Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*ماہِ نو طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا*
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
بزمِ انسانیت سونی سونی تھی…قبائے انسانی تار تار تھی…بچیاں منحوس جانی جاتی تھیں…عفتوں کے سوداگر ہر سٗو تھے…عصمتیں سرِ بازار رُسوا تھیں…جبیں! معبودانِ باطلہ کے آگے خم تھی… معبودِ حقیقی سے منحرف تھی... لوگ بُرائیوں کے اسیر تھے…جوا عام تھا…سودی لین دین معمول تھا…غرض! ہر ایک بُرائی مقبول تھی…سچائی عنقا تھی… نفرتیں معاشرے میں پنپ رہی تھیں... غرض منفی اثرات نے سچ کو دھندلا دیا تھا اور صداقتوں کی شام ڈوب کر رہ گئی تھی...
١٢ ربیع الاول کو صبحِ اُمید طلوع ہوئی... وہ آئے جن کی بشارتیں انبیاء کرام علیہم السلام نے دی تھیں... جن کا انتظار تھا... وادیاں جن کے لیے بے تاب تھیں... حرا کی ساعتیں منتظر تھیں... جبلِ نور دید کا متلاشی تھا... کوہِ فاراں قدم بوسی کو بے تاب تھا...اہلِ صفا دیدار کے منتظر تھے... وادیِ عقیق توشۂ قلبی پیش کرنے بے چین تھی... ثور سراپا مشتاق تھا...بدر کی نگاہیں سوئے حرم ٹکی تھیں... ذرّہ ہاے عریش طالبِ جمالِ جہاں آرا تھے... اُحد کا داماں بے تاب تھا... بقول رضا بریلوی:
جس کے جلوؤں سے احد ہے تاباں؛ معدنِ نور ہے اس کا داماں
ہم بھی اس چاند پہ ہو کر قرباں؛ دلِ سنگیں کی جِلا کرتے ہیں
رسول اللہ ﷺ آئے... اس شان سے کہ جہان کی قسمت بدل گئی... جانِ نعمت آگئے... قرارِ دلِ مضطر آ گئے... رحمتوں کی صبح طلوع ہوئی... تابش ماہِ عرب ﷺ سے پوری کائنات روشن روشن ہو گئی... فضا پاکیزہ ہو گئی... انسانیت کا سویرا ہوا... توحید کا نور پھیل گیا... حضور پُر نور ﷺ آ گئے... جن سے انبیاء کرام علیہم السلام روشنی لیتے رہے... حضرت بوصیری علیہ الرحمۃ مدح سرا ہوتے ہیں:
فَاِنَّہٗ شَمْسُ فَضْلٍ ھُمْ کَوَاکِبُھَا
یُظْھِرْنَ اَنْوَارَھَا لِلنَّاسِ فِي الظُّلَمٖ
ترجمہ: کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آفتابِ فضل و کمال ہیں... اور انبیاے کرام ستارے... جو اسی آفتاب کی روشنی انسانوں کو تاریکیوں میں دکھاتے رہے ہیں...
ہم غلاموں کو روشنی لینی چاہیے... آمد آمد کی برکتوں سے معاشرے کو زینت دینی چاہیے...
(١) ١٢ ربیع الاول آمدِ محبوب ﷺ کی مبارک گھڑی ہے... اسلامی طریقے سے اس ساعت کی یاد تازہ کیجئے...
(٢) کوچہ و دَر روشن کیجئے... تا کہ دُنیا و آخرت روشن ہوں...
(٣) محبوب پاک ﷺ کی آمد انسانیت کی حیات کی صبحِ تازہ ہے؛ جور و ستم سے آزادی کی صبح تعمیر کیجئے...
(٤) یتیموں سے شفقت اور غریبوں سے مروت کا مبارک جذبہ بیدار کریں... تا کہ سُنتوں سے رغبت پیدا ہو...
(٥) ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے قوت بن کر اُبھرئیے... گستاخ کو عبرتناک انجام سے دوچار کیجئے...
(٦) غریبوں کی داد رسی اور مظلوموں کی فریاد رسی کو معمول بنا لیں...
(٧) صبح میلاد النبی ﷺ کے صدقے اسلامی زندگی گزارنے کا عزم کریں...
(٨) بھوکوں کو کھانا کھلائیں اور گھروں میں چراغاں کریں... بیماروں کی دَوا کریں...
(٩) خوشی و مسرت کے چراغ طاق دل پر فروزاں کریں اور نمازوں کی پابندی معمول بنائیں...
(١٠) سیرت پر کتابیں مطالعہ کریں... بالخصوص علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی کی تحریر "سیرت مصطفیٰﷺ" ہر فرد مطالعہ سے گزارے...
(١١) گھروں میں محافل ذکرِ رسول ﷺ سجائیں...
(١٢) گھروں، وادیوں اور مسجدوں میں درود پاک کی محفلیں منعقد کریں... اور بصد احترام سلام باقیام پیش کر کے ادب کی بزم میں احترام کے ہزاروں چراغ روشن کر دیں...
رسول اللہ ﷺ سراپا رحمت ہیں... برکتیں طلوع ہوتی ہیں... جہاں مہک اٹھتا ہے... آپ بھی محبتوں کی شمیم سے سیرابی کیجئے...اور والہانہ نغمے گنگنائیے:
صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا
باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا
مست بُو ہیں بُلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا
بھیک لے سرکار سے لا جلد کاسہ نور کا
ماہِ نو طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا
٭٭٭
٢١ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4507871125954845/
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
بزمِ انسانیت سونی سونی تھی…قبائے انسانی تار تار تھی…بچیاں منحوس جانی جاتی تھیں…عفتوں کے سوداگر ہر سٗو تھے…عصمتیں سرِ بازار رُسوا تھیں…جبیں! معبودانِ باطلہ کے آگے خم تھی… معبودِ حقیقی سے منحرف تھی... لوگ بُرائیوں کے اسیر تھے…جوا عام تھا…سودی لین دین معمول تھا…غرض! ہر ایک بُرائی مقبول تھی…سچائی عنقا تھی… نفرتیں معاشرے میں پنپ رہی تھیں... غرض منفی اثرات نے سچ کو دھندلا دیا تھا اور صداقتوں کی شام ڈوب کر رہ گئی تھی...
١٢ ربیع الاول کو صبحِ اُمید طلوع ہوئی... وہ آئے جن کی بشارتیں انبیاء کرام علیہم السلام نے دی تھیں... جن کا انتظار تھا... وادیاں جن کے لیے بے تاب تھیں... حرا کی ساعتیں منتظر تھیں... جبلِ نور دید کا متلاشی تھا... کوہِ فاراں قدم بوسی کو بے تاب تھا...اہلِ صفا دیدار کے منتظر تھے... وادیِ عقیق توشۂ قلبی پیش کرنے بے چین تھی... ثور سراپا مشتاق تھا...بدر کی نگاہیں سوئے حرم ٹکی تھیں... ذرّہ ہاے عریش طالبِ جمالِ جہاں آرا تھے... اُحد کا داماں بے تاب تھا... بقول رضا بریلوی:
جس کے جلوؤں سے احد ہے تاباں؛ معدنِ نور ہے اس کا داماں
ہم بھی اس چاند پہ ہو کر قرباں؛ دلِ سنگیں کی جِلا کرتے ہیں
رسول اللہ ﷺ آئے... اس شان سے کہ جہان کی قسمت بدل گئی... جانِ نعمت آگئے... قرارِ دلِ مضطر آ گئے... رحمتوں کی صبح طلوع ہوئی... تابش ماہِ عرب ﷺ سے پوری کائنات روشن روشن ہو گئی... فضا پاکیزہ ہو گئی... انسانیت کا سویرا ہوا... توحید کا نور پھیل گیا... حضور پُر نور ﷺ آ گئے... جن سے انبیاء کرام علیہم السلام روشنی لیتے رہے... حضرت بوصیری علیہ الرحمۃ مدح سرا ہوتے ہیں:
فَاِنَّہٗ شَمْسُ فَضْلٍ ھُمْ کَوَاکِبُھَا
یُظْھِرْنَ اَنْوَارَھَا لِلنَّاسِ فِي الظُّلَمٖ
ترجمہ: کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آفتابِ فضل و کمال ہیں... اور انبیاے کرام ستارے... جو اسی آفتاب کی روشنی انسانوں کو تاریکیوں میں دکھاتے رہے ہیں...
ہم غلاموں کو روشنی لینی چاہیے... آمد آمد کی برکتوں سے معاشرے کو زینت دینی چاہیے...
(١) ١٢ ربیع الاول آمدِ محبوب ﷺ کی مبارک گھڑی ہے... اسلامی طریقے سے اس ساعت کی یاد تازہ کیجئے...
(٢) کوچہ و دَر روشن کیجئے... تا کہ دُنیا و آخرت روشن ہوں...
(٣) محبوب پاک ﷺ کی آمد انسانیت کی حیات کی صبحِ تازہ ہے؛ جور و ستم سے آزادی کی صبح تعمیر کیجئے...
(٤) یتیموں سے شفقت اور غریبوں سے مروت کا مبارک جذبہ بیدار کریں... تا کہ سُنتوں سے رغبت پیدا ہو...
(٥) ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے قوت بن کر اُبھرئیے... گستاخ کو عبرتناک انجام سے دوچار کیجئے...
(٦) غریبوں کی داد رسی اور مظلوموں کی فریاد رسی کو معمول بنا لیں...
(٧) صبح میلاد النبی ﷺ کے صدقے اسلامی زندگی گزارنے کا عزم کریں...
(٨) بھوکوں کو کھانا کھلائیں اور گھروں میں چراغاں کریں... بیماروں کی دَوا کریں...
(٩) خوشی و مسرت کے چراغ طاق دل پر فروزاں کریں اور نمازوں کی پابندی معمول بنائیں...
(١٠) سیرت پر کتابیں مطالعہ کریں... بالخصوص علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی کی تحریر "سیرت مصطفیٰﷺ" ہر فرد مطالعہ سے گزارے...
(١١) گھروں میں محافل ذکرِ رسول ﷺ سجائیں...
(١٢) گھروں، وادیوں اور مسجدوں میں درود پاک کی محفلیں منعقد کریں... اور بصد احترام سلام باقیام پیش کر کے ادب کی بزم میں احترام کے ہزاروں چراغ روشن کر دیں...
رسول اللہ ﷺ سراپا رحمت ہیں... برکتیں طلوع ہوتی ہیں... جہاں مہک اٹھتا ہے... آپ بھی محبتوں کی شمیم سے سیرابی کیجئے...اور والہانہ نغمے گنگنائیے:
صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا
باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا
مست بُو ہیں بُلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا
بھیک لے سرکار سے لا جلد کاسہ نور کا
ماہِ نو طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا
٭٭٭
٢١ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4507871125954845/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حافظ محمد قمرالدین رضوی رخصت ہوئے
اشاعتی دنیا میں اہل سنت کی اعلی خدمت انجام دینے حافظ محمد قمرالدین رضوی مالک رضوی کتاب گھر دنیا سے رخصت ہوئے.
انا للہ و انا الیہ راجعون
مرحوم ایک صاف دل، متواضع اور بااخلاق شخصیت تھے۔صوم وصلواۃ کے پابند، علما سے محبت فرمانے والے تھے۔اشاعتی دنیا میں ان کی بڑی خدمات رہی ہیں ماہنامہ کنزالایمان کی شکل میں اہل سنت کی صحافتی روایت کو پچھلے 20/25 سال سے بخوبی نبھاتے چلے آرہے تھے۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل آخری ملاقات ہوئی تھی آج وہ سب کچھ چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے
اللہ تعالیٰ مرحوم کی بلا حساب مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
اہل خانہ کے غم میں شریک
غلام مصطفےٰ نعیمی
3 ربیع الاول 1442ھ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3383004298483644&id=100003223204679
اشاعتی دنیا میں اہل سنت کی اعلی خدمت انجام دینے حافظ محمد قمرالدین رضوی مالک رضوی کتاب گھر دنیا سے رخصت ہوئے.
انا للہ و انا الیہ راجعون
مرحوم ایک صاف دل، متواضع اور بااخلاق شخصیت تھے۔صوم وصلواۃ کے پابند، علما سے محبت فرمانے والے تھے۔اشاعتی دنیا میں ان کی بڑی خدمات رہی ہیں ماہنامہ کنزالایمان کی شکل میں اہل سنت کی صحافتی روایت کو پچھلے 20/25 سال سے بخوبی نبھاتے چلے آرہے تھے۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل آخری ملاقات ہوئی تھی آج وہ سب کچھ چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے
اللہ تعالیٰ مرحوم کی بلا حساب مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
اہل خانہ کے غم میں شریک
غلام مصطفےٰ نعیمی
3 ربیع الاول 1442ھ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3383004298483644&id=100003223204679
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک وہابی صاحب کہنے لگے
کہ تاریخ و دن و وقت معین کرکے.کسی.امر
کا بجا لانا بدعت و.ناجائز ہے
ہم نے کہا پھر تو اپ کے نکاح کا
کارڈ یوں چھپتا ہوگا
"کسی نہ کسی دن
کسی نہ کسی وقت
کسی نہ کسی ساعت
تشریف لے آئیے گا
کسی نہ کسی دن
کسی نہ کسی وقت
مجھ چمار سے زیادہ زلیل کا نکاح ہوگا
آپکے شرکت کے متمنی
*فلاں نجدی بن فلاں نجدی"
یا پھر نماز کا اعلان یوں ھوتا ھوگا
فجر کی نماز
کسی بھی وقت طلوع فجر سے قبل ادا کی جائے گی
ظہر کی نماز
نماز سے عصر قبل کسی نہ کسی وقت کسی نہ کسی ساعت ادا کی جائے گی
اسی طرح عصر کی نماز بعدِظہر کسی بھی لمحے کسی بھی گھڑی پڑھائی جائے گی
اور مغرب کی نماز عشاء سے پہلے کسی نا کسی. وقت کسی نا کسی گھڑی پڑھائی جاوے گی اور عشاء کا تو آپکو معلوم ہے کہ فجر سے پہلے پہلے ادا کی جاوے گی آپ جماعت کے وقت مسجد میں تشریف لے آئیں چونکہ دن تاریخ وقت مقرر کرنا بدعت ہے اس لئے ٹائم کی کوئ تخصیص نھیں
وہ وہابی تلملا.کر بولے
اس میں.عوام کے لئے سہولت ہے
ہم.نے کہا
تیجہ دسواں چالیسواں برسی شب.برات و معراج و.عید میلاد میں بھی عوام کی.سہولت
ہے
اصل میں ان نجدیوں کو ایصال ثواب گیارہویں بارہویں شب معراج شب براءت عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چڑ ہے
تبھی ان امور کو مقرر کرکے منانے کو بدعت کہتے ہیں ان خبیث شیطان پرستوں کو امت مسلمہ کی کوئی نیکی دیکھی نہیں جاتی
اورجب اپنی پر ائے تو جو یہ کام مقرر کرے کرتے ہیں وہ سب جائز کیسے ھوجاتے ہیں
آئندہ سارے نجدی اپنے باپ کے جنازے کا اعلان کس طرح کریں یہ بھی ملاحظہ ہو
حضرات ایک اعلان ضروری سماعت فرمائیں
میرا ابا مر کے مٹی ہوگیا ہے
جسکو کسی بھی وقت
کسی بھی دن
کسی بھی ساعت
کسی بھی جگہ
قبر میں ڈالا جائے گا
یاد رہے قبر میں ڈالنے سے پہلے
کسی بھی وقت
کہیں بھی
کسی بھی ساعت
مجبوراً نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی
سہولت کے لیے ابھی سے قبرستان کے گورکن سے نمبر لے لو جب ہمارا موڈ بنا ہم مردے کو قبر میں پھینک آئیں گے وہ مر کے مٹی تو ویسے ہی ہو چکا ہے
جنازے میں شریک ہوکر ثواب دارین حاصل کریں
نقاب کشائی : لئیق احمد دانش
😊😊😊😊😊😊😊😊😊
کہ تاریخ و دن و وقت معین کرکے.کسی.امر
کا بجا لانا بدعت و.ناجائز ہے
ہم نے کہا پھر تو اپ کے نکاح کا
کارڈ یوں چھپتا ہوگا
"کسی نہ کسی دن
کسی نہ کسی وقت
کسی نہ کسی ساعت
تشریف لے آئیے گا
کسی نہ کسی دن
کسی نہ کسی وقت
مجھ چمار سے زیادہ زلیل کا نکاح ہوگا
آپکے شرکت کے متمنی
*فلاں نجدی بن فلاں نجدی"
یا پھر نماز کا اعلان یوں ھوتا ھوگا
فجر کی نماز
کسی بھی وقت طلوع فجر سے قبل ادا کی جائے گی
ظہر کی نماز
نماز سے عصر قبل کسی نہ کسی وقت کسی نہ کسی ساعت ادا کی جائے گی
اسی طرح عصر کی نماز بعدِظہر کسی بھی لمحے کسی بھی گھڑی پڑھائی جائے گی
اور مغرب کی نماز عشاء سے پہلے کسی نا کسی. وقت کسی نا کسی گھڑی پڑھائی جاوے گی اور عشاء کا تو آپکو معلوم ہے کہ فجر سے پہلے پہلے ادا کی جاوے گی آپ جماعت کے وقت مسجد میں تشریف لے آئیں چونکہ دن تاریخ وقت مقرر کرنا بدعت ہے اس لئے ٹائم کی کوئ تخصیص نھیں
وہ وہابی تلملا.کر بولے
اس میں.عوام کے لئے سہولت ہے
ہم.نے کہا
تیجہ دسواں چالیسواں برسی شب.برات و معراج و.عید میلاد میں بھی عوام کی.سہولت
ہے
اصل میں ان نجدیوں کو ایصال ثواب گیارہویں بارہویں شب معراج شب براءت عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چڑ ہے
تبھی ان امور کو مقرر کرکے منانے کو بدعت کہتے ہیں ان خبیث شیطان پرستوں کو امت مسلمہ کی کوئی نیکی دیکھی نہیں جاتی
اورجب اپنی پر ائے تو جو یہ کام مقرر کرے کرتے ہیں وہ سب جائز کیسے ھوجاتے ہیں
آئندہ سارے نجدی اپنے باپ کے جنازے کا اعلان کس طرح کریں یہ بھی ملاحظہ ہو
حضرات ایک اعلان ضروری سماعت فرمائیں
میرا ابا مر کے مٹی ہوگیا ہے
جسکو کسی بھی وقت
کسی بھی دن
کسی بھی ساعت
کسی بھی جگہ
قبر میں ڈالا جائے گا
یاد رہے قبر میں ڈالنے سے پہلے
کسی بھی وقت
کہیں بھی
کسی بھی ساعت
مجبوراً نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی
سہولت کے لیے ابھی سے قبرستان کے گورکن سے نمبر لے لو جب ہمارا موڈ بنا ہم مردے کو قبر میں پھینک آئیں گے وہ مر کے مٹی تو ویسے ہی ہو چکا ہے
جنازے میں شریک ہوکر ثواب دارین حاصل کریں
نقاب کشائی : لئیق احمد دانش
😊😊😊😊😊😊😊😊😊
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جہاں ایک طرف دیوبندی وہابی یہ عقیدہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو معراج شریف جسمانی نہیں بلکہ صرف روحانی ہوئی تھی، یہاں دیکھیں یہ جناب کئی مہینوں سے قسط وار مضمون پیش کررہے ہیں، جسمیں جلی حرفوں سے لکھا ہوا ہے "وہ سراسر بیداری کا سفر تھا جس میں آپ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا"
ہمارے کچھ علماء کی پوسٹ نظر سے گزری جسمیں انہوں نے فرمایا کہ مولوی صاحب نے ہمارے سنی عالم کا مضمون کاپی کیا ہے اور اپنے نام سے شائع کررہے ہیں۔
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3609717935757192&id=100001570648492
ہمارے کچھ علماء کی پوسٹ نظر سے گزری جسمیں انہوں نے فرمایا کہ مولوی صاحب نے ہمارے سنی عالم کا مضمون کاپی کیا ہے اور اپنے نام سے شائع کررہے ہیں۔
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3609717935757192&id=100001570648492
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک دیوبندی اعتراض کاجواب:
دیوبندیوں کی جانب سے ایک اعتراض کیاگیاہے کہ"فیصلہ بشریت" نامی کتاب میں نبی کریم کوظاہرصورت میں کافروں کے مثل کہاگیاہے.
مختصرجواب:
*جس عبارت پردیوبندیوں نے اعتراض کیاہے یہی بات مولاناجلال الدین رومی نے "مثنوی"میں لکھی ہے.
گربصورت آدمی انسان بُدے
احمدوبوجہل ہم یکساں بُدے
(مثنوی,دفترِاوّل)
*"کلیدمثنوی" میں مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے اس شعرکی شرح میں لکھاہے کہ:
"اگرآدمی صرف صورت ہی سے انسان(حقیقی موصوف بصفات انسانیت)ہوتاتواحمداورابوجہل یکساں ہوتے(کیونکہ صورت بشریہ میں توکچھ فرق نہیں۔حالانکہ دونوں میں باطناًزمین وآسمان کافرق ہے)"
(کلیدمثنوی,جلد1,صفحہ185,مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ,ملتان)
اس لیے دیوبندیوں سے گذارش ہے کہ مولاناجلال الدین رومی اورمولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی پربھی گستاخی کافتویٰ لگائیں."کلیدمثنوی" کےاسکین پیشِ خدمت ہیں۔دیوبندی نبی کریم کواپنے جیسابشرکہتے ہیں.اوردلیل میں قرآنِ کریم کی آیت:اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ کوپیش کرتے ہیں۔حالانکہ مولوی حسین احمدمدنی دیوبندی نے "شہابِ ثاقب"میں اس آیت کے متعلق لکھاہے کہ اس آیت میں مشرکین سے خطاب کرکے فرمایاگیاہے کہ میں تمہاری طرح بشرہوں.اب بتائیے (مولوی حسین احمدمدنی دیوبندی کی وضاحت کے مطابق)قرآنِ کریم کی مذکورہ آیت میں مشرکین کومخاطب کرکے (ظاہرصورت میں)رسول کے مماثل کہاجارہاہے.ماھوجوابکم فھوجوابنا۔
اختصارمطلوب ہے اس لیے مختصراًاتناہی عرض ہے.
میثم قادری
24اکتوبر2020ء
دیوبندیوں کی جانب سے ایک اعتراض کیاگیاہے کہ"فیصلہ بشریت" نامی کتاب میں نبی کریم کوظاہرصورت میں کافروں کے مثل کہاگیاہے.
مختصرجواب:
*جس عبارت پردیوبندیوں نے اعتراض کیاہے یہی بات مولاناجلال الدین رومی نے "مثنوی"میں لکھی ہے.
گربصورت آدمی انسان بُدے
احمدوبوجہل ہم یکساں بُدے
(مثنوی,دفترِاوّل)
*"کلیدمثنوی" میں مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے اس شعرکی شرح میں لکھاہے کہ:
"اگرآدمی صرف صورت ہی سے انسان(حقیقی موصوف بصفات انسانیت)ہوتاتواحمداورابوجہل یکساں ہوتے(کیونکہ صورت بشریہ میں توکچھ فرق نہیں۔حالانکہ دونوں میں باطناًزمین وآسمان کافرق ہے)"
(کلیدمثنوی,جلد1,صفحہ185,مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ,ملتان)
اس لیے دیوبندیوں سے گذارش ہے کہ مولاناجلال الدین رومی اورمولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی پربھی گستاخی کافتویٰ لگائیں."کلیدمثنوی" کےاسکین پیشِ خدمت ہیں۔دیوبندی نبی کریم کواپنے جیسابشرکہتے ہیں.اوردلیل میں قرآنِ کریم کی آیت:اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ کوپیش کرتے ہیں۔حالانکہ مولوی حسین احمدمدنی دیوبندی نے "شہابِ ثاقب"میں اس آیت کے متعلق لکھاہے کہ اس آیت میں مشرکین سے خطاب کرکے فرمایاگیاہے کہ میں تمہاری طرح بشرہوں.اب بتائیے (مولوی حسین احمدمدنی دیوبندی کی وضاحت کے مطابق)قرآنِ کریم کی مذکورہ آیت میں مشرکین کومخاطب کرکے (ظاہرصورت میں)رسول کے مماثل کہاجارہاہے.ماھوجوابکم فھوجوابنا۔
اختصارمطلوب ہے اس لیے مختصراًاتناہی عرض ہے.
میثم قادری
24اکتوبر2020ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شیخ فریدالدین عطار سے کسی نے کہا:
تم کہتے ہو ہمارے نبی دنیا جہان کے خزانوں کے مالک ہیں ، جب کہ سیرت کی کتابوں میں تو لکھا ہے کہ:
آپ ﷺ کے گھر کئی کئی دن تک چولھا بھی نہیں جلتا تھا ۔
آپ نے جواب دیا:
جب دولھا گھوڑی پر بیٹھتا ہے تو لوگ اس پر پیسے لٹاتے ہیں ، مال و دولت نچھاور کرتے ہیں ، صدقہ اتارتے ہیں ؛ جسے دولھا نہیں ، براتی اٹھاتے ہیں ۔
اللہپاک نے میرے نبی کو کائنات کا دولھا بنایا ، اور دنیا کی نعمتیں آپ کا صدقہ اتار دیا ۔
اب آپ اپنے سر سے واری چیزیں کیسے اٹھائیں گے !!
یوں تو سارے نبی محترم ہیں مگر ، سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
حق تعالیٰ نے دولھابنایا تجھے ، اور سارا جہاں تیری بارات ہے
✍️لقمان شاہد
23-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2991733407773495&id=100008105947430
تم کہتے ہو ہمارے نبی دنیا جہان کے خزانوں کے مالک ہیں ، جب کہ سیرت کی کتابوں میں تو لکھا ہے کہ:
آپ ﷺ کے گھر کئی کئی دن تک چولھا بھی نہیں جلتا تھا ۔
آپ نے جواب دیا:
جب دولھا گھوڑی پر بیٹھتا ہے تو لوگ اس پر پیسے لٹاتے ہیں ، مال و دولت نچھاور کرتے ہیں ، صدقہ اتارتے ہیں ؛ جسے دولھا نہیں ، براتی اٹھاتے ہیں ۔
اللہپاک نے میرے نبی کو کائنات کا دولھا بنایا ، اور دنیا کی نعمتیں آپ کا صدقہ اتار دیا ۔
اب آپ اپنے سر سے واری چیزیں کیسے اٹھائیں گے !!
یوں تو سارے نبی محترم ہیں مگر ، سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
حق تعالیٰ نے دولھابنایا تجھے ، اور سارا جہاں تیری بارات ہے
✍️لقمان شاہد
23-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2991733407773495&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قاسم سردار بڑا پیارا ہے ، کبھی کبھی کوئی سوال پوچھ لیتا ہے ۔
پرسوں کسی نے اُسے وسوسہ ڈالا کہ:
کیا میلاد شریف کی خوشی میں گلیاں بازار سجانے اور لائٹنگ کرنے کا کسی حدیث سے ثبوت ملتا ہے ؟
میں نے اُسے کہا:
قاسم! جس نے تجھ سے یہ بات کہی ہے اسے کہو کہ:
اونچی مسجدیں بنانے ، ان پر مینار نصب کرنے اور زیبائش و زینت کے لیے ٹائل پتھر لگانے کا ثبوت کس حدیث سے ملتا ہے ؟؟
رسول اللہ ﷺ تو فرماتے تھے:
مجھے مسجدیں بلندکرنے کاحکم نہیں دیا گیا ۔
( سنن ابوداود ، ر 448 )
سیدنا ابن عباس فرماتے تھے:
تم مسجدیں ایسے سجاؤ گے جیسے یہودی اور عیسائی سجاتے رہے ۔ ( ایضاً )
تمھیں وہ جو جواب اس سوال کا دے گا ، وہی جواب میلاد مصطفی پر سجاوٹ کرنے کا ہوگا ۔
اللہ پاک نجدیوں سے ہمارے ایمان محفوط رکھے ، اِن کے سوالوں کے جواب دینے سے پہلے ، اِن پر بھی کوئی علمی سوال کیا کریں ۔ ؎
ذِکر روکے ، فضل کاٹے ، نَقص کا جویاں رہے
پھر کہے مَردَک کہ ہوں اُمّت رسول اللہ کی
✍️لقمان شاہد
25-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2993609724252530&id=100008105947430
پرسوں کسی نے اُسے وسوسہ ڈالا کہ:
کیا میلاد شریف کی خوشی میں گلیاں بازار سجانے اور لائٹنگ کرنے کا کسی حدیث سے ثبوت ملتا ہے ؟
میں نے اُسے کہا:
قاسم! جس نے تجھ سے یہ بات کہی ہے اسے کہو کہ:
اونچی مسجدیں بنانے ، ان پر مینار نصب کرنے اور زیبائش و زینت کے لیے ٹائل پتھر لگانے کا ثبوت کس حدیث سے ملتا ہے ؟؟
رسول اللہ ﷺ تو فرماتے تھے:
مجھے مسجدیں بلندکرنے کاحکم نہیں دیا گیا ۔
( سنن ابوداود ، ر 448 )
سیدنا ابن عباس فرماتے تھے:
تم مسجدیں ایسے سجاؤ گے جیسے یہودی اور عیسائی سجاتے رہے ۔ ( ایضاً )
تمھیں وہ جو جواب اس سوال کا دے گا ، وہی جواب میلاد مصطفی پر سجاوٹ کرنے کا ہوگا ۔
اللہ پاک نجدیوں سے ہمارے ایمان محفوط رکھے ، اِن کے سوالوں کے جواب دینے سے پہلے ، اِن پر بھی کوئی علمی سوال کیا کریں ۔ ؎
ذِکر روکے ، فضل کاٹے ، نَقص کا جویاں رہے
پھر کہے مَردَک کہ ہوں اُمّت رسول اللہ کی
✍️لقمان شاہد
25-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2993609724252530&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
خواتین اور دین کے لیے قربانیاں
حضرت سمیہ رضی اللہ عنھا
حضرت عمار بن یاسر کی والدہ حضرت سمیہ مکہ میں مغیرہ قبیلے کی ایک کنیز تھی۔ اسلام قبول کرنے میں ان کا ساتواں نمبر ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب اسلام قبول کرنا گویا ہر قسم کے جور و ستم کو دعوت دینا تھا اور یہ تو ویسے بھی ایک کنیز تھیں۔
جیسے ہی انھوں نے اسلام قبول کیا ان پر ظلم و تشدد کا ایک طوفان امڈ پڑا۔ کفر و شرک پر مجبور کرنے کے لیے ان کے قبیلے اور قریش نے ہر طریقے آزمائے، ہر کوشش کر کے دیکھی مگر ناکام رہے۔
سمیہ صنف نازک تھیں، اسی سال ضیعفہ ہونے کے باوجود بھی گھر گھر جاکر دین کی دعوت کو عام کرتیں، لوگ ان کا مذاق اڑاتے اور کفار مکہ نے ان پر بہت ظلم کیاکرتے، یہاں تک کہ لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔ ایمان قبول کرنے کے بعد نہ کبھی بتوں کا خیال آیا اور نہ ہی انھوں نے دنیا کے آقاؤں کی پرواہ کی۔
ایک روز دن بھر کی اذیت کے بعد شام کو گھر آئیں تو ابوجہل مل گیا، اس نے گالیاں دینا شروع کردی
اور کلمہ نہ پڑھنے کی تاکید کی تو حضرت سمیہ نے سینہ تان کر کلمہ پڑھنا شروع کر دیا اور غصے میں آ کر ابو جہل نے آپ کی ناف کے نیچے اس زور سے نیزہ مارا کہ آپ شہید ہو گئیں مگر قیامت تک کے لیے عورتوں کا سر فخر سے بلند کر گئیں۔
یہ ایک جانباز مسلمان عورت کا پہلا خون تھا جس سے خدا کی زمین رنگین ہو گئی۔
(دیکھیں الاستيعاب، الاصابہ اور جنتی زیور وغیرہ)
ہمارے اسلاف کی پوری زندگیاں قربانیوں کا مرکب ہے۔ جب بھی دین کے نام پر کسی پیاری سے پیاری چیز کو قربان کرنے کا موقع آیا وہ اس میں قعطا ہچکچاہٹ محسوس نہ فرماتے۔ قربانی کے بعد ان کی زبان پر شکوہ شکایت نہیں بلکہ الفاظ شکر ہی جاری ہوا کرتے تھے۔
ارشادے باری تعا لی ہے:
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ
کیا تم اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (یعنی حالت) نہ آئی۔
( ترجمہ کنزالایمان : پ3۔ 214)
دین کے کام میں ہمیں جب بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے خود کو تیار رکھنا چاہیے اور معاذ اللہ بوجھ اور مصیبت تصور نہیں کرنا چاۂیے۔ جو تکلیفیں ہم سے پچھلوں پر گزی اس کی بنسبت یہ کچھ نہیں اور اس کے بدلے حاصل ہونے والے فائدے بے شماراللہ نے بیان فرمائے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ
اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔
ترجمہ کنزالایمان پ: 26 ۔( محمد7 )
جناب غزل
حضرت سمیہ رضی اللہ عنھا
حضرت عمار بن یاسر کی والدہ حضرت سمیہ مکہ میں مغیرہ قبیلے کی ایک کنیز تھی۔ اسلام قبول کرنے میں ان کا ساتواں نمبر ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب اسلام قبول کرنا گویا ہر قسم کے جور و ستم کو دعوت دینا تھا اور یہ تو ویسے بھی ایک کنیز تھیں۔
جیسے ہی انھوں نے اسلام قبول کیا ان پر ظلم و تشدد کا ایک طوفان امڈ پڑا۔ کفر و شرک پر مجبور کرنے کے لیے ان کے قبیلے اور قریش نے ہر طریقے آزمائے، ہر کوشش کر کے دیکھی مگر ناکام رہے۔
سمیہ صنف نازک تھیں، اسی سال ضیعفہ ہونے کے باوجود بھی گھر گھر جاکر دین کی دعوت کو عام کرتیں، لوگ ان کا مذاق اڑاتے اور کفار مکہ نے ان پر بہت ظلم کیاکرتے، یہاں تک کہ لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔ ایمان قبول کرنے کے بعد نہ کبھی بتوں کا خیال آیا اور نہ ہی انھوں نے دنیا کے آقاؤں کی پرواہ کی۔
ایک روز دن بھر کی اذیت کے بعد شام کو گھر آئیں تو ابوجہل مل گیا، اس نے گالیاں دینا شروع کردی
اور کلمہ نہ پڑھنے کی تاکید کی تو حضرت سمیہ نے سینہ تان کر کلمہ پڑھنا شروع کر دیا اور غصے میں آ کر ابو جہل نے آپ کی ناف کے نیچے اس زور سے نیزہ مارا کہ آپ شہید ہو گئیں مگر قیامت تک کے لیے عورتوں کا سر فخر سے بلند کر گئیں۔
یہ ایک جانباز مسلمان عورت کا پہلا خون تھا جس سے خدا کی زمین رنگین ہو گئی۔
(دیکھیں الاستيعاب، الاصابہ اور جنتی زیور وغیرہ)
ہمارے اسلاف کی پوری زندگیاں قربانیوں کا مرکب ہے۔ جب بھی دین کے نام پر کسی پیاری سے پیاری چیز کو قربان کرنے کا موقع آیا وہ اس میں قعطا ہچکچاہٹ محسوس نہ فرماتے۔ قربانی کے بعد ان کی زبان پر شکوہ شکایت نہیں بلکہ الفاظ شکر ہی جاری ہوا کرتے تھے۔
ارشادے باری تعا لی ہے:
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ
کیا تم اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (یعنی حالت) نہ آئی۔
( ترجمہ کنزالایمان : پ3۔ 214)
دین کے کام میں ہمیں جب بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے خود کو تیار رکھنا چاہیے اور معاذ اللہ بوجھ اور مصیبت تصور نہیں کرنا چاۂیے۔ جو تکلیفیں ہم سے پچھلوں پر گزی اس کی بنسبت یہ کچھ نہیں اور اس کے بدلے حاصل ہونے والے فائدے بے شماراللہ نے بیان فرمائے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ
اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔
ترجمہ کنزالایمان پ: 26 ۔( محمد7 )
جناب غزل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
لکھنے والوں کے ساتھ پریشانیاں
ہم لکھتے کیوں ہیں؟
تاکہ اُسے کوئی پڑھے...،
اب ہمارے لکھے کو کوئی کیسے پڑھے گا؟
ہم اُسے عام کریں گے...،
پہلے زمانے کی بات تو الگ تھی پر آج لکھے ہوئے کو عام کرنے کا طریقہ الگ ہے جس میں وقت، مال اور کئی ساتھیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔
مثال کے طور پر کسی کے پاس کافی علمی مواد ہے جسے وہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دینا چاہتا ہے تاکہ عوام وخواص فائدہ اٹھا سکیں پر کیا یہ سوچنے جیسا ہی اتنا آسان ہے؟
اگر ایک رسالہ ہی تیار کرنا ہوا تو پہلے قلم اور کاغذ پر آغاز کرنا ہوگا پھر اُسے ٹائپ کروانا ہوگا پھر باری آتی ہے کمپوزنگ کی پھر کور ڈیزائننگ کی اور پھر ہارڈ کاپی آتے آتے ایک لمبا وقت اور کافی مال خرچ کرنا پڑتا ہے جو کہ ہر کسی کے بس کا نہیں۔
اگر صرف الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہی عام کرنا چاہے تو ایک نیٹورک، ایک پلیٹ فارم کی ضرورت پڑتی ہے جس پر سالوں محنت کرنی پڑے گی ورنہ آپ کے لکھے ہوئے کو صرف گنتی کے لوگ ہی پڑھ سکیں گے۔
دورِ حاضر میں تحریری کام بہت ضروری ہے، یہی اصل سرمایہ ہے۔
کئی موضوعات خالی پڑے ہیں یعنی اُن پر کام ہی نہیں ہو رہا، تقریر کرنے والوں کی کثرت کا عالم آپ جانتے ہیں پر لکھنے والے بہت کم ہیں اور لکھتے ہیں تو اُسے عام کرنےکے جدید ذرائع کا صحیح استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ لکھنے والوں کا ساتھ دیں
اُن کی پریشانیوں کو دور کریں اُن کی حوصلہ افزائی کریں۔
عبد مصطفٰی
ہم لکھتے کیوں ہیں؟
تاکہ اُسے کوئی پڑھے...،
اب ہمارے لکھے کو کوئی کیسے پڑھے گا؟
ہم اُسے عام کریں گے...،
پہلے زمانے کی بات تو الگ تھی پر آج لکھے ہوئے کو عام کرنے کا طریقہ الگ ہے جس میں وقت، مال اور کئی ساتھیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔
مثال کے طور پر کسی کے پاس کافی علمی مواد ہے جسے وہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دینا چاہتا ہے تاکہ عوام وخواص فائدہ اٹھا سکیں پر کیا یہ سوچنے جیسا ہی اتنا آسان ہے؟
اگر ایک رسالہ ہی تیار کرنا ہوا تو پہلے قلم اور کاغذ پر آغاز کرنا ہوگا پھر اُسے ٹائپ کروانا ہوگا پھر باری آتی ہے کمپوزنگ کی پھر کور ڈیزائننگ کی اور پھر ہارڈ کاپی آتے آتے ایک لمبا وقت اور کافی مال خرچ کرنا پڑتا ہے جو کہ ہر کسی کے بس کا نہیں۔
اگر صرف الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہی عام کرنا چاہے تو ایک نیٹورک، ایک پلیٹ فارم کی ضرورت پڑتی ہے جس پر سالوں محنت کرنی پڑے گی ورنہ آپ کے لکھے ہوئے کو صرف گنتی کے لوگ ہی پڑھ سکیں گے۔
دورِ حاضر میں تحریری کام بہت ضروری ہے، یہی اصل سرمایہ ہے۔
کئی موضوعات خالی پڑے ہیں یعنی اُن پر کام ہی نہیں ہو رہا، تقریر کرنے والوں کی کثرت کا عالم آپ جانتے ہیں پر لکھنے والے بہت کم ہیں اور لکھتے ہیں تو اُسے عام کرنےکے جدید ذرائع کا صحیح استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ لکھنے والوں کا ساتھ دیں
اُن کی پریشانیوں کو دور کریں اُن کی حوصلہ افزائی کریں۔
عبد مصطفٰی