🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
۱ ‏) ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟ ‏( ۲ ‏) ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯽ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
‏( ۳ ‏) ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺳﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ؟ ﺟﺮﺳﯽ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ؟
جواب:
ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺮﺳﯽ ﮔﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺑﯿﻞ ﮐﺎ ﻧﻄﻔﮧ ﺑﺬﺭﯾﻌﮧ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﺭﺣﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻭﻻﺩﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﻨﺎ ﺣﻼﻝ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺫﺑﺢ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺷﺒﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺐ ﻏﯿﺮﻣﺸﺘﺒﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﺂﺳﺎﻧﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﻮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺫﺑﺢ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﮨﮯ، ﺍﺳﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﻮ ﺑﻼ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻣﺸﺘﺒﮧ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﺳﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﻭﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻋﻠﻢ
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ‏)
ﻣﺴﺌﻠﮧ : ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺗﯿﻦ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ ‏( ۱ ‏) ﺍﻭﻧﭧ ‏( ۲ ‏) ﮔﺎﺋﮯ ‏( ۳ ‏) ﺑﮑﺮﯼ ،ﻧﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺩﮦ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﺧﺼﯽ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮔﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﮭﯿﮍ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﺒﮧ ﺑﮑﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ‏(
*عیدالاضحٰی کے تعلق سے ضروری ھدایتیں ۔۔۔*



*جانور خریدنے سے پہلے*

1۔ حلال رقم کا بندوبست کریں۔

2۔ اﷲ رب العزت کی رضا کا حصول اور فرض کی تکمیل کا جذبہ دل میں پیدا کریں۔

3۔ نمودو نمائش کے جذبات دل سے دفع کریں!

4۔ حصہ داری کرنے کا ارادہ ہو تو ابھی سے حصہ دار چن لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔

5۔ جس شخص کے بارے میں تحقیق ہو کہ اس کی آمدنی حرام ہے اس کو حصہ دار نہ بنائیں!

6۔ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے پہلے حجامت بنوالیں! ناخن اور زائد بال کاٹ لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔

*جانور خریدتے وقت*

1۔ جس جانور کے بارے میں غالب گمان ہو کہ چوری کا ہے اسے نہ خریدیں۔

2۔ جھوٹ اور جھوٹی قسموں سے بچیں!

3۔ دوسرے مسلمان بھائی کا سودا طے ہوچکا ہو تو اس کا سودا خراب نہ کریں!

جانور کو خوب اچھی طرح دیکھیں, خصوصا ان چیزوں کا ضرور لحاظ رکھیں:

*گائے کی عمر دو سال سے کم نہ ہو، اونٹ کی پانچ سال سے اور بکری کی ایک سال سے کم عمر نہ ہو۔ دنبہ بھیڑ چھ 6 ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو لیکن دیکھنے میں سال والے کے برابر معلوم ہوتا ہو تو قربانی ہوجائے گی۔ گائے، اُونٹ اور بکری میں یہ مسئلہ نہیں۔ ان کی عمر پوری ہونا ضروری ہے۔*

٭ کان ، زبان، دم، ان اعضاء میں سے کوئی عضو نصف سے زیادہ کٹا ہوا نہ ہو، آنکھ کی روشنی نصف سے زیادہ ضائع نہ ہو۔(تہائی اور تہائی سے زیادہ کا فتوی بھی موجود ہے)

٭ سینگ اس قدر ٹوٹے ہوئے نہ ہوں کہ ٹوٹنے کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو۔ ورنہ قربانی نہ ہوگی۔

٭ جان بوجھ کر ولادت کے قریب جانور کو خرید کر قربانی کرنا مکروہ ہے۔ بانجھ کی قربانی جائز ہے۔ خصی کی قربانی زیادہ افضل ہے۔

٭ ایسا جانور جو چارہ نہ کھا سکتا ہو یا چل ہی نہ سکتا ہو، کی قربانی درست نہیں۔

٭ جنگلی نسل کے جانور کی قربانی درست نہیں۔

٭ خنثی مشکل جانور کی قربانی جائز نہیں۔

*خریدنے کے بعد*

1۔ جانور کی خدمت کریں۔ اسے کسی قسم کی ایذا نہ دیں۔

2۔ ایسی جگہ باندھیں جہاں آنے جانے والوں کو تکلیف نہ ہو۔

3۔ گھنٹی نہ ڈالیں۔

4۔ اس پر سواری کریں، نہ ہی اس کا دودھ خود پییں! اگر دودھ نکال لیا تو اسے صدقہ کردیں! اس کی قیمت غریب کو صدقہ کر دے تو خود پینا جائز ہے۔

5۔ نمودونمائش کا اظہار نہ کریں۔

6۔ حصہ داری میں قربانی کر رہے ہوں تو حصہ داروں کو تمام معاملات میں ساتھ لے کر چلیں!

*قربانی کی تیاری*

1۔ صحیح العقیدہ مسلمان قصائی کا انتخاب کرلیں!

2۔ قصائی کی اجرت پہلے سے طے کرلیں!

3۔ قربانی کی کھال مستحق اور مستند دینی فلاحی اداروں کودینےکی کوشش کریں!

*قربانی کرتے وقت*

قربانی کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں!

1۔ چھری پہلے سے خوب تیز کرلیں۔

2۔ ذبح سے پہلے جانور کو چارہ کھلا لیں، پانی پلا لیں۔

3۔ جب شہر میں کسی ایک جگہ نماز عید ہوجائے تب قربانی کریں!

4۔ خود ذبح کریں، ورنہ کم از کم ذبح کے وقت وہاں موجود رہیں۔

5۔ ذبح کے وقت تماشا نہ بنائیں!

6۔ جس کروٹ پر جانور گرے اسی کروٹ پر ذبح کردیں۔ گھسیٹ کر قبلہ رخ نہ کریں! کوشش کریں کہ جانور قبلہ رخ گرے۔ قبلہ رخ کرنا صرف مستحب ہے جبکہ جانور کو گھسیٹ کر اسے ایذاء دینا ممنوع و مکروہ۔

7۔ چھری پھیرتے وقت بسم اﷲ ، اﷲ اکبرکہیں!

8۔ کم از کم تین رگیں ضرور کاٹیں!

9۔ ذبح کر دینے کے بعد دل میں یا حرام مغز میں چھریاں گھونپنا مکروہ عمل ہے۔

10۔ کھال کو کٹ لگنے سے بچائیں!

*قربانی کے بعد*

1۔ گوشت کے تین حصے کرنا مستحب ہے۔ ایک حصہ اپنے رشتہ داروں اور احباب میں ہدیہ کریں! ایک حصہ غرباء میں صدقہ کریں اور ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے لےے رکھیں!

2۔ سات اشیاء نہ کھائیں:
١) بہتا خون.
٢) پیشاب کی جگہ.
٣) پاخانہ کی جگہ.
٤) پتہ.
٥) مثانہ.
٦) غدود.
٧) کپورے.

باقی تمام اشیاء حلال ہیں۔

3۔ قربانی کے جانور کاگوشت، چربی اور ہڈیاں بیچنا جائز نہیں۔ اگر بیچ دیا تو اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔

4- غیرمسلم کو قربانی کا گوشت دینا جائز نہیں ہے۔


*وَاللہ اَعْلَمُ*
*ثبوت الطلاق الثلاث من القرآن والحديث* 👑👑👑

*سوال*
تین طلاق کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں ثابت کریں،

*سائل :حافظ غلام حیدر*

*الجواب بعون الملک الوہاب*

الطلاق جائز بالكتاب والسنة والإجماع عند الحاجة إليه.

*فمن الكتاب قوله تعالى*: {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان } [البقرة: 229].
مذکورہ آیت کریمہ میں طلاق رجعی کا ذکر ہے یعنی اگر دو طلاق رجعی کے بعد اگر تم رکھنا چاہتے ہو تو حسن سلوک سے رکھو ورنہ بھلائی کے ساتھ چھوڑ دو اس کے بعد ہی دوسری آیت میں تیسری طلاق کا تذکرہ اور اس کا بیان ہے.. *قولہ تعالٰی:* فإن طلقها فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ
یعنی ان دونوں کے بعد اگر تیسری طلاق دے دی تو اب اس مرد کے لئے حلال نہیں جب تک کہ دوسرے سے اس کا نکاح ہو کر طلاق نہ ہو جائے
*ومن السنة*
: {عن عائشۃ أن رجلا طلق امرئتہ ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للأول قال لا حتی یذوق عسیلتھا کما ذاق الأول }
بخاری جلد اول صفحہ ٧٩١ مجلس برکات مبارک پور

مرقوم حدیث پاک میں طلاق ثلثہ کی وضاحت اور حلالہ کی تفصیل بیان کی گئی ہے
وأما الإجماع: فقد اتفقت كلمة العلماء على مشرعيته من غير نكير.

يختلف حكمه من شخص لآخر:

1. فالأصل فيه الكراهية إلا عند الحاجة إليه،

2. ويباح للحاجة كسوء خلق المرأة، وحصول الضرر بمعاشرتها.

3. ويستحب للضرر، كأن تتضرر المرأة باستدامة النكاح فيستحب لإزالة الضرر عنها.
👑👑👑👑👑👑👑👑
*حكمة مشروعية الطلاق*
شرع الطلاق في حالة مخصوصة للتخلص من المكاره الدينية والدنيوية، . لم يشرع إلا في حالة الضرورة والعجز عن إقامة المصالح بينهما لتباين الأخلاق وتنافر الطباع، أو لضرر يترتب على استبقائها في عصمته، بأن علم أن المقام معها سبب فساد دينه ودنياه، فتكون المصلحة في الطلاق واستيفاء مقاصد النكاح من امرأة أخرى.
👑👑👑👑👑👑👑👑
مذکورہ عبارت میں طلاق کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ طلاق کب دی جاتی ہے مثلا جس کا ماحصل یہ کہ جب نباہ مشکل ہو جائے اور صلح کی کوئی صورت نہ نکلے تو طلاق کی اجازت شرع نے دی ہے
👑👑👑👑👑👑👑👑
وكما يكون الطلاق للتخلص من المكاره يكون كذلك لمجرد تأديب الزوجة إذا استعصت على الزوج وأخلت بحقوق الزوجية، وتعين الطلاق علاجاً لها، فإذا أوقع عليها الطلاق الرجعي، وذاقت ألم الفرقة، فالظاهر أنها تتأدب وتتوب وتعود إلى الموافقة والصلاح.👑👑👑👑👑👑
طلاق عورت کے لئے عبرت ہے اور سنت طریقے سے طلاق دینے کی حکمت یہ ہے کہ عورت فراق کی صعوبات سے دوچار ہو کر اپنی ناروا حرکات سے باز آئے اور شوہر کی فرمانبردار بن کر شریعت کے دائرے میں زندگی بسر کرے 👑👑👑👑👑
و يكون الطلاق بلفظ " أنتِ طالق " أو أي لفظ آخر يؤدي إلى نفس المعنى. ويختلف حكم التعريض بالخِطبة للمعتدة (أي المرأة التي في عدتها) باختلاف حالتها رجعية كانت أو بائنا بطلاق أو موت ولكلٍّ حكمٌ، ولا يجوز التصريح بها على الإطلاق

عبارت عالیہ میں الفاظ صریحہ اور کنایات کا ذکر ہے
👑👑👑👑👑👑👑👑
يؤمن المسلمون بأن الشرع يبيح للرجل أن يطلق زوجته طلقتين رجعيتين بمعنى أن يجوز له أن يرجعها ويردها إلى عصمته بعدهما خلال فترة العدة التي حددها الشرع بثلاثة حيضات والطهر منهن فيما يسمى بثلاثة قروء وهذا لغير الحامل، أما الحامل فعدتها أن تضع حملها وتلد وشرع الدين هذه الفترة لاستبراء الرحم من الحمل فإن مضت عدة المرأة ولم يراجعها زوجها فقد بانت منه بينونة صغري أي لا يستطيع الرجل أن يعيد زوجته إلى عصمته إلا بعقد جديد ومهر جديد أيضاً، والسابق كله في نطاق الطلقتين الرجعيتين. فإن طلق الرجل زوجته للمرة الثالثة فقد بانت منه بينونة كبرى أي أنه لا يجوز له ردها مطلقاً لا أثناء العدة ولا بعدها، ولكن في حالة أن تزوجت المرأة من رجل أخر وعاشرها معاشرة الأزواج ثم طلقها لسبب ما - بغير تدبير ولا تخطيط وإلا كان حراماً .
علاوہ اسکے کتب احادیث میں بے شمار جگہوں پر طلاق ثلاثہ کا ذکر ہے، جیسے مسلم شریف، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، ترمذی شریف وغیرھا، 👑👑
واللہ تعالٰی اعلم
*فقیر محمد بلال انور رضوی پلاموی*
*خادم التدريس والإفتاء مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف*
٣٠ ذوالقعدہ ١٤٣٨ ھ بروز بدھ
مصافحہ کا طریقہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنی ہتھیلی دوسرے کی ہتھیلی سے ملائے، فقط انگلیوں کےچھونے کا نام مصافحہ نہیں ہے۔ سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جاے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابین کپڑا وغیرہ کوئ چیز حائل نہ ہو۔(2) (ردالمختار)
مصافحہ کا ایک دوسرا طریقہ جس کو بعض فقہا نے بیان کیا، جس کی نسبت وہ کہتے ہیں کہ حدیث سے ثابت ہے، وہ یہ کہ ہر ایک اپنا داہنا ہاتھ دوسرے کے داہنے سے اور بایاں بائیں سے ملائے اور انگوٹھے کو دبائے کہ انگوٹھے میں ایک رگ ہے کہ اس کے پکڑنے سے محبت پیدا ہوتی ہے۔(4)
بحوالئہ بہار شریعت جلد سوم، حصہ شانزدھم ،صفحہ 471 ،مکتبہ مدینہ""دعوت اسلامی""تین جلد والی ۔
آپ بھی مطالعہ کر سکتے ہیں۔
از۔ خطیب الرحمن حسنی کٹیہار
...فتاویٰ شارح بخاری ج2ص616
سے سند حسن سے اور ترمذی نے تعلیقاً بیان کیا۔ (ت)

(۲؎ سنن ابوداؤد کتاب الجہاد با ب فی الاقامۃ بارض الشرک آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹)

جس نے کسی قوم کی کثرت بڑھائی وہ انہی میں سے ہوگا، اسے خطیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)

(۱؎ تاریخ بغداد حدیث نمبر ۵۱۶۷ عبداللہ بن عتاب الشاہد العبدی دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/ ۴۱)

جس نے کسی قوم کا جتھا بڑھایا پس وہ انہی میں سے ہوگا اسے ابویعلٰی نے مسند میں اورعلی بن معبد نے کتاب الطاعۃ والمعصیۃ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعا اور ابن مبارک نے زہد میں حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ارشاد کے طورپر نقل کیا۔ (ت)

(۲؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ مسند ابی یعلی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ الخ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴/ ۳۴۶)

مجمع الانہر، شرح ملتقی الابحر وفتاوٰی ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویرالابصار ودرمختار وغیرہا میں ہے:

یکفر بتبجیل الکافر حتی لو سلم علی الذمی تبجیلاکفروبقولہ للمجوسی یااستاذ تبجیلا ۳؎۔

کافر کی تعظیم کفر ہے حتی کہ اگر کسی نے ذمی کو تعظیما سلام کہا تو یہ کفر ہے، کسی نے مجوسی کو بطور تعظیما یااستاد کہا تو یہ بھی کفرہے۔ (ت)

(۳؎ الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۸۸)

جو اپنی ذات کے کفرپر خوش ہو اور وہ بالاتفاق کافرہے او رجو کسی کے کفر پر خوش ہوا اس کے بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ (ت)

(۴؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۸۰۔ ۱۷۹)

جب کوئی برائی کاارتکاب کرے تو توبہ بھی اسی طرح کی جائے مثلا خفیہ گناہ پر خفیہ توبہ اور اعلانیہ گناہ پر اعلانیہ توبہ ضروری ہے، اسے امام احمد نے زہد میں اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل کیاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(فتاوی رضویہ۱۴/۱۴۳,۱۴۴n)
*گوشت کے 22 اجزاء ایسے ھیں جن کا کھانا مکروہ تحریمی ھے....*
🔹👇🏻🔹👇🏻🔹👇🏻🔹👇🏻🔹👇🏻
1:رگوں کا خون
2:پِتَّہ
3:مثانہ
5,4:علامات نر و مادہ
6:کپورے (فوطے)
7:غدودیں ( جسم کے اندرکی گانٹھ )
8:حرام مغز
9:گردن کے دو پٹھے جو کندھوں تک کھنچے ھوتے ھیں
10:جگر
11:تِلی کا خون
12:گوشت کا خون جو ذبح کے بعد نکلتا ھے
13:دل کا خون
14:وہ پیلا پانی جو پتے میں ھو
15:ناک کی رطوبت
16:پاخانے کا مقام
17:اوجھڑی
18:آنتیں
19:نطفہ (وہ پانی جس سے بچہ بنتا ھے)
20:وہ نطفہ جو خون بن جاے
21:وہ نطفہ جو گوشت کا لوتھڑا بن جاے
22:وہ نطفہ جو پورا جانور بن جاے

*(فتوی رضویہ جلد 20 صفحہ 240)*
واللہ اعلم بالصواب...
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
*فتاوی رضویہ سے کافروں کے اجتماع اور بت پر پھول وغیرہ چڑھانے کا حکم*
*_________________________*

مسئلہ ۲۹۹: از الہ آباد دائرہ اجملیہ مسئولہ مولوی سید نذیر احمد صاحب ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس صورت میں کہ عام اہل اسلام کو بغرض استقامت امور دنیاوی، اتحاد کسی مشرک قوم سے اس طورپر کرنا کہ دسہرہ میں عام اہل اسلام شریک ہوکر ناقوس بجائیں، پھول رام لچمھن پر چڑھائیں، جے کی آواز بلند کریں یا قربانی میں گائے کی قربانی بند کردیں جائز ہے یاناجائز؟ مرتکب ان امور کا کس وزر کا مستوجب ہے ؟ مع حوالہ عبارات جواب درکار ہے۔

بت کی عبادت کفرہے، دل میں جو کچھ ہے اس کا اعتبار نہیں، اسی طرح اس کاحکم ہے اگر حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تصویر بناکر اسے سجدہ کیا،ا سی طرح سجدہ کےلئے بت بنانے کاحکم ہے، اسی طرح اگر کسی نے یہود ونصارٰی کازنار باندھا خواہ ان کے گرجا میں داخل ہو ایانہ ہوا۔ (ت)

(۱؎ اشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۹۵)

نیروز اور مہرجان کے نام پر عطیہ (بایں طور کہ کہا جائے یہ اس دن کا ہدیہ ہے ش) جائز نہیں یعنی ان دونوں ایام کے ناموں پر ہدایا دینا لینا حرام اور اگر مشرکین کی طرح ان کی تعظیم بھی کرے گاتو کفر ہوگا، (ت)

(۲؂درمختار شرح تنویر الابصار باب مسائل شتی مطبع مجتائی دہلی ۲/ ۳۵۰)

(ردالمحتار باب مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۱)

مجوسیوں کے ساتھ نیزوز میں اس طرح نکلنا کہ اس دن وہ جو کریں گے یہ ان کی موافقت کرے تو یہ کفرہے، اسی طرح نیروز کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے یا مشرکین کو ہدیہ دینے کے لئے کوئی چیز خریدی نہ کہ کھانے پینے کے لئے جبکہ وہ چیز اس سے پہلے نہیں خریدی تھی اگرچہ وہ انڈہ ہی کیوں نہ ہو تو کفر ہوگا۔ (ت)

(۳؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب ان الالفاظ الکفر انواعٌ مطبع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۸)

شیخ ابوبکر بن طرخاں کہتے ہیں جو سدہ کی طرف نکلا (ملا علی قاری نے اس کا معنی اہل کفر کا اجتماع کیاہے) تو وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس میں کفر کا اعلان ہے گویا اس نے کفرپر مدد کی اس پرقیاس ہے، نیروز میں نکلنا اور اس دن کےموافق عمل کرنا کہ یہ بھی کفرہے۔ (ت)

(۱؎ جامع الفصولین فصل فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۳)

(منح الروض الازہر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۶)

جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرلی وہ انہی میں سے ہے۔ (ت)

(۲؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/۵۰)

اگر کسی نے تعظیم کرتے ہوئے ذمی کو سلام دیا تو کافر ہوجائے گا کیونکہ کافر کی تعظیم کفرہے، اگر کسی نے مجوسی کو بطور تعظیم اے استاذ کہا تو کفرہے۔ (ت)

(۳؂الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۸۸)

(درمختار کتاب الحظر فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱)

بخاطر ہنود گائے کی قربانی بند کرنا حرام ہے، والتفصیل فی انفس الفکر فی قربان البقر (اس کی تفصیل ہماری کتاب انفس الفکر فی قربان البقر میں ملاحظہ کیجئے۔ ت) مرتکب کاحکم انھیں احکام سے ظاہر جو مرتکب حرام ہے مستحق عذاب جہنم ہے اور جو مرتکب کفر فقہی ہے جیسے دسہرے کی شرکت یا کافروں کی جے بولنا اس پر تجدیدِ اسلام لازم ہے اور اپنی عورت سے تجدیدِ نکاح کرے اور جو قطعا کافرہوگیا، جیسے دسہرے میں بطور مذکور ہنود کے ساتھ ناقوس بجانے یا معبودان کفار پر پھول چڑھانے والا کافر مرتدہوگیا اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اگر تائب ہو اور اسلام لائے جب بھی عورت کو اختیار ہے بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے، اور بے توبہ مرجائے تواسے مسلمانوں کی طرح غسل وکفن دینا حرام اس کے جنازے کی شرکت حرام اسے مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام اس پر نماز پڑھنا

(اس کے علاوہ دیگر احکام بھی ۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔

وہ کسی ملامت کرنے والے کاخوف نہیں رکھتے۔ ت) کی شان پیش نظر فرماتے ہوئے تحریر فرماکر عنداللہ ماجور ہوں:

(۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۵۴)

(۱) جو مسلمان اس جلسہ میں شریک ہوئے اور چندن لگوانے سے انکار کیا ان کی شرکت اس جلوس میں ازروئے شریعت کیسی تھی۔

(۲) جن مسلمانوں نے چندن لگوانے سے ہندوؤں کو روکا نہیں بلکہ لگوایا پھر بعد کو اسی وقت یا تھوڑی دیر بعد اس جلسہ میں اپنے ہاتھوں اور رومالوں سے صاف کرلیا ان کاکیاحکم ہے؟

(۳) جن مسلمانوں نے چندن لگوایا اور چندن لگائے ہوئے جلسہ میں شریک رہے بلکہ چندن لگائے ہوئے اپنے گھروں پر واپس آئے یا شام تک لگا ئے رہے، ان کی بابت حکم شرع شریف کیاہے؟

جس نے کسی مشرک کے ساتھ اتفاق کیا اور اسی کے ساتھ ٹھہرا وہ اسی کے مثل ہوگا، اسے ابوداؤد نے حضرت جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ
ﺑﻐﯿﺮ ﺩﺍﻧﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﯿﻞ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ
ﺳﻮﺍﻝ : ﮐﯿﺎﻓﺮﻣﺎﺗﮯﮦﯾﮟ ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﺩﯾﻦ ﻭﻣﻔﺘﯿﺎﻥِ ﺷﺮﻉِ ﻣﺘﯿﻦ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﯿﻞ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻋﻤْﺮ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﮞ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺷﺮﻋﺎً ﮐﯿﺎ ﺣﮑْﻢ ﮨﮯ؟
ﺑِﺴْﻢِ ﺍﻟﻠّٰﻪِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿْﻢِ
ﺍَﻟْﺠَﻮَﺍﺏُ ﺑِﻌَﻮْﻥِ ﺍﻟْﻤَﻠِﮏِ ﺍﻟْﻮَﮬَّﺎﺏِ ﺍَﻟﻠّٰﮭُﻢَّ ﮬِﺪَﺍﯾَۃَ ﺍﻟْﺤَﻖِّ ﻭَﺍﻟﺼَّﻮَﺍﺏِ
ﺍﯾﺴﺎﺑﯿﻞ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻋﻤْﺮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺍﻋﺘِﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﻣﮑﻤّﻞ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﺎﻧِﻊ ‏( ﺭﻭﮐﻨﮯ ﻭﺍﻻ ‏) ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻋﯿﺐ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺑﻼ ﺷﺒﮧ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ،ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻭ ﺑﮍﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﮞ ‏( ﺟﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﻋُﺮْﻑ ﻣﯿﮟ ’’ ﺩﻭﻧﺪﺍ ﯾﻌﻨﯽ ﺩﻭ ﺩﺍﻧﺖ ﻭﺍﻻ ‘‘ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ‏) ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻣُﻘَﺮَّﺭ ﮐﺮﺩﮦ ﻋﻤْﺮ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍﮨﻮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ،ﺑﮍﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺍﻟﺒﺘّﮧ ﯾﮧ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮯ ﺩﻭﺑﮍﮮ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ،ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻭﻧﭧ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ،ﮔﺎﺋﮯ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﮑﺮﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﮩﯿﮟ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﺴﻠّﯽ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮﻣﮑﻤﻞ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ،ﺍﮔﺮ ﺷﮏ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﮧ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺟﺎﺋﮯ،ﺧﺼﻮﺻﺎ ً ﺍﺱ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻝ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﯿﭽﻨﺎ ﻋﺎﻡ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔
ﻭَﺍﻟﻠﮧُ ﺍَﻋْﻠَﻢُ ﻋَﺰَّﻭَﺟَﻞَّ ﻭ ﺭَﺳُﻮْﻟُﮧٗ ﺍَﻋْﻠَﻢ ﺻﻠَّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻠﯿﮧِ ﻭﺍٰﻟِﮧٖ ﻭﺳﻠَّﻢ
ﮐﺘﺒــــــــــــــــــــــﮧ
ﺍﺑﻮﺍﻟﺼﺎﻟﺢ ﻣﻔﺘﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﻗﺎﺳﻢ ﺍﻟﻘﺎﺩﺭﯼ
ﺧﻮﺵ ﺩﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﯾﮟ :
ﺣﺪﯾﺚ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ” ﻓَﻄِﻴﺒُﻮﺍ ﺑِﻬَﺎ ﻧَﻔْﺴًﺎ “ ﮐﯽ ﺷﺮﺡ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﺟﺐ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋَﺰَّﻭَﺟَﻞَّ ﺍﺳﮯﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺜﯿﺮ ﺛﻮﺍﺏ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻭ ﻧﮧ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﻭ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ۔ ‏( ﻣﺮﻗﺎۃ ﺍﻟﻤﻔﺎﺗﯿﺢ،ﺝ 3 ،ﺹ 574 ، ﺗﺤﺖ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ 1470: ‏)
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ،ﺭﻗﻢ ﺻﺪﻗﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ؟ :
ﺣﮑﯿﻢ ﺍﻻﻣﺖ ﻣﻔﺘﯽ ﺍﺣﻤﺪﯾﺎﺭ ﺧﺎﻥ ﻧﻌﯿﻤﯿﺮﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻﺧﻮﺩ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﮨﯽ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮﺩﮮﯾﺎﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮨﺒﮧ ﮐﺮﺩﮮ ‏) ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺩﮮ ﯾﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩُﮔﻨﺎ ﺗﮕﻨﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮﺩﮮ،ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﺮﮔﺰ ﺍﺩﺍ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺧَﻠِﯿْﻞُ ﺍﷲ ‏( ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴَّﻼﻡ ‏) ﮐﯽ ﻧﻘﻞ ﮨﮯ،ﺍُﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﯾﺎ ﭘﯿﺴﮯ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﻧﮧ ﮐﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭﻧﻘﻞ ﻭﮨﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺻﻞ ﮨﻮ۔ﺍﺏ ﮐﺘﻨﮯ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯿﺎﮞ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﺟﻦ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ۔
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ :
ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ’’: ﺍﻭﺭ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺗﻮﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ،ﻟﮩٰﺬﺍ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺑﯿﮑﺎﺭﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﯾﺎﺗﻨﮓ ﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﻋﻘﻠﯽ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﻧﮧ ﺩﻭﮌﺍﺅ۔ ‏( ﻣﺮﺍۃﺍﻟﻤﻦ
ﺍﺟﯿﺢ،ﺝ 2 ،ﺹ 375 ﻣﻠﺦﺻﺎً
ﺳﺮﯼ ﭘﺎﺋﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﻝ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﮐﮯ ﮐﮭﺎﻝ ﺳﻤﯿﺖ ﭘﮑﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ... ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺿﻮﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ :
ﻣﺬﺑﻮﺡ ﺣﻼﻝ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻝ ﺑﯿﺸﮏ ﺣﻼﻝ ﮨﮯ۔ ﺷﺮﻋﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻣﻤﻨﻮﻉ ﻧﮩﯿﮟ
‏( ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺿﻮﯾﮧ ﺟﻠﺪ 20 ﺻﻔﺤﮧ 233 ‏)
.
★ ﺫﺑﺢ ﺷﺪﮦ ﺣﻼﻝ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﮯ
ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺭﺿﺎ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
ﺣﻼﻝ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﺣﻼﻝ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺑﻌﺾ ﮐﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﯾﺎ ﻣﻤﻨﻮﻉ ﯾﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﯿﮟ
‏( ۱ ‏) ﺭﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ‏( ۲ ‏) ﭘﺘﺎ ‏( ۳ ‏) ﭘُﮭﮑﻨﺎ ‏( ۴ ‏) ﻭ ‏( ۵ ‏) ﻋﻼﻣﺎﺕ ﻣﺎﺩﮦ ﻭﻧﺮ ‏( ۶ ‏) ﺑﯿﻀﮯ ‏( ۷ ‏) ﻏﺪﻭﺩ ‏( ۸ ‏) ﺣﺮﺍﻡ ﻣﻐﺰ ‏( ۹ ‏) ﮔﺮﺩﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﭘﭩﮭﮯ ﮐﮧ ﺷﺎﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﮐﮭﻨﭽﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‏( ۱۰ ‏) ﺟﮕﺮ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ‏( ۱۱ ‏) ﺗﻠﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ‏( ۱۲ ‏) ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﮐﮧ ﺑﻌﺪ ﺫﺑﺢ ﮔﻮﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ‏( ۱۳ ‏) ﺩﻝ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ‏( ۱۴ ‏) ﭘﺖ ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﺯﺭﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮧ ﭘﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ ‏( ۱۵ ‏) ﻧﺎﮎ ﮐﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ‏( ۱۶ ‏) ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ‏( ۱۷ ‏) ﺍﻭﺟﮭﮍﯼ ‏( ۱۸ ‏) ﺁﻧﺘﯿﮟ ‏( ۱۹ ‏) ﻧﻄﻔﮧ ‏( ۲۰ ‏) ﻭﮦ ﻧﻄﻔﮧ ﮐﮧ ﺧﻮﻥ ﮨﻮﮔﯿﺎ ‏( ۲۱ ‏) ﻭﮦ ﮐﮧ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺎ ﻟﻮﺗﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ‏( ۲۲ ‏) ﻭﮦ ﮐﮧ ﭘﻮﺭﺍ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩﮦ ﻧﮑﻼ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺫﺑﺢ ﻣﺮﮔﯿﺎ۔
‏( ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺿﻮﯾﮧ ﺟﻠﺪ 20 ﺻﻔﺤﮧ 239,240 ‏
*عید azha کی نماز کا طریقہ*

*پہلے نیت کریں

☽ نیت کرتا ہوں میں دو رکعت نماز عید Qurban کی زائد چھ تکبیروں کے ساتھ منہ میرا کعبہ شریف کی طرف
واسطے اللہ تعالی کے پیچھے اس امام کے.

امام تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ کرثنا پڑھےگا ہمیں بھی تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ لینا ہے اس کے بعد تین زائد تكبيریں ہوں گی.

⛤ پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لینا ہے

اسكے بعد امام قرآت کرےگایعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے گااور رکوع سجدہ کرکے پہلی رکعت مکمل ہوگی

🌹دوسری رکعت کے لئے اٹھتے ہی امام قرآت کرے گا یعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھےگا اس کے بعدرکوع میں جانے سے پہلے زائد تینوں تكبيرے ہوں گی

⛤پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دینا ہے

یہاں تک زائد تكبيرے مکمل ہوگئ.
☽ اب اس کے بعد بغیر ہاتھ اٹھاے تکبیر کہہ کر رکوع میں جاینگے.
☽اور بس آگے کی نماز دوسری نمازوں کی طرح پڑھنا ہےپھر سلام پھیرنا ہوگی.

*نماز عید سے پہلے خوب شئیر کریں اللہ عمل کی توفیق عطاءفرمائے*
ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﮯ ﺁﺩﺍب
سید مبشر قادری....کے شکریہ کے ساتھ
۱۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺳﻨّﺖ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽﷺ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀِ ﮐﺮﺍﻡ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﻨّﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻋﺎﺩﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ۔ ﻋﻼﻣﮧ ﺷﺎﻣﯽ ﻧﮯ ﻭﺿﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﻨّﺖِ ﻣﺆﮐﺪﮦ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ، ﺝ۲، ﺹ۱۶۸ ‏) ﺍﻭﺭ ﺟﻤﮩﻮﺭ ﻧﮯ ﺳﻨﺖ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ۔
۲۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺭﺥ ﺳﮯ ﮐﺮﮮ۔ ‏( ﻣﺮﻗﺎﺕ، ﺹ۳۰۰ ‏)
۳۔ ﺍﻣﺎﻡ ﻧﻮﻭﯼ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﮮ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﻨّﺖ ﮐﮯ ﻋﺎﺩﯼ ﮨﻮﮞ۔ ‏( ﺷﺮﺡ ﻣﺴﻠﻢ، ﺹ۳۷ ‏)
۴۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﻮ ﻣﭩﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺮﺽِ ﺑﻮﺍﺳﯿﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﺍﻟﺴﻌﺎﯾﮧ، ﺹ۱۹۹ ‏)
۵۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﻟﯿﭧ ﮐﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗِﻠّﯽ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﮨﮯ۔ ‏( ﻃﺤﻄﺎﻭﯼ، ﺹ۳۸ ‏)
۶۔ ﻣﺴﻮﺍ ﮎ ﮐﻮ ﭼﻮﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ‏( ﺍﻧﺪﮬﺎ ﭘﻦ ‏) ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﮨﮯ؛ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻧﺌﯽ ﻣﺴﻮﺍ ﮎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮ ﺗﺒﮧ ﭼﻮﺳﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
‏( ﺍﻟﺴﻌﺎﯾﮧ، ﺹ۱۹۹ ‏)
۷۔ ﺍﮔﺮ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺧﺸﮏ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﮕﻮﮐﺮ، ﻧﺮﻡ ﮐﺮﻟﯿﻨﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔
‏( ﻃﺤﻄﺎﻭﯼ، ﺹ۳۷، ﻋﻤﺪۃ، ﺹ۱۸۵ ‏)
۸۔ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻧﺌﯽ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﻮ ﭼﻮﺳﻨﺎ
ﺟﺬ ﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺹ ﮐﻮ ﺩﻓﻊ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺷﻔﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭼﻮﺳﻨﺎ ﻧﺴﯿﺎﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﺍﺗﺤﺎﻑ ﺍﻟﺴﺎﺩۃ، ﺹ۵۳۱۔ ﺷﺎﻣﯽ، ﺝ۱ ﺹ۱۱۵ ‏)
۹۔ ﻣﺠﻤﻊِ ﻋﺎﻡ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺟﺘﻤﺎﻉ ﮨﻮ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﮐﮯ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﻮﻧﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔ ‏( ﺑﺤﺮ، ﻣﻨﺤۃ ﺍﻟﺨﺎﻟﻖ، ﺹ۲۱ ‏)
۱۰۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﮐﺮﮮ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺍﻭﺭ ﺯﺭﺩﯼ ﺯﺍﺋﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯﺍ ﻭﺭ ﻣﯿﻞ ﻭ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ، ﺹ۱۱۴ ‏)
ﻋﻤﺪۃ ﺍﻟﻘﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﮐﺮﮮ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺯﺍﺋﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯﺍ ﻭﺭ ﭘﯿﻼ ﭘﻦ ﺧﺘﻢ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔ ‏( ﺝ۶ ﺹ۱۸۱ ‏)
۱۱۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ۳ ﻣﺮﺗﺒﮧ ۳ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ، ﺹ۱۱۴ ‏)
۱۲۔ ﮨﺮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺗﺮ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﮕﺎﺩﮮ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ، ﺹ۱۱۴ ‏)
۱۳۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ، ﺹ۱۱۴ ‏)
۱۴۔ ﻣﺴﻮﺍ ﮎ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻟﺸﺖ ﮨﻮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺮﺝ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﮔﺮ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ۔ ‏( ﺍﻟﺴﻌﺎﯾﮧ ‏)
۱۵۔ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﺸﺖِ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﮐﺮﮮ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ ‏)
۱۶۔ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﺍﻧﺖ ﮐﺎﻣﻠﻨﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ۔ ‏( ﺷﺎﻣﯽ، ﺹ۱ ‏)
۱۷۔ ﮐﺴﯽ ﺳﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﻑ ﻭ ﮐﮭﺮﺩﺭﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﺍﻧﺖ ﮐﻮ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
۱۸۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻭﺿﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﻣﺴﻨﻮﻥ ﮨﮯ، ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻏﺴﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺳﻨّﺖ ﮨﮯ۔ ‏( ﺍﻻﺫﮐﺎﺭ ‏)
۱۹۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺑﻼ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔ ‏( ﺍﻟﺴﻌﺎﯾﮧ، ﺹ۱۱۹ ‏)
۲۰۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺑﮭﯽ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﮬﻮﮐﺮ ﺭﮐﮭﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﻃﺤﻄﺎﻭﯼ، ﺹ۳۷ ‏)
۲۱۔ ﻋﯿﻦِ ﻣﺴﺠﺪ ﯾﺎ ﺻﺤﻦِ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮎ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﯾﺎ ﻣﺴﻮﺍ ﮎ ﮐﮯ ﺭﯾﺰﮮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ‏( ﻣﺮﻗﺎﺕ، ﺝ۱ ﺹ۳۰۲ ‏)
۲۲۔ ﻣﺮﺽ ﺍﻟﻤﻮﺕ ﺍﻭﺭﻧﺰﻉ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺴﻨﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ‏( ﺣﺪﯾﺚ ‏)
۲۳۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﯿﺐ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺟﺐ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﻤﺎﺯ ﯾﺎ ﻭﺿﻮ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﻮ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮ۔ ‏( ﺣﺪﯾﺚ ‏)
۲۴۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﯽ ﻟﮑﮍﯼ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮧ ﮨﻮ، ﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮪ ﮔﺮﮦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﻀﺎﺋﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔
۲۵۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﮭﮍﯼ ﮐﺮﮐﮯ ﺭﮐﮭﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﺟﻨﻮﻥ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﯿﺪ ﺑﻦ ﺟﺒﯿﺮ﷜ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺠﻨﻮﻥ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻼﻣﺖ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﮯ۔
۲۶۔ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
۲۷۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔
۲۸۔ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮧ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﻝ ﭨﭙﮏ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
۲۹۔ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
۳۰۔ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﺩﺭﺩِ ﺯﺍﻧﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
۳۱۔ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﺭﺩِ ﮐﻤﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﻔﺘﺎﺡ ﺍﻟﺠﻨﺎﻥ ﻓﯽ ﻏﺎﯾۃ ﺍﻻﺩﺭﺍﮎ ‏)
۳۲۔ ﺣﻤﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ؛ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﯿﺪ ﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﻔﺘﺎﺡ ﺍﻟﺠﻨﺎﻥ ‏)
۳۳۔ ﮐﻮﮌﺍ ﮐﺮﮐﭧ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺳﺨﺖ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﻋﻤﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻋﺚِ ﻋﺘﺎﺏ ﮨﮯ۔ ‏( ﻣﻔﺘﺎﺡ ﺍﻟﺠﻨﺎﻥ ‏)
۳۴۔ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﻨﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔