🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
اعلیٰ حضرت محافظ مسلک حنفیت اعلیٰ کی تمام تصانیف | خصوصیات بالوں میں خضاب لگانا کیسا ہے ؟ کیا نکاح کے لئے مرد سیاہ خضاب شعر : ان کی مہک نے دل کے غنچے امام احمد رضا غیر مسلم ماہرین کیا حسن حسین وسمہ کا خضاب نا محرم عورتوں کا مشائخین بوسہ ایام عرس میں ہونے والی…
امام احمد رضا تھانوی کی نظر میں
اعلیٌ حضرت تھانوی کی نظر میں!!
دودھ پیتے بچے کا پیشاب پاک یا ناپاک
مسلمانوں کو کھڑے ہوکر پیشاب کرنا
شعر : نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ
اعتراف حقیقت اور امام احمد رضا
تعظیم نبی ﷺ اور امام احمد رضا
آستین کہنی سے اوپر چڑھا کر نماز
مردوں کو کس طرح کی انگوٹھی
شعر : عرش حق ہے مسند رفعت ...
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜 ⁷
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
اعلیٌ حضرت تھانوی کی نظر میں!!
دودھ پیتے بچے کا پیشاب پاک یا ناپاک
مسلمانوں کو کھڑے ہوکر پیشاب کرنا
شعر : نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ
اعتراف حقیقت اور امام احمد رضا
تعظیم نبی ﷺ اور امام احمد رضا
آستین کہنی سے اوپر چڑھا کر نماز
مردوں کو کس طرح کی انگوٹھی
شعر : عرش حق ہے مسند رفعت ...
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜 ⁷
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بیوی سے مخلصانہ محبت کرنے والے اِس رکشہ ڈرائیور کی ویڈیو دیکھی ، اچھی لگی ۔
بیوی اللہ پاک کی طرف سے وہ نعمت ہے جو ہمارا آدھا ایمان محفوظ کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ہماری ، ہمارے گھر بار کی حفاظت کرتی ہے ؛ ہمارے بال بچوں کی پرورش کرتی ہے ، دُکھ سُکھ میں ہمارا ساتھ دیتی ہے ۔
بیوی کا احساس کرنا چاہیے اور بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے ۔
رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو بدر میں شریک ہونے سے منع کردیا تھا کیوں کہ اُن کی اہلیہ محترمہ بیمار تھیں ۔
آپ کے لیے حکم تھا کہ ( جہاد پر جانے کے بجائے ) اپنی بیوی کی تیمارداری کریں ۔
" آپ کو اس شخص کے برابر اجر مل جائے گا جو بدر میں شریک ہو گا "
( بخاری شریف ، ر 4066 )
رحمت عالم ﷺ نے ان لوگوں کو بہترین قرار دیاہے جو عورتوں ( بیویوں ) کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے ہیں ۔
( دیکھیے: ترمذی شریف ، ر 1162 )
✍️لقمان شاہد
5-10-2020 ء
https://www.facebook.com/100008105947430/posts/2973293719617464/
بیوی اللہ پاک کی طرف سے وہ نعمت ہے جو ہمارا آدھا ایمان محفوظ کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ہماری ، ہمارے گھر بار کی حفاظت کرتی ہے ؛ ہمارے بال بچوں کی پرورش کرتی ہے ، دُکھ سُکھ میں ہمارا ساتھ دیتی ہے ۔
بیوی کا احساس کرنا چاہیے اور بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے ۔
رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو بدر میں شریک ہونے سے منع کردیا تھا کیوں کہ اُن کی اہلیہ محترمہ بیمار تھیں ۔
آپ کے لیے حکم تھا کہ ( جہاد پر جانے کے بجائے ) اپنی بیوی کی تیمارداری کریں ۔
" آپ کو اس شخص کے برابر اجر مل جائے گا جو بدر میں شریک ہو گا "
( بخاری شریف ، ر 4066 )
رحمت عالم ﷺ نے ان لوگوں کو بہترین قرار دیاہے جو عورتوں ( بیویوں ) کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے ہیں ۔
( دیکھیے: ترمذی شریف ، ر 1162 )
✍️لقمان شاہد
5-10-2020 ء
https://www.facebook.com/100008105947430/posts/2973293719617464/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*فاضل_بريلوى_تحقيق*
(ایک بار لازمی پڑھیں)
محقق اہل سنت مفتی حق النبی سکندری صاحب زید مجدہ
ايک فاضل كا تبصره پڑھ کر نہایت افسوس ہوا، کہ حضرت فاضل بريلوى عليہ الرحمة كى تمام كتب سوالوں كے جوابات میں تاليف ہوئيں، لهذا وه كوئى گراں قدر علمى اضافہ نہیں اور نہ ہی وقيع اضافہ کہلائیں گی، کوئى مستقل تصنيف پیش کریں.
ایسے جدل ميں پڑنا، نہ میرا تخصص نہ ہی مزاج پر حقيقت بيان كرنا ضرورى ہے، کیونکہ بعض اوقات غلط بات اتنے خوبصورت الفاظ اور القاب سے گردش کرتی کہ وقت گذرنے کے ساتھ حقيقت محسوس ہونے لگتی ہے.
اس مختصر جواب كو اپنی کسی بھی رائے سے دور رکھنے کی کوشش ہوگی ، فقط اسلامى عربى لٹریچر کی روشنی میں چند گزارشات پیش ہیں جنہیں بغور پڑھنے سے دو باتیں سمجھ آجائينگی:
ايک: سائل كا مبلغ علم اور علوم كا مطالعہ.
دوم: فاضل بريلوى قدس سره العزيز،كي تصانيف متقدمين ومتاخرين كے ہاں مذكور مقاصد تاليف، دواعي تاليف كے مطابق ہیں یا نہیں!
ہمیں یقين ہے کہ سائل اگر مقاصد تاليف كی فقط معلومات (گہرائى و گیرائى تو دور کی بات ہے) بھی رکھتے تو یہ سوال ہی انہیں نہ کرنا پڑتا.
اسلامى عربى لٹریچر اس عنوان سے بھرا پڑا ہے کہ: درست سوال، اعتراض، حسن مسالة، نصف علم ہے،جس سے سائل يا معترض كے مبلغ علم كا اندازه ہوجایا کرتا ہے.
سيدنا ابن عباس فرماتے ہیں: ما سألني أحد عن مسألة إلا عرفت، فقيه أو غير فقيه.
جس نے بھی مجھ سے كوئي مسئلہ پوچھا، میں اسکے (سوال سے ہی) اسکا عالم یا جاہل ہونا جان گیا.
علامہ خطيب بغدادى امام مالک سے (بسندہ) نقل فرماتے ہیں کہ: زيد بن أسلم كے پاس، ابن عجلان كچھ پوچھنے آئے، اور سوال میں ہی گڑ بڑ کردی! زيد بن اسلم نےب فرمايا كہ: جاؤ جاكر صحيح سوال كرنا سيکھو پھر پوچھنے آجانا.
مطلب كہ سوال سے ہی سائل كى علمی حقيقت کھل کر سامنے آجاتی ہے.
اب اصل جواب كى طرف آئيے.
أولا: ابن خلدون،ابن حزم، أبوبكر المعافرى الإشبيلى، الكلاعى اور احمد المقرى التلمسانى ابو حيان وغيره... نے اس پر مستقل کلام فرمايا ہے کہ آخر: تصنيف وتأليف كے مقاصد كيا ہیں؟
اگرچہ ان علماء كے علاوه سينکڑوں دیگر مصنفين نے بھی اس پر گفتگو فرمائى ہے پر یہاں مقصود اولين اس پر بولنے والے ہیں.
ان سب محققين، مؤرخين و ادباء كا تقريبا اس پر اتفاق ہے کہ جب بھی کوئى تصنيف كرے یا تاليف(تصنيف و تاليف ميں دقيق فرق ہے جو غالبا سائل پر اب تک مخفى ہو) اس میں سات (7) مقاصد ميں سے کسی ایک کا پایا جانا ضرورى ہے، اگر ان ميں سے كوئى ايک بھی پایا گیا تو ان محقق علماء كے ہاں وہ تصنيف يا تاليف (وقيع اضافہ) بھی گردانی جائيگی اور علمى كام بھی.
وہ مقاصد تاليف ان علماء كى زبانى یہاں ذكر كيئے جا رہے ہیں اور قارئين سے التماس ہے کہ کیا ان مین سے کوئى ايک بھی فاضل بريلوي كى كتب ميں بدرجہ اتم موجود نہیں؟
وه يہ ہیں:
1- إما شيئ لم يسبق إلى استخراجہ فيستخرجه.
2- وإما شيئ ناقص فيتممه.
3- وإما شيئ مخطأ فيصححه.
4-ولما شيئ مستغلق فيشرحه.
5- وإما شيئ طويل فيختصره.
6-وإما شيئ مفترق فيجمعه.
7-وإما شيئ منثور فيجمعه.
ان مقاصد كو ايک عربی شاعر نے یوں نظم بھی فرمايا ہے:
ألا فاعلمن أن التآليف سبعة
لكل لبيب في النصيحة خالص
فشرح لأغلاق وتصحيح مخطئ
وإبداع حبر مقدم غير ناقص
وترتيب منثور وجمع مفرق
وتقصير تطويل وتتميم ناقص
متاخر مشہور عالم حاجي خليفہ كشف الظنون ميں فرماتے ہیں کہ: جو بھی کسی فن پر کتاب لکھے، اسکی کتاب میں یہ پانچ فوائد ہونا ضرورى ہیں:
1- استنباط شيئ كان معضلا.
2- جمعه إن كان مفرقا.
3- شرحه إن كان غامضا.
4- حسن نظم وتاليف.
5- إسقاط حشو وتطويل.
اب ان تمام مقاصد اور فوائد تاليف كو ديکھ کر،فاضل بريلوى قدس سره كي تصانيف ديکھی جائيں تو بلاشبہ علمی تحقيقى معيار كيساتھ ساتھ مقاصد تاليف پر بھی بدرجہ اتم پوری اترتی ہیں!
ابن خلدون وديگر عرب ناقدین كى كسوٹی پر جن کی کتب (مفيد اضافہ) کا ٹائيٹل پالیں بھلا ان پر کسی عجمی پروفيسر كا اعتراض كيونكر درست ہوسکتا ہے!
ثانيا: یہ بات تو طفل مكتب بھی سمجھتا ہے کہ کسی فن پر ایک شخص مستقل لکھے بھی اور اپنے تيئيں اسے (علمى اضافہ) بھی سمجھے مگر حقيقت ميں وه (كاپی پیسٹ) یا (محض سرکھپائى) كا مجموعہ نکلے تو کیا ایسی تصنيف (علمى اضافہ) کہلائے گی؟
ثالثا: مقصود اصلى علم وافاده اور تحقيق ہے،چاہے وہ مستفتى كے جواب ميں ہو چاہے مستقلا تصنيف سے ہو.
اور بلاشبہ یہ يہ چیزيں حضرت فاضل بريلوى قدس سره العزيز كى تاليفات ميں موجود ہیں.
والحق أحق أن يقال.
نوٹ: اختلاف كا حق سب كو نہیں صرف انكو ہے جو: نمبر ايک: موضوع بحث كى اساسيات سے بخوبى واقف ہوں.
نمبر دو: اعتراض برمحل فرمائيں.
ان شروط كا لحاظ نہ رکھا جائے تو وہی ہوگا جو فيس بوک پر نظر آتا ہے، يعنى لايعنى ابحاث، نہ ختم ہونے والے مجادلات،تحقيق كے نام پر توہین.
كتبه:أبوالبرڪات حق النبي سڪندرى أزهري.
شاہپور چاکر، سندھ.
(ایک بار لازمی پڑھیں)
محقق اہل سنت مفتی حق النبی سکندری صاحب زید مجدہ
ايک فاضل كا تبصره پڑھ کر نہایت افسوس ہوا، کہ حضرت فاضل بريلوى عليہ الرحمة كى تمام كتب سوالوں كے جوابات میں تاليف ہوئيں، لهذا وه كوئى گراں قدر علمى اضافہ نہیں اور نہ ہی وقيع اضافہ کہلائیں گی، کوئى مستقل تصنيف پیش کریں.
ایسے جدل ميں پڑنا، نہ میرا تخصص نہ ہی مزاج پر حقيقت بيان كرنا ضرورى ہے، کیونکہ بعض اوقات غلط بات اتنے خوبصورت الفاظ اور القاب سے گردش کرتی کہ وقت گذرنے کے ساتھ حقيقت محسوس ہونے لگتی ہے.
اس مختصر جواب كو اپنی کسی بھی رائے سے دور رکھنے کی کوشش ہوگی ، فقط اسلامى عربى لٹریچر کی روشنی میں چند گزارشات پیش ہیں جنہیں بغور پڑھنے سے دو باتیں سمجھ آجائينگی:
ايک: سائل كا مبلغ علم اور علوم كا مطالعہ.
دوم: فاضل بريلوى قدس سره العزيز،كي تصانيف متقدمين ومتاخرين كے ہاں مذكور مقاصد تاليف، دواعي تاليف كے مطابق ہیں یا نہیں!
ہمیں یقين ہے کہ سائل اگر مقاصد تاليف كی فقط معلومات (گہرائى و گیرائى تو دور کی بات ہے) بھی رکھتے تو یہ سوال ہی انہیں نہ کرنا پڑتا.
اسلامى عربى لٹریچر اس عنوان سے بھرا پڑا ہے کہ: درست سوال، اعتراض، حسن مسالة، نصف علم ہے،جس سے سائل يا معترض كے مبلغ علم كا اندازه ہوجایا کرتا ہے.
سيدنا ابن عباس فرماتے ہیں: ما سألني أحد عن مسألة إلا عرفت، فقيه أو غير فقيه.
جس نے بھی مجھ سے كوئي مسئلہ پوچھا، میں اسکے (سوال سے ہی) اسکا عالم یا جاہل ہونا جان گیا.
علامہ خطيب بغدادى امام مالک سے (بسندہ) نقل فرماتے ہیں کہ: زيد بن أسلم كے پاس، ابن عجلان كچھ پوچھنے آئے، اور سوال میں ہی گڑ بڑ کردی! زيد بن اسلم نےب فرمايا كہ: جاؤ جاكر صحيح سوال كرنا سيکھو پھر پوچھنے آجانا.
مطلب كہ سوال سے ہی سائل كى علمی حقيقت کھل کر سامنے آجاتی ہے.
اب اصل جواب كى طرف آئيے.
أولا: ابن خلدون،ابن حزم، أبوبكر المعافرى الإشبيلى، الكلاعى اور احمد المقرى التلمسانى ابو حيان وغيره... نے اس پر مستقل کلام فرمايا ہے کہ آخر: تصنيف وتأليف كے مقاصد كيا ہیں؟
اگرچہ ان علماء كے علاوه سينکڑوں دیگر مصنفين نے بھی اس پر گفتگو فرمائى ہے پر یہاں مقصود اولين اس پر بولنے والے ہیں.
ان سب محققين، مؤرخين و ادباء كا تقريبا اس پر اتفاق ہے کہ جب بھی کوئى تصنيف كرے یا تاليف(تصنيف و تاليف ميں دقيق فرق ہے جو غالبا سائل پر اب تک مخفى ہو) اس میں سات (7) مقاصد ميں سے کسی ایک کا پایا جانا ضرورى ہے، اگر ان ميں سے كوئى ايک بھی پایا گیا تو ان محقق علماء كے ہاں وہ تصنيف يا تاليف (وقيع اضافہ) بھی گردانی جائيگی اور علمى كام بھی.
وہ مقاصد تاليف ان علماء كى زبانى یہاں ذكر كيئے جا رہے ہیں اور قارئين سے التماس ہے کہ کیا ان مین سے کوئى ايک بھی فاضل بريلوي كى كتب ميں بدرجہ اتم موجود نہیں؟
وه يہ ہیں:
1- إما شيئ لم يسبق إلى استخراجہ فيستخرجه.
2- وإما شيئ ناقص فيتممه.
3- وإما شيئ مخطأ فيصححه.
4-ولما شيئ مستغلق فيشرحه.
5- وإما شيئ طويل فيختصره.
6-وإما شيئ مفترق فيجمعه.
7-وإما شيئ منثور فيجمعه.
ان مقاصد كو ايک عربی شاعر نے یوں نظم بھی فرمايا ہے:
ألا فاعلمن أن التآليف سبعة
لكل لبيب في النصيحة خالص
فشرح لأغلاق وتصحيح مخطئ
وإبداع حبر مقدم غير ناقص
وترتيب منثور وجمع مفرق
وتقصير تطويل وتتميم ناقص
متاخر مشہور عالم حاجي خليفہ كشف الظنون ميں فرماتے ہیں کہ: جو بھی کسی فن پر کتاب لکھے، اسکی کتاب میں یہ پانچ فوائد ہونا ضرورى ہیں:
1- استنباط شيئ كان معضلا.
2- جمعه إن كان مفرقا.
3- شرحه إن كان غامضا.
4- حسن نظم وتاليف.
5- إسقاط حشو وتطويل.
اب ان تمام مقاصد اور فوائد تاليف كو ديکھ کر،فاضل بريلوى قدس سره كي تصانيف ديکھی جائيں تو بلاشبہ علمی تحقيقى معيار كيساتھ ساتھ مقاصد تاليف پر بھی بدرجہ اتم پوری اترتی ہیں!
ابن خلدون وديگر عرب ناقدین كى كسوٹی پر جن کی کتب (مفيد اضافہ) کا ٹائيٹل پالیں بھلا ان پر کسی عجمی پروفيسر كا اعتراض كيونكر درست ہوسکتا ہے!
ثانيا: یہ بات تو طفل مكتب بھی سمجھتا ہے کہ کسی فن پر ایک شخص مستقل لکھے بھی اور اپنے تيئيں اسے (علمى اضافہ) بھی سمجھے مگر حقيقت ميں وه (كاپی پیسٹ) یا (محض سرکھپائى) كا مجموعہ نکلے تو کیا ایسی تصنيف (علمى اضافہ) کہلائے گی؟
ثالثا: مقصود اصلى علم وافاده اور تحقيق ہے،چاہے وہ مستفتى كے جواب ميں ہو چاہے مستقلا تصنيف سے ہو.
اور بلاشبہ یہ يہ چیزيں حضرت فاضل بريلوى قدس سره العزيز كى تاليفات ميں موجود ہیں.
والحق أحق أن يقال.
نوٹ: اختلاف كا حق سب كو نہیں صرف انكو ہے جو: نمبر ايک: موضوع بحث كى اساسيات سے بخوبى واقف ہوں.
نمبر دو: اعتراض برمحل فرمائيں.
ان شروط كا لحاظ نہ رکھا جائے تو وہی ہوگا جو فيس بوک پر نظر آتا ہے، يعنى لايعنى ابحاث، نہ ختم ہونے والے مجادلات،تحقيق كے نام پر توہین.
كتبه:أبوالبرڪات حق النبي سڪندرى أزهري.
شاہپور چاکر، سندھ.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدی اعلٰی حضرت امامِ اہلِ سنت مجددِ دین وملت امام احمد رضاخان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کی بارگاه میں حضرت محدث سورتی رحمہ اللّٰہ تعالٰی کے وصال کا ذکر تهاان کے محاسِن کا ذکر فرماتے ہوئے امام اهلِ سنت رَحِمَہُ اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
"قیامت قریب ہے، اچهے لوگ اٹهتے جاتے ہیں،جو جاتا ہے اپنا نائب نہیں چهوڑتا.
پهر فرمایا:
"امام بخاری نے انتقال فرمایا تو نوے ہزار شاگرد محدث چهوڑے،
سیدنا امام اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے انتقال فرمایا تو ایک ہزار مجتہدین اپنے شاگرد چهوڑے.
محدث ہونا علم کا پہلا زینہ ہے اور مجتہد ہونا آخری منزل.اور اب ہزار مرتے ہیں اور ایک بهی نہیں چهوڑتے"
(ملفوظات اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ)
میثم قادری
"قیامت قریب ہے، اچهے لوگ اٹهتے جاتے ہیں،جو جاتا ہے اپنا نائب نہیں چهوڑتا.
پهر فرمایا:
"امام بخاری نے انتقال فرمایا تو نوے ہزار شاگرد محدث چهوڑے،
سیدنا امام اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے انتقال فرمایا تو ایک ہزار مجتہدین اپنے شاگرد چهوڑے.
محدث ہونا علم کا پہلا زینہ ہے اور مجتہد ہونا آخری منزل.اور اب ہزار مرتے ہیں اور ایک بهی نہیں چهوڑتے"
(ملفوظات اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ)
میثم قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#غیر_ضروری_احتجاجات_کب_تک؟؟؟
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
آج کل عجیب و غریب قوانین پاس ہونے کا سلسلہ سا چل پڑا ہے۔ جب دیکھیے کوئی نیا قانون بن جاتا ہے تو کوئی پرانا بدل دیا جاتا ہے۔
ایک وقت تھا جب قانون بدلنے کا کام صرف شدید ضرورت محسوس ہونے پر کیا جاتا تھا۔ اور پھر قانون اپنے مفاد کے لیے بھی بدلے جانے لگے، اور اب یہ سلسلہ ایسا چل نکلا ہے کہ کبھی کبھی اپنی ناکامی چھپانے کے لیے بھی قانون بدلے جاتے ہیں۔ اور اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ اب اگر ناخدا اپنی غلطی سے اپنی ہی کشتی پر سوراخ کردے جس سے کشتی کے ڈوبنے کا قوی اندیشہ پیدا ہوجائے تو ناخد ایسا قانون بنادیتا ہے کہ لوگ کشتی کے اس سوراخ کو بھول کر (جو کشتی کو دھیرے دھیرے سمندر کی تہ تک لیجانے کا کام کررہا ہے) صرف اسی قانون کے چکر میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
جن کے لیے بنایا گیا ہوتا ہے وہ اس بات پر واویلا مچاتے ہیں کہ قانون کیوں بنایا گیا؟ اور دوسرے اس بات پر کہ تم ہر چیز کی مخالفت ہی کرتے رہتے ہو اگر اتنی ہی پریشانی ہے تو کشتی سے اتر کیوں نہیں جاتے ؟؟؟
اس جھگڑے میں دونوں یہ بھول جاتے ہیں کہ کشتی پر سوراخ بھی ہے جو ہم دونوں کو غرقاب کردیگا۔ اور سوراخ کرنے والا مطمئن ہوجاتا ہے کہ اب تم لڑتے جھگڑتے رہو مجھے سکون ملا۔
اس طرح کے معاملات بہت ہوتے ہیں خاص کر موجودہ وقت میں یہ کثرت کے ساتھ ہورہا ہے۔
اور ہمارے بھائی ہر چیز کی مخالفت شروع کردیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اس کا اثر الٹا پڑے گا اور لوگ ہمیں ہی غلط ٹھہرائیں گے اور اصل مجرم سے سب کی نظر ہٹ جائے گی۔
اسی طرح کے ایک قانون کی ابھی اڑتی اڑتی خبر موصول ہوئی کہ حج سے پہلے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے کلیرینس لینی ہوگی اور جو لوگ یہ کلیرینس حاصل کرلیں گے وہی حج کے لیے جاسکیں گے۔
اس پر کچھ جذباتی بھائی احتجاج کرنے کی بات کررہے ہیں۔
پہلی بات یہ کہ تحقیق کرلی جائے کہ کیا واقعی ایسا ہوا ہے یا نہیں!!!
کیوں کہ اس پہلے ایک قانون کی خبر آئی تھی مدارس کے سلسلے میں دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں میں کھلبلی مچ گئی بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پڑوسی ملک کا قانون ہے۔ جب سے سوشل میڈیا کا دور آیا ہے تب سے جھوٹی اور بغیر نام پتے کی خبریں بھی خوب شہرت کمالیتی ہیں۔
دوسری بات احتجاج کا کوئی فائیدہ نہیں۔
احتجاج کب کریں؟
احتجاج کرنا اس وقت موزوں ہے جب اس کا کوئی فائدہ ہو۔
فائدہ کئی طرح کا ہوسکتا ہے جیسے: یہ فائدہ کہ اس احتجاج کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔
یا یہ فائدہ کہ احتجاج ہماری زندگی کا ثبوت ہوگا۔
یا کم از کم اتنا تو ہو کہ اس احتجاج سے ہمارا کوئی نقصان نہ ہوگا۔
احتجاج کب نہ کریں!!!
اس وقت نہ کریں جب احتجاج کا کوئی نتیجہ نہ نکلنا ہو۔
اس وقت نہ کریں جب اس احتجاج سے آپ کا کوئی نقصان ہو۔
اس وقت نہ کریں جب آپ کے احتجاج سے آپ کے دشمن کا کوئی فائدہ ہو؛ اگرچہ وہ احتجاج آپ کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچانے والا ہو۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ہمارا احتجاج دشمن کو دلدل سے نکالنے کا کام کرجاتا ہے اور ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی کا ثبوت دیا ہے۔ حالانکہ ہمارا دشمن اپنی چال کے کامیاب ہونے اور ہمارے شکار ہوجانے پر قہقہا لگا رہا ہوتا ہے۔
ہمیں حکمت عملی اور پوری سوجھ بوجھ سے کام کرنا ہوگا تبھی ہم شاطر دشمن کے مقابلے کے لائق ہونگے۔
کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر آواز اٹھانے کی نہیں صرف لیگل ٹیم کے خاموشی سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ہم ایسے کاموں کو بھی خوب اچھالتے ہیں۔ اور مخالف کو تقویت دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے لوگوں سے یہ بول سکے کہ دیکھو میں نے ان کو کیسا پریشان کیا کہ بلبلا اٹھے۔
جبکہ اس وقت آپ کو یہ دکھنا ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی فرق ہی نہیں پڑا مگر آپ ایسے بلبلا رہے ہوتے ہیں جیسے کسی جانور کے سر پر کوئی عصا قیامت بن کر گرا ہو۔
یاد رکھیں!!! ہر وقت کمزوری دکھانا اور خود کو مظلوم ثابت کرنا سود مند نہیں ہوتا کہیں بہادر بننا اور تکلیف کو چھپانا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ دشمن کے حوصلے بلند نہ ہوجائیں؛ مگر ہم نے تو بس ایک ہی چیز سیکھی ہے چلاؤ اور خود کو مظلوم ثابت کرو۔ اگرچہ کوئی ہماری پکار سننے کو تیار نہیں بلکہ ہماری آواز سن کر خوش ہونے والے ہرطرف موجود ہیں۔
دشمن کو مات دینے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے اپنے کمزور اور گھائل ہونے کا احساس نہ ہونے دیا جائے اگر اسے یہ احساس ہوگیا تب تو وہ ہم پر چڑھ دوڑے گا۔
کسی معاملہ کے پردہ کے پیچھے کی کہانی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ چوطرفہ گھری ہوئی حکومت نے یہ فیصلہ اسی لیے لیا ہو کہ آپ احتجاج کریں اور وہ ہندو مسلم کرکے ان حالات سے اُبرنے کی کوشش کرے جہاں سے نکلنا اسے مشکل لگ رہا ہے۔
لہذا احتجاج کرنے سے پہلے خوب غور و فکر کرلیں کہ اس کے کون کون سے پہلو ہیں۔
ناچیز کی ناقص رائے تو یہ ہے کہ اب ہمارے لیے احتجاج کسی بھی معاملہ میں مناسب نہیں کیوں کہ اس کا کچھ نتیجہ تو نکلنا نہیں۔
قابل غور بات یہ بھی ہے کہ جب کسان پنجاب اور ہریانہ سرپر اٹھا کر کچھ نہ کر
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
آج کل عجیب و غریب قوانین پاس ہونے کا سلسلہ سا چل پڑا ہے۔ جب دیکھیے کوئی نیا قانون بن جاتا ہے تو کوئی پرانا بدل دیا جاتا ہے۔
ایک وقت تھا جب قانون بدلنے کا کام صرف شدید ضرورت محسوس ہونے پر کیا جاتا تھا۔ اور پھر قانون اپنے مفاد کے لیے بھی بدلے جانے لگے، اور اب یہ سلسلہ ایسا چل نکلا ہے کہ کبھی کبھی اپنی ناکامی چھپانے کے لیے بھی قانون بدلے جاتے ہیں۔ اور اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ اب اگر ناخدا اپنی غلطی سے اپنی ہی کشتی پر سوراخ کردے جس سے کشتی کے ڈوبنے کا قوی اندیشہ پیدا ہوجائے تو ناخد ایسا قانون بنادیتا ہے کہ لوگ کشتی کے اس سوراخ کو بھول کر (جو کشتی کو دھیرے دھیرے سمندر کی تہ تک لیجانے کا کام کررہا ہے) صرف اسی قانون کے چکر میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
جن کے لیے بنایا گیا ہوتا ہے وہ اس بات پر واویلا مچاتے ہیں کہ قانون کیوں بنایا گیا؟ اور دوسرے اس بات پر کہ تم ہر چیز کی مخالفت ہی کرتے رہتے ہو اگر اتنی ہی پریشانی ہے تو کشتی سے اتر کیوں نہیں جاتے ؟؟؟
اس جھگڑے میں دونوں یہ بھول جاتے ہیں کہ کشتی پر سوراخ بھی ہے جو ہم دونوں کو غرقاب کردیگا۔ اور سوراخ کرنے والا مطمئن ہوجاتا ہے کہ اب تم لڑتے جھگڑتے رہو مجھے سکون ملا۔
اس طرح کے معاملات بہت ہوتے ہیں خاص کر موجودہ وقت میں یہ کثرت کے ساتھ ہورہا ہے۔
اور ہمارے بھائی ہر چیز کی مخالفت شروع کردیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اس کا اثر الٹا پڑے گا اور لوگ ہمیں ہی غلط ٹھہرائیں گے اور اصل مجرم سے سب کی نظر ہٹ جائے گی۔
اسی طرح کے ایک قانون کی ابھی اڑتی اڑتی خبر موصول ہوئی کہ حج سے پہلے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے کلیرینس لینی ہوگی اور جو لوگ یہ کلیرینس حاصل کرلیں گے وہی حج کے لیے جاسکیں گے۔
اس پر کچھ جذباتی بھائی احتجاج کرنے کی بات کررہے ہیں۔
پہلی بات یہ کہ تحقیق کرلی جائے کہ کیا واقعی ایسا ہوا ہے یا نہیں!!!
کیوں کہ اس پہلے ایک قانون کی خبر آئی تھی مدارس کے سلسلے میں دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں میں کھلبلی مچ گئی بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پڑوسی ملک کا قانون ہے۔ جب سے سوشل میڈیا کا دور آیا ہے تب سے جھوٹی اور بغیر نام پتے کی خبریں بھی خوب شہرت کمالیتی ہیں۔
دوسری بات احتجاج کا کوئی فائیدہ نہیں۔
احتجاج کب کریں؟
احتجاج کرنا اس وقت موزوں ہے جب اس کا کوئی فائدہ ہو۔
فائدہ کئی طرح کا ہوسکتا ہے جیسے: یہ فائدہ کہ اس احتجاج کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔
یا یہ فائدہ کہ احتجاج ہماری زندگی کا ثبوت ہوگا۔
یا کم از کم اتنا تو ہو کہ اس احتجاج سے ہمارا کوئی نقصان نہ ہوگا۔
احتجاج کب نہ کریں!!!
اس وقت نہ کریں جب احتجاج کا کوئی نتیجہ نہ نکلنا ہو۔
اس وقت نہ کریں جب اس احتجاج سے آپ کا کوئی نقصان ہو۔
اس وقت نہ کریں جب آپ کے احتجاج سے آپ کے دشمن کا کوئی فائدہ ہو؛ اگرچہ وہ احتجاج آپ کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچانے والا ہو۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ہمارا احتجاج دشمن کو دلدل سے نکالنے کا کام کرجاتا ہے اور ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی کا ثبوت دیا ہے۔ حالانکہ ہمارا دشمن اپنی چال کے کامیاب ہونے اور ہمارے شکار ہوجانے پر قہقہا لگا رہا ہوتا ہے۔
ہمیں حکمت عملی اور پوری سوجھ بوجھ سے کام کرنا ہوگا تبھی ہم شاطر دشمن کے مقابلے کے لائق ہونگے۔
کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر آواز اٹھانے کی نہیں صرف لیگل ٹیم کے خاموشی سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ہم ایسے کاموں کو بھی خوب اچھالتے ہیں۔ اور مخالف کو تقویت دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے لوگوں سے یہ بول سکے کہ دیکھو میں نے ان کو کیسا پریشان کیا کہ بلبلا اٹھے۔
جبکہ اس وقت آپ کو یہ دکھنا ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی فرق ہی نہیں پڑا مگر آپ ایسے بلبلا رہے ہوتے ہیں جیسے کسی جانور کے سر پر کوئی عصا قیامت بن کر گرا ہو۔
یاد رکھیں!!! ہر وقت کمزوری دکھانا اور خود کو مظلوم ثابت کرنا سود مند نہیں ہوتا کہیں بہادر بننا اور تکلیف کو چھپانا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ دشمن کے حوصلے بلند نہ ہوجائیں؛ مگر ہم نے تو بس ایک ہی چیز سیکھی ہے چلاؤ اور خود کو مظلوم ثابت کرو۔ اگرچہ کوئی ہماری پکار سننے کو تیار نہیں بلکہ ہماری آواز سن کر خوش ہونے والے ہرطرف موجود ہیں۔
دشمن کو مات دینے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے اپنے کمزور اور گھائل ہونے کا احساس نہ ہونے دیا جائے اگر اسے یہ احساس ہوگیا تب تو وہ ہم پر چڑھ دوڑے گا۔
کسی معاملہ کے پردہ کے پیچھے کی کہانی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ چوطرفہ گھری ہوئی حکومت نے یہ فیصلہ اسی لیے لیا ہو کہ آپ احتجاج کریں اور وہ ہندو مسلم کرکے ان حالات سے اُبرنے کی کوشش کرے جہاں سے نکلنا اسے مشکل لگ رہا ہے۔
لہذا احتجاج کرنے سے پہلے خوب غور و فکر کرلیں کہ اس کے کون کون سے پہلو ہیں۔
ناچیز کی ناقص رائے تو یہ ہے کہ اب ہمارے لیے احتجاج کسی بھی معاملہ میں مناسب نہیں کیوں کہ اس کا کچھ نتیجہ تو نکلنا نہیں۔
قابل غور بات یہ بھی ہے کہ جب کسان پنجاب اور ہریانہ سرپر اٹھا کر کچھ نہ کر
سکے اور دیکھتے ہی دیکھتے کسانوں سے متعلق تینوں بل قانون کی شکل اختیار کر گئے تو ہماری آواز (جو کہ نقار خانہ میں طوطی کی آواز کی حیثیت بھی نہیں رکھتی) کیا معنی رکھتی ہے۔ سوائے اس کے کہ ان کے مقاصد کی حصولیابی ہم اپنی بیوقوفی سے کریں۔
ہمارے کثرت احتجاج کا اثر یہ ضرور ہوا ہے کہ لوگ اب کہنے لگے ہیں کچھ بھی ہو حکومت نے کیا ہے تو یہ قوم تو احتجاج کرے گی ہی۔
اور ہم اس وقت جب انہیں ہندو مسلم کچھ مل نہیں رہا ہے احتجاج کرکے انہیں موقع دیتے ہیں کہ لو اس پر چرچا کرو اور بے روزگاری، بھکھمری، ختم ہوتی نوکری اور کسان کے معاملات کو بھوک جاؤ جس میں حکومت پھس رہی تھی۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ بے مقصد احتجاج کرکے ان کو تقویت نہ دیں۔
ہم ان قوانین پر بھی آواز بلند کرنے سے نہیں چوکتے جس کا اثر تمام اہل وطن پر یکساں پڑنے والا ہے، اور ہمارے سوا بقیہ سب خاموش ہیں۔
ہمیں سوچنا یہ بھی چاہیے کہ جس قانون کا اثر تمام اہل وطن ہر ہوتا ہے اس کا احتجاج صرف ہم کیوں کریں؟؟؟
جب کوئی اور اس چیز کی مخالفت نہیں کررہا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کی تعداد 86 فیصد ہے تو ہم کیوں کررہے ہیں ؟؟؟
کیا اس احتجاج سے ہم اپنے آپ کو محب وطن ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟؟؟
اگر نہیں!!! جو کہ حقیقت ہے۔ تو پھر کیوں ہم زبر دستی ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں؟؟؟
بڑی مشکل سے تو وہ وقت آتا ہے کہ دشمن خود سے برسر پیکار ہوتا ہے اور ایسے میں ہم ان کی توجہ اپنے طرف مبذول کرانے کے لیے خود کو پیش کردیتے ہیں کہ آپس میں کیوں دست و گریباں ہو ہم تو ہیں ہمیں مارو اور اپنا کام نکالو!!!
ابھی وہ اپنوں سے برسر پیکار ہیں انہیں وہیں رہنے دیں... پڑی لکڑی اپنے سر نہ لیں... اسی میں بھلائی ہے.
اور زبر دستی کے احتجاجات سے بعض آجائیں!!!
4 اکتوبر 2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/778021809435006/
ہمارے کثرت احتجاج کا اثر یہ ضرور ہوا ہے کہ لوگ اب کہنے لگے ہیں کچھ بھی ہو حکومت نے کیا ہے تو یہ قوم تو احتجاج کرے گی ہی۔
اور ہم اس وقت جب انہیں ہندو مسلم کچھ مل نہیں رہا ہے احتجاج کرکے انہیں موقع دیتے ہیں کہ لو اس پر چرچا کرو اور بے روزگاری، بھکھمری، ختم ہوتی نوکری اور کسان کے معاملات کو بھوک جاؤ جس میں حکومت پھس رہی تھی۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ بے مقصد احتجاج کرکے ان کو تقویت نہ دیں۔
ہم ان قوانین پر بھی آواز بلند کرنے سے نہیں چوکتے جس کا اثر تمام اہل وطن پر یکساں پڑنے والا ہے، اور ہمارے سوا بقیہ سب خاموش ہیں۔
ہمیں سوچنا یہ بھی چاہیے کہ جس قانون کا اثر تمام اہل وطن ہر ہوتا ہے اس کا احتجاج صرف ہم کیوں کریں؟؟؟
جب کوئی اور اس چیز کی مخالفت نہیں کررہا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کی تعداد 86 فیصد ہے تو ہم کیوں کررہے ہیں ؟؟؟
کیا اس احتجاج سے ہم اپنے آپ کو محب وطن ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟؟؟
اگر نہیں!!! جو کہ حقیقت ہے۔ تو پھر کیوں ہم زبر دستی ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں؟؟؟
بڑی مشکل سے تو وہ وقت آتا ہے کہ دشمن خود سے برسر پیکار ہوتا ہے اور ایسے میں ہم ان کی توجہ اپنے طرف مبذول کرانے کے لیے خود کو پیش کردیتے ہیں کہ آپس میں کیوں دست و گریباں ہو ہم تو ہیں ہمیں مارو اور اپنا کام نکالو!!!
ابھی وہ اپنوں سے برسر پیکار ہیں انہیں وہیں رہنے دیں... پڑی لکڑی اپنے سر نہ لیں... اسی میں بھلائی ہے.
اور زبر دستی کے احتجاجات سے بعض آجائیں!!!
4 اکتوبر 2020
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/778021809435006/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعلیٰ حضرت کا مقام عرب محدثین کی نظر میں ۔۔۔۔۔
100 سے زائد کتب کے مصنف، عظیم محدّث حضرتِ علّامہ حافظ سیّد عبدُالحی الکتانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی معروف تصنیف فھرسُ الفھارس میں امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے یہ القابات ذکر کئے ہیں: الفقيهُ المُسْنَدُ الصوفي الشَّهاب (فہرس الفہارس والأثبات، ج1،ص 86) ان القابات سے حافظ کتانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کا بلند مقام واضح ہوتا ہے کہ امامِ اہلِ سنّت فقہ و حدیث کے بھی امام ہیں اور صاحبِ عمل صوفی بھی ہیں۔
دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2827859554160020&id=100008080090753
100 سے زائد کتب کے مصنف، عظیم محدّث حضرتِ علّامہ حافظ سیّد عبدُالحی الکتانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی معروف تصنیف فھرسُ الفھارس میں امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے یہ القابات ذکر کئے ہیں: الفقيهُ المُسْنَدُ الصوفي الشَّهاب (فہرس الفہارس والأثبات، ج1،ص 86) ان القابات سے حافظ کتانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کا بلند مقام واضح ہوتا ہے کہ امامِ اہلِ سنّت فقہ و حدیث کے بھی امام ہیں اور صاحبِ عمل صوفی بھی ہیں۔
دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2827859554160020&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اکیسویں صدی کی اہم پیشکش
موسوعہ اسلامیہ قائد اہل سنت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ
تحقیق، تخریج، ترتیب، تکمیل، تقدیم : ڈاکٹر غلام زرقانی قادری
📇 دار الکتاب 421 مٹیا محل دہلی⁶
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/770921296818775/
موسوعہ اسلامیہ قائد اہل سنت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ
تحقیق، تخریج، ترتیب، تکمیل، تقدیم : ڈاکٹر غلام زرقانی قادری
📇 دار الکتاب 421 مٹیا محل دہلی⁶
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/770921296818775/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM