جب اشرافیہ غافل ہو جائے تو قومیں تباہ کر دی جاتی ہیں
✍️ مولانا پٹیل عبد الرحمن مصباحی (گجرات، ہند)
اشرافیہ سے کیا مراد ہے اس حوالے سے رائے مختلف ہو سکتی ہے، عام طور پر انگریزی میں اس کے لیے Elite کا لفظ استعمال ہوتا ہے. کبھی سادہ الفاظ میں Cream class بھی بولتے ہیں. ہمارے خیال میں اس کی آسان سی توجیہ یہ ہے کہ "اشرافیہ یعنی قوم کا بااختیار طبقہ، چاہے وہ مالی حیثیت سے بااختیار ہو، سیاسی حیثیت سے یا پھر مذہبی حیثیت سے." کسی بھی معاشرے کی سمت کا تعیّن اس کی اشرافیہ کے طریقۂ حیات سے ہوتا ہے، اشرافیہ یعنی قافلے کے آگے چلنے والا نمائندہ گروہ، یہ درست راہ پا کر ثابت قدم رہنے میں کامیاب ہو جائے تو قوم کا پورا قافلہ فلاح و نجات کی منزل سے خود بہ خود ہمکنار ہو جاتا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ نظام حیات کی تشکیل میں اس طبقے کا رول کلیدی ہوتا ہے، اس طبقے کے فیصلے تقریباً ساری قوم بلکہ پوری انسانیت پر اثر انداز ہوتے ہیں. لہٰذا اشرافیہ کی شرافت قوم کے لیے نیک فالی اور ان کی شرارت قوم کے لیے تباہی کے روپ میں ظاہر ہوتی ہے.
اقوام عالم کی جو مرضی تاریخ پڑھ لیجیے، کسی بھی دور میں کسی بھی بھی تہذیب کے ماننے والوں کے مقدّر میں تباہی و بربادی اس وقت تک نہیں لکھی گئی جب تک اشرافیہ غافل، بے کار، شرپسند اور ملت فروش نہیں ہو گئی. عوام کی بھیڑ چال قوموں کے عروج و زوال کا فیصلہ نہیں کرتی، بلکہ وہ تو جانے انجانے میں اشرافیہ کے قائم کردہ سسٹم کی پیروکار ہوتی ہے، قوموں کا مقدر تو اشرافیہ کے ذریعے عمل میں لایا جانے والا طرزِ حیات طے کرتا ہے. گویا قوم کا درخت اسی وقت ثمر بار ہو سکتا ہے جب اشرافیہ کی جڑیں تر و تازہ اور مستحکم ہوں، ورنہ اگر اشرافیہ ہی زنگ آلود ہو تو قوم کا وقت کے تقاضوں اور دشمن طاقتوں کے سامنے سرنگوں ہو جانا بدیہی امر ہے.
آئیے! ذرا تاریخ کے تہہ خانے میں جھانک کر اشرافیہ کا کلیدی کردار سمجھنے کی کوشش کریں. اِدھر مستعصم کے طبقہ اشرافیہ میں بدترین خیانت دار وزراء و امراء کا اثر انداز ہونا تھا کہ ادھر سے تاتاریوں کی قیامت نے بغداد کے دروازے پر دستک دی، اشرافیہ کی اس غفلت کے نتیجے میں تباہی و بربادی کا وہ خونی منظر سامنے آیا کہ سعدی نے آسمان کو خون کے آنسو رونے کا حق دے دیا. متحدہ ہند میں ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ کو شکست نہ ہوتی اگر اشرافیہ میں میر جعفر و میر صادق جیسے ملت فروش نہ پَنپتے. خلافت عثمانیہ اسی وقت تک محفوظ رہی جب تک سلطان محمد فاتح اور سلطان عبد الحمید جیسے لوگ اشرافیہ کی زینت بنے رہے، جیسے ہی تُرک اشرافیہ میں کمال پاشا جیسے مغرب زدہ لوگوں کا وجود ہوا، جنگ عظیم کی ہولناکیوں نے اس عظیم سلطنت کو آ لیا اور جشن فتح میں برطانیہ نے اسلامی خطۂ حکومت کو کیک کی طرح تقسیم کر کے پورے عالم اسلام پر اپنی تہذیب تھوپ دی. اس کے علاوہ رضا شاہ پہلوی سے لے کر ابن سبا تک اور ابو الکلام آزاد سے لے کر مروان تک؛ طبقۂ اشرافیہ کو شرمندہ کرنے والوں کی لمبی فہرست تاریخ کے نوٹس بورڈ پر دیکھی جا سکتی ہے، اگر کوئی تاریخ کا طالب علم اشرافیہ کے واسطے سے اقوامِ عالم کے عروج و زوال کی داستان مرتَّب کرنا چاہے تو یہ ایک مستقل تحقیقی عنوان ہے.
آج امت کی زبوں حالی کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ اشرافیہ کی غفلت، نادانی، عیاشی اور ملت فراموشی ہی ہے. جہاں تک متوسط و نادار طبقے کا تعلق ہے تو یہ بے چارے کسی طرح دو وقت کی روٹی کما کر باعزت زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حتیٰ الامکان اپنے معاملات کو اسلامی نہج پر ڈھالنے کا خیال بھی رکھتے ہیں. انہیں نہ تو بڑے بڑے مذہبی فلسفوں سے غرض ہے نہ دین کے مقابلے میں دولت کا گھمنڈ، نہ ہی سیاست کے نام پر دین و ملت کی سودا گری کا ڈھنگ. کیمبرج کے مایہ ناز فرزند ڈاکٹر ہارون لکھتے ہیں :
"میرے نزدیک اسلام کا سب سے بہتر گروہ عام مسلمان ہیں ،یعنی مسلمان عوام. وہ اسلام سے متعلق بحیثیت دین اور فلسفہ کے بہت کم جانتے ہیں اور ان کی بہت سی چیزیں اسلام سے مطابقت نہیں رکھتیں، لیکن وہ ایک قابلِ شناخت اسلامی زندگی گزارتے ہیں ،جس کا سبب ان کا اسلام پر پختہ یقین ہے."
(میں نے اسلام کیوں قبول کیا)
ہم ذیل میں موجودہ اسلامی دنیا کی سیاسی، معاشی اور مذہبی اشرافیہ کا ایک سرسری تجزیہ پیش کریں گے. جس کے آئینہ میں آنے والے کل کی دھندلی سی تصویر نظر آ جائے تو زہے قسمت.
امت کی موجودہ سیاسی اشرافیہ کی بات کریں تو زمینی حقیقت یہ ہے کہ 54 ممالک کی اشرافیہ ایک ساتھ؛ الحاد کی دُھن پر سُودی معیشت کا چولا پہنے جمہوریت کا ننگا ناچ ناچ رہی ہے، چند ایک مقامات جمہوری بُت کی پرستش سے پاک بھی ہیں تو وہاں بادشاہت یا ڈکٹیٹر شپ کے صنم کی دھوم مچی ہوئی ہے. محمد بن سلمان جیسے یہودی نواز سے لے کر مشرف جیسے الحاد پرست تک، سارے کے سارے خنّاس موجودہ اسلامی برادری کی جھولی میں آئے ہیں یا سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیجیے کہ گلے پڑے ہیں. مشرق وسطیٰ کی سیاست کو ہی لے لیجیے؛ ایسا ل
✍️ مولانا پٹیل عبد الرحمن مصباحی (گجرات، ہند)
اشرافیہ سے کیا مراد ہے اس حوالے سے رائے مختلف ہو سکتی ہے، عام طور پر انگریزی میں اس کے لیے Elite کا لفظ استعمال ہوتا ہے. کبھی سادہ الفاظ میں Cream class بھی بولتے ہیں. ہمارے خیال میں اس کی آسان سی توجیہ یہ ہے کہ "اشرافیہ یعنی قوم کا بااختیار طبقہ، چاہے وہ مالی حیثیت سے بااختیار ہو، سیاسی حیثیت سے یا پھر مذہبی حیثیت سے." کسی بھی معاشرے کی سمت کا تعیّن اس کی اشرافیہ کے طریقۂ حیات سے ہوتا ہے، اشرافیہ یعنی قافلے کے آگے چلنے والا نمائندہ گروہ، یہ درست راہ پا کر ثابت قدم رہنے میں کامیاب ہو جائے تو قوم کا پورا قافلہ فلاح و نجات کی منزل سے خود بہ خود ہمکنار ہو جاتا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ نظام حیات کی تشکیل میں اس طبقے کا رول کلیدی ہوتا ہے، اس طبقے کے فیصلے تقریباً ساری قوم بلکہ پوری انسانیت پر اثر انداز ہوتے ہیں. لہٰذا اشرافیہ کی شرافت قوم کے لیے نیک فالی اور ان کی شرارت قوم کے لیے تباہی کے روپ میں ظاہر ہوتی ہے.
اقوام عالم کی جو مرضی تاریخ پڑھ لیجیے، کسی بھی دور میں کسی بھی بھی تہذیب کے ماننے والوں کے مقدّر میں تباہی و بربادی اس وقت تک نہیں لکھی گئی جب تک اشرافیہ غافل، بے کار، شرپسند اور ملت فروش نہیں ہو گئی. عوام کی بھیڑ چال قوموں کے عروج و زوال کا فیصلہ نہیں کرتی، بلکہ وہ تو جانے انجانے میں اشرافیہ کے قائم کردہ سسٹم کی پیروکار ہوتی ہے، قوموں کا مقدر تو اشرافیہ کے ذریعے عمل میں لایا جانے والا طرزِ حیات طے کرتا ہے. گویا قوم کا درخت اسی وقت ثمر بار ہو سکتا ہے جب اشرافیہ کی جڑیں تر و تازہ اور مستحکم ہوں، ورنہ اگر اشرافیہ ہی زنگ آلود ہو تو قوم کا وقت کے تقاضوں اور دشمن طاقتوں کے سامنے سرنگوں ہو جانا بدیہی امر ہے.
آئیے! ذرا تاریخ کے تہہ خانے میں جھانک کر اشرافیہ کا کلیدی کردار سمجھنے کی کوشش کریں. اِدھر مستعصم کے طبقہ اشرافیہ میں بدترین خیانت دار وزراء و امراء کا اثر انداز ہونا تھا کہ ادھر سے تاتاریوں کی قیامت نے بغداد کے دروازے پر دستک دی، اشرافیہ کی اس غفلت کے نتیجے میں تباہی و بربادی کا وہ خونی منظر سامنے آیا کہ سعدی نے آسمان کو خون کے آنسو رونے کا حق دے دیا. متحدہ ہند میں ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ کو شکست نہ ہوتی اگر اشرافیہ میں میر جعفر و میر صادق جیسے ملت فروش نہ پَنپتے. خلافت عثمانیہ اسی وقت تک محفوظ رہی جب تک سلطان محمد فاتح اور سلطان عبد الحمید جیسے لوگ اشرافیہ کی زینت بنے رہے، جیسے ہی تُرک اشرافیہ میں کمال پاشا جیسے مغرب زدہ لوگوں کا وجود ہوا، جنگ عظیم کی ہولناکیوں نے اس عظیم سلطنت کو آ لیا اور جشن فتح میں برطانیہ نے اسلامی خطۂ حکومت کو کیک کی طرح تقسیم کر کے پورے عالم اسلام پر اپنی تہذیب تھوپ دی. اس کے علاوہ رضا شاہ پہلوی سے لے کر ابن سبا تک اور ابو الکلام آزاد سے لے کر مروان تک؛ طبقۂ اشرافیہ کو شرمندہ کرنے والوں کی لمبی فہرست تاریخ کے نوٹس بورڈ پر دیکھی جا سکتی ہے، اگر کوئی تاریخ کا طالب علم اشرافیہ کے واسطے سے اقوامِ عالم کے عروج و زوال کی داستان مرتَّب کرنا چاہے تو یہ ایک مستقل تحقیقی عنوان ہے.
آج امت کی زبوں حالی کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ اشرافیہ کی غفلت، نادانی، عیاشی اور ملت فراموشی ہی ہے. جہاں تک متوسط و نادار طبقے کا تعلق ہے تو یہ بے چارے کسی طرح دو وقت کی روٹی کما کر باعزت زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حتیٰ الامکان اپنے معاملات کو اسلامی نہج پر ڈھالنے کا خیال بھی رکھتے ہیں. انہیں نہ تو بڑے بڑے مذہبی فلسفوں سے غرض ہے نہ دین کے مقابلے میں دولت کا گھمنڈ، نہ ہی سیاست کے نام پر دین و ملت کی سودا گری کا ڈھنگ. کیمبرج کے مایہ ناز فرزند ڈاکٹر ہارون لکھتے ہیں :
"میرے نزدیک اسلام کا سب سے بہتر گروہ عام مسلمان ہیں ،یعنی مسلمان عوام. وہ اسلام سے متعلق بحیثیت دین اور فلسفہ کے بہت کم جانتے ہیں اور ان کی بہت سی چیزیں اسلام سے مطابقت نہیں رکھتیں، لیکن وہ ایک قابلِ شناخت اسلامی زندگی گزارتے ہیں ،جس کا سبب ان کا اسلام پر پختہ یقین ہے."
(میں نے اسلام کیوں قبول کیا)
ہم ذیل میں موجودہ اسلامی دنیا کی سیاسی، معاشی اور مذہبی اشرافیہ کا ایک سرسری تجزیہ پیش کریں گے. جس کے آئینہ میں آنے والے کل کی دھندلی سی تصویر نظر آ جائے تو زہے قسمت.
امت کی موجودہ سیاسی اشرافیہ کی بات کریں تو زمینی حقیقت یہ ہے کہ 54 ممالک کی اشرافیہ ایک ساتھ؛ الحاد کی دُھن پر سُودی معیشت کا چولا پہنے جمہوریت کا ننگا ناچ ناچ رہی ہے، چند ایک مقامات جمہوری بُت کی پرستش سے پاک بھی ہیں تو وہاں بادشاہت یا ڈکٹیٹر شپ کے صنم کی دھوم مچی ہوئی ہے. محمد بن سلمان جیسے یہودی نواز سے لے کر مشرف جیسے الحاد پرست تک، سارے کے سارے خنّاس موجودہ اسلامی برادری کی جھولی میں آئے ہیں یا سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیجیے کہ گلے پڑے ہیں. مشرق وسطیٰ کی سیاست کو ہی لے لیجیے؛ ایسا ل
👍1
گتا ہے جیسے اسرائیل سے رشتہ جوڑنے کا مقابلہ ہو رہا ہے، ایک ابھی گھٹنے ٹیک کر کھڑا بھی نہیں ہوتا کہ دوسرا سجدہ ریز ہو جاتا ہے. مشرق وسطیٰ سے لے کر ایشیا تک کی اکثر مسلم اشرافیہ؛ سیاسی طور پر امریکی یا برطانوی سامراجیت کی پروردہ اور اسلام بیزار یا کم از کم پورٹیبل اسلام پر یقین رکھنے والی ہے. انڈیا میں مسلم سیاست کے نام پر بد ترین خائن افراد؛ ملت فروشی میں مصروف ہیں، ان کا لبادہ مختلف ہو سکتا ہے مثلاً کوئی صوفی کوئی جمیعتی؛ البتہ ذات پروری، مفاد پرستی اور ملت فراموشی میں سب برابر کے حصے دار ہیں. دین کے نام پر پاکستان بن تو گیا مگر اس تقسیم کی لاج صرف عوام نے رکھی ہے ورنہ وہاں کی نوّے فیصد سیاسی اشرافیہ مغرب کے وفادر اور نظام مصطفیٰ کے غدار افراد پر مشتمل ہے. مذکورہ معیار پر سعد حریری سے لے کر عبد الفتاح سیسی اور محمود مدنی سے لے کر غلام رسول بلیاوی تک؛ پورے عالم اسلام کی سیاسی اشرافیہ کا کردار پرکھا جا سکتا ہے. ان چند مثالوں کے بعد اختصار کے پیشِ نظر باقی اسلامی دنیا کی سیاسی اشرافیہ کا تجزیہ ہم قارئین کے ذمے چھوڑتے ہیں.
معاشی اشرافیہ یعنی کہ امت کے سرمایہ دار طبقے کا جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ سیاسی اشرافیہ کی طرح ان سرمایہ داروں کا بھی دین و ملت سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ ایک کلَب ڈانسر مغنّیہ کا مسجد سے ہوا کرتا ہے. مفلس انسان اپنی بھوک سے عاجز آ کر مجبوراً شراب پیتا ہے جب کہ سیٹھوں کی آوارہ اولاد پیٹ بھر جانے کے بعد تکلّفاََ شراب نوشی کرتی ہے. اپنے آپ کو حرمَین کا خادم کہنے والے فضول خرچی کی اُس سطح پر پہنچے ہوئے ہیں کہ شیطان بھی ان کی اخوّت پر عار محسوس کرتا ہوگا. عربوں کے یہاں سیّال سونا نکلتے ہی عیاشی نے ڈیرے ڈال دیے اور فکرِ امت نے رخت سفر باندھ لیا، اب یہ فکر جنوبی ایشیا کے متوسط و نادار طبقے کے ذہنوں میں تو بھٹکتی ہے مگر عرب کے دولت کدوں میں اسے پَیر رکھنے تک کی اجازت نہیں. کفر دوستی اور یہودیت نوازی نے معاشی اشرافیہ کی رہی سہی غیرت کا بھی جنازہ نکال دیا ہے، اب دُبئی میں امت کے مسائل کا حل کم اور جنسی خواہشات کی تکمیل زیادہ ہوتی ہے. عرب کے اکثر بڑے تاجروں کی دولت امت کے لیے سراب اور سوِیس بنک کے لیے سونے کے سیلاب کی مانند ہے. بر صغیر کی معاشی اشرافیہ میں بڑی تعداد ان کی ہے جو امت کی فکر تو دور کی بات ہے مذہب کے ابجد سے بھی واقف نہیں. دین سے واقف سرمایہ داروں کا حال یہ ہے کہ رسم و رواج اور نام و نمود کے لیے ثانوی درجے کے زائد امور میں حقیر سی رقم خرچ کر کے اپنے آپ کو حاتم طائی کا پرتو سمجھتے ہیں. ایسے میں اسلامی لٹریچر کے بڑے مراکز کی تعمیر، عظیم الشان مدارس کے ذریعے مغربی نظام تعلیم کا مقابلہ، سودی معیشت کے بالمقابل غیر سودی بنکوں کا قیام اور غیر مسلم دنیا تک حقیقی اسلامی تعلیمات پہنچانے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کی فراہمی کی امید؛ موجودہ معاشی اشرافیہ سے لگانا ایسے ہی ہے جیسے ڈونلڈ ٹرمپ سے فلسطین کی بازیافت کے لیے مدد مانگنا.
طبقہ اشرافیہ میں تیسرا بااثر گروہ مذہبی نمائندوں کا ہے. مذہبی اشرافیہ کا دائرہ چھوٹی سی مسجد کی امامت سے لے کر، عالیشان خانقاہ کی سجادگی تک اور مصر کی ازہری فضاؤں سے لے کر سعودی کی شاہی وزارتوں تک، پھیلا ہوا ہے. مذہبی اشرافیہ کی حالت بھی فی زمانہ کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے. موجودہ مذہبی اشرافیہ میں نیم ملّا محفل کی جان ہے، جاہل صوفی خانقاہ کی پہچان ہے، بڑے ادارے اپنے متعلقین کی کج فکری سے حیران و پریشان ہیں اور سعودی وزارتوں کے مالک بدکردار شہزادوں کے زیرِ فرمان ہیں. بر صغیر میں آدھی مولویت اس بات پر دست و گریباں ہے کہ آزاد، اجمل خان اور سر سید ہمارے مذہبی پیشوا ہیں یا امام احمد رضا، سید سلیمان اشرف بہاری اور محدث سورتی ہمارے مقتدا ہیں. جو مذہبی اشرافیہ سو سال میں ماضی کی قیادت کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے میں ناکام ہے اس سے مستقبل کے حوالے سے قوم کا لائحہ عمل طے کرنے کی امید رکھنا کھلی. آنکھوں کا خواب نہیں تو اور کیا ہے. عرب دنیا میں مذہبی اشرافیہ اتنی آگے نکل چکی ہے کہ آدھی مذہبی اشرافیہ کا حلیہ مغربی بود و باش کی عکاسی کرتا ہے. سعودی وزارتوں پر گامزن مذہبی اشرافیہ کے پاس "کلمۃ الحق عند سلطان جائر" کی توفیق تو پہلے ہی سے نہیں تھی مگر اب تو باقاعدہ شہزادوں کی خوش نودی کی خاطر "إنما الخمر والمیسر والازلام رجس من عمل الشیطان" جیسی قطعی نصوص کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے.
مذکورہ تفصیلات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ فی الحال جس طبقے میں وعظ و نصیحت سب سے زیادہ ضرورت اور اصلاحات کے نفاذ کی شدید حاجت ہے، وہ اشرافیہ کا طبقہ ہے. ایک طرف اشرافیہ کی فکری و اخلاقی پسماندگی کا یہ حال ہے اور دوسری طرف صاحبانِ منبر و محراب بلکہ امامِ مسجد کہے جانے پر منہ چڑھانے والے اصحابِ اسٹیج و کانفرنس اور اہلِ خانقاہ بھی، ہمہ وقت اپنی اصلاحی توپوں کا منہ متوسط و نادار طبقے کی طرف کیے ہوئے ہیں اور اشرافیہ کی مغرب زدگی سے بے
معاشی اشرافیہ یعنی کہ امت کے سرمایہ دار طبقے کا جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ سیاسی اشرافیہ کی طرح ان سرمایہ داروں کا بھی دین و ملت سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ ایک کلَب ڈانسر مغنّیہ کا مسجد سے ہوا کرتا ہے. مفلس انسان اپنی بھوک سے عاجز آ کر مجبوراً شراب پیتا ہے جب کہ سیٹھوں کی آوارہ اولاد پیٹ بھر جانے کے بعد تکلّفاََ شراب نوشی کرتی ہے. اپنے آپ کو حرمَین کا خادم کہنے والے فضول خرچی کی اُس سطح پر پہنچے ہوئے ہیں کہ شیطان بھی ان کی اخوّت پر عار محسوس کرتا ہوگا. عربوں کے یہاں سیّال سونا نکلتے ہی عیاشی نے ڈیرے ڈال دیے اور فکرِ امت نے رخت سفر باندھ لیا، اب یہ فکر جنوبی ایشیا کے متوسط و نادار طبقے کے ذہنوں میں تو بھٹکتی ہے مگر عرب کے دولت کدوں میں اسے پَیر رکھنے تک کی اجازت نہیں. کفر دوستی اور یہودیت نوازی نے معاشی اشرافیہ کی رہی سہی غیرت کا بھی جنازہ نکال دیا ہے، اب دُبئی میں امت کے مسائل کا حل کم اور جنسی خواہشات کی تکمیل زیادہ ہوتی ہے. عرب کے اکثر بڑے تاجروں کی دولت امت کے لیے سراب اور سوِیس بنک کے لیے سونے کے سیلاب کی مانند ہے. بر صغیر کی معاشی اشرافیہ میں بڑی تعداد ان کی ہے جو امت کی فکر تو دور کی بات ہے مذہب کے ابجد سے بھی واقف نہیں. دین سے واقف سرمایہ داروں کا حال یہ ہے کہ رسم و رواج اور نام و نمود کے لیے ثانوی درجے کے زائد امور میں حقیر سی رقم خرچ کر کے اپنے آپ کو حاتم طائی کا پرتو سمجھتے ہیں. ایسے میں اسلامی لٹریچر کے بڑے مراکز کی تعمیر، عظیم الشان مدارس کے ذریعے مغربی نظام تعلیم کا مقابلہ، سودی معیشت کے بالمقابل غیر سودی بنکوں کا قیام اور غیر مسلم دنیا تک حقیقی اسلامی تعلیمات پہنچانے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کی فراہمی کی امید؛ موجودہ معاشی اشرافیہ سے لگانا ایسے ہی ہے جیسے ڈونلڈ ٹرمپ سے فلسطین کی بازیافت کے لیے مدد مانگنا.
طبقہ اشرافیہ میں تیسرا بااثر گروہ مذہبی نمائندوں کا ہے. مذہبی اشرافیہ کا دائرہ چھوٹی سی مسجد کی امامت سے لے کر، عالیشان خانقاہ کی سجادگی تک اور مصر کی ازہری فضاؤں سے لے کر سعودی کی شاہی وزارتوں تک، پھیلا ہوا ہے. مذہبی اشرافیہ کی حالت بھی فی زمانہ کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے. موجودہ مذہبی اشرافیہ میں نیم ملّا محفل کی جان ہے، جاہل صوفی خانقاہ کی پہچان ہے، بڑے ادارے اپنے متعلقین کی کج فکری سے حیران و پریشان ہیں اور سعودی وزارتوں کے مالک بدکردار شہزادوں کے زیرِ فرمان ہیں. بر صغیر میں آدھی مولویت اس بات پر دست و گریباں ہے کہ آزاد، اجمل خان اور سر سید ہمارے مذہبی پیشوا ہیں یا امام احمد رضا، سید سلیمان اشرف بہاری اور محدث سورتی ہمارے مقتدا ہیں. جو مذہبی اشرافیہ سو سال میں ماضی کی قیادت کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے میں ناکام ہے اس سے مستقبل کے حوالے سے قوم کا لائحہ عمل طے کرنے کی امید رکھنا کھلی. آنکھوں کا خواب نہیں تو اور کیا ہے. عرب دنیا میں مذہبی اشرافیہ اتنی آگے نکل چکی ہے کہ آدھی مذہبی اشرافیہ کا حلیہ مغربی بود و باش کی عکاسی کرتا ہے. سعودی وزارتوں پر گامزن مذہبی اشرافیہ کے پاس "کلمۃ الحق عند سلطان جائر" کی توفیق تو پہلے ہی سے نہیں تھی مگر اب تو باقاعدہ شہزادوں کی خوش نودی کی خاطر "إنما الخمر والمیسر والازلام رجس من عمل الشیطان" جیسی قطعی نصوص کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے.
مذکورہ تفصیلات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ فی الحال جس طبقے میں وعظ و نصیحت سب سے زیادہ ضرورت اور اصلاحات کے نفاذ کی شدید حاجت ہے، وہ اشرافیہ کا طبقہ ہے. ایک طرف اشرافیہ کی فکری و اخلاقی پسماندگی کا یہ حال ہے اور دوسری طرف صاحبانِ منبر و محراب بلکہ امامِ مسجد کہے جانے پر منہ چڑھانے والے اصحابِ اسٹیج و کانفرنس اور اہلِ خانقاہ بھی، ہمہ وقت اپنی اصلاحی توپوں کا منہ متوسط و نادار طبقے کی طرف کیے ہوئے ہیں اور اشرافیہ کی مغرب زدگی سے بے
نیاز ہو کر؛ بے چاری عوام کو نظامِ عبادت سے قریب کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں. یعنی ساری اسلامی مراعات اشرافیہ کی جھولی میں ڈال دیجیے اور باقی ساری قوم کو اعمال صالحہ کی طرف دھکیل لائیے. بقول اقبال
مُریدِ سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب،
خدا کرے کہ مِلے شیخ کو بھی یہ توفیق.
اخیر میں اگر اس سنگین مسئلہ کے حل کی بات کریں تو ایسے حالات میں مجموعی طور پر آپ کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو اشرافیہ کی اصلاح کا بیڑا اٹھائیے یا اشرافیہ کو تبدیل کرنے والا انقلاب برپا کیجیے. عوامی کمزوریوں اور ان کے غیر شعوری رویّوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر سچ یہ ہے کہ جب اشرافیہ باشعور اور دور اندیش نہ ہو تو عوام کی بے داری اور شعور کا رونا رونا ایک فضول سی بات ہے. اگر آپ نے مسلم کہلانے والے پارلیمنٹ کے ممبر، علاقے کے سیاست دان، خانقاہ کے پیر، اسٹیج کے مولوی اور سماج کے سرمایہ دار کو مسلمان کر لیا تو قوم خود بخود مسلمان ہو جائے گی اور اسلام بے شک و شبہ غالب ہو جائے گا. شیخ عبد القادر جیلانی اور شیخ مجدد الف ثانی رحمھما اللہ کی اصلاحی تحریکوں کی کامیابی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان دونوں ہستیوں نے اپنے دور کی اشرافیہ کا بھرپور تعاقب کیا. اسلام بیزار حکمران ہوں، علمائے سوء ہوں یا صوفیائے خام، جو بھی بااثر اور بااختیار ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داریوں سے غافل تھے، اشرافیہ کے ان تمام گروہوں کو نہ صرف یہ کہ حق کا تعارف اور حقیقی اسلام کی پہچان کرائی؛ بلکہ ان کو امت کی خیر خواہی اور اس کی صلاح و فلاح کے لیے صحیح طریقے اپنانے اور درست اقدامات کرنے پر مجبور بھی کیا. آج کے حالات میں بھی اسلاف کا یہی کردار ہمارے لیے مشعل راہ اور حوصلے کا سبب ہے.
وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا.
(إسراء، 16)
A. R. Patel
19.03.1442
06.11.2020
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/803061930271378/
مُریدِ سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب،
خدا کرے کہ مِلے شیخ کو بھی یہ توفیق.
اخیر میں اگر اس سنگین مسئلہ کے حل کی بات کریں تو ایسے حالات میں مجموعی طور پر آپ کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو اشرافیہ کی اصلاح کا بیڑا اٹھائیے یا اشرافیہ کو تبدیل کرنے والا انقلاب برپا کیجیے. عوامی کمزوریوں اور ان کے غیر شعوری رویّوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر سچ یہ ہے کہ جب اشرافیہ باشعور اور دور اندیش نہ ہو تو عوام کی بے داری اور شعور کا رونا رونا ایک فضول سی بات ہے. اگر آپ نے مسلم کہلانے والے پارلیمنٹ کے ممبر، علاقے کے سیاست دان، خانقاہ کے پیر، اسٹیج کے مولوی اور سماج کے سرمایہ دار کو مسلمان کر لیا تو قوم خود بخود مسلمان ہو جائے گی اور اسلام بے شک و شبہ غالب ہو جائے گا. شیخ عبد القادر جیلانی اور شیخ مجدد الف ثانی رحمھما اللہ کی اصلاحی تحریکوں کی کامیابی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان دونوں ہستیوں نے اپنے دور کی اشرافیہ کا بھرپور تعاقب کیا. اسلام بیزار حکمران ہوں، علمائے سوء ہوں یا صوفیائے خام، جو بھی بااثر اور بااختیار ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داریوں سے غافل تھے، اشرافیہ کے ان تمام گروہوں کو نہ صرف یہ کہ حق کا تعارف اور حقیقی اسلام کی پہچان کرائی؛ بلکہ ان کو امت کی خیر خواہی اور اس کی صلاح و فلاح کے لیے صحیح طریقے اپنانے اور درست اقدامات کرنے پر مجبور بھی کیا. آج کے حالات میں بھی اسلاف کا یہی کردار ہمارے لیے مشعل راہ اور حوصلے کا سبب ہے.
وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا.
(إسراء، 16)
A. R. Patel
19.03.1442
06.11.2020
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/803061930271378/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رسول اللہ ﷺ کا نقشِ نعلِ پاک ہمارے سروں کا تاج ، آنکھوں کی راحت اور دلوں کا سکون ہے ؎
خدا تارِ رَگِ جاں کی اگر عزت بڑھا دیتا
شِراکِ نعلِ پاکِ سیّدِ لَولاک ہو جاتا
حَسنؔ اہلِ نظر عزت سے آنکھوں میں جگہ دیتے
اگر یہ مُشتِ خاک اُن کی گلی کی خاک ہو جاتا
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نقش نعل پر اللہ و رسول کا نامِ پاک لکھنے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔
نقشِ نعل شریف سینے سے لگانے کے لیے ہے ، چوم کر آنکھوں پر رکھنے کے لیے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ و رسول کا نام لکھنے کے لیے نہیں ۔
ہرچند کہ یہ مسئلہ علماے اہل سنت کے مابین مختلف فیہ ہے ، فریقین کے پاس دلائل ہیں ، اور فریقین اللہ سے ڈرنے والے ہیں ۔
لیکن دل جن کے دلائل کی طرف مائل ہے ، وہ مانعین ہیں ۔
رب تعالیٰ افراط و تفریط سے بچائے اور ہمیشہ مودب رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ؎
حَسنؔ سُنی ہے ، پھر اِفراط و تفریط اس سے کیوں کر ہو
اَدَب کے ساتھ رہتی ہے رَوِش اَربابِ سُنت کی
✍️لقمان شاہد
1-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3000976736849162&id=100008105947430
خدا تارِ رَگِ جاں کی اگر عزت بڑھا دیتا
شِراکِ نعلِ پاکِ سیّدِ لَولاک ہو جاتا
حَسنؔ اہلِ نظر عزت سے آنکھوں میں جگہ دیتے
اگر یہ مُشتِ خاک اُن کی گلی کی خاک ہو جاتا
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نقش نعل پر اللہ و رسول کا نامِ پاک لکھنے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔
نقشِ نعل شریف سینے سے لگانے کے لیے ہے ، چوم کر آنکھوں پر رکھنے کے لیے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ و رسول کا نام لکھنے کے لیے نہیں ۔
ہرچند کہ یہ مسئلہ علماے اہل سنت کے مابین مختلف فیہ ہے ، فریقین کے پاس دلائل ہیں ، اور فریقین اللہ سے ڈرنے والے ہیں ۔
لیکن دل جن کے دلائل کی طرف مائل ہے ، وہ مانعین ہیں ۔
رب تعالیٰ افراط و تفریط سے بچائے اور ہمیشہ مودب رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ؎
حَسنؔ سُنی ہے ، پھر اِفراط و تفریط اس سے کیوں کر ہو
اَدَب کے ساتھ رہتی ہے رَوِش اَربابِ سُنت کی
✍️لقمان شاہد
1-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3000976736849162&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کافروں نے رسولِ پاک کی بے ادبی کرنے کا یہ طریقہ نکالا کہ نامِ پاک محمد لینے کے بجائے ، آپ کو مُذَمَّمْ کَہ کر اول فول بکنے لگے ۔
حضور کو معلوم ہوا تو آپ نے صحابہ سے فرمایا:
کیا تم تعجب نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ( کُفَّارِ ) قریش کے لعن طعن کو مجھ سے پھیر دیا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ مذمم پر لعن طعن کرتے ہیں ، جب کہ میں تو محمد ہوں ۔ ﷺ ﷺ ﷺ
( بخاری شریف ، ر3533 )
خاکے بنانے والے ، خاک ہوجائیں گے لیکن ہمارے آقا محمد پاک ﷺ کا خاکہ کبھی نہیں بنا پائیں گے ۔
کفار قریش کی طرح اللہ پاک نے ان کا طعن انھی کی طرف پھیر دیا ہے ، یہ دنیا و آخرت میں رسوا رہیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
2-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3002492680030901&id=100008105947430
حضور کو معلوم ہوا تو آپ نے صحابہ سے فرمایا:
کیا تم تعجب نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ( کُفَّارِ ) قریش کے لعن طعن کو مجھ سے پھیر دیا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ مذمم پر لعن طعن کرتے ہیں ، جب کہ میں تو محمد ہوں ۔ ﷺ ﷺ ﷺ
( بخاری شریف ، ر3533 )
خاکے بنانے والے ، خاک ہوجائیں گے لیکن ہمارے آقا محمد پاک ﷺ کا خاکہ کبھی نہیں بنا پائیں گے ۔
کفار قریش کی طرح اللہ پاک نے ان کا طعن انھی کی طرف پھیر دیا ہے ، یہ دنیا و آخرت میں رسوا رہیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
2-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3002492680030901&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کچھ دن پہلےایک خستہ حال اور پُر ملال شخص ملا ، جو بڑی شدت سے رو رہاتھا ۔
سبب پوچھا تو کہنے لگا:
میں ایک عورت سے محبت کرتا تھا اور وہ مجھ سے ۔
ہماری محبت ایسی تھی کہ جب اُس کے گھر والوں کوپتا چلا تو انھوں نے اسے مارا پیٹا ، اور ڈرا دھمکا کر کسی اور جگہ نکاح بھی کردیا ، لیکن اس نے مجھے نہیں چھوڑا ، اور نہ میں نے اسے ۔
میں افغانستان رہتا تھا اور وہ پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے رخصتی سے پہلے ہی طلاق لےکر مجھے میسج کیا کہ:
پاکستان آجاؤ ، میں تم سے ہی نکاح کروں گی ، تمھاری خاطر سب کو چھوڑ دوں گی ۔
جس دن اس نے میسج کیا ، اس دن میرے سگے بھائی کی بارات تھی ، میں اس کی شادی چھوڑ کر ، ماں باپ کو بتائے بغیر پاکستان چلا آیا ۔
پھر ہم نے کچھ دنوں بعد کوٹ میرج کرلیا ، اور میں اسی کا ہوکے رہ گیا ۔
میرا بہنوئی فوت ہوا ، بھتیجی فوت ہوئی ، تایا جان فوت ہو ئے ، میرے والدین ، بہن بھائی مجھے فون کرتے رہے مگر میں اسے تنہا چھوڑ کر واپس افغانستان نہیں گیا ۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب وہ مجھے چھوڑ کر کسی اور کے پاس چلی گئی ہے اور اس نے مجھے فون کر کے کہا ہے:
واپس افغانستان چلے جاؤ ، اب دوبارہ میں تمھارے پاس نہیں آؤں گی ۔
مجھے پتا چلا ہے کہ کسی لڑکے کے ساتھ ایک ماہ تکاس کی بات ہوئی ہے اور وہ اسی کی ہوکے رہ گئی ہے ۔
مجھے اب نہ نیند آتی ہے ، نہ آرام ؛ نہ بھوک لگتی ہے ، نہ پیاس ؛ میں اُسے یاد کر کے بس روتا رہتا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌸 بعض عورتیں بہت باوفا ہوتیہیں ، مرتے دم تک رشتے نبھاتی ہیں ، لیکن بعض عورتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ توبہ توبہ!!
غلام علی آزاد بلگرامی نے کہا تھا ؎
زن بود در زبان ہندی نار
وقنا ربنا عذاب النار
( ہندی زبان میں عورت کو ” نار “ کہتے ہیں ۔
اے ہمارے رب ! ہمیں عذابِ نار سے بچالے )
عورت کو سمجھتے سمجھتے زمانہ گزر جاتا ہے لیکن مرد اسے کماحقہ سمجھ نہیں پاتا ۔
میاں محمد بخش رحمہ اللہ کہتے تھے ؎
¹ راتیں اَوہ ، دِنے اِیہہ کارن ویکھو مکر زَناں دے
مایاں ، دایاں ، سَنگ سَیّاں نوں دین نہ بھیت مَناں دے
( عورتوں کے مکر تو دیکھو ، یہ رات کو کچھ ، اور دن کو کچھ ہوتی ہیں ۔
یہ اپنے دل کا راز نہ ماں کو بتاتی ہیں ، نہ دائی کو ، نہ کسی قریبی سہیلی کو )
² رَنّاں چَنچل ہار ، ہمیشہ چَنچل کَم کَریہن
دِینہں ڈَرن پچھاویں کَولوں ، راتیں نَدی تَریہن
( عورتیں بڑی چالاک ہوتی ہیں ، ہمیشہ چالاکی والے کام کرتی ہیں ۔
ان کی چالاکی دیکھو کہ دن کے اجالے میں سائے سے ڈریں گی ، اور رات کے اندھیرے میں دریا پار کرکے محبوب کو ملنے چلی جائیں گی )
³ وِچ قرآن کہے رب سچا ، مکر زناں دے بھارے
گِن گِن کے لِکھ دَسے ناہیں ، میں بھی ڈردے مارے
( قران پاک میں اللہ ﷻ نے عورتوں کے مکروں کو " عظیم " کہا ہے ۔ ( اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْم )
اسی لیے میں نے ان کے مکر نہیں گِنوائے ۔
میں تو ڈر گیا کہجنھیں رب تعالیٰ عظیم کہے وہ کیسے احاطۂ تحریر میں آسکیں گے )
🌸 عورت کو پیار محبت دیں ، اس کے ساتھ خلوص سے پیش آئیں ، اس کا ہر طرح سے خیال رکھیں ؛ لیکن اپنیعقل کو ہمیشہ قابو میں رکھیں ، لٹو نہ ہوجائیں ۔
🌸 جو عورت آج آپ کے لیے اپنے ماں باپ کو دھوکا دے رہی ہے ، وہ کل کو کسی اور کے لیے آپ کو بھی دھوکا دے سکتی ہے ۔
🌸 نکاح کے لیے ایسی عورت کا انتخاب کریں جو اپنے والدین کی فرماں بردار ہو اور ان کیاجازت کے بغیر باہر نہ نکلتیہو ، اللہ نے چاہا تو ایسی خاتون ہمیشہ آپ کیبھی فرماں بردار رہے گی ، اور دکھ سکھ میں ساتھ نبھائے گی ۔
✍️لقمان شاہد
3-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3003013419978827&id=100008105947430
سبب پوچھا تو کہنے لگا:
میں ایک عورت سے محبت کرتا تھا اور وہ مجھ سے ۔
ہماری محبت ایسی تھی کہ جب اُس کے گھر والوں کوپتا چلا تو انھوں نے اسے مارا پیٹا ، اور ڈرا دھمکا کر کسی اور جگہ نکاح بھی کردیا ، لیکن اس نے مجھے نہیں چھوڑا ، اور نہ میں نے اسے ۔
میں افغانستان رہتا تھا اور وہ پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے رخصتی سے پہلے ہی طلاق لےکر مجھے میسج کیا کہ:
پاکستان آجاؤ ، میں تم سے ہی نکاح کروں گی ، تمھاری خاطر سب کو چھوڑ دوں گی ۔
جس دن اس نے میسج کیا ، اس دن میرے سگے بھائی کی بارات تھی ، میں اس کی شادی چھوڑ کر ، ماں باپ کو بتائے بغیر پاکستان چلا آیا ۔
پھر ہم نے کچھ دنوں بعد کوٹ میرج کرلیا ، اور میں اسی کا ہوکے رہ گیا ۔
میرا بہنوئی فوت ہوا ، بھتیجی فوت ہوئی ، تایا جان فوت ہو ئے ، میرے والدین ، بہن بھائی مجھے فون کرتے رہے مگر میں اسے تنہا چھوڑ کر واپس افغانستان نہیں گیا ۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب وہ مجھے چھوڑ کر کسی اور کے پاس چلی گئی ہے اور اس نے مجھے فون کر کے کہا ہے:
واپس افغانستان چلے جاؤ ، اب دوبارہ میں تمھارے پاس نہیں آؤں گی ۔
مجھے پتا چلا ہے کہ کسی لڑکے کے ساتھ ایک ماہ تکاس کی بات ہوئی ہے اور وہ اسی کی ہوکے رہ گئی ہے ۔
مجھے اب نہ نیند آتی ہے ، نہ آرام ؛ نہ بھوک لگتی ہے ، نہ پیاس ؛ میں اُسے یاد کر کے بس روتا رہتا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌸 بعض عورتیں بہت باوفا ہوتیہیں ، مرتے دم تک رشتے نبھاتی ہیں ، لیکن بعض عورتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ توبہ توبہ!!
غلام علی آزاد بلگرامی نے کہا تھا ؎
زن بود در زبان ہندی نار
وقنا ربنا عذاب النار
( ہندی زبان میں عورت کو ” نار “ کہتے ہیں ۔
اے ہمارے رب ! ہمیں عذابِ نار سے بچالے )
عورت کو سمجھتے سمجھتے زمانہ گزر جاتا ہے لیکن مرد اسے کماحقہ سمجھ نہیں پاتا ۔
میاں محمد بخش رحمہ اللہ کہتے تھے ؎
¹ راتیں اَوہ ، دِنے اِیہہ کارن ویکھو مکر زَناں دے
مایاں ، دایاں ، سَنگ سَیّاں نوں دین نہ بھیت مَناں دے
( عورتوں کے مکر تو دیکھو ، یہ رات کو کچھ ، اور دن کو کچھ ہوتی ہیں ۔
یہ اپنے دل کا راز نہ ماں کو بتاتی ہیں ، نہ دائی کو ، نہ کسی قریبی سہیلی کو )
² رَنّاں چَنچل ہار ، ہمیشہ چَنچل کَم کَریہن
دِینہں ڈَرن پچھاویں کَولوں ، راتیں نَدی تَریہن
( عورتیں بڑی چالاک ہوتی ہیں ، ہمیشہ چالاکی والے کام کرتی ہیں ۔
ان کی چالاکی دیکھو کہ دن کے اجالے میں سائے سے ڈریں گی ، اور رات کے اندھیرے میں دریا پار کرکے محبوب کو ملنے چلی جائیں گی )
³ وِچ قرآن کہے رب سچا ، مکر زناں دے بھارے
گِن گِن کے لِکھ دَسے ناہیں ، میں بھی ڈردے مارے
( قران پاک میں اللہ ﷻ نے عورتوں کے مکروں کو " عظیم " کہا ہے ۔ ( اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْم )
اسی لیے میں نے ان کے مکر نہیں گِنوائے ۔
میں تو ڈر گیا کہجنھیں رب تعالیٰ عظیم کہے وہ کیسے احاطۂ تحریر میں آسکیں گے )
🌸 عورت کو پیار محبت دیں ، اس کے ساتھ خلوص سے پیش آئیں ، اس کا ہر طرح سے خیال رکھیں ؛ لیکن اپنیعقل کو ہمیشہ قابو میں رکھیں ، لٹو نہ ہوجائیں ۔
🌸 جو عورت آج آپ کے لیے اپنے ماں باپ کو دھوکا دے رہی ہے ، وہ کل کو کسی اور کے لیے آپ کو بھی دھوکا دے سکتی ہے ۔
🌸 نکاح کے لیے ایسی عورت کا انتخاب کریں جو اپنے والدین کی فرماں بردار ہو اور ان کیاجازت کے بغیر باہر نہ نکلتیہو ، اللہ نے چاہا تو ایسی خاتون ہمیشہ آپ کیبھی فرماں بردار رہے گی ، اور دکھ سکھ میں ساتھ نبھائے گی ۔
✍️لقمان شاہد
3-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3003013419978827&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
غزوہ حنین کے موقع پر ایک شخص کا پاؤں ، رسول اللہ کے پاؤں مبارک پر آگیا ۔
اُس نے بھاری تلے والا جوتا پہن رکھا تھا جس سے پیر مبارک کو بہت تکلیف پہنچی ۔
حضور کے ہاتھ میں اس وقت کوڑا تھا ، آپ نے اسے کوڑا مار کر کہا:
بسم اللہ ، تو نے مجھے تکلیف دی ۔
اس شخص کو بہت دکھ ہوا ، اور ساری رات اپنے آپ کو ملامت کرتا رہا ( کہ میں نے بے احتیاطی میں رسول اللہ ﷺ کو کیوں اذیت دے دی ) ۔
صبح کے وقت حضور نے اسے بلوایا اور کہا:
کل تُو نے میرا پیر کچلا تھا ، جس سے مجھے تکلیف ہوئی ، اور میں نے تجھے کوڑا مارا ؛ یہ لو اُس کوڑے کے بدلے 80 اونٹ ۔ ( اور خوش ہوجاؤ )
( ملخصاً: سنن الدارمی ، ج 1 ، ص 36 ، ر 72 ، ط دارالحدیث القاھرہ ، س 1420 ھ )
میں قربان! محبوب کریم ﷺ کی کتنی پیاری طبیعت تھی ۔
🌸 اگر آپ بڑے ہیں تو آپ کا ظرف بھی بڑا ہونا چاہیے ۔
بڑا وہ نہیں ہوتا جو بات بات پر چھوٹوں کو جھڑک دے ، بڑا وہ ہوتا ہے جو چھوٹوں کی لغزشیں معاف کردے اور ان کی دل جوئی کرتا رہے ۔
🌸 معذرت ہمیشہ غلطی پر ہی نہیں کی جاتی ، کبھی غلطی دوسرے کی ہو تب بھی ہمیں معذرت کرلینی چاہیے ؛ اس سے ہمارا مرتبہ کم نہیں ہو گا بلکہ سامنے والے کے دل میں ہمارا مقام و مرتبہ بڑھ جائے گا ۔
🌸 دل جیتنے کے لیے زبانی جمع خرچ سے ہی کام نہیں لینا چاہیے ، حسبِ توفیق تحفہ بھی پیش کرنا چاہیے ۔
اور تحفہ دے کر اسے اپنا بہت بڑا کارنامہ بھی نہیں سمجھنا چاہیے ۔
حبیب پاک ﷺ نے اَسی اونٹوں کا تحفہ عطا فرمایا تھا ، اگر ایک اونٹ کی قیمت دو لاکھ بھی ہو تو یہ تحفہ ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ مالیت کا بنتا ہے ۔
جب اس پیارے ﷺ نے اتنا بڑا تحفہ دے کر نہیں جتلایا تو ہم چھوٹے چھوٹے تحفے دے کر کیوں جتلائیں !!
کسی کو دے دیا تو بس دے دیا ، کسی پر احسان کر دیا ، توکردیا ؛ اسے یاد رکھنے کا کیا فائدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ !
وہ خلوصِ نیت سے ہوا تو بغیر یاد رکھنے کے بھی بارگاہِ الہی میں شرفِ قبولیت پالے گا ۔
✍️لقمان شاہد
5-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3004884616458374&id=100008105947430
اُس نے بھاری تلے والا جوتا پہن رکھا تھا جس سے پیر مبارک کو بہت تکلیف پہنچی ۔
حضور کے ہاتھ میں اس وقت کوڑا تھا ، آپ نے اسے کوڑا مار کر کہا:
بسم اللہ ، تو نے مجھے تکلیف دی ۔
اس شخص کو بہت دکھ ہوا ، اور ساری رات اپنے آپ کو ملامت کرتا رہا ( کہ میں نے بے احتیاطی میں رسول اللہ ﷺ کو کیوں اذیت دے دی ) ۔
صبح کے وقت حضور نے اسے بلوایا اور کہا:
کل تُو نے میرا پیر کچلا تھا ، جس سے مجھے تکلیف ہوئی ، اور میں نے تجھے کوڑا مارا ؛ یہ لو اُس کوڑے کے بدلے 80 اونٹ ۔ ( اور خوش ہوجاؤ )
( ملخصاً: سنن الدارمی ، ج 1 ، ص 36 ، ر 72 ، ط دارالحدیث القاھرہ ، س 1420 ھ )
میں قربان! محبوب کریم ﷺ کی کتنی پیاری طبیعت تھی ۔
🌸 اگر آپ بڑے ہیں تو آپ کا ظرف بھی بڑا ہونا چاہیے ۔
بڑا وہ نہیں ہوتا جو بات بات پر چھوٹوں کو جھڑک دے ، بڑا وہ ہوتا ہے جو چھوٹوں کی لغزشیں معاف کردے اور ان کی دل جوئی کرتا رہے ۔
🌸 معذرت ہمیشہ غلطی پر ہی نہیں کی جاتی ، کبھی غلطی دوسرے کی ہو تب بھی ہمیں معذرت کرلینی چاہیے ؛ اس سے ہمارا مرتبہ کم نہیں ہو گا بلکہ سامنے والے کے دل میں ہمارا مقام و مرتبہ بڑھ جائے گا ۔
🌸 دل جیتنے کے لیے زبانی جمع خرچ سے ہی کام نہیں لینا چاہیے ، حسبِ توفیق تحفہ بھی پیش کرنا چاہیے ۔
اور تحفہ دے کر اسے اپنا بہت بڑا کارنامہ بھی نہیں سمجھنا چاہیے ۔
حبیب پاک ﷺ نے اَسی اونٹوں کا تحفہ عطا فرمایا تھا ، اگر ایک اونٹ کی قیمت دو لاکھ بھی ہو تو یہ تحفہ ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ مالیت کا بنتا ہے ۔
جب اس پیارے ﷺ نے اتنا بڑا تحفہ دے کر نہیں جتلایا تو ہم چھوٹے چھوٹے تحفے دے کر کیوں جتلائیں !!
کسی کو دے دیا تو بس دے دیا ، کسی پر احسان کر دیا ، توکردیا ؛ اسے یاد رکھنے کا کیا فائدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ !
وہ خلوصِ نیت سے ہوا تو بغیر یاد رکھنے کے بھی بارگاہِ الہی میں شرفِ قبولیت پالے گا ۔
✍️لقمان شاہد
5-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3004884616458374&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#اظہار_رائے_کی_آزادی_یا_تہذیبی_تصادم؟
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش پر ایک اسکول ٹیچر کے قتل پر پوری دنیا میں آزادی اظہار رائے (Freedom of expression) کا شور برپا ہے۔اس حادثہ کے بعد امریکہ تا انڈیا مقتول ٹیچر سے ہمدردی جتائی گئی۔آزادی رائے نہ ماننے کے لیے پوری مسلم قوم کو قصوروار قرار دیا جارہا ہے اور اسلام پر دہشت گردی کا الزام لگایا جارہا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ دنیا میں آزادی رائے کی اجازت تھی نہ روایت!
پیغمبر اسلام نے سب سے پہلے آزادی اظہار رائے کا تصور پیش کیا۔آپ ﷺ نے فاران کی چوٹی سے اعلان نبوت کرتے ہوئے اپنے بارے میں اہل مکہ سے رائے طلب کی تھی۔اس سے پہلے ہر شخص کو آزادی رائے کا حق حاصل نہ تھا۔لیکن حضور ﷺ نے عملی طور پر ہر شخص کو آزادی رائے کا حق دیا۔صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار مکہ کے سفیر سہیل بن عمرو کے اعتراض پر "محمد رسول اللّه" کی جگہ "محمد بن عبد اللہ" لکھوانا،جنگ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسی کی رائے کو ترجیح دینا آزادی رائے کا ہی بیانیہ ہے جس میں ہر شخص کو آزادی رائے کا مکمل حق دیا گیا ہے۔
موجودہ جمہوریت میں بھی آزادی اظہار رائے کو اہم قرار دیا گیا ہے۔تاکہ انسان کی شخصی آزادی برقرار رہے اور بغیر کسی ڈر خوف کے انسان اپنی رائے ظاہر کر سکے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد 10 دسمبر 1948 کو یونیورسل ڈکلیریشن میں آزادی رائے کو انسانی حقوق کا لازمی حصہ قرار دیا گیا۔تیس نکاتی منشور کی تمہید میں یہ مقاصد بیان کیے گیے ہیں:
🔹چونکہ ہر انسان کی ذاتی عزت اور حرمت اور انسانوں کے مساوی اور ناقابل انتقال حقوق کو تسلیم کرنا دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔
🔹عام انسانوں کی بلند ترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں۔"
اسی منشور کی بنا پر مغربی دنیا سے ہمارے وطن تک میں دستوری طور پر آزادی اظہار رائے (freedom of expression) کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔لیکن آزادی رائے کی ایک حد بھی مقرر کی گئی ہے۔انگلینڈ میں آزادی رائے کو اہمیت حاصل ہے لیکن اس کی آڑ میں آپ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی توہین نہیں کر سکتے۔اگر کسی نے freedom of expression کے نام پر حضرت عیسٰی علیہ السلام پر تنقید کی تو Blasphemy act کے مطابق عمر قید تک سزا ہوسکتی ہے۔دستور ہند میں دفعہ 19 کے تحت آزادی رائے کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن اس پر کچھ امور میں پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں:
(الف) ہتک عزت۔(ب) توہین عدالت۔(ج) اخلاقیات۔(د) صوبے کی حفاظت۔(ہ) پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات۔(و) بھارت کی سالمیت اور سلامتی۔ جیسے امور میں کوئی بھی شخص ایک حد تک ہی رائے زنی کر سکتا ہے بصورت دیگر اس پر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔انسانی حقوق کا عالمی منشور ایک خوش نما اعلان سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔عملاً طاقتور ممالک کے حقوق ہی تسلیم کیے جاتے ہیں کمزور ممالک کی ہمیشہ حق تلفی ہوتی ہے۔جبکہ اسلام میں آزادی رائے کا جتنا حق صاحب ایمان کو ہے اتنا ہی غیر مسلم کو بھی دیا گیا ہے۔
خاکے کیوں بنائے جاتے ہیں؟
خاکہ(Cartoon) بنانا تصویری فن کی ایک شکل ہے۔جس میں عموماً غیر حقیقی یا نیم حقیقی تصویریں اور نقاشیاں کی جاتی ہیں۔کارٹون کا مقصد مزاح پیدا کرنا،ہلکے پھلکے انداز میں کوئی بات کہنا، کسی پر طنز کرنا یا شکل وصورت بگاڑ کر کردار کشی کرنا ہوتا ہے۔
اسلام میں تصویر سازی کی سخت ممانعت ہے۔اسی لیے پیغمبر اسلام ﷺ اور دیگر مقتدر شخصیات کی کوئی بھی تصویر موجود نہیں ہے۔صحابہ کرام نے حضور پاک ﷺ کے حسن وجمال اور آپ کی شخصیت کے ہر ہر گوشے کو بہ کمال بیان کردیا ہے۔اس کے باوجود کسی دور میں بھی حضور کی تصویر سازی کی جرأت نہیں کی گئی۔اس لیے مسلمان اپنے پیغمبر کی مفروضہ تصویر بناتے ہیں نہ پسند کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام کی ذات یا سیرت کے کسی پہلو سے مطمئن نہیں ہے تو وہ علماے اسلام سے اپنا اعتراض پیش کرے، ہر ممکن طریقے پر اعتراضات کا شافی جواب دیا جائے گا اور دیا جاتا رہا ہے۔انتہا پسند افراد Scholarly discussion کی بجائے جہالت وبدتمیزی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی بگڑیل طبیعت کی تصویر وکارٹون بناتے ہیں اور مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے اس کارٹون کو پیغمبر اسلام کا نام دے کر فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں۔مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہ کارٹون اور تصاویر ہرگز ہرگز نبی اکرم ﷺ کی نہیں ہے۔آپ ﷺ کے جانی دشمن بھی سرکار کی شکل وصورت میں عیب نہیں نکال سکے تو چودہ سو سال کے بعد عیب جوئی کی شرم ناک حرکت کو اخلاقی رذالت اور اسلام دشمنی کی بدترین مثال ہی کہا جاسکتا ہے۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔توہین کا ہلکا سا پہلو بھی غیرت ایمانی کے خلاف جانتے ہیں۔یہاں یہ پہلو بھی نگاہ میں رہے کہ مسلمان یہود و نصاریٰ کے پیغمبروں کی عزت و حرمت کا بھی اپ
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش پر ایک اسکول ٹیچر کے قتل پر پوری دنیا میں آزادی اظہار رائے (Freedom of expression) کا شور برپا ہے۔اس حادثہ کے بعد امریکہ تا انڈیا مقتول ٹیچر سے ہمدردی جتائی گئی۔آزادی رائے نہ ماننے کے لیے پوری مسلم قوم کو قصوروار قرار دیا جارہا ہے اور اسلام پر دہشت گردی کا الزام لگایا جارہا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ دنیا میں آزادی رائے کی اجازت تھی نہ روایت!
پیغمبر اسلام نے سب سے پہلے آزادی اظہار رائے کا تصور پیش کیا۔آپ ﷺ نے فاران کی چوٹی سے اعلان نبوت کرتے ہوئے اپنے بارے میں اہل مکہ سے رائے طلب کی تھی۔اس سے پہلے ہر شخص کو آزادی رائے کا حق حاصل نہ تھا۔لیکن حضور ﷺ نے عملی طور پر ہر شخص کو آزادی رائے کا حق دیا۔صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار مکہ کے سفیر سہیل بن عمرو کے اعتراض پر "محمد رسول اللّه" کی جگہ "محمد بن عبد اللہ" لکھوانا،جنگ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسی کی رائے کو ترجیح دینا آزادی رائے کا ہی بیانیہ ہے جس میں ہر شخص کو آزادی رائے کا مکمل حق دیا گیا ہے۔
موجودہ جمہوریت میں بھی آزادی اظہار رائے کو اہم قرار دیا گیا ہے۔تاکہ انسان کی شخصی آزادی برقرار رہے اور بغیر کسی ڈر خوف کے انسان اپنی رائے ظاہر کر سکے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد 10 دسمبر 1948 کو یونیورسل ڈکلیریشن میں آزادی رائے کو انسانی حقوق کا لازمی حصہ قرار دیا گیا۔تیس نکاتی منشور کی تمہید میں یہ مقاصد بیان کیے گیے ہیں:
🔹چونکہ ہر انسان کی ذاتی عزت اور حرمت اور انسانوں کے مساوی اور ناقابل انتقال حقوق کو تسلیم کرنا دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔
🔹عام انسانوں کی بلند ترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں۔"
اسی منشور کی بنا پر مغربی دنیا سے ہمارے وطن تک میں دستوری طور پر آزادی اظہار رائے (freedom of expression) کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔لیکن آزادی رائے کی ایک حد بھی مقرر کی گئی ہے۔انگلینڈ میں آزادی رائے کو اہمیت حاصل ہے لیکن اس کی آڑ میں آپ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی توہین نہیں کر سکتے۔اگر کسی نے freedom of expression کے نام پر حضرت عیسٰی علیہ السلام پر تنقید کی تو Blasphemy act کے مطابق عمر قید تک سزا ہوسکتی ہے۔دستور ہند میں دفعہ 19 کے تحت آزادی رائے کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن اس پر کچھ امور میں پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں:
(الف) ہتک عزت۔(ب) توہین عدالت۔(ج) اخلاقیات۔(د) صوبے کی حفاظت۔(ہ) پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات۔(و) بھارت کی سالمیت اور سلامتی۔ جیسے امور میں کوئی بھی شخص ایک حد تک ہی رائے زنی کر سکتا ہے بصورت دیگر اس پر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔انسانی حقوق کا عالمی منشور ایک خوش نما اعلان سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔عملاً طاقتور ممالک کے حقوق ہی تسلیم کیے جاتے ہیں کمزور ممالک کی ہمیشہ حق تلفی ہوتی ہے۔جبکہ اسلام میں آزادی رائے کا جتنا حق صاحب ایمان کو ہے اتنا ہی غیر مسلم کو بھی دیا گیا ہے۔
خاکے کیوں بنائے جاتے ہیں؟
خاکہ(Cartoon) بنانا تصویری فن کی ایک شکل ہے۔جس میں عموماً غیر حقیقی یا نیم حقیقی تصویریں اور نقاشیاں کی جاتی ہیں۔کارٹون کا مقصد مزاح پیدا کرنا،ہلکے پھلکے انداز میں کوئی بات کہنا، کسی پر طنز کرنا یا شکل وصورت بگاڑ کر کردار کشی کرنا ہوتا ہے۔
اسلام میں تصویر سازی کی سخت ممانعت ہے۔اسی لیے پیغمبر اسلام ﷺ اور دیگر مقتدر شخصیات کی کوئی بھی تصویر موجود نہیں ہے۔صحابہ کرام نے حضور پاک ﷺ کے حسن وجمال اور آپ کی شخصیت کے ہر ہر گوشے کو بہ کمال بیان کردیا ہے۔اس کے باوجود کسی دور میں بھی حضور کی تصویر سازی کی جرأت نہیں کی گئی۔اس لیے مسلمان اپنے پیغمبر کی مفروضہ تصویر بناتے ہیں نہ پسند کرتے ہیں۔اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام کی ذات یا سیرت کے کسی پہلو سے مطمئن نہیں ہے تو وہ علماے اسلام سے اپنا اعتراض پیش کرے، ہر ممکن طریقے پر اعتراضات کا شافی جواب دیا جائے گا اور دیا جاتا رہا ہے۔انتہا پسند افراد Scholarly discussion کی بجائے جہالت وبدتمیزی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی بگڑیل طبیعت کی تصویر وکارٹون بناتے ہیں اور مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے اس کارٹون کو پیغمبر اسلام کا نام دے کر فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں۔مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہ کارٹون اور تصاویر ہرگز ہرگز نبی اکرم ﷺ کی نہیں ہے۔آپ ﷺ کے جانی دشمن بھی سرکار کی شکل وصورت میں عیب نہیں نکال سکے تو چودہ سو سال کے بعد عیب جوئی کی شرم ناک حرکت کو اخلاقی رذالت اور اسلام دشمنی کی بدترین مثال ہی کہا جاسکتا ہے۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔توہین کا ہلکا سا پہلو بھی غیرت ایمانی کے خلاف جانتے ہیں۔یہاں یہ پہلو بھی نگاہ میں رہے کہ مسلمان یہود و نصاریٰ کے پیغمبروں کی عزت و حرمت کا بھی اپ
نے پیغمبر جتنا ہی خیال رکھتے ہیں۔حتی کہ کفار و مشرکین کے معبودوں کو بھی برا بھلا نہیں کہتے کیوں کہ قرآن نے ایسا کہنے سے سخت منع فرمایا ہے:
وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ
(سورہ انعام:108)
"اور انہیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے۔"
لیکن یہود و نصاریٰ اور کفار ومشرکین لگاتار حضور ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں۔
ردّ عمل کے طور پر مسلمان سخت رویہ اپنالیں تو فوراً معصوم بن کر مسلمانوں کو شدت پسند ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اور اپنی بدتمیزی کو آزادی رائے کا حق کہہ کر دفاع کرتے ہیں۔
ایک طرف مخالفین مسلمانوں پر عدم برداشت (Intolerance) کا الزام لگاتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنے معاملات میں کس قدر Intolerance کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اس کا اندازہ صرف اس سے لگائیں کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی سرکاری اشاعت کے بعد ترک صدر رجب طیب اردگان نے فرانسیسی صدر کو ذہنی مریض کہہ دیا تو یہ تبصرہ صدر فرانس کو اتنا ناگوار گزرا کہ فوراً ترکی سے اپنے سفیر (Ambassador) کو واپس بلا لیا۔یعنی یہ لوگ پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکے بنائیں تو freedom of speech اور مسلمان جواباً ان کو ذہنی مریض کہہ دیں تو اپنے ہی بنائے ضابطے کے خلاف آگ بگولہ ہوجاتے ہیں اور دہشت گردی کی الزام تراشیاں شروع کر دیتے ہیں۔
فرانسیسی حادثہ کے بعد ہمارے ملک میں بھی کئی افراد نے مسلمانوں پر عدم برداشت کا الزام لگایا حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جو خود پر ادنیٰ سی تنقید بھی برداشت نہیں کر پاتے۔حال ہی میں ٹاٹا جیولری کے ایک اشتہار پر ان لوگوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔جس کی بنا پر کمپنی کو اشتہار واپس لینا پڑا۔اس سے قبل بھی وزیر اعظم ودیگر وزرا کے کارٹون بنانے کے جرم میں کئی لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔جب یہ لوگ خود پر بنے کارٹون برداشت نہیں کر پاتے تو مسلمانوں کو کس منہ سے نصیحت کرتے ہیں؟
فرانسیسی معاشرے میں تسلسل کے ساتھ حضور ﷺ کی گستاخیاں کی جارہی ہیں۔اور
حکومت فرانس freedom of speech کے نام پر پیغمبر اسلام کی گستاخیوں کو جائز ٹھہراتی آئی ہے۔لیکن ان لوگوں کا دوغلاپن اس وقت ظاہر ہوجاتا ہے جب مسلم خواتین کے برقع پہننے پر پابندی لگائی جاتی ہے۔مسلم مردوں کو غیر محرم عیسائی عورتوں سے ہاتھ ملانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔اس وقت انہیں freedom of expression کا سبق یاد نہیں آتا؟ یہ سبق انہیں اپنی بدتمیزیوں کے وقت ہی یاد آتا ہے۔
خوب یاد رکھیں!
موجودہ دنیا Global village بن چکی ہے۔جس کی وجہ سے معاشرہ مختلف تہذیبوں اور کلچر کا مرکز بن گیا ہے۔ایسے ماحول میں دوسرے مذاہب یا محترم شخصیات کی گستاخیاں کرنا دنیا کے امن و امان کو خراب کرنا ہے۔مسلمان کسی بھی قوم کے مذہبی پیشواؤں کی توہین کرتا ہے نہ اپنے خدا ورسول کی توہین برداشت کرتا ہے۔آزادی رائے کی حد وہیں تک ہے جہاں تک کسی کی دل آزاری نہ ہو۔جہاں جان بوجھ کر کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہی آزادی رائے قرار دیا جائے وہی لوگ امن وامان اور انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
22 ربیع الاول 1442ھ
9 نومبر 2020 بروز پیر
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/805018740068646/
وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ
(سورہ انعام:108)
"اور انہیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے۔"
لیکن یہود و نصاریٰ اور کفار ومشرکین لگاتار حضور ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں۔
ردّ عمل کے طور پر مسلمان سخت رویہ اپنالیں تو فوراً معصوم بن کر مسلمانوں کو شدت پسند ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اور اپنی بدتمیزی کو آزادی رائے کا حق کہہ کر دفاع کرتے ہیں۔
ایک طرف مخالفین مسلمانوں پر عدم برداشت (Intolerance) کا الزام لگاتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنے معاملات میں کس قدر Intolerance کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اس کا اندازہ صرف اس سے لگائیں کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی سرکاری اشاعت کے بعد ترک صدر رجب طیب اردگان نے فرانسیسی صدر کو ذہنی مریض کہہ دیا تو یہ تبصرہ صدر فرانس کو اتنا ناگوار گزرا کہ فوراً ترکی سے اپنے سفیر (Ambassador) کو واپس بلا لیا۔یعنی یہ لوگ پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکے بنائیں تو freedom of speech اور مسلمان جواباً ان کو ذہنی مریض کہہ دیں تو اپنے ہی بنائے ضابطے کے خلاف آگ بگولہ ہوجاتے ہیں اور دہشت گردی کی الزام تراشیاں شروع کر دیتے ہیں۔
فرانسیسی حادثہ کے بعد ہمارے ملک میں بھی کئی افراد نے مسلمانوں پر عدم برداشت کا الزام لگایا حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جو خود پر ادنیٰ سی تنقید بھی برداشت نہیں کر پاتے۔حال ہی میں ٹاٹا جیولری کے ایک اشتہار پر ان لوگوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔جس کی بنا پر کمپنی کو اشتہار واپس لینا پڑا۔اس سے قبل بھی وزیر اعظم ودیگر وزرا کے کارٹون بنانے کے جرم میں کئی لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔جب یہ لوگ خود پر بنے کارٹون برداشت نہیں کر پاتے تو مسلمانوں کو کس منہ سے نصیحت کرتے ہیں؟
فرانسیسی معاشرے میں تسلسل کے ساتھ حضور ﷺ کی گستاخیاں کی جارہی ہیں۔اور
حکومت فرانس freedom of speech کے نام پر پیغمبر اسلام کی گستاخیوں کو جائز ٹھہراتی آئی ہے۔لیکن ان لوگوں کا دوغلاپن اس وقت ظاہر ہوجاتا ہے جب مسلم خواتین کے برقع پہننے پر پابندی لگائی جاتی ہے۔مسلم مردوں کو غیر محرم عیسائی عورتوں سے ہاتھ ملانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔اس وقت انہیں freedom of expression کا سبق یاد نہیں آتا؟ یہ سبق انہیں اپنی بدتمیزیوں کے وقت ہی یاد آتا ہے۔
خوب یاد رکھیں!
موجودہ دنیا Global village بن چکی ہے۔جس کی وجہ سے معاشرہ مختلف تہذیبوں اور کلچر کا مرکز بن گیا ہے۔ایسے ماحول میں دوسرے مذاہب یا محترم شخصیات کی گستاخیاں کرنا دنیا کے امن و امان کو خراب کرنا ہے۔مسلمان کسی بھی قوم کے مذہبی پیشواؤں کی توہین کرتا ہے نہ اپنے خدا ورسول کی توہین برداشت کرتا ہے۔آزادی رائے کی حد وہیں تک ہے جہاں تک کسی کی دل آزاری نہ ہو۔جہاں جان بوجھ کر کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہی آزادی رائے قرار دیا جائے وہی لوگ امن وامان اور انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
22 ربیع الاول 1442ھ
9 نومبر 2020 بروز پیر
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/805018740068646/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
#دشمنان_اسلام_کو_کیسے_جواب_دیں؟
فارغین مدارس اور منتہی درجات کے طلبہ جو منطق و فلسفہ کے دقیق ترین اور مشکل ترین مسائل کا خوب صورت حل پیش فرماتے ہیں,ان نفوس عاقلہ سے عرض ہے کہ بھارت میں دشمنان اسلام نے مسلمانوں کی تذلیل وتضحیک اور مذہب اسلام پر تنقید و تقبیح کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
اپ حضرات اس جانب متوجہ ہوں اور اپنی قوت ذہنیہ کا بھرپور استعمال کرکے تخریب کاروں کو ایسے دندان شکن جواب دیں کہ دشمنوں کی دماغی رگیں پھٹ جائیں اور وہ سوچنے سمجھنے کی قوت کھو بیٹھیں۔
حکومت ہند نے رانچی میں ایسے غیر معقول لوگوں کے علاج کا معقول انتظام کر رکھا ہے۔
مخالفین کا اعتراض ہے کہ مسلمان سی اےے اور این ار سی کے معاملے میں ملک کے ساتھ نہیں تو ہم بھی ان کے ساتھ رعایت نہیں کرنا چاہتے۔
کیا ہے کوئی جو ایسا جواب دے کہ دشمن لا جواب ہو جائے؟
دشمنان اسلام کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لئے مذہب پہلے ہے اور ملک بعد میں۔
کوئی ہے جو ایسا منہ توڑ جواب دے کہ دشمنوں کو ملک بھر میں منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے؟
اپ اس طرح کے سوالوں کو تلاش کریں اور اس کے عقلی,الزامی اور تاریخی جواب دیں۔
ٹی وی ڈبیٹ میں اسی طرح کے سوالات ہوتے ہیں اور مسلم نمائندہ نہ جگر شکن جواب دے پاتا ہے,نہ ہی ڈبیٹ میں جانے سے پرہیز کرتا ہے۔
کیا نسل جدید اس قسم کے سوالوں کے آتش فشاں جواب دینے کی کوشش کرے گی,تاکہ دشمنان دین غش کھا کر زمین پر گر پڑیں اور ہوش انے پر بھی اسلام ومسلمین پر انگشت نمائی کا تصور کرتے ہی لرزہ بر اندام ہو جائیں؟
مذکورہ بالا دونوں سوالوں کے مختصر اور عقلی والزامی جواب دیں۔میں منتظر رہوں گا۔
طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:09:نومبر 2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/805130423390811/
#دشمنان_اسلام_کو_کیسے_جواب_دیں؟
فارغین مدارس اور منتہی درجات کے طلبہ جو منطق و فلسفہ کے دقیق ترین اور مشکل ترین مسائل کا خوب صورت حل پیش فرماتے ہیں,ان نفوس عاقلہ سے عرض ہے کہ بھارت میں دشمنان اسلام نے مسلمانوں کی تذلیل وتضحیک اور مذہب اسلام پر تنقید و تقبیح کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
اپ حضرات اس جانب متوجہ ہوں اور اپنی قوت ذہنیہ کا بھرپور استعمال کرکے تخریب کاروں کو ایسے دندان شکن جواب دیں کہ دشمنوں کی دماغی رگیں پھٹ جائیں اور وہ سوچنے سمجھنے کی قوت کھو بیٹھیں۔
حکومت ہند نے رانچی میں ایسے غیر معقول لوگوں کے علاج کا معقول انتظام کر رکھا ہے۔
مخالفین کا اعتراض ہے کہ مسلمان سی اےے اور این ار سی کے معاملے میں ملک کے ساتھ نہیں تو ہم بھی ان کے ساتھ رعایت نہیں کرنا چاہتے۔
کیا ہے کوئی جو ایسا جواب دے کہ دشمن لا جواب ہو جائے؟
دشمنان اسلام کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لئے مذہب پہلے ہے اور ملک بعد میں۔
کوئی ہے جو ایسا منہ توڑ جواب دے کہ دشمنوں کو ملک بھر میں منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے؟
اپ اس طرح کے سوالوں کو تلاش کریں اور اس کے عقلی,الزامی اور تاریخی جواب دیں۔
ٹی وی ڈبیٹ میں اسی طرح کے سوالات ہوتے ہیں اور مسلم نمائندہ نہ جگر شکن جواب دے پاتا ہے,نہ ہی ڈبیٹ میں جانے سے پرہیز کرتا ہے۔
کیا نسل جدید اس قسم کے سوالوں کے آتش فشاں جواب دینے کی کوشش کرے گی,تاکہ دشمنان دین غش کھا کر زمین پر گر پڑیں اور ہوش انے پر بھی اسلام ومسلمین پر انگشت نمائی کا تصور کرتے ہی لرزہ بر اندام ہو جائیں؟
مذکورہ بالا دونوں سوالوں کے مختصر اور عقلی والزامی جواب دیں۔میں منتظر رہوں گا۔
طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:09:نومبر 2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/805130423390811/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کچھ پاگلوں نے لایعنی خاکے بنا کر ، بے مثل و مثال رسول ﷺ کی طرف منسوب کیے ، جس پر مسلمانوں نے مختلف طریقوں سے غم و غصے کا اظہار کیا ۔
کسی نے اُن کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے ، کسی نے احتجاج کرکے ، کسی نے ریلی نکال کر ، کسی نے تقریر و تحریر کے ذریعے ، تو کسی نے مسجدیں بنانے کی نیت کرکے ۔
اگرچہ یہ سارے طریقے گستاخوں کی " قرار واقعی سزا " کے نہیں ، ان کی سزا تو انھیں واصل جہنم کرنا ہے ۔
لیکن پھر بھی یہ طریقے اظہارِ محبت کے ہیں ، جس پر اللہ ﷻ سے اجر کی امید رکھی جاسکتی ہے ۔
جس طرح مصنوعات کا بائیکاٹ کرنےوالوں کی نیت کافروں کو معاشی دھچکا لگانا ہے ، اسی طرح مسجدیں بنانے والوں کی نیت یہ ہے کہ:
کافروں نے جس کریم ﷺ کا ذکر نیچا کرنے کی کوشش کی ، مسجدیں بنا کر ہم قیامت تک کے لیے ان کا ذکرِ پاک بلند کرتے رہیں گے ۔
دونوں کی نیتیں حسن ہیں ، دونوں ہی ماجور ہوں گے ۔ ان شاءاللہ تعالیٰﷻ
وہ لوگ بھی اللہ کے پیارے تھے جنھوں نے لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا کَہ کر ، اصحابِ کہف کے قریب مسجدبنائی ۔
اور وہ لوگ بھی اللہ کے پیارے ہیں جو اصحابِ محمد کے فیضان سے مسجدیں بنائیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
9-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3008969199383249&id=100008105947430
کسی نے اُن کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے ، کسی نے احتجاج کرکے ، کسی نے ریلی نکال کر ، کسی نے تقریر و تحریر کے ذریعے ، تو کسی نے مسجدیں بنانے کی نیت کرکے ۔
اگرچہ یہ سارے طریقے گستاخوں کی " قرار واقعی سزا " کے نہیں ، ان کی سزا تو انھیں واصل جہنم کرنا ہے ۔
لیکن پھر بھی یہ طریقے اظہارِ محبت کے ہیں ، جس پر اللہ ﷻ سے اجر کی امید رکھی جاسکتی ہے ۔
جس طرح مصنوعات کا بائیکاٹ کرنےوالوں کی نیت کافروں کو معاشی دھچکا لگانا ہے ، اسی طرح مسجدیں بنانے والوں کی نیت یہ ہے کہ:
کافروں نے جس کریم ﷺ کا ذکر نیچا کرنے کی کوشش کی ، مسجدیں بنا کر ہم قیامت تک کے لیے ان کا ذکرِ پاک بلند کرتے رہیں گے ۔
دونوں کی نیتیں حسن ہیں ، دونوں ہی ماجور ہوں گے ۔ ان شاءاللہ تعالیٰﷻ
وہ لوگ بھی اللہ کے پیارے تھے جنھوں نے لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا کَہ کر ، اصحابِ کہف کے قریب مسجدبنائی ۔
اور وہ لوگ بھی اللہ کے پیارے ہیں جو اصحابِ محمد کے فیضان سے مسجدیں بنائیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
9-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3008969199383249&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مکلی قبرستان میں حضرت مخدوم ابوالقاسم رحمہ اللہ کی درگاہ شریف ہے ، جس میں ایک حجرہ ہے ، جسے " حجرۂ حضوری " کہتے ہیں ۔
اس کے حضوری ہونے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ:
یہاں ایک دفعہ مخدوم حافظ ابوالقاسم رحمہ اللہ کو حضور سرورِ کونینﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی ۔
کہتے ہیں اس حجرہ پاک میں سندھ کے عظیم محدث ، مفسر ، فقیہ ، قاضی اور ولی اللہ ، حضرت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی متوفی 1174 ھ بھی جھاڑو دیا کرتے تھے ۔
آج مجھ عاصی کو بھی اس حجرہ پاک کی زیارت ، اور جاروب کشی نصیب ہوئی ۔
یہاں بیٹھ کر بارگاہِ رسالت میں اُن الفاظ سے استغاثے کا بھی شرف ملا ، جو شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی کیا کرتے تھے کہ:
اغثنی یارسول اللہ حانت ندامتی
اغثنی یا حبیب اللہ قامت قیامتی
جب توفیق یاوری کرے اور آپ یہاں آئیں ، تو اِس حُجرہ پاک کی ضرور زیارت کریں ، اور یہاں نفل ادا کریں ۔
اللہ اللہ ! وہ کتنی عظیم جگہیں ہیں ، جو میرے حضور سے منسوب ہوگئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️لقمان شاہد
9-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3009339909346178&id=100008105947430
اس کے حضوری ہونے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ:
یہاں ایک دفعہ مخدوم حافظ ابوالقاسم رحمہ اللہ کو حضور سرورِ کونینﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی ۔
کہتے ہیں اس حجرہ پاک میں سندھ کے عظیم محدث ، مفسر ، فقیہ ، قاضی اور ولی اللہ ، حضرت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی متوفی 1174 ھ بھی جھاڑو دیا کرتے تھے ۔
آج مجھ عاصی کو بھی اس حجرہ پاک کی زیارت ، اور جاروب کشی نصیب ہوئی ۔
یہاں بیٹھ کر بارگاہِ رسالت میں اُن الفاظ سے استغاثے کا بھی شرف ملا ، جو شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی کیا کرتے تھے کہ:
اغثنی یارسول اللہ حانت ندامتی
اغثنی یا حبیب اللہ قامت قیامتی
جب توفیق یاوری کرے اور آپ یہاں آئیں ، تو اِس حُجرہ پاک کی ضرور زیارت کریں ، اور یہاں نفل ادا کریں ۔
اللہ اللہ ! وہ کتنی عظیم جگہیں ہیں ، جو میرے حضور سے منسوب ہوگئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️لقمان شاہد
9-11-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3009339909346178&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.