Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#منی_لائبریری_پروجیکٹ
ماشاءاللہ تعالیٰ آج سے روشن مستقبل دہلی کے منی لائبریری پروجیکٹ کے تحت کتابیں بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
جو بھائی اپنی مساجد کے لیے اس پروجیکٹ کے تحت کتابیں منگانا چاہیں وہ ہم سے رابطہ کریں۔
پورے سیٹ میں 55 کتابیں ہیں جن کو آپ کے گھر پہنچا کر قیمت 2000 روپے ہے۔
#نوٹ: آپ اپنی پسند کی کتابیں بھی منگا سکتے ہیں۔ اگر ہماری فہرست میں سے کوئی کتاب آپ کے پاس موجود ہو تو آپ اس کے بدلے دوسری کتاب آڈر کرسکتے ہیں بس اس کتاب کی قیمت اگر زیادہ ہوئی تو اتنا بڑھ جائے گا اور کم ہوئی تو کم ہو جائے گا۔
رابطہ: زبیر قادری (سنی پبلیکیشن)
9867934085
منجانب: روشن مستقبل، دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/784889972081523/
ماشاءاللہ تعالیٰ آج سے روشن مستقبل دہلی کے منی لائبریری پروجیکٹ کے تحت کتابیں بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
جو بھائی اپنی مساجد کے لیے اس پروجیکٹ کے تحت کتابیں منگانا چاہیں وہ ہم سے رابطہ کریں۔
پورے سیٹ میں 55 کتابیں ہیں جن کو آپ کے گھر پہنچا کر قیمت 2000 روپے ہے۔
#نوٹ: آپ اپنی پسند کی کتابیں بھی منگا سکتے ہیں۔ اگر ہماری فہرست میں سے کوئی کتاب آپ کے پاس موجود ہو تو آپ اس کے بدلے دوسری کتاب آڈر کرسکتے ہیں بس اس کتاب کی قیمت اگر زیادہ ہوئی تو اتنا بڑھ جائے گا اور کم ہوئی تو کم ہو جائے گا۔
رابطہ: زبیر قادری (سنی پبلیکیشن)
9867934085
منجانب: روشن مستقبل، دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/784889972081523/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تعلیم و اعتقاد ـــــ سرسید کی زندگی کے دواہم انقلابی پہلو
------------------------
🖌تحریر: #فیضان-سرور-مصباحی
-----------------------
سر سید کی زندگی کا مطالعہ کریں تو دو اہم گوشے نظر آتے ہیں. جو شروع سے بحث ومباحثے کا موضوع بنے رہے. اور ان میں سے فقط ایک کا تذکرہ اور دوسرے سے صرف نظر نکتہ چینی کا سبب رہا اور آخرش بحث تٗـوتـٗو مَـیں مَـیں تک پہنچ کر مُنتِـج ہوئی .
ان دو میں سے اول تو:
1_تعلیمی انقلاب : ہے جس کو مثبت اور قابل تعریف مانا جاتا ہے . چناں چہ "علی گڑھ مسلم یونیورسٹی" کا قیام اور اس کے حوالے سے ان کی جدوجہد ہمیشہ سے تعریف وتحسین کے حصار میں رہی ہے . بلکہ آگے بڑھ کر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تعلیمی میدان میں ان کی انتھک کوششیں نہ ہوتیں، تو بالخصوص مسلمانان ہند عصری میدانوں میں تعلیمی اعتبار اور بھی زیادہ پسماندگی کے شکار نظر آتے.
ان کی زندگی کا دوسرا اہم رخ
2_ اعتقادی انقلاب : ہے جوکہ منفی اور قابل مسترد ہے ؛ جس کے نتیجے میں"نیچریہ" نام سے ایک مستقل فرقہ وجود میں آیا . اور سر سید اس فرقہ کے بانی مبانی قرار پائے .
فقہ کی زبان اس کو یوں سمجھیں کہ اعتقادیات کے باب ان کے ایسے ایسے منفی افکار سامنے آئے کہ سیدھے ان سے اسلام کے مسلمہ عقیدے پر ضرب پڑتی ہے. اور ان کے نیچے میں سرسید "سرحدِاسلام" سے نکل کر "سرحدِکفر" میں چلے آتے ہیں.
اسی لیے اہل اسلام نے ان کے اعتقادی افکار کو کبھی قبول کیا اور نہ ہی قبول کیا جاسکتا ہے. حتیٰ کہ ان کی تحریک یا علمی چمن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ افراد کی اکثریت نے بھی کبھی ان اختراعی عقائد کو قبول نہیں کیا.
سر سید کی زندگی کے یہی دوپہلو ہیں، جن سے زیادہ بحث ہوتی ہے.
ایک طبقہ جو علم دوست یا مادیت پرست ہے اس کے نزدیک سرسید کی تعلیمی میدان میں ناقابل فراموش خدمات ہمیشہ لائقِ اعتناء ہوتی ہیں.
دوسرا طبقہ جو مذہب سے جڑا ہوا ہے، اور جن کے نزدیک مذہب ہی سب کچھ ہے.اور وہ مذہب سے ہٹ کر کسی کا وجود نہ قابلِ قبول مانتے ہیں ، اور نہ قابل قدر سمجھتے ہیں .
اس اعتبار سے دونوں اپنے اپنے فکری زاویے کے حساب سے یک طرفہ انداز میں سرسید کی خوب تعریفیں یا ان پر کڑی تنقیدیں کرتے ہیں. جس پر مخالف طبقہ اپنے موقف کو نہ پاکر کمنٹس کربیٹھتا ہے. پھر اس پر جذباتی نسل غیر مہذب و ناشائستہ جملوں کا سہارا لیتی ہے. اور یوں معاملہ ایک دوسرے کے خلاف دشمنی کی صورت اختیار کر لیتا ہے.
اس سلسلے میں اعتدال پسندی یہ ہے کہ یک طرفہ تبصرہ کے بجائے سرسید کی زندگی کے دونوں پہلوؤں کا تذکرہ کیا جائے، نہ صرف خوبیاں ہی خوبیاں بیان کی جائیں کہ مذہب سے دور رہنے والا ایک عام شخص، محض تعلیمی شخصیت و کارنامے کو نظر میں رکھ کر مرعوب ہوجائے اور دھیرے دھیرے فکری طور پر وہ اسلامی عقائد سے انحراف کا شکار ہونے لگے .
نہ یہ ہو کہ صرف عقائد کے بگاڑ کو ذکر کرنے میں لگے رہیں، اور تعلیمی جدو جہد کے حوالے سے بے مثال قربانیوں کو بھول جائیں.
یہ دونوں روش "راہ اعتدال" سے ہٹی ہوئی ہیں، اور افراط وتفریط کی راہ پر گامزن ہیں.
خلاصۂ گفتگو یہ ہے کہ تعلیمی زاویے اور اعتقادی خرابیاں دونوں کو سامنے رکھتے ہوئے سر سید اور ان کے علمی چمن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے رابطہ استوار رکھیں. جذبات میں آکر کسی کی بیش بہا خدمات کا اعتراف نہ کرنا ، یا دوچار دن کی زندگی کی خاطر محض کارناموں سے متاثر ہوکر اپنا درست اعتقادی وفکری قبلہ بدل لینا کہاں کی دانش مندی ہے.
اخیر میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ کارناموں کی تعریف یا سر سید کے اعتقادیات پر تنقید کے وقت اگر حالات کے تقاضوں کو سمجھ لیا جائے تو پھر ٹکراؤ کی صورت کم پیش آئے گی. بشرطیکہ سامنے والا بھی اسی قسم کا ہو کہ وہ محض کارناموں کی بنیاد پر کچھ لکھ بول رہا ہو. ورنہ جذباتی انداز میں انسانی فطرت کبھی کبھی مغفرت اور کلمۂ ترحم کی طرف کھینچ لے آتی ہے ، جو کہ سراسر گھاٹے کا سودا ہے.
کا رہا دادیم حاصل شد فراغ
مـاعلیـنـا یا أخی إلا الـبـلاغ
#فیضان_سرور_مصباحی
19/ اکتوبر 2019ء
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/787016378535549/
------------------------
🖌تحریر: #فیضان-سرور-مصباحی
-----------------------
سر سید کی زندگی کا مطالعہ کریں تو دو اہم گوشے نظر آتے ہیں. جو شروع سے بحث ومباحثے کا موضوع بنے رہے. اور ان میں سے فقط ایک کا تذکرہ اور دوسرے سے صرف نظر نکتہ چینی کا سبب رہا اور آخرش بحث تٗـوتـٗو مَـیں مَـیں تک پہنچ کر مُنتِـج ہوئی .
ان دو میں سے اول تو:
1_تعلیمی انقلاب : ہے جس کو مثبت اور قابل تعریف مانا جاتا ہے . چناں چہ "علی گڑھ مسلم یونیورسٹی" کا قیام اور اس کے حوالے سے ان کی جدوجہد ہمیشہ سے تعریف وتحسین کے حصار میں رہی ہے . بلکہ آگے بڑھ کر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تعلیمی میدان میں ان کی انتھک کوششیں نہ ہوتیں، تو بالخصوص مسلمانان ہند عصری میدانوں میں تعلیمی اعتبار اور بھی زیادہ پسماندگی کے شکار نظر آتے.
ان کی زندگی کا دوسرا اہم رخ
2_ اعتقادی انقلاب : ہے جوکہ منفی اور قابل مسترد ہے ؛ جس کے نتیجے میں"نیچریہ" نام سے ایک مستقل فرقہ وجود میں آیا . اور سر سید اس فرقہ کے بانی مبانی قرار پائے .
فقہ کی زبان اس کو یوں سمجھیں کہ اعتقادیات کے باب ان کے ایسے ایسے منفی افکار سامنے آئے کہ سیدھے ان سے اسلام کے مسلمہ عقیدے پر ضرب پڑتی ہے. اور ان کے نیچے میں سرسید "سرحدِاسلام" سے نکل کر "سرحدِکفر" میں چلے آتے ہیں.
اسی لیے اہل اسلام نے ان کے اعتقادی افکار کو کبھی قبول کیا اور نہ ہی قبول کیا جاسکتا ہے. حتیٰ کہ ان کی تحریک یا علمی چمن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ افراد کی اکثریت نے بھی کبھی ان اختراعی عقائد کو قبول نہیں کیا.
سر سید کی زندگی کے یہی دوپہلو ہیں، جن سے زیادہ بحث ہوتی ہے.
ایک طبقہ جو علم دوست یا مادیت پرست ہے اس کے نزدیک سرسید کی تعلیمی میدان میں ناقابل فراموش خدمات ہمیشہ لائقِ اعتناء ہوتی ہیں.
دوسرا طبقہ جو مذہب سے جڑا ہوا ہے، اور جن کے نزدیک مذہب ہی سب کچھ ہے.اور وہ مذہب سے ہٹ کر کسی کا وجود نہ قابلِ قبول مانتے ہیں ، اور نہ قابل قدر سمجھتے ہیں .
اس اعتبار سے دونوں اپنے اپنے فکری زاویے کے حساب سے یک طرفہ انداز میں سرسید کی خوب تعریفیں یا ان پر کڑی تنقیدیں کرتے ہیں. جس پر مخالف طبقہ اپنے موقف کو نہ پاکر کمنٹس کربیٹھتا ہے. پھر اس پر جذباتی نسل غیر مہذب و ناشائستہ جملوں کا سہارا لیتی ہے. اور یوں معاملہ ایک دوسرے کے خلاف دشمنی کی صورت اختیار کر لیتا ہے.
اس سلسلے میں اعتدال پسندی یہ ہے کہ یک طرفہ تبصرہ کے بجائے سرسید کی زندگی کے دونوں پہلوؤں کا تذکرہ کیا جائے، نہ صرف خوبیاں ہی خوبیاں بیان کی جائیں کہ مذہب سے دور رہنے والا ایک عام شخص، محض تعلیمی شخصیت و کارنامے کو نظر میں رکھ کر مرعوب ہوجائے اور دھیرے دھیرے فکری طور پر وہ اسلامی عقائد سے انحراف کا شکار ہونے لگے .
نہ یہ ہو کہ صرف عقائد کے بگاڑ کو ذکر کرنے میں لگے رہیں، اور تعلیمی جدو جہد کے حوالے سے بے مثال قربانیوں کو بھول جائیں.
یہ دونوں روش "راہ اعتدال" سے ہٹی ہوئی ہیں، اور افراط وتفریط کی راہ پر گامزن ہیں.
خلاصۂ گفتگو یہ ہے کہ تعلیمی زاویے اور اعتقادی خرابیاں دونوں کو سامنے رکھتے ہوئے سر سید اور ان کے علمی چمن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے رابطہ استوار رکھیں. جذبات میں آکر کسی کی بیش بہا خدمات کا اعتراف نہ کرنا ، یا دوچار دن کی زندگی کی خاطر محض کارناموں سے متاثر ہوکر اپنا درست اعتقادی وفکری قبلہ بدل لینا کہاں کی دانش مندی ہے.
اخیر میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ کارناموں کی تعریف یا سر سید کے اعتقادیات پر تنقید کے وقت اگر حالات کے تقاضوں کو سمجھ لیا جائے تو پھر ٹکراؤ کی صورت کم پیش آئے گی. بشرطیکہ سامنے والا بھی اسی قسم کا ہو کہ وہ محض کارناموں کی بنیاد پر کچھ لکھ بول رہا ہو. ورنہ جذباتی انداز میں انسانی فطرت کبھی کبھی مغفرت اور کلمۂ ترحم کی طرف کھینچ لے آتی ہے ، جو کہ سراسر گھاٹے کا سودا ہے.
کا رہا دادیم حاصل شد فراغ
مـاعلیـنـا یا أخی إلا الـبـلاغ
#فیضان_سرور_مصباحی
19/ اکتوبر 2019ء
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/787016378535549/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رَسُولَ الله صَلَّی الله عَلَيْه وَسَلَّم قَال: «لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرو۔
(مسلم: 3811)
#MissionPaighameMustafa
@RMustaqbil
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/788391558398031/
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرو۔
(مسلم: 3811)
#MissionPaighameMustafa
@RMustaqbil
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/788391558398031/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سوشل_میڈیا_کا_خوب_صورت_جال!!
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
انٹرنیٹ کی ہمہ گیریت اور ٹکنالوجی کی وسعت نے زندگی میں بہت ساری آسانیاں پیدا کردی ہیں۔زمانے بھر کی وسعتیں سمٹ کر آپ کی ہتھیلی میں آگئی ہیں۔لیکن جیسے جیسے ٹکنالوجی کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے ویسے ویسے ہماری سوچ وفکر اور شخصی آزادی ختم سی ہوتی جارہی ہے۔یہ عمل اتنی غیر محسوس طریقے سے ہورہا ہے کہ ہم اس کا ادراک تک نہیں کر پارہے ہیں۔سوشل میڈیا نے ہمیں مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔بچے ہوں کہ بوڑھے، جو ایک بار اس سمندر میں اترا وہ واپس نہیں آسکا۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی زیادہ تر خدمات (services) فری ہیں۔آپ کو انٹرنیشنل کال کرنا پڑے تو کافی دام چکانا پڑتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر یہ خدمت ایک دم مفت ہے۔کسی کو خط لکھنے کے لیے بھی کئی روپے خرچنے پڑتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کی مہربانی سے برقی خط (E Mail) مفت اور نہایت آسانی سے دنیا میں کہیں بھی بھیجا اور وصول کیا جاسکتا ہے وہ بھی چند سیکنڈ میں!
سوشل میڈیا آپ کو فیس بک، واٹس اپ اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارم مہیا کراتا ہے جہاں آپ دنیا بھر کے افراد تک رسائی حاصل کرکے شہرت حاصل کر سکتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں یہ پلیٹ فارم آپ کو ایک متعین ضابطے کے تحت کمائی کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔کیا ہم نے غور کیا کہ جب آف لائن کال مہنگی ہے تو آن لائن کال فری کیوں ہے؟
جس فیس بک واٹس اپ پر ہم زمانے بھر سے دوستیاں کرتے ہیں۔آڈیو/ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں، آخر یہ کمپنیاں لاکھوں کروڑوں افراد کو یہ خدمت مفت میں کس لیے فراہم کرتی ہیں؟
ان کے پاس قارون کا خزانہ ہے یا وہ حاتم طائی کی اولاد ہیں؟
جبکہ ان کمپنیوں کا پہلا اور آخری مقصد ہی پیسہ کمانا ہے۔اپنی خدمات (services) کے عوض لاکھوں نہیں اربوں، کھربوں روپے کماتی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق گوگل کی فی منٹ کمائی 39 ہزار 480 ڈالر ہے جس کی انڈین قیمت 25 لاکھ 39 ہزار روپے ہوتی ہے۔فیس بک فی منٹ 4 ہزار آٹھ سو سات ڈالر کماتا ہے جس کی انڈین کرنسی 3 لاکھ 12 ہزار روپے ہوتی ہے۔اب یہ کمائی ہوتی کیسے ہے؟
اس کو سمجھ لیں گے تب آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کو مفت سروس کیوں فراہم کی جاتی ہے۔اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ ایڈورٹائزر ان کمپنیوں کو یہ سارا پیسہ دیتے ہیں۔جس کی وجہ سے سوشل میڈیا کمپنیاں مفت خدمات فراہم کرتی ہیں۔
ایڈورٹائزر ان کمپنیوں کو اتنا پیسہ کیوں دیتے ہیں اور یہ کمپنیاں اس پیسے کے عوض کیا بیچتی ہیں؟
یہ وہ سوال ہے جس کے جواب سے سوشل میڈیا کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ایڈورٹائزر کمپنیاں چاہتی ہیں کہ ان کے تیار کردہ پروڈکٹس زیادہ سے زیادہ فروخت ہوں۔ اس کے لیے انہیں گاہکوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ہر گاہک الگ الگ ذہن کا ہوتا ہے تو کس گاہک کو کیا پسند ہے اس کا پتہ چل جائے تو چیزیں بیچنا مزید آسان ہوجاتا ہے۔ایڈورٹائزر کی اس ضرورت کو سوشل میڈیا کمپنیاں پورا کرتی ہیں اور ایڈورٹائزر کو اپنے صارفین کا ڈاٹا بیچتی ہیں۔اسی کے عوض اربوں کھربوں روپے کماتی ہیں۔ڈاٹا جتنا زیادہ مستند اور قابل اعتبار ہوگا اس کی قیمت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ڈاٹا کو مستند بنانے کے لیے پہلا مرحلہ انٹرنیٹ یوزر کو جاننا ہے۔اس کے لیے سوشل میڈیا کمپنیاں ہماری ٹریکنگ کرتی ہیں، مثلاً ہم کس طرح کی پوسٹ لگاتے ہیں، کن پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں۔ کس مزاج کے لوگوں کو فالو کرتے ہیں۔کس طرح کے ویڈیوز دیکھتے ہیں، کون سا ویڈیو زیادہ دیکھتے ہیں، کس طرح کا تبصرہ کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر گزارا ہوا ایک ایک لمحہ ریکارڈ ہوتا ہے۔ڈاٹا کلکشن کے بعد اسے مانیٹر کیا جاتا ہے۔اسی بنیاد پر سوشل میڈیا کمپنیاں ہمارے نظریات ، پسند و ناپسند اور عادتوں سے بخوبی واقف ہوجاتی ہیں۔ایک طرح سے ہماری شخصیت کے مختلف پہلو ان کی علم میں آجاتے ہیں۔انہیں معلومات کے سہارے آپ کے ارد گرد ویسا ہی مواد پیش کیا جاتا ہے، مثلاً آپ یوٹیوب پر کسی نیوز چینل کو کئی مرتبہ دیکھ لیں تو یوٹیوب لگاتار اسی کی ویڈیو پیش کرتا ہے۔آپ کچھ دن کرکٹ کی ویڈیو دیکھ لیں تو لگاتار کرکٹ کی ویڈیو آتی رہتی ہیں۔ایک جیسی ویڈیو کا آنا اتفاقی نہیں ہے بلکہ آپ کی عادت کو مانیٹر کر لیا گیا ہے۔اس کے بعد کمپنی کا پہلا کام ہوتا ہے آپ کو سوشل میڈیا پر مصروف رکھنا۔آپ کی نفسیات کے مد نظر آپ کو کئی چیزوں میں مصروف رکھا جاتا ہے، مثلاً آپ فیس بک چلاتے ہیں تو درمیان میں Suggested for you کے تحت کچھ ویڈیو وغیرہ آتی ہیں۔یہ ویڈیو کیوں آتی ہیں نام سے ہی ظاہر ہے یعنی ڈزائنر نے وہ ویڈیو آپ کے لیے ہی تجویز کی ہے۔اب انسان آہستہ آہستہ سوشل میڈیا پر مصروف ہوتا جاتا ہے۔پانچ دس منٹ کا ارادہ ہوتا ہے لیکن ایک گھنٹہ کب گزر جاتا ہے پتہ ہی نہیں لگتا۔یہی مصروفیت آہستہ آہستہ Addiction (لَت) میں بدل جاتی ہے۔بڑے بزرگ کہتے ہیں عادتوں کا بدلنا آسان ہے مگر لَت کا بدلنا بہت مشکل، مشہور محاورہ ہے "جسے باہر کے کھانے کی لَت لگ جائے اسے گھر کا دیسی گھی بھی اچھا نہیں لگتا۔
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
انٹرنیٹ کی ہمہ گیریت اور ٹکنالوجی کی وسعت نے زندگی میں بہت ساری آسانیاں پیدا کردی ہیں۔زمانے بھر کی وسعتیں سمٹ کر آپ کی ہتھیلی میں آگئی ہیں۔لیکن جیسے جیسے ٹکنالوجی کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے ویسے ویسے ہماری سوچ وفکر اور شخصی آزادی ختم سی ہوتی جارہی ہے۔یہ عمل اتنی غیر محسوس طریقے سے ہورہا ہے کہ ہم اس کا ادراک تک نہیں کر پارہے ہیں۔سوشل میڈیا نے ہمیں مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔بچے ہوں کہ بوڑھے، جو ایک بار اس سمندر میں اترا وہ واپس نہیں آسکا۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی زیادہ تر خدمات (services) فری ہیں۔آپ کو انٹرنیشنل کال کرنا پڑے تو کافی دام چکانا پڑتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر یہ خدمت ایک دم مفت ہے۔کسی کو خط لکھنے کے لیے بھی کئی روپے خرچنے پڑتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کی مہربانی سے برقی خط (E Mail) مفت اور نہایت آسانی سے دنیا میں کہیں بھی بھیجا اور وصول کیا جاسکتا ہے وہ بھی چند سیکنڈ میں!
سوشل میڈیا آپ کو فیس بک، واٹس اپ اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارم مہیا کراتا ہے جہاں آپ دنیا بھر کے افراد تک رسائی حاصل کرکے شہرت حاصل کر سکتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں یہ پلیٹ فارم آپ کو ایک متعین ضابطے کے تحت کمائی کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔کیا ہم نے غور کیا کہ جب آف لائن کال مہنگی ہے تو آن لائن کال فری کیوں ہے؟
جس فیس بک واٹس اپ پر ہم زمانے بھر سے دوستیاں کرتے ہیں۔آڈیو/ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں، آخر یہ کمپنیاں لاکھوں کروڑوں افراد کو یہ خدمت مفت میں کس لیے فراہم کرتی ہیں؟
ان کے پاس قارون کا خزانہ ہے یا وہ حاتم طائی کی اولاد ہیں؟
جبکہ ان کمپنیوں کا پہلا اور آخری مقصد ہی پیسہ کمانا ہے۔اپنی خدمات (services) کے عوض لاکھوں نہیں اربوں، کھربوں روپے کماتی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق گوگل کی فی منٹ کمائی 39 ہزار 480 ڈالر ہے جس کی انڈین قیمت 25 لاکھ 39 ہزار روپے ہوتی ہے۔فیس بک فی منٹ 4 ہزار آٹھ سو سات ڈالر کماتا ہے جس کی انڈین کرنسی 3 لاکھ 12 ہزار روپے ہوتی ہے۔اب یہ کمائی ہوتی کیسے ہے؟
اس کو سمجھ لیں گے تب آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کو مفت سروس کیوں فراہم کی جاتی ہے۔اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ ایڈورٹائزر ان کمپنیوں کو یہ سارا پیسہ دیتے ہیں۔جس کی وجہ سے سوشل میڈیا کمپنیاں مفت خدمات فراہم کرتی ہیں۔
ایڈورٹائزر ان کمپنیوں کو اتنا پیسہ کیوں دیتے ہیں اور یہ کمپنیاں اس پیسے کے عوض کیا بیچتی ہیں؟
یہ وہ سوال ہے جس کے جواب سے سوشل میڈیا کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ایڈورٹائزر کمپنیاں چاہتی ہیں کہ ان کے تیار کردہ پروڈکٹس زیادہ سے زیادہ فروخت ہوں۔ اس کے لیے انہیں گاہکوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ہر گاہک الگ الگ ذہن کا ہوتا ہے تو کس گاہک کو کیا پسند ہے اس کا پتہ چل جائے تو چیزیں بیچنا مزید آسان ہوجاتا ہے۔ایڈورٹائزر کی اس ضرورت کو سوشل میڈیا کمپنیاں پورا کرتی ہیں اور ایڈورٹائزر کو اپنے صارفین کا ڈاٹا بیچتی ہیں۔اسی کے عوض اربوں کھربوں روپے کماتی ہیں۔ڈاٹا جتنا زیادہ مستند اور قابل اعتبار ہوگا اس کی قیمت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ڈاٹا کو مستند بنانے کے لیے پہلا مرحلہ انٹرنیٹ یوزر کو جاننا ہے۔اس کے لیے سوشل میڈیا کمپنیاں ہماری ٹریکنگ کرتی ہیں، مثلاً ہم کس طرح کی پوسٹ لگاتے ہیں، کن پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں۔ کس مزاج کے لوگوں کو فالو کرتے ہیں۔کس طرح کے ویڈیوز دیکھتے ہیں، کون سا ویڈیو زیادہ دیکھتے ہیں، کس طرح کا تبصرہ کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر گزارا ہوا ایک ایک لمحہ ریکارڈ ہوتا ہے۔ڈاٹا کلکشن کے بعد اسے مانیٹر کیا جاتا ہے۔اسی بنیاد پر سوشل میڈیا کمپنیاں ہمارے نظریات ، پسند و ناپسند اور عادتوں سے بخوبی واقف ہوجاتی ہیں۔ایک طرح سے ہماری شخصیت کے مختلف پہلو ان کی علم میں آجاتے ہیں۔انہیں معلومات کے سہارے آپ کے ارد گرد ویسا ہی مواد پیش کیا جاتا ہے، مثلاً آپ یوٹیوب پر کسی نیوز چینل کو کئی مرتبہ دیکھ لیں تو یوٹیوب لگاتار اسی کی ویڈیو پیش کرتا ہے۔آپ کچھ دن کرکٹ کی ویڈیو دیکھ لیں تو لگاتار کرکٹ کی ویڈیو آتی رہتی ہیں۔ایک جیسی ویڈیو کا آنا اتفاقی نہیں ہے بلکہ آپ کی عادت کو مانیٹر کر لیا گیا ہے۔اس کے بعد کمپنی کا پہلا کام ہوتا ہے آپ کو سوشل میڈیا پر مصروف رکھنا۔آپ کی نفسیات کے مد نظر آپ کو کئی چیزوں میں مصروف رکھا جاتا ہے، مثلاً آپ فیس بک چلاتے ہیں تو درمیان میں Suggested for you کے تحت کچھ ویڈیو وغیرہ آتی ہیں۔یہ ویڈیو کیوں آتی ہیں نام سے ہی ظاہر ہے یعنی ڈزائنر نے وہ ویڈیو آپ کے لیے ہی تجویز کی ہے۔اب انسان آہستہ آہستہ سوشل میڈیا پر مصروف ہوتا جاتا ہے۔پانچ دس منٹ کا ارادہ ہوتا ہے لیکن ایک گھنٹہ کب گزر جاتا ہے پتہ ہی نہیں لگتا۔یہی مصروفیت آہستہ آہستہ Addiction (لَت) میں بدل جاتی ہے۔بڑے بزرگ کہتے ہیں عادتوں کا بدلنا آسان ہے مگر لَت کا بدلنا بہت مشکل، مشہور محاورہ ہے "جسے باہر کے کھانے کی لَت لگ جائے اسے گھر کا دیسی گھی بھی اچھا نہیں لگتا۔
"
ایک بار لَت لگ جاتی ہے تو اسے سوشل میڈیا کے بغیر چین نہیں پڑتا۔ڈاٹا پیک ختم ہوجائے تو بے قرار ہوجاتا ہے۔رات رات بھر جاگتا ہے۔محفل میں ہو یا اکیلے نگاہ ہمیشہ موبائل پر رہتی ہے کس نے کیا بھیجا، کس نے لائک کیا اور کس نے کمنٹ کیا۔ایسے ایسے لَتی دیکھنے میں آتے ہیں جو دن میں 18/20 گھنٹے تک سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔کیا کھاتے ہیں، کیا پہنتے ہیں، کہاں جاتے ہیں سب کچھ سوشل میڈیا پر بیان کرتے ہیں۔اب کمپنیاں ایسے ہی افراد کو نگاہ میں رکھ کر مختلف چیزوں کی جانب رغبت دلاتی ہیں۔اور ایڈورٹائزر کمپنیوں کو اپنے پروڈکٹس کے لیے مطلوبہ گراہک مل جاتے ہیں۔اس طرح ایڈورٹائزر اور سوشل میڈیا کمپنیاں دونوں سالانہ اربوں کھربوں روپے کماتی ہیں لیکن سوشل میڈیا کا رسیا وقت، پیسہ اور صحت تینوں کو ضائع کرتا جاتا ہے اور جب ہوش آتا ہے تو آنکھوں پر بڑا سا چشمہ اور ٹیبل پر چَوَن پراش کا ڈبہ نظر آتا ہے۔اس سب کے باوجود سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور لوگ دیوانہ وار اس طلسم ہوش ربا کی وادیوں میں مست وبے خود ہیں۔
یکم ربیع الاول 1442ھ
19 اکتوبر 2020 بروز پیر
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/788494018387785/
ایک بار لَت لگ جاتی ہے تو اسے سوشل میڈیا کے بغیر چین نہیں پڑتا۔ڈاٹا پیک ختم ہوجائے تو بے قرار ہوجاتا ہے۔رات رات بھر جاگتا ہے۔محفل میں ہو یا اکیلے نگاہ ہمیشہ موبائل پر رہتی ہے کس نے کیا بھیجا، کس نے لائک کیا اور کس نے کمنٹ کیا۔ایسے ایسے لَتی دیکھنے میں آتے ہیں جو دن میں 18/20 گھنٹے تک سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔کیا کھاتے ہیں، کیا پہنتے ہیں، کہاں جاتے ہیں سب کچھ سوشل میڈیا پر بیان کرتے ہیں۔اب کمپنیاں ایسے ہی افراد کو نگاہ میں رکھ کر مختلف چیزوں کی جانب رغبت دلاتی ہیں۔اور ایڈورٹائزر کمپنیوں کو اپنے پروڈکٹس کے لیے مطلوبہ گراہک مل جاتے ہیں۔اس طرح ایڈورٹائزر اور سوشل میڈیا کمپنیاں دونوں سالانہ اربوں کھربوں روپے کماتی ہیں لیکن سوشل میڈیا کا رسیا وقت، پیسہ اور صحت تینوں کو ضائع کرتا جاتا ہے اور جب ہوش آتا ہے تو آنکھوں پر بڑا سا چشمہ اور ٹیبل پر چَوَن پراش کا ڈبہ نظر آتا ہے۔اس سب کے باوجود سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور لوگ دیوانہ وار اس طلسم ہوش ربا کی وادیوں میں مست وبے خود ہیں۔
یکم ربیع الاول 1442ھ
19 اکتوبر 2020 بروز پیر
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/788494018387785/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کسی نے کیا خوب کہا:
لا تنقل الى صديقك ما يؤلم نفسه ، ولا ينتفع بمعرفته ؛ فهذا فعل الاراذل ۔
اپنے دوست کو وہ باتیں نہ بتا جن کا جاننا اُس کے لیے نفع بخش نہیں ، باعثِ تکلیف ہو ؛ کیوں کہ اِس طرح کرنا گھٹیا قسم کے لوگوں کا کام ہے ۔
( مداواۃ النفوس و تہذیب الاخلاق ، ص 50 ، ط المکتبۃ السلفیۃ مدینۃ المنورۃ )
اپنے دوستوں کو اپنی زبان سے بھی راحت پہنچانی چاہیے ، اُن سے وہی بات کرنی چاہیے جو اُن کی قلبی اذیت کاسبب نہ بنے ۔
بعض دوستوں کو کوئی رکھ رکھاؤ نہیں آتا ، وہ جیسی کیسی آئے ، منھ سے نکال دیتے ہیں ۔
پھر ایسا کرتے ہوئے کوئی شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتے ، بلکہ اِسے بہادری اور حق گوئی سمجھتے ہیں ؛ جب کہ یہ حق گوئی اور بہادری نہیں ۔
عربی زبان کا مشہور مقولہ ہے:
لکل مقام مقال ، ولکل مقال رجال ، ولکل رجال مجال ۔
ہر جگہ کے لیے ایک مناسب گفتگو ہوتی ہے ، اور ہر گفتگو کے لیے کچھ خاص مرد ہوتے ہیں ، اور ہر مرد کے لیے کچھ کہنے کی گنجائش ہوتی ہے ۔
✍️لقمان شاہد
8-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2976402575973245&id=100008105947430
لا تنقل الى صديقك ما يؤلم نفسه ، ولا ينتفع بمعرفته ؛ فهذا فعل الاراذل ۔
اپنے دوست کو وہ باتیں نہ بتا جن کا جاننا اُس کے لیے نفع بخش نہیں ، باعثِ تکلیف ہو ؛ کیوں کہ اِس طرح کرنا گھٹیا قسم کے لوگوں کا کام ہے ۔
( مداواۃ النفوس و تہذیب الاخلاق ، ص 50 ، ط المکتبۃ السلفیۃ مدینۃ المنورۃ )
اپنے دوستوں کو اپنی زبان سے بھی راحت پہنچانی چاہیے ، اُن سے وہی بات کرنی چاہیے جو اُن کی قلبی اذیت کاسبب نہ بنے ۔
بعض دوستوں کو کوئی رکھ رکھاؤ نہیں آتا ، وہ جیسی کیسی آئے ، منھ سے نکال دیتے ہیں ۔
پھر ایسا کرتے ہوئے کوئی شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتے ، بلکہ اِسے بہادری اور حق گوئی سمجھتے ہیں ؛ جب کہ یہ حق گوئی اور بہادری نہیں ۔
عربی زبان کا مشہور مقولہ ہے:
لکل مقام مقال ، ولکل مقال رجال ، ولکل رجال مجال ۔
ہر جگہ کے لیے ایک مناسب گفتگو ہوتی ہے ، اور ہر گفتگو کے لیے کچھ خاص مرد ہوتے ہیں ، اور ہر مرد کے لیے کچھ کہنے کی گنجائش ہوتی ہے ۔
✍️لقمان شاہد
8-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2976402575973245&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض اہل علم اصرار کرتے ہیں کہ:
" انبیا علیھم السلام نے جو کافروں کے خلاف ہلاکت کی دعا کی تھی ، اُسے " بددعا " کہنا درست نہیں ، کیوں کہ بددعامیں لفظِ " بد" پایا جاتا ہے ، جس کا استعمال ناجائز اور گناہ ہے ۔ "
اس سلسلے میں عرض ہے کہ:
لفظِ بددعا پر دعاے ضرر کو ترجیح دینا ، اور بددعا کو گناہ پر محمول کرنا بلا دلیل ہے ۔
بددعا باقاعدہ ایک لفظ ہے ، جس کا اردو میں اطلاق اللہ ﷻ سے مانگی جانے والی اُس دعا پر ہوتا ہے جو کسی کے نقصان یا سزا کے لیے کی جائے ۔
اب اس سے " بد " کو الگ کرکے نئے معنے اخذ کرلینا کیسے درست ہوگیا !!
اس طرح اگر آدھے آدھے لفظ سے معنی آفرینی کی جائے تو بات بہت دور تک چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے تو آپ کا مختار: " دعاے ضرر " بھی نہیں بچ پاتا ، کیوں کہ یہ بھی " ایذا " کے معنے سے خالی نہیں ۔
انبیا علیھم السلام کی بعض دعاؤں کو کثیر علماے اہل سنت لفظِ بددعا سے تعبیر کرتے آئے ہیں ، اور اسے کسی قسم کی عُرفی و معنوی بے ادبی بھی قرار نہیں دیا ۔
فتاوی رضویہ شریف کی تئیسویں جلد کے ، صفحہ دو سواٹھارہ پر سیدی اعلی حضرت نوراللہ مرقدہ جیسے مودب نے بھی سیدنا موسی علیہ السلام کے متعلق یہ لفظ استعمال کیا ہے ۔
اس لیے اگر کوئی اردو خواں اِسے استعمال کرتا ہے تو اس پر جھٹ سے مرتکبِ ناجائز و گناہ کا فتوی نہیں لگادیناچاہیے ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
✍️لقمان شاہد
9-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2977888425824660&id=100008105947430
" انبیا علیھم السلام نے جو کافروں کے خلاف ہلاکت کی دعا کی تھی ، اُسے " بددعا " کہنا درست نہیں ، کیوں کہ بددعامیں لفظِ " بد" پایا جاتا ہے ، جس کا استعمال ناجائز اور گناہ ہے ۔ "
اس سلسلے میں عرض ہے کہ:
لفظِ بددعا پر دعاے ضرر کو ترجیح دینا ، اور بددعا کو گناہ پر محمول کرنا بلا دلیل ہے ۔
بددعا باقاعدہ ایک لفظ ہے ، جس کا اردو میں اطلاق اللہ ﷻ سے مانگی جانے والی اُس دعا پر ہوتا ہے جو کسی کے نقصان یا سزا کے لیے کی جائے ۔
اب اس سے " بد " کو الگ کرکے نئے معنے اخذ کرلینا کیسے درست ہوگیا !!
اس طرح اگر آدھے آدھے لفظ سے معنی آفرینی کی جائے تو بات بہت دور تک چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے تو آپ کا مختار: " دعاے ضرر " بھی نہیں بچ پاتا ، کیوں کہ یہ بھی " ایذا " کے معنے سے خالی نہیں ۔
انبیا علیھم السلام کی بعض دعاؤں کو کثیر علماے اہل سنت لفظِ بددعا سے تعبیر کرتے آئے ہیں ، اور اسے کسی قسم کی عُرفی و معنوی بے ادبی بھی قرار نہیں دیا ۔
فتاوی رضویہ شریف کی تئیسویں جلد کے ، صفحہ دو سواٹھارہ پر سیدی اعلی حضرت نوراللہ مرقدہ جیسے مودب نے بھی سیدنا موسی علیہ السلام کے متعلق یہ لفظ استعمال کیا ہے ۔
اس لیے اگر کوئی اردو خواں اِسے استعمال کرتا ہے تو اس پر جھٹ سے مرتکبِ ناجائز و گناہ کا فتوی نہیں لگادیناچاہیے ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
✍️لقمان شاہد
9-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2977888425824660&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کوئی چھے سات سال ہونے کو ہیں ، میرا ایک عزیز اٹھتے بیٹھتے اپنی بیوی کا شکوہ کرتا رہتا ہے ۔
جب اُس سے پوچھا جائے کہ تجھے بیوی سے مسئلہ کیا ہے ؟ تو کہتاہے:
" وہ میرا مزاج نہیں سمجھتی ۔ "
سوچنے کی بات ہے:
مزاج ہمارا ہے ، اِسے ہمارے سمجھائے بغیر کوئی دوسرا کیسے سمجھے گا !!
کمی ان میں نہیں جو ہمارا مزاج نہیں سمجھتے ، کمی ہم میں ہے کہ ہم اپنا مزاج دوسروں کو سمجھا نہیں پاتے ۔
میاں بیوی ہوں ، بہن بھائی ہوں ، دوست احباب ہوں ، یا رشتے دار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سے یہ امید رکھنے کے بجائے کہ:
یہ ہمارا مزاج سمجھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں خود انھیں اپنا مزاج سمجھانا چاہیے ۔
انھیں بتانا چاہیے کہ ہمیں کیا پسند ہے ، اور کیا ناپسند ۔
اور ایک دفعہ ہی بتاکر یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ حافظ ہوگئے ہیں ، بلکہ گاہے گاہے اچھے انداز سے یاد دہانی کراوتے رہنا چاہیے ۔
وہ دَور گیا جب لوگ مزاج شناس ہوتے تھے ، اب تو بتانے سے بھی سمجھ جائیں تو غنیمت ہے ۔
پہلے زمانے کے حکیم نبض نہیں ، چہرہ دیکھ کر ہی مرض بتا دیتے تھے ۔
لیکن اب ڈاکٹر ایک ہزار فیس لے کر بھی کچھ نہیں بتا سکتے ، جب تک لیبارٹری ٹیسٹ نہ دیکھ لیں ۔
اس لیے اگر رشتے ناطے نبھانا چاہتے ہیں تو حالات سےسمجھوتا کرنا سیکھیں ۔
ویسے بھی ساری کائنات کے ہادی ، اللہ کے پیارے رسول ﷺ کا فرمان ہے:
إِذَا اَحَبَّ الرَّجُل أَخَاهُ ، فَلْيُخْبِرْهُ اَنَّهُ يُحِبُّهُ ۔
جب کوئی بندہ اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے بتادے کہ میں تیرے ساتھ محبت کرتا ہوں ۔
( ابو داود شریف ، ر 5124 )
آپ اس حدیث پاک پر غور کریں گے تو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا ، مثلاً:
¹ کسی سے محبت جیسا جذبہ نہیں چھپانا چاہیے ، اسے کیا معلوم آپ کے دلی جذبات کیا ہیں ۔
² اگر آپ اپنے دلی جذبات کی قدر کروانا چاہتے ہیں تو اپنے پیاروں کو ان سے آگاہ کریں ، انھیں احساس ہوا تو قدر کریں گے ، نہ احساس ہوا تو کم ازکم آپ ان سے آگاہ ہوجائیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
11-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2979296389017197&id=100008105947430
جب اُس سے پوچھا جائے کہ تجھے بیوی سے مسئلہ کیا ہے ؟ تو کہتاہے:
" وہ میرا مزاج نہیں سمجھتی ۔ "
سوچنے کی بات ہے:
مزاج ہمارا ہے ، اِسے ہمارے سمجھائے بغیر کوئی دوسرا کیسے سمجھے گا !!
کمی ان میں نہیں جو ہمارا مزاج نہیں سمجھتے ، کمی ہم میں ہے کہ ہم اپنا مزاج دوسروں کو سمجھا نہیں پاتے ۔
میاں بیوی ہوں ، بہن بھائی ہوں ، دوست احباب ہوں ، یا رشتے دار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سے یہ امید رکھنے کے بجائے کہ:
یہ ہمارا مزاج سمجھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں خود انھیں اپنا مزاج سمجھانا چاہیے ۔
انھیں بتانا چاہیے کہ ہمیں کیا پسند ہے ، اور کیا ناپسند ۔
اور ایک دفعہ ہی بتاکر یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ حافظ ہوگئے ہیں ، بلکہ گاہے گاہے اچھے انداز سے یاد دہانی کراوتے رہنا چاہیے ۔
وہ دَور گیا جب لوگ مزاج شناس ہوتے تھے ، اب تو بتانے سے بھی سمجھ جائیں تو غنیمت ہے ۔
پہلے زمانے کے حکیم نبض نہیں ، چہرہ دیکھ کر ہی مرض بتا دیتے تھے ۔
لیکن اب ڈاکٹر ایک ہزار فیس لے کر بھی کچھ نہیں بتا سکتے ، جب تک لیبارٹری ٹیسٹ نہ دیکھ لیں ۔
اس لیے اگر رشتے ناطے نبھانا چاہتے ہیں تو حالات سےسمجھوتا کرنا سیکھیں ۔
ویسے بھی ساری کائنات کے ہادی ، اللہ کے پیارے رسول ﷺ کا فرمان ہے:
إِذَا اَحَبَّ الرَّجُل أَخَاهُ ، فَلْيُخْبِرْهُ اَنَّهُ يُحِبُّهُ ۔
جب کوئی بندہ اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے بتادے کہ میں تیرے ساتھ محبت کرتا ہوں ۔
( ابو داود شریف ، ر 5124 )
آپ اس حدیث پاک پر غور کریں گے تو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا ، مثلاً:
¹ کسی سے محبت جیسا جذبہ نہیں چھپانا چاہیے ، اسے کیا معلوم آپ کے دلی جذبات کیا ہیں ۔
² اگر آپ اپنے دلی جذبات کی قدر کروانا چاہتے ہیں تو اپنے پیاروں کو ان سے آگاہ کریں ، انھیں احساس ہوا تو قدر کریں گے ، نہ احساس ہوا تو کم ازکم آپ ان سے آگاہ ہوجائیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
11-10-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2979296389017197&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج صبح سے مدینہ طیبہ کی " مسجد فتح
" بہت یاد آرہی تھی ۔
دل چاہتا تھا ابھی وہاں چلا جاؤں ، مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💧
دن کے وقت ایک دوست آئے ہیں ، اور یہ کتاب تحفہ دے گئے ہیں ۔
اِس کتاب میں مسجد فتح سمیت مدینہ پاک کی بیسیوں مساجد ، اور اڑھائی سو کے قریب زیارتوں کی تفصیل ہے ؛ خوشی کی بات یہ ہے کہ:
اس کتاب میں ہر مقامِ زیارت کی لوکیشن کا سکین کوڈ بھی ہے ، جس کے ذریعے مطلوبہ مقام تک بہ آسانی پہنچا جاسکتا ہے ۔
یہ ایک جدید ، اور انتہائی مفید سہولت ہے ۔
خدا کرے وہاں جانے کے اسباب بن جائیں ، اور جیتے جی اِن سارے مقامات کی زیارت کا شرف حاصل ہوجائے ۔ ؎
مجھ خطاکار سا انسان مدینے میں رہے
بن کے سرکار کا مہمان مدینے میں رہے
یاد آتی ہے مجھے اہلِ مدینہ کی یہ بات
زندہ رہنا ہو تو اِنسان مدینے میں رہے
✍️لقمان شاہد
11-10-20 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2979531602327009&id=100008105947430
" بہت یاد آرہی تھی ۔
دل چاہتا تھا ابھی وہاں چلا جاؤں ، مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💧
دن کے وقت ایک دوست آئے ہیں ، اور یہ کتاب تحفہ دے گئے ہیں ۔
اِس کتاب میں مسجد فتح سمیت مدینہ پاک کی بیسیوں مساجد ، اور اڑھائی سو کے قریب زیارتوں کی تفصیل ہے ؛ خوشی کی بات یہ ہے کہ:
اس کتاب میں ہر مقامِ زیارت کی لوکیشن کا سکین کوڈ بھی ہے ، جس کے ذریعے مطلوبہ مقام تک بہ آسانی پہنچا جاسکتا ہے ۔
یہ ایک جدید ، اور انتہائی مفید سہولت ہے ۔
خدا کرے وہاں جانے کے اسباب بن جائیں ، اور جیتے جی اِن سارے مقامات کی زیارت کا شرف حاصل ہوجائے ۔ ؎
مجھ خطاکار سا انسان مدینے میں رہے
بن کے سرکار کا مہمان مدینے میں رہے
یاد آتی ہے مجھے اہلِ مدینہ کی یہ بات
زندہ رہنا ہو تو اِنسان مدینے میں رہے
✍️لقمان شاہد
11-10-20 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2979531602327009&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بلا سوچے سمجھے ، جَھٹ سے کسی کے قول ، فعل کو کفر کَہ دینا ، بہت بڑی حماقت ہے ۔
اس طرح دوسرا کافر بنے نہ بنے ، کہنے والے کا کفر سے بچ جانا بہت مشکل ہے ۔
ہم اللہ جبار و قہار کے غضب سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں !بلا سوچے سمجھے ، جَھٹ سے کسی کے قول ، فعل کو کفر کَہ دینا ، بہت بڑی حماقت ہے ۔
اس طرح دوسرا کافر بنے نہ بنے ، کہنے والے کا کفر سے بچ جانا بہت مشکل ہے ۔
ہم اللہ جبار و قہار کے غضب سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2980199905593512&id=100008105947430
اس طرح دوسرا کافر بنے نہ بنے ، کہنے والے کا کفر سے بچ جانا بہت مشکل ہے ۔
ہم اللہ جبار و قہار کے غضب سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں !بلا سوچے سمجھے ، جَھٹ سے کسی کے قول ، فعل کو کفر کَہ دینا ، بہت بڑی حماقت ہے ۔
اس طرح دوسرا کافر بنے نہ بنے ، کہنے والے کا کفر سے بچ جانا بہت مشکل ہے ۔
ہم اللہ جبار و قہار کے غضب سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2980199905593512&id=100008105947430
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.