🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
میلادِ رسول ﷺ اور
*مشائخِ نقشبندیہ*

غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]

    مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے اکبری الحاد کا خاتمہ کیا۔ دین کو بُری رَسموں سے پاک کیا۔ باطل نظریات کی بیخ کنی کی۔ ظالم کے روبرو کلمۂ حق کہا۔ مراسمِ اسلامی کو تقویت عطا کی۔ آپ نے محبت رسول ﷺ کی روح پھونک دی۔ آپ ہند میں سرخیلِ سلسلۂ نقشبندیہ ہیں۔ مشائخِ نقشبندیہ نے ہر عہد میں ذکرِ رسول و محافلِ میلادالنبی ﷺ کا اہتمام کیا۔ اس کے ذریعے پیغامِ سیرت عوام تک پہنچایا۔  دین کی خدمت کی۔ مسلمانوں کو اسوۂ حسنہ سے قریب کیا۔ مشائخِ نقشبندیہ کے حوالے سے اِس تحریر میں میلاد و ذکر رسول ﷺ پر روشنی ڈالی جائے گی۔

    خانوادۂ مجدد الف ثانی کے چشم و چراغ حضرت شاہ احمد سعید مجددی دہلوی (م۱۲۷۷ھ/۱۸۶۰ء، مدفوں مدینہ منورہ) میلادِ رسول ﷺ کے اہتمام کی ترغیب ان لفظوں میں دیتے ہیں:’’جس طرح آپ خود اپنی ذات پر درود وسلام بھیجا کرتے تھے؛ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ کے میلاد کی خوشی میں جلسہ کریں۔کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات اور خوشی کے جو طریقے ہیں (ان کے) ذریعہ شکر بجالائیں۔‘‘۱؎

    آپ نے میلاد شریف کے عنوان پر تین کتابیں تحریر کیں:
(۱) سعید البیان فی مولدسیدالانس والجان[اردو مطبوعہ]
(۲)الذکر الشریف فی اثبات المولد المنیف[فارسی]
(۳)اثبات المولدوالقیام[عربی مطبوعہ]

*ارشاداتِ حضرت شاہ احمد سعید مجددی:*
میلادِ رسولﷺ سے متعلق چند ارشادات ملاحظہ فرمائیں:
(۱) محفلِ میلاد در اصل وعظ و نصیحت ہے اس کے لیے جو کان لگائے اور متوجہ ہو، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:نصیحت کرو بے شک نصیحت مومنین کے لیے مفید ہے۔۲؎
(۲)شرح سنن ابن ماجہ میں اس یوم(میلاد) کی تصریح بھی ہے، اور امام جلال الدین نے فرمایا کہ: میلادِ مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام معظم و مکرم ہے، آپ کا یومِ ولادت مقدس و بزرگ اور یومِ عظیم ہے۔ آپ کا وجود عشاق کے لیے ذریعۂ نجات ہے؛ جس نے نجات کے لیے ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا اہتمام کیا اس کی اقتدا کرنے والے پر بھی رحمت و برکت کا نزول ہوگا۔۳؎
(۳)سیدالاولین والآخرین کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہے، ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمتِ عظمیٰ کا شکر بجا لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت اور نیکی کی جائے۔۴؎
(۴)حسین بن ابراہیم مفتی مالکیہ بمکہ فرماتے ہیں: ’’ہاں! ذکر ولادت کے وقت قیام بہت علما نے پسند کیا اوریہ قیام حسن ہے، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم واجب ہے۔واللہ اعلم۔‘‘
(۵) محمد عمر ابن ابی بکر مفتی شافعیہ مکہ مکرمہ کا ارشاد ہے: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے ذکر کے وقت قیام واجب ہے کیوں کہ روح اقدس حضور معلی صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ فرما ہوتی ہے تو اس وقت تعظیم و قیام لازم ہوا۔ جید علماے اسلام اور اکابر نے قیام مذکور کو پسند فرمایا ہے۔‘‘
(۶)محمد بن یحییٰ مفتی حنابلہ مکہ مشرفہ نے بھی ذکر ولادت کے وقت قیام کے استحباب و استحسان کی تصریح فرمائی ہے۔۵؎

    حضرت شاہ احمد سعید مجددی  میلاد شریف کے ضمن میں فرزندِ اکبر کو لکھتے ہیں:’’آتے وقت ’’مولد شریف‘‘ مولفہ مولوی حبیب النبی صاحب، مولوی ولی النبی صاحب سے یا جہاں کہیں سے ملے اپنے ہمراہ لائیں۔‘‘۶؎

    کتاب ’’غایۃ المرام‘‘ جو میلاد شریف و قیام کے استحباب میں علماے دہلی و رامپور و بریلی کے فتاویٰ جات پر مشتمل ہے؛ اس پر شاہِ دہلی بہادر شاہ ظفر کے بعد ساتویں تصدیق حضرت شاہ احمد سعید مجددی کی ہے۔ کل ۶۳؍علما کی تصدیقات موجود ہیں۔

*محافلِ کا اہتمام:*
    نبیرۂ حضرت شاہ احمد سعید مجددی؛ شاہ ابوالخیر مجددی ہر سال میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص اہتمام کرتے۔ شاہ ابوالحسن زید فاروقی ایسی ہی ایک محفل کا ذکر کرتے ہیں: ’’ ۱۲؍ربیع الاول ۱۳۳۸ھ مطابق ۴؍دسمبر ۱۹۱۹ء کو دن کے دس بجے آپ (شاہ ابوالخیر)باہر تشریف فرما تھے اور باہر کے آئے ہوئے وہ تمام افراد موجود تھے جو محفلِ مبارک میلاد شریف میں شریک ہوئے تھے اور دلی کے بھی وہ تمام افراد تھے جن جن کو آپ نے میلادِ مبارک کی خوشی کے کھانے پر مدعو کیا تھا۔‘‘۷؎

    ’’ولادتِ شریفہ کا ذکر مبارک ہوا۔ سب ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے…… میلاد خوانوں نے اس مقدس جناب میں سلام پیش کیا۔جس وقت میلاد خواں ہدیۂ سلام پیش کر رہے تھے، آپ (شاہ ابوالخیر )پر بے خودی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ کی آنکھوں سے سیلِ اشک جاری تھا۔ ہاتھ ناف پر بندھے ہوئے تھے……افسوس صد افسوس کہ ایسی مجلیٰ و مزکیٰ و معطر محفلِ مبارک کو حجابِ علم نے بعض افراد کی نظر میں جامۂ قبح پہنا دیا ہے اور دُنیا بھر کی خرابیاں ان کو اس مبارک محفل میں نظر آنے لگی ہیں۔ ع
چوں نہ دیدند حقیقت رہ افسانہ زند‘‘۸؎

    شاہ ابوالخیر کا یہ قول ہے کہ : ’’ہم یہ مبارک محفل (میلاد) اس لیے منعقد کرتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہو۔ آپ کی محبت اصلِ ایمان ہے۔ اس اصل ہی کو حاصل کرنے
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
کے لیے اس مبارک محفل کا قیام کیا جاتا ہے۔ ‘‘۹؎

     حضرت شاہ احمد سعیدمجددی کی مجالس کے حاضر باشوں میں حضرت شاہ محمد آفاق دہلوی تھے۔جو اویسِ دوراں حضرت فضل رحمٰن گنج مراد آبادی کے مرشد ہیں۔خانقاہِ فضل رحمانی گنج مرادآباد میں خانوادۂ اویسِ دوراں کے یہاں بھی قدیم وقتوں سے میلاد و سلام باقیام کی محافل سجتی رہی ہیں۔ خود مالیگاؤں میں مولانا محمد اسحاق نقشبندی علیہ الرحمہ کے مزار پر میلاد و سلام کی محافل مدتوں سے اب تک جاری  ہیں۔ شاید اس کی روحانی وجہ یہی ہو گی کہ ان کے مشائخ نے میلاد و سلام باقیام کے استحباب پر کتابیں تصنیف کیں۔

    خانوادۂ مجدد الف ثانی کے چشم و چراغ مولانا شاہ محمد معصوم مجددی(م۱۳۴۱ھ، مدفوں مکہ مکرمہ) نے میلاد کے جواز پر کتاب بنام ’’احسن الکلام فی اثبات المولد والقیام‘‘( ۱۳۰۵ھ) لکھی۔آپ فرماتے ہیں   ؎

محفلِ میلاد میں ہوتا ہے ان کا ہی ظہور
کچھ بصیرت چاہیے وہ مہ لقا یہی تو ہیں

    حضرت شاہ معصوم کے فرزند حافظ محمد ابوسعید مجددی (م۱۴۰۴ھ/۱۹۸۳ء) کو عرب دُنیا کی محافلِ میلاد میں پڑھا جانے والا مشہورِ زمانہ ’مولود برزنجی‘ حفظ تھا۔ ۱۰؎

    فتح پوری مسجد کے سابق شاہی امام، مفتی اعظم دہلی، مفتی شاہ مظہر اللہ نقشبندی کے یہاں بھی پابندی سے محافلِ میلاد ہوا کرتیں۔ جس میں اعلیٰ حضرت کا سلام ’’مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ اہتماماً پڑھا جاتا۔ متعدد مقامات پر پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی نے یہ پہلو ذکر کیا۔فتح پوری مسجد میں اس روایت کو مفتی محمد مکرم احمد نقشبندی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    خانقاہِ نقشبندیہ بالاپور کے نائب سجادہ حضرت سید ذکی میاں نقشبندی دام ظلہ نے راقم کو بتایا کہ: ہمارے یہاں صدیوں سے محافلِ میلادالنبی ﷺ سجتی رہی ہیں۔ جس میں سلام باقیام ہوتا ہے۔ فی زمانہ ہم اعلیٰ حضرت کا سلام ’’مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ بہت اہتمام سے پڑھتے ہیں۔تمام سلاسل کے مشائخ نے رسول اللہ ﷺ کے میلادِ پاک کا انعقاد کیا۔محافل منعقد کیں۔ محافلِ میلاد تمام بلادِ اسلامیہ میں آراستہ کی جاتی ہیں- راقم نے مدینہ منورہ و بغداد مقدس میں ایسی محافلِ میلاد میں شرکت کی سعادت حاصل کی ہے- آج بھی ساری دُنیا میں محفلیں سجتی ہیں- عرب میں بھی، عجم میں بھی، شرق و غرب میں بھی۔ جہاں رحمتوں برکتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ایمان کو تازگی و حرارت ملتی ہے۔محبتوں کی سوغات تقسیم ہوتی ہے۔ غریبوں کی داد رسی ہوتی ہے۔
٭٭٭
*حوالہ جات:*
[۱]شاہ احمد سعید مجددی:اثبات المولد والقیام ، لاہور۱۹۸۳ء، ص۲۴ 
[۲] اثبات المولدوالقیام،مرکزی مجلس رضا لاہور ۱۹۸۰ء،ص۲۱
[۳] مرجع سابق،ص۲۳۔۲۴
[۴] مرجع سابق،ص۲۴
[۵] مرجع سابق،ص۳۳
[۶] تحفۂ زواریہ، مرتب ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان، مترجم محمد ظہیرالدین بھٹی،زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی ۲۰۱۱ء، ص۱۳۴،ص۱۶۵
[۷] مقاماتِ خیر۱۳۹۲ھ،شاہ ابوالحسن زید فاروقی،شاہ ابوالخیر اکاڈمی دہلی۱۹۸۹ء،ص۲۸۳ 
[۸] مرجع سابق،ص۳۱۰۔۳۱۱؛ملخصاً
[۹] مرجع سابق،ص۴۴۳
[۱۰] تاریخ الدولۃالمکیۃ، عبدالحق انصاری، بہاء الدین زکریا لائبریری چکوال ۲۰۰۶ء،ص۴۷

[محررہ:،٣١ اکتوبر ۲۰۱۹ء]
***
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*سیرت النبیﷺ پر نوری مشن سے خوبصورت اشاعت ’’آمد بہار‘‘*

*حضرت سید عبدالقادر جیلانی میاں کے بدست اجراء عمل میں آیا*

*عید میلادالنبیﷺ پرنوری مشن کے اشاعتی کارواں کا ۱۲۵؍واں پڑاؤ*

مالیگاؤں: موسم بہار (ربیع الاول) کی نسبت سے پُر بہار کتاب کی اشاعت باعثِ مُسرت ہے؛ جس سے ایمان و عمل کے گلشن میں تازگی آئے گی- اس طرح کے تاثرات کے ساتھ ١٧ اکتوبر کی شب حضرت سید عبدالقادر جیلانی میاں نے تازہ اشاعت "آمدِ بہار" کا اجراء فرمایا- آپ نے صالح لٹریچرز کی افادیت پر کئی نکات بیان کیے- ۳۲؍صفحات پر مشتمل اس کتاب میں دنیا کی حالتِ زار، آمد آمدِ رحمۃ للعالمین ﷺ کی بہاریں، اسم اقدس ﷺ کی تجلیاں اور اس کے برکات پر مدلل انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعمود احمد نقشبندی نے اپنے منفرد اسلوب، سنجیدہ انداز اور دل چسپ و عام فہم طرز میں سیرتِ طیبہ کے کئی گوشوں پر روشنی ڈالی ہے۔ عامۃالمسلمین کی اصلاح و فلاح کے کئی ابواب آمدِ رحمۃ للعالمین ﷺ کے تناظر میں اُجاگر کیے ہیں۔ ’’آمد بہار‘‘ نوری مشن کے اشاعتی کارواں کی ۱۲۵؍ویں اشاعت ہے، جسے عید میلادالنبی ﷺ کی حسین ساعتوں میں منظر عام پر لایا جا رہا ہے۔ ذکرِ مصطفیٰﷺ کی بہاروں، نورِ محمدیﷺ کے کمالات، ظہورِ قدسی کی برکتوں، نامِ نامی کی تجلیوں،انبیاے کرام کی بشارتوں پر کتاب و سنت کی روشنی میں کتاب تصنیف کی گئی ہے۔ پوری کتاب ۱۰۰؍ سے زائد حوالوں پر مبنی ہے۔ ایمان افروز ہے اور عقیدے کی تقویت کا ساماں بھی۔ عشقِ رسول ﷺ کے پاکیزہ جذبات سے پُر ہے۔ میلادِ مصطفیٰﷺ کی بہاروں کا اسلامی گلدستہ ہے۔ کتاب کو مدینہ کتاب گھر، میلاد اسٹال آگرہ روڈ (مالیگاؤں) سے بِلا قیمت حاصل کیا جا سکتا ہے- بیرونی قارئین پی ڈی ایف فائل کے لیے ان نمبرات پر واٹس ایپ/ٹیلی گرام رابطہ کریں:
غلام مصطفیٰ رضوی
+919325028586
فرید رضوی
+919273574090
معین پٹھان رضوی
+917588815888
٭ نوری مشن مالیگاؤں
٭٭٭
یکم ربیع النور ١٤٤٢ھ

https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4496891270386164/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
مطلع حجاز پر
*آفتابِ رسالت ﷺ کی جلوہ گری*

علامہ قمرالزماں خان اعظمی
[سکریٹری جنرل: ورلڈ اسلامک مشن،لندن]

ربیع النور اپنی جملہ تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوچکا ہے۔ اسی ماہِ مقدس کی ۱۲؍ تاریخ کو مطلعِ فاران پر وہ آفتاب ِ رسالت جلوہ فگن ہوا تھا؛ جس نے اس ظلمت کدۂ عالَم کو روشن و منوّر فرما دیا۔ جس نے اوہام و خرافات کی تاریکیوں کو ایمان و یقین کے نور سے بدل دیا، جس نے عالَمِ انسانی کو عدل و انصاف کا حقیقی شعور عطا فرمایا اور انسانوں کو انسانیت کے احترام کی تعلیم دی۔ اسی ماہِ مقدس کی بدولت انسان ان تمام اقدارِ حیات سے مشرف ہوا جنہیں اختیار کرکے وہ اس سرزمین پر نیابتِ الٰہی کا فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے غافل اور گم کردہ راہ انسانوں کو ان کی منزل کا پتا بتایا، انہیں لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی اٰدَمَ کے تاجِ عظمت سے نوازا اور انہیں احسنِ تقویم کی خلعتِ زیبا سے سرفراز فرمایا، انہیں اسفل السافلین کی پستیوں سے نکال کر خلافتِ ارضی کی رفعتوں پر پہنچایا، انہیں وحشت کے ماحول سے نکال کر عدل و انصاف کی زندگی عطا فرمائی۔
سیّدنا مسیح علیہ السّلام کے رفعِ آسمانی کے بعد سے سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری تک ۵۷۰؍ سال کا زمانہ، تاریک ترین زمانہ تھا۔ اس طویل عرصے میں انسان اپنی اخلاقی پستیوں کی بدترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔ اس پورے عرصے میں دُنیا میں کوئی نبی یا رسول جلوہ گر نہ ہوا، جو لوگوں کی اخلاقی اور روحانی رہنمائی کرتا۔ دُنیا میں کوئی ایسی حکومت قائم نہ ہوئی جو عدل و انصاف کی علَم بردار ہوتی، اور نہ کوئی ایسا معاشرہ قائم ہوا جو انسانی قدروں کا آئینہ دار ہوتا۔ اس تاریک ترین دور میں ہر طرف ظلم و جور کی حکمرانی تھی۔ دُنیا کی متمدن قومیں مِٹ چکی تھیں۔ انسانوں کے خود ساختہ قوانین نے کم زوروں سے زندگی کے تمام حقوق سلب کرلیے تھے۔ یونان اور روم میں صرف طاقتور کو زندہ رہنے کا حق دیا جاتا تھا۔ برِ صغیر میں زندہ انسانوں کو ظلم کی چِتاؤں پر جلایا جاتا تھا، اور یورپ کے بہت سے علاقوں میں تڑپتی ہوئی لاشوں کو رقصِ بسمل کے نام سے پیش کیا جاتا تھا۔ مصر میں دریاے نیل کے کنارے نیل پرستی کے نام پر گلستانِ حیات کے نوشگفتہ پھولوں کو مَسل دیا جاتا تھا، اور حجاز میں زندہ بچیوں کو دَرگور کردیا جاتا تھا۔ پوری دُنیا مظالم سے بھری ہوئی تھی، مگر ان مظالم کے خلاف ایک بھی انسان کوئی مؤثر صداے احتجاج بلند کرتا ہوا نظر نہیں آرہا تھا۔ ان حالات میں کائنات کا اجتماعی ضمیر خلاقِ کائنات کی بارگاہ میں التجا کر رہا تھا کہ: اے رب قدوس! اس زمین پر ایک ایسی ہستی کو مبعوث فرما؛ جو اسے ظلم و ستم، جور و وحشت، شرک اور جہالت کی نجاستوں سے پاک فرماکر اسے معمورۂ امن و سکون بنا دے۔ خداے قدوس نے یہ التجا سُن لی، اور ۱۲؍ربیع الاوّل کو دوشنبہ کے دن صبحِ صادق کے وقت رسالت کے اس آفتابِ عالَم تاب کو جلوہ گر فرمایا، جو حقیقی طورپر کائنات کا نجات دہندہ اور امنِ عالَم کا ضامن ہے۔ خداے قدیر نے اس نورِ کامل کی تشریف آوری کا اعلان ان لفظوں میں فرمایا:
قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْن۔[المآئدۃ:آیت۱۵]
بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔
اِنَّآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیرًا وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مّنِیْرًا۔[الاحزاب:آیت۴۵۔۴۶]
بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔
 وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنََ۔[الانبیاء:آیت۱۰۷]
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔

پورا عالَمِ اسلام اللہ رب العزت کے انہیں فرامینِ مقدسہ کو دُہرانے کے لیے ماہِ ربیع الاوّل میں- جشنِ میلادُالنبی- منعقد کرتا ہے۔ مصر و شام، عراق و ایران، ہند و پاک، ترکی و قبرص، نائجیریا و لیبیا، سوڈان و یوگوسلاویہ؛ الغرض جہاں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں، جشنِ عید میلادُالنبی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ میلادالنبی کی ان محافل میں قرآنِ عظیم کی آیات پڑھی جاتی ہیں، نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی جاتی ہے، سیرتِ رسول بیان کی جاتی ہے اور صلوٰۃ و سلام ہوتا ہے۔ صدیوں سے دُنیا کے بیش تر ملکوں میں سیرتِ رسول اور پیغامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کا یہ ایک منظم اور باضابطہ طریقہ ہے۔ آپ اگر برِصغیر ہند و پاک کے اُن علاقوں میں تشریف لے جائیں جہاں ہنوز علم کی روشنی نہیں پہنچی ہے تو وہاں بھی عید میلادُالنبی کی برکات کا مشاہدہ کرسکیں گے۔ مسلمانوں کے اندر شریعت سے وابستگی، عشقِ رسول اور دینِ اسلام سے فِدا کاری کی حدتک تعلق، سب کچھ عید میلاد النبی کی برکتوں کا ظہور ہے۔

*جشن میلادُالنبی کے سلسلے میں حکومتِ سعودیہ عربیہ کا منفی کردار:* جہاں ایک طرف پوری دُنیا میں جشن میلادُالنبی
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام کیا جاتا ہے وہیں دُنیا کی ایک محسوس اور واضح اقلیت کے نمائندے میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس تقریب کے خلاف متحدہ محاذ بناکر دُنیا کو ان محافل سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ان تقاریب پر -شرک اور بدعت- کا فتویٰ صادر کرکے مسلمانوں کے ذہن کو پراگندہ اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور جب بھی عیدمیلادُالنبی کا زمانہ آتا ہے تو مسلمانوں کے گھروں میں ایسے کتابچے پہنچائے جاتے ہیں جن میں غیر علمی اور غیر منطقی مواد موجود ہوتا ہے۔ مگر اس کو علم و دانش کا نام دے کر مسلمانوں کو فریب دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ گذشتہ چند سالوں میں مفتیِ وہابیت ابنِ باز کے فتاویٰ تقسیم کیے جاتے ہیں، اور اب اس سال ابوبکر جابر الجزائری کا کتابچہ گھر گھر تقسیم کیا جارہا ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ حجازِ مقدس سے آنے والے حجاجِ کرام کو یہ کتابچہ سعودیہ عربیہ کی جانب سے تحفے میں دیا جاتا ہے اور گنبدِ خضریٰ کے انوار سے فیض یاب ہوکر آنے والے حجاج کو رسول دُشمنی کی یہ جیتی جاگتی دستاویز بطورِ تبرک پیش کی جاتی ہے۔ سُنّی دُنیا میں ان کتابچوں کا شدید ردِعمل ہوتا ہے اور محافلِ میلاد و جلسہ ہاے سیرت میں ان کی تردید کی جاتی ہے اور لوگوں کو اس کے فریب سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً مسلمانوں کی جو توانائیاں کفر و شرک، الحاد و مغربیت کے خلاف صرف ہونی چاہئیں وہ تردیدِ وہابیت کی نذر ہوجاتی ہیں۔ سعودی حکومت نے پوری دُنیا کے اسلامی لٹریچر کے لیے اپنی نام نہاد حکومت کے دروازے بند کر رکھے ہیں، مگر وہابیت کے گمراہ کُن لٹریچر کو عام کرنے کے لیے حج پاک کے موقع پر زائرینِ حرم کی سادہ لوحی کو شکار کیا جاتاہے۔ وہ آبِ شفا زم زم کے ساتھ بدعقیدگی کا یہ زہر بھی ساتھ لاتے ہیں۔ یہ ہماری وسعتِ ظرفی کہ ہم اس طرح کے لٹریچر کے خلاف کوئی متحدہ آواز نہیں بلند کر رہے ہیں، اس لیے کہ سعودی عرب کے ایوانِ اقتدار سے جس اَمر کی مخالفت کی جائے گی مسلمانانِ عالَم اُسے ضرور کریں گے۔

کاش! سعودی عرب کے اندر بھی یہ اخلاقی جرأت ہوتی اور اہلِ سنت کے ۱۴؍ سو سالہ مذہبی لٹریچر کو اپنی حدودِ مملکت میں درآمد کی اجازت دیتا تو سعودی عوام کے سامنے تصویر کے دونوں رُخ ہوتے، اور حق و باطل کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی۔ آج برطانیہ کی نوجوان نسل مغربیت، الحاد، بے دینی، اِرتداد اور اسلامی اقدار سے انحراف کے راستے پر گام زَن ہے۔ کیا حکومتِ سعودیہ عربیہ کو کبھی توفیق ہوئی کہ وہ ان برائیوں کے خلاف لٹریچر تیار کرواکے تقسیم کرتی؟ کیا ان تمام مفاسد کے مقابلے میں اُسے صرف محافلِ میلاد ہی ایسا مفسدہ نظر آتی ہیں جس کے خلاف وہ پٹرو ڈالر کے تمام وسائل استعمال کر رہی ہے؟
حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ ماہِ ستمبر میں میلادُالنبی کے خلاف لٹریچر تقسیم کیا جارہا ہے، اور اسی ماہ میں سعودی حکومت کا جشنِ تاسیس انتہائی دُھوم دھام سے منایا جارہا ہے۔ میلادُالنبی- جشنِ تاسیسِ اسلام- ہے مگر اس کی مخالفت کرنے والے اُس حکومت کا جشنِ تاسیس مناتے ہیں، جس نے خلافتِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کردیا اور حکومتِ ترکی کے خلاف بغاوت کرکے ایک ایسی حکومت کی داغ بیل ڈالی جس کے عنانِ اقتدار سنبھالتے ہی حجازِ مقدس میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا، مزاراتِ مقدسہ کا انہدام عمل میں لایا گیا اور مآثرِ شرعیہ و شعائرِ اسلامیہ کی توہین کی گئی۔ جس کے حکم رانوں نے اپنی ہوسِ اقتدار پرستی میں ڈوب کر سر زمینِ حجاز کو اقوامِ مغرب کا باج گذار بنادیا۔ جنھوں نے اسلام کے تصورِ خلافت سے انحراف کرکے ملوکیت کو زندہ کیا اور اسلام و عالَمِ اسلام کی مقدس امانت کو اپنی جاگیر قرار دے دیا۔ ایسی حکومت اور اس کے مفتیانِ شرع کے نزدیک عیدمیلادُالنبی تو شرک و بدعت ہے مگر سعودی عرب کا جشنِ تاسیس عین شریعت ہے  ع    بریں عقل ودانش بباید گر یست ٭٭٭
[ماخوذ: مقالاتِ خطیب اعظم، مرتب غلام مصطفیٰ رضوی، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]
***
ترسیل : نوری مشن مالیگاؤں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
راتب_رفاعیہ_جامعہ_منعمیہ_مفتی_محب_اللہ_مصباحی.pdf
2.1 MB
راتب رفاعیہ کے متعلق جواب
جناب مفتی محب اللہ مصباحی صاحب دارالافتاء جامعہ منعمیہ خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی بہار
Raatib e Refaia ke Mutalliq Jawab Janab Mufti Mohibullaha Misbahi Sahab Darul Ifta Jamia Munemia Khanqah Munemia Mitanghat Patna-8 Bihar
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
'’وقفی اور غصبی زمین کا شرعی حکم‘‘ نوری مشن کی 123؍ویں اشاعت

*عرس اعلیٰ حضرت پر حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان قادری کی اہم کتاب منصۂ شہود پر*

مالیگاؤں: شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے وقف کے مسائل پر ایک اہم کتاب ’’منح القدیر الحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی‘‘ 1350ھ میں تالیف فرمائی۔ اسی عہد میں طابع رضوی بریلی شریف سے اشاعت ہوئی۔ عرسِ اعلیٰ حضرت پر یہ کتاب عرفی نام ’’وقفی اور غصبی زمین کا شرعی حکم‘‘ نوری مشن کی طرف سے شائع ہو رہی ہے۔ مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی ککرالوی نے حوالوں کی تخریج کی، ترجمہ و حاشیہ تحریر فرمایا اور تحقیق کی۔ کتاب بحمدہٖ تعالیٰ بڑی جامع، پر مغز اور فقہی جزئیات پر مشتمل ہے۔ وقف اراضی سے متعلق شرعی احکام کا مدلل اور محققانہ بیان ہے۔ ساتھ ہی قبورِ مسلمین کےاحترام سے متعلق شرعی احکام ذکر کیے ہیں ۔ فقہی مسئلے میں جس قدر محتاط راہ حجۃ الاسلام نے اپنائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ آپ نے یہ درس دیا کہ تحقیق کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ حکم شرع کے بیان میں اسلاف کی راہ چلا جائے۔ 64؍صفحات میں تقریباً 100؍سے زیادہ حوالوں کا اہتمام ہے۔ مرتب محترم مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی نے انتساب مفتی محمد افضل حسین مونگیری خلیفۂ مفتی اعظم کے نام کیا ہے، جن کی ذاتی لائبریری سے یہ رسالہ دریافت ہوا۔ موصوف نے اس پر جامع مقدمہ بھی قلم بند کیا۔ جب کہ دعائیہ کلمات شہزادۂ صدرالشریعہ حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری نے تحریر فرمائے ہیں۔ تعارفی کلمات مفتی عبدالرحیم نشتر فاروقی بریلی شریف و غلام مصطفیٰ رضوی نے لکھے۔ یہ کتاب دارالافتاء اور لائبریری کے لیے، نیز اصحابِ تحقیق و ذمہ دارانِ اوقاف(مساجد/قبرستان/مدارس) کے لیے بڑی اہم ہے۔ جس کی تقسیم عرسِ اعلیٰ حضرت پر عمل میں آئے گی-
***
6 اکتوبر 2020ء
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4440038059404819/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
احباب اہل سنت!
حضورحجۃ الاسلام قدس سرہ کا مبارک رسالہ ’’منح القدیرالحی فی اجابۃ سؤل اللی ثم الحی‘‘جس کاعرفی نام فقیرنے ’’وقفی اورغصبی زمین کاشرعی حکم‘‘رکھاتھا۔فقیرکے حاشیہ وغیرہ کے ساتھ نوری مشن مالیگاؤں اوراعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹرکے تعاون سے یہ کتاب زیورطبع سے آراستہ ہوئی اورآج عرس اعلی حضرت میں قل شریف کے موقع پر شہزادہ حضور تاج الشریعہ ،قائد ملت حضرت علامہ مفتی محمدعسجدرضاخان صاحب قبلہ دام ظلہ النورانی کے مبارک ہاتھوں اس مبارک کتاب کا اجرا عمل میں آیا۔
احباب کی فرمائش پر حسب وعدہ کتاب کی پی ڈی ایف فائل پیش خدمت ہے ۔
درج ذیل ویب سائٹ یا ٹیلی گرام سے بھی ڈاؤن لوڈکی جاسکتی ہے۔
https://t.me/naimimatboaat786
http://nooridarulifta.com/books/
اورجن لوگوں کواس کی ہارڈ کاپی درکارہووہ نوری مشن مالیگاؤں سے رابطہ کریں!!!
احباب سے التماس ہے کہ فقیرکے ساتھ نوری مشن مالیگاؤں اوراعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹرمالیگاؤں کے جملہ اراکین کو اپنی مخصوص دعاؤں میں یاد فرمائیں۔
نیازکیش:
محمد ذوالفقارخان نعیمی ککرالوی غفرلہ ولابویہ
نوری دارالافتاء مدینہ مسجد محلہ علی خاں کاشی پوراتراکھنڈ