Forwarded from 📚تحقیقات📚
بہت سارے بھائی اور بہنیں کورسز کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں جو درج ذیل ہے۔
اجمالی تعارف
ہم یہ کورسز کرواتے ہیں۔
٭ قرآن مجید تجوید کے ساتھ ۔
(1) تفسیر قرآن کورس جس میں تقریبا 14 تفسیروں سے لیکچر دیا جاتا ہے۔
(2) انوار الحدیث جس میں مشکوۃ شریف مکمل پڑھائی جاتی ہے۔
(3) احکام شریعت جس میں تقریبا 15 کتابیں مکمل پڑھائی جاتی ہیں۔
(4) تصوف کورس جس میں تزکیہ نفس کرنے والی تقریبا 10 کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔
(5) فرض علوم کورس جس میں فرض علوم پڑھائے جاتے ہیں۔
(6) فیضان فتاوی رضویہ کورس جس میں 30 جلدوں پر مشتمل فتاوی رضویہ شریف کے اختصار سے سوالات و جوابات پڑھائے جاتے ہیں۔
یہ تمام کے تمام کورسز اسلامی بھائیوں کو میں بذات خود کرواتا ہوں اور اسلامی بہنوں کو مدنیہ عالمہ اسلامی بہن کرواتی ہیں۔
(7) یہ جتنے بھی کورسز کروائے جاتے ہیں ہم اس میں وقت کا اجارہ طے کر کے کلاسز لیتے ہیں کیوںکہ اجارہ مجہول رکھ کر پڑھانا جائز نہیں تو اس لیے تمام شرعی تقاضے پورے کر کے کلاسز لی جاتی ہیں۔
اجارہ 30 منٹ کا بھی ہوتا ہے اور 60 منٹ کا بھی ہوتا ہے۔
جو وقت طے کیا جاتا ہے نہ اس سے ایک منٹ کم کیا جاتا ہے اور نہ زیادہ جتنا وقت طے ہو گا اتنے وقت میں آپ اپنے لیکچر سے متعلق کچھ بھی پوچھ سکتے ہیں۔ جوں ہی وقت ختم جو بات ادھوری ہوئی اسے وہیں مکمل کر کے کلاس ختم کر دی جاتی ہے۔
(8) ان کورسز کا دورانیہ پڑھنے والے کی ذھانت پر منحصر ہے کہ وہ یہ کتابیں کتنے جلدی پڑھتا ہے۔ کوئی خاص وقت اور مدت متعین نہیں۔
(9) یہ کلاسز وٹس اپ کے ذریعے یا زونگ ٹو زونگ پیکج کے ذریعے لی جاتی ہیں۔
(10) جتنا وقت آپ سے طے ہو گا اتنے وقت میں آپ کے علاوہ کسی اور کو نہیں پڑھایا جائے گا۔ کوئی گروپ کلاس وغیرہ کی ترکیب نہیں ہوتی۔
اگر آپ یہ کورس کرنا چاہیں یا مزید تفصیل حاصل کرنا چاہیں تو اس نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
رابطہ نمبر:03155322470
طالبِ دعا: عبدہ المذنب سید کامران عطاری المدنی عفا عنہ الباری
اجمالی تعارف
ہم یہ کورسز کرواتے ہیں۔
٭ قرآن مجید تجوید کے ساتھ ۔
(1) تفسیر قرآن کورس جس میں تقریبا 14 تفسیروں سے لیکچر دیا جاتا ہے۔
(2) انوار الحدیث جس میں مشکوۃ شریف مکمل پڑھائی جاتی ہے۔
(3) احکام شریعت جس میں تقریبا 15 کتابیں مکمل پڑھائی جاتی ہیں۔
(4) تصوف کورس جس میں تزکیہ نفس کرنے والی تقریبا 10 کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔
(5) فرض علوم کورس جس میں فرض علوم پڑھائے جاتے ہیں۔
(6) فیضان فتاوی رضویہ کورس جس میں 30 جلدوں پر مشتمل فتاوی رضویہ شریف کے اختصار سے سوالات و جوابات پڑھائے جاتے ہیں۔
یہ تمام کے تمام کورسز اسلامی بھائیوں کو میں بذات خود کرواتا ہوں اور اسلامی بہنوں کو مدنیہ عالمہ اسلامی بہن کرواتی ہیں۔
(7) یہ جتنے بھی کورسز کروائے جاتے ہیں ہم اس میں وقت کا اجارہ طے کر کے کلاسز لیتے ہیں کیوںکہ اجارہ مجہول رکھ کر پڑھانا جائز نہیں تو اس لیے تمام شرعی تقاضے پورے کر کے کلاسز لی جاتی ہیں۔
اجارہ 30 منٹ کا بھی ہوتا ہے اور 60 منٹ کا بھی ہوتا ہے۔
جو وقت طے کیا جاتا ہے نہ اس سے ایک منٹ کم کیا جاتا ہے اور نہ زیادہ جتنا وقت طے ہو گا اتنے وقت میں آپ اپنے لیکچر سے متعلق کچھ بھی پوچھ سکتے ہیں۔ جوں ہی وقت ختم جو بات ادھوری ہوئی اسے وہیں مکمل کر کے کلاس ختم کر دی جاتی ہے۔
(8) ان کورسز کا دورانیہ پڑھنے والے کی ذھانت پر منحصر ہے کہ وہ یہ کتابیں کتنے جلدی پڑھتا ہے۔ کوئی خاص وقت اور مدت متعین نہیں۔
(9) یہ کلاسز وٹس اپ کے ذریعے یا زونگ ٹو زونگ پیکج کے ذریعے لی جاتی ہیں۔
(10) جتنا وقت آپ سے طے ہو گا اتنے وقت میں آپ کے علاوہ کسی اور کو نہیں پڑھایا جائے گا۔ کوئی گروپ کلاس وغیرہ کی ترکیب نہیں ہوتی۔
اگر آپ یہ کورس کرنا چاہیں یا مزید تفصیل حاصل کرنا چاہیں تو اس نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
رابطہ نمبر:03155322470
طالبِ دعا: عبدہ المذنب سید کامران عطاری المدنی عفا عنہ الباری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میلاد النبی ﷺ پر 250 سے زائد کتابوں کی لِنکس اس لنک کے ذریعے آپ آن لائن مطالعہ بھی کرسکتے ہیں! اور ان کی Pdf فائل کو ڈاؤن لوڈ بھی کرسکتے ہیں!
https://www.ataunnabi.com/search/label/%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%DB%8C%20%D8%B5%D9%84%DB%8C%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D9%88%D8%B3%D9%84%D9%85%20%DA%A9%D8%AA%D8%A8
دوستوں کو بھی شیئر کریں!
https://www.ataunnabi.com/search/label/%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%DB%8C%20%D8%B5%D9%84%DB%8C%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D9%88%D8%B3%D9%84%D9%85%20%DA%A9%D8%AA%D8%A8
دوستوں کو بھی شیئر کریں!
Ataunnabi
{{ataunnabi }}Islamic PDF Books
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
سورہ کوثر اور شان رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
( مفتی محمد قاسم عطاری)
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:( اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲) اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠(۳))(پ،30الکوثر:1تا3)
ترجمہ: اے محبوب!بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔ تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے۔
اِس سورت کا شانِ نزول یہ ہے کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کسی شہزادے کے انتقال پر ابولہب، عقبہ بن معیط، عاص بن وائل وغیرہا کفار دل آزار جملے کہنے لگے، کسی نے کہا:محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی جڑکٹ گئی۔ کسی نے کہا کہ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی بات نہ کرو وہ تو ایسا آدمی ہے جس کی جڑکٹی ہوئی ہے، اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں ہے، جب فوت ہوگا تو اس کا نام مٹ جائے گا۔ان کفار کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی کےلئے یہ سورت نازل فرمائی کہ اے حبیب! ان لوگوں کی باتوں پر رنجیدہ نہ ہوں بلکہ ہمارے فضل وکرم پر نظر رکھیں کہ ہم نے تمہیں بے شمار خوبیوں اور نعمتوں سے نوازا ہے لہٰذا تم اُن کے شکرانے میں نماز پڑھو اورقربانی کرو اور جہاں تک تمہارے دشمنوں کا تعلق ہے تو ان ہی کی جڑ کٹی ہوئی ہے اور یہی ہر خیر سے محروم ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ رہتی دنیا تک رسولِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان میں گستاخی کرنے والاہر شخص خیر سے محروم اور اِس آیت کے تحت داخل ہے۔
یہ سورت نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ ِ خداوندی میں عظمت ووجاہت اور اللہ رب العزت کی نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے محبت کی بہت پیاری دلیل ہے کیونکہ کفار نے جب آپ کا مذاق اڑایا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف سے خود جواب دیا کہ تمہارا دشمن ہی ابتر (خیر سے محروم) ہے اور یہ محبت کی علامت ہوتی ہے کہ اگر کوئی محبوب پر اعتراض کرے تو محب اس کا جواب دیتا ہے۔ یہ انداز قرآن مجید میں دیگر کئی جگہوں پر بھی ہے، مثلا: جب ولید بن مغیرہ نےنبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیوانہ، مجنون کہا تو اللہ تعالیٰ نے ولید کی مذمت میں اس کی نو(9)خامیاں بیان کیں اور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرمایا کہ تم اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہو۔(پ29، القلم:2) اسی طرح ابولہب نے ایک موقع پر نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی گستاخی کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت میں پوری سورت اتاری اور فرمایا: ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہوجائیں اور وہ ہلاک ہو ہی گیا۔(پ30، اللھب:1)
آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کوثر یعنی بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔ کوثر کا لفظ کثرت سے نکلا ہے اور مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے : بہت ہی زیادہ، بےانتہا کثرت، کسی چیز کا اتنا کثیر ہونا کہ لوگ اندازہ نہ لگاسکیں، وہ کثرت تعداد میں ہو یا مقدار ومرتبہ ومعیار میں یا کسی اور اعتبار سے۔ گویا یہ فرمایا جارہا ہے کہ تمہارے دشمن تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ تمہارے پاس کچھ نہیں حتی کہ بیٹا بھی فوت ہوگیا مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تمہیں اتنا دیا ہے جس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگاسکتا۔
لفظ ِ کوثر میں بہت کچھ داخل ہے۔ ایک قوی قول یہ ہے کہ کوثر سے مراد جنت کی ایک نہر ہے چنانچہ ابوداؤدمیں ہے کہ ایک مرتبہ رسولُ اللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی آنکھ لگ گئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا اور فرمایا : مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ نے سُوْرَةُ الْکَوْثَر آخر تک پڑھی اور فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : وہ جنت میں ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔(ابو داؤد،ج 4،ص313، حدیث:4747 ملتقطاً) ایک حدیث میں نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ میں جنت میں چلا جا رہا تھا تو اچانک ایک نہر آ گئی جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے قبے تھے۔ میں نے کہا : اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ پھر دیکھا تو اس کی خوشبو یا مٹی مہکنے والی کستوری کی طرح تھی۔(بخاری،ج 4،ص268، حدیث:6581) کوثر کے متعلق دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد حوضِ کوثر ہے چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالیٰ عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے،
( مفتی محمد قاسم عطاری)
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:( اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲) اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠(۳))(پ،30الکوثر:1تا3)
ترجمہ: اے محبوب!بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔ تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے۔
اِس سورت کا شانِ نزول یہ ہے کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کسی شہزادے کے انتقال پر ابولہب، عقبہ بن معیط، عاص بن وائل وغیرہا کفار دل آزار جملے کہنے لگے، کسی نے کہا:محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی جڑکٹ گئی۔ کسی نے کہا کہ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی بات نہ کرو وہ تو ایسا آدمی ہے جس کی جڑکٹی ہوئی ہے، اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں ہے، جب فوت ہوگا تو اس کا نام مٹ جائے گا۔ان کفار کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی کےلئے یہ سورت نازل فرمائی کہ اے حبیب! ان لوگوں کی باتوں پر رنجیدہ نہ ہوں بلکہ ہمارے فضل وکرم پر نظر رکھیں کہ ہم نے تمہیں بے شمار خوبیوں اور نعمتوں سے نوازا ہے لہٰذا تم اُن کے شکرانے میں نماز پڑھو اورقربانی کرو اور جہاں تک تمہارے دشمنوں کا تعلق ہے تو ان ہی کی جڑ کٹی ہوئی ہے اور یہی ہر خیر سے محروم ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ رہتی دنیا تک رسولِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان میں گستاخی کرنے والاہر شخص خیر سے محروم اور اِس آیت کے تحت داخل ہے۔
یہ سورت نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ ِ خداوندی میں عظمت ووجاہت اور اللہ رب العزت کی نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے محبت کی بہت پیاری دلیل ہے کیونکہ کفار نے جب آپ کا مذاق اڑایا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف سے خود جواب دیا کہ تمہارا دشمن ہی ابتر (خیر سے محروم) ہے اور یہ محبت کی علامت ہوتی ہے کہ اگر کوئی محبوب پر اعتراض کرے تو محب اس کا جواب دیتا ہے۔ یہ انداز قرآن مجید میں دیگر کئی جگہوں پر بھی ہے، مثلا: جب ولید بن مغیرہ نےنبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیوانہ، مجنون کہا تو اللہ تعالیٰ نے ولید کی مذمت میں اس کی نو(9)خامیاں بیان کیں اور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرمایا کہ تم اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہو۔(پ29، القلم:2) اسی طرح ابولہب نے ایک موقع پر نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی گستاخی کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت میں پوری سورت اتاری اور فرمایا: ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہوجائیں اور وہ ہلاک ہو ہی گیا۔(پ30، اللھب:1)
آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کوثر یعنی بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔ کوثر کا لفظ کثرت سے نکلا ہے اور مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے : بہت ہی زیادہ، بےانتہا کثرت، کسی چیز کا اتنا کثیر ہونا کہ لوگ اندازہ نہ لگاسکیں، وہ کثرت تعداد میں ہو یا مقدار ومرتبہ ومعیار میں یا کسی اور اعتبار سے۔ گویا یہ فرمایا جارہا ہے کہ تمہارے دشمن تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ تمہارے پاس کچھ نہیں حتی کہ بیٹا بھی فوت ہوگیا مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تمہیں اتنا دیا ہے جس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگاسکتا۔
لفظ ِ کوثر میں بہت کچھ داخل ہے۔ ایک قوی قول یہ ہے کہ کوثر سے مراد جنت کی ایک نہر ہے چنانچہ ابوداؤدمیں ہے کہ ایک مرتبہ رسولُ اللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی آنکھ لگ گئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا اور فرمایا : مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ نے سُوْرَةُ الْکَوْثَر آخر تک پڑھی اور فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : وہ جنت میں ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔(ابو داؤد،ج 4،ص313، حدیث:4747 ملتقطاً) ایک حدیث میں نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ میں جنت میں چلا جا رہا تھا تو اچانک ایک نہر آ گئی جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے قبے تھے۔ میں نے کہا : اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ پھر دیکھا تو اس کی خوشبو یا مٹی مہکنے والی کستوری کی طرح تھی۔(بخاری،ج 4،ص268، حدیث:6581) کوثر کے متعلق دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد حوضِ کوثر ہے چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالیٰ عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے،
اچانک آپ کو اونگھ آ گئی پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر اقدس بلند کیا اور فرمایا: ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے پھر آپ نے سورۂ کوثر تلاوت کی اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا چیز ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا: یہ وہ نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے، اس میں خیرِ کثیر ہے اور یہ وہ حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت پینے کےلئے آئے گی۔(مسلم، ص169، حدیث:894)
نہر کوثر جنت میں ہے اور حوض کوثر محشر کے میدان میں ہوگا، اس میں بھی جنت کے دو پرنالوں سے پانی گر رہا ہوگا۔ گویا حوض کی اصل بھی جنت والی نہر کوثر ہے۔(فتح الباری،ج 12،ص398ماخوذاً) حوضِ کوثر کی شان میں مسلم شریف کی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے برتن تاریک رات میں صاف روشن آسمان پر چمکنے والے ستاروں سے بھی زیادہ ہیں۔جو اس سے آبِ کوثر پیے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، اس حوض کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے، جتنا عمان سے ایلہ تک فاصلہ ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔(مسلم، ص969، حدیث:5989)
نہر ِکوثر اور حوضِ کوثر بظاہر دو قول ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب ایک ہی قول کا حصہ ہیں اور وہ ہے ’’خیرِ کثیر‘‘ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالیٰ عَنْہُما کا قول ہے کہ کوثر سے مراد وہ خیر ہے جو اللہ نے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو عطا فرمائی۔راوی کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر رَضِیَ اللہ تَعَالی عَنْہُ سے پوچھا کہ لوگ توکہتے ہیں: وہ جنت میں ایک نہر ہے ؟اس پر آپ نے جواب دیا کہ جنت میں جو نہر ہے وہ بھی اس خیر میں شامل ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی۔(بخاری،ج 3،ص390، حدیث:4966)
مجموعی طور پر ’’کوثر‘‘کی تفسیر میں تقریبا 30 اقوال ہیں اورحقیقت یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کو بے انتہا خیر عطا کی گئی جس میں سب چیزیں داخل ہیں مثلاً ”خیرِکثیر‘‘ میں قرآن مجید بھی یقیناً داخل ہے کہ اس سے عظیم خیر اور کیا ہوگی؟ یونہی نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کواعلیٰ درجے کی حکمت بلکہ حکمتوں کے خزانے عطا کئے گئے اور حکمت کو خود قرآن نے خیرِ کثیر فرمایا ہے(پ3، البقرہ:269) یونہی جوامع الکلم یعنی کثیر معانی کوچند لفظوں میں سمونے کی صلاحیت عطا کی گئی۔
الغرض فرمایا گیا کہ اے حبیب! بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں، تمہیں قرآن،نبوت، رسالت، اسلام، آسان شرعی احکام، حکمت، علم، معرفت اورنورِ قلب سے مشرف کیا۔ تمہارے پاکیزہ کردار کو عبادت وریاضت اور اخلاقِ حسنہ، خصائلِ حمیدہ، شمائلِ جمیلہ سے آراستہ کیا۔ تمہیں کثیر معجزات، شفاعت، مقامِ محمود، حوضِ کوثر، نہرِ جنت اور ساری جنت عطا کی۔ تمہیں صحابۂ کرام کی پاکیزہ جماعت، امت کی کثرت،دین کا غلبہ، دشمنوں پر رعب اور فتوحات سے نوازا۔ تمہارا نسب عالی کیا اور تمہیں حسنِ ظاہر وباطن میں کامل بنایا۔ شرق وغرب، زمین و آسمان، دنیا وآخرت ہر جگہ ذکرِ حسن، تعریف و تحسین اورثناءِ جمیل کی صورت میں تمہیں رفعتِ ذکر عطا کی۔
ان تمام نعمتوں کے شکرانے میں تم اپنے رب کےلئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ تمہیں اَبْتَر کہنے والا دشمن ہی خیر سے محروم ہے جبکہ تم تو بےانتہا خیر سے مالا مال ہو۔ سُبْحٰنَ اللہ! کس خوبصورت انداز میں رَبُّ الْعٰلَمِین نے شانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّم بیان فرمائی ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی کو اپنے شعر میں یوں بیان فرماتےہیں:
اے رضاؔ خود صاحبِ قرآں ہے مَدّاحِ حضور
تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسولُ اللّٰہ کی
نہر کوثر جنت میں ہے اور حوض کوثر محشر کے میدان میں ہوگا، اس میں بھی جنت کے دو پرنالوں سے پانی گر رہا ہوگا۔ گویا حوض کی اصل بھی جنت والی نہر کوثر ہے۔(فتح الباری،ج 12،ص398ماخوذاً) حوضِ کوثر کی شان میں مسلم شریف کی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے برتن تاریک رات میں صاف روشن آسمان پر چمکنے والے ستاروں سے بھی زیادہ ہیں۔جو اس سے آبِ کوثر پیے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، اس حوض کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے، جتنا عمان سے ایلہ تک فاصلہ ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔(مسلم، ص969، حدیث:5989)
نہر ِکوثر اور حوضِ کوثر بظاہر دو قول ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب ایک ہی قول کا حصہ ہیں اور وہ ہے ’’خیرِ کثیر‘‘ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالیٰ عَنْہُما کا قول ہے کہ کوثر سے مراد وہ خیر ہے جو اللہ نے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو عطا فرمائی۔راوی کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر رَضِیَ اللہ تَعَالی عَنْہُ سے پوچھا کہ لوگ توکہتے ہیں: وہ جنت میں ایک نہر ہے ؟اس پر آپ نے جواب دیا کہ جنت میں جو نہر ہے وہ بھی اس خیر میں شامل ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی۔(بخاری،ج 3،ص390، حدیث:4966)
مجموعی طور پر ’’کوثر‘‘کی تفسیر میں تقریبا 30 اقوال ہیں اورحقیقت یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کو بے انتہا خیر عطا کی گئی جس میں سب چیزیں داخل ہیں مثلاً ”خیرِکثیر‘‘ میں قرآن مجید بھی یقیناً داخل ہے کہ اس سے عظیم خیر اور کیا ہوگی؟ یونہی نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کواعلیٰ درجے کی حکمت بلکہ حکمتوں کے خزانے عطا کئے گئے اور حکمت کو خود قرآن نے خیرِ کثیر فرمایا ہے(پ3، البقرہ:269) یونہی جوامع الکلم یعنی کثیر معانی کوچند لفظوں میں سمونے کی صلاحیت عطا کی گئی۔
الغرض فرمایا گیا کہ اے حبیب! بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں، تمہیں قرآن،نبوت، رسالت، اسلام، آسان شرعی احکام، حکمت، علم، معرفت اورنورِ قلب سے مشرف کیا۔ تمہارے پاکیزہ کردار کو عبادت وریاضت اور اخلاقِ حسنہ، خصائلِ حمیدہ، شمائلِ جمیلہ سے آراستہ کیا۔ تمہیں کثیر معجزات، شفاعت، مقامِ محمود، حوضِ کوثر، نہرِ جنت اور ساری جنت عطا کی۔ تمہیں صحابۂ کرام کی پاکیزہ جماعت، امت کی کثرت،دین کا غلبہ، دشمنوں پر رعب اور فتوحات سے نوازا۔ تمہارا نسب عالی کیا اور تمہیں حسنِ ظاہر وباطن میں کامل بنایا۔ شرق وغرب، زمین و آسمان، دنیا وآخرت ہر جگہ ذکرِ حسن، تعریف و تحسین اورثناءِ جمیل کی صورت میں تمہیں رفعتِ ذکر عطا کی۔
ان تمام نعمتوں کے شکرانے میں تم اپنے رب کےلئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ تمہیں اَبْتَر کہنے والا دشمن ہی خیر سے محروم ہے جبکہ تم تو بےانتہا خیر سے مالا مال ہو۔ سُبْحٰنَ اللہ! کس خوبصورت انداز میں رَبُّ الْعٰلَمِین نے شانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّم بیان فرمائی ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی کو اپنے شعر میں یوں بیان فرماتےہیں:
اے رضاؔ خود صاحبِ قرآں ہے مَدّاحِ حضور
تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسولُ اللّٰہ کی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
میلاد مصطفیٰ ﷺ پر نوری مشن اور اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر کے ذریعے مستحقین میں 250 راشن کٹ کی تقسیم
پیغام سیرت کی ترسیل کی غرض سے دو درجن سے زائد عناوین پر تیس ہزار سے زائد کتابوں کی تقسیم عمل میں آچکی ہے
مالیگاؤں: اخلاص، مروّت، درد مندی آج بھی بدرجۂ اتم موجود ہے اور نوری مشن تو اس کی عملی تصویر ہے۔ اس طرح کا تاثر عید میلادالنبی ﷺ کی ساعتوں میں حسبِ روایت نوری مشن کی جانب سے مستحق اور نادار مسلمانوں میں راشن کٹ (فوڈ پیکج) کی تقسیم کا جائزہ لینے کے بعد سرکردہ افراد نے دیا۔ آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی بارہویں شب میں ہی نوری مشن نے مالیگاؤں کے 250؍ مستحق گھرانوں میں راشن کٹ تقسیم کا سلسلہ جاری کر دیا تھا۔ اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر اور مشن کے ذریعے میلاد مصطفیٰ ﷺ کی صبح بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ شہر کی کئی بستیوں میں اس سلسلے میں ائمۂ کرام، سرکردہ افراد کے ذریعے فارم کی خانہ پری کی گئی۔ اور عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے راشن کٹ مستحقین میں پیش کی گئی۔ اِس ضمن میں غلام مصطفیٰ رضوی نے کہا کہ آقا کریم ﷺ کی تشریف آوری سے دنیا میں مظلوموں کو ان کا جائز حق ملا۔ غریبوں اور بیواؤں کو مقامِ عزت عطا ہوا۔ اسلافِ کرام کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ مستحقین کی اعانت کر کے میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشیاں مناتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے اپنے دس نکاتی پروگرام میں بھی اس کی ترغیب دلائی، ہم اسی درس کو عملاً پیش کرنے کے لیے ہر سال پابندی کے ساتھ مستحقین میں اشیائے ضروریہ کے پیکٹ تقسیم کرتے ہیں۔ فرید رضوی نے کہا کہ کٹ کے ساتھ سیرتِ پاک پر کتاب بھی دی جاتی ہے تا کہ پیغامِ سیرت سے آگہی ہو۔ معین پٹھان رضوی نے دورانِ تقسیم مشاہدے کی روشنی میں بتایا کہ ہم نے غریبوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو دیکھے کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد کی ساعتِ دل افروز میں یہ اہم کام کیا گیا۔ واضح رہے کہ کٹ میں آٹا، تیل، چاول، شکر، دالیں، مسالہ جات، نمک، چائے پتی وغیرہ شامل ہیں۔ حسبِ روایت فلاحی کام میں بھی سیرتِ طیبہ پر لٹریچرز لازماً شامل کیے گئے- اب تک سیرت رسول ﷺ کی نسبت سے نوری مشن کے ذریعے دو درجن سے زائد عناوین پر تیس ہزار سے زائد کتابوں کی تقسیم بھی ہو چکی ہے۔ تمام اشیا سلیقے سے پیکنگ کر کے بطور "تحفۂ میلاد" پیش کی گئیں۔ جس کی تیاری کے لیے نوری مشن کے یاسین رضا، شہزاد برکاتی، سعد رضوی، محسن رضا، شیخ شاداب رضوی، ارشد رضوی، آصف رضوی نے حصہ لیا۔ ایسی رپورٹ نوری مشن نے ارسال کی۔
٭٭٭
۳۰؍ اکتوبر ۲۰۲۰ء
پیغام سیرت کی ترسیل کی غرض سے دو درجن سے زائد عناوین پر تیس ہزار سے زائد کتابوں کی تقسیم عمل میں آچکی ہے
مالیگاؤں: اخلاص، مروّت، درد مندی آج بھی بدرجۂ اتم موجود ہے اور نوری مشن تو اس کی عملی تصویر ہے۔ اس طرح کا تاثر عید میلادالنبی ﷺ کی ساعتوں میں حسبِ روایت نوری مشن کی جانب سے مستحق اور نادار مسلمانوں میں راشن کٹ (فوڈ پیکج) کی تقسیم کا جائزہ لینے کے بعد سرکردہ افراد نے دیا۔ آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی بارہویں شب میں ہی نوری مشن نے مالیگاؤں کے 250؍ مستحق گھرانوں میں راشن کٹ تقسیم کا سلسلہ جاری کر دیا تھا۔ اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر اور مشن کے ذریعے میلاد مصطفیٰ ﷺ کی صبح بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ شہر کی کئی بستیوں میں اس سلسلے میں ائمۂ کرام، سرکردہ افراد کے ذریعے فارم کی خانہ پری کی گئی۔ اور عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے راشن کٹ مستحقین میں پیش کی گئی۔ اِس ضمن میں غلام مصطفیٰ رضوی نے کہا کہ آقا کریم ﷺ کی تشریف آوری سے دنیا میں مظلوموں کو ان کا جائز حق ملا۔ غریبوں اور بیواؤں کو مقامِ عزت عطا ہوا۔ اسلافِ کرام کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ مستحقین کی اعانت کر کے میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشیاں مناتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے اپنے دس نکاتی پروگرام میں بھی اس کی ترغیب دلائی، ہم اسی درس کو عملاً پیش کرنے کے لیے ہر سال پابندی کے ساتھ مستحقین میں اشیائے ضروریہ کے پیکٹ تقسیم کرتے ہیں۔ فرید رضوی نے کہا کہ کٹ کے ساتھ سیرتِ پاک پر کتاب بھی دی جاتی ہے تا کہ پیغامِ سیرت سے آگہی ہو۔ معین پٹھان رضوی نے دورانِ تقسیم مشاہدے کی روشنی میں بتایا کہ ہم نے غریبوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو دیکھے کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد کی ساعتِ دل افروز میں یہ اہم کام کیا گیا۔ واضح رہے کہ کٹ میں آٹا، تیل، چاول، شکر، دالیں، مسالہ جات، نمک، چائے پتی وغیرہ شامل ہیں۔ حسبِ روایت فلاحی کام میں بھی سیرتِ طیبہ پر لٹریچرز لازماً شامل کیے گئے- اب تک سیرت رسول ﷺ کی نسبت سے نوری مشن کے ذریعے دو درجن سے زائد عناوین پر تیس ہزار سے زائد کتابوں کی تقسیم بھی ہو چکی ہے۔ تمام اشیا سلیقے سے پیکنگ کر کے بطور "تحفۂ میلاد" پیش کی گئیں۔ جس کی تیاری کے لیے نوری مشن کے یاسین رضا، شہزاد برکاتی، سعد رضوی، محسن رضا، شیخ شاداب رضوی، ارشد رضوی، آصف رضوی نے حصہ لیا۔ ایسی رپورٹ نوری مشن نے ارسال کی۔
٭٭٭
۳۰؍ اکتوبر ۲۰۲۰ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
رفعتِ ذکر رسول ﷺ کا دل آویز اسلوب
*’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو‘‘*
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
ذکر رسول ﷺ بلند ہو رہا ہے… ہر لمحہ ہر آن… عظیم رب نے اپنے محبوب ﷺ کو عظمتیں دیں…محبوب ﷺ کے ذکر کو بلند فرمایا… محبوب ﷺ کو آخر میں بھیجنا تھا؛ لیکن بھیجے جانے کا ذکر پہلے سے ہی ہوتا رہا… انبیاے کرام علیہم السلام ذکرِ محبوبﷺ کی محفلیں سجاتے رہے… حضرت عیسیٰ علیہ السلام میلادِ مصطفیٰﷺ کا چرچا کرتے ہوئے گویا ہوتے ہیں:
’’ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔‘‘ (سورۃ الصف: ۶)
قرآن مقدس میں محبوب پاک ﷺ کی اداؤں کا ذکر ہے…بے مثالی و بے نظیری کا ذکر ہے…جود و سخا اور شانِ کریمی کا ذکر ہے…حسنِ پاک کا ذکر ہے…ادب و احترام کی پہلو بھی ہیں…بارگاہِ ناز کی تعظیم و تکریم بھی سکھائی گئی…اللہ تعالیٰ نے محبوب پاک ﷺ سے متعلق انبیاے کرام علیہم السلام سے عہد لیا…میلادِ پاک کے بیاں اور مقدس عہد و پیما کا قرآنی انداز دیکھیے…اور محبوب پاک ﷺ سے وفاداری کا عہد کیجیے:
’’اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔‘‘ (سورۃ آل عمران:۸۱)
قرآن مقدس نے نور پاک کا ذکر کیا…ساتھ ہی آمد آمد کا تاباں بیاں…محبوب پاک کی شان کے ساتھ ہی ولادت، تشریف آوری اور بھیجے جانے کا ذکر بھی فرمایا:
’’بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا۔‘‘ (سورۃ المآئدہ: ۱۵)
سبحان اللہ! محبوب پاک خوش خبری دیتے ہیں…حاضر و ناظر ہیں…شاہد و مبشر ہیں…چمکتے آفتاب…دمکتے ماہتاب…جن سے جہان روشن ہوا…جن سے ایمان ملا…اللہ کی معرفت اور رضاے الٰہی کا حصول ہوا…سُنیے سُنیے کیسی دل پذیر اور ایمان افروز صدا آرہی ہے:
’’اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔‘‘ (سورۃ الاحزاب:۴۶۔۴۵)
سارے جہان والوں کے لیے محبوب ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا…جہاں رحمت ہوگی وہاں برکتوں کا نزول ہوگا… ایمان کی بہاریں ہوں گی…اسی لیے ذکر پاک ﷺ کی محافل سجانا اسلاف کا طریقہ رہا ہے…میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا مقصد ذکر پاک کی ترغیب بھی ہے…رسول اللہﷺ کے بھیجے جانے کا بیاں بھی…قرآن مقدس کا کیسا پیارا انداز ہے رفعتِ ذکر کا…
٭…’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔‘‘(سورۃ الانبیاء:۱۰۷)
٭…’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا۔‘‘(سورۃ الفرقان:۵۶)
٭…’’بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان۔ ‘‘(سورۃ التوبۃ:۲۸)
اس مبارک ارشاد کے پس منظر مجھے اعلیٰ حضرت کا ایک فکر انگیز اقتباس یاد آرہا ہے…جسے یہاں اِس امید پر درج کر رہا ہوں…کہ دل کے کان سے سُنا جائے گا…عمل کے گام پر آویزاں کیا جائے گا…تفکر کی بزم میں پڑھا جائے گا:
’’محبوب بھی کیسا! جانِ ایمان و کانِ احسان، جس کے جمالِ جہاں آرا کی نظیر کہیں نہ ملے گی؛ اور خامۂ قدرت نے اس کی تصویربنا کر ہاتھ کھینچ لیا کہ پھر کبھی ایسانہ ملے گا۔ کیسا محبوب! جسے اس کے مالک نے تمام جہان کے لیے رحمت بھیجا۔ کیسا محبوب! جس نے اپنے تن پر ایک عالَم کا بار اُٹھا لیا۔ کیسا محبوب! جس نے تمھارے غم میں دن کا کھانا، رات کا سونا ترک کردیا، تم رات دن اس کی نافرمانیوں میں منہمک اور لہو و لعب میں مشغول ہو اور وہ تمھاری بخشش کے لیے شب و روز گریاں و ملول۔‘‘ (قمرالتمام،ص۴،طبع نوری مشن مالیگاؤں)
اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم فضل بھی ہیں…رحمت و نعمت بھی…بلکہ جانِ نعمت، جانِ رحمت… نعمتوں کے شکر بجا لانے والوں کے دلوں کا نغمہ ہے…’’مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘…نعمتوں کے ملنے پر خوشی منائی جاتی ہے…شرعی طریقے پر خوشی منانا قرآنی مقصود بھی ہے…اور دینی تقاضا بھی:
’’تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔‘‘(سورۃ یونس:۵۸)
ہمیں چاہیے کہ اللہ کی نعمتوں کا ذکر کریں…نعمتوں کے حصول پر اظہارِ تشکر بجا لائیں…وہ قوم زندہ رہتی ہے جو اپنی زندگی کا ثبوت دیتی ہے…نعمت و رحمت کے ملنے پر خوشی منانا دینِ فطرت سے وابستگی کا اظہار ہے…اسی لیے ہمیں حکم دیا گیا کہ:
’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔‘‘(سورۃ الضحیٰ: ۱۱)
چرچا کرنے والے مقبول ہو جاتے ہیں…بارگاہِ الٰہی میں ان کے دل کی آواز بھی مقبول…ان کی آخرت بھی روشن اور دنیا بھی ایمان کے نور سے معمور…آپ بھی ذکر محبوب ﷺ میں وارفتہ ہو جائیے…زباں پُکار اُٹھے گی…عقیدہ و عقیدت کی معراج ہوگی…لب وا ہوں گے…بقول اعلیٰ حضرت؎
*’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو‘‘*
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
ذکر رسول ﷺ بلند ہو رہا ہے… ہر لمحہ ہر آن… عظیم رب نے اپنے محبوب ﷺ کو عظمتیں دیں…محبوب ﷺ کے ذکر کو بلند فرمایا… محبوب ﷺ کو آخر میں بھیجنا تھا؛ لیکن بھیجے جانے کا ذکر پہلے سے ہی ہوتا رہا… انبیاے کرام علیہم السلام ذکرِ محبوبﷺ کی محفلیں سجاتے رہے… حضرت عیسیٰ علیہ السلام میلادِ مصطفیٰﷺ کا چرچا کرتے ہوئے گویا ہوتے ہیں:
’’ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔‘‘ (سورۃ الصف: ۶)
قرآن مقدس میں محبوب پاک ﷺ کی اداؤں کا ذکر ہے…بے مثالی و بے نظیری کا ذکر ہے…جود و سخا اور شانِ کریمی کا ذکر ہے…حسنِ پاک کا ذکر ہے…ادب و احترام کی پہلو بھی ہیں…بارگاہِ ناز کی تعظیم و تکریم بھی سکھائی گئی…اللہ تعالیٰ نے محبوب پاک ﷺ سے متعلق انبیاے کرام علیہم السلام سے عہد لیا…میلادِ پاک کے بیاں اور مقدس عہد و پیما کا قرآنی انداز دیکھیے…اور محبوب پاک ﷺ سے وفاداری کا عہد کیجیے:
’’اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔‘‘ (سورۃ آل عمران:۸۱)
قرآن مقدس نے نور پاک کا ذکر کیا…ساتھ ہی آمد آمد کا تاباں بیاں…محبوب پاک کی شان کے ساتھ ہی ولادت، تشریف آوری اور بھیجے جانے کا ذکر بھی فرمایا:
’’بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا۔‘‘ (سورۃ المآئدہ: ۱۵)
سبحان اللہ! محبوب پاک خوش خبری دیتے ہیں…حاضر و ناظر ہیں…شاہد و مبشر ہیں…چمکتے آفتاب…دمکتے ماہتاب…جن سے جہان روشن ہوا…جن سے ایمان ملا…اللہ کی معرفت اور رضاے الٰہی کا حصول ہوا…سُنیے سُنیے کیسی دل پذیر اور ایمان افروز صدا آرہی ہے:
’’اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔‘‘ (سورۃ الاحزاب:۴۶۔۴۵)
سارے جہان والوں کے لیے محبوب ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا…جہاں رحمت ہوگی وہاں برکتوں کا نزول ہوگا… ایمان کی بہاریں ہوں گی…اسی لیے ذکر پاک ﷺ کی محافل سجانا اسلاف کا طریقہ رہا ہے…میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا مقصد ذکر پاک کی ترغیب بھی ہے…رسول اللہﷺ کے بھیجے جانے کا بیاں بھی…قرآن مقدس کا کیسا پیارا انداز ہے رفعتِ ذکر کا…
٭…’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔‘‘(سورۃ الانبیاء:۱۰۷)
٭…’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا۔‘‘(سورۃ الفرقان:۵۶)
٭…’’بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان۔ ‘‘(سورۃ التوبۃ:۲۸)
اس مبارک ارشاد کے پس منظر مجھے اعلیٰ حضرت کا ایک فکر انگیز اقتباس یاد آرہا ہے…جسے یہاں اِس امید پر درج کر رہا ہوں…کہ دل کے کان سے سُنا جائے گا…عمل کے گام پر آویزاں کیا جائے گا…تفکر کی بزم میں پڑھا جائے گا:
’’محبوب بھی کیسا! جانِ ایمان و کانِ احسان، جس کے جمالِ جہاں آرا کی نظیر کہیں نہ ملے گی؛ اور خامۂ قدرت نے اس کی تصویربنا کر ہاتھ کھینچ لیا کہ پھر کبھی ایسانہ ملے گا۔ کیسا محبوب! جسے اس کے مالک نے تمام جہان کے لیے رحمت بھیجا۔ کیسا محبوب! جس نے اپنے تن پر ایک عالَم کا بار اُٹھا لیا۔ کیسا محبوب! جس نے تمھارے غم میں دن کا کھانا، رات کا سونا ترک کردیا، تم رات دن اس کی نافرمانیوں میں منہمک اور لہو و لعب میں مشغول ہو اور وہ تمھاری بخشش کے لیے شب و روز گریاں و ملول۔‘‘ (قمرالتمام،ص۴،طبع نوری مشن مالیگاؤں)
اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم فضل بھی ہیں…رحمت و نعمت بھی…بلکہ جانِ نعمت، جانِ رحمت… نعمتوں کے شکر بجا لانے والوں کے دلوں کا نغمہ ہے…’’مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘…نعمتوں کے ملنے پر خوشی منائی جاتی ہے…شرعی طریقے پر خوشی منانا قرآنی مقصود بھی ہے…اور دینی تقاضا بھی:
’’تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔‘‘(سورۃ یونس:۵۸)
ہمیں چاہیے کہ اللہ کی نعمتوں کا ذکر کریں…نعمتوں کے حصول پر اظہارِ تشکر بجا لائیں…وہ قوم زندہ رہتی ہے جو اپنی زندگی کا ثبوت دیتی ہے…نعمت و رحمت کے ملنے پر خوشی منانا دینِ فطرت سے وابستگی کا اظہار ہے…اسی لیے ہمیں حکم دیا گیا کہ:
’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔‘‘(سورۃ الضحیٰ: ۱۱)
چرچا کرنے والے مقبول ہو جاتے ہیں…بارگاہِ الٰہی میں ان کے دل کی آواز بھی مقبول…ان کی آخرت بھی روشن اور دنیا بھی ایمان کے نور سے معمور…آپ بھی ذکر محبوب ﷺ میں وارفتہ ہو جائیے…زباں پُکار اُٹھے گی…عقیدہ و عقیدت کی معراج ہوگی…لب وا ہوں گے…بقول اعلیٰ حضرت؎
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
انھیں جانا، انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دُنیا سے مسلمان گیا
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا
٭ ٭ ٭
٢٩ اکتوبر ٢٠٢٠ء
للہ الحمد میں دُنیا سے مسلمان گیا
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا
٭ ٭ ٭
٢٩ اکتوبر ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
سوچ بدلو.....زندگی بدلو.....
میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔ جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی۔ اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا۔ اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔ اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔
اس نے ایک خوبصورت کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا ’سر جب تک میں آپ کا سامان ڈگی میں رکھوں، آپ میرا مشن سٹیٹ منٹ پڑھ لیں۔ میں نے آنکھیں موچ لیں۔ یہ کیا ہے؟‘ میرا نام سائیں ہے، آپ کا ڈرائیور۔ میرا مشن ہے کہ مسافروں کو سب سے مختصر، محفوظ اور سستے رستے سے ان کی منزل تک پہنچاؤں اور ان کو مناسب ماحول فراہم کروں ’۔ میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ میں نے آس پاس دیکھا تو ٹیکسی کا اندر بھی اتنا ہی صاف تھا جتنا کہ وہ باہر سے جگمگا رہی تھی۔
اس دوران وہ سٹئرنگ ویل پر بیٹھ چکا تھا۔ ’سر آپ کافی یا چائے پینا چاہیں گے۔ آپ کے ساتھ ہی دو تھرماس پڑے ہوئے ہیں جن میں چائے اور کافی موجود ہے‘ ۔ میں نے مذاق میں کہا کہ نہیں میں تو کوئی کولڈ ڈرنک پیوں گا۔ وہ بولا ’سر کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے پاس آگے کولر پڑا ہوا ہے۔ اس میں کوک، لسی، پانی اور اورنج جوس ہے۔ آپ کیا لینا چاہیں گے؟‘ میں نے لسی کا مطالبہ کیا اور اس نے آگے سے ڈبہ پکڑا دیا۔ میں نے ابھی اسے منہ بھی نہیں لگایا تھا کہ اس نے کہا ’سر اگر آپ کچھ پڑھنا چاہیں تو میرے پاس اردو اور انگریزی کے اخبار موجود ہیں‘ ۔
اگلے سگنل پر گاڑی رکی تو سائیں نے ایک اور کارڈ مجھے پکڑا دیا کہ اس میں وہ تمام ایف ایم سٹیشن ہیں جو میری گاڑی کے ریڈیو پر لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں وہ تمام البم بھی ہیں جن کی سی ڈی میرے پاس ہے۔ اگر آپ کو موسیقی سے شوق ہے تو میں لگا سکتا ہوں۔ اور جیسے یہ سب کچھ کافی نہیں تھا، اس نے کہا کہ ’سر میں نے ائر کنڈیشنر لگا دیا ہے۔ آپ بتائیے گا کہ ٹمپریچر زیادہ یا کم ہو تو آپ کی مرضی کے مطابق کردوں‘ ۔
اس کے ساتھ ہی اس نے رستے کے بارے میں بتا دیا کہ اس وقت کس رستے پر سے وہ گزرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ اس وقت وہاں رش نہیں ہوتا۔ پھر بڑی پتے کی بات پوچھی ’سر اگر آپ چاہیں تو رستے سے گزرتے ہوئے میں آپ کو اس علاقے کے بارے میں بھی بتا سکتا ہوں۔ اور اگر آپ چاہیں تو آپ اپنی سوچوں میں گم رہ سکتے ہیں‘ وہ شیشے میں دیکھ کر مسکرایا۔
میں نے پوچھا ’سائیں، کیا تم ہمیشہ سے ایسے ہی ٹیکسی چلاتے رہے ہو؟‘ اس کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ آئی۔ ’نہیں سر، یہ کچھ دو سال سے میں نے ایسا شروع کیا ہے۔ اس سے پانچ سال قبل میں بھی اسی طرح کڑھتا تھا جیسے کہ دوسرے ٹیکسی والے کڑھتے ہیں۔ میں بھی اپنا سارا وقت شکایتیں کرتے گزارا کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک دن کسی سے سنا کہ سوچ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ یہ سوچ کی طاقت ہوتی ہے کہ آپ بطخ بننا پسند کریں گے کہ عقاب۔ اگر آپ گھر سے مسائل کی توقع کرکے نکلیں گے تو آپ کا سارا دن برا ہی گزرے گا۔ بطخ کی طرح ہر وقت کی ٹیں ٹیں سے کوئی فائدہ نہیں، عقاب کی طرح بلندی پر اڑو تو سارے جہاں سے مختلف لگو گے۔ یہ بات میرے دماغ کو تیر کی طرح لگی اور اس نے میری زندگی بدل دی۔
’میں نے سوچا یہ تو میری زندگی ہے۔ میں ہر وقت شکایتوں کا انبار لئے ہوتا تھا اور بطخ کی طرح سے ٹیں ٹیں کرتا رہتا تھا۔ بس میں نے عقاب بننے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو تمام ٹیکسیاں گندی دیکھیں۔ ان کے ڈرائیور گندے کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ ہر وقت شکایتیں کرتے رہتے تھے اور مسافروں کے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے۔ ان کے مسافر بھی ان سے بے زار ہوتے تھے۔ کوئی بھی خوش نہیں ہوتا تھا۔ بس میں نے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے میں نے چند تبدیلیاں کیں۔ گاڑی صاف رکھنی شروع کی اور اپنے لباس پر توجہ دی۔ جب گاہکوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی تو میں نے مزید بہتری کی۔ اور اب بھی بہتری کی تلاش ہے۔‘
میں نے اپنی دلچسپی کے لئے پوچھا کہ کیا اس سے تمہاری آمدنی پر کوئی فرق پڑا
’سر بڑا فرق پڑا۔ پہلے سال تو میری انکم ڈبل ہوگئی اور اس سال لگتا ہے چار گنا بڑھ جائے گی۔ اب میرے گاہک مجھے فون پر بک کرتے ہیں یا ایس ایم ایس کرکے وقت طے کرلیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے ایک اور ٹیکسی خریدنی پڑے گی اور اپنے جیسے کسی بندے کو اس پر لگانا پڑے گا۔‘
یہ سائیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے۔
کیا خیال ہے، اس ہفتے سے عقاب کا سفر نہ شروع کیا جائے؟ سائیں نے مجھے ایک نیا فلسفہ دیا۔
سوچ بدلو ۔ زندگی بدلو ۔
وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ کوئی بھی پانی میں گرنے سے نہیں مرتا۔مرتا وہ اس وقت ہے جب وہ اس مشکل سے نکلنے کے لیۓ ہاتھ پاؤں نہیں مارتا ہے.....
میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔ جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی۔ اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا۔ اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔ اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔
اس نے ایک خوبصورت کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا ’سر جب تک میں آپ کا سامان ڈگی میں رکھوں، آپ میرا مشن سٹیٹ منٹ پڑھ لیں۔ میں نے آنکھیں موچ لیں۔ یہ کیا ہے؟‘ میرا نام سائیں ہے، آپ کا ڈرائیور۔ میرا مشن ہے کہ مسافروں کو سب سے مختصر، محفوظ اور سستے رستے سے ان کی منزل تک پہنچاؤں اور ان کو مناسب ماحول فراہم کروں ’۔ میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ میں نے آس پاس دیکھا تو ٹیکسی کا اندر بھی اتنا ہی صاف تھا جتنا کہ وہ باہر سے جگمگا رہی تھی۔
اس دوران وہ سٹئرنگ ویل پر بیٹھ چکا تھا۔ ’سر آپ کافی یا چائے پینا چاہیں گے۔ آپ کے ساتھ ہی دو تھرماس پڑے ہوئے ہیں جن میں چائے اور کافی موجود ہے‘ ۔ میں نے مذاق میں کہا کہ نہیں میں تو کوئی کولڈ ڈرنک پیوں گا۔ وہ بولا ’سر کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے پاس آگے کولر پڑا ہوا ہے۔ اس میں کوک، لسی، پانی اور اورنج جوس ہے۔ آپ کیا لینا چاہیں گے؟‘ میں نے لسی کا مطالبہ کیا اور اس نے آگے سے ڈبہ پکڑا دیا۔ میں نے ابھی اسے منہ بھی نہیں لگایا تھا کہ اس نے کہا ’سر اگر آپ کچھ پڑھنا چاہیں تو میرے پاس اردو اور انگریزی کے اخبار موجود ہیں‘ ۔
اگلے سگنل پر گاڑی رکی تو سائیں نے ایک اور کارڈ مجھے پکڑا دیا کہ اس میں وہ تمام ایف ایم سٹیشن ہیں جو میری گاڑی کے ریڈیو پر لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں وہ تمام البم بھی ہیں جن کی سی ڈی میرے پاس ہے۔ اگر آپ کو موسیقی سے شوق ہے تو میں لگا سکتا ہوں۔ اور جیسے یہ سب کچھ کافی نہیں تھا، اس نے کہا کہ ’سر میں نے ائر کنڈیشنر لگا دیا ہے۔ آپ بتائیے گا کہ ٹمپریچر زیادہ یا کم ہو تو آپ کی مرضی کے مطابق کردوں‘ ۔
اس کے ساتھ ہی اس نے رستے کے بارے میں بتا دیا کہ اس وقت کس رستے پر سے وہ گزرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ اس وقت وہاں رش نہیں ہوتا۔ پھر بڑی پتے کی بات پوچھی ’سر اگر آپ چاہیں تو رستے سے گزرتے ہوئے میں آپ کو اس علاقے کے بارے میں بھی بتا سکتا ہوں۔ اور اگر آپ چاہیں تو آپ اپنی سوچوں میں گم رہ سکتے ہیں‘ وہ شیشے میں دیکھ کر مسکرایا۔
میں نے پوچھا ’سائیں، کیا تم ہمیشہ سے ایسے ہی ٹیکسی چلاتے رہے ہو؟‘ اس کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ آئی۔ ’نہیں سر، یہ کچھ دو سال سے میں نے ایسا شروع کیا ہے۔ اس سے پانچ سال قبل میں بھی اسی طرح کڑھتا تھا جیسے کہ دوسرے ٹیکسی والے کڑھتے ہیں۔ میں بھی اپنا سارا وقت شکایتیں کرتے گزارا کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک دن کسی سے سنا کہ سوچ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ یہ سوچ کی طاقت ہوتی ہے کہ آپ بطخ بننا پسند کریں گے کہ عقاب۔ اگر آپ گھر سے مسائل کی توقع کرکے نکلیں گے تو آپ کا سارا دن برا ہی گزرے گا۔ بطخ کی طرح ہر وقت کی ٹیں ٹیں سے کوئی فائدہ نہیں، عقاب کی طرح بلندی پر اڑو تو سارے جہاں سے مختلف لگو گے۔ یہ بات میرے دماغ کو تیر کی طرح لگی اور اس نے میری زندگی بدل دی۔
’میں نے سوچا یہ تو میری زندگی ہے۔ میں ہر وقت شکایتوں کا انبار لئے ہوتا تھا اور بطخ کی طرح سے ٹیں ٹیں کرتا رہتا تھا۔ بس میں نے عقاب بننے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو تمام ٹیکسیاں گندی دیکھیں۔ ان کے ڈرائیور گندے کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ ہر وقت شکایتیں کرتے رہتے تھے اور مسافروں کے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے۔ ان کے مسافر بھی ان سے بے زار ہوتے تھے۔ کوئی بھی خوش نہیں ہوتا تھا۔ بس میں نے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے میں نے چند تبدیلیاں کیں۔ گاڑی صاف رکھنی شروع کی اور اپنے لباس پر توجہ دی۔ جب گاہکوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی تو میں نے مزید بہتری کی۔ اور اب بھی بہتری کی تلاش ہے۔‘
میں نے اپنی دلچسپی کے لئے پوچھا کہ کیا اس سے تمہاری آمدنی پر کوئی فرق پڑا
’سر بڑا فرق پڑا۔ پہلے سال تو میری انکم ڈبل ہوگئی اور اس سال لگتا ہے چار گنا بڑھ جائے گی۔ اب میرے گاہک مجھے فون پر بک کرتے ہیں یا ایس ایم ایس کرکے وقت طے کرلیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے ایک اور ٹیکسی خریدنی پڑے گی اور اپنے جیسے کسی بندے کو اس پر لگانا پڑے گا۔‘
یہ سائیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے۔
کیا خیال ہے، اس ہفتے سے عقاب کا سفر نہ شروع کیا جائے؟ سائیں نے مجھے ایک نیا فلسفہ دیا۔
سوچ بدلو ۔ زندگی بدلو ۔
وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ کوئی بھی پانی میں گرنے سے نہیں مرتا۔مرتا وہ اس وقت ہے جب وہ اس مشکل سے نکلنے کے لیۓ ہاتھ پاؤں نہیں مارتا ہے.....
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
سیرتِ رسول ﷺ کا اہم باب
*"آمدِ بہار"*
مطالعہ کیجئے... احباب کو ترغیبِ مطالعہ دیجئے...
ذکرِ رسول ﷺ کی خوشبو سے گُلشنِ حیات میں بہاریں ہیں... ان کی یاد خوشبو... ان کا اخلاق خوشبو...ان کا تصور خوشبو... سیرت کا ہر باب خوشبو... ہر عنوان مُشک بو... ایمان و عقیدے کی بزم میں انھیں کے رُخِ انور کی روشنی ہے...
نامِ نامی محمد ﷺ کی تجلیاں پوری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں... آمد آمد کا چرچا ہوا... بزمِ انبیاء کرام علیہم السلام میں... بزمِ ملائکہ میں... وفاداری کا عہد لیا گیا... محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا... میلاد منایا گیا... کتاب و سُنّت میں کئی درخشاں ابواب موجود ہیں... ایمانی بصیرت سے دیکھیں تو دل و نگاہ جگمگائیں گے...
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کے خامۂ زرنگار سے محبت و عقیدت کے پاکیزہ نقوش "آمدِ بہار" ملاحظہ فرمائیں... نوری مشن مالیگاؤں سے مطبوع بہاروں کا گلشن تازہ ہے... سطر سطر سے محبتوں کی شمع روشن ہوتی ہے... اور حرف حرف ایمان کی تب و تاب میں اضافہ کرتا ہے... مطالعۂ سیرت کا دل نشیں اسلوب مشاہدہ ہوتا ہے... آپ بھی ذکرِ محبوب ﷺ کی بزمِ مطالعہ میں مؤدب ہو جائیے... ان شاء اللہ! نصیبہ چمک اُٹھے گا... ذکرِ میلادِ رسول ﷺ کی برکتوں سے قندیلِ حیات فروزاں ہوگی...
اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اسی سے ہے؛ جان کی وہ ہی جان ہے
(اعلیٰ حضرت)
٭٭٭
نقوشِ قلم: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
٢٣ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4516378305104127/
*"آمدِ بہار"*
مطالعہ کیجئے... احباب کو ترغیبِ مطالعہ دیجئے...
ذکرِ رسول ﷺ کی خوشبو سے گُلشنِ حیات میں بہاریں ہیں... ان کی یاد خوشبو... ان کا اخلاق خوشبو...ان کا تصور خوشبو... سیرت کا ہر باب خوشبو... ہر عنوان مُشک بو... ایمان و عقیدے کی بزم میں انھیں کے رُخِ انور کی روشنی ہے...
نامِ نامی محمد ﷺ کی تجلیاں پوری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں... آمد آمد کا چرچا ہوا... بزمِ انبیاء کرام علیہم السلام میں... بزمِ ملائکہ میں... وفاداری کا عہد لیا گیا... محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا... میلاد منایا گیا... کتاب و سُنّت میں کئی درخشاں ابواب موجود ہیں... ایمانی بصیرت سے دیکھیں تو دل و نگاہ جگمگائیں گے...
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کے خامۂ زرنگار سے محبت و عقیدت کے پاکیزہ نقوش "آمدِ بہار" ملاحظہ فرمائیں... نوری مشن مالیگاؤں سے مطبوع بہاروں کا گلشن تازہ ہے... سطر سطر سے محبتوں کی شمع روشن ہوتی ہے... اور حرف حرف ایمان کی تب و تاب میں اضافہ کرتا ہے... مطالعۂ سیرت کا دل نشیں اسلوب مشاہدہ ہوتا ہے... آپ بھی ذکرِ محبوب ﷺ کی بزمِ مطالعہ میں مؤدب ہو جائیے... ان شاء اللہ! نصیبہ چمک اُٹھے گا... ذکرِ میلادِ رسول ﷺ کی برکتوں سے قندیلِ حیات فروزاں ہوگی...
اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اسی سے ہے؛ جان کی وہ ہی جان ہے
(اعلیٰ حضرت)
٭٭٭
نقوشِ قلم: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
٢٣ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4516378305104127/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
علما کی خاموشی اور جاہل مقررین کی من مانی
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ.
آج کل ایک رواج سا ہوگیا ہے کہ اسٹیج پر خواہ کیسی ہی بے سرو پا روایات بیان کی جائیں، شعرا نہایت غلط کلام پڑھیں، نقیب زمین آسمان کے قلابے ہی کیوں نہ ملادے لیکن اسٹیج کی جان بنے مفتیان کرام، جلسے کی صدارت کر رہے نام نہاد "صدر" ایک لفظ ان کو نہیں کہتے - نتیجہ یہ ہوا کہ ہر "ایرا غیرا نتھو خيرا" علامۃ الدہر، مناظر اہل سنت، فاتح ایشیا و یوروپ بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے عوام اہل سنت صرف لفاظی سننے کی عادی ہوگئی اور انھیں کے بیانات سے مسحور ہو کر گمراہ تو ہوتی ہی ہے ساتھ میں لاکھوں روپیہ بھی برباد کرتی ہے.
مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ جب فتنہ اس قدر بڑھ چکا ہے تو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسٹیج پر ہی ٹونکیں، نہ ماننے پر دلائل مانگیں آج نیٹ کے دور میں ہر کتاب دستیاب ہے ایک دو گھنٹے کے اندر مقرر سے اس کے بولے ہوئے پر ثبوت پیش کرنے کو کہیں یا توبہ کرائیں اگر یہ طریقہ دو چار دس جگہ اپنا لیا جائے تو ہمارے جلسے بیجا روایات، جاہل مقررین دونو سے محفوظ ہو جائیں. یہ مقررین تو بول کر نکل جاتے ہیں جھیلنا مفتیان کرام اور علمائے اہل سنت کو ہی پڑتا ہے جب اغیار صبح اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارے مناظر اہل سنت کو دین کے اصول بھی نہیں آتے، ضعیف، موضوع روایات پر بھی تمیز کی صلاحیت نہیں تو علمائے اہل سنت انکے سامنے سے آنکھیں چراتے ہوئے گزرتے ہیں اور وہ پھبتیاں کستے ہیں.
ابھی ماہ صفر ہی میں ہمارے یہاں ہوے پروگرام میں تشریف لائے ایک عالم صاحب نے شہادت امام عالی مقام کے بعد کے ایسے واقعات پیش کئے کہ تھوڑا بھی علم و عقل رکھنے والا بندہ بھی سمجھ جائے کی یہ سب من گڑھت ہے.
سوئے اتفاق کہیے ہمارے یہاں قابل علما نہیں آتے،یا ہماری اور انکی ملاقات نہ ہوسکی، جن پروگراموں میں ہم پھنسے اچھے عالم نہیں تھے اور جو عالم اچھے ہوے ان پروگراموں میں ہماری حاضری نہ ہوسکی. میزبانی کی بنا پر ہم نے کبھی سامنے رد نہیں کیا پر بعد میں ہم نے اپنے لوگوں کے عقائد کی حفاظت کے لیے اصل چیزیں ضرور بیان کی ہیں اب لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ جتنے لوگ آتے ہیں سبھی غلط ہیں؟ اور یہ مولانا صاحب جو تقریر بھی اچھی نہیں کرتے دوسروں میں خامیاں نکالتے رہتے ہیں - لیکن اب ارادہ بنا رہے ہیں کہ اس کو روکنے کے لیے سامنے ہی دلیل طلب کی جائے گی تاکہ لفاظ مقررین سے عوام اہل سنت کو بچایا جا سکے.
*پیر صاحب ہوے تو اور مصیبت*
آج کل جاہل پیروں، انکے شہزادوں کا بھی دور دورہ ہے ایک لفظ پڑھا نہیں بس جو منہ میں آیا بک دیا انھیں کوئی عالم صاحب روک بھی نہیں سکتے ورنہ گالیاں، گولیاں دونوں کا اندیشہ ہے فوراً سیادت کا اموشنل کارڈ کھیل کر یہ جاہل پیران اور انکے شہزادگان عوام کو اپنی طرف مائل کرلیتے ہیں بھکت نما مرید بغیر حق جانے علما کو ہی غلط ٹھہراتے ہیں بلکہ اگر پیر صاحب کا علاقہ ہے تو عالم صاحب کا پتہ صاف ہوجاتا ہے. پیر صاحب کا فرمان قرآن و حدیث پر فوقیت رکھنے لگا ہے جو پیر صاحب کہ دیں بس وہی حق ہے باقی سب غلط - عوام اہل سنت کی یہ اندھ بھکتی صرف نقصان کا باعث ہے. اللہ عوام اہل سنت کو حق بولنے، سننے، سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین.
محمد زاہد علی مرکزی( کالپی شریف)
رکن روشن مستقبل ــ دہلی
چئیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
Zahidalibarkati@gmail.com
مورخہ : ٢٧ اکتوبر ٢٠١٩ ء
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/794766354427218/
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ.
آج کل ایک رواج سا ہوگیا ہے کہ اسٹیج پر خواہ کیسی ہی بے سرو پا روایات بیان کی جائیں، شعرا نہایت غلط کلام پڑھیں، نقیب زمین آسمان کے قلابے ہی کیوں نہ ملادے لیکن اسٹیج کی جان بنے مفتیان کرام، جلسے کی صدارت کر رہے نام نہاد "صدر" ایک لفظ ان کو نہیں کہتے - نتیجہ یہ ہوا کہ ہر "ایرا غیرا نتھو خيرا" علامۃ الدہر، مناظر اہل سنت، فاتح ایشیا و یوروپ بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے عوام اہل سنت صرف لفاظی سننے کی عادی ہوگئی اور انھیں کے بیانات سے مسحور ہو کر گمراہ تو ہوتی ہی ہے ساتھ میں لاکھوں روپیہ بھی برباد کرتی ہے.
مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ جب فتنہ اس قدر بڑھ چکا ہے تو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسٹیج پر ہی ٹونکیں، نہ ماننے پر دلائل مانگیں آج نیٹ کے دور میں ہر کتاب دستیاب ہے ایک دو گھنٹے کے اندر مقرر سے اس کے بولے ہوئے پر ثبوت پیش کرنے کو کہیں یا توبہ کرائیں اگر یہ طریقہ دو چار دس جگہ اپنا لیا جائے تو ہمارے جلسے بیجا روایات، جاہل مقررین دونو سے محفوظ ہو جائیں. یہ مقررین تو بول کر نکل جاتے ہیں جھیلنا مفتیان کرام اور علمائے اہل سنت کو ہی پڑتا ہے جب اغیار صبح اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارے مناظر اہل سنت کو دین کے اصول بھی نہیں آتے، ضعیف، موضوع روایات پر بھی تمیز کی صلاحیت نہیں تو علمائے اہل سنت انکے سامنے سے آنکھیں چراتے ہوئے گزرتے ہیں اور وہ پھبتیاں کستے ہیں.
ابھی ماہ صفر ہی میں ہمارے یہاں ہوے پروگرام میں تشریف لائے ایک عالم صاحب نے شہادت امام عالی مقام کے بعد کے ایسے واقعات پیش کئے کہ تھوڑا بھی علم و عقل رکھنے والا بندہ بھی سمجھ جائے کی یہ سب من گڑھت ہے.
سوئے اتفاق کہیے ہمارے یہاں قابل علما نہیں آتے،یا ہماری اور انکی ملاقات نہ ہوسکی، جن پروگراموں میں ہم پھنسے اچھے عالم نہیں تھے اور جو عالم اچھے ہوے ان پروگراموں میں ہماری حاضری نہ ہوسکی. میزبانی کی بنا پر ہم نے کبھی سامنے رد نہیں کیا پر بعد میں ہم نے اپنے لوگوں کے عقائد کی حفاظت کے لیے اصل چیزیں ضرور بیان کی ہیں اب لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ جتنے لوگ آتے ہیں سبھی غلط ہیں؟ اور یہ مولانا صاحب جو تقریر بھی اچھی نہیں کرتے دوسروں میں خامیاں نکالتے رہتے ہیں - لیکن اب ارادہ بنا رہے ہیں کہ اس کو روکنے کے لیے سامنے ہی دلیل طلب کی جائے گی تاکہ لفاظ مقررین سے عوام اہل سنت کو بچایا جا سکے.
*پیر صاحب ہوے تو اور مصیبت*
آج کل جاہل پیروں، انکے شہزادوں کا بھی دور دورہ ہے ایک لفظ پڑھا نہیں بس جو منہ میں آیا بک دیا انھیں کوئی عالم صاحب روک بھی نہیں سکتے ورنہ گالیاں، گولیاں دونوں کا اندیشہ ہے فوراً سیادت کا اموشنل کارڈ کھیل کر یہ جاہل پیران اور انکے شہزادگان عوام کو اپنی طرف مائل کرلیتے ہیں بھکت نما مرید بغیر حق جانے علما کو ہی غلط ٹھہراتے ہیں بلکہ اگر پیر صاحب کا علاقہ ہے تو عالم صاحب کا پتہ صاف ہوجاتا ہے. پیر صاحب کا فرمان قرآن و حدیث پر فوقیت رکھنے لگا ہے جو پیر صاحب کہ دیں بس وہی حق ہے باقی سب غلط - عوام اہل سنت کی یہ اندھ بھکتی صرف نقصان کا باعث ہے. اللہ عوام اہل سنت کو حق بولنے، سننے، سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین.
محمد زاہد علی مرکزی( کالپی شریف)
رکن روشن مستقبل ــ دہلی
چئیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
Zahidalibarkati@gmail.com
مورخہ : ٢٧ اکتوبر ٢٠١٩ ء
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/794766354427218/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا و حامدا::ومصلیا و مسلما
فضائل و مناقب مصطفویہ اور تالیفات و تصنیفات
حضور اقدس تاجدار دو جہاں علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی نے اپنی تخلیق کا ایک کامل نمونہ بنایا۔ان کا ظاہر و باطن,ان کے اعمال و اخلاق,محامد ومحاسن,فضائل و مناقب,اوصاف وکمالات سب کچھ بے نظیر ہیں۔
آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صحیح توصیف بیانی وہی کر سکتا ہے جس کو اپ کے فضائل وکمالات کا مکمل علم ہو۔
جب کہ مخلوقات میں کوئی ایسا نہیں۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(یا ابا بکر! لم یعرفنی حقیقۃ سوا ربی)
( مطالع المسرات للعلامۃ الفاسی)
ترجمہ: اے ابوبکر! درحقیقت مجھے میرے رب کے علاوہ کسی نے پہچانا نہیں۔
فارسی زبان کا ایک شعر بہت مشہور ہے:
ہمہ پیغمبراں در جستجو اند
خدا داند کہ تو در چہ مقامی
ترجمہ:تمام انبیائے کرام تلاش و جستجو میں مشغول ہیں۔
آپ کا رب ہی جانے کہ اپ کس مقام پر فائز المرام ہیں
(علیہ وعلی اخوانہ الصلوۃ والسلام)
ما و شما اگر اپنی جانکاری کے مطابق مدح نبوی میں کچھ رقم کریں یا زبان سے ادا کریں تو مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے اس عمل صالح کو قبول فرما لے اور اپنے حبیب علیہ التحیۃ والثنا کے تصدق ہمیں بھی کچھ نعمتیں میسر آ جائیں۔
الحاصل اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان پاک کی تفصیل کا ہمیں علم وادراک نہیں اور اجمال وہی ہے جو دربار اعظم کے عاشق صادق اور غلام مقبول حضرت علامہ جامی قدس سرہ العزیز نے عرض کر چکے:
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ تر توئی قصہ مختصر
ترجمہ:
اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شایان شان توصیف بیانی (مخلوقات سے)ممکن ہے۔
اجمال و خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے بعد سب سے عظیم ترین اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہی ہیں۔
یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جب وہابیہ اور دیابنہ نے شان مصطفوی پر انگشت نمائی شروع کی تو علمائے اہل سنت و جماعت نے حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی شان اقدس میں اس قدر کثیر تصانیف و تالیفات اور دواوین و دفاتر سپرد قوم کئے کہ جس کثرت کی مثال عہد ماضی میں نہیں ملتی۔
گرچہ متاخرین نے متقدمین کی تصانیف سے ہی خوشہ چینی کی ہے,لیکن علمائے متاخرین نے وہابیہ کے مجنونانہ لاف و گزاف کا منہ توڑ اور کمر شکن جواب دیا,تا آں کہ وہابیہ بھی عوام کو دکھانے کے واسطے حضور اقدس علیہ التحیۃ والثنا کے فضائل و مناقب بیان کرنے پر مجبور ہوئے۔
اب ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ چند باہمت نوجوان اٹھیں اور وہابیت کے افسوس ناک سوالوں کے رد وابطال میں علمائے حق نے محاسن نبویہ و فضائل مصطفویہ پر جو دفاتر حالیہ دو صدیوں میں رقم فرمائے ہیں,ان کی فہرست سازی کریں اور ان مجموعات کا تعارف بھی قلم بند کریں۔
بھارت میں حسام الحرمین کی جلوہ گری سے قبل شیاطین دیوبند اور دیگر وہابیہ کا مشغلہ یہی تھا کہ یہ متبعین اسماعیل دہلوی و مریدان عزازیل آتشی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں نقص وعیب تلاش کرتے رہتے۔
زبانیں بے لگام اور قلوب سیاہ فام ہو چکے تھے۔اسی کا نتیجہ تھا کہ اپنے کفر سے آشنا ہو کر بھی توبہ و رجوع کی توفیق سے سرفراز نہ ہو سکے۔
ہم تو نسلا بعد نسل غلامان دربار اعظم ہیں۔جب کوئی معترض نہ تھا تو بھی شان رسالت میں قصیدہ خوانی کرنا ہمارا موروثی وظیفہ اور آبائی پیشہ تھا۔جب ابن عبد الوہاب نجدی(1115-1206) نے سال ہجری 1143 سے وہابیت کی تبلیغ شروع کی اور شان مصطفوی میں ادب فراموش الفاظ بکنے لگا تو ہم میں سے کچھ لوگ کشتیوں کے چپو سنبھالے اور علم وعرفان کے سمندر میں چل پڑے۔ عمیق گہرائیوں میں خوشنما صدف پائے۔ان میں سے مدح مصطفوی اور منقبت محمدی کے جواہر اور موتیاں نکال لائے۔
وہ دیکھو! خیرآباد کے فضل حق کدال و پھاوڑا لے کر علم وفضل کے پہاڑوں کی طرف نکل پڑے۔
نہ جانے کتنے چٹانوں کے ٹکڑے کئے اور محاسن مصطفویہ ومناقب محمدیہ کے نادر و نایاب جگمگاتے ہیرے لے کر ائے۔قوم کے ہاتھوں میں امتناع النظیر دے گئے۔قیامت تک اس کی نظیر مشکل نظر اتی ہے۔
آو نوجوانو! ہم ان کی محبتوں اور محنتوں کو سلامی دیں اور محبت ناموں کی فہرست سازی کریں۔کیا کوئی ہے جو لبیک کہتا ہوا میرے ساتھ آئے؟؟؟
طارق انور مصباحی
28_10_2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/795078481062672/
فضائل و مناقب مصطفویہ اور تالیفات و تصنیفات
حضور اقدس تاجدار دو جہاں علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی نے اپنی تخلیق کا ایک کامل نمونہ بنایا۔ان کا ظاہر و باطن,ان کے اعمال و اخلاق,محامد ومحاسن,فضائل و مناقب,اوصاف وکمالات سب کچھ بے نظیر ہیں۔
آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صحیح توصیف بیانی وہی کر سکتا ہے جس کو اپ کے فضائل وکمالات کا مکمل علم ہو۔
جب کہ مخلوقات میں کوئی ایسا نہیں۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(یا ابا بکر! لم یعرفنی حقیقۃ سوا ربی)
( مطالع المسرات للعلامۃ الفاسی)
ترجمہ: اے ابوبکر! درحقیقت مجھے میرے رب کے علاوہ کسی نے پہچانا نہیں۔
فارسی زبان کا ایک شعر بہت مشہور ہے:
ہمہ پیغمبراں در جستجو اند
خدا داند کہ تو در چہ مقامی
ترجمہ:تمام انبیائے کرام تلاش و جستجو میں مشغول ہیں۔
آپ کا رب ہی جانے کہ اپ کس مقام پر فائز المرام ہیں
(علیہ وعلی اخوانہ الصلوۃ والسلام)
ما و شما اگر اپنی جانکاری کے مطابق مدح نبوی میں کچھ رقم کریں یا زبان سے ادا کریں تو مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے اس عمل صالح کو قبول فرما لے اور اپنے حبیب علیہ التحیۃ والثنا کے تصدق ہمیں بھی کچھ نعمتیں میسر آ جائیں۔
الحاصل اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان پاک کی تفصیل کا ہمیں علم وادراک نہیں اور اجمال وہی ہے جو دربار اعظم کے عاشق صادق اور غلام مقبول حضرت علامہ جامی قدس سرہ العزیز نے عرض کر چکے:
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ تر توئی قصہ مختصر
ترجمہ:
اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شایان شان توصیف بیانی (مخلوقات سے)ممکن ہے۔
اجمال و خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے بعد سب سے عظیم ترین اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہی ہیں۔
یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جب وہابیہ اور دیابنہ نے شان مصطفوی پر انگشت نمائی شروع کی تو علمائے اہل سنت و جماعت نے حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی شان اقدس میں اس قدر کثیر تصانیف و تالیفات اور دواوین و دفاتر سپرد قوم کئے کہ جس کثرت کی مثال عہد ماضی میں نہیں ملتی۔
گرچہ متاخرین نے متقدمین کی تصانیف سے ہی خوشہ چینی کی ہے,لیکن علمائے متاخرین نے وہابیہ کے مجنونانہ لاف و گزاف کا منہ توڑ اور کمر شکن جواب دیا,تا آں کہ وہابیہ بھی عوام کو دکھانے کے واسطے حضور اقدس علیہ التحیۃ والثنا کے فضائل و مناقب بیان کرنے پر مجبور ہوئے۔
اب ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ چند باہمت نوجوان اٹھیں اور وہابیت کے افسوس ناک سوالوں کے رد وابطال میں علمائے حق نے محاسن نبویہ و فضائل مصطفویہ پر جو دفاتر حالیہ دو صدیوں میں رقم فرمائے ہیں,ان کی فہرست سازی کریں اور ان مجموعات کا تعارف بھی قلم بند کریں۔
بھارت میں حسام الحرمین کی جلوہ گری سے قبل شیاطین دیوبند اور دیگر وہابیہ کا مشغلہ یہی تھا کہ یہ متبعین اسماعیل دہلوی و مریدان عزازیل آتشی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں نقص وعیب تلاش کرتے رہتے۔
زبانیں بے لگام اور قلوب سیاہ فام ہو چکے تھے۔اسی کا نتیجہ تھا کہ اپنے کفر سے آشنا ہو کر بھی توبہ و رجوع کی توفیق سے سرفراز نہ ہو سکے۔
ہم تو نسلا بعد نسل غلامان دربار اعظم ہیں۔جب کوئی معترض نہ تھا تو بھی شان رسالت میں قصیدہ خوانی کرنا ہمارا موروثی وظیفہ اور آبائی پیشہ تھا۔جب ابن عبد الوہاب نجدی(1115-1206) نے سال ہجری 1143 سے وہابیت کی تبلیغ شروع کی اور شان مصطفوی میں ادب فراموش الفاظ بکنے لگا تو ہم میں سے کچھ لوگ کشتیوں کے چپو سنبھالے اور علم وعرفان کے سمندر میں چل پڑے۔ عمیق گہرائیوں میں خوشنما صدف پائے۔ان میں سے مدح مصطفوی اور منقبت محمدی کے جواہر اور موتیاں نکال لائے۔
وہ دیکھو! خیرآباد کے فضل حق کدال و پھاوڑا لے کر علم وفضل کے پہاڑوں کی طرف نکل پڑے۔
نہ جانے کتنے چٹانوں کے ٹکڑے کئے اور محاسن مصطفویہ ومناقب محمدیہ کے نادر و نایاب جگمگاتے ہیرے لے کر ائے۔قوم کے ہاتھوں میں امتناع النظیر دے گئے۔قیامت تک اس کی نظیر مشکل نظر اتی ہے۔
آو نوجوانو! ہم ان کی محبتوں اور محنتوں کو سلامی دیں اور محبت ناموں کی فہرست سازی کریں۔کیا کوئی ہے جو لبیک کہتا ہوا میرے ساتھ آئے؟؟؟
طارق انور مصباحی
28_10_2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/795078481062672/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#این_سعادت_بزور_بازو_نیست
سلطان نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ کو جب خواب میں رسول پاک کی بشارت ہوئ اور حضور پاک نے انہیں حکم دیا کہ مدینہ منورہ آکر ان دو یہودیوں کو سزا دیں جو مجھے ایذا دے رہے سلطان یہ حکم سن کر رونے لگے آنکھ کھلی رخت سفر باندھا مدینہ پہنچے چونکہ حضور اکرم صلی علیہ وآلہ سلم نے ان دونوں کی شکل خواب ہی میں دکھا دی تھی آپ نے مدینہ منورہ میں اعلان کیا کہ تمام شہری حاضر ہوں سب کو تحائف دیے جائیں گے تمام اہل مدینہ حاضر ہوئے سلطان نے دونوں کو دیکھتے ہی پہچان لیا ان کے بارے میں پوچھا تمام نے کہا بہت متقی پرہیز گار مسجد نبوی میں عبادت کرتے ہیں اکثر اوقات معتکف رہتے ہیں آپ نے کہا مسجد نبوی میں یہ جس جگہ زیادہ وقت رہتے ہیں وہاں لے کر چلیں سلطان وہاں پہنچے تو دیکھا کچھ بھی نشان نہیں ملا آپ نے کہا کہ ان کی چادریں ہٹائیں جائیں صفوں کو ہٹایا جائے جب حکم کی تعمیل ہوئ تو سب دنگ رہ گیے پیروں تلے زمین کھسک گئ ایک سرنگ روضہ ء رسول کی طرف کو جا رہی تھی اس سرنگ کو دشمنانِ اسلام رات میں کھودتے تھے جب سب محو آرام ہوجاتے،، ان ظالموں کا منصوبہ بہت خطرناک تھا رسول اکرم صلی علیہ وسلم کے جسد اطہر کو نکالنے کا منصوبہ تھا مگر پیغمبر نے اپنے گستاخ کو ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری سلطان نور الدین زنگی کو عطا فرمائ،،،،
ع تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
مرے چشم عالم سے چھپ جانے والے
سلطان نے عبرت ناک سزا دی اور دونوں کا نام نشان مٹ گیا اس کے بعد والی حالت سلطان کی مجھے آپ سے عرض کرنا ہے جس کے لیے فقیر نے چند سطریں لکھیں ہیں،،،،
دونوں یہودیوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے بعد سلطان نور الدین زنگی دیوانہ وار مدینہ کی گلیوں میں چکر لگانے لگے روتے جاتے اور کہتے جاتے حضور آپ نے مجھ گنہگار سے یہ کام لیا
میں اس کرم کے کہاں تھا قابل
حضور کی بندہ پروری ہے،
حضور! آپ کی بندہ نوازی حضور آپ کی نگاہ انتخاب کہ نور الدین کو اس خدمت کے لیے منتخب فرمایا وہ دیوانوں کی طرح عشق کے گلدستے سجاتے چلے جاتے ان کی یہ حالت دیکھ کر عہد صحابہ کی یاد تازہ ہوگئیں جب پروانے شمع پر جان نچھاور کرنے کے لیے بغیر سامان جنگ ہی کے میدان میں اتر جاتے حضور وضو فرماتے تو پانی کے قطرے اپنے ہاتھوں میں لیتے ایک قطرہ بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے ،،،،
جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں،،،
توصیف رضا مصباحی سنبھلی
رکن: روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/795157567721430/
سلطان نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ کو جب خواب میں رسول پاک کی بشارت ہوئ اور حضور پاک نے انہیں حکم دیا کہ مدینہ منورہ آکر ان دو یہودیوں کو سزا دیں جو مجھے ایذا دے رہے سلطان یہ حکم سن کر رونے لگے آنکھ کھلی رخت سفر باندھا مدینہ پہنچے چونکہ حضور اکرم صلی علیہ وآلہ سلم نے ان دونوں کی شکل خواب ہی میں دکھا دی تھی آپ نے مدینہ منورہ میں اعلان کیا کہ تمام شہری حاضر ہوں سب کو تحائف دیے جائیں گے تمام اہل مدینہ حاضر ہوئے سلطان نے دونوں کو دیکھتے ہی پہچان لیا ان کے بارے میں پوچھا تمام نے کہا بہت متقی پرہیز گار مسجد نبوی میں عبادت کرتے ہیں اکثر اوقات معتکف رہتے ہیں آپ نے کہا مسجد نبوی میں یہ جس جگہ زیادہ وقت رہتے ہیں وہاں لے کر چلیں سلطان وہاں پہنچے تو دیکھا کچھ بھی نشان نہیں ملا آپ نے کہا کہ ان کی چادریں ہٹائیں جائیں صفوں کو ہٹایا جائے جب حکم کی تعمیل ہوئ تو سب دنگ رہ گیے پیروں تلے زمین کھسک گئ ایک سرنگ روضہ ء رسول کی طرف کو جا رہی تھی اس سرنگ کو دشمنانِ اسلام رات میں کھودتے تھے جب سب محو آرام ہوجاتے،، ان ظالموں کا منصوبہ بہت خطرناک تھا رسول اکرم صلی علیہ وسلم کے جسد اطہر کو نکالنے کا منصوبہ تھا مگر پیغمبر نے اپنے گستاخ کو ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری سلطان نور الدین زنگی کو عطا فرمائ،،،،
ع تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
مرے چشم عالم سے چھپ جانے والے
سلطان نے عبرت ناک سزا دی اور دونوں کا نام نشان مٹ گیا اس کے بعد والی حالت سلطان کی مجھے آپ سے عرض کرنا ہے جس کے لیے فقیر نے چند سطریں لکھیں ہیں،،،،
دونوں یہودیوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے بعد سلطان نور الدین زنگی دیوانہ وار مدینہ کی گلیوں میں چکر لگانے لگے روتے جاتے اور کہتے جاتے حضور آپ نے مجھ گنہگار سے یہ کام لیا
میں اس کرم کے کہاں تھا قابل
حضور کی بندہ پروری ہے،
حضور! آپ کی بندہ نوازی حضور آپ کی نگاہ انتخاب کہ نور الدین کو اس خدمت کے لیے منتخب فرمایا وہ دیوانوں کی طرح عشق کے گلدستے سجاتے چلے جاتے ان کی یہ حالت دیکھ کر عہد صحابہ کی یاد تازہ ہوگئیں جب پروانے شمع پر جان نچھاور کرنے کے لیے بغیر سامان جنگ ہی کے میدان میں اتر جاتے حضور وضو فرماتے تو پانی کے قطرے اپنے ہاتھوں میں لیتے ایک قطرہ بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے ،،،،
جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں،،،
توصیف رضا مصباحی سنبھلی
رکن: روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/795157567721430/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.