Forwarded from Zubair 006
سوچ بدلو.....زندگی بدلو.....
میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔ جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی۔ اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا۔ اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔ اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔
اس نے ایک خوبصورت کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا ’سر جب تک میں آپ کا سامان ڈگی میں رکھوں، آپ میرا مشن سٹیٹ منٹ پڑھ لیں۔ میں نے آنکھیں موچ لیں۔ یہ کیا ہے؟‘ میرا نام سائیں ہے، آپ کا ڈرائیور۔ میرا مشن ہے کہ مسافروں کو سب سے مختصر، محفوظ اور سستے رستے سے ان کی منزل تک پہنچاؤں اور ان کو مناسب ماحول فراہم کروں ’۔ میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ میں نے آس پاس دیکھا تو ٹیکسی کا اندر بھی اتنا ہی صاف تھا جتنا کہ وہ باہر سے جگمگا رہی تھی۔
اس دوران وہ سٹئرنگ ویل پر بیٹھ چکا تھا۔ ’سر آپ کافی یا چائے پینا چاہیں گے۔ آپ کے ساتھ ہی دو تھرماس پڑے ہوئے ہیں جن میں چائے اور کافی موجود ہے‘ ۔ میں نے مذاق میں کہا کہ نہیں میں تو کوئی کولڈ ڈرنک پیوں گا۔ وہ بولا ’سر کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے پاس آگے کولر پڑا ہوا ہے۔ اس میں کوک، لسی، پانی اور اورنج جوس ہے۔ آپ کیا لینا چاہیں گے؟‘ میں نے لسی کا مطالبہ کیا اور اس نے آگے سے ڈبہ پکڑا دیا۔ میں نے ابھی اسے منہ بھی نہیں لگایا تھا کہ اس نے کہا ’سر اگر آپ کچھ پڑھنا چاہیں تو میرے پاس اردو اور انگریزی کے اخبار موجود ہیں‘ ۔
اگلے سگنل پر گاڑی رکی تو سائیں نے ایک اور کارڈ مجھے پکڑا دیا کہ اس میں وہ تمام ایف ایم سٹیشن ہیں جو میری گاڑی کے ریڈیو پر لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں وہ تمام البم بھی ہیں جن کی سی ڈی میرے پاس ہے۔ اگر آپ کو موسیقی سے شوق ہے تو میں لگا سکتا ہوں۔ اور جیسے یہ سب کچھ کافی نہیں تھا، اس نے کہا کہ ’سر میں نے ائر کنڈیشنر لگا دیا ہے۔ آپ بتائیے گا کہ ٹمپریچر زیادہ یا کم ہو تو آپ کی مرضی کے مطابق کردوں‘ ۔
اس کے ساتھ ہی اس نے رستے کے بارے میں بتا دیا کہ اس وقت کس رستے پر سے وہ گزرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ اس وقت وہاں رش نہیں ہوتا۔ پھر بڑی پتے کی بات پوچھی ’سر اگر آپ چاہیں تو رستے سے گزرتے ہوئے میں آپ کو اس علاقے کے بارے میں بھی بتا سکتا ہوں۔ اور اگر آپ چاہیں تو آپ اپنی سوچوں میں گم رہ سکتے ہیں‘ وہ شیشے میں دیکھ کر مسکرایا۔
میں نے پوچھا ’سائیں، کیا تم ہمیشہ سے ایسے ہی ٹیکسی چلاتے رہے ہو؟‘ اس کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ آئی۔ ’نہیں سر، یہ کچھ دو سال سے میں نے ایسا شروع کیا ہے۔ اس سے پانچ سال قبل میں بھی اسی طرح کڑھتا تھا جیسے کہ دوسرے ٹیکسی والے کڑھتے ہیں۔ میں بھی اپنا سارا وقت شکایتیں کرتے گزارا کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک دن کسی سے سنا کہ سوچ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ یہ سوچ کی طاقت ہوتی ہے کہ آپ بطخ بننا پسند کریں گے کہ عقاب۔ اگر آپ گھر سے مسائل کی توقع کرکے نکلیں گے تو آپ کا سارا دن برا ہی گزرے گا۔ بطخ کی طرح ہر وقت کی ٹیں ٹیں سے کوئی فائدہ نہیں، عقاب کی طرح بلندی پر اڑو تو سارے جہاں سے مختلف لگو گے۔ یہ بات میرے دماغ کو تیر کی طرح لگی اور اس نے میری زندگی بدل دی۔
’میں نے سوچا یہ تو میری زندگی ہے۔ میں ہر وقت شکایتوں کا انبار لئے ہوتا تھا اور بطخ کی طرح سے ٹیں ٹیں کرتا رہتا تھا۔ بس میں نے عقاب بننے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو تمام ٹیکسیاں گندی دیکھیں۔ ان کے ڈرائیور گندے کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ ہر وقت شکایتیں کرتے رہتے تھے اور مسافروں کے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے۔ ان کے مسافر بھی ان سے بے زار ہوتے تھے۔ کوئی بھی خوش نہیں ہوتا تھا۔ بس میں نے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے میں نے چند تبدیلیاں کیں۔ گاڑی صاف رکھنی شروع کی اور اپنے لباس پر توجہ دی۔ جب گاہکوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی تو میں نے مزید بہتری کی۔ اور اب بھی بہتری کی تلاش ہے۔‘
میں نے اپنی دلچسپی کے لئے پوچھا کہ کیا اس سے تمہاری آمدنی پر کوئی فرق پڑا
’سر بڑا فرق پڑا۔ پہلے سال تو میری انکم ڈبل ہوگئی اور اس سال لگتا ہے چار گنا بڑھ جائے گی۔ اب میرے گاہک مجھے فون پر بک کرتے ہیں یا ایس ایم ایس کرکے وقت طے کرلیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے ایک اور ٹیکسی خریدنی پڑے گی اور اپنے جیسے کسی بندے کو اس پر لگانا پڑے گا۔‘
یہ سائیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے۔
کیا خیال ہے، اس ہفتے سے عقاب کا سفر نہ شروع کیا جائے؟ سائیں نے مجھے ایک نیا فلسفہ دیا۔
سوچ بدلو ۔ زندگی بدلو ۔
وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ کوئی بھی پانی میں گرنے سے نہیں مرتا۔مرتا وہ اس وقت ہے جب وہ اس مشکل سے نکلنے کے لیۓ ہاتھ پاؤں نہیں مارتا ہے.....
میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔ جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی۔ اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا۔ اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔ اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔
اس نے ایک خوبصورت کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا ’سر جب تک میں آپ کا سامان ڈگی میں رکھوں، آپ میرا مشن سٹیٹ منٹ پڑھ لیں۔ میں نے آنکھیں موچ لیں۔ یہ کیا ہے؟‘ میرا نام سائیں ہے، آپ کا ڈرائیور۔ میرا مشن ہے کہ مسافروں کو سب سے مختصر، محفوظ اور سستے رستے سے ان کی منزل تک پہنچاؤں اور ان کو مناسب ماحول فراہم کروں ’۔ میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ میں نے آس پاس دیکھا تو ٹیکسی کا اندر بھی اتنا ہی صاف تھا جتنا کہ وہ باہر سے جگمگا رہی تھی۔
اس دوران وہ سٹئرنگ ویل پر بیٹھ چکا تھا۔ ’سر آپ کافی یا چائے پینا چاہیں گے۔ آپ کے ساتھ ہی دو تھرماس پڑے ہوئے ہیں جن میں چائے اور کافی موجود ہے‘ ۔ میں نے مذاق میں کہا کہ نہیں میں تو کوئی کولڈ ڈرنک پیوں گا۔ وہ بولا ’سر کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے پاس آگے کولر پڑا ہوا ہے۔ اس میں کوک، لسی، پانی اور اورنج جوس ہے۔ آپ کیا لینا چاہیں گے؟‘ میں نے لسی کا مطالبہ کیا اور اس نے آگے سے ڈبہ پکڑا دیا۔ میں نے ابھی اسے منہ بھی نہیں لگایا تھا کہ اس نے کہا ’سر اگر آپ کچھ پڑھنا چاہیں تو میرے پاس اردو اور انگریزی کے اخبار موجود ہیں‘ ۔
اگلے سگنل پر گاڑی رکی تو سائیں نے ایک اور کارڈ مجھے پکڑا دیا کہ اس میں وہ تمام ایف ایم سٹیشن ہیں جو میری گاڑی کے ریڈیو پر لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں وہ تمام البم بھی ہیں جن کی سی ڈی میرے پاس ہے۔ اگر آپ کو موسیقی سے شوق ہے تو میں لگا سکتا ہوں۔ اور جیسے یہ سب کچھ کافی نہیں تھا، اس نے کہا کہ ’سر میں نے ائر کنڈیشنر لگا دیا ہے۔ آپ بتائیے گا کہ ٹمپریچر زیادہ یا کم ہو تو آپ کی مرضی کے مطابق کردوں‘ ۔
اس کے ساتھ ہی اس نے رستے کے بارے میں بتا دیا کہ اس وقت کس رستے پر سے وہ گزرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ اس وقت وہاں رش نہیں ہوتا۔ پھر بڑی پتے کی بات پوچھی ’سر اگر آپ چاہیں تو رستے سے گزرتے ہوئے میں آپ کو اس علاقے کے بارے میں بھی بتا سکتا ہوں۔ اور اگر آپ چاہیں تو آپ اپنی سوچوں میں گم رہ سکتے ہیں‘ وہ شیشے میں دیکھ کر مسکرایا۔
میں نے پوچھا ’سائیں، کیا تم ہمیشہ سے ایسے ہی ٹیکسی چلاتے رہے ہو؟‘ اس کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ آئی۔ ’نہیں سر، یہ کچھ دو سال سے میں نے ایسا شروع کیا ہے۔ اس سے پانچ سال قبل میں بھی اسی طرح کڑھتا تھا جیسے کہ دوسرے ٹیکسی والے کڑھتے ہیں۔ میں بھی اپنا سارا وقت شکایتیں کرتے گزارا کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک دن کسی سے سنا کہ سوچ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ یہ سوچ کی طاقت ہوتی ہے کہ آپ بطخ بننا پسند کریں گے کہ عقاب۔ اگر آپ گھر سے مسائل کی توقع کرکے نکلیں گے تو آپ کا سارا دن برا ہی گزرے گا۔ بطخ کی طرح ہر وقت کی ٹیں ٹیں سے کوئی فائدہ نہیں، عقاب کی طرح بلندی پر اڑو تو سارے جہاں سے مختلف لگو گے۔ یہ بات میرے دماغ کو تیر کی طرح لگی اور اس نے میری زندگی بدل دی۔
’میں نے سوچا یہ تو میری زندگی ہے۔ میں ہر وقت شکایتوں کا انبار لئے ہوتا تھا اور بطخ کی طرح سے ٹیں ٹیں کرتا رہتا تھا۔ بس میں نے عقاب بننے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو تمام ٹیکسیاں گندی دیکھیں۔ ان کے ڈرائیور گندے کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ ہر وقت شکایتیں کرتے رہتے تھے اور مسافروں کے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے۔ ان کے مسافر بھی ان سے بے زار ہوتے تھے۔ کوئی بھی خوش نہیں ہوتا تھا۔ بس میں نے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے میں نے چند تبدیلیاں کیں۔ گاڑی صاف رکھنی شروع کی اور اپنے لباس پر توجہ دی۔ جب گاہکوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی تو میں نے مزید بہتری کی۔ اور اب بھی بہتری کی تلاش ہے۔‘
میں نے اپنی دلچسپی کے لئے پوچھا کہ کیا اس سے تمہاری آمدنی پر کوئی فرق پڑا
’سر بڑا فرق پڑا۔ پہلے سال تو میری انکم ڈبل ہوگئی اور اس سال لگتا ہے چار گنا بڑھ جائے گی۔ اب میرے گاہک مجھے فون پر بک کرتے ہیں یا ایس ایم ایس کرکے وقت طے کرلیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے ایک اور ٹیکسی خریدنی پڑے گی اور اپنے جیسے کسی بندے کو اس پر لگانا پڑے گا۔‘
یہ سائیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے۔
کیا خیال ہے، اس ہفتے سے عقاب کا سفر نہ شروع کیا جائے؟ سائیں نے مجھے ایک نیا فلسفہ دیا۔
سوچ بدلو ۔ زندگی بدلو ۔
وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ کوئی بھی پانی میں گرنے سے نہیں مرتا۔مرتا وہ اس وقت ہے جب وہ اس مشکل سے نکلنے کے لیۓ ہاتھ پاؤں نہیں مارتا ہے.....
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
سیرتِ رسول ﷺ کا اہم باب
*"آمدِ بہار"*
مطالعہ کیجئے... احباب کو ترغیبِ مطالعہ دیجئے...
ذکرِ رسول ﷺ کی خوشبو سے گُلشنِ حیات میں بہاریں ہیں... ان کی یاد خوشبو... ان کا اخلاق خوشبو...ان کا تصور خوشبو... سیرت کا ہر باب خوشبو... ہر عنوان مُشک بو... ایمان و عقیدے کی بزم میں انھیں کے رُخِ انور کی روشنی ہے...
نامِ نامی محمد ﷺ کی تجلیاں پوری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں... آمد آمد کا چرچا ہوا... بزمِ انبیاء کرام علیہم السلام میں... بزمِ ملائکہ میں... وفاداری کا عہد لیا گیا... محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا... میلاد منایا گیا... کتاب و سُنّت میں کئی درخشاں ابواب موجود ہیں... ایمانی بصیرت سے دیکھیں تو دل و نگاہ جگمگائیں گے...
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کے خامۂ زرنگار سے محبت و عقیدت کے پاکیزہ نقوش "آمدِ بہار" ملاحظہ فرمائیں... نوری مشن مالیگاؤں سے مطبوع بہاروں کا گلشن تازہ ہے... سطر سطر سے محبتوں کی شمع روشن ہوتی ہے... اور حرف حرف ایمان کی تب و تاب میں اضافہ کرتا ہے... مطالعۂ سیرت کا دل نشیں اسلوب مشاہدہ ہوتا ہے... آپ بھی ذکرِ محبوب ﷺ کی بزمِ مطالعہ میں مؤدب ہو جائیے... ان شاء اللہ! نصیبہ چمک اُٹھے گا... ذکرِ میلادِ رسول ﷺ کی برکتوں سے قندیلِ حیات فروزاں ہوگی...
اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اسی سے ہے؛ جان کی وہ ہی جان ہے
(اعلیٰ حضرت)
٭٭٭
نقوشِ قلم: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
٢٣ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4516378305104127/
*"آمدِ بہار"*
مطالعہ کیجئے... احباب کو ترغیبِ مطالعہ دیجئے...
ذکرِ رسول ﷺ کی خوشبو سے گُلشنِ حیات میں بہاریں ہیں... ان کی یاد خوشبو... ان کا اخلاق خوشبو...ان کا تصور خوشبو... سیرت کا ہر باب خوشبو... ہر عنوان مُشک بو... ایمان و عقیدے کی بزم میں انھیں کے رُخِ انور کی روشنی ہے...
نامِ نامی محمد ﷺ کی تجلیاں پوری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں... آمد آمد کا چرچا ہوا... بزمِ انبیاء کرام علیہم السلام میں... بزمِ ملائکہ میں... وفاداری کا عہد لیا گیا... محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا... میلاد منایا گیا... کتاب و سُنّت میں کئی درخشاں ابواب موجود ہیں... ایمانی بصیرت سے دیکھیں تو دل و نگاہ جگمگائیں گے...
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کے خامۂ زرنگار سے محبت و عقیدت کے پاکیزہ نقوش "آمدِ بہار" ملاحظہ فرمائیں... نوری مشن مالیگاؤں سے مطبوع بہاروں کا گلشن تازہ ہے... سطر سطر سے محبتوں کی شمع روشن ہوتی ہے... اور حرف حرف ایمان کی تب و تاب میں اضافہ کرتا ہے... مطالعۂ سیرت کا دل نشیں اسلوب مشاہدہ ہوتا ہے... آپ بھی ذکرِ محبوب ﷺ کی بزمِ مطالعہ میں مؤدب ہو جائیے... ان شاء اللہ! نصیبہ چمک اُٹھے گا... ذکرِ میلادِ رسول ﷺ کی برکتوں سے قندیلِ حیات فروزاں ہوگی...
اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اسی سے ہے؛ جان کی وہ ہی جان ہے
(اعلیٰ حضرت)
٭٭٭
نقوشِ قلم: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
٢٣ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4516378305104127/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
علما کی خاموشی اور جاہل مقررین کی من مانی
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ.
آج کل ایک رواج سا ہوگیا ہے کہ اسٹیج پر خواہ کیسی ہی بے سرو پا روایات بیان کی جائیں، شعرا نہایت غلط کلام پڑھیں، نقیب زمین آسمان کے قلابے ہی کیوں نہ ملادے لیکن اسٹیج کی جان بنے مفتیان کرام، جلسے کی صدارت کر رہے نام نہاد "صدر" ایک لفظ ان کو نہیں کہتے - نتیجہ یہ ہوا کہ ہر "ایرا غیرا نتھو خيرا" علامۃ الدہر، مناظر اہل سنت، فاتح ایشیا و یوروپ بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے عوام اہل سنت صرف لفاظی سننے کی عادی ہوگئی اور انھیں کے بیانات سے مسحور ہو کر گمراہ تو ہوتی ہی ہے ساتھ میں لاکھوں روپیہ بھی برباد کرتی ہے.
مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ جب فتنہ اس قدر بڑھ چکا ہے تو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسٹیج پر ہی ٹونکیں، نہ ماننے پر دلائل مانگیں آج نیٹ کے دور میں ہر کتاب دستیاب ہے ایک دو گھنٹے کے اندر مقرر سے اس کے بولے ہوئے پر ثبوت پیش کرنے کو کہیں یا توبہ کرائیں اگر یہ طریقہ دو چار دس جگہ اپنا لیا جائے تو ہمارے جلسے بیجا روایات، جاہل مقررین دونو سے محفوظ ہو جائیں. یہ مقررین تو بول کر نکل جاتے ہیں جھیلنا مفتیان کرام اور علمائے اہل سنت کو ہی پڑتا ہے جب اغیار صبح اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارے مناظر اہل سنت کو دین کے اصول بھی نہیں آتے، ضعیف، موضوع روایات پر بھی تمیز کی صلاحیت نہیں تو علمائے اہل سنت انکے سامنے سے آنکھیں چراتے ہوئے گزرتے ہیں اور وہ پھبتیاں کستے ہیں.
ابھی ماہ صفر ہی میں ہمارے یہاں ہوے پروگرام میں تشریف لائے ایک عالم صاحب نے شہادت امام عالی مقام کے بعد کے ایسے واقعات پیش کئے کہ تھوڑا بھی علم و عقل رکھنے والا بندہ بھی سمجھ جائے کی یہ سب من گڑھت ہے.
سوئے اتفاق کہیے ہمارے یہاں قابل علما نہیں آتے،یا ہماری اور انکی ملاقات نہ ہوسکی، جن پروگراموں میں ہم پھنسے اچھے عالم نہیں تھے اور جو عالم اچھے ہوے ان پروگراموں میں ہماری حاضری نہ ہوسکی. میزبانی کی بنا پر ہم نے کبھی سامنے رد نہیں کیا پر بعد میں ہم نے اپنے لوگوں کے عقائد کی حفاظت کے لیے اصل چیزیں ضرور بیان کی ہیں اب لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ جتنے لوگ آتے ہیں سبھی غلط ہیں؟ اور یہ مولانا صاحب جو تقریر بھی اچھی نہیں کرتے دوسروں میں خامیاں نکالتے رہتے ہیں - لیکن اب ارادہ بنا رہے ہیں کہ اس کو روکنے کے لیے سامنے ہی دلیل طلب کی جائے گی تاکہ لفاظ مقررین سے عوام اہل سنت کو بچایا جا سکے.
*پیر صاحب ہوے تو اور مصیبت*
آج کل جاہل پیروں، انکے شہزادوں کا بھی دور دورہ ہے ایک لفظ پڑھا نہیں بس جو منہ میں آیا بک دیا انھیں کوئی عالم صاحب روک بھی نہیں سکتے ورنہ گالیاں، گولیاں دونوں کا اندیشہ ہے فوراً سیادت کا اموشنل کارڈ کھیل کر یہ جاہل پیران اور انکے شہزادگان عوام کو اپنی طرف مائل کرلیتے ہیں بھکت نما مرید بغیر حق جانے علما کو ہی غلط ٹھہراتے ہیں بلکہ اگر پیر صاحب کا علاقہ ہے تو عالم صاحب کا پتہ صاف ہوجاتا ہے. پیر صاحب کا فرمان قرآن و حدیث پر فوقیت رکھنے لگا ہے جو پیر صاحب کہ دیں بس وہی حق ہے باقی سب غلط - عوام اہل سنت کی یہ اندھ بھکتی صرف نقصان کا باعث ہے. اللہ عوام اہل سنت کو حق بولنے، سننے، سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین.
محمد زاہد علی مرکزی( کالپی شریف)
رکن روشن مستقبل ــ دہلی
چئیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
Zahidalibarkati@gmail.com
مورخہ : ٢٧ اکتوبر ٢٠١٩ ء
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/794766354427218/
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ.
آج کل ایک رواج سا ہوگیا ہے کہ اسٹیج پر خواہ کیسی ہی بے سرو پا روایات بیان کی جائیں، شعرا نہایت غلط کلام پڑھیں، نقیب زمین آسمان کے قلابے ہی کیوں نہ ملادے لیکن اسٹیج کی جان بنے مفتیان کرام، جلسے کی صدارت کر رہے نام نہاد "صدر" ایک لفظ ان کو نہیں کہتے - نتیجہ یہ ہوا کہ ہر "ایرا غیرا نتھو خيرا" علامۃ الدہر، مناظر اہل سنت، فاتح ایشیا و یوروپ بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے عوام اہل سنت صرف لفاظی سننے کی عادی ہوگئی اور انھیں کے بیانات سے مسحور ہو کر گمراہ تو ہوتی ہی ہے ساتھ میں لاکھوں روپیہ بھی برباد کرتی ہے.
مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ جب فتنہ اس قدر بڑھ چکا ہے تو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسٹیج پر ہی ٹونکیں، نہ ماننے پر دلائل مانگیں آج نیٹ کے دور میں ہر کتاب دستیاب ہے ایک دو گھنٹے کے اندر مقرر سے اس کے بولے ہوئے پر ثبوت پیش کرنے کو کہیں یا توبہ کرائیں اگر یہ طریقہ دو چار دس جگہ اپنا لیا جائے تو ہمارے جلسے بیجا روایات، جاہل مقررین دونو سے محفوظ ہو جائیں. یہ مقررین تو بول کر نکل جاتے ہیں جھیلنا مفتیان کرام اور علمائے اہل سنت کو ہی پڑتا ہے جب اغیار صبح اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارے مناظر اہل سنت کو دین کے اصول بھی نہیں آتے، ضعیف، موضوع روایات پر بھی تمیز کی صلاحیت نہیں تو علمائے اہل سنت انکے سامنے سے آنکھیں چراتے ہوئے گزرتے ہیں اور وہ پھبتیاں کستے ہیں.
ابھی ماہ صفر ہی میں ہمارے یہاں ہوے پروگرام میں تشریف لائے ایک عالم صاحب نے شہادت امام عالی مقام کے بعد کے ایسے واقعات پیش کئے کہ تھوڑا بھی علم و عقل رکھنے والا بندہ بھی سمجھ جائے کی یہ سب من گڑھت ہے.
سوئے اتفاق کہیے ہمارے یہاں قابل علما نہیں آتے،یا ہماری اور انکی ملاقات نہ ہوسکی، جن پروگراموں میں ہم پھنسے اچھے عالم نہیں تھے اور جو عالم اچھے ہوے ان پروگراموں میں ہماری حاضری نہ ہوسکی. میزبانی کی بنا پر ہم نے کبھی سامنے رد نہیں کیا پر بعد میں ہم نے اپنے لوگوں کے عقائد کی حفاظت کے لیے اصل چیزیں ضرور بیان کی ہیں اب لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ جتنے لوگ آتے ہیں سبھی غلط ہیں؟ اور یہ مولانا صاحب جو تقریر بھی اچھی نہیں کرتے دوسروں میں خامیاں نکالتے رہتے ہیں - لیکن اب ارادہ بنا رہے ہیں کہ اس کو روکنے کے لیے سامنے ہی دلیل طلب کی جائے گی تاکہ لفاظ مقررین سے عوام اہل سنت کو بچایا جا سکے.
*پیر صاحب ہوے تو اور مصیبت*
آج کل جاہل پیروں، انکے شہزادوں کا بھی دور دورہ ہے ایک لفظ پڑھا نہیں بس جو منہ میں آیا بک دیا انھیں کوئی عالم صاحب روک بھی نہیں سکتے ورنہ گالیاں، گولیاں دونوں کا اندیشہ ہے فوراً سیادت کا اموشنل کارڈ کھیل کر یہ جاہل پیران اور انکے شہزادگان عوام کو اپنی طرف مائل کرلیتے ہیں بھکت نما مرید بغیر حق جانے علما کو ہی غلط ٹھہراتے ہیں بلکہ اگر پیر صاحب کا علاقہ ہے تو عالم صاحب کا پتہ صاف ہوجاتا ہے. پیر صاحب کا فرمان قرآن و حدیث پر فوقیت رکھنے لگا ہے جو پیر صاحب کہ دیں بس وہی حق ہے باقی سب غلط - عوام اہل سنت کی یہ اندھ بھکتی صرف نقصان کا باعث ہے. اللہ عوام اہل سنت کو حق بولنے، سننے، سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین.
محمد زاہد علی مرکزی( کالپی شریف)
رکن روشن مستقبل ــ دہلی
چئیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
Zahidalibarkati@gmail.com
مورخہ : ٢٧ اکتوبر ٢٠١٩ ء
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/794766354427218/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا و حامدا::ومصلیا و مسلما
فضائل و مناقب مصطفویہ اور تالیفات و تصنیفات
حضور اقدس تاجدار دو جہاں علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی نے اپنی تخلیق کا ایک کامل نمونہ بنایا۔ان کا ظاہر و باطن,ان کے اعمال و اخلاق,محامد ومحاسن,فضائل و مناقب,اوصاف وکمالات سب کچھ بے نظیر ہیں۔
آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صحیح توصیف بیانی وہی کر سکتا ہے جس کو اپ کے فضائل وکمالات کا مکمل علم ہو۔
جب کہ مخلوقات میں کوئی ایسا نہیں۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(یا ابا بکر! لم یعرفنی حقیقۃ سوا ربی)
( مطالع المسرات للعلامۃ الفاسی)
ترجمہ: اے ابوبکر! درحقیقت مجھے میرے رب کے علاوہ کسی نے پہچانا نہیں۔
فارسی زبان کا ایک شعر بہت مشہور ہے:
ہمہ پیغمبراں در جستجو اند
خدا داند کہ تو در چہ مقامی
ترجمہ:تمام انبیائے کرام تلاش و جستجو میں مشغول ہیں۔
آپ کا رب ہی جانے کہ اپ کس مقام پر فائز المرام ہیں
(علیہ وعلی اخوانہ الصلوۃ والسلام)
ما و شما اگر اپنی جانکاری کے مطابق مدح نبوی میں کچھ رقم کریں یا زبان سے ادا کریں تو مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے اس عمل صالح کو قبول فرما لے اور اپنے حبیب علیہ التحیۃ والثنا کے تصدق ہمیں بھی کچھ نعمتیں میسر آ جائیں۔
الحاصل اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان پاک کی تفصیل کا ہمیں علم وادراک نہیں اور اجمال وہی ہے جو دربار اعظم کے عاشق صادق اور غلام مقبول حضرت علامہ جامی قدس سرہ العزیز نے عرض کر چکے:
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ تر توئی قصہ مختصر
ترجمہ:
اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شایان شان توصیف بیانی (مخلوقات سے)ممکن ہے۔
اجمال و خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے بعد سب سے عظیم ترین اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہی ہیں۔
یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جب وہابیہ اور دیابنہ نے شان مصطفوی پر انگشت نمائی شروع کی تو علمائے اہل سنت و جماعت نے حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی شان اقدس میں اس قدر کثیر تصانیف و تالیفات اور دواوین و دفاتر سپرد قوم کئے کہ جس کثرت کی مثال عہد ماضی میں نہیں ملتی۔
گرچہ متاخرین نے متقدمین کی تصانیف سے ہی خوشہ چینی کی ہے,لیکن علمائے متاخرین نے وہابیہ کے مجنونانہ لاف و گزاف کا منہ توڑ اور کمر شکن جواب دیا,تا آں کہ وہابیہ بھی عوام کو دکھانے کے واسطے حضور اقدس علیہ التحیۃ والثنا کے فضائل و مناقب بیان کرنے پر مجبور ہوئے۔
اب ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ چند باہمت نوجوان اٹھیں اور وہابیت کے افسوس ناک سوالوں کے رد وابطال میں علمائے حق نے محاسن نبویہ و فضائل مصطفویہ پر جو دفاتر حالیہ دو صدیوں میں رقم فرمائے ہیں,ان کی فہرست سازی کریں اور ان مجموعات کا تعارف بھی قلم بند کریں۔
بھارت میں حسام الحرمین کی جلوہ گری سے قبل شیاطین دیوبند اور دیگر وہابیہ کا مشغلہ یہی تھا کہ یہ متبعین اسماعیل دہلوی و مریدان عزازیل آتشی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں نقص وعیب تلاش کرتے رہتے۔
زبانیں بے لگام اور قلوب سیاہ فام ہو چکے تھے۔اسی کا نتیجہ تھا کہ اپنے کفر سے آشنا ہو کر بھی توبہ و رجوع کی توفیق سے سرفراز نہ ہو سکے۔
ہم تو نسلا بعد نسل غلامان دربار اعظم ہیں۔جب کوئی معترض نہ تھا تو بھی شان رسالت میں قصیدہ خوانی کرنا ہمارا موروثی وظیفہ اور آبائی پیشہ تھا۔جب ابن عبد الوہاب نجدی(1115-1206) نے سال ہجری 1143 سے وہابیت کی تبلیغ شروع کی اور شان مصطفوی میں ادب فراموش الفاظ بکنے لگا تو ہم میں سے کچھ لوگ کشتیوں کے چپو سنبھالے اور علم وعرفان کے سمندر میں چل پڑے۔ عمیق گہرائیوں میں خوشنما صدف پائے۔ان میں سے مدح مصطفوی اور منقبت محمدی کے جواہر اور موتیاں نکال لائے۔
وہ دیکھو! خیرآباد کے فضل حق کدال و پھاوڑا لے کر علم وفضل کے پہاڑوں کی طرف نکل پڑے۔
نہ جانے کتنے چٹانوں کے ٹکڑے کئے اور محاسن مصطفویہ ومناقب محمدیہ کے نادر و نایاب جگمگاتے ہیرے لے کر ائے۔قوم کے ہاتھوں میں امتناع النظیر دے گئے۔قیامت تک اس کی نظیر مشکل نظر اتی ہے۔
آو نوجوانو! ہم ان کی محبتوں اور محنتوں کو سلامی دیں اور محبت ناموں کی فہرست سازی کریں۔کیا کوئی ہے جو لبیک کہتا ہوا میرے ساتھ آئے؟؟؟
طارق انور مصباحی
28_10_2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/795078481062672/
فضائل و مناقب مصطفویہ اور تالیفات و تصنیفات
حضور اقدس تاجدار دو جہاں علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی نے اپنی تخلیق کا ایک کامل نمونہ بنایا۔ان کا ظاہر و باطن,ان کے اعمال و اخلاق,محامد ومحاسن,فضائل و مناقب,اوصاف وکمالات سب کچھ بے نظیر ہیں۔
آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صحیح توصیف بیانی وہی کر سکتا ہے جس کو اپ کے فضائل وکمالات کا مکمل علم ہو۔
جب کہ مخلوقات میں کوئی ایسا نہیں۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(یا ابا بکر! لم یعرفنی حقیقۃ سوا ربی)
( مطالع المسرات للعلامۃ الفاسی)
ترجمہ: اے ابوبکر! درحقیقت مجھے میرے رب کے علاوہ کسی نے پہچانا نہیں۔
فارسی زبان کا ایک شعر بہت مشہور ہے:
ہمہ پیغمبراں در جستجو اند
خدا داند کہ تو در چہ مقامی
ترجمہ:تمام انبیائے کرام تلاش و جستجو میں مشغول ہیں۔
آپ کا رب ہی جانے کہ اپ کس مقام پر فائز المرام ہیں
(علیہ وعلی اخوانہ الصلوۃ والسلام)
ما و شما اگر اپنی جانکاری کے مطابق مدح نبوی میں کچھ رقم کریں یا زبان سے ادا کریں تو مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے اس عمل صالح کو قبول فرما لے اور اپنے حبیب علیہ التحیۃ والثنا کے تصدق ہمیں بھی کچھ نعمتیں میسر آ جائیں۔
الحاصل اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان پاک کی تفصیل کا ہمیں علم وادراک نہیں اور اجمال وہی ہے جو دربار اعظم کے عاشق صادق اور غلام مقبول حضرت علامہ جامی قدس سرہ العزیز نے عرض کر چکے:
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ تر توئی قصہ مختصر
ترجمہ:
اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شایان شان توصیف بیانی (مخلوقات سے)ممکن ہے۔
اجمال و خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے بعد سب سے عظیم ترین اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہی ہیں۔
یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جب وہابیہ اور دیابنہ نے شان مصطفوی پر انگشت نمائی شروع کی تو علمائے اہل سنت و جماعت نے حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی شان اقدس میں اس قدر کثیر تصانیف و تالیفات اور دواوین و دفاتر سپرد قوم کئے کہ جس کثرت کی مثال عہد ماضی میں نہیں ملتی۔
گرچہ متاخرین نے متقدمین کی تصانیف سے ہی خوشہ چینی کی ہے,لیکن علمائے متاخرین نے وہابیہ کے مجنونانہ لاف و گزاف کا منہ توڑ اور کمر شکن جواب دیا,تا آں کہ وہابیہ بھی عوام کو دکھانے کے واسطے حضور اقدس علیہ التحیۃ والثنا کے فضائل و مناقب بیان کرنے پر مجبور ہوئے۔
اب ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ چند باہمت نوجوان اٹھیں اور وہابیت کے افسوس ناک سوالوں کے رد وابطال میں علمائے حق نے محاسن نبویہ و فضائل مصطفویہ پر جو دفاتر حالیہ دو صدیوں میں رقم فرمائے ہیں,ان کی فہرست سازی کریں اور ان مجموعات کا تعارف بھی قلم بند کریں۔
بھارت میں حسام الحرمین کی جلوہ گری سے قبل شیاطین دیوبند اور دیگر وہابیہ کا مشغلہ یہی تھا کہ یہ متبعین اسماعیل دہلوی و مریدان عزازیل آتشی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں نقص وعیب تلاش کرتے رہتے۔
زبانیں بے لگام اور قلوب سیاہ فام ہو چکے تھے۔اسی کا نتیجہ تھا کہ اپنے کفر سے آشنا ہو کر بھی توبہ و رجوع کی توفیق سے سرفراز نہ ہو سکے۔
ہم تو نسلا بعد نسل غلامان دربار اعظم ہیں۔جب کوئی معترض نہ تھا تو بھی شان رسالت میں قصیدہ خوانی کرنا ہمارا موروثی وظیفہ اور آبائی پیشہ تھا۔جب ابن عبد الوہاب نجدی(1115-1206) نے سال ہجری 1143 سے وہابیت کی تبلیغ شروع کی اور شان مصطفوی میں ادب فراموش الفاظ بکنے لگا تو ہم میں سے کچھ لوگ کشتیوں کے چپو سنبھالے اور علم وعرفان کے سمندر میں چل پڑے۔ عمیق گہرائیوں میں خوشنما صدف پائے۔ان میں سے مدح مصطفوی اور منقبت محمدی کے جواہر اور موتیاں نکال لائے۔
وہ دیکھو! خیرآباد کے فضل حق کدال و پھاوڑا لے کر علم وفضل کے پہاڑوں کی طرف نکل پڑے۔
نہ جانے کتنے چٹانوں کے ٹکڑے کئے اور محاسن مصطفویہ ومناقب محمدیہ کے نادر و نایاب جگمگاتے ہیرے لے کر ائے۔قوم کے ہاتھوں میں امتناع النظیر دے گئے۔قیامت تک اس کی نظیر مشکل نظر اتی ہے۔
آو نوجوانو! ہم ان کی محبتوں اور محنتوں کو سلامی دیں اور محبت ناموں کی فہرست سازی کریں۔کیا کوئی ہے جو لبیک کہتا ہوا میرے ساتھ آئے؟؟؟
طارق انور مصباحی
28_10_2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/795078481062672/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#این_سعادت_بزور_بازو_نیست
سلطان نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ کو جب خواب میں رسول پاک کی بشارت ہوئ اور حضور پاک نے انہیں حکم دیا کہ مدینہ منورہ آکر ان دو یہودیوں کو سزا دیں جو مجھے ایذا دے رہے سلطان یہ حکم سن کر رونے لگے آنکھ کھلی رخت سفر باندھا مدینہ پہنچے چونکہ حضور اکرم صلی علیہ وآلہ سلم نے ان دونوں کی شکل خواب ہی میں دکھا دی تھی آپ نے مدینہ منورہ میں اعلان کیا کہ تمام شہری حاضر ہوں سب کو تحائف دیے جائیں گے تمام اہل مدینہ حاضر ہوئے سلطان نے دونوں کو دیکھتے ہی پہچان لیا ان کے بارے میں پوچھا تمام نے کہا بہت متقی پرہیز گار مسجد نبوی میں عبادت کرتے ہیں اکثر اوقات معتکف رہتے ہیں آپ نے کہا مسجد نبوی میں یہ جس جگہ زیادہ وقت رہتے ہیں وہاں لے کر چلیں سلطان وہاں پہنچے تو دیکھا کچھ بھی نشان نہیں ملا آپ نے کہا کہ ان کی چادریں ہٹائیں جائیں صفوں کو ہٹایا جائے جب حکم کی تعمیل ہوئ تو سب دنگ رہ گیے پیروں تلے زمین کھسک گئ ایک سرنگ روضہ ء رسول کی طرف کو جا رہی تھی اس سرنگ کو دشمنانِ اسلام رات میں کھودتے تھے جب سب محو آرام ہوجاتے،، ان ظالموں کا منصوبہ بہت خطرناک تھا رسول اکرم صلی علیہ وسلم کے جسد اطہر کو نکالنے کا منصوبہ تھا مگر پیغمبر نے اپنے گستاخ کو ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری سلطان نور الدین زنگی کو عطا فرمائ،،،،
ع تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
مرے چشم عالم سے چھپ جانے والے
سلطان نے عبرت ناک سزا دی اور دونوں کا نام نشان مٹ گیا اس کے بعد والی حالت سلطان کی مجھے آپ سے عرض کرنا ہے جس کے لیے فقیر نے چند سطریں لکھیں ہیں،،،،
دونوں یہودیوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے بعد سلطان نور الدین زنگی دیوانہ وار مدینہ کی گلیوں میں چکر لگانے لگے روتے جاتے اور کہتے جاتے حضور آپ نے مجھ گنہگار سے یہ کام لیا
میں اس کرم کے کہاں تھا قابل
حضور کی بندہ پروری ہے،
حضور! آپ کی بندہ نوازی حضور آپ کی نگاہ انتخاب کہ نور الدین کو اس خدمت کے لیے منتخب فرمایا وہ دیوانوں کی طرح عشق کے گلدستے سجاتے چلے جاتے ان کی یہ حالت دیکھ کر عہد صحابہ کی یاد تازہ ہوگئیں جب پروانے شمع پر جان نچھاور کرنے کے لیے بغیر سامان جنگ ہی کے میدان میں اتر جاتے حضور وضو فرماتے تو پانی کے قطرے اپنے ہاتھوں میں لیتے ایک قطرہ بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے ،،،،
جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں،،،
توصیف رضا مصباحی سنبھلی
رکن: روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/795157567721430/
سلطان نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ کو جب خواب میں رسول پاک کی بشارت ہوئ اور حضور پاک نے انہیں حکم دیا کہ مدینہ منورہ آکر ان دو یہودیوں کو سزا دیں جو مجھے ایذا دے رہے سلطان یہ حکم سن کر رونے لگے آنکھ کھلی رخت سفر باندھا مدینہ پہنچے چونکہ حضور اکرم صلی علیہ وآلہ سلم نے ان دونوں کی شکل خواب ہی میں دکھا دی تھی آپ نے مدینہ منورہ میں اعلان کیا کہ تمام شہری حاضر ہوں سب کو تحائف دیے جائیں گے تمام اہل مدینہ حاضر ہوئے سلطان نے دونوں کو دیکھتے ہی پہچان لیا ان کے بارے میں پوچھا تمام نے کہا بہت متقی پرہیز گار مسجد نبوی میں عبادت کرتے ہیں اکثر اوقات معتکف رہتے ہیں آپ نے کہا مسجد نبوی میں یہ جس جگہ زیادہ وقت رہتے ہیں وہاں لے کر چلیں سلطان وہاں پہنچے تو دیکھا کچھ بھی نشان نہیں ملا آپ نے کہا کہ ان کی چادریں ہٹائیں جائیں صفوں کو ہٹایا جائے جب حکم کی تعمیل ہوئ تو سب دنگ رہ گیے پیروں تلے زمین کھسک گئ ایک سرنگ روضہ ء رسول کی طرف کو جا رہی تھی اس سرنگ کو دشمنانِ اسلام رات میں کھودتے تھے جب سب محو آرام ہوجاتے،، ان ظالموں کا منصوبہ بہت خطرناک تھا رسول اکرم صلی علیہ وسلم کے جسد اطہر کو نکالنے کا منصوبہ تھا مگر پیغمبر نے اپنے گستاخ کو ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری سلطان نور الدین زنگی کو عطا فرمائ،،،،
ع تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
مرے چشم عالم سے چھپ جانے والے
سلطان نے عبرت ناک سزا دی اور دونوں کا نام نشان مٹ گیا اس کے بعد والی حالت سلطان کی مجھے آپ سے عرض کرنا ہے جس کے لیے فقیر نے چند سطریں لکھیں ہیں،،،،
دونوں یہودیوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے بعد سلطان نور الدین زنگی دیوانہ وار مدینہ کی گلیوں میں چکر لگانے لگے روتے جاتے اور کہتے جاتے حضور آپ نے مجھ گنہگار سے یہ کام لیا
میں اس کرم کے کہاں تھا قابل
حضور کی بندہ پروری ہے،
حضور! آپ کی بندہ نوازی حضور آپ کی نگاہ انتخاب کہ نور الدین کو اس خدمت کے لیے منتخب فرمایا وہ دیوانوں کی طرح عشق کے گلدستے سجاتے چلے جاتے ان کی یہ حالت دیکھ کر عہد صحابہ کی یاد تازہ ہوگئیں جب پروانے شمع پر جان نچھاور کرنے کے لیے بغیر سامان جنگ ہی کے میدان میں اتر جاتے حضور وضو فرماتے تو پانی کے قطرے اپنے ہاتھوں میں لیتے ایک قطرہ بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے ،،،،
جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں،،،
توصیف رضا مصباحی سنبھلی
رکن: روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/795157567721430/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#بے_مقصد_ہوتے_جلسے
#M_Shahid_Ali_Misbahi
آج کل ہمارے اکثر جلسوں میں خرافات کا اچھا خاصا دخل ہے۔ آج صرف درد مند اور غیرت مند عالم ہی نہیں بلکہ تھوڑی سی سوجھ بوجھ رکھنے والا عام مسلمان بھی جلسوں میں ہونے والی خرافات، بے راہ روی، تضییع اوقات اور گروہ بندی سے پریشان ہے۔
جلسوں میں غیر مہذب بیانات سے غیر مہذب اشعار اور ایسے غیر مہذب اور غیر ذمہ دارانہ بیانات پر سبحان اللہ، الحمدللہ اور ماشاءاللہ کی صداؤں کے ساتھ نعرہ تکبیر و رسالت اور شیر اہلسنت ، فاتح فلاں فلاں مقام کی صدائیں گونجنے لگتیں ہیں۔
کبھی کبھی تو بغیر کسی بات کے بھی مائک پر آتے ہی کہا جاتا ہے پہلے سبحان اللہ کہو، تب ہم شروع کریں گے، اور پھر کیا کیا شروع کیا جاتا ہے یہ تو جلسوں سے واقف افراد جانتے ہی ہیں۔ ایسے ایسے مقامات پر سبحان اللہ کہلوادیا جاتا ہے کہ افسوس ہونے لگتا ہے جلسہ میں شریک ہونے پر۔
ذمہ دار کون؟؟؟
جلسہ میں موجود علما بھی اس خرافات میں برابر کے شریک ہیں مگر میں اس شخص کو ذمہ دار قرار دوں گا جس نے نظامت جیسی بدعت کو ایجاد کیا ہے۔
کیوں کہ اس آدمی کی جلسہ کو کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی جسے ناظم بناکر بٹھایا جاتا ہے۔ مگر یہ صاحب ہر میلاد اور ہر جلسے کی آبرو سمجھے جاتے ہیں۔ اور واعظین و شعرا (ارے نہیں وہ واعظ اور شاعر کہلانے کے لائق ہی نہیں انہیں تو مقرر اور گویّا ہی کہاجانا درست ہوگا کیوں کہ وعظ کے "واؤ" اور شعر کے "ش" سے بھی آنجناب کی واقفیت نہیں ہوتی) کی بے راہ روی کا سہرا انہیں کے سر جاتا ہے۔ کہ جب بھی مقرر کوئی پھوہڑ بات یا گویّا کوئی الٹا سیدھا اور بے تکا شعر کہتا ہے یہ فوراً کھڑے ہوکر نعرہ لگانا شروع کردیتے ہیں اور ان کے جذبہ و جوش کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کوئی ایسی بات بولی گئی ہے جس سے ابھی قوم مسلم کی ڈوبتی ناؤ کنارے پہنچ جائے گی بس اسی جملے کے دھکے کی ضرورت تھی۔
اس سے نہ صرف جاہل مقرر اور شاعر کی نہ صرف حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ وہ مزید ایسی ہی پھوہڑ گفتگو کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں نتیجتاً آج آپ جلسوں کا حال اور ان سے مرتب ہونے والے اثرات خود ہی ملاحظہ کررہے ہیں۔
اور جب آنجناب خود مائک پر ہوں تب جناب عالی کہاں کا بانس کہاں کہاں داخل کردیں، کس خاک کے ذرے کو ہمدوش ثریا کردیں، کس تنکے کو سمندروں کی روانی کو قابو کرنے والا باندھ قرار دے دیں، کسے مسیحائے قوم و ملت گردان دیں، کس کی زمین کے قلابے آسمان سے ملادیں یہ تو ابلیس بھی اندازہ نہیں کرسکتا۔
یہ تو عام مقررین اور شعرا کی بات ہے کہیں اگر کوئی پیر یا پیر کا کوئی چوزہ اسٹیج پر بیٹھا ہو تو پھر اس چوزے کی ایسے تعریف کی جائے گی کہ سامع سمجھے گا بڑے بڑے سرداران اولیا اسی چوزے سے فیض پاتے ہیں۔ اگر یہ چوزہ پیدا نہ ہوا ہوتا تو فیض و کرم اور جود و سخا کے دریا میں سوکھا پڑگیا ہوتا۔ وہ تو اسی چوزے کے لعاب دہن کی برکت ہے جو بولتے وقت لبوں سے جھڑتا ہے کہ فیض و کرم کے دریاؤں میں روانی ہے۔
اتنا بڑا جھوٹا شخص اسٹیج پر موجود ہوتا ہے اور دھڑلے سے منبر رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم پر علما اور مفتیان کرام کی موجودگی میں اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشادات کو پس پشت ڈال کر جھوٹ کی بارش کررہا ہوتا ہے اور سب خاموشی سے سنتے رہتے ہیں اور بعض تو خود بھی سبحان اللہ کہتے رہتے ہیں۔ یاد رکھیں! آپ کو بھی یہ جواب دینا ہوگا کہ جب منبر رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تقدس پامال ہورہا تھا تب آپ بھی موجود تھے اور اس سفید جھوٹ پر آپ نے بھی سبحان اللہ کہا تھا۔
کیا ایسے وقت اہل اسٹیج کو یاد نہیں آتا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: "من رأى منكم منكرًا، فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان." (رواه مسلم.)
ضرورت کیا ہے؟
مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ جلسوں میں ناظم کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ سوائے اس بات کے کہ جلسے میں تڑکا لگایا جائے۔ اور جسے تڑکا لگانے کے لیے رکھا گیا ہوگا وہ تڑکا ہی لگائے گا خواہ اس سے منبر رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حرمت پامال ہو یا اسلام کا تقدس۔
میرا ماننا یہ ہے کہ اگر جلسوں سے نظامت کا سلسلہ ختم کردیا جائے تو جلسوں میں ہونے والی غیر مہذب اور غیر اسلامی خرافات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
اپنے بلائے ہوئے مقرر اور شاعر کے چھینکنے اور کھانسنے پر بھی سبحان اللہ کہنے والا ناظم کسی اور کے بلاوے پر آئے ہوئے عالم یا شاعر کے اچھے اور اصلاحی کلام پر بھی ہونٹ سی لیتا ہے کہ کہیں لوگ اس کی بات کو اچھا نہ سمجھ لیں تو میرے بلائے ہوئے شخص کی اہانت ہوجائے۔
انہیں سب حرکتوں سے اسٹیج اکھاڑا بنتے جارہے ہیں اور گروہ بندی عام ہوتی جارہی ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو کچھ دنوں بعد جلسہ سننے وہی لوگ آئیں گے جو صرف اور صرف مزہ لینے کی نیت رکھتے ہوں گے کیوں کہ ان سب حرکتوں کی وجہ سے جلسوں سے پیغامات تو غائب ہی ہوتے جارہے ہیں۔ بس تعریف اور تحقیر کا پہل
#M_Shahid_Ali_Misbahi
آج کل ہمارے اکثر جلسوں میں خرافات کا اچھا خاصا دخل ہے۔ آج صرف درد مند اور غیرت مند عالم ہی نہیں بلکہ تھوڑی سی سوجھ بوجھ رکھنے والا عام مسلمان بھی جلسوں میں ہونے والی خرافات، بے راہ روی، تضییع اوقات اور گروہ بندی سے پریشان ہے۔
جلسوں میں غیر مہذب بیانات سے غیر مہذب اشعار اور ایسے غیر مہذب اور غیر ذمہ دارانہ بیانات پر سبحان اللہ، الحمدللہ اور ماشاءاللہ کی صداؤں کے ساتھ نعرہ تکبیر و رسالت اور شیر اہلسنت ، فاتح فلاں فلاں مقام کی صدائیں گونجنے لگتیں ہیں۔
کبھی کبھی تو بغیر کسی بات کے بھی مائک پر آتے ہی کہا جاتا ہے پہلے سبحان اللہ کہو، تب ہم شروع کریں گے، اور پھر کیا کیا شروع کیا جاتا ہے یہ تو جلسوں سے واقف افراد جانتے ہی ہیں۔ ایسے ایسے مقامات پر سبحان اللہ کہلوادیا جاتا ہے کہ افسوس ہونے لگتا ہے جلسہ میں شریک ہونے پر۔
ذمہ دار کون؟؟؟
جلسہ میں موجود علما بھی اس خرافات میں برابر کے شریک ہیں مگر میں اس شخص کو ذمہ دار قرار دوں گا جس نے نظامت جیسی بدعت کو ایجاد کیا ہے۔
کیوں کہ اس آدمی کی جلسہ کو کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی جسے ناظم بناکر بٹھایا جاتا ہے۔ مگر یہ صاحب ہر میلاد اور ہر جلسے کی آبرو سمجھے جاتے ہیں۔ اور واعظین و شعرا (ارے نہیں وہ واعظ اور شاعر کہلانے کے لائق ہی نہیں انہیں تو مقرر اور گویّا ہی کہاجانا درست ہوگا کیوں کہ وعظ کے "واؤ" اور شعر کے "ش" سے بھی آنجناب کی واقفیت نہیں ہوتی) کی بے راہ روی کا سہرا انہیں کے سر جاتا ہے۔ کہ جب بھی مقرر کوئی پھوہڑ بات یا گویّا کوئی الٹا سیدھا اور بے تکا شعر کہتا ہے یہ فوراً کھڑے ہوکر نعرہ لگانا شروع کردیتے ہیں اور ان کے جذبہ و جوش کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کوئی ایسی بات بولی گئی ہے جس سے ابھی قوم مسلم کی ڈوبتی ناؤ کنارے پہنچ جائے گی بس اسی جملے کے دھکے کی ضرورت تھی۔
اس سے نہ صرف جاہل مقرر اور شاعر کی نہ صرف حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ وہ مزید ایسی ہی پھوہڑ گفتگو کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں نتیجتاً آج آپ جلسوں کا حال اور ان سے مرتب ہونے والے اثرات خود ہی ملاحظہ کررہے ہیں۔
اور جب آنجناب خود مائک پر ہوں تب جناب عالی کہاں کا بانس کہاں کہاں داخل کردیں، کس خاک کے ذرے کو ہمدوش ثریا کردیں، کس تنکے کو سمندروں کی روانی کو قابو کرنے والا باندھ قرار دے دیں، کسے مسیحائے قوم و ملت گردان دیں، کس کی زمین کے قلابے آسمان سے ملادیں یہ تو ابلیس بھی اندازہ نہیں کرسکتا۔
یہ تو عام مقررین اور شعرا کی بات ہے کہیں اگر کوئی پیر یا پیر کا کوئی چوزہ اسٹیج پر بیٹھا ہو تو پھر اس چوزے کی ایسے تعریف کی جائے گی کہ سامع سمجھے گا بڑے بڑے سرداران اولیا اسی چوزے سے فیض پاتے ہیں۔ اگر یہ چوزہ پیدا نہ ہوا ہوتا تو فیض و کرم اور جود و سخا کے دریا میں سوکھا پڑگیا ہوتا۔ وہ تو اسی چوزے کے لعاب دہن کی برکت ہے جو بولتے وقت لبوں سے جھڑتا ہے کہ فیض و کرم کے دریاؤں میں روانی ہے۔
اتنا بڑا جھوٹا شخص اسٹیج پر موجود ہوتا ہے اور دھڑلے سے منبر رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم پر علما اور مفتیان کرام کی موجودگی میں اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشادات کو پس پشت ڈال کر جھوٹ کی بارش کررہا ہوتا ہے اور سب خاموشی سے سنتے رہتے ہیں اور بعض تو خود بھی سبحان اللہ کہتے رہتے ہیں۔ یاد رکھیں! آپ کو بھی یہ جواب دینا ہوگا کہ جب منبر رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تقدس پامال ہورہا تھا تب آپ بھی موجود تھے اور اس سفید جھوٹ پر آپ نے بھی سبحان اللہ کہا تھا۔
کیا ایسے وقت اہل اسٹیج کو یاد نہیں آتا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: "من رأى منكم منكرًا، فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان." (رواه مسلم.)
ضرورت کیا ہے؟
مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ جلسوں میں ناظم کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ سوائے اس بات کے کہ جلسے میں تڑکا لگایا جائے۔ اور جسے تڑکا لگانے کے لیے رکھا گیا ہوگا وہ تڑکا ہی لگائے گا خواہ اس سے منبر رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حرمت پامال ہو یا اسلام کا تقدس۔
میرا ماننا یہ ہے کہ اگر جلسوں سے نظامت کا سلسلہ ختم کردیا جائے تو جلسوں میں ہونے والی غیر مہذب اور غیر اسلامی خرافات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
اپنے بلائے ہوئے مقرر اور شاعر کے چھینکنے اور کھانسنے پر بھی سبحان اللہ کہنے والا ناظم کسی اور کے بلاوے پر آئے ہوئے عالم یا شاعر کے اچھے اور اصلاحی کلام پر بھی ہونٹ سی لیتا ہے کہ کہیں لوگ اس کی بات کو اچھا نہ سمجھ لیں تو میرے بلائے ہوئے شخص کی اہانت ہوجائے۔
انہیں سب حرکتوں سے اسٹیج اکھاڑا بنتے جارہے ہیں اور گروہ بندی عام ہوتی جارہی ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو کچھ دنوں بعد جلسہ سننے وہی لوگ آئیں گے جو صرف اور صرف مزہ لینے کی نیت رکھتے ہوں گے کیوں کہ ان سب حرکتوں کی وجہ سے جلسوں سے پیغامات تو غائب ہی ہوتے جارہے ہیں۔ بس تعریف اور تحقیر کا پہل
و عام سے عام تر ہوتا جارہا ہے۔
وقت رہتے ذمہ دار حضرات اس پر قدغن لگائیں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔
اب اچھا موقع ہے اس سے پہلے کہ نئے سرے سے جلسے شروع ہوں پوری پلاننگ کے ساتھ جلسوں کو بامقصد بنایا جائے تاکہ تبلیغ کے یہ اہم مراکز کامیڈی شو بن کر نہ رہ جائیں۔
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
نائب صدر: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/795539897683197/
وقت رہتے ذمہ دار حضرات اس پر قدغن لگائیں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔
اب اچھا موقع ہے اس سے پہلے کہ نئے سرے سے جلسے شروع ہوں پوری پلاننگ کے ساتھ جلسوں کو بامقصد بنایا جائے تاکہ تبلیغ کے یہ اہم مراکز کامیڈی شو بن کر نہ رہ جائیں۔
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
نائب صدر: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/795539897683197/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک دفعہ صحابہ کرام کو پیاس لگی ، پانی موجود نہیں تھا ، وہ پریشان ہوکر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے ۔
سرکار ﷺ نے اپنا دستِ مبارک برتن میں رکھا تو چشمے جاری ہوگئے ، اور تمام صحابہ نے سیر ہو کر پانی پیا ۔
سیدنا جابر نے کسی نے پوچھا تھا:
جب رحمتِ عالم کی مبارک انگلیوں سے پانی نکلا ، اس وقت آپ کتنے لوگ تھے ؟
آپ نے فرمایا:
ہم پندرہ سو تھے ، اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمارے لیے کافی ہوتا ۔
( سنن الدارمی ، ج 1 ، ص 16 ، ر 27 ، ط دارالحدیث القاھرہ ، س 1420 ھ ۔ قال المحقق: صحیح )
اے خشک برتنوں میں چشمے جاری کرنے والے حبیب ، ہمارے دلوں کی خشک کھیتیوں میں بھی اپنی محبت کے چشمے جاری فرمادیں ۔
اے صحابہ کو شکم سیر کرنے والے ، ہمیں بھی جرات و حکمت سے سیراب فرما دیں ۔
حضور! ہمارے زمانے میں آپ کے گستاخ دندناتے پھر رہے ہیں ، ہمیں انھیں کیفرِ کِردار تک پہنچانے کی توفیق بخش دیں ۔
✍️لقمان شاہد
26-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2994526580827511&id=100008105947430
سرکار ﷺ نے اپنا دستِ مبارک برتن میں رکھا تو چشمے جاری ہوگئے ، اور تمام صحابہ نے سیر ہو کر پانی پیا ۔
سیدنا جابر نے کسی نے پوچھا تھا:
جب رحمتِ عالم کی مبارک انگلیوں سے پانی نکلا ، اس وقت آپ کتنے لوگ تھے ؟
آپ نے فرمایا:
ہم پندرہ سو تھے ، اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمارے لیے کافی ہوتا ۔
( سنن الدارمی ، ج 1 ، ص 16 ، ر 27 ، ط دارالحدیث القاھرہ ، س 1420 ھ ۔ قال المحقق: صحیح )
اے خشک برتنوں میں چشمے جاری کرنے والے حبیب ، ہمارے دلوں کی خشک کھیتیوں میں بھی اپنی محبت کے چشمے جاری فرمادیں ۔
اے صحابہ کو شکم سیر کرنے والے ، ہمیں بھی جرات و حکمت سے سیراب فرما دیں ۔
حضور! ہمارے زمانے میں آپ کے گستاخ دندناتے پھر رہے ہیں ، ہمیں انھیں کیفرِ کِردار تک پہنچانے کی توفیق بخش دیں ۔
✍️لقمان شاہد
26-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2994526580827511&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی توہین کرنے والے شیطانوں کو جہنم واصل کرنے کے لیے کوئی جان دار تحریک چلنی چاہیے ۔
بیان ریکارڈ کروانے ، لفظی مذمت کرنے اور جلسے جلوسوں سے یہ باز آنے والے نہیں ۔
ان میں سے دو چار بھی پھڑک گئے تو بقیہ سب شیطنت سے باز آجائیں گے ۔
جن وحشیوں کے نزدیک رحمتِ عالم ﷺ کی توہین آزادیِ اظہار رائے ہے ، انھیں واصلِ جہنم کرنا تو فرض ہے ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2997068887239947&id=100008105947430
بیان ریکارڈ کروانے ، لفظی مذمت کرنے اور جلسے جلوسوں سے یہ باز آنے والے نہیں ۔
ان میں سے دو چار بھی پھڑک گئے تو بقیہ سب شیطنت سے باز آجائیں گے ۔
جن وحشیوں کے نزدیک رحمتِ عالم ﷺ کی توہین آزادیِ اظہار رائے ہے ، انھیں واصلِ جہنم کرنا تو فرض ہے ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2997068887239947&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دانا کہتے ہیں :
" جب کوئی صاحبِ فن ملے تو اُس سے کچھ نہ کچھ سیکھ لینا چاہیے ، کچھ نہ سیکھنا محرومی ہے ۔ "
آج ایک موسیقار سے ملاقات ہوئی ، تو میں نے تقاضا کیا:
درباری راگ میں کوئی نعت شریف سنا دیں ۔
کہنے لگا: ایمن راگ میں سناتا ہوں ۔
پھر اس نے امیر خسرو کے راگ ایمن میں یہ نعت شریف سنائی ، اور کمال کردیا ؎
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
اُس کی قسمت پہ فِدا ساری خُدائی ہوگی
سانس لیتا ہوں تو آتی ہے مہک طیبہ کی
یہ ہَوا ، کوچۂ سرکار سے آئی ہوگی
دل تڑپ جائے گا اے زائرِ بطحا تیرا
تیری جس وقت مدینے سے جُدائی ہوگی
تجھ سے پوچھا نہ نکیروں نے ظہوری کچھ بھی
قبر میں نعتِ نبی تُو نے سنائی ہوگی
✍️لقمان شاہد
29-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2998352797111556&id=100008105947430
" جب کوئی صاحبِ فن ملے تو اُس سے کچھ نہ کچھ سیکھ لینا چاہیے ، کچھ نہ سیکھنا محرومی ہے ۔ "
آج ایک موسیقار سے ملاقات ہوئی ، تو میں نے تقاضا کیا:
درباری راگ میں کوئی نعت شریف سنا دیں ۔
کہنے لگا: ایمن راگ میں سناتا ہوں ۔
پھر اس نے امیر خسرو کے راگ ایمن میں یہ نعت شریف سنائی ، اور کمال کردیا ؎
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
اُس کی قسمت پہ فِدا ساری خُدائی ہوگی
سانس لیتا ہوں تو آتی ہے مہک طیبہ کی
یہ ہَوا ، کوچۂ سرکار سے آئی ہوگی
دل تڑپ جائے گا اے زائرِ بطحا تیرا
تیری جس وقت مدینے سے جُدائی ہوگی
تجھ سے پوچھا نہ نکیروں نے ظہوری کچھ بھی
قبر میں نعتِ نبی تُو نے سنائی ہوگی
✍️لقمان شاہد
29-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2998352797111556&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from خادم البرکات و خاک پا ئے امین
*اسلام 360کے فتنے سے بچیں اور عوام اہل سنت کو بچائیں*
📌 سوشیل میڈیا پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی مشہور اہل سنت کی تنظیم نے اسلام 360 وہابی ایپ کو اپنا ڈاٹا شیئر کرے گی ہم اس تنظیم کے اس اقدام کی فکر رضا سوشل میڈیا گروپ، انڈیا کی جانب سے سختی کے ساتھ مذمت کرتے ہیں اور دعوتی تنظیم کو ایک مرتبہ اس پر غور کرنے کی دعوت فکر دیتے ہیں ۔۔پہلے سے عوام اہل سنت فتنہ میں مبتلا ہے اسے مزید فتنہ میں مبتلا نہ کریں
📜 موبائل اپلیکیشن اسلام 360 کو استعمال کرتے ہیں مگر اس بات کی تحقیق نہیں کرتے کہ یہ موبائل اپلیکیشن وہابی غیر مقلدین کی بنائی ہوئی اور اس ایپ سے غیر مقلدیت کے فتنہ کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ بلکہ افسوس تو یہ ہے کہ جانے انجانے کچھ سنی علماء اس ایپ کی تعریف اور اس ایپ کو آپ ڈاٹا تک شیئر کررہے ہیں جو کہ عوام اہل سنت کے لئے فتنہ و گمراہیت کا سبب بنے گی۔
⌛ ایک صاحب نے کہا کہ یہ تو اچھا ہی ہے کہ اہل سنت کا ڈاٹا بھی ان وہابیوں کی ایپلیکیشن میں عوام کو مل جائے گا
یہ ایسے ہی ہے کہ گُڑ کو گوبرمیں یا گوبر جو گُڑ میں ملایا جائے دونوں صورت میں ناپاک گُڑ ہی ہوگا ایسے ہی اس اپلیکیشن کا حال ہے بھلے ہی اس ایپ میں اہل سنت کی چند ایک کتب اپلوڈ ہوجائیں اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ عوام اہل سنت اس ایپ کی وہابی کتب کو ہاتھ نہیں لگائیں گی
🧲 اس ایپ کے فتنہ ہونے کے تعلق سے حضرت علامہ مولانا مفتی اہل سنت مفتی راشد محمود رضوی مدظلہ العالی کے چند کِلپ کی لنک ہم پیش کر رہے ہیں بغور سنیں، سمجھیں اور عام کریں :
1⃣ اسلام 360 عوام کے لئے فتنہ
https://youtu.be/r2i0jTnINg0
2⃣ اسلام 360 ایپ کے دھوکے
https://youtu.be/ITWTysUa7mo
3⃣ اسلام 360 ایپ کی خیانتیں
https://youtu.be/I59Q9PcCJEg
4⃣ اسلام 360 ایپ وہابیوں کی ایپ ہے
https://youtu.be/yD-byEoSnIQ
5⃣ انٹرنیشنل نمبر کا دھوکا
https://youtu.be/CK951pC0RJI
6⃣ اسلام 360 سے جان چھڑائیں
https://youtu.be/x1OPWV8iLFI
____________"___________
📝 اسلام 360 ایپ کے فتنے سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں :
📡 منجانب :
فکر رضا سوشل میڈیا گروپ
لنک 1️⃣ : https://chat.whatsapp.com/Jkbs0e3AdKiCtiyVpIKJbx
لنک 2️⃣ :https://chat.whatsapp.com/DuPwgJN9UQPEZ6H1NPc8tT
📌 سوشیل میڈیا پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی مشہور اہل سنت کی تنظیم نے اسلام 360 وہابی ایپ کو اپنا ڈاٹا شیئر کرے گی ہم اس تنظیم کے اس اقدام کی فکر رضا سوشل میڈیا گروپ، انڈیا کی جانب سے سختی کے ساتھ مذمت کرتے ہیں اور دعوتی تنظیم کو ایک مرتبہ اس پر غور کرنے کی دعوت فکر دیتے ہیں ۔۔پہلے سے عوام اہل سنت فتنہ میں مبتلا ہے اسے مزید فتنہ میں مبتلا نہ کریں
📜 موبائل اپلیکیشن اسلام 360 کو استعمال کرتے ہیں مگر اس بات کی تحقیق نہیں کرتے کہ یہ موبائل اپلیکیشن وہابی غیر مقلدین کی بنائی ہوئی اور اس ایپ سے غیر مقلدیت کے فتنہ کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ بلکہ افسوس تو یہ ہے کہ جانے انجانے کچھ سنی علماء اس ایپ کی تعریف اور اس ایپ کو آپ ڈاٹا تک شیئر کررہے ہیں جو کہ عوام اہل سنت کے لئے فتنہ و گمراہیت کا سبب بنے گی۔
⌛ ایک صاحب نے کہا کہ یہ تو اچھا ہی ہے کہ اہل سنت کا ڈاٹا بھی ان وہابیوں کی ایپلیکیشن میں عوام کو مل جائے گا
یہ ایسے ہی ہے کہ گُڑ کو گوبرمیں یا گوبر جو گُڑ میں ملایا جائے دونوں صورت میں ناپاک گُڑ ہی ہوگا ایسے ہی اس اپلیکیشن کا حال ہے بھلے ہی اس ایپ میں اہل سنت کی چند ایک کتب اپلوڈ ہوجائیں اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ عوام اہل سنت اس ایپ کی وہابی کتب کو ہاتھ نہیں لگائیں گی
🧲 اس ایپ کے فتنہ ہونے کے تعلق سے حضرت علامہ مولانا مفتی اہل سنت مفتی راشد محمود رضوی مدظلہ العالی کے چند کِلپ کی لنک ہم پیش کر رہے ہیں بغور سنیں، سمجھیں اور عام کریں :
1⃣ اسلام 360 عوام کے لئے فتنہ
https://youtu.be/r2i0jTnINg0
2⃣ اسلام 360 ایپ کے دھوکے
https://youtu.be/ITWTysUa7mo
3⃣ اسلام 360 ایپ کی خیانتیں
https://youtu.be/I59Q9PcCJEg
4⃣ اسلام 360 ایپ وہابیوں کی ایپ ہے
https://youtu.be/yD-byEoSnIQ
5⃣ انٹرنیشنل نمبر کا دھوکا
https://youtu.be/CK951pC0RJI
6⃣ اسلام 360 سے جان چھڑائیں
https://youtu.be/x1OPWV8iLFI
____________"___________
📝 اسلام 360 ایپ کے فتنے سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں :
📡 منجانب :
فکر رضا سوشل میڈیا گروپ
لنک 1️⃣ : https://chat.whatsapp.com/Jkbs0e3AdKiCtiyVpIKJbx
لنک 2️⃣ :https://chat.whatsapp.com/DuPwgJN9UQPEZ6H1NPc8tT
YouTube
Islam 360 app Fitna? اسلام 360 فتنہ؟ mufti Rashid Mahmood razvi
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM