غزوہ حنین کے موقع پر ایک شخص کا پاؤں ، رسول اللہ کے پاؤں مبارک پر آگیا ۔
اُس نے بھاری تلے والا جوتا پہن رکھا تھا جس سے پیر مبارک کو بہت تکلیف پہنچی ۔
حضور کے ہاتھ میں اس وقت کوڑا تھا ، آپ نے اسے کوڑا مار کر کہا:
بسم اللہ ، تو نے مجھے تکلیف دی ۔
اس شخص کو بہت دکھ ہوا ، اور ساری رات اپنے آپ کو ملامت کرتا رہا ( کہ میں نے بے احتیاطی میں رسول اللہ ﷺ کو کیوں اذیت دے دی ) ۔
صبح کے وقت حضور نے اسے بلوایا اور کہا:
کل تُو نے میرا پیر کچلا تھا ، جس سے مجھے تکلیف ہوئی ، اور میں نے تجھے کوڑا مارا ؛ یہ لو اُس کوڑے کے بدلے 80 اونٹ ۔ ( اور خوش ہوجاؤ )
( ملخصاً: سنن الدارمی ، ج 1 ، ص 36 ، ر 72 ، ط دارالحدیث القاھرہ ، س 1420 ھ )
میں قربان! محبوب کریم ﷺ کی کتنی پیاری طبیعت تھی ۔
🌸 اگر آپ بڑے ہیں تو آپ کا ظرف بھی بڑا ہونا چاہیے ۔
بڑا وہ نہیں ہوتا جو بات بات پر چھوٹوں کو جھڑک دے ، بڑا وہ ہوتا ہے جو چھوٹوں کی لغزشیں معاف کردے اور ان کی دل جوئی کرتا رہے ۔
🌸 معذرت ہمیشہ غلطی پر ہی نہیں کی جاتی ، کبھی غلطی دوسرے کی ہو تب بھی ہمیں معذرت کرلینی چاہیے ؛ اس سے ہمارا مرتبہ کم نہیں ہو گا بلکہ سامنے والے کے دل میں ہمارا مقام و مرتبہ بڑھ جائے گا ۔
🌸 دل جیتنے کے لیے زبانی جمع خرچ سے ہی کام نہیں لینا چاہیے ، حسبِ توفیق تحفہ بھی پیش کرنا چاہیے ۔
اور تحفہ دے کر اسے اپنا بہت بڑا کارنامہ بھی نہیں سمجھنا چاہیے ۔
حبیب پاک ﷺ نے اَسی اونٹوں کا تحفہ عطا فرمایا تھا ، اگر ایک اونٹ کی قیمت دو لاکھ بھی ہو تو یہ تحفہ ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ مالیت کا بنتا ہے ۔
جب اس پیارے ﷺ نے اتنا بڑا تحفہ دے کر نہیں جتلایا تو ہم چھوٹے چھوٹے تحفے دے کر کیوں جتلائیں !!
کسی کو دے دیا تو بس دے دیا ، کسی پر احسان کر دیا ، توکردیا ؛ اسے یاد رکھنے کا کیا فائدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ !
وہ خلوصِ نیت سے ہوا تو بغیر یاد رکھنے کے بھی بارگاہِ الہی میں شرفِ قبولیت پالے گا ۔
✍️لقمان شاہد
5-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3004884616458374&id=100008105947430
اُس نے بھاری تلے والا جوتا پہن رکھا تھا جس سے پیر مبارک کو بہت تکلیف پہنچی ۔
حضور کے ہاتھ میں اس وقت کوڑا تھا ، آپ نے اسے کوڑا مار کر کہا:
بسم اللہ ، تو نے مجھے تکلیف دی ۔
اس شخص کو بہت دکھ ہوا ، اور ساری رات اپنے آپ کو ملامت کرتا رہا ( کہ میں نے بے احتیاطی میں رسول اللہ ﷺ کو کیوں اذیت دے دی ) ۔
صبح کے وقت حضور نے اسے بلوایا اور کہا:
کل تُو نے میرا پیر کچلا تھا ، جس سے مجھے تکلیف ہوئی ، اور میں نے تجھے کوڑا مارا ؛ یہ لو اُس کوڑے کے بدلے 80 اونٹ ۔ ( اور خوش ہوجاؤ )
( ملخصاً: سنن الدارمی ، ج 1 ، ص 36 ، ر 72 ، ط دارالحدیث القاھرہ ، س 1420 ھ )
میں قربان! محبوب کریم ﷺ کی کتنی پیاری طبیعت تھی ۔
🌸 اگر آپ بڑے ہیں تو آپ کا ظرف بھی بڑا ہونا چاہیے ۔
بڑا وہ نہیں ہوتا جو بات بات پر چھوٹوں کو جھڑک دے ، بڑا وہ ہوتا ہے جو چھوٹوں کی لغزشیں معاف کردے اور ان کی دل جوئی کرتا رہے ۔
🌸 معذرت ہمیشہ غلطی پر ہی نہیں کی جاتی ، کبھی غلطی دوسرے کی ہو تب بھی ہمیں معذرت کرلینی چاہیے ؛ اس سے ہمارا مرتبہ کم نہیں ہو گا بلکہ سامنے والے کے دل میں ہمارا مقام و مرتبہ بڑھ جائے گا ۔
🌸 دل جیتنے کے لیے زبانی جمع خرچ سے ہی کام نہیں لینا چاہیے ، حسبِ توفیق تحفہ بھی پیش کرنا چاہیے ۔
اور تحفہ دے کر اسے اپنا بہت بڑا کارنامہ بھی نہیں سمجھنا چاہیے ۔
حبیب پاک ﷺ نے اَسی اونٹوں کا تحفہ عطا فرمایا تھا ، اگر ایک اونٹ کی قیمت دو لاکھ بھی ہو تو یہ تحفہ ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ مالیت کا بنتا ہے ۔
جب اس پیارے ﷺ نے اتنا بڑا تحفہ دے کر نہیں جتلایا تو ہم چھوٹے چھوٹے تحفے دے کر کیوں جتلائیں !!
کسی کو دے دیا تو بس دے دیا ، کسی پر احسان کر دیا ، توکردیا ؛ اسے یاد رکھنے کا کیا فائدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ !
وہ خلوصِ نیت سے ہوا تو بغیر یاد رکھنے کے بھی بارگاہِ الہی میں شرفِ قبولیت پالے گا ۔
✍️لقمان شاہد
5-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3004884616458374&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#اظہار_رائے_کی_آزادی_یا_تہذیبی_تصادم؟
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش پر ایک اسکول ٹیچر کے قتل پر پوری دنیا میں آزادی اظہار رائے (Freedom of expression) کا شور برپا ہے۔اس حادثہ کے بعد امریکہ تا انڈیا مقتول ٹیچر سے ہمدردی جتائی گئی۔آزادی رائے نہ ماننے کے لیے پوری مسلم قوم کو قصوروار قرار دیا جارہا ہے اور اسلام پر دہشت گردی کا الزام لگایا جارہا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ دنیا میں آزادی رائے کی اجازت تھی نہ روایت!
پیغمبر اسلام نے سب سے پہلے آزادی اظہار رائے کا تصور پیش کیا۔آپ ﷺ نے فاران کی چوٹی سے اعلان نبوت کرتے ہوئے اپنے بارے میں اہل مکہ سے رائے طلب کی تھی۔اس سے پہلے ہر شخص کو آزادی رائے کا حق حاصل نہ تھا۔لیکن حضور ﷺ نے عملی طور پر ہر شخص کو آزادی رائے کا حق دیا۔صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار مکہ کے سفیر سہیل بن عمرو کے اعتراض پر "محمد رسول اللّه" کی جگہ "محمد بن عبد اللہ" لکھوانا،جنگ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسی کی رائے کو ترجیح دینا آزادی رائے کا ہی بیانیہ ہے جس میں ہر شخص کو آزادی رائے کا مکمل حق دیا گیا ہے۔
موجودہ جمہوریت میں بھی آزادی اظہار رائے کو اہم قرار دیا گیا ہے۔تاکہ انسان کی شخصی آزادی برقرار رہے اور بغیر کسی ڈر خوف کے انسان اپنی رائے ظاہر کر سکے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد 10 دسمبر 1948 کو یونیورسل ڈکلیریشن میں آزادی رائے کو انسانی حقوق کا لازمی حصہ قرار دیا گیا۔تیس نکاتی منشور کی تمہید میں یہ مقاصد بیان کیے گیے ہیں:
🔹چونکہ ہر انسان کی ذاتی عزت اور حرمت اور انسانوں کے مساوی اور ناقابل انتقال حقوق کو تسلیم کرنا دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔
🔹عام انسانوں کی بلند ترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں۔"
اسی منشور کی بنا پر مغربی دنیا سے ہمارے وطن تک میں دستوری طور پر آزادی اظہار رائے (freedom of expression) کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔لیکن آزادی رائے کی ایک حد بھی مقرر کی گئی ہے۔انگلینڈ میں آزادی رائے کو اہمیت حاصل ہے لیکن اس کی آڑ میں آپ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی توہین نہیں کر سکتے۔اگر کسی نے freedom of expression کے نام پر حضرت عیسٰی علیہ السلام پر تنقید کی تو Blasphemy act کے مطابق عمر قید تک سزا ہوسکتی ہے۔دستور ہند میں دفعہ 19 کے تحت آزادی رائے کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن اس پر کچھ امور میں پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں:
(الف) ہتک عزت۔(ب) توہین عدالت۔(ج) اخلاقیات۔(د) صوبے کی حفاظت۔(ہ) پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات۔(و) بھارت کی سالمیت اور سلامتی۔ جیسے امور میں کوئی بھی شخص ایک حد تک ہی رائے زنی کر سکتا ہے بصورت دیگر اس پر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔انسانی حقوق کا عالمی منشور ایک خوش نما اعلان سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔عملاً طاقتور ممالک کے حقوق ہی تسلیم کیے جاتے ہیں کمزور ممالک کی ہمیشہ حق تلفی ہوتی ہے۔جبکہ اسلام میں آزادی رائے کا جتنا حق صاحب ایمان کو ہے اتنا ہی غیر مسلم کو بھی دیا گیا ہے۔
خاکے کیوں بنائے جاتے ہیں؟
خاکہ(Cartoon) بنانا تصویری فن کی ایک شکل ہے۔جس میں عموماً غیر حقیقی یا نیم حقیقی تصویریں اور نقاشیاں کی جاتی ہیں۔کارٹون کا مقصد مزاح پیدا کرنا،ہلکے پھلکے انداز میں کوئی بات کہنا، کسی پر طنز کرنا یا شکل وصورت بگاڑ کر کردار کشی کرنا ہوتا ہے۔
اسلام میں تصویر سازی کی سخت ممانعت ہے۔اسی لیے پیغمبر اسلام ﷺ اور دیگر مقتدر شخصیات کی کوئی بھی تصویر موجود نہیں ہے۔صحابہ کرام نے حضور پاک ﷺ کے حسن وجمال اور آپ کی شخصیت کے ہر ہر گوشے کو بہ کمال بیان کردیا ہے۔اس کے باوجود کسی دور میں بھی حضور کی تصویر سازی کی جرأت نہیں کی گئی۔اس لیے مسلمان اپنے پیغمبر کی مفروضہ تصویر بناتے ہیں نہ پسند کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام کی ذات یا سیرت کے کسی پہلو سے مطمئن نہیں ہے تو وہ علماے اسلام سے اپنا اعتراض پیش کرے، ہر ممکن طریقے پر اعتراضات کا شافی جواب دیا جائے گا اور دیا جاتا رہا ہے۔انتہا پسند افراد Scholarly discussion کی بجائے جہالت وبدتمیزی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی بگڑیل طبیعت کی تصویر وکارٹون بناتے ہیں اور مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے اس کارٹون کو پیغمبر اسلام کا نام دے کر فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں۔مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہ کارٹون اور تصاویر ہرگز ہرگز نبی اکرم ﷺ کی نہیں ہے۔آپ ﷺ کے جانی دشمن بھی سرکار کی شکل وصورت میں عیب نہیں نکال سکے تو چودہ سو سال کے بعد عیب جوئی کی شرم ناک حرکت کو اخلاقی رذالت اور اسلام دشمنی کی بدترین مثال ہی کہا جاسکتا ہے۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔توہین کا ہلکا سا پہلو بھی غیرت ایمانی کے خلاف جانتے ہیں۔یہاں یہ پہلو بھی نگاہ میں رہے کہ مسلمان یہود و نصاریٰ کے پیغمبروں کی عزت و حرمت کا بھی اپ
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش پر ایک اسکول ٹیچر کے قتل پر پوری دنیا میں آزادی اظہار رائے (Freedom of expression) کا شور برپا ہے۔اس حادثہ کے بعد امریکہ تا انڈیا مقتول ٹیچر سے ہمدردی جتائی گئی۔آزادی رائے نہ ماننے کے لیے پوری مسلم قوم کو قصوروار قرار دیا جارہا ہے اور اسلام پر دہشت گردی کا الزام لگایا جارہا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ دنیا میں آزادی رائے کی اجازت تھی نہ روایت!
پیغمبر اسلام نے سب سے پہلے آزادی اظہار رائے کا تصور پیش کیا۔آپ ﷺ نے فاران کی چوٹی سے اعلان نبوت کرتے ہوئے اپنے بارے میں اہل مکہ سے رائے طلب کی تھی۔اس سے پہلے ہر شخص کو آزادی رائے کا حق حاصل نہ تھا۔لیکن حضور ﷺ نے عملی طور پر ہر شخص کو آزادی رائے کا حق دیا۔صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار مکہ کے سفیر سہیل بن عمرو کے اعتراض پر "محمد رسول اللّه" کی جگہ "محمد بن عبد اللہ" لکھوانا،جنگ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسی کی رائے کو ترجیح دینا آزادی رائے کا ہی بیانیہ ہے جس میں ہر شخص کو آزادی رائے کا مکمل حق دیا گیا ہے۔
موجودہ جمہوریت میں بھی آزادی اظہار رائے کو اہم قرار دیا گیا ہے۔تاکہ انسان کی شخصی آزادی برقرار رہے اور بغیر کسی ڈر خوف کے انسان اپنی رائے ظاہر کر سکے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد 10 دسمبر 1948 کو یونیورسل ڈکلیریشن میں آزادی رائے کو انسانی حقوق کا لازمی حصہ قرار دیا گیا۔تیس نکاتی منشور کی تمہید میں یہ مقاصد بیان کیے گیے ہیں:
🔹چونکہ ہر انسان کی ذاتی عزت اور حرمت اور انسانوں کے مساوی اور ناقابل انتقال حقوق کو تسلیم کرنا دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔
🔹عام انسانوں کی بلند ترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں۔"
اسی منشور کی بنا پر مغربی دنیا سے ہمارے وطن تک میں دستوری طور پر آزادی اظہار رائے (freedom of expression) کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔لیکن آزادی رائے کی ایک حد بھی مقرر کی گئی ہے۔انگلینڈ میں آزادی رائے کو اہمیت حاصل ہے لیکن اس کی آڑ میں آپ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی توہین نہیں کر سکتے۔اگر کسی نے freedom of expression کے نام پر حضرت عیسٰی علیہ السلام پر تنقید کی تو Blasphemy act کے مطابق عمر قید تک سزا ہوسکتی ہے۔دستور ہند میں دفعہ 19 کے تحت آزادی رائے کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن اس پر کچھ امور میں پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں:
(الف) ہتک عزت۔(ب) توہین عدالت۔(ج) اخلاقیات۔(د) صوبے کی حفاظت۔(ہ) پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات۔(و) بھارت کی سالمیت اور سلامتی۔ جیسے امور میں کوئی بھی شخص ایک حد تک ہی رائے زنی کر سکتا ہے بصورت دیگر اس پر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔انسانی حقوق کا عالمی منشور ایک خوش نما اعلان سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔عملاً طاقتور ممالک کے حقوق ہی تسلیم کیے جاتے ہیں کمزور ممالک کی ہمیشہ حق تلفی ہوتی ہے۔جبکہ اسلام میں آزادی رائے کا جتنا حق صاحب ایمان کو ہے اتنا ہی غیر مسلم کو بھی دیا گیا ہے۔
خاکے کیوں بنائے جاتے ہیں؟
خاکہ(Cartoon) بنانا تصویری فن کی ایک شکل ہے۔جس میں عموماً غیر حقیقی یا نیم حقیقی تصویریں اور نقاشیاں کی جاتی ہیں۔کارٹون کا مقصد مزاح پیدا کرنا،ہلکے پھلکے انداز میں کوئی بات کہنا، کسی پر طنز کرنا یا شکل وصورت بگاڑ کر کردار کشی کرنا ہوتا ہے۔
اسلام میں تصویر سازی کی سخت ممانعت ہے۔اسی لیے پیغمبر اسلام ﷺ اور دیگر مقتدر شخصیات کی کوئی بھی تصویر موجود نہیں ہے۔صحابہ کرام نے حضور پاک ﷺ کے حسن وجمال اور آپ کی شخصیت کے ہر ہر گوشے کو بہ کمال بیان کردیا ہے۔اس کے باوجود کسی دور میں بھی حضور کی تصویر سازی کی جرأت نہیں کی گئی۔اس لیے مسلمان اپنے پیغمبر کی مفروضہ تصویر بناتے ہیں نہ پسند کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام کی ذات یا سیرت کے کسی پہلو سے مطمئن نہیں ہے تو وہ علماے اسلام سے اپنا اعتراض پیش کرے، ہر ممکن طریقے پر اعتراضات کا شافی جواب دیا جائے گا اور دیا جاتا رہا ہے۔انتہا پسند افراد Scholarly discussion کی بجائے جہالت وبدتمیزی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی بگڑیل طبیعت کی تصویر وکارٹون بناتے ہیں اور مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے اس کارٹون کو پیغمبر اسلام کا نام دے کر فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں۔مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہ کارٹون اور تصاویر ہرگز ہرگز نبی اکرم ﷺ کی نہیں ہے۔آپ ﷺ کے جانی دشمن بھی سرکار کی شکل وصورت میں عیب نہیں نکال سکے تو چودہ سو سال کے بعد عیب جوئی کی شرم ناک حرکت کو اخلاقی رذالت اور اسلام دشمنی کی بدترین مثال ہی کہا جاسکتا ہے۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔توہین کا ہلکا سا پہلو بھی غیرت ایمانی کے خلاف جانتے ہیں۔یہاں یہ پہلو بھی نگاہ میں رہے کہ مسلمان یہود و نصاریٰ کے پیغمبروں کی عزت و حرمت کا بھی اپ
نے پیغمبر جتنا ہی خیال رکھتے ہیں۔حتی کہ کفار و مشرکین کے معبودوں کو بھی برا بھلا نہیں کہتے کیوں کہ قرآن نے ایسا کہنے سے سخت منع فرمایا ہے:
وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ
(سورہ انعام:108)
"اور انہیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے۔"
لیکن یہود و نصاریٰ اور کفار ومشرکین لگاتار حضور ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں۔
ردّ عمل کے طور پر مسلمان سخت رویہ اپنالیں تو فوراً معصوم بن کر مسلمانوں کو شدت پسند ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اور اپنی بدتمیزی کو آزادی رائے کا حق کہہ کر دفاع کرتے ہیں۔
ایک طرف مخالفین مسلمانوں پر عدم برداشت (Intolerance) کا الزام لگاتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنے معاملات میں کس قدر Intolerance کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اس کا اندازہ صرف اس سے لگائیں کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی سرکاری اشاعت کے بعد ترک صدر رجب طیب اردگان نے فرانسیسی صدر کو ذہنی مریض کہہ دیا تو یہ تبصرہ صدر فرانس کو اتنا ناگوار گزرا کہ فوراً ترکی سے اپنے سفیر (Ambassador) کو واپس بلا لیا۔یعنی یہ لوگ پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکے بنائیں تو freedom of speech اور مسلمان جواباً ان کو ذہنی مریض کہہ دیں تو اپنے ہی بنائے ضابطے کے خلاف آگ بگولہ ہوجاتے ہیں اور دہشت گردی کی الزام تراشیاں شروع کر دیتے ہیں۔
فرانسیسی حادثہ کے بعد ہمارے ملک میں بھی کئی افراد نے مسلمانوں پر عدم برداشت کا الزام لگایا حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جو خود پر ادنیٰ سی تنقید بھی برداشت نہیں کر پاتے۔حال ہی میں ٹاٹا جیولری کے ایک اشتہار پر ان لوگوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔جس کی بنا پر کمپنی کو اشتہار واپس لینا پڑا۔اس سے قبل بھی وزیر اعظم ودیگر وزرا کے کارٹون بنانے کے جرم میں کئی لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔جب یہ لوگ خود پر بنے کارٹون برداشت نہیں کر پاتے تو مسلمانوں کو کس منہ سے نصیحت کرتے ہیں؟
فرانسیسی معاشرے میں تسلسل کے ساتھ حضور ﷺ کی گستاخیاں کی جارہی ہیں۔اور
حکومت فرانس freedom of speech کے نام پر پیغمبر اسلام کی گستاخیوں کو جائز ٹھہراتی آئی ہے۔لیکن ان لوگوں کا دوغلاپن اس وقت ظاہر ہوجاتا ہے جب مسلم خواتین کے برقع پہننے پر پابندی لگائی جاتی ہے۔مسلم مردوں کو غیر محرم عیسائی عورتوں سے ہاتھ ملانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔اس وقت انہیں freedom of expression کا سبق یاد نہیں آتا؟ یہ سبق انہیں اپنی بدتمیزیوں کے وقت ہی یاد آتا ہے۔
خوب یاد رکھیں!
موجودہ دنیا Global village بن چکی ہے۔جس کی وجہ سے معاشرہ مختلف تہذیبوں اور کلچر کا مرکز بن گیا ہے۔ایسے ماحول میں دوسرے مذاہب یا محترم شخصیات کی گستاخیاں کرنا دنیا کے امن و امان کو خراب کرنا ہے۔مسلمان کسی بھی قوم کے مذہبی پیشواؤں کی توہین کرتا ہے نہ اپنے خدا ورسول کی توہین برداشت کرتا ہے۔آزادی رائے کی حد وہیں تک ہے جہاں تک کسی کی دل آزاری نہ ہو۔جہاں جان بوجھ کر کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہی آزادی رائے قرار دیا جائے وہی لوگ امن وامان اور انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
22 ربیع الاول 1442ھ
9 نومبر 2020 بروز پیر
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/805018740068646/
وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ
(سورہ انعام:108)
"اور انہیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے۔"
لیکن یہود و نصاریٰ اور کفار ومشرکین لگاتار حضور ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں۔
ردّ عمل کے طور پر مسلمان سخت رویہ اپنالیں تو فوراً معصوم بن کر مسلمانوں کو شدت پسند ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اور اپنی بدتمیزی کو آزادی رائے کا حق کہہ کر دفاع کرتے ہیں۔
ایک طرف مخالفین مسلمانوں پر عدم برداشت (Intolerance) کا الزام لگاتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنے معاملات میں کس قدر Intolerance کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اس کا اندازہ صرف اس سے لگائیں کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی سرکاری اشاعت کے بعد ترک صدر رجب طیب اردگان نے فرانسیسی صدر کو ذہنی مریض کہہ دیا تو یہ تبصرہ صدر فرانس کو اتنا ناگوار گزرا کہ فوراً ترکی سے اپنے سفیر (Ambassador) کو واپس بلا لیا۔یعنی یہ لوگ پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکے بنائیں تو freedom of speech اور مسلمان جواباً ان کو ذہنی مریض کہہ دیں تو اپنے ہی بنائے ضابطے کے خلاف آگ بگولہ ہوجاتے ہیں اور دہشت گردی کی الزام تراشیاں شروع کر دیتے ہیں۔
فرانسیسی حادثہ کے بعد ہمارے ملک میں بھی کئی افراد نے مسلمانوں پر عدم برداشت کا الزام لگایا حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جو خود پر ادنیٰ سی تنقید بھی برداشت نہیں کر پاتے۔حال ہی میں ٹاٹا جیولری کے ایک اشتہار پر ان لوگوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔جس کی بنا پر کمپنی کو اشتہار واپس لینا پڑا۔اس سے قبل بھی وزیر اعظم ودیگر وزرا کے کارٹون بنانے کے جرم میں کئی لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔جب یہ لوگ خود پر بنے کارٹون برداشت نہیں کر پاتے تو مسلمانوں کو کس منہ سے نصیحت کرتے ہیں؟
فرانسیسی معاشرے میں تسلسل کے ساتھ حضور ﷺ کی گستاخیاں کی جارہی ہیں۔اور
حکومت فرانس freedom of speech کے نام پر پیغمبر اسلام کی گستاخیوں کو جائز ٹھہراتی آئی ہے۔لیکن ان لوگوں کا دوغلاپن اس وقت ظاہر ہوجاتا ہے جب مسلم خواتین کے برقع پہننے پر پابندی لگائی جاتی ہے۔مسلم مردوں کو غیر محرم عیسائی عورتوں سے ہاتھ ملانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔اس وقت انہیں freedom of expression کا سبق یاد نہیں آتا؟ یہ سبق انہیں اپنی بدتمیزیوں کے وقت ہی یاد آتا ہے۔
خوب یاد رکھیں!
موجودہ دنیا Global village بن چکی ہے۔جس کی وجہ سے معاشرہ مختلف تہذیبوں اور کلچر کا مرکز بن گیا ہے۔ایسے ماحول میں دوسرے مذاہب یا محترم شخصیات کی گستاخیاں کرنا دنیا کے امن و امان کو خراب کرنا ہے۔مسلمان کسی بھی قوم کے مذہبی پیشواؤں کی توہین کرتا ہے نہ اپنے خدا ورسول کی توہین برداشت کرتا ہے۔آزادی رائے کی حد وہیں تک ہے جہاں تک کسی کی دل آزاری نہ ہو۔جہاں جان بوجھ کر کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہی آزادی رائے قرار دیا جائے وہی لوگ امن وامان اور انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
22 ربیع الاول 1442ھ
9 نومبر 2020 بروز پیر
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/805018740068646/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
#دشمنان_اسلام_کو_کیسے_جواب_دیں؟
فارغین مدارس اور منتہی درجات کے طلبہ جو منطق و فلسفہ کے دقیق ترین اور مشکل ترین مسائل کا خوب صورت حل پیش فرماتے ہیں,ان نفوس عاقلہ سے عرض ہے کہ بھارت میں دشمنان اسلام نے مسلمانوں کی تذلیل وتضحیک اور مذہب اسلام پر تنقید و تقبیح کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
اپ حضرات اس جانب متوجہ ہوں اور اپنی قوت ذہنیہ کا بھرپور استعمال کرکے تخریب کاروں کو ایسے دندان شکن جواب دیں کہ دشمنوں کی دماغی رگیں پھٹ جائیں اور وہ سوچنے سمجھنے کی قوت کھو بیٹھیں۔
حکومت ہند نے رانچی میں ایسے غیر معقول لوگوں کے علاج کا معقول انتظام کر رکھا ہے۔
مخالفین کا اعتراض ہے کہ مسلمان سی اےے اور این ار سی کے معاملے میں ملک کے ساتھ نہیں تو ہم بھی ان کے ساتھ رعایت نہیں کرنا چاہتے۔
کیا ہے کوئی جو ایسا جواب دے کہ دشمن لا جواب ہو جائے؟
دشمنان اسلام کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لئے مذہب پہلے ہے اور ملک بعد میں۔
کوئی ہے جو ایسا منہ توڑ جواب دے کہ دشمنوں کو ملک بھر میں منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے؟
اپ اس طرح کے سوالوں کو تلاش کریں اور اس کے عقلی,الزامی اور تاریخی جواب دیں۔
ٹی وی ڈبیٹ میں اسی طرح کے سوالات ہوتے ہیں اور مسلم نمائندہ نہ جگر شکن جواب دے پاتا ہے,نہ ہی ڈبیٹ میں جانے سے پرہیز کرتا ہے۔
کیا نسل جدید اس قسم کے سوالوں کے آتش فشاں جواب دینے کی کوشش کرے گی,تاکہ دشمنان دین غش کھا کر زمین پر گر پڑیں اور ہوش انے پر بھی اسلام ومسلمین پر انگشت نمائی کا تصور کرتے ہی لرزہ بر اندام ہو جائیں؟
مذکورہ بالا دونوں سوالوں کے مختصر اور عقلی والزامی جواب دیں۔میں منتظر رہوں گا۔
طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:09:نومبر 2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/805130423390811/
#دشمنان_اسلام_کو_کیسے_جواب_دیں؟
فارغین مدارس اور منتہی درجات کے طلبہ جو منطق و فلسفہ کے دقیق ترین اور مشکل ترین مسائل کا خوب صورت حل پیش فرماتے ہیں,ان نفوس عاقلہ سے عرض ہے کہ بھارت میں دشمنان اسلام نے مسلمانوں کی تذلیل وتضحیک اور مذہب اسلام پر تنقید و تقبیح کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
اپ حضرات اس جانب متوجہ ہوں اور اپنی قوت ذہنیہ کا بھرپور استعمال کرکے تخریب کاروں کو ایسے دندان شکن جواب دیں کہ دشمنوں کی دماغی رگیں پھٹ جائیں اور وہ سوچنے سمجھنے کی قوت کھو بیٹھیں۔
حکومت ہند نے رانچی میں ایسے غیر معقول لوگوں کے علاج کا معقول انتظام کر رکھا ہے۔
مخالفین کا اعتراض ہے کہ مسلمان سی اےے اور این ار سی کے معاملے میں ملک کے ساتھ نہیں تو ہم بھی ان کے ساتھ رعایت نہیں کرنا چاہتے۔
کیا ہے کوئی جو ایسا جواب دے کہ دشمن لا جواب ہو جائے؟
دشمنان اسلام کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لئے مذہب پہلے ہے اور ملک بعد میں۔
کوئی ہے جو ایسا منہ توڑ جواب دے کہ دشمنوں کو ملک بھر میں منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے؟
اپ اس طرح کے سوالوں کو تلاش کریں اور اس کے عقلی,الزامی اور تاریخی جواب دیں۔
ٹی وی ڈبیٹ میں اسی طرح کے سوالات ہوتے ہیں اور مسلم نمائندہ نہ جگر شکن جواب دے پاتا ہے,نہ ہی ڈبیٹ میں جانے سے پرہیز کرتا ہے۔
کیا نسل جدید اس قسم کے سوالوں کے آتش فشاں جواب دینے کی کوشش کرے گی,تاکہ دشمنان دین غش کھا کر زمین پر گر پڑیں اور ہوش انے پر بھی اسلام ومسلمین پر انگشت نمائی کا تصور کرتے ہی لرزہ بر اندام ہو جائیں؟
مذکورہ بالا دونوں سوالوں کے مختصر اور عقلی والزامی جواب دیں۔میں منتظر رہوں گا۔
طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:09:نومبر 2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/805130423390811/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کچھ پاگلوں نے لایعنی خاکے بنا کر ، بے مثل و مثال رسول ﷺ کی طرف منسوب کیے ، جس پر مسلمانوں نے مختلف طریقوں سے غم و غصے کا اظہار کیا ۔
کسی نے اُن کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے ، کسی نے احتجاج کرکے ، کسی نے ریلی نکال کر ، کسی نے تقریر و تحریر کے ذریعے ، تو کسی نے مسجدیں بنانے کی نیت کرکے ۔
اگرچہ یہ سارے طریقے گستاخوں کی " قرار واقعی سزا " کے نہیں ، ان کی سزا تو انھیں واصل جہنم کرنا ہے ۔
لیکن پھر بھی یہ طریقے اظہارِ محبت کے ہیں ، جس پر اللہ ﷻ سے اجر کی امید رکھی جاسکتی ہے ۔
جس طرح مصنوعات کا بائیکاٹ کرنےوالوں کی نیت کافروں کو معاشی دھچکا لگانا ہے ، اسی طرح مسجدیں بنانے والوں کی نیت یہ ہے کہ:
کافروں نے جس کریم ﷺ کا ذکر نیچا کرنے کی کوشش کی ، مسجدیں بنا کر ہم قیامت تک کے لیے ان کا ذکرِ پاک بلند کرتے رہیں گے ۔
دونوں کی نیتیں حسن ہیں ، دونوں ہی ماجور ہوں گے ۔ ان شاءاللہ تعالیٰﷻ
وہ لوگ بھی اللہ کے پیارے تھے جنھوں نے لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا کَہ کر ، اصحابِ کہف کے قریب مسجدبنائی ۔
اور وہ لوگ بھی اللہ کے پیارے ہیں جو اصحابِ محمد کے فیضان سے مسجدیں بنائیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
9-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3008969199383249&id=100008105947430
کسی نے اُن کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے ، کسی نے احتجاج کرکے ، کسی نے ریلی نکال کر ، کسی نے تقریر و تحریر کے ذریعے ، تو کسی نے مسجدیں بنانے کی نیت کرکے ۔
اگرچہ یہ سارے طریقے گستاخوں کی " قرار واقعی سزا " کے نہیں ، ان کی سزا تو انھیں واصل جہنم کرنا ہے ۔
لیکن پھر بھی یہ طریقے اظہارِ محبت کے ہیں ، جس پر اللہ ﷻ سے اجر کی امید رکھی جاسکتی ہے ۔
جس طرح مصنوعات کا بائیکاٹ کرنےوالوں کی نیت کافروں کو معاشی دھچکا لگانا ہے ، اسی طرح مسجدیں بنانے والوں کی نیت یہ ہے کہ:
کافروں نے جس کریم ﷺ کا ذکر نیچا کرنے کی کوشش کی ، مسجدیں بنا کر ہم قیامت تک کے لیے ان کا ذکرِ پاک بلند کرتے رہیں گے ۔
دونوں کی نیتیں حسن ہیں ، دونوں ہی ماجور ہوں گے ۔ ان شاءاللہ تعالیٰﷻ
وہ لوگ بھی اللہ کے پیارے تھے جنھوں نے لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا کَہ کر ، اصحابِ کہف کے قریب مسجدبنائی ۔
اور وہ لوگ بھی اللہ کے پیارے ہیں جو اصحابِ محمد کے فیضان سے مسجدیں بنائیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
9-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3008969199383249&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مکلی قبرستان میں حضرت مخدوم ابوالقاسم رحمہ اللہ کی درگاہ شریف ہے ، جس میں ایک حجرہ ہے ، جسے " حجرۂ حضوری " کہتے ہیں ۔
اس کے حضوری ہونے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ:
یہاں ایک دفعہ مخدوم حافظ ابوالقاسم رحمہ اللہ کو حضور سرورِ کونینﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی ۔
کہتے ہیں اس حجرہ پاک میں سندھ کے عظیم محدث ، مفسر ، فقیہ ، قاضی اور ولی اللہ ، حضرت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی متوفی 1174 ھ بھی جھاڑو دیا کرتے تھے ۔
آج مجھ عاصی کو بھی اس حجرہ پاک کی زیارت ، اور جاروب کشی نصیب ہوئی ۔
یہاں بیٹھ کر بارگاہِ رسالت میں اُن الفاظ سے استغاثے کا بھی شرف ملا ، جو شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی کیا کرتے تھے کہ:
اغثنی یارسول اللہ حانت ندامتی
اغثنی یا حبیب اللہ قامت قیامتی
جب توفیق یاوری کرے اور آپ یہاں آئیں ، تو اِس حُجرہ پاک کی ضرور زیارت کریں ، اور یہاں نفل ادا کریں ۔
اللہ اللہ ! وہ کتنی عظیم جگہیں ہیں ، جو میرے حضور سے منسوب ہوگئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️لقمان شاہد
9-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3009339909346178&id=100008105947430
اس کے حضوری ہونے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ:
یہاں ایک دفعہ مخدوم حافظ ابوالقاسم رحمہ اللہ کو حضور سرورِ کونینﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی ۔
کہتے ہیں اس حجرہ پاک میں سندھ کے عظیم محدث ، مفسر ، فقیہ ، قاضی اور ولی اللہ ، حضرت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی متوفی 1174 ھ بھی جھاڑو دیا کرتے تھے ۔
آج مجھ عاصی کو بھی اس حجرہ پاک کی زیارت ، اور جاروب کشی نصیب ہوئی ۔
یہاں بیٹھ کر بارگاہِ رسالت میں اُن الفاظ سے استغاثے کا بھی شرف ملا ، جو شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی کیا کرتے تھے کہ:
اغثنی یارسول اللہ حانت ندامتی
اغثنی یا حبیب اللہ قامت قیامتی
جب توفیق یاوری کرے اور آپ یہاں آئیں ، تو اِس حُجرہ پاک کی ضرور زیارت کریں ، اور یہاں نفل ادا کریں ۔
اللہ اللہ ! وہ کتنی عظیم جگہیں ہیں ، جو میرے حضور سے منسوب ہوگئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️لقمان شاہد
9-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3009339909346178&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
کیا شادی کے بعد عورت کے دین سیکھنے کا وقت ختم؟
اگر آپ ایسا سوچتے ہیں کہ ایک عورت شادی کر کے مجبور ہو جاتی ہے اور پھر علم حاصل کرنے اور دین سیکھنے کا سلسلہ روک دینا چاہیے تو یہ ہر گز صحیح نہیں۔
اگر شادی سے پہلے لڑکی کے گھر والوں نے دینی ماحول سے دور ہونے کی وجہ سے علم دین نہیں پڑھایا تو اب شادی کے بعد بھی اگر لڑکی کو احساس ہوتا ہے تو محض یہ سوچ کر رک جانا کہ اب میری شادی ہو گئی اور بس کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور بچوں کی دیکھ بھال ہی میری آخری ذمہ داری ہے تو یہ درست نہیں.
اسے چاہیے کہ شادی کو مجبوری نہیں بلکہ اپنے حق میں بہتر جانے۔
اس کا شوہر اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کا ہمسفر اور اس کی طاقت ہے اور اصل سفر تو نکاح کے بعد ہی شروع ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو سنبھالنے کے لیے ہر وقت کوئی موجود ہوتا ہے۔
عورت کو چاہیے کہ شوہر سے علم دین حاصل کرے، اسے جہاں دوسرے کاموں کے لیے راضی کر لیتی ہیں تو اس پر بھی راضی کریں تاکہ آخرت کی کامیابی ساتھ مل کر پا سکیں۔
اگر شوہر پڑھا لکھا دیندار ہو تو اسے چاہیے کہ جس عورت سے نکاح کیا ہے اسے راہ خدا کا مسافر بنائے اور اتنا علم ضرور دے کہ وہ اس راہ سے بھٹک نہ سکے۔
عورت اگر مرد کو دیندار نہ پائے تو اسے دینداری کی طرف بلائے اور مرد کونسی راہ پر جاتا ہے، اس میں عورت کا اہم کردار ہوتا ہے لہذا عورت کو اپنا کردار اچھے سے نبھانا چاہیے۔
شادی کے بعد بھی یہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام آپ پر جاری ہوتے ہیں اور ایک دن آپ کو حساب کے لیے حاضر ہونا ہے پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اب علم حاصل کرنے یا دین سیکھنے کی عمر نہ رہی؟
اللہ تعالیٰ عورتوں کو توفیق سے نوازے کہ وہ علم دین کی طرف راغب ہو جائیں اور ساتھ میں اپنے شوہر اور بچوں کو بھی اس جانب لائیں تاکہ اصل کامیابی حاصل کر سکیں۔
عبد مصطفی
اگر آپ ایسا سوچتے ہیں کہ ایک عورت شادی کر کے مجبور ہو جاتی ہے اور پھر علم حاصل کرنے اور دین سیکھنے کا سلسلہ روک دینا چاہیے تو یہ ہر گز صحیح نہیں۔
اگر شادی سے پہلے لڑکی کے گھر والوں نے دینی ماحول سے دور ہونے کی وجہ سے علم دین نہیں پڑھایا تو اب شادی کے بعد بھی اگر لڑکی کو احساس ہوتا ہے تو محض یہ سوچ کر رک جانا کہ اب میری شادی ہو گئی اور بس کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور بچوں کی دیکھ بھال ہی میری آخری ذمہ داری ہے تو یہ درست نہیں.
اسے چاہیے کہ شادی کو مجبوری نہیں بلکہ اپنے حق میں بہتر جانے۔
اس کا شوہر اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کا ہمسفر اور اس کی طاقت ہے اور اصل سفر تو نکاح کے بعد ہی شروع ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو سنبھالنے کے لیے ہر وقت کوئی موجود ہوتا ہے۔
عورت کو چاہیے کہ شوہر سے علم دین حاصل کرے، اسے جہاں دوسرے کاموں کے لیے راضی کر لیتی ہیں تو اس پر بھی راضی کریں تاکہ آخرت کی کامیابی ساتھ مل کر پا سکیں۔
اگر شوہر پڑھا لکھا دیندار ہو تو اسے چاہیے کہ جس عورت سے نکاح کیا ہے اسے راہ خدا کا مسافر بنائے اور اتنا علم ضرور دے کہ وہ اس راہ سے بھٹک نہ سکے۔
عورت اگر مرد کو دیندار نہ پائے تو اسے دینداری کی طرف بلائے اور مرد کونسی راہ پر جاتا ہے، اس میں عورت کا اہم کردار ہوتا ہے لہذا عورت کو اپنا کردار اچھے سے نبھانا چاہیے۔
شادی کے بعد بھی یہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام آپ پر جاری ہوتے ہیں اور ایک دن آپ کو حساب کے لیے حاضر ہونا ہے پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اب علم حاصل کرنے یا دین سیکھنے کی عمر نہ رہی؟
اللہ تعالیٰ عورتوں کو توفیق سے نوازے کہ وہ علم دین کی طرف راغب ہو جائیں اور ساتھ میں اپنے شوہر اور بچوں کو بھی اس جانب لائیں تاکہ اصل کامیابی حاصل کر سکیں۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
حضور کا شجرہ حضرت آدم تک بیان کرنا
بعض مقررین حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نسب حضرت آدم علیہ السلام تک بیان کرتے ہیں جو کہ احتیاط کے خلاف ہے۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں باب مبعث النبیِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں بیان کیا ہے :
محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن کلاب بن مدرکۃ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان (بخاری)
امام ابن حسن بیہقی (متوفی 458 ہجری) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :
میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار ہوں، اللہ تعالیٰ نے جب بھی لوگوں کے دو گروہ کیے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان میں سے بہتر گروہ میں رکھا سو مجھے ماں باپ میں سے ظاہر کیا گیا ہے اور جاہلیت کی بدکاریوں میں سے کسی چیز نے نہیں چھوا، حضرت آدم سے لے کر اپنے باپ اور اپنی ماں تک میں نکاح سے پیدا کیا گیا ہوں، زنا سے نہیں پیدا کیا گیا پس میں اپنی ذات کے لحاظ سے اور اپنے نسب کے لحاظ سے تم سب سے افضل ہوں۔
(سنن بیہقی، ج1، ص175)
خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا نسب حضرت آدم تک بیان نہیں فرمایا اور امام بخاری نے عدنان تک کا ذکر کیا ہے، حضرت آدم تک نہیں کیا۔
علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں کہ یہاں تک نسب پر اجماع ہے اور اس کے اوپر بہت اختلاف ہے۔
(نعم الباری، ج7، ص56)
احتیاط یہی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام تک بیان نہ کیا جائے۔
عبد مصطفی
بعض مقررین حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نسب حضرت آدم علیہ السلام تک بیان کرتے ہیں جو کہ احتیاط کے خلاف ہے۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں باب مبعث النبیِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں بیان کیا ہے :
محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن کلاب بن مدرکۃ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان (بخاری)
امام ابن حسن بیہقی (متوفی 458 ہجری) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :
میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار ہوں، اللہ تعالیٰ نے جب بھی لوگوں کے دو گروہ کیے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان میں سے بہتر گروہ میں رکھا سو مجھے ماں باپ میں سے ظاہر کیا گیا ہے اور جاہلیت کی بدکاریوں میں سے کسی چیز نے نہیں چھوا، حضرت آدم سے لے کر اپنے باپ اور اپنی ماں تک میں نکاح سے پیدا کیا گیا ہوں، زنا سے نہیں پیدا کیا گیا پس میں اپنی ذات کے لحاظ سے اور اپنے نسب کے لحاظ سے تم سب سے افضل ہوں۔
(سنن بیہقی، ج1، ص175)
خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا نسب حضرت آدم تک بیان نہیں فرمایا اور امام بخاری نے عدنان تک کا ذکر کیا ہے، حضرت آدم تک نہیں کیا۔
علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں کہ یہاں تک نسب پر اجماع ہے اور اس کے اوپر بہت اختلاف ہے۔
(نعم الباری، ج7، ص56)
احتیاط یہی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام تک بیان نہ کیا جائے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
جادو کا مطلب
(جادو ٹونا سریز پارٹ 1)
سب سے پہلے جانتے ہیں کہ جادو سحر کا مطلب کیا ہے۔
علامہ فیروزآبادی نے لکھا ہے کہ جس چیز کا ماخذ (Source) لطیف اور دقیق ہو وہ سحر ہے۔
(قاموس، ج2، ص66)
علامہ جوہری نے بھی یہی لکھا ہے۔
(الصحاح، ج2، ص679)
علامہ زبیدی لکھتے ہیں :
"تہذیب" میں مذکور ہے کہ کسی چیز کو اس کی حقیقت سے دوسری حقیقت کی طرف پلٹ دینا سحر ہے کیونکہ جب ساحر (سحر کرنے والا) کسی باطل کو حق کی صورت دکھاتا ہے اور لوگوں کے ذہن میں یہ خیال ڈالتا ہے کی وہ چیز اپنی حقیقت کے خلاف ہے تو اس کا سحر ہے۔
(تاج العروس، ج3، ص258، ملخصا)
علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں :
سحر وہ عمل ہے جس سے شیطان کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے اور اس کی مدد سے کوئی کام کیا جاتا ہے، نظر بندی کو بھی سحر کہتے ہیں، ایک چیز کسی صورت میں دکھائی دیتی ہے حالانکہ وہ اس کی اصلی صورت نہیں ہوتی (جیسے دور سے ریت پر پانی نظر آتا ہے، جیسے تیز رفتار والی سواری پر بیٹھے شخص کو درخت گھر وغیرہ دوڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں) کسی چیز کی کیفیت کے پلٹ دینے کو بھی سحر کہتے ہیں، کوئی شخص کسی بیمار کو تندرست کر دے یا کسی کے بغض کو محبت سے بدل دے تو کہتے ہیں اس نے اس پر سحر (جادو) کر دیا ہے۔
(لسان العرب، ج4، ص348)
جاری ہے......
عبد مصطفی آفیشل
(جادو ٹونا سریز پارٹ 1)
سب سے پہلے جانتے ہیں کہ جادو سحر کا مطلب کیا ہے۔
علامہ فیروزآبادی نے لکھا ہے کہ جس چیز کا ماخذ (Source) لطیف اور دقیق ہو وہ سحر ہے۔
(قاموس، ج2، ص66)
علامہ جوہری نے بھی یہی لکھا ہے۔
(الصحاح، ج2، ص679)
علامہ زبیدی لکھتے ہیں :
"تہذیب" میں مذکور ہے کہ کسی چیز کو اس کی حقیقت سے دوسری حقیقت کی طرف پلٹ دینا سحر ہے کیونکہ جب ساحر (سحر کرنے والا) کسی باطل کو حق کی صورت دکھاتا ہے اور لوگوں کے ذہن میں یہ خیال ڈالتا ہے کی وہ چیز اپنی حقیقت کے خلاف ہے تو اس کا سحر ہے۔
(تاج العروس، ج3، ص258، ملخصا)
علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں :
سحر وہ عمل ہے جس سے شیطان کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے اور اس کی مدد سے کوئی کام کیا جاتا ہے، نظر بندی کو بھی سحر کہتے ہیں، ایک چیز کسی صورت میں دکھائی دیتی ہے حالانکہ وہ اس کی اصلی صورت نہیں ہوتی (جیسے دور سے ریت پر پانی نظر آتا ہے، جیسے تیز رفتار والی سواری پر بیٹھے شخص کو درخت گھر وغیرہ دوڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں) کسی چیز کی کیفیت کے پلٹ دینے کو بھی سحر کہتے ہیں، کوئی شخص کسی بیمار کو تندرست کر دے یا کسی کے بغض کو محبت سے بدل دے تو کہتے ہیں اس نے اس پر سحر (جادو) کر دیا ہے۔
(لسان العرب، ج4، ص348)
جاری ہے......
عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Aadhaar Card Without Proof update online
آدھار کارڈ میں آن لائن بِنا دستاویز کے نام ولدیت تاریخ پیدائش پتہ وغیرہ کیسے بدلیں ؟ آدھار کی ویب سائٹ سے فارم ڈاؤنلوڈ کرکے فارم کو کیسے بھریں ؟
बिना डाकुमेंट आधार में नाम पता जन्म तारीख़ बदलें!
https://youtu.be/J6cdQ6uICxo
نسیم علی | Naseem Ali | Nasim Ali
آدھار کارڈ میں آن لائن بِنا دستاویز کے نام ولدیت تاریخ پیدائش پتہ وغیرہ کیسے بدلیں ؟ آدھار کی ویب سائٹ سے فارم ڈاؤنلوڈ کرکے فارم کو کیسے بھریں ؟
बिना डाकुमेंट आधार में नाम पता जन्म तारीख़ बदलें!
https://youtu.be/J6cdQ6uICxo
نسیم علی | Naseem Ali | Nasim Ali
YouTube
Aadhaar Card Without Proof update online बिना डाकुमेंट आधार में नाम पता जन्म तारीख बदले
Aadhaar Card Without Proof update online बिना डाकुमेंट आधार में नाम पता जन्म तारीख बदले
Important Link
बिना डाकुमेंट आधार में नाम पता जन्म तारीख बदले
https://bit.ly/3k31hnU
aadhar date of birth change documents required
https://bit.ly/2OUtO0Z
आधार कार्ड…
Important Link
बिना डाकुमेंट आधार में नाम पता जन्म तारीख बदले
https://bit.ly/3k31hnU
aadhar date of birth change documents required
https://bit.ly/2OUtO0Z
आधार कार्ड…
how to change name in aadhar card online | aadhar card me name kaise change kare
آدھار کارڈ میں آن لائن بِنا دستاویز کے نام ولدیت تاریخ پیدائش پتہ وغیرہ کیسے بدلیں ؟ طریقہ
https://youtu.be/4MvfyhGIBJk
نسیم علی | Naseem Ali | Nasim Ali
آدھار کارڈ میں آن لائن بِنا دستاویز کے نام ولدیت تاریخ پیدائش پتہ وغیرہ کیسے بدلیں ؟ طریقہ
https://youtu.be/4MvfyhGIBJk
نسیم علی | Naseem Ali | Nasim Ali
YouTube
how to change name in aadhar card online | aadhar card me name kaise change kare
how to change name in aadhar card online | aadhar card me name kaise change kare,name Change in Aadhar Card Online - aadhar card me name kaise change kare aadhar name correction online
Important Link
aadhar date of birth change documents required
https…
Important Link
aadhar date of birth change documents required
https…