Forwarded from Abde Mustafa Organisation
عورتوں کے کارنامے
نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد کافروں کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کی طرف سے پہنچائی جانے والی اذیتوں کو مسمانوں نے بہت برداشت کیا۔
جہاں صحابہ کرام نے ان مظالم کے خلاف صبر و استقامت کے جوہر دکھائے وہیں صحابیات نے بھی ایسے صبر کا مظاہرہ کیا کہ ایک تاریخ رقم کر دی۔
تاریخ ان کی جراتوں اور بے باکی پر آج بھی حیران ہے!
وہ ایک خاتون ہی تھی جنھوں نے دین حق کی خاطر سب سے پہلے خون کا نظرانہ پیش کیا۔
خواتین نے اپنے گھر بار لٹائے، خون کے رشتوں کو خوشی خوشی موت کے حوالے کر دیا، اپنے بچوں اور اہل خانہ کو اپنی نظروں کے سامنے سولی پر لٹکتے دیکھا!
تیروں، تلواروں، خنجروں سے لہو لہان کیے جانے پر بھی ماتھے پر شکن نہ آنے دیا،
اپنی آبائی سر زمین کوچھوڑ کر ہجرت فرمائی،
صحرا، دھوپ، اندھیروں میں بھوک پیاس کی شدت برداشت کی،
اپنی جانوں تک کو قربان کرکے دین کی شاخوں کو استقامت کے اوراق پر روشن کیا۔
تاریخ آج بھی ان کی قربانیوں کی شاہد ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں:
''یعنی ہم نہیں جانتی کے کسی مہاجرہ عورت نے ایمان لانے کے بعد منھ پھیرا ہو"
یہ وہ پاکیزا خواتین ہیں کہ جنھوں نے دین کی پاسداری میں اہم کردار ادا کیا۔
زمانۂ جاہلیت میں ایسے کئی بے جا رسم و رواج تھے جن سے معاشرے میں بڑے سنگین مسائل پیدا ہوتے تھے۔ امہات المومنین نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے تحت اپنی حیات طیبہ میں بے شمار قولی و فعلی خدمات انجام دیں۔ خواتین کے مسائل و معاملات ہی نہیں بلکہ قرآن و سنت کو محفوظ کرنے اور امانت داری کے ساتھ ان کو امت تک منتقل کرنے میں بھی زبردست فریضہ سر انجام م دیا۔
اور جب دوسری صدی ہجری میں پورے عالم اسلام میں احادیث کی روایت و تدوین کا سلسلہ شروع ہوا تو جن خواتین کے پاس مجموعے تھے ان سے وہ حاصل کیے گئے۔ حدیث کی تحصیل کے لیے مردوں میں محدثین و رواة کی طرح عورتوں نے بھی گھر بار چھوڑ کر دور دراز ملکوں کا سفر کیا اور ان عورتوں کے لیے محدثین و شیوخ کی درس گاہوں میں مخصوص جگہیں رہا کرتی تھیں جس میں وہ مردوں سے الگ رہ کر سماع کرتی تھیں اور اسی طرح انھی عورتوں میں سے بہت سی حافظہ، قاریہ اور علم تفسیر وغیرہ میں مہارت رکھتی تھیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ میدان وعظ و نصیحت میں بھی عورتوں نے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں۔
نیز رشدوہدایت، تزکیہ نفس، شعر وادب، خطاطی و کتابت وانشاء، اذکار کی تعلیم و تربیت میں بھی بہت زیادہ نمایاں تھیں اور رہیں۔
چوتھی صدی میں قرآنی مدارس کا انتظام ہوا۔ بنات الاسلام کی طرف سے سب سے پہلا قرآنی مدرسہ مسجد اقصیٰ کے شہر فاس میں ۲۴۵ھ میں قائم ہوا جو آج بھی جامعہ قزوین کے نام سے موجود ہے اور اس کی برکت سے کئی عورتیں علوم دینیہ کی طرف شوق و ذوق کے ساتھ متوجہ ہوئیں اور اسلام کی سر بلندی اور اشاعت علم میں خوب خدمات انجام دیں.
آج بھی خواتین کو چاہیے کہ قرآن کے بنیادی علوم سیکھیں کیونکہ قرآنی علوم کا سیکھنا فرض ہے کہ اسی کے تحت جملہ علوم ہیں۔ معیشت، سائنس یا دوسرے علوم جنھیں عصری علوم کہا جاتا ہے ان کا سیکھنا ثانوی حیثیت رکھتا ہے وہ بھی کئی قیودات کے ساتھ مگر دینی علوم بے حد ضروری ہیں۔
افسوس ہم اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ عورتیں مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگین اور بس نام کی آزادی کے نشے میں چور ہو کر علوم دینیہ سے کوسوں دور ہو چکی ہیں اور جب المیہ یہ ہے تو پھر کارناموں پر کہنا مزید تکلیف کا سبب بنے گا۔ اللہ تعالی ایمان رکھنے والی عورتوں کو مقصد زندگی اور ایمان کی چاشنی عطا فرمائے، صحابیات کا فیض ان پر نازل فرمائے۔
دختر ملت
جناب غزل صاحبہ
نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد کافروں کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کی طرف سے پہنچائی جانے والی اذیتوں کو مسمانوں نے بہت برداشت کیا۔
جہاں صحابہ کرام نے ان مظالم کے خلاف صبر و استقامت کے جوہر دکھائے وہیں صحابیات نے بھی ایسے صبر کا مظاہرہ کیا کہ ایک تاریخ رقم کر دی۔
تاریخ ان کی جراتوں اور بے باکی پر آج بھی حیران ہے!
وہ ایک خاتون ہی تھی جنھوں نے دین حق کی خاطر سب سے پہلے خون کا نظرانہ پیش کیا۔
خواتین نے اپنے گھر بار لٹائے، خون کے رشتوں کو خوشی خوشی موت کے حوالے کر دیا، اپنے بچوں اور اہل خانہ کو اپنی نظروں کے سامنے سولی پر لٹکتے دیکھا!
تیروں، تلواروں، خنجروں سے لہو لہان کیے جانے پر بھی ماتھے پر شکن نہ آنے دیا،
اپنی آبائی سر زمین کوچھوڑ کر ہجرت فرمائی،
صحرا، دھوپ، اندھیروں میں بھوک پیاس کی شدت برداشت کی،
اپنی جانوں تک کو قربان کرکے دین کی شاخوں کو استقامت کے اوراق پر روشن کیا۔
تاریخ آج بھی ان کی قربانیوں کی شاہد ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں:
''یعنی ہم نہیں جانتی کے کسی مہاجرہ عورت نے ایمان لانے کے بعد منھ پھیرا ہو"
یہ وہ پاکیزا خواتین ہیں کہ جنھوں نے دین کی پاسداری میں اہم کردار ادا کیا۔
زمانۂ جاہلیت میں ایسے کئی بے جا رسم و رواج تھے جن سے معاشرے میں بڑے سنگین مسائل پیدا ہوتے تھے۔ امہات المومنین نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے تحت اپنی حیات طیبہ میں بے شمار قولی و فعلی خدمات انجام دیں۔ خواتین کے مسائل و معاملات ہی نہیں بلکہ قرآن و سنت کو محفوظ کرنے اور امانت داری کے ساتھ ان کو امت تک منتقل کرنے میں بھی زبردست فریضہ سر انجام م دیا۔
اور جب دوسری صدی ہجری میں پورے عالم اسلام میں احادیث کی روایت و تدوین کا سلسلہ شروع ہوا تو جن خواتین کے پاس مجموعے تھے ان سے وہ حاصل کیے گئے۔ حدیث کی تحصیل کے لیے مردوں میں محدثین و رواة کی طرح عورتوں نے بھی گھر بار چھوڑ کر دور دراز ملکوں کا سفر کیا اور ان عورتوں کے لیے محدثین و شیوخ کی درس گاہوں میں مخصوص جگہیں رہا کرتی تھیں جس میں وہ مردوں سے الگ رہ کر سماع کرتی تھیں اور اسی طرح انھی عورتوں میں سے بہت سی حافظہ، قاریہ اور علم تفسیر وغیرہ میں مہارت رکھتی تھیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ میدان وعظ و نصیحت میں بھی عورتوں نے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں۔
نیز رشدوہدایت، تزکیہ نفس، شعر وادب، خطاطی و کتابت وانشاء، اذکار کی تعلیم و تربیت میں بھی بہت زیادہ نمایاں تھیں اور رہیں۔
چوتھی صدی میں قرآنی مدارس کا انتظام ہوا۔ بنات الاسلام کی طرف سے سب سے پہلا قرآنی مدرسہ مسجد اقصیٰ کے شہر فاس میں ۲۴۵ھ میں قائم ہوا جو آج بھی جامعہ قزوین کے نام سے موجود ہے اور اس کی برکت سے کئی عورتیں علوم دینیہ کی طرف شوق و ذوق کے ساتھ متوجہ ہوئیں اور اسلام کی سر بلندی اور اشاعت علم میں خوب خدمات انجام دیں.
آج بھی خواتین کو چاہیے کہ قرآن کے بنیادی علوم سیکھیں کیونکہ قرآنی علوم کا سیکھنا فرض ہے کہ اسی کے تحت جملہ علوم ہیں۔ معیشت، سائنس یا دوسرے علوم جنھیں عصری علوم کہا جاتا ہے ان کا سیکھنا ثانوی حیثیت رکھتا ہے وہ بھی کئی قیودات کے ساتھ مگر دینی علوم بے حد ضروری ہیں۔
افسوس ہم اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ عورتیں مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگین اور بس نام کی آزادی کے نشے میں چور ہو کر علوم دینیہ سے کوسوں دور ہو چکی ہیں اور جب المیہ یہ ہے تو پھر کارناموں پر کہنا مزید تکلیف کا سبب بنے گا۔ اللہ تعالی ایمان رکھنے والی عورتوں کو مقصد زندگی اور ایمان کی چاشنی عطا فرمائے، صحابیات کا فیض ان پر نازل فرمائے۔
دختر ملت
جناب غزل صاحبہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
عقل کا آئینہ
منقول ہے کہ تجربہ عقل کا آئینہ ہے اسی لیے بوڑھے افراد کی رائے کی تعریف کی جاتی ہے یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بوڑھے افراد وقار کا درخت ہوتے ہیں، وہ نہ تو بھٹکتے ہیں اور نہ ہی بے عقلی کا شکار ہوتے ہیں۔
بوڑھے افراد کی رائے کو اختیار کرو کیونکہ کہ ان کے پاس عقل و دانائی نہ بھی ہو تو زندگی بھر کے تجربات کی بدولت ان کی رائے دوسروں سے اچھی ہوتی ہے۔
ایک شاعر کہتا ہے :
اَلَـمْ تَــرَ اَنَّ الْعَـقْلَ زَیْـنٌ لِاَ ھْـــلِـهِ
وَلَـکِـنْ تَمَـامُ الْعَقْلِ طُـوْلِ التَّـجَارِبِ
ترجمہ: کیا تم نہیں دیکھتے کہ عقل، عقل والوں کے لیے زینت ہے لیکن عقل کا کمال طویل تجربوں سے حاصل ہوتا ہے۔
ایک اور شاعر نے کہا ہے:
اِذَا طَـالَ عُمْـرُ الْمَـرْءِ فِیْ غَـیْرِ اٰفَـةِ
اَفَـادَتْ لَـهُ الْاَیَّـامُ فِیْ کَـرِّھَـا عَـقَلاً
ترجمہ: جب کوئی شخص بغیر آفت کے طویل عمر گزارے تو زندگی اسے عقل کا تحفہ دیتی ہے۔
عامر بن عبد قیس کا قول ہے: تمہاری عقل تمہیں بے فائدہ کاموں سے روکے تو تم واقعی عقل مند ہو۔
منقول ہے کہ حقیقی عزت عقل کے ذریعے ملنے والی عزت ہے جبکہ حقیقی مال داری دل کی مال داری ہے۔
ایک دانا کا قول ہے کہ عقل مند جہاں بھی ہو اپنی عقل کی بدولت گزارا کر لیتا ہے جیسا کہ شیر جہاں بھی ہو اپنی قوت کے ذریعے زندگی بسر کر لیتا ہے۔
(دین و دنیا کی انوکھی باتیں، صفحہ/ 51)
عبد مصطفی
منقول ہے کہ تجربہ عقل کا آئینہ ہے اسی لیے بوڑھے افراد کی رائے کی تعریف کی جاتی ہے یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بوڑھے افراد وقار کا درخت ہوتے ہیں، وہ نہ تو بھٹکتے ہیں اور نہ ہی بے عقلی کا شکار ہوتے ہیں۔
بوڑھے افراد کی رائے کو اختیار کرو کیونکہ کہ ان کے پاس عقل و دانائی نہ بھی ہو تو زندگی بھر کے تجربات کی بدولت ان کی رائے دوسروں سے اچھی ہوتی ہے۔
ایک شاعر کہتا ہے :
اَلَـمْ تَــرَ اَنَّ الْعَـقْلَ زَیْـنٌ لِاَ ھْـــلِـهِ
وَلَـکِـنْ تَمَـامُ الْعَقْلِ طُـوْلِ التَّـجَارِبِ
ترجمہ: کیا تم نہیں دیکھتے کہ عقل، عقل والوں کے لیے زینت ہے لیکن عقل کا کمال طویل تجربوں سے حاصل ہوتا ہے۔
ایک اور شاعر نے کہا ہے:
اِذَا طَـالَ عُمْـرُ الْمَـرْءِ فِیْ غَـیْرِ اٰفَـةِ
اَفَـادَتْ لَـهُ الْاَیَّـامُ فِیْ کَـرِّھَـا عَـقَلاً
ترجمہ: جب کوئی شخص بغیر آفت کے طویل عمر گزارے تو زندگی اسے عقل کا تحفہ دیتی ہے۔
عامر بن عبد قیس کا قول ہے: تمہاری عقل تمہیں بے فائدہ کاموں سے روکے تو تم واقعی عقل مند ہو۔
منقول ہے کہ حقیقی عزت عقل کے ذریعے ملنے والی عزت ہے جبکہ حقیقی مال داری دل کی مال داری ہے۔
ایک دانا کا قول ہے کہ عقل مند جہاں بھی ہو اپنی عقل کی بدولت گزارا کر لیتا ہے جیسا کہ شیر جہاں بھی ہو اپنی قوت کے ذریعے زندگی بسر کر لیتا ہے۔
(دین و دنیا کی انوکھی باتیں، صفحہ/ 51)
عبد مصطفی
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
کنوارا یعنی مسکین
آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
مِسْكِينٌ مِسْكِينٌ رَجُلٌ لَيْسَتْ لَهُ امْرَأَةٌ"، قِيلَ: "يَا رَسُولَ اللهِ! وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا ذَا مَالٍ؟" قَالَ: "وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا مِنَ الْمَالِ"، قَالَ: "وَمِسْكِينَةٌ مِسْكِينَةٌ امْرَأَةٌ لَيْسَ لَهَا زَوْجٌ"، قِيلَ: "يَا رَسُولَ اللهِ! وَإِنْ كَانَتْ غَنِيَّةً أَوْ مُكْثِرَةً مِنَ الْمَالِ؟" قَالَ: "وَإِنْ كَانَتْ."
مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو،
عرض کی گئی: اے اللّٰہ کے رسول! اگرچہ (وہ مرد) مال والا امیر (Rich) ہو؟
فرمایا: ہاں، اگرچہ مال والا امیر ہو!
پھر آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسکینہ ہے، مسکینہ ہے وہ عورت جس کا شوہر نہ ہو،
عرض کی گئی: اے اللّٰہ کے رسول! چاہے وہ (عورت) امیر ہو یا زیادہ مال والی ہو؟
فرمایا: ہاں (چاہے مال والی) ہو۔
(شعب الایمان للبیہقی، متوفی 458 ہجری، حدیث نمبر:5097، جلد نمبر:7، صفحہ نمبر:338، پبلیکیشن: مکتبۃ الرشد، ریاض، 1st ایڈیشن، 1423 ہجری بمطابق 2003 عیسوی)
عبد مصطفی
قاسم القادری
آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
مِسْكِينٌ مِسْكِينٌ رَجُلٌ لَيْسَتْ لَهُ امْرَأَةٌ"، قِيلَ: "يَا رَسُولَ اللهِ! وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا ذَا مَالٍ؟" قَالَ: "وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا مِنَ الْمَالِ"، قَالَ: "وَمِسْكِينَةٌ مِسْكِينَةٌ امْرَأَةٌ لَيْسَ لَهَا زَوْجٌ"، قِيلَ: "يَا رَسُولَ اللهِ! وَإِنْ كَانَتْ غَنِيَّةً أَوْ مُكْثِرَةً مِنَ الْمَالِ؟" قَالَ: "وَإِنْ كَانَتْ."
مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو،
عرض کی گئی: اے اللّٰہ کے رسول! اگرچہ (وہ مرد) مال والا امیر (Rich) ہو؟
فرمایا: ہاں، اگرچہ مال والا امیر ہو!
پھر آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسکینہ ہے، مسکینہ ہے وہ عورت جس کا شوہر نہ ہو،
عرض کی گئی: اے اللّٰہ کے رسول! چاہے وہ (عورت) امیر ہو یا زیادہ مال والی ہو؟
فرمایا: ہاں (چاہے مال والی) ہو۔
(شعب الایمان للبیہقی، متوفی 458 ہجری، حدیث نمبر:5097، جلد نمبر:7، صفحہ نمبر:338، پبلیکیشن: مکتبۃ الرشد، ریاض، 1st ایڈیشن، 1423 ہجری بمطابق 2003 عیسوی)
عبد مصطفی
قاسم القادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
دودھ بخشوانا (پارٹ 1)
حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی رحمۃاللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ اولاد کی غیر موجودگی میں (یعنی وہ کہیں دور تھا اور) والدہ کا انتقال ہو گیا اور دودھ بخشا نہیں گیا اس صورت میں اولاد کیا کرے اس لیے کہ دودھ بخشوانا تو لازم ہے تو اس سورت میں علماء دین اور مفتیانِ کرام کیا حکم فرماتے ہیں؟
آپ رحم اللہ تعالیٰ جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ شریعت میں دودھ پلانے والے پر کوئی مطالبہ نہیں، اس لیے دودھ بخشوانا کوئی شرعی حکم نہیں، اس کے علاوہ بھی اولاد پر ماں کے بےشمار حقوق ہیں، انتقال کے بعد حقوق کو ادا کرنے کی یہی صورت ہے کہ ان کے حق میں دعائے خیر کرے اور ان کے لیے ایصال ثواب کرے وغیرہ۔
(فتاویٰ بحر العلوم، ج2 ص79)
جاری ہے.....
عبد مصطفیٰ
حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی رحمۃاللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ اولاد کی غیر موجودگی میں (یعنی وہ کہیں دور تھا اور) والدہ کا انتقال ہو گیا اور دودھ بخشا نہیں گیا اس صورت میں اولاد کیا کرے اس لیے کہ دودھ بخشوانا تو لازم ہے تو اس سورت میں علماء دین اور مفتیانِ کرام کیا حکم فرماتے ہیں؟
آپ رحم اللہ تعالیٰ جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ شریعت میں دودھ پلانے والے پر کوئی مطالبہ نہیں، اس لیے دودھ بخشوانا کوئی شرعی حکم نہیں، اس کے علاوہ بھی اولاد پر ماں کے بےشمار حقوق ہیں، انتقال کے بعد حقوق کو ادا کرنے کی یہی صورت ہے کہ ان کے حق میں دعائے خیر کرے اور ان کے لیے ایصال ثواب کرے وغیرہ۔
(فتاویٰ بحر العلوم، ج2 ص79)
جاری ہے.....
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
دودھ بخشوانا (پارٹ 2)
فتاوی مرکز تربیت افتا میں سوال ہے کہ اکثر جگہوں میں رائج ہے کہ ماں کو کچھ دے کر اسے خوش کر کے اس کا دودھ بخشواتے ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے اور اس طرح سے معاف ہو جاتا ہے؟
الجواب : دودھ بخشوانا شرعاً بے اصل چیز ہے اس کی قطعی کوئی حاجت نہیں ماں پر یہ بچے کا حق ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلائے تو ماں نے اپنا حق ادا کیا ہے نہ کہ بچے کے ذمے قرض کا بوجھ ڈالا ہے۔
ہاں ماں کے احسانات اولاد پر کثیر ہیں ان سے اولاد ماں کی بہت کچھ خدمت کرکے بھی سبکدوش نہیں ہو سکتے بلکہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی اطاعت تا عمر ہر شخص پر لازم ہے۔
جہاں تک ہو سکے ہر شخص اپنے والدین کی خوشنودی حاصل کرے اس لیے کہ رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے۔
حدیث شریف ہے :
رضا الرب فی رضا الوالدین
یعنی رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے (ترغیب و ترہیب، ج3، صفحہ221)
(فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، صفحہ396)
جاری ہے.....
عبد مصطفیٰ
فتاوی مرکز تربیت افتا میں سوال ہے کہ اکثر جگہوں میں رائج ہے کہ ماں کو کچھ دے کر اسے خوش کر کے اس کا دودھ بخشواتے ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے اور اس طرح سے معاف ہو جاتا ہے؟
الجواب : دودھ بخشوانا شرعاً بے اصل چیز ہے اس کی قطعی کوئی حاجت نہیں ماں پر یہ بچے کا حق ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلائے تو ماں نے اپنا حق ادا کیا ہے نہ کہ بچے کے ذمے قرض کا بوجھ ڈالا ہے۔
ہاں ماں کے احسانات اولاد پر کثیر ہیں ان سے اولاد ماں کی بہت کچھ خدمت کرکے بھی سبکدوش نہیں ہو سکتے بلکہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی اطاعت تا عمر ہر شخص پر لازم ہے۔
جہاں تک ہو سکے ہر شخص اپنے والدین کی خوشنودی حاصل کرے اس لیے کہ رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے۔
حدیث شریف ہے :
رضا الرب فی رضا الوالدین
یعنی رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے (ترغیب و ترہیب، ج3، صفحہ221)
(فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، صفحہ396)
جاری ہے.....
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
پہلے تولو بعد میں بولو
ایک بادشاہ نے خواب دیکھا تو تعبیر بتانے والوں کو بلایااور اپنا خواب سنایا ، ایک نے کہا: اس کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کا بیٹا،پوتا اور پڑپوتا آپ کی نظروں کے سامنے مریں گے،بادشاہ کو یہ سُن کر بڑاغصہ آیا اور اُسے قید میں ڈلوا دیا ، پھر دوسرے سے تعبیر پوچھی تو وہ پہلے شخص کا حال دیکھ چکا تھا اس لیے دوسرے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہنے لگا:آپ اپنے بیٹے ،پوتے اور پڑپوتے کی تاج پوشی کی رَسْم اپنی آنکھوں سے مُلاحَظہ فرمائیں گے،بادشاہ اس کی بات سن کر خوش ہوا اور اسے اِنعام واِکرام سے نوازا۔
غور کیجیے کہ دوسرے کی تعبیر پہلے سے مختلف نہیں تھی صرف الفاظ کا فرق تھا کہ بیٹا فوت ہوگا تو پوتے کی اور پوتے کا انتقال ہوگا تو پڑپوتے کی تاج پوشی ہوگی۔ لیکن پہلے کو اپنے الفاظ کی وجہ سے سزا ملی اور دوسرے کو مناسب لفظوں کے اِنتِخاب نے اِنعام دلوا دیا۔
کس سے، کس وقت اور کس انداز میں کیا گُفْتگو (conversation) کرنی ہے؟ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے۔ انسان جب بولتا ہے تو کبھی کسی کے دل میں اُتر جاتا ہے اور کبھی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے دل سے اُترجاتا ہے ، لہٰذا ’’پہلے تولو بعد میں بولو‘‘ پر عمل کرنا چاہیے۔
اپنی گفتگو میں جان ڈالنے کے لیے دورانِ گُفتگو مناسب الفاظ کا استعمال کیجیے، جیسے ’’اندھے‘‘ کی جگہ ”نابینا“، ’’بوڑھے‘‘ کی جگہ ’’بُزُرگ‘‘ ،’’فلاں مرگیا‘‘ کی جگہ ’’فلاں کا اِنتِقال ہوگیا‘‘، ’’کیوں آئے ہو؟‘‘ کی جگہ ’’کیسے تشریف لائے؟‘‘ ، ’’مصیبت میں پڑگیا“ کی جگہ ’’آزمائش میں آگیا‘‘، ’’آپ غلط کہہ رہے ہیں‘‘ کی جگہ ’’میری ناقص رائے یہ ہے کہ یہ بات اس طرح ہے‘‘، ’’آپ میری بات نہیں سمجھے‘‘ کی جگہ ’’شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں پایا‘‘ وغیرہ الفاظ استعمال کیجیے اور اس کے فوائد اپنی آنکھوں سے دیکھئے۔
بات کرتے وقت یہ بھی پیشِ نظر رکھیے کہ زبان سامنے والے کے منھ میں بھی ہے، اور اس کی بات بھی سنئے کیونکہ گفتگو اسی کا نام ہے کہ کبھی ایک بولے اور دوسرا سنے تو کبھی دوسرا بولے اور پہلا سنے۔ اگر آپ اپنی ہی سناتے چلے جائیں گے تو وہ دوبارہ آپ کو دیکھتے ہی راستہ بدل سکتا ہے۔
آخری بات یہ کہ پُرسکون لہجے کا استعمال، سمجھنے اور سمجھانے میں مددگار ہوتا ہے، چنانچہ اچھی سے اچھی گفتگو بھی اگر خراب لہجے میں کی جائے تو سننے والے کو ناگَوار گزرے گی۔ دورانِ گفتگو اپنی آواز کے اُتار چڑھاؤ پر نظر رکھئے، لوگ جلدی آپ کی بات سمجھ جائیں گے، آواز کی بُلندی و پستی آپ کی بلندی وپستی کا سبب بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں فضُول گوئی سے محفوظ رکھے۔
عبد مصطفیٰ دانش شاہان
ایک بادشاہ نے خواب دیکھا تو تعبیر بتانے والوں کو بلایااور اپنا خواب سنایا ، ایک نے کہا: اس کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کا بیٹا،پوتا اور پڑپوتا آپ کی نظروں کے سامنے مریں گے،بادشاہ کو یہ سُن کر بڑاغصہ آیا اور اُسے قید میں ڈلوا دیا ، پھر دوسرے سے تعبیر پوچھی تو وہ پہلے شخص کا حال دیکھ چکا تھا اس لیے دوسرے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہنے لگا:آپ اپنے بیٹے ،پوتے اور پڑپوتے کی تاج پوشی کی رَسْم اپنی آنکھوں سے مُلاحَظہ فرمائیں گے،بادشاہ اس کی بات سن کر خوش ہوا اور اسے اِنعام واِکرام سے نوازا۔
غور کیجیے کہ دوسرے کی تعبیر پہلے سے مختلف نہیں تھی صرف الفاظ کا فرق تھا کہ بیٹا فوت ہوگا تو پوتے کی اور پوتے کا انتقال ہوگا تو پڑپوتے کی تاج پوشی ہوگی۔ لیکن پہلے کو اپنے الفاظ کی وجہ سے سزا ملی اور دوسرے کو مناسب لفظوں کے اِنتِخاب نے اِنعام دلوا دیا۔
کس سے، کس وقت اور کس انداز میں کیا گُفْتگو (conversation) کرنی ہے؟ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے۔ انسان جب بولتا ہے تو کبھی کسی کے دل میں اُتر جاتا ہے اور کبھی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے دل سے اُترجاتا ہے ، لہٰذا ’’پہلے تولو بعد میں بولو‘‘ پر عمل کرنا چاہیے۔
اپنی گفتگو میں جان ڈالنے کے لیے دورانِ گُفتگو مناسب الفاظ کا استعمال کیجیے، جیسے ’’اندھے‘‘ کی جگہ ”نابینا“، ’’بوڑھے‘‘ کی جگہ ’’بُزُرگ‘‘ ،’’فلاں مرگیا‘‘ کی جگہ ’’فلاں کا اِنتِقال ہوگیا‘‘، ’’کیوں آئے ہو؟‘‘ کی جگہ ’’کیسے تشریف لائے؟‘‘ ، ’’مصیبت میں پڑگیا“ کی جگہ ’’آزمائش میں آگیا‘‘، ’’آپ غلط کہہ رہے ہیں‘‘ کی جگہ ’’میری ناقص رائے یہ ہے کہ یہ بات اس طرح ہے‘‘، ’’آپ میری بات نہیں سمجھے‘‘ کی جگہ ’’شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں پایا‘‘ وغیرہ الفاظ استعمال کیجیے اور اس کے فوائد اپنی آنکھوں سے دیکھئے۔
بات کرتے وقت یہ بھی پیشِ نظر رکھیے کہ زبان سامنے والے کے منھ میں بھی ہے، اور اس کی بات بھی سنئے کیونکہ گفتگو اسی کا نام ہے کہ کبھی ایک بولے اور دوسرا سنے تو کبھی دوسرا بولے اور پہلا سنے۔ اگر آپ اپنی ہی سناتے چلے جائیں گے تو وہ دوبارہ آپ کو دیکھتے ہی راستہ بدل سکتا ہے۔
آخری بات یہ کہ پُرسکون لہجے کا استعمال، سمجھنے اور سمجھانے میں مددگار ہوتا ہے، چنانچہ اچھی سے اچھی گفتگو بھی اگر خراب لہجے میں کی جائے تو سننے والے کو ناگَوار گزرے گی۔ دورانِ گفتگو اپنی آواز کے اُتار چڑھاؤ پر نظر رکھئے، لوگ جلدی آپ کی بات سمجھ جائیں گے، آواز کی بُلندی و پستی آپ کی بلندی وپستی کا سبب بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں فضُول گوئی سے محفوظ رکھے۔
عبد مصطفیٰ دانش شاہان
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
کتنا علم حاصل کرنا ضروری ہے؟
سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت عقائد کا علم حاصل کرے۔
عقائد کے باب میں ایک یا دو باتیں نہیں ہیں بلکہ کئی باتیں آجاتی ہیں،
کچھ باتیں بنیادی اور مشہور ہیں اور کچھ باتیں ایسی ہیں کہ علمی اور تفصیلی ہیں۔
اب ہر شخص پر یہ ضروری نہیں کہ وہ گہرائی میں جاکر باریک باتوں کا علم حاصل کرے بلکہ بنیادی عقائد کو سمجھ لینا ضروری ہے۔
اب جب عقائد کا علم آجائے تو بنیاد تیار ہو گئی پھر باری آتی ہے عمل کی یعنی جو بنیاد تیار ہوئی تھی، اب اس پر دیواریں کھڑی کرنی ہیں۔
اب اعمال بجا لانے کے متعلق ضروری مسائل کا علم کرنا بندے پر لازم ہے ورنہ وہ کسی عمل کو ادا کیسے کریں گے؟
نماز فرض ہوئی تو نماز کے متعلق مسائل کا علم حاصل کرنا ضروری ہوگا،
روزہ رکھنا ہے تو روزے کا،
اگر مال ہے اور زکوٰۃ فرض ہو گئی تو زکوٰۃ کا،
نکاح کی باری آئی تو اس سے متعلق مسائل کا اور جن جن عبادات کو ادا کرنا ہوا تو اس کے متعلق علم حاصل کرنا ہوگا۔
ایک بات یہ جان لینا چاہیے کہ پہلے جن باتوں کا علم حاصل کرنا ضروری ہے ان پر توجہ دی جائے اور ایسے مسائل سے فی الحال پرہیز کیا جائے جن کی ضرورت تو ہے لیکن فی الحال نہیں اب کسی پر زکوٰۃ فرض نہیں نماز فرض ہے اور وہ نماز کے مسائل کا علم نہیں رکھتا اور زکوٰۃ کے مسائل سیکھ رہا ہے تو یہ مناسب نہیں کہ پہلے ضرورت ہے نماز سیکھنے کی نہ کہ زکوٰۃ کے مسائل لے کر بیٹھ جائے۔
عبد مصطفیٰ آفیشل
سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت عقائد کا علم حاصل کرے۔
عقائد کے باب میں ایک یا دو باتیں نہیں ہیں بلکہ کئی باتیں آجاتی ہیں،
کچھ باتیں بنیادی اور مشہور ہیں اور کچھ باتیں ایسی ہیں کہ علمی اور تفصیلی ہیں۔
اب ہر شخص پر یہ ضروری نہیں کہ وہ گہرائی میں جاکر باریک باتوں کا علم حاصل کرے بلکہ بنیادی عقائد کو سمجھ لینا ضروری ہے۔
اب جب عقائد کا علم آجائے تو بنیاد تیار ہو گئی پھر باری آتی ہے عمل کی یعنی جو بنیاد تیار ہوئی تھی، اب اس پر دیواریں کھڑی کرنی ہیں۔
اب اعمال بجا لانے کے متعلق ضروری مسائل کا علم کرنا بندے پر لازم ہے ورنہ وہ کسی عمل کو ادا کیسے کریں گے؟
نماز فرض ہوئی تو نماز کے متعلق مسائل کا علم حاصل کرنا ضروری ہوگا،
روزہ رکھنا ہے تو روزے کا،
اگر مال ہے اور زکوٰۃ فرض ہو گئی تو زکوٰۃ کا،
نکاح کی باری آئی تو اس سے متعلق مسائل کا اور جن جن عبادات کو ادا کرنا ہوا تو اس کے متعلق علم حاصل کرنا ہوگا۔
ایک بات یہ جان لینا چاہیے کہ پہلے جن باتوں کا علم حاصل کرنا ضروری ہے ان پر توجہ دی جائے اور ایسے مسائل سے فی الحال پرہیز کیا جائے جن کی ضرورت تو ہے لیکن فی الحال نہیں اب کسی پر زکوٰۃ فرض نہیں نماز فرض ہے اور وہ نماز کے مسائل کا علم نہیں رکھتا اور زکوٰۃ کے مسائل سیکھ رہا ہے تو یہ مناسب نہیں کہ پہلے ضرورت ہے نماز سیکھنے کی نہ کہ زکوٰۃ کے مسائل لے کر بیٹھ جائے۔
عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
دودھ بخشوانا (پارٹ 2) فتاوی مرکز تربیت افتا میں سوال ہے کہ اکثر جگہوں میں رائج ہے کہ ماں کو کچھ دے کر اسے خوش کر کے اس کا دودھ بخشواتے ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے اور اس طرح سے معاف ہو جاتا ہے؟ الجواب : دودھ بخشوانا شرعاً بے اصل چیز ہے اس کی قطعی کوئی حاجت…
دودھ بخشوانا (پارٹ 3 - آخری)
علامہ مفتی محمد فضل کریم رضوی حامدی ایک سوال جو کچھ اس طرح ہے کہ ماں سے دودھ بخشوانا کیوں، کیسے اور کس وقت ضروری ہے؟، کے جواب میں لکھتے ہیں کہ :
ماں جب چاہے دودھ بخش سکتی ہے مگر اس سے جو ماں کے حقوق اولاد پر ہیں وہ ختم نہیں ہوں گے۔
حدیث ہے :
الجنت تحت اقدام امھاتکم
جنت تمھاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے
( فتاوی شرعیہ، ج2 ، ص 506 )
شریعت میں دودھ بخشوا نے کی کوئی اصل نہیں ہے جیسا کہ آج کل بعض لوگوں میں رواج ہے۔
یہ غیروں سے ہمارے درمیان آیا ہے کہ جسے وہ دودھ کا قرض وغیرہ سے تعبیر کرتے ہیں، ہمارے دین میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
ماں اور اولاد دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں اور انہیں ادا کرنے پر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے انعام پائیں گے اور نوازے جائیں گے، ان چیزوں سے جن کا وعدہ کیا گیا ہے باقی اسے قرض جاننا اور پھر بخشوانے کا یہ طریقہ بے اصل ہے۔
عبد مصطفیٰ آفیشیل
علامہ مفتی محمد فضل کریم رضوی حامدی ایک سوال جو کچھ اس طرح ہے کہ ماں سے دودھ بخشوانا کیوں، کیسے اور کس وقت ضروری ہے؟، کے جواب میں لکھتے ہیں کہ :
ماں جب چاہے دودھ بخش سکتی ہے مگر اس سے جو ماں کے حقوق اولاد پر ہیں وہ ختم نہیں ہوں گے۔
حدیث ہے :
الجنت تحت اقدام امھاتکم
جنت تمھاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے
( فتاوی شرعیہ، ج2 ، ص 506 )
شریعت میں دودھ بخشوا نے کی کوئی اصل نہیں ہے جیسا کہ آج کل بعض لوگوں میں رواج ہے۔
یہ غیروں سے ہمارے درمیان آیا ہے کہ جسے وہ دودھ کا قرض وغیرہ سے تعبیر کرتے ہیں، ہمارے دین میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
ماں اور اولاد دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں اور انہیں ادا کرنے پر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے انعام پائیں گے اور نوازے جائیں گے، ان چیزوں سے جن کا وعدہ کیا گیا ہے باقی اسے قرض جاننا اور پھر بخشوانے کا یہ طریقہ بے اصل ہے۔
عبد مصطفیٰ آفیشیل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari)
ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی
✍️ شاہزیب راجپر
حضور نبی کریم رؤف رحیمﷺ کو بلا شبہ بے شمار کمالات سے نواز کر بھیجا گیا، ظاہر و باطن کی تمام خوبیوں کے ہر اعتبار سے اکمل و اتم ہوکر مرسَل ہوئے۔آپ کے اوصاف کاملہ میں سے ایک وصف وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْ بھی ہے،
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مومن ہوں مومنوں پہ رؤف رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لانہر کی ہے
سرکار دو عالم ﷺ کے اس وصف کے دنیا نے جو نظارے کئے انہیں سنئے اور ایمان تازہ کی جئے!
(1)غارِ ثَور میں صدیق اکبر عرض گزار ہوئے کہ مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے توتاجدارِ رسالت ﷺ نے اپنا لعابِ دہن لگا کر زہر کا اثر دور کر دیا۔
(2) ایک موقع پرصحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے پانی ختم ہو جانے پر فریاد کی تو انگلیوں سے پانی کے چشمے بہا دئیے۔
انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر
ندیاں پنج آب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ
(3) غزوۂ اُحد میں تیر لگنے سے حضرت قتادہ کی آنکھ نکل گئی اور وہ اپنی نکلی ہوئی آنکھ لے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر شفا ہوگئے تو رسولِ اکرم ﷺ نے لعاب ِدہن لگا کر ان کی آنکھ کو درست فرما دیا۔
(4)غزوۂ خیبر کے موقع پرحضرت علی المرتضیٰ نے آشوب چشم کی شکایت کی تو نبی افضل ﷺ نے اپنا لعابِ دہن لگا کر ان کی بیماری دور کر دی۔
(5) ایک شکاری کی قید میں موجود ہرنی نے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے جانے کی اِلتجا کی تو حضورِ انور ﷺنے ا س کی التجاء پوری کردی۔
(6)حضرت عبد اللہ بن عتیق اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ لے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے اپنا دستِ اَقدس پھیرکر ان کی ٹانگ کو درست کر دیا۔
(7) حضرت ربیعہ اور حضرت عکاشہ نے دنیا میں جنت مانگی تومالک جنت ﷺنے انہیں جنت عطا کردی۔
(8) غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت معوذ نے اپنا کٹا ہوا بازو سامنے پیش کیا توسیّد الکونین ﷺ نے اپنے دہنِ اَقدس سے مبارک لعاب لگا کر اسے جوڑ دیا۔
(9)کھجور کے ایک تنے نے عرض کی کہ مجھے جنت میں بودیا جائے توسرکارعالی وقار ﷺ نے اسکی عرضی قبول فرمائی۔
(10)ایک اونٹ نے کام زیادہ ہونے اور چارہ کم ہونے کی فریاد کی توحضورِ اَقدس ﷺ نے ا س کی داد رسی کردی
مانگیں گے مانگے جائیں گے منھ مانگی پائیں گے
سرکارﷺ میں نہ ’’لا‘‘ ہے نہ حاجت ’’اگر‘‘ کی ہے
https://t.me/SirfUrduTahrir/6113
✍️ شاہزیب راجپر
حضور نبی کریم رؤف رحیمﷺ کو بلا شبہ بے شمار کمالات سے نواز کر بھیجا گیا، ظاہر و باطن کی تمام خوبیوں کے ہر اعتبار سے اکمل و اتم ہوکر مرسَل ہوئے۔آپ کے اوصاف کاملہ میں سے ایک وصف وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْ بھی ہے،
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مومن ہوں مومنوں پہ رؤف رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لانہر کی ہے
سرکار دو عالم ﷺ کے اس وصف کے دنیا نے جو نظارے کئے انہیں سنئے اور ایمان تازہ کی جئے!
(1)غارِ ثَور میں صدیق اکبر عرض گزار ہوئے کہ مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے توتاجدارِ رسالت ﷺ نے اپنا لعابِ دہن لگا کر زہر کا اثر دور کر دیا۔
(2) ایک موقع پرصحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے پانی ختم ہو جانے پر فریاد کی تو انگلیوں سے پانی کے چشمے بہا دئیے۔
انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر
ندیاں پنج آب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ
(3) غزوۂ اُحد میں تیر لگنے سے حضرت قتادہ کی آنکھ نکل گئی اور وہ اپنی نکلی ہوئی آنکھ لے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر شفا ہوگئے تو رسولِ اکرم ﷺ نے لعاب ِدہن لگا کر ان کی آنکھ کو درست فرما دیا۔
(4)غزوۂ خیبر کے موقع پرحضرت علی المرتضیٰ نے آشوب چشم کی شکایت کی تو نبی افضل ﷺ نے اپنا لعابِ دہن لگا کر ان کی بیماری دور کر دی۔
(5) ایک شکاری کی قید میں موجود ہرنی نے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے جانے کی اِلتجا کی تو حضورِ انور ﷺنے ا س کی التجاء پوری کردی۔
(6)حضرت عبد اللہ بن عتیق اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ لے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے اپنا دستِ اَقدس پھیرکر ان کی ٹانگ کو درست کر دیا۔
(7) حضرت ربیعہ اور حضرت عکاشہ نے دنیا میں جنت مانگی تومالک جنت ﷺنے انہیں جنت عطا کردی۔
(8) غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت معوذ نے اپنا کٹا ہوا بازو سامنے پیش کیا توسیّد الکونین ﷺ نے اپنے دہنِ اَقدس سے مبارک لعاب لگا کر اسے جوڑ دیا۔
(9)کھجور کے ایک تنے نے عرض کی کہ مجھے جنت میں بودیا جائے توسرکارعالی وقار ﷺ نے اسکی عرضی قبول فرمائی۔
(10)ایک اونٹ نے کام زیادہ ہونے اور چارہ کم ہونے کی فریاد کی توحضورِ اَقدس ﷺ نے ا س کی داد رسی کردی
مانگیں گے مانگے جائیں گے منھ مانگی پائیں گے
سرکارﷺ میں نہ ’’لا‘‘ ہے نہ حاجت ’’اگر‘‘ کی ہے
https://t.me/SirfUrduTahrir/6113
Telegram
✍ اُردُو ہندی تحریر 📄
ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی
✍️ شاہزیب راجپر
حضور نبی کریم رؤف رحیمﷺ کو بلا شبہ بے شمار کمالات سے نواز کر بھیجا گیا، ظاہر و باطن کی تمام خوبیوں کے ہر اعتبار سے اکمل و اتم ہوکر مرسَل ہوئے۔آپ کے اوصاف کاملہ میں سے ایک وصف وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْ…
✍️ شاہزیب راجپر
حضور نبی کریم رؤف رحیمﷺ کو بلا شبہ بے شمار کمالات سے نواز کر بھیجا گیا، ظاہر و باطن کی تمام خوبیوں کے ہر اعتبار سے اکمل و اتم ہوکر مرسَل ہوئے۔آپ کے اوصاف کاملہ میں سے ایک وصف وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْ…
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
حضرتِ ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق (پارٹ 13) حضرتِ ایوب علیہ السلام کے جسم میں کیڑے پڑنے کا واقعہ حافظ ابن عساکر اور حافظ ابن کثیر دونوں نے بنی اسرائیل کے علما سے نقل کیا ہے اور ان کی اتباع میں مفسرین نے بھی ذکر کیا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ واقعہ صحیح…
حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق (پارٹ 14)
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک حضرت ایوب علیہ السلام اپنی بیماری میں 18 سال مبتلا رہے، اُنکے بھائیوں میں سے دو شخصوں کے سوا سب لوگوں نے اُن کو چھوڑ دیا خواہ وہ رشتہ دار ہو یا اور لوگ ہوں۔
وہ دونوں روز صبح وشام اِن کے پاس آتے۔
ایک دن ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیا تم کو معلوم ہےکہ ایوب نے کوئی ایسا بہت بڑا گناہ کیا ہے جو دنیا میں کسی نے نہیں کیا،
دوسرے نے کہا کیونکہ 18 سال سے اللّٰہ تعالیٰ نے اِس پر رحم نہیں فرمایا حتیٰ کہ اسے اس کی بیماری سے دور فرما دیتا۔
حضرتِ ایّوب علیہ السلام نے کہا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ دو آدمیوں کے پاس سے گزرا جو آپس میں جھگڑ رہے تھے اور اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے تھے، میں اپنے گھر گیا تاکہ اُن کی طرف سے کفارہ ادا کروں کیونکہ مجھے یہ نا پسند تھا کہ حق بات کے سوا اللّٰہ تعالیٰ کا نام لیا جائے۔
حضرتِ ایّوب علیہ السلام اپنی ضروریات کے لیے جاتےتھے اور جب اُن کی حاجت پوری ہوجاتی تو اُن کی بیوی اُن کا ہاتھ پکڑ کر لے آتی۔
ایک دن اُن کو واپس آنے میں کافی دیر ہوگئی، اللّٰہ تعالیٰ نے اُن پر یہ وحی کی:
(زمین پر) اپنی ایڑی ماریے ، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے
اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کی ساری بیماری کو اُس پانی میں نہانے سے دور کردیا...
جاری ہے...
عبد مصطفٰی آفیشل
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک حضرت ایوب علیہ السلام اپنی بیماری میں 18 سال مبتلا رہے، اُنکے بھائیوں میں سے دو شخصوں کے سوا سب لوگوں نے اُن کو چھوڑ دیا خواہ وہ رشتہ دار ہو یا اور لوگ ہوں۔
وہ دونوں روز صبح وشام اِن کے پاس آتے۔
ایک دن ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیا تم کو معلوم ہےکہ ایوب نے کوئی ایسا بہت بڑا گناہ کیا ہے جو دنیا میں کسی نے نہیں کیا،
دوسرے نے کہا کیونکہ 18 سال سے اللّٰہ تعالیٰ نے اِس پر رحم نہیں فرمایا حتیٰ کہ اسے اس کی بیماری سے دور فرما دیتا۔
حضرتِ ایّوب علیہ السلام نے کہا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ دو آدمیوں کے پاس سے گزرا جو آپس میں جھگڑ رہے تھے اور اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے تھے، میں اپنے گھر گیا تاکہ اُن کی طرف سے کفارہ ادا کروں کیونکہ مجھے یہ نا پسند تھا کہ حق بات کے سوا اللّٰہ تعالیٰ کا نام لیا جائے۔
حضرتِ ایّوب علیہ السلام اپنی ضروریات کے لیے جاتےتھے اور جب اُن کی حاجت پوری ہوجاتی تو اُن کی بیوی اُن کا ہاتھ پکڑ کر لے آتی۔
ایک دن اُن کو واپس آنے میں کافی دیر ہوگئی، اللّٰہ تعالیٰ نے اُن پر یہ وحی کی:
(زمین پر) اپنی ایڑی ماریے ، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے
اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کی ساری بیماری کو اُس پانی میں نہانے سے دور کردیا...
جاری ہے...
عبد مصطفٰی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM