🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
اتے ہیں:
صحب ابوبکر النبي عليه الصلاة والسلام من حين اسلم الي حين توفي لم يفارقه سفرا ولا حضرا ،الا فيما أذن له عليه الصلاة والسلام في الخروج فيه من حج وغزو ،وشهد معه المشاهد كلها ، (التاريخ الخلفا للسيوطي :32)
"تمام علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق قبول اسلام کے بعد سے حضور اقدس ﷺ کے وصال تک سفر وحضر میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے۔ سوائے اس کہ رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے آپ نے حج یا کسی غزوے میں شرکت کی ہو۔ ورنہ آپ ہر حال میں ہر وقت آپ ﷺ کے ساتھ رہتے تھے۔یہ ساتھ اتفاقی نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خود اپنے محبوب ﷺ کا ساتھی(صاحب) بنایا تھا:
اِذۡ ہُمَا فِی الۡغَارِ اِذۡ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔(سورہ توبہ :40)
"جب وہ دونوں غار میں تھے تو اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔"

جسے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے محبوب کا صاحب(رفیق) بنایا ہو بھلا وہ کیوں کر حضور ﷺ سے دور رہ سکتا تھا؟
جب آپ رات کو گھر تشریف لے جاتے تو حضور سے ملنے کی خاطر پوری رات بے چینی سے گزارتے۔جیسے ہی صبح صادق کا وقت آتا فوراً حاضر خدمت ہوجاتے۔حضور علیہ السلام سے اس قدر محبت تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اسی دن اپنے پاس بلایا جس دن حضور ﷺ نے وصال فرمایا تھا۔
عن عائشة رضي اللّه عنها قالت : إن أبابكر لما حضرته الوفاة قال : أي يوم هذا؟ قالوا : يوم الاثنين، قال : فإن مت من ليلتي فلا تنتظروا بي لغد، فإن أحب الأيام والليالي إليّ أقربها من رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم .رواہ احمد (تاریخ الخلفا للسيوطي:68)
"ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:جس روز حضرت ابوبکر کی وفات ہوئی آپ نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟
عرض کیا گیا دوشنبہ ہے۔ فرمایا کہ آج رات میں انتقال کر جاؤں مجھے دفن کرنے میں کل تک تاخیر نہ کی جائے میں رسول اللہ ﷺ تک جتنا جلد پہنچ جاؤں اتنا ہی اچھا ہے۔"

جیسا محبوب نے چاہا ویسا ہی ہوا۔ پیر کی رات میں بعمر 63 سال آپ کا وصال ہوا اور رات میں ہی آپ کو آپ کے محبوب ﷺ کے پہلو میں دفن کردیا گیا اس طرح جدائی کا صبر آزما زمانہ ختم ہوا اور یار غار یار مزار بن گیا۔

یعنی اس افضل الخلق بعد الرسل
ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام

12 ربیع النور 1442ھ
30 اکتوبر 2020 بروز جمعہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3408332909284116&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#اضطراب_روح

کارٹون بنانے میں کیا حرج ہے؟۔۔۔تصویر بنانے سے کیا ہو جاتا ہے؟۔۔ایک کارٹون سے مسلم دنیا اتنا چراغ پا کیوں ہے؟۔۔یہ عقل سے پرے باتیں ہیں۔ جی ہاں!! یہ سب تمہارے لیے عقل سے پرے اور عجیب ہوں گی۔۔ لیکن کیا تم نے کبھی ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی دنیا کا مشاہدہ کیا ہے؟؟ کیا تم نے کبھی مدینہ سے لوٹتے مسافروں کا دھاڑیں مار کر رونا دیکھا ہے۔۔؟ مدینہ جانے کی سکت نہ رکھنے والے عاشق کے رخسار پہ حسرت ویاس کے ڈھلکتے آنسوؤں کو دیکھا ہے؟؟---
اچھا چلو تمہارے لیے یہ چیزیں نئی ہوں گی۔ لیکن تم نے تو بلال حبشی کے بے لوث محبت کا تذکرہ سنا ہوگا؟؟ صدیق اکبر کا سانپ کے بے تحاشہ ڈنک کو برداشت کر لینا، لیکن مصطفی کے جسم نازنین پہ ہلکی سی خراش نہ آنے دینا؟؟ مولا علی کا نماز قضا ہونے دینا، لیکن مصطفیٰ کی نیند میں خلل نہ پڑنے دینا؟؟ سعد بن ابی وقاص کا سرکار کے لیے تیروں کا بوچھار اپنے سینے میں پیوست کرنا؟؟ مصعب بن عمیر کا حضور کے عشق میں دولت وثروت کو ٹھوکریں مار دینا؟۔۔صحابہ کا حضور کے وضو سے گرتے ہوئے پانی کو زمین پر بھی نہ گرنے دینا؟ حضور کی مجلس میں نیچی نگاہوں کے ساتھ ایسے بیٹھنا جیسے سروں پہ چڑیا بیٹھی ہو؟۔؟ حضور کی بارگاہ میں اتنے خفیف لہجہ میں عرض گزاری کرنا کہ حضور کو دوبارہ کہنا پڑے کہ زور سے بولو!!؟
یہ تو خیر انسان ہیں۔ کیا تم نے ہرنی کا یارسول اللہ کی صدائیں لگانا۔۔ بھیڑیا کی گواہی دینا۔۔ درندے جانوروں کا مجبور ہو کر حضور کی زیارت کے لیے حلیمہ سعدیہ کی بکریوں کو پکڑ لینا۔۔ اونٹ کا اپنے مالک کی شکایت لیے حضور کی بارگاہ میں گہار لگانا۔۔ درخت کا اپنی جڑیں گھسیٹ کر حضور کے دیدار کے لیے حاضر ہو جانا۔۔ استن حنانہ کا بچوں کے طرح رونا اور پھر حضور کا اسے گلے لگا کر تھپکیاں دیتے ہوۓ ڈھارس بندھانا۔۔
خیر چھوڑو!! تمہیں یہ جذبات واحساسات کی باتیں کہاں سمجھ آئیں گی۔ پر ہاں تم نے اپنے ماتھے پر انسانیت کا لیبل ضرور لگایا ہے۔ شاید تم نے حضور کا انسانیت کے لیے بے لوث قربانیوں کا تذکرہ ضرور سنا ہوگا۔ کہ کس طرح حضور نے زندہ درگور ہوتی بچیوں کو بچایا۔۔ عورتوں کا حق دلایا۔۔ کالے اور گورے کے فرق کو ختم کیا۔۔ نسبی جاہ کو بے وقعت بتایا۔ لوگوں کو معاف کرنا سکھایا۔ فتح مکہ کے وقت جن کے ہاتھ خون سے سنے تھے، انہیں بھی معاف کر دیا۔۔ چیونٹیوں کے بلوں کو بھی آگ لگانے کی ممانعت کی، چہ جائیکہ انسانوں کو آگ لگانا۔ مظلوموں کی دستگیری کی۔ انسانیت کے لیے پیٹ پر پتھر باندھے۔۔انسانیت کی تعظیم سکھائی۔ جہالت کے اندھیارے میں بھٹکتی انسانیت کو خود آگہی عطا کی۔۔
تمہارے بقول تمہاری دنیا کو فکری وسعتیں عطا کرنے والے مفکرین جیسے مائیکل ہارٹ، جرمن شاعر گوئٹے، جارج برناڈشا، ٹالسٹائی، اینی بیسنٹ، نیپولین بوناپارٹ، موہن داس گاندھی، تھامس کار لائل، ولیم میور، لا مارٹین، گرو نانک، جان ولیم، کیرن آرم سٹرانگ اور ان کے علاوہ کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔ شاید تم نے ان کے تاثرات پڑھیں ہوں گے۔
اگر تم یہ سب پڑھ چکے ہو، پھر بھی تم ان کی گستاخیوں سے باز نہیں آتے، تو سن لو اے مغرب!!! تم انسانیت کے ہتھیارے ہو۔ تم نے انسانی اقدار کا جنازہ نکالا ہے۔ تم بےحسی کی گہری کھائی میں گر چکے ہو۔ تمہارے تعفن زدہ نظریات ہرگز انسانیت کی قیادت نہیں کر سکتی۔ تم نے آزادئ رائے کے نام پہ کروڑوں لوگوں کے دل چھلنی کیے ہیں۔ تم ذاتی فوائد کے لیے ہمارے تقدسات کو سیاست کی منڈلیوں میں لے کر آۓ، اور پھر تم نے وہ کیا جس نے کروڑوں مسلمانوں کو بلبلا کر رکھ دیا۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تمہارے ایک کارٹون نے کتنی روحوں کو مضطرب کر کے رکھ دیا ہے؟؟ کتنوں کی نیندیں اجاڑ کر دھر دیں ہیں؟؟ سکون کی راتیں، رتجگوں میں بدل کر دھر دی ہیں۔ کاش تمہیں اندازہ ہوتا!!!!
کتنے ظالم ہو تم!!! تمہاری قساوت قلبی اللہ کی پناہ!! ہوش کے ناخن لو، اس سے پہلے کہ تمہارے عالی شان محلات پہ "إنا كفيناك المستهزئين" کی بجلیاں کوند جائیں، باز آ جاؤ!!!!!

✍️ #احمد_رضا_ازہری،
رام گڑھ، جھارکھنڈ
جامعہ ازہر قاہرہ، مصر

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1331149717277211&id=100011465858723
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عقائد کی مضبوطی کیسے ہو؟
از محمد زبیر قادری
..ایک بار میں جامع مسجد دہلی کے سامنے ایک دیوبندی کتب فروش کے مکتبہ پر کچھ کتب لینے وہاں بیٹھا تھا، اتنے میں چند نوجوان لڑکے آئے اور تقویت الایمان، حفظ الایمان، تحذیر الناس، براہین قاطعہ وغیرہ قابلِ اعتراض کتب طلب کرنے لگے۔ مجھے حیرت ہوئی۔ خیر کتب تو نہ ملی۔ میرے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ لوگ مہاراشٹر کے کسی علاقے سے آئے تھے اور بدمذہبوں کے رد کے لیے حوالے کے لیے یہ کتب طلب کر رہے تھے۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ ہمارے اسٹیج کے مقررین علما نے عوام کو مناظروں میں اُلجھا رکھا ہے جبکہ عوام بنیادی عقائد سے ہی ناواقف ہیں۔ کیا ضروری ہے کہ اپنی تقریروں میں چیخ چیخ کر یہ بتانا کہ تھانوی نے یہ لکھا، گنگوہی نے یہ لکھا، قاسمی نے یہ لکھا؟۔۔ لیکن ان مقررین حضرات کو یہ نہیں پتہ کہ دیوبندیوں نے اپنی اکثر کتب میں تحریفات کردی ہیں، جس وجہ سے ان کی گستاخیاں نرم پڑ گئیں۔ اور اہم بات یہ کہ ہمارے یہ نوجوان جب یہ کتب ان کو دکھاتے ہیں تو دیوبندی کہتے کہ یہ کتابیں تم لوگ چھاپ کر ہم کو بدنام کرتے ہیں۔ یہ دیکھو ہماری کتابیں، جس میں وہ عبارتیں نہیں ہوتیں۔ تو نوجوان ناکام ہوجاتے ہیں۔
جبکہ ہمارے یہ نوجوان جو ہمیشہ دیوبندیوں سے مناظرہ کرکے فتح کا جشن منانا چاہتے ہیں، ان کی دینی معلومات نہایت کمزور ہوتی ہیں۔ عقائد اہلِ سنّت کا علم نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ غسل، وضو، نماز جیسی بنیادی چیزوں کے فرائض کا علم بھی کم ہی نوجوانوں کو ہوتا ہے، جس پر عبادتوں کا انحصار ہے۔
افسوس ان مقرروں پر جو ردِ وہابیہ پر ہمیشہ ایسی بے سروپا و غیر مستند تقریریں کرتے ہیں کہ کوئی دیوبندی سوال کردے تو جواب نہ بن پڑے۔ مگر ان کی تقاریر سن کر نوجوان طبقہ جوش میں ہوش کھودیتا ہے۔ کیا ایسی تقریروں سے نوجوان نسل کا ایمان محفوظ ہوسکتا ہے؟
جب کہ ضرورت ہے عقائد اہلِ سنّت کی تعلیم کی۔ اللہ و رسول کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے۔ کفر، شرک اور بدعت کیا ہے، اور عبادات کے لیے ضروری علم سے واقفیت ہونا چاہیے۔ ہمارے نوجوان بہکتے ہیں بنیادی عقائد میں کمزوری کی وجہ سے۔ عقائد مضبوط کردیجیے، پھر ان شاء اللہ نوجوان باطل فرقوں کی گمراہ کن تعلیمات سے بہکیں گے نہیں۔
اصل کام عقیدے اور ایمان کا تحفظ ہے، جسے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہی آج سب سے بڑی دینی ضرورت ہے۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2247578885385957&id=100004016020698
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
الحمد للہ،
#جماعت_رضاے_مصطفی، شاخ اتر دیناج پور کا وفد زخمیوں کی عیادت کے لئے سلی گوڑی روانہ ہوچکا ہے۔ آج کے وفد میں یہ حضرات شامل ہیں:

حضرت علامہ مفتی اختر رضا نوری صاحب،دبئی (خلیفہ حضور تاج الشریعہ)
حضرت مولانا واصل رضا یوسفی رشیدی مصباحی صاحب
حضرت مولانا شاکر رضا نوری صاحب
حضرت مولانا شاہ نواز حسین مصباحی صاحب
فقیر #انصار_احمد_مصباحی
اور ملنسار شخصیت جناب محمد رضا فیضی، (ابن علامہ مجاہد الاسلام نوری صاحب)
کامیاب دورے اور سفر کی سلامتی کے لئے دعا فرمائیں!

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1480611012145303&id=100005892551490
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

مسئلہ تکفیر تحقیقی ہے یا تقلیدی؟

خلیل بجنوری نے اپنی کتاب انکشاف حق میں جا بجا لکھا ہے کہ تکفیر کا مسئلہ تقلیدی نہیں,تحقیقی ہے۔

اب فرقہ بجنوریہ بھی خوب زور شور سے اس مسئلہ کی تشہیر کر کے لوگوں کو کنفیوزن میں مبتلا کر رہا ہے۔

تقلید صرف اجتہادی مسائل میں ہوتی ہے۔باب اعتقادیات میں تقلید نہیں ہوتی,بلکہ تصدیق ہوتی ہے۔

ایمان کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:

ہو التصدیق بما جاء بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم

ایمان تصدیق کا نام ہے,تحقیق کا نہیں۔

مستشرقین میں سے اکثر کو ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت کی تحقیق حاصل ہوتی ہے,لیکن اگر وہ تصدیق نہیں کرتے تو مومن نہیں۔

اب بتائیں کہ اعتقادی مسائل کی تصدیق فرض ہے یا تحقیق فرض ہے؟

ان شاء اللہ تعالی تفصیلی مضمون آئے گا۔البرکات میں مختلف مقامات پر اس کی تشریح مرقوم ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:05:نومبر2020

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3424160004368073&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

ضروریات اہل سنت کون سے امورہیں؟

شعار اہل سنت الگ امور ہیں اور ضروریات اہل سنت الگ امور ہیں۔شعار میں تبدیلی ممکن ہے اور ضروریات میں تبدیلی ممکن نہیں۔کبھی شعار اہل سنت کو مجازی طورپر ضروریات اہل سنت میں شمار کردیا جاتا ہے۔ وہاں ضروریات کا اصطلاحی مفہوم مراد نہیں ہوتا،مثلاً عہد حاضر میں سلام وقیام،میلادوعرس وفاتحہ ونیاز کو شعار اہل سنت میں شمار کیاجاتا ہے۔ اگر کوئی ان امور کو ضروریات اہل سنت میں شمار کرے تووہاں لغوی معنی مراد ہوگا۔

ہر وہ امردینی جو قطعی الد لالت بالمعنی الاخص وقطعی الثبوت بالمعنی الاخص دلیل سے ثابت ہو، وہ ضروری دینی ہے۔

ضروریات دین کے چار دلائل ہیں:(1)قرآن مجید کی مفسرآیات مقدسہ (2)مفسر احادیث متواتر ہ (متواترات لفظیہ)(3)اجماع متصل (4) عقل صحیح۔

ہروہ امرجوقطعی بالمعنی الاعم دلیل سے ثابت ہو، وہ ضروریات اہل سنت میں سے ہے۔

تفہیم کی آسانی کی خاطر ضروریات اہل سنت کو ہم نے چار ذیلی خانوں میں تقسیم کردیا ہے۔

(1)جوامور قطعی بالمعنی الاعم دلائل سے ثابت ہوں۔

(الف)خواہ وہ دلیل صرف دلالت کے اعتبارسے قطعی بالمعنی الاعم ہو، اورثبوت کے اعتبارسے قطعی بالمعنی الاخص ہو،جیسے قرآن مجید کی آیت طیبہ سے آخرت میں رویت باری تعالیٰ کا ثبوت۔ آیت مقدسہ قطعی الثبوت بالمعنی الاخص ہے،لیکن اس مفہوم پر دلالت قطعی بالمعنی الاعم ہے۔

(ب)یاوہ دلیل صرف ثبوت کے اعتبار سے قطعی بالمعنی الاعم ہو، اور دلالت کے اعتبار سے قطعی بالمعنی الاخص ہو،جیسے شفاعت برائے مذنبین کہ اس کا ثبوت ان احادیث طیبہ سے ہے جو متواتر معنوی ہیں،متواتر لفظی نہیں ہیں۔متواتر معنوی قطعی بالمعنی الاعم ہوتا ہے۔

(ج)یا وہ دلیل ثبوت اور دلالت دونوں اعتبارسے قطعی بالمعنی الاعم ہے،جیسے کوئی متواتر المعنی حدیث جواپنے مفہوم پر بطریق نص یا بطریق ظاہر دلالت کرے۔متواتر معنوی اپنے ثبوت کے اعتبارسے قطعی بالمعنی الاعم ہوتا ہے اورظاہرو نص دلالت کے اعتبارسے قطعی بالمعنی الاعم ہوتی ہے۔

(2)جس امر پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا اجماع منصوص(اجماع غیر سکوتی)ہو،جیسے اجماع صحابہ سے خلافت صدیقی کا ثبوت ہوا۔یہ ضروریات اہل سنت میں سے ہے۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کااجماع منصوص دلیل قطعی بالمعنی الاعم ہے۔

(3)فرض اعتقادی۔ فرض اعتقادی کا ثبوت دلیل قطعی بالمعنی الاعم سے ہوتا ہے۔

فرض قطعی ضروریات دین میں سے ہے اورفرض اعتقادی ضروریات اہل سنت میں سے ہے۔

(4)جو ضروری دینی(واجب شرعی) واجب عقلی بھی ہو، اس کی ضد کا امکان ذاتی ماننا ضلالت وگمرہی ہے،اور ضد کا امکان وقوعی ماننا کفر کلامی ہے۔ واجب عقلی کی ضد کا امکان ذاتی نہ ماننا ضروریات اہل سنت میں سے ہے،اور اس ضد کاامکان وقوعی نہ ماننا ضروریات دین میں سے ہے، جیسے صدق الٰہی واجب عقلی ہے۔صدق کی ضد کذب ہے۔کذب باری تعالیٰ کا امکان ذاتی ماننا ضلالت وگمرہی ہے اور امکان وقوعی ماننا کفر کلامی ہے۔

اسی مفہوم کی تعبیردوم:
وہ امر جس کو ماننے سے کسی ضروری دینی کا لزومی انکار ہوجاتا ہوتو اس کونہیں ماننا ضروریات اہل سنت میں سے ہوگا،جیسے کذب کا امکان عقلی ماننے سے صدق باری تعالیٰ کا لزومی انکار ہوجاتا ہے تو امکان کذب نہیں ماننا ضروریات اہل سنت میں سے ہوگا۔

کذب کاامکان وقوعی ماننے سے صدق الٰہی کاقطعی بالمعنی الاخص طورپربطلان ہوجاتا ہے تو امکان وقوعی نہ ماننا ضروریات دین میں سے ہوگا،اور کذب کا امکان وقوعی ماننا کفرکلامی ہوگا۔

تعبیر سوم:
وہ محال شرعی جومحال عقلی بھی ہو، اس کا امکان ذاتی ماننا ضلالت وگمرہی ہے،اور اس کا امکان وقوعی ماننا کفر کلامی ہے،اوراس کا امکان ذاتی نہ ماننا ضروریات اہل سنت میں سے ہے اور اس کا امکان وقوعی نہ ماننا ضروریات دین میں سے ہے،جیسے کذب باری تعالیٰ محال شرعی ہونے کے ساتھ محال عقلی بھی ہے تواس کا امکان ذاتی ماننا ضلالت وگمرہی ہے،اوراس کا امکان وقوعی ماننا کفر کلامی ہے۔

اگر کوئی ضروری دینی واجب عقلی نہ ہو،یا کوئی محال شرعی محال عقلی نہ ہو تو مذکورہ بالا حکم نہیں،جیسے عفو کافر شرعا محال ہے،لیکن عقلا ممکن ہے،یعنی مغفرت کفار کا امکان ذاتی ہے، امکان وقوعی نہیں،بلکہ وہ محال بالغیر ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:05:نومبر2020

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3427189887398418&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب اشرافیہ غافل ہو جائے تو قومیں تباہ کر دی جاتی ہیں

✍️ مولانا پٹیل عبد الرحمن مصباحی (گجرات، ہند)

اشرافیہ سے کیا مراد ہے اس حوالے سے رائے مختلف ہو سکتی ہے، عام طور پر انگریزی میں اس کے لیے Elite کا لفظ استعمال ہوتا ہے. کبھی سادہ الفاظ میں Cream class بھی بولتے ہیں. ہمارے خیال میں اس کی آسان سی توجیہ یہ ہے کہ "اشرافیہ یعنی قوم کا بااختیار طبقہ، چاہے وہ مالی حیثیت سے بااختیار ہو، سیاسی حیثیت سے یا پھر مذہبی حیثیت سے." کسی بھی معاشرے کی سمت کا تعیّن اس کی اشرافیہ کے طریقۂ حیات سے ہوتا ہے، اشرافیہ یعنی قافلے کے آگے چلنے والا نمائندہ گروہ، یہ درست راہ پا کر ثابت قدم رہنے میں کامیاب ہو جائے تو قوم کا پورا قافلہ فلاح و نجات کی منزل سے خود بہ خود ہمکنار ہو جاتا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ نظام حیات کی تشکیل میں اس طبقے کا رول کلیدی ہوتا ہے، اس طبقے کے فیصلے تقریباً ساری قوم بلکہ پوری انسانیت پر اثر انداز ہوتے ہیں. لہٰذا اشرافیہ کی شرافت قوم کے لیے نیک فالی اور ان کی شرارت قوم کے لیے تباہی کے روپ میں ظاہر ہوتی ہے.

اقوام عالم کی جو مرضی تاریخ پڑھ لیجیے، کسی بھی دور میں کسی بھی بھی تہذیب کے ماننے والوں کے مقدّر میں تباہی و بربادی اس وقت تک نہیں لکھی گئی جب تک اشرافیہ غافل، بے کار، شرپسند اور ملت فروش نہیں ہو گئی. عوام کی بھیڑ چال قوموں کے عروج و زوال کا فیصلہ نہیں کرتی، بلکہ وہ تو جانے انجانے میں اشرافیہ کے قائم کردہ سسٹم کی پیروکار ہوتی ہے، قوموں کا مقدر تو اشرافیہ کے ذریعے عمل میں لایا جانے والا طرزِ حیات طے کرتا ہے. گویا قوم کا درخت اسی وقت ثمر بار ہو سکتا ہے جب اشرافیہ کی جڑیں تر و تازہ اور مستحکم ہوں، ورنہ اگر اشرافیہ ہی زنگ آلود ہو تو قوم کا وقت کے تقاضوں اور دشمن طاقتوں کے سامنے سرنگوں ہو جانا بدیہی امر ہے.

آئیے! ذرا تاریخ کے تہہ خانے میں جھانک کر اشرافیہ کا کلیدی کردار سمجھنے کی کوشش کریں. اِدھر مستعصم کے طبقہ اشرافیہ میں بدترین خیانت دار وزراء و امراء کا اثر انداز ہونا تھا کہ ادھر سے تاتاریوں کی قیامت نے بغداد کے دروازے پر دستک دی، اشرافیہ کی اس غفلت کے نتیجے میں تباہی و بربادی کا وہ خونی منظر سامنے آیا کہ سعدی نے آسمان کو خون کے آنسو رونے کا حق دے دیا. متحدہ ہند میں ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ کو شکست نہ ہوتی اگر اشرافیہ میں میر جعفر و میر صادق جیسے ملت فروش نہ پَنپتے. خلافت عثمانیہ اسی وقت تک محفوظ رہی جب تک سلطان محمد فاتح اور سلطان عبد الحمید جیسے لوگ اشرافیہ کی زینت بنے رہے، جیسے ہی تُرک اشرافیہ میں کمال پاشا جیسے مغرب زدہ لوگوں کا وجود ہوا، جنگ عظیم کی ہولناکیوں نے اس عظیم سلطنت کو آ لیا اور جشن فتح میں برطانیہ نے اسلامی خطۂ حکومت کو کیک کی طرح تقسیم کر کے پورے عالم اسلام پر اپنی تہذیب تھوپ دی. اس کے علاوہ رضا شاہ پہلوی سے لے کر ابن سبا تک اور ابو الکلام آزاد سے لے کر مروان تک؛ طبقۂ اشرافیہ کو شرمندہ کرنے والوں کی لمبی فہرست تاریخ کے نوٹس بورڈ پر دیکھی جا سکتی ہے، اگر کوئی تاریخ کا طالب علم اشرافیہ کے واسطے سے اقوامِ عالم کے عروج و زوال کی داستان مرتَّب کرنا چاہے تو یہ ایک مستقل تحقیقی عنوان ہے.

آج امت کی زبوں حالی کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ اشرافیہ کی غفلت، نادانی، عیاشی اور ملت فراموشی ہی ہے. جہاں تک متوسط و نادار طبقے کا تعلق ہے تو یہ بے چارے کسی طرح دو وقت کی روٹی کما کر باعزت زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حتیٰ الامکان اپنے معاملات کو اسلامی نہج پر ڈھالنے کا خیال بھی رکھتے ہیں. انہیں نہ تو بڑے بڑے مذہبی فلسفوں سے غرض ہے نہ دین کے مقابلے میں دولت کا گھمنڈ، نہ ہی سیاست کے نام پر دین و ملت کی سودا گری کا ڈھنگ. کیمبرج کے مایہ ناز فرزند ڈاکٹر ہارون لکھتے ہیں :
"میرے نزدیک اسلام کا سب سے بہتر گروہ عام مسلمان ہیں ،یعنی مسلمان عوام. وہ اسلام سے متعلق بحیثیت دین اور فلسفہ کے بہت کم جانتے ہیں اور ان کی بہت سی چیزیں اسلام سے مطابقت نہیں رکھتیں، لیکن وہ ایک قابلِ شناخت اسلامی زندگی گزارتے ہیں ،جس کا سبب ان کا اسلام پر پختہ یقین ہے."
(میں نے اسلام کیوں قبول کیا)

ہم ذیل میں موجودہ اسلامی دنیا کی سیاسی، معاشی اور مذہبی اشرافیہ کا ایک سرسری تجزیہ پیش کریں گے. جس کے آئینہ میں آنے والے کل کی دھندلی سی تصویر نظر آ جائے تو زہے قسمت.

امت کی موجودہ سیاسی اشرافیہ کی بات کریں تو زمینی حقیقت یہ ہے کہ 54 ممالک کی اشرافیہ ایک ساتھ؛ الحاد کی دُھن پر سُودی معیشت کا چولا پہنے جمہوریت کا ننگا ناچ ناچ رہی ہے، چند ایک مقامات جمہوری بُت کی پرستش سے پاک بھی ہیں تو وہاں بادشاہت یا ڈکٹیٹر شپ کے صنم کی دھوم مچی ہوئی ہے. محمد بن سلمان جیسے یہودی نواز سے لے کر مشرف جیسے الحاد پرست تک، سارے کے سارے خنّاس موجودہ اسلامی برادری کی جھولی میں آئے ہیں یا سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیجیے کہ گلے پڑے ہیں. مشرق وسطیٰ کی سیاست کو ہی لے لیجیے؛ ایسا ل
👍1
گتا ہے جیسے اسرائیل سے رشتہ جوڑنے کا مقابلہ ہو رہا ہے، ایک ابھی گھٹنے ٹیک کر کھڑا بھی نہیں ہوتا کہ دوسرا سجدہ ریز ہو جاتا ہے. مشرق وسطیٰ سے لے کر ایشیا تک کی اکثر مسلم اشرافیہ؛ سیاسی طور پر امریکی یا برطانوی سامراجیت کی پروردہ اور اسلام بیزار یا کم از کم پورٹیبل اسلام پر یقین رکھنے والی ہے. انڈیا میں مسلم سیاست کے نام پر بد ترین خائن افراد؛ ملت فروشی میں مصروف ہیں، ان کا لبادہ مختلف ہو سکتا ہے مثلاً کوئی صوفی کوئی جمیعتی؛ البتہ ذات پروری، مفاد پرستی اور ملت فراموشی میں سب برابر کے حصے دار ہیں. دین کے نام پر پاکستان بن تو گیا مگر اس تقسیم کی لاج صرف عوام نے رکھی ہے ورنہ وہاں کی نوّے فیصد سیاسی اشرافیہ مغرب کے وفادر اور نظام مصطفیٰ کے غدار افراد پر مشتمل ہے. مذکورہ معیار پر سعد حریری سے لے کر عبد الفتاح سیسی اور محمود مدنی سے لے کر غلام رسول بلیاوی تک؛ پورے عالم اسلام کی سیاسی اشرافیہ کا کردار پرکھا جا سکتا ہے. ان چند مثالوں کے بعد اختصار کے پیشِ نظر باقی اسلامی دنیا کی سیاسی اشرافیہ کا تجزیہ ہم قارئین کے ذمے چھوڑتے ہیں.

معاشی اشرافیہ یعنی کہ امت کے سرمایہ دار طبقے کا جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ سیاسی اشرافیہ کی طرح ان سرمایہ داروں کا بھی دین و ملت سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ ایک کلَب ڈانسر مغنّیہ کا مسجد سے ہوا کرتا ہے. مفلس انسان اپنی بھوک سے عاجز آ کر مجبوراً شراب پیتا ہے جب کہ سیٹھوں کی آوارہ اولاد پیٹ بھر جانے کے بعد تکلّفاََ شراب نوشی کرتی ہے. اپنے آپ کو حرمَین کا خادم کہنے والے فضول خرچی کی اُس سطح پر پہنچے ہوئے ہیں کہ شیطان بھی ان کی اخوّت پر عار محسوس کرتا ہوگا. عربوں کے یہاں سیّال سونا نکلتے ہی عیاشی نے ڈیرے ڈال دیے اور فکرِ امت نے رخت سفر باندھ لیا، اب یہ فکر جنوبی ایشیا کے متوسط و نادار طبقے کے ذہنوں میں تو بھٹکتی ہے مگر عرب کے دولت کدوں میں اسے پَیر رکھنے تک کی اجازت نہیں. کفر دوستی اور یہودیت نوازی نے معاشی اشرافیہ کی رہی سہی غیرت کا بھی جنازہ نکال دیا ہے، اب دُبئی میں امت کے مسائل کا حل کم اور جنسی خواہشات کی تکمیل زیادہ ہوتی ہے. عرب کے اکثر بڑے تاجروں کی دولت امت کے لیے سراب اور سوِیس بنک کے لیے سونے کے سیلاب کی مانند ہے. بر صغیر کی معاشی اشرافیہ میں بڑی تعداد ان کی ہے جو امت کی فکر تو دور کی بات ہے مذہب کے ابجد سے بھی واقف نہیں. دین سے واقف سرمایہ داروں کا حال یہ ہے کہ رسم و رواج اور نام و نمود کے لیے ثانوی درجے کے زائد امور میں حقیر سی رقم خرچ کر کے اپنے آپ کو حاتم طائی کا پرتو سمجھتے ہیں. ایسے میں اسلامی لٹریچر کے بڑے مراکز کی تعمیر، عظیم الشان مدارس کے ذریعے مغربی نظام تعلیم کا مقابلہ، سودی معیشت کے بالمقابل غیر سودی بنکوں کا قیام اور غیر مسلم دنیا تک حقیقی اسلامی تعلیمات پہنچانے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کی فراہمی کی امید؛ موجودہ معاشی اشرافیہ سے لگانا ایسے ہی ہے جیسے ڈونلڈ ٹرمپ سے فلسطین کی بازیافت کے لیے مدد مانگنا.

طبقہ اشرافیہ میں تیسرا بااثر گروہ مذہبی نمائندوں کا ہے. مذہبی اشرافیہ کا دائرہ چھوٹی سی مسجد کی امامت سے لے کر، عالیشان خانقاہ کی سجادگی تک اور مصر کی ازہری فضاؤں سے لے کر سعودی کی شاہی وزارتوں تک، پھیلا ہوا ہے. مذہبی اشرافیہ کی حالت بھی فی زمانہ کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے. موجودہ مذہبی اشرافیہ میں نیم ملّا محفل کی جان ہے، جاہل صوفی خانقاہ کی پہچان ہے، بڑے ادارے اپنے متعلقین کی کج فکری سے حیران و پریشان ہیں اور سعودی وزارتوں کے مالک بدکردار شہزادوں کے زیرِ فرمان ہیں. بر صغیر میں آدھی مولویت اس بات پر دست و گریباں ہے کہ آزاد، اجمل خان اور سر سید ہمارے مذہبی پیشوا ہیں یا امام احمد رضا، سید سلیمان اشرف بہاری اور محدث سورتی ہمارے مقتدا ہیں. جو مذہبی اشرافیہ سو سال میں ماضی کی قیادت کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے میں ناکام ہے اس سے مستقبل کے حوالے سے قوم کا لائحہ عمل طے کرنے کی امید رکھنا کھلی. آنکھوں کا خواب نہیں تو اور کیا ہے. عرب دنیا میں مذہبی اشرافیہ اتنی آگے نکل چکی ہے کہ آدھی مذہبی اشرافیہ کا حلیہ مغربی بود و باش کی عکاسی کرتا ہے. سعودی وزارتوں پر گامزن مذہبی اشرافیہ کے پاس "کلمۃ الحق عند سلطان جائر" کی توفیق تو پہلے ہی سے نہیں تھی مگر اب تو باقاعدہ شہزادوں کی خوش نودی کی خاطر "إنما الخمر والمیسر والازلام رجس من عمل الشیطان" جیسی قطعی نصوص کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے.

مذکورہ تفصیلات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ فی الحال جس طبقے میں وعظ و نصیحت سب سے زیادہ ضرورت اور اصلاحات کے نفاذ کی شدید حاجت ہے، وہ اشرافیہ کا طبقہ ہے. ایک طرف اشرافیہ کی فکری و اخلاقی پسماندگی کا یہ حال ہے اور دوسری طرف صاحبانِ منبر و محراب بلکہ امامِ مسجد کہے جانے پر منہ چڑھانے والے اصحابِ اسٹیج و کانفرنس اور اہلِ خانقاہ بھی، ہمہ وقت اپنی اصلاحی توپوں کا منہ متوسط و نادار طبقے کی طرف کیے ہوئے ہیں اور اشرافیہ کی مغرب زدگی سے بے
نیاز ہو کر؛ بے چاری عوام کو نظامِ عبادت سے قریب کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں. یعنی ساری اسلامی مراعات اشرافیہ کی جھولی میں ڈال دیجیے اور باقی ساری قوم کو اعمال صالحہ کی طرف دھکیل لائیے. بقول اقبال ؂
مُریدِ سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب،
خدا کرے کہ مِلے شیخ کو بھی یہ توفیق.

اخیر میں اگر اس سنگین مسئلہ کے حل کی بات کریں تو ایسے حالات میں مجموعی طور پر آپ کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو اشرافیہ کی اصلاح کا بیڑا اٹھائیے یا اشرافیہ کو تبدیل کرنے والا انقلاب برپا کیجیے. عوامی کمزوریوں اور ان کے غیر شعوری رویّوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر سچ یہ ہے کہ جب اشرافیہ باشعور اور دور اندیش نہ ہو تو عوام کی بے داری اور شعور کا رونا رونا ایک فضول سی بات ہے. اگر آپ نے مسلم کہلانے والے پارلیمنٹ کے ممبر، علاقے کے سیاست دان، خانقاہ کے پیر، اسٹیج کے مولوی اور سماج کے سرمایہ دار کو مسلمان کر لیا تو قوم خود بخود مسلمان ہو جائے گی اور اسلام بے شک و شبہ غالب ہو جائے گا. شیخ عبد القادر جیلانی اور شیخ مجدد الف ثانی رحمھما اللہ کی اصلاحی تحریکوں کی کامیابی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان دونوں ہستیوں نے اپنے دور کی اشرافیہ کا بھرپور تعاقب کیا. اسلام بیزار حکمران ہوں، علمائے سوء ہوں یا صوفیائے خام، جو بھی بااثر اور بااختیار ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داریوں سے غافل تھے، اشرافیہ کے ان تمام گروہوں کو نہ صرف یہ کہ حق کا تعارف اور حقیقی اسلام کی پہچان کرائی؛ بلکہ ان کو امت کی خیر خواہی اور اس کی صلاح و فلاح کے لیے صحیح طریقے اپنانے اور درست اقدامات کرنے پر مجبور بھی کیا. آج کے حالات میں بھی اسلاف کا یہی کردار ہمارے لیے مشعل راہ اور حوصلے کا سبب ہے.

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا.
(إسراء، 16)
A. R. Patel
19.03.1442
06.11.2020

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/803061930271378/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رسول اللہ ﷺ کا نقشِ نعلِ پاک ہمارے سروں کا تاج ، آنکھوں کی راحت اور دلوں کا سکون ہے ؎

خدا تارِ رَگِ جاں کی اگر عزت بڑھا دیتا
شِراکِ نعلِ پاکِ سیّدِ لَولاک ہو جاتا

حَسنؔ اہلِ نظر عزت سے آنکھوں میں جگہ دیتے
اگر یہ مُشتِ خاک اُن کی گلی کی خاک ہو جاتا

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نقش نعل پر اللہ و رسول کا نامِ پاک لکھنے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔
نقشِ نعل شریف سینے سے لگانے کے لیے ہے ، چوم کر آنکھوں پر رکھنے کے لیے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ و رسول کا نام لکھنے کے لیے نہیں ۔

ہرچند کہ یہ مسئلہ علماے اہل سنت کے مابین مختلف فیہ‌ ہے ، فریقین کے پاس دلائل ہیں ، اور فریقین اللہ سے ڈرنے والے ہیں ۔
لیکن دل جن کے دلائل کی طرف مائل ہے ، وہ مانعین ہیں ۔

رب تعالیٰ افراط و تفریط سے بچائے اور ہمیشہ مودب رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ؎

حَسنؔ سُنی ہے ، پھر اِفراط و تفریط اس سے کیوں کر ہو
اَدَب کے ساتھ رہتی ہے رَوِش اَربابِ سُنت کی

✍️لقمان شاہد
1-10-2020 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3000976736849162&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کافروں نے رسولِ پاک کی بے ادبی کرنے کا یہ طریقہ نکالا کہ نامِ پاک محمد لینے کے بجائے ، آپ کو مُذَمَّمْ کَہ کر اول فول بکنے لگے ۔

حضور کو معلوم ہوا تو آپ نے صحابہ سے فرمایا:

کیا تم تعجب نہی‍ں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ( کُفَّارِ ) قریش کے لعن طعن کو مجھ سے پھیر دیا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ مذمم پر لعن طعن کرتے ہیں ، جب کہ میں تو محمد ہوں ۔ ﷺ ﷺ ﷺ

( بخاری شریف ، ر3533 )

خاکے بنانے والے ، خاک ہوجائیں گے لیکن ہمارے آقا محمد پاک ﷺ کا خاکہ کبھی نہیں بنا پائیں گے ۔
کفار قریش کی طرح اللہ پاک نے ان کا طعن انھی کی طرف پھیر دیا ہے ، یہ دنیا و آخرت میں رسوا رہیں گے ۔

✍️لقمان شاہد
2-11-2020 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3002492680030901&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM