خطیبِ مشرق حضرت علامہ مولانا مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ کا مزار شریف اور آپ کا قائم کردہ عظیم الشان دارالعلوم غریب نوازالٰہ آباد
ماشاء اللہ تصاویر بھیجے کے لیے شکریہ
مولانا فیضان احمد صدیقی راجستھان
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840061126273196&id=100008080090753
ماشاء اللہ تصاویر بھیجے کے لیے شکریہ
مولانا فیضان احمد صدیقی راجستھان
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840061126273196&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام احمد رضا کے القاب و آداب
از: ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی,بریلی شریف
بِسْمِ اللّٰہِ الرحمٰن الرحیم
بعض دانشور اور اہل علم حکومت کی خوشنودی حاصل کرکے لقب و خطاب حاصل کرتے ہیں اور بعض حکومتی علمی، ادبی، اور سماجی ادارے ان کے کارناموں کی وجہ سے لقب وخطاب عطا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح لقب و خطاب یا نام و نمود کی پرواہ نہیں کرتے ، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو بے نام و نشان سمجھتےہیں، انہیں مٹانے والے خود مٹ جاتے ہیں اور جن کے عشق میں یہ بے نام و نشان لوگ مٹ جاتے ہیں وہ انہیں ایسا چمکاتے ہیں اور ایسا نام و نشان عطا کرتے ہیں کہ انکی چمک اور ان سے ضیاء حاصل کرنے والے ذرے بھی آفتاب و ماہتاب بن جاتے ہیں اور ان کے نام لیوا شہرت و ناموری کے بام رفعت پر کمندیں ڈالتے ہیں اور آسمان شہرت پر اپنی عظمت کا پھریرہ لہراتے ہیں ۔
ایسی ہی شخصیتوں میں ایک شخصیت اسلامی چودھویں صدی کے عظیم مجدد، بریلی کے فاضل امام احمد رضا نور اللہ مرقدہ کی بھی ہے ان کی حیات ظاہری میں عجم ہی نہیں بلکہ عرب کے مشاہیر نے ایک سے بڑھکر ایک باوقار، پاکیزہ اور حسن القاب وآداب سے یاد کیا اور آج بھی ناموران زمانہ انہیں گراں قدر مطہر اور منور القاب سے یاد کرتے چلے جا رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے خود کو سدا بے نام و نشان ہی سمجھا۔ لیکن یہ بھی یقین تھا کہ
بے نشانوں کا نشان مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا
یہ تو امام احمد رضا کا انکسار تھا ورنہ امام کا نام تو حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا کرنے والی کسوٹی ہے، اگر امام احمد رضا کا نام سن کر چہرے پر خوشی طاری ہو جائے تو سمجھ لیجئے غلام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور اگر پیشانی پر کوئی شکن آ جائے تو جان جائیے کہ بد مذہب اور گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اور وہ امام ہیں ۔ ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ جو حقیقتاً ان کا نام نہیں بلکہ لقب ہے۔ لیکن امام کا علم بن کر رہ گیا۔ اور ان کے نام نامی اسم گرامی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اور آج جب بھی لفظ ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ سماعت کے جہان میں داخل ہوتا ہے تو ذہن رام پور یا حیدر آباد کے نوابین یا کسی اور شخصیت کی طرف نہیں جاتا بلکہ بریلی کے فاضل امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہی کی طرف مبذول ہو جاتا ہے۔
1:- لقب اعلٰی حضرت کی تحقیق
یہ بات کلی طور پر پایہ تحقیق کو نہیں پہنچ سکی کہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو پہلی بار کب اور کس نے اعلٰی حضرت کہا - البتہ یہ بات ضرور ثابت ہے کہ انہیں ان کی حیات میں ہی اعلٰی حضرت کہا، اور لکھا جانے لگا تھا، تحفہ حنفیہ پٹنہ کے شماروں سے پتہ چلتا ہے کہ 1323 ء سے آپ کے لئے ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ لکھا جانا شروع ہوا۔ تحفہ حنفیہ جلد 9 پرچہ نمبر 4 بابت ماہ ربیع الآخر 1323 ء میں امام احمد رضا احمد رحمۃ اللہ علیہ کے لئے ‘‘مجدد مائۃ حاضرہ، موئید ملت طاہرہ، جامع معقول و منقول، حاوی فروغ و اصول، عالم اہلسنت ، اعلٰیحضرت، اعلم علمائے زماں، مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب مد ظلہ رب العالمین وصانہ عن شرور الحاسدین لکھا گیا۔
فتاوٰی رضویہ کی مختلف جلدوں میں بھی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے مریدین نے ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ لکھا ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ جلد ششم، رسالہ حجب العوار عن مخدوم بہار اور ‘‘اعلٰی حضرت ‘‘ کے ساتھ عظیم البرکت بھی لکھا گیا ہے۔ ممکن ہے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو 1323 ھ 1905 ء سے پہلے بھی ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ کہا گیا ہو۔ کیونکہ انہیں 1318ھ 1900ء میں پٹنہ کے روندوہ کے اجلاس میں پہلی بار حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر بدایونی علیہ الرحمہ نے مشاہیر علماء فضلاء کی موجودگی میں مجدد کہا تھا الفاظ اس طرح ہیں۔
جناب عالم اہلسنت، مجدد مائۃ حاضرہ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی ( دبدبہ سکندری رام پور 11 اکتوبر 1948ء ص 5 ‘‘‘ چودھویں صدی کے مجدد‘‘‘ از ملک العلماء علامہ ظفر الدین قادری ص 11 )
بہر حال اگر امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو اعلٰی حضرت کہا گیا تو 1388ھ کے بعد ہی کہا گیا ۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے لئے اعلٰی حضرت کہے جانےپر حاسدین و اعدائے دین کو سخت اعتراض ہے ۔ حالانکہ ظالمان زمانہ نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کو اعلٰی حضرت کہا اور لکھا ہے۔ اور عاشق الہٰی میرٹھی نے اپنی تالیف تذکرۃ الخلیل میں مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کو اعلٰی حضرت لکھا ہے۔ یہی دنیا ساز دین کے دشمن رام پور اور حیدر آباد کے نوابین کو تو بڑے فخر سے اعلٰی حضرت کہا کرتے تھے۔ لیکن جب ایک غیرت مند عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ایک غلام مصطفٰٰی، عبد المصطفٰی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ کہا جاتا ہے تو جل اٹھتے ہیں۔
‘‘اعلٰی حضرت‘‘ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ایسا نام اور آپ کی ایسی پہچان بن گیا ہے۔ جو امر ہے۔ زندہ ہے۔ اور رہتی دنیا تک چودھویں صدی ہجری کے اس مجدد عاشق مصطفٰی اور عبد المصطفٰی کو زمانہ ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ کہہ کر یاد کرتا رہے گا۔
2:-مجدد:-
از: ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی,بریلی شریف
بِسْمِ اللّٰہِ الرحمٰن الرحیم
بعض دانشور اور اہل علم حکومت کی خوشنودی حاصل کرکے لقب و خطاب حاصل کرتے ہیں اور بعض حکومتی علمی، ادبی، اور سماجی ادارے ان کے کارناموں کی وجہ سے لقب وخطاب عطا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح لقب و خطاب یا نام و نمود کی پرواہ نہیں کرتے ، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو بے نام و نشان سمجھتےہیں، انہیں مٹانے والے خود مٹ جاتے ہیں اور جن کے عشق میں یہ بے نام و نشان لوگ مٹ جاتے ہیں وہ انہیں ایسا چمکاتے ہیں اور ایسا نام و نشان عطا کرتے ہیں کہ انکی چمک اور ان سے ضیاء حاصل کرنے والے ذرے بھی آفتاب و ماہتاب بن جاتے ہیں اور ان کے نام لیوا شہرت و ناموری کے بام رفعت پر کمندیں ڈالتے ہیں اور آسمان شہرت پر اپنی عظمت کا پھریرہ لہراتے ہیں ۔
ایسی ہی شخصیتوں میں ایک شخصیت اسلامی چودھویں صدی کے عظیم مجدد، بریلی کے فاضل امام احمد رضا نور اللہ مرقدہ کی بھی ہے ان کی حیات ظاہری میں عجم ہی نہیں بلکہ عرب کے مشاہیر نے ایک سے بڑھکر ایک باوقار، پاکیزہ اور حسن القاب وآداب سے یاد کیا اور آج بھی ناموران زمانہ انہیں گراں قدر مطہر اور منور القاب سے یاد کرتے چلے جا رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے خود کو سدا بے نام و نشان ہی سمجھا۔ لیکن یہ بھی یقین تھا کہ
بے نشانوں کا نشان مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا
یہ تو امام احمد رضا کا انکسار تھا ورنہ امام کا نام تو حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا کرنے والی کسوٹی ہے، اگر امام احمد رضا کا نام سن کر چہرے پر خوشی طاری ہو جائے تو سمجھ لیجئے غلام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور اگر پیشانی پر کوئی شکن آ جائے تو جان جائیے کہ بد مذہب اور گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اور وہ امام ہیں ۔ ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ جو حقیقتاً ان کا نام نہیں بلکہ لقب ہے۔ لیکن امام کا علم بن کر رہ گیا۔ اور ان کے نام نامی اسم گرامی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اور آج جب بھی لفظ ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ سماعت کے جہان میں داخل ہوتا ہے تو ذہن رام پور یا حیدر آباد کے نوابین یا کسی اور شخصیت کی طرف نہیں جاتا بلکہ بریلی کے فاضل امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہی کی طرف مبذول ہو جاتا ہے۔
1:- لقب اعلٰی حضرت کی تحقیق
یہ بات کلی طور پر پایہ تحقیق کو نہیں پہنچ سکی کہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو پہلی بار کب اور کس نے اعلٰی حضرت کہا - البتہ یہ بات ضرور ثابت ہے کہ انہیں ان کی حیات میں ہی اعلٰی حضرت کہا، اور لکھا جانے لگا تھا، تحفہ حنفیہ پٹنہ کے شماروں سے پتہ چلتا ہے کہ 1323 ء سے آپ کے لئے ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ لکھا جانا شروع ہوا۔ تحفہ حنفیہ جلد 9 پرچہ نمبر 4 بابت ماہ ربیع الآخر 1323 ء میں امام احمد رضا احمد رحمۃ اللہ علیہ کے لئے ‘‘مجدد مائۃ حاضرہ، موئید ملت طاہرہ، جامع معقول و منقول، حاوی فروغ و اصول، عالم اہلسنت ، اعلٰیحضرت، اعلم علمائے زماں، مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب مد ظلہ رب العالمین وصانہ عن شرور الحاسدین لکھا گیا۔
فتاوٰی رضویہ کی مختلف جلدوں میں بھی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے مریدین نے ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ لکھا ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ جلد ششم، رسالہ حجب العوار عن مخدوم بہار اور ‘‘اعلٰی حضرت ‘‘ کے ساتھ عظیم البرکت بھی لکھا گیا ہے۔ ممکن ہے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو 1323 ھ 1905 ء سے پہلے بھی ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ کہا گیا ہو۔ کیونکہ انہیں 1318ھ 1900ء میں پٹنہ کے روندوہ کے اجلاس میں پہلی بار حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر بدایونی علیہ الرحمہ نے مشاہیر علماء فضلاء کی موجودگی میں مجدد کہا تھا الفاظ اس طرح ہیں۔
جناب عالم اہلسنت، مجدد مائۃ حاضرہ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی ( دبدبہ سکندری رام پور 11 اکتوبر 1948ء ص 5 ‘‘‘ چودھویں صدی کے مجدد‘‘‘ از ملک العلماء علامہ ظفر الدین قادری ص 11 )
بہر حال اگر امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو اعلٰی حضرت کہا گیا تو 1388ھ کے بعد ہی کہا گیا ۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے لئے اعلٰی حضرت کہے جانےپر حاسدین و اعدائے دین کو سخت اعتراض ہے ۔ حالانکہ ظالمان زمانہ نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کو اعلٰی حضرت کہا اور لکھا ہے۔ اور عاشق الہٰی میرٹھی نے اپنی تالیف تذکرۃ الخلیل میں مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کو اعلٰی حضرت لکھا ہے۔ یہی دنیا ساز دین کے دشمن رام پور اور حیدر آباد کے نوابین کو تو بڑے فخر سے اعلٰی حضرت کہا کرتے تھے۔ لیکن جب ایک غیرت مند عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ایک غلام مصطفٰٰی، عبد المصطفٰی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ کہا جاتا ہے تو جل اٹھتے ہیں۔
‘‘اعلٰی حضرت‘‘ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ایسا نام اور آپ کی ایسی پہچان بن گیا ہے۔ جو امر ہے۔ زندہ ہے۔ اور رہتی دنیا تک چودھویں صدی ہجری کے اس مجدد عاشق مصطفٰی اور عبد المصطفٰی کو زمانہ ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ کہہ کر یاد کرتا رہے گا۔
2:-مجدد:-
ویسے توکوئی لقب نہیں۔ بلکہ ایک منصب ہے اور صدی کے علماء اور مشائخ اس کو مجدد تسلیم کرتے ہیں۔ جو کارنامہ تجدید انجام دیتا ہے۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے تو کارنامہ تجدید کی شاہراہ پر چودہ سال کی عمر بارہ سو چھیاسی ہی میں ہی قدم رکھ دیا تھا اور تیرہ سو ایک ہجری لگتے ہی اپنی اپنی منزل پالی تھی، البتہ اس کے اٹھارہ سال بعد تیرہ سو اٹھارہ ہجری میں ان کی مجدیت کا اعلان سب سے پہلے حضرت مولانا عبد المقتدر صاحب علیہ الرحمۃ بے کیا۔ برادر زادہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ مولانا حسنین رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں !
‘‘اعلٰی حضرت قبلہ کے فیضان مجددیت کا ظہور 1301ھ کے آغاز سے ہوا۔ یہ واقعہ ذرا تفصیل طلب ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے چچا مولوی محمد شاہ خان صاحب عرف متھن خان صاحب مرحوم سودا گری محلّہ کے قدیمی باشندے تھے۔ اعلٰی حضرت سے ایک سال عمر میں بڑے تھے۔ بچپن ساتھ گزرا۔ ہوش سنبھالا تو ایک ہی جگہ نشست و برخاست رہی۔ ایسی حالت میں آپس میں بے تکلف ہونا ہی تھا۔ میں نے اپنے ہوش سے انہیں اعلٰٰی حضرت قبلہ کی صحبت میں خاموش اور مؤدب ہی بیٹھے دیکھا۔ انہیں اگر کوئی مسئلہ دریافت کرنا ہوتا تو دوسروں کے ذریعہ دریافت کراتے۔ میں مدتوں سے ہی یہی دیکھ رہا تھا ایک روز میں نے چچا سے عرض کیاکہ اعلٰٰی حضرت تو آپ کی بزرگی کا لحاظ کرتے ہیں ان سے اس قدر کیوں جھجکتے ہیں کہ مسئلہ نہیں دریافت کر سکتے؟
انہوں نے فرمایا کہ ہم اور وہ بچپن سے ساتھ رہے ہوش سنبھالا تو نشست و برخاست ایک ہی جگہ ہوتی۔ نماز مغرب پڑھ کر ہمارا معمول تھا کہ ان کی نشست میں آ بیٹھتے، سّید محمود شاہ صاحب وغیرہ چند ایسے احباب تھے کہ وہ بھی اس صحبت میں روزانہ شرکت کرتے۔ عشاء تک مجلس گرم رہتی ۔ اس مجلس میں ہر قسم کی باتیں ہوتیں تھیں۔ علمی مذاکرے ہوتے تھے۔ دینی مسائل پر گفتگو ہوتی اور تفریحی قصّے بھی ہوتے۔
جس دن محرم 1301ھ کا چاند ہوا اس دن حسب معمول ہم سب بعد مغرب اعلٰی حضرت کی نشست میں آگئے۔ اعلٰی حضرت خلاف معمول کسی قدر دیر سے پہنچے، حسب معمول سلام علیک کے بعد تشریف رکھی اور لوگ بھی تھے۔ مجھے مخاطب کر کے فرمایا! کہ متھن بھائی جان آج 1301 ھ کا چاند ہو گیا، میں نے عرض کیا کہ میں نے بھی دیکھا، بعض ساتھیوں نے چاند دیکھنا بیان کیا۔ پھر فرمایا ! بھائی صاحب یہ تو صدی بدل گئی میں نے بھی عرض کیا کہ صدی تو بیشک بدل گئی۔ خیال کیا تو واقعی اس چاند سے چودھویں صدی شروع ہوئی تھی اس پر فرمایا کہ اب ہم اور آپ کو بھی بدل جانا چاہئے۔ یہ فرمانا تھا کہ ساری مجلس پر ایک سکوت کا عالم طاری ہو گیا اور ہر شخص اپنی جگہ بیٹھا رہ گیا پھر کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہوئی، کچھ دیر سب خاموش بیٹھے رہے۔ اور سلام علیک کر کے سب فرداً فرداً چلنے لگے۔ اس وقت تو کوئی بات نہ سمجھ میں نہ آئی ۔ کہ یکایک اس رعب چھا جانے کا سبب کیا ہوا۔ دوسرے روز جب بعد نماز فجر سامنا ہوا اور ان کے مجددانہ رعب و جلال سے واسطہ پڑا تو یاد آیاکہ انہوں نے جو بدلنے کو کہا تھا وہ خدا کی قسم ایسے بدلے کہ کہیں سے کہیں پہنچ گئے اور ہم جہاں تھے وہیں رہے ۔ وہ دن ہے اور آج کا دن کہ ہمیں ان سے بات کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی ۔ بلکہ اس اہم تبدیلی ہم نے تنہائی میں بارہا غور بھی کیا تو بجز اس کے کوئی بات سمجھ نہ آئی ۔ کہ ان میں من جانب اللہ اس دن سے کوئی بڑی تبدیلی کر دی گئ ہے ، جس نے انہیں بہت اونچا کر دیا ہے ۔ اور ہم جس سطع پر پہلے تھے وہیں اب بھی ہیں ۔ ہاں ! جب دنیا انہیں مجدد المائۃ الحاضرہ کے نام سے پکارنے لگی تو سمجھ میں آیا کہ وہ تبدیلی یہ تھی جس نے اتنے روز حیران ہی رکھا ۔ یہ تھی وہ تاریخ جس میں موجودہ صدی کا مجدد بنایا گیا اور مجددیت کا منصب جلیل عطا ہوا اور ساتھ ہی ساتھ وہ رعب عطا ہوا جو اسی تاریخ سے محسوس ہونے لگا۔ ( سیرت اعلٰی حضرت ص 61،62 )
پٹنہ کے اجلاس 1418 ھ 1911 ء میں مشاہیر علماء وفضلاء کی موجودگی میں حضرت مولانا عبدالمقتدر بدایونی علیہ الرحمۃ نے امام احمد رضا کو مجدد فرمایا اور سب نے اس لقب کو بہ طیب خاطر قبول کیا ۔ 1324 ھ 1905 ء میں جب امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ دوسرے حج اور زیارت کےلئے تشریف لے گئے تو حرمین شریفین کے متعدد علماء کرام و مشائخ عظام نے انہیں مجدد کہا ۔
چند اسماء حسب ذیل ہیں --!
سید اسماعیل بن خلیل رحمۃ اللہ علیہ محافظ کتب حرم اگر اس کے حق میں یہ کہا جائے کہ وہ اس صدی کا مجدد ہے تو البتہ یہ حق و صحیح ہو ( حسام الحرمین ص 52 )
2:- ہمارے شیخ علامہ مجدد جو علی العموم تمام استاذوں کے شیخ ہیں ‘‘مولوی احمد رضا‘‘ ( الدولۃ الملکیہ ص 7 اردو ترجمہ ) علاوہ اس کے سید حسین بن علامہ عبد القادر طرابلسی مدرس مسجد نبوی ۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، شیخ موسٰی علی شامی، سید احمد علی مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ نے بھی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو مجدد مائۃ حاضرہ اس زمانے کے مجدد ، اس امت کے دین کے مجدد ، کہا ( تقاریظ بر حسام الحرمین، الدولۃ المکیہ
‘‘اعلٰی حضرت قبلہ کے فیضان مجددیت کا ظہور 1301ھ کے آغاز سے ہوا۔ یہ واقعہ ذرا تفصیل طلب ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے چچا مولوی محمد شاہ خان صاحب عرف متھن خان صاحب مرحوم سودا گری محلّہ کے قدیمی باشندے تھے۔ اعلٰی حضرت سے ایک سال عمر میں بڑے تھے۔ بچپن ساتھ گزرا۔ ہوش سنبھالا تو ایک ہی جگہ نشست و برخاست رہی۔ ایسی حالت میں آپس میں بے تکلف ہونا ہی تھا۔ میں نے اپنے ہوش سے انہیں اعلٰٰی حضرت قبلہ کی صحبت میں خاموش اور مؤدب ہی بیٹھے دیکھا۔ انہیں اگر کوئی مسئلہ دریافت کرنا ہوتا تو دوسروں کے ذریعہ دریافت کراتے۔ میں مدتوں سے ہی یہی دیکھ رہا تھا ایک روز میں نے چچا سے عرض کیاکہ اعلٰٰی حضرت تو آپ کی بزرگی کا لحاظ کرتے ہیں ان سے اس قدر کیوں جھجکتے ہیں کہ مسئلہ نہیں دریافت کر سکتے؟
انہوں نے فرمایا کہ ہم اور وہ بچپن سے ساتھ رہے ہوش سنبھالا تو نشست و برخاست ایک ہی جگہ ہوتی۔ نماز مغرب پڑھ کر ہمارا معمول تھا کہ ان کی نشست میں آ بیٹھتے، سّید محمود شاہ صاحب وغیرہ چند ایسے احباب تھے کہ وہ بھی اس صحبت میں روزانہ شرکت کرتے۔ عشاء تک مجلس گرم رہتی ۔ اس مجلس میں ہر قسم کی باتیں ہوتیں تھیں۔ علمی مذاکرے ہوتے تھے۔ دینی مسائل پر گفتگو ہوتی اور تفریحی قصّے بھی ہوتے۔
جس دن محرم 1301ھ کا چاند ہوا اس دن حسب معمول ہم سب بعد مغرب اعلٰی حضرت کی نشست میں آگئے۔ اعلٰی حضرت خلاف معمول کسی قدر دیر سے پہنچے، حسب معمول سلام علیک کے بعد تشریف رکھی اور لوگ بھی تھے۔ مجھے مخاطب کر کے فرمایا! کہ متھن بھائی جان آج 1301 ھ کا چاند ہو گیا، میں نے عرض کیا کہ میں نے بھی دیکھا، بعض ساتھیوں نے چاند دیکھنا بیان کیا۔ پھر فرمایا ! بھائی صاحب یہ تو صدی بدل گئی میں نے بھی عرض کیا کہ صدی تو بیشک بدل گئی۔ خیال کیا تو واقعی اس چاند سے چودھویں صدی شروع ہوئی تھی اس پر فرمایا کہ اب ہم اور آپ کو بھی بدل جانا چاہئے۔ یہ فرمانا تھا کہ ساری مجلس پر ایک سکوت کا عالم طاری ہو گیا اور ہر شخص اپنی جگہ بیٹھا رہ گیا پھر کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہوئی، کچھ دیر سب خاموش بیٹھے رہے۔ اور سلام علیک کر کے سب فرداً فرداً چلنے لگے۔ اس وقت تو کوئی بات نہ سمجھ میں نہ آئی ۔ کہ یکایک اس رعب چھا جانے کا سبب کیا ہوا۔ دوسرے روز جب بعد نماز فجر سامنا ہوا اور ان کے مجددانہ رعب و جلال سے واسطہ پڑا تو یاد آیاکہ انہوں نے جو بدلنے کو کہا تھا وہ خدا کی قسم ایسے بدلے کہ کہیں سے کہیں پہنچ گئے اور ہم جہاں تھے وہیں رہے ۔ وہ دن ہے اور آج کا دن کہ ہمیں ان سے بات کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی ۔ بلکہ اس اہم تبدیلی ہم نے تنہائی میں بارہا غور بھی کیا تو بجز اس کے کوئی بات سمجھ نہ آئی ۔ کہ ان میں من جانب اللہ اس دن سے کوئی بڑی تبدیلی کر دی گئ ہے ، جس نے انہیں بہت اونچا کر دیا ہے ۔ اور ہم جس سطع پر پہلے تھے وہیں اب بھی ہیں ۔ ہاں ! جب دنیا انہیں مجدد المائۃ الحاضرہ کے نام سے پکارنے لگی تو سمجھ میں آیا کہ وہ تبدیلی یہ تھی جس نے اتنے روز حیران ہی رکھا ۔ یہ تھی وہ تاریخ جس میں موجودہ صدی کا مجدد بنایا گیا اور مجددیت کا منصب جلیل عطا ہوا اور ساتھ ہی ساتھ وہ رعب عطا ہوا جو اسی تاریخ سے محسوس ہونے لگا۔ ( سیرت اعلٰی حضرت ص 61،62 )
پٹنہ کے اجلاس 1418 ھ 1911 ء میں مشاہیر علماء وفضلاء کی موجودگی میں حضرت مولانا عبدالمقتدر بدایونی علیہ الرحمۃ نے امام احمد رضا کو مجدد فرمایا اور سب نے اس لقب کو بہ طیب خاطر قبول کیا ۔ 1324 ھ 1905 ء میں جب امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ دوسرے حج اور زیارت کےلئے تشریف لے گئے تو حرمین شریفین کے متعدد علماء کرام و مشائخ عظام نے انہیں مجدد کہا ۔
چند اسماء حسب ذیل ہیں --!
سید اسماعیل بن خلیل رحمۃ اللہ علیہ محافظ کتب حرم اگر اس کے حق میں یہ کہا جائے کہ وہ اس صدی کا مجدد ہے تو البتہ یہ حق و صحیح ہو ( حسام الحرمین ص 52 )
2:- ہمارے شیخ علامہ مجدد جو علی العموم تمام استاذوں کے شیخ ہیں ‘‘مولوی احمد رضا‘‘ ( الدولۃ الملکیہ ص 7 اردو ترجمہ ) علاوہ اس کے سید حسین بن علامہ عبد القادر طرابلسی مدرس مسجد نبوی ۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، شیخ موسٰی علی شامی، سید احمد علی مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ نے بھی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو مجدد مائۃ حاضرہ اس زمانے کے مجدد ، اس امت کے دین کے مجدد ، کہا ( تقاریظ بر حسام الحرمین، الدولۃ المکیہ
)
3:-لقب ضیاء الدین احمد:
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ جب پہلی مرتبہ 1395 ھ میں والدین کے ہمراہ حج و زیارت کے لئے گئے تو حرمین شریفین کے متعدد علماء اور مشائخ نے آپ کو مختلف قسم کی اسناد عطا فرمائیں ۔ ایک دن آپ نے نماز مغرب مقام ابراھیم میں ادا کی، بعد نماز امام شافعیہ حضرت حسین بن صالح جمال اللیل نے بلا تعارف سابق آپ کا ہاتھ پکڑا اور اپنے دولت خانہ تشریف لے گئے اور دیر تک آپ کی پیشانی کو پکڑ کر فرمایا ! انی لاجد نور اللہ فی ھذا الجبین بے شک میں اللہ کا نور اس پیشانی میں پاتا ہوں ۔ اور صحاح ستہ اور سلسلہ قادریہ کی اجازت اپنے دست مبارک سے لکھ کر عنایت فرمائی اور فرمایا کہ تمہارا نام ‘‘ضیاء الدین احمد‘‘ ہے ( الا اجازات المتینہ، از امام احمد رضا ترجمہ از حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خاں علیہ الرحمہ ) ‘‘ضیاء الدین احمد‘‘ امام احمد رضا کو دیا جانے والا پہلا لقب ہے جو کسی عربی عالم نے دیا۔
4:-علمائے حرمین شریفین کے عطا کردہ القاب و آداب:
امام احمد رضا کی تصانیف ‘‘ المعتقد المنتقد، کفل الفقیہ الفاہم، فتاوٰی الحرمین، حسام الحرمین اور الدولۃ المکیہ پر حرمین شریفین کے علماء کرام نے تقاریظ تحریر فرمائی ہیں۔ انہیں خصوصیت کے ساتھ حسام الحرمین اور الدولۃ المکیہ میں ان صاحبان علم و فضل نے مجدد اسلام امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو بڑے پاکیزہ باوقار اور خوبصورت القاب و آداب سے نوازا ہے۔ یہاں ہم انھی القاب کو پیش کریں گے ، جو لقب کی حیثیت کے حامل ہیں اور چند الفاظ تک محدود ہیں ۔
(الف):- شیخ ابو الخیر احمد میر داد مسجد الحرام مکہ مکرمہ: باریکیوں کا خزانہ، معرفت کا آفتاب ، علمی مشکلات ظاہری و باطنی کھولنے والا ‘‘ ( حسام الحرمین ص 38 )
(ب):- علامہ شیخ صالح کمال مکہ مکرمہ : عالم علام ، فضائل کا دریا ، مولانا محقق، زمانے کی برکت ، عمائد علماء کی آنکھوں کی ٹھنڈک ‘‘ ( حسام الحرمین ص 42 )
(ج) :- علامہ شیخ ابن صدیق کمال : روشن ستارہ استاذ معظم سردار و پیشوا ، گردن وہابیہ پر تیغ براں ( حسام الحرمین ص 46 )
(د):- علامہ محمد عبد الحق مھاجر الہ آبادی مکہ مکرمہ : علامہ عالم جمیل ، دریائے ذخار ، سردار فضل، کثیر الاحسان ، دریائے بلند ہمت، ذہین و دانشمند بحرنا پیداکنار ، صاحب ذکاء کثیر الفہم ‘‘ (حسام الحرمین ص 48 )
(ہ):- سید اسماعیل خلیل محافظ کتب حرم مکہ مکرمہ : منقبتوں اور فخروں والا، یکتائے زمانہ ، اپنے وقت کا یگانہ (حسام الحرمین ص 32 ، ‘‘علامہ مجدد‘‘ الدولۃ المکیہ ص 7 )
(و):- علامہ پیر مرزوقی ابو حسین مکہ شریف: نور کے اونچے ستون والا، معرفت کا دریا، سیراب ذہن والا، طاقتور زبان والا ، دریائے منطق ( حسام الحرمین ص 56 )
(ز):- علامہ محمد عابد ابن مرحوم شیخ حسین مفتی سرداران مالکیہ: علمائے مشاہیر کا سردار، معزز فاضلوں کا مایہ افتخار ، صاحب عدل عالم باعمل ، اسلام کی سعادت، محمود سیرت، صاحب احسان (حسام الحرمین ص 64 )
(ح):- علامہ محمد علی مالکی بن شیخ حسین مالکی ، مکہ شریف: دائرہ علوم کا مرکز، مسلمانوں کا یاور، راہ پایوں کا نگہبان، سعد الدین، مولٰی المعارف و الھدٰی عضد ہدایت (حسام الحرمین ص 68 )
(ط):- علامہ شیخ السعد بن دھلان مکی : نادر روزگار، خلاصہ لیل و نہار (حسام الحرمین ص 80 )
(ی):- مولانا شیخ عبد الرحمٰن دھلان مکی : علامہ زماں ، یکتائے روزگار (حسام الحرمین ص 84 )
(ک):- علامہ احمد حنفی مکی : فخر اکابر، پرہیزگار فاضل (حسام الحرمین ص 86)
(ل):- علامہ محمد صالح بن محمد افضل مکی: عالم فاضل ، ماہر کامل، باریک فہموں والا، بلند معنوں والا ( حسام الحرمین ص94 )
(م):- علامہ محمد احمد حامد مکی : معتمد پیشوا، فاضل متبحر(حسام الحرمین ص 102 )
(ن):- علامہ محمد سعید شیخ الدلائل مدینہ منورہ: کثیر العلم ، دریائے عظیم الفہم (118 )
(س):- علامہ محمد بن احمد عمری: مرشد محقق، کثیر الفہم ، اللہ کی عطاؤں والا ، دین کا نشان و ستون ، عرفان و معرفت والا ( حسام الحرمین ص128 )
(ع):- علامہ عباس رضوان مدینہ منورہ : علامہ امام، تیز ذہن، بالا ہمت، یکتائے دہر(حسام الحرمین ص 122 )
(ف):- علامہ محمد بن سوس خیاری مدینہ شریف: علامہ محقق، فہامہ مدقق انسان کامل، عالم فاضل (حسام الحرمین ص 129 )
(ص):- علامہ سید الشریف احمد برزنجی مدینہ شریف: صاحب تحقیق و تنقیح و تدقیق و تزئین، عالم اہلسنت وجماعت (حسام الحرمین ص 132 )
(ق):- علامہ محمد سعید بن محمد بالفیل مکہ شریف: امام کامل، (الدولۃ المکیہ ص 19 )
(ر):- علامہ شیخ سعید محمد بن واصح حسینی مدینہ شریف: فخر ہندوستان (ایضاً ص 65 )
(ش):- علامہ شیخ احمد الجزائری مدینہ منورہ: علامہ زماں، یکتائے روزگار، سر چشمہ معرفت ( ایضاً ص 74 )
(ت):-علامہ شیخ حسین بن علامہ سید عبد القادر طرابلسی مدینہ منورہ : حامی ملت محمدیہ طاہرہ، مجدد مائۃ حاضرہ، میرے استاذ اور پیشوا ( ایضاً ص 92 )
(ث):- علامہ محمد کریم اللہ مھاجر مدنی: امام بزرگ محقق نکتہ رس، اس زمانے کے مجدد ( ایضاً ص1
3:-لقب ضیاء الدین احمد:
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ جب پہلی مرتبہ 1395 ھ میں والدین کے ہمراہ حج و زیارت کے لئے گئے تو حرمین شریفین کے متعدد علماء اور مشائخ نے آپ کو مختلف قسم کی اسناد عطا فرمائیں ۔ ایک دن آپ نے نماز مغرب مقام ابراھیم میں ادا کی، بعد نماز امام شافعیہ حضرت حسین بن صالح جمال اللیل نے بلا تعارف سابق آپ کا ہاتھ پکڑا اور اپنے دولت خانہ تشریف لے گئے اور دیر تک آپ کی پیشانی کو پکڑ کر فرمایا ! انی لاجد نور اللہ فی ھذا الجبین بے شک میں اللہ کا نور اس پیشانی میں پاتا ہوں ۔ اور صحاح ستہ اور سلسلہ قادریہ کی اجازت اپنے دست مبارک سے لکھ کر عنایت فرمائی اور فرمایا کہ تمہارا نام ‘‘ضیاء الدین احمد‘‘ ہے ( الا اجازات المتینہ، از امام احمد رضا ترجمہ از حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خاں علیہ الرحمہ ) ‘‘ضیاء الدین احمد‘‘ امام احمد رضا کو دیا جانے والا پہلا لقب ہے جو کسی عربی عالم نے دیا۔
4:-علمائے حرمین شریفین کے عطا کردہ القاب و آداب:
امام احمد رضا کی تصانیف ‘‘ المعتقد المنتقد، کفل الفقیہ الفاہم، فتاوٰی الحرمین، حسام الحرمین اور الدولۃ المکیہ پر حرمین شریفین کے علماء کرام نے تقاریظ تحریر فرمائی ہیں۔ انہیں خصوصیت کے ساتھ حسام الحرمین اور الدولۃ المکیہ میں ان صاحبان علم و فضل نے مجدد اسلام امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو بڑے پاکیزہ باوقار اور خوبصورت القاب و آداب سے نوازا ہے۔ یہاں ہم انھی القاب کو پیش کریں گے ، جو لقب کی حیثیت کے حامل ہیں اور چند الفاظ تک محدود ہیں ۔
(الف):- شیخ ابو الخیر احمد میر داد مسجد الحرام مکہ مکرمہ: باریکیوں کا خزانہ، معرفت کا آفتاب ، علمی مشکلات ظاہری و باطنی کھولنے والا ‘‘ ( حسام الحرمین ص 38 )
(ب):- علامہ شیخ صالح کمال مکہ مکرمہ : عالم علام ، فضائل کا دریا ، مولانا محقق، زمانے کی برکت ، عمائد علماء کی آنکھوں کی ٹھنڈک ‘‘ ( حسام الحرمین ص 42 )
(ج) :- علامہ شیخ ابن صدیق کمال : روشن ستارہ استاذ معظم سردار و پیشوا ، گردن وہابیہ پر تیغ براں ( حسام الحرمین ص 46 )
(د):- علامہ محمد عبد الحق مھاجر الہ آبادی مکہ مکرمہ : علامہ عالم جمیل ، دریائے ذخار ، سردار فضل، کثیر الاحسان ، دریائے بلند ہمت، ذہین و دانشمند بحرنا پیداکنار ، صاحب ذکاء کثیر الفہم ‘‘ (حسام الحرمین ص 48 )
(ہ):- سید اسماعیل خلیل محافظ کتب حرم مکہ مکرمہ : منقبتوں اور فخروں والا، یکتائے زمانہ ، اپنے وقت کا یگانہ (حسام الحرمین ص 32 ، ‘‘علامہ مجدد‘‘ الدولۃ المکیہ ص 7 )
(و):- علامہ پیر مرزوقی ابو حسین مکہ شریف: نور کے اونچے ستون والا، معرفت کا دریا، سیراب ذہن والا، طاقتور زبان والا ، دریائے منطق ( حسام الحرمین ص 56 )
(ز):- علامہ محمد عابد ابن مرحوم شیخ حسین مفتی سرداران مالکیہ: علمائے مشاہیر کا سردار، معزز فاضلوں کا مایہ افتخار ، صاحب عدل عالم باعمل ، اسلام کی سعادت، محمود سیرت، صاحب احسان (حسام الحرمین ص 64 )
(ح):- علامہ محمد علی مالکی بن شیخ حسین مالکی ، مکہ شریف: دائرہ علوم کا مرکز، مسلمانوں کا یاور، راہ پایوں کا نگہبان، سعد الدین، مولٰی المعارف و الھدٰی عضد ہدایت (حسام الحرمین ص 68 )
(ط):- علامہ شیخ السعد بن دھلان مکی : نادر روزگار، خلاصہ لیل و نہار (حسام الحرمین ص 80 )
(ی):- مولانا شیخ عبد الرحمٰن دھلان مکی : علامہ زماں ، یکتائے روزگار (حسام الحرمین ص 84 )
(ک):- علامہ احمد حنفی مکی : فخر اکابر، پرہیزگار فاضل (حسام الحرمین ص 86)
(ل):- علامہ محمد صالح بن محمد افضل مکی: عالم فاضل ، ماہر کامل، باریک فہموں والا، بلند معنوں والا ( حسام الحرمین ص94 )
(م):- علامہ محمد احمد حامد مکی : معتمد پیشوا، فاضل متبحر(حسام الحرمین ص 102 )
(ن):- علامہ محمد سعید شیخ الدلائل مدینہ منورہ: کثیر العلم ، دریائے عظیم الفہم (118 )
(س):- علامہ محمد بن احمد عمری: مرشد محقق، کثیر الفہم ، اللہ کی عطاؤں والا ، دین کا نشان و ستون ، عرفان و معرفت والا ( حسام الحرمین ص128 )
(ع):- علامہ عباس رضوان مدینہ منورہ : علامہ امام، تیز ذہن، بالا ہمت، یکتائے دہر(حسام الحرمین ص 122 )
(ف):- علامہ محمد بن سوس خیاری مدینہ شریف: علامہ محقق، فہامہ مدقق انسان کامل، عالم فاضل (حسام الحرمین ص 129 )
(ص):- علامہ سید الشریف احمد برزنجی مدینہ شریف: صاحب تحقیق و تنقیح و تدقیق و تزئین، عالم اہلسنت وجماعت (حسام الحرمین ص 132 )
(ق):- علامہ محمد سعید بن محمد بالفیل مکہ شریف: امام کامل، (الدولۃ المکیہ ص 19 )
(ر):- علامہ شیخ سعید محمد بن واصح حسینی مدینہ شریف: فخر ہندوستان (ایضاً ص 65 )
(ش):- علامہ شیخ احمد الجزائری مدینہ منورہ: علامہ زماں، یکتائے روزگار، سر چشمہ معرفت ( ایضاً ص 74 )
(ت):-علامہ شیخ حسین بن علامہ سید عبد القادر طرابلسی مدینہ منورہ : حامی ملت محمدیہ طاہرہ، مجدد مائۃ حاضرہ، میرے استاذ اور پیشوا ( ایضاً ص 92 )
(ث):- علامہ محمد کریم اللہ مھاجر مدنی: امام بزرگ محقق نکتہ رس، اس زمانے کے مجدد ( ایضاً ص1
ئل و مناقب ایک سے بڑھ کر ایک حسین انداز میں بیان کئے ہیں اور بڑے ہی باوقار اور خوبصورت القاب وآداب سے یاد کیا ہے ۔ سب کا احاطہ کرنا مشکل ہے ۔ امام کے ماننے چاہنے والے انہیں برابر بہتر سے بہتر القاب وآداب سے یاد کرتے چلے جا رہے ہیں۔ شعراء ان کے اوصاف کے بلیغ اظہار میں تراکیب سازی بھی کر رہے ہیں ۔ لیکن اب تک امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو جن القاب وآداب سے یاد کیا گیا ہے اور جو زیادہ مقبول ہیں ان کا ایک اجمال پیش کیا گیا ہے ۔ ذیل میں ہم حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کے مختلف القاب کو مجموعی طور پر پیش کرتے ہیں.
اعلٰی حضرت ،
حجۃ اللہ فی الارض ،
علم و فضل کے دائرہ کا مرکز ،
صاحب تحقیق و تدقیق و تنقیح ،
فخر السلف ، بقیۃ الخلف،
اکابر اور عمائد علماء کی آنکھوں کی ٹھنڈک ،
زمانے کی برکت،
آفتاب معرفت محمود سیرت،
اسلام کی سعادت، دریائے بلند ہمت ،
اپنے زمانے اور اگلے وقتوں کا زر ،
نور کے اونچے ستون والا،
صاف ستھرا نہایت کرم والا ،
اللہ کی عطا کردہ اور سیراب ذہن والا ،
بلند معنوں باریک فہموں والا ،
فخروں اور منقبتوں والا ،
مشکلات علم کا کشادہ کرنے والا ،
علموں کی مشکلات ظاہر و باطن کو کھولنے والا،
طاقتور قلم اور زبان والا،
دین کا نشان و ستون ،
جامع علوم و فنون ،
عالم جمیل و جلیل ،
فاضل نبیل ،
عالم باعمل ،
صاحب عدل ،
مینار فضل ،
علامہ فاضل و کامل ،
پر ہیز گار فاضل ،
محیط کامل، امام کامل،
ولی کامل، قبلہ اہل دل قطب ارشاد،
فاضلوں کا مایہ افتخار ،
علمائے مشاہیر کا سردار ،
ذہین اور دانشمند عالم یگانہ استاذ ماہر ،
فخر اکابر ، شیوہ بیان شاعر،
یکتائے روزگارنادر روزگار ،
خلاصہ لیل و نہار،
دریائے ذخار،
چراغ خاندان برکاتیہ ،
امام الائمہ،
نور یقین،
شیخ الاسلام والمسلمین ،
استاذ معظم ،
مجدد اعظم ،
شاہ ملک سخن ،
امام اہلسنت، عظیم العلم ،
موئید ملت طاہرہ، مجدد ملت ،
حاضرہ ( ماضیہ) محدث بریلوی ،
امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ ( وارضاہ عنا)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840494322896543&id=100008080090753
اعلٰی حضرت ،
حجۃ اللہ فی الارض ،
علم و فضل کے دائرہ کا مرکز ،
صاحب تحقیق و تدقیق و تنقیح ،
فخر السلف ، بقیۃ الخلف،
اکابر اور عمائد علماء کی آنکھوں کی ٹھنڈک ،
زمانے کی برکت،
آفتاب معرفت محمود سیرت،
اسلام کی سعادت، دریائے بلند ہمت ،
اپنے زمانے اور اگلے وقتوں کا زر ،
نور کے اونچے ستون والا،
صاف ستھرا نہایت کرم والا ،
اللہ کی عطا کردہ اور سیراب ذہن والا ،
بلند معنوں باریک فہموں والا ،
فخروں اور منقبتوں والا ،
مشکلات علم کا کشادہ کرنے والا ،
علموں کی مشکلات ظاہر و باطن کو کھولنے والا،
طاقتور قلم اور زبان والا،
دین کا نشان و ستون ،
جامع علوم و فنون ،
عالم جمیل و جلیل ،
فاضل نبیل ،
عالم باعمل ،
صاحب عدل ،
مینار فضل ،
علامہ فاضل و کامل ،
پر ہیز گار فاضل ،
محیط کامل، امام کامل،
ولی کامل، قبلہ اہل دل قطب ارشاد،
فاضلوں کا مایہ افتخار ،
علمائے مشاہیر کا سردار ،
ذہین اور دانشمند عالم یگانہ استاذ ماہر ،
فخر اکابر ، شیوہ بیان شاعر،
یکتائے روزگارنادر روزگار ،
خلاصہ لیل و نہار،
دریائے ذخار،
چراغ خاندان برکاتیہ ،
امام الائمہ،
نور یقین،
شیخ الاسلام والمسلمین ،
استاذ معظم ،
مجدد اعظم ،
شاہ ملک سخن ،
امام اہلسنت، عظیم العلم ،
موئید ملت طاہرہ، مجدد ملت ،
حاضرہ ( ماضیہ) محدث بریلوی ،
امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ ( وارضاہ عنا)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840494322896543&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
59 )
(خ):-علامہ شیخ محمد مختار بن عطارد الجاوی مکہ مکرمہ: علمائے محققین کا بادشاہ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات سے ایک معجزہ، یگانہ امام (ایضاً ص 72 )
(ذ):- علامہ شیخ مصطفٰی بن تارزی ابن عزوز مدینہ منورہ: استاذ کامل، برستی گھٹا، فائدہ رساں‘‘ (ایضاً ص 146 )
(ض):- علامہ شیخ موسٰی علی شامی ازھری احمدی دردیری مدنی : امام الائمہ ، ملت اسلامیہ کے مجدد، نور یقین ‘‘ (ایضاً ص 262 ) وغیرہ
(5):- امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ یوں تو اعلٰی حضرت کے لئے علمائے حرمین شریفین نے ‘‘‘امام‘‘‘ لکھا ہے ، لیکن ان کے نام سے قبل امام لگانا یعنٰی امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ لکھنا ۔۔۔۔ ۔۔ یہ انداز سب سے پہلے علامہ مشتاق احمد نظامی الہ آبادی علیہ الرحمہ نے اختیار کیا۔ اور اپنا رسالہ ‘‘پاسبان‘‘ میں ان کے لئے امام احمد رضا علیہ الرحمہ لکھنا شروع کیا ۔ 1976ء میں ماہنامہ المیزان نے اعلٰی حضرت کی حیات و شخصیت اور کارناموں ہر اپنا منفرد ضخیم امام احمد رضا نمبر شائع کیا۔ تو اس میں ہر جگہ ان کے لئے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہی لکھا گیا۔ اس کے بعد امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ لکھنے کا یہ ایک رواج سا بن گیا ۔ ماہر رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب ، علامہ عبد الحکیم اختر شاہجاں پوری رحمۃ اللہ علیہ ، علامہ شمس بریلوی قدس سرہ ، سید ریاست علی قادری صاحب علیہ رحمہ اور دوسرے پاکستانی اور ہندوستانی قلم کاروں نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہی لکھنا شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ ان کی تصانیف کے شائع کرنے والے ناشرین نے بھی ان کے لئے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ لکھا اور آج بھی یہ انداز جاری ہے ۔
(6) محدث بریلوی :
حضرت مسعود ملت ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے محدث بریلوی نام سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و شخصیت پر کتاب لکھی ۔ اس کے بعد چند پاکستانی اہل قلم نے بھی انہیں محدث بریلوی لکھنا شروع کر دیا۔ یہ بھی ایک لقب ہی ہے ۔
(7) ٍفقیہ العصر
ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے فقیہ العصر نام سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت پر رسالہ لکھا ۔ یہ بھی خوبصورت لقب ہے ۔
(8 ) سرتاج الفقہاء
ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کا سرتاج الفقہاء کے نام سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت پر ایک دوسرا رسالہ ہے ۔ سرتاج الفقہاء بھی اچھا لقب ہے ۔ اور امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے شایان شان ہے ۔
(9) چشم و چراغ خاندان برکاتیہ :
مارہرہ مطہرہ ، خانوادہ برکاتیہ کے ایک عظیم و جلیل شہزادے حضرت سید آل رسول حسنین قادری صاحب نے امام احمد رضا کو ‘‘چشم و چراغ خاندان برکاتیہ‘‘ لکھا ۔ ( المیزان امام احمد رضا 1976ء ص 235 )
(10)مجدد اعظم
خانوادہ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ کے چشم و چراغ محدث اعظم ہند حضرت علامہ مولانا سید محمد میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘مجدد اعظم‘‘ کہا (المیزان نمبر ص 241 )
(11) واصف شاہ ہدٰی
پروفیسر ڈاکٹر طلحہ رضوی برق نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘واصف شاہ ہدٰی ‘‘ کہا ( المیزان امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نمبر ص 240 )
حضور اعلٰی حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے خود اپنے آپ کو واصف شاہ ہدٰی کہا ہے ! شعر ملاحظہ کیجئے !
یہی کہتی ہے بلبل باغ جناں کہ رضا کی طرح کوئی سحر بیاں نہیں
ہند میں واصف شاہ ہدٰی مجھے شوخی طبع رضا کی قسم
یہ حقیقتاً رضا سے ہی مستعار ہے لیکن رضا کے لئے حسین لقب ہے ۔
(12) شاہ ملک سخن
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے آقا محمد مصطفٰی صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی پر ناز کرتے ہوئے تحدیث نعمت کے طور پر خود ‘‘ملک سخن کا شاہ‘‘ کہا ہے! فرماتے ہیں !
ملک سخن شاہی تم کو ‘‘رضا‘‘ مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں
(13) شیخ الاسلام و المسلمین
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے اکبر حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان صاحب نور اللہ مرقدہ نے ‘‘شیخ الاسلام و المسلمین ‘‘ سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے وصال(1340ھ) کا تاریخی مادہ استخراج کیا تھا ۔ اب یہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے لئے ایک لقب بن گیا ہے ۔اور انہیں ‘‘ شیخ الاسلام و المسلمین‘‘ بھی لکھا جاتا ہے۔
(14) امام نعت گو یاں
ًمولانا اختر الحامدی صاحب مرحوم (کراچی) نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘امام نعت گو یاں ‘‘ لکھا ہے ۔ وہ اس عنوان سے امام کی نعت گوئی پر بسیط مقالہ لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔( آئینہ رضویات اول )
(15) قبلہ اہل دل ڈاکٹر نسیم قریشی مرحوم شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے امام احمدرضا کو ‘‘قبلہ اہل دل‘‘ لکھا۔ ( المیزان امام احمد رضا نمبر ص 549 )
( 16) فاضل بریلوی امام احمد رضا کے لئے ابتداء سے ہی فاضل بریلوی کہا اور لکھا جا رہا ہے ۔ آج جب بھی فاضل بریلوی کہا اور لکھا جاتا ہے تو ذہن کسی اور عالم کی طرف نہ جا کر امام احمد رضا ہی کی طرف جاتا ہے ۔
حاصل کلام
عرب عجم کے علماء، قلم کاروں اور دانشوروں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے فضا
(خ):-علامہ شیخ محمد مختار بن عطارد الجاوی مکہ مکرمہ: علمائے محققین کا بادشاہ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات سے ایک معجزہ، یگانہ امام (ایضاً ص 72 )
(ذ):- علامہ شیخ مصطفٰی بن تارزی ابن عزوز مدینہ منورہ: استاذ کامل، برستی گھٹا، فائدہ رساں‘‘ (ایضاً ص 146 )
(ض):- علامہ شیخ موسٰی علی شامی ازھری احمدی دردیری مدنی : امام الائمہ ، ملت اسلامیہ کے مجدد، نور یقین ‘‘ (ایضاً ص 262 ) وغیرہ
(5):- امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ یوں تو اعلٰی حضرت کے لئے علمائے حرمین شریفین نے ‘‘‘امام‘‘‘ لکھا ہے ، لیکن ان کے نام سے قبل امام لگانا یعنٰی امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ لکھنا ۔۔۔۔ ۔۔ یہ انداز سب سے پہلے علامہ مشتاق احمد نظامی الہ آبادی علیہ الرحمہ نے اختیار کیا۔ اور اپنا رسالہ ‘‘پاسبان‘‘ میں ان کے لئے امام احمد رضا علیہ الرحمہ لکھنا شروع کیا ۔ 1976ء میں ماہنامہ المیزان نے اعلٰی حضرت کی حیات و شخصیت اور کارناموں ہر اپنا منفرد ضخیم امام احمد رضا نمبر شائع کیا۔ تو اس میں ہر جگہ ان کے لئے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہی لکھا گیا۔ اس کے بعد امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ لکھنے کا یہ ایک رواج سا بن گیا ۔ ماہر رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب ، علامہ عبد الحکیم اختر شاہجاں پوری رحمۃ اللہ علیہ ، علامہ شمس بریلوی قدس سرہ ، سید ریاست علی قادری صاحب علیہ رحمہ اور دوسرے پاکستانی اور ہندوستانی قلم کاروں نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہی لکھنا شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ ان کی تصانیف کے شائع کرنے والے ناشرین نے بھی ان کے لئے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ لکھا اور آج بھی یہ انداز جاری ہے ۔
(6) محدث بریلوی :
حضرت مسعود ملت ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے محدث بریلوی نام سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و شخصیت پر کتاب لکھی ۔ اس کے بعد چند پاکستانی اہل قلم نے بھی انہیں محدث بریلوی لکھنا شروع کر دیا۔ یہ بھی ایک لقب ہی ہے ۔
(7) ٍفقیہ العصر
ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے فقیہ العصر نام سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت پر رسالہ لکھا ۔ یہ بھی خوبصورت لقب ہے ۔
(8 ) سرتاج الفقہاء
ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کا سرتاج الفقہاء کے نام سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت پر ایک دوسرا رسالہ ہے ۔ سرتاج الفقہاء بھی اچھا لقب ہے ۔ اور امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کے شایان شان ہے ۔
(9) چشم و چراغ خاندان برکاتیہ :
مارہرہ مطہرہ ، خانوادہ برکاتیہ کے ایک عظیم و جلیل شہزادے حضرت سید آل رسول حسنین قادری صاحب نے امام احمد رضا کو ‘‘چشم و چراغ خاندان برکاتیہ‘‘ لکھا ۔ ( المیزان امام احمد رضا 1976ء ص 235 )
(10)مجدد اعظم
خانوادہ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ کے چشم و چراغ محدث اعظم ہند حضرت علامہ مولانا سید محمد میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘مجدد اعظم‘‘ کہا (المیزان نمبر ص 241 )
(11) واصف شاہ ہدٰی
پروفیسر ڈاکٹر طلحہ رضوی برق نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘واصف شاہ ہدٰی ‘‘ کہا ( المیزان امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نمبر ص 240 )
حضور اعلٰی حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے خود اپنے آپ کو واصف شاہ ہدٰی کہا ہے ! شعر ملاحظہ کیجئے !
یہی کہتی ہے بلبل باغ جناں کہ رضا کی طرح کوئی سحر بیاں نہیں
ہند میں واصف شاہ ہدٰی مجھے شوخی طبع رضا کی قسم
یہ حقیقتاً رضا سے ہی مستعار ہے لیکن رضا کے لئے حسین لقب ہے ۔
(12) شاہ ملک سخن
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے آقا محمد مصطفٰی صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی پر ناز کرتے ہوئے تحدیث نعمت کے طور پر خود ‘‘ملک سخن کا شاہ‘‘ کہا ہے! فرماتے ہیں !
ملک سخن شاہی تم کو ‘‘رضا‘‘ مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں
(13) شیخ الاسلام و المسلمین
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے اکبر حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان صاحب نور اللہ مرقدہ نے ‘‘شیخ الاسلام و المسلمین ‘‘ سے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے وصال(1340ھ) کا تاریخی مادہ استخراج کیا تھا ۔ اب یہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے لئے ایک لقب بن گیا ہے ۔اور انہیں ‘‘ شیخ الاسلام و المسلمین‘‘ بھی لکھا جاتا ہے۔
(14) امام نعت گو یاں
ًمولانا اختر الحامدی صاحب مرحوم (کراچی) نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘امام نعت گو یاں ‘‘ لکھا ہے ۔ وہ اس عنوان سے امام کی نعت گوئی پر بسیط مقالہ لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔( آئینہ رضویات اول )
(15) قبلہ اہل دل ڈاکٹر نسیم قریشی مرحوم شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے امام احمدرضا کو ‘‘قبلہ اہل دل‘‘ لکھا۔ ( المیزان امام احمد رضا نمبر ص 549 )
( 16) فاضل بریلوی امام احمد رضا کے لئے ابتداء سے ہی فاضل بریلوی کہا اور لکھا جا رہا ہے ۔ آج جب بھی فاضل بریلوی کہا اور لکھا جاتا ہے تو ذہن کسی اور عالم کی طرف نہ جا کر امام احمد رضا ہی کی طرف جاتا ہے ۔
حاصل کلام
عرب عجم کے علماء، قلم کاروں اور دانشوروں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے فضا
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام المناظرین حضرت شیربیشہ اہل سنت مظہراعلٰی حضرت مولاناحشمت علی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک مناظرہ میں عظیم فتح:
امام المناظرین حضرت شیربیشہ اہل سنت مظہراعلٰی حضرت مولاناحشمت علی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نےایک تاریخی مناظرہ میں قرآن کریم کی آیت پاک [النبیُ اولیٰ بالمومنین مِن انفسھم] یعنی نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مومنوں کے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں ،بیان فرما کرفرمایاکہ اس قربت خاص کے اثبات سےجہاں بھی مومن موجود اس جگہ سرکار دو عالم کا حاضر وناضرہوناثابت ہوتاہے.اس تقریر کو سن کر دیوبندی مولوی ہنسا اور بولا۔ واہ مولانا حشمت علی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ابھی تک اپنے نبی کے حاضر وناظر ہونے میں نقص کا انکار کر رہے تھے اب خود نقصان ثابت کر بیٹھے، اس لئے کہ اب میرا سوال یہ ہے کہ مثلاً ایک ایسا قریہ ، بستی ہے جس میں سب کافر و مشرک رہتے ہیں یعنی کوئی مسلمان و مومن نہیں رہتااور آپ کے نبی مومنوں سے انکی جانوں سےبھی زیادہ قریب ہیں تو یہ بتائیے کہ اس گاوں یا بستی میں جب کوئی مومن موجود ہی نہیں تو تمہارے نبی بھی موجود نہ ہوئے ، لھٰذا اس جگہ حاضر وناظر ہونا بھی پایا نہ گیا۔
سرکار شیر بیشہ اہل سنت کچھ خاموش رہے سرکار مجاہدِ ملت،حضور حافظِ ملت وغیرہ اکابر علماءِ اہلسنت موجود ہیں اور دل میں سوچھ رہے کہ رضا کا شیر مخالف کے سوال کا برجستہ جواب دیتا تھا آج خاموش کیوں ہے?
شیر رضا مسکراتے ہیں اور دیوبندی مولوی سے کہتے ہیں او جاہل! تومیری خاموشی سے سمجھ رہا ہوگا کہ آج رضا کا غلام حشمت علی پھنس گیا.سُن بلاغت کا اصول ہے کہ سائل کا جواب انظار وجستجو کے بعد دیا جائے تو اس کا استحضار عقل میں زیادہ رہتا ہے.
اب تو میرے جواب کو سن اور یاد رکھنا.کراماً کاتبین جو بندوں کے اچھے اور برے اعمال لکھتے ہیں وہ مومن ہیں یا نہیں?دیوبندی مناظربولا ہاں سب فرشتے مومن ہوتے ہیں.
آپ نے فرمایا
وہ فرشتے کافروں کے بھی اعمال لکھتے ہیں توکافروں کے بھی ساتھ ہوتے ہیں یا نہیں? بولا ہاں.
آپ نے فرمایا تَو جس جگہ پر تُونے کہا کہ کافر ہی کافر ہیں تو وہاں کراما کاتبین ( کہ مومن ہیں) موجود اور حاضر ہیں کہ نہیں ؟
دیوبندی بولاہاں.
آپ جلال میں آتے ہیں اور فرماتے ہیں اب بتا سرکار ان فرشتوں کے ساتھ ان کی جان سے بھی زیادہ قریب (موجود) ہوئے یا نہیں? ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کراماً کاتبین (اس کافروں کی بستی میں) موجود ہیں تو بدرجہ اتم میرے سرکار اس جگہ حاضر وناظر ہوئے.
اہل سنت کی زبان پر نعروں کی صدائیں تھیں اور دیوبندیوں کے سر شرم سے جھکے اور شکست سے منہ کالے نظر آرہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اور رضا کا شیر مسئلہ حاضر وناظر پر مناظرہ جیت کر اہل سنت کاسر بلند کر چکا تھا.
پروردگار عالم اس محسن اہلسنت (رضا کے شیر و روحانی بیٹے) کے فیضان سے ہم سب اہل سنت کو مالا مال فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین بجاہ سید المرسلین.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840494412896534&id=100008080090753
امام المناظرین حضرت شیربیشہ اہل سنت مظہراعلٰی حضرت مولاناحشمت علی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نےایک تاریخی مناظرہ میں قرآن کریم کی آیت پاک [النبیُ اولیٰ بالمومنین مِن انفسھم] یعنی نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مومنوں کے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں ،بیان فرما کرفرمایاکہ اس قربت خاص کے اثبات سےجہاں بھی مومن موجود اس جگہ سرکار دو عالم کا حاضر وناضرہوناثابت ہوتاہے.اس تقریر کو سن کر دیوبندی مولوی ہنسا اور بولا۔ واہ مولانا حشمت علی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ابھی تک اپنے نبی کے حاضر وناظر ہونے میں نقص کا انکار کر رہے تھے اب خود نقصان ثابت کر بیٹھے، اس لئے کہ اب میرا سوال یہ ہے کہ مثلاً ایک ایسا قریہ ، بستی ہے جس میں سب کافر و مشرک رہتے ہیں یعنی کوئی مسلمان و مومن نہیں رہتااور آپ کے نبی مومنوں سے انکی جانوں سےبھی زیادہ قریب ہیں تو یہ بتائیے کہ اس گاوں یا بستی میں جب کوئی مومن موجود ہی نہیں تو تمہارے نبی بھی موجود نہ ہوئے ، لھٰذا اس جگہ حاضر وناظر ہونا بھی پایا نہ گیا۔
سرکار شیر بیشہ اہل سنت کچھ خاموش رہے سرکار مجاہدِ ملت،حضور حافظِ ملت وغیرہ اکابر علماءِ اہلسنت موجود ہیں اور دل میں سوچھ رہے کہ رضا کا شیر مخالف کے سوال کا برجستہ جواب دیتا تھا آج خاموش کیوں ہے?
شیر رضا مسکراتے ہیں اور دیوبندی مولوی سے کہتے ہیں او جاہل! تومیری خاموشی سے سمجھ رہا ہوگا کہ آج رضا کا غلام حشمت علی پھنس گیا.سُن بلاغت کا اصول ہے کہ سائل کا جواب انظار وجستجو کے بعد دیا جائے تو اس کا استحضار عقل میں زیادہ رہتا ہے.
اب تو میرے جواب کو سن اور یاد رکھنا.کراماً کاتبین جو بندوں کے اچھے اور برے اعمال لکھتے ہیں وہ مومن ہیں یا نہیں?دیوبندی مناظربولا ہاں سب فرشتے مومن ہوتے ہیں.
آپ نے فرمایا
وہ فرشتے کافروں کے بھی اعمال لکھتے ہیں توکافروں کے بھی ساتھ ہوتے ہیں یا نہیں? بولا ہاں.
آپ نے فرمایا تَو جس جگہ پر تُونے کہا کہ کافر ہی کافر ہیں تو وہاں کراما کاتبین ( کہ مومن ہیں) موجود اور حاضر ہیں کہ نہیں ؟
دیوبندی بولاہاں.
آپ جلال میں آتے ہیں اور فرماتے ہیں اب بتا سرکار ان فرشتوں کے ساتھ ان کی جان سے بھی زیادہ قریب (موجود) ہوئے یا نہیں? ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کراماً کاتبین (اس کافروں کی بستی میں) موجود ہیں تو بدرجہ اتم میرے سرکار اس جگہ حاضر وناظر ہوئے.
اہل سنت کی زبان پر نعروں کی صدائیں تھیں اور دیوبندیوں کے سر شرم سے جھکے اور شکست سے منہ کالے نظر آرہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اور رضا کا شیر مسئلہ حاضر وناظر پر مناظرہ جیت کر اہل سنت کاسر بلند کر چکا تھا.
پروردگار عالم اس محسن اہلسنت (رضا کے شیر و روحانی بیٹے) کے فیضان سے ہم سب اہل سنت کو مالا مال فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین بجاہ سید المرسلین.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840494412896534&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی خبروں کے مطابق سعودی نائب ولی عہد محمد بن سلطان نے فرانس کی سیر و تفریح کے دوران کھڑے کھڑے چالیس کروڑ ڈالر مالیت کی دنیا بھر کی سہولیات سے مزین کشتی خرید لی. کشتی بنانے والوں کا اپنا یہ حال ہے کہ ان کے وزراء، افسران گھر سے دفتر آمد و رفت کے لئے سائیکل، بسوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں. ایسی مہنگی کشتیاں، گاڑیاں تیار ہی "ایسے گاہکوں" کے لئے کی جاتی ہیں جو ان عیاشیوں کے متحمل ہوں. بہرکیف اس سودے سے مجھے وہ لوگ یاد آگئے جو مزار پر سو ڈیڑھ سو روپے کی چادر چڑھانے پر بلبلا اٹھتے ہیں کہ اس چادر کی قیمت سے کسی بھوکے کو کھانا کھلادیا جاتا، کسی یتیم لڑکی کی شادی ہوجاتی، میلاد پر رقم کا اسراف کرنے کے بجائے فلاح و بہبود کا کام ہوجاتا. کیا کسی باضمیر شخص میں اتنی ہمت و جسارت ہے کہ وہ سعودی ولی عہد کی شاہ خرچیوں پر پوچھ سکے کہ چالیس کروڑ ڈالر کی خطیر رقم سے شام، یمن، عراق، فلسطین وغیرہ کے مظلوم و بے کس مسلمانوں کی مدد کردی جاتی، آج وہ بے سروسامانی کے عالم میں اغیار کی پناہ تلاش کررہے ہیں. انہیں اپنے ملک میں پناہ دی جائے؟؟؟ اگر مزار کی ڈیڑھ سو روپے کی چادر اور چالیس کروڑ ڈالر کی کشتی کا بغض و عناد سمجھ آجائے تو ضمیر جھنجھوڑنے کی ضرورت نہیں.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840495186229790&id=100008080090753
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840495186229790&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عثمانی سلاطین 🇹🇷عید میلاد النبیﷺ کی تقریبات کا اہتمام بڑے ذوق سے کرتے تھے زیر نظر تصویر میں1787عثمانی دور خلافت میں استنبول کی نیلی مسجد میں عید میلاد النبیﷺ کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا،دیکھایا گیا ھے۔
#jaanhai_ishqemustafa_challenge
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840595086219800&id=100008080090753
#jaanhai_ishqemustafa_challenge
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840595086219800&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*مسلم اقتصادی استحکام کی فکر پر مبنی کتاب ’’اعلیٰ حضرت: مجدد علم معاشیات‘‘ کی اشاعت*
*عرسِ اعلیٰ حضرت پر پروفیسر عبدالمجید صدیقی کی تصنیف منظرِ عام پر*
مالیگاؤں: اعلیٰ حضرت نے مسلم اقتصادی ترقی کے لیے ایک صدی قبل 4؍نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا۔ نیز کئی کتابیں اقتصادی و معاشی استحکام کی غرض سے قلم بند فرمائیں۔ پروفیسر عبدالمجید صدیقی جو شعبۂ اقتصادیات سے تعلق رکھتے ہیں؛ نے اعلیٰ حضرت کے معاشی اسلامی افکار کا جائزہ اپنے 3؍ اہم مقالات کے ذریعے لیا ہے؛ اور مسلمانوں کی شرعی معاشی و اقتصادی رہنمائی پر مشتمل تجاویز کا علمی تجزیہ فرمایا ہے۔ ان مقالات کو "اعلیٰ حضرت: مجدد علم معاشیات" کے نام سے نوری مشن نے 64؍ صفحات میں شائع کیا ہے۔ عرس اعلیٰ حضرت کی مناسبت سے اس کتاب کی اشاعت عمل میں لائی گئی ہے؛ جس کا مطالعہ یقیناً قومی معیشت کے اسلامی اصولوں سے آگہی کے لیے مفید ثابت ہو گا۔ کتاب میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب مسلمانوں کا سیاسی زوال ہوا تو معاشی رخ سے قومی استحکام کے لیے اعلیٰ حضرت نے معرکہ آرا تجاویز پیش کیں۔ اس میں تین مقالات شامل ہیں: اعلیٰ حضرت مجدد علم معاشیات، اعلیٰ حضرت اور زر کی بازار کاری، اعلیٰ حضرت اور معاش کے احکام۔ اس میں بنا سودی نظام کی اہمیت، کرنسی سے متعلق شرعی احکام، حلال ذرائع سے رزق کے معاملات پر مدلل لکھا گیا ہے۔ معاشیات کے شعبے سے جُڑے ہر فرد کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بڑی افادیت کا حامل ہوگا۔
***
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4479820642093227/
*عرسِ اعلیٰ حضرت پر پروفیسر عبدالمجید صدیقی کی تصنیف منظرِ عام پر*
مالیگاؤں: اعلیٰ حضرت نے مسلم اقتصادی ترقی کے لیے ایک صدی قبل 4؍نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا۔ نیز کئی کتابیں اقتصادی و معاشی استحکام کی غرض سے قلم بند فرمائیں۔ پروفیسر عبدالمجید صدیقی جو شعبۂ اقتصادیات سے تعلق رکھتے ہیں؛ نے اعلیٰ حضرت کے معاشی اسلامی افکار کا جائزہ اپنے 3؍ اہم مقالات کے ذریعے لیا ہے؛ اور مسلمانوں کی شرعی معاشی و اقتصادی رہنمائی پر مشتمل تجاویز کا علمی تجزیہ فرمایا ہے۔ ان مقالات کو "اعلیٰ حضرت: مجدد علم معاشیات" کے نام سے نوری مشن نے 64؍ صفحات میں شائع کیا ہے۔ عرس اعلیٰ حضرت کی مناسبت سے اس کتاب کی اشاعت عمل میں لائی گئی ہے؛ جس کا مطالعہ یقیناً قومی معیشت کے اسلامی اصولوں سے آگہی کے لیے مفید ثابت ہو گا۔ کتاب میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب مسلمانوں کا سیاسی زوال ہوا تو معاشی رخ سے قومی استحکام کے لیے اعلیٰ حضرت نے معرکہ آرا تجاویز پیش کیں۔ اس میں تین مقالات شامل ہیں: اعلیٰ حضرت مجدد علم معاشیات، اعلیٰ حضرت اور زر کی بازار کاری، اعلیٰ حضرت اور معاش کے احکام۔ اس میں بنا سودی نظام کی اہمیت، کرنسی سے متعلق شرعی احکام، حلال ذرائع سے رزق کے معاملات پر مدلل لکھا گیا ہے۔ معاشیات کے شعبے سے جُڑے ہر فرد کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بڑی افادیت کا حامل ہوگا۔
***
https://www.facebook.com/555248701217127/posts/4479820642093227/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*विवादित विज्ञापन और कट्टरपंथी मानसिकता !!*
By: *Ghulam Mustafa Naimi*
Delhi
इन दिनों टाटा के ज्वैलरी ब्रांड 'तनिष्क' का एक विज्ञापन विवादों और चर्चाओं में है। इस विज्ञापन में एक गर्भवती हिंदू लड़की को मुस्लिम घराने की बहू के तौर पर दिखाया गया है जहां उसकी गोद भराई की रस्म में मुस्लिम फैमिली हिंदू रस्मों को अदा करती हुई नजर आती है। इस विज्ञापन पर कट्टरपंथी मानसिकता के लोगों ने हंगामा खड़ा कर दिया है और वह इसे लव जिहाद को बढ़ावा देने वाला करार दे रहे हैं। दूसरी तरफ लिबरल मानसिकता के लोग इस विज्ञापन को हिंदू मुस्लिम सदभावना बताते हुऐ इस की पैरवी कर रहे हैं।
इस्लामी नज़रिये से भी विज्ञापन का कंटेट बिल्कुल ग़लत है। लेकिन हमें कट्टरपंथी और टाटा ग्रुप दोनों की मानसिकता पर सख्त ऐतराज है। ज़िंदगी गुज़ारने और शादी ब्याह के लिए इस्लाम के अपने बुनियादी उसूल और मान्यताएँ हैं। इस्लामी नज़रिये के अनुसार अंतर्धर्म विवाह (Interfaith marriage) जाइज़ नहीं है। इस विज्ञापन में दो प्रकार से इस्लामी मान्यतायों पर हमला किया गया है।
1- Interfaith marriage दिखाना, जो इस्लामी नज़रिये के सरासर ख़िलाफ है।
2- मुस्लिम फैमिली को ग़ैर इस्लामी रस्में करते दिखाना।
लंबे वक्त से कट्टरपंथी और लिबरल लोग इस्लाम और मुसलमानों की इमेज बिगाड़ने के लिए फिल्मों और विज्ञापनों का सहारा लेकर इस्लाम विरोधी एजेंडा चला रहे हैं। एक तरफ लिबरल समुदाय अंतर्धर्म विवाह (interfaith marriage) आधारित विज्ञापनों और फिल्मों के ज़रिए इस्लामी मान्यताएँ धूमिल करने का प्रयास करते हैं। दूसरी तरफ कट्टरपंथी तत्व ऐसे विज्ञापनों और फिल्मों को लव जिहाद कह कर मुस्लिमों के खिलाफ हिंसा और उत्पात मचाते हैं। और इन्हीं को आड़ बना कर मुस्लिम लड़कियों के खिलाफ धर्मांतरण की मुहिम चलाते हैं।
आज कट्टरपंथी इस विज्ञापन को हिंदू संस्कृति पर हमला बता रहे हैं लेकिन ये लोग उस वक्त बड़े खुश होते हैं जब "बाजीराव मस्तानी" में एक मुस्लिम लड़की को हिंदू पेशवा की रखैल दिखाया जाता है। कट्टरपंथी उस वक्त बहुत तालियां बजाते हैं जब "बजरंगी भाईजान" जैसी फिल्म में एक मौलवी को जय श्री राम कहते दिखाया जाता है। तब इन्हें मुस्लिम संस्कृति का ख्याल नहीं आता!
जिस तरह कट्टरपंथी अपना ऐजेंडा चलाते हैं तो लिबरल सोसायटी के महानुभाव भी पद्मावत जैसी फिल्मों में मुस्लिम बादशाहों को चरित्रहीन, धोखेबाज और असभ्य कैरेक्टर के तौर पर दिखाते हैं। जबकि दूसरे राजाओं को शालीन और सभ्य व्यक्ति के तौर पर पेश किया जाता है। मुसलमानों को आतंकवादी के तौर पर पेश करना हिंदी फिल्मों का ट्रेंड बन गया है। ऐसे ही विज्ञापनों और और फिल्मी एजेंडे की वजह से मुस्लिम सोसाइटी पर बहुत गलत असर पड़ रहा है इसलिए हम समाज के इन 'कट्टरपंथी ठेकेदारों' और तथाकथित 'लिबरल बुद्धिजीवियों' से यह गुज़ारिश करते हैं कि आप जैसा चाहे विज्ञापन बनाएं, जैसी चाहे मूवी बनाएं लेकिन किसी भी तौर पर अंतर्धम रिश्ते बिल्कुल ना दिखाएं। इस से दोनों समुदाय के बीच सदभावना नहीं सिर्फ नफरतें बढ़ती हैं। फिल्म निर्माता हों या व्यवसायिक कंपनियां, इन का मक़सद सिर्फ़ पैसा कमाना होता है लेकिन इन की हरकतों का ख़मियाज़ा पूरे समाज को भुगतना पड़ता है।
हिन्दू समाज का वो तबका जो 2100 मुस्लिम बहुएं लाने की बात करता है और उनकी हर तरह की मदद का दम भरता है उसे तनिष्क जैसे विज्ञापन पर थोड़ा धैर्य तो दिखाना चाहिये।
वहीँ मुस्लिम जगत के बुद्धिजीवियों को समझना चाहिए कि बॉलीवुड में इस्लाम विरोधी कल्चर का चलन आज हमारे बच्चों पर किया असर डाल रहा है इस पर भी विचार करने की सख्त जरूरत है।
15/10/2020
By: *Ghulam Mustafa Naimi*
Delhi
इन दिनों टाटा के ज्वैलरी ब्रांड 'तनिष्क' का एक विज्ञापन विवादों और चर्चाओं में है। इस विज्ञापन में एक गर्भवती हिंदू लड़की को मुस्लिम घराने की बहू के तौर पर दिखाया गया है जहां उसकी गोद भराई की रस्म में मुस्लिम फैमिली हिंदू रस्मों को अदा करती हुई नजर आती है। इस विज्ञापन पर कट्टरपंथी मानसिकता के लोगों ने हंगामा खड़ा कर दिया है और वह इसे लव जिहाद को बढ़ावा देने वाला करार दे रहे हैं। दूसरी तरफ लिबरल मानसिकता के लोग इस विज्ञापन को हिंदू मुस्लिम सदभावना बताते हुऐ इस की पैरवी कर रहे हैं।
इस्लामी नज़रिये से भी विज्ञापन का कंटेट बिल्कुल ग़लत है। लेकिन हमें कट्टरपंथी और टाटा ग्रुप दोनों की मानसिकता पर सख्त ऐतराज है। ज़िंदगी गुज़ारने और शादी ब्याह के लिए इस्लाम के अपने बुनियादी उसूल और मान्यताएँ हैं। इस्लामी नज़रिये के अनुसार अंतर्धर्म विवाह (Interfaith marriage) जाइज़ नहीं है। इस विज्ञापन में दो प्रकार से इस्लामी मान्यतायों पर हमला किया गया है।
1- Interfaith marriage दिखाना, जो इस्लामी नज़रिये के सरासर ख़िलाफ है।
2- मुस्लिम फैमिली को ग़ैर इस्लामी रस्में करते दिखाना।
लंबे वक्त से कट्टरपंथी और लिबरल लोग इस्लाम और मुसलमानों की इमेज बिगाड़ने के लिए फिल्मों और विज्ञापनों का सहारा लेकर इस्लाम विरोधी एजेंडा चला रहे हैं। एक तरफ लिबरल समुदाय अंतर्धर्म विवाह (interfaith marriage) आधारित विज्ञापनों और फिल्मों के ज़रिए इस्लामी मान्यताएँ धूमिल करने का प्रयास करते हैं। दूसरी तरफ कट्टरपंथी तत्व ऐसे विज्ञापनों और फिल्मों को लव जिहाद कह कर मुस्लिमों के खिलाफ हिंसा और उत्पात मचाते हैं। और इन्हीं को आड़ बना कर मुस्लिम लड़कियों के खिलाफ धर्मांतरण की मुहिम चलाते हैं।
आज कट्टरपंथी इस विज्ञापन को हिंदू संस्कृति पर हमला बता रहे हैं लेकिन ये लोग उस वक्त बड़े खुश होते हैं जब "बाजीराव मस्तानी" में एक मुस्लिम लड़की को हिंदू पेशवा की रखैल दिखाया जाता है। कट्टरपंथी उस वक्त बहुत तालियां बजाते हैं जब "बजरंगी भाईजान" जैसी फिल्म में एक मौलवी को जय श्री राम कहते दिखाया जाता है। तब इन्हें मुस्लिम संस्कृति का ख्याल नहीं आता!
जिस तरह कट्टरपंथी अपना ऐजेंडा चलाते हैं तो लिबरल सोसायटी के महानुभाव भी पद्मावत जैसी फिल्मों में मुस्लिम बादशाहों को चरित्रहीन, धोखेबाज और असभ्य कैरेक्टर के तौर पर दिखाते हैं। जबकि दूसरे राजाओं को शालीन और सभ्य व्यक्ति के तौर पर पेश किया जाता है। मुसलमानों को आतंकवादी के तौर पर पेश करना हिंदी फिल्मों का ट्रेंड बन गया है। ऐसे ही विज्ञापनों और और फिल्मी एजेंडे की वजह से मुस्लिम सोसाइटी पर बहुत गलत असर पड़ रहा है इसलिए हम समाज के इन 'कट्टरपंथी ठेकेदारों' और तथाकथित 'लिबरल बुद्धिजीवियों' से यह गुज़ारिश करते हैं कि आप जैसा चाहे विज्ञापन बनाएं, जैसी चाहे मूवी बनाएं लेकिन किसी भी तौर पर अंतर्धम रिश्ते बिल्कुल ना दिखाएं। इस से दोनों समुदाय के बीच सदभावना नहीं सिर्फ नफरतें बढ़ती हैं। फिल्म निर्माता हों या व्यवसायिक कंपनियां, इन का मक़सद सिर्फ़ पैसा कमाना होता है लेकिन इन की हरकतों का ख़मियाज़ा पूरे समाज को भुगतना पड़ता है।
हिन्दू समाज का वो तबका जो 2100 मुस्लिम बहुएं लाने की बात करता है और उनकी हर तरह की मदद का दम भरता है उसे तनिष्क जैसे विज्ञापन पर थोड़ा धैर्य तो दिखाना चाहिये।
वहीँ मुस्लिम जगत के बुद्धिजीवियों को समझना चाहिए कि बॉलीवुड में इस्लाम विरोधी कल्चर का चलन आज हमारे बच्चों पर किया असर डाल रहा है इस पर भी विचार करने की सख्त जरूरत है।
15/10/2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*ٹاٹا کا اشتہار اور اسلام مخالف ذہنیت !!*
*غلام مصطفی نعیمی*
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
ان دنوں ٹاٹا کے جیولری برانڈ 'تَنِشق' کا اشتہار موضوع بحث بنا ہوا ہے۔اشتہار میں ایک حاملہ ہندو لڑکی کو مسلم گھرانے کی بہو کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ جہاں مسلم خاندان، ہندو بَہُو کی "گود بھرائی" کی تقریب میں "ہندوانہ رسمیں" کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔امیدوں کے عین مطابق اشتہار کے منظر عام پر آتے ہی شدت پسندوں نے اسے ہندو تہذیب پر حملہ اور لَو جہاد قرار دیتے ہوئے ہنگامہ شروع کردیا۔جس کی وجہ سے کمپنی نے اشتہار واپس لے لیا۔یہاں سے لبرل دانش وروں نے مورچہ سنبھالا اور اشتہار کو ہندو مسلم خیر سگالی کا بہترین ذریعہ قرار دیا اور کمپنی سے اشتہار دوبارہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت دونوں ہی گروپ سوشل میڈیا پر مصروف جنگ ہیں۔
_مسلمانوں کو اس پورے منظر نامہ سے دور رہنا چاہیے کیوں کہ یہ اشتہار مکمل طور اسلامی تہذیب پر حملہ اور قانون نکاح کے خلاف ہے۔لیکن حالیہ ہنگامے میں ہمیں شدت پسندوں اور ٹاٹا گروپ جیسے لبرلوں دونوں کی ذہنیت پر سخت اعتراض ہے۔اسلام میں نہ لَو جہاد جیسا کوئی تصور ہے نہ خیر سگالی کے نام پر شرکیہ رسومات کی اجازت!
ہمارے دین میں زندگی گزارنے اور شادی وغیرہ کے لیے بنیادی اصول اور احکام موجود ہیں۔اسلام میں بین المذاہب شادی کا کوئی تصور نہیں ہے، قرآن فرماتا ہے:
وَ لَا تَنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکٰتِ حَتّٰی یُؤۡمِنَّ ؕ وَ لَاَمَۃٌ مُّؤۡمِنَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِکَۃٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ ۚ وَلَا تُنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤۡمِنُوۡا(سوره بقره: 221)
شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں۔بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو۔اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔
اس اشتہار میں اسلامی تہذیب پر دو طرح سے حملہ کیا گیا ہے۔
1-بین المذاہب شادی دکھانا، جو سراسر خلاف اسلام ہے۔
2- مسلم خاندان کو غیر اسلامی رسومات ادا کرتے ہوئے دکھانا۔
عرصہ دراز سے شدت پسند طبقات اور لبرل دانش ور مسلمانوں کی شبیہہ خراب کرنے کے لیے فلموں اور اشتہارات کے ذریعے اسلام مخالف ایجنڈا چلا رہے ہیں۔ایک طرف لبرل سوسائٹی بین المذاہب شادی/رشتوں پر مبنی اشتہاروں اور فلموں کے ذریعے اسلامی تہذیب کو داغدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تو دوسری جانب شدت پسند عناصر ایسے اشتہارات اور فلموں کو "لو جہاد" قرار دے کر مسلمانوں کے خلاف فتنہ انگیزی کرتے ہیں اور مسلم لڑکیوں کے خلاف تبدیلی مذہب کی مہم چلاتے ہیں۔یہی لوگ "بیٹی بچاؤ ، بَہو لاؤ" کا نعرہ لگاتے ہیں۔ سالانہ 2100 مسلم لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ہندو لڑکوں سے شادی کرانے کا ٹارگیٹ رکھتے ہیں۔ مسلم لڑکیوں کو اغوا کرنے والے لڑکوں کی مالی مدد کرتے ہیں۔ آج وہی لوگ ایک اشتہار پر ایسے شور مچا رہے ہیں جیسے خود بہت دودھ کے دھلے ہوں!
_ آج شدت پسند طبقہ اس اشتہار کو ہندو ثقافت پر حملہ قرار دے رہا ہے، لیکن یہ لوگ اس وقت بڑے خوش ہوتے ہیں جب "باجی راؤ مستانی" فلم میں مسلمان لڑکی کو ہندو راجا کی داشتہ دکھایا جاتا ہے۔یہ لوگ اس وقت پھولے نہیں سماتے جب "بجرنگی بھائی جان" جیسی فلم میں ایک مولوی کو جئے شری رام کہتے دکھایا جاتا ہے۔ہندو ثقافت کی دہائی دینے والوں کو اس وقت مسلم ثقافت کا ذرہ برابر خیال نہیں آتا۔
___جس طرح شدت پسند تنظیمیں اپنا ایجنڈا چلاتی ہیں، اسی طرح لبرل سوسائٹی کے نام نہاد دانش ور بھی "پدماوت" جیسی فلموں کے ذریعے مسلم بادشاہوں کو بدچلن ، دھوکہ باز اور گندے کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ جس کا سیدھا نشانہ پوری مسلم قوم ہوتی ہے۔جبکہ ہندو راجاؤں کو مہذب کردار کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا ہندی فلموں کا ٹرینڈ بن گیا ہے۔ایسے اشتہاروں اور فلمی پروپیگنڈے کی وجہ سے دیگر طبقات میں مسلمانوں کے تعلق سے منافرت بڑھتی جارہی ہے۔ خود مسلم معاشرہ تہذیبی طور پر بری طرح متاثر ہو رہا ہے اسی لیے شدت پسند اور لبرل دانشوروں سے گزارش ہے کہ آپ چاہے جیسی فلم بنائیں ، جیسا چاہیں اشتہار بنائیں لیکن کسی بھی اشتہار وفلم میں بین المذاہب رشتہ نہ دکھائے جائیں۔اس سے دونوں مذاہب کے مابین خیر سگالی نہیں، صرف نفرت بڑھتی ہے۔ فلمساز ہوں یا کمرشل کمپنیاں، ان کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہوتا ہے ، لیکن ان کے تجارتی مفاد کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔
28 صفر المظفر 1442ھ
16 اکتوبر 2020 بروز جمعہ
*غلام مصطفی نعیمی*
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
ان دنوں ٹاٹا کے جیولری برانڈ 'تَنِشق' کا اشتہار موضوع بحث بنا ہوا ہے۔اشتہار میں ایک حاملہ ہندو لڑکی کو مسلم گھرانے کی بہو کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ جہاں مسلم خاندان، ہندو بَہُو کی "گود بھرائی" کی تقریب میں "ہندوانہ رسمیں" کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔امیدوں کے عین مطابق اشتہار کے منظر عام پر آتے ہی شدت پسندوں نے اسے ہندو تہذیب پر حملہ اور لَو جہاد قرار دیتے ہوئے ہنگامہ شروع کردیا۔جس کی وجہ سے کمپنی نے اشتہار واپس لے لیا۔یہاں سے لبرل دانش وروں نے مورچہ سنبھالا اور اشتہار کو ہندو مسلم خیر سگالی کا بہترین ذریعہ قرار دیا اور کمپنی سے اشتہار دوبارہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت دونوں ہی گروپ سوشل میڈیا پر مصروف جنگ ہیں۔
_مسلمانوں کو اس پورے منظر نامہ سے دور رہنا چاہیے کیوں کہ یہ اشتہار مکمل طور اسلامی تہذیب پر حملہ اور قانون نکاح کے خلاف ہے۔لیکن حالیہ ہنگامے میں ہمیں شدت پسندوں اور ٹاٹا گروپ جیسے لبرلوں دونوں کی ذہنیت پر سخت اعتراض ہے۔اسلام میں نہ لَو جہاد جیسا کوئی تصور ہے نہ خیر سگالی کے نام پر شرکیہ رسومات کی اجازت!
ہمارے دین میں زندگی گزارنے اور شادی وغیرہ کے لیے بنیادی اصول اور احکام موجود ہیں۔اسلام میں بین المذاہب شادی کا کوئی تصور نہیں ہے، قرآن فرماتا ہے:
وَ لَا تَنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکٰتِ حَتّٰی یُؤۡمِنَّ ؕ وَ لَاَمَۃٌ مُّؤۡمِنَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِکَۃٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ ۚ وَلَا تُنۡکِحُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤۡمِنُوۡا(سوره بقره: 221)
شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں۔بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو۔اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔
اس اشتہار میں اسلامی تہذیب پر دو طرح سے حملہ کیا گیا ہے۔
1-بین المذاہب شادی دکھانا، جو سراسر خلاف اسلام ہے۔
2- مسلم خاندان کو غیر اسلامی رسومات ادا کرتے ہوئے دکھانا۔
عرصہ دراز سے شدت پسند طبقات اور لبرل دانش ور مسلمانوں کی شبیہہ خراب کرنے کے لیے فلموں اور اشتہارات کے ذریعے اسلام مخالف ایجنڈا چلا رہے ہیں۔ایک طرف لبرل سوسائٹی بین المذاہب شادی/رشتوں پر مبنی اشتہاروں اور فلموں کے ذریعے اسلامی تہذیب کو داغدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تو دوسری جانب شدت پسند عناصر ایسے اشتہارات اور فلموں کو "لو جہاد" قرار دے کر مسلمانوں کے خلاف فتنہ انگیزی کرتے ہیں اور مسلم لڑکیوں کے خلاف تبدیلی مذہب کی مہم چلاتے ہیں۔یہی لوگ "بیٹی بچاؤ ، بَہو لاؤ" کا نعرہ لگاتے ہیں۔ سالانہ 2100 مسلم لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ہندو لڑکوں سے شادی کرانے کا ٹارگیٹ رکھتے ہیں۔ مسلم لڑکیوں کو اغوا کرنے والے لڑکوں کی مالی مدد کرتے ہیں۔ آج وہی لوگ ایک اشتہار پر ایسے شور مچا رہے ہیں جیسے خود بہت دودھ کے دھلے ہوں!
_ آج شدت پسند طبقہ اس اشتہار کو ہندو ثقافت پر حملہ قرار دے رہا ہے، لیکن یہ لوگ اس وقت بڑے خوش ہوتے ہیں جب "باجی راؤ مستانی" فلم میں مسلمان لڑکی کو ہندو راجا کی داشتہ دکھایا جاتا ہے۔یہ لوگ اس وقت پھولے نہیں سماتے جب "بجرنگی بھائی جان" جیسی فلم میں ایک مولوی کو جئے شری رام کہتے دکھایا جاتا ہے۔ہندو ثقافت کی دہائی دینے والوں کو اس وقت مسلم ثقافت کا ذرہ برابر خیال نہیں آتا۔
___جس طرح شدت پسند تنظیمیں اپنا ایجنڈا چلاتی ہیں، اسی طرح لبرل سوسائٹی کے نام نہاد دانش ور بھی "پدماوت" جیسی فلموں کے ذریعے مسلم بادشاہوں کو بدچلن ، دھوکہ باز اور گندے کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ جس کا سیدھا نشانہ پوری مسلم قوم ہوتی ہے۔جبکہ ہندو راجاؤں کو مہذب کردار کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا ہندی فلموں کا ٹرینڈ بن گیا ہے۔ایسے اشتہاروں اور فلمی پروپیگنڈے کی وجہ سے دیگر طبقات میں مسلمانوں کے تعلق سے منافرت بڑھتی جارہی ہے۔ خود مسلم معاشرہ تہذیبی طور پر بری طرح متاثر ہو رہا ہے اسی لیے شدت پسند اور لبرل دانشوروں سے گزارش ہے کہ آپ چاہے جیسی فلم بنائیں ، جیسا چاہیں اشتہار بنائیں لیکن کسی بھی اشتہار وفلم میں بین المذاہب رشتہ نہ دکھائے جائیں۔اس سے دونوں مذاہب کے مابین خیر سگالی نہیں، صرف نفرت بڑھتی ہے۔ فلمساز ہوں یا کمرشل کمپنیاں، ان کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہوتا ہے ، لیکن ان کے تجارتی مفاد کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔
28 صفر المظفر 1442ھ
16 اکتوبر 2020 بروز جمعہ