🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
امام احمد رضا مخلفین علماء کی عمامہ کی لمبائی کتنی ہونی چاہئے اللہ کبھی کسی جاہل کو ولی نہیں مردار جانور کی ہڈی پاک یا ناپاک روسر کی شکر کے متعلق تحقیق امام احمد رضا تکفیر نہ کرتے تو قرآن پاک افضل ہے یا نبی پاک ؟ اعلیٰ حضرت کی امتیازی خصوصیات کسی نے عیدی کے…
انگلی پر لگی نجاست کو چاٹنا ...
بوقت نکاح دولہا کا سہرا باندھنا
مرد عورت ... مشابہت حرام ہے!
عورتیں مہندی لگائیں تاکہ مشابہت
مرد مہندی نہ لگائیں کہ حرام ہے!
امام احمد رضا عالم اور فقیہ تھے!
.. جس کے ماں باپ استاذ ... اعلیٰ
وطن کی محبت ایمان کا حصہ ...
حضور ﷺ کو خواب میں دیکھنا
عالمِ بیداری میں دیدار مصطفیٰ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜¹⁸
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
بوقت نکاح دولہا کا سہرا باندھنا
مرد عورت ... مشابہت حرام ہے!
عورتیں مہندی لگائیں تاکہ مشابہت
مرد مہندی نہ لگائیں کہ حرام ہے!
امام احمد رضا عالم اور فقیہ تھے!
.. جس کے ماں باپ استاذ ... اعلیٰ
وطن کی محبت ایمان کا حصہ ...
حضور ﷺ کو خواب میں دیکھنا
عالمِ بیداری میں دیدار مصطفیٰ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜¹⁸
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے پرتحقیق (پارٹ 9) اللہ تعالٰی انبیا علیھم السلام کو پسندیدہ اور مرغوب اور دلکش شخص بنا کر دنیا میں بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کی طرف رغبت کریں اور ان سے مانوس ہو اور جو اللہ کا پیغام سنائیں لوگ اسے قبول کریں اور جو شخص سات سال تک…
حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق (پارٹ 10)
علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ تعالٰی اس کے علاوہ جو ہم نے بخاری کی شرع نعم الباری سے نقل کیا، قرآن کی تفسیر تبیان القرآن میں بھی اس پر تفصیلی بحث کی ہے، لکھتے ہیں :
علماے تفسیر اور علماے تاریخ نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام بہت مالدار شخص تھے، ان کے پاس ہر قسم کا مال تھا، مویشی اور غلام تھے اور زرخیز اور غلہ سے لہلہاتے ہوئے کھیت اور باغات تھے اور حضرت ایوب علیہ السلام کی اولاد بھی بہت تھی پھر ان کے پاس سے یہ تمام نعمتیں جاتی رہی اور ان کے دل اور زبان کے سوا ان کے جسم کا کوئی عضو سلامت نہ رہا جس وہ اللہ تعالٰی کا ذکر کرتے رہتے تھے اور وہ ان تمام مصائب میں صابر تھے اور ثواب کی نیت سے صبح اور شام اور دن اور رات اللہ تعالٰی کا ذکر کرتے رہتے تھے۔
ان کے مرض نے بہت طول کھینچا حتی کہ ان کے دوست اور احباب ان سے اکتا گئے، ان کو شہر سے نکال دیا گیا اور کوڑے اور کچرے کی جگہ ڈال دیا گیا، ان کی بیوی کے سوا ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا، ان کی بیوی لوگوں کے گھر میں کام کرتی اور اس سے جو اجرت ملتی اس سے اپنی اور حضرت ایوب کی ضروریات کو پورا کرتی۔
جاری ہے......
عبد مصطفیٰ آفیشل
علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ تعالٰی اس کے علاوہ جو ہم نے بخاری کی شرع نعم الباری سے نقل کیا، قرآن کی تفسیر تبیان القرآن میں بھی اس پر تفصیلی بحث کی ہے، لکھتے ہیں :
علماے تفسیر اور علماے تاریخ نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام بہت مالدار شخص تھے، ان کے پاس ہر قسم کا مال تھا، مویشی اور غلام تھے اور زرخیز اور غلہ سے لہلہاتے ہوئے کھیت اور باغات تھے اور حضرت ایوب علیہ السلام کی اولاد بھی بہت تھی پھر ان کے پاس سے یہ تمام نعمتیں جاتی رہی اور ان کے دل اور زبان کے سوا ان کے جسم کا کوئی عضو سلامت نہ رہا جس وہ اللہ تعالٰی کا ذکر کرتے رہتے تھے اور وہ ان تمام مصائب میں صابر تھے اور ثواب کی نیت سے صبح اور شام اور دن اور رات اللہ تعالٰی کا ذکر کرتے رہتے تھے۔
ان کے مرض نے بہت طول کھینچا حتی کہ ان کے دوست اور احباب ان سے اکتا گئے، ان کو شہر سے نکال دیا گیا اور کوڑے اور کچرے کی جگہ ڈال دیا گیا، ان کی بیوی کے سوا ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا، ان کی بیوی لوگوں کے گھر میں کام کرتی اور اس سے جو اجرت ملتی اس سے اپنی اور حضرت ایوب کی ضروریات کو پورا کرتی۔
جاری ہے......
عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعہ پر تحقیق (پارٹ 11)
وہب بن منبہ اور دیگر علماے بنی اسرائیل نے حضرت ایوب علیہ السلام کے بیماری اور ان کے مال اور اولاد کے ہلاکت کے متعلق بہت طویل قصہ بیان کیا ہے۔ مجاہد نے بیان کیا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام وہ پہلے شخص ہیں جن کو چیچک ہوئی تھی ان کی بیماری کی مدت میں کئی اقوال ہیں وہب بن منبہ نے کہا وہ تین سال تک بیماری میں مبتلا رہے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا وہ سات سال اور کچھ ماہ بیماری میں مبتلا رہے ان کو بنی اسرائیل کے کچڑے ڈالنے کی جگہ پر ڈال دیا گیا تھا اور ان کے جسم میں کیڑے پڑ گئے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالی نے ان سے بیماری کو دور کر دیا اور ان کو صحت اور عافیت عطا فرمائی۔
حمید نے کہا وہ 18 سال بیماری میں مبتلا رہے ان کے سارے جسم سے گل کر گوشت گر گیا تھا اور جسم پر صرف ہڈیاں اور کچھ گوشت باقی رہ گیا تھا۔
ایک دن ان کی بیوی نے کہا ایوب آپ کی بیماری بہت طول پکڑ گئی ہے آپ اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ آپ کو صحت اور عافیت عطا فرمائے۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ستر سال صحت اور عافیت کے ساتھ رہا ہوں حق تو یہ ہے کہ میں اب 70 سال صبر کروں۔
(البدایہ والنھایہ، ج1، ص308، 309، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1418ھ)
جاری ہے......
عبد مصطفیٰ
وہب بن منبہ اور دیگر علماے بنی اسرائیل نے حضرت ایوب علیہ السلام کے بیماری اور ان کے مال اور اولاد کے ہلاکت کے متعلق بہت طویل قصہ بیان کیا ہے۔ مجاہد نے بیان کیا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام وہ پہلے شخص ہیں جن کو چیچک ہوئی تھی ان کی بیماری کی مدت میں کئی اقوال ہیں وہب بن منبہ نے کہا وہ تین سال تک بیماری میں مبتلا رہے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا وہ سات سال اور کچھ ماہ بیماری میں مبتلا رہے ان کو بنی اسرائیل کے کچڑے ڈالنے کی جگہ پر ڈال دیا گیا تھا اور ان کے جسم میں کیڑے پڑ گئے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالی نے ان سے بیماری کو دور کر دیا اور ان کو صحت اور عافیت عطا فرمائی۔
حمید نے کہا وہ 18 سال بیماری میں مبتلا رہے ان کے سارے جسم سے گل کر گوشت گر گیا تھا اور جسم پر صرف ہڈیاں اور کچھ گوشت باقی رہ گیا تھا۔
ایک دن ان کی بیوی نے کہا ایوب آپ کی بیماری بہت طول پکڑ گئی ہے آپ اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ آپ کو صحت اور عافیت عطا فرمائے۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ستر سال صحت اور عافیت کے ساتھ رہا ہوں حق تو یہ ہے کہ میں اب 70 سال صبر کروں۔
(البدایہ والنھایہ، ج1، ص308، 309، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1418ھ)
جاری ہے......
عبد مصطفیٰ
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق
(پارٹ 12)
جسم پر کیڑے پڑنے کی تحقیق:
حافظ ابو القاسم علی بن الحسن ابن عساکر (متوفی 571 ہجری) نے حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے :
زبان اور دل کے علاوہ حضرت ایوب علیہ السلام کے تمام جسم پر کیڑے پڑ گئے تھے
ان کا دل اللہ کی مدد سے غنی تھا اور زبان پر اللہ کا ذکر جاری رہتا تھا۔
کیڑے نے ان کے تمام جسم کو کھا لیا اور جسم پر بس ہڈیاں اور رگیں باقی رہ گئی تھی پھر کیڑوں کے کھانے کے لیے بھی کچھ باقی نہ رہا پھر کیڑے ایک دوسرے کو کھانے لگے، دو کیڑے باقی رہ گئے تھے انہوں نے بھوک کی شدت میں ایک دوسرے پر حملہ کیا اور کیڑا دوسرے کو کھا گیا پھر ایک کیڑا ان کے دل کی طرف بڑھا تاکہ اس میں سوراخ کرے تب حضرت ایوب علیہ السلام نے یہ دعا کی کہ بیشک مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
(مختصر تاریخ دمشق، ج5، ص107، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1404ھ)
حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم میں کیڑے پڑنے کا واقعہ حافظ ابن عساکر اور حافظ ابن کثیر دونوں نے بنی اسرائیل کے علماء سے نقل کیا ہے.......
جاری ہے.......
عبد مصطفیٰ آفیشل
(پارٹ 12)
جسم پر کیڑے پڑنے کی تحقیق:
حافظ ابو القاسم علی بن الحسن ابن عساکر (متوفی 571 ہجری) نے حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے :
زبان اور دل کے علاوہ حضرت ایوب علیہ السلام کے تمام جسم پر کیڑے پڑ گئے تھے
ان کا دل اللہ کی مدد سے غنی تھا اور زبان پر اللہ کا ذکر جاری رہتا تھا۔
کیڑے نے ان کے تمام جسم کو کھا لیا اور جسم پر بس ہڈیاں اور رگیں باقی رہ گئی تھی پھر کیڑوں کے کھانے کے لیے بھی کچھ باقی نہ رہا پھر کیڑے ایک دوسرے کو کھانے لگے، دو کیڑے باقی رہ گئے تھے انہوں نے بھوک کی شدت میں ایک دوسرے پر حملہ کیا اور کیڑا دوسرے کو کھا گیا پھر ایک کیڑا ان کے دل کی طرف بڑھا تاکہ اس میں سوراخ کرے تب حضرت ایوب علیہ السلام نے یہ دعا کی کہ بیشک مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
(مختصر تاریخ دمشق، ج5، ص107، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1404ھ)
حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم میں کیڑے پڑنے کا واقعہ حافظ ابن عساکر اور حافظ ابن کثیر دونوں نے بنی اسرائیل کے علماء سے نقل کیا ہے.......
جاری ہے.......
عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
حضرتِ ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق (پارٹ 13)
حضرتِ ایوب علیہ السلام کے جسم میں کیڑے پڑنے کا واقعہ حافظ ابن عساکر اور حافظ ابن کثیر دونوں نے بنی اسرائیل کے علما سے نقل کیا ہے اور ان کی اتباع میں مفسرین نے بھی ذکر کیا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ واقعہ صحیح نہیں کیونکہ اللہ تعالی انبیا علیھم السلام کو ایسے حال میں مبتلا نہیں کرتا جس سے لوگوں کو نفرت ہو اور وہ ان سے گھن کھائیں۔
اللہ تعالی نے انبیا علیھم السلام کے متعلق فرمایا:
یہ سب ہمارے پسندیدہ اور نیک لوگ ہیں
(ص:47)
حضرت ایوب علیہ السلام پر کوئی سخت بیماری مسلط کی گئی تھی لیکن وہ بیماری ایسی نہیں تھی جس سے لوگ گھن کھائیں
حدیث صحیح مرفوع میں بھی اس قسم کی کسی چیز کا ذکر نہیں صرف ان کی اولاد اور ان کے مال مویشی کے مر جانے اور ان کے بیمار ہونے پر صبر کا ذکر ہے۔
علما اور واعظین کو چاہیے کہ وہ حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف ایسے احوال کو منسوب نہ کریں جن سے لوگوں کو گھن آئے،
اب ہم اس سلسلے میں حدیث صحیح مرفوع کا ذکر کر رہے ہیں۔
جاری ہے.......
عبد مصطفیٰ آفیشل
حضرتِ ایوب علیہ السلام کے جسم میں کیڑے پڑنے کا واقعہ حافظ ابن عساکر اور حافظ ابن کثیر دونوں نے بنی اسرائیل کے علما سے نقل کیا ہے اور ان کی اتباع میں مفسرین نے بھی ذکر کیا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ واقعہ صحیح نہیں کیونکہ اللہ تعالی انبیا علیھم السلام کو ایسے حال میں مبتلا نہیں کرتا جس سے لوگوں کو نفرت ہو اور وہ ان سے گھن کھائیں۔
اللہ تعالی نے انبیا علیھم السلام کے متعلق فرمایا:
یہ سب ہمارے پسندیدہ اور نیک لوگ ہیں
(ص:47)
حضرت ایوب علیہ السلام پر کوئی سخت بیماری مسلط کی گئی تھی لیکن وہ بیماری ایسی نہیں تھی جس سے لوگ گھن کھائیں
حدیث صحیح مرفوع میں بھی اس قسم کی کسی چیز کا ذکر نہیں صرف ان کی اولاد اور ان کے مال مویشی کے مر جانے اور ان کے بیمار ہونے پر صبر کا ذکر ہے۔
علما اور واعظین کو چاہیے کہ وہ حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف ایسے احوال کو منسوب نہ کریں جن سے لوگوں کو گھن آئے،
اب ہم اس سلسلے میں حدیث صحیح مرفوع کا ذکر کر رہے ہیں۔
جاری ہے.......
عبد مصطفیٰ آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
अपनों को दुश्मनों के सामने रुस्वा ना कीजिये
हज़रते उमर फ़ारूक़ रदिअल्लाहु त'आला अन्हु ने जंगी लश्करों के उमरा (Head, Commanders) को लिख कर भेजा कि :
कोई भी अमीरे लश्कर चाहे वो छोटा हो या बड़ा किसी मुसलमान पर हद्द (इस्लामी सज़ा) जारी न करे जब तक उस का लश्कर दुश्मन के हुदूद (Boundaries) से ना निकल जाये क्योंकि मुझे डर है कि कहीं वो दुश्मनों के सामने सज़ा पाने के सबब ग़ैरत में आ कर खुदा नाख्वास्ता मुशरिकीन से मिल जाये।
(مصنف عبد الرزاق، کتاب الجھاد، ج5، ص134، ح9433 بہ حوالہ فیضان فاروق اعظم)
अगर कोई अपना, सज़ा के क़ाबिल भी हो तो उसे अपनों के बीच सज़ा देनी चाहिये या कोई गलती हो तो सब के सामने रुसवा करने के बजाये तन्हाई में उसकी इस्लाह करनी चाहिये ताकि वो अपना ही रहे, ग़ैरों का ना हो जाये।
अब्दे मुस्तफ़ा
हज़रते उमर फ़ारूक़ रदिअल्लाहु त'आला अन्हु ने जंगी लश्करों के उमरा (Head, Commanders) को लिख कर भेजा कि :
कोई भी अमीरे लश्कर चाहे वो छोटा हो या बड़ा किसी मुसलमान पर हद्द (इस्लामी सज़ा) जारी न करे जब तक उस का लश्कर दुश्मन के हुदूद (Boundaries) से ना निकल जाये क्योंकि मुझे डर है कि कहीं वो दुश्मनों के सामने सज़ा पाने के सबब ग़ैरत में आ कर खुदा नाख्वास्ता मुशरिकीन से मिल जाये।
(مصنف عبد الرزاق، کتاب الجھاد، ج5، ص134، ح9433 بہ حوالہ فیضان فاروق اعظم)
अगर कोई अपना, सज़ा के क़ाबिल भी हो तो उसे अपनों के बीच सज़ा देनी चाहिये या कोई गलती हो तो सब के सामने रुसवा करने के बजाये तन्हाई में उसकी इस्लाह करनी चाहिये ताकि वो अपना ही रहे, ग़ैरों का ना हो जाये।
अब्दे मुस्तफ़ा
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
اپنوں کو دشمنوں کے سامنے رسوا نہ کیجیے
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگی لشکروں کے امرا (Head, Commanders) کو لکھ کر بھیجا کہ:
کوئی بھی امیرِ لشکر چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا کسی مسلمان پر حد (اسلامی سزا) جاری نہ کرے جب تک اس کا لشکر دشمن کے حدود (Boundaries) سے نہ نکل جائے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ دشمنوں کے سامنے سزا پانے کے سبب غیرت میں آ کر خدا ناخواستہ مشرکین سے مل جائے۔
(مصنف عبد الرزاق، کتاب الجھاد، ج5، ص134، ح9433 بہ حوالہ فیضان فاروق اعظم)
اگر کوئی اپنا، سزا کے قابل بھی ہو تو اسے اپنوں کے بیچ سزا دینی چاہیے یا کوئی غلطی ہو تو سب کے سامنے رسوا کرنے کے بجائے تنہائی میں اس کی اصلاح کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنا ہی رہے، غیروں کا نہ ہو جائے۔
عبد مصطفی
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگی لشکروں کے امرا (Head, Commanders) کو لکھ کر بھیجا کہ:
کوئی بھی امیرِ لشکر چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا کسی مسلمان پر حد (اسلامی سزا) جاری نہ کرے جب تک اس کا لشکر دشمن کے حدود (Boundaries) سے نہ نکل جائے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ دشمنوں کے سامنے سزا پانے کے سبب غیرت میں آ کر خدا ناخواستہ مشرکین سے مل جائے۔
(مصنف عبد الرزاق، کتاب الجھاد، ج5، ص134، ح9433 بہ حوالہ فیضان فاروق اعظم)
اگر کوئی اپنا، سزا کے قابل بھی ہو تو اسے اپنوں کے بیچ سزا دینی چاہیے یا کوئی غلطی ہو تو سب کے سامنے رسوا کرنے کے بجائے تنہائی میں اس کی اصلاح کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنا ہی رہے، غیروں کا نہ ہو جائے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کا شوق مطالعہ
علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ اپنے حالات کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں کبھی راستے میں بچوں کے ساتھ زور زور سے ہنستا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ چھے سال کی عمر میں مکتب میں میرا داخلہ ہوا، سات سال کی ابھی عمر تھی کہ میں جامع مسجد کے سامنے میدان میں چلا گیا، وہاں کسی تماشہ دکھانے والے کا تماشہ نہیں دیکھتا تھا بلکہ محدث کے درس حدیث میں شریک ہوتا تھا۔ وہ حدیث کی، سیرت کی جو بات کہتے تھے وہ مجھے زبانی یاد ہو جاتی تھی۔ گھر آکر اس کو لکھ لیتا تھا۔ بچے دریائے دجلہ کے کنارے کھیلا کرتے تھے اور میں کسی کتاب کے کچھ صفحات لے کر ایک طرف نکل جایا کرتا تھا اور الگ تھلگ بیٹھ کر مطالعہ میں مشغول ہو جایا کرتا تھا۔ میں اساتذہ اور بزرگان دین کی مجلسوں میں حاضری دینے کے لیے اس قدر جلدی کرتا تھا کہ دوڑنے کی وجہ سے میری سانس پھولنے لگتی تھی۔ میری صبح و شام اس طرح گزرتی تھی کہ کھانے کا کوئی انتظام نہ ہوتا تھا۔
مزید فرماتے ہیں کہ میری طبیعت کتابوں کے مطالعہ سے کسی طرح سیر نہیں ہوتی تھی۔ جب کوئی نئی کتاب پر نظر پڑ جاتی تھی تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ اگر میں کہوں کہ میں نے طالب علمی میں بیس ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے تو کوئی محال نہیں۔ مجھے ان کتابوں کے مطالعہ سے ہمارے اکابرین کے حالات و اخلاق، ان کی اعلی ہمت، قوت حافظہ، ذوق عبادت اور بے پناہ علوم کے ذخیرے کا ایسا علم حاصل ہو جاتا تھا جو کتابوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے اپنے زمانہ کے لوگوں کی کم علمی معلوم ہونے لگی اور اس وقت کے طالب علموں کی کم ہمتی کا اندازہ ہو گیا۔ میں نے مدرسہ نظامیہ کے پورے کتب خانہ کا مطالعہ کیا جس میں چھ ہزار کتابیں تھی، اسی طرح بغداد کے مشہور کتب خانے کتب الحنفیہ، کتب الحمیدیہ، کتب عبد الوہاب، کتب ابو محمد وغیرہا جتنے کتب خانے میری دسترس میں تھے سب کا مطالعہ کر ڈالا۔
(ملخصًا: بزرگان دین کا شوق مطالعہ، مفتی قاسم قادری، ص: 10-11)
اللہ کریم ان کے صدقے ہمیں علم دین حاصل کرنے کا ذوق و شوق عطا فرمائے، آمین۔
محمد واصف مارفانی
علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ اپنے حالات کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں کبھی راستے میں بچوں کے ساتھ زور زور سے ہنستا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ چھے سال کی عمر میں مکتب میں میرا داخلہ ہوا، سات سال کی ابھی عمر تھی کہ میں جامع مسجد کے سامنے میدان میں چلا گیا، وہاں کسی تماشہ دکھانے والے کا تماشہ نہیں دیکھتا تھا بلکہ محدث کے درس حدیث میں شریک ہوتا تھا۔ وہ حدیث کی، سیرت کی جو بات کہتے تھے وہ مجھے زبانی یاد ہو جاتی تھی۔ گھر آکر اس کو لکھ لیتا تھا۔ بچے دریائے دجلہ کے کنارے کھیلا کرتے تھے اور میں کسی کتاب کے کچھ صفحات لے کر ایک طرف نکل جایا کرتا تھا اور الگ تھلگ بیٹھ کر مطالعہ میں مشغول ہو جایا کرتا تھا۔ میں اساتذہ اور بزرگان دین کی مجلسوں میں حاضری دینے کے لیے اس قدر جلدی کرتا تھا کہ دوڑنے کی وجہ سے میری سانس پھولنے لگتی تھی۔ میری صبح و شام اس طرح گزرتی تھی کہ کھانے کا کوئی انتظام نہ ہوتا تھا۔
مزید فرماتے ہیں کہ میری طبیعت کتابوں کے مطالعہ سے کسی طرح سیر نہیں ہوتی تھی۔ جب کوئی نئی کتاب پر نظر پڑ جاتی تھی تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ اگر میں کہوں کہ میں نے طالب علمی میں بیس ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے تو کوئی محال نہیں۔ مجھے ان کتابوں کے مطالعہ سے ہمارے اکابرین کے حالات و اخلاق، ان کی اعلی ہمت، قوت حافظہ، ذوق عبادت اور بے پناہ علوم کے ذخیرے کا ایسا علم حاصل ہو جاتا تھا جو کتابوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے اپنے زمانہ کے لوگوں کی کم علمی معلوم ہونے لگی اور اس وقت کے طالب علموں کی کم ہمتی کا اندازہ ہو گیا۔ میں نے مدرسہ نظامیہ کے پورے کتب خانہ کا مطالعہ کیا جس میں چھ ہزار کتابیں تھی، اسی طرح بغداد کے مشہور کتب خانے کتب الحنفیہ، کتب الحمیدیہ، کتب عبد الوہاب، کتب ابو محمد وغیرہا جتنے کتب خانے میری دسترس میں تھے سب کا مطالعہ کر ڈالا۔
(ملخصًا: بزرگان دین کا شوق مطالعہ، مفتی قاسم قادری، ص: 10-11)
اللہ کریم ان کے صدقے ہمیں علم دین حاصل کرنے کا ذوق و شوق عطا فرمائے، آمین۔
محمد واصف مارفانی