59 )
(خ):-علامہ شیخ محمد مختار بن عطارد الجاوی مکہ مکرمہ: علمائے محققین کا بادشاہ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات سے ایک معجزہ، یگانہ امام (ایضاً ص 72 )
(ذ):- علامہ شیخ مصطفٰی بن تارزی ابن عزوز مدینہ منورہ: استاذ کامل، برستی گھٹا، فائدہ رساں‘‘ (ایضاً ص 146 )
(ض):- علامہ شیخ موسٰی علی شامی ازھری احمدی دردیری مدنی : امام الائمہ ، ملت اسلامیہ کے مجدد، نور یقین ‘‘ (ایضاً ص 262 ) وغیرہ
(5):- امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ یوں تو اعلٰی حضرت کے لئے علمائے حرمین شریفین نے ‘‘‘امام‘‘‘ لکھا ہے ، لیکن ان کے نام سے قبل امام لگانا یعنٰی امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ لکھنا ۔۔۔۔ ۔۔ یہ انداز سب سے پہلے علامہ مشتاق احمد نظامی الہ آبادی علیہ الرحمہ نے اختیار کیا۔ اور اپنا رسالہ ‘‘پاسبان‘‘ میں ان کے لئے امام احمد رضا علیہ الرحمہ لکھنا شروع کیا ۔ 1976ء میں ماہنامہ المیزان نے اعلٰی حضرت کی حیات و شخصیت اور کارناموں ہر اپنا منفرد ضخیم امام احمد رضا نمبر شائع کیا۔ تو اس میں ہر جگہ ان کے لئے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہی لکھا گیا۔ اس کے بعد امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ لکھنے کا یہ ایک رواج سا بن گیا ۔ ماہر رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب ، علامہ عبد الحکیم اختر شاہجاں پوری رحمۃ اللہ علیہ ، علامہ شمس بریلوی قدس سرہ ، سید ریاست علی قادری صاحب علیہ رحمہ اور دوسرے پاکستانی اور ہندوستانی قلم کاروں نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہی لکھنا شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ ان کی تصانیف کے شائع کرنے والے ناشرین نے بھی ان کے لئے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ لکھا اور آج بھی یہ انداز جاری ہے ۔
(6) محدث بریلوی :
حضرت مسعود ملت ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے محدث بریلوی نام سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و شخصیت پر کتاب لکھی ۔ اس کے بعد چند پاکستانی اہل قلم نے بھی انہیں محدث بریلوی لکھنا شروع کر دیا۔ یہ بھی ایک لقب ہی ہے ۔
(7) ٍفقیہ العصر
ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے فقیہ العصر نام سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت پر رسالہ لکھا ۔ یہ بھی خوبصورت لقب ہے ۔
(8 ) سرتاج الفقہاء
ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کا سرتاج الفقہاء کے نام سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت پر ایک دوسرا رسالہ ہے ۔ سرتاج الفقہاء بھی اچھا لقب ہے ۔ اور امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے شایان شان ہے ۔
(9) چشم و چراغ خاندان برکاتیہ :
مارہرہ مطہرہ ، خانوادہ برکاتیہ کے ایک عظیم و جلیل شہزادے حضرت سید آل رسول حسنین قادری صاحب نے امام احمد رضا کو ‘‘چشم و چراغ خاندان برکاتیہ‘‘ لکھا ۔ ( المیزان امام احمد رضا 1976ء ص 235 )
(10)مجدد اعظم
خانوادہ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ کے چشم و چراغ محدث اعظم ہند حضرت علامہ مولانا سید محمد میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘مجدد اعظم‘‘ کہا (المیزان نمبر ص 241 )
(11) واصف شاہ ہدٰی
پروفیسر ڈاکٹر طلحہ رضوی برق نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘واصف شاہ ہدٰی ‘‘ کہا ( المیزان امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نمبر ص 240 )
حضور اعلٰی حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے خود اپنے آپ کو واصف شاہ ہدٰی کہا ہے ! شعر ملاحظہ کیجئے !
یہی کہتی ہے بلبل باغ جناں کہ رضا کی طرح کوئی سحر بیاں نہیں
ہند میں واصف شاہ ہدٰی مجھے شوخی طبع رضا کی قسم
یہ حقیقتاً رضا سے ہی مستعار ہے لیکن رضا کے لئے حسین لقب ہے ۔
(12) شاہ ملک سخن
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے آقا محمد مصطفٰی صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی پر ناز کرتے ہوئے تحدیث نعمت کے طور پر خود ‘‘ملک سخن کا شاہ‘‘ کہا ہے! فرماتے ہیں !
ملک سخن شاہی تم کو ‘‘رضا‘‘ مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں
(13) شیخ الاسلام و المسلمین
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے اکبر حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان صاحب نور اللہ مرقدہ نے ‘‘شیخ الاسلام و المسلمین ‘‘ سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے وصال(1340ھ) کا تاریخی مادہ استخراج کیا تھا ۔ اب یہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے لئے ایک لقب بن گیا ہے ۔اور انہیں ‘‘ شیخ الاسلام و المسلمین‘‘ بھی لکھا جاتا ہے۔
(14) امام نعت گو یاں
ًمولانا اختر الحامدی صاحب مرحوم (کراچی) نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘امام نعت گو یاں ‘‘ لکھا ہے ۔ وہ اس عنوان سے امام کی نعت گوئی پر بسیط مقالہ لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔( آئینہ رضویات اول )
(15) قبلہ اہل دل ڈاکٹر نسیم قریشی مرحوم شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے امام احمدرضا کو ‘‘قبلہ اہل دل‘‘ لکھا۔ ( المیزان امام احمد رضا نمبر ص 549 )
( 16) فاضل بریلوی امام احمد رضا کے لئے ابتداء سے ہی فاضل بریلوی کہا اور لکھا جا رہا ہے ۔ آج جب بھی فاضل بریلوی کہا اور لکھا جاتا ہے تو ذہن کسی اور عالم کی طرف نہ جا کر امام احمد رضا ہی کی طرف جاتا ہے ۔
حاصل کلام
عرب عجم کے علماء، قلم کاروں اور دانشوروں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے فضا
(خ):-علامہ شیخ محمد مختار بن عطارد الجاوی مکہ مکرمہ: علمائے محققین کا بادشاہ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات سے ایک معجزہ، یگانہ امام (ایضاً ص 72 )
(ذ):- علامہ شیخ مصطفٰی بن تارزی ابن عزوز مدینہ منورہ: استاذ کامل، برستی گھٹا، فائدہ رساں‘‘ (ایضاً ص 146 )
(ض):- علامہ شیخ موسٰی علی شامی ازھری احمدی دردیری مدنی : امام الائمہ ، ملت اسلامیہ کے مجدد، نور یقین ‘‘ (ایضاً ص 262 ) وغیرہ
(5):- امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ یوں تو اعلٰی حضرت کے لئے علمائے حرمین شریفین نے ‘‘‘امام‘‘‘ لکھا ہے ، لیکن ان کے نام سے قبل امام لگانا یعنٰی امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ لکھنا ۔۔۔۔ ۔۔ یہ انداز سب سے پہلے علامہ مشتاق احمد نظامی الہ آبادی علیہ الرحمہ نے اختیار کیا۔ اور اپنا رسالہ ‘‘پاسبان‘‘ میں ان کے لئے امام احمد رضا علیہ الرحمہ لکھنا شروع کیا ۔ 1976ء میں ماہنامہ المیزان نے اعلٰی حضرت کی حیات و شخصیت اور کارناموں ہر اپنا منفرد ضخیم امام احمد رضا نمبر شائع کیا۔ تو اس میں ہر جگہ ان کے لئے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہی لکھا گیا۔ اس کے بعد امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ لکھنے کا یہ ایک رواج سا بن گیا ۔ ماہر رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب ، علامہ عبد الحکیم اختر شاہجاں پوری رحمۃ اللہ علیہ ، علامہ شمس بریلوی قدس سرہ ، سید ریاست علی قادری صاحب علیہ رحمہ اور دوسرے پاکستانی اور ہندوستانی قلم کاروں نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہی لکھنا شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ ان کی تصانیف کے شائع کرنے والے ناشرین نے بھی ان کے لئے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ لکھا اور آج بھی یہ انداز جاری ہے ۔
(6) محدث بریلوی :
حضرت مسعود ملت ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے محدث بریلوی نام سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و شخصیت پر کتاب لکھی ۔ اس کے بعد چند پاکستانی اہل قلم نے بھی انہیں محدث بریلوی لکھنا شروع کر دیا۔ یہ بھی ایک لقب ہی ہے ۔
(7) ٍفقیہ العصر
ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے فقیہ العصر نام سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت پر رسالہ لکھا ۔ یہ بھی خوبصورت لقب ہے ۔
(8 ) سرتاج الفقہاء
ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کا سرتاج الفقہاء کے نام سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت پر ایک دوسرا رسالہ ہے ۔ سرتاج الفقہاء بھی اچھا لقب ہے ۔ اور امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے شایان شان ہے ۔
(9) چشم و چراغ خاندان برکاتیہ :
مارہرہ مطہرہ ، خانوادہ برکاتیہ کے ایک عظیم و جلیل شہزادے حضرت سید آل رسول حسنین قادری صاحب نے امام احمد رضا کو ‘‘چشم و چراغ خاندان برکاتیہ‘‘ لکھا ۔ ( المیزان امام احمد رضا 1976ء ص 235 )
(10)مجدد اعظم
خانوادہ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ کے چشم و چراغ محدث اعظم ہند حضرت علامہ مولانا سید محمد میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘مجدد اعظم‘‘ کہا (المیزان نمبر ص 241 )
(11) واصف شاہ ہدٰی
پروفیسر ڈاکٹر طلحہ رضوی برق نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘واصف شاہ ہدٰی ‘‘ کہا ( المیزان امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نمبر ص 240 )
حضور اعلٰی حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے خود اپنے آپ کو واصف شاہ ہدٰی کہا ہے ! شعر ملاحظہ کیجئے !
یہی کہتی ہے بلبل باغ جناں کہ رضا کی طرح کوئی سحر بیاں نہیں
ہند میں واصف شاہ ہدٰی مجھے شوخی طبع رضا کی قسم
یہ حقیقتاً رضا سے ہی مستعار ہے لیکن رضا کے لئے حسین لقب ہے ۔
(12) شاہ ملک سخن
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے آقا محمد مصطفٰی صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی پر ناز کرتے ہوئے تحدیث نعمت کے طور پر خود ‘‘ملک سخن کا شاہ‘‘ کہا ہے! فرماتے ہیں !
ملک سخن شاہی تم کو ‘‘رضا‘‘ مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں
(13) شیخ الاسلام و المسلمین
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے اکبر حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان صاحب نور اللہ مرقدہ نے ‘‘شیخ الاسلام و المسلمین ‘‘ سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے وصال(1340ھ) کا تاریخی مادہ استخراج کیا تھا ۔ اب یہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے لئے ایک لقب بن گیا ہے ۔اور انہیں ‘‘ شیخ الاسلام و المسلمین‘‘ بھی لکھا جاتا ہے۔
(14) امام نعت گو یاں
ًمولانا اختر الحامدی صاحب مرحوم (کراچی) نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘امام نعت گو یاں ‘‘ لکھا ہے ۔ وہ اس عنوان سے امام کی نعت گوئی پر بسیط مقالہ لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔( آئینہ رضویات اول )
(15) قبلہ اہل دل ڈاکٹر نسیم قریشی مرحوم شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے امام احمدرضا کو ‘‘قبلہ اہل دل‘‘ لکھا۔ ( المیزان امام احمد رضا نمبر ص 549 )
( 16) فاضل بریلوی امام احمد رضا کے لئے ابتداء سے ہی فاضل بریلوی کہا اور لکھا جا رہا ہے ۔ آج جب بھی فاضل بریلوی کہا اور لکھا جاتا ہے تو ذہن کسی اور عالم کی طرف نہ جا کر امام احمد رضا ہی کی طرف جاتا ہے ۔
حاصل کلام
عرب عجم کے علماء، قلم کاروں اور دانشوروں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے فضا
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام المناظرین حضرت شیربیشہ اہل سنت مظہراعلٰی حضرت مولاناحشمت علی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک مناظرہ میں عظیم فتح:
امام المناظرین حضرت شیربیشہ اہل سنت مظہراعلٰی حضرت مولاناحشمت علی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نےایک تاریخی مناظرہ میں قرآن کریم کی آیت پاک [النبیُ اولیٰ بالمومنین مِن انفسھم] یعنی نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مومنوں کے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں ،بیان فرما کرفرمایاکہ اس قربت خاص کے اثبات سےجہاں بھی مومن موجود اس جگہ سرکار دو عالم کا حاضر وناضرہوناثابت ہوتاہے.اس تقریر کو سن کر دیوبندی مولوی ہنسا اور بولا۔ واہ مولانا حشمت علی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ابھی تک اپنے نبی کے حاضر وناظر ہونے میں نقص کا انکار کر رہے تھے اب خود نقصان ثابت کر بیٹھے، اس لئے کہ اب میرا سوال یہ ہے کہ مثلاً ایک ایسا قریہ ، بستی ہے جس میں سب کافر و مشرک رہتے ہیں یعنی کوئی مسلمان و مومن نہیں رہتااور آپ کے نبی مومنوں سے انکی جانوں سےبھی زیادہ قریب ہیں تو یہ بتائیے کہ اس گاوں یا بستی میں جب کوئی مومن موجود ہی نہیں تو تمہارے نبی بھی موجود نہ ہوئے ، لھٰذا اس جگہ حاضر وناظر ہونا بھی پایا نہ گیا۔
سرکار شیر بیشہ اہل سنت کچھ خاموش رہے سرکار مجاہدِ ملت،حضور حافظِ ملت وغیرہ اکابر علماءِ اہلسنت موجود ہیں اور دل میں سوچھ رہے کہ رضا کا شیر مخالف کے سوال کا برجستہ جواب دیتا تھا آج خاموش کیوں ہے?
شیر رضا مسکراتے ہیں اور دیوبندی مولوی سے کہتے ہیں او جاہل! تومیری خاموشی سے سمجھ رہا ہوگا کہ آج رضا کا غلام حشمت علی پھنس گیا.سُن بلاغت کا اصول ہے کہ سائل کا جواب انظار وجستجو کے بعد دیا جائے تو اس کا استحضار عقل میں زیادہ رہتا ہے.
اب تو میرے جواب کو سن اور یاد رکھنا.کراماً کاتبین جو بندوں کے اچھے اور برے اعمال لکھتے ہیں وہ مومن ہیں یا نہیں?دیوبندی مناظربولا ہاں سب فرشتے مومن ہوتے ہیں.
آپ نے فرمایا
وہ فرشتے کافروں کے بھی اعمال لکھتے ہیں توکافروں کے بھی ساتھ ہوتے ہیں یا نہیں? بولا ہاں.
آپ نے فرمایا تَو جس جگہ پر تُونے کہا کہ کافر ہی کافر ہیں تو وہاں کراما کاتبین ( کہ مومن ہیں) موجود اور حاضر ہیں کہ نہیں ؟
دیوبندی بولاہاں.
آپ جلال میں آتے ہیں اور فرماتے ہیں اب بتا سرکار ان فرشتوں کے ساتھ ان کی جان سے بھی زیادہ قریب (موجود) ہوئے یا نہیں? ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کراماً کاتبین (اس کافروں کی بستی میں) موجود ہیں تو بدرجہ اتم میرے سرکار اس جگہ حاضر وناظر ہوئے.
اہل سنت کی زبان پر نعروں کی صدائیں تھیں اور دیوبندیوں کے سر شرم سے جھکے اور شکست سے منہ کالے نظر آرہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اور رضا کا شیر مسئلہ حاضر وناظر پر مناظرہ جیت کر اہل سنت کاسر بلند کر چکا تھا.
پروردگار عالم اس محسن اہلسنت (رضا کے شیر و روحانی بیٹے) کے فیضان سے ہم سب اہل سنت کو مالا مال فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین بجاہ سید المرسلین.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840494412896534&id=100008080090753
امام المناظرین حضرت شیربیشہ اہل سنت مظہراعلٰی حضرت مولاناحشمت علی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نےایک تاریخی مناظرہ میں قرآن کریم کی آیت پاک [النبیُ اولیٰ بالمومنین مِن انفسھم] یعنی نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مومنوں کے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں ،بیان فرما کرفرمایاکہ اس قربت خاص کے اثبات سےجہاں بھی مومن موجود اس جگہ سرکار دو عالم کا حاضر وناضرہوناثابت ہوتاہے.اس تقریر کو سن کر دیوبندی مولوی ہنسا اور بولا۔ واہ مولانا حشمت علی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ابھی تک اپنے نبی کے حاضر وناظر ہونے میں نقص کا انکار کر رہے تھے اب خود نقصان ثابت کر بیٹھے، اس لئے کہ اب میرا سوال یہ ہے کہ مثلاً ایک ایسا قریہ ، بستی ہے جس میں سب کافر و مشرک رہتے ہیں یعنی کوئی مسلمان و مومن نہیں رہتااور آپ کے نبی مومنوں سے انکی جانوں سےبھی زیادہ قریب ہیں تو یہ بتائیے کہ اس گاوں یا بستی میں جب کوئی مومن موجود ہی نہیں تو تمہارے نبی بھی موجود نہ ہوئے ، لھٰذا اس جگہ حاضر وناظر ہونا بھی پایا نہ گیا۔
سرکار شیر بیشہ اہل سنت کچھ خاموش رہے سرکار مجاہدِ ملت،حضور حافظِ ملت وغیرہ اکابر علماءِ اہلسنت موجود ہیں اور دل میں سوچھ رہے کہ رضا کا شیر مخالف کے سوال کا برجستہ جواب دیتا تھا آج خاموش کیوں ہے?
شیر رضا مسکراتے ہیں اور دیوبندی مولوی سے کہتے ہیں او جاہل! تومیری خاموشی سے سمجھ رہا ہوگا کہ آج رضا کا غلام حشمت علی پھنس گیا.سُن بلاغت کا اصول ہے کہ سائل کا جواب انظار وجستجو کے بعد دیا جائے تو اس کا استحضار عقل میں زیادہ رہتا ہے.
اب تو میرے جواب کو سن اور یاد رکھنا.کراماً کاتبین جو بندوں کے اچھے اور برے اعمال لکھتے ہیں وہ مومن ہیں یا نہیں?دیوبندی مناظربولا ہاں سب فرشتے مومن ہوتے ہیں.
آپ نے فرمایا
وہ فرشتے کافروں کے بھی اعمال لکھتے ہیں توکافروں کے بھی ساتھ ہوتے ہیں یا نہیں? بولا ہاں.
آپ نے فرمایا تَو جس جگہ پر تُونے کہا کہ کافر ہی کافر ہیں تو وہاں کراما کاتبین ( کہ مومن ہیں) موجود اور حاضر ہیں کہ نہیں ؟
دیوبندی بولاہاں.
آپ جلال میں آتے ہیں اور فرماتے ہیں اب بتا سرکار ان فرشتوں کے ساتھ ان کی جان سے بھی زیادہ قریب (موجود) ہوئے یا نہیں? ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کراماً کاتبین (اس کافروں کی بستی میں) موجود ہیں تو بدرجہ اتم میرے سرکار اس جگہ حاضر وناظر ہوئے.
اہل سنت کی زبان پر نعروں کی صدائیں تھیں اور دیوبندیوں کے سر شرم سے جھکے اور شکست سے منہ کالے نظر آرہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اور رضا کا شیر مسئلہ حاضر وناظر پر مناظرہ جیت کر اہل سنت کاسر بلند کر چکا تھا.
پروردگار عالم اس محسن اہلسنت (رضا کے شیر و روحانی بیٹے) کے فیضان سے ہم سب اہل سنت کو مالا مال فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین بجاہ سید المرسلین.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840494412896534&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی خبروں کے مطابق سعودی نائب ولی عہد محمد بن سلطان نے فرانس کی سیر و تفریح کے دوران کھڑے کھڑے چالیس کروڑ ڈالر مالیت کی دنیا بھر کی سہولیات سے مزین کشتی خرید لی. کشتی بنانے والوں کا اپنا یہ حال ہے کہ ان کے وزراء، افسران گھر سے دفتر آمد و رفت کے لئے سائیکل، بسوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں. ایسی مہنگی کشتیاں، گاڑیاں تیار ہی "ایسے گاہکوں" کے لئے کی جاتی ہیں جو ان عیاشیوں کے متحمل ہوں. بہرکیف اس سودے سے مجھے وہ لوگ یاد آگئے جو مزار پر سو ڈیڑھ سو روپے کی چادر چڑھانے پر بلبلا اٹھتے ہیں کہ اس چادر کی قیمت سے کسی بھوکے کو کھانا کھلادیا جاتا، کسی یتیم لڑکی کی شادی ہوجاتی، میلاد پر رقم کا اسراف کرنے کے بجائے فلاح و بہبود کا کام ہوجاتا. کیا کسی باضمیر شخص میں اتنی ہمت و جسارت ہے کہ وہ سعودی ولی عہد کی شاہ خرچیوں پر پوچھ سکے کہ چالیس کروڑ ڈالر کی خطیر رقم سے شام، یمن، عراق، فلسطین وغیرہ کے مظلوم و بے کس مسلمانوں کی مدد کردی جاتی، آج وہ بے سروسامانی کے عالم میں اغیار کی پناہ تلاش کررہے ہیں. انہیں اپنے ملک میں پناہ دی جائے؟؟؟ اگر مزار کی ڈیڑھ سو روپے کی چادر اور چالیس کروڑ ڈالر کی کشتی کا بغض و عناد سمجھ آجائے تو ضمیر جھنجھوڑنے کی ضرورت نہیں.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840495186229790&id=100008080090753
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840495186229790&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عثمانی سلاطین 🇹🇷عید میلاد النبیﷺ کی تقریبات کا اہتمام بڑے ذوق سے کرتے تھے زیر نظر تصویر میں1787عثمانی دور خلافت میں استنبول کی نیلی مسجد میں عید میلاد النبیﷺ کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا،دیکھایا گیا ھے۔
#jaanhai_ishqemustafa_challenge
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840595086219800&id=100008080090753
#jaanhai_ishqemustafa_challenge
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840595086219800&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*مسلم اقتصادی استحکام کی فکر پر مبنی کتاب ’’اعلیٰ حضرت: مجدد علم معاشیات‘‘ کی اشاعت*
*عرسِ اعلیٰ حضرت پر پروفیسر عبدالمجید صدیقی کی تصنیف منظرِ عام پر*
مالیگاؤں: اعلیٰ حضرت نے مسلم اقتصادی ترقی کے لیے ایک صدی قبل 4؍نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا۔ نیز کئی کتابیں اقتصادی و معاشی استحکام کی غرض سے قلم بند فرمائیں۔ پروفیسر عبدالمجید صدیقی جو شعبۂ اقتصادیات سے تعلق رکھتے ہیں؛ نے اعلیٰ حضرت کے معاشی اسلامی افکار کا جائزہ اپنے 3؍ اہم مقالات کے ذریعے لیا ہے؛ اور مسلمانوں کی شرعی معاشی و اقتصادی رہنمائی پر مشتمل تجاویز کا علمی تجزیہ فرمایا ہے۔ ان مقالات کو "اعلیٰ حضرت: مجدد علم معاشیات" کے نام سے نوری مشن نے 64؍ صفحات میں شائع کیا ہے۔ عرس اعلیٰ حضرت کی مناسبت سے اس کتاب کی اشاعت عمل میں لائی گئی ہے؛ جس کا مطالعہ یقیناً قومی معیشت کے اسلامی اصولوں سے آگہی کے لیے مفید ثابت ہو گا۔ کتاب میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب مسلمانوں کا سیاسی زوال ہوا تو معاشی رخ سے قومی استحکام کے لیے اعلیٰ حضرت نے معرکہ آرا تجاویز پیش کیں۔ اس میں تین مقالات شامل ہیں: اعلیٰ حضرت مجدد علم معاشیات، اعلیٰ حضرت اور زر کی بازار کاری، اعلیٰ حضرت اور معاش کے احکام۔ اس میں بنا سودی نظام کی اہمیت، کرنسی سے متعلق شرعی احکام، حلال ذرائع سے رزق کے معاملات پر مدلل لکھا گیا ہے۔ معاشیات کے شعبے سے جُڑے ہر فرد کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بڑی افادیت کا حامل ہوگا۔
***
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4479820642093227/
*عرسِ اعلیٰ حضرت پر پروفیسر عبدالمجید صدیقی کی تصنیف منظرِ عام پر*
مالیگاؤں: اعلیٰ حضرت نے مسلم اقتصادی ترقی کے لیے ایک صدی قبل 4؍نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا۔ نیز کئی کتابیں اقتصادی و معاشی استحکام کی غرض سے قلم بند فرمائیں۔ پروفیسر عبدالمجید صدیقی جو شعبۂ اقتصادیات سے تعلق رکھتے ہیں؛ نے اعلیٰ حضرت کے معاشی اسلامی افکار کا جائزہ اپنے 3؍ اہم مقالات کے ذریعے لیا ہے؛ اور مسلمانوں کی شرعی معاشی و اقتصادی رہنمائی پر مشتمل تجاویز کا علمی تجزیہ فرمایا ہے۔ ان مقالات کو "اعلیٰ حضرت: مجدد علم معاشیات" کے نام سے نوری مشن نے 64؍ صفحات میں شائع کیا ہے۔ عرس اعلیٰ حضرت کی مناسبت سے اس کتاب کی اشاعت عمل میں لائی گئی ہے؛ جس کا مطالعہ یقیناً قومی معیشت کے اسلامی اصولوں سے آگہی کے لیے مفید ثابت ہو گا۔ کتاب میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب مسلمانوں کا سیاسی زوال ہوا تو معاشی رخ سے قومی استحکام کے لیے اعلیٰ حضرت نے معرکہ آرا تجاویز پیش کیں۔ اس میں تین مقالات شامل ہیں: اعلیٰ حضرت مجدد علم معاشیات، اعلیٰ حضرت اور زر کی بازار کاری، اعلیٰ حضرت اور معاش کے احکام۔ اس میں بنا سودی نظام کی اہمیت، کرنسی سے متعلق شرعی احکام، حلال ذرائع سے رزق کے معاملات پر مدلل لکھا گیا ہے۔ معاشیات کے شعبے سے جُڑے ہر فرد کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بڑی افادیت کا حامل ہوگا۔
***
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4479820642093227/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*विवादित विज्ञापन और कट्टरपंथी मानसिकता !!*
By: *Ghulam Mustafa Naimi*
Delhi
इन दिनों टाटा के ज्वैलरी ब्रांड 'तनिष्क' का एक विज्ञापन विवादों और चर्चाओं में है। इस विज्ञापन में एक गर्भवती हिंदू लड़की को मुस्लिम घराने की बहू के तौर पर दिखाया गया है जहां उसकी गोद भराई की रस्म में मुस्लिम फैमिली हिंदू रस्मों को अदा करती हुई नजर आती है। इस विज्ञापन पर कट्टरपंथी मानसिकता के लोगों ने हंगामा खड़ा कर दिया है और वह इसे लव जिहाद को बढ़ावा देने वाला करार दे रहे हैं। दूसरी तरफ लिबरल मानसिकता के लोग इस विज्ञापन को हिंदू मुस्लिम सदभावना बताते हुऐ इस की पैरवी कर रहे हैं।
इस्लामी नज़रिये से भी विज्ञापन का कंटेट बिल्कुल ग़लत है। लेकिन हमें कट्टरपंथी और टाटा ग्रुप दोनों की मानसिकता पर सख्त ऐतराज है। ज़िंदगी गुज़ारने और शादी ब्याह के लिए इस्लाम के अपने बुनियादी उसूल और मान्यताएँ हैं। इस्लामी नज़रिये के अनुसार अंतर्धर्म विवाह (Interfaith marriage) जाइज़ नहीं है। इस विज्ञापन में दो प्रकार से इस्लामी मान्यतायों पर हमला किया गया है।
1- Interfaith marriage दिखाना, जो इस्लामी नज़रिये के सरासर ख़िलाफ है।
2- मुस्लिम फैमिली को ग़ैर इस्लामी रस्में करते दिखाना।
लंबे वक्त से कट्टरपंथी और लिबरल लोग इस्लाम और मुसलमानों की इमेज बिगाड़ने के लिए फिल्मों और विज्ञापनों का सहारा लेकर इस्लाम विरोधी एजेंडा चला रहे हैं। एक तरफ लिबरल समुदाय अंतर्धर्म विवाह (interfaith marriage) आधारित विज्ञापनों और फिल्मों के ज़रिए इस्लामी मान्यताएँ धूमिल करने का प्रयास करते हैं। दूसरी तरफ कट्टरपंथी तत्व ऐसे विज्ञापनों और फिल्मों को लव जिहाद कह कर मुस्लिमों के खिलाफ हिंसा और उत्पात मचाते हैं। और इन्हीं को आड़ बना कर मुस्लिम लड़कियों के खिलाफ धर्मांतरण की मुहिम चलाते हैं।
आज कट्टरपंथी इस विज्ञापन को हिंदू संस्कृति पर हमला बता रहे हैं लेकिन ये लोग उस वक्त बड़े खुश होते हैं जब "बाजीराव मस्तानी" में एक मुस्लिम लड़की को हिंदू पेशवा की रखैल दिखाया जाता है। कट्टरपंथी उस वक्त बहुत तालियां बजाते हैं जब "बजरंगी भाईजान" जैसी फिल्म में एक मौलवी को जय श्री राम कहते दिखाया जाता है। तब इन्हें मुस्लिम संस्कृति का ख्याल नहीं आता!
जिस तरह कट्टरपंथी अपना ऐजेंडा चलाते हैं तो लिबरल सोसायटी के महानुभाव भी पद्मावत जैसी फिल्मों में मुस्लिम बादशाहों को चरित्रहीन, धोखेबाज और असभ्य कैरेक्टर के तौर पर दिखाते हैं। जबकि दूसरे राजाओं को शालीन और सभ्य व्यक्ति के तौर पर पेश किया जाता है। मुसलमानों को आतंकवादी के तौर पर पेश करना हिंदी फिल्मों का ट्रेंड बन गया है। ऐसे ही विज्ञापनों और और फिल्मी एजेंडे की वजह से मुस्लिम सोसाइटी पर बहुत गलत असर पड़ रहा है इसलिए हम समाज के इन 'कट्टरपंथी ठेकेदारों' और तथाकथित 'लिबरल बुद्धिजीवियों' से यह गुज़ारिश करते हैं कि आप जैसा चाहे विज्ञापन बनाएं, जैसी चाहे मूवी बनाएं लेकिन किसी भी तौर पर अंतर्धम रिश्ते बिल्कुल ना दिखाएं। इस से दोनों समुदाय के बीच सदभावना नहीं सिर्फ नफरतें बढ़ती हैं। फिल्म निर्माता हों या व्यवसायिक कंपनियां, इन का मक़सद सिर्फ़ पैसा कमाना होता है लेकिन इन की हरकतों का ख़मियाज़ा पूरे समाज को भुगतना पड़ता है।
हिन्दू समाज का वो तबका जो 2100 मुस्लिम बहुएं लाने की बात करता है और उनकी हर तरह की मदद का दम भरता है उसे तनिष्क जैसे विज्ञापन पर थोड़ा धैर्य तो दिखाना चाहिये।
वहीँ मुस्लिम जगत के बुद्धिजीवियों को समझना चाहिए कि बॉलीवुड में इस्लाम विरोधी कल्चर का चलन आज हमारे बच्चों पर किया असर डाल रहा है इस पर भी विचार करने की सख्त जरूरत है।
15/10/2020
By: *Ghulam Mustafa Naimi*
Delhi
इन दिनों टाटा के ज्वैलरी ब्रांड 'तनिष्क' का एक विज्ञापन विवादों और चर्चाओं में है। इस विज्ञापन में एक गर्भवती हिंदू लड़की को मुस्लिम घराने की बहू के तौर पर दिखाया गया है जहां उसकी गोद भराई की रस्म में मुस्लिम फैमिली हिंदू रस्मों को अदा करती हुई नजर आती है। इस विज्ञापन पर कट्टरपंथी मानसिकता के लोगों ने हंगामा खड़ा कर दिया है और वह इसे लव जिहाद को बढ़ावा देने वाला करार दे रहे हैं। दूसरी तरफ लिबरल मानसिकता के लोग इस विज्ञापन को हिंदू मुस्लिम सदभावना बताते हुऐ इस की पैरवी कर रहे हैं।
इस्लामी नज़रिये से भी विज्ञापन का कंटेट बिल्कुल ग़लत है। लेकिन हमें कट्टरपंथी और टाटा ग्रुप दोनों की मानसिकता पर सख्त ऐतराज है। ज़िंदगी गुज़ारने और शादी ब्याह के लिए इस्लाम के अपने बुनियादी उसूल और मान्यताएँ हैं। इस्लामी नज़रिये के अनुसार अंतर्धर्म विवाह (Interfaith marriage) जाइज़ नहीं है। इस विज्ञापन में दो प्रकार से इस्लामी मान्यतायों पर हमला किया गया है।
1- Interfaith marriage दिखाना, जो इस्लामी नज़रिये के सरासर ख़िलाफ है।
2- मुस्लिम फैमिली को ग़ैर इस्लामी रस्में करते दिखाना।
लंबे वक्त से कट्टरपंथी और लिबरल लोग इस्लाम और मुसलमानों की इमेज बिगाड़ने के लिए फिल्मों और विज्ञापनों का सहारा लेकर इस्लाम विरोधी एजेंडा चला रहे हैं। एक तरफ लिबरल समुदाय अंतर्धर्म विवाह (interfaith marriage) आधारित विज्ञापनों और फिल्मों के ज़रिए इस्लामी मान्यताएँ धूमिल करने का प्रयास करते हैं। दूसरी तरफ कट्टरपंथी तत्व ऐसे विज्ञापनों और फिल्मों को लव जिहाद कह कर मुस्लिमों के खिलाफ हिंसा और उत्पात मचाते हैं। और इन्हीं को आड़ बना कर मुस्लिम लड़कियों के खिलाफ धर्मांतरण की मुहिम चलाते हैं।
आज कट्टरपंथी इस विज्ञापन को हिंदू संस्कृति पर हमला बता रहे हैं लेकिन ये लोग उस वक्त बड़े खुश होते हैं जब "बाजीराव मस्तानी" में एक मुस्लिम लड़की को हिंदू पेशवा की रखैल दिखाया जाता है। कट्टरपंथी उस वक्त बहुत तालियां बजाते हैं जब "बजरंगी भाईजान" जैसी फिल्म में एक मौलवी को जय श्री राम कहते दिखाया जाता है। तब इन्हें मुस्लिम संस्कृति का ख्याल नहीं आता!
जिस तरह कट्टरपंथी अपना ऐजेंडा चलाते हैं तो लिबरल सोसायटी के महानुभाव भी पद्मावत जैसी फिल्मों में मुस्लिम बादशाहों को चरित्रहीन, धोखेबाज और असभ्य कैरेक्टर के तौर पर दिखाते हैं। जबकि दूसरे राजाओं को शालीन और सभ्य व्यक्ति के तौर पर पेश किया जाता है। मुसलमानों को आतंकवादी के तौर पर पेश करना हिंदी फिल्मों का ट्रेंड बन गया है। ऐसे ही विज्ञापनों और और फिल्मी एजेंडे की वजह से मुस्लिम सोसाइटी पर बहुत गलत असर पड़ रहा है इसलिए हम समाज के इन 'कट्टरपंथी ठेकेदारों' और तथाकथित 'लिबरल बुद्धिजीवियों' से यह गुज़ारिश करते हैं कि आप जैसा चाहे विज्ञापन बनाएं, जैसी चाहे मूवी बनाएं लेकिन किसी भी तौर पर अंतर्धम रिश्ते बिल्कुल ना दिखाएं। इस से दोनों समुदाय के बीच सदभावना नहीं सिर्फ नफरतें बढ़ती हैं। फिल्म निर्माता हों या व्यवसायिक कंपनियां, इन का मक़सद सिर्फ़ पैसा कमाना होता है लेकिन इन की हरकतों का ख़मियाज़ा पूरे समाज को भुगतना पड़ता है।
हिन्दू समाज का वो तबका जो 2100 मुस्लिम बहुएं लाने की बात करता है और उनकी हर तरह की मदद का दम भरता है उसे तनिष्क जैसे विज्ञापन पर थोड़ा धैर्य तो दिखाना चाहिये।
वहीँ मुस्लिम जगत के बुद्धिजीवियों को समझना चाहिए कि बॉलीवुड में इस्लाम विरोधी कल्चर का चलन आज हमारे बच्चों पर किया असर डाल रहा है इस पर भी विचार करने की सख्त जरूरत है।
15/10/2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*ٹاٹا کا اشتہار اور اسلام مخالف ذہنیت !!*
*غلام مصطفی نعیمی*
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
ان دنوں ٹاٹا کے جیولری برانڈ 'تَنِشق' کا اشتہار موضوع بحث بنا ہوا ہے۔اشتہار میں ایک حاملہ ہندو لڑکی کو مسلم گھرانے کی بہو کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ جہاں مسلم خاندان، ہندو بَہُو کی "گود بھرائی" کی تقریب میں "ہندوانہ رسمیں" کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔امیدوں کے عین مطابق اشتہار کے منظر عام پر آتے ہی شدت پسندوں نے اسے ہندو تہذیب پر حملہ اور لَو جہاد قرار دیتے ہوئے ہنگامہ شروع کردیا۔جس کی وجہ سے کمپنی نے اشتہار واپس لے لیا۔یہاں سے لبرل دانش وروں نے مورچہ سنبھالا اور اشتہار کو ہندو مسلم خیر سگالی کا بہترین ذریعہ قرار دیا اور کمپنی سے اشتہار دوبارہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت دونوں ہی گروپ سوشل میڈیا پر مصروف جنگ ہیں۔
_مسلمانوں کو اس پورے منظر نامہ سے دور رہنا چاہیے کیوں کہ یہ اشتہار مکمل طور اسلامی تہذیب پر حملہ اور قانون نکاح کے خلاف ہے۔لیکن حالیہ ہنگامے میں ہمیں شدت پسندوں اور ٹاٹا گروپ جیسے لبرلوں دونوں کی ذہنیت پر سخت اعتراض ہے۔اسلام میں نہ لَو جہاد جیسا کوئی تصور ہے نہ خیر سگالی کے نام پر شرکیہ رسومات کی اجازت!
ہمارے دین میں زندگی گزارنے اور شادی وغیرہ کے لیے بنیادی اصول اور احکام موجود ہیں۔اسلام میں بین المذاہب شادی کا کوئی تصور نہیں ہے، قرآن فرماتا ہے:
وَ لَا تَنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکٰتِ حَتّٰی یُؤۡمِنَّ ؕ وَ لَاَمَۃٌ مُّؤۡمِنَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِکَۃٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ ۚ وَلَا تُنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤۡمِنُوۡا(سوره بقره: 221)
شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں۔بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو۔اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔
اس اشتہار میں اسلامی تہذیب پر دو طرح سے حملہ کیا گیا ہے۔
1-بین المذاہب شادی دکھانا، جو سراسر خلاف اسلام ہے۔
2- مسلم خاندان کو غیر اسلامی رسومات ادا کرتے ہوئے دکھانا۔
عرصہ دراز سے شدت پسند طبقات اور لبرل دانش ور مسلمانوں کی شبیہہ خراب کرنے کے لیے فلموں اور اشتہارات کے ذریعے اسلام مخالف ایجنڈا چلا رہے ہیں۔ایک طرف لبرل سوسائٹی بین المذاہب شادی/رشتوں پر مبنی اشتہاروں اور فلموں کے ذریعے اسلامی تہذیب کو داغدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تو دوسری جانب شدت پسند عناصر ایسے اشتہارات اور فلموں کو "لو جہاد" قرار دے کر مسلمانوں کے خلاف فتنہ انگیزی کرتے ہیں اور مسلم لڑکیوں کے خلاف تبدیلی مذہب کی مہم چلاتے ہیں۔یہی لوگ "بیٹی بچاؤ ، بَہو لاؤ" کا نعرہ لگاتے ہیں۔ سالانہ 2100 مسلم لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ہندو لڑکوں سے شادی کرانے کا ٹارگیٹ رکھتے ہیں۔ مسلم لڑکیوں کو اغوا کرنے والے لڑکوں کی مالی مدد کرتے ہیں۔ آج وہی لوگ ایک اشتہار پر ایسے شور مچا رہے ہیں جیسے خود بہت دودھ کے دھلے ہوں!
_ آج شدت پسند طبقہ اس اشتہار کو ہندو ثقافت پر حملہ قرار دے رہا ہے، لیکن یہ لوگ اس وقت بڑے خوش ہوتے ہیں جب "باجی راؤ مستانی" فلم میں مسلمان لڑکی کو ہندو راجا کی داشتہ دکھایا جاتا ہے۔یہ لوگ اس وقت پھولے نہیں سماتے جب "بجرنگی بھائی جان" جیسی فلم میں ایک مولوی کو جئے شری رام کہتے دکھایا جاتا ہے۔ہندو ثقافت کی دہائی دینے والوں کو اس وقت مسلم ثقافت کا ذرہ برابر خیال نہیں آتا۔
___جس طرح شدت پسند تنظیمیں اپنا ایجنڈا چلاتی ہیں، اسی طرح لبرل سوسائٹی کے نام نہاد دانش ور بھی "پدماوت" جیسی فلموں کے ذریعے مسلم بادشاہوں کو بدچلن ، دھوکہ باز اور گندے کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ جس کا سیدھا نشانہ پوری مسلم قوم ہوتی ہے۔جبکہ ہندو راجاؤں کو مہذب کردار کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا ہندی فلموں کا ٹرینڈ بن گیا ہے۔ایسے اشتہاروں اور فلمی پروپیگنڈے کی وجہ سے دیگر طبقات میں مسلمانوں کے تعلق سے منافرت بڑھتی جارہی ہے۔ خود مسلم معاشرہ تہذیبی طور پر بری طرح متاثر ہو رہا ہے اسی لیے شدت پسند اور لبرل دانشوروں سے گزارش ہے کہ آپ چاہے جیسی فلم بنائیں ، جیسا چاہیں اشتہار بنائیں لیکن کسی بھی اشتہار وفلم میں بین المذاہب رشتہ نہ دکھائے جائیں۔اس سے دونوں مذاہب کے مابین خیر سگالی نہیں، صرف نفرت بڑھتی ہے۔ فلمساز ہوں یا کمرشل کمپنیاں، ان کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہوتا ہے ، لیکن ان کے تجارتی مفاد کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔
28 صفر المظفر 1442ھ
16 اکتوبر 2020 بروز جمعہ
*غلام مصطفی نعیمی*
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
ان دنوں ٹاٹا کے جیولری برانڈ 'تَنِشق' کا اشتہار موضوع بحث بنا ہوا ہے۔اشتہار میں ایک حاملہ ہندو لڑکی کو مسلم گھرانے کی بہو کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ جہاں مسلم خاندان، ہندو بَہُو کی "گود بھرائی" کی تقریب میں "ہندوانہ رسمیں" کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔امیدوں کے عین مطابق اشتہار کے منظر عام پر آتے ہی شدت پسندوں نے اسے ہندو تہذیب پر حملہ اور لَو جہاد قرار دیتے ہوئے ہنگامہ شروع کردیا۔جس کی وجہ سے کمپنی نے اشتہار واپس لے لیا۔یہاں سے لبرل دانش وروں نے مورچہ سنبھالا اور اشتہار کو ہندو مسلم خیر سگالی کا بہترین ذریعہ قرار دیا اور کمپنی سے اشتہار دوبارہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت دونوں ہی گروپ سوشل میڈیا پر مصروف جنگ ہیں۔
_مسلمانوں کو اس پورے منظر نامہ سے دور رہنا چاہیے کیوں کہ یہ اشتہار مکمل طور اسلامی تہذیب پر حملہ اور قانون نکاح کے خلاف ہے۔لیکن حالیہ ہنگامے میں ہمیں شدت پسندوں اور ٹاٹا گروپ جیسے لبرلوں دونوں کی ذہنیت پر سخت اعتراض ہے۔اسلام میں نہ لَو جہاد جیسا کوئی تصور ہے نہ خیر سگالی کے نام پر شرکیہ رسومات کی اجازت!
ہمارے دین میں زندگی گزارنے اور شادی وغیرہ کے لیے بنیادی اصول اور احکام موجود ہیں۔اسلام میں بین المذاہب شادی کا کوئی تصور نہیں ہے، قرآن فرماتا ہے:
وَ لَا تَنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکٰتِ حَتّٰی یُؤۡمِنَّ ؕ وَ لَاَمَۃٌ مُّؤۡمِنَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِکَۃٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ ۚ وَلَا تُنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤۡمِنُوۡا(سوره بقره: 221)
شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں۔بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو۔اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔
اس اشتہار میں اسلامی تہذیب پر دو طرح سے حملہ کیا گیا ہے۔
1-بین المذاہب شادی دکھانا، جو سراسر خلاف اسلام ہے۔
2- مسلم خاندان کو غیر اسلامی رسومات ادا کرتے ہوئے دکھانا۔
عرصہ دراز سے شدت پسند طبقات اور لبرل دانش ور مسلمانوں کی شبیہہ خراب کرنے کے لیے فلموں اور اشتہارات کے ذریعے اسلام مخالف ایجنڈا چلا رہے ہیں۔ایک طرف لبرل سوسائٹی بین المذاہب شادی/رشتوں پر مبنی اشتہاروں اور فلموں کے ذریعے اسلامی تہذیب کو داغدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تو دوسری جانب شدت پسند عناصر ایسے اشتہارات اور فلموں کو "لو جہاد" قرار دے کر مسلمانوں کے خلاف فتنہ انگیزی کرتے ہیں اور مسلم لڑکیوں کے خلاف تبدیلی مذہب کی مہم چلاتے ہیں۔یہی لوگ "بیٹی بچاؤ ، بَہو لاؤ" کا نعرہ لگاتے ہیں۔ سالانہ 2100 مسلم لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ہندو لڑکوں سے شادی کرانے کا ٹارگیٹ رکھتے ہیں۔ مسلم لڑکیوں کو اغوا کرنے والے لڑکوں کی مالی مدد کرتے ہیں۔ آج وہی لوگ ایک اشتہار پر ایسے شور مچا رہے ہیں جیسے خود بہت دودھ کے دھلے ہوں!
_ آج شدت پسند طبقہ اس اشتہار کو ہندو ثقافت پر حملہ قرار دے رہا ہے، لیکن یہ لوگ اس وقت بڑے خوش ہوتے ہیں جب "باجی راؤ مستانی" فلم میں مسلمان لڑکی کو ہندو راجا کی داشتہ دکھایا جاتا ہے۔یہ لوگ اس وقت پھولے نہیں سماتے جب "بجرنگی بھائی جان" جیسی فلم میں ایک مولوی کو جئے شری رام کہتے دکھایا جاتا ہے۔ہندو ثقافت کی دہائی دینے والوں کو اس وقت مسلم ثقافت کا ذرہ برابر خیال نہیں آتا۔
___جس طرح شدت پسند تنظیمیں اپنا ایجنڈا چلاتی ہیں، اسی طرح لبرل سوسائٹی کے نام نہاد دانش ور بھی "پدماوت" جیسی فلموں کے ذریعے مسلم بادشاہوں کو بدچلن ، دھوکہ باز اور گندے کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ جس کا سیدھا نشانہ پوری مسلم قوم ہوتی ہے۔جبکہ ہندو راجاؤں کو مہذب کردار کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا ہندی فلموں کا ٹرینڈ بن گیا ہے۔ایسے اشتہاروں اور فلمی پروپیگنڈے کی وجہ سے دیگر طبقات میں مسلمانوں کے تعلق سے منافرت بڑھتی جارہی ہے۔ خود مسلم معاشرہ تہذیبی طور پر بری طرح متاثر ہو رہا ہے اسی لیے شدت پسند اور لبرل دانشوروں سے گزارش ہے کہ آپ چاہے جیسی فلم بنائیں ، جیسا چاہیں اشتہار بنائیں لیکن کسی بھی اشتہار وفلم میں بین المذاہب رشتہ نہ دکھائے جائیں۔اس سے دونوں مذاہب کے مابین خیر سگالی نہیں، صرف نفرت بڑھتی ہے۔ فلمساز ہوں یا کمرشل کمپنیاں، ان کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہوتا ہے ، لیکن ان کے تجارتی مفاد کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔
28 صفر المظفر 1442ھ
16 اکتوبر 2020 بروز جمعہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*وقت پر آغاز کرنے والے سفر کی منزل بھی وقت پر ملتی ہے۔*
(قاسم علی شاہ)
90ء کی دہائی میں جب میں پڑھتا تھا تواس وقت ایسے طلبہ جو کمزور معاشی حالات کی وجہ سے فیس ادا نہیں کرسکتے تھے تو ان کے پاس اپنی تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک ہی راستہ بچتا تھا کہ وہ ٹیوشن پڑھانا شروع کردیں۔ میں خودبھی زمانہ طالب علمی میں ٹیوشن پڑھاتا تھا ،میری کمیونیکیشن اسکلز اچھی تھیں لہٰذاطلبہ کی تعداد بڑھتی گئی۔اللہ نے کرم کیا اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ چند طلبہ سے شروع ہونے والی درس گاہ ایک معیاری ادارے میں بدل گئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان ابلاغ کی بہترین صلاحیت سے مزین نہیں ہوتا ، اس وجہ سے ہر طالب علم پڑھا بھی نہیں سکتا ۔آج کے زمانے میں اگر کوئی طالب علم اپنی فیس نہیں بھر سکتا اور وہ ٹیوشن بھی نہیں پڑھا سکتا تو پھر اسے مجبوراً کسی فلاحی ادارے کے پاس مدد مانگنے کے لیے جانا پڑتا ہے۔میں کافی عرصے سے اس بات پر سوچتا رہا کہ ایسے طلبہ کے لیے کون سا کام مناسب ہوگا جس کے ذریعے وہ اپنے اخراجات کے لیے کچھ رقم کماسکیں اوروہ دوسروں کے محتاج بھی نہ رہیں!!
▪کامیابی کا اہم راز:خود انحصاری
میں نے اپنی عملی زندگی میں کامیابی کا ایک راز یہ بھی ڈھونڈا ہے کہ جو انسان جتنا ’’خود انحصار ‘‘ہوتا ہے، اتنا ہی وہ بڑے فیصلے کرسکتا ہے اور ترقی کرسکتاہے۔ اپنی کہانی میں بھی بار باریہ بات بتاتا ہوں کہ اگر میں اپنے لڑکپن سے خود کفیل نہ ہوتا تو شاید آج اس مقام پر نہ ہوتا۔میں یہ بات بھی ہمیشہ کہتا ہوں کہ وہ سفر جو انسان نے وقت پر شروع کیا ہوتا ہے اس کی منزل بھی جلدی مل جاتی ہے۔ جب انسان سفر ہی دیر سے شروع کرلے تو پھر اس کی منازل بھی دیر سے ملتی ہیں۔ بروقت شروع کیا جانے والا میرا سفر آج پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ میں نے جتنے بھی کام شرو ع کیے وہ سب اتنے مفید اورموثر تھے کہ اللہ کے فضل و کرم سے اب وہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔جس کی ایک مثال ASK(آؤ صلح کریں) پراجیکٹ ہے۔ میں ہائی کورٹ میں پڑھاتا تھا۔ وہاں میری ملاقات سابقہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ انوار الحق صاحب سے ہوئی اور ہم نے منصوبہ بنایا کہ کیوں نہ ہم صلح کروانی شروع کریں۔ ڈیڑھ سال پہلے ہم نےASK پراجیکٹ کا آغاز کردیا اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہمارے پاس صلح کروانے والوں کی اتنی ٹریفک ہے کہ ہم اس کو سنبھال نہیں سکتے۔میں نے جسٹس صاحب سے پوچھا کہ اس کام کے لیے آپ نے میرا انتخاب کیوں کیا؟انہوں نے کہا:’’میں نے دیکھا کہ آپ کسی بھی کام کا جب ارادہ کرلیتے ہیں توپھرا س سے پیچھے نہیں ہٹتے اور آپ کے پختہ عزم کو دیکھ کرپوری دنیا آپ کی پیروی کرنے لگ جا تی ہے ۔‘‘
جب میں موٹیویشنل اسپیکنگ کی طرف آیا تو 2015ء میں میری ویڈیوز وائرل ہونا شروع ہوگئیں اور اللہ کے فضل و کرم سے 2016ء تک ایک ہی سال میں میں نے دنیا کے آٹھ ممالک دیکھ لیے تھے ۔اس دوران میں نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ میرا یہ سارا کام اور محنت اگرایک فردتک محدود رہے تو یہ آنے والے وقتوں میں زوال کا شکارہوجائے گا، سو ہم نے اس سارے کام کو ایک ادارے کی شکل دی جہاں ہم نے موٹیویشنل ،پبلک اسپیکنگ ، سیلف ہیلپ اور پرسنل ڈیویلپمنٹ کو پروموٹ کرنا شروع کردیا۔
اس پلیٹ فارم سے ہم نے کتاب دوستی اور مطالعہ کی تحریکیں چلائیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام الناس کی ایک بڑی تعداد اس کام کی طرف آگئی۔میرے خیال میں ایک بنے بنائے راستے پر چلنا آسان ہوتا ہے لیکن نیا راستہ بنانا، پھر اس پر چلنا اور منزل کو پالینا یہ بہت مشکل ہوتا ہے ۔اللہ نے مجھے ایک ٹرینڈ سیٹر بنایا اورمعاشرے میں ایک پر اثر شخصیت کے طور پر میں اپنا کردار ادا کرنے لگا۔
▪فری لانسنگ :ایک بہترین ذریعہ معاش
آج کے زمانے کا پڑھا لکھا بچہ لیبر کا کام نہیں کرسکتا اور نہ ہی وہ مشقت بھری مزدوری کرسکتا ہے۔ میں نے ایسے کاموں کو ڈھونڈنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ فری لانسنگ ایک ایسا کام ہے جس میں اگر آج کے طلبہ قسمت آزمائی کرلیں تو گھر بیٹھے اچھی خاصی کمائی کرسکتے ہیں،کیونکہ فری لانسنگ ایک وسیع میدان ہے جس میں ویڈیو ایڈیٹنگ ، گرافکس ڈیزائننگ ، SEOاور کونٹینٹ رائٹنگ کے ذریعے انسان اپنی محنت کے مطابق کمائی کرسکتا ہے۔اس میدان کو میں نے اس لیے بھی پسند کیا کہ یہ جہاں لوگوں کے لیے مفید ہے وہیں میرے ملک کی معیشت مضبوط کرنے کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔
2018ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 60ہزار سے زائد نوجوان اس فیلڈ سے وابستہ ہیں، جبکہ 2019ء میں دی گلوبل گِگ اکنامی انڈیکس کے مطابق پاکستان میں فری لانسنگ کی آمدنی میں سال 2018 ء کی بنسبت 42 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس انڈسٹری میں نمایاں ترقی کی بدولت دنیا کے 10 بڑے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔
▪ای کامرس کی اہمیت
کورونا بحران کے دِنوں میں ای کامرس کی اہمیت کا اندازہ پوری دنیاکو ہوا اور مجھے خصوصی طور پر اس وقت ہوا جب مجھے میری پبلی کیشن ٹیم نے رپورٹ دی کہ وبا کے د
(قاسم علی شاہ)
90ء کی دہائی میں جب میں پڑھتا تھا تواس وقت ایسے طلبہ جو کمزور معاشی حالات کی وجہ سے فیس ادا نہیں کرسکتے تھے تو ان کے پاس اپنی تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک ہی راستہ بچتا تھا کہ وہ ٹیوشن پڑھانا شروع کردیں۔ میں خودبھی زمانہ طالب علمی میں ٹیوشن پڑھاتا تھا ،میری کمیونیکیشن اسکلز اچھی تھیں لہٰذاطلبہ کی تعداد بڑھتی گئی۔اللہ نے کرم کیا اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ چند طلبہ سے شروع ہونے والی درس گاہ ایک معیاری ادارے میں بدل گئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان ابلاغ کی بہترین صلاحیت سے مزین نہیں ہوتا ، اس وجہ سے ہر طالب علم پڑھا بھی نہیں سکتا ۔آج کے زمانے میں اگر کوئی طالب علم اپنی فیس نہیں بھر سکتا اور وہ ٹیوشن بھی نہیں پڑھا سکتا تو پھر اسے مجبوراً کسی فلاحی ادارے کے پاس مدد مانگنے کے لیے جانا پڑتا ہے۔میں کافی عرصے سے اس بات پر سوچتا رہا کہ ایسے طلبہ کے لیے کون سا کام مناسب ہوگا جس کے ذریعے وہ اپنے اخراجات کے لیے کچھ رقم کماسکیں اوروہ دوسروں کے محتاج بھی نہ رہیں!!
▪کامیابی کا اہم راز:خود انحصاری
میں نے اپنی عملی زندگی میں کامیابی کا ایک راز یہ بھی ڈھونڈا ہے کہ جو انسان جتنا ’’خود انحصار ‘‘ہوتا ہے، اتنا ہی وہ بڑے فیصلے کرسکتا ہے اور ترقی کرسکتاہے۔ اپنی کہانی میں بھی بار باریہ بات بتاتا ہوں کہ اگر میں اپنے لڑکپن سے خود کفیل نہ ہوتا تو شاید آج اس مقام پر نہ ہوتا۔میں یہ بات بھی ہمیشہ کہتا ہوں کہ وہ سفر جو انسان نے وقت پر شروع کیا ہوتا ہے اس کی منزل بھی جلدی مل جاتی ہے۔ جب انسان سفر ہی دیر سے شروع کرلے تو پھر اس کی منازل بھی دیر سے ملتی ہیں۔ بروقت شروع کیا جانے والا میرا سفر آج پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ میں نے جتنے بھی کام شرو ع کیے وہ سب اتنے مفید اورموثر تھے کہ اللہ کے فضل و کرم سے اب وہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔جس کی ایک مثال ASK(آؤ صلح کریں) پراجیکٹ ہے۔ میں ہائی کورٹ میں پڑھاتا تھا۔ وہاں میری ملاقات سابقہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ انوار الحق صاحب سے ہوئی اور ہم نے منصوبہ بنایا کہ کیوں نہ ہم صلح کروانی شروع کریں۔ ڈیڑھ سال پہلے ہم نےASK پراجیکٹ کا آغاز کردیا اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہمارے پاس صلح کروانے والوں کی اتنی ٹریفک ہے کہ ہم اس کو سنبھال نہیں سکتے۔میں نے جسٹس صاحب سے پوچھا کہ اس کام کے لیے آپ نے میرا انتخاب کیوں کیا؟انہوں نے کہا:’’میں نے دیکھا کہ آپ کسی بھی کام کا جب ارادہ کرلیتے ہیں توپھرا س سے پیچھے نہیں ہٹتے اور آپ کے پختہ عزم کو دیکھ کرپوری دنیا آپ کی پیروی کرنے لگ جا تی ہے ۔‘‘
جب میں موٹیویشنل اسپیکنگ کی طرف آیا تو 2015ء میں میری ویڈیوز وائرل ہونا شروع ہوگئیں اور اللہ کے فضل و کرم سے 2016ء تک ایک ہی سال میں میں نے دنیا کے آٹھ ممالک دیکھ لیے تھے ۔اس دوران میں نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ میرا یہ سارا کام اور محنت اگرایک فردتک محدود رہے تو یہ آنے والے وقتوں میں زوال کا شکارہوجائے گا، سو ہم نے اس سارے کام کو ایک ادارے کی شکل دی جہاں ہم نے موٹیویشنل ،پبلک اسپیکنگ ، سیلف ہیلپ اور پرسنل ڈیویلپمنٹ کو پروموٹ کرنا شروع کردیا۔
اس پلیٹ فارم سے ہم نے کتاب دوستی اور مطالعہ کی تحریکیں چلائیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام الناس کی ایک بڑی تعداد اس کام کی طرف آگئی۔میرے خیال میں ایک بنے بنائے راستے پر چلنا آسان ہوتا ہے لیکن نیا راستہ بنانا، پھر اس پر چلنا اور منزل کو پالینا یہ بہت مشکل ہوتا ہے ۔اللہ نے مجھے ایک ٹرینڈ سیٹر بنایا اورمعاشرے میں ایک پر اثر شخصیت کے طور پر میں اپنا کردار ادا کرنے لگا۔
▪فری لانسنگ :ایک بہترین ذریعہ معاش
آج کے زمانے کا پڑھا لکھا بچہ لیبر کا کام نہیں کرسکتا اور نہ ہی وہ مشقت بھری مزدوری کرسکتا ہے۔ میں نے ایسے کاموں کو ڈھونڈنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ فری لانسنگ ایک ایسا کام ہے جس میں اگر آج کے طلبہ قسمت آزمائی کرلیں تو گھر بیٹھے اچھی خاصی کمائی کرسکتے ہیں،کیونکہ فری لانسنگ ایک وسیع میدان ہے جس میں ویڈیو ایڈیٹنگ ، گرافکس ڈیزائننگ ، SEOاور کونٹینٹ رائٹنگ کے ذریعے انسان اپنی محنت کے مطابق کمائی کرسکتا ہے۔اس میدان کو میں نے اس لیے بھی پسند کیا کہ یہ جہاں لوگوں کے لیے مفید ہے وہیں میرے ملک کی معیشت مضبوط کرنے کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔
2018ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 60ہزار سے زائد نوجوان اس فیلڈ سے وابستہ ہیں، جبکہ 2019ء میں دی گلوبل گِگ اکنامی انڈیکس کے مطابق پاکستان میں فری لانسنگ کی آمدنی میں سال 2018 ء کی بنسبت 42 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس انڈسٹری میں نمایاں ترقی کی بدولت دنیا کے 10 بڑے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔
▪ای کامرس کی اہمیت
کورونا بحران کے دِنوں میں ای کامرس کی اہمیت کا اندازہ پوری دنیاکو ہوا اور مجھے خصوصی طور پر اس وقت ہوا جب مجھے میری پبلی کیشن ٹیم نے رپورٹ دی کہ وبا کے د
Forwarded from Zubair 006
ِنوں میں کتابوں کی مانگ میں چار گنا اضافہ ہوا۔ جب ساری دنیا بند اور کاروبار ٹھپ ہوچکے تھے لیکن اس کے باوجود بھی ہماری پبلی کیشن کا پروجیکٹ سب سے زیادہ فعال تھا اور کتابیں چھپ رہی تھیں۔جب میں نے اس پر غو ر کیا کہ یہ حیران کن اضافہ کیسے آیا تو معلوم ہو اکہ اس کی وجہ ڈیجیٹل ورلڈ ہے ،جہاں ہر قسم کتاب ہر انسان کی دسترس میں ہے۔اُس وقت اردو بازار اور بڑ ے بڑے بک سٹالز بند تھے لیکن ہمارے ادارے کے فیس بک پیج پرمسلسل آرڈرز آرہے تھے.
▪بقا کس کو ہے؟
نوکیا کمپنی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔وہ اس لیے زوال کاشکار ہوئی کیونکہ اس نے خود کو اپ گریڈ نہیں کیا۔ ڈائنا سور صفحۂ ہستی سے مٹ گئے کیونکہ وہ سمارٹ نہیں تھے اور انہوں نے حالات و واقعات کے مطابق خود کو تبدیل نہیں کیا جبکہ اس کے مقابلے میں لال بیگ آج بھی زندہ ہے ،کیونکہ وہ حالات کے ساتھ سمجھوتا کرنے والا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ میں مشکل حالا ت کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس وجہ سے وہ اپنی جان کی حفاظت کرتا تھا اور اسی ہوشیاری کا نتیجہ ہے کہ آج کروڑوں سال بعد بھی لال بیگ دنیا میں موجود ہے جبکہ خود کو زمانے کے مطابق تیار نہ کرنے کی وجہ سے ڈائنا سور جیسا مضبوط ترین جانوربھی صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہے۔
میری شدید خواہش ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان باصلاحیت اور خود کفیل ہوجائیں،وہ اپنے لیے ایک سمت مقرر کرلیں او ر ایک واضح نظریہ اور سوچ اپنالیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو پاکستان آنے والے دِنوں میں ایک شاندار ملک کے طورپر سامنے آئے گا۔ دنیا میں موجو د ہر ملک کسی نہ کسی خصوصیت کے باعث مشہور ہے. میرا خواب یہ ہے کہ ہمارا پاکستان ای کامرس کے حوالے سے پوری دنیا میں اپنی ایک پہچان بنالے اور ڈیجیٹل ورلڈ میں نمبر وَن ہو۔ یہ کوئی ناممکن کام نہیں۔اگر ہم ای کامرس کو ترجیح دے دیں اور اپنی قابلیت کو کام میں لائیں تو اس ملک میں انقلاب آسکتا ہے۔جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ آج کایونیورسٹی اور کالج میں پڑھنے والا نوجوان خود کفیل ہوجائے گا۔ انسان کے پاس جب اس کی اپنی محنت کی کمائی آجاتی ہے تو پھر اس کو مینج کرنے کا سلیقہ بھی وہ سیکھ لیتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی ذہانت ہے ، جو کہ آپ کو رابرٹ کیوساکی کی کتاب
"Why "A" Students Work for "C" Students"
میں ملے گی.
اس کتاب کا پورا فلسفہ یہ ہے کہ ہمارا ایجوکیشن سسٹم جو مائنڈ سیٹ پیدا کررہا ہے وہ’’ جاب مائنڈ سیٹ‘‘ ہے اور جاب مائنڈ سیٹ والا انسان کبھی بھی بڑا کام نہیں کرسکتا۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جاب مائنڈ سیٹ کو چھوڑ کر ’’سروس مائنڈ سیٹ‘‘ کو فروغ دیا جائے اور ایسی نسل تیا ر کی جائے جوفری لانسرز ہوں، کیونکہ فری لانسنگ کی فیلڈ میں انسان کے پاس سیکھنے اور سکھانے کے لیے بہت کچھ ہوتاہے۔
یہ زمانہ ہی ڈیجیٹلائزیشن کا ہے اور بقا کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔ اس دور میں جو ڈیجیٹل ورلڈ سے دُورہوا وہ ترقی نہیں کرسکتا۔ میں اپنے آس پاس ایسے کئی سارے پی ایچ ڈیز کو دیکھتا ہوں جنہیں ای کامرس کے بارے میں علم نہیں اور اسی وجہ سے وہ اپنی آواز کلاس روم سے باہر نہیں پہنچاسکتے۔
▪کامیابی کی رفتار:آج کے دور میں
آج اکیسویں صدی میں کامیابی کا معیار اوراس کی رفتار بدل گئی ہے۔ ہمارے دادا ، پردادا کے زمانے میں ایک رسالہ ’’چٹان‘‘ کے نام سے چھپتا تھا۔’چٹان‘‘ میں جو چیز چھپ جاتی تو وہ لکھنے والے کو سیلیبیریٹی بنادیتی۔ آج بھی ہم اپنے بچپن اور جوانی کے زمانے کے ڈراموں اور ان کے کرداروں کو ہیرو کی حیثیت سے یاد رکھتے ہیں ، کیونکہ وہ زمانہ ٹی وی کا تھا اور ٹی وی نے انہیں سیلیبریٹی بنادیا تھا ،جبکہ آج کا زمانہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے اور یہ وہ میڈیم ہے جوکسی بھی انسان کو سیلیبریٹی بناسکتا ہے۔ آج کے دور میں ’چٹان‘‘ میں چھپوانا آپ کو سیلیبریٹی نہیں بنائے گا۔ میرے سامنے اگر ٹی وی کا کوئی پروگرام ہو اور دوسری طرف کوئی یوٹیوب چینل ہو جس پر میری ویڈیوز لاکھوں ، کروڑوں کی تعداد میں دیکھی جانے والی ہوں تو میں یوٹیوب چینل کو ہی ترجیح دوں گا، اسی کو جدت کہا جاتا ہے۔ اکیسویں صدی کی جنگ آپ بم، کلاشنکوف یا گرنیڈ سے نہیں جیت سکتے۔ آج کی جنگ آپ کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے جیتنی ہوگی۔ ایک زمانے میں توپ ایجاد ہوئی تو جس ملک کے فوج کے پاس توپ ہوتی وہ جنگ جیت جاتا ۔پھر کمپیوٹر کا دور آیا اورجس کے پاس کمپیوٹرہوتا وہ ترقی کرنے لگ جاتاجبکہ اب سارادور ہی ’’ای کامرس‘‘ کا ہے اور آج جس ملک کی معیشت مضبوط ہے وہ ففتھ جنریشن وار بھی بہ آسانی لڑ سکتا ہے۔
ہمارے 12کروڑ پاکستانی جوانوں کو آج اگر درست سمت دے دی جائے تو یہ ایٹم بم سے زیادہ طاقتور بات ہے ۔ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ جس ’’آج‘‘ میں ہم ہیں اس کا ایک’’ کل‘‘ بھی ہے اور جس کا ’’کل ‘‘اچھا ہے تو اس کو’’ آج‘‘ بھی اچھا لگے گا لیکن اگر ’’کل‘‘ آپ کو پشیمانی ، خطرے اور عدم تحفظ کا لگ رہا ہے تو پھرآج کے سارے مزے خراب ہوجائیں گے.
لہٰذا اپنا کل بہتر بنائیے ۔آج آپ کے پاس ای ک
▪بقا کس کو ہے؟
نوکیا کمپنی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔وہ اس لیے زوال کاشکار ہوئی کیونکہ اس نے خود کو اپ گریڈ نہیں کیا۔ ڈائنا سور صفحۂ ہستی سے مٹ گئے کیونکہ وہ سمارٹ نہیں تھے اور انہوں نے حالات و واقعات کے مطابق خود کو تبدیل نہیں کیا جبکہ اس کے مقابلے میں لال بیگ آج بھی زندہ ہے ،کیونکہ وہ حالات کے ساتھ سمجھوتا کرنے والا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ میں مشکل حالا ت کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس وجہ سے وہ اپنی جان کی حفاظت کرتا تھا اور اسی ہوشیاری کا نتیجہ ہے کہ آج کروڑوں سال بعد بھی لال بیگ دنیا میں موجود ہے جبکہ خود کو زمانے کے مطابق تیار نہ کرنے کی وجہ سے ڈائنا سور جیسا مضبوط ترین جانوربھی صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہے۔
میری شدید خواہش ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان باصلاحیت اور خود کفیل ہوجائیں،وہ اپنے لیے ایک سمت مقرر کرلیں او ر ایک واضح نظریہ اور سوچ اپنالیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو پاکستان آنے والے دِنوں میں ایک شاندار ملک کے طورپر سامنے آئے گا۔ دنیا میں موجو د ہر ملک کسی نہ کسی خصوصیت کے باعث مشہور ہے. میرا خواب یہ ہے کہ ہمارا پاکستان ای کامرس کے حوالے سے پوری دنیا میں اپنی ایک پہچان بنالے اور ڈیجیٹل ورلڈ میں نمبر وَن ہو۔ یہ کوئی ناممکن کام نہیں۔اگر ہم ای کامرس کو ترجیح دے دیں اور اپنی قابلیت کو کام میں لائیں تو اس ملک میں انقلاب آسکتا ہے۔جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ آج کایونیورسٹی اور کالج میں پڑھنے والا نوجوان خود کفیل ہوجائے گا۔ انسان کے پاس جب اس کی اپنی محنت کی کمائی آجاتی ہے تو پھر اس کو مینج کرنے کا سلیقہ بھی وہ سیکھ لیتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی ذہانت ہے ، جو کہ آپ کو رابرٹ کیوساکی کی کتاب
"Why "A" Students Work for "C" Students"
میں ملے گی.
اس کتاب کا پورا فلسفہ یہ ہے کہ ہمارا ایجوکیشن سسٹم جو مائنڈ سیٹ پیدا کررہا ہے وہ’’ جاب مائنڈ سیٹ‘‘ ہے اور جاب مائنڈ سیٹ والا انسان کبھی بھی بڑا کام نہیں کرسکتا۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جاب مائنڈ سیٹ کو چھوڑ کر ’’سروس مائنڈ سیٹ‘‘ کو فروغ دیا جائے اور ایسی نسل تیا ر کی جائے جوفری لانسرز ہوں، کیونکہ فری لانسنگ کی فیلڈ میں انسان کے پاس سیکھنے اور سکھانے کے لیے بہت کچھ ہوتاہے۔
یہ زمانہ ہی ڈیجیٹلائزیشن کا ہے اور بقا کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔ اس دور میں جو ڈیجیٹل ورلڈ سے دُورہوا وہ ترقی نہیں کرسکتا۔ میں اپنے آس پاس ایسے کئی سارے پی ایچ ڈیز کو دیکھتا ہوں جنہیں ای کامرس کے بارے میں علم نہیں اور اسی وجہ سے وہ اپنی آواز کلاس روم سے باہر نہیں پہنچاسکتے۔
▪کامیابی کی رفتار:آج کے دور میں
آج اکیسویں صدی میں کامیابی کا معیار اوراس کی رفتار بدل گئی ہے۔ ہمارے دادا ، پردادا کے زمانے میں ایک رسالہ ’’چٹان‘‘ کے نام سے چھپتا تھا۔’چٹان‘‘ میں جو چیز چھپ جاتی تو وہ لکھنے والے کو سیلیبیریٹی بنادیتی۔ آج بھی ہم اپنے بچپن اور جوانی کے زمانے کے ڈراموں اور ان کے کرداروں کو ہیرو کی حیثیت سے یاد رکھتے ہیں ، کیونکہ وہ زمانہ ٹی وی کا تھا اور ٹی وی نے انہیں سیلیبریٹی بنادیا تھا ،جبکہ آج کا زمانہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے اور یہ وہ میڈیم ہے جوکسی بھی انسان کو سیلیبریٹی بناسکتا ہے۔ آج کے دور میں ’چٹان‘‘ میں چھپوانا آپ کو سیلیبریٹی نہیں بنائے گا۔ میرے سامنے اگر ٹی وی کا کوئی پروگرام ہو اور دوسری طرف کوئی یوٹیوب چینل ہو جس پر میری ویڈیوز لاکھوں ، کروڑوں کی تعداد میں دیکھی جانے والی ہوں تو میں یوٹیوب چینل کو ہی ترجیح دوں گا، اسی کو جدت کہا جاتا ہے۔ اکیسویں صدی کی جنگ آپ بم، کلاشنکوف یا گرنیڈ سے نہیں جیت سکتے۔ آج کی جنگ آپ کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے جیتنی ہوگی۔ ایک زمانے میں توپ ایجاد ہوئی تو جس ملک کے فوج کے پاس توپ ہوتی وہ جنگ جیت جاتا ۔پھر کمپیوٹر کا دور آیا اورجس کے پاس کمپیوٹرہوتا وہ ترقی کرنے لگ جاتاجبکہ اب سارادور ہی ’’ای کامرس‘‘ کا ہے اور آج جس ملک کی معیشت مضبوط ہے وہ ففتھ جنریشن وار بھی بہ آسانی لڑ سکتا ہے۔
ہمارے 12کروڑ پاکستانی جوانوں کو آج اگر درست سمت دے دی جائے تو یہ ایٹم بم سے زیادہ طاقتور بات ہے ۔ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ جس ’’آج‘‘ میں ہم ہیں اس کا ایک’’ کل‘‘ بھی ہے اور جس کا ’’کل ‘‘اچھا ہے تو اس کو’’ آج‘‘ بھی اچھا لگے گا لیکن اگر ’’کل‘‘ آپ کو پشیمانی ، خطرے اور عدم تحفظ کا لگ رہا ہے تو پھرآج کے سارے مزے خراب ہوجائیں گے.
لہٰذا اپنا کل بہتر بنائیے ۔آج آپ کے پاس ای ک
Forwarded from Zubair 006
امرس کا میدان موجود ہے. اپنی صلاحیتیں پالش کرکے بروقت اپنا سفر شروع کیجیے اور خود کفیل بن کراپنی اور خاندان کی زندگی کو بہتر بنائیے تاکہ آپ ملک و قوم کی تعمیر میں اپنا کردار بخوبی نبھاسکیں.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
میلادِ رسول ﷺ اور
*مشائخِ نقشبندیہ*
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے اکبری الحاد کا خاتمہ کیا۔ دین کو بُری رَسموں سے پاک کیا۔ باطل نظریات کی بیخ کنی کی۔ ظالم کے روبرو کلمۂ حق کہا۔ مراسمِ اسلامی کو تقویت عطا کی۔ آپ نے محبت رسول ﷺ کی روح پھونک دی۔ آپ ہند میں سرخیلِ سلسلۂ نقشبندیہ ہیں۔ مشائخِ نقشبندیہ نے ہر عہد میں ذکرِ رسول و محافلِ میلادالنبی ﷺ کا اہتمام کیا۔ اس کے ذریعے پیغامِ سیرت عوام تک پہنچایا۔ دین کی خدمت کی۔ مسلمانوں کو اسوۂ حسنہ سے قریب کیا۔ مشائخِ نقشبندیہ کے حوالے سے اِس تحریر میں میلاد و ذکر رسول ﷺ پر روشنی ڈالی جائے گی۔
خانوادۂ مجدد الف ثانی کے چشم و چراغ حضرت شاہ احمد سعید مجددی دہلوی (م۱۲۷۷ھ/۱۸۶۰ء، مدفوں مدینہ منورہ) میلادِ رسول ﷺ کے اہتمام کی ترغیب ان لفظوں میں دیتے ہیں:’’جس طرح آپ خود اپنی ذات پر درود وسلام بھیجا کرتے تھے؛ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ کے میلاد کی خوشی میں جلسہ کریں۔کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات اور خوشی کے جو طریقے ہیں (ان کے) ذریعہ شکر بجالائیں۔‘‘۱؎
آپ نے میلاد شریف کے عنوان پر تین کتابیں تحریر کیں:
(۱) سعید البیان فی مولدسیدالانس والجان[اردو مطبوعہ]
(۲)الذکر الشریف فی اثبات المولد المنیف[فارسی]
(۳)اثبات المولدوالقیام[عربی مطبوعہ]
*ارشاداتِ حضرت شاہ احمد سعید مجددی:*
میلادِ رسولﷺ سے متعلق چند ارشادات ملاحظہ فرمائیں:
(۱) محفلِ میلاد در اصل وعظ و نصیحت ہے اس کے لیے جو کان لگائے اور متوجہ ہو، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:نصیحت کرو بے شک نصیحت مومنین کے لیے مفید ہے۔۲؎
(۲)شرح سنن ابن ماجہ میں اس یوم(میلاد) کی تصریح بھی ہے، اور امام جلال الدین نے فرمایا کہ: میلادِ مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام معظم و مکرم ہے، آپ کا یومِ ولادت مقدس و بزرگ اور یومِ عظیم ہے۔ آپ کا وجود عشاق کے لیے ذریعۂ نجات ہے؛ جس نے نجات کے لیے ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا اہتمام کیا اس کی اقتدا کرنے والے پر بھی رحمت و برکت کا نزول ہوگا۔۳؎
(۳)سیدالاولین والآخرین کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہے، ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمتِ عظمیٰ کا شکر بجا لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت اور نیکی کی جائے۔۴؎
(۴)حسین بن ابراہیم مفتی مالکیہ بمکہ فرماتے ہیں: ’’ہاں! ذکر ولادت کے وقت قیام بہت علما نے پسند کیا اوریہ قیام حسن ہے، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم واجب ہے۔واللہ اعلم۔‘‘
(۵) محمد عمر ابن ابی بکر مفتی شافعیہ مکہ مکرمہ کا ارشاد ہے: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے ذکر کے وقت قیام واجب ہے کیوں کہ روح اقدس حضور معلی صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ فرما ہوتی ہے تو اس وقت تعظیم و قیام لازم ہوا۔ جید علماے اسلام اور اکابر نے قیام مذکور کو پسند فرمایا ہے۔‘‘
(۶)محمد بن یحییٰ مفتی حنابلہ مکہ مشرفہ نے بھی ذکر ولادت کے وقت قیام کے استحباب و استحسان کی تصریح فرمائی ہے۔۵؎
حضرت شاہ احمد سعید مجددی میلاد شریف کے ضمن میں فرزندِ اکبر کو لکھتے ہیں:’’آتے وقت ’’مولد شریف‘‘ مولفہ مولوی حبیب النبی صاحب، مولوی ولی النبی صاحب سے یا جہاں کہیں سے ملے اپنے ہمراہ لائیں۔‘‘۶؎
کتاب ’’غایۃ المرام‘‘ جو میلاد شریف و قیام کے استحباب میں علماے دہلی و رامپور و بریلی کے فتاویٰ جات پر مشتمل ہے؛ اس پر شاہِ دہلی بہادر شاہ ظفر کے بعد ساتویں تصدیق حضرت شاہ احمد سعید مجددی کی ہے۔ کل ۶۳؍علما کی تصدیقات موجود ہیں۔
*محافلِ کا اہتمام:*
نبیرۂ حضرت شاہ احمد سعید مجددی؛ شاہ ابوالخیر مجددی ہر سال میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص اہتمام کرتے۔ شاہ ابوالحسن زید فاروقی ایسی ہی ایک محفل کا ذکر کرتے ہیں: ’’ ۱۲؍ربیع الاول ۱۳۳۸ھ مطابق ۴؍دسمبر ۱۹۱۹ء کو دن کے دس بجے آپ (شاہ ابوالخیر)باہر تشریف فرما تھے اور باہر کے آئے ہوئے وہ تمام افراد موجود تھے جو محفلِ مبارک میلاد شریف میں شریک ہوئے تھے اور دلی کے بھی وہ تمام افراد تھے جن جن کو آپ نے میلادِ مبارک کی خوشی کے کھانے پر مدعو کیا تھا۔‘‘۷؎
’’ولادتِ شریفہ کا ذکر مبارک ہوا۔ سب ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے…… میلاد خوانوں نے اس مقدس جناب میں سلام پیش کیا۔جس وقت میلاد خواں ہدیۂ سلام پیش کر رہے تھے، آپ (شاہ ابوالخیر )پر بے خودی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ کی آنکھوں سے سیلِ اشک جاری تھا۔ ہاتھ ناف پر بندھے ہوئے تھے……افسوس صد افسوس کہ ایسی مجلیٰ و مزکیٰ و معطر محفلِ مبارک کو حجابِ علم نے بعض افراد کی نظر میں جامۂ قبح پہنا دیا ہے اور دُنیا بھر کی خرابیاں ان کو اس مبارک محفل میں نظر آنے لگی ہیں۔ ع
چوں نہ دیدند حقیقت رہ افسانہ زند‘‘۸؎
شاہ ابوالخیر کا یہ قول ہے کہ : ’’ہم یہ مبارک محفل (میلاد) اس لیے منعقد کرتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہو۔ آپ کی محبت اصلِ ایمان ہے۔ اس اصل ہی کو حاصل کرنے
*مشائخِ نقشبندیہ*
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے اکبری الحاد کا خاتمہ کیا۔ دین کو بُری رَسموں سے پاک کیا۔ باطل نظریات کی بیخ کنی کی۔ ظالم کے روبرو کلمۂ حق کہا۔ مراسمِ اسلامی کو تقویت عطا کی۔ آپ نے محبت رسول ﷺ کی روح پھونک دی۔ آپ ہند میں سرخیلِ سلسلۂ نقشبندیہ ہیں۔ مشائخِ نقشبندیہ نے ہر عہد میں ذکرِ رسول و محافلِ میلادالنبی ﷺ کا اہتمام کیا۔ اس کے ذریعے پیغامِ سیرت عوام تک پہنچایا۔ دین کی خدمت کی۔ مسلمانوں کو اسوۂ حسنہ سے قریب کیا۔ مشائخِ نقشبندیہ کے حوالے سے اِس تحریر میں میلاد و ذکر رسول ﷺ پر روشنی ڈالی جائے گی۔
خانوادۂ مجدد الف ثانی کے چشم و چراغ حضرت شاہ احمد سعید مجددی دہلوی (م۱۲۷۷ھ/۱۸۶۰ء، مدفوں مدینہ منورہ) میلادِ رسول ﷺ کے اہتمام کی ترغیب ان لفظوں میں دیتے ہیں:’’جس طرح آپ خود اپنی ذات پر درود وسلام بھیجا کرتے تھے؛ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ کے میلاد کی خوشی میں جلسہ کریں۔کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات اور خوشی کے جو طریقے ہیں (ان کے) ذریعہ شکر بجالائیں۔‘‘۱؎
آپ نے میلاد شریف کے عنوان پر تین کتابیں تحریر کیں:
(۱) سعید البیان فی مولدسیدالانس والجان[اردو مطبوعہ]
(۲)الذکر الشریف فی اثبات المولد المنیف[فارسی]
(۳)اثبات المولدوالقیام[عربی مطبوعہ]
*ارشاداتِ حضرت شاہ احمد سعید مجددی:*
میلادِ رسولﷺ سے متعلق چند ارشادات ملاحظہ فرمائیں:
(۱) محفلِ میلاد در اصل وعظ و نصیحت ہے اس کے لیے جو کان لگائے اور متوجہ ہو، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:نصیحت کرو بے شک نصیحت مومنین کے لیے مفید ہے۔۲؎
(۲)شرح سنن ابن ماجہ میں اس یوم(میلاد) کی تصریح بھی ہے، اور امام جلال الدین نے فرمایا کہ: میلادِ مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام معظم و مکرم ہے، آپ کا یومِ ولادت مقدس و بزرگ اور یومِ عظیم ہے۔ آپ کا وجود عشاق کے لیے ذریعۂ نجات ہے؛ جس نے نجات کے لیے ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا اہتمام کیا اس کی اقتدا کرنے والے پر بھی رحمت و برکت کا نزول ہوگا۔۳؎
(۳)سیدالاولین والآخرین کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہے، ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمتِ عظمیٰ کا شکر بجا لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت اور نیکی کی جائے۔۴؎
(۴)حسین بن ابراہیم مفتی مالکیہ بمکہ فرماتے ہیں: ’’ہاں! ذکر ولادت کے وقت قیام بہت علما نے پسند کیا اوریہ قیام حسن ہے، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم واجب ہے۔واللہ اعلم۔‘‘
(۵) محمد عمر ابن ابی بکر مفتی شافعیہ مکہ مکرمہ کا ارشاد ہے: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے ذکر کے وقت قیام واجب ہے کیوں کہ روح اقدس حضور معلی صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ فرما ہوتی ہے تو اس وقت تعظیم و قیام لازم ہوا۔ جید علماے اسلام اور اکابر نے قیام مذکور کو پسند فرمایا ہے۔‘‘
(۶)محمد بن یحییٰ مفتی حنابلہ مکہ مشرفہ نے بھی ذکر ولادت کے وقت قیام کے استحباب و استحسان کی تصریح فرمائی ہے۔۵؎
حضرت شاہ احمد سعید مجددی میلاد شریف کے ضمن میں فرزندِ اکبر کو لکھتے ہیں:’’آتے وقت ’’مولد شریف‘‘ مولفہ مولوی حبیب النبی صاحب، مولوی ولی النبی صاحب سے یا جہاں کہیں سے ملے اپنے ہمراہ لائیں۔‘‘۶؎
کتاب ’’غایۃ المرام‘‘ جو میلاد شریف و قیام کے استحباب میں علماے دہلی و رامپور و بریلی کے فتاویٰ جات پر مشتمل ہے؛ اس پر شاہِ دہلی بہادر شاہ ظفر کے بعد ساتویں تصدیق حضرت شاہ احمد سعید مجددی کی ہے۔ کل ۶۳؍علما کی تصدیقات موجود ہیں۔
*محافلِ کا اہتمام:*
نبیرۂ حضرت شاہ احمد سعید مجددی؛ شاہ ابوالخیر مجددی ہر سال میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص اہتمام کرتے۔ شاہ ابوالحسن زید فاروقی ایسی ہی ایک محفل کا ذکر کرتے ہیں: ’’ ۱۲؍ربیع الاول ۱۳۳۸ھ مطابق ۴؍دسمبر ۱۹۱۹ء کو دن کے دس بجے آپ (شاہ ابوالخیر)باہر تشریف فرما تھے اور باہر کے آئے ہوئے وہ تمام افراد موجود تھے جو محفلِ مبارک میلاد شریف میں شریک ہوئے تھے اور دلی کے بھی وہ تمام افراد تھے جن جن کو آپ نے میلادِ مبارک کی خوشی کے کھانے پر مدعو کیا تھا۔‘‘۷؎
’’ولادتِ شریفہ کا ذکر مبارک ہوا۔ سب ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے…… میلاد خوانوں نے اس مقدس جناب میں سلام پیش کیا۔جس وقت میلاد خواں ہدیۂ سلام پیش کر رہے تھے، آپ (شاہ ابوالخیر )پر بے خودی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ کی آنکھوں سے سیلِ اشک جاری تھا۔ ہاتھ ناف پر بندھے ہوئے تھے……افسوس صد افسوس کہ ایسی مجلیٰ و مزکیٰ و معطر محفلِ مبارک کو حجابِ علم نے بعض افراد کی نظر میں جامۂ قبح پہنا دیا ہے اور دُنیا بھر کی خرابیاں ان کو اس مبارک محفل میں نظر آنے لگی ہیں۔ ع
چوں نہ دیدند حقیقت رہ افسانہ زند‘‘۸؎
شاہ ابوالخیر کا یہ قول ہے کہ : ’’ہم یہ مبارک محفل (میلاد) اس لیے منعقد کرتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہو۔ آپ کی محبت اصلِ ایمان ہے۔ اس اصل ہی کو حاصل کرنے
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
کے لیے اس مبارک محفل کا قیام کیا جاتا ہے۔ ‘‘۹؎
حضرت شاہ احمد سعیدمجددی کی مجالس کے حاضر باشوں میں حضرت شاہ محمد آفاق دہلوی تھے۔جو اویسِ دوراں حضرت فضل رحمٰن گنج مراد آبادی کے مرشد ہیں۔خانقاہِ فضل رحمانی گنج مرادآباد میں خانوادۂ اویسِ دوراں کے یہاں بھی قدیم وقتوں سے میلاد و سلام باقیام کی محافل سجتی رہی ہیں۔ خود مالیگاؤں میں مولانا محمد اسحاق نقشبندی علیہ الرحمہ کے مزار پر میلاد و سلام کی محافل مدتوں سے اب تک جاری ہیں۔ شاید اس کی روحانی وجہ یہی ہو گی کہ ان کے مشائخ نے میلاد و سلام باقیام کے استحباب پر کتابیں تصنیف کیں۔
خانوادۂ مجدد الف ثانی کے چشم و چراغ مولانا شاہ محمد معصوم مجددی(م۱۳۴۱ھ، مدفوں مکہ مکرمہ) نے میلاد کے جواز پر کتاب بنام ’’احسن الکلام فی اثبات المولد والقیام‘‘( ۱۳۰۵ھ) لکھی۔آپ فرماتے ہیں ؎
محفلِ میلاد میں ہوتا ہے ان کا ہی ظہور
کچھ بصیرت چاہیے وہ مہ لقا یہی تو ہیں
حضرت شاہ معصوم کے فرزند حافظ محمد ابوسعید مجددی (م۱۴۰۴ھ/۱۹۸۳ء) کو عرب دُنیا کی محافلِ میلاد میں پڑھا جانے والا مشہورِ زمانہ ’مولود برزنجی‘ حفظ تھا۔ ۱۰؎
فتح پوری مسجد کے سابق شاہی امام، مفتی اعظم دہلی، مفتی شاہ مظہر اللہ نقشبندی کے یہاں بھی پابندی سے محافلِ میلاد ہوا کرتیں۔ جس میں اعلیٰ حضرت کا سلام ’’مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ اہتماماً پڑھا جاتا۔ متعدد مقامات پر پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی نے یہ پہلو ذکر کیا۔فتح پوری مسجد میں اس روایت کو مفتی محمد مکرم احمد نقشبندی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
خانقاہِ نقشبندیہ بالاپور کے نائب سجادہ حضرت سید ذکی میاں نقشبندی دام ظلہ نے راقم کو بتایا کہ: ہمارے یہاں صدیوں سے محافلِ میلادالنبی ﷺ سجتی رہی ہیں۔ جس میں سلام باقیام ہوتا ہے۔ فی زمانہ ہم اعلیٰ حضرت کا سلام ’’مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ بہت اہتمام سے پڑھتے ہیں۔تمام سلاسل کے مشائخ نے رسول اللہ ﷺ کے میلادِ پاک کا انعقاد کیا۔محافل منعقد کیں۔ محافلِ میلاد تمام بلادِ اسلامیہ میں آراستہ کی جاتی ہیں- راقم نے مدینہ منورہ و بغداد مقدس میں ایسی محافلِ میلاد میں شرکت کی سعادت حاصل کی ہے- آج بھی ساری دُنیا میں محفلیں سجتی ہیں- عرب میں بھی، عجم میں بھی، شرق و غرب میں بھی۔ جہاں رحمتوں برکتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ایمان کو تازگی و حرارت ملتی ہے۔محبتوں کی سوغات تقسیم ہوتی ہے۔ غریبوں کی داد رسی ہوتی ہے۔
٭٭٭
*حوالہ جات:*
[۱]شاہ احمد سعید مجددی:اثبات المولد والقیام ، لاہور۱۹۸۳ء، ص۲۴
[۲] اثبات المولدوالقیام،مرکزی مجلس رضا لاہور ۱۹۸۰ء،ص۲۱
[۳] مرجع سابق،ص۲۳۔۲۴
[۴] مرجع سابق،ص۲۴
[۵] مرجع سابق،ص۳۳
[۶] تحفۂ زواریہ، مرتب ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان، مترجم محمد ظہیرالدین بھٹی،زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی ۲۰۱۱ء، ص۱۳۴،ص۱۶۵
[۷] مقاماتِ خیر۱۳۹۲ھ،شاہ ابوالحسن زید فاروقی،شاہ ابوالخیر اکاڈمی دہلی۱۹۸۹ء،ص۲۸۳
[۸] مرجع سابق،ص۳۱۰۔۳۱۱؛ملخصاً
[۹] مرجع سابق،ص۴۴۳
[۱۰] تاریخ الدولۃالمکیۃ، عبدالحق انصاری، بہاء الدین زکریا لائبریری چکوال ۲۰۰۶ء،ص۴۷
[محررہ:،٣١ اکتوبر ۲۰۱۹ء]
***
حضرت شاہ احمد سعیدمجددی کی مجالس کے حاضر باشوں میں حضرت شاہ محمد آفاق دہلوی تھے۔جو اویسِ دوراں حضرت فضل رحمٰن گنج مراد آبادی کے مرشد ہیں۔خانقاہِ فضل رحمانی گنج مرادآباد میں خانوادۂ اویسِ دوراں کے یہاں بھی قدیم وقتوں سے میلاد و سلام باقیام کی محافل سجتی رہی ہیں۔ خود مالیگاؤں میں مولانا محمد اسحاق نقشبندی علیہ الرحمہ کے مزار پر میلاد و سلام کی محافل مدتوں سے اب تک جاری ہیں۔ شاید اس کی روحانی وجہ یہی ہو گی کہ ان کے مشائخ نے میلاد و سلام باقیام کے استحباب پر کتابیں تصنیف کیں۔
خانوادۂ مجدد الف ثانی کے چشم و چراغ مولانا شاہ محمد معصوم مجددی(م۱۳۴۱ھ، مدفوں مکہ مکرمہ) نے میلاد کے جواز پر کتاب بنام ’’احسن الکلام فی اثبات المولد والقیام‘‘( ۱۳۰۵ھ) لکھی۔آپ فرماتے ہیں ؎
محفلِ میلاد میں ہوتا ہے ان کا ہی ظہور
کچھ بصیرت چاہیے وہ مہ لقا یہی تو ہیں
حضرت شاہ معصوم کے فرزند حافظ محمد ابوسعید مجددی (م۱۴۰۴ھ/۱۹۸۳ء) کو عرب دُنیا کی محافلِ میلاد میں پڑھا جانے والا مشہورِ زمانہ ’مولود برزنجی‘ حفظ تھا۔ ۱۰؎
فتح پوری مسجد کے سابق شاہی امام، مفتی اعظم دہلی، مفتی شاہ مظہر اللہ نقشبندی کے یہاں بھی پابندی سے محافلِ میلاد ہوا کرتیں۔ جس میں اعلیٰ حضرت کا سلام ’’مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ اہتماماً پڑھا جاتا۔ متعدد مقامات پر پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی نے یہ پہلو ذکر کیا۔فتح پوری مسجد میں اس روایت کو مفتی محمد مکرم احمد نقشبندی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
خانقاہِ نقشبندیہ بالاپور کے نائب سجادہ حضرت سید ذکی میاں نقشبندی دام ظلہ نے راقم کو بتایا کہ: ہمارے یہاں صدیوں سے محافلِ میلادالنبی ﷺ سجتی رہی ہیں۔ جس میں سلام باقیام ہوتا ہے۔ فی زمانہ ہم اعلیٰ حضرت کا سلام ’’مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ بہت اہتمام سے پڑھتے ہیں۔تمام سلاسل کے مشائخ نے رسول اللہ ﷺ کے میلادِ پاک کا انعقاد کیا۔محافل منعقد کیں۔ محافلِ میلاد تمام بلادِ اسلامیہ میں آراستہ کی جاتی ہیں- راقم نے مدینہ منورہ و بغداد مقدس میں ایسی محافلِ میلاد میں شرکت کی سعادت حاصل کی ہے- آج بھی ساری دُنیا میں محفلیں سجتی ہیں- عرب میں بھی، عجم میں بھی، شرق و غرب میں بھی۔ جہاں رحمتوں برکتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ایمان کو تازگی و حرارت ملتی ہے۔محبتوں کی سوغات تقسیم ہوتی ہے۔ غریبوں کی داد رسی ہوتی ہے۔
٭٭٭
*حوالہ جات:*
[۱]شاہ احمد سعید مجددی:اثبات المولد والقیام ، لاہور۱۹۸۳ء، ص۲۴
[۲] اثبات المولدوالقیام،مرکزی مجلس رضا لاہور ۱۹۸۰ء،ص۲۱
[۳] مرجع سابق،ص۲۳۔۲۴
[۴] مرجع سابق،ص۲۴
[۵] مرجع سابق،ص۳۳
[۶] تحفۂ زواریہ، مرتب ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان، مترجم محمد ظہیرالدین بھٹی،زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی ۲۰۱۱ء، ص۱۳۴،ص۱۶۵
[۷] مقاماتِ خیر۱۳۹۲ھ،شاہ ابوالحسن زید فاروقی،شاہ ابوالخیر اکاڈمی دہلی۱۹۸۹ء،ص۲۸۳
[۸] مرجع سابق،ص۳۱۰۔۳۱۱؛ملخصاً
[۹] مرجع سابق،ص۴۴۳
[۱۰] تاریخ الدولۃالمکیۃ، عبدالحق انصاری، بہاء الدین زکریا لائبریری چکوال ۲۰۰۶ء،ص۴۷
[محررہ:،٣١ اکتوبر ۲۰۱۹ء]
***