🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
اپنوں کو دشمنوں کے سامنے رسوا نہ کیجیے

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگی لشکروں کے امرا (Head, Commanders) کو لکھ کر بھیجا کہ:

کوئی بھی امیرِ لشکر چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا کسی مسلمان پر حد (اسلامی سزا) جاری نہ کرے جب تک اس کا لشکر دشمن کے حدود (Boundaries) سے نہ نکل جائے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ دشمنوں کے سامنے سزا پانے کے سبب غیرت میں آ کر خدا ناخواستہ مشرکین سے مل جائے۔

(مصنف عبد الرزاق، کتاب الجھاد، ج5، ص134، ح9433 بہ حوالہ فیضان فاروق اعظم)

اگر کوئی اپنا، سزا کے قابل بھی ہو تو اسے اپنوں کے بیچ سزا دینی چاہیے یا کوئی غلطی ہو تو سب کے سامنے رسوا کرنے کے بجائے تنہائی میں اس کی اصلاح کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنا ہی رہے، غیروں کا نہ ہو جائے۔

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کا شوق مطالعہ

علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ اپنے حالات کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:

مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں کبھی راستے میں بچوں کے ساتھ زور زور سے ہنستا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ چھے سال کی عمر میں مکتب میں میرا داخلہ ہوا، سات سال کی ابھی عمر تھی کہ میں جامع مسجد کے سامنے میدان میں چلا گیا، وہاں کسی تماشہ دکھانے والے کا تماشہ نہیں دیکھتا تھا بلکہ محدث کے درس حدیث میں شریک ہوتا تھا۔ وہ حدیث کی، سیرت کی جو بات کہتے تھے وہ مجھے زبانی یاد ہو جاتی تھی۔ گھر آکر اس کو لکھ لیتا تھا۔ بچے دریائے دجلہ کے کنارے کھیلا کرتے تھے اور میں کسی کتاب کے کچھ صفحات لے کر ایک طرف نکل جایا کرتا تھا اور الگ تھلگ بیٹھ کر مطالعہ میں مشغول ہو جایا کرتا تھا۔ میں اساتذہ اور بزرگان دین کی مجلسوں میں حاضری دینے کے لیے اس قدر جلدی کرتا تھا کہ دوڑنے کی وجہ سے میری سانس پھولنے لگتی تھی۔ میری صبح و شام اس طرح گزرتی تھی کہ کھانے کا کوئی انتظام نہ ہوتا تھا۔

مزید فرماتے ہیں کہ میری طبیعت کتابوں کے مطالعہ سے کسی طرح سیر نہیں ہوتی تھی۔ جب کوئی نئی کتاب پر نظر پڑ جاتی تھی تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ اگر میں کہوں کہ میں نے طالب علمی میں بیس ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے تو کوئی محال نہیں۔ مجھے ان کتابوں کے مطالعہ سے ہمارے اکابرین کے حالات و اخلاق، ان کی اعلی ہمت، قوت حافظہ، ذوق عبادت اور بے پناہ علوم کے ذخیرے کا ایسا علم حاصل ہو جاتا تھا جو کتابوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے اپنے زمانہ کے لوگوں کی کم علمی معلوم ہونے لگی اور اس وقت کے طالب علموں کی کم ہمتی کا اندازہ ہو گیا۔ میں نے مدرسہ نظامیہ کے پورے کتب خانہ کا مطالعہ کیا جس میں چھ ہزار کتابیں تھی، اسی طرح بغداد کے مشہور کتب خانے کتب الحنفیہ، کتب الحمیدیہ، کتب عبد الوہاب، کتب ابو محمد وغیرہا جتنے کتب خانے میری دسترس میں تھے سب کا مطالعہ کر ڈالا۔

(ملخصًا: بزرگان دین کا شوق مطالعہ، مفتی قاسم قادری، ص: 10-11)

اللہ کریم ان کے صدقے ہمیں علم دین حاصل کرنے کا ذوق و شوق عطا فرمائے، آمین۔

محمد واصف مارفانی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کوئی شارٹ کٹ نہیں

جد و جہد کرنی پڑے گی، جلنا ہوگا،
دن رات ایک کرنا پڑے گا، یہ دنیا ہے کہ دار العمل ہے، اگر آپ بس بیٹھے بیٹھے کاپی پیسٹ سے کامیابی چاہتے ہیں تو میدان عمل میں آپ کی کوئی جگہ نہیں، آپ کو خوابوں کی دنیا سے باہر آنا ہوگا۔

کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے کامیابی کے لیے، آپ کو رگڑا لگانا ہوگا، کوئی بھی کام کریں لیکن لگن سے کریں، اب کوئی ناامیدی نہیں، کوئی مایوسی نہیں۔

اگر آپ نے 5 کلو میٹر کا ٹارگیٹ لیا ہے تو اسے 10 کر دیجیے، اگر 10 نہ ملے تو 50 کیجیے اور 50 بھی نہ لے تو اب وقت ہے کہ لمٹس کو اور بڑھا دیا جائے،
رکنے والا مر گیا، چلنے والے مر کر زندہ ہیں،
آگے بڑھیں، جد و جہد جاری رکھیے۔

بس کسی ایک شے کو حاصل کرنا آپ کی زندگی کا مقصد نہیں آپ کو سب لے کر چلنا ہے،
آل راؤنڈر بننا ہوگا،
جس سے ہیزی ٹیٹ (Hesitate) ہوتے ہیں، اسی کو بار بار کیجیے، پریکٹیکل آج نہ کل آپ کو پرفیکٹ بنا دے گی۔

عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عورتوں کے کارنامے

نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد کافروں کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کی طرف سے پہنچائی جانے والی اذیتوں کو مسمانوں نے بہت برداشت کیا۔
جہاں صحابہ کرام نے ان مظالم کے خلاف صبر و استقامت کے جوہر دکھائے وہیں صحابیات نے بھی ایسے صبر کا مظاہرہ کیا کہ ایک تاریخ رقم کر دی۔

تاریخ ان کی جراتوں اور بے باکی پر آج بھی حیران ہے!
وہ ایک خاتون ہی تھی جنھوں نے دین حق کی خاطر سب سے پہلے خون کا نظرانہ پیش کیا۔
خواتین نے اپنے گھر بار لٹائے، خون کے رشتوں کو خوشی خوشی موت کے حوالے کر دیا، اپنے بچوں اور اہل خانہ کو اپنی نظروں کے سامنے سولی پر لٹکتے دیکھا!
تیروں، تلواروں، خنجروں سے لہو لہان کیے جانے پر بھی ماتھے پر شکن نہ آنے دیا،
اپنی آبائی سر زمین کوچھوڑ کر ہجرت فرمائی،
صحرا، دھوپ، اندھیروں میں بھوک پیاس کی شدت برداشت کی،
اپنی جانوں تک کو قربان کرکے دین کی شاخوں کو استقامت کے اوراق پر روشن کیا۔

تاریخ آج بھی ان کی قربانیوں کی شاہد ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں:
''یعنی ہم نہیں جانتی کے کسی مہاجرہ عورت نے ایمان لانے کے بعد منھ پھیرا ہو"
یہ وہ پاکیزا خواتین ہیں کہ جنھوں نے دین کی پاسداری میں اہم کردار ادا کیا۔

زمانۂ جاہلیت میں ایسے کئی بے جا رسم و رواج تھے جن سے معاشرے میں بڑے سنگین مسائل پیدا ہوتے تھے۔ امہات المومنین نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے تحت اپنی حیات طیبہ میں بے شمار قولی و فعلی خدمات انجام دیں۔ خواتین کے مسائل و معاملات ہی نہیں بلکہ قرآن و سنت کو محفوظ کرنے اور امانت داری کے ساتھ ان کو امت تک منتقل کرنے میں بھی زبردست فریضہ سر انجام م دیا۔
اور جب دوسری صدی ہجری میں پورے عالم اسلام میں احادیث کی روایت و تدوین کا سلسلہ شروع ہوا تو جن خواتین کے پاس مجموعے تھے ان سے وہ حاصل کیے گئے۔ حدیث کی تحصیل کے لیے مردوں میں محدثین و رواة کی طرح عورتوں نے بھی گھر بار چھوڑ کر دور دراز ملکوں کا سفر کیا اور ان عورتوں کے لیے محدثین و شیوخ کی درس گاہوں میں مخصوص جگہیں رہا کرتی تھیں جس میں وہ مردوں سے الگ رہ کر سماع کرتی تھیں اور اسی طرح انھی عورتوں میں سے بہت سی حافظہ، قاریہ اور علم تفسیر وغیرہ میں مہارت رکھتی تھیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ میدان وعظ و نصیحت میں بھی عورتوں نے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں۔
نیز رشدوہدایت، تزکیہ نفس، شعر وادب، خطاطی و کتابت وانشاء، اذکار کی تعلیم و تربیت میں بھی بہت زیادہ نمایاں تھیں اور رہیں۔

چوتھی صدی میں قرآنی مدارس کا انتظام ہوا۔ بنات الاسلام کی طرف سے سب سے پہلا قرآنی مدرسہ مسجد اقصیٰ کے شہر فاس میں ۲۴۵ھ میں قائم ہوا جو آج بھی جامعہ قزوین کے نام سے موجود ہے اور اس کی برکت سے کئی عورتیں علوم دینیہ کی طرف شوق و ذوق کے ساتھ متوجہ ہوئیں اور اسلام کی سر بلندی اور اشاعت علم میں خوب خدمات انجام دیں.

آج بھی خواتین کو چاہیے کہ قرآن کے بنیادی علوم سیکھیں کیونکہ قرآنی علوم کا سیکھنا فرض ہے کہ اسی کے تحت جملہ علوم ہیں۔ معیشت، سائنس یا دوسرے علوم جنھیں عصری علوم کہا جاتا ہے ان کا سیکھنا ثانوی حیثیت رکھتا ہے وہ بھی کئی قیودات کے ساتھ مگر دینی علوم بے حد ضروری ہیں۔
افسوس ہم اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ عورتیں مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگین اور بس نام کی آزادی کے نشے میں چور ہو کر علوم دینیہ سے کوسوں دور ہو چکی ہیں اور جب المیہ یہ ہے تو پھر کارناموں پر کہنا مزید تکلیف کا سبب بنے گا۔ اللہ تعالی ایمان رکھنے والی عورتوں کو مقصد زندگی اور ایمان کی چاشنی عطا فرمائے، صحابیات کا فیض ان پر نازل فرمائے۔

دختر ملت
جناب غزل صاحبہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عقل کا آئینہ

منقول ہے کہ تجربہ عقل کا آئینہ ہے اسی لیے بوڑھے افراد کی رائے کی تعریف کی جاتی ہے یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بوڑھے افراد وقار کا درخت ہوتے ہیں، وہ نہ تو بھٹکتے ہیں اور نہ ہی بے عقلی کا شکار ہوتے ہیں۔
بوڑھے افراد کی رائے کو اختیار کرو کیونکہ کہ ان کے پاس عقل و دانائی نہ بھی ہو تو زندگی بھر کے تجربات کی بدولت ان کی رائے دوسروں سے اچھی ہوتی ہے۔

ایک شاعر کہتا ہے :

اَلَـمْ تَــرَ اَنَّ الْعَـقْلَ زَیْـنٌ لِاَ ھْـــلِـهِ
وَلَـکِـنْ تَمَـامُ الْعَقْلِ طُـوْلِ التَّـجَارِبِ

ترجمہ: کیا تم نہیں دیکھتے کہ عقل، عقل والوں کے لیے زینت ہے لیکن عقل کا کمال طویل تجربوں سے حاصل ہوتا ہے۔

ایک اور شاعر نے کہا ہے:

اِذَا طَـالَ عُمْـرُ الْمَـرْءِ فِیْ غَـیْرِ اٰفَـةِ
اَفَـادَتْ لَـهُ الْاَیَّـامُ فِیْ کَـرِّھَـا عَـقَلاً

ترجمہ: جب کوئی شخص بغیر آفت کے طویل عمر گزارے تو زندگی اسے عقل کا تحفہ دیتی ہے۔

عامر بن عبد قیس کا قول ہے: تمہاری عقل تمہیں بے فائدہ کاموں سے روکے تو تم واقعی عقل مند ہو۔
منقول ہے کہ حقیقی عزت عقل کے ذریعے ملنے والی عزت ہے جبکہ حقیقی مال داری دل کی مال داری ہے۔

ایک دانا کا قول ہے کہ عقل مند جہاں بھی ہو اپنی عقل کی بدولت گزارا کر لیتا ہے جیسا کہ شیر جہاں بھی ہو اپنی قوت کے ذریعے زندگی بسر کر لیتا ہے۔
(دین و دنیا کی انوکھی باتیں، صفحہ/ 51)

عبد مصطفی
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کنوارا یعنی مسکین

آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:

مِسْكِينٌ مِسْكِينٌ رَجُلٌ لَيْسَتْ لَهُ امْرَأَةٌ"، قِيلَ: "يَا رَسُولَ اللهِ! وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا ذَا مَالٍ؟" قَالَ: "وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا مِنَ الْمَالِ"، قَالَ: "وَمِسْكِينَةٌ مِسْكِينَةٌ امْرَأَةٌ لَيْسَ لَهَا زَوْجٌ"، قِيلَ: "يَا رَسُولَ اللهِ! وَإِنْ كَانَتْ غَنِيَّةً أَوْ مُكْثِرَةً مِنَ الْمَالِ؟" قَالَ: "وَإِنْ كَانَتْ."

مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو،
عرض کی گئی: اے اللّٰہ کے رسول! اگرچہ (وہ مرد) مال والا امیر (Rich) ہو؟
فرمایا: ہاں، اگرچہ مال والا امیر ہو!

پھر آقا صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسکینہ ہے، مسکینہ ہے وہ عورت جس کا شوہر نہ ہو،
عرض کی گئی: اے اللّٰہ کے رسول! چاہے وہ (عورت) امیر ہو یا زیادہ مال والی ہو؟
فرمایا: ہاں (چاہے مال والی) ہو۔

(شعب الایمان للبیہقی، متوفی 458 ہجری، حدیث نمبر:5097، جلد نمبر:7، صفحہ نمبر:338، پبلیکیشن: مکتبۃ الرشد، ریاض، 1st ایڈیشن، 1423 ہجری بمطابق 2003 عیسوی)

عبد مصطفی
قاسم القادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دودھ بخشوانا (پارٹ 1)

حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی رحمۃاللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ اولاد کی غیر موجودگی میں (یعنی وہ کہیں دور تھا اور) والدہ کا انتقال ہو گیا اور دودھ بخشا نہیں گیا اس صورت میں اولاد کیا کرے اس لیے کہ دودھ بخشوانا تو لازم ہے تو اس سورت میں علماء دین اور مفتیانِ کرام کیا حکم فرماتے ہیں؟

آپ رحم اللہ تعالیٰ جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ شریعت میں دودھ پلانے والے پر کوئی مطالبہ نہیں، اس لیے دودھ بخشوانا کوئی شرعی حکم نہیں، اس کے علاوہ بھی اولاد پر ماں کے بےشمار حقوق ہیں، انتقال کے بعد حقوق کو ادا کرنے کی یہی صورت ہے کہ ان کے حق میں دعائے خیر کرے اور ان کے لیے ایصال ثواب کرے وغیرہ۔

(فتاویٰ بحر العلوم، ج2 ص79)

جاری ہے.....

عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دودھ بخشوانا (پارٹ 2)

فتاوی مرکز تربیت افتا میں سوال ہے کہ اکثر جگہوں میں رائج ہے کہ ماں کو کچھ دے کر اسے خوش کر کے اس کا دودھ بخشواتے ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے اور اس طرح سے معاف ہو جاتا ہے؟

الجواب : دودھ بخشوانا شرعاً بے اصل چیز ہے اس کی قطعی کوئی حاجت نہیں ماں پر یہ بچے کا حق ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلائے تو ماں نے اپنا حق ادا کیا ہے نہ کہ بچے کے ذمے قرض کا بوجھ ڈالا ہے۔
ہاں ماں کے احسانات اولاد پر کثیر ہیں ان سے اولاد ماں کی بہت کچھ خدمت کرکے بھی سبکدوش نہیں ہو سکتے بلکہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی اطاعت تا عمر ہر شخص پر لازم ہے۔
جہاں تک ہو سکے ہر شخص اپنے والدین کی خوشنودی حاصل کرے اس لیے کہ رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے۔

حدیث شریف ہے :

رضا الرب فی رضا الوالدین

یعنی رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے (ترغیب و ترہیب، ج3، صفحہ221)

(فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، صفحہ396)

جاری ہے.....

عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پہلے تولو بعد میں بولو

ایک بادشاہ نے خواب دیکھا تو تعبیر بتانے والوں کو بلایااور اپنا خواب سنایا ، ایک نے کہا: اس کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کا بیٹا،پوتا اور پڑپوتا آپ کی نظروں کے سامنے مریں گے،بادشاہ کو یہ سُن کر بڑاغصہ آیا اور اُسے قید میں ڈلوا دیا ، پھر دوسرے سے تعبیر پوچھی تو وہ پہلے شخص کا حال دیکھ چکا تھا اس لیے دوسرے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہنے لگا:آپ اپنے بیٹے ،پوتے اور پڑپوتے کی تاج پوشی کی رَسْم اپنی آنکھوں سے مُلاحَظہ فرمائیں گے،بادشاہ اس کی بات سن کر خوش ہوا اور اسے اِنعام واِکرام سے نوازا۔

غور کیجیے کہ دوسرے کی تعبیر پہلے سے مختلف نہیں تھی صرف الفاظ کا فرق تھا کہ بیٹا فوت ہوگا تو پوتے کی اور پوتے کا انتقال ہوگا تو پڑپوتے کی تاج پوشی ہوگی۔ لیکن پہلے کو اپنے الفاظ کی وجہ سے سزا ملی اور دوسرے کو مناسب لفظوں کے اِنتِخاب نے اِنعام دلوا دیا۔

کس سے، کس وقت اور کس انداز میں کیا گُفْتگو (conversation) کرنی ہے؟ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے۔ انسان جب بولتا ہے تو کبھی کسی کے دل میں اُتر جاتا ہے اور کبھی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے دل سے اُترجاتا ہے ، لہٰذا ’’پہلے تولو بعد میں بولو‘‘ پر عمل کرنا چاہیے۔

اپنی گفتگو میں جان ڈالنے کے لیے دورانِ گُفتگو مناسب الفاظ کا استعمال کیجیے، جیسے ’’اندھے‘‘ کی جگہ ”نابینا“، ’’بوڑھے‘‘ کی جگہ ’’بُزُرگ‘‘ ،’’فلاں مرگیا‘‘ کی جگہ ’’فلاں کا اِنتِقال ہوگیا‘‘، ’’کیوں آئے ہو؟‘‘ کی جگہ ’’کیسے تشریف لائے؟‘‘ ، ’’مصیبت میں پڑگیا“ کی جگہ ’’آزمائش میں آگیا‘‘، ’’آپ غلط کہہ رہے ہیں‘‘ کی جگہ ’’میری ناقص رائے یہ ہے کہ یہ بات اس طرح ہے‘‘، ’’آپ میری بات نہیں سمجھے‘‘ کی جگہ ’’شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں پایا‘‘ وغیرہ الفاظ استعمال کیجیے اور اس کے فوائد اپنی آنکھوں سے دیکھئے۔

بات کرتے وقت یہ بھی پیشِ نظر رکھیے کہ زبان سامنے والے کے منھ میں بھی ہے، اور اس کی بات بھی سنئے کیونکہ گفتگو اسی کا نام ہے کہ کبھی ایک بولے اور دوسرا سنے تو کبھی دوسرا بولے اور پہلا سنے۔ اگر آپ اپنی ہی سناتے چلے جائیں گے تو وہ دوبارہ آپ کو دیکھتے ہی راستہ بدل سکتا ہے۔

آخری بات یہ کہ پُرسکون لہجے کا استعمال، سمجھنے اور سمجھانے میں مددگار ہوتا ہے، چنانچہ اچھی سے اچھی گفتگو بھی اگر خراب لہجے میں کی جائے تو سننے والے کو ناگَوار گزرے گی۔ دورانِ گفتگو اپنی آواز کے اُتار چڑھاؤ پر نظر رکھئے، لوگ جلدی آپ کی بات سمجھ جائیں گے، آواز کی بُلندی و پستی آپ کی بلندی وپستی کا سبب بن سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں فضُول گوئی سے محفوظ رکھے۔

عبد مصطفیٰ دانش شاہان
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کتنا علم حاصل کرنا ضروری ہے؟

سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت عقائد کا علم حاصل کرے۔
عقائد کے باب میں ایک یا دو باتیں نہیں ہیں بلکہ کئی باتیں آجاتی ہیں،
کچھ باتیں بنیادی اور مشہور ہیں اور کچھ باتیں ایسی ہیں کہ علمی اور تفصیلی ہیں۔
اب ہر شخص پر یہ ضروری نہیں کہ وہ گہرائی میں جاکر باریک باتوں کا علم حاصل کرے بلکہ بنیادی عقائد کو سمجھ لینا ضروری ہے۔

اب جب عقائد کا علم آجائے تو بنیاد تیار ہو گئی پھر باری آتی ہے عمل کی یعنی جو بنیاد تیار ہوئی تھی، اب اس پر دیواریں کھڑی کرنی ہیں۔
اب اعمال بجا لانے کے متعلق ضروری مسائل کا علم کرنا بندے پر لازم ہے ورنہ وہ کسی عمل کو ادا کیسے کریں گے؟

نماز فرض ہوئی تو نماز کے متعلق مسائل کا علم حاصل کرنا ضروری ہوگا،
روزہ رکھنا ہے تو روزے کا،
اگر مال ہے اور زکوٰۃ فرض ہو گئی تو زکوٰۃ کا،
نکاح کی باری آئی تو اس سے متعلق مسائل کا اور جن جن عبادات کو ادا کرنا ہوا تو اس کے متعلق علم حاصل کرنا ہوگا۔

ایک بات یہ جان لینا چاہیے کہ پہلے جن باتوں کا علم حاصل کرنا ضروری ہے ان پر توجہ دی جائے اور ایسے مسائل سے فی الحال پرہیز کیا جائے جن کی ضرورت تو ہے لیکن فی الحال نہیں اب کسی پر زکوٰۃ فرض نہیں نماز فرض ہے اور وہ نماز کے مسائل کا علم نہیں رکھتا اور زکوٰۃ کے مسائل سیکھ رہا ہے تو یہ مناسب نہیں کہ پہلے ضرورت ہے نماز سیکھنے کی نہ کہ زکوٰۃ کے مسائل لے کر بیٹھ جائے۔

عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM