راتب_رفاعیہ_جامعہ_منعمیہ_مفتی_محب_اللہ_مصباحی.pdf
2.1 MB
راتب رفاعیہ کے متعلق جواب
جناب مفتی محب اللہ مصباحی صاحب دارالافتاء جامعہ منعمیہ خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی بہار
Raatib e Refaia ke Mutalliq Jawab Janab Mufti Mohibullaha Misbahi Sahab Darul Ifta Jamia Munemia Khanqah Munemia Mitanghat Patna-8 Bihar
جناب مفتی محب اللہ مصباحی صاحب دارالافتاء جامعہ منعمیہ خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی بہار
Raatib e Refaia ke Mutalliq Jawab Janab Mufti Mohibullaha Misbahi Sahab Darul Ifta Jamia Munemia Khanqah Munemia Mitanghat Patna-8 Bihar
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
'’وقفی اور غصبی زمین کا شرعی حکم‘‘ نوری مشن کی 123؍ویں اشاعت
*عرس اعلیٰ حضرت پر حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان قادری کی اہم کتاب منصۂ شہود پر*
مالیگاؤں: شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے وقف کے مسائل پر ایک اہم کتاب ’’منح القدیر الحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی‘‘ 1350ھ میں تالیف فرمائی۔ اسی عہد میں طابع رضوی بریلی شریف سے اشاعت ہوئی۔ عرسِ اعلیٰ حضرت پر یہ کتاب عرفی نام ’’وقفی اور غصبی زمین کا شرعی حکم‘‘ نوری مشن کی طرف سے شائع ہو رہی ہے۔ مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی ککرالوی نے حوالوں کی تخریج کی، ترجمہ و حاشیہ تحریر فرمایا اور تحقیق کی۔ کتاب بحمدہٖ تعالیٰ بڑی جامع، پر مغز اور فقہی جزئیات پر مشتمل ہے۔ وقف اراضی سے متعلق شرعی احکام کا مدلل اور محققانہ بیان ہے۔ ساتھ ہی قبورِ مسلمین کےاحترام سے متعلق شرعی احکام ذکر کیے ہیں ۔ فقہی مسئلے میں جس قدر محتاط راہ حجۃ الاسلام نے اپنائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ آپ نے یہ درس دیا کہ تحقیق کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ حکم شرع کے بیان میں اسلاف کی راہ چلا جائے۔ 64؍صفحات میں تقریباً 100؍سے زیادہ حوالوں کا اہتمام ہے۔ مرتب محترم مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی نے انتساب مفتی محمد افضل حسین مونگیری خلیفۂ مفتی اعظم کے نام کیا ہے، جن کی ذاتی لائبریری سے یہ رسالہ دریافت ہوا۔ موصوف نے اس پر جامع مقدمہ بھی قلم بند کیا۔ جب کہ دعائیہ کلمات شہزادۂ صدرالشریعہ حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری نے تحریر فرمائے ہیں۔ تعارفی کلمات مفتی عبدالرحیم نشتر فاروقی بریلی شریف و غلام مصطفیٰ رضوی نے لکھے۔ یہ کتاب دارالافتاء اور لائبریری کے لیے، نیز اصحابِ تحقیق و ذمہ دارانِ اوقاف(مساجد/قبرستان/مدارس) کے لیے بڑی اہم ہے۔ جس کی تقسیم عرسِ اعلیٰ حضرت پر عمل میں آئے گی-
***
6 اکتوبر 2020ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4440038059404819/
*عرس اعلیٰ حضرت پر حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان قادری کی اہم کتاب منصۂ شہود پر*
مالیگاؤں: شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے وقف کے مسائل پر ایک اہم کتاب ’’منح القدیر الحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی‘‘ 1350ھ میں تالیف فرمائی۔ اسی عہد میں طابع رضوی بریلی شریف سے اشاعت ہوئی۔ عرسِ اعلیٰ حضرت پر یہ کتاب عرفی نام ’’وقفی اور غصبی زمین کا شرعی حکم‘‘ نوری مشن کی طرف سے شائع ہو رہی ہے۔ مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی ککرالوی نے حوالوں کی تخریج کی، ترجمہ و حاشیہ تحریر فرمایا اور تحقیق کی۔ کتاب بحمدہٖ تعالیٰ بڑی جامع، پر مغز اور فقہی جزئیات پر مشتمل ہے۔ وقف اراضی سے متعلق شرعی احکام کا مدلل اور محققانہ بیان ہے۔ ساتھ ہی قبورِ مسلمین کےاحترام سے متعلق شرعی احکام ذکر کیے ہیں ۔ فقہی مسئلے میں جس قدر محتاط راہ حجۃ الاسلام نے اپنائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ آپ نے یہ درس دیا کہ تحقیق کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ حکم شرع کے بیان میں اسلاف کی راہ چلا جائے۔ 64؍صفحات میں تقریباً 100؍سے زیادہ حوالوں کا اہتمام ہے۔ مرتب محترم مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی نے انتساب مفتی محمد افضل حسین مونگیری خلیفۂ مفتی اعظم کے نام کیا ہے، جن کی ذاتی لائبریری سے یہ رسالہ دریافت ہوا۔ موصوف نے اس پر جامع مقدمہ بھی قلم بند کیا۔ جب کہ دعائیہ کلمات شہزادۂ صدرالشریعہ حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری نے تحریر فرمائے ہیں۔ تعارفی کلمات مفتی عبدالرحیم نشتر فاروقی بریلی شریف و غلام مصطفیٰ رضوی نے لکھے۔ یہ کتاب دارالافتاء اور لائبریری کے لیے، نیز اصحابِ تحقیق و ذمہ دارانِ اوقاف(مساجد/قبرستان/مدارس) کے لیے بڑی اہم ہے۔ جس کی تقسیم عرسِ اعلیٰ حضرت پر عمل میں آئے گی-
***
6 اکتوبر 2020ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4440038059404819/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from مطبوعات نعیمی۔۔۔۔ قدیم وجدید
احباب اہل سنت!
حضورحجۃ الاسلام قدس سرہ کا مبارک رسالہ ’’منح القدیرالحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی‘‘جس کاعرفی نام فقیرنے ’’وقفی اورغصبی زمین کاشرعی حکم‘‘رکھاتھا۔فقیرکے حاشیہ وغیرہ کے ساتھ نوری مشن مالیگاؤں اوراعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹرکے تعاون سے یہ کتاب زیورطبع سے آراستہ ہوئی اورآج عرس اعلی حضرت میں قل شریف کے موقع پر شہزادہ حضور تاج الشریعہ ،قائد ملت حضرت علامہ مفتی محمدعسجدرضاخان صاحب قبلہ دام ظلہ النورانی کے مبارک ہاتھوں اس مبارک کتاب کا اجرا عمل میں آیا۔
احباب کی فرمائش پر حسب وعدہ کتاب کی پی ڈی ایف فائل پیش خدمت ہے ۔
درج ذیل ویب سائٹ یا ٹیلی گرام سے بھی ڈاؤن لوڈکی جاسکتی ہے۔
https://t.me/naimimatboaat786
http://nooridarulifta.com/books/
اورجن لوگوں کواس کی ہارڈ کاپی درکارہووہ نوری مشن مالیگاؤں سے رابطہ کریں!!!
احباب سے التماس ہے کہ فقیرکے ساتھ نوری مشن مالیگاؤں اوراعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹرمالیگاؤں کے جملہ اراکین کو اپنی مخصوص دعاؤں میں یاد فرمائیں۔
نیازکیش:
محمد ذوالفقارخان نعیمی ککرالوی غفرلہ ولابویہ
نوری دارالافتاء مدینہ مسجد محلہ علی خاں کاشی پوراتراکھنڈ
حضورحجۃ الاسلام قدس سرہ کا مبارک رسالہ ’’منح القدیرالحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی‘‘جس کاعرفی نام فقیرنے ’’وقفی اورغصبی زمین کاشرعی حکم‘‘رکھاتھا۔فقیرکے حاشیہ وغیرہ کے ساتھ نوری مشن مالیگاؤں اوراعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹرکے تعاون سے یہ کتاب زیورطبع سے آراستہ ہوئی اورآج عرس اعلی حضرت میں قل شریف کے موقع پر شہزادہ حضور تاج الشریعہ ،قائد ملت حضرت علامہ مفتی محمدعسجدرضاخان صاحب قبلہ دام ظلہ النورانی کے مبارک ہاتھوں اس مبارک کتاب کا اجرا عمل میں آیا۔
احباب کی فرمائش پر حسب وعدہ کتاب کی پی ڈی ایف فائل پیش خدمت ہے ۔
درج ذیل ویب سائٹ یا ٹیلی گرام سے بھی ڈاؤن لوڈکی جاسکتی ہے۔
https://t.me/naimimatboaat786
http://nooridarulifta.com/books/
اورجن لوگوں کواس کی ہارڈ کاپی درکارہووہ نوری مشن مالیگاؤں سے رابطہ کریں!!!
احباب سے التماس ہے کہ فقیرکے ساتھ نوری مشن مالیگاؤں اوراعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹرمالیگاؤں کے جملہ اراکین کو اپنی مخصوص دعاؤں میں یاد فرمائیں۔
نیازکیش:
محمد ذوالفقارخان نعیمی ککرالوی غفرلہ ولابویہ
نوری دارالافتاء مدینہ مسجد محلہ علی خاں کاشی پوراتراکھنڈ
زمین کے وقفی و غصبی ہونے سے متعلق نفیس اور مدلل و مفصل بحث پر مشتمل علمی و تحقیقی رسالہ منیفہ مسمیٰ با التاریخ
منح القدیر الحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی ۰۵۳۱ھ اللہ قدیر وحی کی عطائیں، غلط پھر درست سوال کے جواب میں!
✍ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی حامد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
وقفی اور غصبی زمین کا شرعی
حکم 📖 تحقیق تخریج تحشیہ :
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
📝 #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری مشن مالیگاؤں و اعلیٰ
حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
منح القدیر الحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی ۰۵۳۱ھ اللہ قدیر وحی کی عطائیں، غلط پھر درست سوال کے جواب میں!
✍ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی حامد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
وقفی اور غصبی زمین کا شرعی
حکم 📖 تحقیق تخریج تحشیہ :
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
📝 #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری مشن مالیگاؤں و اعلیٰ
حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اشعار کے معنی کا کوئی طریقہ معین نہیں ہے ۔
سننے والے کے دل میں جو معنی ہیں ، جب وہ شعر سنتا ہے تو اُس میں اپنے حال کی مناسبت سے معنی سمجھتا ہے ۔
اور اِس کی مثال آئینے سے دی گئی ہے کہ:
آئینے میں صورت کے منعکس ہونے کی کوئی مُتعین شکل نہیں ہے ، کہ آئینہ جو بھی دیکھے ، ایک معین صورت نظر آئے ؛ بلکہ وہ جو بھی دیکھے گا ، اپنی ہی صورت کا عکس دیکھے گا ۔
اِسی طرح اشعار میں ہے کہ:
جو بھی سنتا ہے ، اپنے انداز کے مطابق سنتا ہے ؛ اس کے دل میں جو مثال ہے ، اُسی پر شعر کے معنیٰ لیتا ہے ۔
( شعر شور انگیز ، ج 1 ، ص 20 ، ط اظہار سنز لاہور ، س 2013ء )
✍️لقمان شاہد
20-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988606791419490&id=100008105947430
اشعار کے معنی کا کوئی طریقہ معین نہیں ہے ۔
سننے والے کے دل میں جو معنی ہیں ، جب وہ شعر سنتا ہے تو اُس میں اپنے حال کی مناسبت سے معنی سمجھتا ہے ۔
اور اِس کی مثال آئینے سے دی گئی ہے کہ:
آئینے میں صورت کے منعکس ہونے کی کوئی مُتعین شکل نہیں ہے ، کہ آئینہ جو بھی دیکھے ، ایک معین صورت نظر آئے ؛ بلکہ وہ جو بھی دیکھے گا ، اپنی ہی صورت کا عکس دیکھے گا ۔
اِسی طرح اشعار میں ہے کہ:
جو بھی سنتا ہے ، اپنے انداز کے مطابق سنتا ہے ؛ اس کے دل میں جو مثال ہے ، اُسی پر شعر کے معنیٰ لیتا ہے ۔
( شعر شور انگیز ، ج 1 ، ص 20 ، ط اظہار سنز لاہور ، س 2013ء )
✍️لقمان شاہد
20-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988606791419490&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عورتوں کا مزارات پہ جانا/ عورتوں کا مزارات پہ مجاور بن کے بیٹھنا:
امامِ اہل سنت فرماتے ہیں کہ
“عورتوں کو زیارتِ قبور منع ہے۔ حدیث میں ہے
_لعن الله زائرات القبور_ اللہ کی لعنت ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کو جائیں۔”
پھر ایک جگہ فرماتے ہیں:
مجاور مَردوں کو ہونا چاہئے ۔ عورت مجاور بن کر بیٹھے اور آنے جانے والوں سے اختلاط کرے یہ سخت بدعت ہے۔ عورت کو گوشہ نشینی کا حکم ہے۔ نہ یوں مردوں کے ساتھ اختلاط کا جس میں بعض اوقات مردوں کے ساتھ اسے تنہائی بھی ہوگی اور یہ حرام ہے۔
_فتاوی رضویہ شریف، ج ٤، ص ٦٥_
ایک سائل کو جواب لکھتے ہوئے فرمایا :
“مزاراتِ اولیاء یا دیگر قبور کی زیارت کو عورتوں کا جانا باتباع غنیہ علامہ محقق ابراہیم حلبی ہرگز پسند نہیں کرتا۔
خصوصاً اس طوفانِ بدتمیزی رقص و مزامیر و سرود میں جو آج کل کے جہال نے اعراس طیبہ میں برپا کر رکھا ہے اس کی شرکت میں تو عوامِ رجال کو بھی پسند نہیں رکھتا۔۔۔”
_فتاوی رضویہ شریف، ج ٤، ص ۱٦٦_
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379252808050&id=100008080090753
امامِ اہل سنت فرماتے ہیں کہ
“عورتوں کو زیارتِ قبور منع ہے۔ حدیث میں ہے
_لعن الله زائرات القبور_ اللہ کی لعنت ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کو جائیں۔”
پھر ایک جگہ فرماتے ہیں:
مجاور مَردوں کو ہونا چاہئے ۔ عورت مجاور بن کر بیٹھے اور آنے جانے والوں سے اختلاط کرے یہ سخت بدعت ہے۔ عورت کو گوشہ نشینی کا حکم ہے۔ نہ یوں مردوں کے ساتھ اختلاط کا جس میں بعض اوقات مردوں کے ساتھ اسے تنہائی بھی ہوگی اور یہ حرام ہے۔
_فتاوی رضویہ شریف، ج ٤، ص ٦٥_
ایک سائل کو جواب لکھتے ہوئے فرمایا :
“مزاراتِ اولیاء یا دیگر قبور کی زیارت کو عورتوں کا جانا باتباع غنیہ علامہ محقق ابراہیم حلبی ہرگز پسند نہیں کرتا۔
خصوصاً اس طوفانِ بدتمیزی رقص و مزامیر و سرود میں جو آج کل کے جہال نے اعراس طیبہ میں برپا کر رکھا ہے اس کی شرکت میں تو عوامِ رجال کو بھی پسند نہیں رکھتا۔۔۔”
_فتاوی رضویہ شریف، ج ٤، ص ۱٦٦_
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379252808050&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
غیرمقلدوہابیوں کی طرف سے ایک مجلس میں دی گئی تین طلاق کو ایک قراردینے کے تناظر میں:
ایک حنفی کسی غیرمقلد کی ہوٹل میں گیا اور تین سموسے کھاگیا
جب کاونٹر پرپیسے دینے آیا تو صرف ایک سموسے کے پیسے دیئے
مالک غیرمقلد پریشان ہوکر بولا
کہ سموسے تین کھائے اور پیسے ایک کے دے رہے ہو
حنفی نے کہا
ارے بھائی ایک ہی مجلس میں کھائے ہیں
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379652808010&id=100008080090753
ایک حنفی کسی غیرمقلد کی ہوٹل میں گیا اور تین سموسے کھاگیا
جب کاونٹر پرپیسے دینے آیا تو صرف ایک سموسے کے پیسے دیئے
مالک غیرمقلد پریشان ہوکر بولا
کہ سموسے تین کھائے اور پیسے ایک کے دے رہے ہو
حنفی نے کہا
ارے بھائی ایک ہی مجلس میں کھائے ہیں
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379652808010&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ابن تیمیہ اور ابو میاں بھائی بھائی
ابن تیمیہ کے بارے میں ہم اہل سنت وجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ شخص گمراہ اور گمراہ گر ہے فقیہ اسلام امام اہلسنت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ
"ابن تیمیہ ضال مضل ہے"(المعتقد المستند ص ١٨٨)
نیز فرماتے ہیں کہ
"متأخرین حنابلہ بعض خبثأ مجسمہ ہوگئے جیسے ابن تیمیہ اور ابن قیم"
فتاوی رضویہ ٤٩\ ١١
مزید تفصیل کے لئے "قوارع القھار" مشمولہ فتاوی رضویہ جلد گیارہ اور فتاوی فیض الرسول جلد اول ص ٤٦ پر ملاحظہ فرمائیں ۔
ابو میاں اور ان کے متعلقین کا عقیدہ یہ کہ
"اللہ تعالٰی نے شیخ ابن تیمیہ کو بڑی خوبیوں سے نوازا تھا وہ حافظہ علم و فضل تقوی و خشیت زہد و ورع قناعت صبر جرعت و شجاعت سنت کی پیروی بدعت سے اجتناب اعلائے کلمۂ حق اور جہاد۔کے لئے ہمہ وقت کمر بستگی یہ وہ خوصوصیات ہیں جن سے وہ اپنے معاصرین کے درمیان ممتاز اور مشہور ہوئے"
الاحسان حصہ دوم ص ١٦٠
نیز اسی میں ہے مقالا نگار ضیاءالرحمان علیمی کے خیال میں :
"مختلف مسائل میں ان کا اختلاف غلط فہمی پر مبنی ہے اور اس کی وجہ سے ان کا اختیلاف لفظی بن کر رہ گیا ہے اور اس کے علاوہ وہ مشائخ صوفیہ کی مدح بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں"
(الاحسان حصہ دوم ص ١١٥÷ ١١٦)
"بچپن سے ہی( ابن تیمیہ کے اندر ) شرافت و نجابت کے آثار نمایاں تھے"
( ایضاً حصہ دوم ص ١٠٦)
"آفتاب علم (ابن تیمیہ)غروب ہوگیا"
(ایضاً ١٠٩)
"شیخ ابن تیمیہ بھی اسلام کے پیروکار اور امت محمدیہ کے اعلام میں سے تھے اسلام چونکہ ظاہری اور روحانی دونوں طرح کی تعلیمات پر مشتمل ہے اس لئے یہ بات مشکل ہے کہ کوئی اسلام کا متبع ہو اور اس کی زندگی میں روحانی پہلو نہ ہوں"
(ایضاً حصہ دوم ص ١٣٨)
"اور بعض مسائل میں (ابن تیمیہ نے )اپنے اجتہادات پیش کئے اور مجتہد کبھی صواب پر ہوتا ہے اور کبھی خطا پر "
(ایضاً حصہ دوم ص ١٤٤)
"خواب میں وہ (ابن تیمیہ) رویت باری کے منکر نہیں بلکہ بیداری کی حالت میں رویت قلبی کے امکان کو درست ٹھراتے ہیں ۔اس کے علاوہ خود ان کی زندگی بھی تصوف کے رنگ میں رنگی ہوئی معلوم ہوتی ہے" (ایضاًحصہ دوم ص ١٤٥)
( نوٹ)یہ کتاب یعنی الاحسان جامعہ عارفیہ سید سراواں میں ابو میاں کی سرپرستی میں لکھی گئی جس میں ابن تیمیہ جیسے خبیث کو زاہد متورع مجتہد صوفی صاحب روحانیت متبع سنت متقی اور تصوف کے رنگ میں رنگی ہوئی زندگی والا جیسے القاب و آداب سے یاد کیا گیا اب ہم ابو میاں کو داعیئ اسلام لکھنے والوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جو ابن تیمیہ جیسے گستاخ خبیث گمراہ اور گمراہ گر کو نہ صرف سنی صحیح العقیدہ بلکہ متقی متورع اور صاحب روحانیت بزرگ مانے وہ داعئ سلام ہوگا یا داعئ شیطان ؟ ابو کے نظرانہ والے جتنے چمچے ہیں سب مل کر جواب دیں کہ کیا مسلک اعلی حضرت کا یہی مقصد ہے کے اعلی حضرت اور علمائے اہل سنت جیسے خبیث گمراہ اور گمراہ گر کہیں اسے ابو میاں اور ان کے چمچے متقی پرہیز گار اور صاحب روحانیت بزرگ مانے اس کے بعد بھی مسلک اعلی حضرت پر قائم و دائم ہیں ۔
استغفر اللّٰہ
غلام ربانی شرف نظامی القادری ایجو کیشن اینڈ ویلفیر فاؤنڈیشن کریلی الہ آباد
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379856141323&id=100008080090753
ابن تیمیہ کے بارے میں ہم اہل سنت وجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ شخص گمراہ اور گمراہ گر ہے فقیہ اسلام امام اہلسنت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ
"ابن تیمیہ ضال مضل ہے"(المعتقد المستند ص ١٨٨)
نیز فرماتے ہیں کہ
"متأخرین حنابلہ بعض خبثأ مجسمہ ہوگئے جیسے ابن تیمیہ اور ابن قیم"
فتاوی رضویہ ٤٩\ ١١
مزید تفصیل کے لئے "قوارع القھار" مشمولہ فتاوی رضویہ جلد گیارہ اور فتاوی فیض الرسول جلد اول ص ٤٦ پر ملاحظہ فرمائیں ۔
ابو میاں اور ان کے متعلقین کا عقیدہ یہ کہ
"اللہ تعالٰی نے شیخ ابن تیمیہ کو بڑی خوبیوں سے نوازا تھا وہ حافظہ علم و فضل تقوی و خشیت زہد و ورع قناعت صبر جرعت و شجاعت سنت کی پیروی بدعت سے اجتناب اعلائے کلمۂ حق اور جہاد۔کے لئے ہمہ وقت کمر بستگی یہ وہ خوصوصیات ہیں جن سے وہ اپنے معاصرین کے درمیان ممتاز اور مشہور ہوئے"
الاحسان حصہ دوم ص ١٦٠
نیز اسی میں ہے مقالا نگار ضیاءالرحمان علیمی کے خیال میں :
"مختلف مسائل میں ان کا اختلاف غلط فہمی پر مبنی ہے اور اس کی وجہ سے ان کا اختیلاف لفظی بن کر رہ گیا ہے اور اس کے علاوہ وہ مشائخ صوفیہ کی مدح بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں"
(الاحسان حصہ دوم ص ١١٥÷ ١١٦)
"بچپن سے ہی( ابن تیمیہ کے اندر ) شرافت و نجابت کے آثار نمایاں تھے"
( ایضاً حصہ دوم ص ١٠٦)
"آفتاب علم (ابن تیمیہ)غروب ہوگیا"
(ایضاً ١٠٩)
"شیخ ابن تیمیہ بھی اسلام کے پیروکار اور امت محمدیہ کے اعلام میں سے تھے اسلام چونکہ ظاہری اور روحانی دونوں طرح کی تعلیمات پر مشتمل ہے اس لئے یہ بات مشکل ہے کہ کوئی اسلام کا متبع ہو اور اس کی زندگی میں روحانی پہلو نہ ہوں"
(ایضاً حصہ دوم ص ١٣٨)
"اور بعض مسائل میں (ابن تیمیہ نے )اپنے اجتہادات پیش کئے اور مجتہد کبھی صواب پر ہوتا ہے اور کبھی خطا پر "
(ایضاً حصہ دوم ص ١٤٤)
"خواب میں وہ (ابن تیمیہ) رویت باری کے منکر نہیں بلکہ بیداری کی حالت میں رویت قلبی کے امکان کو درست ٹھراتے ہیں ۔اس کے علاوہ خود ان کی زندگی بھی تصوف کے رنگ میں رنگی ہوئی معلوم ہوتی ہے" (ایضاًحصہ دوم ص ١٤٥)
( نوٹ)یہ کتاب یعنی الاحسان جامعہ عارفیہ سید سراواں میں ابو میاں کی سرپرستی میں لکھی گئی جس میں ابن تیمیہ جیسے خبیث کو زاہد متورع مجتہد صوفی صاحب روحانیت متبع سنت متقی اور تصوف کے رنگ میں رنگی ہوئی زندگی والا جیسے القاب و آداب سے یاد کیا گیا اب ہم ابو میاں کو داعیئ اسلام لکھنے والوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جو ابن تیمیہ جیسے گستاخ خبیث گمراہ اور گمراہ گر کو نہ صرف سنی صحیح العقیدہ بلکہ متقی متورع اور صاحب روحانیت بزرگ مانے وہ داعئ سلام ہوگا یا داعئ شیطان ؟ ابو کے نظرانہ والے جتنے چمچے ہیں سب مل کر جواب دیں کہ کیا مسلک اعلی حضرت کا یہی مقصد ہے کے اعلی حضرت اور علمائے اہل سنت جیسے خبیث گمراہ اور گمراہ گر کہیں اسے ابو میاں اور ان کے چمچے متقی پرہیز گار اور صاحب روحانیت بزرگ مانے اس کے بعد بھی مسلک اعلی حضرت پر قائم و دائم ہیں ۔
استغفر اللّٰہ
غلام ربانی شرف نظامی القادری ایجو کیشن اینڈ ویلفیر فاؤنڈیشن کریلی الہ آباد
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379856141323&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عالم اورجاہل کےگناہوں کی جزامیں فرق:
حدیث میں ہے:
رسول ﷲ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ذنب العالم ذنب واحد وذنب الجاھل ذنبان۔قیل ولم یارسولﷲ،قال العالم یعذب علٰی رکوبہ الذنب والجاھل یعذب علٰی رکوبہ الذنب وترک التعلم
( فیض القدیر تحت حدیث ۴۳۳۵دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۵۶۵۔الجامع الصغیرحدیث ۴۳۳۵دارالکتب العلمیۃ بیروت۔۲ /۲۶۴)
"عالم کا گناہ ایک گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دوہرا گناہ،عرض کی:یارسول اﷲ ! یہ کس لیے؟فرمایا:عالم پر گناہ کرنے کا عذاب ہے اور جاہل پر ایک عذاب گناہ کرنے کا ہے اور ایک علم نہ سیکھنے کا"
(منقول از فتاوی رضویہ)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2842388892707086&id=100008080090753
حدیث میں ہے:
رسول ﷲ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ذنب العالم ذنب واحد وذنب الجاھل ذنبان۔قیل ولم یارسولﷲ،قال العالم یعذب علٰی رکوبہ الذنب والجاھل یعذب علٰی رکوبہ الذنب وترک التعلم
( فیض القدیر تحت حدیث ۴۳۳۵دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۵۶۵۔الجامع الصغیرحدیث ۴۳۳۵دارالکتب العلمیۃ بیروت۔۲ /۲۶۴)
"عالم کا گناہ ایک گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دوہرا گناہ،عرض کی:یارسول اﷲ ! یہ کس لیے؟فرمایا:عالم پر گناہ کرنے کا عذاب ہے اور جاہل پر ایک عذاب گناہ کرنے کا ہے اور ایک علم نہ سیکھنے کا"
(منقول از فتاوی رضویہ)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2842388892707086&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM