Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
مطلع حجاز پر
*آفتابِ رسالت ﷺ کی جلوہ گری*
علامہ قمرالزماں خان اعظمی
[سکریٹری جنرل: ورلڈ اسلامک مشن،لندن]
ربیع النور اپنی جملہ تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوچکا ہے۔ اسی ماہِ مقدس کی ۱۲؍ تاریخ کو مطلعِ فاران پر وہ آفتاب ِ رسالت جلوہ فگن ہوا تھا؛ جس نے اس ظلمت کدۂ عالَم کو روشن و منوّر فرما دیا۔ جس نے اوہام و خرافات کی تاریکیوں کو ایمان و یقین کے نور سے بدل دیا، جس نے عالَمِ انسانی کو عدل و انصاف کا حقیقی شعور عطا فرمایا اور انسانوں کو انسانیت کے احترام کی تعلیم دی۔ اسی ماہِ مقدس کی بدولت انسان ان تمام اقدارِ حیات سے مشرف ہوا جنہیں اختیار کرکے وہ اس سرزمین پر نیابتِ الٰہی کا فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے غافل اور گم کردہ راہ انسانوں کو ان کی منزل کا پتا بتایا، انہیں لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی اٰدَمَ کے تاجِ عظمت سے نوازا اور انہیں احسنِ تقویم کی خلعتِ زیبا سے سرفراز فرمایا، انہیں اسفل السافلین کی پستیوں سے نکال کر خلافتِ ارضی کی رفعتوں پر پہنچایا، انہیں وحشت کے ماحول سے نکال کر عدل و انصاف کی زندگی عطا فرمائی۔
سیّدنا مسیح علیہ السّلام کے رفعِ آسمانی کے بعد سے سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری تک ۵۷۰؍ سال کا زمانہ، تاریک ترین زمانہ تھا۔ اس طویل عرصے میں انسان اپنی اخلاقی پستیوں کی بدترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔ اس پورے عرصے میں دُنیا میں کوئی نبی یا رسول جلوہ گر نہ ہوا، جو لوگوں کی اخلاقی اور روحانی رہنمائی کرتا۔ دُنیا میں کوئی ایسی حکومت قائم نہ ہوئی جو عدل و انصاف کی علَم بردار ہوتی، اور نہ کوئی ایسا معاشرہ قائم ہوا جو انسانی قدروں کا آئینہ دار ہوتا۔ اس تاریک ترین دور میں ہر طرف ظلم و جور کی حکمرانی تھی۔ دُنیا کی متمدن قومیں مِٹ چکی تھیں۔ انسانوں کے خود ساختہ قوانین نے کم زوروں سے زندگی کے تمام حقوق سلب کرلیے تھے۔ یونان اور روم میں صرف طاقتور کو زندہ رہنے کا حق دیا جاتا تھا۔ برِ صغیر میں زندہ انسانوں کو ظلم کی چِتاؤں پر جلایا جاتا تھا، اور یورپ کے بہت سے علاقوں میں تڑپتی ہوئی لاشوں کو رقصِ بسمل کے نام سے پیش کیا جاتا تھا۔ مصر میں دریاے نیل کے کنارے نیل پرستی کے نام پر گلستانِ حیات کے نوشگفتہ پھولوں کو مَسل دیا جاتا تھا، اور حجاز میں زندہ بچیوں کو دَرگور کردیا جاتا تھا۔ پوری دُنیا مظالم سے بھری ہوئی تھی، مگر ان مظالم کے خلاف ایک بھی انسان کوئی مؤثر صداے احتجاج بلند کرتا ہوا نظر نہیں آرہا تھا۔ ان حالات میں کائنات کا اجتماعی ضمیر خلاقِ کائنات کی بارگاہ میں التجا کر رہا تھا کہ: اے رب قدوس! اس زمین پر ایک ایسی ہستی کو مبعوث فرما؛ جو اسے ظلم و ستم، جور و وحشت، شرک اور جہالت کی نجاستوں سے پاک فرماکر اسے معمورۂ امن و سکون بنا دے۔ خداے قدوس نے یہ التجا سُن لی، اور ۱۲؍ربیع الاوّل کو دوشنبہ کے دن صبحِ صادق کے وقت رسالت کے اس آفتابِ عالَم تاب کو جلوہ گر فرمایا، جو حقیقی طورپر کائنات کا نجات دہندہ اور امنِ عالَم کا ضامن ہے۔ خداے قدیر نے اس نورِ کامل کی تشریف آوری کا اعلان ان لفظوں میں فرمایا:
قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْن۔[المآئدۃ:آیت۱۵]
بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔
اِنَّآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیرًا وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مّنِیْرًا۔[الاحزاب:آیت۴۵۔۴۶]
بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنََ۔[الانبیاء:آیت۱۰۷]
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔
پورا عالَمِ اسلام اللہ رب العزت کے انہیں فرامینِ مقدسہ کو دُہرانے کے لیے ماہِ ربیع الاوّل میں- جشنِ میلادُالنبی- منعقد کرتا ہے۔ مصر و شام، عراق و ایران، ہند و پاک، ترکی و قبرص، نائجیریا و لیبیا، سوڈان و یوگوسلاویہ؛ الغرض جہاں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں، جشنِ عید میلادُالنبی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ میلادالنبی کی ان محافل میں قرآنِ عظیم کی آیات پڑھی جاتی ہیں، نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی جاتی ہے، سیرتِ رسول بیان کی جاتی ہے اور صلوٰۃ و سلام ہوتا ہے۔ صدیوں سے دُنیا کے بیش تر ملکوں میں سیرتِ رسول اور پیغامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کا یہ ایک منظم اور باضابطہ طریقہ ہے۔ آپ اگر برِصغیر ہند و پاک کے اُن علاقوں میں تشریف لے جائیں جہاں ہنوز علم کی روشنی نہیں پہنچی ہے تو وہاں بھی عید میلادُالنبی کی برکات کا مشاہدہ کرسکیں گے۔ مسلمانوں کے اندر شریعت سے وابستگی، عشقِ رسول اور دینِ اسلام سے فِدا کاری کی حدتک تعلق، سب کچھ عید میلاد النبی کی برکتوں کا ظہور ہے۔
*جشن میلادُالنبی کے سلسلے میں حکومتِ سعودیہ عربیہ کا منفی کردار:* جہاں ایک طرف پوری دُنیا میں جشن میلادُالنبی
*آفتابِ رسالت ﷺ کی جلوہ گری*
علامہ قمرالزماں خان اعظمی
[سکریٹری جنرل: ورلڈ اسلامک مشن،لندن]
ربیع النور اپنی جملہ تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوچکا ہے۔ اسی ماہِ مقدس کی ۱۲؍ تاریخ کو مطلعِ فاران پر وہ آفتاب ِ رسالت جلوہ فگن ہوا تھا؛ جس نے اس ظلمت کدۂ عالَم کو روشن و منوّر فرما دیا۔ جس نے اوہام و خرافات کی تاریکیوں کو ایمان و یقین کے نور سے بدل دیا، جس نے عالَمِ انسانی کو عدل و انصاف کا حقیقی شعور عطا فرمایا اور انسانوں کو انسانیت کے احترام کی تعلیم دی۔ اسی ماہِ مقدس کی بدولت انسان ان تمام اقدارِ حیات سے مشرف ہوا جنہیں اختیار کرکے وہ اس سرزمین پر نیابتِ الٰہی کا فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے غافل اور گم کردہ راہ انسانوں کو ان کی منزل کا پتا بتایا، انہیں لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی اٰدَمَ کے تاجِ عظمت سے نوازا اور انہیں احسنِ تقویم کی خلعتِ زیبا سے سرفراز فرمایا، انہیں اسفل السافلین کی پستیوں سے نکال کر خلافتِ ارضی کی رفعتوں پر پہنچایا، انہیں وحشت کے ماحول سے نکال کر عدل و انصاف کی زندگی عطا فرمائی۔
سیّدنا مسیح علیہ السّلام کے رفعِ آسمانی کے بعد سے سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری تک ۵۷۰؍ سال کا زمانہ، تاریک ترین زمانہ تھا۔ اس طویل عرصے میں انسان اپنی اخلاقی پستیوں کی بدترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔ اس پورے عرصے میں دُنیا میں کوئی نبی یا رسول جلوہ گر نہ ہوا، جو لوگوں کی اخلاقی اور روحانی رہنمائی کرتا۔ دُنیا میں کوئی ایسی حکومت قائم نہ ہوئی جو عدل و انصاف کی علَم بردار ہوتی، اور نہ کوئی ایسا معاشرہ قائم ہوا جو انسانی قدروں کا آئینہ دار ہوتا۔ اس تاریک ترین دور میں ہر طرف ظلم و جور کی حکمرانی تھی۔ دُنیا کی متمدن قومیں مِٹ چکی تھیں۔ انسانوں کے خود ساختہ قوانین نے کم زوروں سے زندگی کے تمام حقوق سلب کرلیے تھے۔ یونان اور روم میں صرف طاقتور کو زندہ رہنے کا حق دیا جاتا تھا۔ برِ صغیر میں زندہ انسانوں کو ظلم کی چِتاؤں پر جلایا جاتا تھا، اور یورپ کے بہت سے علاقوں میں تڑپتی ہوئی لاشوں کو رقصِ بسمل کے نام سے پیش کیا جاتا تھا۔ مصر میں دریاے نیل کے کنارے نیل پرستی کے نام پر گلستانِ حیات کے نوشگفتہ پھولوں کو مَسل دیا جاتا تھا، اور حجاز میں زندہ بچیوں کو دَرگور کردیا جاتا تھا۔ پوری دُنیا مظالم سے بھری ہوئی تھی، مگر ان مظالم کے خلاف ایک بھی انسان کوئی مؤثر صداے احتجاج بلند کرتا ہوا نظر نہیں آرہا تھا۔ ان حالات میں کائنات کا اجتماعی ضمیر خلاقِ کائنات کی بارگاہ میں التجا کر رہا تھا کہ: اے رب قدوس! اس زمین پر ایک ایسی ہستی کو مبعوث فرما؛ جو اسے ظلم و ستم، جور و وحشت، شرک اور جہالت کی نجاستوں سے پاک فرماکر اسے معمورۂ امن و سکون بنا دے۔ خداے قدوس نے یہ التجا سُن لی، اور ۱۲؍ربیع الاوّل کو دوشنبہ کے دن صبحِ صادق کے وقت رسالت کے اس آفتابِ عالَم تاب کو جلوہ گر فرمایا، جو حقیقی طورپر کائنات کا نجات دہندہ اور امنِ عالَم کا ضامن ہے۔ خداے قدیر نے اس نورِ کامل کی تشریف آوری کا اعلان ان لفظوں میں فرمایا:
قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْن۔[المآئدۃ:آیت۱۵]
بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔
اِنَّآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیرًا وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مّنِیْرًا۔[الاحزاب:آیت۴۵۔۴۶]
بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنََ۔[الانبیاء:آیت۱۰۷]
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔
پورا عالَمِ اسلام اللہ رب العزت کے انہیں فرامینِ مقدسہ کو دُہرانے کے لیے ماہِ ربیع الاوّل میں- جشنِ میلادُالنبی- منعقد کرتا ہے۔ مصر و شام، عراق و ایران، ہند و پاک، ترکی و قبرص، نائجیریا و لیبیا، سوڈان و یوگوسلاویہ؛ الغرض جہاں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں، جشنِ عید میلادُالنبی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ میلادالنبی کی ان محافل میں قرآنِ عظیم کی آیات پڑھی جاتی ہیں، نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی جاتی ہے، سیرتِ رسول بیان کی جاتی ہے اور صلوٰۃ و سلام ہوتا ہے۔ صدیوں سے دُنیا کے بیش تر ملکوں میں سیرتِ رسول اور پیغامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کا یہ ایک منظم اور باضابطہ طریقہ ہے۔ آپ اگر برِصغیر ہند و پاک کے اُن علاقوں میں تشریف لے جائیں جہاں ہنوز علم کی روشنی نہیں پہنچی ہے تو وہاں بھی عید میلادُالنبی کی برکات کا مشاہدہ کرسکیں گے۔ مسلمانوں کے اندر شریعت سے وابستگی، عشقِ رسول اور دینِ اسلام سے فِدا کاری کی حدتک تعلق، سب کچھ عید میلاد النبی کی برکتوں کا ظہور ہے۔
*جشن میلادُالنبی کے سلسلے میں حکومتِ سعودیہ عربیہ کا منفی کردار:* جہاں ایک طرف پوری دُنیا میں جشن میلادُالنبی
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام کیا جاتا ہے وہیں دُنیا کی ایک محسوس اور واضح اقلیت کے نمائندے میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس تقریب کے خلاف متحدہ محاذ بناکر دُنیا کو ان محافل سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ان تقاریب پر -شرک اور بدعت- کا فتویٰ صادر کرکے مسلمانوں کے ذہن کو پراگندہ اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور جب بھی عیدمیلادُالنبی کا زمانہ آتا ہے تو مسلمانوں کے گھروں میں ایسے کتابچے پہنچائے جاتے ہیں جن میں غیر علمی اور غیر منطقی مواد موجود ہوتا ہے۔ مگر اس کو علم و دانش کا نام دے کر مسلمانوں کو فریب دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ گذشتہ چند سالوں میں مفتیِ وہابیت ابنِ باز کے فتاویٰ تقسیم کیے جاتے ہیں، اور اب اس سال ابوبکر جابر الجزائری کا کتابچہ گھر گھر تقسیم کیا جارہا ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ حجازِ مقدس سے آنے والے حجاجِ کرام کو یہ کتابچہ سعودیہ عربیہ کی جانب سے تحفے میں دیا جاتا ہے اور گنبدِ خضریٰ کے انوار سے فیض یاب ہوکر آنے والے حجاج کو رسول دُشمنی کی یہ جیتی جاگتی دستاویز بطورِ تبرک پیش کی جاتی ہے۔ سُنّی دُنیا میں ان کتابچوں کا شدید ردِعمل ہوتا ہے اور محافلِ میلاد و جلسہ ہاے سیرت میں ان کی تردید کی جاتی ہے اور لوگوں کو اس کے فریب سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً مسلمانوں کی جو توانائیاں کفر و شرک، الحاد و مغربیت کے خلاف صرف ہونی چاہئیں وہ تردیدِ وہابیت کی نذر ہوجاتی ہیں۔ سعودی حکومت نے پوری دُنیا کے اسلامی لٹریچر کے لیے اپنی نام نہاد حکومت کے دروازے بند کر رکھے ہیں، مگر وہابیت کے گمراہ کُن لٹریچر کو عام کرنے کے لیے حج پاک کے موقع پر زائرینِ حرم کی سادہ لوحی کو شکار کیا جاتاہے۔ وہ آبِ شفا زم زم کے ساتھ بدعقیدگی کا یہ زہر بھی ساتھ لاتے ہیں۔ یہ ہماری وسعتِ ظرفی کہ ہم اس طرح کے لٹریچر کے خلاف کوئی متحدہ آواز نہیں بلند کر رہے ہیں، اس لیے کہ سعودی عرب کے ایوانِ اقتدار سے جس اَمر کی مخالفت کی جائے گی مسلمانانِ عالَم اُسے ضرور کریں گے۔
کاش! سعودی عرب کے اندر بھی یہ اخلاقی جرأت ہوتی اور اہلِ سنت کے ۱۴؍ سو سالہ مذہبی لٹریچر کو اپنی حدودِ مملکت میں درآمد کی اجازت دیتا تو سعودی عوام کے سامنے تصویر کے دونوں رُخ ہوتے، اور حق و باطل کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی۔ آج برطانیہ کی نوجوان نسل مغربیت، الحاد، بے دینی، اِرتداد اور اسلامی اقدار سے انحراف کے راستے پر گام زَن ہے۔ کیا حکومتِ سعودیہ عربیہ کو کبھی توفیق ہوئی کہ وہ ان برائیوں کے خلاف لٹریچر تیار کرواکے تقسیم کرتی؟ کیا ان تمام مفاسد کے مقابلے میں اُسے صرف محافلِ میلاد ہی ایسا مفسدہ نظر آتی ہیں جس کے خلاف وہ پٹرو ڈالر کے تمام وسائل استعمال کر رہی ہے؟
حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ ماہِ ستمبر میں میلادُالنبی کے خلاف لٹریچر تقسیم کیا جارہا ہے، اور اسی ماہ میں سعودی حکومت کا جشنِ تاسیس انتہائی دُھوم دھام سے منایا جارہا ہے۔ میلادُالنبی- جشنِ تاسیسِ اسلام- ہے مگر اس کی مخالفت کرنے والے اُس حکومت کا جشنِ تاسیس مناتے ہیں، جس نے خلافتِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کردیا اور حکومتِ ترکی کے خلاف بغاوت کرکے ایک ایسی حکومت کی داغ بیل ڈالی جس کے عنانِ اقتدار سنبھالتے ہی حجازِ مقدس میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا، مزاراتِ مقدسہ کا انہدام عمل میں لایا گیا اور مآثرِ شرعیہ و شعائرِ اسلامیہ کی توہین کی گئی۔ جس کے حکم رانوں نے اپنی ہوسِ اقتدار پرستی میں ڈوب کر سر زمینِ حجاز کو اقوامِ مغرب کا باج گذار بنادیا۔ جنھوں نے اسلام کے تصورِ خلافت سے انحراف کرکے ملوکیت کو زندہ کیا اور اسلام و عالَمِ اسلام کی مقدس امانت کو اپنی جاگیر قرار دے دیا۔ ایسی حکومت اور اس کے مفتیانِ شرع کے نزدیک عیدمیلادُالنبی تو شرک و بدعت ہے مگر سعودی عرب کا جشنِ تاسیس عین شریعت ہے ع بریں عقل ودانش بباید گر یست ٭٭٭
[ماخوذ: مقالاتِ خطیب اعظم، مرتب غلام مصطفیٰ رضوی، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]
***
ترسیل : نوری مشن مالیگاؤں
کاش! سعودی عرب کے اندر بھی یہ اخلاقی جرأت ہوتی اور اہلِ سنت کے ۱۴؍ سو سالہ مذہبی لٹریچر کو اپنی حدودِ مملکت میں درآمد کی اجازت دیتا تو سعودی عوام کے سامنے تصویر کے دونوں رُخ ہوتے، اور حق و باطل کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی۔ آج برطانیہ کی نوجوان نسل مغربیت، الحاد، بے دینی، اِرتداد اور اسلامی اقدار سے انحراف کے راستے پر گام زَن ہے۔ کیا حکومتِ سعودیہ عربیہ کو کبھی توفیق ہوئی کہ وہ ان برائیوں کے خلاف لٹریچر تیار کرواکے تقسیم کرتی؟ کیا ان تمام مفاسد کے مقابلے میں اُسے صرف محافلِ میلاد ہی ایسا مفسدہ نظر آتی ہیں جس کے خلاف وہ پٹرو ڈالر کے تمام وسائل استعمال کر رہی ہے؟
حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ ماہِ ستمبر میں میلادُالنبی کے خلاف لٹریچر تقسیم کیا جارہا ہے، اور اسی ماہ میں سعودی حکومت کا جشنِ تاسیس انتہائی دُھوم دھام سے منایا جارہا ہے۔ میلادُالنبی- جشنِ تاسیسِ اسلام- ہے مگر اس کی مخالفت کرنے والے اُس حکومت کا جشنِ تاسیس مناتے ہیں، جس نے خلافتِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کردیا اور حکومتِ ترکی کے خلاف بغاوت کرکے ایک ایسی حکومت کی داغ بیل ڈالی جس کے عنانِ اقتدار سنبھالتے ہی حجازِ مقدس میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا، مزاراتِ مقدسہ کا انہدام عمل میں لایا گیا اور مآثرِ شرعیہ و شعائرِ اسلامیہ کی توہین کی گئی۔ جس کے حکم رانوں نے اپنی ہوسِ اقتدار پرستی میں ڈوب کر سر زمینِ حجاز کو اقوامِ مغرب کا باج گذار بنادیا۔ جنھوں نے اسلام کے تصورِ خلافت سے انحراف کرکے ملوکیت کو زندہ کیا اور اسلام و عالَمِ اسلام کی مقدس امانت کو اپنی جاگیر قرار دے دیا۔ ایسی حکومت اور اس کے مفتیانِ شرع کے نزدیک عیدمیلادُالنبی تو شرک و بدعت ہے مگر سعودی عرب کا جشنِ تاسیس عین شریعت ہے ع بریں عقل ودانش بباید گر یست ٭٭٭
[ماخوذ: مقالاتِ خطیب اعظم، مرتب غلام مصطفیٰ رضوی، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]
***
ترسیل : نوری مشن مالیگاؤں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
راتب_رفاعیہ_جامعہ_منعمیہ_مفتی_محب_اللہ_مصباحی.pdf
2.1 MB
راتب رفاعیہ کے متعلق جواب
جناب مفتی محب اللہ مصباحی صاحب دارالافتاء جامعہ منعمیہ خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی بہار
Raatib e Refaia ke Mutalliq Jawab Janab Mufti Mohibullaha Misbahi Sahab Darul Ifta Jamia Munemia Khanqah Munemia Mitanghat Patna-8 Bihar
جناب مفتی محب اللہ مصباحی صاحب دارالافتاء جامعہ منعمیہ خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی بہار
Raatib e Refaia ke Mutalliq Jawab Janab Mufti Mohibullaha Misbahi Sahab Darul Ifta Jamia Munemia Khanqah Munemia Mitanghat Patna-8 Bihar
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
'’وقفی اور غصبی زمین کا شرعی حکم‘‘ نوری مشن کی 123؍ویں اشاعت
*عرس اعلیٰ حضرت پر حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان قادری کی اہم کتاب منصۂ شہود پر*
مالیگاؤں: شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے وقف کے مسائل پر ایک اہم کتاب ’’منح القدیر الحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی‘‘ 1350ھ میں تالیف فرمائی۔ اسی عہد میں طابع رضوی بریلی شریف سے اشاعت ہوئی۔ عرسِ اعلیٰ حضرت پر یہ کتاب عرفی نام ’’وقفی اور غصبی زمین کا شرعی حکم‘‘ نوری مشن کی طرف سے شائع ہو رہی ہے۔ مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی ککرالوی نے حوالوں کی تخریج کی، ترجمہ و حاشیہ تحریر فرمایا اور تحقیق کی۔ کتاب بحمدہٖ تعالیٰ بڑی جامع، پر مغز اور فقہی جزئیات پر مشتمل ہے۔ وقف اراضی سے متعلق شرعی احکام کا مدلل اور محققانہ بیان ہے۔ ساتھ ہی قبورِ مسلمین کےاحترام سے متعلق شرعی احکام ذکر کیے ہیں ۔ فقہی مسئلے میں جس قدر محتاط راہ حجۃ الاسلام نے اپنائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ آپ نے یہ درس دیا کہ تحقیق کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ حکم شرع کے بیان میں اسلاف کی راہ چلا جائے۔ 64؍صفحات میں تقریباً 100؍سے زیادہ حوالوں کا اہتمام ہے۔ مرتب محترم مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی نے انتساب مفتی محمد افضل حسین مونگیری خلیفۂ مفتی اعظم کے نام کیا ہے، جن کی ذاتی لائبریری سے یہ رسالہ دریافت ہوا۔ موصوف نے اس پر جامع مقدمہ بھی قلم بند کیا۔ جب کہ دعائیہ کلمات شہزادۂ صدرالشریعہ حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری نے تحریر فرمائے ہیں۔ تعارفی کلمات مفتی عبدالرحیم نشتر فاروقی بریلی شریف و غلام مصطفیٰ رضوی نے لکھے۔ یہ کتاب دارالافتاء اور لائبریری کے لیے، نیز اصحابِ تحقیق و ذمہ دارانِ اوقاف(مساجد/قبرستان/مدارس) کے لیے بڑی اہم ہے۔ جس کی تقسیم عرسِ اعلیٰ حضرت پر عمل میں آئے گی-
***
6 اکتوبر 2020ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4440038059404819/
*عرس اعلیٰ حضرت پر حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان قادری کی اہم کتاب منصۂ شہود پر*
مالیگاؤں: شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے وقف کے مسائل پر ایک اہم کتاب ’’منح القدیر الحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی‘‘ 1350ھ میں تالیف فرمائی۔ اسی عہد میں طابع رضوی بریلی شریف سے اشاعت ہوئی۔ عرسِ اعلیٰ حضرت پر یہ کتاب عرفی نام ’’وقفی اور غصبی زمین کا شرعی حکم‘‘ نوری مشن کی طرف سے شائع ہو رہی ہے۔ مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی ککرالوی نے حوالوں کی تخریج کی، ترجمہ و حاشیہ تحریر فرمایا اور تحقیق کی۔ کتاب بحمدہٖ تعالیٰ بڑی جامع، پر مغز اور فقہی جزئیات پر مشتمل ہے۔ وقف اراضی سے متعلق شرعی احکام کا مدلل اور محققانہ بیان ہے۔ ساتھ ہی قبورِ مسلمین کےاحترام سے متعلق شرعی احکام ذکر کیے ہیں ۔ فقہی مسئلے میں جس قدر محتاط راہ حجۃ الاسلام نے اپنائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ آپ نے یہ درس دیا کہ تحقیق کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ حکم شرع کے بیان میں اسلاف کی راہ چلا جائے۔ 64؍صفحات میں تقریباً 100؍سے زیادہ حوالوں کا اہتمام ہے۔ مرتب محترم مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی نے انتساب مفتی محمد افضل حسین مونگیری خلیفۂ مفتی اعظم کے نام کیا ہے، جن کی ذاتی لائبریری سے یہ رسالہ دریافت ہوا۔ موصوف نے اس پر جامع مقدمہ بھی قلم بند کیا۔ جب کہ دعائیہ کلمات شہزادۂ صدرالشریعہ حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری نے تحریر فرمائے ہیں۔ تعارفی کلمات مفتی عبدالرحیم نشتر فاروقی بریلی شریف و غلام مصطفیٰ رضوی نے لکھے۔ یہ کتاب دارالافتاء اور لائبریری کے لیے، نیز اصحابِ تحقیق و ذمہ دارانِ اوقاف(مساجد/قبرستان/مدارس) کے لیے بڑی اہم ہے۔ جس کی تقسیم عرسِ اعلیٰ حضرت پر عمل میں آئے گی-
***
6 اکتوبر 2020ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4440038059404819/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from مطبوعات نعیمی۔۔۔۔ قدیم وجدید
احباب اہل سنت!
حضورحجۃ الاسلام قدس سرہ کا مبارک رسالہ ’’منح القدیرالحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی‘‘جس کاعرفی نام فقیرنے ’’وقفی اورغصبی زمین کاشرعی حکم‘‘رکھاتھا۔فقیرکے حاشیہ وغیرہ کے ساتھ نوری مشن مالیگاؤں اوراعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹرکے تعاون سے یہ کتاب زیورطبع سے آراستہ ہوئی اورآج عرس اعلی حضرت میں قل شریف کے موقع پر شہزادہ حضور تاج الشریعہ ،قائد ملت حضرت علامہ مفتی محمدعسجدرضاخان صاحب قبلہ دام ظلہ النورانی کے مبارک ہاتھوں اس مبارک کتاب کا اجرا عمل میں آیا۔
احباب کی فرمائش پر حسب وعدہ کتاب کی پی ڈی ایف فائل پیش خدمت ہے ۔
درج ذیل ویب سائٹ یا ٹیلی گرام سے بھی ڈاؤن لوڈکی جاسکتی ہے۔
https://t.me/naimimatboaat786
http://nooridarulifta.com/books/
اورجن لوگوں کواس کی ہارڈ کاپی درکارہووہ نوری مشن مالیگاؤں سے رابطہ کریں!!!
احباب سے التماس ہے کہ فقیرکے ساتھ نوری مشن مالیگاؤں اوراعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹرمالیگاؤں کے جملہ اراکین کو اپنی مخصوص دعاؤں میں یاد فرمائیں۔
نیازکیش:
محمد ذوالفقارخان نعیمی ککرالوی غفرلہ ولابویہ
نوری دارالافتاء مدینہ مسجد محلہ علی خاں کاشی پوراتراکھنڈ
حضورحجۃ الاسلام قدس سرہ کا مبارک رسالہ ’’منح القدیرالحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی‘‘جس کاعرفی نام فقیرنے ’’وقفی اورغصبی زمین کاشرعی حکم‘‘رکھاتھا۔فقیرکے حاشیہ وغیرہ کے ساتھ نوری مشن مالیگاؤں اوراعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹرکے تعاون سے یہ کتاب زیورطبع سے آراستہ ہوئی اورآج عرس اعلی حضرت میں قل شریف کے موقع پر شہزادہ حضور تاج الشریعہ ،قائد ملت حضرت علامہ مفتی محمدعسجدرضاخان صاحب قبلہ دام ظلہ النورانی کے مبارک ہاتھوں اس مبارک کتاب کا اجرا عمل میں آیا۔
احباب کی فرمائش پر حسب وعدہ کتاب کی پی ڈی ایف فائل پیش خدمت ہے ۔
درج ذیل ویب سائٹ یا ٹیلی گرام سے بھی ڈاؤن لوڈکی جاسکتی ہے۔
https://t.me/naimimatboaat786
http://nooridarulifta.com/books/
اورجن لوگوں کواس کی ہارڈ کاپی درکارہووہ نوری مشن مالیگاؤں سے رابطہ کریں!!!
احباب سے التماس ہے کہ فقیرکے ساتھ نوری مشن مالیگاؤں اوراعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹرمالیگاؤں کے جملہ اراکین کو اپنی مخصوص دعاؤں میں یاد فرمائیں۔
نیازکیش:
محمد ذوالفقارخان نعیمی ککرالوی غفرلہ ولابویہ
نوری دارالافتاء مدینہ مسجد محلہ علی خاں کاشی پوراتراکھنڈ
زمین کے وقفی و غصبی ہونے سے متعلق نفیس اور مدلل و مفصل بحث پر مشتمل علمی و تحقیقی رسالہ منیفہ مسمیٰ با التاریخ
منح القدیر الحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی ۰۵۳۱ھ اللہ قدیر وحی کی عطائیں، غلط پھر درست سوال کے جواب میں!
✍ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی حامد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
وقفی اور غصبی زمین کا شرعی
حکم 📖 تحقیق تخریج تحشیہ :
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
📝 #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری مشن مالیگاؤں و اعلیٰ
حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
منح القدیر الحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی ۰۵۳۱ھ اللہ قدیر وحی کی عطائیں، غلط پھر درست سوال کے جواب میں!
✍ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی حامد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
وقفی اور غصبی زمین کا شرعی
حکم 📖 تحقیق تخریج تحشیہ :
خلیفۂ تاج الشریعہ و محدث کبیر
📝 #مفتی_ذوالفقار_خان_نعیمی
ککرالویصَاحَبۡدَامَتۡبَرَکَاتُہُمُالۡعَالِیَہۡ
📇 نوری مشن مالیگاؤں و اعلیٰ
حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اشعار کے معنی کا کوئی طریقہ معین نہیں ہے ۔
سننے والے کے دل میں جو معنی ہیں ، جب وہ شعر سنتا ہے تو اُس میں اپنے حال کی مناسبت سے معنی سمجھتا ہے ۔
اور اِس کی مثال آئینے سے دی گئی ہے کہ:
آئینے میں صورت کے منعکس ہونے کی کوئی مُتعین شکل نہیں ہے ، کہ آئینہ جو بھی دیکھے ، ایک معین صورت نظر آئے ؛ بلکہ وہ جو بھی دیکھے گا ، اپنی ہی صورت کا عکس دیکھے گا ۔
اِسی طرح اشعار میں ہے کہ:
جو بھی سنتا ہے ، اپنے انداز کے مطابق سنتا ہے ؛ اس کے دل میں جو مثال ہے ، اُسی پر شعر کے معنیٰ لیتا ہے ۔
( شعر شور انگیز ، ج 1 ، ص 20 ، ط اظہار سنز لاہور ، س 2013ء )
✍️لقمان شاہد
20-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988606791419490&id=100008105947430
اشعار کے معنی کا کوئی طریقہ معین نہیں ہے ۔
سننے والے کے دل میں جو معنی ہیں ، جب وہ شعر سنتا ہے تو اُس میں اپنے حال کی مناسبت سے معنی سمجھتا ہے ۔
اور اِس کی مثال آئینے سے دی گئی ہے کہ:
آئینے میں صورت کے منعکس ہونے کی کوئی مُتعین شکل نہیں ہے ، کہ آئینہ جو بھی دیکھے ، ایک معین صورت نظر آئے ؛ بلکہ وہ جو بھی دیکھے گا ، اپنی ہی صورت کا عکس دیکھے گا ۔
اِسی طرح اشعار میں ہے کہ:
جو بھی سنتا ہے ، اپنے انداز کے مطابق سنتا ہے ؛ اس کے دل میں جو مثال ہے ، اُسی پر شعر کے معنیٰ لیتا ہے ۔
( شعر شور انگیز ، ج 1 ، ص 20 ، ط اظہار سنز لاہور ، س 2013ء )
✍️لقمان شاہد
20-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988606791419490&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عورتوں کا مزارات پہ جانا/ عورتوں کا مزارات پہ مجاور بن کے بیٹھنا:
امامِ اہل سنت فرماتے ہیں کہ
“عورتوں کو زیارتِ قبور منع ہے۔ حدیث میں ہے
_لعن الله زائرات القبور_ اللہ کی لعنت ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کو جائیں۔”
پھر ایک جگہ فرماتے ہیں:
مجاور مَردوں کو ہونا چاہئے ۔ عورت مجاور بن کر بیٹھے اور آنے جانے والوں سے اختلاط کرے یہ سخت بدعت ہے۔ عورت کو گوشہ نشینی کا حکم ہے۔ نہ یوں مردوں کے ساتھ اختلاط کا جس میں بعض اوقات مردوں کے ساتھ اسے تنہائی بھی ہوگی اور یہ حرام ہے۔
_فتاوی رضویہ شریف، ج ٤، ص ٦٥_
ایک سائل کو جواب لکھتے ہوئے فرمایا :
“مزاراتِ اولیاء یا دیگر قبور کی زیارت کو عورتوں کا جانا باتباع غنیہ علامہ محقق ابراہیم حلبی ہرگز پسند نہیں کرتا۔
خصوصاً اس طوفانِ بدتمیزی رقص و مزامیر و سرود میں جو آج کل کے جہال نے اعراس طیبہ میں برپا کر رکھا ہے اس کی شرکت میں تو عوامِ رجال کو بھی پسند نہیں رکھتا۔۔۔”
_فتاوی رضویہ شریف، ج ٤، ص ۱٦٦_
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379252808050&id=100008080090753
امامِ اہل سنت فرماتے ہیں کہ
“عورتوں کو زیارتِ قبور منع ہے۔ حدیث میں ہے
_لعن الله زائرات القبور_ اللہ کی لعنت ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کو جائیں۔”
پھر ایک جگہ فرماتے ہیں:
مجاور مَردوں کو ہونا چاہئے ۔ عورت مجاور بن کر بیٹھے اور آنے جانے والوں سے اختلاط کرے یہ سخت بدعت ہے۔ عورت کو گوشہ نشینی کا حکم ہے۔ نہ یوں مردوں کے ساتھ اختلاط کا جس میں بعض اوقات مردوں کے ساتھ اسے تنہائی بھی ہوگی اور یہ حرام ہے۔
_فتاوی رضویہ شریف، ج ٤، ص ٦٥_
ایک سائل کو جواب لکھتے ہوئے فرمایا :
“مزاراتِ اولیاء یا دیگر قبور کی زیارت کو عورتوں کا جانا باتباع غنیہ علامہ محقق ابراہیم حلبی ہرگز پسند نہیں کرتا۔
خصوصاً اس طوفانِ بدتمیزی رقص و مزامیر و سرود میں جو آج کل کے جہال نے اعراس طیبہ میں برپا کر رکھا ہے اس کی شرکت میں تو عوامِ رجال کو بھی پسند نہیں رکھتا۔۔۔”
_فتاوی رضویہ شریف، ج ٤، ص ۱٦٦_
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2841379252808050&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM