🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
السلام عليكم

ایک خود کشی کرنے والے پیر کا کیا حکم ہے۔
وعلیکم السلام و رحمة الله تعالى وبركاته
اس آدمی سے نسبت منقطع ہوجائے گی بلکہ کبھی تھی ہی نہیں.
امام اہل سنت فرماتے ہیں: ان قتل نفسه اشد من قتل مؤمن غیرہ، وقتل المؤمن اکبر عند الله من ترك الصلاۃ. (فتاوی رضویہ، ١٠٤/٥)
خودکشی کرنا دوسرے مومن کو قتل کرنے سے زیادہ شدید جرم ہے اور مومن کو قتل کرنا نماز چھوڑنے سے بڑا گناہ ہے.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت ایک شخص اپنے آپکو سید کہتا ہے اور کہتا ہے اگر سر سید احمد کو کوئی مسلمان نہیں سمجھتا تو میں اس کو مسلمان نہیں سمجھتا اور یہ سرسیداحمد کون تھا
وعلیکم السلام ورحمة الله تعالى وبركاته
احمد خان (انگریزی ایجنٹ) کافر تھا جو اس کے کفر میں شک کرے اسی کی طرح ہے اور کافر سید نہیں ہوتا. جیسا کہ امام ابن حجر ہیثمی نے فرمایا کہ انبیاء کرام سے ان کا نسب منقطع ہوجاتا ہے. اور اللهﷻ نوح علیہ السلام کے بیٹے کنعان کے بارے میں فرماتا ہے: یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ. اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ (اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں). والله تعالی اعلم
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ حدیث مجھے اب تک نہیں ملی.
ان شاء الله ملتے ہی بھیجتا ہوں
.

اگر کوئی سید کافر ہوجائے تو وہ سید نہیں ہوتا بلکہ اس کا نسب رسول سے منقطع ہوتا ہے یا ہوجاتا ہے.
جس طرح کافر کا نسب آدم علیہ السلام سے منقطع ہوجاتا ہے
امام اہل سنت فرماتے ہیں:
سادات کرام کی تعظیم ہمیشہ جب تک ان کی بد مذہبی حد کفر کو نہ پہنچے کہ اس کے بعدوہ سید ہی نہیں نسب منقطع ہے.

قال الله تعالي: قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّهٗ لَیۡسَ مِنۡ اَھۡلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ. (سورۃ هود، ٤٦)
اللہ تعالی نے فرمایا: اے نوح! وہ (کنعان) تیرے (اہل) گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں.
جیسے نیچری، قادیانی، وہابی غیر مقلد، دیوبندی اگرچہ سید مشہور ہوں نہ سید ہیں نہ ان کی تعظیم حلال بلکہ توہین وتکفیر فرض. (فتاوی رضویہ، ٤٢٠/٢٢)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
आ़लमे इस्लाम को ई़दे ग़ौसिया मुबारक
ग़ौस पाक की ¹¹ आ़दतें अपना लीजिये
जो शख़्स़ एक बालिश्त ज़मीन ज़ुल्म से
ग़ौसुल आ़ज़म की साबित क़दमी
ग़ौस पाक मुस़ीबत दूर फ़रमा देते हैं!
आप की नज़र हमेशा लौह़े मह़फ़ूज़ पर
आप की करामत तवातुर से गुज़री हैं!
आप से बढ़ कर स़ाह़िबे करामत .....
आप की आवाज़ 70 हज़ार लोगों तक
आप का क़दम मुबारक हर वली के ...
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟
#قسط_چہارم

کفرکلامی کے صحیح فتویٰ میں اختلاف کی گنجائش نہیں

مسئلہ تکفیر تحقیقی ہوتاہے،لیکن تحقیق صحیح کے بعد تکفیر کلامی کامسئلہ ضروریات دین میں شامل ہوجاتا ہے۔اس کے بعد اس کے اقرار وانکارکا وہی حکم ہوگا جوضروریات دین کے اقراروانکارکاحکم ہے۔

جب مفتی اول نے مسئلہ تکفیر کلامی کی صحیح تحقیق کرلی اوروہ ہر اعتبارسے مطمئن ہوگیا تو تحقیق مکمل ہوتے ہی مجرم کو کافرماننا خود مفتی اول پر فرض اورضروریات دین میں سے ہوگیا۔

جب مفتی اول نے اپنی تحقیق سے دوسروں کومطلع کردیا،مثلاً کفر کلامی کا صحیح فتویٰ جاری کردیا تو اب دیگر مومنین کے لیے بھی مجرم کو کافر کلامی ماننا ضروریات دین میں سے ہوگیا۔اب جو ضروریات دین کے احکام ہیں،وہی احکام یہاں نافذہوں گے،یعنی اس تکفیر کلامی کے علم یقینی واطلاع قطعی کے بعداس میں شک،توقف،انکار،تاویل ودیگرمنافی تصدیق امور کا ارتکاب کفر ہوگا۔

مسئلہ تکفیر دائمی طورپر تحقیقی نہیں رہتا ہے۔کفرکلامی کا صحیح فتویٰ جاری ہونے کے بعد دیگرمتکلمین صرف یہ تحقیق کر سکتے ہیں کہ مفتی اول کے لیے تمام جہات محتملہ کس طرح قطعی اور یقینی ہوئی تھیں،اور کافرکلامی کوبہر حال کافر کلامی ماننا فرض ہوگا۔

صرف مفتی اول کو تحقیق وتفتیش کی مدت میں یہ اجمالی عقیدہ رکھنا ہے کہ ملزم عند اللہ جیسا ہے،ہمارے اعتقاد میں بھی ویسا ہی ہے۔ جب اس کے لیے دلائل وشواہد کی روشنی میں مومن یا کافر ہونا یقینی ہوجائے تو جوثابت ہوا، اسی کا اعتقاد رکھے۔ اگر تکفیر کا وہ فتویٰ غلط ہے توعلم ہونے پر مفتی اول کورجوع کرنا اور دیگر علماپر اس کی تردید وتغلیط لازم ہے۔

سوال:دیگر متکلمین کو کیسے معلوم ہوگا کہ تکفیر کلامی کا یہ فتویٰ صحیح ہے یاغلط؟

جواب:تکفیر شخصی یا تکفیر عمومی خواہ تکفیرکلامی ہویا تکفیر فقہی،ہرقسم کے فتویٰ میں مفتی اول وہ تمام تحقیقات ودلائل درج کر تا ہے،تکفیر کے لیے جن دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پرایسے فتاویٰ جاری کیے جانے سے قبل اہل علم سے استصواب رائے بھی کیا جاتا ہے۔دیگر متکلمین وفقہامفتی اول کے دلائل وتحقیقات کی روشنی میں فتویٰ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

جب دیگر قابل اعتماد متکلمین ومفتیان کرام نے بھی اس فتویٰ کو صحیح قرار دیا ہوتو اب اس کی صحت کو جانچنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

کوئی مفتی اپنی تحقیق کے ذریعہ ثابت شدہ کفر کلامی کاانکار نہیں کرسکتا،جیسے آج عہد صدیقی کے مدعیان نبوت کی تکفیر کا منکر کافر قرار پائے گا۔ایسا نہیں قیامت تک ہرمفتی کو اپنی تحقیق پر عمل کرنا ہے۔

اگرکفر کلامی کے صحیح فتویٰ کے بعد کسی کوکچھ شک پیداہوا،اور اسے مجرم کی تکفیر کلامی کا یقینی علم ہے تومحض اپنا شک دور کرنے کے لیے تحقیق کرے،اورتحقیق کی مدت میں بھی کافر کلامی کوکافر کلامی اعتقاد کرے۔تحقیق کے نام پر کفرکلامی کے صحیح فتویٰ سے اختلاف یا توقف کی اجازت نہیں،کیوں کہ اس کو کفرکا علم یقینی ہے۔

ایک صورت یہ ہے کہ کسی کومجرم مثلاًتھانوی کی تکفیر کی خبرغیر قطعی وغیرظنی صورت میں ملی،مثلاً تکفیر وعدم تکفیر کی متضاد روایتیں موصول ہوئیں،یہا ں تک کہ تھانوی کی تکفیر اس کے لیے مشکوک ہوگئی تو وہ فی الحال یہ عقیدہ رکھے کہ عند اللہ وہ جیسا تھا،ہمارے اعتقاد میں بھی ویسا ہی ہے اور بلاتاخیر حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرے۔

اگرکوئی اپنا شک دورکرنے کے واسطے تحقیق وتفتیش نہ کرے، بلکہ یہ اجمالی عقید ہ بنالے کہ وہ عند اللہ جیساہے،وہ ہماری نظر میں بھی ویسا ہی ہے تو یہ توقف ہے،اورضروریات دین میں توقف کفر ہے،اور ضروریات اہل سنت میں توقف ضلالت وگمرہی ہے۔

ظنی وفقہی یعنی اجتہاد ی امور میں عدم ظہور حقیقت کے وقت توقف کی اجازت ہے۔ حضرات ائمہ مجتہدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا بعض امور اجتہادیہ میں ”لا ادری“فرمانا اسی قبیل سے ہے۔حضرت اما م اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کفر یزید سے توقف بھی اسی قبیل سے ہے۔ تعارض روایات کے سبب کفر یزید،ایمان ابوطالب،ایمان ابوین کر یمین اجتہادیات میں داخل ہیں،اسی لیے علما کا اختلاف ہے۔کفرابن تیمیہ، کفرابن عبد الوہاب نجدی وکفر اسماعیل دہلوی کفر فقہی ہے،کفر کلامی نہیں۔ کفرفقہی میں فقہا ومتکلمین کا لفظی اختلاف ہوتاہے۔تکفیر کلامی کے علاوہ تکفیر کی متعدد صورتیں ہیں،جن میں اختلاف ہوتا ہے۔ تفصیلی بیان ”البرکات النبویہ“رسالہ دہم میں ہے۔

سوال: دیگرمتکلمین کفرکلامی کی صحت وعدم صحت کا فیصلہ کیسے کرتے ہیں؟

جواب:علمائے متکلمین کوکفر کلامی کا حکم جاری کرنے کی اجازت ہے۔اس سے بالکل واضح ہے کہ کفر کلامی کے صحیح وغیر صحیح ہونے کا علم ممکن ہے،محال نہیں۔اگرکفرکلامی کی صحت وعدم صحت کا علم محال ہوتا تو متکلمین کو بھی کفر کلامی کے فتویٰ سے منع کردیا جاتا جیسے غیر متکلم فقہا کو کفر کلامی کے فتویٰ کی اجازت نہیں دی گئی۔

کفر کلامی کا حکم اس وقت جاری ہوتا ہے جب کسی ضروری دینی کا انکار ہو،اورتمام جہات محتملہ مثلاً کلام