Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بلا سوچے سمجھے ، جَھٹ سے کسی کے قول ، فعل کو کفر کَہ دینا ، بہت بڑی حماقت ہے ۔
اس طرح دوسرا کافر بنے نہ بنے ، کہنے والے کا کفر سے بچ جانا بہت مشکل ہے ۔
ہم اللہ جبار و قہار کے غضب سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں !بلا سوچے سمجھے ، جَھٹ سے کسی کے قول ، فعل کو کفر کَہ دینا ، بہت بڑی حماقت ہے ۔
اس طرح دوسرا کافر بنے نہ بنے ، کہنے والے کا کفر سے بچ جانا بہت مشکل ہے ۔
ہم اللہ جبار و قہار کے غضب سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2980199905593512&id=100008105947430
اس طرح دوسرا کافر بنے نہ بنے ، کہنے والے کا کفر سے بچ جانا بہت مشکل ہے ۔
ہم اللہ جبار و قہار کے غضب سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں !بلا سوچے سمجھے ، جَھٹ سے کسی کے قول ، فعل کو کفر کَہ دینا ، بہت بڑی حماقت ہے ۔
اس طرح دوسرا کافر بنے نہ بنے ، کہنے والے کا کفر سے بچ جانا بہت مشکل ہے ۔
ہم اللہ جبار و قہار کے غضب سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2980199905593512&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعلیٰ حضرت رحمہاللہ سے ہمیں بہت زیادہ محبت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راہِ عشقِ رسول میں آپ ہمارے مرشِد ، ہمارے ہادی ، ہمارے رہنما ہیں ۔
ہم با اصول ہیں ، اور با اصول لوگ محبت بدلا نہیں کرتے ۔
رومی کشمیر ، میاں محمد بخش رحمہاللہ نے کہاتھا:
" جس دل کے اندر محبت رچ بس جاتی ہے وہ پِھرتانہیں ( بدلتا نہیں ، بے وفائی نہیں کرتا ) ۔
ہمارے سامنے چاہے لکھ ہزار حسین وجمیل بھی آجائیں ، ہم اپنا محبوب کبھی نہیں بدلیں گے ۔ "
✍️لقمان شاہد
14-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2982135598733276&id=100008105947430
ہم با اصول ہیں ، اور با اصول لوگ محبت بدلا نہیں کرتے ۔
رومی کشمیر ، میاں محمد بخش رحمہاللہ نے کہاتھا:
" جس دل کے اندر محبت رچ بس جاتی ہے وہ پِھرتانہیں ( بدلتا نہیں ، بے وفائی نہیں کرتا ) ۔
ہمارے سامنے چاہے لکھ ہزار حسین وجمیل بھی آجائیں ، ہم اپنا محبوب کبھی نہیں بدلیں گے ۔ "
✍️لقمان شاہد
14-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2982135598733276&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
روئے زمین پر سب سے پیارا وہ شہر ہے جس شہر میں اللہ ﷻ کے پیارے رسول ﷺ کے شب و روز گزرے ۔
جس شہر کی خاک نے آپ ﷺ کے قدم چومے ، جو شہر قیامت تک کے لیے آپ ﷺ کا مَسکن بنا ۔ ؎
وہ مدینہ جو کونین کا تاج ہے ، جس کا دِیدار مومن کی معراج ہے
زندگی میں خُدا ہر مسلمان کو وہ مدینہ دِکھادے تو کیا بات ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2983976291882540&id=100008105947430
جس شہر کی خاک نے آپ ﷺ کے قدم چومے ، جو شہر قیامت تک کے لیے آپ ﷺ کا مَسکن بنا ۔ ؎
وہ مدینہ جو کونین کا تاج ہے ، جس کا دِیدار مومن کی معراج ہے
زندگی میں خُدا ہر مسلمان کو وہ مدینہ دِکھادے تو کیا بات ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2983976291882540&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کراچی شہر بہت خوب صورت ہے ، یہاں کے لوگ بہت پیارے ہیں ۔
مگر ، دل کی کہوں تو :
" کراچی آکر کوئی سارے علما و مشائخ سے مل لے ، مولانا محمد الیاس عطار قادری سے نہ ملے ؛ تو وہ ایسا ہے جیسے اس نے سارا چمن دیکھ لیا ، " گلاب کا پھول " نہ دیکھ سکا ۔ "
بہت ساری ایسی ہستیاں گزریں جو چمنِ اہلِ سنت کی بہار تھیں ، لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خزاں رسیدہ لوگ اُن سے نفع نہ اٹھا سکے ۔
ان میں سے ہر ایک جب یہ کہتے ہوئے گزر گیا ؎
جیتے جی قدر بشر کی نہیں ہوتی پیارے
یاد آئے گی تمھیں ، میری وفا میرے بعد
تو پھر نوحہ خوانی شروع ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
مخلص علما و مشائخ کی جیتے جی قدر کریں ، جب یہ چلیں جائیں گے تو ان جیسے دوبارہ کبھی نہیں آئیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
16-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2984490201831149&id=100008105947430
مگر ، دل کی کہوں تو :
" کراچی آکر کوئی سارے علما و مشائخ سے مل لے ، مولانا محمد الیاس عطار قادری سے نہ ملے ؛ تو وہ ایسا ہے جیسے اس نے سارا چمن دیکھ لیا ، " گلاب کا پھول " نہ دیکھ سکا ۔ "
بہت ساری ایسی ہستیاں گزریں جو چمنِ اہلِ سنت کی بہار تھیں ، لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خزاں رسیدہ لوگ اُن سے نفع نہ اٹھا سکے ۔
ان میں سے ہر ایک جب یہ کہتے ہوئے گزر گیا ؎
جیتے جی قدر بشر کی نہیں ہوتی پیارے
یاد آئے گی تمھیں ، میری وفا میرے بعد
تو پھر نوحہ خوانی شروع ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
مخلص علما و مشائخ کی جیتے جی قدر کریں ، جب یہ چلیں جائیں گے تو ان جیسے دوبارہ کبھی نہیں آئیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
16-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2984490201831149&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مجھ سے ناشاد کو پُہنچا دے دَرِ احمد تک
میرے خالِق ، مِرے بِچھڑوں کے مِلانے والے
دلِ ویرانۂ عاشِق کو بھی کیجے آباد
میرے محبوب ، مَدینے کے بَسانے والے
( اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2986207264992776&id=100008105947430
میرے خالِق ، مِرے بِچھڑوں کے مِلانے والے
دلِ ویرانۂ عاشِق کو بھی کیجے آباد
میرے محبوب ، مَدینے کے بَسانے والے
( اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2986207264992776&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کتناخوش قسمت ہے یہ چاند جو روضۂ انور کا دیدار کررہا ہے ۔
رب تعالیٰ اِس چاند جیسےہمارے بھی مقدر کرے !
ربیع الاول امیدوں کی دنیا ساتھ لے آیا
دعاؤں کی قبولیت کو ہاتھوں ہاتھ لے آیا
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2986727764940726&id=100008105947430
رب تعالیٰ اِس چاند جیسےہمارے بھی مقدر کرے !
ربیع الاول امیدوں کی دنیا ساتھ لے آیا
دعاؤں کی قبولیت کو ہاتھوں ہاتھ لے آیا
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2986727764940726&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
محبوب سے جُدا ہوتے وقت ، مُحب کی چیخیں نکل گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضبط کے سارے بند ٹوٹ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نالہ و فُغاں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ؛ وہ جو محبوب سے لمحے بھر کے لیے جدا نہیں ہونا چاہتا تھا ، اسے طویل جدائی نے آ لیا ۔
پیاروں کی جدائی پر کچھ یاد رہے نہ رہے ، آنسو بہانا اور آہ و زاریاں کرنا ضرور یاد رہتا ہے ۔
امام احمد رضاؔ جب مدینہ پاک سے جدا ہو رہے تھے تو آپ کی بھی کچھ یہی کیفیت تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فِراقِ محبوب میں نالہ و فُغاں یاد آئے ، جی چاہا شدت سے آہ و زاری کروں ، لیکن جب خیال آیاکہ:
یہ بارگاہ کون سی ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ کس محبوب کا کوچہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
تو رک گئے ، اورکہنے لگے ؎
خوف ہے سَمع خَراشِیِ سَگِ طیبہ کا
ورنہ ۔۔۔۔۔۔ کیا یاد نہیں ، نالہ و اَفغاں ہم کو !!
یہ نہیں کہ مجھے فِراقِ محبوب میں نالہ و فُغاں ( گریہ و زاری کرنا ) یاد نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ میں اِس ڈر سے خاموش ہوں کہ میری آہ و زاری سے طیبہ کی گلیوں میں سویا ہوا کوئی سگ نہ جاگ جائے ۔
میرے نزدیک محبوب کی گلی کے کُتے کا بھی لحاظ ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ سب یاد ہونے کے باوجود چپ ہوں ۔
✍️لقمان شاہد
20-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988237014789801&id=100008105947430
پیاروں کی جدائی پر کچھ یاد رہے نہ رہے ، آنسو بہانا اور آہ و زاریاں کرنا ضرور یاد رہتا ہے ۔
امام احمد رضاؔ جب مدینہ پاک سے جدا ہو رہے تھے تو آپ کی بھی کچھ یہی کیفیت تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فِراقِ محبوب میں نالہ و فُغاں یاد آئے ، جی چاہا شدت سے آہ و زاری کروں ، لیکن جب خیال آیاکہ:
یہ بارگاہ کون سی ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ کس محبوب کا کوچہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
تو رک گئے ، اورکہنے لگے ؎
خوف ہے سَمع خَراشِیِ سَگِ طیبہ کا
ورنہ ۔۔۔۔۔۔ کیا یاد نہیں ، نالہ و اَفغاں ہم کو !!
یہ نہیں کہ مجھے فِراقِ محبوب میں نالہ و فُغاں ( گریہ و زاری کرنا ) یاد نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ میں اِس ڈر سے خاموش ہوں کہ میری آہ و زاری سے طیبہ کی گلیوں میں سویا ہوا کوئی سگ نہ جاگ جائے ۔
میرے نزدیک محبوب کی گلی کے کُتے کا بھی لحاظ ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ سب یاد ہونے کے باوجود چپ ہوں ۔
✍️لقمان شاہد
20-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2988237014789801&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عید میلاد النبی کے جشن اور محفل، عرس، فاتحہ، تیجہ وغیرہ سنیوں کے جائز معمولات پر وہابیوں اور دیوبندیوں کے اعتراضات کے جواب کا ایک شاندار نکتہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840032499609392&id=100008080090753
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840032499609392&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خطیبِ مشرق حضرت علامہ مولانا مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ کا مزار شریف اور آپ کا قائم کردہ عظیم الشان دارالعلوم غریب نوازالٰہ آباد
ماشاء اللہ تصاویر بھیجے کے لیے شکریہ
مولانا فیضان احمد صدیقی راجستھان
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840061126273196&id=100008080090753
ماشاء اللہ تصاویر بھیجے کے لیے شکریہ
مولانا فیضان احمد صدیقی راجستھان
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2840061126273196&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام احمد رضا کے القاب و آداب
از: ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی,بریلی شریف
بِسْمِ اللّٰہِ الرحمٰن الرحیم
بعض دانشور اور اہل علم حکومت کی خوشنودی حاصل کرکے لقب و خطاب حاصل کرتے ہیں اور بعض حکومتی علمی، ادبی، اور سماجی ادارے ان کے کارناموں کی وجہ سے لقب وخطاب عطا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح لقب و خطاب یا نام و نمود کی پرواہ نہیں کرتے ، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو بے نام و نشان سمجھتےہیں، انہیں مٹانے والے خود مٹ جاتے ہیں اور جن کے عشق میں یہ بے نام و نشان لوگ مٹ جاتے ہیں وہ انہیں ایسا چمکاتے ہیں اور ایسا نام و نشان عطا کرتے ہیں کہ انکی چمک اور ان سے ضیاء حاصل کرنے والے ذرے بھی آفتاب و ماہتاب بن جاتے ہیں اور ان کے نام لیوا شہرت و ناموری کے بام رفعت پر کمندیں ڈالتے ہیں اور آسمان شہرت پر اپنی عظمت کا پھریرہ لہراتے ہیں ۔
ایسی ہی شخصیتوں میں ایک شخصیت اسلامی چودھویں صدی کے عظیم مجدد، بریلی کے فاضل امام احمد رضا نور اللہ مرقدہ کی بھی ہے ان کی حیات ظاہری میں عجم ہی نہیں بلکہ عرب کے مشاہیر نے ایک سے بڑھکر ایک باوقار، پاکیزہ اور حسن القاب وآداب سے یاد کیا اور آج بھی ناموران زمانہ انہیں گراں قدر مطہر اور منور القاب سے یاد کرتے چلے جا رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے خود کو سدا بے نام و نشان ہی سمجھا۔ لیکن یہ بھی یقین تھا کہ
بے نشانوں کا نشان مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا
یہ تو امام احمد رضا کا انکسار تھا ورنہ امام کا نام تو حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا کرنے والی کسوٹی ہے، اگر امام احمد رضا کا نام سن کر چہرے پر خوشی طاری ہو جائے تو سمجھ لیجئے غلام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور اگر پیشانی پر کوئی شکن آ جائے تو جان جائیے کہ بد مذہب اور گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اور وہ امام ہیں ۔ ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ جو حقیقتاً ان کا نام نہیں بلکہ لقب ہے۔ لیکن امام کا علم بن کر رہ گیا۔ اور ان کے نام نامی اسم گرامی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اور آج جب بھی لفظ ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ سماعت کے جہان میں داخل ہوتا ہے تو ذہن رام پور یا حیدر آباد کے نوابین یا کسی اور شخصیت کی طرف نہیں جاتا بلکہ بریلی کے فاضل امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہی کی طرف مبذول ہو جاتا ہے۔
1:- لقب اعلٰی حضرت کی تحقیق
یہ بات کلی طور پر پایہ تحقیق کو نہیں پہنچ سکی کہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو پہلی بار کب اور کس نے اعلٰی حضرت کہا - البتہ یہ بات ضرور ثابت ہے کہ انہیں ان کی حیات میں ہی اعلٰی حضرت کہا، اور لکھا جانے لگا تھا، تحفہ حنفیہ پٹنہ کے شماروں سے پتہ چلتا ہے کہ 1323 ء سے آپ کے لئے ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ لکھا جانا شروع ہوا۔ تحفہ حنفیہ جلد 9 پرچہ نمبر 4 بابت ماہ ربیع الآخر 1323 ء میں امام احمد رضا احمد رحمۃ اللہ علیہ کے لئے ‘‘مجدد مائۃ حاضرہ، موئید ملت طاہرہ، جامع معقول و منقول، حاوی فروغ و اصول، عالم اہلسنت ، اعلٰیحضرت، اعلم علمائے زماں، مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب مد ظلہ رب العالمین وصانہ عن شرور الحاسدین لکھا گیا۔
فتاوٰی رضویہ کی مختلف جلدوں میں بھی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے مریدین نے ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ لکھا ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ جلد ششم، رسالہ حجب العوار عن مخدوم بہار اور ‘‘اعلٰی حضرت ‘‘ کے ساتھ عظیم البرکت بھی لکھا گیا ہے۔ ممکن ہے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو 1323 ھ 1905 ء سے پہلے بھی ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ کہا گیا ہو۔ کیونکہ انہیں 1318ھ 1900ء میں پٹنہ کے روندوہ کے اجلاس میں پہلی بار حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر بدایونی علیہ الرحمہ نے مشاہیر علماء فضلاء کی موجودگی میں مجدد کہا تھا الفاظ اس طرح ہیں۔
جناب عالم اہلسنت، مجدد مائۃ حاضرہ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی ( دبدبہ سکندری رام پور 11 اکتوبر 1948ء ص 5 ‘‘‘ چودھویں صدی کے مجدد‘‘‘ از ملک العلماء علامہ ظفر الدین قادری ص 11 )
بہر حال اگر امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو اعلٰی حضرت کہا گیا تو 1388ھ کے بعد ہی کہا گیا ۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے لئے اعلٰی حضرت کہے جانےپر حاسدین و اعدائے دین کو سخت اعتراض ہے ۔ حالانکہ ظالمان زمانہ نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کو اعلٰی حضرت کہا اور لکھا ہے۔ اور عاشق الہٰی میرٹھی نے اپنی تالیف تذکرۃ الخلیل میں مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کو اعلٰی حضرت لکھا ہے۔ یہی دنیا ساز دین کے دشمن رام پور اور حیدر آباد کے نوابین کو تو بڑے فخر سے اعلٰی حضرت کہا کرتے تھے۔ لیکن جب ایک غیرت مند عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ایک غلام مصطفٰٰی، عبد المصطفٰی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ کہا جاتا ہے تو جل اٹھتے ہیں۔
‘‘اعلٰی حضرت‘‘ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ایسا نام اور آپ کی ایسی پہچان بن گیا ہے۔ جو امر ہے۔ زندہ ہے۔ اور رہتی دنیا تک چودھویں صدی ہجری کے اس مجدد عاشق مصطفٰی اور عبد المصطفٰی کو زمانہ ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ کہہ کر یاد کرتا رہے گا۔
2:-مجدد:-
از: ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی,بریلی شریف
بِسْمِ اللّٰہِ الرحمٰن الرحیم
بعض دانشور اور اہل علم حکومت کی خوشنودی حاصل کرکے لقب و خطاب حاصل کرتے ہیں اور بعض حکومتی علمی، ادبی، اور سماجی ادارے ان کے کارناموں کی وجہ سے لقب وخطاب عطا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح لقب و خطاب یا نام و نمود کی پرواہ نہیں کرتے ، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو بے نام و نشان سمجھتےہیں، انہیں مٹانے والے خود مٹ جاتے ہیں اور جن کے عشق میں یہ بے نام و نشان لوگ مٹ جاتے ہیں وہ انہیں ایسا چمکاتے ہیں اور ایسا نام و نشان عطا کرتے ہیں کہ انکی چمک اور ان سے ضیاء حاصل کرنے والے ذرے بھی آفتاب و ماہتاب بن جاتے ہیں اور ان کے نام لیوا شہرت و ناموری کے بام رفعت پر کمندیں ڈالتے ہیں اور آسمان شہرت پر اپنی عظمت کا پھریرہ لہراتے ہیں ۔
ایسی ہی شخصیتوں میں ایک شخصیت اسلامی چودھویں صدی کے عظیم مجدد، بریلی کے فاضل امام احمد رضا نور اللہ مرقدہ کی بھی ہے ان کی حیات ظاہری میں عجم ہی نہیں بلکہ عرب کے مشاہیر نے ایک سے بڑھکر ایک باوقار، پاکیزہ اور حسن القاب وآداب سے یاد کیا اور آج بھی ناموران زمانہ انہیں گراں قدر مطہر اور منور القاب سے یاد کرتے چلے جا رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے خود کو سدا بے نام و نشان ہی سمجھا۔ لیکن یہ بھی یقین تھا کہ
بے نشانوں کا نشان مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا
یہ تو امام احمد رضا کا انکسار تھا ورنہ امام کا نام تو حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا کرنے والی کسوٹی ہے، اگر امام احمد رضا کا نام سن کر چہرے پر خوشی طاری ہو جائے تو سمجھ لیجئے غلام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور اگر پیشانی پر کوئی شکن آ جائے تو جان جائیے کہ بد مذہب اور گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اور وہ امام ہیں ۔ ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ جو حقیقتاً ان کا نام نہیں بلکہ لقب ہے۔ لیکن امام کا علم بن کر رہ گیا۔ اور ان کے نام نامی اسم گرامی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اور آج جب بھی لفظ ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ سماعت کے جہان میں داخل ہوتا ہے تو ذہن رام پور یا حیدر آباد کے نوابین یا کسی اور شخصیت کی طرف نہیں جاتا بلکہ بریلی کے فاضل امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہی کی طرف مبذول ہو جاتا ہے۔
1:- لقب اعلٰی حضرت کی تحقیق
یہ بات کلی طور پر پایہ تحقیق کو نہیں پہنچ سکی کہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو پہلی بار کب اور کس نے اعلٰی حضرت کہا - البتہ یہ بات ضرور ثابت ہے کہ انہیں ان کی حیات میں ہی اعلٰی حضرت کہا، اور لکھا جانے لگا تھا، تحفہ حنفیہ پٹنہ کے شماروں سے پتہ چلتا ہے کہ 1323 ء سے آپ کے لئے ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ لکھا جانا شروع ہوا۔ تحفہ حنفیہ جلد 9 پرچہ نمبر 4 بابت ماہ ربیع الآخر 1323 ء میں امام احمد رضا احمد رحمۃ اللہ علیہ کے لئے ‘‘مجدد مائۃ حاضرہ، موئید ملت طاہرہ، جامع معقول و منقول، حاوی فروغ و اصول، عالم اہلسنت ، اعلٰیحضرت، اعلم علمائے زماں، مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب مد ظلہ رب العالمین وصانہ عن شرور الحاسدین لکھا گیا۔
فتاوٰی رضویہ کی مختلف جلدوں میں بھی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے مریدین نے ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ لکھا ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ جلد ششم، رسالہ حجب العوار عن مخدوم بہار اور ‘‘اعلٰی حضرت ‘‘ کے ساتھ عظیم البرکت بھی لکھا گیا ہے۔ ممکن ہے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو 1323 ھ 1905 ء سے پہلے بھی ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ کہا گیا ہو۔ کیونکہ انہیں 1318ھ 1900ء میں پٹنہ کے روندوہ کے اجلاس میں پہلی بار حضرت علامہ مولانا عبد المقتدر بدایونی علیہ الرحمہ نے مشاہیر علماء فضلاء کی موجودگی میں مجدد کہا تھا الفاظ اس طرح ہیں۔
جناب عالم اہلسنت، مجدد مائۃ حاضرہ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی ( دبدبہ سکندری رام پور 11 اکتوبر 1948ء ص 5 ‘‘‘ چودھویں صدی کے مجدد‘‘‘ از ملک العلماء علامہ ظفر الدین قادری ص 11 )
بہر حال اگر امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو اعلٰی حضرت کہا گیا تو 1388ھ کے بعد ہی کہا گیا ۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے لئے اعلٰی حضرت کہے جانےپر حاسدین و اعدائے دین کو سخت اعتراض ہے ۔ حالانکہ ظالمان زمانہ نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کو اعلٰی حضرت کہا اور لکھا ہے۔ اور عاشق الہٰی میرٹھی نے اپنی تالیف تذکرۃ الخلیل میں مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کو اعلٰی حضرت لکھا ہے۔ یہی دنیا ساز دین کے دشمن رام پور اور حیدر آباد کے نوابین کو تو بڑے فخر سے اعلٰی حضرت کہا کرتے تھے۔ لیکن جب ایک غیرت مند عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ایک غلام مصطفٰٰی، عبد المصطفٰی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ کہا جاتا ہے تو جل اٹھتے ہیں۔
‘‘اعلٰی حضرت‘‘ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ایسا نام اور آپ کی ایسی پہچان بن گیا ہے۔ جو امر ہے۔ زندہ ہے۔ اور رہتی دنیا تک چودھویں صدی ہجری کے اس مجدد عاشق مصطفٰی اور عبد المصطفٰی کو زمانہ ‘‘اعلٰی حضرت‘‘ کہہ کر یاد کرتا رہے گا۔
2:-مجدد:-