🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
#ذات_پات_کے_ہنگامے_میں_مسلمان_کہاں_ہیں؟

بِہار اسمبلی الیکشن پوری طرح سے ذات پات پر مبنی ہے۔ انتخابی گھوڑا ذات پات کی پگڈنڈیوں سے ہوکر ہی کامیابی کی منزل تک پہنچتا ہے۔ اس لیے ہر پارٹی ٹکٹ تقسیم اور ووٹنگ فیصد میں ذات پات کے تناسب کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ بِہار میں پس ماندہ ذاتیں 23 فیصد ووٹنگ کے ساتھ سب سے زیادہ ہیں۔ ان کے بعد مسلمان 16 فیصد ووٹنگ تناسب رکھتے ہیں۔ اتنی زیادہ ووٹنگ فیصد کے باوجود مسلمانوں کے قائدین نظر آتے ہیں نہ مسلم مسائل پر چرچا۔
ایک یا دو فیصد کا تناسب رکھنے والی قوموں کے لیڈران بھی سیاسی میدان میں موجود ہیں۔لیکن قائدین کی اس بھیڑ میں آخر مسلمان کہاں کھڑے ہیں؟ یہ سوال بار بار اٹھتا ہے لیکن سوال کا جواب تب ملے گا جب سوال صحیح طریقے پر کیا جائے۔صحیح سوال یہ ہے کہ مسلمان کہاں نہیں ہیں؟
لالو کی آر جے ڈی، نتیش کمار کی جے ڈی یو، پاسوان کی ایل جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس اور کمیونسٹ جیسی پارٹیاں بھی مسلم ووٹوں سے محروم نہیں ہیں۔ مسلمان کی فراخ دلی کے سہارے 30 سال سے لالو ونتیش حکومت کرتے آرہے ہیں۔ کشواہا اور پپّو یادو جیسے نیتا بھی مسلم ووٹوں پر امید بھری نگاہیں جمائے بیٹھے ہیں کہ شاید "میاں بھائی" کا دستِ سخاوت ان کی طرف بھی اٹھ جائے تو نیّا پار لگ جائے۔
تازہ تازہ پارٹی بنانے والے چندر شیکھر بھی مسلم ووٹوں کے سہارے یوپی سے بِہار پہنچ گئے ہیں۔ یوپی کی سیاست سے آؤٹ ہوتی جارہیں مایاوتی جی بھی بِہاری مسلمانوں کی مسیحائی کا دم بھر رہی ہیں۔
اب "میاں بھائی" کی "سخاوت" اور ذہانت کا امتحان ہے کہ وہ ایک بار پھر دوسروں کی گاڑی کا پہیا بنیں گے یا اپنی گاڑی میں چلنا پسند کریں گے؟

24 صفرالمظفر 1442ھ
12 اکتوبر 2020 بروز پیر

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/783464885557365/
ذات پات کے ہنگامے میں
مسلمان کہاں ہیں ؟
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/783464885557365/
غلام مصطفیٰ نعیمی دہلی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#جس_کا_ہر_رشتہ_مدینے_سے_تھا!

سوغات عقیدت
خلیفہ حضور تاج الشریعہ
*غلام مصطفےٰ نعیمی*
روشن مستقبل دہلی

کِلکاری کی آواز سنتے ہی پورے گھر میں بہار سی آگئی...بے اختیار پیشانیاں سجدہ شکر کے لیے جھک گئیں...نو مولود کے رونے کی آواز نے سب کے چہروں پر مسکراہٹوں کے پھول کھلا دیے...چہروں سے پھوٹنے والی لالی نے سَت رنگی دَھنک کو پھیکا کردیا...مبارکبادیوں کا شور بلند ہوا...گلشن حیات میں کھلنے والے گل نَو کی آمد کی خبر خوشبوئے مشک کی طرح پھیلتی چلی گئی...مارے خوشی کے دل کی دھڑکنیں بے قابو ہورہی تھیں...عالم مسرت میں زبان لڑکھڑا رہی تھی...دھڑکنوں کو قابو کرتے ہوئے دادا جان کو پوتے کی ولادت کی خوش خبری سنائی گئی...دادا جان نے اللہ عزوجل کی تسبیح وتحلیل بیان کی...اور عطیہ الٰہی پر کلمہ شکر ادا کیا...لمبے زمانے کے بعد گھر میں بیٹا پیدا ہوا تھا...اس لیے اہل خانہ نے دوست واحباب اور رشتہ داروں کی ضیافت کا اہتمام کیا...جشن کی تیاریاں شروع ہوگئیں...خوشیاں گھر میں آتی ہیں تو سوغات بھی بٹتی ہے...اس لیے محض مطعومات ومشروبات نہیں بلکہ ملبوسات کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے....یہ اہتمام کیوں نہ کیا جاتا آخر شہر کے معزز ترین خاندان میں خوشی آئی تھی...جملہ اہل خانہ تقریب عقیقہ کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے....لیکن دادا جان کی سوچ وفکر زمانے سے بالکل الگ تھی...اہل دنیا اولاد کی خوشی میں خاندان، رشتہ دار اور دوست واحباب کو ہی یاد رکھتے ہیں....لیکن یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور تھا...اس مرد قلندر کی دنیا محض خاندان ورشتہ داروں تک محدود نہ تھی...بلکہ اس بندہ مومن کی اصل دنیا اس ادارے میں بستی تھی جہاں طلباے دین حصول علم کی خاطر آباد تھے... آج مدرسے میں بھی مسرت وشادمانی کا ماحول تھا...بانی ادارہ کے پوتے کی ولادت نے طلبہ کے چہرے بھی گلنار کر دیے تھے....مسرتوں کی رم جھم بارش میں سارے طلبہ کو بلایا گیا...مختلف علاقوں کے طلبہ آباد تھے...ہرعلاقے کے طلبہ سے ان کے من پسند کھانے کی فرمائش پوچھی گئی...بنگال سے تعلق رکھنے والوں سے پوچھا، میرے عزیز بچو!
بتاؤ آ ج خوشی کے موقع پر کیا چیز کھانا پسند کروگے؟

دنیا جانتی ہے کہ ساکنان بنگال کا سب سے پسندیدہ کھانا مچھلی ہوتا ہے...سارے طلبہ ایک زبان میں بولے "مچھلی بھات"
بنگال وبہار کے علاقے میں چاول کو بھات کہا جاتا ہے...اتر پردیش کے دیہی علاقوں میں بھی ایک زمانے تک چاول کو بھات ہی کہا جاتا رہا ہے...بنگال کے بعد بِہار کی بَہاروں سے ان کی خواہش معلوم کی گئی...جواب ملا: "بریانی، زردہ، کباب، فیرنی اور میٹھا ٹکڑا۔"

بنگالی طلبہ محض مچھلی بھات پر ہی رک گئے تھے لیکن بِہار کی بَہاریں خاصی سمجھ دار نکلیں ،اس لیے فرمائش کا دائرہ بڑھاتے ہوئے محض روایتی کھانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ کباب ،فیرنی اور میٹھے ٹکڑے جیسی شاہی خواہش بھی بیان کردی۔بڑے ہوشیار طلبہ تھے...خوب جانتے تھے کہ پوچھنے والے کا دل اور دسترخوان اتنا وسیع ہے کہ جو مانگیں گے اس سے سوا پائیں گے...جو کہا منظور ہوا...پنجابی طلبہ سے من پسند کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو لمبی قد کاٹھی اور اچھی صحت وتندرستی رکھنے والے پنجابیوں نے اپنی صحت وقامت کے لائق کھانے کا انتخاب کرتے ہوئے کہا:
"دنبے کا خوب چربی دار گوشت اور تنور کی پکی ہوئی گرم گرم روٹیاں۔"

"دعوت بہ قدر قامت اور حصہ بہ قدر جثہ" جیسی کہاوتیں شاید ایسے ہی موقع کے لیے وضع کی گئیں تھی۔جملہ طلبہ کی فرمائش کے مطابق کھانا تیار کرایا گیا...دنیا خوشیوں میں اپنوں کو شریک کرتی ہے مگر اس مرد قلندر کی اپنائیت کی تعریف اوروں سے بالکل الگ تھی... اس کے نزدیک "اپنائیت" کا پیمانہ رسول ہاشمی ﷺ کی نسبت تھی...جس کی نسبت تاجدار مدینہ سے جتنی مضبوط ہوتی وہ اس مرد قلندر کا اتنا ہی اپنا بن جاتا تھا...طلباے دین حضور سید عالم ﷺ کے مہمان تھے اس لیے ان کی اپنائیت رشتہ داروں سے کہیں زیادہ تھی...اسی لیے رشتہ داروں سے نہیں بلکہ طلبہ سے فرمائش پوچھی گئی... جس محبت کے ساتھ فرمائش پوچھی اس سے زیادہ اپنائیت کے ساتھ کھانا کھلایا گیا...لوگ حیران تھے کہ ایسے موقع پر دنیا اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دیتی ہے لیکن اس مردِ قلندر کا نقطہ نظر ہی سب سے الگ تھا،بقولے

الگ ہے سب سے میرا جادہ عمل سیمابؔ
عوام جس کے ہیں عادی وہ میری راہ نہیں

ولادت جیسی خوشیوں کے موقع پر لوگ مخصوص رشتہ داروں کو تحفہ تحائف بھی دیا کرتے ہیں...ہر علاقے میں الگ الگ طرح کے تحفے دیے جاتے ہیں...روہیل کھنڈ کے علاقوں میں ایسے مواقع پر عموماً کپڑے دیے جاتے ہیں،جنہیں"جوڑا" کہا جاتا ہے...اس مردِ قلندر کی سخاوت پر قربان! جس نے مہمانان رسول کو نہ صرف دسترخوان پر یاد رکھا بلکہ جب مخصوصین کو تحائف دینے کی باری آئی تو بھی طلباے اسلامیہ کو اپنی خوشیوں میں شامل کرکے نسبت رسالت کا بھرپور حق ادا کیا...علامہ ظفرالدین بہاری فرماتے ہیں:
"میں ان خاص لوگوں میں ہوں جن کے لیے جوڑا بھی تیار کرایا گیا تھا۔"
جانتے ہیں
جوڑے میں کیا تھا؟کرتا،پاجامہ،ٹوپی،جوتا اور نہایت ہی قیمتی کپڑے کا سلا ہوا ،اَنگَر کَھا بھی شامل تحفہ تھا...اس تقریب واہتمام سے مردِ قلندر کے چند اہم اوصاف سامنے آتے ہیں:
🔸خوشی کے موقع پر سب سے پہلے طلبہ کو یاد کرنا مصطفےٰ جان رحمت سے بے پایاں عشق ومحبت کی دلیل ہے۔
🔸مہمان سے کھانے کی فرمائش پوچھ کر سنت مصطفیٰ ادا فرمائی۔
🔸ہر علاقے کے طالب علم سے الگ الگ خواہش پوچھی تاکہ ہر مہمان کی خواہش پوچھنے کی سنت ادا ہوجائے۔
🔸رشتہ داروں سےپہلے طلبہ کی خواہش پوچھی تاکہ طلباے اسلامیہ کا مقام ومرتبہ دنیا پر اجاگر ہو۔
🔸طلبہ کے لیے ضیافت کا ایسا اعلیٰ اہتمام کیا کہ اغنیا ومال دار بھی شرما جائیں۔
🔸رشتہ داروں کے ساتھ طلباے دین کو بھی تحفہ وتحائف پیش کیے تاکہ انہیں اجنبیت کا احساس نہ ہو۔

تحفہ دینے میں "لا یؤمن عبدً حتی یحب لجارہ او قال لاخیہ ما یحب لنفسہ" کا شاندار مظاہرہ کیا۔
کیا آپ جانتے ہیں طلبہ کی مثالی اور منفرد عزت افزائی کرنے والا مردِ قلندر کون تھا؟

_یہ مردِ قلندر، اللہ عزوجل کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھا۔
_
رسول اللہ کے معجزوں میں سے ایک معجزہ تھا۔
_غوث اعظم کی کرامتوں میں سے ایک کرامت تھا۔
_
جس نے ناموس رسالت کی پہرے داری کا فریضہ انجام دیا۔
_جس نے فقہ وافتا کی زلف برہم کو سنوارا۔
_
جس نے خداداد علم وفن سے تجدید دین کا اہم کارنامہ انجام دیا۔
اس مرد قلندر کو دنیا امام عشق ومحبت، محافظ ناموس رسالت، *اعلیٰ حضرت امام احمد رضا* کے نام سے جانتی ہے...جس کی زندگی سنت مصطفےٰ کی آئینہ دار تھی...جو ہند میں رہ کر بھی مدینہ کی گلیوں کا شیدا تھا...جس کا جسم ظاہری بھلے ہی بریلی میں تھا لیکن دل ودماغ مدینے کی پر کیف وادیوں میں آباد تھا... جو "جان ودل ہوش وخرد سب تو مدینے پہنچے" کے ترانے گنگناتا تھا۔ جو عشق ومحبت کی آگ میں تپ کر کندن ہوچکا تھا اور وجد میں کہتا تھا:
ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے۔

یہ عشق رسالت کا ہی اعزاز ہے کہ آج عجم سے لیکر عرب تک احمد رضا کا نام خوش عقیدگی اور عشق رسالت کی سند بنا ہوا ہے اور ایک زمانہ امام عشق ومحبت کو آنکھوں کا سرمہ بنا کر مدینہ کے جلووں کو دیکھتا ہے۔

سب یہ صدقہ ہے عرب کے جگمگاتے چاند کا
نام روشن اے رضا جس نے تمہارا کر دیا

25 صفر المظفر 1442ھ
13 اکتوبر 2020 بروز منگل

ماخوذ حیات اعلی حضرت(1/110)

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/783891128848074/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#منی_لائبریری_پروجیکٹ
ماشاءاللہ تعالیٰ آج سے روشن مستقبل دہلی کے منی لائبریری پروجیکٹ کے تحت کتابیں بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
جو بھائی اپنی مساجد کے لیے اس پروجیکٹ کے تحت کتابیں منگانا چاہیں وہ ہم سے رابطہ کریں۔
پورے سیٹ میں 55 کتابیں ہیں جن کو آپ کے گھر پہنچا کر قیمت 2000 روپے ہے۔

#نوٹ: آپ اپنی پسند کی کتابیں بھی منگا سکتے ہیں۔ اگر ہماری فہرست میں سے کوئی کتاب آپ کے پاس موجود ہو تو آپ اس کے بدلے دوسری کتاب آڈر کرسکتے ہیں بس اس کتاب کی قیمت اگر زیادہ ہوئی تو اتنا بڑھ جائے گا اور کم ہوئی تو کم ہو جائے گا۔
رابطہ: زبیر قادری (سنی پبلیکیشن)
9867934085

منجانب: روشن مستقبل، دہلی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/784889972081523/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تعلیم و اعتقاد ـــــ سرسید کی زندگی کے دواہم انقلابی پہلو
------------------------
🖌تحریر: #فیضان-سرور-مصباحی
-----------------------
سر سید کی زندگی کا مطالعہ کریں تو دو اہم گوشے نظر آتے ہیں. جو شروع سے بحث ومباحثے کا موضوع بنے رہے. اور ان میں سے فقط ایک کا تذکرہ اور دوسرے سے صرف نظر نکتہ چینی کا سبب رہا اور آخرش بحث تٗـوتـٗو مَـیں مَـیں تک پہنچ کر مُنتِـج ہوئی .

ان دو میں سے اول تو:
1_تعلیمی انقلاب : ہے جس کو مثبت اور قابل تعریف مانا جاتا ہے . چناں چہ "علی گڑھ مسلم یونیورسٹی" کا قیام اور اس کے حوالے سے ان کی جدوجہد ہمیشہ سے تعریف وتحسین کے حصار میں رہی ہے . بلکہ آگے بڑھ کر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تعلیمی میدان میں ان کی انتھک کوششیں نہ ہوتیں، تو بالخصوص مسلمانان ہند عصری میدانوں میں تعلیمی اعتبار اور بھی زیادہ پسماندگی کے شکار نظر آتے.
ان کی زندگی کا دوسرا اہم رخ
2_ اعتقادی انقلاب : ہے جوکہ منفی اور قابل مسترد ہے ؛ جس کے نتیجے میں"نیچریہ" نام سے ایک مستقل فرقہ وجود میں آیا . اور سر سید اس فرقہ کے بانی مبانی قرار پائے .
فقہ کی زبان اس کو یوں سمجھیں کہ اعتقادیات کے باب ان کے ایسے ایسے منفی افکار سامنے آئے کہ سیدھے ان سے اسلام کے مسلمہ عقیدے پر ضرب پڑتی ہے. اور ان کے نیچے میں سرسید "سرحدِاسلام" سے نکل کر "سرحدِکفر" میں چلے آتے ہیں.
اسی لیے اہل اسلام نے ان کے اعتقادی افکار کو کبھی قبول کیا اور نہ ہی قبول کیا جاسکتا ہے. حتیٰ کہ ان کی تحریک یا علمی چمن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ افراد کی اکثریت نے بھی کبھی ان اختراعی عقائد کو قبول نہیں کیا.
سر سید کی زندگی کے یہی دوپہلو ہیں، جن سے زیادہ بحث ہوتی ہے.
ایک طبقہ جو علم دوست یا مادیت پرست ہے اس کے نزدیک سرسید کی تعلیمی میدان میں ناقابل فراموش خدمات ہمیشہ لائقِ اعتناء ہوتی ہیں.
دوسرا طبقہ جو مذہب سے جڑا ہوا ہے، اور جن کے نزدیک مذہب ہی سب کچھ ہے.اور وہ مذہب سے ہٹ کر کسی کا وجود نہ قابلِ قبول مانتے ہیں ، اور نہ قابل قدر سمجھتے ہیں .
اس اعتبار سے دونوں اپنے اپنے فکری زاویے کے حساب سے یک طرفہ انداز میں سرسید کی خوب تعریفیں یا ان پر کڑی تنقیدیں کرتے ہیں. جس پر مخالف طبقہ اپنے موقف کو نہ پاکر کمنٹس کربیٹھتا ہے. پھر اس پر جذباتی نسل غیر مہذب و ناشائستہ جملوں کا سہارا لیتی ہے. اور یوں معاملہ ایک دوسرے کے خلاف دشمنی کی صورت اختیار کر لیتا ہے.

اس سلسلے میں اعتدال پسندی یہ ہے کہ یک طرفہ تبصرہ کے بجائے سرسید کی زندگی کے دونوں پہلوؤں کا تذکرہ کیا جائے، نہ صرف خوبیاں ہی خوبیاں بیان کی جائیں کہ مذہب سے دور رہنے والا ایک عام شخص، محض تعلیمی شخصیت و کارنامے کو نظر میں رکھ کر مرعوب ہوجائے اور دھیرے دھیرے فکری طور پر وہ اسلامی عقائد سے انحراف کا شکار ہونے لگے .
نہ یہ ہو کہ صرف عقائد کے بگاڑ کو ذکر کرنے میں لگے رہیں، اور تعلیمی جدو جہد کے حوالے سے بے مثال قربانیوں کو بھول جائیں.
یہ دونوں روش "راہ اعتدال" سے ہٹی ہوئی ہیں، اور افراط وتفریط کی راہ پر گامزن ہیں.

خلاصۂ گفتگو یہ ہے کہ تعلیمی زاویے اور اعتقادی خرابیاں دونوں کو سامنے رکھتے ہوئے سر سید اور ان کے علمی چمن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے رابطہ استوار رکھیں. جذبات میں آکر کسی کی بیش بہا خدمات کا اعتراف نہ کرنا ، یا دوچار دن کی زندگی کی خاطر محض کارناموں سے متاثر ہوکر اپنا درست اعتقادی وفکری قبلہ بدل لینا کہاں کی دانش مندی ہے.

اخیر میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ کارناموں کی تعریف یا سر سید کے اعتقادیات پر تنقید کے وقت اگر حالات کے تقاضوں کو سمجھ لیا جائے تو پھر ٹکراؤ کی صورت کم پیش آئے گی. بشرطیکہ سامنے والا بھی اسی قسم کا ہو کہ وہ محض کارناموں کی بنیاد پر کچھ لکھ بول رہا ہو. ورنہ جذباتی انداز میں انسانی فطرت کبھی کبھی مغفرت اور کلمۂ ترحم کی طرف کھینچ لے آتی ہے ، جو کہ سراسر گھاٹے کا سودا ہے.

کا رہا دادیم حاصل شد فراغ
مـاعلیـنـا یا أخی إلا الـبـلاغ

#فیضان_سرور_مصباحی
19/ اکتوبر 2019ء

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/787016378535549/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
‏رَسُولَ الله صَلَّی الله عَلَيْه وَسَلَّم قَال: «لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرو۔
(مسلم: 3811)
#MissionPaighameMustafa
@RMustaqbil

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/788391558398031/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سوشل_میڈیا_کا_خوب_صورت_جال!!

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

انٹرنیٹ کی ہمہ گیریت اور ٹکنالوجی کی وسعت نے زندگی میں بہت ساری آسانیاں پیدا کردی ہیں۔زمانے بھر کی وسعتیں سمٹ کر آپ کی ہتھیلی میں آگئی ہیں۔لیکن جیسے جیسے ٹکنالوجی کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے ویسے ویسے ہماری سوچ وفکر اور شخصی آزادی ختم سی ہوتی جارہی ہے۔یہ عمل اتنی غیر محسوس طریقے سے ہورہا ہے کہ ہم اس کا ادراک تک نہیں کر پارہے ہیں۔سوشل میڈیا نے ہمیں مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔بچے ہوں کہ بوڑھے، جو ایک بار اس سمندر میں اترا وہ واپس نہیں آسکا۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی زیادہ تر خدمات (services) فری ہیں۔آپ کو انٹرنیشنل کال کرنا پڑے تو کافی دام چکانا پڑتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر یہ خدمت ایک دم مفت ہے۔کسی کو خط لکھنے کے لیے بھی کئی روپے خرچنے پڑتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کی مہربانی سے برقی خط (E Mail) مفت اور نہایت آسانی سے دنیا میں کہیں بھی بھیجا اور وصول کیا جاسکتا ہے وہ بھی چند سیکنڈ میں!
سوشل میڈیا آپ کو فیس بک، واٹس اپ اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارم مہیا کراتا ہے جہاں آپ دنیا بھر کے افراد تک رسائی حاصل کرکے شہرت حاصل کر سکتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں یہ پلیٹ فارم آپ کو ایک متعین ضابطے کے تحت کمائی کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔کیا ہم نے غور کیا کہ جب آف لائن کال مہنگی ہے تو آن لائن کال فری کیوں ہے؟
جس فیس بک واٹس اپ پر ہم زمانے بھر سے دوستیاں کرتے ہیں۔آڈیو/ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں، آخر یہ کمپنیاں لاکھوں کروڑوں افراد کو یہ خدمت مفت میں کس لیے فراہم کرتی ہیں؟
ان کے پاس قارون کا خزانہ ہے یا وہ حاتم طائی کی اولاد ہیں؟
جبکہ ان کمپنیوں کا پہلا اور آخری مقصد ہی پیسہ کمانا ہے۔اپنی خدمات (services) کے عوض لاکھوں نہیں اربوں، کھربوں روپے کماتی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق گوگل کی فی منٹ کمائی 39 ہزار 480 ڈالر ہے جس کی انڈین قیمت 25 لاکھ 39 ہزار روپے ہوتی ہے۔فیس بک فی منٹ 4 ہزار آٹھ سو سات ڈالر کماتا ہے جس کی انڈین کرنسی 3 لاکھ 12 ہزار روپے ہوتی ہے۔اب یہ کمائی ہوتی کیسے ہے؟
اس کو سمجھ لیں گے تب آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کو مفت سروس کیوں فراہم کی جاتی ہے۔اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ ایڈورٹائزر ان کمپنیوں کو یہ سارا پیسہ دیتے ہیں۔جس کی وجہ سے سوشل میڈیا کمپنیاں مفت خدمات فراہم کرتی ہیں۔
ایڈورٹائزر ان کمپنیوں کو اتنا پیسہ کیوں دیتے ہیں اور یہ کمپنیاں اس پیسے کے عوض کیا بیچتی ہیں؟
یہ وہ سوال ہے جس کے جواب سے سوشل میڈیا کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ایڈورٹائزر کمپنیاں چاہتی ہیں کہ ان کے تیار کردہ پروڈکٹس زیادہ سے زیادہ فروخت ہوں۔ اس کے لیے انہیں گاہکوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ہر گاہک الگ الگ ذہن کا ہوتا ہے تو کس گاہک کو کیا پسند ہے اس کا پتہ چل جائے تو چیزیں بیچنا مزید آسان ہوجاتا ہے۔ایڈورٹائزر کی اس ضرورت کو سوشل میڈیا کمپنیاں پورا کرتی ہیں اور ایڈورٹائزر کو اپنے صارفین کا ڈاٹا بیچتی ہیں۔اسی کے عوض اربوں کھربوں روپے کماتی ہیں۔ڈاٹا جتنا زیادہ مستند اور قابل اعتبار ہوگا اس کی قیمت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ڈاٹا کو مستند بنانے کے لیے پہلا مرحلہ انٹرنیٹ یوزر کو جاننا ہے۔اس کے لیے سوشل میڈیا کمپنیاں ہماری ٹریکنگ کرتی ہیں، مثلاً ہم کس طرح کی پوسٹ لگاتے ہیں، کن پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں۔ کس مزاج کے لوگوں کو فالو کرتے ہیں۔کس طرح کے ویڈیوز دیکھتے ہیں، کون سا ویڈیو زیادہ دیکھتے ہیں، کس طرح کا تبصرہ کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر گزارا ہوا ایک ایک لمحہ ریکارڈ ہوتا ہے۔ڈاٹا کلکشن کے بعد اسے مانیٹر کیا جاتا ہے۔اسی بنیاد پر سوشل میڈیا کمپنیاں ہمارے نظریات ، پسند و ناپسند اور عادتوں سے بخوبی واقف ہوجاتی ہیں۔ایک طرح سے ہماری شخصیت کے مختلف پہلو ان کی علم میں آجاتے ہیں۔انہیں معلومات کے سہارے آپ کے ارد گرد ویسا ہی مواد پیش کیا جاتا ہے، مثلاً آپ یوٹیوب پر کسی نیوز چینل کو کئی مرتبہ دیکھ لیں تو یوٹیوب لگاتار اسی کی ویڈیو پیش کرتا ہے۔آپ کچھ دن کرکٹ کی ویڈیو دیکھ لیں تو لگاتار کرکٹ کی ویڈیو آتی رہتی ہیں۔ایک جیسی ویڈیو کا آنا اتفاقی نہیں ہے بلکہ آپ کی عادت کو مانیٹر کر لیا گیا ہے۔اس کے بعد کمپنی کا پہلا کام ہوتا ہے آپ کو سوشل میڈیا پر مصروف رکھنا۔آپ کی نفسیات کے مد نظر آپ کو کئی چیزوں میں مصروف رکھا جاتا ہے، مثلاً آپ فیس بک چلاتے ہیں تو درمیان میں Suggested for you کے تحت کچھ ویڈیو وغیرہ آتی ہیں۔یہ ویڈیو کیوں آتی ہیں نام سے ہی ظاہر ہے یعنی ڈزائنر نے وہ ویڈیو آپ کے لیے ہی تجویز کی ہے۔اب انسان آہستہ آہستہ سوشل میڈیا پر مصروف ہوتا جاتا ہے۔پانچ دس منٹ کا ارادہ ہوتا ہے لیکن ایک گھنٹہ کب گزر جاتا ہے پتہ ہی نہیں لگتا۔یہی مصروفیت آہستہ آہستہ Addiction (لَت) میں بدل جاتی ہے۔بڑے بزرگ کہتے ہیں عادتوں کا بدلنا آسان ہے مگر لَت کا بدلنا بہت مشکل، مشہور محاورہ ہے "جسے باہر کے کھانے کی لَت لگ جائے اسے گھر کا دیسی گھی بھی اچھا نہیں لگتا۔
"
ایک بار لَت لگ جاتی ہے تو اسے سوشل میڈیا کے بغیر چین نہیں پڑتا۔ڈاٹا پیک ختم ہوجائے تو بے قرار ہوجاتا ہے۔رات رات بھر جاگتا ہے۔محفل میں ہو یا اکیلے نگاہ ہمیشہ موبائل پر رہتی ہے کس نے کیا بھیجا، کس نے لائک کیا اور کس نے کمنٹ کیا۔ایسے ایسے لَتی دیکھنے میں آتے ہیں جو دن میں 18/20 گھنٹے تک سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔کیا کھاتے ہیں، کیا پہنتے ہیں، کہاں جاتے ہیں سب کچھ سوشل میڈیا پر بیان کرتے ہیں۔اب کمپنیاں ایسے ہی افراد کو نگاہ میں رکھ کر مختلف چیزوں کی جانب رغبت دلاتی ہیں۔اور ایڈورٹائزر کمپنیوں کو اپنے پروڈکٹس کے لیے مطلوبہ گراہک مل جاتے ہیں۔اس طرح ایڈورٹائزر اور سوشل میڈیا کمپنیاں دونوں سالانہ اربوں کھربوں روپے کماتی ہیں لیکن سوشل میڈیا کا رسیا وقت، پیسہ اور صحت تینوں کو ضائع کرتا جاتا ہے اور جب ہوش آتا ہے تو آنکھوں پر بڑا سا چشمہ اور ٹیبل پر چَوَن پراش کا ڈبہ نظر آتا ہے۔اس سب کے باوجود سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور لوگ دیوانہ وار اس طلسم ہوش ربا کی وادیوں میں مست وبے خود ہیں۔

یکم ربیع الاول 1442ھ
19 اکتوبر 2020 بروز پیر

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/788494018387785/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کسی نے کیا خوب کہا:

لا تنقل الى صديقك ما يؤلم نفسه ، ولا ينتفع بمعرفته ؛ فهذا فعل الاراذل ۔

اپنے دوست کو وہ باتیں نہ بتا‌ جن کا جاننا اُس کے لیے نفع بخش نہیں ، باعثِ تکلیف ہو ؛ کیوں کہ اِس طرح کرنا گھٹیا قسم کے لوگوں کا کام ہے ۔

( مداواۃ النفوس و تہذیب الاخلاق ، ص 50 ، ط المکتبۃ السلفیۃ مدینۃ المنورۃ )

اپنے دوستوں کو اپنی زبان سے بھی راحت پہنچانی چاہیے ، اُن سے وہی بات کرنی چاہیے جو اُن کی قلبی اذیت کاسبب نہ بنے ۔

بعض دوستوں کو کوئی رکھ رکھاؤ نہیں آتا ، وہ جیسی کیسی آئے ، منھ سے نکال دیتے ہیں ۔
پھر ایسا کرتے ہوئے کوئی شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتے ، بلکہ اِسے بہادری اور حق گوئی سمجھتے ہیں ؛ جب کہ یہ حق گوئی اور بہادری نہیں ۔

عربی زبان کا مشہور مقولہ ہے:

لکل مقام مقال ، ولکل مقال رجال ، ولکل رجال مجال ۔

ہر جگہ کے لیے ایک مناسب گفتگو ہوتی ہے ، اور ہر گفتگو کے لیے کچھ خاص مرد ہوتے ہیں ، اور ہر مرد کے لیے کچھ کہنے کی گنجائش ہوتی ہے ۔

✍️لقمان شاہد
8-10-2020 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2976402575973245&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض اہل علم اصرار کرتے ہیں کہ:

" انبیا علیھم السلام نے جو کافروں کے خلاف ہلاکت کی دعا کی تھی ، اُسے " بددعا " کہنا درست نہیں ، کیوں کہ بددعامیں لفظِ " بد" پایا جاتا ہے ، جس کا استعمال ناجائز اور گناہ ہے ۔ "

اس سلسلے میں عرض ہے کہ:

لفظِ بددعا پر دعاے ضرر کو ترجیح دینا ، اور بددعا کو گناہ پر محمول کرنا بلا دلیل ہے ۔

بددعا باقاعدہ ایک لفظ ہے ، جس کا اردو میں اطلاق اللہ ﷻ سے مانگی جانے والی اُس دعا پر ہوتا ہے جو کسی کے نقصان یا سزا کے لیے کی جائے ۔

اب اس سے " بد " کو الگ کرکے نئے معنے اخذ کرلینا کیسے درست ہوگیا !!

اس طرح اگر آدھے آدھے لفظ سے معنی آفرینی کی جائے تو بات بہت دور تک چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے تو آپ کا مختار: " دعاے ضرر " بھی نہیں بچ پاتا ، کیوں کہ یہ بھی " ایذا " کے معنے سے خالی نہیں ۔

انبیا علیھم السلام کی بعض دعاؤں کو کثیر علماے اہل سنت لفظِ بددعا سے تعبیر کرتے آئے ہیں ، اور اسے کسی قسم کی عُرفی و معنوی بے ادبی بھی قرار نہیں دیا ۔
فتاوی رضویہ شریف کی تئیسویں جلد کے ، صفحہ دو سواٹھارہ پر سیدی اعلی حضرت نوراللہ مرقدہ جیسے مودب نے بھی سیدنا موسی علیہ السلام کے متعلق یہ لفظ استعمال کیا ہے ۔
اس لیے اگر کوئی اردو خواں اِسے استعمال کرتا ہے تو اس پر جھٹ سے مرتکبِ ناجائز و گناہ کا فتوی نہیں لگادیناچاہیے ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

✍️لقمان شاہد
9-10-2020 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2977888425824660&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کوئی چھے سات سال ہونے کو ہیں ، میرا ایک عزیز اٹھتے بیٹھتے اپنی بیوی کا شکوہ کرتا رہتا ہے ۔
جب اُس سے پوچھا جائے کہ تجھے بیوی سے مسئلہ کیا ہے ؟ تو کہتاہے:

" وہ میرا مزاج نہیں سمجھتی ۔ "

سوچنے کی بات ہے:

مزاج ہمارا ہے ، اِسے ہمارے سمجھائے بغیر کوئی دوسرا کیسے سمجھے گا !!

کمی ان میں نہیں جو ہمارا مزاج نہیں سمجھتے ، کمی ہم میں ہے کہ ہم اپنا مزاج دوسروں کو سمجھا نہیں پاتے ۔

میاں بیوی ہوں ، بہن بھائی ہوں ، دوست احباب ہوں ، یا رشتے دار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سے یہ امید رکھنے کے بجائے کہ:

یہ ہمارا مزاج سمجھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں خود انھیں اپنا مزاج سمجھانا چاہیے ۔
انھیں بتانا چاہیے کہ ہمیں کیا پسند ہے ، اور کیا ناپسند ۔
اور ایک دفعہ ہی بتاکر یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ حافظ ہوگئے ہیں ، بلکہ گاہے گاہے اچھے انداز سے یاد دہانی کراوتے رہنا چاہیے ۔

وہ دَور گیا جب لوگ مزاج شناس ہوتے تھے ، اب تو بتانے سے بھی سمجھ جائیں تو غنیمت ہے ۔
پہلے زمانے کے حکیم نبض نہیں ، چہرہ دیکھ کر ہی مرض بتا دیتے تھے ۔
لیکن اب ڈاکٹر ایک ہزار فیس لے کر بھی کچھ نہیں بتا سکتے ، جب تک لیبارٹری ٹیسٹ نہ دیکھ لیں ۔

اس لیے اگر رشتے ناطے نبھانا چاہتے ہیں تو حالات سےسمجھوتا کرنا سیکھیں ۔

ویسے بھی ساری کائنات کے ہادی ، اللہ کے پیارے رسول‌ ﷺ کا فرمان ہے:

إِذَا اَحَبَّ الرَّجُل أَخَاهُ ، ‌‌‌‌‌‏فَلْيُخْبِرْهُ اَنَّهُ يُحِبُّهُ ۔

جب کوئی بندہ اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے بتادے کہ میں تیرے ساتھ محبت کرتا ہوں ۔

( ابو داود شریف ، ر 5124 )

آپ اس حدیث پاک پر غور کریں گے تو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا ، مثلاً:

¹ کسی سے محبت جیسا جذبہ نہیں چھپانا چاہیے ، اسے کیا معلوم آپ کے دلی جذبات کیا ہیں ۔

² اگر آپ اپنے دلی جذبات کی قدر کروانا چاہتے ہیں تو اپنے پیاروں کو ان سے آگاہ کریں ، انھیں احساس ہوا تو قدر کریں گے ، نہ احساس ہوا تو کم ازکم آپ ان سے آگاہ ہوجائیں گے ۔

✍️لقمان شاہد
11-10-2020 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2979296389017197&id=100008105947430