Forwarded from Abde Mustafa Organisation
خواتین اور دین کے لیے قربانیاں
حضرت سمیہ رضی اللہ عنھا
حضرت عمار بن یاسر کی والدہ حضرت سمیہ مکہ میں مغیرہ قبیلے کی ایک کنیز تھی۔ اسلام قبول کرنے میں ان کا ساتواں نمبر ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب اسلام قبول کرنا گویا ہر قسم کے جور و ستم کو دعوت دینا تھا اور یہ تو ویسے بھی ایک کنیز تھیں۔
جیسے ہی انھوں نے اسلام قبول کیا ان پر ظلم و تشدد کا ایک طوفان امڈ پڑا۔ کفر و شرک پر مجبور کرنے کے لیے ان کے قبیلے اور قریش نے ہر طریقے آزمائے، ہر کوشش کر کے دیکھی مگر ناکام رہے۔
سمیہ صنف نازک تھیں، اسی سال ضیعفہ ہونے کے باوجود بھی گھر گھر جاکر دین کی دعوت کو عام کرتیں، لوگ ان کا مذاق اڑاتے اور کفار مکہ نے ان پر بہت ظلم کیاکرتے، یہاں تک کہ لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔ ایمان قبول کرنے کے بعد نہ کبھی بتوں کا خیال آیا اور نہ ہی انھوں نے دنیا کے آقاؤں کی پرواہ کی۔
ایک روز دن بھر کی اذیت کے بعد شام کو گھر آئیں تو ابوجہل مل گیا، اس نے گالیاں دینا شروع کردی
اور کلمہ نہ پڑھنے کی تاکید کی تو حضرت سمیہ نے سینہ تان کر کلمہ پڑھنا شروع کر دیا اور غصے میں آ کر ابو جہل نے آپ کی ناف کے نیچے اس زور سے نیزہ مارا کہ آپ شہید ہو گئیں مگر قیامت تک کے لیے عورتوں کا سر فخر سے بلند کر گئیں۔
یہ ایک جانباز مسلمان عورت کا پہلا خون تھا جس سے خدا کی زمین رنگین ہو گئی۔
(دیکھیں الاستيعاب، الاصابہ اور جنتی زیور وغیرہ)
ہمارے اسلاف کی پوری زندگیاں قربانیوں کا مرکب ہے۔ جب بھی دین کے نام پر کسی پیاری سے پیاری چیز کو قربان کرنے کا موقع آیا وہ اس میں قعطا ہچکچاہٹ محسوس نہ فرماتے۔ قربانی کے بعد ان کی زبان پر شکوہ شکایت نہیں بلکہ الفاظ شکر ہی جاری ہوا کرتے تھے۔
ارشادے باری تعا لی ہے:
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ
کیا تم اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (یعنی حالت) نہ آئی۔
( ترجمہ کنزالایمان : پ3۔ 214)
دین کے کام میں ہمیں جب بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے خود کو تیار رکھنا چاہیے اور معاذ اللہ بوجھ اور مصیبت تصور نہیں کرنا چاۂیے۔ جو تکلیفیں ہم سے پچھلوں پر گزی اس کی بنسبت یہ کچھ نہیں اور اس کے بدلے حاصل ہونے والے فائدے بے شماراللہ نے بیان فرمائے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ
اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔
ترجمہ کنزالایمان پ: 26 ۔( محمد7 )
جناب غزل
حضرت سمیہ رضی اللہ عنھا
حضرت عمار بن یاسر کی والدہ حضرت سمیہ مکہ میں مغیرہ قبیلے کی ایک کنیز تھی۔ اسلام قبول کرنے میں ان کا ساتواں نمبر ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب اسلام قبول کرنا گویا ہر قسم کے جور و ستم کو دعوت دینا تھا اور یہ تو ویسے بھی ایک کنیز تھیں۔
جیسے ہی انھوں نے اسلام قبول کیا ان پر ظلم و تشدد کا ایک طوفان امڈ پڑا۔ کفر و شرک پر مجبور کرنے کے لیے ان کے قبیلے اور قریش نے ہر طریقے آزمائے، ہر کوشش کر کے دیکھی مگر ناکام رہے۔
سمیہ صنف نازک تھیں، اسی سال ضیعفہ ہونے کے باوجود بھی گھر گھر جاکر دین کی دعوت کو عام کرتیں، لوگ ان کا مذاق اڑاتے اور کفار مکہ نے ان پر بہت ظلم کیاکرتے، یہاں تک کہ لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔ ایمان قبول کرنے کے بعد نہ کبھی بتوں کا خیال آیا اور نہ ہی انھوں نے دنیا کے آقاؤں کی پرواہ کی۔
ایک روز دن بھر کی اذیت کے بعد شام کو گھر آئیں تو ابوجہل مل گیا، اس نے گالیاں دینا شروع کردی
اور کلمہ نہ پڑھنے کی تاکید کی تو حضرت سمیہ نے سینہ تان کر کلمہ پڑھنا شروع کر دیا اور غصے میں آ کر ابو جہل نے آپ کی ناف کے نیچے اس زور سے نیزہ مارا کہ آپ شہید ہو گئیں مگر قیامت تک کے لیے عورتوں کا سر فخر سے بلند کر گئیں۔
یہ ایک جانباز مسلمان عورت کا پہلا خون تھا جس سے خدا کی زمین رنگین ہو گئی۔
(دیکھیں الاستيعاب، الاصابہ اور جنتی زیور وغیرہ)
ہمارے اسلاف کی پوری زندگیاں قربانیوں کا مرکب ہے۔ جب بھی دین کے نام پر کسی پیاری سے پیاری چیز کو قربان کرنے کا موقع آیا وہ اس میں قعطا ہچکچاہٹ محسوس نہ فرماتے۔ قربانی کے بعد ان کی زبان پر شکوہ شکایت نہیں بلکہ الفاظ شکر ہی جاری ہوا کرتے تھے۔
ارشادے باری تعا لی ہے:
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ
کیا تم اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (یعنی حالت) نہ آئی۔
( ترجمہ کنزالایمان : پ3۔ 214)
دین کے کام میں ہمیں جب بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے خود کو تیار رکھنا چاہیے اور معاذ اللہ بوجھ اور مصیبت تصور نہیں کرنا چاۂیے۔ جو تکلیفیں ہم سے پچھلوں پر گزی اس کی بنسبت یہ کچھ نہیں اور اس کے بدلے حاصل ہونے والے فائدے بے شماراللہ نے بیان فرمائے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ
اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔
ترجمہ کنزالایمان پ: 26 ۔( محمد7 )
جناب غزل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
لکھنے والوں کے ساتھ پریشانیاں
ہم لکھتے کیوں ہیں؟
تاکہ اُسے کوئی پڑھے...،
اب ہمارے لکھے کو کوئی کیسے پڑھے گا؟
ہم اُسے عام کریں گے...،
پہلے زمانے کی بات تو الگ تھی پر آج لکھے ہوئے کو عام کرنے کا طریقہ الگ ہے جس میں وقت، مال اور کئی ساتھیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔
مثال کے طور پر کسی کے پاس کافی علمی مواد ہے جسے وہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دینا چاہتا ہے تاکہ عوام وخواص فائدہ اٹھا سکیں پر کیا یہ سوچنے جیسا ہی اتنا آسان ہے؟
اگر ایک رسالہ ہی تیار کرنا ہوا تو پہلے قلم اور کاغذ پر آغاز کرنا ہوگا پھر اُسے ٹائپ کروانا ہوگا پھر باری آتی ہے کمپوزنگ کی پھر کور ڈیزائننگ کی اور پھر ہارڈ کاپی آتے آتے ایک لمبا وقت اور کافی مال خرچ کرنا پڑتا ہے جو کہ ہر کسی کے بس کا نہیں۔
اگر صرف الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہی عام کرنا چاہے تو ایک نیٹورک، ایک پلیٹ فارم کی ضرورت پڑتی ہے جس پر سالوں محنت کرنی پڑے گی ورنہ آپ کے لکھے ہوئے کو صرف گنتی کے لوگ ہی پڑھ سکیں گے۔
دورِ حاضر میں تحریری کام بہت ضروری ہے، یہی اصل سرمایہ ہے۔
کئی موضوعات خالی پڑے ہیں یعنی اُن پر کام ہی نہیں ہو رہا، تقریر کرنے والوں کی کثرت کا عالم آپ جانتے ہیں پر لکھنے والے بہت کم ہیں اور لکھتے ہیں تو اُسے عام کرنےکے جدید ذرائع کا صحیح استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ لکھنے والوں کا ساتھ دیں
اُن کی پریشانیوں کو دور کریں اُن کی حوصلہ افزائی کریں۔
عبد مصطفٰی
ہم لکھتے کیوں ہیں؟
تاکہ اُسے کوئی پڑھے...،
اب ہمارے لکھے کو کوئی کیسے پڑھے گا؟
ہم اُسے عام کریں گے...،
پہلے زمانے کی بات تو الگ تھی پر آج لکھے ہوئے کو عام کرنے کا طریقہ الگ ہے جس میں وقت، مال اور کئی ساتھیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔
مثال کے طور پر کسی کے پاس کافی علمی مواد ہے جسے وہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دینا چاہتا ہے تاکہ عوام وخواص فائدہ اٹھا سکیں پر کیا یہ سوچنے جیسا ہی اتنا آسان ہے؟
اگر ایک رسالہ ہی تیار کرنا ہوا تو پہلے قلم اور کاغذ پر آغاز کرنا ہوگا پھر اُسے ٹائپ کروانا ہوگا پھر باری آتی ہے کمپوزنگ کی پھر کور ڈیزائننگ کی اور پھر ہارڈ کاپی آتے آتے ایک لمبا وقت اور کافی مال خرچ کرنا پڑتا ہے جو کہ ہر کسی کے بس کا نہیں۔
اگر صرف الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہی عام کرنا چاہے تو ایک نیٹورک، ایک پلیٹ فارم کی ضرورت پڑتی ہے جس پر سالوں محنت کرنی پڑے گی ورنہ آپ کے لکھے ہوئے کو صرف گنتی کے لوگ ہی پڑھ سکیں گے۔
دورِ حاضر میں تحریری کام بہت ضروری ہے، یہی اصل سرمایہ ہے۔
کئی موضوعات خالی پڑے ہیں یعنی اُن پر کام ہی نہیں ہو رہا، تقریر کرنے والوں کی کثرت کا عالم آپ جانتے ہیں پر لکھنے والے بہت کم ہیں اور لکھتے ہیں تو اُسے عام کرنےکے جدید ذرائع کا صحیح استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ لکھنے والوں کا ساتھ دیں
اُن کی پریشانیوں کو دور کریں اُن کی حوصلہ افزائی کریں۔
عبد مصطفٰی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق (پارٹ 14) حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک حضرت ایوب علیہ السلام اپنی بیماری میں 18 سال مبتلا رہے، اُنکے بھائیوں میں سے دو شخصوں کے…
حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق (15)
پانی میں نہانے سے بیماری دور ہوگئی اور آپ پہلے سے بہت صحت مند اور حسین ہو گئے۔
ان کی بیوی انہیں ڈھونڈھتی ہوئی آئی اور دیکھ کر کہا اے شخص اللہ تمہیں برکت دے کیا تم نے اللہ کے نبی کو دیکھا ہے جو بیمار تھے، اللہ کی قسم میں نے تم سے زیادہ ان کے مشابہ اور تندرست شخص کوئی نہیں دیکھا۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا: میں ہی ہوں۔
حضرت ایوب علیہ السلام کے دو کھلیان تھے ایک گندم کا کھلیان تھا اور ایک جو کا کھلیان تھا اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے، ایک بادل گندم کے کھلیان پر اس قدر برسا کے سونے سے بھر دیا اور دوسرے بادل نے ایک کھلیان کو چاندی سے بھر دیا۔
(صحیح ابن حبان، رقم2898،
مسند البزار، رقم م2358،
حلیۃ الاولیاء، ج3، ص374،
مسند ابو یعلی، رقم3617،
المعجم الکبیر، رقم40،
المستدرک، ج2، ص582)
امام حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور امام ذہبی نے بھی موافقت کی
حافظ ہیثمی نے کہا کہ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے اور امام بزار نے روایت کیا ہے اور امام بزار کی سند صحیح ہے۔
(مجمع الزوائد، ج8، ص208)
جاری ہے........
عبد مصطفیٰ آفیشل
پانی میں نہانے سے بیماری دور ہوگئی اور آپ پہلے سے بہت صحت مند اور حسین ہو گئے۔
ان کی بیوی انہیں ڈھونڈھتی ہوئی آئی اور دیکھ کر کہا اے شخص اللہ تمہیں برکت دے کیا تم نے اللہ کے نبی کو دیکھا ہے جو بیمار تھے، اللہ کی قسم میں نے تم سے زیادہ ان کے مشابہ اور تندرست شخص کوئی نہیں دیکھا۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا: میں ہی ہوں۔
حضرت ایوب علیہ السلام کے دو کھلیان تھے ایک گندم کا کھلیان تھا اور ایک جو کا کھلیان تھا اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے، ایک بادل گندم کے کھلیان پر اس قدر برسا کے سونے سے بھر دیا اور دوسرے بادل نے ایک کھلیان کو چاندی سے بھر دیا۔
(صحیح ابن حبان، رقم2898،
مسند البزار، رقم م2358،
حلیۃ الاولیاء، ج3، ص374،
مسند ابو یعلی، رقم3617،
المعجم الکبیر، رقم40،
المستدرک، ج2، ص582)
امام حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور امام ذہبی نے بھی موافقت کی
حافظ ہیثمی نے کہا کہ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے اور امام بزار نے روایت کیا ہے اور امام بزار کی سند صحیح ہے۔
(مجمع الزوائد، ج8، ص208)
جاری ہے........
عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
سوچ بدلو.....زندگی بدلو.....
میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔ جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی۔ اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا۔ اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔ اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔
اس نے ایک خوبصورت کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا ’سر جب تک میں آپ کا سامان ڈگی میں رکھوں، آپ میرا مشن سٹیٹ منٹ پڑھ لیں۔ میں نے آنکھیں موچ لیں۔ یہ کیا ہے؟‘ میرا نام سائیں ہے، آپ کا ڈرائیور۔ میرا مشن ہے کہ مسافروں کو سب سے مختصر، محفوظ اور سستے رستے سے ان کی منزل تک پہنچاؤں اور ان کو مناسب ماحول فراہم کروں ’۔ میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ میں نے آس پاس دیکھا تو ٹیکسی کا اندر بھی اتنا ہی صاف تھا جتنا کہ وہ باہر سے جگمگا رہی تھی۔
اس دوران وہ سٹئرنگ ویل پر بیٹھ چکا تھا۔ ’سر آپ کافی یا چائے پینا چاہیں گے۔ آپ کے ساتھ ہی دو تھرماس پڑے ہوئے ہیں جن میں چائے اور کافی موجود ہے‘ ۔ میں نے مذاق میں کہا کہ نہیں میں تو کوئی کولڈ ڈرنک پیوں گا۔ وہ بولا ’سر کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے پاس آگے کولر پڑا ہوا ہے۔ اس میں کوک، لسی، پانی اور اورنج جوس ہے۔ آپ کیا لینا چاہیں گے؟‘ میں نے لسی کا مطالبہ کیا اور اس نے آگے سے ڈبہ پکڑا دیا۔ میں نے ابھی اسے منہ بھی نہیں لگایا تھا کہ اس نے کہا ’سر اگر آپ کچھ پڑھنا چاہیں تو میرے پاس اردو اور انگریزی کے اخبار موجود ہیں‘ ۔
اگلے سگنل پر گاڑی رکی تو سائیں نے ایک اور کارڈ مجھے پکڑا دیا کہ اس میں وہ تمام ایف ایم سٹیشن ہیں جو میری گاڑی کے ریڈیو پر لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں وہ تمام البم بھی ہیں جن کی سی ڈی میرے پاس ہے۔ اگر آپ کو موسیقی سے شوق ہے تو میں لگا سکتا ہوں۔ اور جیسے یہ سب کچھ کافی نہیں تھا، اس نے کہا کہ ’سر میں نے ائر کنڈیشنر لگا دیا ہے۔ آپ بتائیے گا کہ ٹمپریچر زیادہ یا کم ہو تو آپ کی مرضی کے مطابق کردوں‘ ۔
اس کے ساتھ ہی اس نے رستے کے بارے میں بتا دیا کہ اس وقت کس رستے پر سے وہ گزرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ اس وقت وہاں رش نہیں ہوتا۔ پھر بڑی پتے کی بات پوچھی ’سر اگر آپ چاہیں تو رستے سے گزرتے ہوئے میں آپ کو اس علاقے کے بارے میں بھی بتا سکتا ہوں۔ اور اگر آپ چاہیں تو آپ اپنی سوچوں میں گم رہ سکتے ہیں‘ وہ شیشے میں دیکھ کر مسکرایا۔
میں نے پوچھا ’سائیں، کیا تم ہمیشہ سے ایسے ہی ٹیکسی چلاتے رہے ہو؟‘ اس کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ آئی۔ ’نہیں سر، یہ کچھ دو سال سے میں نے ایسا شروع کیا ہے۔ اس سے پانچ سال قبل میں بھی اسی طرح کڑھتا تھا جیسے کہ دوسرے ٹیکسی والے کڑھتے ہیں۔ میں بھی اپنا سارا وقت شکایتیں کرتے گزارا کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک دن کسی سے سنا کہ سوچ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ یہ سوچ کی طاقت ہوتی ہے کہ آپ بطخ بننا پسند کریں گے کہ عقاب۔ اگر آپ گھر سے مسائل کی توقع کرکے نکلیں گے تو آپ کا سارا دن برا ہی گزرے گا۔ بطخ کی طرح ہر وقت کی ٹیں ٹیں سے کوئی فائدہ نہیں، عقاب کی طرح بلندی پر اڑو تو سارے جہاں سے مختلف لگو گے۔ یہ بات میرے دماغ کو تیر کی طرح لگی اور اس نے میری زندگی بدل دی۔
’میں نے سوچا یہ تو میری زندگی ہے۔ میں ہر وقت شکایتوں کا انبار لئے ہوتا تھا اور بطخ کی طرح سے ٹیں ٹیں کرتا رہتا تھا۔ بس میں نے عقاب بننے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو تمام ٹیکسیاں گندی دیکھیں۔ ان کے ڈرائیور گندے کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ ہر وقت شکایتیں کرتے رہتے تھے اور مسافروں کے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے۔ ان کے مسافر بھی ان سے بے زار ہوتے تھے۔ کوئی بھی خوش نہیں ہوتا تھا۔ بس میں نے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے میں نے چند تبدیلیاں کیں۔ گاڑی صاف رکھنی شروع کی اور اپنے لباس پر توجہ دی۔ جب گاہکوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی تو میں نے مزید بہتری کی۔ اور اب بھی بہتری کی تلاش ہے۔‘
میں نے اپنی دلچسپی کے لئے پوچھا کہ کیا اس سے تمہاری آمدنی پر کوئی فرق پڑا
’سر بڑا فرق پڑا۔ پہلے سال تو میری انکم ڈبل ہوگئی اور اس سال لگتا ہے چار گنا بڑھ جائے گی۔ اب میرے گاہک مجھے فون پر بک کرتے ہیں یا ایس ایم ایس کرکے وقت طے کرلیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے ایک اور ٹیکسی خریدنی پڑے گی اور اپنے جیسے کسی بندے کو اس پر لگانا پڑے گا۔‘
یہ سائیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے۔
کیا خیال ہے، اس ہفتے سے عقاب کا سفر نہ شروع کیا جائے؟ سائیں نے مجھے ایک نیا فلسفہ دیا۔
سوچ بدلو ۔ زندگی بدلو ۔
وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ کوئی بھی پانی میں گرنے سے نہیں مرتا۔مرتا وہ اس وقت ہے جب وہ اس مشکل سے نکلنے کے لیۓ ہاتھ پاؤں نہیں مارتا ہے.....
میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔ جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی۔ اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا۔ اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔ اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔
اس نے ایک خوبصورت کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا ’سر جب تک میں آپ کا سامان ڈگی میں رکھوں، آپ میرا مشن سٹیٹ منٹ پڑھ لیں۔ میں نے آنکھیں موچ لیں۔ یہ کیا ہے؟‘ میرا نام سائیں ہے، آپ کا ڈرائیور۔ میرا مشن ہے کہ مسافروں کو سب سے مختصر، محفوظ اور سستے رستے سے ان کی منزل تک پہنچاؤں اور ان کو مناسب ماحول فراہم کروں ’۔ میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ میں نے آس پاس دیکھا تو ٹیکسی کا اندر بھی اتنا ہی صاف تھا جتنا کہ وہ باہر سے جگمگا رہی تھی۔
اس دوران وہ سٹئرنگ ویل پر بیٹھ چکا تھا۔ ’سر آپ کافی یا چائے پینا چاہیں گے۔ آپ کے ساتھ ہی دو تھرماس پڑے ہوئے ہیں جن میں چائے اور کافی موجود ہے‘ ۔ میں نے مذاق میں کہا کہ نہیں میں تو کوئی کولڈ ڈرنک پیوں گا۔ وہ بولا ’سر کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے پاس آگے کولر پڑا ہوا ہے۔ اس میں کوک، لسی، پانی اور اورنج جوس ہے۔ آپ کیا لینا چاہیں گے؟‘ میں نے لسی کا مطالبہ کیا اور اس نے آگے سے ڈبہ پکڑا دیا۔ میں نے ابھی اسے منہ بھی نہیں لگایا تھا کہ اس نے کہا ’سر اگر آپ کچھ پڑھنا چاہیں تو میرے پاس اردو اور انگریزی کے اخبار موجود ہیں‘ ۔
اگلے سگنل پر گاڑی رکی تو سائیں نے ایک اور کارڈ مجھے پکڑا دیا کہ اس میں وہ تمام ایف ایم سٹیشن ہیں جو میری گاڑی کے ریڈیو پر لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں وہ تمام البم بھی ہیں جن کی سی ڈی میرے پاس ہے۔ اگر آپ کو موسیقی سے شوق ہے تو میں لگا سکتا ہوں۔ اور جیسے یہ سب کچھ کافی نہیں تھا، اس نے کہا کہ ’سر میں نے ائر کنڈیشنر لگا دیا ہے۔ آپ بتائیے گا کہ ٹمپریچر زیادہ یا کم ہو تو آپ کی مرضی کے مطابق کردوں‘ ۔
اس کے ساتھ ہی اس نے رستے کے بارے میں بتا دیا کہ اس وقت کس رستے پر سے وہ گزرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ اس وقت وہاں رش نہیں ہوتا۔ پھر بڑی پتے کی بات پوچھی ’سر اگر آپ چاہیں تو رستے سے گزرتے ہوئے میں آپ کو اس علاقے کے بارے میں بھی بتا سکتا ہوں۔ اور اگر آپ چاہیں تو آپ اپنی سوچوں میں گم رہ سکتے ہیں‘ وہ شیشے میں دیکھ کر مسکرایا۔
میں نے پوچھا ’سائیں، کیا تم ہمیشہ سے ایسے ہی ٹیکسی چلاتے رہے ہو؟‘ اس کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ آئی۔ ’نہیں سر، یہ کچھ دو سال سے میں نے ایسا شروع کیا ہے۔ اس سے پانچ سال قبل میں بھی اسی طرح کڑھتا تھا جیسے کہ دوسرے ٹیکسی والے کڑھتے ہیں۔ میں بھی اپنا سارا وقت شکایتیں کرتے گزارا کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک دن کسی سے سنا کہ سوچ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ یہ سوچ کی طاقت ہوتی ہے کہ آپ بطخ بننا پسند کریں گے کہ عقاب۔ اگر آپ گھر سے مسائل کی توقع کرکے نکلیں گے تو آپ کا سارا دن برا ہی گزرے گا۔ بطخ کی طرح ہر وقت کی ٹیں ٹیں سے کوئی فائدہ نہیں، عقاب کی طرح بلندی پر اڑو تو سارے جہاں سے مختلف لگو گے۔ یہ بات میرے دماغ کو تیر کی طرح لگی اور اس نے میری زندگی بدل دی۔
’میں نے سوچا یہ تو میری زندگی ہے۔ میں ہر وقت شکایتوں کا انبار لئے ہوتا تھا اور بطخ کی طرح سے ٹیں ٹیں کرتا رہتا تھا۔ بس میں نے عقاب بننے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو تمام ٹیکسیاں گندی دیکھیں۔ ان کے ڈرائیور گندے کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ ہر وقت شکایتیں کرتے رہتے تھے اور مسافروں کے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے۔ ان کے مسافر بھی ان سے بے زار ہوتے تھے۔ کوئی بھی خوش نہیں ہوتا تھا۔ بس میں نے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے میں نے چند تبدیلیاں کیں۔ گاڑی صاف رکھنی شروع کی اور اپنے لباس پر توجہ دی۔ جب گاہکوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی تو میں نے مزید بہتری کی۔ اور اب بھی بہتری کی تلاش ہے۔‘
میں نے اپنی دلچسپی کے لئے پوچھا کہ کیا اس سے تمہاری آمدنی پر کوئی فرق پڑا
’سر بڑا فرق پڑا۔ پہلے سال تو میری انکم ڈبل ہوگئی اور اس سال لگتا ہے چار گنا بڑھ جائے گی۔ اب میرے گاہک مجھے فون پر بک کرتے ہیں یا ایس ایم ایس کرکے وقت طے کرلیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے ایک اور ٹیکسی خریدنی پڑے گی اور اپنے جیسے کسی بندے کو اس پر لگانا پڑے گا۔‘
یہ سائیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے۔
کیا خیال ہے، اس ہفتے سے عقاب کا سفر نہ شروع کیا جائے؟ سائیں نے مجھے ایک نیا فلسفہ دیا۔
سوچ بدلو ۔ زندگی بدلو ۔
وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ کوئی بھی پانی میں گرنے سے نہیں مرتا۔مرتا وہ اس وقت ہے جب وہ اس مشکل سے نکلنے کے لیۓ ہاتھ پاؤں نہیں مارتا ہے.....
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
سیرتِ رسول ﷺ کا اہم باب
*"آمدِ بہار"*
مطالعہ کیجئے... احباب کو ترغیبِ مطالعہ دیجئے...
ذکرِ رسول ﷺ کی خوشبو سے گُلشنِ حیات میں بہاریں ہیں... ان کی یاد خوشبو... ان کا اخلاق خوشبو...ان کا تصور خوشبو... سیرت کا ہر باب خوشبو... ہر عنوان مُشک بو... ایمان و عقیدے کی بزم میں انھیں کے رُخِ انور کی روشنی ہے...
نامِ نامی محمد ﷺ کی تجلیاں پوری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں... آمد آمد کا چرچا ہوا... بزمِ انبیاء کرام علیہم السلام میں... بزمِ ملائکہ میں... وفاداری کا عہد لیا گیا... محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا... میلاد منایا گیا... کتاب و سُنّت میں کئی درخشاں ابواب موجود ہیں... ایمانی بصیرت سے دیکھیں تو دل و نگاہ جگمگائیں گے...
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کے خامۂ زرنگار سے محبت و عقیدت کے پاکیزہ نقوش "آمدِ بہار" ملاحظہ فرمائیں... نوری مشن مالیگاؤں سے مطبوع بہاروں کا گلشن تازہ ہے... سطر سطر سے محبتوں کی شمع روشن ہوتی ہے... اور حرف حرف ایمان کی تب و تاب میں اضافہ کرتا ہے... مطالعۂ سیرت کا دل نشیں اسلوب مشاہدہ ہوتا ہے... آپ بھی ذکرِ محبوب ﷺ کی بزمِ مطالعہ میں مؤدب ہو جائیے... ان شاء اللہ! نصیبہ چمک اُٹھے گا... ذکرِ میلادِ رسول ﷺ کی برکتوں سے قندیلِ حیات فروزاں ہوگی...
اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اسی سے ہے؛ جان کی وہ ہی جان ہے
(اعلیٰ حضرت)
٭٭٭
نقوشِ قلم: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
٢٣ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4516378305104127/
*"آمدِ بہار"*
مطالعہ کیجئے... احباب کو ترغیبِ مطالعہ دیجئے...
ذکرِ رسول ﷺ کی خوشبو سے گُلشنِ حیات میں بہاریں ہیں... ان کی یاد خوشبو... ان کا اخلاق خوشبو...ان کا تصور خوشبو... سیرت کا ہر باب خوشبو... ہر عنوان مُشک بو... ایمان و عقیدے کی بزم میں انھیں کے رُخِ انور کی روشنی ہے...
نامِ نامی محمد ﷺ کی تجلیاں پوری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں... آمد آمد کا چرچا ہوا... بزمِ انبیاء کرام علیہم السلام میں... بزمِ ملائکہ میں... وفاداری کا عہد لیا گیا... محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا... میلاد منایا گیا... کتاب و سُنّت میں کئی درخشاں ابواب موجود ہیں... ایمانی بصیرت سے دیکھیں تو دل و نگاہ جگمگائیں گے...
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کے خامۂ زرنگار سے محبت و عقیدت کے پاکیزہ نقوش "آمدِ بہار" ملاحظہ فرمائیں... نوری مشن مالیگاؤں سے مطبوع بہاروں کا گلشن تازہ ہے... سطر سطر سے محبتوں کی شمع روشن ہوتی ہے... اور حرف حرف ایمان کی تب و تاب میں اضافہ کرتا ہے... مطالعۂ سیرت کا دل نشیں اسلوب مشاہدہ ہوتا ہے... آپ بھی ذکرِ محبوب ﷺ کی بزمِ مطالعہ میں مؤدب ہو جائیے... ان شاء اللہ! نصیبہ چمک اُٹھے گا... ذکرِ میلادِ رسول ﷺ کی برکتوں سے قندیلِ حیات فروزاں ہوگی...
اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اسی سے ہے؛ جان کی وہ ہی جان ہے
(اعلیٰ حضرت)
٭٭٭
نقوشِ قلم: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
٢٣ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4516378305104127/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جشن عید میلاد النبی ﷺ مبارک
جشن عید میلاد النبی کا مفہوم
عید کے لغوی معنیٰ خوشی منانا
عید کے لغوی و عرفی معنیٰ قرآن
عید کے لغوی معنیٰ حدیث میں!
خوشی نہ منانے کا ذکر کہیں نہیں
حضور نے جمعہ کو عید کا دن کہا
کل امت مسلمہ منکرین میلاد کے
میلاد مصطفیٰ ﷺ قرآن کے آئینے
اللہ کے فضل و رحمت پر خوشیاں
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #میلاد_النبی ﷺ 📜 1
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
جشن عید میلاد النبی کا مفہوم
عید کے لغوی معنیٰ خوشی منانا
عید کے لغوی و عرفی معنیٰ قرآن
عید کے لغوی معنیٰ حدیث میں!
خوشی نہ منانے کا ذکر کہیں نہیں
حضور نے جمعہ کو عید کا دن کہا
کل امت مسلمہ منکرین میلاد کے
میلاد مصطفیٰ ﷺ قرآن کے آئینے
اللہ کے فضل و رحمت پر خوشیاں
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #میلاد_النبی ﷺ 📜 1
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی