زمین کے وقفی و غصبی ہونے سے متعلق نفیس اور مدلل و مفصل بحث پر مشتمل علمی و تحقیقی رسالہ منیفہ مسمیٰ با التاریخ
منح القدیر الحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی ۰۵۳۱ھ اللہ قدیر وحی کی عطائیں، غلط پھر درست سوال کے جواب میں!
✍ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی حامد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
وقفی اور غصبی زمین کا شرعی
حکم 📖 تحقیق تخریج تحشیہ :
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
📝 #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری مشن مالیگاؤں و اعلیٰ
حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
منح القدیر الحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی ۰۵۳۱ھ اللہ قدیر وحی کی عطائیں، غلط پھر درست سوال کے جواب میں!
✍ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی حامد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
وقفی اور غصبی زمین کا شرعی
حکم 📖 تحقیق تخریج تحشیہ :
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
📝 #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری مشن مالیگاؤں و اعلیٰ
حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اشعار کے معنی کا کوئی طریقہ معین نہیں ہے ۔
سننے والے کے دل میں جو معنی ہیں ، جب وہ شعر سنتا ہے تو اُس میں اپنے حال کی مناسبت سے معنی سمجھتا ہے ۔
اور اِس کی مثال آئینے سے دی گئی ہے کہ:
آئینے میں صورت کے منعکس ہونے کی کوئی مُتعین شکل نہیں ہے ، کہ آئینہ جو بھی دیکھے ، ایک معین صورت نظر آئے ؛ بلکہ وہ جو بھی دیکھے گا ، اپنی ہی صورت کا عکس دیکھے گا ۔
اِسی طرح اشعار میں ہے کہ:
جو بھی سنتا ہے ، اپنے انداز کے مطابق سنتا ہے ؛ اس کے دل میں جو مثال ہے ، اُسی پر شعر کے معنیٰ لیتا ہے ۔
( شعر شور انگیز ، ج 1 ، ص 20 ، ط اظہار سنز لاہور ، س 2013ء )
✍️لقمان شاہد
20-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988606791419490&id=100008105947430
اشعار کے معنی کا کوئی طریقہ معین نہیں ہے ۔
سننے والے کے دل میں جو معنی ہیں ، جب وہ شعر سنتا ہے تو اُس میں اپنے حال کی مناسبت سے معنی سمجھتا ہے ۔
اور اِس کی مثال آئینے سے دی گئی ہے کہ:
آئینے میں صورت کے منعکس ہونے کی کوئی مُتعین شکل نہیں ہے ، کہ آئینہ جو بھی دیکھے ، ایک معین صورت نظر آئے ؛ بلکہ وہ جو بھی دیکھے گا ، اپنی ہی صورت کا عکس دیکھے گا ۔
اِسی طرح اشعار میں ہے کہ:
جو بھی سنتا ہے ، اپنے انداز کے مطابق سنتا ہے ؛ اس کے دل میں جو مثال ہے ، اُسی پر شعر کے معنیٰ لیتا ہے ۔
( شعر شور انگیز ، ج 1 ، ص 20 ، ط اظہار سنز لاہور ، س 2013ء )
✍️لقمان شاہد
20-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988606791419490&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عورتوں کا مزارات پہ جانا/ عورتوں کا مزارات پہ مجاور بن کے بیٹھنا:
امامِ اہل سنت فرماتے ہیں کہ
“عورتوں کو زیارتِ قبور منع ہے۔ حدیث میں ہے
_لعن الله زائرات القبور_ اللہ کی لعنت ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کو جائیں۔”
پھر ایک جگہ فرماتے ہیں:
مجاور مَردوں کو ہونا چاہئے ۔ عورت مجاور بن کر بیٹھے اور آنے جانے والوں سے اختلاط کرے یہ سخت بدعت ہے۔ عورت کو گوشہ نشینی کا حکم ہے۔ نہ یوں مردوں کے ساتھ اختلاط کا جس میں بعض اوقات مردوں کے ساتھ اسے تنہائی بھی ہوگی اور یہ حرام ہے۔
_فتاوی رضویہ شریف، ج ٤، ص ٦٥_
ایک سائل کو جواب لکھتے ہوئے فرمایا :
“مزاراتِ اولیاء یا دیگر قبور کی زیارت کو عورتوں کا جانا باتباع غنیہ علامہ محقق ابراہیم حلبی ہرگز پسند نہیں کرتا۔
خصوصاً اس طوفانِ بدتمیزی رقص و مزامیر و سرود میں جو آج کل کے جہال نے اعراس طیبہ میں برپا کر رکھا ہے اس کی شرکت میں تو عوامِ رجال کو بھی پسند نہیں رکھتا۔۔۔”
_فتاوی رضویہ شریف، ج ٤، ص ۱٦٦_
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379252808050&id=100008080090753
امامِ اہل سنت فرماتے ہیں کہ
“عورتوں کو زیارتِ قبور منع ہے۔ حدیث میں ہے
_لعن الله زائرات القبور_ اللہ کی لعنت ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کو جائیں۔”
پھر ایک جگہ فرماتے ہیں:
مجاور مَردوں کو ہونا چاہئے ۔ عورت مجاور بن کر بیٹھے اور آنے جانے والوں سے اختلاط کرے یہ سخت بدعت ہے۔ عورت کو گوشہ نشینی کا حکم ہے۔ نہ یوں مردوں کے ساتھ اختلاط کا جس میں بعض اوقات مردوں کے ساتھ اسے تنہائی بھی ہوگی اور یہ حرام ہے۔
_فتاوی رضویہ شریف، ج ٤، ص ٦٥_
ایک سائل کو جواب لکھتے ہوئے فرمایا :
“مزاراتِ اولیاء یا دیگر قبور کی زیارت کو عورتوں کا جانا باتباع غنیہ علامہ محقق ابراہیم حلبی ہرگز پسند نہیں کرتا۔
خصوصاً اس طوفانِ بدتمیزی رقص و مزامیر و سرود میں جو آج کل کے جہال نے اعراس طیبہ میں برپا کر رکھا ہے اس کی شرکت میں تو عوامِ رجال کو بھی پسند نہیں رکھتا۔۔۔”
_فتاوی رضویہ شریف، ج ٤، ص ۱٦٦_
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379252808050&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
غیرمقلدوہابیوں کی طرف سے ایک مجلس میں دی گئی تین طلاق کو ایک قراردینے کے تناظر میں:
ایک حنفی کسی غیرمقلد کی ہوٹل میں گیا اور تین سموسے کھاگیا
جب کاونٹر پرپیسے دینے آیا تو صرف ایک سموسے کے پیسے دیئے
مالک غیرمقلد پریشان ہوکر بولا
کہ سموسے تین کھائے اور پیسے ایک کے دے رہے ہو
حنفی نے کہا
ارے بھائی ایک ہی مجلس میں کھائے ہیں
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379652808010&id=100008080090753
ایک حنفی کسی غیرمقلد کی ہوٹل میں گیا اور تین سموسے کھاگیا
جب کاونٹر پرپیسے دینے آیا تو صرف ایک سموسے کے پیسے دیئے
مالک غیرمقلد پریشان ہوکر بولا
کہ سموسے تین کھائے اور پیسے ایک کے دے رہے ہو
حنفی نے کہا
ارے بھائی ایک ہی مجلس میں کھائے ہیں
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379652808010&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ابن تیمیہ اور ابو میاں بھائی بھائی
ابن تیمیہ کے بارے میں ہم اہل سنت وجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ شخص گمراہ اور گمراہ گر ہے فقیہ اسلام امام اہلسنت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ
"ابن تیمیہ ضال مضل ہے"(المعتقد المستند ص ١٨٨)
نیز فرماتے ہیں کہ
"متأخرین حنابلہ بعض خبثأ مجسمہ ہوگئے جیسے ابن تیمیہ اور ابن قیم"
فتاوی رضویہ ٤٩\ ١١
مزید تفصیل کے لئے "قوارع القھار" مشمولہ فتاوی رضویہ جلد گیارہ اور فتاوی فیض الرسول جلد اول ص ٤٦ پر ملاحظہ فرمائیں ۔
ابو میاں اور ان کے متعلقین کا عقیدہ یہ کہ
"اللہ تعالٰی نے شیخ ابن تیمیہ کو بڑی خوبیوں سے نوازا تھا وہ حافظہ علم و فضل تقوی و خشیت زہد و ورع قناعت صبر جرعت و شجاعت سنت کی پیروی بدعت سے اجتناب اعلائے کلمۂ حق اور جہاد۔کے لئے ہمہ وقت کمر بستگی یہ وہ خوصوصیات ہیں جن سے وہ اپنے معاصرین کے درمیان ممتاز اور مشہور ہوئے"
الاحسان حصہ دوم ص ١٦٠
نیز اسی میں ہے مقالا نگار ضیاءالرحمان علیمی کے خیال میں :
"مختلف مسائل میں ان کا اختلاف غلط فہمی پر مبنی ہے اور اس کی وجہ سے ان کا اختیلاف لفظی بن کر رہ گیا ہے اور اس کے علاوہ وہ مشائخ صوفیہ کی مدح بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں"
(الاحسان حصہ دوم ص ١١٥÷ ١١٦)
"بچپن سے ہی( ابن تیمیہ کے اندر ) شرافت و نجابت کے آثار نمایاں تھے"
( ایضاً حصہ دوم ص ١٠٦)
"آفتاب علم (ابن تیمیہ)غروب ہوگیا"
(ایضاً ١٠٩)
"شیخ ابن تیمیہ بھی اسلام کے پیروکار اور امت محمدیہ کے اعلام میں سے تھے اسلام چونکہ ظاہری اور روحانی دونوں طرح کی تعلیمات پر مشتمل ہے اس لئے یہ بات مشکل ہے کہ کوئی اسلام کا متبع ہو اور اس کی زندگی میں روحانی پہلو نہ ہوں"
(ایضاً حصہ دوم ص ١٣٨)
"اور بعض مسائل میں (ابن تیمیہ نے )اپنے اجتہادات پیش کئے اور مجتہد کبھی صواب پر ہوتا ہے اور کبھی خطا پر "
(ایضاً حصہ دوم ص ١٤٤)
"خواب میں وہ (ابن تیمیہ) رویت باری کے منکر نہیں بلکہ بیداری کی حالت میں رویت قلبی کے امکان کو درست ٹھراتے ہیں ۔اس کے علاوہ خود ان کی زندگی بھی تصوف کے رنگ میں رنگی ہوئی معلوم ہوتی ہے" (ایضاًحصہ دوم ص ١٤٥)
( نوٹ)یہ کتاب یعنی الاحسان جامعہ عارفیہ سید سراواں میں ابو میاں کی سرپرستی میں لکھی گئی جس میں ابن تیمیہ جیسے خبیث کو زاہد متورع مجتہد صوفی صاحب روحانیت متبع سنت متقی اور تصوف کے رنگ میں رنگی ہوئی زندگی والا جیسے القاب و آداب سے یاد کیا گیا اب ہم ابو میاں کو داعیئ اسلام لکھنے والوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جو ابن تیمیہ جیسے گستاخ خبیث گمراہ اور گمراہ گر کو نہ صرف سنی صحیح العقیدہ بلکہ متقی متورع اور صاحب روحانیت بزرگ مانے وہ داعئ سلام ہوگا یا داعئ شیطان ؟ ابو کے نظرانہ والے جتنے چمچے ہیں سب مل کر جواب دیں کہ کیا مسلک اعلی حضرت کا یہی مقصد ہے کے اعلی حضرت اور علمائے اہل سنت جیسے خبیث گمراہ اور گمراہ گر کہیں اسے ابو میاں اور ان کے چمچے متقی پرہیز گار اور صاحب روحانیت بزرگ مانے اس کے بعد بھی مسلک اعلی حضرت پر قائم و دائم ہیں ۔
استغفر اللّٰہ
غلام ربانی شرف نظامی القادری ایجو کیشن اینڈ ویلفیر فاؤنڈیشن کریلی الہ آباد
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379856141323&id=100008080090753
ابن تیمیہ کے بارے میں ہم اہل سنت وجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ شخص گمراہ اور گمراہ گر ہے فقیہ اسلام امام اہلسنت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ
"ابن تیمیہ ضال مضل ہے"(المعتقد المستند ص ١٨٨)
نیز فرماتے ہیں کہ
"متأخرین حنابلہ بعض خبثأ مجسمہ ہوگئے جیسے ابن تیمیہ اور ابن قیم"
فتاوی رضویہ ٤٩\ ١١
مزید تفصیل کے لئے "قوارع القھار" مشمولہ فتاوی رضویہ جلد گیارہ اور فتاوی فیض الرسول جلد اول ص ٤٦ پر ملاحظہ فرمائیں ۔
ابو میاں اور ان کے متعلقین کا عقیدہ یہ کہ
"اللہ تعالٰی نے شیخ ابن تیمیہ کو بڑی خوبیوں سے نوازا تھا وہ حافظہ علم و فضل تقوی و خشیت زہد و ورع قناعت صبر جرعت و شجاعت سنت کی پیروی بدعت سے اجتناب اعلائے کلمۂ حق اور جہاد۔کے لئے ہمہ وقت کمر بستگی یہ وہ خوصوصیات ہیں جن سے وہ اپنے معاصرین کے درمیان ممتاز اور مشہور ہوئے"
الاحسان حصہ دوم ص ١٦٠
نیز اسی میں ہے مقالا نگار ضیاءالرحمان علیمی کے خیال میں :
"مختلف مسائل میں ان کا اختلاف غلط فہمی پر مبنی ہے اور اس کی وجہ سے ان کا اختیلاف لفظی بن کر رہ گیا ہے اور اس کے علاوہ وہ مشائخ صوفیہ کی مدح بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں"
(الاحسان حصہ دوم ص ١١٥÷ ١١٦)
"بچپن سے ہی( ابن تیمیہ کے اندر ) شرافت و نجابت کے آثار نمایاں تھے"
( ایضاً حصہ دوم ص ١٠٦)
"آفتاب علم (ابن تیمیہ)غروب ہوگیا"
(ایضاً ١٠٩)
"شیخ ابن تیمیہ بھی اسلام کے پیروکار اور امت محمدیہ کے اعلام میں سے تھے اسلام چونکہ ظاہری اور روحانی دونوں طرح کی تعلیمات پر مشتمل ہے اس لئے یہ بات مشکل ہے کہ کوئی اسلام کا متبع ہو اور اس کی زندگی میں روحانی پہلو نہ ہوں"
(ایضاً حصہ دوم ص ١٣٨)
"اور بعض مسائل میں (ابن تیمیہ نے )اپنے اجتہادات پیش کئے اور مجتہد کبھی صواب پر ہوتا ہے اور کبھی خطا پر "
(ایضاً حصہ دوم ص ١٤٤)
"خواب میں وہ (ابن تیمیہ) رویت باری کے منکر نہیں بلکہ بیداری کی حالت میں رویت قلبی کے امکان کو درست ٹھراتے ہیں ۔اس کے علاوہ خود ان کی زندگی بھی تصوف کے رنگ میں رنگی ہوئی معلوم ہوتی ہے" (ایضاًحصہ دوم ص ١٤٥)
( نوٹ)یہ کتاب یعنی الاحسان جامعہ عارفیہ سید سراواں میں ابو میاں کی سرپرستی میں لکھی گئی جس میں ابن تیمیہ جیسے خبیث کو زاہد متورع مجتہد صوفی صاحب روحانیت متبع سنت متقی اور تصوف کے رنگ میں رنگی ہوئی زندگی والا جیسے القاب و آداب سے یاد کیا گیا اب ہم ابو میاں کو داعیئ اسلام لکھنے والوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جو ابن تیمیہ جیسے گستاخ خبیث گمراہ اور گمراہ گر کو نہ صرف سنی صحیح العقیدہ بلکہ متقی متورع اور صاحب روحانیت بزرگ مانے وہ داعئ سلام ہوگا یا داعئ شیطان ؟ ابو کے نظرانہ والے جتنے چمچے ہیں سب مل کر جواب دیں کہ کیا مسلک اعلی حضرت کا یہی مقصد ہے کے اعلی حضرت اور علمائے اہل سنت جیسے خبیث گمراہ اور گمراہ گر کہیں اسے ابو میاں اور ان کے چمچے متقی پرہیز گار اور صاحب روحانیت بزرگ مانے اس کے بعد بھی مسلک اعلی حضرت پر قائم و دائم ہیں ۔
استغفر اللّٰہ
غلام ربانی شرف نظامی القادری ایجو کیشن اینڈ ویلفیر فاؤنڈیشن کریلی الہ آباد
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379856141323&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عالم اورجاہل کےگناہوں کی جزامیں فرق:
حدیث میں ہے:
رسول ﷲ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ذنب العالم ذنب واحد وذنب الجاھل ذنبان۔قیل ولم یارسولﷲ،قال العالم یعذب علٰی رکوبہ الذنب والجاھل یعذب علٰی رکوبہ الذنب وترک التعلم
( فیض القدیر تحت حدیث ۴۳۳۵دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۵۶۵۔الجامع الصغیرحدیث ۴۳۳۵دارالکتب العلمیۃ بیروت۔۲ /۲۶۴)
"عالم کا گناہ ایک گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دوہرا گناہ،عرض کی:یارسول اﷲ ! یہ کس لیے؟فرمایا:عالم پر گناہ کرنے کا عذاب ہے اور جاہل پر ایک عذاب گناہ کرنے کا ہے اور ایک علم نہ سیکھنے کا"
(منقول از فتاوی رضویہ)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2842388892707086&id=100008080090753
حدیث میں ہے:
رسول ﷲ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ذنب العالم ذنب واحد وذنب الجاھل ذنبان۔قیل ولم یارسولﷲ،قال العالم یعذب علٰی رکوبہ الذنب والجاھل یعذب علٰی رکوبہ الذنب وترک التعلم
( فیض القدیر تحت حدیث ۴۳۳۵دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۵۶۵۔الجامع الصغیرحدیث ۴۳۳۵دارالکتب العلمیۃ بیروت۔۲ /۲۶۴)
"عالم کا گناہ ایک گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دوہرا گناہ،عرض کی:یارسول اﷲ ! یہ کس لیے؟فرمایا:عالم پر گناہ کرنے کا عذاب ہے اور جاہل پر ایک عذاب گناہ کرنے کا ہے اور ایک علم نہ سیکھنے کا"
(منقول از فتاوی رضویہ)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2842388892707086&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ﺍﻋﻠﯽ ﺣﻀﺮﺕ (علیہ الرحمہ) اپنے وصال ﺳﮯ چھ سال ﭘﮩﻠﮯ ﯾﻌﻨﯽ ١٣٣٤ه ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﻣﯿﮟ فرماتے ﮨﯿﮟ:
’’ﺳُﻨّﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺎﻡ ﺣﺎﻟﺖ یہ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﺎﻝ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﻢ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﻏﺮﺽ ﮨﮯ، ﺍﻓﻼﺱ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﮨﮯ۔‘‘
ﺣﯿﺎﺕِ اعلی حضرت، جلد ۳، صفحہ ۳۹۱
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2842389092707066&id=100008080090753
’’ﺳُﻨّﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺎﻡ ﺣﺎﻟﺖ یہ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﺎﻝ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﻢ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﻏﺮﺽ ﮨﮯ، ﺍﻓﻼﺱ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﮨﮯ۔‘‘
ﺣﯿﺎﺕِ اعلی حضرت، جلد ۳، صفحہ ۳۹۱
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2842389092707066&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس کتاب میں پالن حقانی دیوبندی کی کتاب"شریعت یاجہالت"کی منتخب عبارات پرتنقیدی تبصرہ کیاگیاہے۔نیزکتاب کے آخرمیں ایک ضمیمہ شامل کیاگیاہے جس میں دو مستند دیوبندی علماکے فتوے بھی شامل کیے گئے ہیں.سنبھل کے مفتی احمدحسن دیوبندی نے اپنے فتویٰ میں پالن حقانی دیوبندی کی تکفیرکی ہے۔اوردیوبندکے مفتیِ اعظم مہدی حسن کے فتویٰ میں پالن حقانی دیوبندی کی کتاب"شریعت یاجہالت"کوپڑھنے اوراس کی تقریرسُننے سے منع کیاہے۔کتاب کی تخریج کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پرضروری حواشی بھی لگائے گئے ہیں.جس سے کتاب کی افادیت میں اضافہ ہوگیاہے۔
(کتاب پریس میں ہے.اِنْ شَاءَاللّٰہُ تَعَالٰی اسی مہینے شائع ہوکرمارکیٹ میں آجائے گی۔قبل ازوقت کتاب کیpdf طلب کرکے شرمندہ نہ کریں)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2842481386031170&id=100008080090753
(کتاب پریس میں ہے.اِنْ شَاءَاللّٰہُ تَعَالٰی اسی مہینے شائع ہوکرمارکیٹ میں آجائے گی۔قبل ازوقت کتاب کیpdf طلب کرکے شرمندہ نہ کریں)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2842481386031170&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دوستوں۔۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس مبارک موقع پر جو پوسٹس عید میلاد کے متعلق ہوں جیسے دیسرے ممالک کے جلوس، عرب علماء کی تقاریر، یا جاہل وہابیوں کے رد میں، اس (#عیدمیلادالنبی ) کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ہی شیئر کریں۔۔ تاکہ کثیر تعداد میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق مواد جمع ہو سکے۔
زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔۔ اس نیک کام میں ساتھ دیں۔۔ جب بھی آپ فیس بک پر اس ہیش ٹیگ #عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سرچ کروگے بہت ساری مفید پوسٹ آپ کے سامنے ہوں گی۔۔
محمد ریاض القادری دھلی۔۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1109890399444454&id=100012705134050
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس مبارک موقع پر جو پوسٹس عید میلاد کے متعلق ہوں جیسے دیسرے ممالک کے جلوس، عرب علماء کی تقاریر، یا جاہل وہابیوں کے رد میں، اس (#عیدمیلادالنبی ) کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ہی شیئر کریں۔۔ تاکہ کثیر تعداد میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق مواد جمع ہو سکے۔
زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔۔ اس نیک کام میں ساتھ دیں۔۔ جب بھی آپ فیس بک پر اس ہیش ٹیگ #عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سرچ کروگے بہت ساری مفید پوسٹ آپ کے سامنے ہوں گی۔۔
محمد ریاض القادری دھلی۔۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1109890399444454&id=100012705134050
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*ماہِ نو طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا*
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
بزمِ انسانیت سونی سونی تھی…قبائے انسانی تار تار تھی…بچیاں منحوس جانی جاتی تھیں…عفتوں کے سوداگر ہر سٗو تھے…عصمتیں سرِ بازار رُسوا تھیں…جبیں! معبودانِ باطلہ کے آگے خم تھی… معبودِ حقیقی سے منحرف تھی... لوگ بُرائیوں کے اسیر تھے…جوا عام تھا…سودی لین دین معمول تھا…غرض! ہر ایک بُرائی مقبول تھی…سچائی عنقا تھی… نفرتیں معاشرے میں پنپ رہی تھیں... غرض منفی اثرات نے سچ کو دھندلا دیا تھا اور صداقتوں کی شام ڈوب کر رہ گئی تھی...
١٢ ربیع الاول کو صبحِ اُمید طلوع ہوئی... وہ آئے جن کی بشارتیں انبیاء کرام علیہم السلام نے دی تھیں... جن کا انتظار تھا... وادیاں جن کے لیے بے تاب تھیں... حرا کی ساعتیں منتظر تھیں... جبلِ نور دید کا متلاشی تھا... کوہِ فاراں قدم بوسی کو بے تاب تھا...اہلِ صفا دیدار کے منتظر تھے... وادیِ عقیق توشۂ قلبی پیش کرنے بے چین تھی... ثور سراپا مشتاق تھا...بدر کی نگاہیں سوئے حرم ٹکی تھیں... ذرّہ ہاے عریش طالبِ جمالِ جہاں آرا تھے... اُحد کا داماں بے تاب تھا... بقول رضا بریلوی:
جس کے جلوؤں سے احد ہے تاباں؛ معدنِ نور ہے اس کا داماں
ہم بھی اس چاند پہ ہو کر قرباں؛ دلِ سنگیں کی جِلا کرتے ہیں
رسول اللہ ﷺ آئے... اس شان سے کہ جہان کی قسمت بدل گئی... جانِ نعمت آگئے... قرارِ دلِ مضطر آ گئے... رحمتوں کی صبح طلوع ہوئی... تابش ماہِ عرب ﷺ سے پوری کائنات روشن روشن ہو گئی... فضا پاکیزہ ہو گئی... انسانیت کا سویرا ہوا... توحید کا نور پھیل گیا... حضور پُر نور ﷺ آ گئے... جن سے انبیاء کرام علیہم السلام روشنی لیتے رہے... حضرت بوصیری علیہ الرحمۃ مدح سرا ہوتے ہیں:
فَاِنَّہٗ شَمْسُ فَضْلٍ ھُمْ کَوَاکِبُھَا
یُظْھِرْنَ اَنْوَارَھَا لِلنَّاسِ فِي الظُّلَمٖ
ترجمہ: کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آفتابِ فضل و کمال ہیں... اور انبیاے کرام ستارے... جو اسی آفتاب کی روشنی انسانوں کو تاریکیوں میں دکھاتے رہے ہیں...
ہم غلاموں کو روشنی لینی چاہیے... آمد آمد کی برکتوں سے معاشرے کو زینت دینی چاہیے...
(١) ١٢ ربیع الاول آمدِ محبوب ﷺ کی مبارک گھڑی ہے... اسلامی طریقے سے اس ساعت کی یاد تازہ کیجئے...
(٢) کوچہ و دَر روشن کیجئے... تا کہ دُنیا و آخرت روشن ہوں...
(٣) محبوب پاک ﷺ کی آمد انسانیت کی حیات کی صبحِ تازہ ہے؛ جور و ستم سے آزادی کی صبح تعمیر کیجئے...
(٤) یتیموں سے شفقت اور غریبوں سے مروت کا مبارک جذبہ بیدار کریں... تا کہ سُنتوں سے رغبت پیدا ہو...
(٥) ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے قوت بن کر اُبھرئیے... گستاخ کو عبرتناک انجام سے دوچار کیجئے...
(٦) غریبوں کی داد رسی اور مظلوموں کی فریاد رسی کو معمول بنا لیں...
(٧) صبح میلاد النبی ﷺ کے صدقے اسلامی زندگی گزارنے کا عزم کریں...
(٨) بھوکوں کو کھانا کھلائیں اور گھروں میں چراغاں کریں... بیماروں کی دَوا کریں...
(٩) خوشی و مسرت کے چراغ طاق دل پر فروزاں کریں اور نمازوں کی پابندی معمول بنائیں...
(١٠) سیرت پر کتابیں مطالعہ کریں... بالخصوص علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی کی تحریر "سیرت مصطفیٰﷺ" ہر فرد مطالعہ سے گزارے...
(١١) گھروں میں محافل ذکرِ رسول ﷺ سجائیں...
(١٢) گھروں، وادیوں اور مسجدوں میں درود پاک کی محفلیں منعقد کریں... اور بصد احترام سلام باقیام پیش کر کے ادب کی بزم میں احترام کے ہزاروں چراغ روشن کر دیں...
رسول اللہ ﷺ سراپا رحمت ہیں... برکتیں طلوع ہوتی ہیں... جہاں مہک اٹھتا ہے... آپ بھی محبتوں کی شمیم سے سیرابی کیجئے...اور والہانہ نغمے گنگنائیے:
صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا
باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا
مست بُو ہیں بُلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا
بھیک لے سرکار سے لا جلد کاسہ نور کا
ماہِ نو طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا
٭٭٭
٢١ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4507871125954845/
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
بزمِ انسانیت سونی سونی تھی…قبائے انسانی تار تار تھی…بچیاں منحوس جانی جاتی تھیں…عفتوں کے سوداگر ہر سٗو تھے…عصمتیں سرِ بازار رُسوا تھیں…جبیں! معبودانِ باطلہ کے آگے خم تھی… معبودِ حقیقی سے منحرف تھی... لوگ بُرائیوں کے اسیر تھے…جوا عام تھا…سودی لین دین معمول تھا…غرض! ہر ایک بُرائی مقبول تھی…سچائی عنقا تھی… نفرتیں معاشرے میں پنپ رہی تھیں... غرض منفی اثرات نے سچ کو دھندلا دیا تھا اور صداقتوں کی شام ڈوب کر رہ گئی تھی...
١٢ ربیع الاول کو صبحِ اُمید طلوع ہوئی... وہ آئے جن کی بشارتیں انبیاء کرام علیہم السلام نے دی تھیں... جن کا انتظار تھا... وادیاں جن کے لیے بے تاب تھیں... حرا کی ساعتیں منتظر تھیں... جبلِ نور دید کا متلاشی تھا... کوہِ فاراں قدم بوسی کو بے تاب تھا...اہلِ صفا دیدار کے منتظر تھے... وادیِ عقیق توشۂ قلبی پیش کرنے بے چین تھی... ثور سراپا مشتاق تھا...بدر کی نگاہیں سوئے حرم ٹکی تھیں... ذرّہ ہاے عریش طالبِ جمالِ جہاں آرا تھے... اُحد کا داماں بے تاب تھا... بقول رضا بریلوی:
جس کے جلوؤں سے احد ہے تاباں؛ معدنِ نور ہے اس کا داماں
ہم بھی اس چاند پہ ہو کر قرباں؛ دلِ سنگیں کی جِلا کرتے ہیں
رسول اللہ ﷺ آئے... اس شان سے کہ جہان کی قسمت بدل گئی... جانِ نعمت آگئے... قرارِ دلِ مضطر آ گئے... رحمتوں کی صبح طلوع ہوئی... تابش ماہِ عرب ﷺ سے پوری کائنات روشن روشن ہو گئی... فضا پاکیزہ ہو گئی... انسانیت کا سویرا ہوا... توحید کا نور پھیل گیا... حضور پُر نور ﷺ آ گئے... جن سے انبیاء کرام علیہم السلام روشنی لیتے رہے... حضرت بوصیری علیہ الرحمۃ مدح سرا ہوتے ہیں:
فَاِنَّہٗ شَمْسُ فَضْلٍ ھُمْ کَوَاکِبُھَا
یُظْھِرْنَ اَنْوَارَھَا لِلنَّاسِ فِي الظُّلَمٖ
ترجمہ: کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آفتابِ فضل و کمال ہیں... اور انبیاے کرام ستارے... جو اسی آفتاب کی روشنی انسانوں کو تاریکیوں میں دکھاتے رہے ہیں...
ہم غلاموں کو روشنی لینی چاہیے... آمد آمد کی برکتوں سے معاشرے کو زینت دینی چاہیے...
(١) ١٢ ربیع الاول آمدِ محبوب ﷺ کی مبارک گھڑی ہے... اسلامی طریقے سے اس ساعت کی یاد تازہ کیجئے...
(٢) کوچہ و دَر روشن کیجئے... تا کہ دُنیا و آخرت روشن ہوں...
(٣) محبوب پاک ﷺ کی آمد انسانیت کی حیات کی صبحِ تازہ ہے؛ جور و ستم سے آزادی کی صبح تعمیر کیجئے...
(٤) یتیموں سے شفقت اور غریبوں سے مروت کا مبارک جذبہ بیدار کریں... تا کہ سُنتوں سے رغبت پیدا ہو...
(٥) ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے قوت بن کر اُبھرئیے... گستاخ کو عبرتناک انجام سے دوچار کیجئے...
(٦) غریبوں کی داد رسی اور مظلوموں کی فریاد رسی کو معمول بنا لیں...
(٧) صبح میلاد النبی ﷺ کے صدقے اسلامی زندگی گزارنے کا عزم کریں...
(٨) بھوکوں کو کھانا کھلائیں اور گھروں میں چراغاں کریں... بیماروں کی دَوا کریں...
(٩) خوشی و مسرت کے چراغ طاق دل پر فروزاں کریں اور نمازوں کی پابندی معمول بنائیں...
(١٠) سیرت پر کتابیں مطالعہ کریں... بالخصوص علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی کی تحریر "سیرت مصطفیٰﷺ" ہر فرد مطالعہ سے گزارے...
(١١) گھروں میں محافل ذکرِ رسول ﷺ سجائیں...
(١٢) گھروں، وادیوں اور مسجدوں میں درود پاک کی محفلیں منعقد کریں... اور بصد احترام سلام باقیام پیش کر کے ادب کی بزم میں احترام کے ہزاروں چراغ روشن کر دیں...
رسول اللہ ﷺ سراپا رحمت ہیں... برکتیں طلوع ہوتی ہیں... جہاں مہک اٹھتا ہے... آپ بھی محبتوں کی شمیم سے سیرابی کیجئے...اور والہانہ نغمے گنگنائیے:
صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا
باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا
مست بُو ہیں بُلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا
بھیک لے سرکار سے لا جلد کاسہ نور کا
ماہِ نو طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا
٭٭٭
٢١ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4507871125954845/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM