🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق (پارٹ 14) حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک حضرت ایوب علیہ السلام اپنی بیماری میں 18 سال مبتلا رہے، اُنکے بھائیوں میں سے دو شخصوں کے…
حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق (15)
پانی میں نہانے سے بیماری دور ہوگئی اور آپ پہلے سے بہت صحت مند اور حسین ہو گئے۔
ان کی بیوی انہیں ڈھونڈھتی ہوئی آئی اور دیکھ کر کہا اے شخص اللہ تمہیں برکت دے کیا تم نے اللہ کے نبی کو دیکھا ہے جو بیمار تھے، اللہ کی قسم میں نے تم سے زیادہ ان کے مشابہ اور تندرست شخص کوئی نہیں دیکھا۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا: میں ہی ہوں۔
حضرت ایوب علیہ السلام کے دو کھلیان تھے ایک گندم کا کھلیان تھا اور ایک جو کا کھلیان تھا اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے، ایک بادل گندم کے کھلیان پر اس قدر برسا کے سونے سے بھر دیا اور دوسرے بادل نے ایک کھلیان کو چاندی سے بھر دیا۔
(صحیح ابن حبان، رقم2898،
مسند البزار، رقم م2358،
حلیۃ الاولیاء، ج3، ص374،
مسند ابو یعلی، رقم3617،
المعجم الکبیر، رقم40،
المستدرک، ج2، ص582)
امام حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور امام ذہبی نے بھی موافقت کی
حافظ ہیثمی نے کہا کہ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے اور امام بزار نے روایت کیا ہے اور امام بزار کی سند صحیح ہے۔
(مجمع الزوائد، ج8، ص208)
جاری ہے........
عبد مصطفیٰ آفیشل
پانی میں نہانے سے بیماری دور ہوگئی اور آپ پہلے سے بہت صحت مند اور حسین ہو گئے۔
ان کی بیوی انہیں ڈھونڈھتی ہوئی آئی اور دیکھ کر کہا اے شخص اللہ تمہیں برکت دے کیا تم نے اللہ کے نبی کو دیکھا ہے جو بیمار تھے، اللہ کی قسم میں نے تم سے زیادہ ان کے مشابہ اور تندرست شخص کوئی نہیں دیکھا۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا: میں ہی ہوں۔
حضرت ایوب علیہ السلام کے دو کھلیان تھے ایک گندم کا کھلیان تھا اور ایک جو کا کھلیان تھا اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے، ایک بادل گندم کے کھلیان پر اس قدر برسا کے سونے سے بھر دیا اور دوسرے بادل نے ایک کھلیان کو چاندی سے بھر دیا۔
(صحیح ابن حبان، رقم2898،
مسند البزار، رقم م2358،
حلیۃ الاولیاء، ج3، ص374،
مسند ابو یعلی، رقم3617،
المعجم الکبیر، رقم40،
المستدرک، ج2، ص582)
امام حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور امام ذہبی نے بھی موافقت کی
حافظ ہیثمی نے کہا کہ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے اور امام بزار نے روایت کیا ہے اور امام بزار کی سند صحیح ہے۔
(مجمع الزوائد، ج8، ص208)
جاری ہے........
عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
سوچ بدلو.....زندگی بدلو.....
میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔ جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی۔ اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا۔ اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔ اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔
اس نے ایک خوبصورت کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا ’سر جب تک میں آپ کا سامان ڈگی میں رکھوں، آپ میرا مشن سٹیٹ منٹ پڑھ لیں۔ میں نے آنکھیں موچ لیں۔ یہ کیا ہے؟‘ میرا نام سائیں ہے، آپ کا ڈرائیور۔ میرا مشن ہے کہ مسافروں کو سب سے مختصر، محفوظ اور سستے رستے سے ان کی منزل تک پہنچاؤں اور ان کو مناسب ماحول فراہم کروں ’۔ میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ میں نے آس پاس دیکھا تو ٹیکسی کا اندر بھی اتنا ہی صاف تھا جتنا کہ وہ باہر سے جگمگا رہی تھی۔
اس دوران وہ سٹئرنگ ویل پر بیٹھ چکا تھا۔ ’سر آپ کافی یا چائے پینا چاہیں گے۔ آپ کے ساتھ ہی دو تھرماس پڑے ہوئے ہیں جن میں چائے اور کافی موجود ہے‘ ۔ میں نے مذاق میں کہا کہ نہیں میں تو کوئی کولڈ ڈرنک پیوں گا۔ وہ بولا ’سر کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے پاس آگے کولر پڑا ہوا ہے۔ اس میں کوک، لسی، پانی اور اورنج جوس ہے۔ آپ کیا لینا چاہیں گے؟‘ میں نے لسی کا مطالبہ کیا اور اس نے آگے سے ڈبہ پکڑا دیا۔ میں نے ابھی اسے منہ بھی نہیں لگایا تھا کہ اس نے کہا ’سر اگر آپ کچھ پڑھنا چاہیں تو میرے پاس اردو اور انگریزی کے اخبار موجود ہیں‘ ۔
اگلے سگنل پر گاڑی رکی تو سائیں نے ایک اور کارڈ مجھے پکڑا دیا کہ اس میں وہ تمام ایف ایم سٹیشن ہیں جو میری گاڑی کے ریڈیو پر لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں وہ تمام البم بھی ہیں جن کی سی ڈی میرے پاس ہے۔ اگر آپ کو موسیقی سے شوق ہے تو میں لگا سکتا ہوں۔ اور جیسے یہ سب کچھ کافی نہیں تھا، اس نے کہا کہ ’سر میں نے ائر کنڈیشنر لگا دیا ہے۔ آپ بتائیے گا کہ ٹمپریچر زیادہ یا کم ہو تو آپ کی مرضی کے مطابق کردوں‘ ۔
اس کے ساتھ ہی اس نے رستے کے بارے میں بتا دیا کہ اس وقت کس رستے پر سے وہ گزرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ اس وقت وہاں رش نہیں ہوتا۔ پھر بڑی پتے کی بات پوچھی ’سر اگر آپ چاہیں تو رستے سے گزرتے ہوئے میں آپ کو اس علاقے کے بارے میں بھی بتا سکتا ہوں۔ اور اگر آپ چاہیں تو آپ اپنی سوچوں میں گم رہ سکتے ہیں‘ وہ شیشے میں دیکھ کر مسکرایا۔
میں نے پوچھا ’سائیں، کیا تم ہمیشہ سے ایسے ہی ٹیکسی چلاتے رہے ہو؟‘ اس کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ آئی۔ ’نہیں سر، یہ کچھ دو سال سے میں نے ایسا شروع کیا ہے۔ اس سے پانچ سال قبل میں بھی اسی طرح کڑھتا تھا جیسے کہ دوسرے ٹیکسی والے کڑھتے ہیں۔ میں بھی اپنا سارا وقت شکایتیں کرتے گزارا کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک دن کسی سے سنا کہ سوچ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ یہ سوچ کی طاقت ہوتی ہے کہ آپ بطخ بننا پسند کریں گے کہ عقاب۔ اگر آپ گھر سے مسائل کی توقع کرکے نکلیں گے تو آپ کا سارا دن برا ہی گزرے گا۔ بطخ کی طرح ہر وقت کی ٹیں ٹیں سے کوئی فائدہ نہیں، عقاب کی طرح بلندی پر اڑو تو سارے جہاں سے مختلف لگو گے۔ یہ بات میرے دماغ کو تیر کی طرح لگی اور اس نے میری زندگی بدل دی۔
’میں نے سوچا یہ تو میری زندگی ہے۔ میں ہر وقت شکایتوں کا انبار لئے ہوتا تھا اور بطخ کی طرح سے ٹیں ٹیں کرتا رہتا تھا۔ بس میں نے عقاب بننے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو تمام ٹیکسیاں گندی دیکھیں۔ ان کے ڈرائیور گندے کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ ہر وقت شکایتیں کرتے رہتے تھے اور مسافروں کے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے۔ ان کے مسافر بھی ان سے بے زار ہوتے تھے۔ کوئی بھی خوش نہیں ہوتا تھا۔ بس میں نے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے میں نے چند تبدیلیاں کیں۔ گاڑی صاف رکھنی شروع کی اور اپنے لباس پر توجہ دی۔ جب گاہکوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی تو میں نے مزید بہتری کی۔ اور اب بھی بہتری کی تلاش ہے۔‘
میں نے اپنی دلچسپی کے لئے پوچھا کہ کیا اس سے تمہاری آمدنی پر کوئی فرق پڑا
’سر بڑا فرق پڑا۔ پہلے سال تو میری انکم ڈبل ہوگئی اور اس سال لگتا ہے چار گنا بڑھ جائے گی۔ اب میرے گاہک مجھے فون پر بک کرتے ہیں یا ایس ایم ایس کرکے وقت طے کرلیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے ایک اور ٹیکسی خریدنی پڑے گی اور اپنے جیسے کسی بندے کو اس پر لگانا پڑے گا۔‘
یہ سائیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے۔
کیا خیال ہے، اس ہفتے سے عقاب کا سفر نہ شروع کیا جائے؟ سائیں نے مجھے ایک نیا فلسفہ دیا۔
سوچ بدلو ۔ زندگی بدلو ۔
وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ کوئی بھی پانی میں گرنے سے نہیں مرتا۔مرتا وہ اس وقت ہے جب وہ اس مشکل سے نکلنے کے لیۓ ہاتھ پاؤں نہیں مارتا ہے.....
میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔ جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی۔ اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا۔ اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔ اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔
اس نے ایک خوبصورت کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا ’سر جب تک میں آپ کا سامان ڈگی میں رکھوں، آپ میرا مشن سٹیٹ منٹ پڑھ لیں۔ میں نے آنکھیں موچ لیں۔ یہ کیا ہے؟‘ میرا نام سائیں ہے، آپ کا ڈرائیور۔ میرا مشن ہے کہ مسافروں کو سب سے مختصر، محفوظ اور سستے رستے سے ان کی منزل تک پہنچاؤں اور ان کو مناسب ماحول فراہم کروں ’۔ میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ میں نے آس پاس دیکھا تو ٹیکسی کا اندر بھی اتنا ہی صاف تھا جتنا کہ وہ باہر سے جگمگا رہی تھی۔
اس دوران وہ سٹئرنگ ویل پر بیٹھ چکا تھا۔ ’سر آپ کافی یا چائے پینا چاہیں گے۔ آپ کے ساتھ ہی دو تھرماس پڑے ہوئے ہیں جن میں چائے اور کافی موجود ہے‘ ۔ میں نے مذاق میں کہا کہ نہیں میں تو کوئی کولڈ ڈرنک پیوں گا۔ وہ بولا ’سر کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے پاس آگے کولر پڑا ہوا ہے۔ اس میں کوک، لسی، پانی اور اورنج جوس ہے۔ آپ کیا لینا چاہیں گے؟‘ میں نے لسی کا مطالبہ کیا اور اس نے آگے سے ڈبہ پکڑا دیا۔ میں نے ابھی اسے منہ بھی نہیں لگایا تھا کہ اس نے کہا ’سر اگر آپ کچھ پڑھنا چاہیں تو میرے پاس اردو اور انگریزی کے اخبار موجود ہیں‘ ۔
اگلے سگنل پر گاڑی رکی تو سائیں نے ایک اور کارڈ مجھے پکڑا دیا کہ اس میں وہ تمام ایف ایم سٹیشن ہیں جو میری گاڑی کے ریڈیو پر لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں وہ تمام البم بھی ہیں جن کی سی ڈی میرے پاس ہے۔ اگر آپ کو موسیقی سے شوق ہے تو میں لگا سکتا ہوں۔ اور جیسے یہ سب کچھ کافی نہیں تھا، اس نے کہا کہ ’سر میں نے ائر کنڈیشنر لگا دیا ہے۔ آپ بتائیے گا کہ ٹمپریچر زیادہ یا کم ہو تو آپ کی مرضی کے مطابق کردوں‘ ۔
اس کے ساتھ ہی اس نے رستے کے بارے میں بتا دیا کہ اس وقت کس رستے پر سے وہ گزرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ اس وقت وہاں رش نہیں ہوتا۔ پھر بڑی پتے کی بات پوچھی ’سر اگر آپ چاہیں تو رستے سے گزرتے ہوئے میں آپ کو اس علاقے کے بارے میں بھی بتا سکتا ہوں۔ اور اگر آپ چاہیں تو آپ اپنی سوچوں میں گم رہ سکتے ہیں‘ وہ شیشے میں دیکھ کر مسکرایا۔
میں نے پوچھا ’سائیں، کیا تم ہمیشہ سے ایسے ہی ٹیکسی چلاتے رہے ہو؟‘ اس کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ آئی۔ ’نہیں سر، یہ کچھ دو سال سے میں نے ایسا شروع کیا ہے۔ اس سے پانچ سال قبل میں بھی اسی طرح کڑھتا تھا جیسے کہ دوسرے ٹیکسی والے کڑھتے ہیں۔ میں بھی اپنا سارا وقت شکایتیں کرتے گزارا کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک دن کسی سے سنا کہ سوچ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ یہ سوچ کی طاقت ہوتی ہے کہ آپ بطخ بننا پسند کریں گے کہ عقاب۔ اگر آپ گھر سے مسائل کی توقع کرکے نکلیں گے تو آپ کا سارا دن برا ہی گزرے گا۔ بطخ کی طرح ہر وقت کی ٹیں ٹیں سے کوئی فائدہ نہیں، عقاب کی طرح بلندی پر اڑو تو سارے جہاں سے مختلف لگو گے۔ یہ بات میرے دماغ کو تیر کی طرح لگی اور اس نے میری زندگی بدل دی۔
’میں نے سوچا یہ تو میری زندگی ہے۔ میں ہر وقت شکایتوں کا انبار لئے ہوتا تھا اور بطخ کی طرح سے ٹیں ٹیں کرتا رہتا تھا۔ بس میں نے عقاب بننے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو تمام ٹیکسیاں گندی دیکھیں۔ ان کے ڈرائیور گندے کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ ہر وقت شکایتیں کرتے رہتے تھے اور مسافروں کے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے۔ ان کے مسافر بھی ان سے بے زار ہوتے تھے۔ کوئی بھی خوش نہیں ہوتا تھا۔ بس میں نے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے میں نے چند تبدیلیاں کیں۔ گاڑی صاف رکھنی شروع کی اور اپنے لباس پر توجہ دی۔ جب گاہکوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی تو میں نے مزید بہتری کی۔ اور اب بھی بہتری کی تلاش ہے۔‘
میں نے اپنی دلچسپی کے لئے پوچھا کہ کیا اس سے تمہاری آمدنی پر کوئی فرق پڑا
’سر بڑا فرق پڑا۔ پہلے سال تو میری انکم ڈبل ہوگئی اور اس سال لگتا ہے چار گنا بڑھ جائے گی۔ اب میرے گاہک مجھے فون پر بک کرتے ہیں یا ایس ایم ایس کرکے وقت طے کرلیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے ایک اور ٹیکسی خریدنی پڑے گی اور اپنے جیسے کسی بندے کو اس پر لگانا پڑے گا۔‘
یہ سائیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے۔
کیا خیال ہے، اس ہفتے سے عقاب کا سفر نہ شروع کیا جائے؟ سائیں نے مجھے ایک نیا فلسفہ دیا۔
سوچ بدلو ۔ زندگی بدلو ۔
وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ کوئی بھی پانی میں گرنے سے نہیں مرتا۔مرتا وہ اس وقت ہے جب وہ اس مشکل سے نکلنے کے لیۓ ہاتھ پاؤں نہیں مارتا ہے.....
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
سیرتِ رسول ﷺ کا اہم باب
*"آمدِ بہار"*
مطالعہ کیجئے... احباب کو ترغیبِ مطالعہ دیجئے...
ذکرِ رسول ﷺ کی خوشبو سے گُلشنِ حیات میں بہاریں ہیں... ان کی یاد خوشبو... ان کا اخلاق خوشبو...ان کا تصور خوشبو... سیرت کا ہر باب خوشبو... ہر عنوان مُشک بو... ایمان و عقیدے کی بزم میں انھیں کے رُخِ انور کی روشنی ہے...
نامِ نامی محمد ﷺ کی تجلیاں پوری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں... آمد آمد کا چرچا ہوا... بزمِ انبیاء کرام علیہم السلام میں... بزمِ ملائکہ میں... وفاداری کا عہد لیا گیا... محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا... میلاد منایا گیا... کتاب و سُنّت میں کئی درخشاں ابواب موجود ہیں... ایمانی بصیرت سے دیکھیں تو دل و نگاہ جگمگائیں گے...
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کے خامۂ زرنگار سے محبت و عقیدت کے پاکیزہ نقوش "آمدِ بہار" ملاحظہ فرمائیں... نوری مشن مالیگاؤں سے مطبوع بہاروں کا گلشن تازہ ہے... سطر سطر سے محبتوں کی شمع روشن ہوتی ہے... اور حرف حرف ایمان کی تب و تاب میں اضافہ کرتا ہے... مطالعۂ سیرت کا دل نشیں اسلوب مشاہدہ ہوتا ہے... آپ بھی ذکرِ محبوب ﷺ کی بزمِ مطالعہ میں مؤدب ہو جائیے... ان شاء اللہ! نصیبہ چمک اُٹھے گا... ذکرِ میلادِ رسول ﷺ کی برکتوں سے قندیلِ حیات فروزاں ہوگی...
اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اسی سے ہے؛ جان کی وہ ہی جان ہے
(اعلیٰ حضرت)
٭٭٭
نقوشِ قلم: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
٢٣ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4516378305104127/
*"آمدِ بہار"*
مطالعہ کیجئے... احباب کو ترغیبِ مطالعہ دیجئے...
ذکرِ رسول ﷺ کی خوشبو سے گُلشنِ حیات میں بہاریں ہیں... ان کی یاد خوشبو... ان کا اخلاق خوشبو...ان کا تصور خوشبو... سیرت کا ہر باب خوشبو... ہر عنوان مُشک بو... ایمان و عقیدے کی بزم میں انھیں کے رُخِ انور کی روشنی ہے...
نامِ نامی محمد ﷺ کی تجلیاں پوری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں... آمد آمد کا چرچا ہوا... بزمِ انبیاء کرام علیہم السلام میں... بزمِ ملائکہ میں... وفاداری کا عہد لیا گیا... محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا... میلاد منایا گیا... کتاب و سُنّت میں کئی درخشاں ابواب موجود ہیں... ایمانی بصیرت سے دیکھیں تو دل و نگاہ جگمگائیں گے...
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کے خامۂ زرنگار سے محبت و عقیدت کے پاکیزہ نقوش "آمدِ بہار" ملاحظہ فرمائیں... نوری مشن مالیگاؤں سے مطبوع بہاروں کا گلشن تازہ ہے... سطر سطر سے محبتوں کی شمع روشن ہوتی ہے... اور حرف حرف ایمان کی تب و تاب میں اضافہ کرتا ہے... مطالعۂ سیرت کا دل نشیں اسلوب مشاہدہ ہوتا ہے... آپ بھی ذکرِ محبوب ﷺ کی بزمِ مطالعہ میں مؤدب ہو جائیے... ان شاء اللہ! نصیبہ چمک اُٹھے گا... ذکرِ میلادِ رسول ﷺ کی برکتوں سے قندیلِ حیات فروزاں ہوگی...
اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اسی سے ہے؛ جان کی وہ ہی جان ہے
(اعلیٰ حضرت)
٭٭٭
نقوشِ قلم: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
٢٣ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4516378305104127/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جشن عید میلاد النبی ﷺ مبارک
جشن عید میلاد النبی کا مفہوم
عید کے لغوی معنیٰ خوشی منانا
عید کے لغوی و عرفی معنیٰ قرآن
عید کے لغوی معنیٰ حدیث میں!
خوشی نہ منانے کا ذکر کہیں نہیں
حضور نے جمعہ کو عید کا دن کہا
کل امت مسلمہ منکرین میلاد کے
میلاد مصطفیٰ ﷺ قرآن کے آئینے
اللہ کے فضل و رحمت پر خوشیاں
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #میلاد_النبی ﷺ 📜 1
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
جشن عید میلاد النبی کا مفہوم
عید کے لغوی معنیٰ خوشی منانا
عید کے لغوی و عرفی معنیٰ قرآن
عید کے لغوی معنیٰ حدیث میں!
خوشی نہ منانے کا ذکر کہیں نہیں
حضور نے جمعہ کو عید کا دن کہا
کل امت مسلمہ منکرین میلاد کے
میلاد مصطفیٰ ﷺ قرآن کے آئینے
اللہ کے فضل و رحمت پر خوشیاں
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #میلاد_النبی ﷺ 📜 1
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فرانسیسی مصنوعات کی فھرست اس لنک پے
.https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3357005101087269&id=100003334358641
اقتصادی وغیرہ مختلف قسم کےبائیکاٹ.........؟؟
*#اقتصادی تجارتی بائیکاٹ حسبِ ضرورت،حسبِ نفع:* سمجھانے سلجھانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اگر شرعی مصلحت ہو، فائدہ ہو یا فائدہ کی امید ہو تو گستاخ کفار ممالک سے معاشی اقتصادی بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے بلکہ بائیکاٹ کرنا چاہیے
.
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ میں معاہدہ کیا تھا تو اس معاہدے کی ایک شق معاشی اقتصادی بائیکاٹ پر مشتمل تھی:
لَا تُجَارُ قُرَيْشٌ وَلَا مَنْ نَصَرَهَا
ترجمہ:
قریش سے تجارت نہ کی جائے گی اور ان سے بھی تجارت نہ کی جائے گی جو قریش کے مددگار ہوں
(البداية والنهاية ط هجر4/558)
(اللؤلؤ المكنون في سيرة النبي المأمون2/204)
(مجموعة الوثائق السياسية 1/592)
.
سیدنا ثمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب ایمان لے آئے ، مسلمان ہوئے تو آپ نے کفار و مشرکین مکہ سے اقتصادی و معاشی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا اور فرمایا
لاَ يَأْتِيكُمْ مِنَ اليَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ، حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:
تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ تک نہ آئے گا یہاں تک کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملے میں اجازت عطا فرمائیں
[صحيح البخاري ,5/170 روایت4372]
.
*#حسبِ طاقت میل جول وغیرہ دیگر قسم کے تعلقات کا بائیکاٹ:*
سمجھانے کے ساتھ ساتھ مجرموں گستاخوں بدمذہبوں سے سلام دعا کلام ، کھانا پانی ، میل جول ، شادی بیاہ نماز وغیرہ میں شرکت نہ کرنے، بائیکاٹ کرنے کے دلائل یہ ہیں
الحدیث:
[ ایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم ]
’’گمراہوں،گستاخوں، بدمذہبوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو(سمجھانے کے ساتھ ساتھ قطع تعلق و بائیکاٹ کرو) کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں‘‘(صحیح مسلم1/12)
.
ایک امام نےقبلہ کی طرف تھوکا،رسول کریمﷺنےفرمایا:
لایصلی لکم
ترجمہ:
وہ تمھیں نماز نہیں پڑھا سکتا
(ابوداؤد حدیث481، صحیح ابن حبان حدیث1636,
مسند احمد حدیث16610 شیعہ کتاب احقاق الحق ص381)
.
صدر الشریعہ خلیفہ اعلی حضرت سیدی مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں:
اس وقت جو کچھ ہم کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے مُقاطَعہ(بائیکاٹ) کیاجائے اور ان سے میل جول نشست وبرخاست وغیرہ ترک کریں.(بہار شریعت جلد1 حصہ9 ص60)
.
چند اوراق بعد لکھتے ہیں:
سب سے بہتر ترکیب وہ ہے جو ایسے وقت کے لیے قرآن وحدیث میں ارشاد ہوئی اگر مسلمان اس پر عمل کریں تمام قصوں سے نجات پائیں دنیا وآخرت کی بھلائی ہاتھ آئے۔ وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے بالکل میل جول چھوڑ دیں، سلام کلام ترک کر دیں، ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا، ان کے ساتھ کھانا پینا، ان کے یہاں شادی بیاہ کرنا، غرض ہر قسم کے تعلقات ان سے قطع کر دیں..(بہار شریعت جلد1 حصہ9 ص84)
.
الحدیث:
فَلَا تُجَالِسُوهُمْ، وَلَا تُؤَاكِلُوهُمْ، وَلَا تُشَارِبُوهُمْ، وَلَا تُنَاكِحُوهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا مَعَهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهِمْ
ترجمہ:
بدمذہبوں گستاخوں کے ساتھ میل جول نہ رکھو، ان کے ساتھ کھانا پینا نہ رکھو، ان سے شادی بیاہ نہ کرو، ان کے معیت میں(انکے ساتھ یا ان کے پیچھے) نماز نہ پڑھو(الگ پرھو)اور نہ ہی انکا جنازہ پڑھو
[السنة لأبي بكر بن الخلال ,2/483حدیث769]
.
الحدیث:
فلا تناكحوهم ولا تؤاكلوهم ولا تشاربوهم ولا تصلوا معهم ولا تصلوا عليهم
ترجمہ:
بدمذہبوں گستاخوں کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو، ان کے ساتھ کھانا پینا نہ رکھو، ان کے معیت میں (انکے ساتھ یا ان کے پیچھے) نماز نہ پڑھو(الگ پرھو)اور نہ ہی انکا جنازہ پڑھو
[جامع الأحاديث ,7/431حدیث6621]
.
سمجھانے کےساتھ ساتھ جب مسلمانی کے دعوےدار بدمذہب و گستاخ سے بائیکاٹ کا حکم ہے تو گستاخی کرنے والے غیرمسلم ممالک سے بھی میل جول ، کھانا پانی ،لین دین ، خرید و فروخت ، انکی مصنوعات وغیرہ کا بائیکاٹ کیا جاسکتا ہےبلکہ بائیکاٹ کرنا چاہیے
.
واللہ تعالیٰ اعلم و رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم اعلم
.https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3357005101087269&id=100003334358641
اقتصادی وغیرہ مختلف قسم کےبائیکاٹ.........؟؟
*#اقتصادی تجارتی بائیکاٹ حسبِ ضرورت،حسبِ نفع:* سمجھانے سلجھانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اگر شرعی مصلحت ہو، فائدہ ہو یا فائدہ کی امید ہو تو گستاخ کفار ممالک سے معاشی اقتصادی بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے بلکہ بائیکاٹ کرنا چاہیے
.
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ میں معاہدہ کیا تھا تو اس معاہدے کی ایک شق معاشی اقتصادی بائیکاٹ پر مشتمل تھی:
لَا تُجَارُ قُرَيْشٌ وَلَا مَنْ نَصَرَهَا
ترجمہ:
قریش سے تجارت نہ کی جائے گی اور ان سے بھی تجارت نہ کی جائے گی جو قریش کے مددگار ہوں
(البداية والنهاية ط هجر4/558)
(اللؤلؤ المكنون في سيرة النبي المأمون2/204)
(مجموعة الوثائق السياسية 1/592)
.
سیدنا ثمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب ایمان لے آئے ، مسلمان ہوئے تو آپ نے کفار و مشرکین مکہ سے اقتصادی و معاشی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا اور فرمایا
لاَ يَأْتِيكُمْ مِنَ اليَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ، حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:
تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ تک نہ آئے گا یہاں تک کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملے میں اجازت عطا فرمائیں
[صحيح البخاري ,5/170 روایت4372]
.
*#حسبِ طاقت میل جول وغیرہ دیگر قسم کے تعلقات کا بائیکاٹ:*
سمجھانے کے ساتھ ساتھ مجرموں گستاخوں بدمذہبوں سے سلام دعا کلام ، کھانا پانی ، میل جول ، شادی بیاہ نماز وغیرہ میں شرکت نہ کرنے، بائیکاٹ کرنے کے دلائل یہ ہیں
الحدیث:
[ ایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم ]
’’گمراہوں،گستاخوں، بدمذہبوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو(سمجھانے کے ساتھ ساتھ قطع تعلق و بائیکاٹ کرو) کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں‘‘(صحیح مسلم1/12)
.
ایک امام نےقبلہ کی طرف تھوکا،رسول کریمﷺنےفرمایا:
لایصلی لکم
ترجمہ:
وہ تمھیں نماز نہیں پڑھا سکتا
(ابوداؤد حدیث481، صحیح ابن حبان حدیث1636,
مسند احمد حدیث16610 شیعہ کتاب احقاق الحق ص381)
.
صدر الشریعہ خلیفہ اعلی حضرت سیدی مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں:
اس وقت جو کچھ ہم کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے مُقاطَعہ(بائیکاٹ) کیاجائے اور ان سے میل جول نشست وبرخاست وغیرہ ترک کریں.(بہار شریعت جلد1 حصہ9 ص60)
.
چند اوراق بعد لکھتے ہیں:
سب سے بہتر ترکیب وہ ہے جو ایسے وقت کے لیے قرآن وحدیث میں ارشاد ہوئی اگر مسلمان اس پر عمل کریں تمام قصوں سے نجات پائیں دنیا وآخرت کی بھلائی ہاتھ آئے۔ وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے بالکل میل جول چھوڑ دیں، سلام کلام ترک کر دیں، ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا، ان کے ساتھ کھانا پینا، ان کے یہاں شادی بیاہ کرنا، غرض ہر قسم کے تعلقات ان سے قطع کر دیں..(بہار شریعت جلد1 حصہ9 ص84)
.
الحدیث:
فَلَا تُجَالِسُوهُمْ، وَلَا تُؤَاكِلُوهُمْ، وَلَا تُشَارِبُوهُمْ، وَلَا تُنَاكِحُوهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا مَعَهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهِمْ
ترجمہ:
بدمذہبوں گستاخوں کے ساتھ میل جول نہ رکھو، ان کے ساتھ کھانا پینا نہ رکھو، ان سے شادی بیاہ نہ کرو، ان کے معیت میں(انکے ساتھ یا ان کے پیچھے) نماز نہ پڑھو(الگ پرھو)اور نہ ہی انکا جنازہ پڑھو
[السنة لأبي بكر بن الخلال ,2/483حدیث769]
.
الحدیث:
فلا تناكحوهم ولا تؤاكلوهم ولا تشاربوهم ولا تصلوا معهم ولا تصلوا عليهم
ترجمہ:
بدمذہبوں گستاخوں کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو، ان کے ساتھ کھانا پینا نہ رکھو، ان کے معیت میں (انکے ساتھ یا ان کے پیچھے) نماز نہ پڑھو(الگ پرھو)اور نہ ہی انکا جنازہ پڑھو
[جامع الأحاديث ,7/431حدیث6621]
.
سمجھانے کےساتھ ساتھ جب مسلمانی کے دعوےدار بدمذہب و گستاخ سے بائیکاٹ کا حکم ہے تو گستاخی کرنے والے غیرمسلم ممالک سے بھی میل جول ، کھانا پانی ،لین دین ، خرید و فروخت ، انکی مصنوعات وغیرہ کا بائیکاٹ کیا جاسکتا ہےبلکہ بائیکاٹ کرنا چاہیے
.
واللہ تعالیٰ اعلم و رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم اعلم
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
👍1