🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌙 *وتر کے تیسری رکعت میں قرات کے بعد امام نے رکوع کردیا........جواب مکمل پوسٹ میں ملاحظہ فرمائیں!*
ا==================|
🗂 سوال:
اسلام علیکم ،،سوال ،،،،،حضرت وتر کے تیسری رکعت میں قرات کے بعد امام نے رکوع کردیا پچھے سے مقتدیوں نے لقمہ دیا پہر تکبیر اور دعائے قنوت کے بعد آخر میں سجدہ کیا تو نماز سہی ہوئی یا نہیں برائے مہربانی جواب عنایت کریں
ا==================|
✍🏼 جواب:
الحمدللہ والصلوة علی رسولﷲ۔
📖 *سجدہ سہو کرلیا ہے تو نماز ہوجائے گی۔*
مصنف بہار شریعت علامہ امجد علی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
📌 اگر دعاء قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو نہ قیام کیطرف لوٹے نہ رکوع میں پڑھے
اور اگر قیام کی طرف لوٹ آیا اور قنوت پڑھا اور رکوع نہ کیا تو نماز فاسد نہ ہوگی مگر گنہ گار ہوگا اوراگر صرف الحمد پڑھکر رکوع میں چلا گیا تو لوٹے، سورت وقنوت پڑھے پھر۔رکوع کرے اور آخرمیں سجدہ سہو کرے !
📕 بہار شریعت ح۔4. ص۔7.
📌 دوسری جگہ ص۔31 پر ہے
قنوت یا تکبیر قنوت بھول گیا سجدہ سہو کرے.
📘 ماخوذ
بہار شریعت ح۔4 ۔ص۔7۔۔31
وﷲ اعلم ورسولہ بالصواب
محمدرضا مرکزي
🌹سورہ قدرکی تفسیر
+++++++++++++++++++++
📚اناانزلنه فی لیلۃ القدر،وماادرٰک مالیلۃ القدرلیلۃ القدرخیرمن الف شھر،تنزل الملائکۃ والروح فیھاباذن ربھم من کل امرسلٰم ھی حتی مطلع الفجر،،،،،،،ترجمہ👈🏻👇🏻👇🏻
👈بیشک ہم نےاسےشب قدرمیں اتارا،اورتم نےکیاجاناکیاشب قدر،شب قدرہزارمہینوں سےبہتراس میں فرشتےاورجبرئیل اترتےہیں،اپنےرب کے حکم سے،ہرکام کیلئے وہ سلامتی ہےصبح چمکنےتک،،،،،،،،،،!
🌹سورہ قدرکایہ ترجمہ سیدنااعلی حضرت امام اہل سنت مجدددین وملت شیخ الاسلام والمسلمین قطب عالم غوث زماں امام احمدرضاخاں فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کےترجمہ قرآن "کنزالایمان" سےنقل کیاگیا،،،،،،،،!
📚درمنثورجوسیدی امام جلال الدین الملۃ والدین سیوطی شافعی رضی اللہ عنہ کی تفسیرقرآن ہے،،،،اس میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سےحضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کاارشادمنقول ہےکہ شب قدراللہ عزوجل نےمیری امت کوعطافرمائی اگلی امتوں کوعطانہ کی گئ،اس سلسلہ میں مختلف روایتیں ہیں کہ اس نعمت عظمٰی اورفضیلت کبریٰ کی عطاکاسبب کیاہے،،،،،!
📚بعض حدیثوں سےپتہ چلتاہےکہ نبئ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےامم سابقہ کی عمروں کوملاحظہ فرمایاکہ ان کی عمریں لمبی لمبی ہوئیں اوراپنی امت کی عمروں پرنظرفرمائی توتھوڑی معلوم ہوئی کہ اگرمیری امت کےلوگ اعمال صالحہ اورافعال خیرمیں ان کی برابری کرناچاہیں توبظاہرممکن نہیں اس وجہ سے اور اس خیال سےسرکاردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کےخاطرعاطرکورنج وملال ہوا،اورچہرہ انورپرحزن وغم کےآثارنمودارہوے:لہذاسورہ قدرکونازل فرماکررب رحیم نےعمروں کی کمی کوثواب کی کثرت وزیادتی سےپورافرمادیا،اگرکسی خوش بخت اورسعیدازلی کومقدرکی خوبی سےزندگی میں دس راتیں شب قدرسےمل جائیں اوروہ خوش نصیب ان کوعبادت خداوندی میں بسرکرلےتوگویااس نےآٹھ سوتینتیس(833)برس چارماہ سےزیادہ اپنےمولیٰ کی عبادت کی ،،،،،،،،،!
📚بعض حدیثوں سےمعلوم ہوتاہےکہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےبنی اسرائیل کےکسی شخص کاذکرفرمایاکہ اس نےہزارمہینےتک اللہ کی راہ میں جہادکیاصحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کواس پررشک ہواتورب رحیم وغفورنےاس مبارک رات کونازل فرمایا،،،،،،!
📚بعض احادیث مبارکہ سےظاہرہوتاہےکہ سرکاردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےبنی اسرائیل کےچاراشخاص کاذکرفرمایا:حضرت سیدالصابرین سیدناایوب نبیناوعلیہ الصلوۃ والتسلیم،سیدالعابدین حضرت زکریاعلیہ السلام،امام الزاہدین وراس المجاہدین سیدناحزقیل علیہ السلام،رئیس العابدین سیدالمجاھدین فی سبیل اللہ خلفہ کلیم اللہ حضرت یوشع ابن نون علیہ السلام،،،،،،،یہ اللہ کےمقدس اوربرگزیدہ نبی اسی(80)اسی(80)برس اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول ومصروف رہےاورطرفۃ العین پلک جھپکنےتک بھی اللہ کی یادسےغافل نہ رہے،اورنہ ہی اس کی نافرمانی کی،اس پرصحابہ کرام رضی المولیٰ عنہم کوحیرت واستعجاب ہواتوسیدالملائکہ مکین سدرہ روح القدس حضرجبرئیل علیہ السلام بارگاہ رسالت مآب میں سورہ قدرکی عظیم بشارت لےکرحاضرہوے،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورخودسرکاراقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خوش ہوےاورقلب کوتسلی ہوئی صحابہ کرام پروانہ نبوت کوقرارآیا،،،،،،،،،!
------------------------------------------
📚اناانزلنہ فی الیلۃالقدر:-
👈بلاشبہ یقینًاہم نےقرآن عظیم کوشب قدرمیں اتارایعنی قرآن مقدس لوح محفوظ سےسماءدنیاآسمان اول پراسی عظمت والی رات میں دفعۃً واحدۃً یک بارگی پوراقرآن مکمل طورپرنازل کیاگیا،شب قدرکی فضیلت کیلئےیہی ایک چیزکافی تھی،مولیٰ کریم رب غفورورحیم نےبےشمارعظمت ورفعت خیروبرکت سےاس شب کونوازا،،،،،!
------------------------------------------
پھرذوق وشوق کی خاطرارشادخداوندی
ہوتاہے:-
📚وماادراک مالیلۃ القدر:-
👈اورتم نےکیاجانا،کیاشب قدریعنی اےمحبوب تمہیں معلوم ہےکہ شب قدرکیاہے،،،،؟آگےارشادہوتاہے
جس سےاس کی فضیلت کااظہارہوتاہے، "لیلۃ القدرخیرمن الف شھر" ،شب قدرہزارمہینوں سےبہترہزارمہینوں میں جتناعبادت کاثواب حاصل ہو سکتا ہے اس سےکہیں زیادہ اس مقدرومنورشب قدرمیں عبادت کاثواب حاصل ہوگا،،،،،!
-----------------------------------------
📚تنزل الملآئکۃ والروح:-
👈اس میں فرشتےاورجبرئیل اترتےہیں اس مقدس ونورانی رات میں بکثرت فرشتوں کانزول ہوتاہے،،،،،،،،!
-----------------------------------------
📚امام اجل فخرالملۃ والدین رازی رحمۃ اللہ علیہ "تفسیرکبیر" فرماتےہیں کہ اےانسان!ابتداءمیں فرشتوں نےتجھےدیکھاتھاتواظہار نفرت فرمایاتھا،اوربارگاہ ذوالجلال میں عرض کیاتھاپروردگارتوایسی چیزپیداکرنےوالاہےجودنیا
میں فتنہ فسادبرپاکرگی،
اورخونریزی اورقتل وغارت گری اس کاشیوہ ہوگا_بعدازاں تجھےوالدین نےمنی کےقطرہ کی صورت میں دیکھاتھاتواظہارنفرت کیاتھا،یہاں تک کہ اگرکپڑے
میں وہ مادہ منویہ لگ جاتاتودھوناناگریزہوتا
🕋🌍 *مرکزی لائبریری وشرعی عدالت*🌍🕋
📱8446974711
*عیدالفطر کی نماز کا طریقہ*

*پہلے نیت کریں

☽ نیت کرتا ہوں میں دو رکعت نماز عیدالفطر کی زائد چھ تکبیروں کے ساتھ منہ میرا کعبہ شریف کی طرف
واسطے اللہ تعالی کے پیچھے اس امام کے.

امام تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ کرثنا پڑھےگا ہمیں بھی تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ لینا ہے اس کے بعد تین زائد تكبيریں ہوں گی.

⛤ پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لینا ہے

اسكے بعد امام قرآت کرےگایعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے گااور رکوع سجدہ کرکے پہلی رکعت مکمل ہوگی

🌹دوسری رکعت کے لئے اٹھتے ہی امام قرآت کرے گا یعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھےگا اس کے بعدرکوع میں جانے سے پہلے زائد تینوں تكبيرے ہوں گی

⛤پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے

⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دینا ہے

یہاں تک زائد تكبيرے مکمل ہوگئ.
☽ اب اس کے بعد بغیر ہاتھ اٹھاے تکبیر کہہ کر رکوع میں جاینگے.
☽اور بس آگے کی نماز دوسری نمازوں کی طرح پڑھنا ہےپھر سلام پھیرنا ہوگی.

*نماز عیدالفطر سے پہلے خوب شئیر کریں اللہ عمل کی توفیق عطاءفرمائے*
سوال: *کیا فرماتے ہیں علماء دین اس بارے میں کہ وہابیوں دیوبندیوں اور قرآت میں اور قرآن کی تلاوت کرتے وقت (ض کی جگہ ظا) پڑھنے والوں اور بدمذھبوں گستاخوں کا شرعا کیا حکم ہے ،ان سے میل جول،اپنی مسجد میں بلانا یا انہیں آنے دینا، درس کی اجازت دینا،شادی بیاہ کرنا کیسا ہے؟*

*(سائل :محمد الطاف قادری)*
باسمہ سبحانہ و تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب:

ایسا بدمذھب گستاخ جس کی گستاخی حد کفر کو پہنچ چکی ہو ،یا ضروریات دین کا منکر ہو وہ کافر ہے ، اورایسا بد مذھب کہ کفریہ عقائد خود نہیں رکھتا مگر ایسے کفریہ و گستاخانہ عقائد والوں کو اپنا امام یا پیشوا بتاتا ہے یا انہیں مسلمان گردانتا ہے تو وہ بھی یقینا اجماعا کافر ہے، کیونکہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے اسی طرح ان کے منکر کو کافر نہ جاننابھی کفر ہے ،وجیز امام کردری و در مختار و شفائے امام قاضی عیاض و غیرہ میں ہے

اللفظ للشفاء مختصرا اجمع العلماء ان من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر ]

’’شفاء کے الفاظ اختصارا یہ ہیں ،علماء کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے ‘‘

(کتاب الشفاء ،القسم الرابع ،البا ب ا لاول،۲/۲۰۸،مطبوعہ،دار سعادت،بیروت، در مختار ،کتاب الجھاد،باب المرتد،۱/۳۵۶،مطبوعہ ،مجتبائی،دھلی، فتاوی رضویہ اا/۳۷۸ مطبوعہ لاھور،)

ایسے بدمذھبو گستاخوں سے دوستی،محبت ،میل جول،ان کے یہاں جانا ،انہیں اپنے یہاں بلانا ،اھل سنت کی مسجد میں آنے دینا ،درس و تبلیغ کی اجازت دینا ،ان کے ساتھ صحبت رکھنا ،ان کی طرف جھکاؤ اور مائل ہونا ،الغرض ہر وہ کام جس سے بدمذھبوں سے انسیت و تعلق و وابستگی یا میلان کا اظہار ہو بدمذھبی و سخت حرام ،اور شادی بیاہ کرنا ناجائز ،نکاح باطل محض و زناء کما صرح بہ الامام المجدد البریلوی فی ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار،قرآن کریم کی نصوص صریحہ و احادیث شریفہ سے ان تمام کی ممانعت ثابت
اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے
:
{ و لاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار }( ھود۱۱/۱۱۳)

’’اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی ‘‘ (کنز الایمان )

اس آیت کی تفسیر میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

’’یہاں ظالم سے مراد کافر اور سارے گمراہ و مرتدین ہیں اور ان سے ملنے سے مراد ان سے محبت یا میل جول رکھنا ‘‘(تفسیر نور العرفان)

نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :

{ و اما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین }(الانعام ۶/۶۸)

’’اور اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو ‘‘(کنز الایمان )

نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :

{ ومن یتولھم منکم فانہ منھم }( المائدۃ ۵/۵۱ )

’’اورتم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے‘‘(کنز الایمان )

اور بد مذھبوں کی نسبت حضور اکرم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

[ و لا تجالسوھم و لا تواکلو ھم و لا تشاربوھم و لا تناکحوھم و لا تخالطوھم ولا تعودوا مرضاھم و لا تصلوا معھم و لا تصلوا علیھم ]

’’ اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ اور پانی نہ پیو اور بیاہ شادی نہ کرو، اور میل جول نہ کرو،اور ان کے بیماروں کی عیادت نہ کرو ، اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو ، اور مرجائیں تو ان کا جنازہ نہ پڑھو ‘‘


(صحیح ابن حبان،۱/۲۷۷،سنن البیھقی الکبری،۱۰/۲۰۵،السنۃ لعبد اللہ بن احمد،۱/۱۲۶،اعتقاد اھل السنۃ،۱/۱۳۴،مسند الربیع،۱/۳۰۲،السنۃ لابن ابی عاصم،۱/۱۴۴،الجرح و التعدیل،۷/۵۲،میزان الاعتدال، ۲/۳۱،لسان المیزان، ۲/۵۲،المجروحین،۱/۱۸۷،تھذیب الکمال،۶/۴۹۹، العلل المتناھیۃ، ۱/۱۶۸،تغلیق التعلیق،۵/۱۲۵،الجامع لاخلاق الراوی و السامع،۲/۱۱۸،المغنی،۹/۱۱ الضعفاء للعقیلی ۱/۱۲۶ دار الکتب العلمیۃ ،بیروت،۱۴۰۴ھـ ،تاریخ بغداد ۸/۱۴۳، الکفایۃ فی علم الروایۃ ۱/۴۸ ،المکتبۃ العلمیۃ، المدینۃ المنورۃ،خلق افعال العباد۱/۳۰،دار المعارف السعودیۃ،الریاض،۱۳۹۸ھـ)

نیز حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:

[ ایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم ]

’’گمراہوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو ، کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیںفتنہ میں نہ ڈال دیں‘‘

(صحیح مسلم،۱/۱۲،دار احیاء التراث العربی،بیروت)

نیز حضور اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا:

[ اصحاب البدع کلاب اھل النار ]

’’بد مذھبی والے جہنمیوں کے کتے ہیں‘‘

(التدوین فی اخبار قزوین ۲/۴۵۸،مطبوعہ،دار الکتب العلمیۃ،بیروت ،۱۹۸۷ء ، فیض القدیر ، ۱/۵۲۸ المکتبۃ التجاریۃ الکبری،مصر، ۱۳۵۶ھ رقم الحدیث ۱۰۸۰،کنز العمال ،رقم الحدیث ۱۰۹۴،)

اور حضور اقدس ﷺ نے بد مذھب سے شادی کرنے کے بارے میں فرمایا:

ایحب احدکم ان تکون کریمتہ فراش کلب فکرھتموہ

’’کیا تم میں کسی کو پسند آتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کسی کتے کے نیچے بچھے !تم اسے بہت برا جانو گے‘‘
(سنن ابن ماجہ ،ابواب النکاح ص،۱۳۹،مسند احمد ۱/۸۶ دار الفکر بیروت، لبنان)


یعنی بد مذھب جہنمیوں کے کتے ہیں اور انہیں بیٹی ی
ا بہن دینا ایسا ہے جیسے کتے کے تصرف میں دیا،بہر حال ان عبارات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بد مذھب سے میل جول ،ان کے یہاں جانا ،انہیں بلانا ،اھل سنت و جماعت کی مسجد میں درس و تبلیغ کی اجازت دینا،شادی کرنا جائز نہیں ہے نیز وہ وھابی ، دیوبندی لوگ جن کی گمراہی و بد مذھبی حد کفر کو پہنچ چکی ہے ان کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ،نیز ایسا شخص جو خود تو کفریہ عقائد نہیں رکھتا مگر جن لوگوں نے حضور سرور عالم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی ہیں انہیں مسلمان جانتا ہے وہ بھی یقینااجماعاکافر ہے،


جیسے رئیس الوھابیہ،اسماعیل دھلوی(م۱۲۴۶ھ)نے لکھا معاذ اللہ کہ:
’’اور یہ یقین جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے ‘‘

(تقویۃ الایمان ، ص /۲۳ مطبوعہ دھلی ، ۱۳۵۶؁ھ ۱۹۴۷؁ء ، مطبوعہ ،مطبع علیمی اندرون لوھاری دروازہ، لاھور)

’’یقین مانو کہ ہر شخص خواہ وہ بڑے سے بڑا انسان ہو یا مقرب ترین فرشتہ اس کی حیثیت شان الوھیت کے مقابلہ پر ایک چمار کی حیثیت سے بھی زیادہ ذلیل ہے ‘‘(تقویۃ الایمان ،ص۲۲،مطبوعہ ،دار الاشاعت ،اردو بازار ،کراچی)


دیوبند کے حجۃ الاسلام،بانیٔ مدرسۂ دیوبند ،محمد قاسم نانوتوی (م۱۲۹۷ھ)نے لکھا معاذاللہ کہ:
’’اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی ﷺبھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی ﷺ میں کچھ فرق نہ آئے گا ‘‘(تحذیر الناس ،ص۲۴،مطبوعہ،کتب خانہ امدادیہ ، دیوبند)

دیوبند کے قطب عالم،رشید احمد گنگوہی (م۱۳۲۳ھ) نے لکھامعاذاللہ کہ:
’’کذب داخل تحت قدرت باری تعالی ہے‘‘(فتاوی رشیدیہ،مبوب بطرز جدید،کتاب العقائدص/۲۳۷،مطبوعہ،دار اشاعت،کراچی)

اس عبارت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی( معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد) جھوٹ بولنے پر قادر ہے۔

دیوبند کے محدث،خلیل احمد انبیٹھوی(۱۳۴۶ھ)نے لکھامعاذاللہ کہ:
’’الحاصل غور کرنا چاہیے کہ شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے ،شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ،فخر عالم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے ، کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ‘‘(براھین قاطعہ،ص/۵۵،مطبوعہ،دار الاشاعت،کراچی)


دیوبند کے حکیم الامت،اشرفعلی تھانوی(م۱۳۶۳ھ)نے لکھامعاذاللہ کہ:
’’پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانااگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل ،اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے، ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی(بچہ)و مجنون (پاگل)بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے
(حفظ الایمان،ص/۱۳،مطبوعہ،قدیمی کتب خانہ،کراچی)

ان مذکورہ بالا نام نہاد گستاخ علمائ(سوئ)دیوبند اپنی گستاخانہ عبارات کی روشنی میں دائرئہ اسلام سے خارج ہیں اور ایسے کافر ہیں کہ جو انہیں کافر نہ مانے ،یا ان کے کفر و عذاب میں شک کرے کافر ہے (کما مر فیما سبق) تفصیل،امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی تصانیف حسام الحرمین و تمہید ایمان و غیرھما میں ملاحظہ فرمائیں، اور عقائد اھل سنت و جماعت کی معلومات و دلائل کے لیے حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب جاء الحق کا مطالعہ فرمائیں۔


*جواب از طرف: حضرت علامہ مفتی ابو الفضل بہاء الدین محمد نعمان شیراز السنی یو پی بریلی شریف۔*
*السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ*

*کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ بغل اور زیر ناف کے بال چالیس دن سے زیادہ رکھنے سے کیا ناپاک ھو جاتا ہے اور نماز نہیں ھوتی ھے*؟

بینوا باالدلیل

المستفتی
عتیق عالم حیدرآباد
27/7/17 بروز جمعرات
بمطابق ٣،ذی قعدہ ١٤٣٨


🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸


الجواب بعون الملک الوہاب

📖 *چالیس روز سے زیادہ ناخن یا موئے بغل یا موئے زیر ناف رکھنے کی اجازت نہیں*،
*بعد چالس روز کے گنہگار ہوں گے، ایک آدھ بارمیں گناہ صغیرہ ہوگا عادت ڈالنے سے کبیرہ ہوجائیگا فسق ہوگا،صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے*:📖

*وقت لنا لفظہ عنداحمد وابی داؤد و الترمذی والنسائی وقت لنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط و حلق العانۃ ان لانترک اکثر من اربعین لیلۃ*

۱؎۔ہمارے لئے وقت مقرر فرمایا
📖(مسلم شریف کے الفاظ)

📖مسند احمد، ابوداؤد،

📖جامع الترمذی

📖 سنن النسائی کے الفاظ یہ ہیں

*وقت لنا*
*یعنی ہمارے لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مونچھیں کترنے*،

*ناخن کاٹنے، زیر بغل بال اکھاڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لئے ایک وقت مقرر فرمایا کہ ہم میں سےکوئی شخص چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے*

📖🌺۔ (ت) (۱؎ صحیح مسلم

📖 کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ


📖🌹 قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹)

*سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی اخذا لشارب آفتاب عالم پریس لاہور*

۲/ ۲۲۱)(📖🌹

*سنن النسائی ذکر التوقیت فی ذٰلک نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی*

۱/ ۷)(

*جامع الترمذی ابواب الآداب باب ماجاء فی تقلیم الاظفار*

📖🌹 امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰)

*درمختار میں ہے:کرہ ترکہ وراء الاربعین ۱؎۔چالیس روز سے زیادہ چھوڑدینا مکروہے*

۔ (ت) (۱؎📖🌹

*درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی*
۲/ ۲۵۰)

*ردالمحتار میں ہے:ای تحریما لقول المجتبٰی ولا عذر فیما وراء الاربعین ویستحق الوعید*
۲؎۔
*یہاں کراہت سے مکروہ تحریمی مراد ہے*

*المجتبٰی کے اس قول کی وجہ سے کہ چالس دن سے زیادہ دیر لگانے میں کوئی عذر*
(مقبول)
نہیں، *لہذا اگر ایسا کیا گیا تو پھر عذاب کی دھمکی کا مستحق ہے*

اھ (ت) (۲؎

*ر دالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت*


واللہ تعالٰی اعلم



+918446974711
سوال میت والے کے یہاں کیا رو ٹی پکانا منع ہے.؟
الجواب.. موت کی پریشانی کے سبب وہ لوگ پکاتے نہیں ہیں پکانا کوئی شرعاً منع نہیں یہ سنت ہے کہ پہلے دن صرف گھر والوں کے لیے کھانا بھیجا جائے اور انہیں با اصرار کھلایا جائے نہ دوسرے دن بھیجیں نہ گھر سے زیادہ آدمیوں کے لیے بھیجیں....... واللہ اعلم
محمد رضا مرکزی ...مالیگاﺅں
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*قربانی کے مسائل اقوال فقہاء کی روشنی میں
📜📜📜📜📜📜📜📜
*☆ مسئلہ:جو شخص حاجت کے سواکسی ایسی چیز کا مالک ہوجس کی قیمت ساڑھےباون تولہ چاندی کے برابر ہو یاکسی طرح اتنی آمدنی ہوتی ہےکہ سال بھرکا خرچ پورا ہونے کے بعدنصاب کے برابررقم قربانی کے موقعے پر موجود ہے تواس پر قربانی واجب ہے(📚فیصلہ فقہی سیمینار بورڈ دہلی)*
*☆ ساڑھے باون تولہ چاندی ٦٥٣/گرام١٨٤/ملی گرام ہوا جس کی موجودہ قیمت تقریبا پچیس ہزار تین سو بارہ روپیہ اٹھارہ پیسہ ہے*
*☆ مسئلہ : صاحب نصاب پر ہرسال اپنے نام سے قربانی کرنا واجب ہے اور اگراپنی طرف سے قربانی کے بجاےدوسرے کی طرف سے کرے اپنے طرف سے نہ کرے تو سخت گنہگار ہوگا اگر دوسرے کی طرف سے بھی کرنا چاہتا ہےتوایک دوسری قربانی کا انتظام کرے(📘انوارالحدیث ص ٢٥٤)*
*☆ مسئلہ :اگر گھر میں کئی مالک نصاب ہوں تو ہرایک کے نام سے قربانی واجب ہوگی (📙فتاوی فیض الرسول ج ٢ص٤٣٩)*
*☆ مسئلہ :جو صاحب نصاب ہو اوراس کے پاس نقد روپیہ نہ ہوتو قربانی کرنے کےلئےاپنی کوئی چیز فروخت کرےیا قرض لے کر کرے(📗وقارالفتاوی ج ٢ص٤٧٠)*
*☆مسئلہ:اگر جانور کے سر پرسفید بال (چان) ہوتواس کی قربانی جائزہے بال کے سفید ہونے سے قربانی پر کوئی اثرانہیں پڑتا (📕 مستفاد ازکتب فقہ)*
*☆مسئلہ :گھیگھا کی وجہ سے اگرجانور کی قیمت میں کمی آتی ہےتویہ عیب ہےاوراس کی قربانی ناجائز ہے اورقیمت کم نہ ہوتو جائز ہے مگرکراہت کے ساتھ (📚 فتاوی مرکزتربیت افتاء ج٢ص٣١٦)*
*☆مسئلہ :ایک بڑے جانور میں سات لوگوں کی طرف سے قربانی ہوسکتی ہےلیکن اگرچھ لوگ شریک ہوکر ساتواں حصہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے کریں تویہ بھی جائزہے(📓 فتاوی فقیہ ملت ج٢ص ٢٤٦)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے جانورکی عمریہ ہونی چاہئے اونٹ پانچ سال کا بھینس وغیرہ دوسال،بکرابکری ایک سال کی اس سے عمر کم ہوتو قربانی جائز نہیں زیادہ ہوتو جائز بلکہ افضل ہے (📚 بہارشریعت حصہ پانژدہم ص ٣٤٠)*
*☆ البتہ عوام میں جو یہ مشہورہے کہ جانورکادانتنا ضروری ہے غلط اور بے اصل ہے*
*☆مسئلہ بڑے جانور کے شرکاء میں سے اگرکوئی بدمذہب دیوبندی وہابی ہو توکسی کی قربانی نہیں ہوگی اگرایام قربانی باقی ہیں تو پھر سے کرناواجب ہےورنہ اتنی رقم کا صدقہ کرنا لازم ہے(📚فیصلہ جات شرعی کونسل بریلی شریف ص٢٩٨/فتاوی مرکزتربیت افتاءج٢ص٣٢٩)*

*☆ مسئلہ :بڑے جانوروں میں قربانی کے ساتھ عقیقہ بھی ہوسکتا ہے(📘فتاوی بحرالعلوم ج٥ص٢٠٦)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے گوشت کا تین حصہ کرنا بہتر ہے ضروری نہیں (📙فتاوی فیض الرسول ج٢ص٤٤٣)*
*☆ مسئلہ: میت کی طرف سے قربانی کی تواس کے گوشت کا حکم یہ ہےکہ خود کھاے دوست واحباب کو دےیہ ضروری نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے،اگرمیت نے کہہ دیا ہےکہ میری طرف سے قربانی کردیناتو اس میں سے نہ کھاےبلکہ کل گوشت صدقہ کردے (📓 ردالمحتار ج٩ص١٨٥)*
*☆ مسئلہ : منت کی قربانی میں سےکچھ نہ کھاےبلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کردےاورکچھ کھالیا توجتنا کھایااس کی قیمت صدقہ کرے(📚فتاوی ھندیہ ج٥ص٢٩٥)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے کچے اورپکے دونوں قسم کے گوشت کا ایک ہی حکم ہےکہ یہاں کے غیرمسلموں کو نہیں کھلاسکتے(📕فتاوی بحرالعلوم ج٥ص١٩٨)*
*☆ مسئلہ : اوجھڑی کھانا مکروہ تحریمی اور گناہ ہےاسے دفن کردینا چاہئے اگرکافرلے جاےیا کافرکودی جاےتوحرج نہیں (📚فتاوی فقیہ ملت ج٢ص٢٥١)-واللہ تعالی اعلم*
-------------
محمد رضا مرکزی...شرعی عدالت ومرکزی لائبریری
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
*چاند گہن پر جماعت کے ساتھ نماز پرایک غیر مقلد کے جواب کا پوسٹ مارٹم*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ازقلم ، مفتی عرفان رضا مصباحی

چاند گہن پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا غیر مقلدین کا اعلان سنت یا بدعت " اس عنوان سے شکیل احمد سبحانی" کا تحریر کردہ مضمون پڑھا اور اس میں موجود سوالوں کے جواب کے طور پر (م ا سلفی، طائف) کے نام سے کسی عقل سے پیدل شخص کا تعلیوں بھرا چند سطری "مارے گھٹنہ پھوٹے سر"جیسا "سوال چنیں جواب دیگر"کےمثل لکھاوٹ دیکھی بہر حال.....
اولاً تو یہیں اس کی کند ذہنی اور کذب و دروغ گوئی کا پتہ چلتا ہی کہ شکیل سبحانی صاحب نے خسوف یعنی"چاند گرہن "کے تعلق سے جماعت قائم کرنے اور قبل از وقت اعلان کرنے پر حضور علیہ السلام کے عمل کو باحوالہ ثابت کرنے کا مطالبہ کیا تھا،،
اور وہ بدھو میاں
اپنی مزعومہ "علمیت" جھاڑنےکے لیے کسوف یعنی "سورج گرہن" اور اس کے متعلق روایات کو پیش کر کے اپنی ڈھول جیسی کھوپڑی پیٹ پیٹ کے سنیوں کو جاھل، علم حدیث سے ناواقف کہنےاور نہ جانے کیا کیا ہفوات بکنے لگا، اور "استدلال" قیاس "کا پٹارا کھول بیٹھا جبکہ یہ" غیر کے مقلدین" ائمۂ عظام کے لیے بھی اس کو جائز نہیں مانتے، لیکن یہ جناب غالبا سیدھے اوپر سے چلے آئے اور فرمانے لگے حضور نے دونوں پر نماز کا حکم دیا اس لیے چاند گرہن پر ہم بھی"قیاس"کے اپنے بے لگام گھوڑے دوڑا کر جماعت کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔
ارے میاں جہاں تم غیر کے مقلدین ہر بات میں، رسول نے یہ کیا؟؟؟ رسول نے وہ کیا؟؟؟ ہر کام کے لیے رسول کے عمل کو پوچھتے ہو یہاں مجتھد کیوں بننے لگے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کچھ "علمی"گفتگو ہوجائے

نماز کسوف وخسوف کا حکم عین کسوف وخسوف کو دیکھنے کے بعد ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو یہ نہیں کہا کہ مثلا فلاں دن کسوف للشمس ہوگا یا خسوف القمر ہوگا تو ہم نماز پڑھیں گے پھر وہ دن آیا تو اجتماعی نماز پڑھی گئی بلکہ یہ واقعہ اچانک ہوا تو حضور علیہ السلام اس لمحہ، اس وقت تیزی سے نکلے اور نماز پڑھی آج کی طرح ایک دو روز پہلے"بدعتی اعلان" کر کے اور عیدین کی طرح نہیں پڑھی کیونکہ نماز کسوف صرف سورج کی روشنی پوری یا بعض کسوف کے سبب چھپ جانے پر ہی مشروع ہے اس لیے کہ حدیث پاک میں ارشاد ہوا
قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته، ولكنهما آيتان من آيات الله يريهما عباده، فإذا رأيتم ذلك فافزعوا إلى الصلاة. (صحیح بخاری :1044:1041،صحیح مسلم :2089،هذا اللفظ للبخاري)
، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ کسی کے مرنے اور جینے پر بے نور نہیں ہوتے ،اسے  دیکھتے ہی کھڑے ہوجاؤ اور نماز پڑھو۔

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کے دن سورج کو گرہن ہوا ، بعض لوگ کہنے لگے : گرہن حضرت ابراہیم کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا ، البتہ تم جب اسے دیکھو تو نماز پڑھا کرو اور دعا کیا کرو۔ (صحیح بخاری:1043) 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے ،اور کھڑے ہوکر تکبیر کہی۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں۔(صحیح بخاری:1046،صحیح مسلم:2091)

ان روایتوں کے مطابق کسوف(سورج گرہن) کا وقت پہلے سے پتہ کرکے اس کےلیے نماز کا اعلان کرنے کےلیے نجومیوں، اسٹرالوجیسٹ کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ہی ان کے قول پر کان دھرنے کی ضرورت ،

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:( فإذا رأيتموها فصلوا )جب اسے دیکھ لو تب نماز پڑھو،،،،،
علامہ ابن حجر کتاب'الفتح' 2/ص681 میں لکھتے ہیں : اس سے استدلال کیا گیا کہ نماز کسوف خسوف کےلیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو "رؤیت" پر معلق کیا ہے ،،اور فرمایا یہی امام احمد بن حنبل کا مذہب مشھور ہے

امام نووی شافعی مجموع اور روضۃ الطالبین میں فرماتے ہیں
قلت: قال الدارمي وغيره: ولا يعمل في كسوفها بقول المنجمين. والله أعلم،
(روضةالطالبين،كتاب صلاةالكسوف1/596 والمجموع)
میں کہتا ہوں :دارمی وغیرہ نے کہا کسوف میں نجومیوں کے قول پر عمل نہیں کیا جائیگا،
اسی طرح ابن مفلح حنبلی کتاب"الفروع" میں لکھتےہیں
 "ولا عبرة بقول المنجمين ولا يعمل به. "
(الفروع لابن مفلح الحنبلي باب صلاۃ الکسوف، ج، 5)
' (کسوف میں) نجومیوں کے قول کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ہی اس پر عمل کیا جائے گا '
ابن تيمية نےبھی مجموع الفتاوى 24/ص258 میں لکھا کہ ہم کسوف وخسوف کی نماز اسی وقت پڑھیں گے جب اسے دیکھ لیں گے،

حاصل
کلام نماز کسوف اسی وقت مشروع ہے جب سورج کی روشنی پوری یا کچھ چھپ جائے نجومیوں کے خبر دینے کہ بناء پر بدعت کی ایجاد کرتے ہوئے اعلان کرکے وقت متعین کرکے نہیں ادا کی جائے گی
تو اگر بادل چھا جانے یا کسی اور سبب سے لوگوں پر کسوف وخسوف پوشیدہ ہوجائے تو ان کے لیے نماز پڑھنا مشروع نہ ہوگا کیونکہ حضور علیہ السلام نے اس نماز کی ادائیگی کا حکم "رویت "پر معلق فرمایا ہے

  کیا چاند گرہن کی نماز فرض کفایہ ہے؟؟؟؟

عبداللہ امرتسری روپڑی نے فتاویٰ اہل حدیث ص ۳۹۱/ ۲،میں لکھاصلوٰۃ کسوف (گرہن کی نماز) کا نبیﷺ کی عمر مبارک میں ایک ہی دفعہ اتفاق پڑا مگر اس کے متعلق احادیث مختلف ہیں۔
اس میں بھی اس نے کسوف(سورج گرہن) کی نماز کو سنت موکدہ ہی لکھا

*دقائق أولي النهى حنبلی میں صلاۃ کسوف کی جماعت کو سنت قرار دیا

فقھاء کا اس بات پر اتفاق ہیکہ نماز کسوف میں جماعت سنت ہےاور یہ بھی صحیح ہیکہ گھر وغیرہ میں بھی تنہا پڑسکتے ہیں
  شوافع اور حنابلہ كسوف اورخسوف دونوں میں جماعت کو سنت قرار دیتے ہیں جبکہ احناف اور مالکیہ خسوف میں مستحب قرار دیتے ہیں امام کاسانی حنفی نے بدائع الصنائع میں لکھا
رہا خسوف(چاند گرہن)تو اس میں نماز پڑھنا مستحب ہے،اس وجہ سے کہ نبي صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: إذا رأيتم من هذه الأفزاع شيئا فافزعوا إلى الصلاة، اور یہ ہمارے نزدیک جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی جائیگی،(اس کی دلیل ذکر کرتے ہوئے فرمایا) ہماری دلیل اس میں یہ ہیکہ خسوف القمر (چاندگرہن)میں نبي صلى الله عليه وسلم سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا کہیں نہیں ثابت ہے حالانکہ چاند گرہن کا وقوع سورج گرہن سے زیادہ ہوا، اس لیے کہ فرض نمازوں کے علاوہ دیگر نمازیں جماعت کے ساتھ نہیں ادا کی جاتی جیسا کہ نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا{ صلاة الرجل في بيته أفضل إلا المكتوبة } سوائے اس کے کہ دلیل سے کسی کا جماعت سے پڑھنا ثابت ہوجائےجیسا کہ عيدين ، وقيام رمضان ، وكسوف الشمس(سورج گرہن)کی نماز کا ثبوت ہے(آگے لکھتے ہیں)رہا خسوف القمر (چاند گرہن) تولوگ اس نماز کو اپنے گھروں میں پڑھتے تھے کیونکہ اس میں سنت تنہا تنہا پڑھنا ہے جیسا کہ ہم نے بیان کر دیا،
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ،كتاب الصلاة » فصل صلاة الكسوف والخسوف، ج ١ - الصفحة ٢٨٢)

حنبلیوں میں سے ابن ابی زید قیروانی لکھتے ہیں
"وليس في صلاته خسوف القمر جماعة وليصل الناس عند ذلك أفذاذا والقراءة فيها جهرا كسائر ركوع النوافل"
چاند گرہن میں جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی جائیگی، لوگ اس کو جدا جدا ہوکر پڑھیں گے اور اس میں دیگر نوافل کی طرح جھر سے قرات کریں گے
اس کی تشریح "فواکہ الدوانی "نے کی،
اپنے اس ارشاد سے" صلاة خسوف القمر'چاند گرہن"کی ادائیگی کے طریقہ کو بتایا:اس لیے کہ مذہب معتمد کے مطابق اس کی نماز مستحب ہے تو اسے گھروں میں پڑھنا بہتر و افضل ہے...دیگر تمام نمازوں کی طرح، خلیل نے اس بات کو اپنے قول
"وركعتان ركعتان لخسوف قمر كالنوافل جهرا بلا جمع "
چاند گرہن کی نماز نوافل کی طرح دو دو رکعت جھراً بغیر جماعت کے ہوگی،
اس قول سے انھوں نے وضاحت کردی کہ چاند گرہن کی نماز تنہا پڑھنا افضل ہے اور جماعت کے ساتھ مکروہ ہے، اور یہ کہ وہ مستحب ہے سنت نہیں (مصنف کے مذکورہ قول کی دلیل بیان کی) مؤطا امام مالک میں ہے
: لم يبلغنا أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى بالناس إلا في خسوف الشمس ، ولم أسمع أنه جمع لخسوف القمر ، ولكن يصلون أفذاذا ركعتين كسائر النوافل"
کوئی بھی حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تک نہیں پہنچی جس میں ذکر ہوکہ آپ نے سورج گرہن کی نماز کے علاوہ لوگوں کو پڑھائی اور نہ میں نے سنا کہ چاند گرہن میں لوگوں کو جمع فرمایا، بلکہ لوگ جدا جدا دیگر نوافل کی طرح دو رکعت پڑھا کرتے تھے
( الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني، 3/259)
" النفراوي في الفواكه الدواني"میں بھی مذکورہ قول کو ذکر کیا گیا،

. خسوف ( چاند گہن) کے وقت دو رکعت پڑھنا مستحب ہے اس کو جماعت سے پڑھنا نہیں ہے خواہ جمعہ و عیدین کا امام موجود ہو یا نہ ہو ہر حال میں اکیلے اکیلے پڑھیں مسجد میں جانا بھی مسنون نہیں ہے اپنے اپنے گھروں میں پڑھ لیں اگر امام کے علاوہ دو یا تین آدمی ہوں تو جماعت سے ادا کرنا بلا کراہت جائز ہے اس سے زیادہ کی جماعت مکروہِ تحریمی ہے جیسا کہ
دیگر نوافل کا حکم ہے (زبدة الفقہ،   کتاب الصلوٰة ،133)
 
فتاوی عالمگیری اور در مختار میں ہے
"چاند گہن کی نماز میں  جماعت نہیں ، امام موجود ہو یا نہ ہو بہرحال تنہا تنہا پڑھیں ۔ امام کے علاوہ دو تین آدمی جماعت کرسکتے ہیں ۔
(الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘باب الکسوف، ج۳، ص۸۰،
’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، باب  صلاۃ الکسوف، ج۱، ص۱۵۳)

الجامع لمسائل المدونہ جو کے سعودیہ سے شائع کتاب ہے اس میں ایک فصل ہی،
(فصل-10 - هل يصلى جماعة لخسوف القمر)
اس نام سے قائم کی ہوئی ہے جس میں مذکور ہے

"وقال عبد العزيز بن أبى سلمه: ونحن إذا كن
ا فرادى نصلى هذه الصلاة في خسوف القمر؛ لقول النبي صلى الله عليه وسلم: ((فإذا رأيتم ذلك بهما فافزعوا إلى الصلاة)"عبدالعزیز ابن ابی سلمہ نے کہا:جب ہم تنہا ہوتے اس نماز کو چاندگرہن میں پڑھتے، حضور علیہ السلام کے قول (فإذا رأيتم ذلك بهما فافزعوا إلى الصلاة) پر عمل کرتے ہوئے،
(اور دوسری روایت اسی میں یہ مذکور ہے)
"قال ابن حبيب: قال ابن عباس: ((خسف القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يجمعنا إلى الصلاة معه كما فعل في خسوف الشمس، ورأيته صلى ركعتين فأطالهما، وما رأيته صلى نافلة بطولهما؛ "
ابن حبیب سے مروی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:حضور علیہ السلام کے زمانے میں چاند گرہن ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے جمع نہیں فرمایا جس طرح کہ سورج گرہن کی نماز میں کیا تھا، میں نے آپ کو دیکھا کہ دو طویل رکعتیں پڑھیں اس طرح کی طویل نفل نماز پڑھتے میں نے آپ کو پہلے نہ دیکھا تھا،
یہ اس لیے کہ چاند گرہن رات میں ہی ہوتا ہے اور اس کے اجتماع میں لوگوں کو مشقت ہوتی لہذا سورج گرہن کی نماز سے اس کو جدا کیا گیا ،
قال ابن المواز: التنفل في خسوف القمر ليس بسنة، وإنما هو ترغيب وترهيب.
ابن مواز نے کہا:چاند گرہن میں نفل پڑھنا سنت نہیں ہے بلکہ وہ ترغیب وترھیب کے لیے ہے
(الجامع لمسائل المدونة،:باب-15 -جامع ما جاء في صلاة الخسوف،3/931،932)

عن طلحة بن عبَيْدِ الله: جاء رجلٌ إلى رسولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من أهل نَجْدِ، ثائرَ الرأس، يسْمَع دَوِيّ صوته، ولا يفْقَه ما يقول؛َ حتى دنا، فإذا هو يَسأل عن الاسلام؟ فقال رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمس صلوات في اليوم والليلة ". قال: هل علي غيرهنَّ؟ قال: " لا؛ إلا أن تَطَّوَّع(ابو داؤد، كتاب الصلاة 415)
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیکہ ایک شخص اہل نجد میں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، پراگندہ سر اس کی آواز کی بھبھناہٹ سنائی دے رہی تھی لیکن بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی، حتی کہ وہ قریب آگیا، تو سمجھ میں آیا کہ وہ اسلام کے تعلق سے پوچھ رہا تھا (ایک روایت میں ہے کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے تعلق سےپوچھا )تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دن ورات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے، اس نے پھر سوال کیا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز فرض ہے؟؟؟ توحضور علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ نہیں الایہ کہ تم نفل نماز ادا کرو،،،

امام الوھابیہ موفتئ وھابیہ"ابن باز"اپنے اون لائن فتوی سائٹ"موقع ابن باز"میں ایک جواب میں لکھتا ہے
نماز کسوف سورج گرہن کی نماز سنت موکدہ ہےجیسا کہ اس تعلق سے احادیث صحیحہ وارد ہیں لیکن اہل علم کے نزدیک واجب نہیں اس لیے کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے تعلق سےپوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے، اس نے پھر سوال کیا:(هل علي غيرها؟ قال: لا، إلا أن تطوع) کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز فرض ہے؟؟؟ توحضور علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ نہیں الایہ کہ تم نقل نماز ادا کرو(صحیح البخاری، الایمان، باب الزکاۃ من الاسلام، حدیث: ۴۶۔)

ان مذکورہ حوالوں سے تو سورج گرہن کی نماز کا بھی زیادہ سے زیادہ سنت موکدہ ہونا ثابت ہو رہا ہے واجب ہونا یا واجب کفایہ ہونا تک نہیں ثابت ہورہا پھر یہ غیر کے مقلدین اسے فرض کفایہ کے درجہ تک کیسے کھینچ لے جارہے ہیں

اور یہ وکٹورین اہل حدیث جنھوں نے ملکۂ برطانیہ وکٹوریہ سے ایک اہل حدیث مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی جس نےجنگ آزادی (1857ء) کے موقع پرایک کتاب الاقتصاد فی المسائل الجہاد لکھی جس میں انگریزوں سے وفاداری کا اظہار کرتے ہوئےجہاد کی ممانعت ثابت کی( جنگ آزادی،1857،محمد حسین بٹالوی،صفحہ64 بحوالہ وہابی مذہب،361)
نے ارکان جماعت اہلحدیث کی ایک دستخطی درخواست لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کے ذریعے سے وائسرائے ہند کے نام حکومت کو درخواست دی اور مطالبہ کیا کہ ہمیں وبابی کہہ کر مخاطب نہ کیا جائے بلکہ ہمارے فرقے کا نام اہلحدیث ہو۔ وہابی ہمیں نہ لکھا جائے( اہلحدیث امرتسر اخبار ،صفحہ ۸)
اس درخواست پر سر فہرست میاں نذیر حسین کے دستخط تھے ۔گورنر پنجاب نے وہ درخواست اپنی تائیدی تحریر کے ساتھ گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیج دی۔وہاں سے حسب ضابطہ منظوری آگئی کہ آئیندہ وہابی کی بجائے اہلحدیث کا لفظ استعمال کیا جائے، یہ فرقہ عبدالھاب نجدی کی پیداوار ہے اور یہ لوگ عبدالوھاب نجدی کے پیروکار ہے جس کے والد ماجد بھی اس میں الحاد کی علامات پاتے تھے اور اکژ اس کی برائی کرتے تھے اور لوگوں کو اس سے بچنے کی تاکید کرتے تھے-اسی طرح اس کے بھائی علامہ سلیمان بن عبدالوھاب بھی اس کی ایجاد کردہ بدعات و ضلال اور عقائد باطلہ کا انکار کرتے تھے بلکہ انھوں نے اس کے رد میں ایک کتاب الصواعق الالھیہ فی ردالوھابیہ لکھی-ملاحظہ فرمائیں شٰیخ الاسلام مفتی حرم علامہ احمد بن ذینی
دحلان مکی رحمتہ اللہ علیہ کی الدررالسنیہ ص٤٢-اور محمد عبدالوھاب نجدی کے بھائی علامہ سلیمان بن عبدالوھاب کی کتاب الصواعق الالھیہ فی ردالوھابیہ ص5 مطبوعہ استانبول سن طبع ١٩٧٥-
دیو بندیوں کے شیخ القرآن علامہ عبدالہادی شاہ منصوری اپنی کتاب تسہیل البخاری میں فرماتے ہیں:
لعل المراد منہ قرن محمد بن عبدالوھاب النجدی الظاغی الباغی-(تسہیل البخاری ص٢١مطبوعہ دارلعلوم تعلیم القرآن موضع شاہ منصور ضلع مردان)
مفتی حرم مکہ علامہ احمد بن ذینی دحلان مکی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں-
روایت میں ہے کہ دو قرن الشیطان (شیطان کے سینگ)نکلیں گے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ان دونوں سے مراد مسلیمہ کذاب اور محمد ابن عبدالوھاب ہیں-آج کے وھابی اسی کی نسبت سے اپنے آپ کو وھابی کہتے ہیں
مذکورہ "م ا سلفی" ا، با ،تا پڑھنے والا یہ بیوقوف شخص مسلمانوں کے امام المحدثین امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور دیگر اماموں کو پڑھانے کا دعوی کررہا ہے جن غیر مقلدوں کی پیدائش انگریزوں کی دین ہے وہ اپنی پیدائش سے پہلے کے فضلائے زمانہ بحرالعلوم علماء کو پڑھانے کا دعوی پھیک رہا ہے یہی سوال جب نجدی سے پوچھا گیا کہ تمھارا وجود تو ابھی کا ہے تمھارے اکابر کون سے عقیدے کے ماننے والے تھے تو جواب میں یہ کہتا ہے کہ تیرہ سو سال تک میرے اکابر گمراہ تھے
صاف ظاہر ہے یہ مسلمانوں کو گمراہیت اور بے دینی کا درس دینے والے وکٹورین اہل حدیث فرقہ ہیں ان نام نہاد فرقہ اہلحدیث کا آغاز انگریز کے مکروہ دور میں ہوا۔
کیا یہ غیر کے مقلدین اہل حدیث ہیں؟؟؟
اہلحدیث کے بارے میں وہ فضائل جو سلف صالحین نے لکھے ہیں ان سے محدثین مراد ہیں۔ جنھوں نے احادیث کو اکٹھا کرنے میں اسفار کیئے۔ احادیث کی کتابیں لکھیں۔ حدیث پڑھتے پڑھاتے رہے۔ راویوں کی جرح تعدیل کی، صحیح حسن مرفوع ضعیف، موضوع وغیرہ احادیث کی اقسام بیان کی۔ اصول حدیث لکھا ۔وغیرہ وغیرہ 
اس سے مراد وہ فرقہ غیرمقلد جن کو وہابی کہا جاتا ہے مراد نہیں۔جن کے آگے اور بھی فرقے ہیں۔ جیسے غربا اہلحدیث، جمیعت اہلحدیث۔ جماعت المسلیمین ۔سلفی۔ جو ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں

انگریز کے (برصغیر پر قبضہ کرنےکے) دور سے پہلے کسی "غیر علمی" شخصیت کو اہلحدیث نہیں کہا گیا۔
اج کل تو وہابیوں کا بچہ بچہ، جاہل ہو یا پانچ پڑھا،نائی ہو یاتیلی ،موچی ہویا بھنگی ۔ دارڑھی منڈا ہویا ننگے سر والا سب ہی 'ماشااللہ 'اہلحدیث ہیں جبکہ متعارف بین المسلمین محدثین کرام جو فن حدیث کی خدمات کے سبب ماہران فن حدیث "اہل حدیث "کے لقب سے پکارے جاتے تھے وہ کوئی نیا وکٹورین فرقہ نہ تھے اسی لیے تو شوافع حنابلہ مالکیہ اور احناف میں اہل حدیث (محدثین کرام )کی ایک بڑی جماعت نظر آتی ہے جب کے یہ وکٹورین" غیر کے مقلدین " ایک مخصوص مسلمانوں کو مشرک بنانا والا اور حرمین طیبین میں ایک زمانے تک کثیر مسلمانوں کے خوں اور عزت وآبرو کی کو لوٹنے والافرقہ ہے اللہ رب العزت ان کے فتنہ سے مسلمانان اسلام کی حفاظت فرمائے، آمین
ﮐﯿﺎ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻗﻮﻣﯽ ﮔﯿﺖ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﻮﮔﺎ؟
ﻣﻮﺿﻮﻉ : ﻣﺘﻔﺮﻕ ﻣﺴﺎﺋﻞ
ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ : ﻣﺤﻤﺪ ﻧﺴﯿﻢ ﻣﻘﺎﻡ : ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ :2439
ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺗﺮﺍﻧﮧ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻗﻮﻣﯽ ﮔﯿﺖ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮍﮪ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟ ﺑﺮﺍﮦ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﺭﺳﺎﻝ ﻓﺮﻣﺎ ﮐﺮ ﻋﻨﺪﺍﻟﻠﮧ ﻣﺎﺟﻮﺭ ﮨﻮﮞ۔
ﺟﻦ ﮔﻦ ﻣﻦ ﺍﺩﮬﯽ ﻧﺎﯾﮏ ﺟﺌﮯ ﮨﮯ
ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺑﮭﺎﮔﯿﮧ ﻭﺩﮬﺎﺗﺎ
ﭘﻨﺠﺎﺏ ﺳﻨﺪﮪ ﮔﺠﺮﺍﺕ ﻣﺮﺍﭨﮭﺎ
ﺩﺭﺍﻭﮈ ﺍﺗﮑﻞ ﻭﻧﮕﺎ
ﻭﻧﺪﮬﯿﮧ ﮨﻤﺎﭼﻞ ﯾﻤﻨﺎ ﮔﻨﮕﺎ
ﺍﭼﮭﻠﮧ ﺟﻠﮧ ﺩﮬﯽ ﺗﺮﻧﮕﺎ
ﺗﻮﺍ ﺳﺒﮫ ﻧﺎﻣﮯ ﺟﺎﮔﮯ
ﺗﻮﺍ ﺷﺒﮫ ﺁﺷﺶ ﻣﺎﻧﮕﮯ
ﮔﺎﮨﮯ ﺗﻮﺍ ﺟﯿﺎ ﮔﺎﺩﮬﺎ
ﺟﻦ ﮔﻦ ﻣﻨﮕﻞ ﺩﺍﯾﮏ ﺟﯿﮧ ﮨﮯ
ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺑﮭﺎﮔﯿﮧ ﻭﺩﮬﺎﺗﺎ
ﺟﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﯿﺎ ﮨﮯ
ﺟﯿﺎ ﺟﯿﺎ ﺟﯿﺎ ﺟﯿﺎ ﮨﮯ
जन गण मन अधिनायक जय हे
भारत भाग्य विधाता
पंजाब सिंध गुजरात मराठा
द्राविड उत्कल वंग
विंध्य हिमाचल यमुना गंगा
उच्छल जलधि तरंग
तव शुभ नामे जागे
तव शुभ आशिष मागे
गाहे तव जयगाथा
जन गण मंगल दायक जय हे
भारत भाग्य विधाता
जय हे, जय हे, जय हे
जय जय जय जय हे !
ﺗﺮﺟﻤﮧ
ﺍﮮ ! ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ، ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻭ ﺩﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺟﺌﮯ ﮨﻮ
O! Dispenser of India's destiny, thou art the ruler of the minds of all people
ﺗﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﮨﯽ، ﭘﻨﺠﺎﺏ، ﺳﻨﺪﮪ، ﮔﺠﺮﺍﺕ، ﻣﺮﺍﭨﮭﺎ ﻋﻠﻼﻗﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
Thy name rouses the hearts of Punjab, Sindh, Gujarat, the Maratha country
ﺩﺭﺍﻭﮈ، ﺍﺗﮑﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﮕﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
in the Dravida, Utkala and Bengal
ﺗﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﻧﺎﻡ ﻭﻧﺪﮬﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﻟﮧ ﮐﯽ ﭘﮩﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻧﺠﺘﺎ ﮨﮯ
It echoes in the hills of the Vindhyas and Himalayas
ﺟﻤﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﮕﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺭﻭﺍﮞ ﺩﻭﺍﮞ ﮨﮯ
it mingles in the rhapsodies of the pure waters of Yamuna and Ganga
ﯾﻞ ‏( ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ‏) ﻋﻼﻗﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﻧﺎﻡ ﮔﻨﮕﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
They chant only thy name .
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ
They seek only thy auspicious blessings .
ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﻧﻐﻤﮯ ﮔﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
They sing only the glory of thy victory .
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﯽ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮨﮯ
The salvation of all people waits in thy hands
ﺍﮮ ! ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ، ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻭ ﺩﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
O! Dispenser of India's destiny, thou art the ruler of the minds of all people
ﺗﯿﺮﯼ ﺟﺌﮯ ﮨﻮ، ﺗﯿﺮﯼ ﺟﺌﮯ ﮨﻮ، ﺗﯿﺮﯼ ﺟﺌﮯ ﮨﻮ
Victory to thee, Victory to thee, Victory to thee
ﺟﺌﮯ ﮨﻮ، ﺟﺌﮯ ﮨﻮ، ﺟﺌﮯ ﮨﻮ، ﺗﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﺟﺌﮯ ﮨﻮ
Victory, Victory, Victory, Victory to thee
ﺟﻮﺍﺏ :
ﮨﺮ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺮﺍﻧﮧ ﯾﺎ ﻗﻮﻣﯽ ﮔﯿﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻗﻮﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻭﻋﻘﯿﺪﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮﯼ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﻗﻮﻣﯽ ﺗﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ، ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺟﻮ ﻏﻠﻂ ﮨﻮ، ﯾﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ، ﯾﮧ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔
ﻭﺍﻟﻠﮧ ﻭ ﺭﺳﻮﻟﮧ ﺍﻋﻠﻢ ﺑﺎﻟﺼﻮﺍﺏ۔
ﻣﻔﺘﯽ : ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﯿﻮﻡ ﮨﺰﺍﺭﻭﯼ
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺷﺎﻋﺖ : 13-03-2013
ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺎﺱ ﺍﻻﺯﮨﺮﯼ
ﺴﺌﻠﮧ : ۔ﮨﺮ ﻣﺎﻟﮏ ﻧﺼﺎﺏ ﻣﺮﺩ ﻭ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﻟﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﮯ ﺧﺎﺹ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﺧﺎﺹ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﷲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺛﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﻧﯿﺖ ﺳﮯ ﺫﺑﺢ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔
‏( ﺭﺩﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺭ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻻﺿﺤﯿۃ ، ﺝ۹،ﺹ ۵۱۹،۵۲۲،۵۲۳ )
# ﻣﺴﺌﻠﮧ : ۔ﻣﺎﻟﮏ ﻧﺼﺎﺏ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﺑﺎﻭﻥ ﺗﻮﻟﮧ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﯾﺎ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﺳﺎﺕ ﺗﻮﻟﮧ ﺳﻮﻧﺎﯾﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﯾﺎ ﺭﻭﭘﯿﻮﮞ ﻧﻮﭨﻮﮞ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﻤﻠﻮﮐﮧ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺣﺎﺟﺖ ﺍﺻﻠﯿﮧ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﮨﻮﮞ۔
‏( ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼ ﺍﻟﮭﻨﺪﯾۃ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻻﺿﺤﯿۃ، ﺍﻟﺒﺎﺏ ﺍﻻﻭﻝ ﻓﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮬﺎ ﻭﺭﮐﻨﮭﺎ،ﺝ۵،ﺹ۲۹۲ ‏)
# ﻣﺴﺌﻠﮧ : ۔ﻣﺎﻟﮏ ﻧﺼﺎﺏ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ ۔
‏( ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼ ﺍﻟﮭﻨﺪﯾۃ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻻﺿﺤﯿۃ،ﺍﻟﺒﺎﺏ ﺍﻻﻭﻝ،ﺝ۵،ﺹ۲۹۲ ‏)
ﺍﮔﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﮮ۔
ﻣﺴﺌﻠﮧ : ۔ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﺎﺯﮦ ﺍﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻋﯿﺐ ﮨﻮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﻋﯿﺐ ﮨﻮﺗﻮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﯿﺐ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔
‏( ﺭﺩﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺭ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻻﺿﺤﯿۃ، ﺝ۹،ﺹ۵۳۶ ‏)
# ﻣﺴﺌﻠﮧ : ۔ﺍﻧﺪﮬﺎ ' ﻟﻨﮕﮍﺍ ' ﮐﺎﻧﺎ ' ﺑﯿﺤﺪ ﺩﺑﻼ ' ﺗﮩﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﻥ ' ﺩﻡ ' ﺳﯿﻨﮓ ' ﺗﮭﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﭩﺎ ﮨﻮﺍ ' ﭘﯿﺪﺍﺋﺸﯽ ﺑﮯ ﮐﺎ ﻥ ﮐﺎ ' ﺑﯿﻤﺎﺭ ' ﺍﻥ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ۔ ‏( ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼ ﺍﻟﮭﻨﺪﯾۃ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻻﺿﺤﯿۃ،ﺍﻟﺒﺎﺏ ﺍﻟﺨﺎﻣﺲ،ﺝ۵،ﺹ۲۹۷۔۲۹۸ ‏
_*ســـــوال*_

*کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں اگر کسی لڑکی کی شادی ہوگئی ہے اور اس کا شوہر اس کو طلاق دے دیا ہے اب وہ دوسرے لڑکا سے نکاح کر نا چاہتی ہے تو اس کو عدت پورا کرنا چاہیے اگر نہیں کی تو کیا حکم ہے اس کے بارے میں قرآن وحدیث سے جواب عنایت فرمائیں کرم نوازی ہوگی

_*الجواب بعون الملک الوہاب*_
_*صورت مسؤلہ میں اگر ہمبستری اور خلوت صحیحہ کےپہلے ہی طلاق دیدی تو عدت گزارنا واجب نہیں اس صورت میں نکاح کر سکتی ہے اور اگر ہمبستری یا خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دیا تو عدت گزارنا واجب ہے قبل انقضائے عدت نکاح ہر گز جائز نہ ہوگا*_
_*📚فتاوی عالمگیری مصری*_
_*جلد اول ص 471*_
_*رجل تزوج امرأۃ نکاحا جائزا فطلقھا بعد الدخول او بعد الخلوۃ الصحیحۃ کان علیھا العدۃ*_
_*( کذا فی فتاوی قاضی خان)*_
_*لہذا اس نے اگر نکاح کرلی تو ہزگز نکاح نہ ہوا وہ فوراً الگ ہوجائے اور آپس میں میاں بیوی کے تعلقات ہر گز قائم نہ کرے اور اگر تعلقات قائم کر چکے تھے تو توبہ واستغفار کریں*_

_*📚فتاوی فیض الرسول*_
_*جلد دوم ص 293*_

_*مطلقہ عورت کیلئے حکم ہے کہ وہ عدت شوہر کے گھر گزارے*_
_*📚القرآن پارہ ۲۸ سورہ طلاق میں ہے*_
_*لاتخرجوھن من بیوتھن ولایخرجن الا ان یاتین بفاحشة مبینة*_
_*یعنی طلاق والی عورتوں کو انکے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں*_

*و ایــضـــــا*
_*والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلثة قروع*_
_*📚القرآن پارہ ۲رکوع ۱۲*_

_*لہذا طلاق کے بعد عدت گزارنے سے پہلے نکاح ہرگزجائز نہیں اگر کرلیا تو نکاح نہ ہوگا*_
*واللہ اعلم بالصواب*

_*📚فتاوی فیض الرسول*_
_*جلد دوم ص ۲۹۱*_

ــــــــــــــــ🍥🌺ــــــــــــــــ
*عیدالاضحٰی کے تعلق سے ضروری ھدایتیں ۔۔۔*

*جانور خریدنے سے پہلے*

1۔ حلال رقم کا بندوبست کریں۔

2۔ اﷲ رب العزت کی رضا کا حصول اور فرض کی تکمیل کا جذبہ دل میں پیدا کریں۔

3۔ نمودو نمائش کے جذبات دل سے دفع کریں!

4۔ حصہ داری کرنے کا ارادہ ہو تو ابھی سے حصہ دار چن لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔

5۔ جس شخص کے بارے میں تحقیق ہو کہ اس کی آمدنی حرام ہے اس کو حصہ دار نہ بنائیں!

6۔ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے پہلے حجامت بنوالیں! ناخن اور زائد بال کاٹ لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔

*جانور خریدتے وقت*

1۔ جس جانور کے بارے میں غالب گمان ہو کہ چوری کا ہے اسے نہ خریدیں۔

2۔ جھوٹ اور جھوٹی قسموں سے بچیں!

3۔ دوسرے مسلمان بھائی کا سودا طے ہوچکا ہو تو اس کا سودا خراب نہ کریں!

جانور کو خوب اچھی طرح دیکھیں, خصوصا ان چیزوں کا ضرور لحاظ رکھیں:

*گائے کی عمر دو سال سے کم نہ ہو، اونٹ کی پانچ سال سے اور بکری کی ایک سال سے کم عمر نہ ہو۔ دنبہ بھیڑ چھ 6 ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو لیکن دیکھنے میں سال والے کے برابر معلوم ہوتا ہو تو قربانی ہوجائے گی۔ گائے، اُونٹ اور بکری میں یہ مسئلہ نہیں۔ ان کی عمر پوری ہونا ضروری ہے۔*

٭ کان ، زبان، دم، ان اعضاء میں سے کوئی عضو نصف سے زیادہ کٹا ہوا نہ ہو، آنکھ کی روشنی نصف سے زیادہ ضائع نہ ہو۔(تہائی اور تہائی سے زیادہ کا فتوی بھی موجود ہے)

٭ سینگ اس قدر ٹوٹے ہوئے نہ ہوں کہ ٹوٹنے کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو۔ ورنہ قربانی نہ ہوگی۔

٭ جان بوجھ کر ولادت کے قریب جانور کو خرید کر قربانی کرنا مکروہ ہے۔ بانجھ کی قربانی جائز ہے۔ خصی کی قربانی زیادہ افضل ہے۔

٭ ایسا جانور جو چارہ نہ کھا سکتا ہو یا چل ہی نہ سکتا ہو، کی قربانی درست نہیں۔

٭ جنگلی نسل کے جانور کی قربانی درست نہیں۔

٭ خنثی مشکل جانور کی قربانی جائز نہیں۔

*خریدنے کے بعد*

1۔ جانور کی خدمت کریں۔ اسے کسی قسم کی ایذا نہ دیں۔

2۔ ایسی جگہ باندھیں جہاں آنے جانے والوں کو تکلیف نہ ہو۔

3۔ جانور کے گلے میں بجنے والی گھنٹی نہ ڈالیں۔

4۔ اس پر سواری کریں، نہ ہی اس کا دودھ خود پییں! اگر دودھ نکال لیا تو اسے صدقہ کردیں! اس کی قیمت غریب کو صدقہ کر دے تو خود پینا جائز ہے۔

5۔ نمودونمائش کا اظہار نہ کریں۔

6۔ حصہ داری میں قربانی کر رہے ہوں تو حصہ داروں کو تمام معاملات میں ساتھ لے کر چلیں!

*قربانی کی تیاری*

1۔ صحیح العقیدہ مسلمان قصائی کا انتخاب کرلیں!

2۔ قصائی کی اجرت پہلے سے طے کرلیں!

3۔ قربانی کی کھال مستحق اور مستند دینی فلاحی اداروں کودینےکی کوشش کریں!

*قربانی کرتے وقت*

قربانی کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں!

1۔ چھری پہلے سے خوب تیز کرلیں۔

2۔ ذبح سے پہلے جانور کو چارہ کھلا لیں، پانی پلا لیں۔

3۔ جب شہر میں کسی ایک جگہ نماز عید ہوجائے تب قربانی کریں!

4۔ خود ذبح کریں، ورنہ کم از کم ذبح کے وقت وہاں موجود رہیں۔

5۔ ذبح کے وقت تماشا نہ بنائیں!

6۔ جس کروٹ پر جانور گرے اسی کروٹ پر ذبح کردیں۔ گھسیٹ کر قبلہ رخ نہ کریں! کوشش کریں کہ جانور قبلہ رخ گرے۔ قبلہ رخ کرنا صرف مستحب ہے جبکہ جانور کو گھسیٹ کر اسے ایذاء دینا ممنوع و مکروہ۔

7۔ چھری پھیرتے وقت بسم اﷲ ، اﷲ اکبرکہیں!

8۔ کم از کم تین رگیں ضرور کاٹیں!

9۔ ذبح کر دینے کے بعد دل میں یا حرام مغز میں چھریاں گھونپنا مکروہ عمل ہے۔

10۔ کھال کو کٹ لگنے سے بچائیں!

*قربانی کے بعد*

1۔ گوشت کے تین حصے کرنا مستحب ہے۔ ایک حصہ اپنے رشتہ داروں اور احباب میں ہدیہ کریں! ایک حصہ غرباء میں صدقہ کریں اور ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے لےے رکھیں!

2۔ سات اشیاء نہ کھائیں:
١) بہتا خون.
٢) پیشاب کی جگہ.
٣) پاخانہ کی جگہ.
٤) پتہ.
٥) مثانہ.
٦) غدود.
٧) کپورے.

باقی تمام اشیاء حلال ہیں۔

3۔ قربانی کے جانور کاگوشت، چربی اور ہڈیاں بیچنا جائز نہیں۔ اگر بیچ دیا تو اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔

4- غیرمسلم کو قربانی کا گوشت دینا جائز نہیں۔

*وَاللہ اَعْلَمُ*
ﺑﻨﺪ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﮔﻬﻮﻣﺘﺎ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻧﭗ ﮔﻬﺲ ﺁﯾﺎ *.
* ﯾﮩﺎﮞ ﺳﺎﻧﭗ ﮐﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﯽ۔ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮍﯼ ﺍﯾﮏ ﺁﺭﯼ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﺎ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ *.
* ﮔﻬﺒﺮﺍﮨﭧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﻗﻮﺕ ﺳﮯ ﮈﻧﮓ ﻣﺎﺭﺍ . ﺳﺎﻧﭗ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ . ﺍﮔﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺳﺎﻧﭗ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺁﺭﯼ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﻟﭙﭧ ﮐﺮ، ﺍﺳﮯ ﺟﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﻡ ﮔﻬﻮﻧﭧ ﮐﺮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﯽ *.
* ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺟﺐ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﻭﺭﮐﺸﺎﭖ ﮐﻬﻮﻟﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻧﭗ ﮐﻮ ﺁﺭﯼ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﻟﭙﭩﮯ ﻣﺮﺩﮦ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺤﺾ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﯿﺶ ﺍﻭﺭ ﻏﺼﮯ ﮐﯽ ﺑﻬﯿﻨﭧ ﭼﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﺗﻬﺎ *.
* ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ *.
* ﺍﭼﻬﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮨﻤﯿﮟ *
* ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ *
* ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ *
* ﮐﭽﮫ ﺣﻮﺍﺩﺙ ﮐﻮ *
* ﮐﭽﮫ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﻮ *
* ﮐﭽﮫ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ *
* ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ *.
* ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺫﮨﺎﻧﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﺎﺩﯼ ﺑﻨﺎﺋﯿﮯ، ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮨﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﺩﮐﻬﺎﺋﯿﮟ . ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺤﺾ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﺎﻥ ﺑﻬﯽ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ *.
* ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﻗﻮﺕ۔۔۔ﻗﻮﺕِ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﮯ *
* ﺻﺒﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﻮ ﮔﺮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ *
* ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ۔۔۔ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ..
📚📚📚📚📚📚🖋
۱ ‏) ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟ ‏( ۲ ‏) ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯽ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
‏( ۳ ‏) ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺳﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ؟ ﺟﺮﺳﯽ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ؟
جواب:
ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺮﺳﯽ ﮔﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺑﯿﻞ ﮐﺎ ﻧﻄﻔﮧ ﺑﺬﺭﯾﻌﮧ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﺭﺣﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻭﻻﺩﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﻨﺎ ﺣﻼﻝ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺫﺑﺢ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺷﺒﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺐ ﻏﯿﺮﻣﺸﺘﺒﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﺂﺳﺎﻧﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﻮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺫﺑﺢ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﮨﮯ، ﺍﺳﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﻮ ﺑﻼ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻣﺸﺘﺒﮧ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﺳﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﻭﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻋﻠﻢ
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ‏)
ﻣﺴﺌﻠﮧ : ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺗﯿﻦ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ ‏( ۱ ‏) ﺍﻭﻧﭧ ‏( ۲ ‏) ﮔﺎﺋﮯ ‏( ۳ ‏) ﺑﮑﺮﯼ ،ﻧﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺩﮦ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﺧﺼﯽ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮔﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﮭﯿﮍ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﺒﮧ ﺑﮑﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ‏(
*عیدالاضحٰی کے تعلق سے ضروری ھدایتیں ۔۔۔*



*جانور خریدنے سے پہلے*

1۔ حلال رقم کا بندوبست کریں۔

2۔ اﷲ رب العزت کی رضا کا حصول اور فرض کی تکمیل کا جذبہ دل میں پیدا کریں۔

3۔ نمودو نمائش کے جذبات دل سے دفع کریں!

4۔ حصہ داری کرنے کا ارادہ ہو تو ابھی سے حصہ دار چن لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔

5۔ جس شخص کے بارے میں تحقیق ہو کہ اس کی آمدنی حرام ہے اس کو حصہ دار نہ بنائیں!

6۔ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے پہلے حجامت بنوالیں! ناخن اور زائد بال کاٹ لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔

*جانور خریدتے وقت*

1۔ جس جانور کے بارے میں غالب گمان ہو کہ چوری کا ہے اسے نہ خریدیں۔

2۔ جھوٹ اور جھوٹی قسموں سے بچیں!

3۔ دوسرے مسلمان بھائی کا سودا طے ہوچکا ہو تو اس کا سودا خراب نہ کریں!

جانور کو خوب اچھی طرح دیکھیں, خصوصا ان چیزوں کا ضرور لحاظ رکھیں:

*گائے کی عمر دو سال سے کم نہ ہو، اونٹ کی پانچ سال سے اور بکری کی ایک سال سے کم عمر نہ ہو۔ دنبہ بھیڑ چھ 6 ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو لیکن دیکھنے میں سال والے کے برابر معلوم ہوتا ہو تو قربانی ہوجائے گی۔ گائے، اُونٹ اور بکری میں یہ مسئلہ نہیں۔ ان کی عمر پوری ہونا ضروری ہے۔*

٭ کان ، زبان، دم، ان اعضاء میں سے کوئی عضو نصف سے زیادہ کٹا ہوا نہ ہو، آنکھ کی روشنی نصف سے زیادہ ضائع نہ ہو۔(تہائی اور تہائی سے زیادہ کا فتوی بھی موجود ہے)

٭ سینگ اس قدر ٹوٹے ہوئے نہ ہوں کہ ٹوٹنے کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو۔ ورنہ قربانی نہ ہوگی۔

٭ جان بوجھ کر ولادت کے قریب جانور کو خرید کر قربانی کرنا مکروہ ہے۔ بانجھ کی قربانی جائز ہے۔ خصی کی قربانی زیادہ افضل ہے۔

٭ ایسا جانور جو چارہ نہ کھا سکتا ہو یا چل ہی نہ سکتا ہو، کی قربانی درست نہیں۔

٭ جنگلی نسل کے جانور کی قربانی درست نہیں۔

٭ خنثی مشکل جانور کی قربانی جائز نہیں۔

*خریدنے کے بعد*

1۔ جانور کی خدمت کریں۔ اسے کسی قسم کی ایذا نہ دیں۔

2۔ ایسی جگہ باندھیں جہاں آنے جانے والوں کو تکلیف نہ ہو۔

3۔ گھنٹی نہ ڈالیں۔

4۔ اس پر سواری کریں، نہ ہی اس کا دودھ خود پییں! اگر دودھ نکال لیا تو اسے صدقہ کردیں! اس کی قیمت غریب کو صدقہ کر دے تو خود پینا جائز ہے۔

5۔ نمودونمائش کا اظہار نہ کریں۔

6۔ حصہ داری میں قربانی کر رہے ہوں تو حصہ داروں کو تمام معاملات میں ساتھ لے کر چلیں!

*قربانی کی تیاری*

1۔ صحیح العقیدہ مسلمان قصائی کا انتخاب کرلیں!

2۔ قصائی کی اجرت پہلے سے طے کرلیں!

3۔ قربانی کی کھال مستحق اور مستند دینی فلاحی اداروں کودینےکی کوشش کریں!

*قربانی کرتے وقت*

قربانی کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں!

1۔ چھری پہلے سے خوب تیز کرلیں۔

2۔ ذبح سے پہلے جانور کو چارہ کھلا لیں، پانی پلا لیں۔

3۔ جب شہر میں کسی ایک جگہ نماز عید ہوجائے تب قربانی کریں!

4۔ خود ذبح کریں، ورنہ کم از کم ذبح کے وقت وہاں موجود رہیں۔

5۔ ذبح کے وقت تماشا نہ بنائیں!

6۔ جس کروٹ پر جانور گرے اسی کروٹ پر ذبح کردیں۔ گھسیٹ کر قبلہ رخ نہ کریں! کوشش کریں کہ جانور قبلہ رخ گرے۔ قبلہ رخ کرنا صرف مستحب ہے جبکہ جانور کو گھسیٹ کر اسے ایذاء دینا ممنوع و مکروہ۔

7۔ چھری پھیرتے وقت بسم اﷲ ، اﷲ اکبرکہیں!

8۔ کم از کم تین رگیں ضرور کاٹیں!

9۔ ذبح کر دینے کے بعد دل میں یا حرام مغز میں چھریاں گھونپنا مکروہ عمل ہے۔

10۔ کھال کو کٹ لگنے سے بچائیں!

*قربانی کے بعد*

1۔ گوشت کے تین حصے کرنا مستحب ہے۔ ایک حصہ اپنے رشتہ داروں اور احباب میں ہدیہ کریں! ایک حصہ غرباء میں صدقہ کریں اور ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے لےے رکھیں!

2۔ سات اشیاء نہ کھائیں:
١) بہتا خون.
٢) پیشاب کی جگہ.
٣) پاخانہ کی جگہ.
٤) پتہ.
٥) مثانہ.
٦) غدود.
٧) کپورے.

باقی تمام اشیاء حلال ہیں۔

3۔ قربانی کے جانور کاگوشت، چربی اور ہڈیاں بیچنا جائز نہیں۔ اگر بیچ دیا تو اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔

4- غیرمسلم کو قربانی کا گوشت دینا جائز نہیں ہے۔


*وَاللہ اَعْلَمُ*