🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
دحلان مکی رحمتہ اللہ علیہ کی الدررالسنیہ ص٤٢-اور محمد عبدالوھاب نجدی کے بھائی علامہ سلیمان بن عبدالوھاب کی کتاب الصواعق الالھیہ فی ردالوھابیہ ص5 مطبوعہ استانبول سن طبع ١٩٧٥-
دیو بندیوں کے شیخ القرآن علامہ عبدالہادی شاہ منصوری اپنی کتاب تسہیل البخاری میں فرماتے ہیں:
لعل المراد منہ قرن محمد بن عبدالوھاب النجدی الظاغی الباغی-(تسہیل البخاری ص٢١مطبوعہ دارلعلوم تعلیم القرآن موضع شاہ منصور ضلع مردان)
مفتی حرم مکہ علامہ احمد بن ذینی دحلان مکی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں-
روایت میں ہے کہ دو قرن الشیطان (شیطان کے سینگ)نکلیں گے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ان دونوں سے مراد مسلیمہ کذاب اور محمد ابن عبدالوھاب ہیں-آج کے وھابی اسی کی نسبت سے اپنے آپ کو وھابی کہتے ہیں
مذکورہ "م ا سلفی" ا، با ،تا پڑھنے والا یہ بیوقوف شخص مسلمانوں کے امام المحدثین امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور دیگر اماموں کو پڑھانے کا دعوی کررہا ہے جن غیر مقلدوں کی پیدائش انگریزوں کی دین ہے وہ اپنی پیدائش سے پہلے کے فضلائے زمانہ بحرالعلوم علماء کو پڑھانے کا دعوی پھیک رہا ہے یہی سوال جب نجدی سے پوچھا گیا کہ تمھارا وجود تو ابھی کا ہے تمھارے اکابر کون سے عقیدے کے ماننے والے تھے تو جواب میں یہ کہتا ہے کہ تیرہ سو سال تک میرے اکابر گمراہ تھے
صاف ظاہر ہے یہ مسلمانوں کو گمراہیت اور بے دینی کا درس دینے والے وکٹورین اہل حدیث فرقہ ہیں ان نام نہاد فرقہ اہلحدیث کا آغاز انگریز کے مکروہ دور میں ہوا۔
کیا یہ غیر کے مقلدین اہل حدیث ہیں؟؟؟
اہلحدیث کے بارے میں وہ فضائل جو سلف صالحین نے لکھے ہیں ان سے محدثین مراد ہیں۔ جنھوں نے احادیث کو اکٹھا کرنے میں اسفار کیئے۔ احادیث کی کتابیں لکھیں۔ حدیث پڑھتے پڑھاتے رہے۔ راویوں کی جرح تعدیل کی، صحیح حسن مرفوع ضعیف، موضوع وغیرہ احادیث کی اقسام بیان کی۔ اصول حدیث لکھا ۔وغیرہ وغیرہ 
اس سے مراد وہ فرقہ غیرمقلد جن کو وہابی کہا جاتا ہے مراد نہیں۔جن کے آگے اور بھی فرقے ہیں۔ جیسے غربا اہلحدیث، جمیعت اہلحدیث۔ جماعت المسلیمین ۔سلفی۔ جو ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں

انگریز کے (برصغیر پر قبضہ کرنےکے) دور سے پہلے کسی "غیر علمی" شخصیت کو اہلحدیث نہیں کہا گیا۔
اج کل تو وہابیوں کا بچہ بچہ، جاہل ہو یا پانچ پڑھا،نائی ہو یاتیلی ،موچی ہویا بھنگی ۔ دارڑھی منڈا ہویا ننگے سر والا سب ہی 'ماشااللہ 'اہلحدیث ہیں جبکہ متعارف بین المسلمین محدثین کرام جو فن حدیث کی خدمات کے سبب ماہران فن حدیث "اہل حدیث "کے لقب سے پکارے جاتے تھے وہ کوئی نیا وکٹورین فرقہ نہ تھے اسی لیے تو شوافع حنابلہ مالکیہ اور احناف میں اہل حدیث (محدثین کرام )کی ایک بڑی جماعت نظر آتی ہے جب کے یہ وکٹورین" غیر کے مقلدین " ایک مخصوص مسلمانوں کو مشرک بنانا والا اور حرمین طیبین میں ایک زمانے تک کثیر مسلمانوں کے خوں اور عزت وآبرو کی کو لوٹنے والافرقہ ہے اللہ رب العزت ان کے فتنہ سے مسلمانان اسلام کی حفاظت فرمائے، آمین
ﮐﯿﺎ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻗﻮﻣﯽ ﮔﯿﺖ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﻮﮔﺎ؟
ﻣﻮﺿﻮﻉ : ﻣﺘﻔﺮﻕ ﻣﺴﺎﺋﻞ
ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ : ﻣﺤﻤﺪ ﻧﺴﯿﻢ ﻣﻘﺎﻡ : ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ :2439
ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺗﺮﺍﻧﮧ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻗﻮﻣﯽ ﮔﯿﺖ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮍﮪ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟ ﺑﺮﺍﮦ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﺭﺳﺎﻝ ﻓﺮﻣﺎ ﮐﺮ ﻋﻨﺪﺍﻟﻠﮧ ﻣﺎﺟﻮﺭ ﮨﻮﮞ۔
ﺟﻦ ﮔﻦ ﻣﻦ ﺍﺩﮬﯽ ﻧﺎﯾﮏ ﺟﺌﮯ ﮨﮯ
ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺑﮭﺎﮔﯿﮧ ﻭﺩﮬﺎﺗﺎ
ﭘﻨﺠﺎﺏ ﺳﻨﺪﮪ ﮔﺠﺮﺍﺕ ﻣﺮﺍﭨﮭﺎ
ﺩﺭﺍﻭﮈ ﺍﺗﮑﻞ ﻭﻧﮕﺎ
ﻭﻧﺪﮬﯿﮧ ﮨﻤﺎﭼﻞ ﯾﻤﻨﺎ ﮔﻨﮕﺎ
ﺍﭼﮭﻠﮧ ﺟﻠﮧ ﺩﮬﯽ ﺗﺮﻧﮕﺎ
ﺗﻮﺍ ﺳﺒﮫ ﻧﺎﻣﮯ ﺟﺎﮔﮯ
ﺗﻮﺍ ﺷﺒﮫ ﺁﺷﺶ ﻣﺎﻧﮕﮯ
ﮔﺎﮨﮯ ﺗﻮﺍ ﺟﯿﺎ ﮔﺎﺩﮬﺎ
ﺟﻦ ﮔﻦ ﻣﻨﮕﻞ ﺩﺍﯾﮏ ﺟﯿﮧ ﮨﮯ
ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺑﮭﺎﮔﯿﮧ ﻭﺩﮬﺎﺗﺎ
ﺟﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﯿﺎ ﮨﮯ
ﺟﯿﺎ ﺟﯿﺎ ﺟﯿﺎ ﺟﯿﺎ ﮨﮯ
जन गण मन अधिनायक जय हे
भारत भाग्य विधाता
पंजाब सिंध गुजरात मराठा
द्राविड उत्कल वंग
विंध्य हिमाचल यमुना गंगा
उच्छल जलधि तरंग
तव शुभ नामे जागे
तव शुभ आशिष मागे
गाहे तव जयगाथा
जन गण मंगल दायक जय हे
भारत भाग्य विधाता
जय हे, जय हे, जय हे
जय जय जय जय हे !
ﺗﺮﺟﻤﮧ
ﺍﮮ ! ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ، ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻭ ﺩﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺟﺌﮯ ﮨﻮ
O! Dispenser of India's destiny, thou art the ruler of the minds of all people
ﺗﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﮨﯽ، ﭘﻨﺠﺎﺏ، ﺳﻨﺪﮪ، ﮔﺠﺮﺍﺕ، ﻣﺮﺍﭨﮭﺎ ﻋﻠﻼﻗﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
Thy name rouses the hearts of Punjab, Sindh, Gujarat, the Maratha country
ﺩﺭﺍﻭﮈ، ﺍﺗﮑﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﮕﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
in the Dravida, Utkala and Bengal
ﺗﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﻧﺎﻡ ﻭﻧﺪﮬﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﻟﮧ ﮐﯽ ﭘﮩﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻧﺠﺘﺎ ﮨﮯ
It echoes in the hills of the Vindhyas and Himalayas
ﺟﻤﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﮕﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺭﻭﺍﮞ ﺩﻭﺍﮞ ﮨﮯ
it mingles in the rhapsodies of the pure waters of Yamuna and Ganga
ﯾﻞ ‏( ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ‏) ﻋﻼﻗﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﻧﺎﻡ ﮔﻨﮕﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
They chant only thy name .
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ
They seek only thy auspicious blessings .
ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﻧﻐﻤﮯ ﮔﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
They sing only the glory of thy victory .
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﯽ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮨﮯ
The salvation of all people waits in thy hands
ﺍﮮ ! ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ، ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻭ ﺩﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
O! Dispenser of India's destiny, thou art the ruler of the minds of all people
ﺗﯿﺮﯼ ﺟﺌﮯ ﮨﻮ، ﺗﯿﺮﯼ ﺟﺌﮯ ﮨﻮ، ﺗﯿﺮﯼ ﺟﺌﮯ ﮨﻮ
Victory to thee, Victory to thee, Victory to thee
ﺟﺌﮯ ﮨﻮ، ﺟﺌﮯ ﮨﻮ، ﺟﺌﮯ ﮨﻮ، ﺗﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﺟﺌﮯ ﮨﻮ
Victory, Victory, Victory, Victory to thee
ﺟﻮﺍﺏ :
ﮨﺮ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺮﺍﻧﮧ ﯾﺎ ﻗﻮﻣﯽ ﮔﯿﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻗﻮﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻭﻋﻘﯿﺪﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮﯼ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﻗﻮﻣﯽ ﺗﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ، ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺟﻮ ﻏﻠﻂ ﮨﻮ، ﯾﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ، ﯾﮧ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔
ﻭﺍﻟﻠﮧ ﻭ ﺭﺳﻮﻟﮧ ﺍﻋﻠﻢ ﺑﺎﻟﺼﻮﺍﺏ۔
ﻣﻔﺘﯽ : ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﯿﻮﻡ ﮨﺰﺍﺭﻭﯼ
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺷﺎﻋﺖ : 13-03-2013
ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺎﺱ ﺍﻻﺯﮨﺮﯼ
ﺴﺌﻠﮧ : ۔ﮨﺮ ﻣﺎﻟﮏ ﻧﺼﺎﺏ ﻣﺮﺩ ﻭ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﻟﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﮯ ﺧﺎﺹ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﺧﺎﺹ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﷲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺛﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﻧﯿﺖ ﺳﮯ ﺫﺑﺢ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔
‏( ﺭﺩﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺭ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻻﺿﺤﯿۃ ، ﺝ۹،ﺹ ۵۱۹،۵۲۲،۵۲۳ )
# ﻣﺴﺌﻠﮧ : ۔ﻣﺎﻟﮏ ﻧﺼﺎﺏ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﺑﺎﻭﻥ ﺗﻮﻟﮧ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﯾﺎ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﺳﺎﺕ ﺗﻮﻟﮧ ﺳﻮﻧﺎﯾﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﯾﺎ ﺭﻭﭘﯿﻮﮞ ﻧﻮﭨﻮﮞ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﻤﻠﻮﮐﮧ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺣﺎﺟﺖ ﺍﺻﻠﯿﮧ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﮨﻮﮞ۔
‏( ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼ ﺍﻟﮭﻨﺪﯾۃ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻻﺿﺤﯿۃ، ﺍﻟﺒﺎﺏ ﺍﻻﻭﻝ ﻓﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮬﺎ ﻭﺭﮐﻨﮭﺎ،ﺝ۵،ﺹ۲۹۲ ‏)
# ﻣﺴﺌﻠﮧ : ۔ﻣﺎﻟﮏ ﻧﺼﺎﺏ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ ۔
‏( ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼ ﺍﻟﮭﻨﺪﯾۃ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻻﺿﺤﯿۃ،ﺍﻟﺒﺎﺏ ﺍﻻﻭﻝ،ﺝ۵،ﺹ۲۹۲ ‏)
ﺍﮔﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﮮ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ : ۔ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﺎﺯﮦ ﺍﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻋﯿﺐ ﮨﻮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﻋﯿﺐ ﮨﻮﺗﻮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﯿﺐ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔
‏( ﺭﺩﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺭ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻻﺿﺤﯿۃ، ﺝ۹،ﺹ۵۳۶ ‏)
# ﻣﺴﺌﻠﮧ : ۔ﺍﻧﺪﮬﺎ ' ﻟﻨﮕﮍﺍ ' ﮐﺎﻧﺎ ' ﺑﯿﺤﺪ ﺩﺑﻼ ' ﺗﮩﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﻥ ' ﺩﻡ ' ﺳﯿﻨﮓ ' ﺗﮭﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﭩﺎ ﮨﻮﺍ ' ﭘﯿﺪﺍﺋﺸﯽ ﺑﮯ ﮐﺎ ﻥ ﮐﺎ ' ﺑﯿﻤﺎﺭ ' ﺍﻥ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ۔ ‏( ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼ ﺍﻟﮭﻨﺪﯾۃ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻻﺿﺤﯿۃ،ﺍﻟﺒﺎﺏ ﺍﻟﺨﺎﻣﺲ،ﺝ۵،ﺹ۲۹۷۔۲۹۸ ‏
_*ســـــوال*_

*کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں اگر کسی لڑکی کی شادی ہوگئی ہے اور اس کا شوہر اس کو طلاق دے دیا ہے اب وہ دوسرے لڑکا سے نکاح کر نا چاہتی ہے تو اس کو عدت پورا کرنا چاہیے اگر نہیں کی تو کیا حکم ہے اس کے بارے میں قرآن وحدیث سے جواب عنایت فرمائیں کرم نوازی ہوگی

_*الجواب بعون الملک الوہاب*_
_*صورت مسؤلہ میں اگر ہمبستری اور خلوت صحیحہ کےپہلے ہی طلاق دیدی تو عدت گزارنا واجب نہیں اس صورت میں نکاح کر سکتی ہے اور اگر ہمبستری یا خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دیا تو عدت گزارنا واجب ہے قبل انقضائے عدت نکاح ہر گز جائز نہ ہوگا*_
_*📚فتاوی عالمگیری مصری*_
_*جلد اول ص 471*_
_*رجل تزوج امرأۃ نکاحا جائزا فطلقھا بعد الدخول او بعد الخلوۃ الصحیحۃ کان علیھا العدۃ*_
_*( کذا فی فتاوی قاضی خان)*_
_*لہذا اس نے اگر نکاح کرلی تو ہزگز نکاح نہ ہوا وہ فوراً الگ ہوجائے اور آپس میں میاں بیوی کے تعلقات ہر گز قائم نہ کرے اور اگر تعلقات قائم کر چکے تھے تو توبہ واستغفار کریں*_

_*📚فتاوی فیض الرسول*_
_*جلد دوم ص 293*_

_*مطلقہ عورت کیلئے حکم ہے کہ وہ عدت شوہر کے گھر گزارے*_
_*📚القرآن پارہ ۲۸ سورہ طلاق میں ہے*_
_*لاتخرجوھن من بیوتھن ولایخرجن الا ان یاتین بفاحشة مبینة*_
_*یعنی طلاق والی عورتوں کو انکے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں*_

*و ایــضـــــا*
_*والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلثة قروع*_
_*📚القرآن پارہ ۲رکوع ۱۲*_

_*لہذا طلاق کے بعد عدت گزارنے سے پہلے نکاح ہرگزجائز نہیں اگر کرلیا تو نکاح نہ ہوگا*_
*واللہ اعلم بالصواب*

_*📚فتاوی فیض الرسول*_
_*جلد دوم ص ۲۹۱*_

ــــــــــــــــ🍥🌺ــــــــــــــــ
*عیدالاضحٰی کے تعلق سے ضروری ھدایتیں ۔۔۔*

*جانور خریدنے سے پہلے*

1۔ حلال رقم کا بندوبست کریں۔

2۔ اﷲ رب العزت کی رضا کا حصول اور فرض کی تکمیل کا جذبہ دل میں پیدا کریں۔

3۔ نمودو نمائش کے جذبات دل سے دفع کریں!

4۔ حصہ داری کرنے کا ارادہ ہو تو ابھی سے حصہ دار چن لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔

5۔ جس شخص کے بارے میں تحقیق ہو کہ اس کی آمدنی حرام ہے اس کو حصہ دار نہ بنائیں!

6۔ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے پہلے حجامت بنوالیں! ناخن اور زائد بال کاٹ لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔

*جانور خریدتے وقت*

1۔ جس جانور کے بارے میں غالب گمان ہو کہ چوری کا ہے اسے نہ خریدیں۔

2۔ جھوٹ اور جھوٹی قسموں سے بچیں!

3۔ دوسرے مسلمان بھائی کا سودا طے ہوچکا ہو تو اس کا سودا خراب نہ کریں!

جانور کو خوب اچھی طرح دیکھیں, خصوصا ان چیزوں کا ضرور لحاظ رکھیں:

*گائے کی عمر دو سال سے کم نہ ہو، اونٹ کی پانچ سال سے اور بکری کی ایک سال سے کم عمر نہ ہو۔ دنبہ بھیڑ چھ 6 ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو لیکن دیکھنے میں سال والے کے برابر معلوم ہوتا ہو تو قربانی ہوجائے گی۔ گائے، اُونٹ اور بکری میں یہ مسئلہ نہیں۔ ان کی عمر پوری ہونا ضروری ہے۔*

٭ کان ، زبان، دم، ان اعضاء میں سے کوئی عضو نصف سے زیادہ کٹا ہوا نہ ہو، آنکھ کی روشنی نصف سے زیادہ ضائع نہ ہو۔(تہائی اور تہائی سے زیادہ کا فتوی بھی موجود ہے)

٭ سینگ اس قدر ٹوٹے ہوئے نہ ہوں کہ ٹوٹنے کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو۔ ورنہ قربانی نہ ہوگی۔

٭ جان بوجھ کر ولادت کے قریب جانور کو خرید کر قربانی کرنا مکروہ ہے۔ بانجھ کی قربانی جائز ہے۔ خصی کی قربانی زیادہ افضل ہے۔

٭ ایسا جانور جو چارہ نہ کھا سکتا ہو یا چل ہی نہ سکتا ہو، کی قربانی درست نہیں۔

٭ جنگلی نسل کے جانور کی قربانی درست نہیں۔

٭ خنثی مشکل جانور کی قربانی جائز نہیں۔

*خریدنے کے بعد*

1۔ جانور کی خدمت کریں۔ اسے کسی قسم کی ایذا نہ دیں۔

2۔ ایسی جگہ باندھیں جہاں آنے جانے والوں کو تکلیف نہ ہو۔

3۔ جانور کے گلے میں بجنے والی گھنٹی نہ ڈالیں۔

4۔ اس پر سواری کریں، نہ ہی اس کا دودھ خود پییں! اگر دودھ نکال لیا تو اسے صدقہ کردیں! اس کی قیمت غریب کو صدقہ کر دے تو خود پینا جائز ہے۔

5۔ نمودونمائش کا اظہار نہ کریں۔

6۔ حصہ داری میں قربانی کر رہے ہوں تو حصہ داروں کو تمام معاملات میں ساتھ لے کر چلیں!

*قربانی کی تیاری*

1۔ صحیح العقیدہ مسلمان قصائی کا انتخاب کرلیں!

2۔ قصائی کی اجرت پہلے سے طے کرلیں!

3۔ قربانی کی کھال مستحق اور مستند دینی فلاحی اداروں کودینےکی کوشش کریں!

*قربانی کرتے وقت*

قربانی کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں!

1۔ چھری پہلے سے خوب تیز کرلیں۔

2۔ ذبح سے پہلے جانور کو چارہ کھلا لیں، پانی پلا لیں۔

3۔ جب شہر میں کسی ایک جگہ نماز عید ہوجائے تب قربانی کریں!

4۔ خود ذبح کریں، ورنہ کم از کم ذبح کے وقت وہاں موجود رہیں۔

5۔ ذبح کے وقت تماشا نہ بنائیں!

6۔ جس کروٹ پر جانور گرے اسی کروٹ پر ذبح کردیں۔ گھسیٹ کر قبلہ رخ نہ کریں! کوشش کریں کہ جانور قبلہ رخ گرے۔ قبلہ رخ کرنا صرف مستحب ہے جبکہ جانور کو گھسیٹ کر اسے ایذاء دینا ممنوع و مکروہ۔

7۔ چھری پھیرتے وقت بسم اﷲ ، اﷲ اکبرکہیں!

8۔ کم از کم تین رگیں ضرور کاٹیں!

9۔ ذبح کر دینے کے بعد دل میں یا حرام مغز میں چھریاں گھونپنا مکروہ عمل ہے۔

10۔ کھال کو کٹ لگنے سے بچائیں!

*قربانی کے بعد*

1۔ گوشت کے تین حصے کرنا مستحب ہے۔ ایک حصہ اپنے رشتہ داروں اور احباب میں ہدیہ کریں! ایک حصہ غرباء میں صدقہ کریں اور ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے لےے رکھیں!

2۔ سات اشیاء نہ کھائیں:
١) بہتا خون.
٢) پیشاب کی جگہ.
٣) پاخانہ کی جگہ.
٤) پتہ.
٥) مثانہ.
٦) غدود.
٧) کپورے.

باقی تمام اشیاء حلال ہیں۔

3۔ قربانی کے جانور کاگوشت، چربی اور ہڈیاں بیچنا جائز نہیں۔ اگر بیچ دیا تو اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔

4- غیرمسلم کو قربانی کا گوشت دینا جائز نہیں۔

*وَاللہ اَعْلَمُ*
ﺑﻨﺪ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﮔﻬﻮﻣﺘﺎ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻧﭗ ﮔﻬﺲ ﺁﯾﺎ *.
* ﯾﮩﺎﮞ ﺳﺎﻧﭗ ﮐﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﯽ۔ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮍﯼ ﺍﯾﮏ ﺁﺭﯼ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﺎ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ *.
* ﮔﻬﺒﺮﺍﮨﭧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﻗﻮﺕ ﺳﮯ ﮈﻧﮓ ﻣﺎﺭﺍ . ﺳﺎﻧﭗ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ . ﺍﮔﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺳﺎﻧﭗ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺁﺭﯼ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﻟﭙﭧ ﮐﺮ، ﺍﺳﮯ ﺟﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﻡ ﮔﻬﻮﻧﭧ ﮐﺮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﯽ *.
* ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺟﺐ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﻭﺭﮐﺸﺎﭖ ﮐﻬﻮﻟﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻧﭗ ﮐﻮ ﺁﺭﯼ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﻟﭙﭩﮯ ﻣﺮﺩﮦ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺤﺾ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﯿﺶ ﺍﻭﺭ ﻏﺼﮯ ﮐﯽ ﺑﻬﯿﻨﭧ ﭼﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﺗﻬﺎ *.
* ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ *.
* ﺍﭼﻬﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮨﻤﯿﮟ *
* ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ *
* ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ *
* ﮐﭽﮫ ﺣﻮﺍﺩﺙ ﮐﻮ *
* ﮐﭽﮫ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﻮ *
* ﮐﭽﮫ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ *
* ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ *.
* ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺫﮨﺎﻧﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﺎﺩﯼ ﺑﻨﺎﺋﯿﮯ، ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮨﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﺩﮐﻬﺎﺋﯿﮟ . ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺤﺾ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﺎﻥ ﺑﻬﯽ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ *.
* ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﻗﻮﺕ۔۔۔ﻗﻮﺕِ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﮯ *
* ﺻﺒﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﻮ ﮔﺮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ *
* ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ۔۔۔ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ..
📚📚📚📚📚📚🖋
۱ ‏) ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟ ‏( ۲ ‏) ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯽ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
‏( ۳ ‏) ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺳﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ؟ ﺟﺮﺳﯽ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ؟
جواب:
ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺮﺳﯽ ﮔﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺑﯿﻞ ﮐﺎ ﻧﻄﻔﮧ ﺑﺬﺭﯾﻌﮧ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﺭﺣﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻭﻻﺩﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﻨﺎ ﺣﻼﻝ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺫﺑﺢ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺷﺒﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺐ ﻏﯿﺮﻣﺸﺘﺒﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﺂﺳﺎﻧﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﻮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺫﺑﺢ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﮨﮯ، ﺍﺳﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﻮ ﺑﻼ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻣﺸﺘﺒﮧ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﺳﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﻭﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻋﻠﻢ
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ‏)
ﻣﺴﺌﻠﮧ : ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺗﯿﻦ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ ‏( ۱ ‏) ﺍﻭﻧﭧ ‏( ۲ ‏) ﮔﺎﺋﮯ ‏( ۳ ‏) ﺑﮑﺮﯼ ،ﻧﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺩﮦ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﺧﺼﯽ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮔﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﮭﯿﮍ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﺒﮧ ﺑﮑﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ‏(
*عیدالاضحٰی کے تعلق سے ضروری ھدایتیں ۔۔۔*



*جانور خریدنے سے پہلے*

1۔ حلال رقم کا بندوبست کریں۔

2۔ اﷲ رب العزت کی رضا کا حصول اور فرض کی تکمیل کا جذبہ دل میں پیدا کریں۔

3۔ نمودو نمائش کے جذبات دل سے دفع کریں!

4۔ حصہ داری کرنے کا ارادہ ہو تو ابھی سے حصہ دار چن لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔

5۔ جس شخص کے بارے میں تحقیق ہو کہ اس کی آمدنی حرام ہے اس کو حصہ دار نہ بنائیں!

6۔ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے پہلے حجامت بنوالیں! ناخن اور زائد بال کاٹ لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔

*جانور خریدتے وقت*

1۔ جس جانور کے بارے میں غالب گمان ہو کہ چوری کا ہے اسے نہ خریدیں۔

2۔ جھوٹ اور جھوٹی قسموں سے بچیں!

3۔ دوسرے مسلمان بھائی کا سودا طے ہوچکا ہو تو اس کا سودا خراب نہ کریں!

جانور کو خوب اچھی طرح دیکھیں, خصوصا ان چیزوں کا ضرور لحاظ رکھیں:

*گائے کی عمر دو سال سے کم نہ ہو، اونٹ کی پانچ سال سے اور بکری کی ایک سال سے کم عمر نہ ہو۔ دنبہ بھیڑ چھ 6 ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو لیکن دیکھنے میں سال والے کے برابر معلوم ہوتا ہو تو قربانی ہوجائے گی۔ گائے، اُونٹ اور بکری میں یہ مسئلہ نہیں۔ ان کی عمر پوری ہونا ضروری ہے۔*

٭ کان ، زبان، دم، ان اعضاء میں سے کوئی عضو نصف سے زیادہ کٹا ہوا نہ ہو، آنکھ کی روشنی نصف سے زیادہ ضائع نہ ہو۔(تہائی اور تہائی سے زیادہ کا فتوی بھی موجود ہے)

٭ سینگ اس قدر ٹوٹے ہوئے نہ ہوں کہ ٹوٹنے کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو۔ ورنہ قربانی نہ ہوگی۔

٭ جان بوجھ کر ولادت کے قریب جانور کو خرید کر قربانی کرنا مکروہ ہے۔ بانجھ کی قربانی جائز ہے۔ خصی کی قربانی زیادہ افضل ہے۔

٭ ایسا جانور جو چارہ نہ کھا سکتا ہو یا چل ہی نہ سکتا ہو، کی قربانی درست نہیں۔

٭ جنگلی نسل کے جانور کی قربانی درست نہیں۔

٭ خنثی مشکل جانور کی قربانی جائز نہیں۔

*خریدنے کے بعد*

1۔ جانور کی خدمت کریں۔ اسے کسی قسم کی ایذا نہ دیں۔

2۔ ایسی جگہ باندھیں جہاں آنے جانے والوں کو تکلیف نہ ہو۔

3۔ گھنٹی نہ ڈالیں۔

4۔ اس پر سواری کریں، نہ ہی اس کا دودھ خود پییں! اگر دودھ نکال لیا تو اسے صدقہ کردیں! اس کی قیمت غریب کو صدقہ کر دے تو خود پینا جائز ہے۔

5۔ نمودونمائش کا اظہار نہ کریں۔

6۔ حصہ داری میں قربانی کر رہے ہوں تو حصہ داروں کو تمام معاملات میں ساتھ لے کر چلیں!

*قربانی کی تیاری*

1۔ صحیح العقیدہ مسلمان قصائی کا انتخاب کرلیں!

2۔ قصائی کی اجرت پہلے سے طے کرلیں!

3۔ قربانی کی کھال مستحق اور مستند دینی فلاحی اداروں کودینےکی کوشش کریں!

*قربانی کرتے وقت*

قربانی کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں!

1۔ چھری پہلے سے خوب تیز کرلیں۔

2۔ ذبح سے پہلے جانور کو چارہ کھلا لیں، پانی پلا لیں۔

3۔ جب شہر میں کسی ایک جگہ نماز عید ہوجائے تب قربانی کریں!

4۔ خود ذبح کریں، ورنہ کم از کم ذبح کے وقت وہاں موجود رہیں۔

5۔ ذبح کے وقت تماشا نہ بنائیں!

6۔ جس کروٹ پر جانور گرے اسی کروٹ پر ذبح کردیں۔ گھسیٹ کر قبلہ رخ نہ کریں! کوشش کریں کہ جانور قبلہ رخ گرے۔ قبلہ رخ کرنا صرف مستحب ہے جبکہ جانور کو گھسیٹ کر اسے ایذاء دینا ممنوع و مکروہ۔

7۔ چھری پھیرتے وقت بسم اﷲ ، اﷲ اکبرکہیں!

8۔ کم از کم تین رگیں ضرور کاٹیں!

9۔ ذبح کر دینے کے بعد دل میں یا حرام مغز میں چھریاں گھونپنا مکروہ عمل ہے۔

10۔ کھال کو کٹ لگنے سے بچائیں!

*قربانی کے بعد*

1۔ گوشت کے تین حصے کرنا مستحب ہے۔ ایک حصہ اپنے رشتہ داروں اور احباب میں ہدیہ کریں! ایک حصہ غرباء میں صدقہ کریں اور ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے لےے رکھیں!

2۔ سات اشیاء نہ کھائیں:
١) بہتا خون.
٢) پیشاب کی جگہ.
٣) پاخانہ کی جگہ.
٤) پتہ.
٥) مثانہ.
٦) غدود.
٧) کپورے.

باقی تمام اشیاء حلال ہیں۔

3۔ قربانی کے جانور کاگوشت، چربی اور ہڈیاں بیچنا جائز نہیں۔ اگر بیچ دیا تو اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔

4- غیرمسلم کو قربانی کا گوشت دینا جائز نہیں ہے۔


*وَاللہ اَعْلَمُ*
*ثبوت الطلاق الثلاث من القرآن والحديث* 👑👑👑

*سوال*
تین طلاق کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں ثابت کریں،

*سائل :حافظ غلام حیدر*

*الجواب بعون الملک الوہاب*

الطلاق جائز بالكتاب والسنة والإجماع عند الحاجة إليه.

*فمن الكتاب قوله تعالى*: {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان } [البقرة: 229].
مذکورہ آیت کریمہ میں طلاق رجعی کا ذکر ہے یعنی اگر دو طلاق رجعی کے بعد اگر تم رکھنا چاہتے ہو تو حسن سلوک سے رکھو ورنہ بھلائی کے ساتھ چھوڑ دو اس کے بعد ہی دوسری آیت میں تیسری طلاق کا تذکرہ اور اس کا بیان ہے.. *قولہ تعالٰی:* فإن طلقها فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ
یعنی ان دونوں کے بعد اگر تیسری طلاق دے دی تو اب اس مرد کے لئے حلال نہیں جب تک کہ دوسرے سے اس کا نکاح ہو کر طلاق نہ ہو جائے
*ومن السنة*
: {عن عائشۃ أن رجلا طلق امرئتہ ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للأول قال لا حتی یذوق عسیلتھا کما ذاق الأول }
بخاری جلد اول صفحہ ٧٩١ مجلس برکات مبارک پور

مرقوم حدیث پاک میں طلاق ثلثہ کی وضاحت اور حلالہ کی تفصیل بیان کی گئی ہے
وأما الإجماع: فقد اتفقت كلمة العلماء على مشرعيته من غير نكير.

يختلف حكمه من شخص لآخر:

1. فالأصل فيه الكراهية إلا عند الحاجة إليه،

2. ويباح للحاجة كسوء خلق المرأة، وحصول الضرر بمعاشرتها.

3. ويستحب للضرر، كأن تتضرر المرأة باستدامة النكاح فيستحب لإزالة الضرر عنها.
👑👑👑👑👑👑👑👑
*حكمة مشروعية الطلاق*
شرع الطلاق في حالة مخصوصة للتخلص من المكاره الدينية والدنيوية، . لم يشرع إلا في حالة الضرورة والعجز عن إقامة المصالح بينهما لتباين الأخلاق وتنافر الطباع، أو لضرر يترتب على استبقائها في عصمته، بأن علم أن المقام معها سبب فساد دينه ودنياه، فتكون المصلحة في الطلاق واستيفاء مقاصد النكاح من امرأة أخرى.
👑👑👑👑👑👑👑👑
مذکورہ عبارت میں طلاق کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ طلاق کب دی جاتی ہے مثلا جس کا ماحصل یہ کہ جب نباہ مشکل ہو جائے اور صلح کی کوئی صورت نہ نکلے تو طلاق کی اجازت شرع نے دی ہے
👑👑👑👑👑👑👑👑
وكما يكون الطلاق للتخلص من المكاره يكون كذلك لمجرد تأديب الزوجة إذا استعصت على الزوج وأخلت بحقوق الزوجية، وتعين الطلاق علاجاً لها، فإذا أوقع عليها الطلاق الرجعي، وذاقت ألم الفرقة، فالظاهر أنها تتأدب وتتوب وتعود إلى الموافقة والصلاح.👑👑👑👑👑👑
طلاق عورت کے لئے عبرت ہے اور سنت طریقے سے طلاق دینے کی حکمت یہ ہے کہ عورت فراق کی صعوبات سے دوچار ہو کر اپنی ناروا حرکات سے باز آئے اور شوہر کی فرمانبردار بن کر شریعت کے دائرے میں زندگی بسر کرے 👑👑👑👑👑
و يكون الطلاق بلفظ " أنتِ طالق " أو أي لفظ آخر يؤدي إلى نفس المعنى. ويختلف حكم التعريض بالخِطبة للمعتدة (أي المرأة التي في عدتها) باختلاف حالتها رجعية كانت أو بائنا بطلاق أو موت ولكلٍّ حكمٌ، ولا يجوز التصريح بها على الإطلاق

عبارت عالیہ میں الفاظ صریحہ اور کنایات کا ذکر ہے
👑👑👑👑👑👑👑👑
يؤمن المسلمون بأن الشرع يبيح للرجل أن يطلق زوجته طلقتين رجعيتين بمعنى أن يجوز له أن يرجعها ويردها إلى عصمته بعدهما خلال فترة العدة التي حددها الشرع بثلاثة حيضات والطهر منهن فيما يسمى بثلاثة قروء وهذا لغير الحامل، أما الحامل فعدتها أن تضع حملها وتلد وشرع الدين هذه الفترة لاستبراء الرحم من الحمل فإن مضت عدة المرأة ولم يراجعها زوجها فقد بانت منه بينونة صغري أي لا يستطيع الرجل أن يعيد زوجته إلى عصمته إلا بعقد جديد ومهر جديد أيضاً، والسابق كله في نطاق الطلقتين الرجعيتين. فإن طلق الرجل زوجته للمرة الثالثة فقد بانت منه بينونة كبرى أي أنه لا يجوز له ردها مطلقاً لا أثناء العدة ولا بعدها، ولكن في حالة أن تزوجت المرأة من رجل أخر وعاشرها معاشرة الأزواج ثم طلقها لسبب ما - بغير تدبير ولا تخطيط وإلا كان حراماً .
علاوہ اسکے کتب احادیث میں بے شمار جگہوں پر طلاق ثلاثہ کا ذکر ہے، جیسے مسلم شریف، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، ترمذی شریف وغیرھا، 👑👑
واللہ تعالٰی اعلم
*فقیر محمد بلال انور رضوی پلاموی*
*خادم التدريس والإفتاء مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف*
٣٠ ذوالقعدہ ١٤٣٨ ھ بروز بدھ
مصافحہ کا طریقہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنی ہتھیلی دوسرے کی ہتھیلی سے ملائے، فقط انگلیوں کےچھونے کا نام مصافحہ نہیں ہے۔ سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جاے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابین کپڑا وغیرہ کوئ چیز حائل نہ ہو۔(2) (ردالمختار)
مصافحہ کا ایک دوسرا طریقہ جس کو بعض فقہا نے بیان کیا، جس کی نسبت وہ کہتے ہیں کہ حدیث سے ثابت ہے، وہ یہ کہ ہر ایک اپنا داہنا ہاتھ دوسرے کے داہنے سے اور بایاں بائیں سے ملائے اور انگوٹھے کو دبائے کہ انگوٹھے میں ایک رگ ہے کہ اس کے پکڑنے سے محبت پیدا ہوتی ہے۔(4)
بحوالئہ بہار شریعت جلد سوم، حصہ شانزدھم ،صفحہ 471 ،مکتبہ مدینہ""دعوت اسلامی""تین جلد والی ۔
آپ بھی مطالعہ کر سکتے ہیں۔
از۔ خطیب الرحمن حسنی کٹیہار
...فتاویٰ شارح بخاری ج2ص616
سے سند حسن سے اور ترمذی نے تعلیقاً بیان کیا۔ (ت)

(۲؎ سنن ابوداؤد کتاب الجہاد با ب فی الاقامۃ بارض الشرک آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹)

جس نے کسی قوم کی کثرت بڑھائی وہ انہی میں سے ہوگا، اسے خطیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)

(۱؎ تاریخ بغداد حدیث نمبر ۵۱۶۷ عبداللہ بن عتاب الشاہد العبدی دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/ ۴۱)

جس نے کسی قوم کا جتھا بڑھایا پس وہ انہی میں سے ہوگا اسے ابویعلٰی نے مسند میں اورعلی بن معبد نے کتاب الطاعۃ والمعصیۃ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعا اور ابن مبارک نے زہد میں حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ارشاد کے طورپر نقل کیا۔ (ت)

(۲؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ مسند ابی یعلی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ الخ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴/ ۳۴۶)

مجمع الانہر، شرح ملتقی الابحر وفتاوٰی ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویرالابصار ودرمختار وغیرہا میں ہے:

یکفر بتبجیل الکافر حتی لو سلم علی الذمی تبجیلاکفروبقولہ للمجوسی یااستاذ تبجیلا ۳؎۔

کافر کی تعظیم کفر ہے حتی کہ اگر کسی نے ذمی کو تعظیما سلام کہا تو یہ کفر ہے، کسی نے مجوسی کو بطور تعظیما یااستاد کہا تو یہ بھی کفرہے۔ (ت)

(۳؎ الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۸۸)

جو اپنی ذات کے کفرپر خوش ہو اور وہ بالاتفاق کافرہے او رجو کسی کے کفر پر خوش ہوا اس کے بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ (ت)

(۴؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۸۰۔ ۱۷۹)

جب کوئی برائی کاارتکاب کرے تو توبہ بھی اسی طرح کی جائے مثلا خفیہ گناہ پر خفیہ توبہ اور اعلانیہ گناہ پر اعلانیہ توبہ ضروری ہے، اسے امام احمد نے زہد میں اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل کیاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(فتاوی رضویہ۱۴/۱۴۳,۱۴۴n)
*گوشت کے 22 اجزاء ایسے ھیں جن کا کھانا مکروہ تحریمی ھے....*
🔹👇🏻🔹👇🏻🔹👇🏻🔹👇🏻🔹👇🏻
1:رگوں کا خون
2:پِتَّہ
3:مثانہ
5,4:علامات نر و مادہ
6:کپورے (فوطے)
7:غدودیں ( جسم کے اندرکی گانٹھ )
8:حرام مغز
9:گردن کے دو پٹھے جو کندھوں تک کھنچے ھوتے ھیں
10:جگر
11:تِلی کا خون
12:گوشت کا خون جو ذبح کے بعد نکلتا ھے
13:دل کا خون
14:وہ پیلا پانی جو پتے میں ھو
15:ناک کی رطوبت
16:پاخانے کا مقام
17:اوجھڑی
18:آنتیں
19:نطفہ (وہ پانی جس سے بچہ بنتا ھے)
20:وہ نطفہ جو خون بن جاے
21:وہ نطفہ جو گوشت کا لوتھڑا بن جاے
22:وہ نطفہ جو پورا جانور بن جاے

*(فتوی رضویہ جلد 20 صفحہ 240)*
واللہ اعلم بالصواب...
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
*فتاوی رضویہ سے کافروں کے اجتماع اور بت پر پھول وغیرہ چڑھانے کا حکم*
*_________________________*

مسئلہ ۲۹۹: از الہ آباد دائرہ اجملیہ مسئولہ مولوی سید نذیر احمد صاحب ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس صورت میں کہ عام اہل اسلام کو بغرض استقامت امور دنیاوی، اتحاد کسی مشرک قوم سے اس طورپر کرنا کہ دسہرہ میں عام اہل اسلام شریک ہوکر ناقوس بجائیں، پھول رام لچمھن پر چڑھائیں، جے کی آواز بلند کریں یا قربانی میں گائے کی قربانی بند کردیں جائز ہے یاناجائز؟ مرتکب ان امور کا کس وزر کا مستوجب ہے ؟ مع حوالہ عبارات جواب درکار ہے۔

بت کی عبادت کفرہے، دل میں جو کچھ ہے اس کا اعتبار نہیں، اسی طرح اس کاحکم ہے اگر حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تصویر بناکر اسے سجدہ کیا،ا سی طرح سجدہ کےلئے بت بنانے کاحکم ہے، اسی طرح اگر کسی نے یہود ونصارٰی کازنار باندھا خواہ ان کے گرجا میں داخل ہو ایانہ ہوا۔ (ت)

(۱؎ اشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۹۵)

نیروز اور مہرجان کے نام پر عطیہ (بایں طور کہ کہا جائے یہ اس دن کا ہدیہ ہے ش) جائز نہیں یعنی ان دونوں ایام کے ناموں پر ہدایا دینا لینا حرام اور اگر مشرکین کی طرح ان کی تعظیم بھی کرے گاتو کفر ہوگا، (ت)

(۲؂درمختار شرح تنویر الابصار باب مسائل شتی مطبع مجتائی دہلی ۲/ ۳۵۰)

(ردالمحتار باب مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۱)

مجوسیوں کے ساتھ نیزوز میں اس طرح نکلنا کہ اس دن وہ جو کریں گے یہ ان کی موافقت کرے تو یہ کفرہے، اسی طرح نیروز کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے یا مشرکین کو ہدیہ دینے کے لئے کوئی چیز خریدی نہ کہ کھانے پینے کے لئے جبکہ وہ چیز اس سے پہلے نہیں خریدی تھی اگرچہ وہ انڈہ ہی کیوں نہ ہو تو کفر ہوگا۔ (ت)

(۳؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب ان الالفاظ الکفر انواعٌ مطبع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۸)

شیخ ابوبکر بن طرخاں کہتے ہیں جو سدہ کی طرف نکلا (ملا علی قاری نے اس کا معنی اہل کفر کا اجتماع کیاہے) تو وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس میں کفر کا اعلان ہے گویا اس نے کفرپر مدد کی اس پرقیاس ہے، نیروز میں نکلنا اور اس دن کےموافق عمل کرنا کہ یہ بھی کفرہے۔ (ت)

(۱؎ جامع الفصولین فصل فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۳)

(منح الروض الازہر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۶)

جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرلی وہ انہی میں سے ہے۔ (ت)

(۲؎ مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/۵۰)

اگر کسی نے تعظیم کرتے ہوئے ذمی کو سلام دیا تو کافر ہوجائے گا کیونکہ کافر کی تعظیم کفرہے، اگر کسی نے مجوسی کو بطور تعظیم اے استاذ کہا تو کفرہے۔ (ت)

(۳؂الاشباہ والنظائر کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۸۸)

(درمختار کتاب الحظر فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱)

بخاطر ہنود گائے کی قربانی بند کرنا حرام ہے، والتفصیل فی انفس الفکر فی قربان البقر (اس کی تفصیل ہماری کتاب انفس الفکر فی قربان البقر میں ملاحظہ کیجئے۔ ت) مرتکب کاحکم انھیں احکام سے ظاہر جو مرتکب حرام ہے مستحق عذاب جہنم ہے اور جو مرتکب کفر فقہی ہے جیسے دسہرے کی شرکت یا کافروں کی جے بولنا اس پر تجدیدِ اسلام لازم ہے اور اپنی عورت سے تجدیدِ نکاح کرے اور جو قطعا کافرہوگیا، جیسے دسہرے میں بطور مذکور ہنود کے ساتھ ناقوس بجانے یا معبودان کفار پر پھول چڑھانے والا کافر مرتدہوگیا اس کی عورت نکاح سے نکل گئی اگر تائب ہو اور اسلام لائے جب بھی عورت کو اختیار ہے بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے، اور بے توبہ مرجائے تواسے مسلمانوں کی طرح غسل وکفن دینا حرام اس کے جنازے کی شرکت حرام اسے مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام اس پر نماز پڑھنا

(اس کے علاوہ دیگر احکام بھی ۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔

وہ کسی ملامت کرنے والے کاخوف نہیں رکھتے۔ ت) کی شان پیش نظر فرماتے ہوئے تحریر فرماکر عنداللہ ماجور ہوں:

(۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۵۴)

(۱) جو مسلمان اس جلسہ میں شریک ہوئے اور چندن لگوانے سے انکار کیا ان کی شرکت اس جلوس میں ازروئے شریعت کیسی تھی۔

(۲) جن مسلمانوں نے چندن لگوانے سے ہندوؤں کو روکا نہیں بلکہ لگوایا پھر بعد کو اسی وقت یا تھوڑی دیر بعد اس جلسہ میں اپنے ہاتھوں اور رومالوں سے صاف کرلیا ان کاکیاحکم ہے؟

(۳) جن مسلمانوں نے چندن لگوایا اور چندن لگائے ہوئے جلسہ میں شریک رہے بلکہ چندن لگائے ہوئے اپنے گھروں پر واپس آئے یا شام تک لگا ئے رہے، ان کی بابت حکم شرع شریف کیاہے؟

جس نے کسی مشرک کے ساتھ اتفاق کیا اور اسی کے ساتھ ٹھہرا وہ اسی کے مثل ہوگا، اسے ابوداؤد نے حضرت جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ