بیوی سے مخلصانہ محبت کرنے والے اِس رکشہ ڈرائیور کی ویڈیو دیکھی ، اچھی لگی ۔
بیوی اللہ پاک کی طرف سے وہ نعمت ہے جو ہمارا آدھا ایمان محفوظ کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ہماری ، ہمارے گھر بار کی حفاظت کرتی ہے ؛ ہمارے بال بچوں کی پرورش کرتی ہے ، دُکھ سُکھ میں ہمارا ساتھ دیتی ہے ۔
بیوی کا احساس کرنا چاہیے اور بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے ۔
رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو بدر میں شریک ہونے سے منع کردیا تھا کیوں کہ اُن کی اہلیہ محترمہ بیمار تھیں ۔
آپ کے لیے حکم تھا کہ ( جہاد پر جانے کے بجائے ) اپنی بیوی کی تیمارداری کریں ۔
" آپ کو اس شخص کے برابر اجر مل جائے گا جو بدر میں شریک ہو گا "
( بخاری شریف ، ر 4066 )
رحمت عالم ﷺ نے ان لوگوں کو بہترین قرار دیاہے جو عورتوں ( بیویوں ) کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے ہیں ۔
( دیکھیے: ترمذی شریف ، ر 1162 )
✍️لقمان شاہد
5-10-2020 ء
https://www.facebook.com/100008105947430/posts/2973293719617464/
بیوی اللہ پاک کی طرف سے وہ نعمت ہے جو ہمارا آدھا ایمان محفوظ کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ہماری ، ہمارے گھر بار کی حفاظت کرتی ہے ؛ ہمارے بال بچوں کی پرورش کرتی ہے ، دُکھ سُکھ میں ہمارا ساتھ دیتی ہے ۔
بیوی کا احساس کرنا چاہیے اور بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے ۔
رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو بدر میں شریک ہونے سے منع کردیا تھا کیوں کہ اُن کی اہلیہ محترمہ بیمار تھیں ۔
آپ کے لیے حکم تھا کہ ( جہاد پر جانے کے بجائے ) اپنی بیوی کی تیمارداری کریں ۔
" آپ کو اس شخص کے برابر اجر مل جائے گا جو بدر میں شریک ہو گا "
( بخاری شریف ، ر 4066 )
رحمت عالم ﷺ نے ان لوگوں کو بہترین قرار دیاہے جو عورتوں ( بیویوں ) کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے ہیں ۔
( دیکھیے: ترمذی شریف ، ر 1162 )
✍️لقمان شاہد
5-10-2020 ء
https://www.facebook.com/100008105947430/posts/2973293719617464/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*فاضل_بريلوى_تحقيق*
(ایک بار لازمی پڑھیں)
محقق اہل سنت مفتی حق النبی سکندری صاحب زید مجدہ
ايک فاضل كا تبصره پڑھ کر نہایت افسوس ہوا، کہ حضرت فاضل بريلوى عليہ الرحمة كى تمام كتب سوالوں كے جوابات میں تاليف ہوئيں، لهذا وه كوئى گراں قدر علمى اضافہ نہیں اور نہ ہی وقيع اضافہ کہلائیں گی، کوئى مستقل تصنيف پیش کریں.
ایسے جدل ميں پڑنا، نہ میرا تخصص نہ ہی مزاج پر حقيقت بيان كرنا ضرورى ہے، کیونکہ بعض اوقات غلط بات اتنے خوبصورت الفاظ اور القاب سے گردش کرتی کہ وقت گذرنے کے ساتھ حقيقت محسوس ہونے لگتی ہے.
اس مختصر جواب كو اپنی کسی بھی رائے سے دور رکھنے کی کوشش ہوگی ، فقط اسلامى عربى لٹریچر کی روشنی میں چند گزارشات پیش ہیں جنہیں بغور پڑھنے سے دو باتیں سمجھ آجائينگی:
ايک: سائل كا مبلغ علم اور علوم كا مطالعہ.
دوم: فاضل بريلوى قدس سره العزيز،كي تصانيف متقدمين ومتاخرين كے ہاں مذكور مقاصد تاليف، دواعي تاليف كے مطابق ہیں یا نہیں!
ہمیں یقين ہے کہ سائل اگر مقاصد تاليف كی فقط معلومات (گہرائى و گیرائى تو دور کی بات ہے) بھی رکھتے تو یہ سوال ہی انہیں نہ کرنا پڑتا.
اسلامى عربى لٹریچر اس عنوان سے بھرا پڑا ہے کہ: درست سوال، اعتراض، حسن مسالة، نصف علم ہے،جس سے سائل يا معترض كے مبلغ علم كا اندازه ہوجایا کرتا ہے.
سيدنا ابن عباس فرماتے ہیں: ما سألني أحد عن مسألة إلا عرفت، فقيه أو غير فقيه.
جس نے بھی مجھ سے كوئي مسئلہ پوچھا، میں اسکے (سوال سے ہی) اسکا عالم یا جاہل ہونا جان گیا.
علامہ خطيب بغدادى امام مالک سے (بسندہ) نقل فرماتے ہیں کہ: زيد بن أسلم كے پاس، ابن عجلان كچھ پوچھنے آئے، اور سوال میں ہی گڑ بڑ کردی! زيد بن اسلم نےب فرمايا كہ: جاؤ جاكر صحيح سوال كرنا سيکھو پھر پوچھنے آجانا.
مطلب كہ سوال سے ہی سائل كى علمی حقيقت کھل کر سامنے آجاتی ہے.
اب اصل جواب كى طرف آئيے.
أولا: ابن خلدون،ابن حزم، أبوبكر المعافرى الإشبيلى، الكلاعى اور احمد المقرى التلمسانى ابو حيان وغيره... نے اس پر مستقل کلام فرمايا ہے کہ آخر: تصنيف وتأليف كے مقاصد كيا ہیں؟
اگرچہ ان علماء كے علاوه سينکڑوں دیگر مصنفين نے بھی اس پر گفتگو فرمائى ہے پر یہاں مقصود اولين اس پر بولنے والے ہیں.
ان سب محققين، مؤرخين و ادباء كا تقريبا اس پر اتفاق ہے کہ جب بھی کوئى تصنيف كرے یا تاليف(تصنيف و تاليف ميں دقيق فرق ہے جو غالبا سائل پر اب تک مخفى ہو) اس میں سات (7) مقاصد ميں سے کسی ایک کا پایا جانا ضرورى ہے، اگر ان ميں سے كوئى ايک بھی پایا گیا تو ان محقق علماء كے ہاں وہ تصنيف يا تاليف (وقيع اضافہ) بھی گردانی جائيگی اور علمى كام بھی.
وہ مقاصد تاليف ان علماء كى زبانى یہاں ذكر كيئے جا رہے ہیں اور قارئين سے التماس ہے کہ کیا ان مین سے کوئى ايک بھی فاضل بريلوي كى كتب ميں بدرجہ اتم موجود نہیں؟
وه يہ ہیں:
1- إما شيئ لم يسبق إلى استخراجہ فيستخرجه.
2- وإما شيئ ناقص فيتممه.
3- وإما شيئ مخطأ فيصححه.
4-ولما شيئ مستغلق فيشرحه.
5- وإما شيئ طويل فيختصره.
6-وإما شيئ مفترق فيجمعه.
7-وإما شيئ منثور فيجمعه.
ان مقاصد كو ايک عربی شاعر نے یوں نظم بھی فرمايا ہے:
ألا فاعلمن أن التآليف سبعة
لكل لبيب في النصيحة خالص
فشرح لأغلاق وتصحيح مخطئ
وإبداع حبر مقدم غير ناقص
وترتيب منثور وجمع مفرق
وتقصير تطويل وتتميم ناقص
متاخر مشہور عالم حاجي خليفہ كشف الظنون ميں فرماتے ہیں کہ: جو بھی کسی فن پر کتاب لکھے، اسکی کتاب میں یہ پانچ فوائد ہونا ضرورى ہیں:
1- استنباط شيئ كان معضلا.
2- جمعه إن كان مفرقا.
3- شرحه إن كان غامضا.
4- حسن نظم وتاليف.
5- إسقاط حشو وتطويل.
اب ان تمام مقاصد اور فوائد تاليف كو ديکھ کر،فاضل بريلوى قدس سره كي تصانيف ديکھی جائيں تو بلاشبہ علمی تحقيقى معيار كيساتھ ساتھ مقاصد تاليف پر بھی بدرجہ اتم پوری اترتی ہیں!
ابن خلدون وديگر عرب ناقدین كى كسوٹی پر جن کی کتب (مفيد اضافہ) کا ٹائيٹل پالیں بھلا ان پر کسی عجمی پروفيسر كا اعتراض كيونكر درست ہوسکتا ہے!
ثانيا: یہ بات تو طفل مكتب بھی سمجھتا ہے کہ کسی فن پر ایک شخص مستقل لکھے بھی اور اپنے تيئيں اسے (علمى اضافہ) بھی سمجھے مگر حقيقت ميں وه (كاپی پیسٹ) یا (محض سرکھپائى) كا مجموعہ نکلے تو کیا ایسی تصنيف (علمى اضافہ) کہلائے گی؟
ثالثا: مقصود اصلى علم وافاده اور تحقيق ہے،چاہے وہ مستفتى كے جواب ميں ہو چاہے مستقلا تصنيف سے ہو.
اور بلاشبہ یہ يہ چیزيں حضرت فاضل بريلوى قدس سره العزيز كى تاليفات ميں موجود ہیں.
والحق أحق أن يقال.
نوٹ: اختلاف كا حق سب كو نہیں صرف انكو ہے جو: نمبر ايک: موضوع بحث كى اساسيات سے بخوبى واقف ہوں.
نمبر دو: اعتراض برمحل فرمائيں.
ان شروط كا لحاظ نہ رکھا جائے تو وہی ہوگا جو فيس بوک پر نظر آتا ہے، يعنى لايعنى ابحاث، نہ ختم ہونے والے مجادلات،تحقيق كے نام پر توہین.
كتبه:أبوالبرڪات حق النبي سڪندرى أزهري.
شاہپور چاکر، سندھ.
(ایک بار لازمی پڑھیں)
محقق اہل سنت مفتی حق النبی سکندری صاحب زید مجدہ
ايک فاضل كا تبصره پڑھ کر نہایت افسوس ہوا، کہ حضرت فاضل بريلوى عليہ الرحمة كى تمام كتب سوالوں كے جوابات میں تاليف ہوئيں، لهذا وه كوئى گراں قدر علمى اضافہ نہیں اور نہ ہی وقيع اضافہ کہلائیں گی، کوئى مستقل تصنيف پیش کریں.
ایسے جدل ميں پڑنا، نہ میرا تخصص نہ ہی مزاج پر حقيقت بيان كرنا ضرورى ہے، کیونکہ بعض اوقات غلط بات اتنے خوبصورت الفاظ اور القاب سے گردش کرتی کہ وقت گذرنے کے ساتھ حقيقت محسوس ہونے لگتی ہے.
اس مختصر جواب كو اپنی کسی بھی رائے سے دور رکھنے کی کوشش ہوگی ، فقط اسلامى عربى لٹریچر کی روشنی میں چند گزارشات پیش ہیں جنہیں بغور پڑھنے سے دو باتیں سمجھ آجائينگی:
ايک: سائل كا مبلغ علم اور علوم كا مطالعہ.
دوم: فاضل بريلوى قدس سره العزيز،كي تصانيف متقدمين ومتاخرين كے ہاں مذكور مقاصد تاليف، دواعي تاليف كے مطابق ہیں یا نہیں!
ہمیں یقين ہے کہ سائل اگر مقاصد تاليف كی فقط معلومات (گہرائى و گیرائى تو دور کی بات ہے) بھی رکھتے تو یہ سوال ہی انہیں نہ کرنا پڑتا.
اسلامى عربى لٹریچر اس عنوان سے بھرا پڑا ہے کہ: درست سوال، اعتراض، حسن مسالة، نصف علم ہے،جس سے سائل يا معترض كے مبلغ علم كا اندازه ہوجایا کرتا ہے.
سيدنا ابن عباس فرماتے ہیں: ما سألني أحد عن مسألة إلا عرفت، فقيه أو غير فقيه.
جس نے بھی مجھ سے كوئي مسئلہ پوچھا، میں اسکے (سوال سے ہی) اسکا عالم یا جاہل ہونا جان گیا.
علامہ خطيب بغدادى امام مالک سے (بسندہ) نقل فرماتے ہیں کہ: زيد بن أسلم كے پاس، ابن عجلان كچھ پوچھنے آئے، اور سوال میں ہی گڑ بڑ کردی! زيد بن اسلم نےب فرمايا كہ: جاؤ جاكر صحيح سوال كرنا سيکھو پھر پوچھنے آجانا.
مطلب كہ سوال سے ہی سائل كى علمی حقيقت کھل کر سامنے آجاتی ہے.
اب اصل جواب كى طرف آئيے.
أولا: ابن خلدون،ابن حزم، أبوبكر المعافرى الإشبيلى، الكلاعى اور احمد المقرى التلمسانى ابو حيان وغيره... نے اس پر مستقل کلام فرمايا ہے کہ آخر: تصنيف وتأليف كے مقاصد كيا ہیں؟
اگرچہ ان علماء كے علاوه سينکڑوں دیگر مصنفين نے بھی اس پر گفتگو فرمائى ہے پر یہاں مقصود اولين اس پر بولنے والے ہیں.
ان سب محققين، مؤرخين و ادباء كا تقريبا اس پر اتفاق ہے کہ جب بھی کوئى تصنيف كرے یا تاليف(تصنيف و تاليف ميں دقيق فرق ہے جو غالبا سائل پر اب تک مخفى ہو) اس میں سات (7) مقاصد ميں سے کسی ایک کا پایا جانا ضرورى ہے، اگر ان ميں سے كوئى ايک بھی پایا گیا تو ان محقق علماء كے ہاں وہ تصنيف يا تاليف (وقيع اضافہ) بھی گردانی جائيگی اور علمى كام بھی.
وہ مقاصد تاليف ان علماء كى زبانى یہاں ذكر كيئے جا رہے ہیں اور قارئين سے التماس ہے کہ کیا ان مین سے کوئى ايک بھی فاضل بريلوي كى كتب ميں بدرجہ اتم موجود نہیں؟
وه يہ ہیں:
1- إما شيئ لم يسبق إلى استخراجہ فيستخرجه.
2- وإما شيئ ناقص فيتممه.
3- وإما شيئ مخطأ فيصححه.
4-ولما شيئ مستغلق فيشرحه.
5- وإما شيئ طويل فيختصره.
6-وإما شيئ مفترق فيجمعه.
7-وإما شيئ منثور فيجمعه.
ان مقاصد كو ايک عربی شاعر نے یوں نظم بھی فرمايا ہے:
ألا فاعلمن أن التآليف سبعة
لكل لبيب في النصيحة خالص
فشرح لأغلاق وتصحيح مخطئ
وإبداع حبر مقدم غير ناقص
وترتيب منثور وجمع مفرق
وتقصير تطويل وتتميم ناقص
متاخر مشہور عالم حاجي خليفہ كشف الظنون ميں فرماتے ہیں کہ: جو بھی کسی فن پر کتاب لکھے، اسکی کتاب میں یہ پانچ فوائد ہونا ضرورى ہیں:
1- استنباط شيئ كان معضلا.
2- جمعه إن كان مفرقا.
3- شرحه إن كان غامضا.
4- حسن نظم وتاليف.
5- إسقاط حشو وتطويل.
اب ان تمام مقاصد اور فوائد تاليف كو ديکھ کر،فاضل بريلوى قدس سره كي تصانيف ديکھی جائيں تو بلاشبہ علمی تحقيقى معيار كيساتھ ساتھ مقاصد تاليف پر بھی بدرجہ اتم پوری اترتی ہیں!
ابن خلدون وديگر عرب ناقدین كى كسوٹی پر جن کی کتب (مفيد اضافہ) کا ٹائيٹل پالیں بھلا ان پر کسی عجمی پروفيسر كا اعتراض كيونكر درست ہوسکتا ہے!
ثانيا: یہ بات تو طفل مكتب بھی سمجھتا ہے کہ کسی فن پر ایک شخص مستقل لکھے بھی اور اپنے تيئيں اسے (علمى اضافہ) بھی سمجھے مگر حقيقت ميں وه (كاپی پیسٹ) یا (محض سرکھپائى) كا مجموعہ نکلے تو کیا ایسی تصنيف (علمى اضافہ) کہلائے گی؟
ثالثا: مقصود اصلى علم وافاده اور تحقيق ہے،چاہے وہ مستفتى كے جواب ميں ہو چاہے مستقلا تصنيف سے ہو.
اور بلاشبہ یہ يہ چیزيں حضرت فاضل بريلوى قدس سره العزيز كى تاليفات ميں موجود ہیں.
والحق أحق أن يقال.
نوٹ: اختلاف كا حق سب كو نہیں صرف انكو ہے جو: نمبر ايک: موضوع بحث كى اساسيات سے بخوبى واقف ہوں.
نمبر دو: اعتراض برمحل فرمائيں.
ان شروط كا لحاظ نہ رکھا جائے تو وہی ہوگا جو فيس بوک پر نظر آتا ہے، يعنى لايعنى ابحاث، نہ ختم ہونے والے مجادلات،تحقيق كے نام پر توہین.
كتبه:أبوالبرڪات حق النبي سڪندرى أزهري.
شاہپور چاکر، سندھ.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدی اعلٰی حضرت امامِ اہلِ سنت مجددِ دین وملت امام احمد رضاخان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کی بارگاه میں حضرت محدث سورتی رحمہ اللّٰہ تعالٰی کے وصال کا ذکر تهاان کے محاسِن کا ذکر فرماتے ہوئے امام اهلِ سنت رَحِمَہُ اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
"قیامت قریب ہے، اچهے لوگ اٹهتے جاتے ہیں،جو جاتا ہے اپنا نائب نہیں چهوڑتا.
پهر فرمایا:
"امام بخاری نے انتقال فرمایا تو نوے ہزار شاگرد محدث چهوڑے،
سیدنا امام اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے انتقال فرمایا تو ایک ہزار مجتہدین اپنے شاگرد چهوڑے.
محدث ہونا علم کا پہلا زینہ ہے اور مجتہد ہونا آخری منزل.اور اب ہزار مرتے ہیں اور ایک بهی نہیں چهوڑتے"
(ملفوظات اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ)
میثم قادری
"قیامت قریب ہے، اچهے لوگ اٹهتے جاتے ہیں،جو جاتا ہے اپنا نائب نہیں چهوڑتا.
پهر فرمایا:
"امام بخاری نے انتقال فرمایا تو نوے ہزار شاگرد محدث چهوڑے،
سیدنا امام اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے انتقال فرمایا تو ایک ہزار مجتہدین اپنے شاگرد چهوڑے.
محدث ہونا علم کا پہلا زینہ ہے اور مجتہد ہونا آخری منزل.اور اب ہزار مرتے ہیں اور ایک بهی نہیں چهوڑتے"
(ملفوظات اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ)
میثم قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#غیر_ضروری_احتجاجات_کب_تک؟؟؟
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
آج کل عجیب و غریب قوانین پاس ہونے کا سلسلہ سا چل پڑا ہے۔ جب دیکھیے کوئی نیا قانون بن جاتا ہے تو کوئی پرانا بدل دیا جاتا ہے۔
ایک وقت تھا جب قانون بدلنے کا کام صرف شدید ضرورت محسوس ہونے پر کیا جاتا تھا۔ اور پھر قانون اپنے مفاد کے لیے بھی بدلے جانے لگے، اور اب یہ سلسلہ ایسا چل نکلا ہے کہ کبھی کبھی اپنی ناکامی چھپانے کے لیے بھی قانون بدلے جاتے ہیں۔ اور اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ اب اگر ناخدا اپنی غلطی سے اپنی ہی کشتی پر سوراخ کردے جس سے کشتی کے ڈوبنے کا قوی اندیشہ پیدا ہوجائے تو ناخد ایسا قانون بنادیتا ہے کہ لوگ کشتی کے اس سوراخ کو بھول کر (جو کشتی کو دھیرے دھیرے سمندر کی تہ تک لیجانے کا کام کررہا ہے) صرف اسی قانون کے چکر میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
جن کے لیے بنایا گیا ہوتا ہے وہ اس بات پر واویلا مچاتے ہیں کہ قانون کیوں بنایا گیا؟ اور دوسرے اس بات پر کہ تم ہر چیز کی مخالفت ہی کرتے رہتے ہو اگر اتنی ہی پریشانی ہے تو کشتی سے اتر کیوں نہیں جاتے ؟؟؟
اس جھگڑے میں دونوں یہ بھول جاتے ہیں کہ کشتی پر سوراخ بھی ہے جو ہم دونوں کو غرقاب کردیگا۔ اور سوراخ کرنے والا مطمئن ہوجاتا ہے کہ اب تم لڑتے جھگڑتے رہو مجھے سکون ملا۔
اس طرح کے معاملات بہت ہوتے ہیں خاص کر موجودہ وقت میں یہ کثرت کے ساتھ ہورہا ہے۔
اور ہمارے بھائی ہر چیز کی مخالفت شروع کردیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اس کا اثر الٹا پڑے گا اور لوگ ہمیں ہی غلط ٹھہرائیں گے اور اصل مجرم سے سب کی نظر ہٹ جائے گی۔
اسی طرح کے ایک قانون کی ابھی اڑتی اڑتی خبر موصول ہوئی کہ حج سے پہلے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے کلیرینس لینی ہوگی اور جو لوگ یہ کلیرینس حاصل کرلیں گے وہی حج کے لیے جاسکیں گے۔
اس پر کچھ جذباتی بھائی احتجاج کرنے کی بات کررہے ہیں۔
پہلی بات یہ کہ تحقیق کرلی جائے کہ کیا واقعی ایسا ہوا ہے یا نہیں!!!
کیوں کہ اس پہلے ایک قانون کی خبر آئی تھی مدارس کے سلسلے میں دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں میں کھلبلی مچ گئی بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پڑوسی ملک کا قانون ہے۔ جب سے سوشل میڈیا کا دور آیا ہے تب سے جھوٹی اور بغیر نام پتے کی خبریں بھی خوب شہرت کمالیتی ہیں۔
دوسری بات احتجاج کا کوئی فائیدہ نہیں۔
احتجاج کب کریں؟
احتجاج کرنا اس وقت موزوں ہے جب اس کا کوئی فائدہ ہو۔
فائدہ کئی طرح کا ہوسکتا ہے جیسے: یہ فائدہ کہ اس احتجاج کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔
یا یہ فائدہ کہ احتجاج ہماری زندگی کا ثبوت ہوگا۔
یا کم از کم اتنا تو ہو کہ اس احتجاج سے ہمارا کوئی نقصان نہ ہوگا۔
احتجاج کب نہ کریں!!!
اس وقت نہ کریں جب احتجاج کا کوئی نتیجہ نہ نکلنا ہو۔
اس وقت نہ کریں جب اس احتجاج سے آپ کا کوئی نقصان ہو۔
اس وقت نہ کریں جب آپ کے احتجاج سے آپ کے دشمن کا کوئی فائدہ ہو؛ اگرچہ وہ احتجاج آپ کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچانے والا ہو۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ہمارا احتجاج دشمن کو دلدل سے نکالنے کا کام کرجاتا ہے اور ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی کا ثبوت دیا ہے۔ حالانکہ ہمارا دشمن اپنی چال کے کامیاب ہونے اور ہمارے شکار ہوجانے پر قہقہا لگا رہا ہوتا ہے۔
ہمیں حکمت عملی اور پوری سوجھ بوجھ سے کام کرنا ہوگا تبھی ہم شاطر دشمن کے مقابلے کے لائق ہونگے۔
کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر آواز اٹھانے کی نہیں صرف لیگل ٹیم کے خاموشی سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ہم ایسے کاموں کو بھی خوب اچھالتے ہیں۔ اور مخالف کو تقویت دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے لوگوں سے یہ بول سکے کہ دیکھو میں نے ان کو کیسا پریشان کیا کہ بلبلا اٹھے۔
جبکہ اس وقت آپ کو یہ دکھنا ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی فرق ہی نہیں پڑا مگر آپ ایسے بلبلا رہے ہوتے ہیں جیسے کسی جانور کے سر پر کوئی عصا قیامت بن کر گرا ہو۔
یاد رکھیں!!! ہر وقت کمزوری دکھانا اور خود کو مظلوم ثابت کرنا سود مند نہیں ہوتا کہیں بہادر بننا اور تکلیف کو چھپانا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ دشمن کے حوصلے بلند نہ ہوجائیں؛ مگر ہم نے تو بس ایک ہی چیز سیکھی ہے چلاؤ اور خود کو مظلوم ثابت کرو۔ اگرچہ کوئی ہماری پکار سننے کو تیار نہیں بلکہ ہماری آواز سن کر خوش ہونے والے ہرطرف موجود ہیں۔
دشمن کو مات دینے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے اپنے کمزور اور گھائل ہونے کا احساس نہ ہونے دیا جائے اگر اسے یہ احساس ہوگیا تب تو وہ ہم پر چڑھ دوڑے گا۔
کسی معاملہ کے پردہ کے پیچھے کی کہانی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ چوطرفہ گھری ہوئی حکومت نے یہ فیصلہ اسی لیے لیا ہو کہ آپ احتجاج کریں اور وہ ہندو مسلم کرکے ان حالات سے اُبرنے کی کوشش کرے جہاں سے نکلنا اسے مشکل لگ رہا ہے۔
لہذا احتجاج کرنے سے پہلے خوب غور و فکر کرلیں کہ اس کے کون کون سے پہلو ہیں۔
ناچیز کی ناقص رائے تو یہ ہے کہ اب ہمارے لیے احتجاج کسی بھی معاملہ میں مناسب نہیں کیوں کہ اس کا کچھ نتیجہ تو نکلنا نہیں۔
قابل غور بات یہ بھی ہے کہ جب کسان پنجاب اور ہریانہ سرپر اٹھا کر کچھ نہ کر
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
آج کل عجیب و غریب قوانین پاس ہونے کا سلسلہ سا چل پڑا ہے۔ جب دیکھیے کوئی نیا قانون بن جاتا ہے تو کوئی پرانا بدل دیا جاتا ہے۔
ایک وقت تھا جب قانون بدلنے کا کام صرف شدید ضرورت محسوس ہونے پر کیا جاتا تھا۔ اور پھر قانون اپنے مفاد کے لیے بھی بدلے جانے لگے، اور اب یہ سلسلہ ایسا چل نکلا ہے کہ کبھی کبھی اپنی ناکامی چھپانے کے لیے بھی قانون بدلے جاتے ہیں۔ اور اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ اب اگر ناخدا اپنی غلطی سے اپنی ہی کشتی پر سوراخ کردے جس سے کشتی کے ڈوبنے کا قوی اندیشہ پیدا ہوجائے تو ناخد ایسا قانون بنادیتا ہے کہ لوگ کشتی کے اس سوراخ کو بھول کر (جو کشتی کو دھیرے دھیرے سمندر کی تہ تک لیجانے کا کام کررہا ہے) صرف اسی قانون کے چکر میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
جن کے لیے بنایا گیا ہوتا ہے وہ اس بات پر واویلا مچاتے ہیں کہ قانون کیوں بنایا گیا؟ اور دوسرے اس بات پر کہ تم ہر چیز کی مخالفت ہی کرتے رہتے ہو اگر اتنی ہی پریشانی ہے تو کشتی سے اتر کیوں نہیں جاتے ؟؟؟
اس جھگڑے میں دونوں یہ بھول جاتے ہیں کہ کشتی پر سوراخ بھی ہے جو ہم دونوں کو غرقاب کردیگا۔ اور سوراخ کرنے والا مطمئن ہوجاتا ہے کہ اب تم لڑتے جھگڑتے رہو مجھے سکون ملا۔
اس طرح کے معاملات بہت ہوتے ہیں خاص کر موجودہ وقت میں یہ کثرت کے ساتھ ہورہا ہے۔
اور ہمارے بھائی ہر چیز کی مخالفت شروع کردیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اس کا اثر الٹا پڑے گا اور لوگ ہمیں ہی غلط ٹھہرائیں گے اور اصل مجرم سے سب کی نظر ہٹ جائے گی۔
اسی طرح کے ایک قانون کی ابھی اڑتی اڑتی خبر موصول ہوئی کہ حج سے پہلے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے کلیرینس لینی ہوگی اور جو لوگ یہ کلیرینس حاصل کرلیں گے وہی حج کے لیے جاسکیں گے۔
اس پر کچھ جذباتی بھائی احتجاج کرنے کی بات کررہے ہیں۔
پہلی بات یہ کہ تحقیق کرلی جائے کہ کیا واقعی ایسا ہوا ہے یا نہیں!!!
کیوں کہ اس پہلے ایک قانون کی خبر آئی تھی مدارس کے سلسلے میں دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں میں کھلبلی مچ گئی بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پڑوسی ملک کا قانون ہے۔ جب سے سوشل میڈیا کا دور آیا ہے تب سے جھوٹی اور بغیر نام پتے کی خبریں بھی خوب شہرت کمالیتی ہیں۔
دوسری بات احتجاج کا کوئی فائیدہ نہیں۔
احتجاج کب کریں؟
احتجاج کرنا اس وقت موزوں ہے جب اس کا کوئی فائدہ ہو۔
فائدہ کئی طرح کا ہوسکتا ہے جیسے: یہ فائدہ کہ اس احتجاج کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔
یا یہ فائدہ کہ احتجاج ہماری زندگی کا ثبوت ہوگا۔
یا کم از کم اتنا تو ہو کہ اس احتجاج سے ہمارا کوئی نقصان نہ ہوگا۔
احتجاج کب نہ کریں!!!
اس وقت نہ کریں جب احتجاج کا کوئی نتیجہ نہ نکلنا ہو۔
اس وقت نہ کریں جب اس احتجاج سے آپ کا کوئی نقصان ہو۔
اس وقت نہ کریں جب آپ کے احتجاج سے آپ کے دشمن کا کوئی فائدہ ہو؛ اگرچہ وہ احتجاج آپ کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچانے والا ہو۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ہمارا احتجاج دشمن کو دلدل سے نکالنے کا کام کرجاتا ہے اور ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی کا ثبوت دیا ہے۔ حالانکہ ہمارا دشمن اپنی چال کے کامیاب ہونے اور ہمارے شکار ہوجانے پر قہقہا لگا رہا ہوتا ہے۔
ہمیں حکمت عملی اور پوری سوجھ بوجھ سے کام کرنا ہوگا تبھی ہم شاطر دشمن کے مقابلے کے لائق ہونگے۔
کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر آواز اٹھانے کی نہیں صرف لیگل ٹیم کے خاموشی سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ہم ایسے کاموں کو بھی خوب اچھالتے ہیں۔ اور مخالف کو تقویت دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے لوگوں سے یہ بول سکے کہ دیکھو میں نے ان کو کیسا پریشان کیا کہ بلبلا اٹھے۔
جبکہ اس وقت آپ کو یہ دکھنا ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی فرق ہی نہیں پڑا مگر آپ ایسے بلبلا رہے ہوتے ہیں جیسے کسی جانور کے سر پر کوئی عصا قیامت بن کر گرا ہو۔
یاد رکھیں!!! ہر وقت کمزوری دکھانا اور خود کو مظلوم ثابت کرنا سود مند نہیں ہوتا کہیں بہادر بننا اور تکلیف کو چھپانا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ دشمن کے حوصلے بلند نہ ہوجائیں؛ مگر ہم نے تو بس ایک ہی چیز سیکھی ہے چلاؤ اور خود کو مظلوم ثابت کرو۔ اگرچہ کوئی ہماری پکار سننے کو تیار نہیں بلکہ ہماری آواز سن کر خوش ہونے والے ہرطرف موجود ہیں۔
دشمن کو مات دینے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے اپنے کمزور اور گھائل ہونے کا احساس نہ ہونے دیا جائے اگر اسے یہ احساس ہوگیا تب تو وہ ہم پر چڑھ دوڑے گا۔
کسی معاملہ کے پردہ کے پیچھے کی کہانی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ چوطرفہ گھری ہوئی حکومت نے یہ فیصلہ اسی لیے لیا ہو کہ آپ احتجاج کریں اور وہ ہندو مسلم کرکے ان حالات سے اُبرنے کی کوشش کرے جہاں سے نکلنا اسے مشکل لگ رہا ہے۔
لہذا احتجاج کرنے سے پہلے خوب غور و فکر کرلیں کہ اس کے کون کون سے پہلو ہیں۔
ناچیز کی ناقص رائے تو یہ ہے کہ اب ہمارے لیے احتجاج کسی بھی معاملہ میں مناسب نہیں کیوں کہ اس کا کچھ نتیجہ تو نکلنا نہیں۔
قابل غور بات یہ بھی ہے کہ جب کسان پنجاب اور ہریانہ سرپر اٹھا کر کچھ نہ کر
سکے اور دیکھتے ہی دیکھتے کسانوں سے متعلق تینوں بل قانون کی شکل اختیار کر گئے تو ہماری آواز (جو کہ نقار خانہ میں طوطی کی آواز کی حیثیت بھی نہیں رکھتی) کیا معنی رکھتی ہے۔ سوائے اس کے کہ ان کے مقاصد کی حصولیابی ہم اپنی بیوقوفی سے کریں۔
ہمارے کثرت احتجاج کا اثر یہ ضرور ہوا ہے کہ لوگ اب کہنے لگے ہیں کچھ بھی ہو حکومت نے کیا ہے تو یہ قوم تو احتجاج کرے گی ہی۔
اور ہم اس وقت جب انہیں ہندو مسلم کچھ مل نہیں رہا ہے احتجاج کرکے انہیں موقع دیتے ہیں کہ لو اس پر چرچا کرو اور بے روزگاری، بھکھمری، ختم ہوتی نوکری اور کسان کے معاملات کو بھوک جاؤ جس میں حکومت پھس رہی تھی۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ بے مقصد احتجاج کرکے ان کو تقویت نہ دیں۔
ہم ان قوانین پر بھی آواز بلند کرنے سے نہیں چوکتے جس کا اثر تمام اہل وطن پر یکساں پڑنے والا ہے، اور ہمارے سوا بقیہ سب خاموش ہیں۔
ہمیں سوچنا یہ بھی چاہیے کہ جس قانون کا اثر تمام اہل وطن ہر ہوتا ہے اس کا احتجاج صرف ہم کیوں کریں؟؟؟
جب کوئی اور اس چیز کی مخالفت نہیں کررہا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کی تعداد 86 فیصد ہے تو ہم کیوں کررہے ہیں ؟؟؟
کیا اس احتجاج سے ہم اپنے آپ کو محب وطن ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟؟؟
اگر نہیں!!! جو کہ حقیقت ہے۔ تو پھر کیوں ہم زبر دستی ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں؟؟؟
بڑی مشکل سے تو وہ وقت آتا ہے کہ دشمن خود سے برسر پیکار ہوتا ہے اور ایسے میں ہم ان کی توجہ اپنے طرف مبذول کرانے کے لیے خود کو پیش کردیتے ہیں کہ آپس میں کیوں دست و گریباں ہو ہم تو ہیں ہمیں مارو اور اپنا کام نکالو!!!
ابھی وہ اپنوں سے برسر پیکار ہیں انہیں وہیں رہنے دیں... پڑی لکڑی اپنے سر نہ لیں... اسی میں بھلائی ہے.
اور زبر دستی کے احتجاجات سے بعض آجائیں!!!
4 اکتوبر 2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/778021809435006/
ہمارے کثرت احتجاج کا اثر یہ ضرور ہوا ہے کہ لوگ اب کہنے لگے ہیں کچھ بھی ہو حکومت نے کیا ہے تو یہ قوم تو احتجاج کرے گی ہی۔
اور ہم اس وقت جب انہیں ہندو مسلم کچھ مل نہیں رہا ہے احتجاج کرکے انہیں موقع دیتے ہیں کہ لو اس پر چرچا کرو اور بے روزگاری، بھکھمری، ختم ہوتی نوکری اور کسان کے معاملات کو بھوک جاؤ جس میں حکومت پھس رہی تھی۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ بے مقصد احتجاج کرکے ان کو تقویت نہ دیں۔
ہم ان قوانین پر بھی آواز بلند کرنے سے نہیں چوکتے جس کا اثر تمام اہل وطن پر یکساں پڑنے والا ہے، اور ہمارے سوا بقیہ سب خاموش ہیں۔
ہمیں سوچنا یہ بھی چاہیے کہ جس قانون کا اثر تمام اہل وطن ہر ہوتا ہے اس کا احتجاج صرف ہم کیوں کریں؟؟؟
جب کوئی اور اس چیز کی مخالفت نہیں کررہا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کی تعداد 86 فیصد ہے تو ہم کیوں کررہے ہیں ؟؟؟
کیا اس احتجاج سے ہم اپنے آپ کو محب وطن ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟؟؟
اگر نہیں!!! جو کہ حقیقت ہے۔ تو پھر کیوں ہم زبر دستی ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں؟؟؟
بڑی مشکل سے تو وہ وقت آتا ہے کہ دشمن خود سے برسر پیکار ہوتا ہے اور ایسے میں ہم ان کی توجہ اپنے طرف مبذول کرانے کے لیے خود کو پیش کردیتے ہیں کہ آپس میں کیوں دست و گریباں ہو ہم تو ہیں ہمیں مارو اور اپنا کام نکالو!!!
ابھی وہ اپنوں سے برسر پیکار ہیں انہیں وہیں رہنے دیں... پڑی لکڑی اپنے سر نہ لیں... اسی میں بھلائی ہے.
اور زبر دستی کے احتجاجات سے بعض آجائیں!!!
4 اکتوبر 2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/778021809435006/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعلیٰ حضرت کا مقام عرب محدثین کی نظر میں ۔۔۔۔۔
100 سے زائد کتب کے مصنف، عظیم محدّث حضرتِ علّامہ حافظ سیّد عبدُالحی الکتانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی معروف تصنیف فھرسُ الفھارس میں امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے یہ القابات ذکر کئے ہیں: الفقيهُ المُسْنَدُ الصوفي الشَّهاب (فہرس الفہارس والأثبات، ج1،ص 86) ان القابات سے حافظ کتانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کا بلند مقام واضح ہوتا ہے کہ امامِ اہلِ سنّت فقہ و حدیث کے بھی امام ہیں اور صاحبِ عمل صوفی بھی ہیں۔
دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2827859554160020&id=100008080090753
100 سے زائد کتب کے مصنف، عظیم محدّث حضرتِ علّامہ حافظ سیّد عبدُالحی الکتانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی معروف تصنیف فھرسُ الفھارس میں امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے یہ القابات ذکر کئے ہیں: الفقيهُ المُسْنَدُ الصوفي الشَّهاب (فہرس الفہارس والأثبات، ج1،ص 86) ان القابات سے حافظ کتانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کا بلند مقام واضح ہوتا ہے کہ امامِ اہلِ سنّت فقہ و حدیث کے بھی امام ہیں اور صاحبِ عمل صوفی بھی ہیں۔
دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2827859554160020&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اکیسویں صدی کی اہم پیشکش
موسوعہ اسلامیہ قائد اہل سنت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ
تحقیق، تخریج، ترتیب، تکمیل، تقدیم : ڈاکٹر غلام زرقانی قادری
📇 دار الکتاب 421 مٹیا محل دہلی⁶
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/770921296818775/
موسوعہ اسلامیہ قائد اہل سنت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ
تحقیق، تخریج، ترتیب، تکمیل، تقدیم : ڈاکٹر غلام زرقانی قادری
📇 دار الکتاب 421 مٹیا محل دہلی⁶
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/770921296818775/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
عرس رضوی قادری نوری کے موقع پر فہرست کتب مع قیمت اصل وَ رعایتی ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ رضا اکیڈمی ممبئ +919867874598 رضا اکیڈمی بریلی +919325155777 ➻═══════════➻ TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge ➻═══════════➻
💐 عرس رضوی 2020 عیسوی | عرس رضوی 1442 ھ 🌹 کے موقع پر فہرست کتب مع قیمت اصل وَ رعایتی 📚
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
رضا اکیڈمی ممبئ +919867874598
رضا اکیڈمی بریلی +919325155777
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
رضا اکیڈمی ممبئ +919867874598
رضا اکیڈمی بریلی +919325155777
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلسلہ حکایتیں اورنصیحتیں
حکایت نمبر:1
تاریخ:6 اکتوبر 2020
موضوع:نفسیاتی مریضہ بن گئی
تحریر:عبدہ المذنب سید کامران عطاری مدنی عفا عنہ الباری
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلاۃ والسلام علیک یارسول اللہ وعلی الک واصحابک یا حبیب اللہ
ایک ڈاکٹر کا بیان ہے کہ ایک خاتون اور اس کا خاوند اپنی جوان بچی کے علاج معالجے کے لئے میرے پاس آئے۔انہوں نے بتایا کہ ہماری بچی نے ایم ایس سی کیا ہوا ہے اور پورے خاندان میں ہنس مکھ،ملنسار،عقلمند مشہور تھی، ایم ایس سی کرنے کے بعد آئے روز رشتے آنا شروع ہوگئے لیکن سانولی رنگت کی وجہ سے جو لوگ بھی آتے کئی اسی وقت انکار کردیتے تو کئی فون پر معذرت کردیتے۔ رشتہ دیکھنے والے بچی کو اس انداز سے دیکھتے جیسے انہوں نے کوئی بھیڑ بکری خریدنی ہو۔ ان کے دیکھنے کے انداز،تیکھے سوالات اور پھر انکار نے ہماری پھول جیسی بچی کے دل کو ایسی ٹھیس پہنچائی کہ ہماری بچی شروع شروع میں کھوئی کھوئی رہتی پھر اس نے مکمل چپ سادھ لی ہر وقت اپنے آپ کو کمرے میں قید کیا ہوا ہے کھانا بھی زبردستی کھلانا پڑتا ہے۔ ایسی حالت کی وجہ سے ہماری بچی دن بدن کمزور ہوکر ہڈیوں کا ڈھانچا بن گئی ہے۔عاملوں کے پاس جائیں تو وہ کالے جادو کا کہہ دیتے ہیں ڈاکٹرز کے پاس جائیں تو وہ نفسیاتی مریضہ قرار دیتے ہیں،کسی بھی طریقہ علاج سے فائدہ نہیں ہو رہا۔بچی کے حالات بتاتے ہوئے دُکھیارے والدین نے رونا شروع کر دیا۔
نصیحت:ہم میں سے ہر ایک اس دنیا میں تنہا آتا ہے اور اکیلا ہی رخصت ہوتا ہے لیکن یہاں رہتا تنہا نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے،ہماری ذات سے کبھی کسی کو راحت پہنچتی ہے تو کبھی تکلیف اور کبھی کچھ بھی نہیں یعنی تکلیف نہ راحت،اگر دیگر مسلمانوں کو ہم سے راحت پہنچے گی تو نیتِ خیر ہونے کی صورت میں ہمیں اس کا ثواب ملے گا، بلا وجہِ شرعی تکلیف پہنچائیں گے تو عذاب کی حقداری ہے اور تیسری صورت میں نہ ثواب نہ عذاب۔کوشش ہونی چاہئے کہ ہم باعثِ زحمت نہیں سببِ راحت بنیں۔اس حوالے سے ہمارے رویّے مختلف ہوتے ہیں،بعض کی اس طرف خوب توجہ ہوتی ہے کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے،اگر ان سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچ بھی جائے تو انہیں احساسِ نَدامت ہوتا ہے اور وہ توبہ کرکے اس سے فورا معافی مانگ لیتے ہیں،جبکہ کچھ اس حوالے سے غفلت کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ انہوں نے کسی کو تکلیف پہنچا دی ہے اور کئی اس بات کی خواہش تو رکھتے ہیں کہ کسی کو ان سے تکلیف نہ پہنچے لیکن معلومات کی کمی اور غیر محتاط انداز کی وجہ سے اکثر انہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ اپنی حرکات وسکنات سے دوسرے کو تکلیف میں مبتلا کرچکے ہیں۔
ہمارا پیارا مذہب اسلام ہر مسلمان کی جان،مال اور عزت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے چنانچہ حضورِ پاک،صاحبِ لَولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ حرمت نشان ہے:کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ یعنی ہر مسلمان کا خون،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
(مسلم،کتاب البر والصلۃ،باب تحریم ظلم المسلم ۔۔۔الخ،ص 1386،حدیث:3564)
مُفَسِّرِ شَہِیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے،کسی کی آبروریزی نہ کرے،کسی مسلمان کو ناحق اور ظُلمًا قتل نہ کرے،کہ یہ سب سخت جُرْم ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،جلد 6،ص 553)
مفتی صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:مسلمان کو نہ تو دل میں حقیر جانو ! نہ اُسے حقارت کے الفاظ سے پکارو ! یا بُرے لَقَب سے یاد کرو ! نہ اس کا مذاق بناؤ ! آج ہم میں یہ عیب بہت ہے،پیشوں،نسبوں،یا غربت و اِفلاس کی وجہ سے مسلمان بھائی کو حقیر جانتے ہیں کہ وہ پنجابی ہے،وہ بنگالی،وہ سندھی،وہ سرحدی،اسلام نے یہ سارے فرق مٹا دیئے۔شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس چوس لیتی ہے تو ان کا نام شہد ہوجاتا ہے۔مختلف لکڑیوں کو آگ جلا دے تو اس کا نام راکھ ہوجاتا ہے۔یوں ہی جب حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے،حبشی ہو یا رُومی !(مراٰۃ المناجیح،جلد 6،ص 553)
دامنِ مصطفیٰ سے جو لپٹا یگانہ ہوگیا
جس کے حضور ہوگئے اس کا زمانہ ہوگیا
جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی بلا اِجازتِ شرعی مسلمان کو تکلیف دینا کتنی بڑی جُرأت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اعلیٰ حضرت،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف جلد 24 صَفْحَہ 342 میں طَبَرانِی شریف کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب،حبیبِ لبیب،طبیبوں کے طبیب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:مَنْ اٰذَی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰہ۔(یعنی) جس نے (بِلاوجہِ شَرعی) کسی مسلمان کو اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے
حکایت نمبر:1
تاریخ:6 اکتوبر 2020
موضوع:نفسیاتی مریضہ بن گئی
تحریر:عبدہ المذنب سید کامران عطاری مدنی عفا عنہ الباری
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلاۃ والسلام علیک یارسول اللہ وعلی الک واصحابک یا حبیب اللہ
ایک ڈاکٹر کا بیان ہے کہ ایک خاتون اور اس کا خاوند اپنی جوان بچی کے علاج معالجے کے لئے میرے پاس آئے۔انہوں نے بتایا کہ ہماری بچی نے ایم ایس سی کیا ہوا ہے اور پورے خاندان میں ہنس مکھ،ملنسار،عقلمند مشہور تھی، ایم ایس سی کرنے کے بعد آئے روز رشتے آنا شروع ہوگئے لیکن سانولی رنگت کی وجہ سے جو لوگ بھی آتے کئی اسی وقت انکار کردیتے تو کئی فون پر معذرت کردیتے۔ رشتہ دیکھنے والے بچی کو اس انداز سے دیکھتے جیسے انہوں نے کوئی بھیڑ بکری خریدنی ہو۔ ان کے دیکھنے کے انداز،تیکھے سوالات اور پھر انکار نے ہماری پھول جیسی بچی کے دل کو ایسی ٹھیس پہنچائی کہ ہماری بچی شروع شروع میں کھوئی کھوئی رہتی پھر اس نے مکمل چپ سادھ لی ہر وقت اپنے آپ کو کمرے میں قید کیا ہوا ہے کھانا بھی زبردستی کھلانا پڑتا ہے۔ ایسی حالت کی وجہ سے ہماری بچی دن بدن کمزور ہوکر ہڈیوں کا ڈھانچا بن گئی ہے۔عاملوں کے پاس جائیں تو وہ کالے جادو کا کہہ دیتے ہیں ڈاکٹرز کے پاس جائیں تو وہ نفسیاتی مریضہ قرار دیتے ہیں،کسی بھی طریقہ علاج سے فائدہ نہیں ہو رہا۔بچی کے حالات بتاتے ہوئے دُکھیارے والدین نے رونا شروع کر دیا۔
نصیحت:ہم میں سے ہر ایک اس دنیا میں تنہا آتا ہے اور اکیلا ہی رخصت ہوتا ہے لیکن یہاں رہتا تنہا نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے،ہماری ذات سے کبھی کسی کو راحت پہنچتی ہے تو کبھی تکلیف اور کبھی کچھ بھی نہیں یعنی تکلیف نہ راحت،اگر دیگر مسلمانوں کو ہم سے راحت پہنچے گی تو نیتِ خیر ہونے کی صورت میں ہمیں اس کا ثواب ملے گا، بلا وجہِ شرعی تکلیف پہنچائیں گے تو عذاب کی حقداری ہے اور تیسری صورت میں نہ ثواب نہ عذاب۔کوشش ہونی چاہئے کہ ہم باعثِ زحمت نہیں سببِ راحت بنیں۔اس حوالے سے ہمارے رویّے مختلف ہوتے ہیں،بعض کی اس طرف خوب توجہ ہوتی ہے کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے،اگر ان سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچ بھی جائے تو انہیں احساسِ نَدامت ہوتا ہے اور وہ توبہ کرکے اس سے فورا معافی مانگ لیتے ہیں،جبکہ کچھ اس حوالے سے غفلت کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ انہوں نے کسی کو تکلیف پہنچا دی ہے اور کئی اس بات کی خواہش تو رکھتے ہیں کہ کسی کو ان سے تکلیف نہ پہنچے لیکن معلومات کی کمی اور غیر محتاط انداز کی وجہ سے اکثر انہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ اپنی حرکات وسکنات سے دوسرے کو تکلیف میں مبتلا کرچکے ہیں۔
ہمارا پیارا مذہب اسلام ہر مسلمان کی جان،مال اور عزت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے چنانچہ حضورِ پاک،صاحبِ لَولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ حرمت نشان ہے:کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ یعنی ہر مسلمان کا خون،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
(مسلم،کتاب البر والصلۃ،باب تحریم ظلم المسلم ۔۔۔الخ،ص 1386،حدیث:3564)
مُفَسِّرِ شَہِیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے،کسی کی آبروریزی نہ کرے،کسی مسلمان کو ناحق اور ظُلمًا قتل نہ کرے،کہ یہ سب سخت جُرْم ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،جلد 6،ص 553)
مفتی صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:مسلمان کو نہ تو دل میں حقیر جانو ! نہ اُسے حقارت کے الفاظ سے پکارو ! یا بُرے لَقَب سے یاد کرو ! نہ اس کا مذاق بناؤ ! آج ہم میں یہ عیب بہت ہے،پیشوں،نسبوں،یا غربت و اِفلاس کی وجہ سے مسلمان بھائی کو حقیر جانتے ہیں کہ وہ پنجابی ہے،وہ بنگالی،وہ سندھی،وہ سرحدی،اسلام نے یہ سارے فرق مٹا دیئے۔شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس چوس لیتی ہے تو ان کا نام شہد ہوجاتا ہے۔مختلف لکڑیوں کو آگ جلا دے تو اس کا نام راکھ ہوجاتا ہے۔یوں ہی جب حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے،حبشی ہو یا رُومی !(مراٰۃ المناجیح،جلد 6،ص 553)
دامنِ مصطفیٰ سے جو لپٹا یگانہ ہوگیا
جس کے حضور ہوگئے اس کا زمانہ ہوگیا
جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی بلا اِجازتِ شرعی مسلمان کو تکلیف دینا کتنی بڑی جُرأت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اعلیٰ حضرت،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف جلد 24 صَفْحَہ 342 میں طَبَرانِی شریف کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب،حبیبِ لبیب،طبیبوں کے طبیب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:مَنْ اٰذَی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰہ۔(یعنی) جس نے (بِلاوجہِ شَرعی) کسی مسلمان کو اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے
مجھے ایذا دی اُس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو اِیذا دی۔(المعجم الاوسط،جلد 3،ص 387،حدیث 3607)
اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایذا دینے والوں کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پارہ22 سورۃُ الْاَحزاب آیت 57 میں ارشاد فرماتاہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿57﴾
ترجَمۂ کنزالایمان:بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللّٰہ اور اس کے رسول کوان پر اللّٰہ کی لعنت ہے دنیا وآخرت میں اور اللّٰہ نے ان کیلئے ذلّت کا عذاب تیارکررکھا ہے۔
ذراسوچئے کہ کون سا مسلمان اس بات کو گوارہ کرے گا کہ وہ اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اِیذا دے اور جہنم کے عذاب کا مستحق قرار پائے!ہم قہرِقہّار اور غضبِ جبّار عزوجل سے اُسی کی پناہ مانگتے ہیں۔
خدایا! کسی کا نہ دل میں دکھاؤں
اماں تیرے اَبَدی عذابوں سے پاؤں
کس قدر بدترین جُرْم ہے!
حضرتِ سیدنا فُضَیل رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ کتّے اور سؤر کو بھی ناحق اِیذا (یعنی تکلیف)دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو اِیذا دینا کس قدر بدترین جُرْم ہے۔(خزائن العرفان،پ22،الاحزاب،زیرِ آیت :58)
(کتاب تکلیف نہ دیجئے از المدینۃ العلمیۃ سے اقتباس)
سمجھدار اور عقلمند کے لیے اتنی ہی نصیحت کافی ہے۔
اس سلسلے کے حوالے سے اگر آپ ہمیں کوئی مفید مشورہ دینا چاہیں یا ہمارے ساتھ مل کے دینِ اسلام کی خدمت کرنا چاہیں یا اپنے دوستوں،رشتہ داروں کو اس سلسلے میں شامل کرنا چاہیں تو اس نمبر پر وٹس اپ میسج کریں۔ شکریہ
وٹس اپ نمبر:00923155322470
طالبِ دعا: سید کامران عطاری مدنی عفی عنہ
فیس بک لنک:https://www.facebook.com/SyedKamran786
اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایذا دینے والوں کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پارہ22 سورۃُ الْاَحزاب آیت 57 میں ارشاد فرماتاہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿57﴾
ترجَمۂ کنزالایمان:بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللّٰہ اور اس کے رسول کوان پر اللّٰہ کی لعنت ہے دنیا وآخرت میں اور اللّٰہ نے ان کیلئے ذلّت کا عذاب تیارکررکھا ہے۔
ذراسوچئے کہ کون سا مسلمان اس بات کو گوارہ کرے گا کہ وہ اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اِیذا دے اور جہنم کے عذاب کا مستحق قرار پائے!ہم قہرِقہّار اور غضبِ جبّار عزوجل سے اُسی کی پناہ مانگتے ہیں۔
خدایا! کسی کا نہ دل میں دکھاؤں
اماں تیرے اَبَدی عذابوں سے پاؤں
کس قدر بدترین جُرْم ہے!
حضرتِ سیدنا فُضَیل رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ کتّے اور سؤر کو بھی ناحق اِیذا (یعنی تکلیف)دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو اِیذا دینا کس قدر بدترین جُرْم ہے۔(خزائن العرفان،پ22،الاحزاب،زیرِ آیت :58)
(کتاب تکلیف نہ دیجئے از المدینۃ العلمیۃ سے اقتباس)
سمجھدار اور عقلمند کے لیے اتنی ہی نصیحت کافی ہے۔
اس سلسلے کے حوالے سے اگر آپ ہمیں کوئی مفید مشورہ دینا چاہیں یا ہمارے ساتھ مل کے دینِ اسلام کی خدمت کرنا چاہیں یا اپنے دوستوں،رشتہ داروں کو اس سلسلے میں شامل کرنا چاہیں تو اس نمبر پر وٹس اپ میسج کریں۔ شکریہ
وٹس اپ نمبر:00923155322470
طالبِ دعا: سید کامران عطاری مدنی عفی عنہ
فیس بک لنک:https://www.facebook.com/SyedKamran786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ASLAM NABEEL AZHARI
*امام ابو حنیفہ حدیث کے بھی امام اعظم تھے*.
مخالفین ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ :
"امام ابو حنیفہ کے پاس ذخیرۂ حدیث کی کمی تھی".
جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی تصانیف میں ذکر کردہ ستر ہزار(70000) سے زیادہ احادیث اور ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے فقہ حنفی کے مسائل، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں، کہ امام ابو حنیفہ کے پاس بڑی مقدار میں احادیث کریمہ موجود تھیں۔
ہم اس مختصر تحریر میں اس موضوع سے متعلق کوئی تفصیلی گفتگو نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ سر دست ہم صرف چند حوالے پیش کرتے ہیں؛ جن سے امام الائمہ، کاشف الغمہ، امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا کثیر الحدیث ہونا بخوبی معلوم ہوجائے گا۔
*---پہلا حوالہ---*
*امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک نشست میں تین سو حدیثیں زبانی سنادیں۔*
امام عبد اللہ بن فروخ فارسی مالکی (م ١٧٦/ھ) فرماتے ہیں:
کہ ایک دن میں امام ابو حنیفہ کے ساتھ آپ کے گھر بیٹھا ہوا تھا، اچانک گھر کی چھت سے ایک اینٹ گری اور میرا سر زخمی ہو گیا؛ امام ابو حنیفہ نے فرمایا: " اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس چوٹ کی دیت (خون بہا) دے دوں ، یا آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کے بدلے تین سو (300) حدیثیں سنا دوں؛ تو علامہ عبد اللہ بن فروخ نے کہا : مجھےحدیثیں سنا دیجیئے!
امام اعظم نے ان کو تین سو احادیث سنا دیں۔
(ریاض النفوس،از علامہ ابوبکر مالکی صفحہ١٨١/ مطبوعہ دار الغرب الاسلامی بیروت)۔
(ترتیب المدارک، از امام قاضی عیاض مالکی، ج٣/، ص١٠٩/ مطبوعہ وزارۃ الاوقاف، المغرب) ۔
*-- دوسرا حوالہ --*
*امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گھر بھر کر حدیث کی کتابیں تھیں*.
علامہ سید مرتضی حسینی بلگرامی، زبیدی رحمۃ اللہ علیہ(م ١٢٠٥/ھ)" عقود الجواھر المنیفۃ فی أدلۃ مذھب الامام أبی حنیفۃ" میں رقم طراز ہیں : کہ یحی بن نصر فرماتے ہیں: کہ میں نے (امام) ابوحنیفہ سے ایک گھر میں ملاقات کی جو کتابوں سے بھرا ہوا تھا؛ میں نے کہا: یہ کیسی کتابیں ہیں؟، آپ نے فرمایا : "یہ سب حدیثیں ہیں، میں نے ان میں سے صرف اتنی حدیثیں لوگوں کو سنائی ہیں؛ جن سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے".
(عقود الجواھر المنیفۃ، از علامہ مرتضی حسنی زبیدی، ج١/ ص٨٠/ مطبوعہ،الجامعۃ الاشرفیۃ، مبارکپور، اعظم گڑھ)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دو درجن حدیث کی کتابیں نہیں تھیں، بلکہ آپ کے پاس اتنی زیادہ کتابیں تھیں کہ ان سے پورا گھر بھرا ہوا تھا۔
کیا اس کے بعد بھی کسی کو یہ کہنے کا حق ہے کہ آپ کے پاس ذخیرۂ حدیث کی کمی تھی!!
*--- تیسرا حوالہ---*
*امام اعظم ابو حنیفہ کو پانچ لاکھ (500000)سے زیادہ احادیث زبانی یاد تھیں*
ابن تیمیہ کے شاگرد ، علامہ ابن القیم (م٧٥١/ھ) "اعلام الموقعین" میں لکھتے ہیں:
کہ ایک شخص نےحضرت امام احمد بن حنبل(م٢٤١/ھ) رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص ایک لاکھ (100000)احادیث یاد کرلے تو کیا وہ فقیہ بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا:نہیں۔
اس نے کہا: تو کیا دو لاکھ(200000) سے بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا: نہیں۔
اس نے کہا: کیا تین لاکھ(300000) سے بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا: نہیں۔
اس نے کہا: تو کیا چار لاکھ(400000) احادیث سے فقیہ بن جائے گا؟.
آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرما: اب وہ لوگوں کو فتوی دینے کے لائق ہو سکتا ہے۔
(اعلام الموقعین از ابن قیم الجوزیۃ، ج١/ص ٤٥/ مطبعۃ السعادۃ، مصر)۔
(امام احمد بن حنبل سے ایک روایت پانچ لاکھ کی بھی ہے).
اسی طرح کا سوال امام الجرح والتعدیل حضرت یحی بن معین (تلمیذ امام محمد، استاذ امام بخاری ) رحمۃ اللہ علیہ (م٢٣٣/ھ) سے بھی کیا گیا تھا ، تین مرتبہ آپ نے فتوی دینے سے منع کیا، سائل نے چوتھی مرتبہ آپ سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص پانچ لاکھ (500000) احادیث یاد کرنے کے بعد فتوی دے سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ اب وہ فتوی دے سکتا ہے۔
( الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع ، از علامہ احمد بن خطیب بغدادی، ج٢/ ص ١٧٤/ مطبوعہ مکتبۃ المعارف ریاض۔)
امامین جلیلین احمد بن حنبل، یحی بن معین علیہما الرحمۃ کے مذکورہ اقوال سے پتا چلا کہ ایک ادنی مجتہد کے لیے چار یا پانچ لاکھ احادیث کا مجموعہ یاد ہونا ضروری ہے، اس سے کم میں اس کو فتوی دینا یا اجتہاد کرنا جائز نہیں؛ تو جس ہستی کو امام سفیان ثوری،امام دار الہجرت امام مالک، امام شافعی، امام عبد اللہ بن مبارک جیسے جلیل القدر ائمۂ اسلام، بحر تحقیق کے شناور، حزم واحتیاط کے اساطین نے مجتہد ہی نہیں بلکہ امام المجتہدین تسلیم کیا ہو، اور کبھی "إنه أفقه أهل الأرض" اورکبھی "إنه لفقيه "، کبھی"الفقهاء في الفقه عيال على أبي حنيفة "، کبھی"أفقه الناس " کہہ کر ان کی مجتہدانہ شان کو بیان کیا ہو، اس بابرکت ہستی کو کتنی احادیث ازبر ہوں گی؟ اس کا اندازہ لگاپانا مشکل امر ہے۔
*ایک ضروری بات کی وضاحت!*
یہ جو اوپر بیان ہوا کہ مجتہد کے لیے کم از کم چار یا پانچ لاکھ احادیث یاد
ہونا ضروری ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ک
مخالفین ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ :
"امام ابو حنیفہ کے پاس ذخیرۂ حدیث کی کمی تھی".
جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی تصانیف میں ذکر کردہ ستر ہزار(70000) سے زیادہ احادیث اور ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے فقہ حنفی کے مسائل، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں، کہ امام ابو حنیفہ کے پاس بڑی مقدار میں احادیث کریمہ موجود تھیں۔
ہم اس مختصر تحریر میں اس موضوع سے متعلق کوئی تفصیلی گفتگو نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ سر دست ہم صرف چند حوالے پیش کرتے ہیں؛ جن سے امام الائمہ، کاشف الغمہ، امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا کثیر الحدیث ہونا بخوبی معلوم ہوجائے گا۔
*---پہلا حوالہ---*
*امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک نشست میں تین سو حدیثیں زبانی سنادیں۔*
امام عبد اللہ بن فروخ فارسی مالکی (م ١٧٦/ھ) فرماتے ہیں:
کہ ایک دن میں امام ابو حنیفہ کے ساتھ آپ کے گھر بیٹھا ہوا تھا، اچانک گھر کی چھت سے ایک اینٹ گری اور میرا سر زخمی ہو گیا؛ امام ابو حنیفہ نے فرمایا: " اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس چوٹ کی دیت (خون بہا) دے دوں ، یا آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کے بدلے تین سو (300) حدیثیں سنا دوں؛ تو علامہ عبد اللہ بن فروخ نے کہا : مجھےحدیثیں سنا دیجیئے!
امام اعظم نے ان کو تین سو احادیث سنا دیں۔
(ریاض النفوس،از علامہ ابوبکر مالکی صفحہ١٨١/ مطبوعہ دار الغرب الاسلامی بیروت)۔
(ترتیب المدارک، از امام قاضی عیاض مالکی، ج٣/، ص١٠٩/ مطبوعہ وزارۃ الاوقاف، المغرب) ۔
*-- دوسرا حوالہ --*
*امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گھر بھر کر حدیث کی کتابیں تھیں*.
علامہ سید مرتضی حسینی بلگرامی، زبیدی رحمۃ اللہ علیہ(م ١٢٠٥/ھ)" عقود الجواھر المنیفۃ فی أدلۃ مذھب الامام أبی حنیفۃ" میں رقم طراز ہیں : کہ یحی بن نصر فرماتے ہیں: کہ میں نے (امام) ابوحنیفہ سے ایک گھر میں ملاقات کی جو کتابوں سے بھرا ہوا تھا؛ میں نے کہا: یہ کیسی کتابیں ہیں؟، آپ نے فرمایا : "یہ سب حدیثیں ہیں، میں نے ان میں سے صرف اتنی حدیثیں لوگوں کو سنائی ہیں؛ جن سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے".
(عقود الجواھر المنیفۃ، از علامہ مرتضی حسنی زبیدی، ج١/ ص٨٠/ مطبوعہ،الجامعۃ الاشرفیۃ، مبارکپور، اعظم گڑھ)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دو درجن حدیث کی کتابیں نہیں تھیں، بلکہ آپ کے پاس اتنی زیادہ کتابیں تھیں کہ ان سے پورا گھر بھرا ہوا تھا۔
کیا اس کے بعد بھی کسی کو یہ کہنے کا حق ہے کہ آپ کے پاس ذخیرۂ حدیث کی کمی تھی!!
*--- تیسرا حوالہ---*
*امام اعظم ابو حنیفہ کو پانچ لاکھ (500000)سے زیادہ احادیث زبانی یاد تھیں*
ابن تیمیہ کے شاگرد ، علامہ ابن القیم (م٧٥١/ھ) "اعلام الموقعین" میں لکھتے ہیں:
کہ ایک شخص نےحضرت امام احمد بن حنبل(م٢٤١/ھ) رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص ایک لاکھ (100000)احادیث یاد کرلے تو کیا وہ فقیہ بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا:نہیں۔
اس نے کہا: تو کیا دو لاکھ(200000) سے بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا: نہیں۔
اس نے کہا: کیا تین لاکھ(300000) سے بن جائے گا؟.
آپ نے فرمایا: نہیں۔
اس نے کہا: تو کیا چار لاکھ(400000) احادیث سے فقیہ بن جائے گا؟.
آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرما: اب وہ لوگوں کو فتوی دینے کے لائق ہو سکتا ہے۔
(اعلام الموقعین از ابن قیم الجوزیۃ، ج١/ص ٤٥/ مطبعۃ السعادۃ، مصر)۔
(امام احمد بن حنبل سے ایک روایت پانچ لاکھ کی بھی ہے).
اسی طرح کا سوال امام الجرح والتعدیل حضرت یحی بن معین (تلمیذ امام محمد، استاذ امام بخاری ) رحمۃ اللہ علیہ (م٢٣٣/ھ) سے بھی کیا گیا تھا ، تین مرتبہ آپ نے فتوی دینے سے منع کیا، سائل نے چوتھی مرتبہ آپ سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص پانچ لاکھ (500000) احادیث یاد کرنے کے بعد فتوی دے سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ اب وہ فتوی دے سکتا ہے۔
( الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع ، از علامہ احمد بن خطیب بغدادی، ج٢/ ص ١٧٤/ مطبوعہ مکتبۃ المعارف ریاض۔)
امامین جلیلین احمد بن حنبل، یحی بن معین علیہما الرحمۃ کے مذکورہ اقوال سے پتا چلا کہ ایک ادنی مجتہد کے لیے چار یا پانچ لاکھ احادیث کا مجموعہ یاد ہونا ضروری ہے، اس سے کم میں اس کو فتوی دینا یا اجتہاد کرنا جائز نہیں؛ تو جس ہستی کو امام سفیان ثوری،امام دار الہجرت امام مالک، امام شافعی، امام عبد اللہ بن مبارک جیسے جلیل القدر ائمۂ اسلام، بحر تحقیق کے شناور، حزم واحتیاط کے اساطین نے مجتہد ہی نہیں بلکہ امام المجتہدین تسلیم کیا ہو، اور کبھی "إنه أفقه أهل الأرض" اورکبھی "إنه لفقيه "، کبھی"الفقهاء في الفقه عيال على أبي حنيفة "، کبھی"أفقه الناس " کہہ کر ان کی مجتہدانہ شان کو بیان کیا ہو، اس بابرکت ہستی کو کتنی احادیث ازبر ہوں گی؟ اس کا اندازہ لگاپانا مشکل امر ہے۔
*ایک ضروری بات کی وضاحت!*
یہ جو اوپر بیان ہوا کہ مجتہد کے لیے کم از کم چار یا پانچ لاکھ احادیث یاد
ہونا ضروری ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ک
Forwarded from ASLAM NABEEL AZHARI
ہ احادیث کی صرف اتنی مقدار حفظ کرنے سے وہ درجۂ اجتہاد پر فائز ہوجائے گا۔
بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنی حدیثیں یاد کرنے کے ساتھ دوسرے علوم و فنون میں بھی مہارت رکھتا ہو۔
علمائے اصول نے اپنی تصنیفات میں مجتہد کی چند شرطیں ذکر کی ہیں، جن کے تحقق کے بغیر بندہ مجتہد نہیں ہو سکتا۔
طوالت سے بچتے ہوئے ہم ذیل میں حافظ مشرق، علامہ خطیب بغدادی ( م ٤٦٣/ ھ) کی کتاب"الفقیہ والمتفقہ " سے ان شرائط کا ذکر مناسب سمجھتے ہیں؛ جن کو علامہ خطیب نے حضرت امام شافعی علیہ الرحمۃ سے روایت کیا ہے۔
امام شافعی نے فرمایا ہے کہ: مجتہد کو مندرجہ ذیل صفات سے متصف ہونا لازمی ہے؛ کہ جن کے بغیر کوئی شخص رتبۂ اجتہاد پر متمکن نہیں ہوسکتا، وہ صفات یہ ہیں:
(١)کتاب اللہ ( قرآن مجید)کے ناسخ و منسوخ، محکم ومتشابہ، تاویل وتنزیل، مکی ومدنی، نیز ان کی مراد، شان نزول کا علم رکھتا ہو۔
(علامہ احمد قسطلانی کے بقول مجتہد کا قرآن مجید کی مختلف قراءتوں سے واقف ہونا بھی ضروری ہے)
(٢) ناسخ و منسوخ احادیث کا علم اور احادیث سے متعلق ان امور کا علم رکھتاہو؛ جن کا ذکر کتاب اللہ کی شرط میں گذرا۔
(٣) لغات عرب، اشعار عرب اور ان چیزوں سے خوب اچھی طرح واقف ہو جن کی قرآن وحدیث سمجھنے میں ضرورت پیش آتی ہے۔
(٤) انصاف پسند ہو۔
(٥)قلیل الکلام ہو۔
(٦) فقہا کے اختلاف سے واقفیت رکھتا ہو۔
(٧) "فقیہ النفس"ہو۔
(فقیہ النفس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطری طور پر مقاصد کلام کو اچھی طرح سمجھنے والا ہو ) ۔
فقیہ النفس ہونا ایسی صفت ہے؛ جو انسان کو اپنے کسب سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ صفت عطائی ہوتی ہے۔
( الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی، ج٢/ ص ١٥٧/ ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)۔
حافظ مغرب، علامہ یوسف بن عبد اللہ بن عبد البر مالکی، قرطبی علیہ الرحمۃ ( م ٤٦٣/ ھ) نے "جامع بیان العلم وفضلہ" میں شروط مذکورہ پر کچھ شرطوں کا اضافہ کیا ہے، جو درج ذیل ہیں۔
(٨) سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمیق مطالعہ ہو۔
(٩) حدیث روایت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے احوال سے واقف ہو۔
(١٠) علم اسماۓ الرجال سے واقفیت ہو۔
(١١) مذکورہ اوصاف کے ساتھ عمل صالح، زہد و تقویٰ سے آراستہ ہو۔
(جامع بیان العلم وفضلہ، از علامہ ابن عبد البر مالکی، ج ٢/ ص ١٦٦/ مطبوعہ بیروت)۔
اس مختصر تحریر سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوگئی کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ دوسرے ائمۂ اسلام کی مانند فقہ و حدیث دونوں میں بلند ترین مقام پر فائز تھے؛ مخالفین عصبیت اور اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے امام ہمام کے رتبے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی عظمت کو سمجھنے کے لیے تعصب کی عینک اتارنا ضروری ہے، کیوں کہ:
قد تنكر العين ضوء الشمس من رمد
وينكر الفم طعم الماءِ من ســــــقم.
کبھی آنکھ آشوب چشم کی وجہ سے آفتاب کی روشنی کا ہی انکار کر دیتی ہے۔
اور منھ بیماری کے سبب پانی کے ذائقے کا منکر ہوجاتا ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بحر علم و فضل سے سیرابی کی توفیق مرحمت فرمائے۔
____تحریر :
*محمد اسلم نبیل ازہری*،
استاذ جامعہ احسن البرکات،
خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ، ایٹہ۔
٦/ اکتوبر ٢٠٢٠/ ء
موبائل: 9639671905
بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنی حدیثیں یاد کرنے کے ساتھ دوسرے علوم و فنون میں بھی مہارت رکھتا ہو۔
علمائے اصول نے اپنی تصنیفات میں مجتہد کی چند شرطیں ذکر کی ہیں، جن کے تحقق کے بغیر بندہ مجتہد نہیں ہو سکتا۔
طوالت سے بچتے ہوئے ہم ذیل میں حافظ مشرق، علامہ خطیب بغدادی ( م ٤٦٣/ ھ) کی کتاب"الفقیہ والمتفقہ " سے ان شرائط کا ذکر مناسب سمجھتے ہیں؛ جن کو علامہ خطیب نے حضرت امام شافعی علیہ الرحمۃ سے روایت کیا ہے۔
امام شافعی نے فرمایا ہے کہ: مجتہد کو مندرجہ ذیل صفات سے متصف ہونا لازمی ہے؛ کہ جن کے بغیر کوئی شخص رتبۂ اجتہاد پر متمکن نہیں ہوسکتا، وہ صفات یہ ہیں:
(١)کتاب اللہ ( قرآن مجید)کے ناسخ و منسوخ، محکم ومتشابہ، تاویل وتنزیل، مکی ومدنی، نیز ان کی مراد، شان نزول کا علم رکھتا ہو۔
(علامہ احمد قسطلانی کے بقول مجتہد کا قرآن مجید کی مختلف قراءتوں سے واقف ہونا بھی ضروری ہے)
(٢) ناسخ و منسوخ احادیث کا علم اور احادیث سے متعلق ان امور کا علم رکھتاہو؛ جن کا ذکر کتاب اللہ کی شرط میں گذرا۔
(٣) لغات عرب، اشعار عرب اور ان چیزوں سے خوب اچھی طرح واقف ہو جن کی قرآن وحدیث سمجھنے میں ضرورت پیش آتی ہے۔
(٤) انصاف پسند ہو۔
(٥)قلیل الکلام ہو۔
(٦) فقہا کے اختلاف سے واقفیت رکھتا ہو۔
(٧) "فقیہ النفس"ہو۔
(فقیہ النفس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطری طور پر مقاصد کلام کو اچھی طرح سمجھنے والا ہو ) ۔
فقیہ النفس ہونا ایسی صفت ہے؛ جو انسان کو اپنے کسب سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ صفت عطائی ہوتی ہے۔
( الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی، ج٢/ ص ١٥٧/ ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)۔
حافظ مغرب، علامہ یوسف بن عبد اللہ بن عبد البر مالکی، قرطبی علیہ الرحمۃ ( م ٤٦٣/ ھ) نے "جامع بیان العلم وفضلہ" میں شروط مذکورہ پر کچھ شرطوں کا اضافہ کیا ہے، جو درج ذیل ہیں۔
(٨) سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمیق مطالعہ ہو۔
(٩) حدیث روایت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے احوال سے واقف ہو۔
(١٠) علم اسماۓ الرجال سے واقفیت ہو۔
(١١) مذکورہ اوصاف کے ساتھ عمل صالح، زہد و تقویٰ سے آراستہ ہو۔
(جامع بیان العلم وفضلہ، از علامہ ابن عبد البر مالکی، ج ٢/ ص ١٦٦/ مطبوعہ بیروت)۔
اس مختصر تحریر سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوگئی کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ دوسرے ائمۂ اسلام کی مانند فقہ و حدیث دونوں میں بلند ترین مقام پر فائز تھے؛ مخالفین عصبیت اور اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے امام ہمام کے رتبے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی عظمت کو سمجھنے کے لیے تعصب کی عینک اتارنا ضروری ہے، کیوں کہ:
قد تنكر العين ضوء الشمس من رمد
وينكر الفم طعم الماءِ من ســــــقم.
کبھی آنکھ آشوب چشم کی وجہ سے آفتاب کی روشنی کا ہی انکار کر دیتی ہے۔
اور منھ بیماری کے سبب پانی کے ذائقے کا منکر ہوجاتا ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بحر علم و فضل سے سیرابی کی توفیق مرحمت فرمائے۔
____تحریر :
*محمد اسلم نبیل ازہری*،
استاذ جامعہ احسن البرکات،
خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ، ایٹہ۔
٦/ اکتوبر ٢٠٢٠/ ء
موبائل: 9639671905