🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
سے سند حسن سے اور ترمذی نے تعلیقاً بیان کیا۔ (ت)

(۲؎ سنن ابوداؤد کتاب الجہاد با ب فی الاقامۃ بارض الشرک آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹)

جس نے کسی قوم کی کثرت بڑھائی وہ انہی میں سے ہوگا، اسے خطیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)

(۱؎ تاریخ بغداد حدیث نمبر ۵۱۶۷ عبداللہ بن عتاب الشاہد العبدی دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/ ۴۱)

جس نے کسی قوم کا جتھا بڑھایا پس وہ انہی میں سے ہوگا اسے ابویعلٰی نے مسند میں اورعلی بن معبد نے کتاب الطاعۃ والمعصیۃ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعا اور ابن مبارک نے زہد میں حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ارشاد کے طورپر نقل کیا۔ (ت)

(۲؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ مسند ابی یعلی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ الخ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴/ ۳۴۶)

مجمع الانہر، شرح ملتقی الابحر وفتاوٰی ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویرالابصار ودرمختار وغیرہا میں ہے:

یکفر بتبجیل الکافر حتی لو سلم علی الذمی تبجیلاکفروبقولہ للمجوسی یااستاذ تبجیلا ۳؎۔

کافر کی تعظیم کفر ہے حتی کہ اگر کسی نے ذمی کو تعظیما سلام کہا تو یہ کفر ہے، کسی نے مجوسی کو بطور تعظیما یااستاد کہا تو یہ بھی کفرہے۔ (ت)

(۳؎ الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۸۸)

جو اپنی ذات کے کفرپر خوش ہو اور وہ بالاتفاق کافرہے او رجو کسی کے کفر پر خوش ہوا اس کے بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ (ت)

(۴؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۸۰۔ ۱۷۹)

جب کوئی برائی کاارتکاب کرے تو توبہ بھی اسی طرح کی جائے مثلا خفیہ گناہ پر خفیہ توبہ اور اعلانیہ گناہ پر اعلانیہ توبہ ضروری ہے، اسے امام احمد نے زہد میں اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل کیاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(فتاوی رضویہ۱۴/۱۴۳,۱۴۴n)
*گوشت کے 22 اجزاء ایسے ھیں جن کا کھانا مکروہ تحریمی ھے....*
🔹👇🏻🔹👇🏻🔹👇🏻🔹👇🏻🔹👇🏻
1:رگوں کا خون
2:پِتَّہ
3:مثانہ
5,4:علامات نر و مادہ
6:کپورے (فوطے)
7:غدودیں ( جسم کے اندرکی گانٹھ )
8:حرام مغز
9:گردن کے دو پٹھے جو کندھوں تک کھنچے ھوتے ھیں
10:جگر
11:تِلی کا خون
12:گوشت کا خون جو ذبح کے بعد نکلتا ھے
13:دل کا خون
14:وہ پیلا پانی جو پتے میں ھو
15:ناک کی رطوبت
16:پاخانے کا مقام
17:اوجھڑی
18:آنتیں
19:نطفہ (وہ پانی جس سے بچہ بنتا ھے)
20:وہ نطفہ جو خون بن جاے
21:وہ نطفہ جو گوشت کا لوتھڑا بن جاے
22:وہ نطفہ جو پورا جانور بن جاے

*(فتوی رضویہ جلد 20 صفحہ 240)*
واللہ اعلم بالصواب...
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
*فتاوی رضویہ سے کافروں کے اجتماع اور بت پر پھول وغیرہ چڑھانے کا حکم*
*_________________________*

مسئلہ ۲۹۹: از الہ آباد دائرہ اجملیہ مسئولہ مولوی سید نذیر احمد صاحب ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس صورت میں کہ عام اہل اسلام کو بغرض استقامت امور دنیاوی، اتحاد کسی مشرک قوم سے اس طورپر کرنا کہ دسہرہ میں عام اہل اسلام شریک ہوکر ناقوس بجائیں، پھول رام لچمھن پر چڑھائیں، جے کی آواز بلند کریں یا قربانی میں گائے کی قربانی بند کردیں جائز ہے یاناجائز؟ مرتکب ان امور کا کس وزر کا مستوجب ہے ؟ مع حوالہ عبارات جواب درکار ہے۔

بت کی عبادت کفرہے، دل میں جو کچھ ہے اس کا اعتبار نہیں، اسی طرح اس کاحکم ہے اگر حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تصویر بناکر اسے سجدہ کیا،ا سی طرح سجدہ کےلئے بت بنانے کاحکم ہے، اسی طرح اگر کسی نے یہود ونصارٰی کازنار باندھا خواہ ان کے گرجا میں داخل ہو ایانہ ہوا۔ (ت)

(۱؎ اشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۹۵)

نیروز اور مہرجان کے نام پر عطیہ (بایں طور کہ کہا جائے یہ اس دن کا ہدیہ ہے ش) جائز نہیں یعنی ان دونوں ایام کے ناموں پر ہدایا دینا لینا حرام اور اگر مشرکین کی طرح ان کی تعظیم بھی کرے گاتو کفر ہوگا، (ت)

(۲؂درمختار شرح تنویر الابصار باب مسائل شتی مطبع مجتائی دہلی ۲/ ۳۵۰)

(ردالمحتار باب مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۱)

مجوسیوں کے ساتھ نیزوز میں اس طرح نکلنا کہ اس دن وہ جو کریں گے یہ ان کی موافقت کرے تو یہ کفرہے، اسی طرح نیروز کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے یا مشرکین کو ہدیہ دینے کے لئے کوئی چیز خریدی نہ کہ کھانے پینے کے لئے جبکہ وہ چیز اس سے پہلے نہیں خریدی تھی اگرچہ وہ انڈہ ہی کیوں نہ ہو تو کفر ہوگا۔ (ت)

(۳؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب ان الالفاظ الکفر انواعٌ مطبع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۸)

شیخ ابوبکر بن طرخاں کہتے ہیں جو سدہ کی طرف نکلا (ملا علی قاری نے اس کا معنی اہل کفر کا اجتماع کیاہے) تو وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس میں کفر کا اعلان ہے گویا اس نے کفرپر مدد کی اس پرقیاس ہے، نیروز میں نکلنا اور اس دن کےموافق عمل کرنا کہ یہ بھی کفرہے۔ (ت)

(۱؎ جامع الفصولین فصل فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۳)

(منح الروض الازہر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۶)

جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرلی وہ انہی میں سے ہے۔ (ت)

(۲؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/۵۰)

اگر کسی نے تعظیم کرتے ہوئے ذمی کو سلام دیا تو کافر ہوجائے گا کیونکہ کافر کی تعظیم کفرہے، اگر کسی نے مجوسی کو بطور تعظیم اے استاذ کہا تو کفرہے۔ (ت)

(۳؂الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۸۸)

(درمختار کتاب الحظر فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱)

بخاطر ہنود گائے کی قربانی بند کرنا حرام ہے، والتفصیل فی انفس الفکر فی قربان البقر (اس کی تفصیل ہماری کتاب انفس الفکر فی قربان البقر میں ملاحظہ کیجئے۔ ت) مرتکب کاحکم انھیں احکام سے ظاہر جو مرتکب حرام ہے مستحق عذاب جہنم ہے اور جو مرتکب کفر فقہی ہے جیسے دسہرے کی شرکت یا کافروں کی جے بولنا اس پر تجدیدِ اسلام لازم ہے اور اپنی عورت سے تجدیدِ نکاح کرے اور جو قطعا کافرہوگیا، جیسے دسہرے میں بطور مذکور ہنود کے ساتھ ناقوس بجانے یا معبودان کفار پر پھول چڑھانے والا کافر مرتدہوگیا اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اگر تائب ہو اور اسلام لائے جب بھی عورت کو اختیار ہے بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے، اور بے توبہ مرجائے تواسے مسلمانوں کی طرح غسل وکفن دینا حرام اس کے جنازے کی شرکت حرام اسے مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام اس پر نماز پڑھنا

(اس کے علاوہ دیگر احکام بھی ۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔

وہ کسی ملامت کرنے والے کاخوف نہیں رکھتے۔ ت) کی شان پیش نظر فرماتے ہوئے تحریر فرماکر عنداللہ ماجور ہوں:

(۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۵۴)

(۱) جو مسلمان اس جلسہ میں شریک ہوئے اور چندن لگوانے سے انکار کیا ان کی شرکت اس جلوس میں ازروئے شریعت کیسی تھی۔

(۲) جن مسلمانوں نے چندن لگوانے سے ہندوؤں کو روکا نہیں بلکہ لگوایا پھر بعد کو اسی وقت یا تھوڑی دیر بعد اس جلسہ میں اپنے ہاتھوں اور رومالوں سے صاف کرلیا ان کاکیاحکم ہے؟

(۳) جن مسلمانوں نے چندن لگوایا اور چندن لگائے ہوئے جلسہ میں شریک رہے بلکہ چندن لگائے ہوئے اپنے گھروں پر واپس آئے یا شام تک لگا ئے رہے، ان کی بابت حکم شرع شریف کیاہے؟

جس نے کسی مشرک کے ساتھ اتفاق کیا اور اسی کے ساتھ ٹھہرا وہ اسی کے مثل ہوگا، اسے ابوداؤد نے حضرت جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ
ﺑﻐﯿﺮ ﺩﺍﻧﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﯿﻞ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ
ﺳﻮﺍﻝ : ﮐﯿﺎﻓﺮﻣﺎﺗﮯﮦﯾﮟ ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﺩﯾﻦ ﻭﻣﻔﺘﯿﺎﻥِ ﺷﺮﻉِ ﻣﺘﯿﻦ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﯿﻞ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻋﻤْﺮ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﮞ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺷﺮﻋﺎً ﮐﯿﺎ ﺣﮑْﻢ ﮨﮯ؟
ﺑِﺴْﻢِ ﺍﻟﻠّٰﻪِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿْﻢِ
ﺍَﻟْﺠَﻮَﺍﺏُ ﺑِﻌَﻮْﻥِ ﺍﻟْﻤَﻠِﮏِ ﺍﻟْﻮَﮬَّﺎﺏِ ﺍَﻟﻠّٰﮭُﻢَّ ﮬِﺪَﺍﯾَۃَ ﺍﻟْﺤَﻖِّ ﻭَﺍﻟﺼَّﻮَﺍﺏِ
ﺍﯾﺴﺎﺑﯿﻞ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻋﻤْﺮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺍﻋﺘِﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﻣﮑﻤّﻞ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﺎﻧِﻊ ‏( ﺭﻭﮐﻨﮯ ﻭﺍﻻ ‏) ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻋﯿﺐ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺑﻼ ﺷﺒﮧ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ،ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻭ ﺑﮍﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﮞ ‏( ﺟﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﻋُﺮْﻑ ﻣﯿﮟ ’’ ﺩﻭﻧﺪﺍ ﯾﻌﻨﯽ ﺩﻭ ﺩﺍﻧﺖ ﻭﺍﻻ ‘‘ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ‏) ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻣُﻘَﺮَّﺭ ﮐﺮﺩﮦ ﻋﻤْﺮ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍﮨﻮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ،ﺑﮍﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺍﻟﺒﺘّﮧ ﯾﮧ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮯ ﺩﻭﺑﮍﮮ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ،ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻭﻧﭧ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ،ﮔﺎﺋﮯ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﮑﺮﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﮩﯿﮟ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﺴﻠّﯽ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮﻣﮑﻤﻞ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ،ﺍﮔﺮ ﺷﮏ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﮧ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺟﺎﺋﮯ،ﺧﺼﻮﺻﺎ ً ﺍﺱ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻝ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﯿﭽﻨﺎ ﻋﺎﻡ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔
ﻭَﺍﻟﻠﮧُ ﺍَﻋْﻠَﻢُ ﻋَﺰَّﻭَﺟَﻞَّ ﻭ ﺭَﺳُﻮْﻟُﮧٗ ﺍَﻋْﻠَﻢ ﺻﻠَّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻠﯿﮧِ ﻭﺍٰﻟِﮧٖ ﻭﺳﻠَّﻢ
ﮐﺘﺒــــــــــــــــــــــﮧ
ﺍﺑﻮﺍﻟﺼﺎﻟﺢ ﻣﻔﺘﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﻗﺎﺳﻢ ﺍﻟﻘﺎﺩﺭﯼ
ﺧﻮﺵ ﺩﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﯾﮟ :
ﺣﺪﯾﺚ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ” ﻓَﻄِﻴﺒُﻮﺍ ﺑِﻬَﺎ ﻧَﻔْﺴًﺎ “ ﮐﯽ ﺷﺮﺡ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﺟﺐ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋَﺰَّﻭَﺟَﻞَّ ﺍﺳﮯﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺜﯿﺮ ﺛﻮﺍﺏ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻭ ﻧﮧ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﻭ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ۔ ‏( ﻣﺮﻗﺎۃ ﺍﻟﻤﻔﺎﺗﯿﺢ،ﺝ 3 ،ﺹ 574 ، ﺗﺤﺖ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ 1470: ‏)
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ،ﺭﻗﻢ ﺻﺪﻗﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ؟ :
ﺣﮑﯿﻢ ﺍﻻﻣﺖ ﻣﻔﺘﯽ ﺍﺣﻤﺪﯾﺎﺭ ﺧﺎﻥ ﻧﻌﯿﻤﯿﺮﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻﺧﻮﺩ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﮨﯽ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮﺩﮮﯾﺎﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮨﺒﮧ ﮐﺮﺩﮮ ‏) ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺩﮮ ﯾﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩُﮔﻨﺎ ﺗﮕﻨﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮﺩﮮ،ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﺮﮔﺰ ﺍﺩﺍ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺧَﻠِﯿْﻞُ ﺍﷲ ‏( ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴَّﻼﻡ ‏) ﮐﯽ ﻧﻘﻞ ﮨﮯ،ﺍُﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﯾﺎ ﭘﯿﺴﮯ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﻧﮧ ﮐﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭﻧﻘﻞ ﻭﮨﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺻﻞ ﮨﻮ۔ﺍﺏ ﮐﺘﻨﮯ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯿﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﺟﻦ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ۔
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ :
ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ’’: ﺍﻭﺭ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺗﻮﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ،ﻟﮩٰﺬﺍ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺑﯿﮑﺎﺭﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﯾﺎﺗﻨﮓ ﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﻋﻘﻠﯽ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﻧﮧ ﺩﻭﮌﺍﺅ۔ ‏( ﻣﺮﺍۃﺍﻟﻤﻦ
ﺍﺟﯿﺢ،ﺝ 2 ،ﺹ 375 ﻣﻠﺦﺻﺎً
ﺳﺮﯼ ﭘﺎﺋﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﻝ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﮐﮯ ﮐﮭﺎﻝ ﺳﻤﯿﺖ ﭘﮑﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ... ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺿﻮﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ :
ﻣﺬﺑﻮﺡ ﺣﻼﻝ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻝ ﺑﯿﺸﮏ ﺣﻼﻝ ﮨﮯ۔ ﺷﺮﻋﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻣﻤﻨﻮﻉ ﻧﮩﯿﮟ
‏( ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺿﻮﯾﮧ ﺟﻠﺪ 20 ﺻﻔﺤﮧ 233 ‏)
.
★ ﺫﺑﺢ ﺷﺪﮦ ﺣﻼﻝ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﮯ
ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺭﺿﺎ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
ﺣﻼﻝ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﺣﻼﻝ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺑﻌﺾ ﮐﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﯾﺎ ﻣﻤﻨﻮﻉ ﯾﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﯿﮟ
‏( ۱ ‏) ﺭﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ‏( ۲ ‏) ﭘﺘﺎ ‏( ۳ ‏) ﭘُﮭﮑﻨﺎ ‏( ۴ ‏) ﻭ ‏( ۵ ‏) ﻋﻼﻣﺎﺕ ﻣﺎﺩﮦ ﻭﻧﺮ ‏( ۶ ‏) ﺑﯿﻀﮯ ‏( ۷ ‏) ﻏﺪﻭﺩ ‏( ۸ ‏) ﺣﺮﺍﻡ ﻣﻐﺰ ‏( ۹ ‏) ﮔﺮﺩﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﭘﭩﮭﮯ ﮐﮧ ﺷﺎﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﮐﮭﻨﭽﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‏( ۱۰ ‏) ﺟﮕﺮ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ‏( ۱۱ ‏) ﺗﻠﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ‏( ۱۲ ‏) ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﮐﮧ ﺑﻌﺪ ﺫﺑﺢ ﮔﻮﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ‏( ۱۳ ‏) ﺩﻝ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ‏( ۱۴ ‏) ﭘﺖ ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﺯﺭﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮧ ﭘﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ ‏( ۱۵ ‏) ﻧﺎﮎ ﮐﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ‏( ۱۶ ‏) ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ‏( ۱۷ ‏) ﺍﻭﺟﮭﮍﯼ ‏( ۱۸ ‏) ﺁﻧﺘﯿﮟ ‏( ۱۹ ‏) ﻧﻄﻔﮧ ‏( ۲۰ ‏) ﻭﮦ ﻧﻄﻔﮧ ﮐﮧ ﺧﻮﻥ ﮨﻮﮔﯿﺎ ‏( ۲۱ ‏) ﻭﮦ ﮐﮧ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺎ ﻟﻮﺗﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ‏( ۲۲ ‏) ﻭﮦ ﮐﮧ ﭘﻮﺭﺍ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩﮦ ﻧﮑﻼ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺫﺑﺢ ﻣﺮﮔﯿﺎ۔
‏( ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺿﻮﯾﮧ ﺟﻠﺪ 20 ﺻﻔﺤﮧ 239,240 ‏
*عید azha کی نماز کا طریقہ*

*پہلے نیت کریں

☽ نیت کرتا ہوں میں دو رکعت نماز عید Qurban کی زائد چھ تکبیروں کے ساتھ منہ میرا کعبہ شریف کی طرف
واسطے اللہ تعالی کے پیچھے اس امام کے.

امام تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ کرثنا پڑھےگا ہمیں بھی تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ لینا ہے اس کے بعد تین زائد تكبيریں ہوں گی.

⛤ پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لینا ہے

اسكے بعد امام قرآت کرےگایعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے گااور رکوع سجدہ کرکے پہلی رکعت مکمل ہوگی

🌹دوسری رکعت کے لئے اٹھتے ہی امام قرآت کرے گا یعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھےگا اس کے بعدرکوع میں جانے سے پہلے زائد تینوں تكبيرے ہوں گی

⛤پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دینا ہے

یہاں تک زائد تكبيرے مکمل ہوگئ.
☽ اب اس کے بعد بغیر ہاتھ اٹھاے تکبیر کہہ کر رکوع میں جاینگے.
☽اور بس آگے کی نماز دوسری نمازوں کی طرح پڑھنا ہےپھر سلام پھیرنا ہوگی.

*نماز عید سے پہلے خوب شئیر کریں اللہ عمل کی توفیق عطاءفرمائے*
ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﮯ ﺁﺩﺍب
سید مبشر قادری....کے شکریہ کے ساتھ
۱۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺳﻨّﺖ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽﷺ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀِ ﮐﺮﺍﻡ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﻨّﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻋﺎﺩﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ۔ ﻋﻼﻣﮧ ﺷﺎﻣﯽ ﻧﮯ ﻭﺿﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﻨّﺖِ ﻣﺆﮐﺪﮦ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ، ﺝ۲، ﺹ۱۶۸ ‏) ﺍﻭﺭ ﺟﻤﮩﻮﺭ ﻧﮯ ﺳﻨﺖ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ۔
۲۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺭﺥ ﺳﮯ ﮐﺮﮮ۔ ‏( ﻣﺮﻗﺎﺕ، ﺹ۳۰۰ ‏)
۳۔ ﺍﻣﺎﻡ ﻧﻮﻭﯼ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﮮ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﻨّﺖ ﮐﮯ ﻋﺎﺩﯼ ﮨﻮﮞ۔ ‏( ﺷﺮﺡ ﻣﺴﻠﻢ، ﺹ۳۷ ‏)
۴۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﻮ ﻣﭩﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺮﺽِ ﺑﻮﺍﺳﯿﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﺍﻟﺴﻌﺎﯾﮧ، ﺹ۱۹۹ ‏)
۵۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﻟﯿﭧ ﮐﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗِﻠّﯽ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﮨﮯ۔ ‏( ﻃﺤﻄﺎﻭﯼ، ﺹ۳۸ ‏)
۶۔ ﻣﺴﻮﺍ ﮎ ﮐﻮ ﭼﻮﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ‏( ﺍﻧﺪﮬﺎ ﭘﻦ ‏) ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﮨﮯ؛ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻧﺌﯽ ﻣﺴﻮﺍ ﮎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮ ﺗﺒﮧ ﭼﻮﺳﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
‏( ﺍﻟﺴﻌﺎﯾﮧ، ﺹ۱۹۹ ‏)
۷۔ ﺍﮔﺮ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺧﺸﮏ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﮕﻮﮐﺮ، ﻧﺮﻡ ﮐﺮﻟﯿﻨﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔
‏( ﻃﺤﻄﺎﻭﯼ، ﺹ۳۷، ﻋﻤﺪۃ، ﺹ۱۸۵ ‏)
۸۔ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻧﺌﯽ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﻮ ﭼﻮﺳﻨﺎ
ﺟﺬ ﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺹ ﮐﻮ ﺩﻓﻊ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺷﻔﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭼﻮﺳﻨﺎ ﻧﺴﯿﺎﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﺍﺗﺤﺎﻑ ﺍﻟﺴﺎﺩۃ، ﺹ۵۳۱۔ ﺷﺎﻣﯽ، ﺝ۱ ﺹ۱۱۵ ‏)
۹۔ ﻣﺠﻤﻊِ ﻋﺎﻡ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺟﺘﻤﺎﻉ ﮨﻮ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﮐﮯ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﻮﻧﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔ ‏( ﺑﺤﺮ، ﻣﻨﺤۃ ﺍﻟﺨﺎﻟﻖ، ﺹ۲۱ ‏)
۱۰۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﮐﺮﮮ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺍﻭﺭ ﺯﺭﺩﯼ ﺯﺍﺋﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯﺍ ﻭﺭ ﻣﯿﻞ ﻭ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ، ﺹ۱۱۴ ‏)
ﻋﻤﺪۃ ﺍﻟﻘﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﮐﺮﮮ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺯﺍﺋﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯﺍ ﻭﺭ ﭘﯿﻼ ﭘﻦ ﺧﺘﻢ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔ ‏( ﺝ۶ ﺹ۱۸۱ ‏)
۱۱۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ۳ ﻣﺮﺗﺒﮧ ۳ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ، ﺹ۱۱۴ ‏)
۱۲۔ ﮨﺮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺗﺮ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﮕﺎﺩﮮ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ، ﺹ۱۱۴ ‏)
۱۳۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ، ﺹ۱۱۴ ‏)
۱۴۔ ﻣﺴﻮﺍ ﮎ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻟﺸﺖ ﮨﻮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺮﺝ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﮔﺮ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ۔ ‏( ﺍﻟﺴﻌﺎﯾﮧ ‏)
۱۵۔ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﺸﺖِ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﮐﺮﮮ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ ‏)
۱۶۔ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﺍﻧﺖ ﮐﺎﻣﻠﻨﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ، ﺹ۱ ‏)
۱۷۔ ﮐﺴﯽ ﺳﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﻑ ﻭ ﮐﮭﺮﺩﺭﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﺍﻧﺖ ﮐﻮ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
۱۸۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻭﺿﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﻣﺴﻨﻮﻥ ﮨﮯ، ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻏﺴﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺳﻨّﺖ ﮨﮯ۔ ‏( ﺍﻻﺫﮐﺎﺭ ‏)
۱۹۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺑﻼ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔ ‏( ﺍﻟﺴﻌﺎﯾﮧ، ﺹ۱۱۹ ‏)
۲۰۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺑﮭﯽ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﮬﻮﮐﺮ ﺭﮐﮭﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﻃﺤﻄﺎﻭﯼ، ﺹ۳۷ ‏)
۲۱۔ ﻋﯿﻦِ ﻣﺴﺠﺪ ﯾﺎ ﺻﺤﻦِ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮎ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﯾﺎ ﻣﺴﻮﺍ ﮎ ﮐﮯ ﺭﯾﺰﮮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ‏( ﻣﺮﻗﺎﺕ، ﺝ۱ ﺹ۳۰۲ ‏)
۲۲۔ ﻣﺮﺽ ﺍﻟﻤﻮﺕ ﺍﻭﺭﻧﺰﻉ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺴﻨﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ‏( ﺣﺪﯾﺚ ‏)
۲۳۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﯿﺐ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺟﺐ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﻤﺎﺯ ﯾﺎ ﻭﺿﻮ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﻮ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮ۔ ‏( ﺣﺪﯾﺚ ‏)
۲۴۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﯽ ﻟﮑﮍﯼ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮧ ﮨﻮ، ﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮪ ﮔﺮﮦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﻀﺎﺋﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔
۲۵۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﮭﮍﯼ ﮐﺮﮐﮯ ﺭﮐﮭﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﺟﻨﻮﻥ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﯿﺪ ﺑﻦ ﺟﺒﯿﺮ﷜ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺠﻨﻮﻥ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻼﻣﺖ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﮯ۔
۲۶۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
۲۷۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔
۲۸۔ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮧ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﻝ ﭨﭙﮏ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
۲۹۔ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
۳۰۔ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﺩﺭﺩِ ﺯﺍﻧﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
۳۱۔ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﺭﺩِ ﮐﻤﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﻔﺘﺎﺡ ﺍﻟﺠﻨﺎﻥ ﻓﯽ ﻏﺎﯾۃ ﺍﻻﺩﺭﺍﮎ ‏)
۳۲۔ ﺣﻤﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ؛ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﯿﺪ ﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﻔﺘﺎﺡ ﺍﻟﺠﻨﺎﻥ ‏)
۳۳۔ ﮐﻮﮌﺍ ﮐﺮﮐﭧ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺳﺨﺖ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﻋﻤﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻋﺚِ ﻋﺘﺎﺏ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﻔﺘﺎﺡ ﺍﻟﺠﻨﺎﻥ ‏)
۳۴۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﻨﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
ویڈیو گیم بلو وھیل 🐋🐋🐋🐋گیم اور خودکشی کا بڑھتا رجحان اسلام میں خودکشی بھی حرام اور گیم بھی...
👆👆👆👆👆👆
📚یزید کو ’’رحمۃ اﷲ علیہ‘‘ کہنا ناصبی ہونے کی علامت ہے

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یزید بے شک پلید تھا۔ اسے پلید کہنا اور لکھنا جائز ہے اور اسے ’’رحمۃ اﷲ علیہ‘‘ نہ کہے گا مگر ناصبی کہ اہلبیت رسالت کا دشمن ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 14، ص 603، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
*السوال :-*
*زوجین کے درمیان رضاعت ثابت ہونےکے لئے کتنے گواہوں کا ہونا ضروری ہے؟؟*
*کیا تنہامرضعہ کی گواہی رضاعت کے ثبوت کے لئے کافی ہے؟*
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں
الجواب بعون الملک الوھاب ،،صورت مسئولہ میں زوجین کے درمیان حرمت رضاعت ثابت ہونے کے لئے دومرد یا ایک مرد اور دوعورتیں عادل گواہوں کا ہونا شرط ہے اگرچہ وہ عورت خود دودھ پلانے والی ہو فقط دودھ پلانے والی یا دوعوتوں کی گواہی سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی ،البتہ اگر صرف ایک عورت ہی گواہی دے کہ میں نے تم دونوں کو یا تم میں سے ایک کو دودھ پلایا ہے اگر شوہر یازوجین اقرار کرلے تو نکاح فاسد اور اگر دونوں اس بات کی نفی کریں تو بہتر جدائ ہے اور اگرعورت کو جدا نہ کرے جب بھی حرج نہیں جیسا کہ اعلحضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ،،رہا مسئلہ رضاعت، ہمارے مذہب میں ایک عورت کا بیان ثبوت رضاعت کے لیے کافی نہیں خصوصا جبکہ خود مضطرب ہو،
اس سے احتیاطاً بچنا صرف مرتبہ استحباب میں ہے اور فعل غایت درجہ مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولٰی کہ نہ کرے تو بہتر، کرے توکچھ گناہ نہیں،
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل تزوج امرأۃ فاخبر رجل مسلم ثقۃ اوامرأۃ انھما ارتضعا من امرأۃ واحدۃ قال فی الکتاب احب الی ان یتنزہ فیطلقھا ویعطیھا نصف المھر ان لم یدخل بھا ولایثبت الحرمۃ بخبر الواحد عندنا مالم یشھد بہ رجلان اورجل وامرأتان،
( فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ فصل فیما یقبل قول الواحد الخ نولکشور لکھنؤ ۴/۷۸۷) فتاوی رضویہ جدید11/31)
اور حضور صدر الشریعہ بہارشریعت میں فرماتے ہیں ،،  رضاع کے ثبوت کے لیے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں  عادل گواہ ہوں  اگرچہ وہ عورت خود دودھ پلانے والی ہو، فقط عورتوں  کی  شہادت سے ثبوت نہ ہوگا مگر بہتر یہ ہے کہ عورتوں  کے کہنے سے بھی جدائی کرلے۔( بہار شریعت7 /33)
اور دورسری جگہ فرماتے ہیں ،،کسی عورت سے نکاح کیا اور ایک عورت نے آکر کہا، میں  نے تم دونوں  کو دودھ پلایا ہے اگر شوہر یا دونوں  اس کے کہنے کو سچ سمجھتے ہوں  تو نکاح فاسد ہے اور وطی نہ کی  ہو تو مہر کچھ نہیں  اور اگر دونوں  اس کی  بات جھوٹی سمجھتے ہوں  تو بہتر جدائی ہے اگر وہ عورت عادلہ ہے، پھر اگر وطی نہ ہوئی ہو تو مرد کو افضل یہ ہے کہ نصف مہر دے اور عورت کو افضل یہ ہے کہ نہ لے اور وطی ہوئی ہو تو افضل یہ ہے کہ پورا مہر دے اور نان نفقہ بھی اور عورت کو افضل یہ ہے کہ مہر مثل اور مہر مقرر شدہ میں  جو کم ہے وہ لے اور اگر عورت کو جدا نہ کرے جب بھی حرج نہیں  ۔ یوہیں  تصدیق کی  اور شوہر نے تکذیب تو نکاح فاسد نہیں  مگرزوجہ شوہر سے حلف لے سکتی ہے اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو تفریق کر دی جائے۔(ایضا)اور فتاوی عالمگیری مع خانیہ میں ہے ،،الرضاع یظھر باحد امرین احدھما الاقرار واالثانی البینت کذا فی البدائع ۔ولا یقبل فی الرضاع الا شھادت رجلین اورجل وامرآتین عدول کذا فی المحیط (1/347)واللہ اعلم باصواب ،ھذا ماظھر لی والعلم عند ربی
کتبہ محمد زاھد حسین امجدی
خادم التدریس والافتاء
دارالعلوم سبحانیہ بھساول
اسلامی بہنوں کو اذان کے فورا بعد نماز پڑھنی چاہیے یا مسجد کی جماعت ہونے کے بعد؟
Raza Markazi:
ﻭَﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﻳَﺮْﻣُﻮﻥَ ﺍﻟْﻤُﺤْﺼَﻨَﺎﺕِ ﺛُﻢَّ ﻟَﻢْ ﻳَﺄْﺗُﻮﺍ ﺑِﺄَﺭْﺑَﻌَﺔِ ﺷُﻬَﺪَﺍﺀَ ﻓَﺎﺟْﻠِﺪُﻭﻫُﻢْ ﺛَﻤَﺎﻧِﻴﻦَ ﺟَﻠْﺪَﺓً ﻭَﻟَﺎ ﺗَﻘْﺒَﻠُﻮﺍ ﻟَﻬُﻢْ ﺷَﻬَﺎﺩَﺓً ﺃَﺑَﺪًﺍ ۚ ﻭَﺃُﻭﻟَٰﺌِﻚَ ﻫُﻢُ ﺍﻟْﻔَﺎﺳِﻘُﻮﻥَ ﴿ 4 ﴾
ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﭘﺎﮎ ﺩﺍﻣﻦ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﭼﺎﺭ ﮔﻮﺍﮦ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺳﯽ ﮐﻮﮌﮮ ﻣﺎﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺒﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﻓﺎﺳﻖ ﮨﯿﮟ
‏( ﻑ 9 ‏) ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ١ : ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﮐﺴﯽ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﻣﺮﺩ ﯾﺎ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭼﺎﺭ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﮐﮯ ﮔﻮﺍﮦ ﭘﯿﺶ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﺪ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ٨٠ ﮐﻮﮌﮮ ۔ ﺁﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺼَﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺧﺼﻮﺹ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺳﮯ ﻭﺍﺭﺩ ﮨﻮﺍ ﯾﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﮐﺜﯿﺮ ﺍﻟﻮﻗﻮﻉ ﮨﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٢ : ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﺰﺍ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺣﺪ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮ ﻣﺮﺩﻭﺩ ﺍﻟﺸﮩﺎﺩۃ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ۔ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﮑﻠَّﻒ ﺁﺯﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺎ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﮞ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٣ : ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﻧﺼﺎﺏ ﭼﺎﺭ ﮔﻮﺍﮦ ﮨﯿﮟ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٤ : ﺣﺪ ﻗﺬﻑ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﭘﺮ ﻣﺸﺮﻭﻁ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻗﺎﺿﯽ ﭘﺮ ﺣﺪ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﻻﺯﻡ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٥ : ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﺳﯽ ﮐﻮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﭘﻮﺗﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٦ : ﻏﻼﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﻟٰﯽ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﭘﺮ ﻗﺬﻑ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﭘﺮ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮٰﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٧ : ﻗﺬﻑ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺻﺮﺍﺣﺘﮧً ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﺎ ﺯﺍﻧﯽ ﮐﮩﮯ ﯾﺎ ﯾﮧ ﮐﮩﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮐﮩﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﻓﻼﮞ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺯﺍﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﮑﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ ﻗﺎﺫِﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﮐﯽ ﺣﺪ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٨ : ﺍﮔﺮ ﻏﯿﺮ ﻣﺤﺼﻦ ﮐﻮ ﺯﻧﺎ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﻣﺜﻼً ﮐﺴﯽ ﻏﻼﻡ ﮐﻮ ﯾﺎ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﻮ ﯾﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﻧﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﺪ ﻗﺬﻑ ﻗﺎﺋﻢ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻌﺰﯾﺮ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﻌﺰﯾﺮ ﺗﯿﻦ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﺎﻟﯿﺲ ﺗﮏ ﺣﺴﺐ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﺣﺎﮐﻢِ ﺷﺮﻉ ﮐﻮﮌﮮ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺯﻧﺎ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻓﺠﻮﺭ ﮐﯽ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﮮ ﻓﺎﺳﻖ ، ﺍﮮ ﮐﺎﻓﺮ ، ﺍﮮ ﺧﺒﯿﺚ ، ﺍﮮ ﭼﻮﺭ ، ﺍﮮ ﺑﺪﮐﺎﺭ ، ﺍﮮ ﻣﺨﻨّﺚ ، ﺍﮮ ﺑﺪﺩﯾﺎﻧﺖ ، ﺍﮮ ﻟﻮﻃﯽ ، ﺍﮮ ﺯﻧﺪﯾﻖ ، ﺍﮮ ﺩﯾّﻮﺙ ، ﺍﮮ ﺷﺮﺍﺑﯽ ، ﺍﮮ ﺳﻮﺩ ﺧﻮﺍﺭ ، ﺍﮮ ﺑﺪﮐﺎﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ، ﺍﮮ ﺣﺮﺍﻡ ﺯﺍﺩﮮ ، ﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮩﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻌﺰﯾﺮ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮﮔﯽ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ٩ : ﺍﻣﺎﻡ ﯾﻌﻨﯽ ﺣﺎﮐﻢ ﺷﺮﻉ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺴﮯ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺛﺒﻮﺕ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ١٠ : ﺍﮔﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺁﺯﺍﺩ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺑﻠﮑﮧ ﻏﻼﻡ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﮐﻮﮌﮮ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ ١١ : ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺟﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺣﺪ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﮮ ﻟﯿﮑﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺩﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻟﻔﻆ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺎﺏ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻁ ﻧﮩﯿﮟ ۔
*ماہِ محرم اور خلاف شریعت رسمیں*

از : علامہ محمد عبدالمبین نعمانی مصباحی
(المجمع الاسلامی مبارک پور)

    تعزیہ کی اصل توبس اتنی تھی کہ روضہ امام عالی مقام سید الشہدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نقشہ بنا کر بطور یادگار گھروں میں رکھا جاتا جیسے کہ خانہ کعبہ و روضہ سرکار مصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نقشے: جیسے یہ جائز وہ بھی جائز، لیکن اب روضہ امام کے نقشے کے ساتھ طرح طرح کی خرافات نے اس کو ممنوع و ناجائز بنادیا، مثلاً، اس نقشہ روضہ امام کو قبر امام عالی مقام سمجھنا، اس سے مرادیں ما نگنا، اس کے سامنے جھکنا، اس کا طواف کرنا، باجے تاشے سے اس کا جلوس نکالنا، ہر سال اسے مصنوعی کربلا لے جاکر مال ضائع کرنا، نوحہ خوانی و سینہ کوبی، اور پھر اب نقشے بھی ایسے بنائے جاتے ہیں جو روضہ امام عالی مقام سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے، نئی نئی تراش اور من گڑھت شکلیں بنالی گئی ہیں اور ان کو روضہ امام سے تشبیہ دی جاتی ہے.... اس قسم کی تعزیہ داری ظاہر ہے کہ ناجائز ہے، کوئی بھی عقل و ہوش والا اس کے جواز کا قائل نہیں، اس لیے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمة والرضوان نے بھی اس کو ناجائز کہا اور اس کے خلاف فتویٰ دیا،... ملاحظہ ہو رسائل اعلیٰ حضرت ،بدر الانوار، رسالہ تعزیہ داری، اور فتاویٰ رضویہ جلد دہم اور الملفوظ شریف جلد دوم، ص ۷۸، عرفان شریعت، ص۶۱، وغیرہ۔

*(۱)* بعض سنت و جماعت عشرہ محرم (محرم کے دس دنوں) میں نہ تو دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں، کہتے ہیں بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔

*(۲)* دس دن کپڑے نہیں اتارتے۔

*(۳)* ماہ محرم میں کوئی شادی بیاہ نہیں کرتے۔

*(۴)* ان ایام میں سواے امام حسن و امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے کسی کی نیاز فاتحہ نہیں دلاتے۔

یہ جائز ہیں یا نا جائز....تو (اعلٰی حضرت امام اھلسنت نے) جواب دیا:

    *پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اورسوگ حرام ہے، اور چوتھی بات جہالت ہے.... ہر مہینے میں ہر تاریخ میں ہر ولی کی نیاز اور ہر مسلمان کی فاتحہ ہوسکتی ہے ۔*
(احکام شریعت اول ، ص۵۷)
***
(ماخوذ : امام احمد رضا اور ان کی تعلیمات)
💥 *ہر بلا سے حفاظت کی دعا*💥
*بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝*
*سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ مَاشَآءَ اللّٰہُ کَانَ وَمَالَمْ یَشَاْ لَمْ یَکُنْ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ وَّاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۔*

( سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب ما یقول: اذا اصبح ۷/ ۴۰۹، حدیث: ۵۰۷۵)

🔆 بحوالہ الوظیفۃ الکریمہ، برنامج، انجمن ضیائے طیبہ
اہلسنت و جماعت کے نزدیک : تعزیہ بنانا ، تعزیہ کا تماشہ دیکھنا ، اس پر چڑھاوے چڑھانا وغیرہ کی شرعی حیثیت ۔ ( امام اہلسنت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب کی روشنی میں )
محرم الحرام میں کیئے جانے والے غلط کام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
📚سوال :تعزیہ بنانا کیسا ؟

📚جواب :اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

📚سوال:تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا؟

📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے۔

(فتاویٰ رضویہ، جلد 21، ص 246، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

📚سوال:تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟

📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

📚سوال:محرم الحرام میں ناجائز رسومات کیا ہیں

📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں

(فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

📚سوال:تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا؟

📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے (ملفوظات شریف، ص 286)
اہلسنت و جماعت کے نزدیک : تعزیہ بنانا ، تعزیہ کا تماشہ دیکھنا ، اس پر چڑھاوے چڑھانا وغیرہ کی شرعی حیثیت ۔ ( امام اہلسنت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب کی روشنی میں )
محرم الحرام میں کیئے جانے والے غلط کام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
📚سوال :تعزیہ بنانا کیسا ؟

📚جواب :اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

📚سوال:تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا؟

📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے۔

(فتاویٰ رضویہ، جلد 21، ص 246، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

📚سوال:تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟

📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

📚سوال:محرم الحرام میں ناجائز رسومات کیا ہیں

📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں

(فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

📚سوال:تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا؟

📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے (ملفوظات شریف، ص 286)
محمد رضا مرکزی.....خادم شرعی عدالت
🖋📚📚🖋
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
👆👆👆👆👆👆👆
*دمہ کے تین علاج*

1⃣ روزانہ تین یا پانچ کھجوریں (دھوکر) کھالیں اور نم گرم پانی پی لیا کریں انشاءاللہ دمہ میں بہت آرام ہوجائے گا .
🍒🍒🍒🍒🍒

2⃣ رات میں اورصبح تین خشک انجیر دودھ میں پکا کر ان کا استعمال فرمائیں ان شاءاللہ
دمہ اور بلغم دور ہوگا .
🌰🌰🌰🌰🌰🌰

3⃣روزانہ گاجر کا رس پینے سے ان شاءاللہ دمہ میں آرام ہوگا
🥕🥕🥕🥕🥕🥕
📚سوال:محرم الحرام میں ناجائز رسومات کیا ہیں

📚جواب:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں

(فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
📚📚📚📚📚🖋
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
👆👆👆👆👆👆👆
السلام عليكم ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اسلام اس مسئلے کے بارے میں کہ نکاح سے قبل لڑکا اور لڑکی افعالِ بد کے مرتکب ہوئے جس کے سبب حمل ٹھرا اور حمل کے چار ماہ بعد لڑکا اور لڑکی نے نکاح کیا۔۔۔ آیا لڑکی کا اس لڑکے سے ایّامِ حمل میں نکاح کرنا درست ہے یا نہیں ۔۔۔۔ اور شادی کے بعد جو بچہ پیدا ہو تو نسب ثابت ہوگا کہ نہیں جبکہ نظفہ اسی کا ہے جس سے شادی ہوئی اور شادی کے قبل حمل بھی اسی کی وجہ سے ٹھرا ۔۔۔۔ برائے مہربانی مدلل جواب عطا فرمائے ۔ نوازش و کرم ہوگا۔ 💈سائل 💈محمد عرفان قادری بھیونڈی

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ ;

_____🌼🌺🌼_______


_*الجواب بعون الملک الوہاب*_
_*صورت مسؤلہ میں لڑکی کا نکاح حالت حمل جو کیا گیا وہ نکاح صحیح اور درست ہے ؛ البتہ زانی ہی سے نکاح کیا گیا ہے تو وہ ہمبستری کر سکتاہے اور اگر یہ نکاح جب کہ دوسرے سے ہو تو وہ ہمبستری نہیں کرسکتا ہے یہاں تک کہ بچہ پیدا ہو ؛*_

_*قال ابو حنیفہ و محمد رحمھمااللہ تعالی یجوز ان یتزوج امرأۃ حاملا من الزنا ولایطؤھا حتی تضع ـ فی مجموع النوازل اذا تزوج امرأۃ قد زنی ھو بھا و ظھر بھا حبل فالنکاح جائز عندالکل کذا فی الذخیرۃ*_

_*📚فتاوی عالمگیری مع خانیہ*_
_*جلد اول ص 280*_

_*ایـــضـــا👇*_
_*صح نکاح حبلی من زنا لا من غیرہ وان حرم و طؤھا و دواعیه حتی تضع و لو نکحھا الزانی حل له وطؤھا اتفاقا*_
_*📚درمختار مع شامی*_
_*جلد دوم ص 316*_

_*📚فتاوی فقیہ ملت*_
_*جلد اول ص 375*_

_*اور اگر واقعی نکاح سے پہلے ان دونوں کا ناجائز تعلق تھا تو وہ دونوں سخت گنہگار مستحق عذاب قہار ہیں ان کو اعلانیہ توبہ و استغفار کرایا جائے اور نماز کی پابندی کا اس سے عہد لیا جائے اور قرآن خوانی و میلاد شریف کرنے مسجد میں لوٹا چٹائی رکھنے اور غرباء و مساکین کو کھانا کھلانے کی تلقین کی جائے کہ نکیاں قبول توبہ میں معاون ہوتی ہے*_
_*اللہ تعالٰی کا فرمان ہے*_
_*ومن تاب عمل صالحا فانه یتوب الی اللہ متابا ھ۱*_

_*📚القرآن پارہ 19 رکوع 4*_

_*اور ان دونوں کے والدین کو بھی توبہ کرایا جائے اگر انکی غفلت لاپرواہی سے لڑکا لڑکی کا ناجائز تعلق ہوا*_

_*اوراگر نکاح کے چھ ماہ کے بعد بچہ پیدا ہوا تو بچہ شرعاً لڑکا ہی کا ہے جوکہ ثابت النسب ہوگا اوراگر نکاح کے بعد چھ ماہ سے کم مدت میں (یعنی پانچ ماہ میں) بچہ پیدا تو ثابت النسب نہیں ہوگا ؛؛*_

_*اذا تزوج الرجل امرأۃ فجائت بالولد لاقل من ستة اشھر منذ تزوجھا لم یثبت نسبه و ان جائت لستة اشھر قصاعدا یثبت نسبه منه اعترف به الزوج او سکت ھ۱*_

_*📚 فتاوی عالمگیری*_
_*جلد اول ص 536*_

_*📚فتاوی فقیہ ملت*_
_*جلد دوم ص71/72*_

____🌼🌺🌼________

_*ازقلم ؛ العبد الاثیم خاکسار*_
_ _*ابوالصدف محمد صادق رضا*_
_*خادم ؛ شاہی جامع مسجد*_
_*پٹنہ سیٹی بہار الھند*_