Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
کنوارا یعنی مسکین
آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
مِسْكِينٌ مِسْكِينٌ رَجُلٌ لَيْسَتْ لَهُ امْرَأَةٌ"، قِيلَ: "يَا رَسُولَ اللهِ! وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا ذَا مَالٍ؟" قَالَ: "وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا مِنَ الْمَالِ"، قَالَ: "وَمِسْكِينَةٌ مِسْكِينَةٌ امْرَأَةٌ لَيْسَ لَهَا زَوْجٌ"، قِيلَ: "يَا رَسُولَ اللهِ! وَإِنْ كَانَتْ غَنِيَّةً أَوْ مُكْثِرَةً مِنَ الْمَالِ؟" قَالَ: "وَإِنْ كَانَتْ."
مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو،
عرض کی گئی: اے اللّٰہ کے رسول! اگرچہ (وہ مرد) مال والا امیر (Rich) ہو؟
فرمایا: ہاں، اگرچہ مال والا امیر ہو!
پھر آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسکینہ ہے، مسکینہ ہے وہ عورت جس کا شوہر نہ ہو،
عرض کی گئی: اے اللّٰہ کے رسول! چاہے وہ (عورت) امیر ہو یا زیادہ مال والی ہو؟
فرمایا: ہاں (چاہے مال والی) ہو۔
(شعب الایمان للبیہقی، متوفی 458 ہجری، حدیث نمبر:5097، جلد نمبر:7، صفحہ نمبر:338، پبلیکیشن: مکتبۃ الرشد، ریاض، 1st ایڈیشن، 1423 ہجری بمطابق 2003 عیسوی)
عبد مصطفی
قاسم القادری
آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
مِسْكِينٌ مِسْكِينٌ رَجُلٌ لَيْسَتْ لَهُ امْرَأَةٌ"، قِيلَ: "يَا رَسُولَ اللهِ! وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا ذَا مَالٍ؟" قَالَ: "وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا مِنَ الْمَالِ"، قَالَ: "وَمِسْكِينَةٌ مِسْكِينَةٌ امْرَأَةٌ لَيْسَ لَهَا زَوْجٌ"، قِيلَ: "يَا رَسُولَ اللهِ! وَإِنْ كَانَتْ غَنِيَّةً أَوْ مُكْثِرَةً مِنَ الْمَالِ؟" قَالَ: "وَإِنْ كَانَتْ."
مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو،
عرض کی گئی: اے اللّٰہ کے رسول! اگرچہ (وہ مرد) مال والا امیر (Rich) ہو؟
فرمایا: ہاں، اگرچہ مال والا امیر ہو!
پھر آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسکینہ ہے، مسکینہ ہے وہ عورت جس کا شوہر نہ ہو،
عرض کی گئی: اے اللّٰہ کے رسول! چاہے وہ (عورت) امیر ہو یا زیادہ مال والی ہو؟
فرمایا: ہاں (چاہے مال والی) ہو۔
(شعب الایمان للبیہقی، متوفی 458 ہجری، حدیث نمبر:5097، جلد نمبر:7، صفحہ نمبر:338، پبلیکیشن: مکتبۃ الرشد، ریاض، 1st ایڈیشن، 1423 ہجری بمطابق 2003 عیسوی)
عبد مصطفی
قاسم القادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
دودھ بخشوانا (پارٹ 1)
حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی رحمۃاللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ اولاد کی غیر موجودگی میں (یعنی وہ کہیں دور تھا اور) والدہ کا انتقال ہو گیا اور دودھ بخشا نہیں گیا اس صورت میں اولاد کیا کرے اس لیے کہ دودھ بخشوانا تو لازم ہے تو اس سورت میں علماء دین اور مفتیانِ کرام کیا حکم فرماتے ہیں؟
آپ رحم اللہ تعالیٰ جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ شریعت میں دودھ پلانے والے پر کوئی مطالبہ نہیں، اس لیے دودھ بخشوانا کوئی شرعی حکم نہیں، اس کے علاوہ بھی اولاد پر ماں کے بےشمار حقوق ہیں، انتقال کے بعد حقوق کو ادا کرنے کی یہی صورت ہے کہ ان کے حق میں دعائے خیر کرے اور ان کے لیے ایصال ثواب کرے وغیرہ۔
(فتاویٰ بحر العلوم، ج2 ص79)
جاری ہے.....
عبد مصطفیٰ
حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی رحمۃاللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ اولاد کی غیر موجودگی میں (یعنی وہ کہیں دور تھا اور) والدہ کا انتقال ہو گیا اور دودھ بخشا نہیں گیا اس صورت میں اولاد کیا کرے اس لیے کہ دودھ بخشوانا تو لازم ہے تو اس سورت میں علماء دین اور مفتیانِ کرام کیا حکم فرماتے ہیں؟
آپ رحم اللہ تعالیٰ جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ شریعت میں دودھ پلانے والے پر کوئی مطالبہ نہیں، اس لیے دودھ بخشوانا کوئی شرعی حکم نہیں، اس کے علاوہ بھی اولاد پر ماں کے بےشمار حقوق ہیں، انتقال کے بعد حقوق کو ادا کرنے کی یہی صورت ہے کہ ان کے حق میں دعائے خیر کرے اور ان کے لیے ایصال ثواب کرے وغیرہ۔
(فتاویٰ بحر العلوم، ج2 ص79)
جاری ہے.....
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
دودھ بخشوانا (پارٹ 2)
فتاوی مرکز تربیت افتا میں سوال ہے کہ اکثر جگہوں میں رائج ہے کہ ماں کو کچھ دے کر اسے خوش کر کے اس کا دودھ بخشواتے ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے اور اس طرح سے معاف ہو جاتا ہے؟
الجواب : دودھ بخشوانا شرعاً بے اصل چیز ہے اس کی قطعی کوئی حاجت نہیں ماں پر یہ بچے کا حق ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلائے تو ماں نے اپنا حق ادا کیا ہے نہ کہ بچے کے ذمے قرض کا بوجھ ڈالا ہے۔
ہاں ماں کے احسانات اولاد پر کثیر ہیں ان سے اولاد ماں کی بہت کچھ خدمت کرکے بھی سبکدوش نہیں ہو سکتے بلکہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی اطاعت تا عمر ہر شخص پر لازم ہے۔
جہاں تک ہو سکے ہر شخص اپنے والدین کی خوشنودی حاصل کرے اس لیے کہ رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے۔
حدیث شریف ہے :
رضا الرب فی رضا الوالدین
یعنی رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے (ترغیب و ترہیب، ج3، صفحہ221)
(فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، صفحہ396)
جاری ہے.....
عبد مصطفیٰ
فتاوی مرکز تربیت افتا میں سوال ہے کہ اکثر جگہوں میں رائج ہے کہ ماں کو کچھ دے کر اسے خوش کر کے اس کا دودھ بخشواتے ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے اور اس طرح سے معاف ہو جاتا ہے؟
الجواب : دودھ بخشوانا شرعاً بے اصل چیز ہے اس کی قطعی کوئی حاجت نہیں ماں پر یہ بچے کا حق ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلائے تو ماں نے اپنا حق ادا کیا ہے نہ کہ بچے کے ذمے قرض کا بوجھ ڈالا ہے۔
ہاں ماں کے احسانات اولاد پر کثیر ہیں ان سے اولاد ماں کی بہت کچھ خدمت کرکے بھی سبکدوش نہیں ہو سکتے بلکہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی اطاعت تا عمر ہر شخص پر لازم ہے۔
جہاں تک ہو سکے ہر شخص اپنے والدین کی خوشنودی حاصل کرے اس لیے کہ رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے۔
حدیث شریف ہے :
رضا الرب فی رضا الوالدین
یعنی رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے (ترغیب و ترہیب، ج3، صفحہ221)
(فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، صفحہ396)
جاری ہے.....
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
پہلے تولو بعد میں بولو
ایک بادشاہ نے خواب دیکھا تو تعبیر بتانے والوں کو بلایااور اپنا خواب سنایا ، ایک نے کہا: اس کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کا بیٹا،پوتا اور پڑپوتا آپ کی نظروں کے سامنے مریں گے،بادشاہ کو یہ سُن کر بڑاغصہ آیا اور اُسے قید میں ڈلوا دیا ، پھر دوسرے سے تعبیر پوچھی تو وہ پہلے شخص کا حال دیکھ چکا تھا اس لیے دوسرے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہنے لگا:آپ اپنے بیٹے ،پوتے اور پڑپوتے کی تاج پوشی کی رَسْم اپنی آنکھوں سے مُلاحَظہ فرمائیں گے،بادشاہ اس کی بات سن کر خوش ہوا اور اسے اِنعام واِکرام سے نوازا۔
غور کیجیے کہ دوسرے کی تعبیر پہلے سے مختلف نہیں تھی صرف الفاظ کا فرق تھا کہ بیٹا فوت ہوگا تو پوتے کی اور پوتے کا انتقال ہوگا تو پڑپوتے کی تاج پوشی ہوگی۔ لیکن پہلے کو اپنے الفاظ کی وجہ سے سزا ملی اور دوسرے کو مناسب لفظوں کے اِنتِخاب نے اِنعام دلوا دیا۔
کس سے، کس وقت اور کس انداز میں کیا گُفْتگو (conversation) کرنی ہے؟ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے۔ انسان جب بولتا ہے تو کبھی کسی کے دل میں اُتر جاتا ہے اور کبھی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے دل سے اُترجاتا ہے ، لہٰذا ’’پہلے تولو بعد میں بولو‘‘ پر عمل کرنا چاہیے۔
اپنی گفتگو میں جان ڈالنے کے لیے دورانِ گُفتگو مناسب الفاظ کا استعمال کیجیے، جیسے ’’اندھے‘‘ کی جگہ ”نابینا“، ’’بوڑھے‘‘ کی جگہ ’’بُزُرگ‘‘ ،’’فلاں مرگیا‘‘ کی جگہ ’’فلاں کا اِنتِقال ہوگیا‘‘، ’’کیوں آئے ہو؟‘‘ کی جگہ ’’کیسے تشریف لائے؟‘‘ ، ’’مصیبت میں پڑگیا“ کی جگہ ’’آزمائش میں آگیا‘‘، ’’آپ غلط کہہ رہے ہیں‘‘ کی جگہ ’’میری ناقص رائے یہ ہے کہ یہ بات اس طرح ہے‘‘، ’’آپ میری بات نہیں سمجھے‘‘ کی جگہ ’’شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں پایا‘‘ وغیرہ الفاظ استعمال کیجیے اور اس کے فوائد اپنی آنکھوں سے دیکھئے۔
بات کرتے وقت یہ بھی پیشِ نظر رکھیے کہ زبان سامنے والے کے منھ میں بھی ہے، اور اس کی بات بھی سنئے کیونکہ گفتگو اسی کا نام ہے کہ کبھی ایک بولے اور دوسرا سنے تو کبھی دوسرا بولے اور پہلا سنے۔ اگر آپ اپنی ہی سناتے چلے جائیں گے تو وہ دوبارہ آپ کو دیکھتے ہی راستہ بدل سکتا ہے۔
آخری بات یہ کہ پُرسکون لہجے کا استعمال، سمجھنے اور سمجھانے میں مددگار ہوتا ہے، چنانچہ اچھی سے اچھی گفتگو بھی اگر خراب لہجے میں کی جائے تو سننے والے کو ناگَوار گزرے گی۔ دورانِ گفتگو اپنی آواز کے اُتار چڑھاؤ پر نظر رکھئے، لوگ جلدی آپ کی بات سمجھ جائیں گے، آواز کی بُلندی و پستی آپ کی بلندی وپستی کا سبب بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں فضُول گوئی سے محفوظ رکھے۔
عبد مصطفیٰ دانش شاہان
ایک بادشاہ نے خواب دیکھا تو تعبیر بتانے والوں کو بلایااور اپنا خواب سنایا ، ایک نے کہا: اس کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کا بیٹا،پوتا اور پڑپوتا آپ کی نظروں کے سامنے مریں گے،بادشاہ کو یہ سُن کر بڑاغصہ آیا اور اُسے قید میں ڈلوا دیا ، پھر دوسرے سے تعبیر پوچھی تو وہ پہلے شخص کا حال دیکھ چکا تھا اس لیے دوسرے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہنے لگا:آپ اپنے بیٹے ،پوتے اور پڑپوتے کی تاج پوشی کی رَسْم اپنی آنکھوں سے مُلاحَظہ فرمائیں گے،بادشاہ اس کی بات سن کر خوش ہوا اور اسے اِنعام واِکرام سے نوازا۔
غور کیجیے کہ دوسرے کی تعبیر پہلے سے مختلف نہیں تھی صرف الفاظ کا فرق تھا کہ بیٹا فوت ہوگا تو پوتے کی اور پوتے کا انتقال ہوگا تو پڑپوتے کی تاج پوشی ہوگی۔ لیکن پہلے کو اپنے الفاظ کی وجہ سے سزا ملی اور دوسرے کو مناسب لفظوں کے اِنتِخاب نے اِنعام دلوا دیا۔
کس سے، کس وقت اور کس انداز میں کیا گُفْتگو (conversation) کرنی ہے؟ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے۔ انسان جب بولتا ہے تو کبھی کسی کے دل میں اُتر جاتا ہے اور کبھی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے دل سے اُترجاتا ہے ، لہٰذا ’’پہلے تولو بعد میں بولو‘‘ پر عمل کرنا چاہیے۔
اپنی گفتگو میں جان ڈالنے کے لیے دورانِ گُفتگو مناسب الفاظ کا استعمال کیجیے، جیسے ’’اندھے‘‘ کی جگہ ”نابینا“، ’’بوڑھے‘‘ کی جگہ ’’بُزُرگ‘‘ ،’’فلاں مرگیا‘‘ کی جگہ ’’فلاں کا اِنتِقال ہوگیا‘‘، ’’کیوں آئے ہو؟‘‘ کی جگہ ’’کیسے تشریف لائے؟‘‘ ، ’’مصیبت میں پڑگیا“ کی جگہ ’’آزمائش میں آگیا‘‘، ’’آپ غلط کہہ رہے ہیں‘‘ کی جگہ ’’میری ناقص رائے یہ ہے کہ یہ بات اس طرح ہے‘‘، ’’آپ میری بات نہیں سمجھے‘‘ کی جگہ ’’شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں پایا‘‘ وغیرہ الفاظ استعمال کیجیے اور اس کے فوائد اپنی آنکھوں سے دیکھئے۔
بات کرتے وقت یہ بھی پیشِ نظر رکھیے کہ زبان سامنے والے کے منھ میں بھی ہے، اور اس کی بات بھی سنئے کیونکہ گفتگو اسی کا نام ہے کہ کبھی ایک بولے اور دوسرا سنے تو کبھی دوسرا بولے اور پہلا سنے۔ اگر آپ اپنی ہی سناتے چلے جائیں گے تو وہ دوبارہ آپ کو دیکھتے ہی راستہ بدل سکتا ہے۔
آخری بات یہ کہ پُرسکون لہجے کا استعمال، سمجھنے اور سمجھانے میں مددگار ہوتا ہے، چنانچہ اچھی سے اچھی گفتگو بھی اگر خراب لہجے میں کی جائے تو سننے والے کو ناگَوار گزرے گی۔ دورانِ گفتگو اپنی آواز کے اُتار چڑھاؤ پر نظر رکھئے، لوگ جلدی آپ کی بات سمجھ جائیں گے، آواز کی بُلندی و پستی آپ کی بلندی وپستی کا سبب بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں فضُول گوئی سے محفوظ رکھے۔
عبد مصطفیٰ دانش شاہان
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
کتنا علم حاصل کرنا ضروری ہے؟
سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت عقائد کا علم حاصل کرے۔
عقائد کے باب میں ایک یا دو باتیں نہیں ہیں بلکہ کئی باتیں آجاتی ہیں،
کچھ باتیں بنیادی اور مشہور ہیں اور کچھ باتیں ایسی ہیں کہ علمی اور تفصیلی ہیں۔
اب ہر شخص پر یہ ضروری نہیں کہ وہ گہرائی میں جاکر باریک باتوں کا علم حاصل کرے بلکہ بنیادی عقائد کو سمجھ لینا ضروری ہے۔
اب جب عقائد کا علم آجائے تو بنیاد تیار ہو گئی پھر باری آتی ہے عمل کی یعنی جو بنیاد تیار ہوئی تھی، اب اس پر دیواریں کھڑی کرنی ہیں۔
اب اعمال بجا لانے کے متعلق ضروری مسائل کا علم کرنا بندے پر لازم ہے ورنہ وہ کسی عمل کو ادا کیسے کریں گے؟
نماز فرض ہوئی تو نماز کے متعلق مسائل کا علم حاصل کرنا ضروری ہوگا،
روزہ رکھنا ہے تو روزے کا،
اگر مال ہے اور زکوٰۃ فرض ہو گئی تو زکوٰۃ کا،
نکاح کی باری آئی تو اس سے متعلق مسائل کا اور جن جن عبادات کو ادا کرنا ہوا تو اس کے متعلق علم حاصل کرنا ہوگا۔
ایک بات یہ جان لینا چاہیے کہ پہلے جن باتوں کا علم حاصل کرنا ضروری ہے ان پر توجہ دی جائے اور ایسے مسائل سے فی الحال پرہیز کیا جائے جن کی ضرورت تو ہے لیکن فی الحال نہیں اب کسی پر زکوٰۃ فرض نہیں نماز فرض ہے اور وہ نماز کے مسائل کا علم نہیں رکھتا اور زکوٰۃ کے مسائل سیکھ رہا ہے تو یہ مناسب نہیں کہ پہلے ضرورت ہے نماز سیکھنے کی نہ کہ زکوٰۃ کے مسائل لے کر بیٹھ جائے۔
عبد مصطفیٰ آفیشل
سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت عقائد کا علم حاصل کرے۔
عقائد کے باب میں ایک یا دو باتیں نہیں ہیں بلکہ کئی باتیں آجاتی ہیں،
کچھ باتیں بنیادی اور مشہور ہیں اور کچھ باتیں ایسی ہیں کہ علمی اور تفصیلی ہیں۔
اب ہر شخص پر یہ ضروری نہیں کہ وہ گہرائی میں جاکر باریک باتوں کا علم حاصل کرے بلکہ بنیادی عقائد کو سمجھ لینا ضروری ہے۔
اب جب عقائد کا علم آجائے تو بنیاد تیار ہو گئی پھر باری آتی ہے عمل کی یعنی جو بنیاد تیار ہوئی تھی، اب اس پر دیواریں کھڑی کرنی ہیں۔
اب اعمال بجا لانے کے متعلق ضروری مسائل کا علم کرنا بندے پر لازم ہے ورنہ وہ کسی عمل کو ادا کیسے کریں گے؟
نماز فرض ہوئی تو نماز کے متعلق مسائل کا علم حاصل کرنا ضروری ہوگا،
روزہ رکھنا ہے تو روزے کا،
اگر مال ہے اور زکوٰۃ فرض ہو گئی تو زکوٰۃ کا،
نکاح کی باری آئی تو اس سے متعلق مسائل کا اور جن جن عبادات کو ادا کرنا ہوا تو اس کے متعلق علم حاصل کرنا ہوگا۔
ایک بات یہ جان لینا چاہیے کہ پہلے جن باتوں کا علم حاصل کرنا ضروری ہے ان پر توجہ دی جائے اور ایسے مسائل سے فی الحال پرہیز کیا جائے جن کی ضرورت تو ہے لیکن فی الحال نہیں اب کسی پر زکوٰۃ فرض نہیں نماز فرض ہے اور وہ نماز کے مسائل کا علم نہیں رکھتا اور زکوٰۃ کے مسائل سیکھ رہا ہے تو یہ مناسب نہیں کہ پہلے ضرورت ہے نماز سیکھنے کی نہ کہ زکوٰۃ کے مسائل لے کر بیٹھ جائے۔
عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
دودھ بخشوانا (پارٹ 2) فتاوی مرکز تربیت افتا میں سوال ہے کہ اکثر جگہوں میں رائج ہے کہ ماں کو کچھ دے کر اسے خوش کر کے اس کا دودھ بخشواتے ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے اور اس طرح سے معاف ہو جاتا ہے؟ الجواب : دودھ بخشوانا شرعاً بے اصل چیز ہے اس کی قطعی کوئی حاجت…
دودھ بخشوانا (پارٹ 3 - آخری)
علامہ مفتی محمد فضل کریم رضوی حامدی ایک سوال جو کچھ اس طرح ہے کہ ماں سے دودھ بخشوانا کیوں، کیسے اور کس وقت ضروری ہے؟، کے جواب میں لکھتے ہیں کہ :
ماں جب چاہے دودھ بخش سکتی ہے مگر اس سے جو ماں کے حقوق اولاد پر ہیں وہ ختم نہیں ہوں گے۔
حدیث ہے :
الجنت تحت اقدام امھاتکم
جنت تمھاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے
( فتاوی شرعیہ، ج2 ، ص 506 )
شریعت میں دودھ بخشوا نے کی کوئی اصل نہیں ہے جیسا کہ آج کل بعض لوگوں میں رواج ہے۔
یہ غیروں سے ہمارے درمیان آیا ہے کہ جسے وہ دودھ کا قرض وغیرہ سے تعبیر کرتے ہیں، ہمارے دین میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
ماں اور اولاد دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں اور انہیں ادا کرنے پر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے انعام پائیں گے اور نوازے جائیں گے، ان چیزوں سے جن کا وعدہ کیا گیا ہے باقی اسے قرض جاننا اور پھر بخشوانے کا یہ طریقہ بے اصل ہے۔
عبد مصطفیٰ آفیشیل
علامہ مفتی محمد فضل کریم رضوی حامدی ایک سوال جو کچھ اس طرح ہے کہ ماں سے دودھ بخشوانا کیوں، کیسے اور کس وقت ضروری ہے؟، کے جواب میں لکھتے ہیں کہ :
ماں جب چاہے دودھ بخش سکتی ہے مگر اس سے جو ماں کے حقوق اولاد پر ہیں وہ ختم نہیں ہوں گے۔
حدیث ہے :
الجنت تحت اقدام امھاتکم
جنت تمھاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے
( فتاوی شرعیہ، ج2 ، ص 506 )
شریعت میں دودھ بخشوا نے کی کوئی اصل نہیں ہے جیسا کہ آج کل بعض لوگوں میں رواج ہے۔
یہ غیروں سے ہمارے درمیان آیا ہے کہ جسے وہ دودھ کا قرض وغیرہ سے تعبیر کرتے ہیں، ہمارے دین میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
ماں اور اولاد دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں اور انہیں ادا کرنے پر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے انعام پائیں گے اور نوازے جائیں گے، ان چیزوں سے جن کا وعدہ کیا گیا ہے باقی اسے قرض جاننا اور پھر بخشوانے کا یہ طریقہ بے اصل ہے۔
عبد مصطفیٰ آفیشیل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی
✍️ شاہزیب راجپر
حضور نبی کریم رؤف رحیمﷺ کو بلا شبہ بے شمار کمالات سے نواز کر بھیجا گیا، ظاہر و باطن کی تمام خوبیوں کے ہر اعتبار سے اکمل و اتم ہوکر مرسَل ہوئے۔آپ کے اوصاف کاملہ میں سے ایک وصف وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْ بھی ہے،
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مومن ہوں مومنوں پہ رؤف رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لانہر کی ہے
سرکار دو عالم ﷺ کے اس وصف کے دنیا نے جو نظارے کئے انہیں سنئے اور ایمان تازہ کی جئے!
(1)غارِ ثَور میں صدیق اکبر عرض گزار ہوئے کہ مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے توتاجدارِ رسالت ﷺ نے اپنا لعابِ دہن لگا کر زہر کا اثر دور کر دیا۔
(2) ایک موقع پرصحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے پانی ختم ہو جانے پر فریاد کی تو انگلیوں سے پانی کے چشمے بہا دئیے۔
انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر
ندیاں پنج آب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ
(3) غزوۂ اُحد میں تیر لگنے سے حضرت قتادہ کی آنکھ نکل گئی اور وہ اپنی نکلی ہوئی آنکھ لے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر شفا ہوگئے تو رسولِ اکرم ﷺ نے لعاب ِدہن لگا کر ان کی آنکھ کو درست فرما دیا۔
(4)غزوۂ خیبر کے موقع پرحضرت علی المرتضیٰ نے آشوب چشم کی شکایت کی تو نبی افضل ﷺ نے اپنا لعابِ دہن لگا کر ان کی بیماری دور کر دی۔
(5) ایک شکاری کی قید میں موجود ہرنی نے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے جانے کی اِلتجا کی تو حضورِ انور ﷺنے ا س کی التجاء پوری کردی۔
(6)حضرت عبد اللہ بن عتیق اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ لے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے اپنا دستِ اَقدس پھیرکر ان کی ٹانگ کو درست کر دیا۔
(7) حضرت ربیعہ اور حضرت عکاشہ نے دنیا میں جنت مانگی تومالک جنت ﷺنے انہیں جنت عطا کردی۔
(8) غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت معوذ نے اپنا کٹا ہوا بازو سامنے پیش کیا توسیّد الکونین ﷺ نے اپنے دہنِ اَقدس سے مبارک لعاب لگا کر اسے جوڑ دیا۔
(9)کھجور کے ایک تنے نے عرض کی کہ مجھے جنت میں بودیا جائے توسرکارعالی وقار ﷺ نے اسکی عرضی قبول فرمائی۔
(10)ایک اونٹ نے کام زیادہ ہونے اور چارہ کم ہونے کی فریاد کی توحضورِ اَقدس ﷺ نے ا س کی داد رسی کردی
مانگیں گے مانگے جائیں گے منھ مانگی پائیں گے
سرکارﷺ میں نہ ’’لا‘‘ ہے نہ حاجت ’’اگر‘‘ کی ہے
https://t.me/SirfUrduTahrir/6113
✍️ شاہزیب راجپر
حضور نبی کریم رؤف رحیمﷺ کو بلا شبہ بے شمار کمالات سے نواز کر بھیجا گیا، ظاہر و باطن کی تمام خوبیوں کے ہر اعتبار سے اکمل و اتم ہوکر مرسَل ہوئے۔آپ کے اوصاف کاملہ میں سے ایک وصف وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْ بھی ہے،
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مومن ہوں مومنوں پہ رؤف رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لانہر کی ہے
سرکار دو عالم ﷺ کے اس وصف کے دنیا نے جو نظارے کئے انہیں سنئے اور ایمان تازہ کی جئے!
(1)غارِ ثَور میں صدیق اکبر عرض گزار ہوئے کہ مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے توتاجدارِ رسالت ﷺ نے اپنا لعابِ دہن لگا کر زہر کا اثر دور کر دیا۔
(2) ایک موقع پرصحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے پانی ختم ہو جانے پر فریاد کی تو انگلیوں سے پانی کے چشمے بہا دئیے۔
انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر
ندیاں پنج آب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ
(3) غزوۂ اُحد میں تیر لگنے سے حضرت قتادہ کی آنکھ نکل گئی اور وہ اپنی نکلی ہوئی آنکھ لے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر شفا ہوگئے تو رسولِ اکرم ﷺ نے لعاب ِدہن لگا کر ان کی آنکھ کو درست فرما دیا۔
(4)غزوۂ خیبر کے موقع پرحضرت علی المرتضیٰ نے آشوب چشم کی شکایت کی تو نبی افضل ﷺ نے اپنا لعابِ دہن لگا کر ان کی بیماری دور کر دی۔
(5) ایک شکاری کی قید میں موجود ہرنی نے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے جانے کی اِلتجا کی تو حضورِ انور ﷺنے ا س کی التجاء پوری کردی۔
(6)حضرت عبد اللہ بن عتیق اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ لے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے اپنا دستِ اَقدس پھیرکر ان کی ٹانگ کو درست کر دیا۔
(7) حضرت ربیعہ اور حضرت عکاشہ نے دنیا میں جنت مانگی تومالک جنت ﷺنے انہیں جنت عطا کردی۔
(8) غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت معوذ نے اپنا کٹا ہوا بازو سامنے پیش کیا توسیّد الکونین ﷺ نے اپنے دہنِ اَقدس سے مبارک لعاب لگا کر اسے جوڑ دیا۔
(9)کھجور کے ایک تنے نے عرض کی کہ مجھے جنت میں بودیا جائے توسرکارعالی وقار ﷺ نے اسکی عرضی قبول فرمائی۔
(10)ایک اونٹ نے کام زیادہ ہونے اور چارہ کم ہونے کی فریاد کی توحضورِ اَقدس ﷺ نے ا س کی داد رسی کردی
مانگیں گے مانگے جائیں گے منھ مانگی پائیں گے
سرکارﷺ میں نہ ’’لا‘‘ ہے نہ حاجت ’’اگر‘‘ کی ہے
https://t.me/SirfUrduTahrir/6113
Telegram
✍ اُردُو ہندی تحریر 📄
ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی
✍️ شاہزیب راجپر
حضور نبی کریم رؤف رحیمﷺ کو بلا شبہ بے شمار کمالات سے نواز کر بھیجا گیا، ظاہر و باطن کی تمام خوبیوں کے ہر اعتبار سے اکمل و اتم ہوکر مرسَل ہوئے۔آپ کے اوصاف کاملہ میں سے ایک وصف وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْ…
✍️ شاہزیب راجپر
حضور نبی کریم رؤف رحیمﷺ کو بلا شبہ بے شمار کمالات سے نواز کر بھیجا گیا، ظاہر و باطن کی تمام خوبیوں کے ہر اعتبار سے اکمل و اتم ہوکر مرسَل ہوئے۔آپ کے اوصاف کاملہ میں سے ایک وصف وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْ…
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
حضرتِ ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق (پارٹ 13) حضرتِ ایوب علیہ السلام کے جسم میں کیڑے پڑنے کا واقعہ حافظ ابن عساکر اور حافظ ابن کثیر دونوں نے بنی اسرائیل کے علما سے نقل کیا ہے اور ان کی اتباع میں مفسرین نے بھی ذکر کیا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ واقعہ صحیح…
حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق (پارٹ 14)
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک حضرت ایوب علیہ السلام اپنی بیماری میں 18 سال مبتلا رہے، اُنکے بھائیوں میں سے دو شخصوں کے سوا سب لوگوں نے اُن کو چھوڑ دیا خواہ وہ رشتہ دار ہو یا اور لوگ ہوں۔
وہ دونوں روز صبح وشام اِن کے پاس آتے۔
ایک دن ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیا تم کو معلوم ہےکہ ایوب نے کوئی ایسا بہت بڑا گناہ کیا ہے جو دنیا میں کسی نے نہیں کیا،
دوسرے نے کہا کیونکہ 18 سال سے اللّٰہ تعالیٰ نے اِس پر رحم نہیں فرمایا حتیٰ کہ اسے اس کی بیماری سے دور فرما دیتا۔
حضرتِ ایّوب علیہ السلام نے کہا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ دو آدمیوں کے پاس سے گزرا جو آپس میں جھگڑ رہے تھے اور اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے تھے، میں اپنے گھر گیا تاکہ اُن کی طرف سے کفارہ ادا کروں کیونکہ مجھے یہ نا پسند تھا کہ حق بات کے سوا اللّٰہ تعالیٰ کا نام لیا جائے۔
حضرتِ ایّوب علیہ السلام اپنی ضروریات کے لیے جاتےتھے اور جب اُن کی حاجت پوری ہوجاتی تو اُن کی بیوی اُن کا ہاتھ پکڑ کر لے آتی۔
ایک دن اُن کو واپس آنے میں کافی دیر ہوگئی، اللّٰہ تعالیٰ نے اُن پر یہ وحی کی:
(زمین پر) اپنی ایڑی ماریے ، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے
اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کی ساری بیماری کو اُس پانی میں نہانے سے دور کردیا...
جاری ہے...
عبد مصطفٰی آفیشل
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک حضرت ایوب علیہ السلام اپنی بیماری میں 18 سال مبتلا رہے، اُنکے بھائیوں میں سے دو شخصوں کے سوا سب لوگوں نے اُن کو چھوڑ دیا خواہ وہ رشتہ دار ہو یا اور لوگ ہوں۔
وہ دونوں روز صبح وشام اِن کے پاس آتے۔
ایک دن ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیا تم کو معلوم ہےکہ ایوب نے کوئی ایسا بہت بڑا گناہ کیا ہے جو دنیا میں کسی نے نہیں کیا،
دوسرے نے کہا کیونکہ 18 سال سے اللّٰہ تعالیٰ نے اِس پر رحم نہیں فرمایا حتیٰ کہ اسے اس کی بیماری سے دور فرما دیتا۔
حضرتِ ایّوب علیہ السلام نے کہا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ دو آدمیوں کے پاس سے گزرا جو آپس میں جھگڑ رہے تھے اور اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے تھے، میں اپنے گھر گیا تاکہ اُن کی طرف سے کفارہ ادا کروں کیونکہ مجھے یہ نا پسند تھا کہ حق بات کے سوا اللّٰہ تعالیٰ کا نام لیا جائے۔
حضرتِ ایّوب علیہ السلام اپنی ضروریات کے لیے جاتےتھے اور جب اُن کی حاجت پوری ہوجاتی تو اُن کی بیوی اُن کا ہاتھ پکڑ کر لے آتی۔
ایک دن اُن کو واپس آنے میں کافی دیر ہوگئی، اللّٰہ تعالیٰ نے اُن پر یہ وحی کی:
(زمین پر) اپنی ایڑی ماریے ، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے
اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کی ساری بیماری کو اُس پانی میں نہانے سے دور کردیا...
جاری ہے...
عبد مصطفٰی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
सेकुलर नीतीश, RJD और ओवैसी، एजेंट कौन?
लेखक :मुहम्मद ज़ाहिद अली मरकजी (कालपी शरीफ)
चेयरमैन :तहरीके उलमा ए बुंदेलखंड
2013 की बीबीसी की यह रिपोर्ट देखें और अंदाजा लगाएं कि हमारे साथ किस तरह से सियासी पार्टियां धोखेबाजी करती हैं हमारा वोट ले करके हमें हाशिए पर डाल देती हैं और किसी भी समस्या का कोई भी मुस्तकिल हल नहीं निकलता ऐसे में मुसलमान क्या करें?
यह अब क्लियर हो चुका है कि सारी पार्टियां पिछले 70 सालों से हमें छल रही हैं और हमें बजाय फायदे के नुकसान हो रहा है तो अब हमें सोचना चाहिए कि हमें अपनी की कयादत और अपनी सियासत की तरफ लौटना चाहिए जिस दिन हम अपनी पार्टी को वोट करेंगे उस दिन हम कामयाबी की तरफ बढ़ जाएंगे वरना इसी तरीके से हम परेशानियों में उलझे रहें रहेंगे।
17 फ़रवरी 2013 (बीबीसी हिन्दी), बीबीसी हिंदी अपनी रिपोर्ट में आकलन पेश करता है कि "भारत में ज्यादातर पार्टियां मुसमलानों को लुभाती हैं.
भारत में सभी राजनीतिक पार्टियां मुसलमानों को वोट बैंक के तौर पर इस्तेमाल करती रही हैं.
देश में सबसे धर्मनिरपेक्ष मानी जाने वाली कम्युनिस्ट पार्टियों के तीस वर्ष के शासनकाल में पश्चिम बंगाल के मुसलमान भारत के सबसे गरीब मुसलमान बन कर उभरे हैं.
वामपंथियों ने मुसलमानों के इलाकों में स्कूल, कॉलेज, यूनिवर्सिटी और आधुनिक संस्थान कायम करने के बजाय तीस सालों में सिर्फ़ मदरसों को बढ़ावा दिया.
ममता बनर्जी :
मुसलमानों के समर्थन से सत्ता में आने वाली ममता बनर्जी मस्जिदों के इमामों को वेतन देने, मदरसों को सहायता मुहैया करने और बांग्ला भाषी राज्य में ऊर्दू पढ़ाए जाने जैसे कदमों को राज्य के करोड़ों मुसलमानों के शैक्षिक, आर्थिक और सामाजिक पिछड़नेपन के खात्मे का आधार बता रही हैं.
अखिलेश यादव :
उत्तर प्रदेश में मुख्यमंत्री अखिलेश यादव ने अपने राज्य में मुसलमानों की तमाम समस्याओं को हल करने के लिए चंद सौ ऊर्दू टीचर नियुक्त कर दिए हैं.
ये अलग बात है कि उनके पिता मुलायम सिंह यादव या खुद उन्होंने मुस्लिम इलाकों में शायद ही कोई यूनिवर्सिटी, कॉलेज या स्कूल खोले हों.
लालू प्रसाद यादव :
मुसलमानों के मसीहा समझे जाने वाले लालू प्रसाद यादव का प्रदर्शन ही इन सभी पार्टियों में सबसे अच्छा रहा है क्योंकि उन्होंने मुसलमानों के लिए ही नहीं, बल्कि किसी के लिए भी कुछ नहीं किया है.
मुस्लिम संस्थाएं :
मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड 50 वर्षों में चाहे शादी के लिए एक मॉडल निकाहनामा भी तैयार न कर सका हो लेकिन वो हर राष्ट्रीय और अंतरराष्ट्रीय मुद्दे पर अपनी राय से जरूर नवाजता है.
पर्सनल लॉ बोर्ड तमाम बच्चों के लिए शिक्षा को बुनियादी अधिकार में शामिल करने, शादी के लिए कम से कम उम्र तय करने और शादी का सरकारी पंजीकरण करने जैसे अहम सरकारी कदमों का धर्म के नाम पर विरोध कर चुका है.
ये इन छद्म राजनीतिक पार्टियों का प्रदर्शन हैं या इन धार्मिक संगठनों के घिसे पिटे ख्यालात का नतीजा कि आज भी भारत का मुसलमान देश की सबसे पिछड़ी बिरादरी बन कर खड़ा हुआ है.
आज के दौर में अपने पिछड़ेपन से निकलने के लिए मुसलमानों को सबसे पहले इन छद्म सियासी पार्टियों और घिसे पिटे धार्मिक संगठनों के शिकंजे से निकलना होगा. "
बीबीसी हिंदी की यह रिपोर्ट सब कुछ कह रही है बस हमे अपना किबला दुरुस्त करने की जरूरत है.
एजेंट कौन?? मुसलमान ये समझें!
ताज्जुब की बात यह है के कांग्रेश शिवसेना से गठबंधन करके सरकार बना ले तो वह बीजेपी की एजेंट नहीं है ऐसे ही नीतीश कुमार मुसलमानों का सारा वोट लेकर के बीजेपी में चले जाएं तो वह भी सेकुलर ही रहेंगे, कोई भी पार्टी मुस्लिम पार्टी के अलावा किसी भी पार्टी से गठबंधन कर ले मुसलमानों का वोट बेच दे, मुसलमानों के साथ बुरा से बुरा सुलूक करें मगर रहेंगे वो सेकुलर!
चंद मुसलमान जो अपना जाति फायदा देखते हैं मुसलमान उन मुसलमानों के चक्कर में अपनी पूरी कौम को तबाह कर देते हैं ना तो नीतीश कुमार को बीजेपी का एजेंट कहा जाता है ना कांग्रेस को कहा जाता है ना किसी दूसरी पार्टी को कहा जाता है अगर एजेंट बताना होता है तो हम मुस्लिम नाम वाली और मुस्लिम पार्टी को एजेंट बताते हैं अब समझने की बात यह है के यह कौन कहता है? यह एजेंट है यह कहने वाले हमारे अपने मुसलमान भाई ही होते हैं और वह इसलिए कहते हैं कि कोई मुस्लिम पार्टी खड़ी ना हो सके क्योंकि अगर एक बार मुस्लिम सियासत में अपना पैर जमा पाए तो मुसलमानों का पूरे हिंदुस्तान का वोट एकजुट होने लगेगा और जहां किसी भी समुदाय का वोट एकजुट होने लगता है वह समाज तरक्की कर जाता है और वो किंग मेकर की भूमिका में आ जाता है। मुस्लिम नाम पर वोट लेने वाली पार्टियां चाहती हैं वोट हमारा ही बना रहे क्योंकि वह अपने समुदाय के दम पर ना तो चुनाव जीत सकते हैं और ना ही सियासत में अपना पांव जमाए रख सकते हैं. मुसलमान वोट का सबसे ज्यादा फायदा इन्हीं तथाकथित सेकुलर
लेखक :मुहम्मद ज़ाहिद अली मरकजी (कालपी शरीफ)
चेयरमैन :तहरीके उलमा ए बुंदेलखंड
2013 की बीबीसी की यह रिपोर्ट देखें और अंदाजा लगाएं कि हमारे साथ किस तरह से सियासी पार्टियां धोखेबाजी करती हैं हमारा वोट ले करके हमें हाशिए पर डाल देती हैं और किसी भी समस्या का कोई भी मुस्तकिल हल नहीं निकलता ऐसे में मुसलमान क्या करें?
यह अब क्लियर हो चुका है कि सारी पार्टियां पिछले 70 सालों से हमें छल रही हैं और हमें बजाय फायदे के नुकसान हो रहा है तो अब हमें सोचना चाहिए कि हमें अपनी की कयादत और अपनी सियासत की तरफ लौटना चाहिए जिस दिन हम अपनी पार्टी को वोट करेंगे उस दिन हम कामयाबी की तरफ बढ़ जाएंगे वरना इसी तरीके से हम परेशानियों में उलझे रहें रहेंगे।
17 फ़रवरी 2013 (बीबीसी हिन्दी), बीबीसी हिंदी अपनी रिपोर्ट में आकलन पेश करता है कि "भारत में ज्यादातर पार्टियां मुसमलानों को लुभाती हैं.
भारत में सभी राजनीतिक पार्टियां मुसलमानों को वोट बैंक के तौर पर इस्तेमाल करती रही हैं.
देश में सबसे धर्मनिरपेक्ष मानी जाने वाली कम्युनिस्ट पार्टियों के तीस वर्ष के शासनकाल में पश्चिम बंगाल के मुसलमान भारत के सबसे गरीब मुसलमान बन कर उभरे हैं.
वामपंथियों ने मुसलमानों के इलाकों में स्कूल, कॉलेज, यूनिवर्सिटी और आधुनिक संस्थान कायम करने के बजाय तीस सालों में सिर्फ़ मदरसों को बढ़ावा दिया.
ममता बनर्जी :
मुसलमानों के समर्थन से सत्ता में आने वाली ममता बनर्जी मस्जिदों के इमामों को वेतन देने, मदरसों को सहायता मुहैया करने और बांग्ला भाषी राज्य में ऊर्दू पढ़ाए जाने जैसे कदमों को राज्य के करोड़ों मुसलमानों के शैक्षिक, आर्थिक और सामाजिक पिछड़नेपन के खात्मे का आधार बता रही हैं.
अखिलेश यादव :
उत्तर प्रदेश में मुख्यमंत्री अखिलेश यादव ने अपने राज्य में मुसलमानों की तमाम समस्याओं को हल करने के लिए चंद सौ ऊर्दू टीचर नियुक्त कर दिए हैं.
ये अलग बात है कि उनके पिता मुलायम सिंह यादव या खुद उन्होंने मुस्लिम इलाकों में शायद ही कोई यूनिवर्सिटी, कॉलेज या स्कूल खोले हों.
लालू प्रसाद यादव :
मुसलमानों के मसीहा समझे जाने वाले लालू प्रसाद यादव का प्रदर्शन ही इन सभी पार्टियों में सबसे अच्छा रहा है क्योंकि उन्होंने मुसलमानों के लिए ही नहीं, बल्कि किसी के लिए भी कुछ नहीं किया है.
मुस्लिम संस्थाएं :
मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड 50 वर्षों में चाहे शादी के लिए एक मॉडल निकाहनामा भी तैयार न कर सका हो लेकिन वो हर राष्ट्रीय और अंतरराष्ट्रीय मुद्दे पर अपनी राय से जरूर नवाजता है.
पर्सनल लॉ बोर्ड तमाम बच्चों के लिए शिक्षा को बुनियादी अधिकार में शामिल करने, शादी के लिए कम से कम उम्र तय करने और शादी का सरकारी पंजीकरण करने जैसे अहम सरकारी कदमों का धर्म के नाम पर विरोध कर चुका है.
ये इन छद्म राजनीतिक पार्टियों का प्रदर्शन हैं या इन धार्मिक संगठनों के घिसे पिटे ख्यालात का नतीजा कि आज भी भारत का मुसलमान देश की सबसे पिछड़ी बिरादरी बन कर खड़ा हुआ है.
आज के दौर में अपने पिछड़ेपन से निकलने के लिए मुसलमानों को सबसे पहले इन छद्म सियासी पार्टियों और घिसे पिटे धार्मिक संगठनों के शिकंजे से निकलना होगा. "
बीबीसी हिंदी की यह रिपोर्ट सब कुछ कह रही है बस हमे अपना किबला दुरुस्त करने की जरूरत है.
एजेंट कौन?? मुसलमान ये समझें!
ताज्जुब की बात यह है के कांग्रेश शिवसेना से गठबंधन करके सरकार बना ले तो वह बीजेपी की एजेंट नहीं है ऐसे ही नीतीश कुमार मुसलमानों का सारा वोट लेकर के बीजेपी में चले जाएं तो वह भी सेकुलर ही रहेंगे, कोई भी पार्टी मुस्लिम पार्टी के अलावा किसी भी पार्टी से गठबंधन कर ले मुसलमानों का वोट बेच दे, मुसलमानों के साथ बुरा से बुरा सुलूक करें मगर रहेंगे वो सेकुलर!
चंद मुसलमान जो अपना जाति फायदा देखते हैं मुसलमान उन मुसलमानों के चक्कर में अपनी पूरी कौम को तबाह कर देते हैं ना तो नीतीश कुमार को बीजेपी का एजेंट कहा जाता है ना कांग्रेस को कहा जाता है ना किसी दूसरी पार्टी को कहा जाता है अगर एजेंट बताना होता है तो हम मुस्लिम नाम वाली और मुस्लिम पार्टी को एजेंट बताते हैं अब समझने की बात यह है के यह कौन कहता है? यह एजेंट है यह कहने वाले हमारे अपने मुसलमान भाई ही होते हैं और वह इसलिए कहते हैं कि कोई मुस्लिम पार्टी खड़ी ना हो सके क्योंकि अगर एक बार मुस्लिम सियासत में अपना पैर जमा पाए तो मुसलमानों का पूरे हिंदुस्तान का वोट एकजुट होने लगेगा और जहां किसी भी समुदाय का वोट एकजुट होने लगता है वह समाज तरक्की कर जाता है और वो किंग मेकर की भूमिका में आ जाता है। मुस्लिम नाम पर वोट लेने वाली पार्टियां चाहती हैं वोट हमारा ही बना रहे क्योंकि वह अपने समुदाय के दम पर ना तो चुनाव जीत सकते हैं और ना ही सियासत में अपना पांव जमाए रख सकते हैं. मुसलमान वोट का सबसे ज्यादा फायदा इन्हीं तथाकथित सेकुलर
पार्टियों को ही होता है. इसलिए वह चाहते हैं कि कभी भी मुस्लिम सियासत खड़ी ना हो सके. और ये सब सेकुलर और कम्युनल विचार धारा रखने वालों की अपनी अपनी सियासत चमकाने के लिए होता है।
भले ही गैर मुस्लिम पार्टियों के विचार, विचार धारा एक ना हो लेकिन एक दूसरे के साथ आ जाते हैं हमने यूपी में पिछले चुनाव में सपा और बसपा का गठबंधन देखा, सपा और कांग्रेस का गठबंधन देखा, बिहार में हमने नीतीश और बीजेपी का गठबंधन देखा, महाराष्ट्र में नेशनल कांग्रेस, शिव सेना और कांग्रेस का गठबंधन देखा, नौकरी से लेकर दंगा, फ़साद, जेलों में बंद बे गुनाह मुस्लिम नौजवान सब कुछ इन्हीं सेकुलर पार्टियों की देन है, अब जब सब कुछ देख लिया है तो कम से कम अपने आदमी, अपनी पार्टी को भी देख लें अगर सब ने हमे लूटा है तो एक बार अपनी सियासत को भी आजमा लें, 70 साल मे कुछ नहीं बदला अगर पांच साल और ना बदले तो किया फर्क़ पड़ेगा, इसलिये अब बिना सोचे अपनी पार्टी को वोट करना है।
अपनी कयादत अपने हाथ, सब की तरक्की सब का विकास
8 /10/2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/780529909184196/
भले ही गैर मुस्लिम पार्टियों के विचार, विचार धारा एक ना हो लेकिन एक दूसरे के साथ आ जाते हैं हमने यूपी में पिछले चुनाव में सपा और बसपा का गठबंधन देखा, सपा और कांग्रेस का गठबंधन देखा, बिहार में हमने नीतीश और बीजेपी का गठबंधन देखा, महाराष्ट्र में नेशनल कांग्रेस, शिव सेना और कांग्रेस का गठबंधन देखा, नौकरी से लेकर दंगा, फ़साद, जेलों में बंद बे गुनाह मुस्लिम नौजवान सब कुछ इन्हीं सेकुलर पार्टियों की देन है, अब जब सब कुछ देख लिया है तो कम से कम अपने आदमी, अपनी पार्टी को भी देख लें अगर सब ने हमे लूटा है तो एक बार अपनी सियासत को भी आजमा लें, 70 साल मे कुछ नहीं बदला अगर पांच साल और ना बदले तो किया फर्क़ पड़ेगा, इसलिये अब बिना सोचे अपनी पार्टी को वोट करना है।
अपनी कयादत अपने हाथ, सब की तरक्की सब का विकास
8 /10/2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/780529909184196/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM