📚یزید کو ’’رحمۃ اﷲ علیہ‘‘ کہنا ناصبی ہونے کی علامت ہے
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یزید بے شک پلید تھا۔ اسے پلید کہنا اور لکھنا جائز ہے اور اسے ’’رحمۃ اﷲ علیہ‘‘ نہ کہے گا مگر ناصبی کہ اہلبیت رسالت کا دشمن ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 14، ص 603، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یزید بے شک پلید تھا۔ اسے پلید کہنا اور لکھنا جائز ہے اور اسے ’’رحمۃ اﷲ علیہ‘‘ نہ کہے گا مگر ناصبی کہ اہلبیت رسالت کا دشمن ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 14، ص 603، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
*السوال :-*
*زوجین کے درمیان رضاعت ثابت ہونےکے لئے کتنے گواہوں کا ہونا ضروری ہے؟؟*
*کیا تنہامرضعہ کی گواہی رضاعت کے ثبوت کے لئے کافی ہے؟*
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں
الجواب بعون الملک الوھاب ،،صورت مسئولہ میں زوجین کے درمیان حرمت رضاعت ثابت ہونے کے لئے دومرد یا ایک مرد اور دوعورتیں عادل گواہوں کا ہونا شرط ہے اگرچہ وہ عورت خود دودھ پلانے والی ہو فقط دودھ پلانے والی یا دوعوتوں کی گواہی سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی ،البتہ اگر صرف ایک عورت ہی گواہی دے کہ میں نے تم دونوں کو یا تم میں سے ایک کو دودھ پلایا ہے اگر شوہر یازوجین اقرار کرلے تو نکاح فاسد اور اگر دونوں اس بات کی نفی کریں تو بہتر جدائ ہے اور اگرعورت کو جدا نہ کرے جب بھی حرج نہیں جیسا کہ اعلحضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ،،رہا مسئلہ رضاعت، ہمارے مذہب میں ایک عورت کا بیان ثبوت رضاعت کے لیے کافی نہیں خصوصا جبکہ خود مضطرب ہو،
اس سے احتیاطاً بچنا صرف مرتبہ استحباب میں ہے اور فعل غایت درجہ مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولٰی کہ نہ کرے تو بہتر، کرے توکچھ گناہ نہیں،
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل تزوج امرأۃ فاخبر رجل مسلم ثقۃ اوامرأۃ انھما ارتضعا من امرأۃ واحدۃ قال فی الکتاب احب الی ان یتنزہ فیطلقھا ویعطیھا نصف المھر ان لم یدخل بھا ولایثبت الحرمۃ بخبر الواحد عندنا مالم یشھد بہ رجلان اورجل وامرأتان،
( فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ فصل فیما یقبل قول الواحد الخ نولکشور لکھنؤ ۴/۷۸۷) فتاوی رضویہ جدید11/31)
اور حضور صدر الشریعہ بہارشریعت میں فرماتے ہیں ،، رضاع کے ثبوت کے لیے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں عادل گواہ ہوں اگرچہ وہ عورت خود دودھ پلانے والی ہو، فقط عورتوں کی شہادت سے ثبوت نہ ہوگا مگر بہتر یہ ہے کہ عورتوں کے کہنے سے بھی جدائی کرلے۔( بہار شریعت7 /33)
اور دورسری جگہ فرماتے ہیں ،،کسی عورت سے نکاح کیا اور ایک عورت نے آکر کہا، میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اگر شوہر یا دونوں اس کے کہنے کو سچ سمجھتے ہوں تو نکاح فاسد ہے اور وطی نہ کی ہو تو مہر کچھ نہیں اور اگر دونوں اس کی بات جھوٹی سمجھتے ہوں تو بہتر جدائی ہے اگر وہ عورت عادلہ ہے، پھر اگر وطی نہ ہوئی ہو تو مرد کو افضل یہ ہے کہ نصف مہر دے اور عورت کو افضل یہ ہے کہ نہ لے اور وطی ہوئی ہو تو افضل یہ ہے کہ پورا مہر دے اور نان نفقہ بھی اور عورت کو افضل یہ ہے کہ مہر مثل اور مہر مقرر شدہ میں جو کم ہے وہ لے اور اگر عورت کو جدا نہ کرے جب بھی حرج نہیں ۔ یوہیں تصدیق کی اور شوہر نے تکذیب تو نکاح فاسد نہیں مگرزوجہ شوہر سے حلف لے سکتی ہے اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو تفریق کر دی جائے۔(ایضا)اور فتاوی عالمگیری مع خانیہ میں ہے ،،الرضاع یظھر باحد امرین احدھما الاقرار واالثانی البینت کذا فی البدائع ۔ولا یقبل فی الرضاع الا شھادت رجلین اورجل وامرآتین عدول کذا فی المحیط (1/347)واللہ اعلم باصواب ،ھذا ماظھر لی والعلم عند ربی
کتبہ محمد زاھد حسین امجدی
خادم التدریس والافتاء
دارالعلوم سبحانیہ بھساول
*زوجین کے درمیان رضاعت ثابت ہونےکے لئے کتنے گواہوں کا ہونا ضروری ہے؟؟*
*کیا تنہامرضعہ کی گواہی رضاعت کے ثبوت کے لئے کافی ہے؟*
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں
الجواب بعون الملک الوھاب ،،صورت مسئولہ میں زوجین کے درمیان حرمت رضاعت ثابت ہونے کے لئے دومرد یا ایک مرد اور دوعورتیں عادل گواہوں کا ہونا شرط ہے اگرچہ وہ عورت خود دودھ پلانے والی ہو فقط دودھ پلانے والی یا دوعوتوں کی گواہی سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی ،البتہ اگر صرف ایک عورت ہی گواہی دے کہ میں نے تم دونوں کو یا تم میں سے ایک کو دودھ پلایا ہے اگر شوہر یازوجین اقرار کرلے تو نکاح فاسد اور اگر دونوں اس بات کی نفی کریں تو بہتر جدائ ہے اور اگرعورت کو جدا نہ کرے جب بھی حرج نہیں جیسا کہ اعلحضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ،،رہا مسئلہ رضاعت، ہمارے مذہب میں ایک عورت کا بیان ثبوت رضاعت کے لیے کافی نہیں خصوصا جبکہ خود مضطرب ہو،
اس سے احتیاطاً بچنا صرف مرتبہ استحباب میں ہے اور فعل غایت درجہ مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولٰی کہ نہ کرے تو بہتر، کرے توکچھ گناہ نہیں،
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل تزوج امرأۃ فاخبر رجل مسلم ثقۃ اوامرأۃ انھما ارتضعا من امرأۃ واحدۃ قال فی الکتاب احب الی ان یتنزہ فیطلقھا ویعطیھا نصف المھر ان لم یدخل بھا ولایثبت الحرمۃ بخبر الواحد عندنا مالم یشھد بہ رجلان اورجل وامرأتان،
( فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ فصل فیما یقبل قول الواحد الخ نولکشور لکھنؤ ۴/۷۸۷) فتاوی رضویہ جدید11/31)
اور حضور صدر الشریعہ بہارشریعت میں فرماتے ہیں ،، رضاع کے ثبوت کے لیے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں عادل گواہ ہوں اگرچہ وہ عورت خود دودھ پلانے والی ہو، فقط عورتوں کی شہادت سے ثبوت نہ ہوگا مگر بہتر یہ ہے کہ عورتوں کے کہنے سے بھی جدائی کرلے۔( بہار شریعت7 /33)
اور دورسری جگہ فرماتے ہیں ،،کسی عورت سے نکاح کیا اور ایک عورت نے آکر کہا، میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اگر شوہر یا دونوں اس کے کہنے کو سچ سمجھتے ہوں تو نکاح فاسد ہے اور وطی نہ کی ہو تو مہر کچھ نہیں اور اگر دونوں اس کی بات جھوٹی سمجھتے ہوں تو بہتر جدائی ہے اگر وہ عورت عادلہ ہے، پھر اگر وطی نہ ہوئی ہو تو مرد کو افضل یہ ہے کہ نصف مہر دے اور عورت کو افضل یہ ہے کہ نہ لے اور وطی ہوئی ہو تو افضل یہ ہے کہ پورا مہر دے اور نان نفقہ بھی اور عورت کو افضل یہ ہے کہ مہر مثل اور مہر مقرر شدہ میں جو کم ہے وہ لے اور اگر عورت کو جدا نہ کرے جب بھی حرج نہیں ۔ یوہیں تصدیق کی اور شوہر نے تکذیب تو نکاح فاسد نہیں مگرزوجہ شوہر سے حلف لے سکتی ہے اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو تفریق کر دی جائے۔(ایضا)اور فتاوی عالمگیری مع خانیہ میں ہے ،،الرضاع یظھر باحد امرین احدھما الاقرار واالثانی البینت کذا فی البدائع ۔ولا یقبل فی الرضاع الا شھادت رجلین اورجل وامرآتین عدول کذا فی المحیط (1/347)واللہ اعلم باصواب ،ھذا ماظھر لی والعلم عند ربی
کتبہ محمد زاھد حسین امجدی
خادم التدریس والافتاء
دارالعلوم سبحانیہ بھساول
اسلامی بہنوں کو اذان کے فورا بعد نماز پڑھنی چاہیے یا مسجد کی جماعت ہونے کے بعد؟
Raza Markazi:
ﻭَﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﻳَﺮْﻣُﻮﻥَ ﺍﻟْﻤُﺤْﺼَﻨَﺎﺕِ ﺛُﻢَّ ﻟَﻢْ ﻳَﺄْﺗُﻮﺍ ﺑِﺄَﺭْﺑَﻌَﺔِ ﺷُﻬَﺪَﺍﺀَ ﻓَﺎﺟْﻠِﺪُﻭﻫُﻢْ ﺛَﻤَﺎﻧِﻴﻦَ ﺟَﻠْﺪَﺓً ﻭَﻟَﺎ ﺗَﻘْﺒَﻠُﻮﺍ ﻟَﻬُﻢْ ﺷَﻬَﺎﺩَﺓً ﺃَﺑَﺪًﺍ ۚ ﻭَﺃُﻭﻟَٰﺌِﻚَ ﻫُﻢُ ﺍﻟْﻔَﺎﺳِﻘُﻮﻥَ ﴿ 4 ﴾
ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﭘﺎﮎ ﺩﺍﻣﻦ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﭼﺎﺭ ﮔﻮﺍﮦ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺳﯽ ﮐﻮﮌﮮ ﻣﺎﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺒﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﻓﺎﺳﻖ ﮨﯿﮟ
( ﻑ 9 ) ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ١ : ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﮐﺴﯽ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﻣﺮﺩ ﯾﺎ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭼﺎﺭ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﮐﮯ ﮔﻮﺍﮦ ﭘﯿﺶ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﺪ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ٨٠ ﮐﻮﮌﮮ ۔ ﺁﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺼَﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺧﺼﻮﺹ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺳﮯ ﻭﺍﺭﺩ ﮨﻮﺍ ﯾﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﮐﺜﯿﺮ ﺍﻟﻮﻗﻮﻉ ﮨﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٢ : ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﺰﺍ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺣﺪ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮ ﻣﺮﺩﻭﺩ ﺍﻟﺸﮩﺎﺩۃ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ۔ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﮑﻠَّﻒ ﺁﺯﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺎ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﮞ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٣ : ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﻧﺼﺎﺏ ﭼﺎﺭ ﮔﻮﺍﮦ ﮨﯿﮟ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٤ : ﺣﺪ ﻗﺬﻑ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﭘﺮ ﻣﺸﺮﻭﻁ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻗﺎﺿﯽ ﭘﺮ ﺣﺪ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﻻﺯﻡ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٥ : ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﺳﯽ ﮐﻮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﭘﻮﺗﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٦ : ﻏﻼﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﻟٰﯽ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﭘﺮ ﻗﺬﻑ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﭘﺮ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮٰﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٧ : ﻗﺬﻑ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺻﺮﺍﺣﺘﮧً ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﺎ ﺯﺍﻧﯽ ﮐﮩﮯ ﯾﺎ ﯾﮧ ﮐﮩﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮐﮩﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﻓﻼﮞ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺯﺍﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﮑﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ ﻗﺎﺫِﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﮐﯽ ﺣﺪ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٨ : ﺍﮔﺮ ﻏﯿﺮ ﻣﺤﺼﻦ ﮐﻮ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﻣﺜﻼً ﮐﺴﯽ ﻏﻼﻡ ﮐﻮ ﯾﺎ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﻮ ﯾﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﻧﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﺪ ﻗﺬﻑ ﻗﺎﺋﻢ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻌﺰﯾﺮ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﻌﺰﯾﺮ ﺗﯿﻦ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﺎﻟﯿﺲ ﺗﮏ ﺣﺴﺐ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﺣﺎﮐﻢِ ﺷﺮﻉ ﮐﻮﮌﮮ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺯﻧﺎ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻓﺠﻮﺭ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﮮ ﻓﺎﺳﻖ ، ﺍﮮ ﮐﺎﻓﺮ ، ﺍﮮ ﺧﺒﯿﺚ ، ﺍﮮ ﭼﻮﺭ ، ﺍﮮ ﺑﺪﮐﺎﺭ ، ﺍﮮ ﻣﺨﻨّﺚ ، ﺍﮮ ﺑﺪﺩﯾﺎﻧﺖ ، ﺍﮮ ﻟﻮﻃﯽ ، ﺍﮮ ﺯﻧﺪﯾﻖ ، ﺍﮮ ﺩﯾّﻮﺙ ، ﺍﮮ ﺷﺮﺍﺑﯽ ، ﺍﮮ ﺳﻮﺩ ﺧﻮﺍﺭ ، ﺍﮮ ﺑﺪﮐﺎﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ، ﺍﮮ ﺣﺮﺍﻡ ﺯﺍﺩﮮ ، ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮩﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻌﺰﯾﺮ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮﮔﯽ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٩ : ﺍﻣﺎﻡ ﯾﻌﻨﯽ ﺣﺎﮐﻢ ﺷﺮﻉ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺴﮯ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺛﺒﻮﺕ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ١٠ : ﺍﮔﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺁﺯﺍﺩ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺑﻠﮑﮧ ﻏﻼﻡ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﮐﻮﮌﮮ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ١١ : ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺟﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺣﺪ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﮮ ﻟﯿﮑﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺩﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻟﻔﻆ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺎﺏ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻁ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﻭَﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﻳَﺮْﻣُﻮﻥَ ﺍﻟْﻤُﺤْﺼَﻨَﺎﺕِ ﺛُﻢَّ ﻟَﻢْ ﻳَﺄْﺗُﻮﺍ ﺑِﺄَﺭْﺑَﻌَﺔِ ﺷُﻬَﺪَﺍﺀَ ﻓَﺎﺟْﻠِﺪُﻭﻫُﻢْ ﺛَﻤَﺎﻧِﻴﻦَ ﺟَﻠْﺪَﺓً ﻭَﻟَﺎ ﺗَﻘْﺒَﻠُﻮﺍ ﻟَﻬُﻢْ ﺷَﻬَﺎﺩَﺓً ﺃَﺑَﺪًﺍ ۚ ﻭَﺃُﻭﻟَٰﺌِﻚَ ﻫُﻢُ ﺍﻟْﻔَﺎﺳِﻘُﻮﻥَ ﴿ 4 ﴾
ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﭘﺎﮎ ﺩﺍﻣﻦ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﭼﺎﺭ ﮔﻮﺍﮦ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺳﯽ ﮐﻮﮌﮮ ﻣﺎﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺒﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﻓﺎﺳﻖ ﮨﯿﮟ
( ﻑ 9 ) ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ١ : ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﮐﺴﯽ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﻣﺮﺩ ﯾﺎ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭼﺎﺭ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﮐﮯ ﮔﻮﺍﮦ ﭘﯿﺶ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﺪ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ٨٠ ﮐﻮﮌﮮ ۔ ﺁﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺼَﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺧﺼﻮﺹ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺳﮯ ﻭﺍﺭﺩ ﮨﻮﺍ ﯾﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﮐﺜﯿﺮ ﺍﻟﻮﻗﻮﻉ ﮨﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٢ : ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﺰﺍ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺣﺪ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮ ﻣﺮﺩﻭﺩ ﺍﻟﺸﮩﺎﺩۃ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ۔ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﮑﻠَّﻒ ﺁﺯﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺎ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﮞ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٣ : ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﻧﺼﺎﺏ ﭼﺎﺭ ﮔﻮﺍﮦ ﮨﯿﮟ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٤ : ﺣﺪ ﻗﺬﻑ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﭘﺮ ﻣﺸﺮﻭﻁ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻗﺎﺿﯽ ﭘﺮ ﺣﺪ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﻻﺯﻡ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٥ : ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﺳﯽ ﮐﻮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﭘﻮﺗﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٦ : ﻏﻼﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﻟٰﯽ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﭘﺮ ﻗﺬﻑ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﭘﺮ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮٰﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٧ : ﻗﺬﻑ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺻﺮﺍﺣﺘﮧً ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﺎ ﺯﺍﻧﯽ ﮐﮩﮯ ﯾﺎ ﯾﮧ ﮐﮩﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮐﮩﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﻓﻼﮞ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺯﺍﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﮑﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ ﻗﺎﺫِﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﮐﯽ ﺣﺪ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٨ : ﺍﮔﺮ ﻏﯿﺮ ﻣﺤﺼﻦ ﮐﻮ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﻣﺜﻼً ﮐﺴﯽ ﻏﻼﻡ ﮐﻮ ﯾﺎ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﻮ ﯾﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﻧﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﺪ ﻗﺬﻑ ﻗﺎﺋﻢ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻌﺰﯾﺮ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﻌﺰﯾﺮ ﺗﯿﻦ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﺎﻟﯿﺲ ﺗﮏ ﺣﺴﺐ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﺣﺎﮐﻢِ ﺷﺮﻉ ﮐﻮﮌﮮ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺯﻧﺎ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻓﺠﻮﺭ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﮮ ﻓﺎﺳﻖ ، ﺍﮮ ﮐﺎﻓﺮ ، ﺍﮮ ﺧﺒﯿﺚ ، ﺍﮮ ﭼﻮﺭ ، ﺍﮮ ﺑﺪﮐﺎﺭ ، ﺍﮮ ﻣﺨﻨّﺚ ، ﺍﮮ ﺑﺪﺩﯾﺎﻧﺖ ، ﺍﮮ ﻟﻮﻃﯽ ، ﺍﮮ ﺯﻧﺪﯾﻖ ، ﺍﮮ ﺩﯾّﻮﺙ ، ﺍﮮ ﺷﺮﺍﺑﯽ ، ﺍﮮ ﺳﻮﺩ ﺧﻮﺍﺭ ، ﺍﮮ ﺑﺪﮐﺎﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ، ﺍﮮ ﺣﺮﺍﻡ ﺯﺍﺩﮮ ، ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮩﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻌﺰﯾﺮ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮﮔﯽ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٩ : ﺍﻣﺎﻡ ﯾﻌﻨﯽ ﺣﺎﮐﻢ ﺷﺮﻉ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺴﮯ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺛﺒﻮﺕ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ١٠ : ﺍﮔﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺁﺯﺍﺩ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺑﻠﮑﮧ ﻏﻼﻡ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﮐﻮﮌﮮ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ١١ : ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺟﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺣﺪ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﮮ ﻟﯿﮑﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺩﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻟﻔﻆ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺎﺏ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻁ ﻧﮩﯿﮟ ۔
*ماہِ محرم اور خلاف شریعت رسمیں*
از : علامہ محمد عبدالمبین نعمانی مصباحی
(المجمع الاسلامی مبارک پور)
تعزیہ کی اصل توبس اتنی تھی کہ روضہ امام عالی مقام سید الشہدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نقشہ بنا کر بطور یادگار گھروں میں رکھا جاتا جیسے کہ خانہ کعبہ و روضہ سرکار مصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نقشے: جیسے یہ جائز وہ بھی جائز، لیکن اب روضہ امام کے نقشے کے ساتھ طرح طرح کی خرافات نے اس کو ممنوع و ناجائز بنادیا، مثلاً، اس نقشہ روضہ امام کو قبر امام عالی مقام سمجھنا، اس سے مرادیں ما نگنا، اس کے سامنے جھکنا، اس کا طواف کرنا، باجے تاشے سے اس کا جلوس نکالنا، ہر سال اسے مصنوعی کربلا لے جاکر مال ضائع کرنا، نوحہ خوانی و سینہ کوبی، اور پھر اب نقشے بھی ایسے بنائے جاتے ہیں جو روضہ امام عالی مقام سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے، نئی نئی تراش اور من گڑھت شکلیں بنالی گئی ہیں اور ان کو روضہ امام سے تشبیہ دی جاتی ہے.... اس قسم کی تعزیہ داری ظاہر ہے کہ ناجائز ہے، کوئی بھی عقل و ہوش والا اس کے جواز کا قائل نہیں، اس لیے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمة والرضوان نے بھی اس کو ناجائز کہا اور اس کے خلاف فتویٰ دیا،... ملاحظہ ہو رسائل اعلیٰ حضرت ،بدر الانوار، رسالہ تعزیہ داری، اور فتاویٰ رضویہ جلد دہم اور الملفوظ شریف جلد دوم، ص ۷۸، عرفان شریعت، ص۶۱، وغیرہ۔
*(۱)* بعض سنت و جماعت عشرہ محرم (محرم کے دس دنوں) میں نہ تو دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں، کہتے ہیں بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔
*(۲)* دس دن کپڑے نہیں اتارتے۔
*(۳)* ماہ محرم میں کوئی شادی بیاہ نہیں کرتے۔
*(۴)* ان ایام میں سواے امام حسن و امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے کسی کی نیاز فاتحہ نہیں دلاتے۔
یہ جائز ہیں یا نا جائز....تو (اعلٰی حضرت امام اھلسنت نے) جواب دیا:
*پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اورسوگ حرام ہے، اور چوتھی بات جہالت ہے.... ہر مہینے میں ہر تاریخ میں ہر ولی کی نیاز اور ہر مسلمان کی فاتحہ ہوسکتی ہے ۔*
(احکام شریعت اول ، ص۵۷)
***
(ماخوذ : امام احمد رضا اور ان کی تعلیمات)
از : علامہ محمد عبدالمبین نعمانی مصباحی
(المجمع الاسلامی مبارک پور)
تعزیہ کی اصل توبس اتنی تھی کہ روضہ امام عالی مقام سید الشہدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نقشہ بنا کر بطور یادگار گھروں میں رکھا جاتا جیسے کہ خانہ کعبہ و روضہ سرکار مصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نقشے: جیسے یہ جائز وہ بھی جائز، لیکن اب روضہ امام کے نقشے کے ساتھ طرح طرح کی خرافات نے اس کو ممنوع و ناجائز بنادیا، مثلاً، اس نقشہ روضہ امام کو قبر امام عالی مقام سمجھنا، اس سے مرادیں ما نگنا، اس کے سامنے جھکنا، اس کا طواف کرنا، باجے تاشے سے اس کا جلوس نکالنا، ہر سال اسے مصنوعی کربلا لے جاکر مال ضائع کرنا، نوحہ خوانی و سینہ کوبی، اور پھر اب نقشے بھی ایسے بنائے جاتے ہیں جو روضہ امام عالی مقام سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے، نئی نئی تراش اور من گڑھت شکلیں بنالی گئی ہیں اور ان کو روضہ امام سے تشبیہ دی جاتی ہے.... اس قسم کی تعزیہ داری ظاہر ہے کہ ناجائز ہے، کوئی بھی عقل و ہوش والا اس کے جواز کا قائل نہیں، اس لیے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمة والرضوان نے بھی اس کو ناجائز کہا اور اس کے خلاف فتویٰ دیا،... ملاحظہ ہو رسائل اعلیٰ حضرت ،بدر الانوار، رسالہ تعزیہ داری، اور فتاویٰ رضویہ جلد دہم اور الملفوظ شریف جلد دوم، ص ۷۸، عرفان شریعت، ص۶۱، وغیرہ۔
*(۱)* بعض سنت و جماعت عشرہ محرم (محرم کے دس دنوں) میں نہ تو دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں، کہتے ہیں بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔
*(۲)* دس دن کپڑے نہیں اتارتے۔
*(۳)* ماہ محرم میں کوئی شادی بیاہ نہیں کرتے۔
*(۴)* ان ایام میں سواے امام حسن و امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے کسی کی نیاز فاتحہ نہیں دلاتے۔
یہ جائز ہیں یا نا جائز....تو (اعلٰی حضرت امام اھلسنت نے) جواب دیا:
*پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اورسوگ حرام ہے، اور چوتھی بات جہالت ہے.... ہر مہینے میں ہر تاریخ میں ہر ولی کی نیاز اور ہر مسلمان کی فاتحہ ہوسکتی ہے ۔*
(احکام شریعت اول ، ص۵۷)
***
(ماخوذ : امام احمد رضا اور ان کی تعلیمات)
💥 *ہر بلا سے حفاظت کی دعا*💥
*بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ *
*سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ مَاشَآءَ اللّٰہُ کَانَ وَمَالَمْ یَشَاْ لَمْ یَکُنْ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ وَّاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۔*
( سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب ما یقول: اذا اصبح ۷/ ۴۰۹، حدیث: ۵۰۷۵)
🔆 بحوالہ الوظیفۃ الکریمہ، برنامج، انجمن ضیائے طیبہ
*بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ *
*سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ مَاشَآءَ اللّٰہُ کَانَ وَمَالَمْ یَشَاْ لَمْ یَکُنْ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ وَّاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۔*
( سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب ما یقول: اذا اصبح ۷/ ۴۰۹، حدیث: ۵۰۷۵)
🔆 بحوالہ الوظیفۃ الکریمہ، برنامج، انجمن ضیائے طیبہ
اہلسنت و جماعت کے نزدیک : تعزیہ بنانا ، تعزیہ کا تماشہ دیکھنا ، اس پر چڑھاوے چڑھانا وغیرہ کی شرعی حیثیت ۔ ( امام اہلسنت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب کی روشنی میں )
محرم الحرام میں کیئے جانے والے غلط کام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
📚سوال :تعزیہ بنانا کیسا ؟
📚جواب :اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
📚سوال:تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا؟
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، جلد 21، ص 246، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
📚سوال:تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
📚سوال:محرم الحرام میں ناجائز رسومات کیا ہیں
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں
(فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
📚سوال:تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا؟
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے (ملفوظات شریف، ص 286)
اہلسنت و جماعت کے نزدیک : تعزیہ بنانا ، تعزیہ کا تماشہ دیکھنا ، اس پر چڑھاوے چڑھانا وغیرہ کی شرعی حیثیت ۔ ( امام اہلسنت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب کی روشنی میں )
محرم الحرام میں کیئے جانے والے غلط کام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
📚سوال :تعزیہ بنانا کیسا ؟
📚جواب :اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
📚سوال:تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا؟
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، جلد 21، ص 246، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
📚سوال:تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
📚سوال:محرم الحرام میں ناجائز رسومات کیا ہیں
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں
(فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
📚سوال:تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا؟
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے (ملفوظات شریف، ص 286)
محمد رضا مرکزی.....خادم شرعی عدالت
🖋📚📚🖋
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
👆👆👆👆👆👆👆
محرم الحرام میں کیئے جانے والے غلط کام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
📚سوال :تعزیہ بنانا کیسا ؟
📚جواب :اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
📚سوال:تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا؟
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، جلد 21، ص 246، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
📚سوال:تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
📚سوال:محرم الحرام میں ناجائز رسومات کیا ہیں
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں
(فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
📚سوال:تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا؟
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے (ملفوظات شریف، ص 286)
اہلسنت و جماعت کے نزدیک : تعزیہ بنانا ، تعزیہ کا تماشہ دیکھنا ، اس پر چڑھاوے چڑھانا وغیرہ کی شرعی حیثیت ۔ ( امام اہلسنت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب کی روشنی میں )
محرم الحرام میں کیئے جانے والے غلط کام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
📚سوال :تعزیہ بنانا کیسا ؟
📚جواب :اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
📚سوال:تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا؟
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، جلد 21، ص 246، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
📚سوال:تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
📚سوال:محرم الحرام میں ناجائز رسومات کیا ہیں
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں
(فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
📚سوال:تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا؟
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے (ملفوظات شریف، ص 286)
محمد رضا مرکزی.....خادم شرعی عدالت
🖋📚📚🖋
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
👆👆👆👆👆👆👆
Telegram
🖊️شرعی عدالت آپ کے مسائل کا حل 📚
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
شرعی مسائل سوال وجواب....محمد رضا مرکزی
شرعی مسائل سوال وجواب....محمد رضا مرکزی
*دمہ کے تین علاج*
1⃣ روزانہ تین یا پانچ کھجوریں (دھوکر) کھالیں اور نم گرم پانی پی لیا کریں انشاءاللہ دمہ میں بہت آرام ہوجائے گا .
🍒🍒🍒🍒🍒
2⃣ رات میں اورصبح تین خشک انجیر دودھ میں پکا کر ان کا استعمال فرمائیں ان شاءاللہ
دمہ اور بلغم دور ہوگا .
🌰🌰🌰🌰🌰🌰
3⃣روزانہ گاجر کا رس پینے سے ان شاءاللہ دمہ میں آرام ہوگا
🥕🥕🥕🥕🥕🥕
1⃣ روزانہ تین یا پانچ کھجوریں (دھوکر) کھالیں اور نم گرم پانی پی لیا کریں انشاءاللہ دمہ میں بہت آرام ہوجائے گا .
🍒🍒🍒🍒🍒
2⃣ رات میں اورصبح تین خشک انجیر دودھ میں پکا کر ان کا استعمال فرمائیں ان شاءاللہ
دمہ اور بلغم دور ہوگا .
🌰🌰🌰🌰🌰🌰
3⃣روزانہ گاجر کا رس پینے سے ان شاءاللہ دمہ میں آرام ہوگا
🥕🥕🥕🥕🥕🥕
📚سوال:محرم الحرام میں ناجائز رسومات کیا ہیں
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں
(فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
📚📚📚📚📚🖋
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
👆👆👆👆👆👆👆
📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں
(فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
📚📚📚📚📚🖋
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
👆👆👆👆👆👆👆
Telegram
🖊️شرعی عدالت آپ کے مسائل کا حل 📚
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
شرعی مسائل سوال وجواب....محمد رضا مرکزی
شرعی مسائل سوال وجواب....محمد رضا مرکزی
السلام عليكم ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اسلام اس مسئلے کے بارے میں کہ نکاح سے قبل لڑکا اور لڑکی افعالِ بد کے مرتکب ہوئے جس کے سبب حمل ٹھرا اور حمل کے چار ماہ بعد لڑکا اور لڑکی نے نکاح کیا۔۔۔ آیا لڑکی کا اس لڑکے سے ایّامِ حمل میں نکاح کرنا درست ہے یا نہیں ۔۔۔۔ اور شادی کے بعد جو بچہ پیدا ہو تو نسب ثابت ہوگا کہ نہیں جبکہ نظفہ اسی کا ہے جس سے شادی ہوئی اور شادی کے قبل حمل بھی اسی کی وجہ سے ٹھرا ۔۔۔۔ برائے مہربانی مدلل جواب عطا فرمائے ۔ نوازش و کرم ہوگا۔ 💈سائل 💈محمد عرفان قادری بھیونڈی
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ ;
_____🌼🌺🌼_______
_*✍الجواب بعون الملک الوہاب*_
_*صورت مسؤلہ میں لڑکی کا نکاح حالت حمل جو کیا گیا وہ نکاح صحیح اور درست ہے ؛ البتہ زانی ہی سے نکاح کیا گیا ہے تو وہ ہمبستری کر سکتاہے اور اگر یہ نکاح جب کہ دوسرے سے ہو تو وہ ہمبستری نہیں کرسکتا ہے یہاں تک کہ بچہ پیدا ہو ؛*_
_*قال ابو حنیفہ و محمد رحمھمااللہ تعالی یجوز ان یتزوج امرأۃ حاملا من الزنا ولایطؤھا حتی تضع ـ فی مجموع النوازل اذا تزوج امرأۃ قد زنی ھو بھا و ظھر بھا حبل فالنکاح جائز عندالکل کذا فی الذخیرۃ*_
_*📚فتاوی عالمگیری مع خانیہ*_
_*جلد اول ص 280*_
_*ایـــضـــا👇*_
_*صح نکاح حبلی من زنا لا من غیرہ وان حرم و طؤھا و دواعیه حتی تضع و لو نکحھا الزانی حل له وطؤھا اتفاقا*_
_*📚درمختار مع شامی*_
_*جلد دوم ص 316*_
_*📚فتاوی فقیہ ملت*_
_*جلد اول ص 375*_
_*اور اگر واقعی نکاح سے پہلے ان دونوں کا ناجائز تعلق تھا تو وہ دونوں سخت گنہگار مستحق عذاب قہار ہیں ان کو اعلانیہ توبہ و استغفار کرایا جائے اور نماز کی پابندی کا اس سے عہد لیا جائے اور قرآن خوانی و میلاد شریف کرنے مسجد میں لوٹا چٹائی رکھنے اور غرباء و مساکین کو کھانا کھلانے کی تلقین کی جائے کہ نکیاں قبول توبہ میں معاون ہوتی ہے*_
_*اللہ تعالٰی کا فرمان ہے*_
_*ومن تاب عمل صالحا فانه یتوب الی اللہ متابا ھ۱*_
_*📚القرآن پارہ 19 رکوع 4*_
_*اور ان دونوں کے والدین کو بھی توبہ کرایا جائے اگر انکی غفلت لاپرواہی سے لڑکا لڑکی کا ناجائز تعلق ہوا*_
_*اوراگر نکاح کے چھ ماہ کے بعد بچہ پیدا ہوا تو بچہ شرعاً لڑکا ہی کا ہے جوکہ ثابت النسب ہوگا اوراگر نکاح کے بعد چھ ماہ سے کم مدت میں (یعنی پانچ ماہ میں) بچہ پیدا تو ثابت النسب نہیں ہوگا ؛؛*_
_*اذا تزوج الرجل امرأۃ فجائت بالولد لاقل من ستة اشھر منذ تزوجھا لم یثبت نسبه و ان جائت لستة اشھر قصاعدا یثبت نسبه منه اعترف به الزوج او سکت ھ۱*_
_*📚 فتاوی عالمگیری*_
_*جلد اول ص 536*_
_*📚فتاوی فقیہ ملت*_
_*جلد دوم ص71/72*_
____🌼🌺🌼________
_*✍ازقلم ؛ العبد الاثیم خاکسار*_
_ _*ابوالصدف محمد صادق رضا*_
_*خادم ؛ شاہی جامع مسجد*_
_*پٹنہ سیٹی بہار الھند*_
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ ;
_____🌼🌺🌼_______
_*✍الجواب بعون الملک الوہاب*_
_*صورت مسؤلہ میں لڑکی کا نکاح حالت حمل جو کیا گیا وہ نکاح صحیح اور درست ہے ؛ البتہ زانی ہی سے نکاح کیا گیا ہے تو وہ ہمبستری کر سکتاہے اور اگر یہ نکاح جب کہ دوسرے سے ہو تو وہ ہمبستری نہیں کرسکتا ہے یہاں تک کہ بچہ پیدا ہو ؛*_
_*قال ابو حنیفہ و محمد رحمھمااللہ تعالی یجوز ان یتزوج امرأۃ حاملا من الزنا ولایطؤھا حتی تضع ـ فی مجموع النوازل اذا تزوج امرأۃ قد زنی ھو بھا و ظھر بھا حبل فالنکاح جائز عندالکل کذا فی الذخیرۃ*_
_*📚فتاوی عالمگیری مع خانیہ*_
_*جلد اول ص 280*_
_*ایـــضـــا👇*_
_*صح نکاح حبلی من زنا لا من غیرہ وان حرم و طؤھا و دواعیه حتی تضع و لو نکحھا الزانی حل له وطؤھا اتفاقا*_
_*📚درمختار مع شامی*_
_*جلد دوم ص 316*_
_*📚فتاوی فقیہ ملت*_
_*جلد اول ص 375*_
_*اور اگر واقعی نکاح سے پہلے ان دونوں کا ناجائز تعلق تھا تو وہ دونوں سخت گنہگار مستحق عذاب قہار ہیں ان کو اعلانیہ توبہ و استغفار کرایا جائے اور نماز کی پابندی کا اس سے عہد لیا جائے اور قرآن خوانی و میلاد شریف کرنے مسجد میں لوٹا چٹائی رکھنے اور غرباء و مساکین کو کھانا کھلانے کی تلقین کی جائے کہ نکیاں قبول توبہ میں معاون ہوتی ہے*_
_*اللہ تعالٰی کا فرمان ہے*_
_*ومن تاب عمل صالحا فانه یتوب الی اللہ متابا ھ۱*_
_*📚القرآن پارہ 19 رکوع 4*_
_*اور ان دونوں کے والدین کو بھی توبہ کرایا جائے اگر انکی غفلت لاپرواہی سے لڑکا لڑکی کا ناجائز تعلق ہوا*_
_*اوراگر نکاح کے چھ ماہ کے بعد بچہ پیدا ہوا تو بچہ شرعاً لڑکا ہی کا ہے جوکہ ثابت النسب ہوگا اوراگر نکاح کے بعد چھ ماہ سے کم مدت میں (یعنی پانچ ماہ میں) بچہ پیدا تو ثابت النسب نہیں ہوگا ؛؛*_
_*اذا تزوج الرجل امرأۃ فجائت بالولد لاقل من ستة اشھر منذ تزوجھا لم یثبت نسبه و ان جائت لستة اشھر قصاعدا یثبت نسبه منه اعترف به الزوج او سکت ھ۱*_
_*📚 فتاوی عالمگیری*_
_*جلد اول ص 536*_
_*📚فتاوی فقیہ ملت*_
_*جلد دوم ص71/72*_
____🌼🌺🌼________
_*✍ازقلم ؛ العبد الاثیم خاکسار*_
_ _*ابوالصدف محمد صادق رضا*_
_*خادم ؛ شاہی جامع مسجد*_
_*پٹنہ سیٹی بہار الھند*_
📚📚📚📚📚📚📚📚📚🖋
ﺍﻳﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﻳﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﻋﺎﻟﻢ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺻﺤﻴﺢ ﺑﺨﺎﺭﻱ ﭘﮍﮬﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺑﻮﻻ : ﺍﮨﻞ ﻣﻐﺮﺏ ﭼﺎﻧﺪ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﺨﺎﺭﻱ ﻛﺎ ﺩﺭﺱ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟ﻋﺎﻟﻢ ﺩﯾﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺣﻴﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯿﺎﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺧﺎﻟﻖ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻢ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﻢ ﮨﯽ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻣﻔﻠﺲ ﮨﻮ , ﻧﮧ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﺎﻧﺪ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﭘﮍﮪ ﺳﮑﮯ ..
📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚
ﺍﻳﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﻳﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﻋﺎﻟﻢ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺻﺤﻴﺢ ﺑﺨﺎﺭﻱ ﭘﮍﮬﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺑﻮﻻ : ﺍﮨﻞ ﻣﻐﺮﺏ ﭼﺎﻧﺪ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﺨﺎﺭﻱ ﻛﺎ ﺩﺭﺱ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟ﻋﺎﻟﻢ ﺩﯾﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺣﻴﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯿﺎﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺧﺎﻟﻖ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻢ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﻢ ﮨﯽ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻣﻔﻠﺲ ﮨﻮ , ﻧﮧ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﺎﻧﺪ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﭘﮍﮪ ﺳﮑﮯ ..
📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚
: کیافرماتےہیں علماء ومفتیان شرع متین کہ چشمہ( عینک) پہنکرنمازپڑھناکیساہے؟
قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل ومفصل جواب عنایت فرمایں؟
کرم نوازش ہوگی...
: الجواب اگر عینک کا حلقہ یا قیمیں چاندی یا سونے کی ہیں تو ایسی عینک نا جائز ہے اور نماز سخت مکروہ ہوتی ہے ورنہ تانبے یا اور دھات کی ہوں تو بہتر یہ کہ نماز پڑھتے وقت اتار لے ورنہ یہ خلاف اولی اور کراہت سے خالی نہیں(فتاوی رضویہ سوم 427 ملخصا) واللہ اعلم بالصواب
قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل ومفصل جواب عنایت فرمایں؟
کرم نوازش ہوگی...
: الجواب اگر عینک کا حلقہ یا قیمیں چاندی یا سونے کی ہیں تو ایسی عینک نا جائز ہے اور نماز سخت مکروہ ہوتی ہے ورنہ تانبے یا اور دھات کی ہوں تو بہتر یہ کہ نماز پڑھتے وقت اتار لے ورنہ یہ خلاف اولی اور کراہت سے خالی نہیں(فتاوی رضویہ سوم 427 ملخصا) واللہ اعلم بالصواب
*شہداء کرب و بلا کے متعلق 6 اہم ترین سوال اور امام اہلسنت کا جواب*
------------قسط ششم - - —
کیافرماتے ہیں علمائے اہل سنت وجماعت رحمہم اﷲ وکرمہم اﷲ تعالٰی مسائل ذیل میں،
:(۱) *ایصال ثواب برروح سیدناامام حسین علیہ السلام بروزعاشورہ جائزہے یانہیں؟*
(۲) *تعزیہ بنانا اور مہندی نکالنا اور شب عاشورہ کوروشنی کرنا جائز ہے یانہیں؟*
(۳) *مجلس ذکرشہادت قائم کرنا اور اس میں مرزادبیر اور انیس وغیرہ روافض کے کلام پڑھنا بطور سوزخوانی یاتحت اللفظ جائز ہے یانہیں اور اہل سنت کو ایسی مجالس میں شریک ہونا مکروہ ہے یاحرام یاجائزہے؟*
4) *حضرت قاسم کی شادی کامیدان کربلامیں ہونا جس بناپرمہندی نکالی جاتی ہے اہلسنت کے نزدیک ثابت ہے یانہیں؟ درصورت عدم ثبوت اس واقعہ میں حضرت امام حسن علیہ السلام کی صاحبزادی کی نسبت حضرت قاسم کی طرف کرنا خاندان نبوت کے ساتھ بے ادبی ہے یانہیں؟*
(5) *روزعاشورہ کومیلہ قائم کرنااور تعزیوں کودفن کرنا اور ان پرفاتحہ پڑھنی جائزہے یانہیں؟*
6) *اور بارھویں اور بیسویں محرم اور بیسویں صفر کو تیجااور دسواں اور چالیسواں اور مجلسیں قائم کرنا اور میلہ لگاناجائزہے یانہیں؟*
_تاجدار اہلسنت کا بہت ہی لاجواب جواب ملاحظہ فرمائیں_
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
الجواب:
(۱) روح پرفتوح ریحانہ رسول ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی ﷲتعالٰی عنہ کو ایصال ثواب بروجہ صواب عاشورہ اور ہرروزمستحب ومستحسن ہے
۔(۲) تعزیہ مہندی روشنی مذکور سب بدعت وناجائزہے
۔(۳) نفس ذکر شریف کی مجلس جس میں ان کے فضائل ومناقب واحادیث وروایات صحیحہ ومعتبرہ سے بیان کئے جائیں اور غم پروری نہ ہو مستحسن ہے اور مرثیے حرام خصوصاً رافضیوں کے کہ تبرائے ملعونہ سے کمترخالی ہوتے ہیں اہلسنت کو ایسی مجالس میں شرکت حرام ہے
۔(۴) نہ یہ شادی ثابت نہ یہ مہندی سوا اختراع اخترائی کے کوئی چیز۔ نہ یہ غلط بیانی حد خاص توہین تک بالغ
۔(۵) عاشورہ کامیلہ لغو ولہو وممنوع ہے۔ یوہیں تعزیوں کادفن جس طورپرہوتاہے نیت باطلہ پرمبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پرفاتحہ جہل وحمق وبے معنٰی ہے۔ مجلسوں اور میلوں کاحال اوپر گزرا، نیز ایصال ثواب کاجواب کہ ہرروز محمود ہے جبکہ بروجہ جائزہو۔ وﷲ تعالٰی اعلم
📚 فتاوی رضویہ شریف
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
📚👆👆👆👆👆👆👆👆🖋
------------قسط ششم - - —
کیافرماتے ہیں علمائے اہل سنت وجماعت رحمہم اﷲ وکرمہم اﷲ تعالٰی مسائل ذیل میں،
:(۱) *ایصال ثواب برروح سیدناامام حسین علیہ السلام بروزعاشورہ جائزہے یانہیں؟*
(۲) *تعزیہ بنانا اور مہندی نکالنا اور شب عاشورہ کوروشنی کرنا جائز ہے یانہیں؟*
(۳) *مجلس ذکرشہادت قائم کرنا اور اس میں مرزادبیر اور انیس وغیرہ روافض کے کلام پڑھنا بطور سوزخوانی یاتحت اللفظ جائز ہے یانہیں اور اہل سنت کو ایسی مجالس میں شریک ہونا مکروہ ہے یاحرام یاجائزہے؟*
4) *حضرت قاسم کی شادی کامیدان کربلامیں ہونا جس بناپرمہندی نکالی جاتی ہے اہلسنت کے نزدیک ثابت ہے یانہیں؟ درصورت عدم ثبوت اس واقعہ میں حضرت امام حسن علیہ السلام کی صاحبزادی کی نسبت حضرت قاسم کی طرف کرنا خاندان نبوت کے ساتھ بے ادبی ہے یانہیں؟*
(5) *روزعاشورہ کومیلہ قائم کرنااور تعزیوں کودفن کرنا اور ان پرفاتحہ پڑھنی جائزہے یانہیں؟*
6) *اور بارھویں اور بیسویں محرم اور بیسویں صفر کو تیجااور دسواں اور چالیسواں اور مجلسیں قائم کرنا اور میلہ لگاناجائزہے یانہیں؟*
_تاجدار اہلسنت کا بہت ہی لاجواب جواب ملاحظہ فرمائیں_
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
الجواب:
(۱) روح پرفتوح ریحانہ رسول ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی ﷲتعالٰی عنہ کو ایصال ثواب بروجہ صواب عاشورہ اور ہرروزمستحب ومستحسن ہے
۔(۲) تعزیہ مہندی روشنی مذکور سب بدعت وناجائزہے
۔(۳) نفس ذکر شریف کی مجلس جس میں ان کے فضائل ومناقب واحادیث وروایات صحیحہ ومعتبرہ سے بیان کئے جائیں اور غم پروری نہ ہو مستحسن ہے اور مرثیے حرام خصوصاً رافضیوں کے کہ تبرائے ملعونہ سے کمترخالی ہوتے ہیں اہلسنت کو ایسی مجالس میں شرکت حرام ہے
۔(۴) نہ یہ شادی ثابت نہ یہ مہندی سوا اختراع اخترائی کے کوئی چیز۔ نہ یہ غلط بیانی حد خاص توہین تک بالغ
۔(۵) عاشورہ کامیلہ لغو ولہو وممنوع ہے۔ یوہیں تعزیوں کادفن جس طورپرہوتاہے نیت باطلہ پرمبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پرفاتحہ جہل وحمق وبے معنٰی ہے۔ مجلسوں اور میلوں کاحال اوپر گزرا، نیز ایصال ثواب کاجواب کہ ہرروز محمود ہے جبکہ بروجہ جائزہو۔ وﷲ تعالٰی اعلم
📚 فتاوی رضویہ شریف
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
📚👆👆👆👆👆👆👆👆🖋
Telegram
🖊️شرعی عدالت آپ کے مسائل کا حل 📚
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
شرعی مسائل سوال وجواب....محمد رضا مرکزی
شرعی مسائل سوال وجواب....محمد رضا مرکزی
*جنت کے کپڑے اورفرزندان رسول کی عید*
*پیشکش سنی حسینی مشن*
امام حسن اورامام حسین کابچپناہے عیدآنے والی ہےاوران اسخیائے عالم کے گھرمیں نئے کپڑے کاکیاذکرپرانے کپڑے بلکہ نان جویں تک نہیں ہے بچوں نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں مادرگرامی اطفال مدینہ عیدکے دن زرق برق کپڑے پہن کرنکلیں گے اورہمارے پاس بالکل لباس نونہیں ہے ہم کس طرح عیدمنائیں گے ماں نے کہا بچوگھبراؤنہیں ،تمہارے کپڑے درزی لائے گا عیدکی رات آئی بچوں نے ماں سے پھرکپڑوں کاتقاضاکیا،ماں نے وہی جواب دے کرنونہالوں کوخاموش کردیا۔
ابھی صبح نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک شخص نے دق الباب کیا،دروازہ کھٹکھٹایافضہ دروازہ پرگئیں ایک شخص نے ایک بقچہ لباس دیا، فضہ نے سیدئہ عالم کی خدمت میں اسے پیش کیااب جوکھولاتواس میں دوچھوٹے چھوٹے عمامے دوقبائیں،دوعبائیں غرضیکہ تمام ضروری کپڑے موجود تھے ماں کادل باغ باغ ہوگیاوہ توسمجھ گئیں کہ یہ کپڑے جنت سے آئے ہیں لیکن منہ سے کچھ نہیں کہابچوں کوجگایاکپڑے دئیے صبح ہوئی بچوں نے جب کپڑوں کے رنگ کی طرف توجہ کی توکہامادرگرامی یہ توسفیدکپڑے ہیں اطفال مدینہ رنگین کپڑے پہننے ہوں گے، امام جان ہمیں رنگین کپڑے چاہئیں ۔
حضور انورکواطلاع ملی ،تشریف لائے، فرمایاگھبراؤنہیں تمہارے کپڑے ابھی ابھی رنگین ہوجائیں گے اتنے میں جبرئیل آفتابہ لیے ہوئے آپہنچے انہوں نے پانی ڈالا محمدمصطفی کے ارادے سے کپڑے سبزاورسرخ ہوگئے سبزجوڑاحسن نے پہناسرخ جوڑاحسین نے زیب تن کیا، ماں نے گلے لگالیا باپ نے بوسے دئیے نانا نے اپنی پشت پرسوارکرکے مہارکے بدلے زلفیں ہاتھوں میں دیدیں اورکہا،میرے نونہالو،رسالت کی باگ ڈورتمہارے ہاتھوں میں ہے جدھرچاہو موڑدو اورجہاں چاہولے چلو
بعض علماء کاکہناہے کہ سرورکائنات بچوں کوپشت پربٹھاکردونوں ہاتھوں اورپیروں سے چلنے لگے اوربچوں کی فرمائش پراونٹ کی آوازمنہ سے نکالنے لگے
(کشف المحجوب)۔
[23/9 4
مام حسین علیہ السلام نے اپنے حج کو" ترویہ" کے دن نامکمل چھوڑ کر مکہ سے کوچ کیوں کیا ؟
اس سے پہلے کہ ہم اس سوال کا تاریخی تجزیہ کریں ،یہ یاد دلادیں کہ فقہی لحاظ سے یہ مشہور واقعہ کہ تیسرے امام المومنین و وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام حسین علیہ السلام نے حج کو نامکمل چھوڑ دیا تھا ،درست نہیں ہے ، اس لیے کہ امام علیہ السلام ذی الحجہ کی ۸ تاریخ یعنی" یوم الترویہ" کو مکہ سے نکلے تھے (۱) جب کہ حج کے اعمال کہ جو مکہ میں احرام اور عرفات میں وقوف سے شروع ہوتے ہیں وہ ذی الحجہ کی نویں شب سے شروع ہوتے ہیں ،اس بنا پر امام نے حج کے اعمال شروع ہی نہیں کیے تھے کہ یہ کہا جائے کہ آپ نے حج کو نامکمل چھوڑ دیا تھا ۔
جی ہاں ! حضرت نے مکہ میں داخل ہوتے ہی عمرہء مفردہ انجام دیا ،اور مکہ میں اپنے چند ماہ کے قیام کے دوران مختلف اوقات میں آپ نے عمرہ کے اعمال انجام دیے ہوں گے ۔لیکن عمرہء مفردہ کے اعمال انجام دینے کا مطلب حج کے اعمال کا آغاز کرنا نہیں ہے ،بعض روایات میں صرف اتنا ہے کہ حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے "عمرہء مفردہ "بجا لایا (۲)
چونکہ آپ حج کو مکمل نہیں کر سکتے تھے (۳) لیکن یہ چیز بعید معلوم ہوتی ہے کہ حضرت نے حج کا احرام باندھا ہو چونکہ جو شخص حج کے اعمال انجام دینا چاہتا ہے وہ علی القاعدہ آٹھویں یا نویں ذی الحجہ کو احرام باندھتا ہے اور اس سے پہلے احران باندھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔
اس بات کی تائیید کے لیے کچھ روایات کافی میں نقل ہوئی ہیں جن میں سے بعض کی جانب ہم اشارہ کرتے ہیں ؛
عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ خَرَجَ فِی أَشْهُرِ الْحَجِّ مُعْتَمِراً ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بِلَادِهِ قَالَ لَا بَأْسَ وَ إِنْ حَجَّ فِی عَامِهِ ذَلِکَ وَ أَفْرَدَ الْحَجَّ فَلَیْسَ عَلَیْهِ دَمٌ فَإِنَّ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ ع خَرَجَ قَبْلَ التَّرْوِیَةِ بِیَوْمٍ إِلَى الْعِرَاقِ وَ قَدْ کَانَ دَخَلَ مُعْتَمِراً (۴)
امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا : امام حسین علیہ السلام ذی الحجہ کے آٹھویں دن سے پہلے مکہ سے نکل گئے تھے حالانکہ آپ پہلے حج کے مہینے میں عمرہ کا احرام باندھ کر عمرے کی نیت سے مکہ میں داخل ہوئے تھے اور آپ نے عمرہ کیا تھا ۔
اس روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے حج کو عمرے میں تبدیل کیا ہو ۔
ایک اور روایت میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :
قَدِ اعْتَمَرَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ع فِی ذِی الْحِجَّةِ ثُمَّ رَاحَ یَوْمَ التَّرْوِیَةِ إِلَى الْعِرَاقِ وَ النَّاسُ یَرُوحُونَ إِلَى مِنًى وَ لَا بَأْسَ بِالْعُمْرَةِ فِی ذِی الْحِجَّةِ لِمَنْ لَا یُرِیدُ الْحَجَّ . (۵)
امام حسین علیہ السلام نے ماہ ذی الحجہ میں عمرہ انجام دیا اس کے بعد ترویہ کے دن عراق کی جانب چلے گئے چنانچہ جو شخص حج نہیں کرنا چاہتا وہ عمرہ کر سکتا ہے ۔
جی ہاں ! حضرت نے مکہ میں داخل ہوتے ہی عمرہء مفردہ انجام دیا ،اور مکہ میں اپنے چند ماہ کے قیام کے دوران مختلف
*پیشکش سنی حسینی مشن*
امام حسن اورامام حسین کابچپناہے عیدآنے والی ہےاوران اسخیائے عالم کے گھرمیں نئے کپڑے کاکیاذکرپرانے کپڑے بلکہ نان جویں تک نہیں ہے بچوں نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں مادرگرامی اطفال مدینہ عیدکے دن زرق برق کپڑے پہن کرنکلیں گے اورہمارے پاس بالکل لباس نونہیں ہے ہم کس طرح عیدمنائیں گے ماں نے کہا بچوگھبراؤنہیں ،تمہارے کپڑے درزی لائے گا عیدکی رات آئی بچوں نے ماں سے پھرکپڑوں کاتقاضاکیا،ماں نے وہی جواب دے کرنونہالوں کوخاموش کردیا۔
ابھی صبح نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک شخص نے دق الباب کیا،دروازہ کھٹکھٹایافضہ دروازہ پرگئیں ایک شخص نے ایک بقچہ لباس دیا، فضہ نے سیدئہ عالم کی خدمت میں اسے پیش کیااب جوکھولاتواس میں دوچھوٹے چھوٹے عمامے دوقبائیں،دوعبائیں غرضیکہ تمام ضروری کپڑے موجود تھے ماں کادل باغ باغ ہوگیاوہ توسمجھ گئیں کہ یہ کپڑے جنت سے آئے ہیں لیکن منہ سے کچھ نہیں کہابچوں کوجگایاکپڑے دئیے صبح ہوئی بچوں نے جب کپڑوں کے رنگ کی طرف توجہ کی توکہامادرگرامی یہ توسفیدکپڑے ہیں اطفال مدینہ رنگین کپڑے پہننے ہوں گے، امام جان ہمیں رنگین کپڑے چاہئیں ۔
حضور انورکواطلاع ملی ،تشریف لائے، فرمایاگھبراؤنہیں تمہارے کپڑے ابھی ابھی رنگین ہوجائیں گے اتنے میں جبرئیل آفتابہ لیے ہوئے آپہنچے انہوں نے پانی ڈالا محمدمصطفی کے ارادے سے کپڑے سبزاورسرخ ہوگئے سبزجوڑاحسن نے پہناسرخ جوڑاحسین نے زیب تن کیا، ماں نے گلے لگالیا باپ نے بوسے دئیے نانا نے اپنی پشت پرسوارکرکے مہارکے بدلے زلفیں ہاتھوں میں دیدیں اورکہا،میرے نونہالو،رسالت کی باگ ڈورتمہارے ہاتھوں میں ہے جدھرچاہو موڑدو اورجہاں چاہولے چلو
بعض علماء کاکہناہے کہ سرورکائنات بچوں کوپشت پربٹھاکردونوں ہاتھوں اورپیروں سے چلنے لگے اوربچوں کی فرمائش پراونٹ کی آوازمنہ سے نکالنے لگے
(کشف المحجوب)۔
[23/9 4
مام حسین علیہ السلام نے اپنے حج کو" ترویہ" کے دن نامکمل چھوڑ کر مکہ سے کوچ کیوں کیا ؟
اس سے پہلے کہ ہم اس سوال کا تاریخی تجزیہ کریں ،یہ یاد دلادیں کہ فقہی لحاظ سے یہ مشہور واقعہ کہ تیسرے امام المومنین و وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام حسین علیہ السلام نے حج کو نامکمل چھوڑ دیا تھا ،درست نہیں ہے ، اس لیے کہ امام علیہ السلام ذی الحجہ کی ۸ تاریخ یعنی" یوم الترویہ" کو مکہ سے نکلے تھے (۱) جب کہ حج کے اعمال کہ جو مکہ میں احرام اور عرفات میں وقوف سے شروع ہوتے ہیں وہ ذی الحجہ کی نویں شب سے شروع ہوتے ہیں ،اس بنا پر امام نے حج کے اعمال شروع ہی نہیں کیے تھے کہ یہ کہا جائے کہ آپ نے حج کو نامکمل چھوڑ دیا تھا ۔
جی ہاں ! حضرت نے مکہ میں داخل ہوتے ہی عمرہء مفردہ انجام دیا ،اور مکہ میں اپنے چند ماہ کے قیام کے دوران مختلف اوقات میں آپ نے عمرہ کے اعمال انجام دیے ہوں گے ۔لیکن عمرہء مفردہ کے اعمال انجام دینے کا مطلب حج کے اعمال کا آغاز کرنا نہیں ہے ،بعض روایات میں صرف اتنا ہے کہ حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے "عمرہء مفردہ "بجا لایا (۲)
چونکہ آپ حج کو مکمل نہیں کر سکتے تھے (۳) لیکن یہ چیز بعید معلوم ہوتی ہے کہ حضرت نے حج کا احرام باندھا ہو چونکہ جو شخص حج کے اعمال انجام دینا چاہتا ہے وہ علی القاعدہ آٹھویں یا نویں ذی الحجہ کو احرام باندھتا ہے اور اس سے پہلے احران باندھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔
اس بات کی تائیید کے لیے کچھ روایات کافی میں نقل ہوئی ہیں جن میں سے بعض کی جانب ہم اشارہ کرتے ہیں ؛
عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ خَرَجَ فِی أَشْهُرِ الْحَجِّ مُعْتَمِراً ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بِلَادِهِ قَالَ لَا بَأْسَ وَ إِنْ حَجَّ فِی عَامِهِ ذَلِکَ وَ أَفْرَدَ الْحَجَّ فَلَیْسَ عَلَیْهِ دَمٌ فَإِنَّ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ ع خَرَجَ قَبْلَ التَّرْوِیَةِ بِیَوْمٍ إِلَى الْعِرَاقِ وَ قَدْ کَانَ دَخَلَ مُعْتَمِراً (۴)
امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا : امام حسین علیہ السلام ذی الحجہ کے آٹھویں دن سے پہلے مکہ سے نکل گئے تھے حالانکہ آپ پہلے حج کے مہینے میں عمرہ کا احرام باندھ کر عمرے کی نیت سے مکہ میں داخل ہوئے تھے اور آپ نے عمرہ کیا تھا ۔
اس روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے حج کو عمرے میں تبدیل کیا ہو ۔
ایک اور روایت میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :
قَدِ اعْتَمَرَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ع فِی ذِی الْحِجَّةِ ثُمَّ رَاحَ یَوْمَ التَّرْوِیَةِ إِلَى الْعِرَاقِ وَ النَّاسُ یَرُوحُونَ إِلَى مِنًى وَ لَا بَأْسَ بِالْعُمْرَةِ فِی ذِی الْحِجَّةِ لِمَنْ لَا یُرِیدُ الْحَجَّ . (۵)
امام حسین علیہ السلام نے ماہ ذی الحجہ میں عمرہ انجام دیا اس کے بعد ترویہ کے دن عراق کی جانب چلے گئے چنانچہ جو شخص حج نہیں کرنا چاہتا وہ عمرہ کر سکتا ہے ۔
جی ہاں ! حضرت نے مکہ میں داخل ہوتے ہی عمرہء مفردہ انجام دیا ،اور مکہ میں اپنے چند ماہ کے قیام کے دوران مختلف
اوقات میں آپ نے عمرہ کے اعمال انجام دیے ہوں گے ۔لیکن عمرہء مفردہ کے اعمال انجام دینے کا مطلب حج کے اعمال کا آغاز کرنا نہیں ہے۔شاید جب آپ کو پتہ چلا ہو گا کہ یزید کے سپاہی آپ کو حرم میں چھپ کر قتل کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے عراق کی جانب جانے کا فیصلہ کر لیا ،چنانچہ اس وقت امام علیہ السلام نے ایک اور عمرہ انجام دینے کے لیے احرام باندھا اور اس کو مکمل کیا اور احرام اتار دیا اور ترویہ یعنی آٹھ ذی الحجہ کے دن مکہ سےعراق کی جانب روانہ ہو گئے۔
تاریخی نقطہء نظر سے یہ سوال بہر حال باقی ہے کہ اس کے باوجود کہ مکہ کو انتخاب کرنے کی وجہ اپنے نظریات کی تبلیغ کے لیے مناسب موقعہ نکالنا تھا ،تو کیوں آپ نے ٹھیک اس وقت کہ جب دنیا کے مختلف علاقوں سے مکہ ،عرفات اور منی میں حاجی جمع ہو رہے تھے اور آنحضرت کے پاس تبلیغ کا بہترین موقعہ تھا اچانک آپ نے مکہ کو چھوڑ دیا ؟
اس اچانک فیصلے کے اسباب کو ہم مختصر طور پر یوں بیان کر سکتے ہیں :
۱ ۔ جانی خطرے کا احتمال ،
امام حسین علیہ السلام کے بعض ارشادات سے کہ جو آپ نے ان مختلف شخصیات سے فرمائے تھے کہ جو آپ کے مکہ چھوڑ کر کوفے کی جانب جانے کے خلاف تھے ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام مکہ میں زیادہ رہنے کو اپنے لیے خطر ناک مانتے تھے ؛چنانچہ آپ نے ابن عباس کے جواب میں فرمایا ؛ کسی دوسری جگہ قتل ہو نا مجھے مکہ میں قتل ہونے سے کہیں زیادہ پسند ہے (۶)
نیز عبد اللہ ابن زبیر سے فرمایا : خدا کی قسم اگر میں مکہ سے ایک بالشت باہر قتل کیا جاو ں تو مجھے یہ چیز اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایک بالشت مکہ کے اندر مارا جاوں ۔خدا کی قسم اگر میں جانوروں کے گھونسلے میں بھی پناہ لے لوں تو یہ لوگ جو کچھ مجھ سے چاہتے ہیں اسے حاصل کرنے کے لیے مجھے اس سے بھی باہر کھینچ لیں گے (۷)
نیز آپ نے اپنے بھائی محمد حنفیہ کو صاف طور بتا دیا تھا کہ یزید آپ کو حرم امن میں قتل کرانا چاہتا ہے (۸) بعض متون میں اس چیز کا ذکر صراحت کے ساتھ ہوا ہے کہ یزید نے کچھ لوگوں کو ہتھیار دے کر امام حسین ع کو قتل کرنے کے لیے مک بھیجا تھا (۹)
۲ ۔ حرم کی بے احترامی نہ ہو نا ،
بیان شدہ بعض عبارتوں میں آگے امام حسین ع کی جانب سے اس نقطے کی یاد آوری پائی جاتی تھی کہوہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کے قتل کیے جانے سے خانہء خدا کی بے احترامی ہو چاہے اس گناہ کے ذمہ دار اموی قاتلین اور جرائم پیشہ افراد ہی کیوں نہ ہوں ۔
آنحضرت نے عبد اللہ ابن زبیر کے ساتھ ملاقات میں اس بات کو تعریض کے انداز میں بتا دیا تھا کہ وہ بعد میں مکہ میں پناہ لے گا اور یزید کے لشکر والے حرم کے احترام کو تاڑیں گے ۔آپ نے انبن زبیر کے جواب میں فرمایا : میرے باپ علی ع نے مجھ سے فرمایا تھا کہ مکہ میں ایک قوچ ہے کہ جس کے ذریعے مکہ کی حرمت پامال کی جائے گی اور میں نہیں چاتا کہ میں اس قوچ کا مصداق بنوں (۱۰)
حوالے :
۱ ۔
۶ ۔ ابن کثیر ، البدایہ و النھایہ ، ج ۸ ص ۱۵۹ ،
۱۰ ۔ ابن اثیر الکامل فی التاریخ ، ج ۲ ص ۵۴۶
تاریخی نقطہء نظر سے یہ سوال بہر حال باقی ہے کہ اس کے باوجود کہ مکہ کو انتخاب کرنے کی وجہ اپنے نظریات کی تبلیغ کے لیے مناسب موقعہ نکالنا تھا ،تو کیوں آپ نے ٹھیک اس وقت کہ جب دنیا کے مختلف علاقوں سے مکہ ،عرفات اور منی میں حاجی جمع ہو رہے تھے اور آنحضرت کے پاس تبلیغ کا بہترین موقعہ تھا اچانک آپ نے مکہ کو چھوڑ دیا ؟
اس اچانک فیصلے کے اسباب کو ہم مختصر طور پر یوں بیان کر سکتے ہیں :
۱ ۔ جانی خطرے کا احتمال ،
امام حسین علیہ السلام کے بعض ارشادات سے کہ جو آپ نے ان مختلف شخصیات سے فرمائے تھے کہ جو آپ کے مکہ چھوڑ کر کوفے کی جانب جانے کے خلاف تھے ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام مکہ میں زیادہ رہنے کو اپنے لیے خطر ناک مانتے تھے ؛چنانچہ آپ نے ابن عباس کے جواب میں فرمایا ؛ کسی دوسری جگہ قتل ہو نا مجھے مکہ میں قتل ہونے سے کہیں زیادہ پسند ہے (۶)
نیز عبد اللہ ابن زبیر سے فرمایا : خدا کی قسم اگر میں مکہ سے ایک بالشت باہر قتل کیا جاو ں تو مجھے یہ چیز اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایک بالشت مکہ کے اندر مارا جاوں ۔خدا کی قسم اگر میں جانوروں کے گھونسلے میں بھی پناہ لے لوں تو یہ لوگ جو کچھ مجھ سے چاہتے ہیں اسے حاصل کرنے کے لیے مجھے اس سے بھی باہر کھینچ لیں گے (۷)
نیز آپ نے اپنے بھائی محمد حنفیہ کو صاف طور بتا دیا تھا کہ یزید آپ کو حرم امن میں قتل کرانا چاہتا ہے (۸) بعض متون میں اس چیز کا ذکر صراحت کے ساتھ ہوا ہے کہ یزید نے کچھ لوگوں کو ہتھیار دے کر امام حسین ع کو قتل کرنے کے لیے مک بھیجا تھا (۹)
۲ ۔ حرم کی بے احترامی نہ ہو نا ،
بیان شدہ بعض عبارتوں میں آگے امام حسین ع کی جانب سے اس نقطے کی یاد آوری پائی جاتی تھی کہوہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کے قتل کیے جانے سے خانہء خدا کی بے احترامی ہو چاہے اس گناہ کے ذمہ دار اموی قاتلین اور جرائم پیشہ افراد ہی کیوں نہ ہوں ۔
آنحضرت نے عبد اللہ ابن زبیر کے ساتھ ملاقات میں اس بات کو تعریض کے انداز میں بتا دیا تھا کہ وہ بعد میں مکہ میں پناہ لے گا اور یزید کے لشکر والے حرم کے احترام کو تاڑیں گے ۔آپ نے انبن زبیر کے جواب میں فرمایا : میرے باپ علی ع نے مجھ سے فرمایا تھا کہ مکہ میں ایک قوچ ہے کہ جس کے ذریعے مکہ کی حرمت پامال کی جائے گی اور میں نہیں چاتا کہ میں اس قوچ کا مصداق بنوں (۱۰)
حوالے :
۱ ۔
۶ ۔ ابن کثیر ، البدایہ و النھایہ ، ج ۸ ص ۱۵۹ ،
۱۰ ۔ ابن اثیر الکامل فی التاریخ ، ج ۲ ص ۵۴۶
ﯾﺰﯾﺪ ﭘﻠﯿﺪ ﮐﮯ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﮯ
ﻋﻈﯿﻢ ﻣﺆﺭﺥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻼﻣﮧ ﻃﺒﺮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮐﺘﺎﺏ " ﺍﻟﺘﺎﺭﯾﺦ ﻃﺒﺮﯼ " ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﺰﯾﺪ ﻧﮯ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﮐﻮ ﮐﻮﻓﮧ ﮐﺎ ﺣﺎﮐﻢ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﻋﻘﯿﻞ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺎﺅ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﻭ ﯾﺎ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﻭ۔
( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻃﺒﺮﯼ ، 4/176 )
ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﻋﻘﯿﻞ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺮﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﯾﺰﯾﺪ ﭘﻠﯿﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﻣﺸﻖ ﺑﮭﯿﺠﮯ ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﯾﺰﯾﺪ ﺧﺒﯿﺚ ﻧﮯ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﮐﻮ ﺧﻂ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍﮐﯿﺎ۔
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎﻣﻞ ، 6/36 )
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻟﮑﮭﺎ ، ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎﺗﮭﺎ ﺗﻮﻧﮯ ﻭﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﻮﻧﮯ ﻋﺎﻗﻼﻧﮧ ﮐﺎ ﻡ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﯿﺮ ﺍﻧﮧ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ۔
( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎﻣﻞ 4/173 )
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺟﺮﯾﺮ ﻃﺒﺮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺳﺮﺍﻗﺪﺱ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺳﺮ ﺍﻗﺪﺱ ﯾﺰﯾﺪ ﻟﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻭﮨﺎﮞ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﻮﺑﺮﺯۃ ﺍﻻﺳﻠﻤﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﺰﯾﺪﻣﺮﺩﻭﺩ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﮍﯼ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻟﺒﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺷﻌﺮ ﭘﮍﮬﮯ :
" ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﮭﻮﭘﮍﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮭﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻭﮦ ﻧﺎﻓﺮﻥ ﺍﻭﺭ ﻇﺎﻟﻢ ﺗﮭﮯ۔ "
ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﻮﺑﺮﺯۃ ﺍﻻﺳﻠﻤﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮧ ﮨﻮﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﮮ ﯾﺰﯾﺪ ! ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﮍﯼ ﮨﭩﺎﻟﻮ۔ ﺧﺪﺍﮐﯽ ﻗﺴﻢ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺎﺭﮨﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺱ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﻨﮧ ﮐﻮ ﭼﻮﻣﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻃﺒﺮﯼ ، 4/181 )
( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ ، 8/197 )
ﻣﺸﮩﻮﺭﻣﺆﺭﺧﯿﻦ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ ﻧﮯ ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺍﺛﯿﺮ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎﻣﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﻮ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺏ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﭘﺮ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﺘﻨﺎ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮔﺎﺍﺭﮮ ﻭﮦ ﺳﻨﮕﺪﻝ ،ﻇﺎﻟﻢ، ﻓﺎﺳﻖ، ﻓﺎﺟﺮ، ﺑﺪﮐﺎﺭ ، ﺷﺮﺍﺑﯽ ، ﻣﺮﺩﻭﺩ ، ﻣﻠﻌﻮﻥ، ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﻮﺍﺳﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﻗﺪﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﺘﮑﺒﺮﺍﻧﮧ ﺷﻌﺮ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻟﺒﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﮍﯼ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺣﺒﯿﺐِ ﺧﺪﺍﻋﺰﻭﺟﻞ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍﻟﮧ ﻭﺍﺻﺤﺎﺑﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﮐﺜﺮ ﭼﻮﻣﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﻟﻌﻨﺖ ﻭﻣﻼﻣﺖ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟
ﺟﺐ ﺍﮨﻞ ﺑﯿﺖ ﻧﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﺯﺩﮦ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﻧﮯ ﯾﺰﯾﺪ ﻟﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺠﺎﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻠﮏ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﺍﻣﺮﺍﺀ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﺮﮮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻧﻮﺍﺩۂ ﻧﺒﻮﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻓﺘﺢ ﭘﺮ ﻣﺒﺎﺭﮐﺒﺎﺩ ﺩﯼ۔ ( ﻃﺒﺮﯼ، 4/181 )
( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ ، 8/197 )
ﺍﺱ ﻋﺎﻡ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻣﯽ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﻤﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﺑﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﯿﺪﮦ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺨﺶ ﺩﻭ۔ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﯿّﺪﮦ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻟﺰﺭﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻦ ﺳﯿّﺪﮦ ﺯﯾﻨﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﺎ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪﺗﻨﺎ ﺭﯾﻨﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﮔﺮﺝ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ، ﺗﻮ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻧﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍﺱ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﻮ
ﯾﺰﯾﺪﻟﻌﯿﻦ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻃﯿﺶ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ، ﺗﻢ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﮨﻮ ۔ ﺧﺪﺍﮐﯽ ﻗﺴﻢ ! ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﺳﯿﺪﮦ ﺯﯾﻨﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﮔﺮﺟﺪﺍﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ، ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﺧﺪﺍﮐﯽ ﻗﺴﻢ ! ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ۔
( ﻃﺒﺮﯼ ، 4/181 )
( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ ، 8/197 )
ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﯾﺰﯾﺪ ﻟﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻭ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮯ ﻗﺼﻮﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺍﺛﯿﺮ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﻗﻠﻢ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﯿﺌﮯ :
ﺟﺐ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﺎﻟﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺍﻗﺪﺱ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻮﻧﭽﺎ ﺗﻮ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﻭ ﻣﻨﺰﻟﺖ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﯾﺰﯾﺪ ﺑﮍﺍﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﯾﮟ ﻣﻠﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻟﻌﻨﺖ ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﺘﮯﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﭘﺮ ﻧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺍ۔ ( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎﻣﻞ ، 4/87 )
ﯾﺰﯾﺪ ﮐﯽ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﻭ ﭘﯿﺸﻤﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭘﮍﮪ ﻟﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﻋﺪﻝ ﻭ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺳﮯ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺗﻞ ﺳﮯ ﻗﺼﺎﺹ ﻟﯿﻨﺎ ﺣﺎﮐﻢ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻧﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺗﮭﺎ ۔ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ، ﺍﺑﻦ ﺳﻌﺪ، ﺷﻤﺮﻣﻌﻠﻮﻥ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺳﮯ ﻗﺼﺎﺹ ﻟﯿﻨﺎ ﺗﻮ ﺩﺭﮐﻨﺎﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﮩﺪﮦ ﺳﮯ ﺑﺮﻃﺮﻑ ﺗﮏ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺎﺩﯾﺒﯽ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﻭﻗﺘﯿﮧ ﻃﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﺞ ﻭ ﻣﻼﻝ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ۔
ﻗﺘﻞ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎﯾﺰﯾﺪ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ
ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﺑﺪﻧﮩﺎﺩ ﮐﺎ ﺍﻗﺮﺍﺭﯼ ﺑﯿﺎﻥ
ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﺑﺪﻧﮩﺎﺩ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﺰﯾﺪ ﭘﻠﯿﺪ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﯿﺪ ﺍﻟﺸﮩﺪﺍﺀ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﺳﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ﺟﯿﺴﺎﮐﮧ ﺍﺑﻦ ﺍﺛﯿﺮ ،ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎﻣﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﻧﻘﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﺍﻣﺎ ﻗﺘﻠﯽ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦ ﻓﺎﻧﮧ ﺍﺷﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﯾﺰﯾﺪ ﺑﻘﺘﻠﮧ ﺍﻭﻗﺘﻠﯽ ﻓﺎﺧﺘﺮﺕ ﻗﺘﻠﮧ۔
ﻋﻈﯿﻢ ﻣﺆﺭﺥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻼﻣﮧ ﻃﺒﺮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮐﺘﺎﺏ " ﺍﻟﺘﺎﺭﯾﺦ ﻃﺒﺮﯼ " ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﺰﯾﺪ ﻧﮯ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﮐﻮ ﮐﻮﻓﮧ ﮐﺎ ﺣﺎﮐﻢ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﻋﻘﯿﻞ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺎﺅ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﻭ ﯾﺎ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﻭ۔
( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻃﺒﺮﯼ ، 4/176 )
ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﻋﻘﯿﻞ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺮﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﯾﺰﯾﺪ ﭘﻠﯿﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﻣﺸﻖ ﺑﮭﯿﺠﮯ ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﯾﺰﯾﺪ ﺧﺒﯿﺚ ﻧﮯ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﮐﻮ ﺧﻂ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍﮐﯿﺎ۔
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎﻣﻞ ، 6/36 )
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻟﮑﮭﺎ ، ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎﺗﮭﺎ ﺗﻮﻧﮯ ﻭﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﻮﻧﮯ ﻋﺎﻗﻼﻧﮧ ﮐﺎ ﻡ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﯿﺮ ﺍﻧﮧ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ۔
( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎﻣﻞ 4/173 )
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺟﺮﯾﺮ ﻃﺒﺮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺳﺮﺍﻗﺪﺱ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺳﺮ ﺍﻗﺪﺱ ﯾﺰﯾﺪ ﻟﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻭﮨﺎﮞ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﻮﺑﺮﺯۃ ﺍﻻﺳﻠﻤﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﺰﯾﺪﻣﺮﺩﻭﺩ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﮍﯼ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻟﺒﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺷﻌﺮ ﭘﮍﮬﮯ :
" ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﮭﻮﭘﮍﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮭﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻭﮦ ﻧﺎﻓﺮﻥ ﺍﻭﺭ ﻇﺎﻟﻢ ﺗﮭﮯ۔ "
ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﻮﺑﺮﺯۃ ﺍﻻﺳﻠﻤﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮧ ﮨﻮﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﮮ ﯾﺰﯾﺪ ! ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﮍﯼ ﮨﭩﺎﻟﻮ۔ ﺧﺪﺍﮐﯽ ﻗﺴﻢ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺎﺭﮨﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺱ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﻨﮧ ﮐﻮ ﭼﻮﻣﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻃﺒﺮﯼ ، 4/181 )
( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ ، 8/197 )
ﻣﺸﮩﻮﺭﻣﺆﺭﺧﯿﻦ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ ﻧﮯ ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺍﺛﯿﺮ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎﻣﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﻮ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺏ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﭘﺮ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﺘﻨﺎ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮔﺎﺍﺭﮮ ﻭﮦ ﺳﻨﮕﺪﻝ ،ﻇﺎﻟﻢ، ﻓﺎﺳﻖ، ﻓﺎﺟﺮ، ﺑﺪﮐﺎﺭ ، ﺷﺮﺍﺑﯽ ، ﻣﺮﺩﻭﺩ ، ﻣﻠﻌﻮﻥ، ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﻮﺍﺳﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﻗﺪﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﺘﮑﺒﺮﺍﻧﮧ ﺷﻌﺮ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻟﺒﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﮍﯼ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺣﺒﯿﺐِ ﺧﺪﺍﻋﺰﻭﺟﻞ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍﻟﮧ ﻭﺍﺻﺤﺎﺑﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﮐﺜﺮ ﭼﻮﻣﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﻟﻌﻨﺖ ﻭﻣﻼﻣﺖ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟
ﺟﺐ ﺍﮨﻞ ﺑﯿﺖ ﻧﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﺯﺩﮦ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﻧﮯ ﯾﺰﯾﺪ ﻟﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺠﺎﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻠﮏ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﺍﻣﺮﺍﺀ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﺮﮮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻧﻮﺍﺩۂ ﻧﺒﻮﺕ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻓﺘﺢ ﭘﺮ ﻣﺒﺎﺭﮐﺒﺎﺩ ﺩﯼ۔ ( ﻃﺒﺮﯼ، 4/181 )
( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ ، 8/197 )
ﺍﺱ ﻋﺎﻡ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻣﯽ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﻤﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﺑﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﯿﺪﮦ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺨﺶ ﺩﻭ۔ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﯿّﺪﮦ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻟﺰﺭﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻦ ﺳﯿّﺪﮦ ﺯﯾﻨﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﺎ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪﺗﻨﺎ ﺭﯾﻨﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﮔﺮﺝ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ، ﺗﻮ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻧﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍﺱ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﻮ
ﯾﺰﯾﺪﻟﻌﯿﻦ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻃﯿﺶ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ، ﺗﻢ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﮨﻮ ۔ ﺧﺪﺍﮐﯽ ﻗﺴﻢ ! ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﺳﯿﺪﮦ ﺯﯾﻨﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﮔﺮﺟﺪﺍﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ، ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﺧﺪﺍﮐﯽ ﻗﺴﻢ ! ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ۔
( ﻃﺒﺮﯼ ، 4/181 )
( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ ، 8/197 )
ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﯾﺰﯾﺪ ﻟﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻭ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮯ ﻗﺼﻮﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺍﺛﯿﺮ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﻗﻠﻢ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﯿﺌﮯ :
ﺟﺐ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﺎﻟﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺍﻗﺪﺱ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻮﻧﭽﺎ ﺗﻮ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﻭ ﻣﻨﺰﻟﺖ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﯾﺰﯾﺪ ﺑﮍﺍﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﯾﮟ ﻣﻠﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻟﻌﻨﺖ ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﺘﮯﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﭘﺮ ﻧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺍ۔ ( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎﻣﻞ ، 4/87 )
ﯾﺰﯾﺪ ﮐﯽ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﻭ ﭘﯿﺸﻤﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭘﮍﮪ ﻟﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﻋﺪﻝ ﻭ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺳﮯ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺗﻞ ﺳﮯ ﻗﺼﺎﺹ ﻟﯿﻨﺎ ﺣﺎﮐﻢ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻧﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺗﮭﺎ ۔ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ، ﺍﺑﻦ ﺳﻌﺪ، ﺷﻤﺮﻣﻌﻠﻮﻥ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺳﮯ ﻗﺼﺎﺹ ﻟﯿﻨﺎ ﺗﻮ ﺩﺭﮐﻨﺎﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﮩﺪﮦ ﺳﮯ ﺑﺮﻃﺮﻑ ﺗﮏ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺎﺩﯾﺒﯽ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﻭﻗﺘﯿﮧ ﻃﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﺞ ﻭ ﻣﻼﻝ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ۔
ﻗﺘﻞ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎﯾﺰﯾﺪ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ
ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﺑﺪﻧﮩﺎﺩ ﮐﺎ ﺍﻗﺮﺍﺭﯼ ﺑﯿﺎﻥ
ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﺑﺪﻧﮩﺎﺩ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﺰﯾﺪ ﭘﻠﯿﺪ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﯿﺪ ﺍﻟﺸﮩﺪﺍﺀ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﺳﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ﺟﯿﺴﺎﮐﮧ ﺍﺑﻦ ﺍﺛﯿﺮ ،ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎﻣﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﻧﻘﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﺍﻣﺎ ﻗﺘﻠﯽ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦ ﻓﺎﻧﮧ ﺍﺷﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﯾﺰﯾﺪ ﺑﻘﺘﻠﮧ ﺍﻭﻗﺘﻠﯽ ﻓﺎﺧﺘﺮﺕ ﻗﺘﻠﮧ۔
ﺍﺏ ﺭﮨﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﻮ ﺑﺎﺕ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﺰﯾﺪ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﺼﻮﺭﺕ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ۔ ( ﺍﻟﺘﺎﺭﯾﺦ ﺍﻟﮑﺎﻣﻞ ، 4/474 )
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﻭ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ
ﺟﺐ 63 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﯾﺰﯾﺪ ﭘﻠﯿﺪ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﺍﮨﻞ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻌﺖ ﺗﻮﮌﺩﯼ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻟﺸﮑﺮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮐﯿﺎ ۔ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﺱ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻻﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﯿﺎ ﮦ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ۔
ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﻋﻘﺒﮧ ﺟﺴﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﺴﺮﻑ ﺑﻦ ﻋﻘﺒﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺧﺪﺍ ﺍﺱ ﺫﻟﯿﻞ ﻭ ﺭﺳﻮﺍ ﮐﺮﮮ ، ﻭﮦ ﺑﮍﺍ ﺟﺎﮨﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﮉ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺒﺎﺡ ﮐﺮﺩﯾﺎ ۔ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﻮ ﺟﺰﺍﺋﮯ ﻧﮧ ﺩﮮ ، ﺍﺱ ﻟﺸﮑﺮ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺑﺰﮔﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻣﻮﺍﻝ ﻟﻮﭦ ﻟﺌﮯ ۔ ( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﺝ 8/220 )
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﮐﻮ ﻣﺒﺎﺡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻭ، ﺟﻮ ﻣﺎﻝ ﭼﺎﮨﻮﻟﻮﭦ ﮨﻮﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﻮﺁﺑﺮﻭﯾﺰﯼ ﮐﺮﻭ ۔ ( ﺍﻟﻌﯿﺎﺫﺑﺎﻟﻠﮧ ) ﯾﺰﯾﺪﯼ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﻮﺕ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﮨﺮ ﻣﻮﻣﻦ ﺧﻮﻑ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﮐﺎﻧﭗ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﮐﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺣﻼﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﺁﺝ ﻟﻮﮒ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﯿﻦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺗﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﯾﺰﯾﺪﯼ ﻟﺸﮑﺮ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺼﻤﺘﯿﮟ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﮐﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺍﯾﺎ ﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭﮐﻨﻮﺍﺭﯼ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺣﺎﻣﻠﮧ ﮨﻮﺋﯿﮟ ۔ ( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﺝ 8/221 )
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﻮ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺣﺮﮦ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻋﻠﯽٰ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﺪﺙ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺷﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮧ ﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻠﮏ ﮨﻮﮐﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻓﺴﺎﺩ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ، ﺣﺮﻣﯿﻦ ﻃﯿﺒﯿﻦ ﻭﺧﻮﺩ ﮐﻌﺒﮧ ﻣﻌﻈﻤﮧ ﻭﺭﻭﺿﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﮐﯽ ﺳﺨﺖ ﺑﮯ ﺣﺮﻣﺘﯿﺎﮞ ﮐﯿﮟ، ﻣﺴﺠﺪ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﻟﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﻣﻨﺒﺮ ﺍﻃﮩﺮ ﭘﺮ ﭘﮍﮮ، ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﺑﮯ ﻭ ﻧﻤﺎﺯ ﺭﮨﯽ ، ﻣﮑﮧ ﻭﻣﺪﯾﻨﮧ ﻭ ﺣﺠﺎﺯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻭﺗﺎﺑﻌﯿﻦ ﺑﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺷﮩﯿﺪﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ۔
ﮐﻌﺒﮧ ﻣﻌﻈﻤﮧ ﭘﺮ ﭘﮭﯿﻨﮑﮯ، ﻏﻼﻑ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﮭﺎﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺟﻼﯾﺎ ، ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﮐﯽ ﭘﺎﮎ ﺩﺍﻣﻦ ﭘﺎﺭﺳﺎﺋﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺷﺒﺎﻧﮧ ﺭﻭﺯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺒﯿﺚ ﻟﺸﮑﺮ ﭘﺮ ﺣﻼﻝ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ ( ﻋﺮﻓﺎﻥ ﺷﺮﯾﻌﺖ )
ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﯿﺪ ﺑﻦ ﻣﺴﯿﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﯾﺎﻡ ﺣﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺗﮏ ﺍﺫﺍﻥ ﻭﺍﻗﺎﻣﺖ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ۔ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﺮ ﺍﻧﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﺫﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻗﺎﻣﺖ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
( ﺩﺍﺭﻣﯽ، ﻣﺸﮑﻮۃ ، ﻭﻓﺎﺍﻟﻮﻓﺎﺀ )
ﻋﻼﻣﮧ ﺳﯿﻮﻃﯽ ﺍﻟﺸﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﭘﺮ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﺸﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻟﺸﮑﺮ ﺳﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ۔ ﯾﺰﯾﺪﯼ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺮﺿﻮﺍﻥ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ، ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﮐﻮ ﺧﻮﺏ ﻟﻮﭨﺎ ﮔﯿﺎ ، ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﮐﻨﻮﺍﺭﯼ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺑﺮﻭﺭﯾﺰﯼ ﮐﯽ ﮔﺊ۔
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﺰﯾﺪﻣﻠﻌﻮﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﺸﮑﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺯﺑﯿﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﮑﮧ ﻣﻌﻈﻤﮧ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﻟﺸﮑﺮ ﻧﮯ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﭘﮩﻮﻧﭻ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﻨﺠﻨﯿﻖ ﺳﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﺮﺳﺎﺋﮯ ۔
ﺍﻥ ﭘﺘﮭﺮ ﻭﮞ ﮐﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻌﺒﮧ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﺟﻞ ﮔﯿﺎ ، ﮐﻌﺒﮧ ﮐﺎ ﭼﮭﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻧﺒﮧ ﮐﺎ ﺳﯿﻨﮓ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻓﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﻌﺒﮧ ﮐﯽ ﭼﮭﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﻭﯾﺰﺍﮞ ﺗﮭﺎ، ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺟﻞ ﮔﯿﺎ ۔
ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ 64 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﻣﺎﮦ ﯾﺰﯾﺪ ﻟﻌﯿﻦ ﻣﺮﮔﯿﺎ۔
ﺟﺐ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﭘﮩﻮﻧﭽﯽ ﺗﻮ ﯾﺰﯾﺪﯼ ﻟﺸﮑﺮ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺯﺑﯿﺮ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮﻟﯽ۔ ( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﻟﺨﻠﻔﺎﺀ ﺹ 307 )
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﻭ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ
ﺟﺐ 63 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﯾﺰﯾﺪ ﭘﻠﯿﺪ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﺍﮨﻞ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻌﺖ ﺗﻮﮌﺩﯼ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻟﺸﮑﺮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮐﯿﺎ ۔ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﺱ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻻﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﯿﺎ ﮦ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ۔
ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﻋﻘﺒﮧ ﺟﺴﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﺴﺮﻑ ﺑﻦ ﻋﻘﺒﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺧﺪﺍ ﺍﺱ ﺫﻟﯿﻞ ﻭ ﺭﺳﻮﺍ ﮐﺮﮮ ، ﻭﮦ ﺑﮍﺍ ﺟﺎﮨﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﮉ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺒﺎﺡ ﮐﺮﺩﯾﺎ ۔ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﻮ ﺟﺰﺍﺋﮯ ﻧﮧ ﺩﮮ ، ﺍﺱ ﻟﺸﮑﺮ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺑﺰﮔﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻣﻮﺍﻝ ﻟﻮﭦ ﻟﺌﮯ ۔ ( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﺝ 8/220 )
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﮐﻮ ﻣﺒﺎﺡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻭ، ﺟﻮ ﻣﺎﻝ ﭼﺎﮨﻮﻟﻮﭦ ﮨﻮﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﻮﺁﺑﺮﻭﯾﺰﯼ ﮐﺮﻭ ۔ ( ﺍﻟﻌﯿﺎﺫﺑﺎﻟﻠﮧ ) ﯾﺰﯾﺪﯼ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﻮﺕ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﮨﺮ ﻣﻮﻣﻦ ﺧﻮﻑ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﮐﺎﻧﭗ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﮐﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺣﻼﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﺁﺝ ﻟﻮﮒ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﯿﻦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺗﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﯾﺰﯾﺪﯼ ﻟﺸﮑﺮ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺼﻤﺘﯿﮟ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﮐﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺍﯾﺎ ﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭﮐﻨﻮﺍﺭﯼ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺣﺎﻣﻠﮧ ﮨﻮﺋﯿﮟ ۔ ( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﺝ 8/221 )
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﻮ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺣﺮﮦ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻋﻠﯽٰ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﺪﺙ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺷﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮧ ﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻠﮏ ﮨﻮﮐﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻓﺴﺎﺩ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ، ﺣﺮﻣﯿﻦ ﻃﯿﺒﯿﻦ ﻭﺧﻮﺩ ﮐﻌﺒﮧ ﻣﻌﻈﻤﮧ ﻭﺭﻭﺿﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﮐﯽ ﺳﺨﺖ ﺑﮯ ﺣﺮﻣﺘﯿﺎﮞ ﮐﯿﮟ، ﻣﺴﺠﺪ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﻟﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﻣﻨﺒﺮ ﺍﻃﮩﺮ ﭘﺮ ﭘﮍﮮ، ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﺑﮯ ﻭ ﻧﻤﺎﺯ ﺭﮨﯽ ، ﻣﮑﮧ ﻭﻣﺪﯾﻨﮧ ﻭ ﺣﺠﺎﺯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻭﺗﺎﺑﻌﯿﻦ ﺑﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺷﮩﯿﺪﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ۔
ﮐﻌﺒﮧ ﻣﻌﻈﻤﮧ ﭘﺮ ﭘﮭﯿﻨﮑﮯ، ﻏﻼﻑ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﮭﺎﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺟﻼﯾﺎ ، ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﮐﯽ ﭘﺎﮎ ﺩﺍﻣﻦ ﭘﺎﺭﺳﺎﺋﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺷﺒﺎﻧﮧ ﺭﻭﺯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺒﯿﺚ ﻟﺸﮑﺮ ﭘﺮ ﺣﻼﻝ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ ( ﻋﺮﻓﺎﻥ ﺷﺮﯾﻌﺖ )
ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﯿﺪ ﺑﻦ ﻣﺴﯿﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﯾﺎﻡ ﺣﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺗﮏ ﺍﺫﺍﻥ ﻭﺍﻗﺎﻣﺖ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ۔ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﺮ ﺍﻧﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﺫﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻗﺎﻣﺖ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
( ﺩﺍﺭﻣﯽ، ﻣﺸﮑﻮۃ ، ﻭﻓﺎﺍﻟﻮﻓﺎﺀ )
ﻋﻼﻣﮧ ﺳﯿﻮﻃﯽ ﺍﻟﺸﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﭘﺮ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﺸﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻟﺸﮑﺮ ﺳﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ۔ ﯾﺰﯾﺪﯼ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺮﺿﻮﺍﻥ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ، ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﮐﻮ ﺧﻮﺏ ﻟﻮﭨﺎ ﮔﯿﺎ ، ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﮐﻨﻮﺍﺭﯼ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺑﺮﻭﺭﯾﺰﯼ ﮐﯽ ﮔﺊ۔
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﺰﯾﺪﻣﻠﻌﻮﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﺸﮑﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺯﺑﯿﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﮑﮧ ﻣﻌﻈﻤﮧ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﻟﺸﮑﺮ ﻧﮯ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﭘﮩﻮﻧﭻ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﻨﺠﻨﯿﻖ ﺳﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﺮﺳﺎﺋﮯ ۔
ﺍﻥ ﭘﺘﮭﺮ ﻭﮞ ﮐﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻌﺒﮧ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﺟﻞ ﮔﯿﺎ ، ﮐﻌﺒﮧ ﮐﺎ ﭼﮭﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻧﺒﮧ ﮐﺎ ﺳﯿﻨﮓ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻓﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﻌﺒﮧ ﮐﯽ ﭼﮭﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﻭﯾﺰﺍﮞ ﺗﮭﺎ، ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺟﻞ ﮔﯿﺎ ۔
ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ 64 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﻣﺎﮦ ﯾﺰﯾﺪ ﻟﻌﯿﻦ ﻣﺮﮔﯿﺎ۔
ﺟﺐ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﭘﮩﻮﻧﭽﯽ ﺗﻮ ﯾﺰﯾﺪﯼ ﻟﺸﮑﺮ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺯﺑﯿﺮ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮﻟﯽ۔ ( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﻟﺨﻠﻔﺎﺀ ﺹ 307 )
ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﮨﮯ ۔ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﻮ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﮓ ﻭ ﻗﺘﺎﻝ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺑﮩﺖ ﻣﻌﻈﻢ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺩﺳﻮﯾﮟ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﺎ ﺩﻥ ۔
( ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﻻﯾﺎﻡ ﻭﺍﻟﺸﮩﻮﺭ ﺻﻔﺤﮧ ٢٥١ )
ﻣﺤﺮﻡ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﻓﻞ :
ﻣﺎﮦِ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺷﺐ ﻣﯿﮟ ﭼﮫ ﺭﮐﻌﺎﺕ ﺗﯿﻦ ﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮮ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﺋﮧ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭۃ ﺍﺧﻼﺹ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﺍﻟْﻤَﻠِﮏُ ﺍﻟْﻘُﺪُّﻭْﺱٌ ﭘﮍﮬﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺛﻮﺍﺏ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮﻣﺤﺮﻡ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺷﺐ ﺳﻮﺑﺎﺭ ﭘﮍﮬﮯ :
ﻟَﺎ ﺍِﻟٰﮧَ ﺍِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻭَﺣْﺪَﮦ، ﻟَﺎ ﺷَﺮِﯾْﮏَ ﻟَﮧ، ۔ ﻟَﮧ، ﺍﻟْﻤُﻠْﮏُ ﻭَﻟَﮧ، ﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ﯾُﺤْﯿِﯽْ ﻭَﯾُﻤِﯿْﺖُ ﻭَﮨُﻮَ ﺣَﯽٌّ ﺍﻟَّﺎ ﯾَﻤُﻮْﺕُ ﺍَﺑْﺪًﺍ ﺫُﻭﺍﻟْﺠَﻠَﺎﻝِ ﻭَﺍﻟْﺎِﮐْﺮَﺍﻡِ ﺍَﻟﻠّٰﮩُﻢَ ﻟَﺎ ﻣَﺎﻧِﻊُ ﻟِﻤَﺎ ﺍَﻋْﻄَﯿْﺖَ ﻭَﻟَﺎ ﻣُﻌْﻄِﯽَ ﻟِﻤَﺎ ﻣَﻨَﻌْﺖَ ﻭَﻟَﺎ ﯾَﻨْﻔَﻊُ ﺫُﺍﻟْﺠَﺪِّ ﻣِﻨْﮏَ ﺍﻟْﺠَﺪُ
( ﺗﺮﺟﻤﮧ ) ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﻣﻠﮏ ﺍُﺳﯽ ﮐﺎ ﮨﮯ، ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺍُﺳﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ۔ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮔﺎ۔ ﺻﺎﺣﺐِ ﺟﻼ ﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﮨﮯ ۔ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺗﻮﻧﮯ ﺩﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻧﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺗﻮﻧﮯ ﺭﻭﮎ ﺩﯾﺎ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﮨﻮﻧﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻔﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ۔ ( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٢ )
ﺗﻤﺎﻡ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮐﺖ
ﯾﮑﻢ ﻣﺤﺮﻡ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﻔﻞ ﭘﮍﮬﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻻﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﮯ۔ ﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﭘﮍﮬﮯ :
ﺍَﻟﻠّٰﮩُﻢَّ ﺍَﻧْﺖَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﺍﻟْﺎَﺑَﺪُ ﺍﻟْﻘَﺪِﯾْﻢُ ﮨٰﺬِﮦ ﺳَﻨَﮧٌ ﺟَﺪِﯾْﺪَۃٌ ﺍَﺳْﺌَﻠُﮏَ ﻓِﯿْﮩَﺎ ﺍﻟْﻌِﺼْﻤَۃَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺸَّﯿْﻄٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺟِﯿْﻢِ ﻭَﺍﻟْﺎَﻣَﺎﻥَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺴُّﻠْﻄَﺎﻥِ ﺍﻟْﺠَﺎﺑِﺮِ ﻭَﻣِﻦْ ﺷَﺮِّ ﮐُﻞِّ ﺫِﯼْ ﺷَﺮٍّ ﻭَّﻣِﻦَ ﺍﻟْﺒَﻠَﺎﺀِ ﻭَ ﺍﻟْﺎٰﻓَﺎﺕِ ﻭَﺍَﺳْﺌَﻠُﮏَ ﺍﻟْﻌَﻮْﻥَ ﻭَﺍﻟْﻌَﺪْﻝَ ﻋَﻠٰﯽ ﮨٰﺬِﮦِ ﺍﻟﻨَّﻔْﺲِ ﺍﻟْﺎَﻣَّﺎﺭَۃِ ﺑِﺎﻟﺴُّﻮْﺀِ ﻭَﺍﻟْﺎِﺷْﺘِﻐَﺎﻝِ ﺑِﻤَﺎ ﯾُﻘَﺮِّﺑُﻨِﯽْ ﺍِﻟَﯿْﮏَ ﯾَﺎ ﺑَﺮُّ ﯾَﺎ ﺭَﺀُ ﻭْﻑُ ﯾَﺎ ﺭَﺣِﯿْﻢُ ﯾَﺎ ﺫَﺍﻟْﺠَﻠَﺎﻝِ ﻭَﺍﻟْﺎِﮐْﺮَﺍﻡِ۔
ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﮯ ﮔﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺩﻭ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﻓﺮﻣﺎﺩﮮ ﮔﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻟﻌﯿﻦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﺎﻝ ﻧﺎﺍﻣﯿﺪ ﮨﻮﺍ۔ ( ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﻻﯾﺎﻡ ﻭﺍﻟﺸﮩﻮﺭ ، ﺻﻔﺤﮧ ٢٦٨، ٢٦٩ )
ﺩﻋﺎﺋﮯ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ :
ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﮐﻮ ﺟﻮ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﭘﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥِ ﻟﻌﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﺩﻭ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﭘﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﻮﮞﮕﮯ ۔ ﺩﻋﺎ ﯾﮧ ﮨﮯ :
ﺍَﻟﻠّٰﮩُﻢَّ ﺍَﻧْﺖَ ﺍﻟْﺎَﺑَﺪِﯼُّ ﺍﻟْﻘَﺪِﯾْﻢُ ﻭَﮨٰﺬِﮦ ﺳَﻨَۃٌ ﺟَﺪِﯾْﺪَۃٌ ﺍَﺳْﺌَﻠُﮏَ ﻓِﯿْﮩَﺎ ﺍﻟْﻌِﺼْﻤَۃَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺸَّﯿْﻄٰﻦِ ﻭَﺍَﻭْﻟِﯿَﺎﺋِﮧ ﻭَﺍﻟْﻌَﻮْﻥَ ﻋَﻠٰﯽ ﮨٰﺬِﮦِ ﺍﻟﻨَّﻔْﺲِ ﺍﻟْﺎَﻣَّﺎﺭَۃِ ﺑِﺎﻟﺴُّﻮْﺀِ ﻭَﺍﻟْﺎِ ﺷْﺘِﻐَﺎﻝَ ﺑِﻤَﺎ ﯾُﻘَﺮِّ ﺑُﻨِﯽْ ﺍِﻟَﯿْﮏَ ﯾَﺎ ﮐَﺮِﯾْﻢُ ( ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﻻﯾﺎﻡ ﺍﻟﺸﮩﻮﺭ ﺻﻔﺤﮧ ٢٦٧، ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﻧﺰﮨۃ ﺍﻟﻤﺠﺎﻟﺲ )
ﯾﻮﻡِ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ
ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺗﺴﻤﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻤﺎ ﺀ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ، ﺍﮐﺜﺮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﺎ ﺩﺳﻮﺍﮞ ﺩﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ، ﺑﻌﺾ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺑﺰﺭﮔﯿﺎﮞ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺍﻣﺖ ﻣﺤﻤﺪﯾﮧ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﻥ ﺩﺳﻮﯾﮟ ﺑﺰﺭﮔﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﯾﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺎﯾﺎ۔ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﭘﺮ ﻏﻠﺒﮧ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ۔ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﻈﯿﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮨﻢ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯿﮟ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔
( ﻣﮑﺎﺷﻔۃ ﺍﻟﻘﻠﻮﺏ، ﺻﻔﺤﮧ ٦٩٨ ﺍﺯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﻏﺰﺍﻟﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ )
ﯾﻮﻡِ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﮯ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺜﺮﺕ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺋﯽ، ﺍﺱ ﺩﻥ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮨﻮﺋﯽ، ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﻋﺮﺵ، ﮐﺮﺳﯽ ، ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭﺯﻣﯿﻦ، ﺳﻮﺭﺝ ، ﭼﺎﻧﺪ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﯿﺪﺍﮨﻮﺋﮯ، ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺁﮒ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻠﯽ، ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﻏﺮﻕ ﮨﻮﺋﮯ ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ، ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎﻟﯿﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺩﺭﯾﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺑﻠﻨﺪ ﻣﻘﺎﻡ ( ﺁﺳﻤﺎﻥ ) ﭘﺮﺍﭨﮭﺎﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﺟﻮﺩﯼ ﭘﮩﺎﮌ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻠﯽ ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻋﻈﯿﻢ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻋﻄﺎ ﮨﻮﺋﯽ ۔ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻌﻘﻮﺏ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﮨﻮﺋﯽ ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﯾﻮﺏ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩُﻭ
( ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﻻﯾﺎﻡ ﻭﺍﻟﺸﮩﻮﺭ ﺻﻔﺤﮧ ٢٥١ )
ﻣﺤﺮﻡ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﻓﻞ :
ﻣﺎﮦِ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺷﺐ ﻣﯿﮟ ﭼﮫ ﺭﮐﻌﺎﺕ ﺗﯿﻦ ﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮮ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﺋﮧ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭۃ ﺍﺧﻼﺹ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﺍﻟْﻤَﻠِﮏُ ﺍﻟْﻘُﺪُّﻭْﺱٌ ﭘﮍﮬﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺛﻮﺍﺏ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮﻣﺤﺮﻡ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺷﺐ ﺳﻮﺑﺎﺭ ﭘﮍﮬﮯ :
ﻟَﺎ ﺍِﻟٰﮧَ ﺍِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻭَﺣْﺪَﮦ، ﻟَﺎ ﺷَﺮِﯾْﮏَ ﻟَﮧ، ۔ ﻟَﮧ، ﺍﻟْﻤُﻠْﮏُ ﻭَﻟَﮧ، ﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ﯾُﺤْﯿِﯽْ ﻭَﯾُﻤِﯿْﺖُ ﻭَﮨُﻮَ ﺣَﯽٌّ ﺍﻟَّﺎ ﯾَﻤُﻮْﺕُ ﺍَﺑْﺪًﺍ ﺫُﻭﺍﻟْﺠَﻠَﺎﻝِ ﻭَﺍﻟْﺎِﮐْﺮَﺍﻡِ ﺍَﻟﻠّٰﮩُﻢَ ﻟَﺎ ﻣَﺎﻧِﻊُ ﻟِﻤَﺎ ﺍَﻋْﻄَﯿْﺖَ ﻭَﻟَﺎ ﻣُﻌْﻄِﯽَ ﻟِﻤَﺎ ﻣَﻨَﻌْﺖَ ﻭَﻟَﺎ ﯾَﻨْﻔَﻊُ ﺫُﺍﻟْﺠَﺪِّ ﻣِﻨْﮏَ ﺍﻟْﺠَﺪُ
( ﺗﺮﺟﻤﮧ ) ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﻣﻠﮏ ﺍُﺳﯽ ﮐﺎ ﮨﮯ، ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺍُﺳﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ۔ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﮔﺎ۔ ﺻﺎﺣﺐِ ﺟﻼ ﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﮨﮯ ۔ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺗﻮﻧﮯ ﺩﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻧﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺗﻮﻧﮯ ﺭﻭﮎ ﺩﯾﺎ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﮨﻮﻧﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻔﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ۔ ( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٢ )
ﺗﻤﺎﻡ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮐﺖ
ﯾﮑﻢ ﻣﺤﺮﻡ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﻔﻞ ﭘﮍﮬﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻻﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﮯ۔ ﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﭘﮍﮬﮯ :
ﺍَﻟﻠّٰﮩُﻢَّ ﺍَﻧْﺖَ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﺍﻟْﺎَﺑَﺪُ ﺍﻟْﻘَﺪِﯾْﻢُ ﮨٰﺬِﮦ ﺳَﻨَﮧٌ ﺟَﺪِﯾْﺪَۃٌ ﺍَﺳْﺌَﻠُﮏَ ﻓِﯿْﮩَﺎ ﺍﻟْﻌِﺼْﻤَۃَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺸَّﯿْﻄٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺟِﯿْﻢِ ﻭَﺍﻟْﺎَﻣَﺎﻥَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺴُّﻠْﻄَﺎﻥِ ﺍﻟْﺠَﺎﺑِﺮِ ﻭَﻣِﻦْ ﺷَﺮِّ ﮐُﻞِّ ﺫِﯼْ ﺷَﺮٍّ ﻭَّﻣِﻦَ ﺍﻟْﺒَﻠَﺎﺀِ ﻭَ ﺍﻟْﺎٰﻓَﺎﺕِ ﻭَﺍَﺳْﺌَﻠُﮏَ ﺍﻟْﻌَﻮْﻥَ ﻭَﺍﻟْﻌَﺪْﻝَ ﻋَﻠٰﯽ ﮨٰﺬِﮦِ ﺍﻟﻨَّﻔْﺲِ ﺍﻟْﺎَﻣَّﺎﺭَۃِ ﺑِﺎﻟﺴُّﻮْﺀِ ﻭَﺍﻟْﺎِﺷْﺘِﻐَﺎﻝِ ﺑِﻤَﺎ ﯾُﻘَﺮِّﺑُﻨِﯽْ ﺍِﻟَﯿْﮏَ ﯾَﺎ ﺑَﺮُّ ﯾَﺎ ﺭَﺀُ ﻭْﻑُ ﯾَﺎ ﺭَﺣِﯿْﻢُ ﯾَﺎ ﺫَﺍﻟْﺠَﻠَﺎﻝِ ﻭَﺍﻟْﺎِﮐْﺮَﺍﻡِ۔
ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﮯ ﮔﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺩﻭ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﻓﺮﻣﺎﺩﮮ ﮔﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻟﻌﯿﻦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﺎﻝ ﻧﺎﺍﻣﯿﺪ ﮨﻮﺍ۔ ( ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﻻﯾﺎﻡ ﻭﺍﻟﺸﮩﻮﺭ ، ﺻﻔﺤﮧ ٢٦٨، ٢٦٩ )
ﺩﻋﺎﺋﮯ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ :
ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﮐﻮ ﺟﻮ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﭘﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥِ ﻟﻌﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﺩﻭ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﭘﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﻮﮞﮕﮯ ۔ ﺩﻋﺎ ﯾﮧ ﮨﮯ :
ﺍَﻟﻠّٰﮩُﻢَّ ﺍَﻧْﺖَ ﺍﻟْﺎَﺑَﺪِﯼُّ ﺍﻟْﻘَﺪِﯾْﻢُ ﻭَﮨٰﺬِﮦ ﺳَﻨَۃٌ ﺟَﺪِﯾْﺪَۃٌ ﺍَﺳْﺌَﻠُﮏَ ﻓِﯿْﮩَﺎ ﺍﻟْﻌِﺼْﻤَۃَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺸَّﯿْﻄٰﻦِ ﻭَﺍَﻭْﻟِﯿَﺎﺋِﮧ ﻭَﺍﻟْﻌَﻮْﻥَ ﻋَﻠٰﯽ ﮨٰﺬِﮦِ ﺍﻟﻨَّﻔْﺲِ ﺍﻟْﺎَﻣَّﺎﺭَۃِ ﺑِﺎﻟﺴُّﻮْﺀِ ﻭَﺍﻟْﺎِ ﺷْﺘِﻐَﺎﻝَ ﺑِﻤَﺎ ﯾُﻘَﺮِّ ﺑُﻨِﯽْ ﺍِﻟَﯿْﮏَ ﯾَﺎ ﮐَﺮِﯾْﻢُ ( ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﻻﯾﺎﻡ ﺍﻟﺸﮩﻮﺭ ﺻﻔﺤﮧ ٢٦٧، ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﻧﺰﮨۃ ﺍﻟﻤﺠﺎﻟﺲ )
ﯾﻮﻡِ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ
ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺗﺴﻤﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻤﺎ ﺀ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ، ﺍﮐﺜﺮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﺎ ﺩﺳﻮﺍﮞ ﺩﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ، ﺑﻌﺾ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺑﺰﺭﮔﯿﺎﮞ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺍﻣﺖ ﻣﺤﻤﺪﯾﮧ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﻥ ﺩﺳﻮﯾﮟ ﺑﺰﺭﮔﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﯾﻮﻡ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﺎﺷﻮﺭﺍ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺎﯾﺎ۔ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﭘﺮ ﻏﻠﺒﮧ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ۔ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﻈﯿﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮨﻢ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯿﮟ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔
( ﻣﮑﺎﺷﻔۃ ﺍﻟﻘﻠﻮﺏ، ﺻﻔﺤﮧ ٦٩٨ ﺍﺯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﻏﺰﺍﻟﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ )
ﯾﻮﻡِ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﮯ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺜﺮﺕ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺋﯽ، ﺍﺱ ﺩﻥ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮨﻮﺋﯽ، ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﻋﺮﺵ، ﮐﺮﺳﯽ ، ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭﺯﻣﯿﻦ، ﺳﻮﺭﺝ ، ﭼﺎﻧﺪ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﯿﺪﺍﮨﻮﺋﮯ، ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺁﮒ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻠﯽ، ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﻏﺮﻕ ﮨﻮﺋﮯ ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ، ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎﻟﯿﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺩﺭﯾﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺑﻠﻨﺪ ﻣﻘﺎﻡ ( ﺁﺳﻤﺎﻥ ) ﭘﺮﺍﭨﮭﺎﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﻮﺡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﺟﻮﺩﯼ ﭘﮩﺎﮌ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻠﯽ ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻋﻈﯿﻢ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻋﻄﺎ ﮨﻮﺋﯽ ۔ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻌﻘﻮﺏ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﮨﻮﺋﯽ ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﯾﻮﺏ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩُﻭ
ﺭ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮﺋﯽ۔
( ﻣﮑﺎﺷﻔۃ ﺍﻟﻘﻠﻮﺏ ، ﺻﻔﺤﮧ ٦٩٩ )
ﻧﻮﺍﻓﻞ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﺷﺐِ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ :
٭ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﺭﮐﻌﺎﺕ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﭽﺎﺱ ٥٠ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭﮨﺊ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﺑﺮﺱ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﺎﻝ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻼﺀِ ﺍﻋﻠﯽٰ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺤﻞ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
٭ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺩﻭ ٢ ﺭﮐﻌﺎﺕ ﻧﻔﻞ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﭘﮍﮬﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺗﺮﮐﯿﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﯿﻦ ﺗﯿﻦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭﮦ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﮯ۔ ﺟﻮ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮞﯿﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺍ ﺱ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﺭﻭﺷﻦ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ۔
ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ :
ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﮔﺮ ﻣﻮﻣﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺋﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ( ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ) ﺑﺰﺭﮔﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﺁﭨﮫ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ، ﻭﮦ ﺟﺲ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺳﮯ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﮔﺎ۔
( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٦ )
ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﮯ ﭘﺲ ﺷﺐ ﻭ ﺭﻭﺯ ﮐﯽ ﺳﺎﻋﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺳﺎﻋﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍُﻥ ﺳﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺳﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﺎﺕ ﻻﮐﮫ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺩﻋﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﺁﭨﮫ ﺟﻨﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﺮ ﺑﮩﺸﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﭨﮫ ﻻﮐﮫ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﮐﮧ ( ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺩﺍﺭ ﮐﮯﻟﺌﮯ ) ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﺗﮏ ﻣﺤﻼﺕ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺮ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﮮ ، ﺩﺭﺧﺖ ﺍُﮔﺎﺋﯿﮟ، ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﯾﮟ۔ ( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٦ )
ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺟﺮ ﺗﻮﺭﯾﺖ، ﺍﻧﺠﯿﻞ ، ﺯﺑﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﮯ ﺣﺮﻑ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮨﺮ ﺣﺮﻑ ﭘﺮ ﺑﯿﺲ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ ﮨﻮﻧﮕﯽ۔ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔
( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٦ )
ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺯﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﮐﻔﺎﺭﮦ ﮨﻮﮔﺎ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﮐﺎﻣﻞ ﻗﯿﺎﻡ، ﺭﮐﻮﻉ ﺍﻭﺭ ﺳﺠﻮﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺧﻀﻮﻉ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺟﺰﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﭘﺲ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺗﻮ ﮨﯽ ﺧﻮﺏ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ ﻟﮑﮭﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﺪﯼ ﻣﭩﺎﺩﯼ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﺎﺭﺗﺒﮧ ﮨﺰﺍﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﺟﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺰﺭﮔﯽ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٦ )
ﺍﯾﺼﺎﻝِ ﺛﻮﺍﺏ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ
ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﮐﮯ ﺍﯾﺼﺎﻝ ﺛﻮﺍﺏ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻭﺭﮐﻌﺎﺕ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﺱ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﺭﮦ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﮯ ۔ ﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﻮ ٩ ﻧﻮ ٩ ﺑﺎﺭ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﮑﺮﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺩ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﮍﮬﮯ۔ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﺍﺱ ﺭﻭﺯ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍَﻟَﻢْ ﻧَﺸْﺮَﺡْ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺍِﺫَﺍﺟَﺂﺀَ ﭘﭽﯿﺲ ﭘﭽﯿﺲ ﺑﺎﺭ ﭘﮍﮬﮯ۔ ( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٨ )
ﮨﺮ ﺣﺎﺟﺖ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﮔﯽ ( ﺍﻧﺸﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ )
ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﮔﯽ
ﺑِﺴْﻢِ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿْﻢ
ﺍِﻟٰﮩِﯽْ ﺑُﺤُﺮْﻣَﺖِ ﺍﻟْﺤُﺴَﯿْﻦِ ﻭَ ﺍَﺧِﯿْﮧِ ﻭَ ﺍُﻣِّّﮧِ ﻭَ ﺍَﺑِﯿْﮧِ ﻭَﺟَﺪِّﮦِ ﻭَ ﺑَﻨِﯿْﮧِ ﻓَﺮِّﺝْ ﻋَﻤَّﺎ ﺍَﻧَﺎ ﻓِﯿْﮧِ ﻭَﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻠٰﯽ ﺧَﯿْﺮِ ﺧَﻠْﻘِﮧ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّﺍٰﻟِﮧ ﺍَﺟْﻤَﻌِﯿْﻦَ
( ﺗﺮﺟﻤﮧ ) ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﺑﮍﺍ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺭﺣﻢ ﻭﺍﻻ۔ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ، ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ، ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﻧﺎ ﮐﯽ ﺣﺮﻣﺖ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﺣﺎﺟﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﮮ ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺧﻼﺋﻖ ﻣﺤﻤﺪﺍ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺁﻝ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺖ ﻓﺮﻣﺎ۔ ( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٨ )
ﯾﻮﻡِ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﮯ ﻣﻤﻨﻮﻋﺎﺕ :
ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﻨﺎ، ﺳﯿﻨﮧ ﮐﻮﺑﯽ ﮐﺮﻧﺎ، ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮭﺎﮌﻧﺎ، ﺑﺎﻝ ﻧﻮﭼﻨﺎ، ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﺎ، ﭘﯿﭩﻨﺎ، ﭼﮭﺮﯼ ﭼﺎﻗﻮ ﺳﮯ ﺑﺪﻥ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺭﺍﻓﻀﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ ﺍِﯾﺴﮯ ﺍﻓﻌﺎﻝ ﺷﻨﯿﻌﮧ ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ِ ﮐﻠﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻓﻌﺎﻝ ﭘﺮ ﺳﺨﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﻭﻋﯿﺪﯾﮟ ﺁﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ :
ﺣﺪﯾﺚ ١ :
ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﭘﺮ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺭﺧﺴﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ ﭘﮭﺎﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﭘﮑﺎﺭﮮ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﮐﺎ ﭘﮑﺎﺭﻧﺎ۔ ( ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﻻﯾﺎﻡ ﻭﺍﻟﺸﮩﻮﺭ ، ﺻﻔﺤﮧ ٢٦٤۔ ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﻣﺸﮑﻮۃ ﺻﻔﺤﮧ ١٥٠ )
ﺣﺪﯾﺚ ٢ :
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﻮ ﻣﻮﺳﯽٰ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﭘﺮ ﺑﮯ ﮨﻮﺷﯽ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﭘﺲ ﺁﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﺲ ﮐﯽ ﮐﻨﯿﺖ ﺍﻡ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻓﺎﻗﮧ ﮨﻮﺍ ﺗ
( ﻣﮑﺎﺷﻔۃ ﺍﻟﻘﻠﻮﺏ ، ﺻﻔﺤﮧ ٦٩٩ )
ﻧﻮﺍﻓﻞ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﺷﺐِ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ :
٭ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﺭﮐﻌﺎﺕ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﭽﺎﺱ ٥٠ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭﮨﺊ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﺑﺮﺱ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﺎﻝ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻼﺀِ ﺍﻋﻠﯽٰ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺤﻞ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
٭ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺩﻭ ٢ ﺭﮐﻌﺎﺕ ﻧﻔﻞ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﭘﮍﮬﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺗﺮﮐﯿﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﯿﻦ ﺗﯿﻦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭﮦ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﮯ۔ ﺟﻮ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮞﯿﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺍ ﺱ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﺭﻭﺷﻦ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ۔
ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ :
ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﮔﺮ ﻣﻮﻣﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺋﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ( ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ) ﺑﺰﺭﮔﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﺁﭨﮫ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ، ﻭﮦ ﺟﺲ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺳﮯ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﮔﺎ۔
( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٦ )
ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﮯ ﭘﺲ ﺷﺐ ﻭ ﺭﻭﺯ ﮐﯽ ﺳﺎﻋﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺳﺎﻋﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍُﻥ ﺳﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺳﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﺎﺕ ﻻﮐﮫ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺩﻋﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﺁﭨﮫ ﺟﻨﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﺮ ﺑﮩﺸﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﭨﮫ ﻻﮐﮫ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﮐﮧ ( ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺩﺍﺭ ﮐﮯﻟﺌﮯ ) ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﺗﮏ ﻣﺤﻼﺕ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺮ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﮮ ، ﺩﺭﺧﺖ ﺍُﮔﺎﺋﯿﮟ، ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﯾﮟ۔ ( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٦ )
ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺟﺮ ﺗﻮﺭﯾﺖ، ﺍﻧﺠﯿﻞ ، ﺯﺑﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﮯ ﺣﺮﻑ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮨﺮ ﺣﺮﻑ ﭘﺮ ﺑﯿﺲ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ ﮨﻮﻧﮕﯽ۔ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔
( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٦ )
ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺯﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﮐﻔﺎﺭﮦ ﮨﻮﮔﺎ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﮐﺎﻣﻞ ﻗﯿﺎﻡ، ﺭﮐﻮﻉ ﺍﻭﺭ ﺳﺠﻮﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺧﻀﻮﻉ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺟﺰﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﭘﺲ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺗﻮ ﮨﯽ ﺧﻮﺏ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ ﻟﮑﮭﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﺪﯼ ﻣﭩﺎﺩﯼ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﺎﺭﺗﺒﮧ ﮨﺰﺍﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﺟﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺰﺭﮔﯽ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٦ )
ﺍﯾﺼﺎﻝِ ﺛﻮﺍﺏ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ
ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﮐﮯ ﺍﯾﺼﺎﻝ ﺛﻮﺍﺏ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻭﺭﮐﻌﺎﺕ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺭﮐﻌﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﺱ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﺭﮦ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﮯ ۔ ﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﻮ ٩ ﻧﻮ ٩ ﺑﺎﺭ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﮑﺮﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺩ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﮍﮬﮯ۔ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﺍﺱ ﺭﻭﺯ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍَﻟَﻢْ ﻧَﺸْﺮَﺡْ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺍِﺫَﺍﺟَﺂﺀَ ﭘﭽﯿﺲ ﭘﭽﯿﺲ ﺑﺎﺭ ﭘﮍﮬﮯ۔ ( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٨ )
ﮨﺮ ﺣﺎﺟﺖ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﮔﯽ ( ﺍﻧﺸﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ )
ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻋﺎﺷﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﮔﯽ
ﺑِﺴْﻢِ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿْﻢ
ﺍِﻟٰﮩِﯽْ ﺑُﺤُﺮْﻣَﺖِ ﺍﻟْﺤُﺴَﯿْﻦِ ﻭَ ﺍَﺧِﯿْﮧِ ﻭَ ﺍُﻣِّّﮧِ ﻭَ ﺍَﺑِﯿْﮧِ ﻭَﺟَﺪِّﮦِ ﻭَ ﺑَﻨِﯿْﮧِ ﻓَﺮِّﺝْ ﻋَﻤَّﺎ ﺍَﻧَﺎ ﻓِﯿْﮧِ ﻭَﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻠٰﯽ ﺧَﯿْﺮِ ﺧَﻠْﻘِﮧ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّﺍٰﻟِﮧ ﺍَﺟْﻤَﻌِﯿْﻦَ
( ﺗﺮﺟﻤﮧ ) ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﺑﮍﺍ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺭﺣﻢ ﻭﺍﻻ۔ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ، ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ، ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﻧﺎ ﮐﯽ ﺣﺮﻣﺖ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﺣﺎﺟﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﮮ ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺧﻼﺋﻖ ﻣﺤﻤﺪﺍ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺁﻝ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺖ ﻓﺮﻣﺎ۔ ( ﻟﻄﺎﺋﻒ ﺍﺷﺮﻓﯽ ، ﺻﻔﺤﮧ ٣٣٨ )
ﯾﻮﻡِ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﮯ ﻣﻤﻨﻮﻋﺎﺕ :
ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﻨﺎ، ﺳﯿﻨﮧ ﮐﻮﺑﯽ ﮐﺮﻧﺎ، ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮭﺎﮌﻧﺎ، ﺑﺎﻝ ﻧﻮﭼﻨﺎ، ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﺎ، ﭘﯿﭩﻨﺎ، ﭼﮭﺮﯼ ﭼﺎﻗﻮ ﺳﮯ ﺑﺪﻥ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺭﺍﻓﻀﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ ﺍِﯾﺴﮯ ﺍﻓﻌﺎﻝ ﺷﻨﯿﻌﮧ ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ِ ﮐﻠﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻓﻌﺎﻝ ﭘﺮ ﺳﺨﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﻭﻋﯿﺪﯾﮟ ﺁﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ :
ﺣﺪﯾﺚ ١ :
ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﭘﺮ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺭﺧﺴﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ ﭘﮭﺎﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﭘﮑﺎﺭﮮ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﮐﺎ ﭘﮑﺎﺭﻧﺎ۔ ( ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺍﻻﯾﺎﻡ ﻭﺍﻟﺸﮩﻮﺭ ، ﺻﻔﺤﮧ ٢٦٤۔ ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﻣﺸﮑﻮۃ ﺻﻔﺤﮧ ١٥٠ )
ﺣﺪﯾﺚ ٢ :
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﻮ ﻣﻮﺳﯽٰ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﭘﺮ ﺑﮯ ﮨﻮﺷﯽ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﭘﺲ ﺁﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﺲ ﮐﯽ ﮐﻨﯿﺖ ﺍﻡ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻓﺎﻗﮧ ﮨﻮﺍ ﺗ
ﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﮯ ﺍﺑﻮ ﻣﻮﺳﯽٰ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺧﺒﺮ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺑﺎﻝ ﻣﻨﮉﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺭﻭﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮭﺎﮌﮮ۔
ﺣﺪﯾﺚ ٣ :
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺷﻌﺮﯼ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﭼﺎﺭ ﺧﺼﻠﺘﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻓﺨﺮ ﮐﺮﻧﺎ، ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺴﺐ ﻣﯿﮟ ﻃﻌﻦ ﮐﺮﻧﺎ، ﻋﯿﺐ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺴﺐ ﻣﯿﮟ، ﺑﺎﺭﺵ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﺎ ۔ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺗﻮﺑﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﮐﮭﮍﯼ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﮔﻨﺪﮬﮏ ﮐﯽ ﻗﻤﯿﺺ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻗﻤﯿﺺ ﺧﺎﺭﺵ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺑﯿﻤﮧ ( ﺩﻋﺎﺋﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ )
ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﺑﮩﺖ ﻣﺠﺮﺏ ﮨﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﯾﻦ ﺍﻟﻌﺎﺑﺪﯾﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﮯ ﻃﻠﻮﻉ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻏﺮﻭﺏ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﺗﮏ ﺍﺱ ﺩﻋﺎ ﮐﻮﭘﮍﮪ ﻟﮯ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﻮﺍ ﮐﺮ ﺳﻦ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﺮ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺑﯿﻤﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﮨﺮﮔﺰ ﻣﻮﺕ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻣﻮﺕ ﺁﻧﯽ ﮨﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﺠﯿﺐ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﺩﻋﺎ ﯾﮧ ﮨﮯ : ۔
ﯾَﺎ ﻗَﺎﺑِﻞَ ﺗَﻮْﺑَۃِ ﺍٰﺩَﻡَ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺉَ۔۔۔۔۔۔ﯾَﺎ ﻓَﺎﺭِﺝَ ﮐَﺮْﺏِ ﺫِﯼ ﺍﻟﻨُّﻮْﻥَ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺉَ۔۔۔۔۔۔ﯾَﺎ ﺟَﺎﻣِﻊَ ﺷَﻤْﻞِ ﯾَﻌْﻘُﻮْﺏَ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺉَ۔۔۔۔۔۔ﯾَﺎ ﺳَﺎﻣِﻊَ ﺩَﻋْﻮَۃِ ﻣُﻮْﺳٰﯽ ﻭَ ﮬٰﺮُﻭْﻥَ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺉَ۔۔۔۔۔۔ﯾَﺎ ﻣُﻐِﯿْﺚَ ﺍِﺑْﺮَﺍﮨِﯿْﻢَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻨَّﺎﺭِ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺉَ۔۔۔۔۔۔ ﯾَﺎ ﺭَﺍﻓِﻊَ ﺍِﺩْﺭِﯾْﺲَ ﺍِﻟَﯽ ﺍﻟﺴَّﻤَﺂﺀِ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺀَ ۔۔۔۔۔۔ ﯾَﺎ ﻣُﺠِﯿْﺐَ ﺩَﻋْﻮَۃِ ﺻَﺎﻟِﺢٍ ﻓِﯽ ﺍﻟﻨَّﺎﻗَۃِ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺉَ۔۔۔۔۔۔ﯾَﺎ ﻧَﺎﺻِﺮَ ﺳَﯿِّﺪِﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻠَﯿْﮧِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺀَ ۔۔۔۔۔ ﯾَﺎ ﺭَﺣْﻤٰﻦَ ﺍﻟﺪُّﻧْﯿَﺎ ﻭَ ﺍﻟْﺎٰﺧِﺮَۃِ ﻭَ ﺭَﺣِﯿْﻤُﮭُﻤَﺎ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠٰﯽ ﺳَﯿِّﺪِﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّ ﻋَﻠٰﯽ ﺍٰﻝِ ﺳَﯿِّﺪِﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠٰﯽ ﺟَﻤِﯿْﻊِ ﺍﻟْﺎَﻧْﺒِﯿَﺂﺀِ ﻭَ ﺍﻟْﻤُﺮْﺳَﻠِﯿْﻦَ ﻭَﺍﻗْﺾِ ﺣَﺎﺟَﺎﺗِﻨَﺎ ﻓِﯽ ﺍﻟﺪُّﻧْﯿَﺎ ﻭَ ﺍﻟْﺎٰﺧِﺮَۃِ ﻭَ ﺍَﻃِﻞْ ﻋُﻤُﺮَﻧَﺎ ﻓِﯽْ ﻃَﺎﻋَﺘِﮏَ ﻭَ ﻣَﺤَﺒَّﺘِﮏَ ﻭَ ﺭِﺿَﺎﮎَ ﻭَ ﺍَﺣْﯿِﻨَﺎﺣَﯿٰﻮۃً ﻃَﯿِّﺒَۃً ﻭَّ ﺗَﻮَﻓَّﻨَﺎ ﻋَﻠَﯽ ﺍﻟْﺎِﯾْﻤَﺎﻥِ ﻭَ ﺍﻟْﺎِﺳْﻠَﺎﻡِ ﺑِﺮَﺣْﻤَﺘِﮏَ ﯾَﺎ ﺍَﺭْﺣَﻢَ ﺍﻟﺮَّﺍﺣِﻤِﯿْﻦَ ﻁ ﺍَﻟﻠّٰﮭُﻢَّ ﺑِﻌِﺰِّ ﺍﻟْﺤَﺴَﻦِ ﻭَ ﺍَﺧِﯿْﮧِ ﻭَ ﺍُﻣِّﮧٖ ﻭَ ﺍَﺑِﯿْﮧ ﻭَ ﺟَﺪِّﮦ ﻭَ ﺑَﻨِﯿْﮧ ﻓَﺮِّﺝْ ﻋَﻤَّﺎ ﻣَﺎ ﻧَﺤْﻦُ ﻓِﯿْﮧِ ﻁ
ﭘﮭﺮ ﺳﺎﺕ ﺑﺎﺭ ﭘﮍﮬﮯ :
ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﻣِﻞْﺀَ ﺍﻟْﻤِﯿْﺰَﺍﻥِ ﻭَ ﻣُﻨْﺘَﮭَﯽ ﺍﻟْﻌِﻠْﻢِ ﻭَ ﻣَﺒْﻠَﻎَ ﺍﻟﺮِّﺿٰﯽ ﻭَ ﺯِﻧَۃِ ﺍﻟْﻌَﺮْﺵِ ﻟَﺎ ﻣَﻠْﺠَﺎﺀَ ﻭَ ﻟَﺎ ﻣَﻨْﺠَﺎﺀَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﺍِﻟَّﺎ ﺍِﻟَﯿْﮧِ ﻁ ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﺍﻟْﺸَﻔْﻊِ ﻭَ ﺍﻟْﻮِﺗْﺮِ ﻭَ ﻋَﺪَﺩَ ﮐَﻠِﻤَﺎﺕِ ﯾَﺎ ﺍَﺭْﺣَﻢَ ﺍﻟﺮَّﺍﺣِﻤِﯿْﻦَ ﻁ ﻭَ ﮬُﻮَ ﺣَﺴْﺒُﻨَﺎ ﻭَ ﻧِﻌْﻢَ ﺍﻟْﻮَﮐِﯿْﻞُ ﻁ ﻧِﻌْﻢَ ﺍﻟْﻤَﻮْﻟٰﯽ ﻭَ ﻧِﻌْﻢَ ﺍﻟﻨَّﺼِﯿْﺮُ ﻁ ﻭَ ﻟَﺎ ﺣَﻮْﻝَ ﻭَ ﻟَﺎ ﻗُﻮَّۃَ ﺍِﻟَّﺎ ﺑِﺎﻟﻠّٰﮧِ ﺍﻟْﻌَﻠِﯽِّ ﺍﻟْﻌَﻈِﯿْﻢِ ﻁ ﻭَ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﺗَﻌَﺎﻟﯽٰ ﻋَﻠٰﯽ ﺳَﯿِّﺪِﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّ ﻋَﻠٰﯽ ﺍٰﻟِﮧ ﻭَ ﺻَﺤْﺒِﮧ ﻭَ ﻋَﻠَﯽ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﯿْﻦَ ﻭَ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨَﺎﺕِ ﻭَ ﺍﻟْﻤُﺴْﻠِﻤِﯿْﻦَ ﻭَ ﺍﻟْﻤُﺴْﻠِﻤَﺎﺕِ ﻋَﺪَﺩَ ﺫَﺭَّﺍﺕِ ﺍﻟْﻮُﺟُﻮْﺩِ ﻭَ ﻋَﺪَﺩَ ﻣَﻌْﻠُﻮْﻣَﺎﺕِ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﻭَ ﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ﻟِﻠّٰﮧِ ﺭَﺏِّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِﯿْﻦَ ﻁ
ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻧﻤﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﮨﻢ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ
٭ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺁﭖ ﺍ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ٭ﺳﯿﺪﺗﻨﺎ ﺍﻡّ ﮐﻠﺜﻮﻡ ﺑﻨﺖِ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺫﻭﺍﻟﻨﻮﺭﯾﻦ ﺳﮯ۔۔۔۔۔۔٣ﮪ ٭ﻏﺰﻭﮨﺊ ﺧﯿﺒﺮ۔۔۔۔۔۔٦ﮪ ٭ﻋﺎﻡ ﺍﻟﻮﻓﻮﺩ ( ﺳﺎﭨﮫ ﻭﻓﻮﺩ ﺁﺋﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺌﮯ۔۔۔۔۔۔٩ﮪ ٭ﻃﺎﻋﻮﻥ ﻋﻤﻮﺍﺱ۔۔۔۔۔۔١٨ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ٭ﺍﻣﺎﺭﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔١٩ﮪ ٭ﻣﺼﺮ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺩﺍﺧﻠﮧ۔۔۔۔۔۔٢١ﮪ ٭ﻓﺘﺢ ﻧﮩﺎﻭﻧﺪ۔۔۔۔۔۔٢٢ﮪ ٭ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ۔۔۔۔۔۔٢٤ﮪ٭ﺧﻼﻓﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٢٤ﮪ ٭ﻓﺘﺢ ﺳﺎﺑﻮﺭ ۔۔۔۔۔۔٢٦ﮪ ٭ﻓﺘﺢ ﻗﺒﺮﺹ۔۔۔۔۔۔٢٨ﮪ ٭ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺻﻔﯿﻦ۔۔۔۔۔۔٣٧ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﺧﻮﺍﺕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﻭ ﻋﻘﺒﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٤٠ﮪ ٭ﻓﺘﻮﺣﺎﺕِ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ۔۔۔۔۔۔٤٥ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺍﯾﻮﺏ ﺍﻧﺼﺎﺭﯼ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٥١ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺑﮑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٥٣ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻭﻗﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٥٥ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﺍﻡ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻮﯾﺮﯾﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ۔۔۔۔۔۔٥٦ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﺳﻤﺮۃ ﺑﻦ ﺟﻨﺪﺏ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٦٠ﮪ ٭ﺳﺎﻧﺤﮧ ﮐﺮﺑﻼ ( ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﺎﻟﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ١٤٦ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ) ۔۔۔۔۔۔٦١ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﻋﻘﺒﮧ ( ﻓﺎﺗﺢ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ) ۔۔۔۔۔۔٦٤ ﮪ ٭ﺧﻼﻓﺖ ﻣﺮﻭﺍﻥ۔۔۔۔۔۔٦٥ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٧٤ﮪ ٭ﻓﺘﺢ ﻓﺮﻏﺎﻧﮧ ۔۔۔۔۔۔٨٨ﮪ ٭ﻓﺘﺢ ﻣﯿﻮﺭﻗﮧ ﻭ ﻣﻨﻮﺭﻗﮧ۔۔۔۔۔۔٨٩
ﺣﺪﯾﺚ ٣ :
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺷﻌﺮﯼ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ، ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﭼﺎﺭ ﺧﺼﻠﺘﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻓﺨﺮ ﮐﺮﻧﺎ، ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺴﺐ ﻣﯿﮟ ﻃﻌﻦ ﮐﺮﻧﺎ، ﻋﯿﺐ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺴﺐ ﻣﯿﮟ، ﺑﺎﺭﺵ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﺎ ۔ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺗﻮﺑﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﮐﮭﮍﯼ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﮔﻨﺪﮬﮏ ﮐﯽ ﻗﻤﯿﺺ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻗﻤﯿﺺ ﺧﺎﺭﺵ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺑﯿﻤﮧ ( ﺩﻋﺎﺋﮯ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ )
ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﺑﮩﺖ ﻣﺠﺮﺏ ﮨﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﯾﻦ ﺍﻟﻌﺎﺑﺪﯾﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﮯ ﻃﻠﻮﻉ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻏﺮﻭﺏ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﺗﮏ ﺍﺱ ﺩﻋﺎ ﮐﻮﭘﮍﮪ ﻟﮯ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﻮﺍ ﮐﺮ ﺳﻦ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﺮ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺑﯿﻤﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﮨﺮﮔﺰ ﻣﻮﺕ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻣﻮﺕ ﺁﻧﯽ ﮨﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﺠﯿﺐ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﺩﻋﺎ ﯾﮧ ﮨﮯ : ۔
ﯾَﺎ ﻗَﺎﺑِﻞَ ﺗَﻮْﺑَۃِ ﺍٰﺩَﻡَ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺉَ۔۔۔۔۔۔ﯾَﺎ ﻓَﺎﺭِﺝَ ﮐَﺮْﺏِ ﺫِﯼ ﺍﻟﻨُّﻮْﻥَ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺉَ۔۔۔۔۔۔ﯾَﺎ ﺟَﺎﻣِﻊَ ﺷَﻤْﻞِ ﯾَﻌْﻘُﻮْﺏَ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺉَ۔۔۔۔۔۔ﯾَﺎ ﺳَﺎﻣِﻊَ ﺩَﻋْﻮَۃِ ﻣُﻮْﺳٰﯽ ﻭَ ﮬٰﺮُﻭْﻥَ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺉَ۔۔۔۔۔۔ﯾَﺎ ﻣُﻐِﯿْﺚَ ﺍِﺑْﺮَﺍﮨِﯿْﻢَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻨَّﺎﺭِ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺉَ۔۔۔۔۔۔ ﯾَﺎ ﺭَﺍﻓِﻊَ ﺍِﺩْﺭِﯾْﺲَ ﺍِﻟَﯽ ﺍﻟﺴَّﻤَﺂﺀِ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺀَ ۔۔۔۔۔۔ ﯾَﺎ ﻣُﺠِﯿْﺐَ ﺩَﻋْﻮَۃِ ﺻَﺎﻟِﺢٍ ﻓِﯽ ﺍﻟﻨَّﺎﻗَۃِ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺉَ۔۔۔۔۔۔ﯾَﺎ ﻧَﺎﺻِﺮَ ﺳَﯿِّﺪِﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻠَﯿْﮧِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﯾَﻮْﻡَ ﻋَﺎﺷُﻮْﺭَﺁﺀَ ۔۔۔۔۔ ﯾَﺎ ﺭَﺣْﻤٰﻦَ ﺍﻟﺪُّﻧْﯿَﺎ ﻭَ ﺍﻟْﺎٰﺧِﺮَۃِ ﻭَ ﺭَﺣِﯿْﻤُﮭُﻤَﺎ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠٰﯽ ﺳَﯿِّﺪِﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّ ﻋَﻠٰﯽ ﺍٰﻝِ ﺳَﯿِّﺪِﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠٰﯽ ﺟَﻤِﯿْﻊِ ﺍﻟْﺎَﻧْﺒِﯿَﺂﺀِ ﻭَ ﺍﻟْﻤُﺮْﺳَﻠِﯿْﻦَ ﻭَﺍﻗْﺾِ ﺣَﺎﺟَﺎﺗِﻨَﺎ ﻓِﯽ ﺍﻟﺪُّﻧْﯿَﺎ ﻭَ ﺍﻟْﺎٰﺧِﺮَۃِ ﻭَ ﺍَﻃِﻞْ ﻋُﻤُﺮَﻧَﺎ ﻓِﯽْ ﻃَﺎﻋَﺘِﮏَ ﻭَ ﻣَﺤَﺒَّﺘِﮏَ ﻭَ ﺭِﺿَﺎﮎَ ﻭَ ﺍَﺣْﯿِﻨَﺎﺣَﯿٰﻮۃً ﻃَﯿِّﺒَۃً ﻭَّ ﺗَﻮَﻓَّﻨَﺎ ﻋَﻠَﯽ ﺍﻟْﺎِﯾْﻤَﺎﻥِ ﻭَ ﺍﻟْﺎِﺳْﻠَﺎﻡِ ﺑِﺮَﺣْﻤَﺘِﮏَ ﯾَﺎ ﺍَﺭْﺣَﻢَ ﺍﻟﺮَّﺍﺣِﻤِﯿْﻦَ ﻁ ﺍَﻟﻠّٰﮭُﻢَّ ﺑِﻌِﺰِّ ﺍﻟْﺤَﺴَﻦِ ﻭَ ﺍَﺧِﯿْﮧِ ﻭَ ﺍُﻣِّﮧٖ ﻭَ ﺍَﺑِﯿْﮧ ﻭَ ﺟَﺪِّﮦ ﻭَ ﺑَﻨِﯿْﮧ ﻓَﺮِّﺝْ ﻋَﻤَّﺎ ﻣَﺎ ﻧَﺤْﻦُ ﻓِﯿْﮧِ ﻁ
ﭘﮭﺮ ﺳﺎﺕ ﺑﺎﺭ ﭘﮍﮬﮯ :
ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﻣِﻞْﺀَ ﺍﻟْﻤِﯿْﺰَﺍﻥِ ﻭَ ﻣُﻨْﺘَﮭَﯽ ﺍﻟْﻌِﻠْﻢِ ﻭَ ﻣَﺒْﻠَﻎَ ﺍﻟﺮِّﺿٰﯽ ﻭَ ﺯِﻧَۃِ ﺍﻟْﻌَﺮْﺵِ ﻟَﺎ ﻣَﻠْﺠَﺎﺀَ ﻭَ ﻟَﺎ ﻣَﻨْﺠَﺎﺀَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﺍِﻟَّﺎ ﺍِﻟَﯿْﮧِ ﻁ ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﺍﻟْﺸَﻔْﻊِ ﻭَ ﺍﻟْﻮِﺗْﺮِ ﻭَ ﻋَﺪَﺩَ ﮐَﻠِﻤَﺎﺕِ ﯾَﺎ ﺍَﺭْﺣَﻢَ ﺍﻟﺮَّﺍﺣِﻤِﯿْﻦَ ﻁ ﻭَ ﮬُﻮَ ﺣَﺴْﺒُﻨَﺎ ﻭَ ﻧِﻌْﻢَ ﺍﻟْﻮَﮐِﯿْﻞُ ﻁ ﻧِﻌْﻢَ ﺍﻟْﻤَﻮْﻟٰﯽ ﻭَ ﻧِﻌْﻢَ ﺍﻟﻨَّﺼِﯿْﺮُ ﻁ ﻭَ ﻟَﺎ ﺣَﻮْﻝَ ﻭَ ﻟَﺎ ﻗُﻮَّۃَ ﺍِﻟَّﺎ ﺑِﺎﻟﻠّٰﮧِ ﺍﻟْﻌَﻠِﯽِّ ﺍﻟْﻌَﻈِﯿْﻢِ ﻁ ﻭَ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﺗَﻌَﺎﻟﯽٰ ﻋَﻠٰﯽ ﺳَﯿِّﺪِﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّ ﻋَﻠٰﯽ ﺍٰﻟِﮧ ﻭَ ﺻَﺤْﺒِﮧ ﻭَ ﻋَﻠَﯽ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﯿْﻦَ ﻭَ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨَﺎﺕِ ﻭَ ﺍﻟْﻤُﺴْﻠِﻤِﯿْﻦَ ﻭَ ﺍﻟْﻤُﺴْﻠِﻤَﺎﺕِ ﻋَﺪَﺩَ ﺫَﺭَّﺍﺕِ ﺍﻟْﻮُﺟُﻮْﺩِ ﻭَ ﻋَﺪَﺩَ ﻣَﻌْﻠُﻮْﻣَﺎﺕِ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﻭَ ﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ﻟِﻠّٰﮧِ ﺭَﺏِّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِﯿْﻦَ ﻁ
ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻧﻤﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﮨﻢ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ
٭ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺁﭖ ﺍ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ٭ﺳﯿﺪﺗﻨﺎ ﺍﻡّ ﮐﻠﺜﻮﻡ ﺑﻨﺖِ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺫﻭﺍﻟﻨﻮﺭﯾﻦ ﺳﮯ۔۔۔۔۔۔٣ﮪ ٭ﻏﺰﻭﮨﺊ ﺧﯿﺒﺮ۔۔۔۔۔۔٦ﮪ ٭ﻋﺎﻡ ﺍﻟﻮﻓﻮﺩ ( ﺳﺎﭨﮫ ﻭﻓﻮﺩ ﺁﺋﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺌﮯ۔۔۔۔۔۔٩ﮪ ٭ﻃﺎﻋﻮﻥ ﻋﻤﻮﺍﺱ۔۔۔۔۔۔١٨ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ٭ﺍﻣﺎﺭﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔١٩ﮪ ٭ﻣﺼﺮ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺩﺍﺧﻠﮧ۔۔۔۔۔۔٢١ﮪ ٭ﻓﺘﺢ ﻧﮩﺎﻭﻧﺪ۔۔۔۔۔۔٢٢ﮪ ٭ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ۔۔۔۔۔۔٢٤ﮪ٭ﺧﻼﻓﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٢٤ﮪ ٭ﻓﺘﺢ ﺳﺎﺑﻮﺭ ۔۔۔۔۔۔٢٦ﮪ ٭ﻓﺘﺢ ﻗﺒﺮﺹ۔۔۔۔۔۔٢٨ﮪ ٭ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺻﻔﯿﻦ۔۔۔۔۔۔٣٧ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﺧﻮﺍﺕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﻭ ﻋﻘﺒﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٤٠ﮪ ٭ﻓﺘﻮﺣﺎﺕِ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ۔۔۔۔۔۔٤٥ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺍﯾﻮﺏ ﺍﻧﺼﺎﺭﯼ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٥١ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺑﮑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٥٣ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻭﻗﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٥٥ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﺍﻡ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻮﯾﺮﯾﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ۔۔۔۔۔۔٥٦ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﺳﻤﺮۃ ﺑﻦ ﺟﻨﺪﺏ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٦٠ﮪ ٭ﺳﺎﻧﺤﮧ ﮐﺮﺑﻼ ( ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﺎﻟﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ١٤٦ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ) ۔۔۔۔۔۔٦١ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﻋﻘﺒﮧ ( ﻓﺎﺗﺢ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ) ۔۔۔۔۔۔٦٤ ﮪ ٭ﺧﻼﻓﺖ ﻣﺮﻭﺍﻥ۔۔۔۔۔۔٦٥ﮪ ٭ﻭﻓﺎﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ۔۔۔۔۔۔٧٤ﮪ ٭ﻓﺘﺢ ﻓﺮﻏﺎﻧﮧ ۔۔۔۔۔۔٨٨ﮪ ٭ﻓﺘﺢ ﻣﯿﻮﺭﻗﮧ ﻭ ﻣﻨﻮﺭﻗﮧ۔۔۔۔۔۔٨٩