🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضور ﷺ کے متعلق حضرت عیسیٰ حضور کی تشریف آوری " عیسیٰ میلاد مصطفیٰ قرآن کے آئینے میں میلاد مصطفیٰ اور دلائل احمد رضا عید میلاد النبی ﷺ پر کتابیں 📚 ایک اصلاحی پیغام قوم مسلم کے اجماع امت قرآن کی روشنی میں سواد اعظم بڑی جماعت کی پیروی مشہور ائمہ محدثین و مفسرین…
عید میلاد النبی ﷺ شیخ عبد الحق
محفل میلاد میں درود و سلام ...
میلاد النبی علامہ ملا علی قاری کی
محفل میلاد کے متعلق " نظریات
عالم اسلام کو میلاد النبی مبارک
حضور سے بڑھ کر کون مستحق
ذکر ولادت روح اقدس کی حاضری
میلاد النبی شاہ ولی اللہ کی نظر
محدث ابن جوزی کی نظر میں
فرمان محدث ابن جوزی | میلاد
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #میلاد_النبی📜 3
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Online Apply Documents ↴ آدھار کارڈ میں تبدیلی ... Aadhar Card आधार में सुधार https://youtu.be/y4YQYeJdxfU موبائل پر آدھار کارڈ ڈاؤن لوڈ ... Aadhaar Download डाउनलोड https://youtu.be/Sm1jfdolMOQ بغیر موبائل نمبر کے آدھار ڈاؤنلوڈ Bina Mobile Download ht…
Name Change in Aadhar Card Online - aadhar card me name kaise change kare
https://youtu.be/BuG9w8S9pKA

Change Address & Father Name Online in Aadhar Card - father name correction in aadhar card online
https://youtu.be/AJNICjm65aI

Change Date of Birth in Aadhar Card Online - change name in aadhar card online | Aadhar Card Update
https://youtu.be/umU2LmZix8s

PVC Aadhar Card Unboxing - UIDAI Plastic Aadhar Card | pvc aadhar card first look
https://youtu.be/512waUaPohU

plastic aadhar card kaise banaye - pvc aadhar card | pvc aadhar card online order | uidai pvc aadhar
https://youtu.be/33f_dHpv3_A

pan card reprint kaise kare - reprint pan card online nsdl | physical pan card apply online 2020
https://youtu.be/Lo6Byz-Qg2Q

ایشان ایل ایل بی | ISHAN LLB
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
aadhar card kaise download kare | aadhar card reprint order online 2020
https://youtu.be/qDssP2GkIpg

Aadhar Card Date Of Birth Change Aadhar Card DOB Update 2020
https://youtu.be/l4elkJdfqbU

अब बिना मोबाइल नंबर के आधार कार्ड डाउनलोड करें | aadhar card
https://youtu.be/NqOoLJoM4q8

aadhar card correction online UIDAI New Update Rules
https://youtu.be/cf7oAij_yXs

plastic aadhar card kaise banaye - pvc aadhar card | pvc aadhar card online order | uidai pvc aadhar
https://youtu.be/PIenz1CGjcM

PVC Aadhar Card Unboxing Plastic Aadhar Card first look pvc aadhar card new design
https://youtu.be/cCJgZK0Zews

Change Date of Birth in Aadhar Card Online - change name in aadhar card online | Aadhar Card Update
https://youtu.be/Yl7HFR82CD4

Aadhaar Card Without Proof update online बिना डाकुमेंट आधार में नाम पता जन्म तारीख बदले
https://youtu.be/J6cdQ6uICxo

how to change name in aadhar card online | aadhar card me name kaise change kare
https://youtu.be/4MvfyhGIBJk

How to Update Address in Aadhar Card Online 2020 - Update Father / husband Name in Aadhar card
https://youtu.be/4DJdiCLVdio

How to Download Aadhar Card Without Mobile Number And OTP in 2021
https://youtu.be/z-ELqPNI48Q

نسیم علی | Naseem Ali | Nasim
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سیدنا_ابوبکر:#صدیق_بھی_رفیق_بھی!!
ولادت سرکار پر تذکرہ یارِ غار

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

عام الفیل(570ء) کو دو سال چھ ماہ گزرے تھے کہ ابو قحافہ عثمان بن عامر کے گھر ایک سعادت مند بچے نے آنکھیں کھولیں۔نام عبدالکعبہ رکھا گیا۔جو بعد میں بدل کر عبداللہ کردیا گیا تھا۔پرورش کا زمانہ شروع ہوگیا۔یہ وہ زمانہ تھا کہ عرب معاشرے میں دنیا بھر کی ساری برائیاں عام تھیں۔شراب نوشی و زنا کاری ان کا شوق تھی اور بت پرستی ان کی فطرت!
اسی بگڑے ہوئے معاشرے میں بچے نے پروان چڑھنا شروع کیا۔ جب یہ بچہ چار سال کا ہوگیا تو ایک دن ابو قحافہ اسے اپنے ساتھ لیکر بت خانے پہنچے اور ایک بڑے بت کی جانب اشارہ کرکے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ننھے بچے نے ایک نظر باپ کو دیکھا اور پھر بت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:
"میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے۔میں ننگا ہوں مجھے کپڑے دے۔میں تجھے پتھر مارتا ہوں اگر تو خدا ہے تو خود کو بچالے۔"
اتنا کہہ کر پتھر اٹھایا اور بت کو دے مارا۔بھلا وہ پتھر کی مورت کیا جواب دیتی اور کیا خود کو بچاتی؟پتھر لگا اور بت اوندھے منہ گر پڑا۔ابو قحافہ نے غضب ناک ہوکر بیٹے کے چہرے تھپڑ مارا۔مارے غصے کے گھسیٹتے ہوئے ان کی والدہ ام الخیر سلمی بنت صخر کے پاس لائے اور اس حرکت کی شکایت کی۔والدہ نے نہایت اطمینان سے جواب دیا:
"ابو قحافہ! بچے کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔جب یہ پیدا ہوا تھا تو مجھے غیب سے اس کے بارے میں اچھی باتیں بتائی گئی تھیں۔"

(سیرت خلیفۃ الرسول:ص37/38)

بت پرستی عربوں کی رگوں میں رچی بسی تھی لیکن فضل ربی نے اس بچے کو شرک کی گندگی سے محفوظ رکھا۔جانتے ہیں یہ بچہ کون تھا؟
یہ خوش نصیب بچہ کوئی اور نہیں حضور سید عالم ﷺ کے یار غار سیدنا ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے۔
بچپن گزرا، جوانی آئی۔عربوں کی خاندانی روایت کے مطابق آپ نے بھی تجارت کرنا شروع کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب پورے مکہ میں محمد عربیﷺ کی شرافت اور نیک نامی کی دھوم تھی۔لوگ اس جوان کی ایمان داری اور امانت داری کی قسمیں کھاتے تھے۔اتفاق یہ ہوا کہ ایک تجارتی سفر پر صدیق اکبر کو محمد عربیﷺ کی رفاقت نصیب ہوئی۔سفر ملک شام کا تھا۔راستے میں ایک مقام پر بیری کا درخت تھا۔حضور اس کی چھاؤں میں بیٹھ گئے۔وہیں پاس میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا۔اس نے آپ ﷺ کو دیکھا تو صدیق اکبر سے پوچھا،یہ شخص کون ہے؟
آپ نے جواب دیا:
عبد اللہ بن عبدالمطلب کے شہزادے محمد ہیں۔ﷺ
راہب نے کہا خدا کی قسم! یہ نبی ہیں۔اس درخت کے نیچے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے آج تک کوئی نہیں بیٹھا۔راہب کی یہ بات آپ کے دل پر نقش ہوگئی اور آپ نے حضورﷺ کی صحبت ورفاقت کو خود پر لازم کرلیا۔
(تاریخ مشائخ نقش بندیہ:ج1:ص121/122)

حضورﷺ کے اعلان نبوت سے پورے مکہ میں ایک ہنگامہ برپا تھا۔کل تک جس کی سچائی کی قسمیں کھائی جاتی تھیں آج اسے جھٹلایا جارہا تھا۔جس کی عقل وذہانت کی مثالیں دی جاتی تھیں آج اسی کو مجنون قرار دیا جارہا تھا۔جس وقت یہ معاملہ پیش آیا صدیق اکبر مکہ سے باہر گئے ہوئے تھے۔جب آپ واپس لوٹے تو حضور کے اعلان نبوت کے بارے میں خبر ملی۔خبر ملتے ہی آپ ﷺ سے ملاقات کی۔حضور ﷺ نے اسلام پیش فرمایا۔آپ نے بغیر سوچ وبچار کے فوراً ہی اسلام قبول کرلیا۔محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن عبدالرحمٰن نے بروایت عبد اللہ بن الحصین التمیمی بیان کیا:
أن رسول الله ﷺ ـ قال: ما دعوت أحدا إلى الإسلام إلا كانت عنده كبوة و تردد و نظر، إلا أبا بكر ما عتم عنه حين دعوته، و لا تردد فيه
"رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں نے کسی کو بھی اسلام کی دعوت دی تو اس کو تذبذب میں پایا اور اس کو تردد ہوا سوائے ابو بکر کے۔جب میں نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بغیر تذبذب اور تردد کے اسلام قبول کرلیا۔
(تاریخ الخلفا للسیوطی:ص32)

اللہ اکبر!
جس کے ایمان کی فضلیت خود "جان ایمان" بیان کریں اس کے مقام ومرتبے کا کون اندازہ کر سکتا ہے؟
قبل اسلام بھی صدیق اکبر عرب میں رائج برائیوں سے پاک وصاف تھے قبول اسلام کے بعد آپ کا کمال اور بڑھ گیا۔آپ نے خود کو اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے وقف کردیا۔اور بڑے پیمانے پر دعوت وتبلیغ کا کام شروع کردیا۔سب سے پہلے آپ نے اپنے اہل خانہ کو دین کی دعوت پیش کی۔آپ کی شہزادی حضرت اسما رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"ہمارے بابا جس دن ایمان لائے اسی دن سب گھر والوں کو اسلام کی دعوت پیش کی۔آپ اس وقت تک مجلس سے نہیں اٹھے جب تک ہم سب نے اسلام قبول نہیں کرلیا۔"
اہل خانہ کے بعد صدیق اکبر نے اپنے دوست واحباب کے درمیان تبلیغ دین کا آغاز فرمایا۔آپ کی مخلصانہ تبلیغ اور شخصیت سے متاثر ہوکر کئی مشاہیر افراد نے اسلام قبول فرمایا، اہم افراد میں حضرت عثمان غنی،حضرت زبیر بن عوام، حضرت طلحہ بن عبیداللہ،حضرت سعد بن وقاص، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف جیسی شخصیات شامل ہیں۔یہ پانچوں افراد "عشرہ مبشرہ" کی خوش نصیب جماعت کا حصہ ہیں۔عشرہ مبشرہ ان دس افراد کی جماعت کا نام ہے جنہیں حضورﷺ نے
دنیا میں ہی جنت کی بشارت عطا فرمائی۔ان دس خوش نصیبوں میں پانچ افراد نے حضرت ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول فرمایا۔
اعلان نبوت کا دسواں سال تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کو ایک ایسے سفر پر بلایا جو آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کسی کے نصیب میں نہیں آیا۔اس سفر کا ذکر قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے:
سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ۔
﴿سورہ بنی اسرائیل:۱﴾
"پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو، راتوں رات لے گیا۔مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک۔جس کے گرداگرد ہم نے برکت رکھی۔کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے۔"

مسجد حرام (مکہ) سے مسجد اقصی (فلسطین)تک کا سفر "اسرا" کہلاتا ہے۔ اس زمانے میں مکہ سے فلسطین کا فاصلہ تقریباً ایک مہینے سے زیادہ وقت میں طے ہوا کرتا تھا۔صدرالافاضل فرماتے ہیں:
"جس کا فاصلہ چالیس منزل یعنی سوا مہینہ سے زیادہ کی راہ ہے۔"
لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ سفر صرف رات کے ایک حصے میں ہی کرادیا۔سفر کا اگلا مرحلہ مسجد اقصی سے آسمانوں کے سفر کا تھا۔جسے معراج کہا جاتا ہے۔سفر کا یہ مرحلہ ایک رات کے کچھ ہی حصے میں مکمل ہوا۔صبح مصطفےٰ جان رحمت نے اہل مکہ سے اس سفر کا تذکرہ فرمایا تو اہل مکہ نے آپ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ جو سفر ایک مہینے میں طے ہوتا ہے وہ آپ نے رات کے مختصر وقت میں کیسے کرلیا؟
مکہ کا ہر انسان آپ ﷺ کو جھٹلا رہا تھا۔کیوں کہ عقلاً یہ سفر ناممکن تھا۔تیز رفتار گھوڑے اور اونٹ بھی ایک ماہ سے کم وقت میں مکہ سے فلسطین نہیں پہنچا سکتے تھے۔اس لیے کفار مکہ مسلسل آپ کے خلاف باتیں بنا رہے تھے۔مگر قربان جاؤں ابوبکر کی محبت پر کہ جب آپ نے یہ سنا تو فوراً حضور کی تصدیق فرمائی۔اسی واقعے کے بعد آپ کو بارگاہ رسالت سے صدیق اکبر کا خطاب حاصل ہوا۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
لما أسري بالنبي صلى الله عليه وسلم إلى المسجد الأقصى؛ أصبح يتحدث الناس بذلك؛ فارتدَّ ناس ممن كان آمنوا به وصدقوه، وسعى رجال من المشركين إلى أبي بكر رضي الله عنه، فقالوا: هل لك إلى صاحبك يزعم أنه أُسري به الليلة إلى بيت المقدس؟ قال: أو قال ذلك؟ قالوا: نعم قال: لئن قال ذلك لقد صدق، قالوا: أو تصدقه أنَّه ذهب الليلة إلى بيت المقدس، وجاء قبل أن يصبح؟ فقال: نعم، إني لأصدقه ما هو أبعد من ذلك، أصدقه في خبر السماء في غدوة أو روحة. فلذلك سُمِّي أبا بكر الصديق رضي الله عنه۔
(تاریخ الخلفا للسیوطی:ص 28)
"حضرت عائشہ فرماتی ہیں جس رات حضور کو معراج ہوئی تو صبح ہی مشرکین مکہ نے میرے والد کے پاس آکر کہا: آپ کو کچھ خبر ہے کہ آپ کے دوست یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ رات میں بیت المقدس پہنچا دئے گئے۔حضرت ابوبکر نے پوچھا کیا واقعی وہ ایسا کہتے ہیں؟
مشرکین نے کہا ہاں وہ یہی کہتے ہیں۔تو حضرت ابوبکر نے فرمایا وہ سچ کہتے ہیں۔اگر حضور صبح یا شام کو اس سے زیادہ آسمانوں کی سیر کی بھی خبر دیتے ہیں تو میں فوراً ہی اس کی تصدیق کرتا۔اسی تصدیق کی بنا پر آپ صدیق اکبر کے لقب سے مشہور ہوئے۔حضور سید عالم ﷺ فرماتے ہیں:
إنَّ الله بعثني إليكم، فقلتم: كذبت. في أول الأمر، وقال أبو بكر: صدقت. وواساني بنفسه وماله،
"اللہ تعالیٰ مجھے تمہاری جانب پیغمبر بنا کر بھیجا لیکن سب نے شروع میں مجھے جھٹلایا مگر ابوبکر نے میری تصدیق کی اور اپنے جان ومال کو میرے اوپر نچھاور کیا۔
عن ابي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة اسري به :"ان قومي لا يصدقوني " فقال له جبريل :يصدقك أبو بكر وهو الصديق " مجمع الزوائد (19/41)
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شب معراج میں نے جبریل سے کہا کہ میری قوم اس معراج کی تصدیق نہیں کرے گی۔حضرت جبریل نے عرض کیا:حضرت ابوبکر آپ کی تصدیق کریں گے وہ صدیق ہیں۔
امام حاکم نے نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے امیرالمومنین آپ ہمیں حضرت ابوبکر کے بارے میں بتائیے۔حضرت علی نے فرمایا:
"ذاك امرؤ سماه الله الصديق على لسان جبريل وعلى لسان محمد ، كان خليفة رسول الله- صلى الله عليه وسلم - رضيه لديننا فرضيناه لدنيانا۔(تاریخ الخلفا للسیوطی:ص 28)

"حضرت ابوبکر کی ہستی وہ ہستی ہے جس کا نام اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل امین اور حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی زبان مبارک سے صدیق رکھا۔اور وہ نماز میں رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ تھے۔پس جس شخص سے رسول اللہ ﷺ ہمارے دینی معاملات میں راضی ہوئے ہم اس سے اپنی دنیا کے معاملات کے لیے راضی ہوگئے۔(انہیں اپنا خلیفہ منتخب کر لیا)

جسے فرشتوں کا سردار صدیق کہے ، جسے انبیا کے سردار صدیق کہہ کر پکاریں تو امت انہیں صدیق کیوں نہ کہے:
اصدق الصادقیں ، سید المتقیں
چشم و گوش وزارت پہ لاکھوں سلام

امام جلال الدین سیوطی فرم
اتے ہیں:
صحب ابوبکر النبي عليه الصلاة والسلام من حين اسلم الي حين توفي لم يفارقه سفرا ولا حضرا ،الا فيما أذن له عليه الصلاة والسلام في الخروج فيه من حج وغزو ،وشهد معه المشاهد كلها ، (التاريخ الخلفا للسيوطي :32)
"تمام علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق قبول اسلام کے بعد سے حضور اقدس ﷺ کے وصال تک سفر وحضر میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے۔ سوائے اس کہ رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے آپ نے حج یا کسی غزوے میں شرکت کی ہو۔ ورنہ آپ ہر حال میں ہر وقت آپ ﷺ کے ساتھ رہتے تھے۔یہ ساتھ اتفاقی نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خود اپنے محبوب ﷺ کا ساتھی(صاحب) بنایا تھا:
اِذۡ ہُمَا فِی الۡغَارِ اِذۡ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔(سورہ توبہ :40)
"جب وہ دونوں غار میں تھے تو اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔"

جسے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے محبوب کا صاحب(رفیق) بنایا ہو بھلا وہ کیوں کر حضور ﷺ سے دور رہ سکتا تھا؟
جب آپ رات کو گھر تشریف لے جاتے تو حضور سے ملنے کی خاطر پوری رات بے چینی سے گزارتے۔جیسے ہی صبح صادق کا وقت آتا فوراً حاضر خدمت ہوجاتے۔حضور علیہ السلام سے اس قدر محبت تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اسی دن اپنے پاس بلایا جس دن حضور ﷺ نے وصال فرمایا تھا۔
عن عائشة رضي اللّه عنها قالت : إن أبابكر لما حضرته الوفاة قال : أي يوم هذا؟ قالوا : يوم الاثنين، قال : فإن مت من ليلتي فلا تنتظروا بي لغد، فإن أحب الأيام والليالي إليّ أقربها من رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم .رواہ احمد (تاریخ الخلفا للسيوطي:68)
"ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:جس روز حضرت ابوبکر کی وفات ہوئی آپ نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟
عرض کیا گیا دوشنبہ ہے۔ فرمایا کہ آج رات میں انتقال کر جاؤں مجھے دفن کرنے میں کل تک تاخیر نہ کی جائے میں رسول اللہ ﷺ تک جتنا جلد پہنچ جاؤں اتنا ہی اچھا ہے۔"

جیسا محبوب نے چاہا ویسا ہی ہوا۔ پیر کی رات میں بعمر 63 سال آپ کا وصال ہوا اور رات میں ہی آپ کو آپ کے محبوب ﷺ کے پہلو میں دفن کردیا گیا اس طرح جدائی کا صبر آزما زمانہ ختم ہوا اور یار غار یار مزار بن گیا۔

یعنی اس افضل الخلق بعد الرسل
ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام

12 ربیع النور 1442ھ
30 اکتوبر 2020 بروز جمعہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3408332909284116&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#اضطراب_روح

کارٹون بنانے میں کیا حرج ہے؟۔۔۔تصویر بنانے سے کیا ہو جاتا ہے؟۔۔ایک کارٹون سے مسلم دنیا اتنا چراغ پا کیوں ہے؟۔۔یہ عقل سے پرے باتیں ہیں۔ جی ہاں!! یہ سب تمہارے لیے عقل سے پرے اور عجیب ہوں گی۔۔ لیکن کیا تم نے کبھی ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی دنیا کا مشاہدہ کیا ہے؟؟ کیا تم نے کبھی مدینہ سے لوٹتے مسافروں کا دھاڑیں مار کر رونا دیکھا ہے۔۔؟ مدینہ جانے کی سکت نہ رکھنے والے عاشق کے رخسار پہ حسرت ویاس کے ڈھلکتے آنسوؤں کو دیکھا ہے؟؟---
اچھا چلو تمہارے لیے یہ چیزیں نئی ہوں گی۔ لیکن تم نے تو بلال حبشی کے بے لوث محبت کا تذکرہ سنا ہوگا؟؟ صدیق اکبر کا سانپ کے بے تحاشہ ڈنک کو برداشت کر لینا، لیکن مصطفی کے جسم نازنین پہ ہلکی سی خراش نہ آنے دینا؟؟ مولا علی کا نماز قضا ہونے دینا، لیکن مصطفیٰ کی نیند میں خلل نہ پڑنے دینا؟؟ سعد بن ابی وقاص کا سرکار کے لیے تیروں کا بوچھار اپنے سینے میں پیوست کرنا؟؟ مصعب بن عمیر کا حضور کے عشق میں دولت وثروت کو ٹھوکریں مار دینا؟۔۔صحابہ کا حضور کے وضو سے گرتے ہوئے پانی کو زمین پر بھی نہ گرنے دینا؟ حضور کی مجلس میں نیچی نگاہوں کے ساتھ ایسے بیٹھنا جیسے سروں پہ چڑیا بیٹھی ہو؟۔؟ حضور کی بارگاہ میں اتنے خفیف لہجہ میں عرض گزاری کرنا کہ حضور کو دوبارہ کہنا پڑے کہ زور سے بولو!!؟
یہ تو خیر انسان ہیں۔ کیا تم نے ہرنی کا یارسول اللہ کی صدائیں لگانا۔۔ بھیڑیا کی گواہی دینا۔۔ درندے جانوروں کا مجبور ہو کر حضور کی زیارت کے لیے حلیمہ سعدیہ کی بکریوں کو پکڑ لینا۔۔ اونٹ کا اپنے مالک کی شکایت لیے حضور کی بارگاہ میں گہار لگانا۔۔ درخت کا اپنی جڑیں گھسیٹ کر حضور کے دیدار کے لیے حاضر ہو جانا۔۔ استن حنانہ کا بچوں کے طرح رونا اور پھر حضور کا اسے گلے لگا کر تھپکیاں دیتے ہوۓ ڈھارس بندھانا۔۔
خیر چھوڑو!! تمہیں یہ جذبات واحساسات کی باتیں کہاں سمجھ آئیں گی۔ پر ہاں تم نے اپنے ماتھے پر انسانیت کا لیبل ضرور لگایا ہے۔ شاید تم نے حضور کا انسانیت کے لیے بے لوث قربانیوں کا تذکرہ ضرور سنا ہوگا۔ کہ کس طرح حضور نے زندہ درگور ہوتی بچیوں کو بچایا۔۔ عورتوں کا حق دلایا۔۔ کالے اور گورے کے فرق کو ختم کیا۔۔ نسبی جاہ کو بے وقعت بتایا۔ لوگوں کو معاف کرنا سکھایا۔ فتح مکہ کے وقت جن کے ہاتھ خون سے سنے تھے، انہیں بھی معاف کر دیا۔۔ چیونٹیوں کے بلوں کو بھی آگ لگانے کی ممانعت کی، چہ جائیکہ انسانوں کو آگ لگانا۔ مظلوموں کی دستگیری کی۔ انسانیت کے لیے پیٹ پر پتھر باندھے۔۔انسانیت کی تعظیم سکھائی۔ جہالت کے اندھیارے میں بھٹکتی انسانیت کو خود آگہی عطا کی۔۔
تمہارے بقول تمہاری دنیا کو فکری وسعتیں عطا کرنے والے مفکرین جیسے مائیکل ہارٹ، جرمن شاعر گوئٹے، جارج برناڈشا، ٹالسٹائی، اینی بیسنٹ، نیپولین بوناپارٹ، موہن داس گاندھی، تھامس کار لائل، ولیم میور، لا مارٹین، گرو نانک، جان ولیم، کیرن آرم سٹرانگ اور ان کے علاوہ کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔ شاید تم نے ان کے تاثرات پڑھیں ہوں گے۔
اگر تم یہ سب پڑھ چکے ہو، پھر بھی تم ان کی گستاخیوں سے باز نہیں آتے، تو سن لو اے مغرب!!! تم انسانیت کے ہتھیارے ہو۔ تم نے انسانی اقدار کا جنازہ نکالا ہے۔ تم بےحسی کی گہری کھائی میں گر چکے ہو۔ تمہارے تعفن زدہ نظریات ہرگز انسانیت کی قیادت نہیں کر سکتی۔ تم نے آزادئ رائے کے نام پہ کروڑوں لوگوں کے دل چھلنی کیے ہیں۔ تم ذاتی فوائد کے لیے ہمارے تقدسات کو سیاست کی منڈلیوں میں لے کر آۓ، اور پھر تم نے وہ کیا جس نے کروڑوں مسلمانوں کو بلبلا کر رکھ دیا۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تمہارے ایک کارٹون نے کتنی روحوں کو مضطرب کر کے رکھ دیا ہے؟؟ کتنوں کی نیندیں اجاڑ کر دھر دیں ہیں؟؟ سکون کی راتیں، رتجگوں میں بدل کر دھر دی ہیں۔ کاش تمہیں اندازہ ہوتا!!!!
کتنے ظالم ہو تم!!! تمہاری قساوت قلبی اللہ کی پناہ!! ہوش کے ناخن لو، اس سے پہلے کہ تمہارے عالی شان محلات پہ "إنا كفيناك المستهزئين" کی بجلیاں کوند جائیں، باز آ جاؤ!!!!!

✍️ #احمد_رضا_ازہری،
رام گڑھ، جھارکھنڈ
جامعہ ازہر قاہرہ، مصر

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1331149717277211&id=100011465858723
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عقائد کی مضبوطی کیسے ہو؟
از محمد زبیر قادری
..ایک بار میں جامع مسجد دہلی کے سامنے ایک دیوبندی کتب فروش کے مکتبہ پر کچھ کتب لینے وہاں بیٹھا تھا، اتنے میں چند نوجوان لڑکے آئے اور تقویت الایمان، حفظ الایمان، تحذیر الناس، براہین قاطعہ وغیرہ قابلِ اعتراض کتب طلب کرنے لگے۔ مجھے حیرت ہوئی۔ خیر کتب تو نہ ملی۔ میرے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ لوگ مہاراشٹر کے کسی علاقے سے آئے تھے اور بدمذہبوں کے رد کے لیے حوالے کے لیے یہ کتب طلب کر رہے تھے۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ ہمارے اسٹیج کے مقررین علما نے عوام کو مناظروں میں اُلجھا رکھا ہے جبکہ عوام بنیادی عقائد سے ہی ناواقف ہیں۔ کیا ضروری ہے کہ اپنی تقریروں میں چیخ چیخ کر یہ بتانا کہ تھانوی نے یہ لکھا، گنگوہی نے یہ لکھا، قاسمی نے یہ لکھا؟۔۔ لیکن ان مقررین حضرات کو یہ نہیں پتہ کہ دیوبندیوں نے اپنی اکثر کتب میں تحریفات کردی ہیں، جس وجہ سے ان کی گستاخیاں نرم پڑ گئیں۔ اور اہم بات یہ کہ ہمارے یہ نوجوان جب یہ کتب ان کو دکھاتے ہیں تو دیوبندی کہتے کہ یہ کتابیں تم لوگ چھاپ کر ہم کو بدنام کرتے ہیں۔ یہ دیکھو ہماری کتابیں، جس میں وہ عبارتیں نہیں ہوتیں۔ تو نوجوان ناکام ہوجاتے ہیں۔
جبکہ ہمارے یہ نوجوان جو ہمیشہ دیوبندیوں سے مناظرہ کرکے فتح کا جشن منانا چاہتے ہیں، ان کی دینی معلومات نہایت کمزور ہوتی ہیں۔ عقائد اہلِ سنّت کا علم نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ غسل، وضو، نماز جیسی بنیادی چیزوں کے فرائض کا علم بھی کم ہی نوجوانوں کو ہوتا ہے، جس پر عبادتوں کا انحصار ہے۔
افسوس ان مقرروں پر جو ردِ وہابیہ پر ہمیشہ ایسی بے سروپا و غیر مستند تقریریں کرتے ہیں کہ کوئی دیوبندی سوال کردے تو جواب نہ بن پڑے۔ مگر ان کی تقاریر سن کر نوجوان طبقہ جوش میں ہوش کھودیتا ہے۔ کیا ایسی تقریروں سے نوجوان نسل کا ایمان محفوظ ہوسکتا ہے؟
جب کہ ضرورت ہے عقائد اہلِ سنّت کی تعلیم کی۔ اللہ و رسول کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے۔ کفر، شرک اور بدعت کیا ہے، اور عبادات کے لیے ضروری علم سے واقفیت ہونا چاہیے۔ ہمارے نوجوان بہکتے ہیں بنیادی عقائد میں کمزوری کی وجہ سے۔ عقائد مضبوط کردیجیے، پھر ان شاء اللہ نوجوان باطل فرقوں کی گمراہ کن تعلیمات سے بہکیں گے نہیں۔
اصل کام عقیدے اور ایمان کا تحفظ ہے، جسے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہی آج سب سے بڑی دینی ضرورت ہے۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2247578885385957&id=100004016020698
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
الحمد للہ،
#جماعت_رضاے_مصطفی، شاخ اتر دیناج پور کا وفد زخمیوں کی عیادت کے لئے سلی گوڑی روانہ ہوچکا ہے۔ آج کے وفد میں یہ حضرات شامل ہیں:

حضرت علامہ مفتی اختر رضا نوری صاحب،دبئی (خلیفہ حضور تاج الشریعہ)
حضرت مولانا واصل رضا یوسفی رشیدی مصباحی صاحب
حضرت مولانا شاکر رضا نوری صاحب
حضرت مولانا شاہ نواز حسین مصباحی صاحب
فقیر #انصار_احمد_مصباحی
اور ملنسار شخصیت جناب محمد رضا فیضی، (ابن علامہ مجاہد الاسلام نوری صاحب)
کامیاب دورے اور سفر کی سلامتی کے لئے دعا فرمائیں!

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1480611012145303&id=100005892551490
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

مسئلہ تکفیر تحقیقی ہے یا تقلیدی؟

خلیل بجنوری نے اپنی کتاب انکشاف حق میں جا بجا لکھا ہے کہ تکفیر کا مسئلہ تقلیدی نہیں,تحقیقی ہے۔

اب فرقہ بجنوریہ بھی خوب زور شور سے اس مسئلہ کی تشہیر کر کے لوگوں کو کنفیوزن میں مبتلا کر رہا ہے۔

تقلید صرف اجتہادی مسائل میں ہوتی ہے۔باب اعتقادیات میں تقلید نہیں ہوتی,بلکہ تصدیق ہوتی ہے۔

ایمان کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:

ہو التصدیق بما جاء بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم

ایمان تصدیق کا نام ہے,تحقیق کا نہیں۔

مستشرقین میں سے اکثر کو ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت کی تحقیق حاصل ہوتی ہے,لیکن اگر وہ تصدیق نہیں کرتے تو مومن نہیں۔

اب بتائیں کہ اعتقادی مسائل کی تصدیق فرض ہے یا تحقیق فرض ہے؟

ان شاء اللہ تعالی تفصیلی مضمون آئے گا۔البرکات میں مختلف مقامات پر اس کی تشریح مرقوم ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:05:نومبر2020

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3424160004368073&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

ضروریات اہل سنت کون سے امورہیں؟

شعار اہل سنت الگ امور ہیں اور ضروریات اہل سنت الگ امور ہیں۔شعار میں تبدیلی ممکن ہے اور ضروریات میں تبدیلی ممکن نہیں۔کبھی شعار اہل سنت کو مجازی طورپر ضروریات اہل سنت میں شمار کردیا جاتا ہے۔ وہاں ضروریات کا اصطلاحی مفہوم مراد نہیں ہوتا،مثلاً عہد حاضر میں سلام وقیام،میلادوعرس وفاتحہ ونیاز کو شعار اہل سنت میں شمار کیاجاتا ہے۔ اگر کوئی ان امور کو ضروریات اہل سنت میں شمار کرے تووہاں لغوی معنی مراد ہوگا۔

ہر وہ امردینی جو قطعی الد لالت بالمعنی الاخص وقطعی الثبوت بالمعنی الاخص دلیل سے ثابت ہو، وہ ضروری دینی ہے۔

ضروریات دین کے چار دلائل ہیں:(1)قرآن مجید کی مفسرآیات مقدسہ (2)مفسر احادیث متواتر ہ (متواترات لفظیہ)(3)اجماع متصل (4) عقل صحیح۔

ہروہ امرجوقطعی بالمعنی الاعم دلیل سے ثابت ہو، وہ ضروریات اہل سنت میں سے ہے۔

تفہیم کی آسانی کی خاطر ضروریات اہل سنت کو ہم نے چار ذیلی خانوں میں تقسیم کردیا ہے۔

(1)جوامور قطعی بالمعنی الاعم دلائل سے ثابت ہوں۔

(الف)خواہ وہ دلیل صرف دلالت کے اعتبارسے قطعی بالمعنی الاعم ہو، اورثبوت کے اعتبارسے قطعی بالمعنی الاخص ہو،جیسے قرآن مجید کی آیت طیبہ سے آخرت میں رویت باری تعالیٰ کا ثبوت۔ آیت مقدسہ قطعی الثبوت بالمعنی الاخص ہے،لیکن اس مفہوم پر دلالت قطعی بالمعنی الاعم ہے۔

(ب)یاوہ دلیل صرف ثبوت کے اعتبار سے قطعی بالمعنی الاعم ہو، اور دلالت کے اعتبار سے قطعی بالمعنی الاخص ہو،جیسے شفاعت برائے مذنبین کہ اس کا ثبوت ان احادیث طیبہ سے ہے جو متواتر معنوی ہیں،متواتر لفظی نہیں ہیں۔متواتر معنوی قطعی بالمعنی الاعم ہوتا ہے۔

(ج)یا وہ دلیل ثبوت اور دلالت دونوں اعتبارسے قطعی بالمعنی الاعم ہے،جیسے کوئی متواتر المعنی حدیث جواپنے مفہوم پر بطریق نص یا بطریق ظاہر دلالت کرے۔متواتر معنوی اپنے ثبوت کے اعتبارسے قطعی بالمعنی الاعم ہوتا ہے اورظاہرو نص دلالت کے اعتبارسے قطعی بالمعنی الاعم ہوتی ہے۔

(2)جس امر پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا اجماع منصوص(اجماع غیر سکوتی)ہو،جیسے اجماع صحابہ سے خلافت صدیقی کا ثبوت ہوا۔یہ ضروریات اہل سنت میں سے ہے۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کااجماع منصوص دلیل قطعی بالمعنی الاعم ہے۔

(3)فرض اعتقادی۔ فرض اعتقادی کا ثبوت دلیل قطعی بالمعنی الاعم سے ہوتا ہے۔

فرض قطعی ضروریات دین میں سے ہے اورفرض اعتقادی ضروریات اہل سنت میں سے ہے۔

(4)جو ضروری دینی(واجب شرعی) واجب عقلی بھی ہو، اس کی ضد کا امکان ذاتی ماننا ضلالت وگمرہی ہے،اور ضد کا امکان وقوعی ماننا کفر کلامی ہے۔ واجب عقلی کی ضد کا امکان ذاتی نہ ماننا ضروریات اہل سنت میں سے ہے،اور اس ضد کاامکان وقوعی نہ ماننا ضروریات دین میں سے ہے، جیسے صدق الٰہی واجب عقلی ہے۔صدق کی ضد کذب ہے۔کذب باری تعالیٰ کا امکان ذاتی ماننا ضلالت وگمرہی ہے اور امکان وقوعی ماننا کفر کلامی ہے۔

اسی مفہوم کی تعبیردوم:
وہ امر جس کو ماننے سے کسی ضروری دینی کا لزومی انکار ہوجاتا ہوتو اس کونہیں ماننا ضروریات اہل سنت میں سے ہوگا،جیسے کذب کا امکان عقلی ماننے سے صدق باری تعالیٰ کا لزومی انکار ہوجاتا ہے تو امکان کذب نہیں ماننا ضروریات اہل سنت میں سے ہوگا۔

کذب کاامکان وقوعی ماننے سے صدق الٰہی کاقطعی بالمعنی الاخص طورپربطلان ہوجاتا ہے تو امکان وقوعی نہ ماننا ضروریات دین میں سے ہوگا،اور کذب کا امکان وقوعی ماننا کفرکلامی ہوگا۔

تعبیر سوم:
وہ محال شرعی جومحال عقلی بھی ہو، اس کا امکان ذاتی ماننا ضلالت وگمرہی ہے،اور اس کا امکان وقوعی ماننا کفر کلامی ہے،اوراس کا امکان ذاتی نہ ماننا ضروریات اہل سنت میں سے ہے اور اس کا امکان وقوعی نہ ماننا ضروریات دین میں سے ہے،جیسے کذب باری تعالیٰ محال شرعی ہونے کے ساتھ محال عقلی بھی ہے تواس کا امکان ذاتی ماننا ضلالت وگمرہی ہے،اوراس کا امکان وقوعی ماننا کفر کلامی ہے۔

اگر کوئی ضروری دینی واجب عقلی نہ ہو،یا کوئی محال شرعی محال عقلی نہ ہو تو مذکورہ بالا حکم نہیں،جیسے عفو کافر شرعا محال ہے،لیکن عقلا ممکن ہے،یعنی مغفرت کفار کا امکان ذاتی ہے، امکان وقوعی نہیں،بلکہ وہ محال بالغیر ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:05:نومبر2020

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3427189887398418&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM