🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
عرس رضوی قادری نوری کے موقع پر فہرست کتب مع قیمت اصل وَ رعایتی ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ رضا اکیڈمی ممبئ +919867874598 رضا اکیڈمی بریلی +919325155777 ➻═══════════➻ TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge ➻═══════════➻
💐 عرس رضوی 2020 عیسوی | عرس رضوی 1442 ھ 🌹 کے موقع پر فہرست کتب مع قیمت اصل وَ رعایتی 📚
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
رضا اکیڈمی ممبئ +919867874598
رضا اکیڈمی بریلی +919325155777
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
رضا اکیڈمی ممبئ +919867874598
رضا اکیڈمی بریلی +919325155777
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلسلہ حکایتیں اورنصیحتیں
حکایت نمبر:1
تاریخ:6 اکتوبر 2020
موضوع:نفسیاتی مریضہ بن گئی
تحریر:عبدہ المذنب سید کامران عطاری مدنی عفا عنہ الباری
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلاۃ والسلام علیک یارسول اللہ وعلی الک واصحابک یا حبیب اللہ
ایک ڈاکٹر کا بیان ہے کہ ایک خاتون اور اس کا خاوند اپنی جوان بچی کے علاج معالجے کے لئے میرے پاس آئے۔انہوں نے بتایا کہ ہماری بچی نے ایم ایس سی کیا ہوا ہے اور پورے خاندان میں ہنس مکھ،ملنسار،عقلمند مشہور تھی، ایم ایس سی کرنے کے بعد آئے روز رشتے آنا شروع ہوگئے لیکن سانولی رنگت کی وجہ سے جو لوگ بھی آتے کئی اسی وقت انکار کردیتے تو کئی فون پر معذرت کردیتے۔ رشتہ دیکھنے والے بچی کو اس انداز سے دیکھتے جیسے انہوں نے کوئی بھیڑ بکری خریدنی ہو۔ ان کے دیکھنے کے انداز،تیکھے سوالات اور پھر انکار نے ہماری پھول جیسی بچی کے دل کو ایسی ٹھیس پہنچائی کہ ہماری بچی شروع شروع میں کھوئی کھوئی رہتی پھر اس نے مکمل چپ سادھ لی ہر وقت اپنے آپ کو کمرے میں قید کیا ہوا ہے کھانا بھی زبردستی کھلانا پڑتا ہے۔ ایسی حالت کی وجہ سے ہماری بچی دن بدن کمزور ہوکر ہڈیوں کا ڈھانچا بن گئی ہے۔عاملوں کے پاس جائیں تو وہ کالے جادو کا کہہ دیتے ہیں ڈاکٹرز کے پاس جائیں تو وہ نفسیاتی مریضہ قرار دیتے ہیں،کسی بھی طریقہ علاج سے فائدہ نہیں ہو رہا۔بچی کے حالات بتاتے ہوئے دُکھیارے والدین نے رونا شروع کر دیا۔
نصیحت:ہم میں سے ہر ایک اس دنیا میں تنہا آتا ہے اور اکیلا ہی رخصت ہوتا ہے لیکن یہاں رہتا تنہا نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے،ہماری ذات سے کبھی کسی کو راحت پہنچتی ہے تو کبھی تکلیف اور کبھی کچھ بھی نہیں یعنی تکلیف نہ راحت،اگر دیگر مسلمانوں کو ہم سے راحت پہنچے گی تو نیتِ خیر ہونے کی صورت میں ہمیں اس کا ثواب ملے گا، بلا وجہِ شرعی تکلیف پہنچائیں گے تو عذاب کی حقداری ہے اور تیسری صورت میں نہ ثواب نہ عذاب۔کوشش ہونی چاہئے کہ ہم باعثِ زحمت نہیں سببِ راحت بنیں۔اس حوالے سے ہمارے رویّے مختلف ہوتے ہیں،بعض کی اس طرف خوب توجہ ہوتی ہے کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے،اگر ان سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچ بھی جائے تو انہیں احساسِ نَدامت ہوتا ہے اور وہ توبہ کرکے اس سے فورا معافی مانگ لیتے ہیں،جبکہ کچھ اس حوالے سے غفلت کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ انہوں نے کسی کو تکلیف پہنچا دی ہے اور کئی اس بات کی خواہش تو رکھتے ہیں کہ کسی کو ان سے تکلیف نہ پہنچے لیکن معلومات کی کمی اور غیر محتاط انداز کی وجہ سے اکثر انہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ اپنی حرکات وسکنات سے دوسرے کو تکلیف میں مبتلا کرچکے ہیں۔
ہمارا پیارا مذہب اسلام ہر مسلمان کی جان،مال اور عزت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے چنانچہ حضورِ پاک،صاحبِ لَولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ حرمت نشان ہے:کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ یعنی ہر مسلمان کا خون،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
(مسلم،کتاب البر والصلۃ،باب تحریم ظلم المسلم ۔۔۔الخ،ص 1386،حدیث:3564)
مُفَسِّرِ شَہِیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے،کسی کی آبروریزی نہ کرے،کسی مسلمان کو ناحق اور ظُلمًا قتل نہ کرے،کہ یہ سب سخت جُرْم ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،جلد 6،ص 553)
مفتی صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:مسلمان کو نہ تو دل میں حقیر جانو ! نہ اُسے حقارت کے الفاظ سے پکارو ! یا بُرے لَقَب سے یاد کرو ! نہ اس کا مذاق بناؤ ! آج ہم میں یہ عیب بہت ہے،پیشوں،نسبوں،یا غربت و اِفلاس کی وجہ سے مسلمان بھائی کو حقیر جانتے ہیں کہ وہ پنجابی ہے،وہ بنگالی،وہ سندھی،وہ سرحدی،اسلام نے یہ سارے فرق مٹا دیئے۔شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس چوس لیتی ہے تو ان کا نام شہد ہوجاتا ہے۔مختلف لکڑیوں کو آگ جلا دے تو اس کا نام راکھ ہوجاتا ہے۔یوں ہی جب حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے،حبشی ہو یا رُومی !(مراٰۃ المناجیح،جلد 6،ص 553)
دامنِ مصطفیٰ سے جو لپٹا یگانہ ہوگیا
جس کے حضور ہوگئے اس کا زمانہ ہوگیا
جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی بلا اِجازتِ شرعی مسلمان کو تکلیف دینا کتنی بڑی جُرأت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اعلیٰ حضرت،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف جلد 24 صَفْحَہ 342 میں طَبَرانِی شریف کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب،حبیبِ لبیب،طبیبوں کے طبیب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:مَنْ اٰذَی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰہ۔(یعنی) جس نے (بِلاوجہِ شَرعی) کسی مسلمان کو اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے
حکایت نمبر:1
تاریخ:6 اکتوبر 2020
موضوع:نفسیاتی مریضہ بن گئی
تحریر:عبدہ المذنب سید کامران عطاری مدنی عفا عنہ الباری
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلاۃ والسلام علیک یارسول اللہ وعلی الک واصحابک یا حبیب اللہ
ایک ڈاکٹر کا بیان ہے کہ ایک خاتون اور اس کا خاوند اپنی جوان بچی کے علاج معالجے کے لئے میرے پاس آئے۔انہوں نے بتایا کہ ہماری بچی نے ایم ایس سی کیا ہوا ہے اور پورے خاندان میں ہنس مکھ،ملنسار،عقلمند مشہور تھی، ایم ایس سی کرنے کے بعد آئے روز رشتے آنا شروع ہوگئے لیکن سانولی رنگت کی وجہ سے جو لوگ بھی آتے کئی اسی وقت انکار کردیتے تو کئی فون پر معذرت کردیتے۔ رشتہ دیکھنے والے بچی کو اس انداز سے دیکھتے جیسے انہوں نے کوئی بھیڑ بکری خریدنی ہو۔ ان کے دیکھنے کے انداز،تیکھے سوالات اور پھر انکار نے ہماری پھول جیسی بچی کے دل کو ایسی ٹھیس پہنچائی کہ ہماری بچی شروع شروع میں کھوئی کھوئی رہتی پھر اس نے مکمل چپ سادھ لی ہر وقت اپنے آپ کو کمرے میں قید کیا ہوا ہے کھانا بھی زبردستی کھلانا پڑتا ہے۔ ایسی حالت کی وجہ سے ہماری بچی دن بدن کمزور ہوکر ہڈیوں کا ڈھانچا بن گئی ہے۔عاملوں کے پاس جائیں تو وہ کالے جادو کا کہہ دیتے ہیں ڈاکٹرز کے پاس جائیں تو وہ نفسیاتی مریضہ قرار دیتے ہیں،کسی بھی طریقہ علاج سے فائدہ نہیں ہو رہا۔بچی کے حالات بتاتے ہوئے دُکھیارے والدین نے رونا شروع کر دیا۔
نصیحت:ہم میں سے ہر ایک اس دنیا میں تنہا آتا ہے اور اکیلا ہی رخصت ہوتا ہے لیکن یہاں رہتا تنہا نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے،ہماری ذات سے کبھی کسی کو راحت پہنچتی ہے تو کبھی تکلیف اور کبھی کچھ بھی نہیں یعنی تکلیف نہ راحت،اگر دیگر مسلمانوں کو ہم سے راحت پہنچے گی تو نیتِ خیر ہونے کی صورت میں ہمیں اس کا ثواب ملے گا، بلا وجہِ شرعی تکلیف پہنچائیں گے تو عذاب کی حقداری ہے اور تیسری صورت میں نہ ثواب نہ عذاب۔کوشش ہونی چاہئے کہ ہم باعثِ زحمت نہیں سببِ راحت بنیں۔اس حوالے سے ہمارے رویّے مختلف ہوتے ہیں،بعض کی اس طرف خوب توجہ ہوتی ہے کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے،اگر ان سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچ بھی جائے تو انہیں احساسِ نَدامت ہوتا ہے اور وہ توبہ کرکے اس سے فورا معافی مانگ لیتے ہیں،جبکہ کچھ اس حوالے سے غفلت کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ انہوں نے کسی کو تکلیف پہنچا دی ہے اور کئی اس بات کی خواہش تو رکھتے ہیں کہ کسی کو ان سے تکلیف نہ پہنچے لیکن معلومات کی کمی اور غیر محتاط انداز کی وجہ سے اکثر انہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ اپنی حرکات وسکنات سے دوسرے کو تکلیف میں مبتلا کرچکے ہیں۔
ہمارا پیارا مذہب اسلام ہر مسلمان کی جان،مال اور عزت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے چنانچہ حضورِ پاک،صاحبِ لَولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ حرمت نشان ہے:کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ یعنی ہر مسلمان کا خون،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
(مسلم،کتاب البر والصلۃ،باب تحریم ظلم المسلم ۔۔۔الخ،ص 1386،حدیث:3564)
مُفَسِّرِ شَہِیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے،کسی کی آبروریزی نہ کرے،کسی مسلمان کو ناحق اور ظُلمًا قتل نہ کرے،کہ یہ سب سخت جُرْم ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،جلد 6،ص 553)
مفتی صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:مسلمان کو نہ تو دل میں حقیر جانو ! نہ اُسے حقارت کے الفاظ سے پکارو ! یا بُرے لَقَب سے یاد کرو ! نہ اس کا مذاق بناؤ ! آج ہم میں یہ عیب بہت ہے،پیشوں،نسبوں،یا غربت و اِفلاس کی وجہ سے مسلمان بھائی کو حقیر جانتے ہیں کہ وہ پنجابی ہے،وہ بنگالی،وہ سندھی،وہ سرحدی،اسلام نے یہ سارے فرق مٹا دیئے۔شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس چوس لیتی ہے تو ان کا نام شہد ہوجاتا ہے۔مختلف لکڑیوں کو آگ جلا دے تو اس کا نام راکھ ہوجاتا ہے۔یوں ہی جب حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے،حبشی ہو یا رُومی !(مراٰۃ المناجیح،جلد 6،ص 553)
دامنِ مصطفیٰ سے جو لپٹا یگانہ ہوگیا
جس کے حضور ہوگئے اس کا زمانہ ہوگیا
جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی بلا اِجازتِ شرعی مسلمان کو تکلیف دینا کتنی بڑی جُرأت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اعلیٰ حضرت،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف جلد 24 صَفْحَہ 342 میں طَبَرانِی شریف کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب،حبیبِ لبیب،طبیبوں کے طبیب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:مَنْ اٰذَی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰہ۔(یعنی) جس نے (بِلاوجہِ شَرعی) کسی مسلمان کو اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے
مجھے ایذا دی اُس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو اِیذا دی۔(المعجم الاوسط،جلد 3،ص 387،حدیث 3607)
اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایذا دینے والوں کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پارہ22 سورۃُ الْاَحزاب آیت 57 میں ارشاد فرماتاہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿57﴾
ترجَمۂ کنزالایمان:بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللّٰہ اور اس کے رسول کوان پر اللّٰہ کی لعنت ہے دنیا وآخرت میں اور اللّٰہ نے ان کیلئے ذلّت کا عذاب تیارکررکھا ہے۔
ذراسوچئے کہ کون سا مسلمان اس بات کو گوارہ کرے گا کہ وہ اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اِیذا دے اور جہنم کے عذاب کا مستحق قرار پائے!ہم قہرِقہّار اور غضبِ جبّار عزوجل سے اُسی کی پناہ مانگتے ہیں۔
خدایا! کسی کا نہ دل میں دکھاؤں
اماں تیرے اَبَدی عذابوں سے پاؤں
کس قدر بدترین جُرْم ہے!
حضرتِ سیدنا فُضَیل رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ کتّے اور سؤر کو بھی ناحق اِیذا (یعنی تکلیف)دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو اِیذا دینا کس قدر بدترین جُرْم ہے۔(خزائن العرفان،پ22،الاحزاب،زیرِ آیت :58)
(کتاب تکلیف نہ دیجئے از المدینۃ العلمیۃ سے اقتباس)
سمجھدار اور عقلمند کے لیے اتنی ہی نصیحت کافی ہے۔
اس سلسلے کے حوالے سے اگر آپ ہمیں کوئی مفید مشورہ دینا چاہیں یا ہمارے ساتھ مل کے دینِ اسلام کی خدمت کرنا چاہیں یا اپنے دوستوں،رشتہ داروں کو اس سلسلے میں شامل کرنا چاہیں تو اس نمبر پر وٹس اپ میسج کریں۔ شکریہ
وٹس اپ نمبر:00923155322470
طالبِ دعا: سید کامران عطاری مدنی عفی عنہ
فیس بک لنک:https://www.facebook.com/SyedKamran786
اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایذا دینے والوں کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پارہ22 سورۃُ الْاَحزاب آیت 57 میں ارشاد فرماتاہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿57﴾
ترجَمۂ کنزالایمان:بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللّٰہ اور اس کے رسول کوان پر اللّٰہ کی لعنت ہے دنیا وآخرت میں اور اللّٰہ نے ان کیلئے ذلّت کا عذاب تیارکررکھا ہے۔
ذراسوچئے کہ کون سا مسلمان اس بات کو گوارہ کرے گا کہ وہ اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اِیذا دے اور جہنم کے عذاب کا مستحق قرار پائے!ہم قہرِقہّار اور غضبِ جبّار عزوجل سے اُسی کی پناہ مانگتے ہیں۔
خدایا! کسی کا نہ دل میں دکھاؤں
اماں تیرے اَبَدی عذابوں سے پاؤں
کس قدر بدترین جُرْم ہے!
حضرتِ سیدنا فُضَیل رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ کتّے اور سؤر کو بھی ناحق اِیذا (یعنی تکلیف)دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو اِیذا دینا کس قدر بدترین جُرْم ہے۔(خزائن العرفان،پ22،الاحزاب،زیرِ آیت :58)
(کتاب تکلیف نہ دیجئے از المدینۃ العلمیۃ سے اقتباس)
سمجھدار اور عقلمند کے لیے اتنی ہی نصیحت کافی ہے۔
اس سلسلے کے حوالے سے اگر آپ ہمیں کوئی مفید مشورہ دینا چاہیں یا ہمارے ساتھ مل کے دینِ اسلام کی خدمت کرنا چاہیں یا اپنے دوستوں،رشتہ داروں کو اس سلسلے میں شامل کرنا چاہیں تو اس نمبر پر وٹس اپ میسج کریں۔ شکریہ
وٹس اپ نمبر:00923155322470
طالبِ دعا: سید کامران عطاری مدنی عفی عنہ
فیس بک لنک:https://www.facebook.com/SyedKamran786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ASLAM NABEEL AZHARI
*امام ابو حنیفہ حدیث کے بھی امام اعظم تھے*.
مخالفین ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ :
"امام ابو حنیفہ کے پاس ذخیرۂ حدیث کی کمی تھی".
جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی تصانیف میں ذکر کردہ ستر ہزار(70000) سے زیادہ احادیث اور ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے فقہ حنفی کے مسائل، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں، کہ امام ابو حنیفہ کے پاس بڑی مقدار میں احادیث کریمہ موجود تھیں۔
ہم اس مختصر تحریر میں اس موضوع سے متعلق کوئی تفصیلی گفتگو نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ سر دست ہم صرف چند حوالے پیش کرتے ہیں؛ جن سے امام الائمہ، کاشف الغمہ، امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا کثیر الحدیث ہونا بخوبی معلوم ہوجائے گا۔
*---پہلا حوالہ---*
*امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک نشست میں تین سو حدیثیں زبانی سنادیں۔*
امام عبد اللہ بن فروخ فارسی مالکی (م ١٧٦/ھ) فرماتے ہیں:
کہ ایک دن میں امام ابو حنیفہ کے ساتھ آپ کے گھر بیٹھا ہوا تھا، اچانک گھر کی چھت سے ایک اینٹ گری اور میرا سر زخمی ہو گیا؛ امام ابو حنیفہ نے فرمایا: " اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس چوٹ کی دیت (خون بہا) دے دوں ، یا آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کے بدلے تین سو (300) حدیثیں سنا دوں؛ تو علامہ عبد اللہ بن فروخ نے کہا : مجھےحدیثیں سنا دیجیئے!
امام اعظم نے ان کو تین سو احادیث سنا دیں۔
(ریاض النفوس،از علامہ ابوبکر مالکی صفحہ١٨١/ مطبوعہ دار الغرب الاسلامی بیروت)۔
(ترتیب المدارک، از امام قاضی عیاض مالکی، ج٣/، ص١٠٩/ مطبوعہ وزارۃ الاوقاف، المغرب) ۔
*-- دوسرا حوالہ --*
*امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گھر بھر کر حدیث کی کتابیں تھیں*.
علامہ سید مرتضی حسینی بلگرامی، زبیدی رحمۃ اللہ علیہ(م ١٢٠٥/ھ)" عقود الجواھر المنیفۃ فی أدلۃ مذھب الامام أبی حنیفۃ" میں رقم طراز ہیں : کہ یحی بن نصر فرماتے ہیں: کہ میں نے (امام) ابوحنیفہ سے ایک گھر میں ملاقات کی جو کتابوں سے بھرا ہوا تھا؛ میں نے کہا: یہ کیسی کتابیں ہیں؟، آپ نے فرمایا : "یہ سب حدیثیں ہیں، میں نے ان میں سے صرف اتنی حدیثیں لوگوں کو سنائی ہیں؛ جن سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے".
(عقود الجواھر المنیفۃ، از علامہ مرتضی حسنی زبیدی، ج١/ ص٨٠/ مطبوعہ،الجامعۃ الاشرفیۃ، مبارکپور، اعظم گڑھ)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دو درجن حدیث کی کتابیں نہیں تھیں، بلکہ آپ کے پاس اتنی زیادہ کتابیں تھیں کہ ان سے پورا گھر بھرا ہوا تھا۔
کیا اس کے بعد بھی کسی کو یہ کہنے کا حق ہے کہ آپ کے پاس ذخیرۂ حدیث کی کمی تھی!!
*--- تیسرا حوالہ---*
*امام اعظم ابو حنیفہ کو پانچ لاکھ (500000)سے زیادہ احادیث زبانی یاد تھیں*
ابن تیمیہ کے شاگرد ، علامہ ابن القیم (م٧٥١/ھ) "اعلام الموقعین" میں لکھتے ہیں:
کہ ایک شخص نےحضرت امام احمد بن حنبل(م٢٤١/ھ) رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص ایک لاکھ (100000)احادیث یاد کرلے تو کیا وہ فقیہ بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا:نہیں۔
اس نے کہا: تو کیا دو لاکھ(200000) سے بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا: نہیں۔
اس نے کہا: کیا تین لاکھ(300000) سے بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا: نہیں۔
اس نے کہا: تو کیا چار لاکھ(400000) احادیث سے فقیہ بن جائے گا؟.
آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرما: اب وہ لوگوں کو فتوی دینے کے لائق ہو سکتا ہے۔
(اعلام الموقعین از ابن قیم الجوزیۃ، ج١/ص ٤٥/ مطبعۃ السعادۃ، مصر)۔
(امام احمد بن حنبل سے ایک روایت پانچ لاکھ کی بھی ہے).
اسی طرح کا سوال امام الجرح والتعدیل حضرت یحی بن معین (تلمیذ امام محمد، استاذ امام بخاری ) رحمۃ اللہ علیہ (م٢٣٣/ھ) سے بھی کیا گیا تھا ، تین مرتبہ آپ نے فتوی دینے سے منع کیا، سائل نے چوتھی مرتبہ آپ سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص پانچ لاکھ (500000) احادیث یاد کرنے کے بعد فتوی دے سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ اب وہ فتوی دے سکتا ہے۔
( الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع ، از علامہ احمد بن خطیب بغدادی، ج٢/ ص ١٧٤/ مطبوعہ مکتبۃ المعارف ریاض۔)
امامین جلیلین احمد بن حنبل، یحی بن معین علیہما الرحمۃ کے مذکورہ اقوال سے پتا چلا کہ ایک ادنی مجتہد کے لیے چار یا پانچ لاکھ احادیث کا مجموعہ یاد ہونا ضروری ہے، اس سے کم میں اس کو فتوی دینا یا اجتہاد کرنا جائز نہیں؛ تو جس ہستی کو امام سفیان ثوری،امام دار الہجرت امام مالک، امام شافعی، امام عبد اللہ بن مبارک جیسے جلیل القدر ائمۂ اسلام، بحر تحقیق کے شناور، حزم واحتیاط کے اساطین نے مجتہد ہی نہیں بلکہ امام المجتہدین تسلیم کیا ہو، اور کبھی "إنه أفقه أهل الأرض" اورکبھی "إنه لفقيه "، کبھی"الفقهاء في الفقه عيال على أبي حنيفة "، کبھی"أفقه الناس " کہہ کر ان کی مجتہدانہ شان کو بیان کیا ہو، اس بابرکت ہستی کو کتنی احادیث ازبر ہوں گی؟ اس کا اندازہ لگاپانا مشکل امر ہے۔
*ایک ضروری بات کی وضاحت!*
یہ جو اوپر بیان ہوا کہ مجتہد کے لیے کم از کم چار یا پانچ لاکھ احادیث یاد
ہونا ضروری ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ک
مخالفین ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ :
"امام ابو حنیفہ کے پاس ذخیرۂ حدیث کی کمی تھی".
جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی تصانیف میں ذکر کردہ ستر ہزار(70000) سے زیادہ احادیث اور ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے فقہ حنفی کے مسائل، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں، کہ امام ابو حنیفہ کے پاس بڑی مقدار میں احادیث کریمہ موجود تھیں۔
ہم اس مختصر تحریر میں اس موضوع سے متعلق کوئی تفصیلی گفتگو نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ سر دست ہم صرف چند حوالے پیش کرتے ہیں؛ جن سے امام الائمہ، کاشف الغمہ، امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا کثیر الحدیث ہونا بخوبی معلوم ہوجائے گا۔
*---پہلا حوالہ---*
*امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک نشست میں تین سو حدیثیں زبانی سنادیں۔*
امام عبد اللہ بن فروخ فارسی مالکی (م ١٧٦/ھ) فرماتے ہیں:
کہ ایک دن میں امام ابو حنیفہ کے ساتھ آپ کے گھر بیٹھا ہوا تھا، اچانک گھر کی چھت سے ایک اینٹ گری اور میرا سر زخمی ہو گیا؛ امام ابو حنیفہ نے فرمایا: " اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس چوٹ کی دیت (خون بہا) دے دوں ، یا آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کے بدلے تین سو (300) حدیثیں سنا دوں؛ تو علامہ عبد اللہ بن فروخ نے کہا : مجھےحدیثیں سنا دیجیئے!
امام اعظم نے ان کو تین سو احادیث سنا دیں۔
(ریاض النفوس،از علامہ ابوبکر مالکی صفحہ١٨١/ مطبوعہ دار الغرب الاسلامی بیروت)۔
(ترتیب المدارک، از امام قاضی عیاض مالکی، ج٣/، ص١٠٩/ مطبوعہ وزارۃ الاوقاف، المغرب) ۔
*-- دوسرا حوالہ --*
*امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گھر بھر کر حدیث کی کتابیں تھیں*.
علامہ سید مرتضی حسینی بلگرامی، زبیدی رحمۃ اللہ علیہ(م ١٢٠٥/ھ)" عقود الجواھر المنیفۃ فی أدلۃ مذھب الامام أبی حنیفۃ" میں رقم طراز ہیں : کہ یحی بن نصر فرماتے ہیں: کہ میں نے (امام) ابوحنیفہ سے ایک گھر میں ملاقات کی جو کتابوں سے بھرا ہوا تھا؛ میں نے کہا: یہ کیسی کتابیں ہیں؟، آپ نے فرمایا : "یہ سب حدیثیں ہیں، میں نے ان میں سے صرف اتنی حدیثیں لوگوں کو سنائی ہیں؛ جن سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے".
(عقود الجواھر المنیفۃ، از علامہ مرتضی حسنی زبیدی، ج١/ ص٨٠/ مطبوعہ،الجامعۃ الاشرفیۃ، مبارکپور، اعظم گڑھ)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دو درجن حدیث کی کتابیں نہیں تھیں، بلکہ آپ کے پاس اتنی زیادہ کتابیں تھیں کہ ان سے پورا گھر بھرا ہوا تھا۔
کیا اس کے بعد بھی کسی کو یہ کہنے کا حق ہے کہ آپ کے پاس ذخیرۂ حدیث کی کمی تھی!!
*--- تیسرا حوالہ---*
*امام اعظم ابو حنیفہ کو پانچ لاکھ (500000)سے زیادہ احادیث زبانی یاد تھیں*
ابن تیمیہ کے شاگرد ، علامہ ابن القیم (م٧٥١/ھ) "اعلام الموقعین" میں لکھتے ہیں:
کہ ایک شخص نےحضرت امام احمد بن حنبل(م٢٤١/ھ) رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص ایک لاکھ (100000)احادیث یاد کرلے تو کیا وہ فقیہ بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا:نہیں۔
اس نے کہا: تو کیا دو لاکھ(200000) سے بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا: نہیں۔
اس نے کہا: کیا تین لاکھ(300000) سے بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا: نہیں۔
اس نے کہا: تو کیا چار لاکھ(400000) احادیث سے فقیہ بن جائے گا؟.
آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرما: اب وہ لوگوں کو فتوی دینے کے لائق ہو سکتا ہے۔
(اعلام الموقعین از ابن قیم الجوزیۃ، ج١/ص ٤٥/ مطبعۃ السعادۃ، مصر)۔
(امام احمد بن حنبل سے ایک روایت پانچ لاکھ کی بھی ہے).
اسی طرح کا سوال امام الجرح والتعدیل حضرت یحی بن معین (تلمیذ امام محمد، استاذ امام بخاری ) رحمۃ اللہ علیہ (م٢٣٣/ھ) سے بھی کیا گیا تھا ، تین مرتبہ آپ نے فتوی دینے سے منع کیا، سائل نے چوتھی مرتبہ آپ سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص پانچ لاکھ (500000) احادیث یاد کرنے کے بعد فتوی دے سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ اب وہ فتوی دے سکتا ہے۔
( الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع ، از علامہ احمد بن خطیب بغدادی، ج٢/ ص ١٧٤/ مطبوعہ مکتبۃ المعارف ریاض۔)
امامین جلیلین احمد بن حنبل، یحی بن معین علیہما الرحمۃ کے مذکورہ اقوال سے پتا چلا کہ ایک ادنی مجتہد کے لیے چار یا پانچ لاکھ احادیث کا مجموعہ یاد ہونا ضروری ہے، اس سے کم میں اس کو فتوی دینا یا اجتہاد کرنا جائز نہیں؛ تو جس ہستی کو امام سفیان ثوری،امام دار الہجرت امام مالک، امام شافعی، امام عبد اللہ بن مبارک جیسے جلیل القدر ائمۂ اسلام، بحر تحقیق کے شناور، حزم واحتیاط کے اساطین نے مجتہد ہی نہیں بلکہ امام المجتہدین تسلیم کیا ہو، اور کبھی "إنه أفقه أهل الأرض" اورکبھی "إنه لفقيه "، کبھی"الفقهاء في الفقه عيال على أبي حنيفة "، کبھی"أفقه الناس " کہہ کر ان کی مجتہدانہ شان کو بیان کیا ہو، اس بابرکت ہستی کو کتنی احادیث ازبر ہوں گی؟ اس کا اندازہ لگاپانا مشکل امر ہے۔
*ایک ضروری بات کی وضاحت!*
یہ جو اوپر بیان ہوا کہ مجتہد کے لیے کم از کم چار یا پانچ لاکھ احادیث یاد
ہونا ضروری ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ک
Forwarded from ASLAM NABEEL AZHARI
ہ احادیث کی صرف اتنی مقدار حفظ کرنے سے وہ درجۂ اجتہاد پر فائز ہوجائے گا۔
بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنی حدیثیں یاد کرنے کے ساتھ دوسرے علوم و فنون میں بھی مہارت رکھتا ہو۔
علمائے اصول نے اپنی تصنیفات میں مجتہد کی چند شرطیں ذکر کی ہیں، جن کے تحقق کے بغیر بندہ مجتہد نہیں ہو سکتا۔
طوالت سے بچتے ہوئے ہم ذیل میں حافظ مشرق، علامہ خطیب بغدادی ( م ٤٦٣/ ھ) کی کتاب"الفقیہ والمتفقہ " سے ان شرائط کا ذکر مناسب سمجھتے ہیں؛ جن کو علامہ خطیب نے حضرت امام شافعی علیہ الرحمۃ سے روایت کیا ہے۔
امام شافعی نے فرمایا ہے کہ: مجتہد کو مندرجہ ذیل صفات سے متصف ہونا لازمی ہے؛ کہ جن کے بغیر کوئی شخص رتبۂ اجتہاد پر متمکن نہیں ہوسکتا، وہ صفات یہ ہیں:
(١)کتاب اللہ ( قرآن مجید)کے ناسخ و منسوخ، محکم ومتشابہ، تاویل وتنزیل، مکی ومدنی، نیز ان کی مراد، شان نزول کا علم رکھتا ہو۔
(علامہ احمد قسطلانی کے بقول مجتہد کا قرآن مجید کی مختلف قراءتوں سے واقف ہونا بھی ضروری ہے)
(٢) ناسخ و منسوخ احادیث کا علم اور احادیث سے متعلق ان امور کا علم رکھتاہو؛ جن کا ذکر کتاب اللہ کی شرط میں گذرا۔
(٣) لغات عرب، اشعار عرب اور ان چیزوں سے خوب اچھی طرح واقف ہو جن کی قرآن وحدیث سمجھنے میں ضرورت پیش آتی ہے۔
(٤) انصاف پسند ہو۔
(٥)قلیل الکلام ہو۔
(٦) فقہا کے اختلاف سے واقفیت رکھتا ہو۔
(٧) "فقیہ النفس"ہو۔
(فقیہ النفس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطری طور پر مقاصد کلام کو اچھی طرح سمجھنے والا ہو ) ۔
فقیہ النفس ہونا ایسی صفت ہے؛ جو انسان کو اپنے کسب سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ صفت عطائی ہوتی ہے۔
( الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی، ج٢/ ص ١٥٧/ ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)۔
حافظ مغرب، علامہ یوسف بن عبد اللہ بن عبد البر مالکی، قرطبی علیہ الرحمۃ ( م ٤٦٣/ ھ) نے "جامع بیان العلم وفضلہ" میں شروط مذکورہ پر کچھ شرطوں کا اضافہ کیا ہے، جو درج ذیل ہیں۔
(٨) سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمیق مطالعہ ہو۔
(٩) حدیث روایت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے احوال سے واقف ہو۔
(١٠) علم اسماۓ الرجال سے واقفیت ہو۔
(١١) مذکورہ اوصاف کے ساتھ عمل صالح، زہد و تقویٰ سے آراستہ ہو۔
(جامع بیان العلم وفضلہ، از علامہ ابن عبد البر مالکی، ج ٢/ ص ١٦٦/ مطبوعہ بیروت)۔
اس مختصر تحریر سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوگئی کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ دوسرے ائمۂ اسلام کی مانند فقہ و حدیث دونوں میں بلند ترین مقام پر فائز تھے؛ مخالفین عصبیت اور اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے امام ہمام کے رتبے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی عظمت کو سمجھنے کے لیے تعصب کی عینک اتارنا ضروری ہے، کیوں کہ:
قد تنكر العين ضوء الشمس من رمد
وينكر الفم طعم الماءِ من ســــــقم.
کبھی آنکھ آشوب چشم کی وجہ سے آفتاب کی روشنی کا ہی انکار کر دیتی ہے۔
اور منھ بیماری کے سبب پانی کے ذائقے کا منکر ہوجاتا ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بحر علم و فضل سے سیرابی کی توفیق مرحمت فرمائے۔
____تحریر :
*محمد اسلم نبیل ازہری*،
استاذ جامعہ احسن البرکات،
خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ، ایٹہ۔
٦/ اکتوبر ٢٠٢٠/ ء
موبائل: 9639671905
بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنی حدیثیں یاد کرنے کے ساتھ دوسرے علوم و فنون میں بھی مہارت رکھتا ہو۔
علمائے اصول نے اپنی تصنیفات میں مجتہد کی چند شرطیں ذکر کی ہیں، جن کے تحقق کے بغیر بندہ مجتہد نہیں ہو سکتا۔
طوالت سے بچتے ہوئے ہم ذیل میں حافظ مشرق، علامہ خطیب بغدادی ( م ٤٦٣/ ھ) کی کتاب"الفقیہ والمتفقہ " سے ان شرائط کا ذکر مناسب سمجھتے ہیں؛ جن کو علامہ خطیب نے حضرت امام شافعی علیہ الرحمۃ سے روایت کیا ہے۔
امام شافعی نے فرمایا ہے کہ: مجتہد کو مندرجہ ذیل صفات سے متصف ہونا لازمی ہے؛ کہ جن کے بغیر کوئی شخص رتبۂ اجتہاد پر متمکن نہیں ہوسکتا، وہ صفات یہ ہیں:
(١)کتاب اللہ ( قرآن مجید)کے ناسخ و منسوخ، محکم ومتشابہ، تاویل وتنزیل، مکی ومدنی، نیز ان کی مراد، شان نزول کا علم رکھتا ہو۔
(علامہ احمد قسطلانی کے بقول مجتہد کا قرآن مجید کی مختلف قراءتوں سے واقف ہونا بھی ضروری ہے)
(٢) ناسخ و منسوخ احادیث کا علم اور احادیث سے متعلق ان امور کا علم رکھتاہو؛ جن کا ذکر کتاب اللہ کی شرط میں گذرا۔
(٣) لغات عرب، اشعار عرب اور ان چیزوں سے خوب اچھی طرح واقف ہو جن کی قرآن وحدیث سمجھنے میں ضرورت پیش آتی ہے۔
(٤) انصاف پسند ہو۔
(٥)قلیل الکلام ہو۔
(٦) فقہا کے اختلاف سے واقفیت رکھتا ہو۔
(٧) "فقیہ النفس"ہو۔
(فقیہ النفس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطری طور پر مقاصد کلام کو اچھی طرح سمجھنے والا ہو ) ۔
فقیہ النفس ہونا ایسی صفت ہے؛ جو انسان کو اپنے کسب سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ صفت عطائی ہوتی ہے۔
( الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی، ج٢/ ص ١٥٧/ ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)۔
حافظ مغرب، علامہ یوسف بن عبد اللہ بن عبد البر مالکی، قرطبی علیہ الرحمۃ ( م ٤٦٣/ ھ) نے "جامع بیان العلم وفضلہ" میں شروط مذکورہ پر کچھ شرطوں کا اضافہ کیا ہے، جو درج ذیل ہیں۔
(٨) سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمیق مطالعہ ہو۔
(٩) حدیث روایت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے احوال سے واقف ہو۔
(١٠) علم اسماۓ الرجال سے واقفیت ہو۔
(١١) مذکورہ اوصاف کے ساتھ عمل صالح، زہد و تقویٰ سے آراستہ ہو۔
(جامع بیان العلم وفضلہ، از علامہ ابن عبد البر مالکی، ج ٢/ ص ١٦٦/ مطبوعہ بیروت)۔
اس مختصر تحریر سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوگئی کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ دوسرے ائمۂ اسلام کی مانند فقہ و حدیث دونوں میں بلند ترین مقام پر فائز تھے؛ مخالفین عصبیت اور اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے امام ہمام کے رتبے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی عظمت کو سمجھنے کے لیے تعصب کی عینک اتارنا ضروری ہے، کیوں کہ:
قد تنكر العين ضوء الشمس من رمد
وينكر الفم طعم الماءِ من ســــــقم.
کبھی آنکھ آشوب چشم کی وجہ سے آفتاب کی روشنی کا ہی انکار کر دیتی ہے۔
اور منھ بیماری کے سبب پانی کے ذائقے کا منکر ہوجاتا ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بحر علم و فضل سے سیرابی کی توفیق مرحمت فرمائے۔
____تحریر :
*محمد اسلم نبیل ازہری*،
استاذ جامعہ احسن البرکات،
خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ، ایٹہ۔
٦/ اکتوبر ٢٠٢٠/ ء
موبائل: 9639671905
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*مظہر اعلی حضرت حضور شیر بیشہ اہلسنت کا جذبہ اخلاص ومحبت*
آج مورخہ ۴صفر المظفر ١۴۴١ ھجری مطابق 4ستمبر 2019 بروز جمعة المبارکہ بعد نماز جمعہ عطائے شیر سنت خلیفہ حضور تاج الشریعہ مناظر اہلسنت سیف رضا حضرت علامہ ومولانا الحاج الشاہ *عبد المصطفے* صاحب قبلہ صدیقی حشمتی ردولوی سے ملاقات کیلئے علماء کرام کی ایک جماعت تشریف لائی
جس میں خصوصیت کیساتھ
خلیفہ حضور تاج الشریعہ استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا *احمد رضا خان* صاحب قبلہ رضوی مصباحی نظامی سابق شیخ الحدیث دارلعلوم غوث اعظم پوربندر گجرات
شیخ المعقولات والمنقولات حضرت علامہ مولانا *عبد القیوم* صاحب قبلہ مصباحی رضوی شیخ الحدیث دارالعلوم محمود الاسلام پربھاس پاٹن گجرات
و
ماہر علوم عربیہ ادیب ذی وقار حضرت علامہ ومولانا *محمد انجم* صاحب قبلہ رضوی مصباحی
صدرالمدرسین دارالعلوم منظر حق ٹانڈہ امبیڈکر نگر قابل ذکر ہیں
تھوڑی دیر علماء کرام کا یہ نورانی قافلہ قدیم دارالعلوم مخدومیہ میں حضور سیف رضا کے قیام گاہ میں جلوہ فگن رہا جس میں حضور مناظر اہلسنت نے حضور شیربیشہ اہلسنت کا ایک واقعہ سنایا جس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور آج کے پیران عظام وعلماء کرام کیلئے ایک عظیم اسوہ بھی ہے جس سے آپسی محبت اور ایک دوسرے کی تعظیم کا سبق ملتا ہے
حضور سیف رضا کے نانا جان جو کہ اللہ کے ایک ولی تھے اور آپ حکیم وقت اور حضور شیر بیشہ اہلسنت کے خلیفہ بھی تھے گونڈہ ضلع بالخصوص سعداللہ نگر وبستی ضلع کے علاقوں میں حضور شیر بیشہ اہلسنت کے جو قدم پڑے یہ صوفی صاحب علیہ الرحمہ کی ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے ایک مرتبہ کا واقعہ ہیکہ
حضور شیرسنت کی محفل میں شاہ صاحب یعنی حضور شعیب الاولیاء صاحب قبلہ،سید عبدالسبحان صاحب قبلہ وصوفی حکیم حیات علی صاحب قبلہ علیہم الرحمة والرضوان موجود تھے ایک صاحب کے کافی اصرار کرنے پہ جوکہ تعویذ کیلئے آئے تھے آپ نے تعویذ بنائی اور حکم دیا کہ شاہ صاحب سے دم کروا لو سید صاحب کو دیا کہ آپ اپنے ہاتھ سے ملفوف فرما دیں اور صوفی صاحب سے فرمایا کہ آپ اپنے ہاتھ سے عنایت فرما دیں اس شخص کے جانے کے بعد کسی نے پوچھا کہ حضرت یہ سارے کام آپ از خود ایک لمحے میں کر سکتے تھے پھر سبھوں کو کیوں زحمت دی تو آپ نے ایک تاریخی جواب عنایت فرمایا کہ اللہ رب العزت ہم میں سے کسی کی بھی کاوش کو قبول فرمالے (خواہ میرا تعویذ بنانا یا پھر شاہ صاحب کا دم کرنا اور سید صاحب کا ملفوف فرمانا یا پھر صوفی صاحب کا اپنے ہاتھوں سے عطاء کرنا) اور اس تعویذ کو اس کے حق میں بہتر فرمائے تو اس کا عقیدہ اور اس کی عقیدت ومحبت سب سے برابر رہے اور علماء کرام کے بارے میں نیک خواہشا ت رکھے
سبحان اللہ الحمد لللہ یہ ہے در امام اہلسنت سیدی سرکار اعلی حضرت کے پروردہ کا طریقہ تبلیغ دین
اور آج کے پیروں کا حال یہ ہیکہ اگر دوسرا اپنا بھائی ہی پیر ہو تو اپنے مریدوں کی رسائی وہاں برداشت نہیں کرتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے متاثر ہو جائے الا ماشاء اللہ
اللہ خیر فرمائے اور اہلسنت میں ہمارے اکابرین کی طرح محبت واخوت کیساتھ تبلیغ دین کا جذبہ عطاء فرمائے
پھر حضرت کے قیام گاہ سے یہ نورانی قافلہ جدید دارالعلوم مخدومیہ کی طرف روانہ ہوا وسط راہ میں حضور شاہ سمناں علیہ الرحمة والرضوان کے خلیفہ شیخ صفی الدین علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار پہ حاضر ہوا راستے میں دارالعلوم مخدومیہ کے ایک موقر استاذ ماہر سیرت شخصیات زینة الدرس والتدریس حضرت علامہ ومولانا مصطفے رضا صاحب قبلہ قادری برکاتی مصباحی کی موجودگی میں آپ حضرات نے مناظر اہلسنت اور آپ کے ادارے کے تعلق سے بڑے اچھے خوش کن اور حوصلہ افزا تاثرات پیش کئے خصوصیت کیساتھ استاذ العلماء حضرت علامہ احمد رضا قبلہ نے فرمایا کہ میں حضرت کو اب تک فقط ایک مقرر کی ہی حیثیت سے جانتا تھا لیکن یہاں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت کے ذریعہ یہاں تین تین ادارے مسلک اعلی حضرت کی ترویج واشاعت میں عظیم کردار ادا کر رہے ہیں ،تشنگان علوم نبویہ کی پیاس بجھاتے ہیں اور سنیت کی بقاء وحفاظت کیلئے کئی مسجدیں حضرت نے بنوائی ہیں اور بہت سے مدارس ومساجد کی سرپرستی ونگرانی فرماتے ہیں اللہ رب العزت حضرت کی عمر میں بے پناہ برکتیں عطاء فرمائے
وقت کی قلت دامن گیر تھی وگر نہ آپ حضرات کے کلمات خیر سے ادارے کے طلبہ بھی مستفید ہوتے
اللہ رب العزت ہمارے ان علماء کرام کا سایہ تادیر قائم فرمائے
*محمد فیضان رضا اشرفی*
استاذ شعبہ حفظ دارالعلوم مخدومیہ ردولی شریف
آج مورخہ ۴صفر المظفر ١۴۴١ ھجری مطابق 4ستمبر 2019 بروز جمعة المبارکہ بعد نماز جمعہ عطائے شیر سنت خلیفہ حضور تاج الشریعہ مناظر اہلسنت سیف رضا حضرت علامہ ومولانا الحاج الشاہ *عبد المصطفے* صاحب قبلہ صدیقی حشمتی ردولوی سے ملاقات کیلئے علماء کرام کی ایک جماعت تشریف لائی
جس میں خصوصیت کیساتھ
خلیفہ حضور تاج الشریعہ استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا *احمد رضا خان* صاحب قبلہ رضوی مصباحی نظامی سابق شیخ الحدیث دارلعلوم غوث اعظم پوربندر گجرات
شیخ المعقولات والمنقولات حضرت علامہ مولانا *عبد القیوم* صاحب قبلہ مصباحی رضوی شیخ الحدیث دارالعلوم محمود الاسلام پربھاس پاٹن گجرات
و
ماہر علوم عربیہ ادیب ذی وقار حضرت علامہ ومولانا *محمد انجم* صاحب قبلہ رضوی مصباحی
صدرالمدرسین دارالعلوم منظر حق ٹانڈہ امبیڈکر نگر قابل ذکر ہیں
تھوڑی دیر علماء کرام کا یہ نورانی قافلہ قدیم دارالعلوم مخدومیہ میں حضور سیف رضا کے قیام گاہ میں جلوہ فگن رہا جس میں حضور مناظر اہلسنت نے حضور شیربیشہ اہلسنت کا ایک واقعہ سنایا جس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور آج کے پیران عظام وعلماء کرام کیلئے ایک عظیم اسوہ بھی ہے جس سے آپسی محبت اور ایک دوسرے کی تعظیم کا سبق ملتا ہے
حضور سیف رضا کے نانا جان جو کہ اللہ کے ایک ولی تھے اور آپ حکیم وقت اور حضور شیر بیشہ اہلسنت کے خلیفہ بھی تھے گونڈہ ضلع بالخصوص سعداللہ نگر وبستی ضلع کے علاقوں میں حضور شیر بیشہ اہلسنت کے جو قدم پڑے یہ صوفی صاحب علیہ الرحمہ کی ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے ایک مرتبہ کا واقعہ ہیکہ
حضور شیرسنت کی محفل میں شاہ صاحب یعنی حضور شعیب الاولیاء صاحب قبلہ،سید عبدالسبحان صاحب قبلہ وصوفی حکیم حیات علی صاحب قبلہ علیہم الرحمة والرضوان موجود تھے ایک صاحب کے کافی اصرار کرنے پہ جوکہ تعویذ کیلئے آئے تھے آپ نے تعویذ بنائی اور حکم دیا کہ شاہ صاحب سے دم کروا لو سید صاحب کو دیا کہ آپ اپنے ہاتھ سے ملفوف فرما دیں اور صوفی صاحب سے فرمایا کہ آپ اپنے ہاتھ سے عنایت فرما دیں اس شخص کے جانے کے بعد کسی نے پوچھا کہ حضرت یہ سارے کام آپ از خود ایک لمحے میں کر سکتے تھے پھر سبھوں کو کیوں زحمت دی تو آپ نے ایک تاریخی جواب عنایت فرمایا کہ اللہ رب العزت ہم میں سے کسی کی بھی کاوش کو قبول فرمالے (خواہ میرا تعویذ بنانا یا پھر شاہ صاحب کا دم کرنا اور سید صاحب کا ملفوف فرمانا یا پھر صوفی صاحب کا اپنے ہاتھوں سے عطاء کرنا) اور اس تعویذ کو اس کے حق میں بہتر فرمائے تو اس کا عقیدہ اور اس کی عقیدت ومحبت سب سے برابر رہے اور علماء کرام کے بارے میں نیک خواہشا ت رکھے
سبحان اللہ الحمد لللہ یہ ہے در امام اہلسنت سیدی سرکار اعلی حضرت کے پروردہ کا طریقہ تبلیغ دین
اور آج کے پیروں کا حال یہ ہیکہ اگر دوسرا اپنا بھائی ہی پیر ہو تو اپنے مریدوں کی رسائی وہاں برداشت نہیں کرتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے متاثر ہو جائے الا ماشاء اللہ
اللہ خیر فرمائے اور اہلسنت میں ہمارے اکابرین کی طرح محبت واخوت کیساتھ تبلیغ دین کا جذبہ عطاء فرمائے
پھر حضرت کے قیام گاہ سے یہ نورانی قافلہ جدید دارالعلوم مخدومیہ کی طرف روانہ ہوا وسط راہ میں حضور شاہ سمناں علیہ الرحمة والرضوان کے خلیفہ شیخ صفی الدین علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار پہ حاضر ہوا راستے میں دارالعلوم مخدومیہ کے ایک موقر استاذ ماہر سیرت شخصیات زینة الدرس والتدریس حضرت علامہ ومولانا مصطفے رضا صاحب قبلہ قادری برکاتی مصباحی کی موجودگی میں آپ حضرات نے مناظر اہلسنت اور آپ کے ادارے کے تعلق سے بڑے اچھے خوش کن اور حوصلہ افزا تاثرات پیش کئے خصوصیت کیساتھ استاذ العلماء حضرت علامہ احمد رضا قبلہ نے فرمایا کہ میں حضرت کو اب تک فقط ایک مقرر کی ہی حیثیت سے جانتا تھا لیکن یہاں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت کے ذریعہ یہاں تین تین ادارے مسلک اعلی حضرت کی ترویج واشاعت میں عظیم کردار ادا کر رہے ہیں ،تشنگان علوم نبویہ کی پیاس بجھاتے ہیں اور سنیت کی بقاء وحفاظت کیلئے کئی مسجدیں حضرت نے بنوائی ہیں اور بہت سے مدارس ومساجد کی سرپرستی ونگرانی فرماتے ہیں اللہ رب العزت حضرت کی عمر میں بے پناہ برکتیں عطاء فرمائے
وقت کی قلت دامن گیر تھی وگر نہ آپ حضرات کے کلمات خیر سے ادارے کے طلبہ بھی مستفید ہوتے
اللہ رب العزت ہمارے ان علماء کرام کا سایہ تادیر قائم فرمائے
*محمد فیضان رضا اشرفی*
استاذ شعبہ حفظ دارالعلوم مخدومیہ ردولی شریف
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کاغذی ثبوت Documents
1۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے ایک لاکھ روپیہ مانگا، میں نے کہا ٹھیک ہے ایک لاکھ دے دیتا ہوں لیکن پیسہ لیتے وقت دو گواہ ہوں گے اوراسٹامپ پیپر پر لکھ کر بھی دینا ہو گا۔
اُس نے کہا مجھ پر یقین نہیں ہے،
میں نے کہا بالکل ہے مگر شریعت کے مطابق قانونی کاروائی ضروری ہے۔
وہ مجھ سے ناراض ہو گیا، میں نے منانے کے لئے اُسے کہا کہ میں مذاق کر رہا تھا حالانکہ میں نے مذاق نہیں کیا تھا،
خیر میں نے اُسے گواہوں اور کاغذی کاروائی کے بغیر ایک لاکھ دے دیا۔
2۔ دو سال ہوگئے میرے دوست نے پیسے واپس نہیں کئے،
میں نے مانگے تو کہنے لگا میں نے تو واپس کر دیئے تھے۔
میں نے کہا کہ جھوٹ بولتے ہو تو غصے سے کہنے لگا کہ تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو۔
کوئی گواہ ہے تمہارے پاس، کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو۔
3۔ میرے کچھ دوست بڑے بد قماش تھے، وہ بھی میرے پاس آ گئے اورکہنے لگے ہمیں 20 ہزار خرچہ پانی دو ہم تمہیں اُس سے پیسے لے کر دیتے ہیں اور یہ ایک نئی پریشانی تھی۔
4۔ میں تھانے میں گیا اور کہاکہ میرے دوست نے مجھ سے ایک لاکھ لیا تھا مگر واپس نہیں کر رہا، انہوں نے کہا کوئی ثبوت یا گواہ۔
میں نے کہا کوئی نہیں۔
تھانے دار نے کہا کہ بینک میں پیسے جمع کرواتے ہو تو رسید دیتے ہیں،
لینے جاتے ہیں تورسید دیتے ہیں۔
سارے مسلمان ہی ہیں کیوں رسید مانگتے اور دیتے ہیں۔
اسلئے کہ قانونی کاروائی ضروری ہے۔آپ جھوٹے ہو ورنہ ثبوت لاؤ۔
5۔ تنگ آ کر میں نے بھی دو جھوٹے گواہ تیار کئے اور اُن کے ذریعے سے تھانیدار کے پاس گیا،
انہوں نے تحریری طور پر لکھا کہ فلاں دوست نے اس کے پیسے دینے ہیں،
پھر گواہی دینے والے دوستوں کی کئی غلط باتیں زندگی میں مجھے ماننا پڑیں۔
6۔ تھانیدار نے قرضہ لینے والے دوست کو بُلایا،
اُس نے 20ہزار تھانیدار کو دیئے اور اُلٹا میرے خلاف پرچا کروا دیا۔
میرے پیسے پہلے ہی پھنسے ہوئے تھے، اوپر سے پرچہ ہونے پر میں نے اپنے دوست سے معافی مانگی اور بیان دیا کہ اس نے میرے کوئی پیسے نہیں دینے تب کہیں اُس نے مُسکراتے ہوئے پرچہ واپس لیا۔
7۔ گھر آیا تو گھر والوں نے علیحدہ پریشان کیا کہ گھر کے حالات اچھے نہیں، دوست بھی ایسے ہی بنائے ہوئے ہیں،ایک غلط فیصلے نے بہت ذلیل کروایا۔
8۔ یہ دُنیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس میں زندگی گزارنے کے اصول بھی عطا فرمائے ہیں
ان اصولوں کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی سے معاملات طے کرنے پر جو نقصانات ہوں گے اس کے ذمہ دار بھی ہم ہی ہونگے
اور آج کے پر فتن دور میں کسی پر اعتماد اور یقین کرنا بڑا مشکل کام ہے۔
نکاح کرتے وقت گواہ تو ہوتے تھے مگر لوگ پھر بھی مُکر جاتے تھے،
اس لئے جنرل ایوب نے نکاح فارم متعارف کروایا تاکہ عوام جھوٹ نہ بولیں ۔
اب طلاق دے کر بھی لوگ مُکر جاتے ہیں اور کہتے ہیں نہیں دی۔
9۔ یہ کہانی بہت سے لوگوں کی ہے۔
گواہ اور تحریری دستاویزات بنانے سے وہی ڈریں گے جو غلط کام کرتے ہیں
یا مجھ جیسے جاہل کو سبز باغ دکھا کر لُوٹنا چاہتے ہیں۔
10۔ قرآن پاک میں ہے
اے ایمان والو!
جب تم لین دین کا کوئی معاملہ کیا کرو تو اسکو تحریر کر لیا کرو اور دو گواہ بھی بنا لیا کرو
(سورہ البقرہ)
11۔ بہن بھائیوں میں وراثت کا مسئلہ ہو، کسی کو قرضہ دینا ہو، کسی کو مکان کرائے پر دینا ہو، یا جس معاملے میں پیسوں کا مسئلہ ہو، گواہ اور لکھت پڑھت بہت ضروری ہے۔
آزمائش پھر بھی ہو سکتی ہے مگر ہم نے قرآن و احادیث پر ہی چلنا ہے تاکہ اللہ کریم کے حضور اجر پائیں اور دنیا میں بھی مشکلات سے بچ سکیں
ورنہ
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
اللہ تعالیٰ ہمیں دین سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین یا رب العالمین
Copy.......
جزاک اللہ خیرا و احسن الجزا
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2330713790360587&id=100002659661707
1۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے ایک لاکھ روپیہ مانگا، میں نے کہا ٹھیک ہے ایک لاکھ دے دیتا ہوں لیکن پیسہ لیتے وقت دو گواہ ہوں گے اوراسٹامپ پیپر پر لکھ کر بھی دینا ہو گا۔
اُس نے کہا مجھ پر یقین نہیں ہے،
میں نے کہا بالکل ہے مگر شریعت کے مطابق قانونی کاروائی ضروری ہے۔
وہ مجھ سے ناراض ہو گیا، میں نے منانے کے لئے اُسے کہا کہ میں مذاق کر رہا تھا حالانکہ میں نے مذاق نہیں کیا تھا،
خیر میں نے اُسے گواہوں اور کاغذی کاروائی کے بغیر ایک لاکھ دے دیا۔
2۔ دو سال ہوگئے میرے دوست نے پیسے واپس نہیں کئے،
میں نے مانگے تو کہنے لگا میں نے تو واپس کر دیئے تھے۔
میں نے کہا کہ جھوٹ بولتے ہو تو غصے سے کہنے لگا کہ تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو۔
کوئی گواہ ہے تمہارے پاس، کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو۔
3۔ میرے کچھ دوست بڑے بد قماش تھے، وہ بھی میرے پاس آ گئے اورکہنے لگے ہمیں 20 ہزار خرچہ پانی دو ہم تمہیں اُس سے پیسے لے کر دیتے ہیں اور یہ ایک نئی پریشانی تھی۔
4۔ میں تھانے میں گیا اور کہاکہ میرے دوست نے مجھ سے ایک لاکھ لیا تھا مگر واپس نہیں کر رہا، انہوں نے کہا کوئی ثبوت یا گواہ۔
میں نے کہا کوئی نہیں۔
تھانے دار نے کہا کہ بینک میں پیسے جمع کرواتے ہو تو رسید دیتے ہیں،
لینے جاتے ہیں تورسید دیتے ہیں۔
سارے مسلمان ہی ہیں کیوں رسید مانگتے اور دیتے ہیں۔
اسلئے کہ قانونی کاروائی ضروری ہے۔آپ جھوٹے ہو ورنہ ثبوت لاؤ۔
5۔ تنگ آ کر میں نے بھی دو جھوٹے گواہ تیار کئے اور اُن کے ذریعے سے تھانیدار کے پاس گیا،
انہوں نے تحریری طور پر لکھا کہ فلاں دوست نے اس کے پیسے دینے ہیں،
پھر گواہی دینے والے دوستوں کی کئی غلط باتیں زندگی میں مجھے ماننا پڑیں۔
6۔ تھانیدار نے قرضہ لینے والے دوست کو بُلایا،
اُس نے 20ہزار تھانیدار کو دیئے اور اُلٹا میرے خلاف پرچا کروا دیا۔
میرے پیسے پہلے ہی پھنسے ہوئے تھے، اوپر سے پرچہ ہونے پر میں نے اپنے دوست سے معافی مانگی اور بیان دیا کہ اس نے میرے کوئی پیسے نہیں دینے تب کہیں اُس نے مُسکراتے ہوئے پرچہ واپس لیا۔
7۔ گھر آیا تو گھر والوں نے علیحدہ پریشان کیا کہ گھر کے حالات اچھے نہیں، دوست بھی ایسے ہی بنائے ہوئے ہیں،ایک غلط فیصلے نے بہت ذلیل کروایا۔
8۔ یہ دُنیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس میں زندگی گزارنے کے اصول بھی عطا فرمائے ہیں
ان اصولوں کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی سے معاملات طے کرنے پر جو نقصانات ہوں گے اس کے ذمہ دار بھی ہم ہی ہونگے
اور آج کے پر فتن دور میں کسی پر اعتماد اور یقین کرنا بڑا مشکل کام ہے۔
نکاح کرتے وقت گواہ تو ہوتے تھے مگر لوگ پھر بھی مُکر جاتے تھے،
اس لئے جنرل ایوب نے نکاح فارم متعارف کروایا تاکہ عوام جھوٹ نہ بولیں ۔
اب طلاق دے کر بھی لوگ مُکر جاتے ہیں اور کہتے ہیں نہیں دی۔
9۔ یہ کہانی بہت سے لوگوں کی ہے۔
گواہ اور تحریری دستاویزات بنانے سے وہی ڈریں گے جو غلط کام کرتے ہیں
یا مجھ جیسے جاہل کو سبز باغ دکھا کر لُوٹنا چاہتے ہیں۔
10۔ قرآن پاک میں ہے
اے ایمان والو!
جب تم لین دین کا کوئی معاملہ کیا کرو تو اسکو تحریر کر لیا کرو اور دو گواہ بھی بنا لیا کرو
(سورہ البقرہ)
11۔ بہن بھائیوں میں وراثت کا مسئلہ ہو، کسی کو قرضہ دینا ہو، کسی کو مکان کرائے پر دینا ہو، یا جس معاملے میں پیسوں کا مسئلہ ہو، گواہ اور لکھت پڑھت بہت ضروری ہے۔
آزمائش پھر بھی ہو سکتی ہے مگر ہم نے قرآن و احادیث پر ہی چلنا ہے تاکہ اللہ کریم کے حضور اجر پائیں اور دنیا میں بھی مشکلات سے بچ سکیں
ورنہ
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
اللہ تعالیٰ ہمیں دین سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین یا رب العالمین
Copy.......
جزاک اللہ خیرا و احسن الجزا
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2330713790360587&id=100002659661707
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#ڈاکٹر_شمس_مصباحی_اصاغر_نواز_معارف_پرور #شخصیت!!
ممبئی میں منعقدہ "اعزازیہ تقریب"کے خطاب کا خلاصہ
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
جنوری 2011 کے اوائل کی بات ہے جب میں صدرالافاضل کی صحافتی یادگار "ماہنامہ السوادالاعظم مرادآباد" کی احیا کے لیے پر تول رہا تھا۔ عمر 22/23 سال ،تجربہ صفر مگر ارادے پختہ تھے۔ انہیں دنوں دہلی میں اہل سنت کے ایک مشہور صاحب قلم کی آمد ہوئی، فقیر ان سے مشاورت ومعاونت کے لیے ملنے چلا گیا۔ لیکن آنجناب کی "تجرباتی عنایتیں" اس قدر ہوئیں کہ طبیعت برداشت نہ کرسکی۔ بمشکل جذبات کو قابو کیا اور اجازت لیکر واپس آگیا۔ پھر ایک "مہربان" کی امید وفا پر ممبئی کا سفر کیا لیکن:
جہاں سے چلے واپس وہیں پر پہنچے
حاصل سفر، یادگار اسلاف مفتی محمد شعبان علی نعیمی حبابی رحمہ اللہ سے ملاقات تھی۔آپ نے بڑی شفقت ومحبت سے نوازا اور رسالہ کے تعلق سے مشاورت کے لیے امیر القلم ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی صاحب کا نام سُجھایا۔ڈاکٹر شمس مصباحی رضویات پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ رضویات پر جتنی وسیع نگاہ ان کی ہے معاصرین میں ایسی مثالیں کمیاب ہیں۔آپ کی کتاب "پرواز خیال" کے ذریعے قدرے غائبانہ تعارف تھا، مفتی صاحب کی ایما پر عازم ملاقات ہوا۔ فون پر رابطہ کرتے ہوئے آپ کی جائے مسکن "میرا روڈ" پہنچا۔ شمس مسجد کے بغل میں ہی آپ کی "مملکت قرطاس وقلم" آباد تھی۔
میں نوعمر لڑکا پہلے ہی کئی مشہور افراد سے مل کر ذہنی کوفت اٹھا چکا تھا، ڈر تھا کہ وہی تجربہ یہاں بھی نہ ہوجائے؟ڈر کے باوجود سعادت لوح وقلم پروفیسر مسعود احمد علیہ الرحمہ کی وہ تقدیمی تحریر بھروسہ دلاتی تھی جسے انہوں نے "پرواز خیال" پر تحریر فرمایا تھا کہ:
"ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی عربی وفارسی اور علوم وفنون کے فاضل ہیں... عمر چونتیس سال ہے... مگر کام ماشاء اللہ عمر سے بہت زیادہ ہیں... بہت سی ڈگریاں ہیں *مگر غرور علم سے پاک ہیں*"
جیسا پروفیسر مسعود صاحب نے لکھا ملاقات پر آپ کو اس سے سِوا ہی پایا۔ اونچا لمبا قد، چوڑی پیشانی، آنکھوں میں گہرائی، اور لبوں پر پان کی ہلکی سی سرخی شخصیت میں چار چاند لگاتی ہے۔ انتہائی اپنائیت کے ساتھ خیر مقدم کیا، شاندار ضیافت فرمائی اور دیر تک محو گفتگو رہے۔ رسالہ کا خاکہ دیکھا، کچھ اہم کالمز شامل کرائے اور اپنی علمی جدوجہد کی داستان سنا کر دل پر چھائی ہوئی اداسی اور پژمردگی کو دور کیا۔ کسی سابقہ تعارف کے بغیر ایک نوعمر سے اس قدر اپنائیت سے پیش آنا ان کی اصاغر نوازی اور حسن اخلاق کی نشانی ہے۔
دہلی واپس آکر بکھری ہوئی ہمت کو سمیٹا اور تین ماہ کے بعد ہی "السوادالاعظم مرادآباد" سہ ماہی سواد اعظم دہلی کی شکل میں فلک صحافت پر ضیابار ہوا۔
____ نومبر 2011 میں ایک بار پھر ممبئی کا سفر ہوا، اس بار ڈاکٹر شمس مصباحی کی خدمت میں بطور ہدیہ "سہ ماہی سواد اعظم دہلی" کا پہلا شمارہ پیش کیا۔ رسالہ دیکھتے ہی آنکھوں میں چمک اور لبوں پر مسکراہٹ تیر گئی، مبارک باد دی اور بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ اسی وقت قلم برداشتہ ایک تحریر لکھی جو سواد اعظم دہلی کے دوسرے شمارے میں شائع ہوئی تھی، آپ نے لکھا تھا:
"آج 29 نومبر 2011 ہے۔ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی صاحب تشریف لائے ہیں۔سہ ماہی سواد اعظم دہلی ہمراہ لائے ہیں۔کچھ مہینے قبل بھی آپ آئے تھے، ایک علمی تحفہ "اسلامی نظریات" دے گئے تھے۔اس کتاب کے مصنف بھی وہ خود ہی ہیں۔اس وقت انہوں نے "سواد اعظم" کا تخیل پیش کیا تھا۔مگر یہ اس وقت محض تخیل تھا۔آج جو تشریف لائے ہیں تو سواد اعظم سہ ماہی کی صورت میں سامنے موجود ہے۔آفریں ہے اس ہے جرأت رندانہ اور ہمت مردانہ پر!"
وقت پر لگا کر اڑتا رہا، یہاں تک کہ تقریباً آٹھ نو سال کے بعد وہ لمحہ بھی آیا کہ 6 ستمبر 2020 کو "مرکز برکات رضا ٹرسٹ" مِیرَا روڈ ممبئی میں ایک اعزازیہ تقریب منعقد ہوئی۔ جہاں فقیر کے علاوہ نبیرہ صدرالشریعہ مفتی فیضان المصطفیٰ قادری صاحب، گھوسی، محترم قمر غنی عثمانی صاحب(صدر TFI) کو بھی اعزازیہ دیا گیا۔اس ٹرسٹ کے روح رواں آپ ہی ہیں۔یہ ایک تعلیمی ورفاہی ادارہ ہے۔جس کے تحت دینی وعصری طلبہ کو تعلیمی وظائف اور نادار ومساکین افراد کو راشن فراہم کیا جاتا ہے۔ ضرورت مند مریضوں کو ادویات اور غریب بچیوں کی شادیوں میں بھی ٹرسٹ تعاون کرتا ہے۔
____آٹھ نو برس قبل جس نوجوان نے ڈاکٹر شمس مصباحی سے آگے بڑھنے کا حوصلہ پایا تھا آج اسی کو موصوف نے "اعتراف خدمات" کے نام سے "ہدیہ سپاس" پیش کیا اور اہل علم کے درمیان اعزازیہ دے کر نئی نسل کی حوصلہ افزائی کا اہم کارنامہ انجام دیا۔ڈاکٹر صاحب نے جب اس تقریب کے بارے میں اطلاع دی تو میں نے عرض کیا تھا حضرت! ابھی تو محنت کے دن ہیں ابھی سے اعزاز و اوارڈ کی کیا ضرورت؟
آپ نے جواباً فرمایا:صحیح وقت پر نسل نو کی ہمت افزائی کرنا بزرگوں کا وتیرہ رہا ہے تاکہ وہ قومی قیادت کا بار مکمل طور اٹھا سکیں !!
__ فقیر نے پروفیسر مسعود صاحب کو نہیں دیکھا لیکن ان کی تح
ممبئی میں منعقدہ "اعزازیہ تقریب"کے خطاب کا خلاصہ
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
جنوری 2011 کے اوائل کی بات ہے جب میں صدرالافاضل کی صحافتی یادگار "ماہنامہ السوادالاعظم مرادآباد" کی احیا کے لیے پر تول رہا تھا۔ عمر 22/23 سال ،تجربہ صفر مگر ارادے پختہ تھے۔ انہیں دنوں دہلی میں اہل سنت کے ایک مشہور صاحب قلم کی آمد ہوئی، فقیر ان سے مشاورت ومعاونت کے لیے ملنے چلا گیا۔ لیکن آنجناب کی "تجرباتی عنایتیں" اس قدر ہوئیں کہ طبیعت برداشت نہ کرسکی۔ بمشکل جذبات کو قابو کیا اور اجازت لیکر واپس آگیا۔ پھر ایک "مہربان" کی امید وفا پر ممبئی کا سفر کیا لیکن:
جہاں سے چلے واپس وہیں پر پہنچے
حاصل سفر، یادگار اسلاف مفتی محمد شعبان علی نعیمی حبابی رحمہ اللہ سے ملاقات تھی۔آپ نے بڑی شفقت ومحبت سے نوازا اور رسالہ کے تعلق سے مشاورت کے لیے امیر القلم ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی صاحب کا نام سُجھایا۔ڈاکٹر شمس مصباحی رضویات پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ رضویات پر جتنی وسیع نگاہ ان کی ہے معاصرین میں ایسی مثالیں کمیاب ہیں۔آپ کی کتاب "پرواز خیال" کے ذریعے قدرے غائبانہ تعارف تھا، مفتی صاحب کی ایما پر عازم ملاقات ہوا۔ فون پر رابطہ کرتے ہوئے آپ کی جائے مسکن "میرا روڈ" پہنچا۔ شمس مسجد کے بغل میں ہی آپ کی "مملکت قرطاس وقلم" آباد تھی۔
میں نوعمر لڑکا پہلے ہی کئی مشہور افراد سے مل کر ذہنی کوفت اٹھا چکا تھا، ڈر تھا کہ وہی تجربہ یہاں بھی نہ ہوجائے؟ڈر کے باوجود سعادت لوح وقلم پروفیسر مسعود احمد علیہ الرحمہ کی وہ تقدیمی تحریر بھروسہ دلاتی تھی جسے انہوں نے "پرواز خیال" پر تحریر فرمایا تھا کہ:
"ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی عربی وفارسی اور علوم وفنون کے فاضل ہیں... عمر چونتیس سال ہے... مگر کام ماشاء اللہ عمر سے بہت زیادہ ہیں... بہت سی ڈگریاں ہیں *مگر غرور علم سے پاک ہیں*"
جیسا پروفیسر مسعود صاحب نے لکھا ملاقات پر آپ کو اس سے سِوا ہی پایا۔ اونچا لمبا قد، چوڑی پیشانی، آنکھوں میں گہرائی، اور لبوں پر پان کی ہلکی سی سرخی شخصیت میں چار چاند لگاتی ہے۔ انتہائی اپنائیت کے ساتھ خیر مقدم کیا، شاندار ضیافت فرمائی اور دیر تک محو گفتگو رہے۔ رسالہ کا خاکہ دیکھا، کچھ اہم کالمز شامل کرائے اور اپنی علمی جدوجہد کی داستان سنا کر دل پر چھائی ہوئی اداسی اور پژمردگی کو دور کیا۔ کسی سابقہ تعارف کے بغیر ایک نوعمر سے اس قدر اپنائیت سے پیش آنا ان کی اصاغر نوازی اور حسن اخلاق کی نشانی ہے۔
دہلی واپس آکر بکھری ہوئی ہمت کو سمیٹا اور تین ماہ کے بعد ہی "السوادالاعظم مرادآباد" سہ ماہی سواد اعظم دہلی کی شکل میں فلک صحافت پر ضیابار ہوا۔
____ نومبر 2011 میں ایک بار پھر ممبئی کا سفر ہوا، اس بار ڈاکٹر شمس مصباحی کی خدمت میں بطور ہدیہ "سہ ماہی سواد اعظم دہلی" کا پہلا شمارہ پیش کیا۔ رسالہ دیکھتے ہی آنکھوں میں چمک اور لبوں پر مسکراہٹ تیر گئی، مبارک باد دی اور بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ اسی وقت قلم برداشتہ ایک تحریر لکھی جو سواد اعظم دہلی کے دوسرے شمارے میں شائع ہوئی تھی، آپ نے لکھا تھا:
"آج 29 نومبر 2011 ہے۔ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی صاحب تشریف لائے ہیں۔سہ ماہی سواد اعظم دہلی ہمراہ لائے ہیں۔کچھ مہینے قبل بھی آپ آئے تھے، ایک علمی تحفہ "اسلامی نظریات" دے گئے تھے۔اس کتاب کے مصنف بھی وہ خود ہی ہیں۔اس وقت انہوں نے "سواد اعظم" کا تخیل پیش کیا تھا۔مگر یہ اس وقت محض تخیل تھا۔آج جو تشریف لائے ہیں تو سواد اعظم سہ ماہی کی صورت میں سامنے موجود ہے۔آفریں ہے اس ہے جرأت رندانہ اور ہمت مردانہ پر!"
وقت پر لگا کر اڑتا رہا، یہاں تک کہ تقریباً آٹھ نو سال کے بعد وہ لمحہ بھی آیا کہ 6 ستمبر 2020 کو "مرکز برکات رضا ٹرسٹ" مِیرَا روڈ ممبئی میں ایک اعزازیہ تقریب منعقد ہوئی۔ جہاں فقیر کے علاوہ نبیرہ صدرالشریعہ مفتی فیضان المصطفیٰ قادری صاحب، گھوسی، محترم قمر غنی عثمانی صاحب(صدر TFI) کو بھی اعزازیہ دیا گیا۔اس ٹرسٹ کے روح رواں آپ ہی ہیں۔یہ ایک تعلیمی ورفاہی ادارہ ہے۔جس کے تحت دینی وعصری طلبہ کو تعلیمی وظائف اور نادار ومساکین افراد کو راشن فراہم کیا جاتا ہے۔ ضرورت مند مریضوں کو ادویات اور غریب بچیوں کی شادیوں میں بھی ٹرسٹ تعاون کرتا ہے۔
____آٹھ نو برس قبل جس نوجوان نے ڈاکٹر شمس مصباحی سے آگے بڑھنے کا حوصلہ پایا تھا آج اسی کو موصوف نے "اعتراف خدمات" کے نام سے "ہدیہ سپاس" پیش کیا اور اہل علم کے درمیان اعزازیہ دے کر نئی نسل کی حوصلہ افزائی کا اہم کارنامہ انجام دیا۔ڈاکٹر صاحب نے جب اس تقریب کے بارے میں اطلاع دی تو میں نے عرض کیا تھا حضرت! ابھی تو محنت کے دن ہیں ابھی سے اعزاز و اوارڈ کی کیا ضرورت؟
آپ نے جواباً فرمایا:صحیح وقت پر نسل نو کی ہمت افزائی کرنا بزرگوں کا وتیرہ رہا ہے تاکہ وہ قومی قیادت کا بار مکمل طور اٹھا سکیں !!
__ فقیر نے پروفیسر مسعود صاحب کو نہیں دیکھا لیکن ان کی تح
ریرات اور ان کی محفل کے حاضر باشوں سے جتنا سنا مجھے ان کی خوبیاں ڈاکٹر شمس مصباحی میں نظر آتی ہیں۔ جس طرح پروفیسر مسعود صاحب نئی صلاحیتوں کی قدر دانی فرماتے تھے اسی طرح آج ڈاکٹر شمس مصباحی بھی نوجوان علما کی علمی معاونت کرتے ہیں۔علمی مجلسوں میں ان کی خدمات کا تعارف کراتے ہیں اور نہایت فراخ دلی کے ساتھ اعتراف خدمات بھی کرتے ہیں۔
پچھلے دنوں 29 فروری 2020 کو کٹک (اڑیسہ) میں منعقدہ *مجاہد ملت سیمینار* میں آپ نے حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ ودیگر اکابرین کے درمیان نہایت فراخ دلی کے ساتھ برادرم مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی، مولانا ریاضت حسین ازہری رسول پور اڑیسہ، اور راقم الحروف سمیت کئی نوجوان علما کی دینی،علمی اور تحریری خدمات کا بھرپور تذکرہ فرمایا۔آج کے دور قحط الرجال میں جہاں کوئی ہمت افزائی کے دو بول کہنے تیار نہیں،وہاں ڈاکٹر شمس مصباحی نسل نو کی علمی معاونت اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔
پروفیسر مسعود احمد صاحب کی مصاحبت کے وقت ڈاکٹر صاحب 22/23 سال کے جوان تھے آج ڈاکٹر صاحب کے دو سعادت مند بیٹے ان کے کاندھوں کو چھونے کی منزل میں ہیں لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ ہی آپ کا علم واخلاق مزید جوان ہوتا جارہا ہے۔ آج ہماری جماعت کو ایسے ہی مخلص افراد کی ضرورت ہے جو اپنے ہاتھوں سے نسل نو کو سنوار سکیں، انہیں تراش کر ہیرا بنا سکیں۔ صلاحیتوں کی نہ کل کمی تھی نہ آج، بس ضرورت مخلص معماروں کی ہے جو اپنے علم وتجربہ کے چاک میں صلاحیتوں کو اچھی طرح ڈھال کر انہیں مفید وکارآمد بنا سکیں۔
9 صفر المظفر 1442ھ
27 ستمبر 2020 بروز اتوار
پچھلے دنوں 29 فروری 2020 کو کٹک (اڑیسہ) میں منعقدہ *مجاہد ملت سیمینار* میں آپ نے حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ ودیگر اکابرین کے درمیان نہایت فراخ دلی کے ساتھ برادرم مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی، مولانا ریاضت حسین ازہری رسول پور اڑیسہ، اور راقم الحروف سمیت کئی نوجوان علما کی دینی،علمی اور تحریری خدمات کا بھرپور تذکرہ فرمایا۔آج کے دور قحط الرجال میں جہاں کوئی ہمت افزائی کے دو بول کہنے تیار نہیں،وہاں ڈاکٹر شمس مصباحی نسل نو کی علمی معاونت اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔
پروفیسر مسعود احمد صاحب کی مصاحبت کے وقت ڈاکٹر صاحب 22/23 سال کے جوان تھے آج ڈاکٹر صاحب کے دو سعادت مند بیٹے ان کے کاندھوں کو چھونے کی منزل میں ہیں لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ ہی آپ کا علم واخلاق مزید جوان ہوتا جارہا ہے۔ آج ہماری جماعت کو ایسے ہی مخلص افراد کی ضرورت ہے جو اپنے ہاتھوں سے نسل نو کو سنوار سکیں، انہیں تراش کر ہیرا بنا سکیں۔ صلاحیتوں کی نہ کل کمی تھی نہ آج، بس ضرورت مخلص معماروں کی ہے جو اپنے علم وتجربہ کے چاک میں صلاحیتوں کو اچھی طرح ڈھال کر انہیں مفید وکارآمد بنا سکیں۔
9 صفر المظفر 1442ھ
27 ستمبر 2020 بروز اتوار
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#بہار_الیکشن_ووٹروں_کی_سوجھ_بوجھ_کا_امتحان
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
بہار اسمبلی انتخاب میں اس بار پارٹیوں اور گٹھ بندھنوں کی بَہار ہے۔ ایک طرف جے ڈی یو/ بی جے پی گٹھ بندھن ہے تو دوسری جانب کانگریس، آر جے ڈی اور کمیونسٹوں کا مہا گٹھ بندھن ہے۔ اس کے علاوہ اسدالدین اویسی ، پپّو یادو اور اوپیندر کشواہا نے بھی اپنا اپنا گٹھ بندھن بنا لیا ہے۔
ان پانچ گٹھ بندھنوں کی بھیڑ میں ووٹروں کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ انتہائی سوجھ بوجھ کا ثبوت دیتے ہوئے حق رائے دہی استعمال کریں تاکہ ان کے ووٹوں سے منتخب ہونے والا نمائندہ اصول پسند ہو۔ چند پیسوں کی خاطر پالا بدلنے اور بِکنے والا نہ ہو۔
بہار میں اصل مقابلہ جے ڈی یو/ بی جے پی اور کانگریس/آر جے ڈی مہا گٹھ بندھن کے درمیان ہے۔ کچھ علاقوں میں اسدالدین اویسی اور پپّو یادو جیسے نیتا اپنا اثر ڈال سکتے ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ مہا گٹھبندھن میں شامل پارٹیاں، MIM اور پپّو یادو جیسے لیڈران بی جے پی گٹھ بندھن کے خلاف ہیں اس لیے اگر MIM اور پپّو یادو کو بھی مہا گٹھ بندھن میں شامل کرلیا جاتا تو سیکولر سیاست کے لیے بہت اچھا ہوتا لیکن یا تو تیجسوی یادو ایم آئی ایم جیسی پارٹی کو سیاسی اسپیس دینا اپنی سیاست کے خلاف سمجھتے ہیں یا پھر انہیں یہ خوش گمانی ہے کہ سیکولر ووٹرز پر صرف انہیں کی اجارہ داری ہے۔ ایسے ماحول میں ووٹرز کو نہایت سمجھ داری کے ساتھ ووٹنگ کرنا ہوگی۔ جو پارٹیاں آپ کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتیں، جن کی سیاست دھوکہ وفریب پر مبنی ہے ان لوگوں سے بچیں۔ جو لیڈر آپ کی آواز ہاؤس میں بلند کر سکے، آپ کے دُکھ درد میں کام آسکے اس بار انہیں ضرور کامیاب کریں۔یہ ہرگز نہ سوچیں کہ ایک دو اچھے نیتاؤں کے جیت جانے سے حکومت تو نہیں بن جائے گی۔ خوب یاد رکھیں کہ ایک اینٹ سے مکمل مکان نہیں بنتا لیکن شروعات ہمیشہ ایک اینٹ سے ہی ہوتی ہے اس لیے سو بروں کی بھیڑ میں ایک اچھا آدمی بھی نظر آئے تو یہ سمجھ کر اسے نظر انداز نہ کریں کہ یہ اکیلا کیا کرے گا۔ وقت آنے پر ایک سے ہی قافلہ بھی بنے گا۔
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
بہار اسمبلی انتخاب میں اس بار پارٹیوں اور گٹھ بندھنوں کی بَہار ہے۔ ایک طرف جے ڈی یو/ بی جے پی گٹھ بندھن ہے تو دوسری جانب کانگریس، آر جے ڈی اور کمیونسٹوں کا مہا گٹھ بندھن ہے۔ اس کے علاوہ اسدالدین اویسی ، پپّو یادو اور اوپیندر کشواہا نے بھی اپنا اپنا گٹھ بندھن بنا لیا ہے۔
ان پانچ گٹھ بندھنوں کی بھیڑ میں ووٹروں کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ انتہائی سوجھ بوجھ کا ثبوت دیتے ہوئے حق رائے دہی استعمال کریں تاکہ ان کے ووٹوں سے منتخب ہونے والا نمائندہ اصول پسند ہو۔ چند پیسوں کی خاطر پالا بدلنے اور بِکنے والا نہ ہو۔
بہار میں اصل مقابلہ جے ڈی یو/ بی جے پی اور کانگریس/آر جے ڈی مہا گٹھ بندھن کے درمیان ہے۔ کچھ علاقوں میں اسدالدین اویسی اور پپّو یادو جیسے نیتا اپنا اثر ڈال سکتے ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ مہا گٹھبندھن میں شامل پارٹیاں، MIM اور پپّو یادو جیسے لیڈران بی جے پی گٹھ بندھن کے خلاف ہیں اس لیے اگر MIM اور پپّو یادو کو بھی مہا گٹھ بندھن میں شامل کرلیا جاتا تو سیکولر سیاست کے لیے بہت اچھا ہوتا لیکن یا تو تیجسوی یادو ایم آئی ایم جیسی پارٹی کو سیاسی اسپیس دینا اپنی سیاست کے خلاف سمجھتے ہیں یا پھر انہیں یہ خوش گمانی ہے کہ سیکولر ووٹرز پر صرف انہیں کی اجارہ داری ہے۔ ایسے ماحول میں ووٹرز کو نہایت سمجھ داری کے ساتھ ووٹنگ کرنا ہوگی۔ جو پارٹیاں آپ کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتیں، جن کی سیاست دھوکہ وفریب پر مبنی ہے ان لوگوں سے بچیں۔ جو لیڈر آپ کی آواز ہاؤس میں بلند کر سکے، آپ کے دُکھ درد میں کام آسکے اس بار انہیں ضرور کامیاب کریں۔یہ ہرگز نہ سوچیں کہ ایک دو اچھے نیتاؤں کے جیت جانے سے حکومت تو نہیں بن جائے گی۔ خوب یاد رکھیں کہ ایک اینٹ سے مکمل مکان نہیں بنتا لیکن شروعات ہمیشہ ایک اینٹ سے ہی ہوتی ہے اس لیے سو بروں کی بھیڑ میں ایک اچھا آدمی بھی نظر آئے تو یہ سمجھ کر اسے نظر انداز نہ کریں کہ یہ اکیلا کیا کرے گا۔ وقت آنے پر ایک سے ہی قافلہ بھی بنے گا۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آپ سادات ہیں، آل رسول ہیں ،آلِ فاطمۃ الزہراء ہیں۔ یہ نسبی شرف و فضیلت ہے جسے اوروں کو حاصل نہیں ۔آپ اس شرف واعزاز پر جتنا فخر کریں کم ہے۔
آپ کے جدِّ اعلی و اصل و انتہا سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجھہ الکریم ہیں۔
ان کے بعد آپ فخر و ابتہاج کے ساتھ سیدنا امام حسن و حسین رضی اللہ عنھما کی نسل و ذریت خود کوکہتے ہیں اور درست کہتے ہیں۔
آپ میرے اس سوال کا جواب عنایت فرمادیں کہ جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کی طرف منسوب سب و شتم یا طعن و تشنیع یا کوئی ایسا لفظ جو ایک صحابی رسول علیہ الصلاۃ و السلام کے شایانِ شان نہ ہو کوئی صحیح روایت آپ کی نگاہوں نے دیکھی ہے؟
اگر ہر موافق و مخالف نے دیکھی ہے تو شیرِ خدا کے یہ الفاظ
“ معاویہ سے دین میں میرا کوئی اختلاف نہیں۔ جیسے ہم مسلمان ویسے وہ مسلمان ۔بلفظ دیگر جیسے ہم اللہ کے رسول کے صحابی ویسے وہ صحابی ۔ وہ میرے بھائی ہم ان کے بھائی۔ انہیں برا بھلا مت کہو ۔مجھ سے ان کا اختلاف غلط فہمی پر مبنی۔” حسنین کریمین نے تو انہیں امیر المومنین خلیفۃ المسلمین بادشاہِ اسلام جو لفظ چاہیں بولیں تسلیم کیا ان کی عدالت و تقوی و اہلیت للخلافۃ پر مہر لگائی۔ ان کی اولاد امجاد ائمہء اہلبیت خصوصا غوث اعظم ،خواجہ غریب نواز ،مخدوم اشرف سمنانی وغیرہم اولیاء سادات لا زالت شموس فیوضھم بازغۃ اپنے جد اعلی کی روش پر قائم رہے شان معاویہ میں ایک لفظ خلافِ شانِ صحابیت زبان سے نہیں نکالا بلکہ ان کی مدح سرائی کی
آج سیادت بلفظ دیگر نسل حسینی ہونے کا ڈنکا پیٹنے والے کی ایک بڑی تعداد کیوں جناب معاویہ کو سب و شتم کا ہدف بنائے ہوئے ہے ؟
کیا آپ اپنے اجداد خصوصا جد اعلی کے نقش قدم پر ہیں؟ ہرگز نہیں۔ اس کے برعکس آپ ان کی روش سے دور ہی نہیں مخالف سمت میں جارہے ہیں۔ اسے ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ کرلیجئے کہ طریقِ علی کو چھوڑنا وجہ بربادی ہے اور اس کے مخالف سمت میں جانا جہنم کی طرف جانا ہے۔
وہ سید ، سید ہونے کے باوجود سید کہلانے کے لائق نہیں جو امیر معاویہ اور ان کے والدین ( جناب ابوسفیان و سیدہ ہندہ رضی اللہ عنھما)کے تعلق سے دل میں میل رکھتا ہو دفاع امیر معاویہ کی سب سے پہلی ذمہ داری سیدنا علی کرم اللہ وجھہ نے محسوس کیا اور یہ ذمہ داری سادات کی طرف قیامت تک منتقل ہوتی رہیگی۔
اللہ اللہ! یہ علم قطعیت کے ساتھ حاصل ہونے کے باوجود کہ اللہ اور اس کے رسول نے مجھے مرتبے میں لاکھوں درجہ جناب معاویہ سے اوپر رکھا، اپنے بھائی صحابی کی عزت پر پہرہ دینے کی ذمہ داری محسوس کی اور تا قیام قیامت ان کی طرف اٹھنے والی زبانِ طعن کو کاٹ کر رکھ دیا۔ ان کی نگاہ میں وہ واضح نصوص تھے جن میں اللہ کے نبی نے اپنے صحابہ کو نشانہ بنانے سے سختی سے منع فرمایا۔ رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ کی آیت قطعی الدلالۃ کا عرفان علی سے زیادہ کسے حاصل ہوسکتا ہے
الحاصل: علی علم کے شہر کا دروازہ ہونے کے ساتھ ساتھ عقل و حکمت کے شہر کا بھی دروازہ ہیں۔
کرم اللہ وجھہ و رضی اللہ عنہ
کیا میں نے غلط کہا آپ حضرات فیصلہ فرمائیں؟
( سیف خالد اشرفی )
آپ کے جدِّ اعلی و اصل و انتہا سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجھہ الکریم ہیں۔
ان کے بعد آپ فخر و ابتہاج کے ساتھ سیدنا امام حسن و حسین رضی اللہ عنھما کی نسل و ذریت خود کوکہتے ہیں اور درست کہتے ہیں۔
آپ میرے اس سوال کا جواب عنایت فرمادیں کہ جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کی طرف منسوب سب و شتم یا طعن و تشنیع یا کوئی ایسا لفظ جو ایک صحابی رسول علیہ الصلاۃ و السلام کے شایانِ شان نہ ہو کوئی صحیح روایت آپ کی نگاہوں نے دیکھی ہے؟
اگر ہر موافق و مخالف نے دیکھی ہے تو شیرِ خدا کے یہ الفاظ
“ معاویہ سے دین میں میرا کوئی اختلاف نہیں۔ جیسے ہم مسلمان ویسے وہ مسلمان ۔بلفظ دیگر جیسے ہم اللہ کے رسول کے صحابی ویسے وہ صحابی ۔ وہ میرے بھائی ہم ان کے بھائی۔ انہیں برا بھلا مت کہو ۔مجھ سے ان کا اختلاف غلط فہمی پر مبنی۔” حسنین کریمین نے تو انہیں امیر المومنین خلیفۃ المسلمین بادشاہِ اسلام جو لفظ چاہیں بولیں تسلیم کیا ان کی عدالت و تقوی و اہلیت للخلافۃ پر مہر لگائی۔ ان کی اولاد امجاد ائمہء اہلبیت خصوصا غوث اعظم ،خواجہ غریب نواز ،مخدوم اشرف سمنانی وغیرہم اولیاء سادات لا زالت شموس فیوضھم بازغۃ اپنے جد اعلی کی روش پر قائم رہے شان معاویہ میں ایک لفظ خلافِ شانِ صحابیت زبان سے نہیں نکالا بلکہ ان کی مدح سرائی کی
آج سیادت بلفظ دیگر نسل حسینی ہونے کا ڈنکا پیٹنے والے کی ایک بڑی تعداد کیوں جناب معاویہ کو سب و شتم کا ہدف بنائے ہوئے ہے ؟
کیا آپ اپنے اجداد خصوصا جد اعلی کے نقش قدم پر ہیں؟ ہرگز نہیں۔ اس کے برعکس آپ ان کی روش سے دور ہی نہیں مخالف سمت میں جارہے ہیں۔ اسے ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ کرلیجئے کہ طریقِ علی کو چھوڑنا وجہ بربادی ہے اور اس کے مخالف سمت میں جانا جہنم کی طرف جانا ہے۔
وہ سید ، سید ہونے کے باوجود سید کہلانے کے لائق نہیں جو امیر معاویہ اور ان کے والدین ( جناب ابوسفیان و سیدہ ہندہ رضی اللہ عنھما)کے تعلق سے دل میں میل رکھتا ہو دفاع امیر معاویہ کی سب سے پہلی ذمہ داری سیدنا علی کرم اللہ وجھہ نے محسوس کیا اور یہ ذمہ داری سادات کی طرف قیامت تک منتقل ہوتی رہیگی۔
اللہ اللہ! یہ علم قطعیت کے ساتھ حاصل ہونے کے باوجود کہ اللہ اور اس کے رسول نے مجھے مرتبے میں لاکھوں درجہ جناب معاویہ سے اوپر رکھا، اپنے بھائی صحابی کی عزت پر پہرہ دینے کی ذمہ داری محسوس کی اور تا قیام قیامت ان کی طرف اٹھنے والی زبانِ طعن کو کاٹ کر رکھ دیا۔ ان کی نگاہ میں وہ واضح نصوص تھے جن میں اللہ کے نبی نے اپنے صحابہ کو نشانہ بنانے سے سختی سے منع فرمایا۔ رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ کی آیت قطعی الدلالۃ کا عرفان علی سے زیادہ کسے حاصل ہوسکتا ہے
الحاصل: علی علم کے شہر کا دروازہ ہونے کے ساتھ ساتھ عقل و حکمت کے شہر کا بھی دروازہ ہیں۔
کرم اللہ وجھہ و رضی اللہ عنہ
کیا میں نے غلط کہا آپ حضرات فیصلہ فرمائیں؟
( سیف خالد اشرفی )
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کاغذی ثبوت Documents
1۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے ایک لاکھ روپیہ مانگا، میں نے کہا ٹھیک ہے ایک لاکھ دے دیتا ہوں لیکن پیسہ لیتے وقت دو گواہ ہوں گے اوراسٹامپ پیپر پر لکھ کر بھی دینا ہو گا۔
اُس نے کہا مجھ پر یقین نہیں ہے،
میں نے کہا بالکل ہے مگر شریعت کے مطابق قانونی کاروائی ضروری ہے۔
وہ مجھ سے ناراض ہو گیا، میں نے منانے کے لئے اُسے کہا کہ میں مذاق کر رہا تھا حالانکہ میں نے مذاق نہیں کیا تھا،
خیر میں نے اُسے گواہوں اور کاغذی کاروائی کے بغیر ایک لاکھ دے دیا۔
2۔ دو سال ہوگئے میرے دوست نے پیسے واپس نہیں کئے،
میں نے مانگے تو کہنے لگا میں نے تو واپس کر دیئے تھے۔
میں نے کہا کہ جھوٹ بولتے ہو تو غصے سے کہنے لگا کہ تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو۔
کوئی گواہ ہے تمہارے پاس، کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو۔
3۔ میرے کچھ دوست بڑے بد قماش تھے، وہ بھی میرے پاس آ گئے اورکہنے لگے ہمیں 20 ہزار خرچہ پانی دو ہم تمہیں اُس سے پیسے لے کر دیتے ہیں اور یہ ایک نئی پریشانی تھی۔
4۔ میں تھانے میں گیا اور کہاکہ میرے دوست نے مجھ سے ایک لاکھ لیا تھا مگر واپس نہیں کر رہا، انہوں نے کہا کوئی ثبوت یا گواہ۔
میں نے کہا کوئی نہیں۔
تھانے دار نے کہا کہ بینک میں پیسے جمع کرواتے ہو تو رسید دیتے ہیں،
لینے جاتے ہیں تورسید دیتے ہیں۔
سارے مسلمان ہی ہیں کیوں رسید مانگتے اور دیتے ہیں۔
اسلئے کہ قانونی کاروائی ضروری ہے۔آپ جھوٹے ہو ورنہ ثبوت لاؤ۔
5۔ تنگ آ کر میں نے بھی دو جھوٹے گواہ تیار کئے اور اُن کے ذریعے سے تھانیدار کے پاس گیا،
انہوں نے تحریری طور پر لکھا کہ فلاں دوست نے اس کے پیسے دینے ہیں،
پھر گواہی دینے والے دوستوں کی کئی غلط باتیں زندگی میں مجھے ماننا پڑیں۔
6۔ تھانیدار نے قرضہ لینے والے دوست کو بُلایا،
اُس نے 20ہزار تھانیدار کو دیئے اور اُلٹا میرے خلاف پرچا کروا دیا۔
میرے پیسے پہلے ہی پھنسے ہوئے تھے، اوپر سے پرچہ ہونے پر میں نے اپنے دوست سے معافی مانگی اور بیان دیا کہ اس نے میرے کوئی پیسے نہیں دینے تب کہیں اُس نے مُسکراتے ہوئے پرچہ واپس لیا۔
7۔ گھر آیا تو گھر والوں نے علیحدہ پریشان کیا کہ گھر کے حالات اچھے نہیں، دوست بھی ایسے ہی بنائے ہوئے ہیں،ایک غلط فیصلے نے بہت ذلیل کروایا۔
8۔ یہ دُنیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس میں زندگی گزارنے کے اصول بھی عطا فرمائے ہیں
ان اصولوں کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی سے معاملات طے کرنے پر جو نقصانات ہوں گے اس کے ذمہ دار بھی ہم ہی ہونگے
اور آج کے پر فتن دور میں کسی پر اعتماد اور یقین کرنا بڑا مشکل کام ہے۔
نکاح کرتے وقت گواہ تو ہوتے تھے مگر لوگ پھر بھی مُکر جاتے تھے،
اس لئے جنرل ایوب نے نکاح فارم متعارف کروایا تاکہ عوام جھوٹ نہ بولیں ۔
اب طلاق دے کر بھی لوگ مُکر جاتے ہیں اور کہتے ہیں نہیں دی۔
9۔ یہ کہانی بہت سے لوگوں کی ہے۔
گواہ اور تحریری دستاویزات بنانے سے وہی ڈریں گے جو غلط کام کرتے ہیں
یا مجھ جیسے جاہل کو سبز باغ دکھا کر لُوٹنا چاہتے ہیں۔
10۔ قرآن پاک میں ہے
اے ایمان والو!
جب تم لین دین کا کوئی معاملہ کیا کرو تو اسکو تحریر کر لیا کرو اور دو گواہ بھی بنا لیا کرو
(سورہ البقرہ)
11۔ بہن بھائیوں میں وراثت کا مسئلہ ہو، کسی کو قرضہ دینا ہو، کسی کو مکان کرائے پر دینا ہو، یا جس معاملے میں پیسوں کا مسئلہ ہو، گواہ اور لکھت پڑھت بہت ضروری ہے۔
آزمائش پھر بھی ہو سکتی ہے مگر ہم نے قرآن و احادیث پر ہی چلنا ہے تاکہ اللہ کریم کے حضور اجر پائیں اور دنیا میں بھی مشکلات سے بچ سکیں
ورنہ
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
اللہ تعالیٰ ہمیں دین سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین یا رب العالمین
Copy.......
جزاک اللہ خیرا و احسن الجزا
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2330713790360587&id=100002659661707
1۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے ایک لاکھ روپیہ مانگا، میں نے کہا ٹھیک ہے ایک لاکھ دے دیتا ہوں لیکن پیسہ لیتے وقت دو گواہ ہوں گے اوراسٹامپ پیپر پر لکھ کر بھی دینا ہو گا۔
اُس نے کہا مجھ پر یقین نہیں ہے،
میں نے کہا بالکل ہے مگر شریعت کے مطابق قانونی کاروائی ضروری ہے۔
وہ مجھ سے ناراض ہو گیا، میں نے منانے کے لئے اُسے کہا کہ میں مذاق کر رہا تھا حالانکہ میں نے مذاق نہیں کیا تھا،
خیر میں نے اُسے گواہوں اور کاغذی کاروائی کے بغیر ایک لاکھ دے دیا۔
2۔ دو سال ہوگئے میرے دوست نے پیسے واپس نہیں کئے،
میں نے مانگے تو کہنے لگا میں نے تو واپس کر دیئے تھے۔
میں نے کہا کہ جھوٹ بولتے ہو تو غصے سے کہنے لگا کہ تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو۔
کوئی گواہ ہے تمہارے پاس، کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو۔
3۔ میرے کچھ دوست بڑے بد قماش تھے، وہ بھی میرے پاس آ گئے اورکہنے لگے ہمیں 20 ہزار خرچہ پانی دو ہم تمہیں اُس سے پیسے لے کر دیتے ہیں اور یہ ایک نئی پریشانی تھی۔
4۔ میں تھانے میں گیا اور کہاکہ میرے دوست نے مجھ سے ایک لاکھ لیا تھا مگر واپس نہیں کر رہا، انہوں نے کہا کوئی ثبوت یا گواہ۔
میں نے کہا کوئی نہیں۔
تھانے دار نے کہا کہ بینک میں پیسے جمع کرواتے ہو تو رسید دیتے ہیں،
لینے جاتے ہیں تورسید دیتے ہیں۔
سارے مسلمان ہی ہیں کیوں رسید مانگتے اور دیتے ہیں۔
اسلئے کہ قانونی کاروائی ضروری ہے۔آپ جھوٹے ہو ورنہ ثبوت لاؤ۔
5۔ تنگ آ کر میں نے بھی دو جھوٹے گواہ تیار کئے اور اُن کے ذریعے سے تھانیدار کے پاس گیا،
انہوں نے تحریری طور پر لکھا کہ فلاں دوست نے اس کے پیسے دینے ہیں،
پھر گواہی دینے والے دوستوں کی کئی غلط باتیں زندگی میں مجھے ماننا پڑیں۔
6۔ تھانیدار نے قرضہ لینے والے دوست کو بُلایا،
اُس نے 20ہزار تھانیدار کو دیئے اور اُلٹا میرے خلاف پرچا کروا دیا۔
میرے پیسے پہلے ہی پھنسے ہوئے تھے، اوپر سے پرچہ ہونے پر میں نے اپنے دوست سے معافی مانگی اور بیان دیا کہ اس نے میرے کوئی پیسے نہیں دینے تب کہیں اُس نے مُسکراتے ہوئے پرچہ واپس لیا۔
7۔ گھر آیا تو گھر والوں نے علیحدہ پریشان کیا کہ گھر کے حالات اچھے نہیں، دوست بھی ایسے ہی بنائے ہوئے ہیں،ایک غلط فیصلے نے بہت ذلیل کروایا۔
8۔ یہ دُنیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس میں زندگی گزارنے کے اصول بھی عطا فرمائے ہیں
ان اصولوں کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی سے معاملات طے کرنے پر جو نقصانات ہوں گے اس کے ذمہ دار بھی ہم ہی ہونگے
اور آج کے پر فتن دور میں کسی پر اعتماد اور یقین کرنا بڑا مشکل کام ہے۔
نکاح کرتے وقت گواہ تو ہوتے تھے مگر لوگ پھر بھی مُکر جاتے تھے،
اس لئے جنرل ایوب نے نکاح فارم متعارف کروایا تاکہ عوام جھوٹ نہ بولیں ۔
اب طلاق دے کر بھی لوگ مُکر جاتے ہیں اور کہتے ہیں نہیں دی۔
9۔ یہ کہانی بہت سے لوگوں کی ہے۔
گواہ اور تحریری دستاویزات بنانے سے وہی ڈریں گے جو غلط کام کرتے ہیں
یا مجھ جیسے جاہل کو سبز باغ دکھا کر لُوٹنا چاہتے ہیں۔
10۔ قرآن پاک میں ہے
اے ایمان والو!
جب تم لین دین کا کوئی معاملہ کیا کرو تو اسکو تحریر کر لیا کرو اور دو گواہ بھی بنا لیا کرو
(سورہ البقرہ)
11۔ بہن بھائیوں میں وراثت کا مسئلہ ہو، کسی کو قرضہ دینا ہو، کسی کو مکان کرائے پر دینا ہو، یا جس معاملے میں پیسوں کا مسئلہ ہو، گواہ اور لکھت پڑھت بہت ضروری ہے۔
آزمائش پھر بھی ہو سکتی ہے مگر ہم نے قرآن و احادیث پر ہی چلنا ہے تاکہ اللہ کریم کے حضور اجر پائیں اور دنیا میں بھی مشکلات سے بچ سکیں
ورنہ
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
اللہ تعالیٰ ہمیں دین سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین یا رب العالمین
Copy.......
جزاک اللہ خیرا و احسن الجزا
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2330713790360587&id=100002659661707
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.