاب نجدی وکفر اسماعیل دہلوی کفر فقہی ہے،کفر کلامی نہیں۔ کفرفقہی میں فقہا ومتکلمین کا لفظی اختلاف ہوتاہے۔تکفیر کلامی کے علاوہ تکفیر کی متعدد صورتیں ہیں،جن میں اختلاف ہوتا ہے۔ تفصیلی بیان ”البرکات النبویہ“رسالہ دہم میں ہے۔
سوال: دیگرمتکلمین کفرکلامی کی صحت وعدم صحت کا فیصلہ کیسے کرتے ہیں؟
جواب:علمائے متکلمین کوکفر کلامی کا حکم جاری کرنے کی اجازت ہے۔اس سے بالکل واضح ہے کہ کفر کلامی کے صحیح وغیر صحیح ہونے کا علم ممکن ہے،محال نہیں۔اگرکفرکلامی کی صحت وعدم صحت کا علم محال ہوتا تو متکلمین کو بھی کفر کلامی کے فتویٰ سے منع کردیا جاتا جیسے غیر متکلم فقہا کو کفر کلامی کے فتویٰ کی اجازت نہیں دی گئی۔
کفر کلامی کا حکم اس وقت جاری ہوتا ہے جب کسی ضروری دینی کا انکار ہو،اورتمام جہات محتملہ مثلاً کلام
،متکلم اورتکلم میں احتمال بلادلیل بھی باقی نہ رہے۔جس میں احتمال بلا دلیل بھی نہ ہو،اسی کو قطعی بالمعنی الاخص کہا جاتا ہے۔
کفرکلامی کے فتویٰ کوجانچنے کے لیے دیگر متکلمین بھی انہی امور پر غور کرتے ہیں،جن امورکی تحقیق مفتی اول کو کرنی ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ مفتی اول کی تحقیق میں اگر کوئی شرط مفقود ہوگی تو وہ کفر کا فتویٰ نہیں دے گا اور فتویٰ جاری ہونے کے بعددیگرعلماکو کسی شرط کے وجود میں کوئی شک ہوا تو مفتی اول سے رجوع کرنا ہے۔اگر وہ نہ ہوتو دیگر اہل علم سے رجوع کرے جو حقائق پر مطلع ہوں۔
دیگر علما کو اگر تحقیق سے یہ معلوم ہوگیا کہ مفتی اول نے تحقیق میں خطا کی ہے،تب اسے انکار کا حق ہوگا،کیوں کہ تحقیق اول میں خطا کے سبب تکفیر کلامی کا وہ مسئلہ ضروریات دین میں شامل ہی نہ ہوسکا،پھراس میں اختلاف کو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ضروری دینی میں اختلاف ہوا ہے،جیسے حضرت شیخ اکبر قدس سرہ العزیز کی تکفیر میں احتمال فی التکلم موجود ہے،کیوں کہ کتاب کے مطبوعہ نسخہ میں تحریف کا امکان ہے۔
ہاں،اگر مفتی اول کا فتویٰ صحیح تھا تو تکفیر کلامی کا وہ مسئلہ ضروریات دین میں شامل ہوگیا۔اب بعد کے کسی مفتی کواپنی تحقیق کی بنیاد پر اختلاف کا حق حاصل نہیں،کیوں کہ ضروری دینی میں اجتہاد کے ذریعہ نئی راہ اختیار کرنے والا مر تدہے۔
کفرکلامی میں ساری محتمل جہات قطعی بالمعنی الاخص ہوجاتی ہیں۔قطعی بالمعنی الاخص میں عوام وخواص کسی کا اختلاف نہیں ہوتا۔اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ قطعی بالمعنی الاخص کااحتمال بالدلیل اوراحتمال بلادلیل سے پاک ہونا عوام کے لیے بھی واضح ہوتا ہے۔
جب قطعی بالمعنی الاخص کی قطعیت اس قد ر روشن ہوتی ہے تو پھر کفرکلامی کی صحت وعدم صحت بھی سب کے لیے یقینا قابل فہم ہو گی۔ماننا اور نہ ماننا الگ بات ہے۔فرقہ سوفسطائیہ اور فرقہ لاادریہ موجود چیزوں کابھی انکارکرتے ہیں۔ایسے انکار کا کوئی اعتبار نہیں۔ اہل علم کا قطعی بالمعنی الاعم میں بھی اختلاف نہیں ہوتا اور قطعی بالمعنی الاخص میں توعوام وخواص کسی کا اختلاف نہیں ہوتا۔
طارق انور مصباحی
رکن :روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:12:نومبر 2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/807985843105269/
کفرکلامی کے فتویٰ کوجانچنے کے لیے دیگر متکلمین بھی انہی امور پر غور کرتے ہیں،جن امورکی تحقیق مفتی اول کو کرنی ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ مفتی اول کی تحقیق میں اگر کوئی شرط مفقود ہوگی تو وہ کفر کا فتویٰ نہیں دے گا اور فتویٰ جاری ہونے کے بعددیگرعلماکو کسی شرط کے وجود میں کوئی شک ہوا تو مفتی اول سے رجوع کرنا ہے۔اگر وہ نہ ہوتو دیگر اہل علم سے رجوع کرے جو حقائق پر مطلع ہوں۔
دیگر علما کو اگر تحقیق سے یہ معلوم ہوگیا کہ مفتی اول نے تحقیق میں خطا کی ہے،تب اسے انکار کا حق ہوگا،کیوں کہ تحقیق اول میں خطا کے سبب تکفیر کلامی کا وہ مسئلہ ضروریات دین میں شامل ہی نہ ہوسکا،پھراس میں اختلاف کو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ضروری دینی میں اختلاف ہوا ہے،جیسے حضرت شیخ اکبر قدس سرہ العزیز کی تکفیر میں احتمال فی التکلم موجود ہے،کیوں کہ کتاب کے مطبوعہ نسخہ میں تحریف کا امکان ہے۔
ہاں،اگر مفتی اول کا فتویٰ صحیح تھا تو تکفیر کلامی کا وہ مسئلہ ضروریات دین میں شامل ہوگیا۔اب بعد کے کسی مفتی کواپنی تحقیق کی بنیاد پر اختلاف کا حق حاصل نہیں،کیوں کہ ضروری دینی میں اجتہاد کے ذریعہ نئی راہ اختیار کرنے والا مر تدہے۔
کفرکلامی میں ساری محتمل جہات قطعی بالمعنی الاخص ہوجاتی ہیں۔قطعی بالمعنی الاخص میں عوام وخواص کسی کا اختلاف نہیں ہوتا۔اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ قطعی بالمعنی الاخص کااحتمال بالدلیل اوراحتمال بلادلیل سے پاک ہونا عوام کے لیے بھی واضح ہوتا ہے۔
جب قطعی بالمعنی الاخص کی قطعیت اس قد ر روشن ہوتی ہے تو پھر کفرکلامی کی صحت وعدم صحت بھی سب کے لیے یقینا قابل فہم ہو گی۔ماننا اور نہ ماننا الگ بات ہے۔فرقہ سوفسطائیہ اور فرقہ لاادریہ موجود چیزوں کابھی انکارکرتے ہیں۔ایسے انکار کا کوئی اعتبار نہیں۔ اہل علم کا قطعی بالمعنی الاعم میں بھی اختلاف نہیں ہوتا اور قطعی بالمعنی الاخص میں توعوام وخواص کسی کا اختلاف نہیں ہوتا۔
طارق انور مصباحی
رکن :روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:12:نومبر 2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/807985843105269/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟
#قسط_سوم
جب مفتی اول نے تحقیق وتنقیح کے بعدکفر کلامی کا صحیح فتویٰ جاری فرمادیا تومجر م کوکافر کلامی ماننا ضروریات دین کا ایک مسئلہ ہوگیا۔
اب جو حکم ضروریات دین کا ہے،وہی حکم اس مسئلے کا ہوگا،جیسے ضروریات دین کے علم قطعی کے بعد اس کی تصدیق فرض قطعی اور اس کا انکار کفر کلامی ہے۔اسی طر ح علم قطعی کے بعد اس کفر کلامی کی تصدیق فرض قطعی اوراس کا انکار کفرکلامی ہوگا۔
ضروریات دین کا قطعی علم عالم کو ہویاجاہل کو،دونوں کے لیے اس کی تصدیق فرض قطعی ہے۔اسی طرح کفر کلامی کا علم قطعی عالم کوہویا جاہل کو۔علم قطعی کے بعد دونوں کواس کی تصدیق فرض قطعی ہے۔
فرقہ بجنوریہ قادیانی کو مرتد مانتا ہے،اور اشخاص اربعہ کے کفر کے انکار کے لیے حیلے تلاش کر تا ہے۔ بعض لو گ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ اشخاص اربعہ کوکافرماننا ضروری دینی کیسے ہوگیا۔ان لوگوں سے سوال ہے کہ قادیانی کو کافر ماننا ضروری دینی ماننا کب سے ثابت ہوا؟ قادیانی نہ عہد رسالت میں تھا،نہ ہی قرآن وحدیث یا اجماع متصل میں اس کی تکفیر کا ذکر ہے؟ قادیانی کے کافر ہونے کے لیے جو قانون ہوگا،وہی قانون اشخاص اربعہ کے لیے ہوگا۔
اگر قادیانی کو کافر ماننا ضروریات دین میں سے ہے تو اشخاص اربعہ کو کافرماننا بھی ضروریات دین میں سے ہوگا۔
جو سوالات اشخاص اربعہ کی تکفیر پر اٹھائے جاتے ہیں،وہی تمام سوالات قادیانی کی تکفیر پر ہوں گے،لیکن فرقہ بجنوریہ قادیانی کی تکفیر کوضروری دینی مانتا ہے،اور اشخاص اربعہ کی تکفیرکوغلط قرار دیتا ہے۔
علم الٰہی قدیم ہے۔علم خداوندی میں ضروری دینی اورغیرضروری دینی کا ثبوت ازل سے ہے۔ بندوں کے لیے اس کا ثبوت وقت کے ساتھ مقید ہے۔
جب ہمارے رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام معراج میں تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے پچا س نمازیں فرض فرمائیں تو پچاس نمازوں کی فرضیت ضروری دینی ہوگئی،پھر آخرکار پانچ نماز باقی رہی۔
جب پہلی بار دس نماز کی تخفیف ہوئی تو صرف چالیس کی فرضیت ضروری دینی رہی،پھر دوسری بار میں تیس کی، تیسری بار میں بیس کی،چوتھی بار میں دس کی اور پانچویں بار میں پانچ کی فرضیت ضروری دینی رہی،اورچوں کہ چھٹی بار تخفیف کی طلب کے واسطے بارگاہ الٰہی میں واپسی نہ ہوئی توان پانچ کی فرضیت مستحکم ہوگئی۔ایک ہی شب میں کبھی پچاس نمازوں کی فرضیت ضروری دینی قرارپائی،پھر کچھ وقت بعد چالیس کی فرضیت،پھر تیس کی فرضیت،پھربیس کی فرضیت،پھر دس کی فرضیت،پھر پانچ کی فرضیت ضروری دینی قرار پائی۔
نماز کی فرضیت کا ثبوت بندوں کے لیے کسی وقت میں ہورہا ہے۔
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علم میں کبھی پچاس کی فرضیت تھی،کبھی چالیس کی،کبھی تیس،کبھی بیس اور کبھی دس کی،پھر انجام کار پانچ کی فرضیت باقی رہی۔جب پچاس کی فرضیت علم نبوی میں تھی تواس وقت پینتالیس نمازوں کوالگ کر کے محض پانچ کی فرضیت کاعلم نہیں،کیوں کہ محض پانچ فرض ہی نہیں تو محض پانچ کی فرضیت کا علم کیسے ہوگا۔یہ توخلاف حقیقت بات ہوگی۔
اگرحضوراقدس عالم ما کان ومایکون صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوعطائے خداوندی سے علم غیب کے طورپر یہ معلوم بھی ہوکہ انجام کار صرف پانچ کی فرضیت باقی رہے گی تو جب تک کچھ تخفیف نہیں ہوئی،اس وقت تک پچاس کی فرضیت کا اعتقاد رکھنا ہے اور پچاس کی فرضیت اس وقت ضروری دینی ہے۔
الحاصل ایک وقت آیاکہ محض پانچ کی فرضیت ثابت رہی اورمحض پانچ کی فرضیت کا علم جس وقت حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہوا، اسی وقت سے باقی کوالگ کرکے محض پانچ کی فرضیت ضروری دینی باقی رہی،پھر جس صحابی کو جس وقت زبان نبوی سے یا خبرمتواتر کے ذریعہ نماز کی فرضیت کا علم ہوا،اسی وقت نمازکی فرضیت ان صحابی کے حق میں ضروری دینی ہوگئی۔
جس وقت روزہ کی فرضیت کی آیت نازل ہوئی،اسی وقت سے روزہ کی فرضیت ضروری دینی ہوگئی،پھر جس صحابی کو جس وقت زبان نبوی سے یا خبرمتواتر سے روزہ کی فرضیت کا علم ہوا،اسی وقت روزہ کی فرضیت ان صحابی کے حق میں ضروری دینی ہوگئی۔
الحاصل بندوں کے حق میں ضروری دینی کے ثبوت مطلق کا تعلق بھی وقت سے ہے اور خاص کر فلاں مومن کے حق میں کسی ضروری دینی کی ضرورت کا ثبوت بھی علم یقینی کے وقت سے مقید ہے،یعنی جب اس مومن کو اس امر کا یقینی علم ہوگا،اس وقت وہ اس کے حق میں ضروری دینی ہو گا۔
علم الٰہی میں کوئی امر وقت سے مقید نہیں،بلکہ علم الٰہی قدیم ہے۔قدیم کا وقت سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ علم الٰہی میں کسی ضروری دینی کا ضروری دینی ہوناوقت سے مقید نہیں ہوگا۔
بندوں کے حق میں ضروری دینی کا ثبوت وقت سے مقید ہے،مثلاً جب روزہ کی فرضیت کی آیت نازل ہوئی،تو روزہ کی فرضیت ضروریات دین میں سے ہو گئی۔اب ہرخاص مومن کے حق میں اس کا ضروری دینی ہونا اس وقت ثابت ہوگا،جب اس کو یقینی طورپر اس کا علم ہوجائے۔اگراس کا علم ہے،لیکن ظنی علم ہے تو ابھی یہ امر اس کے حق میں ضروری دینی نہیں۔جب یقینی علم ہوگا,تب وہ اس کے حق میں ض
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟
#قسط_سوم
جب مفتی اول نے تحقیق وتنقیح کے بعدکفر کلامی کا صحیح فتویٰ جاری فرمادیا تومجر م کوکافر کلامی ماننا ضروریات دین کا ایک مسئلہ ہوگیا۔
اب جو حکم ضروریات دین کا ہے،وہی حکم اس مسئلے کا ہوگا،جیسے ضروریات دین کے علم قطعی کے بعد اس کی تصدیق فرض قطعی اور اس کا انکار کفر کلامی ہے۔اسی طر ح علم قطعی کے بعد اس کفر کلامی کی تصدیق فرض قطعی اوراس کا انکار کفرکلامی ہوگا۔
ضروریات دین کا قطعی علم عالم کو ہویاجاہل کو،دونوں کے لیے اس کی تصدیق فرض قطعی ہے۔اسی طرح کفر کلامی کا علم قطعی عالم کوہویا جاہل کو۔علم قطعی کے بعد دونوں کواس کی تصدیق فرض قطعی ہے۔
فرقہ بجنوریہ قادیانی کو مرتد مانتا ہے،اور اشخاص اربعہ کے کفر کے انکار کے لیے حیلے تلاش کر تا ہے۔ بعض لو گ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ اشخاص اربعہ کوکافرماننا ضروری دینی کیسے ہوگیا۔ان لوگوں سے سوال ہے کہ قادیانی کو کافر ماننا ضروری دینی ماننا کب سے ثابت ہوا؟ قادیانی نہ عہد رسالت میں تھا،نہ ہی قرآن وحدیث یا اجماع متصل میں اس کی تکفیر کا ذکر ہے؟ قادیانی کے کافر ہونے کے لیے جو قانون ہوگا،وہی قانون اشخاص اربعہ کے لیے ہوگا۔
اگر قادیانی کو کافر ماننا ضروریات دین میں سے ہے تو اشخاص اربعہ کو کافرماننا بھی ضروریات دین میں سے ہوگا۔
جو سوالات اشخاص اربعہ کی تکفیر پر اٹھائے جاتے ہیں،وہی تمام سوالات قادیانی کی تکفیر پر ہوں گے،لیکن فرقہ بجنوریہ قادیانی کی تکفیر کوضروری دینی مانتا ہے،اور اشخاص اربعہ کی تکفیرکوغلط قرار دیتا ہے۔
علم الٰہی قدیم ہے۔علم خداوندی میں ضروری دینی اورغیرضروری دینی کا ثبوت ازل سے ہے۔ بندوں کے لیے اس کا ثبوت وقت کے ساتھ مقید ہے۔
جب ہمارے رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام معراج میں تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے پچا س نمازیں فرض فرمائیں تو پچاس نمازوں کی فرضیت ضروری دینی ہوگئی،پھر آخرکار پانچ نماز باقی رہی۔
جب پہلی بار دس نماز کی تخفیف ہوئی تو صرف چالیس کی فرضیت ضروری دینی رہی،پھر دوسری بار میں تیس کی، تیسری بار میں بیس کی،چوتھی بار میں دس کی اور پانچویں بار میں پانچ کی فرضیت ضروری دینی رہی،اورچوں کہ چھٹی بار تخفیف کی طلب کے واسطے بارگاہ الٰہی میں واپسی نہ ہوئی توان پانچ کی فرضیت مستحکم ہوگئی۔ایک ہی شب میں کبھی پچاس نمازوں کی فرضیت ضروری دینی قرارپائی،پھر کچھ وقت بعد چالیس کی فرضیت،پھر تیس کی فرضیت،پھربیس کی فرضیت،پھر دس کی فرضیت،پھر پانچ کی فرضیت ضروری دینی قرار پائی۔
نماز کی فرضیت کا ثبوت بندوں کے لیے کسی وقت میں ہورہا ہے۔
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علم میں کبھی پچاس کی فرضیت تھی،کبھی چالیس کی،کبھی تیس،کبھی بیس اور کبھی دس کی،پھر انجام کار پانچ کی فرضیت باقی رہی۔جب پچاس کی فرضیت علم نبوی میں تھی تواس وقت پینتالیس نمازوں کوالگ کر کے محض پانچ کی فرضیت کاعلم نہیں،کیوں کہ محض پانچ فرض ہی نہیں تو محض پانچ کی فرضیت کا علم کیسے ہوگا۔یہ توخلاف حقیقت بات ہوگی۔
اگرحضوراقدس عالم ما کان ومایکون صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوعطائے خداوندی سے علم غیب کے طورپر یہ معلوم بھی ہوکہ انجام کار صرف پانچ کی فرضیت باقی رہے گی تو جب تک کچھ تخفیف نہیں ہوئی،اس وقت تک پچاس کی فرضیت کا اعتقاد رکھنا ہے اور پچاس کی فرضیت اس وقت ضروری دینی ہے۔
الحاصل ایک وقت آیاکہ محض پانچ کی فرضیت ثابت رہی اورمحض پانچ کی فرضیت کا علم جس وقت حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہوا، اسی وقت سے باقی کوالگ کرکے محض پانچ کی فرضیت ضروری دینی باقی رہی،پھر جس صحابی کو جس وقت زبان نبوی سے یا خبرمتواتر کے ذریعہ نماز کی فرضیت کا علم ہوا،اسی وقت نمازکی فرضیت ان صحابی کے حق میں ضروری دینی ہوگئی۔
جس وقت روزہ کی فرضیت کی آیت نازل ہوئی،اسی وقت سے روزہ کی فرضیت ضروری دینی ہوگئی،پھر جس صحابی کو جس وقت زبان نبوی سے یا خبرمتواتر سے روزہ کی فرضیت کا علم ہوا،اسی وقت روزہ کی فرضیت ان صحابی کے حق میں ضروری دینی ہوگئی۔
الحاصل بندوں کے حق میں ضروری دینی کے ثبوت مطلق کا تعلق بھی وقت سے ہے اور خاص کر فلاں مومن کے حق میں کسی ضروری دینی کی ضرورت کا ثبوت بھی علم یقینی کے وقت سے مقید ہے،یعنی جب اس مومن کو اس امر کا یقینی علم ہوگا،اس وقت وہ اس کے حق میں ضروری دینی ہو گا۔
علم الٰہی میں کوئی امر وقت سے مقید نہیں،بلکہ علم الٰہی قدیم ہے۔قدیم کا وقت سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ علم الٰہی میں کسی ضروری دینی کا ضروری دینی ہوناوقت سے مقید نہیں ہوگا۔
بندوں کے حق میں ضروری دینی کا ثبوت وقت سے مقید ہے،مثلاً جب روزہ کی فرضیت کی آیت نازل ہوئی،تو روزہ کی فرضیت ضروریات دین میں سے ہو گئی۔اب ہرخاص مومن کے حق میں اس کا ضروری دینی ہونا اس وقت ثابت ہوگا،جب اس کو یقینی طورپر اس کا علم ہوجائے۔اگراس کا علم ہے،لیکن ظنی علم ہے تو ابھی یہ امر اس کے حق میں ضروری دینی نہیں۔جب یقینی علم ہوگا,تب وہ اس کے حق میں ض