🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عثمانی سلاطین 🇹🇷عید میلاد النبیﷺ کی تقریبات کا اہتمام بڑے ذوق سے کرتے تھے زیر نظر تصویر میں1787عثمانی دور خلافت میں استنبول کی نیلی مسجد میں عید میلاد النبیﷺ کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا،دیکھایا گیا ھے۔
#jaanhai_ishqemustafa_challenge

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840595086219800&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*مسلم اقتصادی استحکام کی فکر پر مبنی کتاب ’’اعلیٰ حضرت: مجدد علم معاشیات‘‘ کی اشاعت*

*عرسِ اعلیٰ حضرت پر پروفیسر عبدالمجید صدیقی کی تصنیف منظرِ عام پر*

مالیگاؤں: اعلیٰ حضرت نے مسلم اقتصادی ترقی کے لیے ایک صدی قبل 4؍نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا۔ نیز کئی کتابیں اقتصادی و معاشی استحکام کی غرض سے قلم بند فرمائیں۔ پروفیسر عبدالمجید صدیقی جو شعبۂ اقتصادیات سے تعلق رکھتے ہیں؛ نے اعلیٰ حضرت کے معاشی اسلامی افکار کا جائزہ اپنے 3؍ اہم مقالات کے ذریعے لیا ہے؛ اور مسلمانوں کی شرعی معاشی و اقتصادی رہنمائی پر مشتمل تجاویز کا علمی تجزیہ فرمایا ہے۔ ان مقالات کو "اعلیٰ حضرت: مجدد علم معاشیات" کے نام سے نوری مشن نے 64؍ صفحات میں شائع کیا ہے۔ عرس اعلیٰ حضرت کی مناسبت سے اس کتاب کی اشاعت عمل میں لائی گئی ہے؛ جس کا مطالعہ یقیناً قومی معیشت کے اسلامی اصولوں سے آگہی کے لیے مفید ثابت ہو گا۔ کتاب میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب مسلمانوں کا سیاسی زوال ہوا تو معاشی رخ سے قومی استحکام کے لیے اعلیٰ حضرت نے معرکہ آرا تجاویز پیش کیں۔ اس میں تین مقالات شامل ہیں: اعلیٰ حضرت مجدد علم معاشیات، اعلیٰ حضرت اور زر کی بازار کاری، اعلیٰ حضرت اور معاش کے احکام۔ اس میں بنا سودی نظام کی اہمیت، کرنسی سے متعلق شرعی احکام، حلال ذرائع سے رزق کے معاملات پر مدلل لکھا گیا ہے۔ معاشیات کے شعبے سے جُڑے ہر فرد کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بڑی افادیت کا حامل ہوگا۔
***

https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4479820642093227/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*विवादित विज्ञापन और कट्टरपंथी मानसिकता !!*

By: *Ghulam Mustafa Naimi*
Delhi

इन दिनों टाटा के ज्वैलरी ब्रांड 'तनिष्क' का एक विज्ञापन विवादों और चर्चाओं में है। इस विज्ञापन में एक गर्भवती हिंदू लड़की को मुस्लिम घराने की बहू के तौर पर दिखाया गया है जहां उसकी गोद भराई की रस्म में मुस्लिम फैमिली हिंदू रस्मों को अदा करती हुई नजर आती है। इस विज्ञापन पर कट्टरपंथी मानसिकता के लोगों ने हंगामा खड़ा कर दिया है और वह इसे लव जिहाद को बढ़ावा देने वाला करार दे रहे हैं। दूसरी तरफ लिबरल मानसिकता के लोग इस विज्ञापन को हिंदू मुस्लिम सदभावना बताते हुऐ इस की पैरवी कर रहे हैं।

इस्लामी नज़रिये से भी विज्ञापन का कंटेट बिल्कुल ग़लत है। लेकिन हमें कट्टरपंथी और टाटा ग्रुप दोनों की मानसिकता पर सख्त ऐतराज है। ज़िंदगी गुज़ारने और शादी ब्याह के लिए इस्लाम के अपने बुनियादी उसूल और मान्यताएँ हैं। इस्लामी नज़रिये के अनुसार अंतर्धर्म विवाह (Interfaith marriage) जाइज़ नहीं है। इस विज्ञापन में दो प्रकार से इस्लामी मान्यतायों पर हमला किया गया है।
1- Interfaith marriage दिखाना, जो इस्लामी नज़रिये के सरासर ख़िलाफ है।
2- मुस्लिम फैमिली को ग़ैर इस्लामी रस्में करते दिखाना।

लंबे वक्त से कट्टरपंथी और लिबरल लोग इस्लाम और मुसलमानों की इमेज बिगाड़ने के लिए फिल्मों और विज्ञापनों का सहारा लेकर इस्लाम विरोधी एजेंडा चला रहे हैं। एक तरफ लिबरल समुदाय अंतर्धर्म विवाह (interfaith marriage) आधारित विज्ञापनों और फिल्मों के ज़रिए इस्लामी मान्यताएँ धूमिल करने का प्रयास करते हैं। दूसरी तरफ कट्टरपंथी तत्व ऐसे विज्ञापनों और फिल्मों को लव जिहाद कह कर मुस्लिमों के खिलाफ हिंसा और उत्पात मचाते हैं। और इन्हीं को आड़ बना कर मुस्लिम लड़कियों के खिलाफ धर्मांतरण की मुहिम चलाते हैं।

आज कट्टरपंथी इस विज्ञापन को हिंदू संस्कृति पर हमला बता रहे हैं लेकिन ये लोग उस वक्त बड़े खुश होते हैं जब "बाजीराव मस्तानी" में एक मुस्लिम लड़की को हिंदू पेशवा की रखैल दिखाया जाता है। कट्टरपंथी उस वक्त बहुत तालियां बजाते हैं जब "बजरंगी भाईजान" जैसी फिल्म में एक मौलवी को जय श्री राम कहते दिखाया जाता है। तब इन्हें मुस्लिम संस्कृति का ख्याल नहीं आता!

जिस तरह कट्टरपंथी अपना ऐजेंडा चलाते हैं तो लिबरल सोसायटी के महानुभाव भी पद्मावत जैसी फिल्मों में मुस्लिम बादशाहों को चरित्रहीन, धोखेबाज और असभ्य कैरेक्टर के तौर पर दिखाते हैं। जबकि दूसरे राजाओं को शालीन और सभ्य व्यक्ति के तौर पर पेश किया जाता है। मुसलमानों को आतंकवादी के तौर पर पेश करना हिंदी फिल्मों का ट्रेंड बन गया है। ऐसे ही विज्ञापनों और और फिल्मी एजेंडे की वजह से मुस्लिम सोसाइटी पर बहुत गलत असर पड़ रहा है इसलिए हम समाज के इन 'कट्टरपंथी ठेकेदारों' और तथाकथित 'लिबरल बुद्धिजीवियों' से यह गुज़ारिश करते हैं कि आप जैसा चाहे विज्ञापन बनाएं, जैसी चाहे मूवी बनाएं लेकिन किसी भी तौर पर अंतर्धम रिश्ते बिल्कुल ना दिखाएं। इस से दोनों समुदाय के बीच सदभावना नहीं सिर्फ नफरतें बढ़ती हैं। फिल्म निर्माता हों या व्यवसायिक कंपनियां, इन का मक़सद सिर्फ़ पैसा कमाना होता है लेकिन इन की हरकतों का ख़मियाज़ा पूरे समाज को भुगतना पड़ता है।
हिन्दू समाज का वो तबका जो 2100 मुस्लिम बहुएं लाने की बात करता है और उनकी हर तरह की मदद का दम भरता है उसे तनिष्क जैसे विज्ञापन पर थोड़ा धैर्य तो दिखाना चाहिये।
वहीँ मुस्लिम जगत के बुद्धिजीवियों को समझना चाहिए कि बॉलीवुड में इस्लाम विरोधी कल्चर का चलन आज हमारे बच्चों पर किया असर डाल रहा है इस पर भी विचार करने की सख्त जरूरत है।

15/10/2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*ٹاٹا کا اشتہار اور اسلام مخالف ذہنیت !!*

*غلام مصطفی نعیمی*
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی

ان دنوں ٹاٹا کے جیولری برانڈ 'تَنِشق' کا اشتہار موضوع بحث بنا ہوا ہے۔اشتہار میں ایک حاملہ ہندو لڑکی کو مسلم گھرانے کی بہو کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ جہاں مسلم خاندان، ہندو بَہُو کی "گود بھرائی" کی تقریب میں "ہندوانہ رسمیں" کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔امیدوں کے عین مطابق اشتہار کے منظر عام پر آتے ہی شدت پسندوں نے اسے ہندو تہذیب پر حملہ اور لَو جہاد قرار دیتے ہوئے ہنگامہ شروع کردیا۔جس کی وجہ سے کمپنی نے اشتہار واپس لے لیا۔یہاں سے لبرل دانش وروں نے مورچہ سنبھالا اور اشتہار کو ہندو مسلم خیر سگالی کا بہترین ذریعہ قرار دیا اور کمپنی سے اشتہار دوبارہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت دونوں ہی گروپ سوشل میڈیا پر مصروف جنگ ہیں۔

_مسلمانوں کو اس پورے منظر نامہ سے دور رہنا چاہیے کیوں کہ یہ اشتہار مکمل طور اسلامی تہذیب پر حملہ اور قانون نکاح کے خلاف ہے۔لیکن حالیہ ہنگامے میں ہمیں شدت پسندوں اور ٹاٹا گروپ جیسے لبرلوں دونوں کی ذہنیت پر سخت اعتراض ہے۔اسلام میں نہ لَو جہاد جیسا کوئی تصور ہے نہ خیر سگالی کے نام پر شرکیہ رسومات کی اجازت!

ہمارے دین میں زندگی گزارنے اور شادی وغیرہ کے لیے بنیادی اصول اور احکام موجود ہیں۔اسلام میں بین المذاہب شادی کا کوئی تصور نہیں ہے، قرآن فرماتا ہے:
وَ لَا تَنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکٰتِ حَتّٰی یُؤۡمِنَّ ؕ وَ لَاَمَۃٌ مُّؤۡمِنَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِکَۃٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ ۚ وَلَا تُنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤۡمِنُوۡا(سوره بقره: 221)

شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں۔بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو۔اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔

اس اشتہار میں اسلامی تہذیب پر دو طرح سے حملہ کیا گیا ہے۔
1-بین المذاہب شادی دکھانا، جو سراسر خلاف اسلام ہے۔
2- مسلم خاندان کو غیر اسلامی رسومات ادا کرتے ہوئے دکھانا۔

عرصہ دراز سے شدت پسند طبقات اور لبرل دانش ور مسلمانوں کی شبیہہ خراب کرنے کے لیے فلموں اور اشتہارات کے ذریعے اسلام مخالف ایجنڈا چلا رہے ہیں۔ایک طرف لبرل سوسائٹی بین المذاہب شادی/رشتوں پر مبنی اشتہاروں اور فلموں کے ذریعے اسلامی تہذیب کو داغدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تو دوسری جانب شدت پسند عناصر ایسے اشتہارات اور فلموں کو "لو جہاد" قرار دے کر مسلمانوں کے خلاف فتنہ انگیزی کرتے ہیں اور مسلم لڑکیوں کے خلاف تبدیلی مذہب کی مہم چلاتے ہیں۔یہی لوگ "بیٹی بچاؤ ، بَہو لاؤ" کا نعرہ لگاتے ہیں۔ سالانہ 2100 مسلم لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ہندو لڑکوں سے شادی کرانے کا ٹارگیٹ رکھتے ہیں۔ مسلم لڑکیوں کو اغوا کرنے والے لڑکوں کی مالی مدد کرتے ہیں۔ آج وہی لوگ ایک اشتہار پر ایسے شور مچا رہے ہیں جیسے خود بہت دودھ کے دھلے ہوں!

_
آج شدت پسند طبقہ اس اشتہار کو ہندو ثقافت پر حملہ قرار دے رہا ہے، لیکن یہ لوگ اس وقت بڑے خوش ہوتے ہیں جب "باجی راؤ مستانی" فلم میں مسلمان لڑکی کو ہندو راجا کی داشتہ دکھایا جاتا ہے۔یہ لوگ اس وقت پھولے نہیں سماتے جب "بجرنگی بھائی جان" جیسی فلم میں ایک مولوی کو جئے شری رام کہتے دکھایا جاتا ہے۔ہندو ثقافت کی دہائی دینے والوں کو اس وقت مسلم ثقافت کا ذرہ برابر خیال نہیں آتا۔

___جس طرح شدت پسند تنظیمیں اپنا ایجنڈا چلاتی ہیں، اسی طرح لبرل سوسائٹی کے نام نہاد دانش ور بھی "پدماوت" جیسی فلموں کے ذریعے مسلم بادشاہوں کو بدچلن ، دھوکہ باز اور گندے کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ جس کا سیدھا نشانہ پوری مسلم قوم ہوتی ہے۔جبکہ ہندو راجاؤں کو مہذب کردار کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا ہندی فلموں کا ٹرینڈ بن گیا ہے۔ایسے اشتہاروں اور فلمی پروپیگنڈے کی وجہ سے دیگر طبقات میں مسلمانوں کے تعلق سے منافرت بڑھتی جارہی ہے۔ خود مسلم معاشرہ تہذیبی طور پر بری طرح متاثر ہو رہا ہے اسی لیے شدت پسند اور لبرل دانشوروں سے گزارش ہے کہ آپ چاہے جیسی فلم بنائیں ، جیسا چاہیں اشتہار بنائیں لیکن کسی بھی اشتہار وفلم میں بین المذاہب رشتہ نہ دکھائے جائیں۔اس سے دونوں مذاہب کے مابین خیر سگالی نہیں، صرف نفرت بڑھتی ہے۔ فلمساز ہوں یا کمرشل کمپنیاں، ان کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہوتا ہے ، لیکن ان کے تجارتی مفاد کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔

28 صفر المظفر 1442ھ
16 اکتوبر 2020 بروز جمعہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*وقت پر آغاز کرنے والے سفر کی منزل بھی وقت پر ملتی ہے۔*
(قاسم علی شاہ)

90ء کی دہائی میں جب میں پڑھتا تھا تواس وقت ایسے طلبہ جو کمزور معاشی حالات کی وجہ سے فیس ادا نہیں کرسکتے تھے تو ان کے پاس اپنی تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک ہی راستہ بچتا تھا کہ وہ ٹیوشن پڑھانا شروع کردیں۔ میں خودبھی زمانہ طالب علمی میں ٹیوشن پڑھاتا تھا ،میری کمیونیکیشن اسکلز اچھی تھیں لہٰذاطلبہ کی تعداد بڑھتی گئی۔اللہ نے کرم کیا اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ چند طلبہ سے شروع ہونے والی درس گاہ ایک معیاری ادارے میں بدل گئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان ابلاغ کی بہترین صلاحیت سے مزین نہیں ہوتا ، اس وجہ سے ہر طالب علم پڑھا بھی نہیں سکتا ۔آج کے زمانے میں اگر کوئی طالب علم اپنی فیس نہیں بھر سکتا اور وہ ٹیوشن بھی نہیں پڑھا سکتا تو پھر اسے مجبوراً کسی فلاحی ادارے کے پاس مدد مانگنے کے لیے جانا پڑتا ہے۔میں کافی عرصے سے اس بات پر سوچتا رہا کہ ایسے طلبہ کے لیے کون سا کام مناسب ہوگا جس کے ذریعے وہ اپنے اخراجات کے لیے کچھ رقم کماسکیں اوروہ دوسروں کے محتاج بھی نہ رہیں!!

کامیابی کا اہم راز:خود انحصاری
میں نے اپنی عملی زندگی میں کامیابی کا ایک راز یہ بھی ڈھونڈا ہے کہ جو انسان جتنا ’’خود انحصار ‘‘ہوتا ہے، اتنا ہی وہ بڑے فیصلے کرسکتا ہے اور ترقی کرسکتاہے۔ اپنی کہانی میں بھی بار باریہ بات بتاتا ہوں کہ اگر میں اپنے لڑکپن سے خود کفیل نہ ہوتا تو شاید آج اس مقام پر نہ ہوتا۔میں یہ بات بھی ہمیشہ کہتا ہوں کہ وہ سفر جو انسان نے وقت پر شروع کیا ہوتا ہے اس کی منزل بھی جلدی مل جاتی ہے۔ جب انسان سفر ہی دیر سے شروع کرلے تو پھر اس کی منازل بھی دیر سے ملتی ہیں۔ بروقت شروع کیا جانے والا میرا سفر آج پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ میں نے جتنے بھی کام شرو ع کیے وہ سب اتنے مفید اورموثر تھے کہ اللہ کے فضل و کرم سے اب وہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔جس کی ایک مثال ASK(آؤ صلح کریں) پراجیکٹ ہے۔ میں ہائی کورٹ میں پڑھاتا تھا۔ وہاں میری ملاقات سابقہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ انوار الحق صاحب سے ہوئی اور ہم نے منصوبہ بنایا کہ کیوں نہ ہم صلح کروانی شروع کریں۔ ڈیڑھ سال پہلے ہم نےASK پراجیکٹ کا آغاز کردیا اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہمارے پاس صلح کروانے والوں کی اتنی ٹریفک ہے کہ ہم اس کو سنبھال نہیں سکتے۔میں نے جسٹس صاحب سے پوچھا کہ اس کام کے لیے آپ نے میرا انتخاب کیوں کیا؟انہوں نے کہا:’’میں نے دیکھا کہ آپ کسی بھی کام کا جب ارادہ کرلیتے ہیں توپھرا س سے پیچھے نہیں ہٹتے اور آپ کے پختہ عزم کو دیکھ کرپوری دنیا آپ کی پیروی کرنے لگ جا تی ہے ۔‘‘

جب میں موٹیویشنل اسپیکنگ کی طرف آیا تو 2015ء میں میری ویڈیوز وائرل ہونا شروع ہوگئیں اور اللہ کے فضل و کرم سے 2016ء تک ایک ہی سال میں میں نے دنیا کے آٹھ ممالک دیکھ لیے تھے ۔اس دوران میں نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ میرا یہ سارا کام اور محنت اگرایک فردتک محدود رہے تو یہ آنے والے وقتوں میں زوال کا شکارہوجائے گا، سو ہم نے اس سارے کام کو ایک ادارے کی شکل دی جہاں ہم نے موٹیویشنل ،پبلک اسپیکنگ ، سیلف ہیلپ اور پرسنل ڈیویلپمنٹ کو پروموٹ کرنا شروع کردیا۔

اس پلیٹ فارم سے ہم نے کتاب دوستی اور مطالعہ کی تحریکیں چلائیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام الناس کی ایک بڑی تعداد اس کام کی طرف آگئی۔میرے خیال میں ایک بنے بنائے راستے پر چلنا آسان ہوتا ہے لیکن نیا راستہ بنانا، پھر اس پر چلنا اور منزل کو پالینا یہ بہت مشکل ہوتا ہے ۔اللہ نے مجھے ایک ٹرینڈ سیٹر بنایا اورمعاشرے میں ایک پر اثر شخصیت کے طور پر میں اپنا کردار ادا کرنے لگا۔

فری لانسنگ :ایک بہترین ذریعہ معاش
آج کے زمانے کا پڑھا لکھا بچہ لیبر کا کام نہیں کرسکتا اور نہ ہی وہ مشقت بھری مزدوری کرسکتا ہے۔ میں نے ایسے کاموں کو ڈھونڈنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ فری لانسنگ ایک ایسا کام ہے جس میں اگر آج کے طلبہ قسمت آزمائی کرلیں تو گھر بیٹھے اچھی خاصی کمائی کرسکتے ہیں،کیونکہ فری لانسنگ ایک وسیع میدان ہے جس میں ویڈیو ایڈیٹنگ ، گرافکس ڈیزائننگ ، SEOاور کونٹینٹ رائٹنگ کے ذریعے انسان اپنی محنت کے مطابق کمائی کرسکتا ہے۔اس میدان کو میں نے اس لیے بھی پسند کیا کہ یہ جہاں لوگوں کے لیے مفید ہے وہیں میرے ملک کی معیشت مضبوط کرنے کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔

2018ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 60ہزار سے زائد نوجوان اس فیلڈ سے وابستہ ہیں، جبکہ 2019ء میں دی گلوبل گِگ اکنامی انڈیکس کے مطابق پاکستان میں فری لانسنگ کی آمدنی میں سال 2018 ء کی بنسبت 42 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس انڈسٹری میں نمایاں ترقی کی بدولت دنیا کے 10 بڑے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔

ای کامرس کی اہمیت
کورونا بحران کے دِنوں میں ای کامرس کی اہمیت کا اندازہ پوری دنیاکو ہوا اور مجھے خصوصی طور پر اس وقت ہوا جب مجھے میری پبلی کیشن ٹیم نے رپورٹ دی کہ وبا کے د
Forwarded from Zubair 006
ِنوں میں کتابوں کی مانگ میں چار گنا اضافہ ہوا۔ جب ساری دنیا بند اور کاروبار ٹھپ ہوچکے تھے لیکن اس کے باوجود بھی ہماری پبلی کیشن کا پروجیکٹ سب سے زیادہ فعال تھا اور کتابیں چھپ رہی تھیں۔جب میں نے اس پر غو ر کیا کہ یہ حیران کن اضافہ کیسے آیا تو معلوم ہو اکہ اس کی وجہ ڈیجیٹل ورلڈ ہے ،جہاں ہر قسم کتاب ہر انسان کی دسترس میں ہے۔اُس وقت اردو بازار اور بڑ ے بڑے بک سٹالز بند تھے لیکن ہمارے ادارے کے فیس بک پیج پرمسلسل آرڈرز آرہے تھے.

بقا کس کو ہے؟
نوکیا کمپنی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔وہ اس لیے زوال کاشکار ہوئی کیونکہ اس نے خود کو اپ گریڈ نہیں کیا۔ ڈائنا سور صفحۂ ہستی سے مٹ گئے کیونکہ وہ سمارٹ نہیں تھے اور انہوں نے حالات و واقعات کے مطابق خود کو تبدیل نہیں کیا جبکہ اس کے مقابلے میں لال بیگ آج بھی زندہ ہے ،کیونکہ وہ حالات کے ساتھ سمجھوتا کرنے والا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ میں مشکل حالا ت کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس وجہ سے وہ اپنی جان کی حفاظت کرتا تھا اور اسی ہوشیاری کا نتیجہ ہے کہ آج کروڑوں سال بعد بھی لال بیگ دنیا میں موجود ہے جبکہ خود کو زمانے کے مطابق تیار نہ کرنے کی وجہ سے ڈائنا سور جیسا مضبوط ترین جانوربھی صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہے۔

میری شدید خواہش ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان باصلاحیت اور خود کفیل ہوجائیں،وہ اپنے لیے ایک سمت مقرر کرلیں او ر ایک واضح نظریہ اور سوچ اپنالیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو پاکستان آنے والے دِنوں میں ایک شاندار ملک کے طورپر سامنے آئے گا۔ دنیا میں موجو د ہر ملک کسی نہ کسی خصوصیت کے باعث مشہور ہے. میرا خواب یہ ہے کہ ہمارا پاکستان ای کامرس کے حوالے سے پوری دنیا میں اپنی ایک پہچان بنالے اور ڈیجیٹل ورلڈ میں نمبر وَن ہو۔ یہ کوئی ناممکن کام نہیں۔اگر ہم ای کامرس کو ترجیح دے دیں اور اپنی قابلیت کو کام میں لائیں تو اس ملک میں انقلاب آسکتا ہے۔جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ آج کایونیورسٹی اور کالج میں پڑھنے والا نوجوان خود کفیل ہوجائے گا۔ انسان کے پاس جب اس کی اپنی محنت کی کمائی آجاتی ہے تو پھر اس کو مینج کرنے کا سلیقہ بھی وہ سیکھ لیتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی ذہانت ہے ، جو کہ آپ کو رابرٹ کیوساکی کی کتاب
"Why "A" Students Work for "C" Students"
میں ملے گی.
اس کتاب کا پورا فلسفہ یہ ہے کہ ہمارا ایجوکیشن سسٹم جو مائنڈ سیٹ پیدا کررہا ہے وہ’’ جاب مائنڈ سیٹ‘‘ ہے اور جاب مائنڈ سیٹ والا انسان کبھی بھی بڑا کام نہیں کرسکتا۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جاب مائنڈ سیٹ کو چھوڑ کر ’’سروس مائنڈ سیٹ‘‘ کو فروغ دیا جائے اور ایسی نسل تیا ر کی جائے جوفری لانسرز ہوں، کیونکہ فری لانسنگ کی فیلڈ میں انسان کے پاس سیکھنے اور سکھانے کے لیے بہت کچھ ہوتاہے۔

یہ زمانہ ہی ڈیجیٹلائزیشن کا ہے اور بقا کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔ اس دور میں جو ڈیجیٹل ورلڈ سے دُورہوا وہ ترقی نہیں کرسکتا۔ میں اپنے آس پاس ایسے کئی سارے پی ایچ ڈیز کو دیکھتا ہوں جنہیں ای کامرس کے بارے میں علم نہیں اور اسی وجہ سے وہ اپنی آواز کلاس روم سے باہر نہیں پہنچاسکتے۔

کامیابی کی رفتار:آج کے دور میں
آج اکیسویں صدی میں کامیابی کا معیار اوراس کی رفتار بدل گئی ہے۔ ہمارے دادا ، پردادا کے زمانے میں ایک رسالہ ’’چٹان‘‘ کے نام سے چھپتا تھا۔’چٹان‘‘ میں جو چیز چھپ جاتی تو وہ لکھنے والے کو سیلیبیریٹی بنادیتی۔ آج بھی ہم اپنے بچپن اور جوانی کے زمانے کے ڈراموں اور ان کے کرداروں کو ہیرو کی حیثیت سے یاد رکھتے ہیں ، کیونکہ وہ زمانہ ٹی وی کا تھا اور ٹی وی نے انہیں سیلیبریٹی بنادیا تھا ،جبکہ آج کا زمانہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے اور یہ وہ میڈیم ہے جوکسی بھی انسان کو سیلیبریٹی بناسکتا ہے۔ آج کے دور میں ’چٹان‘‘ میں چھپوانا آپ کو سیلیبریٹی نہیں بنائے گا۔ میرے سامنے اگر ٹی وی کا کوئی پروگرام ہو اور دوسری طرف کوئی یوٹیوب چینل ہو جس پر میری ویڈیوز لاکھوں ، کروڑوں کی تعداد میں دیکھی جانے والی ہوں تو میں یوٹیوب چینل کو ہی ترجیح دوں گا، اسی کو جدت کہا جاتا ہے۔ اکیسویں صدی کی جنگ آپ بم، کلاشنکوف یا گرنیڈ سے نہیں جیت سکتے۔ آج کی جنگ آپ کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے جیتنی ہوگی۔ ایک زمانے میں توپ ایجاد ہوئی تو جس ملک کے فوج کے پاس توپ ہوتی وہ جنگ جیت جاتا ۔پھر کمپیوٹر کا دور آیا اورجس کے پاس کمپیوٹرہوتا وہ ترقی کرنے لگ جاتاجبکہ اب سارادور ہی ’’ای کامرس‘‘ کا ہے اور آج جس ملک کی معیشت مضبوط ہے وہ ففتھ جنریشن وار بھی بہ آسانی لڑ سکتا ہے۔

ہمارے 12کروڑ پاکستانی جوانوں کو آج اگر درست سمت دے دی جائے تو یہ ایٹم بم سے زیادہ طاقتور بات ہے ۔ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ جس ’’آج‘‘ میں ہم ہیں اس کا ایک’’ کل‘‘ بھی ہے اور جس کا ’’کل ‘‘اچھا ہے تو اس کو’’ آج‘‘ بھی اچھا لگے گا لیکن اگر ’’کل‘‘ آپ کو پشیمانی ، خطرے اور عدم تحفظ کا لگ رہا ہے تو پھرآج کے سارے مزے خراب ہوجائیں گے.

لہٰذا اپنا کل بہتر بنائیے ۔آج آپ کے پاس ای ک
Forwarded from Zubair 006
امرس کا میدان موجود ہے. اپنی صلاحیتیں پالش کرکے بروقت اپنا سفر شروع کیجیے اور خود کفیل بن کراپنی اور خاندان کی زندگی کو بہتر بنائیے تاکہ آپ ملک و قوم کی تعمیر میں اپنا کردار بخوبی نبھاسکیں.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
میلادِ رسول ﷺ اور
*مشائخِ نقشبندیہ*

غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]

    مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے اکبری الحاد کا خاتمہ کیا۔ دین کو بُری رَسموں سے پاک کیا۔ باطل نظریات کی بیخ کنی کی۔ ظالم کے روبرو کلمۂ حق کہا۔ مراسمِ اسلامی کو تقویت عطا کی۔ آپ نے محبت رسول ﷺ کی روح پھونک دی۔ آپ ہند میں سرخیلِ سلسلۂ نقشبندیہ ہیں۔ مشائخِ نقشبندیہ نے ہر عہد میں ذکرِ رسول و محافلِ میلادالنبی ﷺ کا اہتمام کیا۔ اس کے ذریعے پیغامِ سیرت عوام تک پہنچایا۔  دین کی خدمت کی۔ مسلمانوں کو اسوۂ حسنہ سے قریب کیا۔ مشائخِ نقشبندیہ کے حوالے سے اِس تحریر میں میلاد و ذکر رسول ﷺ پر روشنی ڈالی جائے گی۔

    خانوادۂ مجدد الف ثانی کے چشم و چراغ حضرت شاہ احمد سعید مجددی دہلوی (م۱۲۷۷ھ/۱۸۶۰ء، مدفوں مدینہ منورہ) میلادِ رسول ﷺ کے اہتمام کی ترغیب ان لفظوں میں دیتے ہیں:’’جس طرح آپ خود اپنی ذات پر درود وسلام بھیجا کرتے تھے؛ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ کے میلاد کی خوشی میں جلسہ کریں۔کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات اور خوشی کے جو طریقے ہیں (ان کے) ذریعہ شکر بجالائیں۔‘‘۱؎

    آپ نے میلاد شریف کے عنوان پر تین کتابیں تحریر کیں:
(۱) سعید البیان فی مولدسیدالانس والجان[اردو مطبوعہ]
(۲)الذکر الشریف فی اثبات المولد المنیف[فارسی]
(۳)اثبات المولدوالقیام[عربی مطبوعہ]

*ارشاداتِ حضرت شاہ احمد سعید مجددی:*
میلادِ رسولﷺ سے متعلق چند ارشادات ملاحظہ فرمائیں:
(۱) محفلِ میلاد در اصل وعظ و نصیحت ہے اس کے لیے جو کان لگائے اور متوجہ ہو، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:نصیحت کرو بے شک نصیحت مومنین کے لیے مفید ہے۔۲؎
(۲)شرح سنن ابن ماجہ میں اس یوم(میلاد) کی تصریح بھی ہے، اور امام جلال الدین نے فرمایا کہ: میلادِ مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام معظم و مکرم ہے، آپ کا یومِ ولادت مقدس و بزرگ اور یومِ عظیم ہے۔ آپ کا وجود عشاق کے لیے ذریعۂ نجات ہے؛ جس نے نجات کے لیے ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا اہتمام کیا اس کی اقتدا کرنے والے پر بھی رحمت و برکت کا نزول ہوگا۔۳؎
(۳)سیدالاولین والآخرین کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہے، ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمتِ عظمیٰ کا شکر بجا لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت اور نیکی کی جائے۔۴؎
(۴)حسین بن ابراہیم مفتی مالکیہ بمکہ فرماتے ہیں: ’’ہاں! ذکر ولادت کے وقت قیام بہت علما نے پسند کیا اوریہ قیام حسن ہے، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم واجب ہے۔واللہ اعلم۔‘‘
(۵) محمد عمر ابن ابی بکر مفتی شافعیہ مکہ مکرمہ کا ارشاد ہے: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے ذکر کے وقت قیام واجب ہے کیوں کہ روح اقدس حضور معلی صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ فرما ہوتی ہے تو اس وقت تعظیم و قیام لازم ہوا۔ جید علماے اسلام اور اکابر نے قیام مذکور کو پسند فرمایا ہے۔‘‘
(۶)محمد بن یحییٰ مفتی حنابلہ مکہ مشرفہ نے بھی ذکر ولادت کے وقت قیام کے استحباب و استحسان کی تصریح فرمائی ہے۔۵؎

    حضرت شاہ احمد سعید مجددی  میلاد شریف کے ضمن میں فرزندِ اکبر کو لکھتے ہیں:’’آتے وقت ’’مولد شریف‘‘ مولفہ مولوی حبیب النبی صاحب، مولوی ولی النبی صاحب سے یا جہاں کہیں سے ملے اپنے ہمراہ لائیں۔‘‘۶؎

    کتاب ’’غایۃ المرام‘‘ جو میلاد شریف و قیام کے استحباب میں علماے دہلی و رامپور و بریلی کے فتاویٰ جات پر مشتمل ہے؛ اس پر شاہِ دہلی بہادر شاہ ظفر کے بعد ساتویں تصدیق حضرت شاہ احمد سعید مجددی کی ہے۔ کل ۶۳؍علما کی تصدیقات موجود ہیں۔

*محافلِ کا اہتمام:*
    نبیرۂ حضرت شاہ احمد سعید مجددی؛ شاہ ابوالخیر مجددی ہر سال میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص اہتمام کرتے۔ شاہ ابوالحسن زید فاروقی ایسی ہی ایک محفل کا ذکر کرتے ہیں: ’’ ۱۲؍ربیع الاول ۱۳۳۸ھ مطابق ۴؍دسمبر ۱۹۱۹ء کو دن کے دس بجے آپ (شاہ ابوالخیر)باہر تشریف فرما تھے اور باہر کے آئے ہوئے وہ تمام افراد موجود تھے جو محفلِ مبارک میلاد شریف میں شریک ہوئے تھے اور دلی کے بھی وہ تمام افراد تھے جن جن کو آپ نے میلادِ مبارک کی خوشی کے کھانے پر مدعو کیا تھا۔‘‘۷؎

    ’’ولادتِ شریفہ کا ذکر مبارک ہوا۔ سب ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے…… میلاد خوانوں نے اس مقدس جناب میں سلام پیش کیا۔جس وقت میلاد خواں ہدیۂ سلام پیش کر رہے تھے، آپ (شاہ ابوالخیر )پر بے خودی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ کی آنکھوں سے سیلِ اشک جاری تھا۔ ہاتھ ناف پر بندھے ہوئے تھے……افسوس صد افسوس کہ ایسی مجلیٰ و مزکیٰ و معطر محفلِ مبارک کو حجابِ علم نے بعض افراد کی نظر میں جامۂ قبح پہنا دیا ہے اور دُنیا بھر کی خرابیاں ان کو اس مبارک محفل میں نظر آنے لگی ہیں۔ ع
چوں نہ دیدند حقیقت رہ افسانہ زند‘‘۸؎

    شاہ ابوالخیر کا یہ قول ہے کہ : ’’ہم یہ مبارک محفل (میلاد) اس لیے منعقد کرتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہو۔ آپ کی محبت اصلِ ایمان ہے۔ اس اصل ہی کو حاصل کرنے
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
کے لیے اس مبارک محفل کا قیام کیا جاتا ہے۔ ‘‘۹؎

     حضرت شاہ احمد سعیدمجددی کی مجالس کے حاضر باشوں میں حضرت شاہ محمد آفاق دہلوی تھے۔جو اویسِ دوراں حضرت فضل رحمٰن گنج مراد آبادی کے مرشد ہیں۔خانقاہِ فضل رحمانی گنج مرادآباد میں خانوادۂ اویسِ دوراں کے یہاں بھی قدیم وقتوں سے میلاد و سلام باقیام کی محافل سجتی رہی ہیں۔ خود مالیگاؤں میں مولانا محمد اسحاق نقشبندی علیہ الرحمہ کے مزار پر میلاد و سلام کی محافل مدتوں سے اب تک جاری  ہیں۔ شاید اس کی روحانی وجہ یہی ہو گی کہ ان کے مشائخ نے میلاد و سلام باقیام کے استحباب پر کتابیں تصنیف کیں۔

    خانوادۂ مجدد الف ثانی کے چشم و چراغ مولانا شاہ محمد معصوم مجددی(م۱۳۴۱ھ، مدفوں مکہ مکرمہ) نے میلاد کے جواز پر کتاب بنام ’’احسن الکلام فی اثبات المولد والقیام‘‘( ۱۳۰۵ھ) لکھی۔آپ فرماتے ہیں   ؎

محفلِ میلاد میں ہوتا ہے ان کا ہی ظہور
کچھ بصیرت چاہیے وہ مہ لقا یہی تو ہیں

    حضرت شاہ معصوم کے فرزند حافظ محمد ابوسعید مجددی (م۱۴۰۴ھ/۱۹۸۳ء) کو عرب دُنیا کی محافلِ میلاد میں پڑھا جانے والا مشہورِ زمانہ ’مولود برزنجی‘ حفظ تھا۔ ۱۰؎

    فتح پوری مسجد کے سابق شاہی امام، مفتی اعظم دہلی، مفتی شاہ مظہر اللہ نقشبندی کے یہاں بھی پابندی سے محافلِ میلاد ہوا کرتیں۔ جس میں اعلیٰ حضرت کا سلام ’’مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ اہتماماً پڑھا جاتا۔ متعدد مقامات پر پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی نے یہ پہلو ذکر کیا۔فتح پوری مسجد میں اس روایت کو مفتی محمد مکرم احمد نقشبندی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    خانقاہِ نقشبندیہ بالاپور کے نائب سجادہ حضرت سید ذکی میاں نقشبندی دام ظلہ نے راقم کو بتایا کہ: ہمارے یہاں صدیوں سے محافلِ میلادالنبی ﷺ سجتی رہی ہیں۔ جس میں سلام باقیام ہوتا ہے۔ فی زمانہ ہم اعلیٰ حضرت کا سلام ’’مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ بہت اہتمام سے پڑھتے ہیں۔تمام سلاسل کے مشائخ نے رسول اللہ ﷺ کے میلادِ پاک کا انعقاد کیا۔محافل منعقد کیں۔ محافلِ میلاد تمام بلادِ اسلامیہ میں آراستہ کی جاتی ہیں- راقم نے مدینہ منورہ و بغداد مقدس میں ایسی محافلِ میلاد میں شرکت کی سعادت حاصل کی ہے- آج بھی ساری دُنیا میں محفلیں سجتی ہیں- عرب میں بھی، عجم میں بھی، شرق و غرب میں بھی۔ جہاں رحمتوں برکتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ایمان کو تازگی و حرارت ملتی ہے۔محبتوں کی سوغات تقسیم ہوتی ہے۔ غریبوں کی داد رسی ہوتی ہے۔
٭٭٭
*حوالہ جات:*
[۱]شاہ احمد سعید مجددی:اثبات المولد والقیام ، لاہور۱۹۸۳ء، ص۲۴ 
[۲] اثبات المولدوالقیام،مرکزی مجلس رضا لاہور ۱۹۸۰ء،ص۲۱
[۳] مرجع سابق،ص۲۳۔۲۴
[۴] مرجع سابق،ص۲۴
[۵] مرجع سابق،ص۳۳
[۶] تحفۂ زواریہ، مرتب ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان، مترجم محمد ظہیرالدین بھٹی،زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی ۲۰۱۱ء، ص۱۳۴،ص۱۶۵
[۷] مقاماتِ خیر۱۳۹۲ھ،شاہ ابوالحسن زید فاروقی،شاہ ابوالخیر اکاڈمی دہلی۱۹۸۹ء،ص۲۸۳ 
[۸] مرجع سابق،ص۳۱۰۔۳۱۱؛ملخصاً
[۹] مرجع سابق،ص۴۴۳
[۱۰] تاریخ الدولۃالمکیۃ، عبدالحق انصاری، بہاء الدین زکریا لائبریری چکوال ۲۰۰۶ء،ص۴۷

[محررہ:،٣١ اکتوبر ۲۰۱۹ء]
***
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*سیرت النبیﷺ پر نوری مشن سے خوبصورت اشاعت ’’آمد بہار‘‘*

*حضرت سید عبدالقادر جیلانی میاں کے بدست اجراء عمل میں آیا*

*عید میلادالنبیﷺ پرنوری مشن کے اشاعتی کارواں کا ۱۲۵؍واں پڑاؤ*

مالیگاؤں: موسم بہار (ربیع الاول) کی نسبت سے پُر بہار کتاب کی اشاعت باعثِ مُسرت ہے؛ جس سے ایمان و عمل کے گلشن میں تازگی آئے گی- اس طرح کے تاثرات کے ساتھ ١٧ اکتوبر کی شب حضرت سید عبدالقادر جیلانی میاں نے تازہ اشاعت "آمدِ بہار" کا اجراء فرمایا- آپ نے صالح لٹریچرز کی افادیت پر کئی نکات بیان کیے- ۳۲؍صفحات پر مشتمل اس کتاب میں دنیا کی حالتِ زار، آمد آمدِ رحمۃ للعالمین ﷺ کی بہاریں، اسم اقدس ﷺ کی تجلیاں اور اس کے برکات پر مدلل انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعمود احمد نقشبندی نے اپنے منفرد اسلوب، سنجیدہ انداز اور دل چسپ و عام فہم طرز میں سیرتِ طیبہ کے کئی گوشوں پر روشنی ڈالی ہے۔ عامۃالمسلمین کی اصلاح و فلاح کے کئی ابواب آمدِ رحمۃ للعالمین ﷺ کے تناظر میں اُجاگر کیے ہیں۔ ’’آمد بہار‘‘ نوری مشن کے اشاعتی کارواں کی ۱۲۵؍ویں اشاعت ہے، جسے عید میلادالنبی ﷺ کی حسین ساعتوں میں منظر عام پر لایا جا رہا ہے۔ ذکرِ مصطفیٰﷺ کی بہاروں، نورِ محمدیﷺ کے کمالات، ظہورِ قدسی کی برکتوں، نامِ نامی کی تجلیوں،انبیاے کرام کی بشارتوں پر کتاب و سنت کی روشنی میں کتاب تصنیف کی گئی ہے۔ پوری کتاب ۱۰۰؍ سے زائد حوالوں پر مبنی ہے۔ ایمان افروز ہے اور عقیدے کی تقویت کا ساماں بھی۔ عشقِ رسول ﷺ کے پاکیزہ جذبات سے پُر ہے۔ میلادِ مصطفیٰﷺ کی بہاروں کا اسلامی گلدستہ ہے۔ کتاب کو مدینہ کتاب گھر، میلاد اسٹال آگرہ روڈ (مالیگاؤں) سے بِلا قیمت حاصل کیا جا سکتا ہے- بیرونی قارئین پی ڈی ایف فائل کے لیے ان نمبرات پر واٹس ایپ/ٹیلی گرام رابطہ کریں:
غلام مصطفیٰ رضوی
+919325028586
فرید رضوی
+919273574090
معین پٹھان رضوی
+917588815888
٭ نوری مشن مالیگاؤں
٭٭٭
یکم ربیع النور ١٤٤٢ھ

https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4496891270386164/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
مطلع حجاز پر
*آفتابِ رسالت ﷺ کی جلوہ گری*

علامہ قمرالزماں خان اعظمی
[سکریٹری جنرل: ورلڈ اسلامک مشن،لندن]

ربیع النور اپنی جملہ تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوچکا ہے۔ اسی ماہِ مقدس کی ۱۲؍ تاریخ کو مطلعِ فاران پر وہ آفتاب ِ رسالت جلوہ فگن ہوا تھا؛ جس نے اس ظلمت کدۂ عالَم کو روشن و منوّر فرما دیا۔ جس نے اوہام و خرافات کی تاریکیوں کو ایمان و یقین کے نور سے بدل دیا، جس نے عالَمِ انسانی کو عدل و انصاف کا حقیقی شعور عطا فرمایا اور انسانوں کو انسانیت کے احترام کی تعلیم دی۔ اسی ماہِ مقدس کی بدولت انسان ان تمام اقدارِ حیات سے مشرف ہوا جنہیں اختیار کرکے وہ اس سرزمین پر نیابتِ الٰہی کا فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے غافل اور گم کردہ راہ انسانوں کو ان کی منزل کا پتا بتایا، انہیں لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی اٰدَمَ کے تاجِ عظمت سے نوازا اور انہیں احسنِ تقویم کی خلعتِ زیبا سے سرفراز فرمایا، انہیں اسفل السافلین کی پستیوں سے نکال کر خلافتِ ارضی کی رفعتوں پر پہنچایا، انہیں وحشت کے ماحول سے نکال کر عدل و انصاف کی زندگی عطا فرمائی۔
سیّدنا مسیح علیہ السّلام کے رفعِ آسمانی کے بعد سے سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری تک ۵۷۰؍ سال کا زمانہ، تاریک ترین زمانہ تھا۔ اس طویل عرصے میں انسان اپنی اخلاقی پستیوں کی بدترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔ اس پورے عرصے میں دُنیا میں کوئی نبی یا رسول جلوہ گر نہ ہوا، جو لوگوں کی اخلاقی اور روحانی رہنمائی کرتا۔ دُنیا میں کوئی ایسی حکومت قائم نہ ہوئی جو عدل و انصاف کی علَم بردار ہوتی، اور نہ کوئی ایسا معاشرہ قائم ہوا جو انسانی قدروں کا آئینہ دار ہوتا۔ اس تاریک ترین دور میں ہر طرف ظلم و جور کی حکمرانی تھی۔ دُنیا کی متمدن قومیں مِٹ چکی تھیں۔ انسانوں کے خود ساختہ قوانین نے کم زوروں سے زندگی کے تمام حقوق سلب کرلیے تھے۔ یونان اور روم میں صرف طاقتور کو زندہ رہنے کا حق دیا جاتا تھا۔ برِ صغیر میں زندہ انسانوں کو ظلم کی چِتاؤں پر جلایا جاتا تھا، اور یورپ کے بہت سے علاقوں میں تڑپتی ہوئی لاشوں کو رقصِ بسمل کے نام سے پیش کیا جاتا تھا۔ مصر میں دریاے نیل کے کنارے نیل پرستی کے نام پر گلستانِ حیات کے نوشگفتہ پھولوں کو مَسل دیا جاتا تھا، اور حجاز میں زندہ بچیوں کو دَرگور کردیا جاتا تھا۔ پوری دُنیا مظالم سے بھری ہوئی تھی، مگر ان مظالم کے خلاف ایک بھی انسان کوئی مؤثر صداے احتجاج بلند کرتا ہوا نظر نہیں آرہا تھا۔ ان حالات میں کائنات کا اجتماعی ضمیر خلاقِ کائنات کی بارگاہ میں التجا کر رہا تھا کہ: اے رب قدوس! اس زمین پر ایک ایسی ہستی کو مبعوث فرما؛ جو اسے ظلم و ستم، جور و وحشت، شرک اور جہالت کی نجاستوں سے پاک فرماکر اسے معمورۂ امن و سکون بنا دے۔ خداے قدوس نے یہ التجا سُن لی، اور ۱۲؍ربیع الاوّل کو دوشنبہ کے دن صبحِ صادق کے وقت رسالت کے اس آفتابِ عالَم تاب کو جلوہ گر فرمایا، جو حقیقی طورپر کائنات کا نجات دہندہ اور امنِ عالَم کا ضامن ہے۔ خداے قدیر نے اس نورِ کامل کی تشریف آوری کا اعلان ان لفظوں میں فرمایا:
قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْن۔[المآئدۃ:آیت۱۵]
بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔
اِنَّآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیرًا وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مّنِیْرًا۔[الاحزاب:آیت۴۵۔۴۶]
بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔
 وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنََ۔[الانبیاء:آیت۱۰۷]
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔

پورا عالَمِ اسلام اللہ رب العزت کے انہیں فرامینِ مقدسہ کو دُہرانے کے لیے ماہِ ربیع الاوّل میں- جشنِ میلادُالنبی- منعقد کرتا ہے۔ مصر و شام، عراق و ایران، ہند و پاک، ترکی و قبرص، نائجیریا و لیبیا، سوڈان و یوگوسلاویہ؛ الغرض جہاں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں، جشنِ عید میلادُالنبی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ میلادالنبی کی ان محافل میں قرآنِ عظیم کی آیات پڑھی جاتی ہیں، نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی جاتی ہے، سیرتِ رسول بیان کی جاتی ہے اور صلوٰۃ و سلام ہوتا ہے۔ صدیوں سے دُنیا کے بیش تر ملکوں میں سیرتِ رسول اور پیغامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کا یہ ایک منظم اور باضابطہ طریقہ ہے۔ آپ اگر برِصغیر ہند و پاک کے اُن علاقوں میں تشریف لے جائیں جہاں ہنوز علم کی روشنی نہیں پہنچی ہے تو وہاں بھی عید میلادُالنبی کی برکات کا مشاہدہ کرسکیں گے۔ مسلمانوں کے اندر شریعت سے وابستگی، عشقِ رسول اور دینِ اسلام سے فِدا کاری کی حدتک تعلق، سب کچھ عید میلاد النبی کی برکتوں کا ظہور ہے۔

*جشن میلادُالنبی کے سلسلے میں حکومتِ سعودیہ عربیہ کا منفی کردار:* جہاں ایک طرف پوری دُنیا میں جشن میلادُالنبی
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام کیا جاتا ہے وہیں دُنیا کی ایک محسوس اور واضح اقلیت کے نمائندے میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس تقریب کے خلاف متحدہ محاذ بناکر دُنیا کو ان محافل سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ان تقاریب پر -شرک اور بدعت- کا فتویٰ صادر کرکے مسلمانوں کے ذہن کو پراگندہ اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور جب بھی عیدمیلادُالنبی کا زمانہ آتا ہے تو مسلمانوں کے گھروں میں ایسے کتابچے پہنچائے جاتے ہیں جن میں غیر علمی اور غیر منطقی مواد موجود ہوتا ہے۔ مگر اس کو علم و دانش کا نام دے کر مسلمانوں کو فریب دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ گذشتہ چند سالوں میں مفتیِ وہابیت ابنِ باز کے فتاویٰ تقسیم کیے جاتے ہیں، اور اب اس سال ابوبکر جابر الجزائری کا کتابچہ گھر گھر تقسیم کیا جارہا ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ حجازِ مقدس سے آنے والے حجاجِ کرام کو یہ کتابچہ سعودیہ عربیہ کی جانب سے تحفے میں دیا جاتا ہے اور گنبدِ خضریٰ کے انوار سے فیض یاب ہوکر آنے والے حجاج کو رسول دُشمنی کی یہ جیتی جاگتی دستاویز بطورِ تبرک پیش کی جاتی ہے۔ سُنّی دُنیا میں ان کتابچوں کا شدید ردِعمل ہوتا ہے اور محافلِ میلاد و جلسہ ہاے سیرت میں ان کی تردید کی جاتی ہے اور لوگوں کو اس کے فریب سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً مسلمانوں کی جو توانائیاں کفر و شرک، الحاد و مغربیت کے خلاف صرف ہونی چاہئیں وہ تردیدِ وہابیت کی نذر ہوجاتی ہیں۔ سعودی حکومت نے پوری دُنیا کے اسلامی لٹریچر کے لیے اپنی نام نہاد حکومت کے دروازے بند کر رکھے ہیں، مگر وہابیت کے گمراہ کُن لٹریچر کو عام کرنے کے لیے حج پاک کے موقع پر زائرینِ حرم کی سادہ لوحی کو شکار کیا جاتاہے۔ وہ آبِ شفا زم زم کے ساتھ بدعقیدگی کا یہ زہر بھی ساتھ لاتے ہیں۔ یہ ہماری وسعتِ ظرفی کہ ہم اس طرح کے لٹریچر کے خلاف کوئی متحدہ آواز نہیں بلند کر رہے ہیں، اس لیے کہ سعودی عرب کے ایوانِ اقتدار سے جس اَمر کی مخالفت کی جائے گی مسلمانانِ عالَم اُسے ضرور کریں گے۔

کاش! سعودی عرب کے اندر بھی یہ اخلاقی جرأت ہوتی اور اہلِ سنت کے ۱۴؍ سو سالہ مذہبی لٹریچر کو اپنی حدودِ مملکت میں درآمد کی اجازت دیتا تو سعودی عوام کے سامنے تصویر کے دونوں رُخ ہوتے، اور حق و باطل کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی۔ آج برطانیہ کی نوجوان نسل مغربیت، الحاد، بے دینی، اِرتداد اور اسلامی اقدار سے انحراف کے راستے پر گام زَن ہے۔ کیا حکومتِ سعودیہ عربیہ کو کبھی توفیق ہوئی کہ وہ ان برائیوں کے خلاف لٹریچر تیار کرواکے تقسیم کرتی؟ کیا ان تمام مفاسد کے مقابلے میں اُسے صرف محافلِ میلاد ہی ایسا مفسدہ نظر آتی ہیں جس کے خلاف وہ پٹرو ڈالر کے تمام وسائل استعمال کر رہی ہے؟
حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ ماہِ ستمبر میں میلادُالنبی کے خلاف لٹریچر تقسیم کیا جارہا ہے، اور اسی ماہ میں سعودی حکومت کا جشنِ تاسیس انتہائی دُھوم دھام سے منایا جارہا ہے۔ میلادُالنبی- جشنِ تاسیسِ اسلام- ہے مگر اس کی مخالفت کرنے والے اُس حکومت کا جشنِ تاسیس مناتے ہیں، جس نے خلافتِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کردیا اور حکومتِ ترکی کے خلاف بغاوت کرکے ایک ایسی حکومت کی داغ بیل ڈالی جس کے عنانِ اقتدار سنبھالتے ہی حجازِ مقدس میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا، مزاراتِ مقدسہ کا انہدام عمل میں لایا گیا اور مآثرِ شرعیہ و شعائرِ اسلامیہ کی توہین کی گئی۔ جس کے حکم رانوں نے اپنی ہوسِ اقتدار پرستی میں ڈوب کر سر زمینِ حجاز کو اقوامِ مغرب کا باج گذار بنادیا۔ جنھوں نے اسلام کے تصورِ خلافت سے انحراف کرکے ملوکیت کو زندہ کیا اور اسلام و عالَمِ اسلام کی مقدس امانت کو اپنی جاگیر قرار دے دیا۔ ایسی حکومت اور اس کے مفتیانِ شرع کے نزدیک عیدمیلادُالنبی تو شرک و بدعت ہے مگر سعودی عرب کا جشنِ تاسیس عین شریعت ہے  ع    بریں عقل ودانش بباید گر یست ٭٭٭
[ماخوذ: مقالاتِ خطیب اعظم، مرتب غلام مصطفیٰ رضوی، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]
***
ترسیل : نوری مشن مالیگاؤں